قصۂ شعیب علیہ السلام: مقامِ عبدیت، قوم کا عبرتناک انجام اور نزولِ عذاب کی حقیقت

درس نمبر: 295، سورۃ الاعراف، آیات: 88 تا 93

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

انبیاء کبھی بھی اپنی قوم کے دین پر نہیں رہے۔

اپنے عزم کے بجائے ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

عبداللہ اندلسی کا واقعہ فخر کے بجائے شکر سکھاتا ہے۔

قومِ شعیب چنگھاڑ، سائبان اور زلزلے سے تباہ ہوئی۔

امت پر یکسر خاتمے کے بجائے جزوی عذابات آتے ہیں۔

انسان کو ناشکری سے بچ کر شکرگزاری اپنانی چاہیے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ (89) وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَىٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (90) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ (91) الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا ۚ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ (92) فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ (93)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اُن کی قوم کے سردار جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، کہنے لگے: ”اے شعیب! ہم نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ تمام ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا“ شعیب نے کہا: ”اچھا؟ اگر ہم (تمہارے دین سے) نفرت کرتے ہوں، تب بھی؟ ﴿88﴾ ہم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں گے، اگر تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں گے، جبکہ اللہ نے ہمیں اُس سے نجات دے دی ہے۔ ہمارے لئے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اُس کی طرف واپس جائیں۔ ہاں اللہ ہمارا پروردگار ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔

حاشیہ: حضرت شعیب علیہ السلام کے دوسرے ساتھی تو پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے، بعد میں ایمان لائے، اس لئے ان کے حق میں تو پُرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے۔ لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کبھی بھی اُن کے دین پر نہیں رہے، البتہ ان کی نبوت سے پہلے اُن کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ اُنہی کے دین پر ہیں۔ اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔

یعنی یہ ایک اشکال دور کیا ہے حضرت نے کہ چونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے،

ترجمہ: "ورنہ تم سب کو ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا"۔

تو یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کسی کے ذہن میں آ جائے کہ شعیب علیہ السلام پہلے یعنی، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، اپنی قوم کے دین پر تھے۔ اور اسے لوگ نقطے نکالتے ہیں۔ تو ان چیزوں کو کلیئر کرنا پڑتا ہے۔ تو فرمایا کہ نہیں، وہ اپنے طور پر سمجھتے ہوں گے۔ کیونکہ دیکھیں نا، ایک ہوتا ہے نبوت سے پہلے کا دور جس میں ان کے دین پر نہیں ہوتا پیغمبر، لیکن وہ جو کھلی دعوت ہے، وہ نہیں دیتا۔ وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ، یہ جیسے حکم آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اپنے قریب والوں کو ڈرائیں۔ تو اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ دعوت دی۔ اس سے پہلے وہ صادق و امین کہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے دعوت دی تو اس کے بعد پھر، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، ان کے چچا ابولہب نے کہا تھا کہ کیا اسی لیے تو نے ہمیں جمع کر لیا تھا، تیرا ہاتھ ٹوٹ جائے۔ تو یہ جو بات ہے مطلب یہ ہے کہ ان کی سمجھ کی بات ہے۔ ان کی سمجھ ایسی تھی۔ تو ان کے لیے ان لوگوں نے کہا۔ جو دین شعیب علیہ السلام کا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں فرمایا پیغمبر نے کہ ہم تو تمہارے دین کے ساتھ اگر نفرت کرتے ہوں تب بھی؟ مطلب ایسی بات ہو سکتی ہے۔ فرمایا کہ

ترجمہ: جبکہ اللہ نے ہمیں اُس سے نجات دے دی ہے۔ ہمارے لئے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اُس کی طرف واپس جائیں۔ ہاں اللہ ہمارا پروردگار ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔

حاشیہ: یہ اعلیٰ درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے، لیکن اپنے اس عزم پر عمل اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے تو ہمارے دلوں کو بھی پھیر سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جب کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ راہِ راست پر رہنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اُس کا دل گمراہی کی طرف نہیں پھیرتا۔ اور ہر شخص کے اخلاص کی کیفیت کا اس کو پورا علم ہے۔ لہٰذا اخلاص کے ساتھ کسی بات کا پکا ارادہ کر لینے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہئے کہ وہ اس ارادے کو پورا فرمائے گا۔ اس طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے اس جملے سے یہ عظیم سبق دیا ہے کوئی بھی نیکی کرتے وقت بھروسہ اپنے عزم اور عمل کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کرنا چاہئے۔

یہ جو ہے ظاہر ہے قرآن پاک نے تو گزشتہ واقعات کے بارے میں بتانا ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک کے بعد جو واقعات آئے ہیں وہ تو قرآن پاک میں بطور مستقبل کو تو مطلب ظاہر ہے آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ وہ پہلے ہو تو نہیں چکے ہوتے ہماری سمجھ کے مطابق، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سب کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن ہماری سمجھ کے مطابق۔ تو یہ مطلب، لیکن بعد کے جو واقعات ہیں وہ بزرگوں کے ساتھ جو ہو چکے ہوتے ہیں، صحابہ کے ساتھ جو ہو چکے ہوتے ہیں، وہ بھی ہمارے لیے بڑا نمونہ ہوتے ہیں۔ تو عبداللہ اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کا جو واقعہ ہے۔ یہ ان کی زبان سے مشرک، وہ جو سجدے لگانے والے بتوں کی طرف، تو ان کے بارے میں کوئی بات نکلی تھی کہ دیکھو کیسے بیوقوف لوگ ہیں اس قسم کی حرکت کرتے ہیں۔ تو اس وقت الہام ہوا کہ اچھا تو سمجھتا ہے کہ یہ تیرا کمال ہے، اب دیکھتے ہیں روک دے اس کو۔ تو اس نے دیکھا کہ اس کے سینے سے کوئی چیز نکلی گئی۔ اور پھر اس کے بعد جو ہوا وہ بڑا لمبا واقعہ ہے کہ وہ پھر کسی لڑکی پہ عاشق ہو گیا ان کے عیسائیوں میں، پھر اس نے سور چروائے، مطلب لمبا واقعہ ہے۔ تو اللہ پاک نے پھر ہدایت تو دے دی اور یقیناً اپنے مرتبے پہ بھی واپس لے آئے۔ لیکن سبق مل گیا سب کو کہ واقعتاً اگر اللہ چاہے گا تو ہم اپنی بات پر جم سکتے ہیں، اپنی بات پر رہ سکتے ہیں، ورنہ کسی کے بس میں کوئی بات نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی طرف وہ کہہ دے کہ دیکھو نا یہ وہ ہے۔ بس اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے، شکر ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ فخر اور شکر میں بس ایک ڈائریکشن کا فرق ہے، باقی باقی ایک ہی چیز ہوتی ہے۔ فخر جو ہے وہ انسان اپنے اوپر نظر کر کے کرتا ہے کہ میں ایسا ہوں۔ اور شکر اللہ پہ نظر کر کے اس کے بارے میں کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے یہ چیز دی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے تو فخر وہ، اس سے انسان کو بچنا چاہیے اور شکر کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اب میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اس پر فخر نہیں کرتا۔ اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن اس پہ فخر نہیں کرتا، تو عربی میں اس کے لیے ایک ہی لفظ ہے لیکن ساتھ ملاتے ہیں فَرَحُ بَطَرٍ اور فَرَحُ شُكْرٍ۔ یعنی جو مطلب انسان اپنے آپ کو دیکھ کر جو فرحت محسوس کرتا ہے کہ میں ایسا، میں ایسا، یہ تو ممنوع ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر کے کہ اللہ پاک نے مجھے یہ دی ہے، اس پہ خوشی محسوس کرے تو یہ فَرَحُ شُكْرٍ ہے اور اس پر اجر ملتا ہے۔

ترجمہ: اور اُن کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنایا ہوا تھا (قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے: ”اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو یاد رکھو اُس صورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا“ ﴿90﴾ پھر ہوا یہ کہ انہیں زلزلے نے آ پکڑا،

اس قوم پر بھی ظاہر ہے عذاب آ گیا، تو وہ یہ ہے کہ

حاشیہ: قرآن کریم نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے۔ سورۂ ہود (11:94) میں اس کو "صیحہ" یعنی چنگھاڑ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور سورۂ شعراء (26:189) میں اسے "عذاب یوم الظلۃ" یعنی سائبان کے دن کا عذاب فرمایا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے۔ پھر شہر سے باہر ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی۔ یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہوگئے۔ اُس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی، جسے ”سائبان“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر زلزلہ آیا۔ (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموماً آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا ہے۔

تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو اللہ پاک کا عذاب ہے، تو اللہ تعالیٰ کا نظام ایسا ہے کہ انسان کے جسم کے اندر اتنی چیزیں ہیں کہ وہ رکی ہیں، جیسے مثال کے طور پر پانی کے آگے بند ہے تو پانی رکا ہوا ہے، لیکن اس کے لیے جو بند ہے، بس اس بند کو ہٹا دو تو بس گیا۔ مطلب یہ پانی بس آ جائے گا۔ اسی طریقے سے اللہ پاک نے مختلف چیزوں کو روکا ہوا ہے، ہمارے جسم کے اندر بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ بس وہ رکی ہوئی ہیں اللہ کے حکم سے، جیسے اللہ پاک کا حکم وہ رکنے کا ختم تو وہ وہی چیزیں ختم کر سکتی ہیں، مطلب ساری چیزیں ختم، کسی دور جگہ سے لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں اللہ پاک دوسروں کو عبرت دینے کے لیے مختلف انداز میں عذاب لے آتا ہے۔ اب ایک بات کا ذرا تھوڑا سا ہمیں سمجھنا پڑے گا کیونکہ آج کل کنفیوژن تو پھیلائی جا رہی ہے ہر چیز میں۔ عذابات جو ہیں یہ مختلف صورتوں میں آ سکتے ہیں، تو آج کل یہ جو سیلاب کا عذاب آیا ہے یا اس طرح اور چیزیں جو آ جاتی ہیں، مہنگائی کا عذاب ہے، تو اس کو جو لوگ ہیں نا وہ سمجھتے ہیں، اس کو ہلکا کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ یہ عذاب نہیں ہے، یہ عذاب نہیں ہے، تاکہ ہماری نظر اس طرف نہ جائے نا گناہوں کی طرف یہ عذاب نہیں ہے۔ بلکہ کہتے ہیں کہ عذاب تو وہ ہوتا ہے جو یکدم آئے اور سب چیزوں کو ختم کر دے، یہ میں نے ان لوگوں سے سنا ہے، اس وجہ سے میں بات کر رہا ہوں۔ حالانکہ ایک روایت ہے اور اس میں صاف فرمایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس امت پر ایسا عذاب نہیں آئے گا جو ان کو یکسر ختم کر دے، ایسا عذاب ان پر نہیں آئے گا۔ تو اب وہ جو جیسے شعیب علیہ السلام کی قوم پہ آیا یا لوط علیہ السلام کی قوم پر آیا یا نوح علیہ السلام کی قوم پر آیا یا ہود علیہ السلام کی قوم پر آیا، وہ یکسر ختم کرنے والے عذاب وہ امتِ محمدیہ پر نہیں آتا۔ امتِ محمدیہ پر جو عذاب آتا ہے وہ یہی کہ کبھی آپس میں لڑائی شروع ہو جائے، کوئی بیماری آ جائے طاعون جیسا، یا کوئی یہ جو سیلاب ہے یا زلزلہ ہے مختلف جگہوں پہ آ جاتا ہے، جس سے مطلب نقصان ہو جاتا ہے اور بہت ساری فصلیں جل جاتی ہیں۔ اور بہت سارے نقصان ہو سکتے ہیں، یہ جو کرونا کا مسئلہ آ گیا یا ڈینگی ہے یا مطلب جو بھی چیز ہے، اب وہ عذاب کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اس سے پورے کا پورا ڈھانچہ نہیں ختم ہوتا۔ وہ جزوی بات ہوتی ہے تو جزوی باتیں تو اب بھی ہوں گی اور زیادہ تر جزوی باتیں ہی ہوں گی، لیکن وہ مستقل قلع قمع کرنے والا جو عذاب ہے وہ امتِ محمدیہ پر اس وقت تو نہیں آئے گا۔ یا اللہ یا کریم۔ تو یہ یہ ہے کہ

ترجمہ: اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے ﴿91﴾ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہ ایسے ہو گئے جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہیں تھے۔ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، آخر کو نقصان اٹھانے والے وہی ہوئے ﴿92﴾ چنانچہ وہ (یعنی شعیب علیہ السلام) اُن سے منہ موڑ کر چل دیئے، اور کہنے لگے: ”اے قوم! میں نے تجھے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیئے تھے، اور تیرا بھلا چاہا تھا۔ (مگر) اب میں اُس قوم پر کیا افسوس کروں جو ناشکری تھی!“ ﴿93﴾

تو واقعتاً یعنی کسی کو وقت پر خبردار کرنا، یہ اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں بچا دیا۔ لیکن ناشکری ایسی سخت چیز ہے جو انسان کو محروم کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

قصۂ شعیب علیہ السلام: مقامِ عبدیت، قوم کا عبرتناک انجام اور نزولِ عذاب کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور