تحویلِ قبلہ اور فلسفہِ اطاعتِ رسول ﷺ

درس نمبر 56: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 142 تا 143

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• تحویلِ قبلہ کا پس منظر اور یہودیوں کے اعتراضات۔• مشرق و مغرب اور تمام جہتوں کا اللہ کی ملکیت ہونا۔• امتِ محمدیہ ﷺ کا اعتدال (امتِ وسط) اور قیامت کے دن انبیاء کی گواہی۔• شریعتوں کا اختلاف اور زمانے کے تقاضے (موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام کی مثالیں)۔• مسجد قبلتین کا واقعہ اور صحابہ کرام (عشرہ مبشرہ) کی غیر مشروط اطاعت۔• دین میں عقل پرستی اور نفس پرستی کی مذمت (جدید ذہنیت کا رد)۔• عبادت کا اصل مقصد اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، نہ کہ سمت کی ذاتی تقدس۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

سَيَقُولُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَآءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿142﴾ وَكَذَالِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللهُ ۗ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿143﴾


اب یہ بے وقوف لوگ کہیں گے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس نے ان (مسلمانوں) کو اُس قبلے سے رُخ پھیرنے پر آمادہ کر دیا جس کی طرف وہ منہ کرتے چلے آرہے تھے؟ آپ کہہ دیجئے کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت کر دیتا ہے ﴿142﴾

واقعات کا پس منظر یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کو بیت المقدس کا رُخ کرنے کا حکم دیا گیا۔ جس پر آپ تقریباً سترہ مہینے تک عمل فرماتے رہے۔ اس کے بعد دوبارہ بیت اللہ شریف کو قبلہ قرار دے دیا گیا۔ تبدیلی کا یہ حکم آگے آیت نمبر 144 میں آرہا ہے۔ یہ آیت پیشین گوئی کر رہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس تبدیلی پر بڑے اعتراضات کریں گے، حالانکہ یہ حقیقت اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے ہر شخص کے لئے کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ قبلے کی کوئی خاص سمت مقرر کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ قبلے کی سمت میں تشریف فرما ہے۔ وہ تو ہر سمت اور ہر جگہ موجود ہے اور مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب، یہ ساری جہتیں اسی کی بنائی ہوئی ہیں۔ البتہ چونکہ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرتے وقت تمام مؤمنوں کے لئے کوئی ایک سمت مقرر کر دی جائے، اس لئے یہ سمت اللہ تعالیٰ ہی اپنی حکمت کے تحت مقرر فرماتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سمت بذاتِ خود مقدس یا مقصود ہے۔ جو کچھ تقدس کسی قبلے یا اس کی سمت میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے آتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے جس سمت کو چاہے قبلہ قرار دے سکتا ہے۔ ایک مؤمن کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ آیت کے آخر میں سیدھی راہ کا جو ذکر ہے اس سے مراد اسی حقیقت کا ادراک ہے۔

اللہ اکبر!

اور (مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل اُمت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔

یعنی جس طرح ہم نے اس آخری زمانے میں تمام دوسری جہتوں کو چھوڑ کر کعبے کی سمت کو قبلہ بننے کا شرف عطا فرمایا، اور تمہیں اسے دل وجان سے قبول کرنے کی ہدایت دی، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری امتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن اُمت بنایا ہے۔ (تفسیر کبیر) چنانچہ اس اُمت کی شریعت میں ایسے مناسب احکام رکھے گئے ہیں جو قیامِ قیامت تک انسانیت کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔ معتدل اُمت کی یہ خصوصیت بھی اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس اُمت کو قیامت کے دن انبیاء کرام کے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ جب پچھلے انبیاء کی امتوں میں سے کافر لوگ صاف انکار کر دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا تھا تو اُمتِ محمدیہ کے لوگ انبیاء کرام کے حق میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے رسالت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی امتوں کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا، اور اگرچہ ہم خود اس موقع پر موجود نہیں تھے لیکن ہمارے نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے باخبر ہو کر ہم کو یہ بات بتلا دی تھی اور ہمیں اُن کی بات پر اپنے ذاتی مشاہدے سے زیادہ اعتماد ہے۔

دوسری طرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کی اس بات کی تصدیق فرمائیں گے۔ نیز بعض مفسرین نے اُمتِ محمدیہ کے گواہ ہونے کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں کہ شہادت سے مراد حق کی دعوت و تبلیغ ہے، اور یہ اُمت پوری انسانیت کو اسی طرح حق کا پیغام پہنچائے گی جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہنچایا تھا۔ باتیں دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں۔

بہرحال جو بات یہاں ہمارے سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک معتدل امت بنایا ہے۔ معتدل اس چیز کو کہتے ہیں جس میں افراط و تفریط نہ ہو۔ اور اس میں اللہ جل شانہ نے وہ تمام صفات جمع کر دی ہیں جو ایک معتدل امت میں ہونی چاہیے۔ اس کی تشریح زیادہ تو آپ کو سیرت النبی ﷺ میں ملے گی یعنی جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے اور اس پر الحمد للہ حضرت کافی تفصیل سے بات کر چکے ہیں کہ یہ امت کیسی معتدل امت ہے۔

اصل میں وقت کے حالات کے لحاظ سے احکامات تبدیل ہوتے ہیں جیسے یہ قبلہ کے بارے میں ابھی بات گزر گئی۔ تو جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو جن حالات میں احکام دیے گئے، ان کے لیے وہ چیزیں ضروری تھیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو جو احکامات دیے گئے، ان کے لیے وہی ضروری تھیں کیونکہ ان کے حالات ایسے تھے۔ تو گویا کہ ایک چیز کو کور (Cover) کیا گیا موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں، دوسرے کو کور کیا گیا عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں۔ اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا آدم علیہ السلام سے لے کے۔

چونکہ آپ ﷺ پر نبوت مکمل ہو گئی، تو اب ایک ایسا Setup دینا چاہیے تھا قیامت تک، جس میں سب لوگوں کا خیال رکھا جائے۔ یعنی جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا خیال رکھا گیا موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں، اور عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کا خیال رکھا گیا عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں۔ لیکن وہ تو گزر گئے۔ اب قیامت تک کے لیے چونکہ ایک ہی دین ہو گا، اس میں تبدیلی نہیں آئے گی، لہذا وہ ایسا Setup ہو جو کہ سب کے لیے Suitable ہو۔

تو وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ ہر ایک کی اس میں رعایت رکھی جائے۔ یعنی افراط و تفریط سے بالکل پاک کر دیا جائے۔ افراط و تفریط سے۔ تو اس امت کو وہ تعلیمات دیے گئے۔ میں نے اس لیے عرض کیا کہ یہ میرے الفاظ پوری تشریح نہیں کر پا رہے، اس کی وجہ یہ کہ اس میں تفصیلات بہت زیادہ ہیں۔ باقاعدہ حضرت نے مثالیں دے دے کر وہ ساری چیزیں سمجھائی ہیں کہ کس طریقے سے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں زکوٰۃ کس طرح تھا؟ اور عیسیٰ علیہ السلام کے وہاں اس کا کیا رخ تھا؟ اور اب ہمارے لیے کیا ہے؟ تو وہ تو بالکل معتدل۔ اسی طریقے سے موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں نماز کیا تھا؟ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم میں کیا... اب ہمارے ہاں کیسے ہیں؟ تو باقاعدہ ہر چیز کا ماشاء اللہ، ماشاء اللہ انہوں نے مثالیں دی ہیں، تو ان کو اگر کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، ان کو ماشاء اللہ بہت فائدہ ہو گا۔

اور جس قبلے پر تم پہلے کاربند تھے، اُسے ہم نے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف یہ دیکھنے کے لئے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کا حکم مانتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے؟

مطلب یہ ہے کہ یہ چونکہ قبلے کے بارے میں بات چل ہی رہی ہے، تو اس میں فرمایا گیا کہ

پہلے کچھ عرصے کے لئے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا جو حکم ہم نے دیا تھا اس کا مقصد یہ امتحان لینا تھا کہ کون قبلے کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون ہے جو کسی ایک قبلے کو بذاتِ خود ہمیشہ کے لئے مقدس مان کر اللہ کے بجائے اُسی کی عبادت شروع کر دیتا ہے۔ قبلے کی تبدیلی سے یہی واضح کرنا مقصود تھا کہ عبادت بیت اللہ کی نہیں، اللہ کی کرنی ہے، ورنہ اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اگلے جملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ جو لوگ صدیوں سے بیت اللہ کو قبلہ مانتے چلے آرہے تھے، اُن کے لئے اچانک بیت المقدس کی طرف رُخ موڑ دینا کوئی آسان بات نہ تھی کیونکہ صدیوں سے دلوں پر حکمرانی کرنے والے اعتقادات کو یکایک بدل لینا بڑا مشکل ہوتا ہے، لیکن جن لوگوں کو اللہ نے یہ سمجھ عطا فرمائی کہ کسی بھی چیز میں کوئی ذاتی تقدس نہیں، اور اصل تقدس اللہ تعالیٰ کے حکم کو حاصل ہے ان کو نئے قبلے کی طرف رُخ کرنے میں ذرا بھی دقت پیش نہیں آئی کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پہلے بھی اللہ کے بندے تھے اور اس کے تابع فرمان تھے اور آج بھی اسی کے حکم پر ایسا کر رہے ہیں۔

اگر آپ حضرات کو یاد ہو، تو جس وقت پھر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا مسجد قبلتین میں، تو آپ ﷺ نے تو رخ وحی کے مطابق فوراً بدل لیا۔ اب جب رخ بدل لیا اس وقت دس صحابہ جو تھے انہوں نے بغیر کسی سوچے سمجھے، جیسےآپ ﷺ نے رخ بدل لیا، فوراً انہوں نے بھی رخ بدل لیا۔ ان کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ یعنی ان کو جنت کی بشارت زندگی میں دی گئی۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اس چیز کو دل سے مان لیا تھا، اس کے اندر کوئی ذرہ بھر بھی تأمل نہیں تھا۔ایک بات۔

دوسری بات یہ تھی کہ نبی ہی ذریعہ ہوتے ہیں اللہ پاک کی منشا کو جاننے کے لیے، کوئی اور ذریعہ تو ہے نہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ نبی جو ہے اپنے فرضِ نبوت میں کوئی کوتاہی نہیں کر سکتا۔ اور اللہ پاک نبی کی حفاظت فرماتے ہیں کہ نبوت کے کام میں کوئی کوتاہی ہو یعنی نبی سے۔ لہذا یہ تینوں باتیں جس کے ذہن میں تھیں اور انہوں نے بالکل ان کو دل سے مان لیا تھا، تو فوراً انہوں نے ماشاء اللہ وہ کر لیا جو کہ نبی نے کر لیا۔

اب ذرا دیکھو ہم یہاں کس لیے آئے ہیں؟ ہم اس لیے آئے ہیں یہاں پر کہ اللہ پاک کی بات کو مِن و عَن مان لیں۔ جیسے بھی ہو، اس میں ہم درمیان میں کوئی تاویل، تاخیر نہ کریں۔ جب اس قسم کی بات ہے، اسی کو اسلام کہتے ہیں۔ "سَلَّمَ يُسَلِّمُ تَسْلِيْمًا"۔ تو اس طرح جس وقت انہوں نے یہ کر لیا تو کر کے دکھایا کہ وہ مِن و عَن مان لیتے ہیں، اس میں ذرہ بھر بھی سوچ کو گوارا نہیں کرتے اور جیسے نبی کو دیکھا، تو نبی ہی ذریعہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے منشا کو جاننے کے لیے، تو اللہ کا منشا معلوم ہو گیا، فوراً تمام چیزوں کو چھوڑ کر وہی کر لیا جو کرنا چاہیے تھا، تو ان کو جنت کی بشارت دی گئی۔ کیونکہ وہ بات پوری ہو گئی۔

اب ہمارے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہم بھی جب اللہ کا حکم آ جائے، پھر درمیان میں کچھ بھی نہ کہیں۔ اس میں دو باتیں ہیں اب ذرا غور کر لیں۔ ایک ہے ماننا، یعنی کہ یہ بات ایسی ہے۔ دوسرا ہے اس پر عمل کرنا۔ جو مانتا ہے اور عمل نہیں کرتا تو اس کا ایمان محفوظ ہے اور عمل کی کوتاہی ہے۔ جیسے "آمَنَّا وَصَدَّقْنَا" یہ ایک پارٹ (part) ہے۔ اور دوسرا ہے "سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا"، صحابہ کے دونوں نعرے تھے۔ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔ تو آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کی حد تک بھی جو لوگ ہوتے ہیں نا، یہ بھی الحمد للہ بڑے کامیاب لوگ ہوتے ہیں اس لحاظ سے کہ ان کا ایمان محفوظ ہوتا ہے۔

ہمارے ایک کلاس فیلو (Class fellow) تھے، اس کی یہ بات مجھے یاد ہے۔ بالکل یہ ماڈرن (Modern) قسم کا لڑکا تھا اور خیالات بالکل سارے آج کل کے دور کے تھے۔ لیکن اس کے اندر ایک خوبی تھی کہ اگر ہم کبھی قرآن کی بات یا حدیث کی بات یا دین کی بات کہتے تو اس کی زبان سے فوراً نکلتا: "This is fact" اور پھر اس کے بعد خاموش ہو جاتا، پھر اس کے بعد کچھ نہیں کہتا۔ بے شک عمل اس کا جیسے بھی تھا لیکن وہ فوراً اس کی زبان سے جیسے بالکل ہونٹوں پہ پڑا ہو، "This is fact"۔ تو یہ آمَنَّا وَصَدَّقْنَا والی بات ہے مطلب وہ مانتا تو تھا بالکل اس طرح ہے۔

میں اس کو کہتا تھا کہ بھئی تم پڑھتے کیوں نہیں ہو؟ اس کے عجیب عجیب فقرے تھے مثلاً وہ کھانے کے بعد اس طرح لیٹ جاتا تو میں کہتا بھئی کیا بات ہے؟ کہتے "آرام بعد الطعام"۔ اس طرح ذرا طبیعت ان کی اس طرح تھی، تو جولی طبیعت تھی۔ تو میں کہتا بھئی تم پڑھتے کیوں نہیں ہو؟ کہتے "میں تمہارے جتنے نمبر نہیں لینا چاہتا"۔ اب اس کے ساتھ پھر کون سا بات کر لے آدمی۔ بس وہ ظاہر ہے ہر ایک کا اپنا اپنا سٹائل (Style) ہوتا ہے۔ تو ان کا یہ بات تھی کہ ان کا کم از کم ماننے کی حد تک وہ بالکل کلیئر (clear) تھا۔ کہ وہ کہتا ہے کہ بھئی دین کی بات ہے تو اس میں کوئی دوسری بات نہیں ہو گی۔ اور یہ واقعی ایک بڑی بات ہے اللہ تعالیٰ جن کو دے۔

آج کل یہ بات بہت کم ہو رہی ہے۔ آج کل لوگ دین کی باتوں میں بھی…ایک ہوتا ہے تحقیق اور ایک ہوتا ہے دلیل مانگنا اپنی مرضی کے مطابق۔ یہ بہت different چیز ہے۔ اپنی مرضی کے مطابق یعنی میرے نفس کو مطمئن کرو گے تو پھر اس وقت میں مانوں گا۔ بھئی نفس، تمہارا نفس مانے گا یا نہیں مانے گا؟ تم نے نفس کو مطمئن کرنا ہے، نفس کو تو منوانا ہے۔ یہ نہیں کہ نفس کی ماننا ہے۔

یہ آج کل جتنے بھی اباحیت والے، یہ جاوید غامدی ٹائپ لوگ، یہ سب یہی لوگ ہیں۔ یہ جاوید غامدی کو جو ماننے والے لوگ ہیں وہ کہتے ہیں "ہمارے نفس کی بات یہ دین ہو۔" مطلب موسیقی جائز ہو، رقص جائز ہو۔ حتیٰ کہ میں نے ایک ڈاکٹر سے ملاقات کی ہے، وہ پاکستانی ڈاکٹر تھے لیکن رشیا (Russia) میں تھے اور کافی عرصے سے رشیا میں رہ رہے تھے۔ اس نے کہا کہ میں نے ایک عیسائی کے ساتھ بغیر شادی کے، کچھ پتہ نہیں بیس سال یا پچیس سال گزارے ہیں۔ وہ حج پہ ملے تھے۔ میں نے کہا جا کر فوراً اس سے کم از کم نکاح کرو اگرچہ ہم لوگ نہیں کہتے آج کل کہ عیسائیوں کے ساتھ نکاح مسلمان کریں لیکن تمہارے لیے فوراً ضروری ہے کم از کم گناہ سے تو بچ جاؤ۔ تو اس نے کہا میں نے جاوید غامدی سے پوچھا اس نے کہا کوئی حرج نہیں۔ اب بتاؤ اگر اس کا بھی حرج نہیں تو پھر کس چیز کا حرج ہے؟ یعنی یہ مجھے مکہ مکرمہ میں اس شخص نے بتائی ہے یہ بات۔ مکہ مکرمہ میں تو قصداً جھوٹ نہیں بول سکتا تھا ، آخر حج کے لیے آئے تھے۔ اور کہتے تھے کہ وہ میرے دوست تھے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی چیز ہے کہ ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگوں سے ہم بچیں۔ ایمان ہے ہی یہ چیز کہ Unconditional surrender۔ مطلب بس ہم نے ماننا ہے بس جو ہے بس وہ ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ اللہ پاک دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو دین پر عمل کرتا ہے فوراً اور جو الٹے پاؤں پھرتا ہے۔ مطلب یہ اس کے لیے بات تھی۔

اور اس میں شک نہیں کہ یہ بات تھی بڑی مشکل، لیکن اُن لوگوں کے لئے (ذرا بھی مشکل نہ ہوئی) جن کو اللہ نے ہدایت دے دی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔

اس سلسلہ کلام میں اس جملے کا ایک مطلب تو حضرت حسن بصریؒ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ نئے قبلے کو اختیار کر لینا مشکل تھا لیکن جن لوگوں نے اپنی قوتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بے چون و چرا مان لیا اللہ تعالیٰ ان کے اس ایمانی جذبے کو ضائع نہیں کرے گا، بلکہ انہیں اس کا عظیم اجر ملے گا۔ (تفسیر کبیر) دوسرے یہ جملہ ایک سوال کا جواب بھی ہے جو بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہوا تھا، اور وہ یہ کہ جو مسلمان اُس وقت انتقال فرما گئے تھے جب قبلہ بیت المقدس تھا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ اُن کی وہ نمازیں جو انہوں نے بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے پڑھی تھیں، قبلے کی تبدیلی کے بعد ضائع اور کالعدم ہو جائیں؟ آیت نے جواب دے دیا کہ نہیں، چونکہ انہوں نے اپنے ایمانی جذبے کے تحت وہ نمازیں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم کی تعمیل میں پڑھی تھیں اس لئے وہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی۔

اصل میں یہ بہت بڑا اصول ہے اور اللہ کرے کہ ہمیں اچھی طرح سمجھ آ جائے، مطلب یہ جو بات ہے، کہ دین کی بات کوئی بھی، جس کو کہتے ہیں ایسے نہیں ہے کہ وہ required ہے، وہ اس لیے required ہے کہ اللہ نے کہا ہے۔ مطلب اس بات کے اندر اصل نہیں ہوتا، اصل اللہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کا حکم فائنل اتھارٹی (Final Authority) ہے۔ یعنی ہم نماز بھی اس لیے پڑھتے ہیں کہ اللہ نے کہا ہے۔ اگر اللہ نہ کہتا تو ہم کیا نماز پڑھتے؟ اللہ نے کہا ہے کہ نماز پڑھو تو ہم نماز پڑھتے ہیں، اللہ نے کہا روزے رکھو تو ہم روزے رکھتے ہیں، اللہ نے کہا ہے کہ ہم نماز اس طرح پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، تو اس طرح ہم پڑھتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ یہ حلال ہے تو حلال ہے، اللہ نے کہا تو یہ حرام ہے تو یہ حرام ہے۔ یہ ساری باتیں… یہ شک کا جو مریض ہوتے ہیں نا، ان کے لیے بہت بڑا علاج ہے، یہ جو بعض شکی مزاج کے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں "او یار یہ تو اتنا یہ پھر یہ بھی ناپاک ہو گئی، یہ بھی ناپاک..."۔

تو بھئی حکم اللہ کا چلے گا، تمہاری مرضی کا تو نہیں چلے گا۔ تو اب مثال کے طور پر اگر اللہ پاک یہ کہتا ہے کہ تین دفعہ اس کو دھو لو، تو یہ سارا پاک ہو جائے گا، تو بس اس کے بعد پاک ہو گیا بس اس کے بعد تم سوچو نہیں۔ اللہ جب اس کو صاف پاک سمجھ رہا ہے تو تم کون ہو اس کو ناپاک سمجھنے والے؟

یعنی یہ گویا کہ ایک ہمارے لیے ایک اصول ہے، رہنما اصول۔ اللہ پاک ہم سب کو اس کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


تحویلِ قبلہ اور فلسفہِ اطاعتِ رسول ﷺ - درسِ قرآن