مقامِ ابراہیم کی فضیلت اور بعثتِ رسول ﷺ کی دعا

درس نمبر 52: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 125 تا 129

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حرم کی حرمت و امن: بیت اللہ اور حرم کے حدود میں انسانوں، جانوروں اور نباتات کے لیے امن کی اہمیت۔
    • مقامِ ابراہیم: مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز (واجب الطواف) پڑھنے کا حکم اور اس کی فضیلت۔
      • بیت اللہ کی تطہیر: حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کو بیت اللہ کو طواف، اعتکاف اور نماز کے لیے پاک رکھنے کا حکم۔
        • رزق اور امن کی دعا: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکہ مکرمہ کے لیے امن اور پھلوں کے رزق کی دعا۔
          • تعمیرِ کعبہ: حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا مل کر بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانا اور اللہ کے حضور عاجزی۔
            • قبولیت کی دعا: بڑے عمل کے بعد بھی غرور کے بجائے اللہ سے قبولیت اور توبہ کی درخواست کرنا۔
              • بعثتِ نبوی ﷺ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جس میں انہوں نے بنو اسماعیل میں سے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی درخواست کی۔

                الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًاۖ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْـرَاهِيْمَ مُصَلًّى ؕ وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّـآئِفِيْنَ وَالْعَاكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ (125) وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَـدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَهْلَـهٝ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْـهُـمْ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۖ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٝ قَلِيْلًا ثُـمَّ اَضْطَرُّهٝٓ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (126)

                اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ایسی جگہ بنایا جس کی طرف وہ لوٹ لوٹ کر جائیں اور جو سراپا امن ہو۔

                اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی یہ حرمت رکھی ہے کہ نہ صرف مسجدِ حرام میں بلکہ اُس کے اردگرد کے وسیع علاقے میں جسے حرم کہا جاتا ہے، نہ کسی انسان کو قتل کیا جا سکتا ہے، نہ شدید دفاعی ضرورت کے بغیر جنگ کرنا جائز ہے، نہ کسی جانور کا شکار حلال ہے، نہ کوئی خودرو پودا اکھاڑنے کی اجازت ہے، نہ کسی جانور کو قید رکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں، حیوانات اور نباتات کے لئے بھی امن کی جگہ ہے۔

                اور تم مقامِ ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ (81)

                یہ مقامِ ابراہیم اُس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ تعمیر کیا تھا۔ یہ پتھر آج بھی موجود ہے، اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو بیت اللہ کا طواف کرے، سات چکر لگانے کے بعد اس پتھر کے سامنے کھڑا ہو کر بیت اللہ کا رُخ کرے اور دو رکعتیں پڑھے۔ ان رکعتوں کا اسی جگہ پڑھنا افضل ہے۔

                ویسے پورے حرم میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ پورے حرم سے مراد یعنی مسجدِ حرم جو خانہ کعبہ والی مسجد ہے، اس میں جہاں پر بھی پڑھی جائے تو پڑھنا جائز ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ یہ پتھر سامنے ہو، یعنی مقامِ ابراہیم۔

                اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ: "تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کے لئے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں۔" ﴿125﴾ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ: "اے میرے پروردگار! اس کو ایک پُر امن شہر بنا دیجئے، اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمائیے۔" اللہ نے کہا: "اور جو کفر اختیار کرے گا اس کو بھی میں کچھ عرصے کے لئے لطف اٹھانے کا موقع دوں گا، (مگر) پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف کھینچ لے جاؤں گا۔ اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔" ﴿126﴾

                اللہ جل شانہٗ ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ بہت اونچا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ بار بار وہاں پر ہمیں امن و عافیت کے ساتھ لے جائے اور وہاں کی جملہ برکات نصیب فرمائے۔

                وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْـرَاهِيْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْـمَاعِيْلُ ؕرَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ (127) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَۖ وَاَرِنَا مَنَاسِكَـنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (128) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِـيْهِـمْ رَسُوْلًا مِّنْـهُـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (129)

                اور اُس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے،

                بیت اللہ جسے کعبہ بھی کہتے ہیں درحقیقت حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے تعمیر چلا آتا ہے، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں وہ حوادثِ روزگار سے منہدم ہو چکا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسے ازسرِ نو انہی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا حکم ہوا تھا جو پہلے سے موجود تھیں، اور اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو بتا دی تھیں۔ اسی لئے قرآنِ کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ بیت اللہ تعمیر کر رہے تھے، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ اور اسماعیل بھی (ان کے ساتھ شریک تھے، اور دونوں یہ کہتے جاتے تھے کہ:) "اے ہمارے پروردگار! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بیشک تو، اور صرف تو ہی، ہر ایک کی سننے والا، ہر ایک کو جاننے والا ہے ﴿127﴾ اے ہمارے پروردگار! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرماں بردار بنا لے، اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو۔ اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بیشک تو، اور صرف تو ہی، معاف کر دینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے ﴿128﴾ اور ہمارے پروردگار! ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو، جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور ان کو پاکیزہ بنائے۔

                دل سے نکلی ہوئی اس دُعا کی تاثیر کسی ترجمے کے ذریعے دوسری زبان میں منتقل نہیں کی جا سکتی، چنانچہ ترجمہ صرف اس کا مفہوم ہی ادا کر سکتا ہے۔ یہاں اس دُعا کو نقل کرنے کا مقصد ایک تو یہ دکھانا ہے کہ انبیائے کرام اپنے بڑے سے بڑے کارنامے پر بھی مغرور ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور اور زیادہ عجز و نیاز کا مظاہرہ فرماتے ہیں، اور اپنے کارنامے کا تذکرہ کرنے کے بجائے اپنی ان کوتاہیوں پر توبہ مانگتے ہیں جو اس کام کی ادائیگی میں ان سے سرزد ہونے کا امکان ہو۔ دوسرے اُن کا ہر کام صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہوتا ہے، لہٰذا وہ اُس پر مخلوق سے تعریف کرانے کی فکر کے بجائے اللہ تعالیٰ سے اس کی قبولیت کی دُعا مانگتے ہیں۔ تیسرے یہ ظاہر کرنا بھی مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دُعا میں شامل تھی، اور اس طرح خود حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ تجویز دی تھی کہ آپ بنی اسماعیل میں سے مبعوث ہوں، نہ کہ بنی اسرائیل میں سے۔ اس دُعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بنیادی مقاصد بھی بیان فرما دیئے ہیں۔ ان مقاصد کو قرآنِ کریم نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے، اور ان کی تشریح ان شاء اللہ آگے اسی سورت کی آیت 151 میں آئے گی۔

                رَبَّنَا وَابْعَثْ فِـيْهِـمْ رَسُوْلًا مِّنْـهُـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (129)

                بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے جس کی حکمت بھی کامل۔

                اللہ جل شانہٗ ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں رکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو نہ صرف خود اپنے آپ میں لائیں بلکہ پورے عالم میں اس کو پھیلانے کا اللہ ہمیں ذریعہ بنا دے۔

                وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين... رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ... وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ... سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.


                مقامِ ابراہیم کی فضیلت اور بعثتِ رسول ﷺ کی دعا - درسِ قرآن