اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (122) وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْـهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (123) وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ رَبُّهٝ بِكَلِمَاتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۖ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّالِمِيْنَ (124)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔
اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی، اور یہ بات (یاد کرو) کہ میں نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی تھی ﴿122﴾
یہ بات تو صحیح ہے کہ فضیلت دی تھی۔
اور اُس دن سے ڈرو جس دن سے کوئی شخص بھی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا، نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اُس کو کوئی سفارش فائدہ دے گی، اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔ ﴿123﴾
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور ان کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا جو ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے، اس کا آغاز آیت 47 اور 48 میں تقریباً انہی الفاظ سے کیا گیا تھا۔ اب سارے واقعات تفصیل سے یاد دلانے کے بعد پھر وہی بات ناصحانہ انداز میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ان سب باتوں کو یاد دلانے کا اصل مقصد تمہاری خیر خواہی ہے، اور تمہیں ان واقعات سے اس نتیجے تک پہنچ جانا چاہئے۔
یعنی اللہ جل شانہ نے بنی اسرائیل کو کچھ صلاحیتیں ایسی عطا فرمائی تھیں جس سے وہ دوسروں سے افضل ہو رہے تھے۔
لیکن ایک بات یاد رکھنا چاہیے، ایک ہوتا ہے انسان کی صلاحیت اور ایک ہوتا ہے اس صلاحیت کا استعمال۔وہ جو صلاحیت ہوتی ہے، اس سے ظاہر ہے وہ جو کام کر سکتا ہے، اس میں ان کو مدد ملتی ہے، جو بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔مثلاً کوئی اچھا سوچ سکتا ہے، کوئی اچھا بول سکتا ہے، کوئی اچھا لکھ سکتا ہے، کوئی اچھا بیان کر سکتا ہے، یہ صلاحیتیں ہیں ساری۔اب وہ کیسا بولتا ہے؟ کیا بولتا ہے؟ کیا دیکھ رہا ہے؟ کیا سوچ رہا ہے؟... مطلب یہ ہر چیز وہ اس کے اپنے ارادے پر ہے۔ اور ارادے میں انسان کو مکلف قرار دیا گیا ہے، یعنی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے نمبر ایک، اور اختیار دیا گیا ہے۔
تو صلاحیتیں ملنے میں انسان کا بس نہیں ہے۔ وہ غیر اختیاری ہے۔یہ بہت اہم باتیں میں عرض کر رہا ہوں، اس کو اچھی طرح نوٹ کریں۔صلاحیتیں جو ہیں، اس میں کسی کا اختیار نہیں ہے۔ ایک آدمی کو اللہ پاک اندھا بنا دے، تو نہیں دیکھ سکتا۔ اس کا کیا اختیار ہے؟ کسی کو اللہ پاک بہرہ بنا دے، کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ کسی کو اللہ جل شانہ غبی بنا دے، یعنی بہت ہی کند ذہن ہو، وہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔یعنی یہ... یہ غیر اختیاری ہے کہ اللہ پاک اس کو کیا دے رہا ہے۔
لیکن اس کے بعد اللہ نے اس کو اختیار دیا اس کو استعمال کرنے کا، تو اس استعمال پر نتیجہ موقوف ہوگا۔یعنی وہ اللہ کے قریب ہو رہا ہے یا اللہ پاک سے دور ہو رہا ہے؟یعنی اگر وہ جو کوشش کر رہا ہے اور اللہ قبول فرما دے، تو وہ اللہ پاک کے قریب ہوگا۔
تو اب جس میں اختیار کا پارٹ ہے، وہ سمجھنا چاہیے اور جو غیر اختیاری ہے وہ سمجھنا چاہیے۔غیر اختیاری پر آپ اپنی تعریف نہیں کر سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ چیز تمہاری ہے نہیں، تو نے تو نہیں کیا۔ تو نے تو نہیں کیا۔تجھ سے تو پوچھا جائے گا وہ اس چیز کا جو تم کر رہے ہو ارادے سے اختیاری طور پر۔ جو تم کر رہے ہو، اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اسی پر تمہارے بارے میں فیصلہ ہوگا۔
اب اگر تم اختیاری چیز کو تو چھوڑو، اس کی پروا نہ کرو، اس میں غلطیاں کرو، اور غیر اختیاری چیز پر آپ فخر کریں، اس کو کیا کہیں گے آپ؟مطلب غیر اختیاری چیز پر آپ یہ فخر تو کر سکتے ہیں کہ میرے پاس یہ چیز ہے لیکن اس سے آپ اللہ پاک کے مقبول بندے، یہ نہیں فخر کر سکتے، اس کا پتہ ہی نہیں آپ کو۔ اس کا آپ کو پتہ ہی نہیں۔ تو اس پر آپ فخر نہیں کر سکتے۔
تو اب یہ بات ہے کہ اگر قبولیت کی بات ہو تو اس میں کوئی نہیں کچھ کہہ سکتا۔اور قابلیت کی بات ہو، یہ بات بھی اللہ کی طرف سے ہے، یہ تمہاری بات نہیں ہے۔ تو پھر انسان کس چیز پہ فخر کرے؟ ظاہر ہے مطلب ہے کہ قابلیت کوئی اختیاری چیز نہیں ہے۔ اور قبولیت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے، تمہیں پتہ نہیں ہے۔جو تمہارا اختیار میں ہے، اس کو کوشش کرو، اس کو حاصل کرو۔ کیونکہ اس میں تم سے پوچھا جائے گا۔
اب یہود کو غلطی یہی لگی۔ وہ اپنی قابلیت پہ فخر کرتے ہیں۔ جو ان کی چیز ہے ہی نہیں۔ اور جو غلط استعمال کر رہے ہیں اس کو بھول رہے ہیں۔ تو خسارے پہ خسارہ ہو رہا ہے ان کو۔ یہ بنیادی بات ہے۔یہ میں اس لیے بات کرتا ہوں کہ ہمارے سادات کو بھی غلط فہمی لگ جاتی ہے کہ ہم بڑے ایسے ہیں، بڑے ایسے ہیں۔ بھئی خدا کے بندے اگر تمہیں اللہ نے سید بنایا تو تمہیں اس پہ تمہارا کیا اختیار ہے؟ یہ تمہارا اختیاری ہے ہی نہیں تو تم اس پہ کیسے فخر کر سکتے ہو؟ اور اگر اللہ نے اس میں ذریعے سے صلاحیتیں دی ہیں، آپ اس پر بھی فخر نہیں کر سکتے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ہاں تم عمل اچھا کرو۔
حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا زبردست بات کی۔ فرمایا فضیلت سادات کو دنیا میں حاصل ہے، آخرت میں تو اعمال پر فیصلہ ہوگا۔ اب بتائیں۔اور اس کا نص صریح یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹی! میری وجہ سے تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ بلکہ تمہیں خود عمل کرنا پڑے گا۔اب یہ دیکھیں فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو پھر کوئی اور کیا کہہ سکتا ہے؟ باقی تو ان کی اولاد ہی ہیں نا۔تو ان کے لیے جو بات ہے وہ سب اولاد کے لیے بھی ہے۔
یہ غلط فہمی شیطان ڈال دیتا ہے کیونکہ شیطان بھی اپنی قابلیت پہ فخر کر چکا تھا۔ اور یہی راستہ اس کو معلوم ہے کہ اس کے ذریعے سے کوئی شخص Detract ہو سکتا ہے، وہ دوسروں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ بہت اہم بات ہے، یہی غلطی تھی بنی اسرائیل کی جس کی وجہ سے ان کو یہ منہ دیکھنا پڑا۔ہاں البتہ جو ان میں صالحین تھے، جنہوں نے اس کو صحیح استعمال کیا، وہ پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ اللہ نے ان کو بہت نوازا۔ پہلے بھی فضیلت تھی اور پھر بعد میں اعمال بھی صحیح کیے۔
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں پوری کیں۔ اللہ نے (اُن سے) کہا: ”میں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔“ ابراہیم نے پوچھا: ”اور میری اولاد میں سے؟“ اللہ نے فرمایا: ”میرا (یہ) عہد ظالموں کو شامل نہیں ہے۔“ ﴿124﴾
یہ دوسری بات ہو گئی۔
جتنے بھی بنی اسرائیل ہیں ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔ کیونکہ یعقوب علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے۔اور جتنے سادات ہیں وہ بھی ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی میں آتے ہیں۔تو اس کا مطلب ہے یہ جو بات ہے یہاں پر دیکھیں نا، بالکل قرآن کا نص آگیا۔ وہاں حدیث شریف کا ہے نا فاطمہ رضی اللہ عنہ کا، یہاں پر قرآن کا نص آیا۔اللہ پاک نے فرمایا میرا یہ عہد ظالموں کو شامل نہیں ہے۔اللہ ہمیں معاف فرمائے۔
یہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کچھ حالات و واقعات شروع ہو رہے ہیں، اور پچھلی آیتوں سے ان واقعات کا دو طرح گہرا تعلق ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ یہودی، عیسائی اور عرب کے بت پرست، یعنی تینوں وہ گروہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا مانتے تھے، مگر ہر گروہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اُسی کے مذہب کے حامی تھے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں صحیح صورتِ حال واضح کی جائے۔ قرآن کریم نے یہاں یہ بتلایا ہے کہ اُن کا تینوں گروہوں کے باطل عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ساری زندگی توحید کی تبلیغ میں خرچ ہوئی، اور انہیں اس راستے میں بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا جن میں وہ پورے اُترے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام)۔ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوت کا سلسلہ انہی کی اولاد یعنی بنی اسرائیل میں چلا آ رہا تھا۔ جس کی بنا پر وہ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا بھر کی پیشوائی کا حق صرف انہی کو حاصل ہے۔ کسی اور نسل میں کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو اُن کے لئے واجب الاتباع ہو۔ قرآن کریم نے یہاں یہ غلط فہمی دور کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا ہے کہ دینی پیشوائی کا منصب کسی خاندان کی لازمی میراث نہیں ہے، اور یہ بات خود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے صریح لفظوں میں کہہ دی گئی تھی۔ انہیں جب اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے آزما لیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار ہے، انہیں توحید کے عقیدے کی پاداش میں آگ میں ڈالا گیا، انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، انہیں اپنی بیوی اور نوزائیدہ بچے کو مکہ کی خشک وادی میں تنہا چھوڑنے کا حکم ملا اور وہ بلا تامل یہ ساری قربانیاں دیتے چلے گئے، تب اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا بھر کی پیشوائی کا منصب دینے کا اعلان فرمایا۔ اُسی موقع پر جب انہوں نے اپنی اولاد کے بارے میں پوچھا تو صاف طور پر بتلا دیا گیا کہ ان میں جو لوگ ظالم ہوں گے یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کریں گے وہ اس منصب کے حق دار نہیں ہوں گے۔ بنی اسرائیل کو صدیوں آزمانے کے بعد ثابت یہ ہوا ہے کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ قیامت تک پوری انسانیت کی دینی پیشوائی ان کو دی جائے۔ اس لئے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے صاحبزادے یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں بھیجے جا رہے ہیں جن کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعا کی تھی کہ وہ اہل مکہ میں سے بھیجے جائیں۔ اب چونکہ دینی پیشوائی منتقل کی جا رہی ہے، اس لئے اب قبلہ بھی اس بیت اللہ کو بنایا جانے والا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اس مناسبت سے آگے تعمیرِ کعبہ کا واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ یہاں سے آیت نمبر 152 تک جو سلسلہ کلام آ رہا ہے اس کو اس پس منظر میں سمجھنا چاہئے۔
تو بات بالکل صاف ہو گئی کہ اللہ جل شانہ نے ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کے طفیل ان کو اور ان کی اولاد کو عمومی طور پر چن لیا۔یعنی ان کو صلاحیتیں ایسی دی گئیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے قابلیت ایسی ڈالی کہ وہ کام کر سکتے تھے۔ بات تو ہو گئی طے۔اس کے بعد یہ حضرت اسرائیل علیہ السلام کی اولاد میں یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا بنی اسرائیل میں، نبوت کا سلسلہ۔ جس پر ان کو خیال ہوا کہ ہم Chosen people ہیں اور بس ہماری ہی بات چلے گی چاہے ہم کچھ بھی کریں۔ شیطان نے ان کو یہ بس دھوکہ دیا۔
اب وہ چلے آ رہے تھے، تو اب قابلیت ان میں تھی لیکن برے اعمال کی وجہ سے قبولیت چلی گئی۔ نتیجتاً خسارے میں چلے گئے۔اور پھر اللہ پاک نے دوسرے قابلیت والے گروہ... وہ بھی تو قابلیت والا گروہ تھا نا، آخر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد تھے، ان کے لیے بھی دعا۔ تو وہ قبولیت ادھر چلی گئی اور نبی کو ان میں بھیجا گیا۔
اچھا اب نبی کو ان میں بھیجا گیا، تو پہلے کے لیے یہ بات تھی کہ چونکہ ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا تھا کہ ظالموں کو شامل نہیں ہے، تو چونکہ بار بار ظلم ایک انسان کا اپنا فعل ہے، وہ قابلیت والی بات نہیں ہے۔ تو جو جو ظالم بنتے گئے وہ خروج ہوتا گیا ان کا۔ نکل گئے اس وقت تک۔جب وہ نکل گئے تو اب... اب مجھے آپ بتائیں کہ کیا وہ... وہی بات ادھر نہیں ہو سکتی؟ ظالموں کو شامل نہیں ہے۔تو اگر ہم ظلم کریں گے تو پھر معاملہ گڑبڑ ہو جائے گا۔اس وجہ سے فارمولا بالکل وہی ٹھیک ہی آ رہا ہے، چلا آ رہا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں یہ بات چلی آ رہی ہے لیکن جو جو ظالم ہیں وہ Exclude ہوتے جائیں گے۔ وہ Exclude ہوتے جائیں گے۔
تو بس پھر معاملہ انسان کو سمجھنا چاہیے۔ یہ جو اسماعیلی ہیں، یہ بھی تو اولاد ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ لیکن کتنے Detract ہو گئے۔ کہاں چلے گئے۔ اس طریقے سے اور بھی ہیں... ہیں۔یہ میں آپ کو بات بتاؤں کہ اس بات کو ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ اللہ نے جو قابلیت دے دی وہ اللہ کی امانت ہے۔ اب اس امانت کو صحیح استعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اب اگر اس کو ہم صحیح استعمال کریں گے تو اللہ پاک اس پر نوازیں گے۔ ایک طرف قابلیت، دوسری طرف ساتھ قبولیت بھی ہو جائے گی۔ تو ماشاءاللہ۔
اب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، سید تھے۔ لیکن سبحان اللہ قابلیت کے ساتھ قبولیت... اعمال ایسے کیے، تو اللہ پاک نے ان کو کہاں پہنچایا۔امام مہدی علیہ السلام بھی ہوں گے۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ... اب ان کے ساتھ ساتھ جو ہوتا جائے گا وہ بھی وہی ہے چاہے وہ سید ہو چاہے وہ سید نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو بھی ان کے ساتھ ہوتا جائے گا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ قابلیت پر نہیں ہے بلکہ قبولیت پر ہے۔
کیونکہ قابلیت بھی اللہ ہی دیتا ہے، تو اگر کسی کو نہیں دیا اور اس کے مطابق اس نے کام کیا تو وہ قابلیت والوں سے آگے نکل سکتا ہے۔
ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے اپنی کتاب "سلوک سلیمانی" جو لکھی، اس کے بالکل ابتداء میں ایک شعر مقدمہ میں لکھا ہے:
دادِ اُو را شرطِ قابلیت نیستبلکہ شرطِ قابلیت دادِ اُوست
اس کے دینے کے لیے قابلیت شرط نہیں ہے، اس کے دینے کے لیے قابلیت شرط نہیں ہے بلکہ قابلیت کے لیے اس کا دینا شرط ہے۔بلکہ شرطِ قابلیت دادِ اُوست۔ کیونکہ وہی تو دے رہا ہے۔بس اس بات کو اگر ہم آج سمجھ گئے ان شاءاللہ، تو آج کا پورا Lesson ہے، اللہ تعالیٰ اس پر ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔