اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّـٰهِ خَيْـرٌ ۖ لَّوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (103)
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْـمَعُوْا ۗ وَلِلْكَافِـرِيْنَ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (104)
مَّا يَوَدُّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْـمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْـمِ (105)
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُـنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْـرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۗ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (106)
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۗ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مِنْ وَّّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْـرٍ (107)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ.
اور (اس کے برعکس) اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقیناً کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا بھی حقیقی) علم ہوتا! ﴿103﴾
یہ اصل میں گزشتہ آیت کے ساتھ پیوستہ ہے کہ...
اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بُری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔ ﴿102﴾
یعنی جو لوگ یہاں دنیا کی چیزوں کو لیتے ہیں اور آخرت کی چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں، تو ظاہر ہے ان لوگوں نے اپنا بہت نقصان کیا۔ وہ بہت ہی بیوقوف لوگ ہیں۔ تو یہاں پر جو فرمایا کہ اس کے برعکس اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقیناً کہیں زیادہ بہتر ہوتا، کاش کہ ان کو اس بات کا بھی حقیقی علم ہوتا۔
اے ایمان والو! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر) ’’رَاعِنَا‘‘ نہ کہا کرو، اور ’’انظُرْنَا‘‘ کہہ دیا کرو۔
اصل میں یہ چونکہ... ان میں ٹیڑھ تو تھی، تو یہ ٹیڑھ کی وجہ سے الفاظ کو بھی گھما دیتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر... کوئی پکڑ لیتا تو کہتے ہم تو... ہم تو کہتے ہیں "رَاعِنَا"۔ اور کہتے تھے "رَاعِيْنَا"، یعنی ہمارے چرواہے۔ یہ کہتے تھے، "رَاعِيْنَا"۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ اس طرح یہ ان لوگوں کی شرارت اور ٹیڑھ تھی۔
کہ وہ جب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے: رَاعِنَا۔ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ہماری رعایت فرمائیے‘‘ اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے۔ لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی، اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بددعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا، نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ رَاعِیْنَا بن جاتا ہے۔ جس کے معنی ہیں: ’’ہمارے چرواہے!‘‘
غرض یہودیوں کی اصل نیت اس لفظ کو خراب معنی میں استعمال کرنے کی تھی، لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا، اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ لفظ بولنا شروع کر دیا۔ یہودی اس بات سے بڑے خوش ہوتے اور اندر اندر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس لئے اس آیت نے مسلمانوں کو اس شرارت پر متنبہ بھی کر دیا، آئندہ اس لفظ کے استعمال پر پابندی بھی لگا دی اور یہ سبق بھی دے دیا کہ ایسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے جن میں کسی غلط مفہوم کا احتمال ہو، یا ان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہو۔ نیز اگلی آیت میں اس سارے عناد کی اصل وجہ بھی بتادی کہ درحقیقت ان کو یہ حسد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نعمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں عطا فرما دی ہے۔ رَاعِنَا کے بجائے انْظُرْنَا کا لفظ سکھا دیا کیونکہ اس کے معنی ہیں ’’ہم پر (شفقت کی) نظر فرمائیے‘‘ اس میں کسی اور معنی کا احتمال نہیں۔
یہ میرے خیال میں یہ لفظ شاید بزرگوں میں بھی اسی لیے آیا ہے میرے خیال میں، بعض لوگ کہتے ہیں نا، ہم پر نظر فرمائیے۔ تو لوگوں نے تو اس کا مطلب اور لے لیا وہ توجہ اور گویا کہ بس ہمارا کام ہو جائے... ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے۔ وہ تو دوسری غلطی تھی... لیکن یہاں قرآنی لفظ جو ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوپر شفقت فرمائیے۔ نظر فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوپر شفقت فرمائیے، یعنی اپنے علم سے، اپنے فیض سے، اپنے اس سے ہمیں مستفید فرما دیجیے گا۔ یہ مطلب اس کا ہو سکتا ہے اور یہ صحیح مطلب ہے، یہ ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر یہ بات آرہی تھی۔
اللّٰهُ أَکْبَرُ.
اور سنا کرو۔ اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ﴿104﴾ کافر لوگ، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھلائی تم پر نازل ہو، حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص فرما لیتا ہے۔ اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے ﴿105﴾
یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ جو اکثر اس پر بات فرماتے ہیں "محبوبین اور محبین" والی بات۔ تو محبوبین جو ہوتے ہیں ان کے لیے اللہ پاک ظاہر ہے بہت ساری چیزیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو کسی کو اس کے لیے اگر مخصوص فرما دے تو اس کے لیے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
اب ذرا تھوڑا سا ایک لاجیکل پوائنٹ (Logical Point)۔ وہ یہ ہے کہ یہود جو تھے، وہ اپنے آپ کو مخصوص لوگ کہتے تھے، چنے ہوئے لوگ کہتے تھے۔ اب بھی کہتے ہیں۔ چنے ہوئے لوگ کس نے چنا؟ ظاہر ہے اللہ نے چنا۔ اگر اللہ پاک ان کو چن سکتا ہے تو کسی اور کو نہیں چن سکتا؟ کیا نعوذ باللہ من ذلک ان کو چن کر اللہ پاک کے چننے کی صلاحیت ختم ہو گئی؟ تو اگر ان کو چن سکتا ہے تو باقی لوگوں میں سے بھی چن سکتا ہے۔ اور یہ ان کو حسد تھا کہ ہمارے ہوتے ہوئے کسی اور کو کیوں چنا؟ یہ بڑی بات تھی۔ نتیجۃً وہ دشمن ہو گئے۔ حالانکہ پہلے یہ مشرکینِ مدینہ منورہ سے کہتے تھے کہ ہمارا ایک پیغمبر اور آئے گا ہم ان کے ساتھ ہو کے پھر تمہیں ماریں گے۔ یہ انتظار کرتے تھے آپ ﷺ کا۔ لیکن اب دیکھیں کہاں پر گئے۔
تو اس وجہ سے حسد جو ہے بہت بری بلا ہے، بہت بری بلا ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ علم میں بھی حسد ہوتا ہے، پیسے میں بھی حسد ہوتا ہے، پوسٹ میں بھی حسد ہوتا ہے، لباس میں بھی حسد... مطلب کون سی چیز میں حسد نہیں ہے۔ مطلب یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان حریص ہو اور وہ سب سے اچھی چیزیں صرف اپنے لیے پسند کرتے ہوں کسی اور کے لیے نہیں، ادھر سے حسد شروع ہو جاتا ہے۔ یہی حسد ہے، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔
ہم جب بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی (آیت) لے آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ مختلف زمانوں کے حالات کی مناسبت سے شریعت کے فروعی احکام میں تبدیلی فرماتے رہے ہیں۔ اگرچہ دین کے بنیادی عقائد مثلاً توحید، رسالت، آخرت وغیرہ ہر دور میں ایک رہے ہیں، لیکن جو عملی احکام حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے ان میں سے بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں تبدیل کر دیئے گئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان میں مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع میں نبوت عطا ہوئی تو آپ کی دعوت کو مختلف مراحل سے گزرنا تھا، مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے احکام میں تدریج اختیار فرمائی۔ کسی وقت ایک حکم دیا گیا، بعد میں اس کی جگہ دوسرا حکم آ گیا، جیسا کہ قبلے کے تعین میں احکام بدلے گئے جن کی کچھ تفصیل آگے آیت 115 میں آ رہی ہے۔ فروعی احکام میں ان حکیمانہ تبدیلیوں کو اصطلاح میں ’’نسخ‘‘ کہتے ہیں۔
یہودیوں نے بالخصوص اور دوسرے کافروں نے بالعموم اس پر یہ اعتراض اٹھایا کہ اگر یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ان میں یہ تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ یہ آیت کریمہ اس سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بدلتے ہوئے حالات میں یہ تبدیلیاں کرتے ہیں، اور جو حکم بھی منسوخ کیا جاتا ہے اس کی جگہ ایسا حکم لایا جاتا ہے جو بدلے ہوئے حالات میں زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا ہے، یا کم از کم اتنا ہی بہتر ہوتا ہے جتنا بہتر پہلا حکم تھا۔اصل میں اللہ جل شانہ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم نماز پڑھیں تو اللہ پاک کو تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے فائدے کے لیے ایک نظام وضع فرمایا ہے۔ اب یہ ہے کہ فائدہ... مثال کے طور پر... کسی کو میں فائدہ پہنچانا چاہتا ہوں، تو میرے پاس فروٹ (Fruit) ہے، تو میں کبھی اس کو آم دیتا ہوں، کبھی اس کو میں سیب دیتا ہوں، کبھی اس کو میں کیلا دیتا ہوں، تو کیا خیال ہے وہ... اگر آم دے دیا تو بس آم ہی دینا چاہیے؟ ظاہر ہے یہ تو بات نہیں ہے کیونکہ اللہ پاک کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہمارے فائدے کے لیے جو چیزیں ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں اللہ پاک وہی دیتے ہیں۔
یہ تبدیلیاں آپ ﷺ تک ہوئی تھیں، دین کے اندر جو یہ تبدیلیاں تھیں، آپ ﷺ تک ہوئی تھیں۔ کہ ابراہیم علیہ السلام، پھر اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے بعد پھر عیسیٰ علیہ السلام، پھر آپ ﷺ جب تشریف لائے تو یہ ساری تبدیلیاں جتنی بھی گزشتہ تھیں ان میں سے جن کو باقی رکھنا تھا رکھا اور جن کو باقی نہیں رکھنا تھا ان کو بھی تبدیل کر لیا اور اب یہ جو مکمل دین ہے وہ آپ ﷺ کے لیے ہو گیا، یہ آخری وقت میں: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔
اب ذرا دیکھو "أَكْمَلْتُ" والا لفظ ہے نا، یہ بذاتِ خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ میں نے مکمل کر دیا تمہارے لیے تمہارا دین۔ یعنی پہلے مکمل نہیں تھا، آرہا تھا ابھی۔ اس وقت مکمل ہو گیا۔ اب جب مکمل ہو گیا اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اب اگر اس میں مختلف چیز نظر آتی ہے وہ صرف اجتہادی طور پر نظر کا فرق ہوتا ہے۔ وہ تبدیلی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی، یہ صرف نظر کا فرق ہوتا ہے کہ ایک کام کو ایک شخص ایک طرح سمجھتا ہے دوسرا دوسری طرح سمجھتا ہے۔ اور اللہ پاک نے اس میں وسعت رکھی ہے کہ اگر اس کی نیت صحیح ہو اور علم صحیح ہو... یعنی اس نے کوئی کمزوری نہ دکھائی ہو علم سیکھنے میں اور نیت بھی اس کی صحیح ہو تو اس کو بھی اللہ پاک مان لیتا ہے اجتہادی... اس کے لیے قانون یہ وضع ہو گیا کہ اگر صحیح ہے تو دو ثواب اور اگر صحیح نہیں ہے، مطلب دوسرا ہے تو پھر ایک ثواب۔ اس میں یعنی گناہ کوئی نہیں ہے۔
تو وہ طریقہ ہے لیکن اس سے گزشتہ یہ باقاعدہ تبدیلیاں ہوتی تھیں۔ کیونکہ جیسے مثال قبلہ ہے۔ اب مدینہ منورہ میں قبلہ شمال کی طرف تھا اور مکہ مکرمہ جنوب کی طرف ہے۔ تو جب تبدیل ہو گا تو بالکل 180 ڈگری (180 Degree) ریفرنس (Reference)۔ ہمارے ہاں تو 45 ڈگری (45 Degree) ہے نا یہ... بلکہ 45 سے بھی کچھ کم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بیت المقدس اور مکہ مکرمہ کا۔ تو یہ تقریباً مغرب ہی کی سمت میں ہے، مغرب سے تھوڑا سا شمال کی جانب ہو گا۔ تو یہ بات ہے کہ... اکثر لوگ ہم میں... یہاں پر بھی غلطی ہے، یہاں لوگ شمال کو قبلہ اول سمجھتے ہیں۔ یہ شمال نہیں ہے۔ شمال میں ہمارا کون ہے؟ شمال میں چائنا (China) ہے یا رشیا (Russia) کا جو بارڈر ہے تقریباً وہ شمال میں ہے۔ تو اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قبلہ اول ادھر ہے تو ان کا قبلہ اول کوئی اس طرف تو نہیں ہو گا۔ تو وہ بھی مغرب کی جانب ہی ہے، آپ دیکھیں نا یہ ترکی کس طرف ہے؟ ہاں ترکی مغرب... تو ترکی تو اس سے اوپر ہے، تو ظاہر ہے کیسے وہ ہو گیا، ترکی تو بیت المقدس سے اوپر ہے شمال کی طرف ہے اور... (سامع: شمال مغرب) شمال مغرب، بس شمال مغرب تقریباً یعنی اس کا ہے۔ تو اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں پر 180 ڈگری Difference ہے۔ اور مسجد قبلتین میں یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ وہ نشانی جو قبلہ اول کا تھا وہ بالکل دروازے کے پاس ہے اور وہ جو ابھی موجودہ ہے وہ ظاہر ہے بالکل محراب ہے، تو یہ Opposite ہے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.