علمِ دین کی اہمیت، قرآن کا اعجاز اور ہماری ذمہ داریاں

خطبات الاحکام سے خطبہ نمبر 1: علمِ دین کی فضیلت اور تاکید میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • علمِ دین کی ضرورت اور ذرائع (تجرباتی، سماعی اور وحی)۔
  • انبیاء علیہم السلام کا معصوم ہونا اور نبی کریم ﷺ کی صداقت و امانت۔
  • قرآن مجید کی بلاغت، اعجاز اور انسانی کتابوں پر اس کی برتری (توازن اور Specialization)۔
  • علم کی منتقلی کا تسلسل: محدثین، فقہاء اور صوفیائے کرام کی خدمات۔
  • مدرسے کے قیام اور دینی خدمت کے لیے وسائل کی بجائے اخلاص پر توکل۔
  • ہر مسلمان پر فرضِ عین علم کی اہمیت اور اسے سیکھنے کے آسان طریقے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهُ ثُمَّ كَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَعْنِي رِيحَهَا. وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ.

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

معزز خواتین و حضرات! اپنے فائدے اور نقصان کو جاننا، یہ ہر انسان کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن انسان کے جاننے کی حدود ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو وہ جاننا چاہتا ہے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کو حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ظاہر ہے، جن کے وہ وسائل ہوں اور جن کو وہ حاصل ہو تو ان سے پھر وہ حاصل کر سکتا ہے۔ جیسے قرآن پاک میں آتا ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ جاننے والے سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔

پھر یہ بات ہے کہ یہ ہر چیز کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور ایک سلسلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے سے اس کو حاصل کیا جاتا ہے۔ کچھ چیزیں تجرباتی ہوتی ہیں جو انسان اپنے تجربے سے سیکھتا ہے۔ کچھ چیزیں سماعی ہوتی ہیں جو کہ انسان اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ماحول میں بھی پہلے سے موجود نہیں ہوتیں، اور اس کا کسی کو تجربہ بھی نہیں ہو سکتا، اور اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس کو پھر ان سے سیکھا جاتا ہے جن کے پاس وہ ہو۔ تو سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ہمارا جو بنیادی مقصد ہے آنے کا، وہ ہمیں جاننا چاہیے کہ ہم کس لیے دنیا میں آئے، یا دنیا میں ہیں؟ تو اس کے لیے اللہ پاک نے چونکہ اللہ پاک ہی سب کچھ جانتے ہیں اور اللہ جل شانہ ہی کے پاس سب چیزیں ہیں، سارے وسائل ہیں، ساری چیزیں اسی کی ہیں۔ تو لہٰذا وہ چیزیں جو کہیں اور سے نہیں مل سکتیں وہ اللہ کے پاس ہوں گی اور اللہ جل شانہ ہی ہمیں وہ بتا سکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کیسے لیں؟ ٹھیک ہے اللہ پاک سے لینا چاہیے، مان لیا، کیسے لیں؟ تو یہ جیسے میں نے عرض کیا کہ اللہ پاک ساری چیزوں کو جانتے بھی ہیں اور سارے کام بھی اس کے ظاہر ہے مطلب اس کی طرف سے ہوتے ہیں۔ وہی سب کچھ کرنے والا ہے۔ تو اللہ پاک نے اس کے لیے انتہائی ایک پاک راستہ بنایا ہوا ہے جس پہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اور وہ یہ ہے کہ پیغمبروں کا ایک سلسلہ جاری فرمایا۔ پیغمبر وہ لوگ ہوتے ہیں جو پیدائشی طور پر معصوم ہوتے ہیں۔ ان کی یعنی ان کی تربیت ہی اللہ کی طرف سے ایسی ہوتی ہے کہ کسی اور سے ان کو لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور نہ پیغمبر کوئی خود بخود بن سکتا ہے اپنی مرضی سے۔ مثال کے طور پر دوسرے پیغمبروں کو دیکھ کر آدمی کہے کہ میں بھی پیغمبر بن جاؤں، تو یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جس کو مقرر کرتے ہیں، مقرر کرتے ہیں۔ جب پیغمبروں کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک سے کہا تھا کہ میرے بھائی کو میرے ساتھ کر دیں۔ تو اللہ پاک نے اس کو بھی پیغمبر بنا دیا ہارون علیہ السلام کو، کہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ لیکن اب تو یہ بھی نہیں ہو سکتا، اب تو بس سلسلہ ختم ہے۔

تو پیغمبروں کا سلسلہ اللہ نے بنایا ہے، اور انتہائی پاک سلسلہ ہے۔ اب تھوڑا سا غور کر لیں کہ قریش مکہ جو تھے، جو مشرک تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے بڑے دشمن تھے؟ دشمنی میں کوئی انہوں نے کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ لیکن جب قیصر نے ابو سفیان سے پوچھا جو بہت بڑا دشمن تھا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا، کہ کیا جن کی بات تم کر رہے ہو اس نے کبھی جھوٹ بولا ہے؟ تو اس نے کہا جھوٹ تو کبھی نہیں بولا... جھوٹ تو کبھی نہیں بولا۔ تو قیصر نے کہا کہ اگر وہ بندوں کے سامنے جھوٹ نہیں بولتا تو خدا پر کیسے جھوٹ بولے گا؟ بات ایسی ہے۔ اور دیکھ لیں کہ ان سب کی زبان سے اللہ پاک ان کو ایک لقب دلواتے ہیں، صادق اور امین۔ صادق دو لفظ ہیں، صادق اور امین۔ سچا اور امانت دار۔ امانت میں خیانت یہ معاملات کی بہت گڑبڑ ہے۔ ایسے شخص کے حوالے کسی چیز کو نہیں کیا جا سکتا۔ اور جو سچا نہ ہو، اس کی بات پر اعتماد نہیں ہو سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان دو الزاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت بچا لیا تھا۔ چالیس سال تک... چالیس سال تک۔ چالیس سال بڑی مدت ہوتی ہے۔ ایک انسان سفر کرتا ہے نا کسی کے ساتھ تو ظاہر ہو جاتے ہیں کہ کیسے ہیں۔ کسی کے ساتھ لین دین آ جاتا ہے تو پتہ چل جاتا ہے کہ کیسے ہیں۔ چالیس سال تو بہت بڑی مدت ہے۔

تو ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑا لیکن سب نے ایک ہی بات پائی اور وہ کیا ہے؟ صادق اور امین۔ اور ایسے زبردست اس پر سب کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دعوت کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کی ابتدا ان الفاظ سے فرمائی: اے لوگو! اگر میں کہوں... پہاڑی کے اوپر چڑھ کے، سب کو جمع کیا تھا... اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے تم پر ایک دشمن آنے والا ہے، تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا تم مان لو گے؟ تو سب نے کہا ہم کیوں نہیں مانیں گے؟ ہم نے تو آپ کو صادق اور امین ہی پایا ہے۔ دیکھیں یہ اس وقت کی بات ہے جب بالکل یعنی اس کے فوراً بعد وہ مرحلہ آنے والا ہے دشمنی کا۔ تو اس سے پہلے جس کو کہتے ہیں impartial decision، جو سب کا unanimous تھا، وہ کیا تھا؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین ہیں۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعوت دی کہ اللہ کو ایک مانو، بتوں کی پوجا نہ کرو، یہ تمہیں کچھ نہیں دے سکتے۔ اس پر سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب غصے سے باہر ہو گیا، اور آپے سے باہر ہو گیا اور کہا کہ نَعُوْذُبَاللہ مِن ذٰلِکَ، نَعُوْذُبَاللہ مِن ذٰلِکَ، نَعُوْذُبَاللہِ من ذٰلِکَ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں، تو نے ہمیں اس کے لیے جمع کیا ہوا تھا؟ اور پتھر مارنے لگا۔ تو اللہ پاک نے جواب دیا خود قرآن میں: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ۔ تو اس وقت جو عرب تھے وہ دشمن ہو گئے۔ لیکن دشمنی کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹے ہونے کا وہ کوئی دعویٰ نہیں پیش کر سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ بولا ہے۔ اور یہ ابو سفیان والی بات، وہ تو کافی عرصے کے بعد کی بات ہے۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ہونے پر سب کو یقین تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم امانت دار تھے، ایسے امانت دار تھے کہ دشمن بھی اپنی امانتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکھواتے تھے۔ حتیٰ کہ ہجرت کی رات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑا تھا، وہ ان امانتوں کے لیے چھوڑا تھا کہ ان امانتوں کو واپس کرنا ہے، ان لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اگر پہلے امانتیں پہنچاتے تو پتہ چل جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کا پتہ چل جاتا۔ تو پہلے پہنچا نہیں سکتے تھے۔ تو بعد میں علی رضی اللہ عنہ کو اس کے لیے چھوڑا۔

تو یقین یقین ہوتا ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے بعد میں کہا، جس رات مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چارپائی پہ لٹایا تھا اور میں نے چادر اوڑھ لی تھی، اس رات سے زیادہ بہترین نیند مجھے کسی اور رات پہ نہیں آئی۔ بہت پرسکون رات گزاری۔ حالانکہ اس وقت سب سخت خطرے میں تھے، کیونکہ اگر چادر آپ نے اوپر رکھی ہے، تو اگر وہ یکدم تلوار چلا دیتے؟ کیونکہ انہوں نے چہرہ دیکھنا تھا پہلے ایک، تلوار چلانے سے پہلے۔ لیکن علی رضی اللہ عنہ کو حکم، بس حکم کے پابند۔ حکم تھا لہٰذا بس لیٹ گئے۔ تو خیر یہ میں عرض کر رہا ہوں کہ امانت دار ایسے تھے۔ کہ دشمنوں کی امانتیں ان تک پہنچانے کے لیے اپنے بہت ہی عزیز چچا زاد بھائی ان کو اپنی چارپائی پہ سلایا۔

تو جب ایسی ہستیاں ہوں تو اس پر یقین کیوں نہ کیا جائے؟ بڑے بڑے کافر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنتے تھے تو ہل جاتے تھے،ہل جاتے تھے۔ دو باتیں ہیں، ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنا، ان کے لیے مشکل تھا کیونکہ وہ بہت بڑی حقیقت تھی۔ اور ایک قرآن کا سامنا کرنا۔ قرآن کے بارے میں بھی ان کی یہی باتیں ہوتیں۔ جب قرآن سنتے تھے تو ڈگمگا جاتے تھے۔ اور چپکے چپکے سنتے تھے، چپکے چپکے سنتے تھے۔ اور جب ایک دوسرے پہ نظر پڑتی تو کہتے اوہ! یہ بس غلطی ہو گئی، آئندہ پھر ہم نہیں آئیں گے۔ پھر اگلی دفعہ پھر، لوگ آئے ہیں، سن رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات۔ قرآن کا اپنا ایک اثر ہے۔ خیر وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اطہر سے کلام تھا، اس کی تو بات ہی اور ہے۔ ہمارے ایک رشتہ دار ہیں سید تقویم الحق کاکاخیل دیوبند کے فارغ، فوت ہو گئے ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ تو وہ فرما رہے تھے، ان کی آواز بھی اتنی اچھی نہیں تھی، لیکن معمول کی قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے دیوبند میں۔ تو جتنی تلاوت کرنی تھی اتنی کر لی، وہ بھی جہری تلاوت کرتے تھے مطلب خفی نہیں ہوتے تھے زبان سے، جہری تلاوت کرتے تھے۔

میں جو عرض کر رہا تھا کہ... تلاوت فرما رہے تھے ہمارے تقویم الحق کاکاخیل صاحب۔ اپنے معمول کی تلاوت کر لی، رک گئے جب پوری ہو گئی۔ اتنے میں ایک پنڈت تھے، وہ کونے سے نکل آئے، وہ چپکے سے سن رہے تھے۔ اس قرآن کو سن رہے تھے۔ تو انہوں نے کہا کیوں بند کیا؟ کیوں پڑھنا بند کیا؟ انہوں نے کہا جتنا میں پڑھنا تھا وہ پڑھ لیا۔ تو اب کون سی بھیرویں گا رہے تھے؟ بھیرویں وہ یہ گانے کو کہتے ہیں۔ سُر والی بات ہوتی ہے۔ تو یہ سُروں کی بات ہوتی ہے بھیرویں۔ تو انہوں نے کہا بھیرویں کیا ہوتی ہے؟ ان کو کیا پتہ تھا بھیرویں کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کمال ہے اتنی زبردست بھیرویں گا رہے تھے اور پتہ بھی نہیں کہ کون سی بھیرویں، کمال ہے! یہ بھی بڑی عجیب بات ہے۔ یہ اس شخص کی زبان سے ہے جس کی آواز اتنی اچھی نہیں تھی۔ یعنی آواز کا کمال نہیں تھا، تو کمال کس چیز کا تھا؟ قرآن پاک کا تھا۔ ایسے ہی ہے۔ بعض دفعہ واقعی قرآن سن کے لوگ مسلمان ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ جیسے اس طرح اور حضرات کہ قرآن سنیں، آج کل کے دور میں بھی۔ نہرو جو تھے، نہرو، یہ باقاعدہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے جلسے میں آیا کرتے تھے۔ اور جب حضرت قرآن پڑھ لیتے تھے نا، قرآن حضرت کا اپنا ایک انداز تھا پڑھنے کا۔ تو قرآن جب پڑھ لیتے تھے ، تو پھر روانہ ہو جاتے۔ انہوں نے کہا بھئی آپ کیوں جا رہے ہو؟ کہتے ہیں بس میں تو بخاری کا قرآن سننے کے لیے آیا تھا۔ تو یہ بات ہے کہ قرآن کا اپنا ایک اعجاز ہے، ایک اثر ہے۔ جو ابھی بھی بالکل سامنے ہے۔

یعنی یہ معجزہ جو قرآن کا ہے، وہ تو ابھی قائم ہے نا، کہ کوئی اس کی طرح کوئی سورت بنا کے لائے۔ challenge ہے پوری دنیا کے لیے۔ سارے عرب مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس challenge کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اعتراضات بے شک کتنے ہی کر لیں لیکن اس challenge کے سامنے بالکل ڈھیر۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ لوگ... ایک دفعہ مصر میں، مصر میں چونکہ ساری زبان، کافی advance ہے عربی، تو علمی لوگ ہیں۔ وہ کسی نے کہا نا کہ نازل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہوا، اور پڑھا گیا مصر میں، اور عمل اس پر subcontinent میں ہوا۔ تو بات بالکل صحیح ہے، ایسا ہی ہے کہ پڑھا گیا ادھر ہے۔ ابھی بھی مشہور قاری جو ہمارے ہیں، ان کا origin مصر سے تعلق رکھتا ہے۔ قاری خلیل الحصری اور اس طرح اور حضرات، بڑے بڑے قراء مطلب وہاں کے ہیں۔

تو ایک دفعہ اس طرح چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک نے کہا ہم نے سنا تھا کہ قرآن میں بڑی بلاغت ہے، ہمیں تو بلاغت نظر نہیں آئی۔ مصر کے ایک عالم کہہ رہے ہیں۔ تو دوسرے ایک صحیح مطلب آدمی بیٹھا ہوا تھا، تو اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے، ایک test کر لیتے ہیں۔ آپ لوگ اپنی عربی میں بتائیں، جس طریقے سے بتانا چاہتے ہیں۔ کہ جہنم بہت ہی زیادہ وسیع ہے۔ اس کی عربی بتائیں، مطلب اپنی زبان میں، جتنی بلاغت کے ساتھ کہہ سکتے ہو تو کہہ دو۔ تو کسی نے کہا إن جهنم لوسیع،إن جهنم۔۔ مطلب اس طرح مختلف جو انداز انہوں نے بیان کیے۔ انہوں نے کہا اب قرآن سے سنو،اب قرآن سے سنو کہ قرآن نے یہی بات کیسے کی ہے: يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ۔ ہائے! اس دن ہم کہیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی؟ تو جہنم کہے گی، اور ہے؟ اور ہے؟

تو سب لوگوں نے اپنے سر پیٹ لیے، کہتے واقعی اس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ کہنے کا انداز ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جو دنیا کی کتابیں ہیں، دنیا کے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں، ان میں ایک مخفی عیب پایا جاتا ہے۔ جو قرآن میں کبھی نہیں ملتا۔ اور وہ عیب کیا ہے؟ چاہے کوئی بھی کتاب ہو۔ کہ لکھنے والا چونکہ انسان ہے اور انسان کے جذبات ہوتے ہیں۔ تو جذبات کی رو میں بہہ کے، جس چیز کو جس انداز میں شروع کرتا ہے اسی طرح لے جاتا ہے۔ غصے میں ہے تو غصے کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، محبت میں ہے تو محبت کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، نفرت ہے تو نفرت کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو اس کا اپنا حال ہے، اس کے مطابق کتاب لکھ رہا ہوتا ہے۔

قرآن ایسا نہیں ہے۔ قرآن ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ جل شانہ جذبات سے بات نہیں کرتے بلکہ اپنے ارادے سے بات کرتے ہیں۔ تو قرآن میں اگر ایک دفعہ سخت عذاب کی باتیں ہو رہی ہیں تو بالکل اس کے ساتھ ہی جنت کے مزوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک جگہ پر بروں کی باتیں ہو رہی ہیں تو ساتھ ہی صلحاء کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مشرکین کی بات ہو رہی ہے تو ساتھ ہی توحید والوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بالکل ایسے ہے جیسے مطلب ساتھ ساتھ رکھتے ہیں کوئی چیز۔

ہمارے ڈاکٹر فدا صاحب ہیں۔ انہوں نے ایک بات کی ہے، کہتے ہیں میں مدینہ مسجد میں بیان کر رہا تھا۔ تو میرا بیان سن کر ایک آدمی جو پہلے سے schizophrenia تھا، اس کا schizophrenia بڑھ گیا۔ مطلب یہ پاگل پن کے اس پہ دورے پڑنے لگے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایسا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں یہ میری غلطی ہے۔ کہ میں نے ایک ہی style کا بیان کیا۔ اور یہ اس کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ قرآنی style کے مطابق میں نے بیان نہیں کیا۔ قرآن میں ہر دو طرف کی بات ہوتی ہے۔ اگر ایک ہوتا ہے تو ساتھ ہی اس کو اعتدال پہ لانے کے لیے دوسری بات بھی ہوتی ہے۔ اگر میں اس انداز سے بات کرتا تو اس کے ساتھ یہ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ جو ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں انسان ہوں اور انسان میں کمزوری ہوتی ہے۔ اب بات سمجھ گئے؟

تو قرآن کا یہ اعجاز ہے۔ قرآن balanced... خیر یہ computer میں بہت ساری برائیاں بھی ہیں لیکن خوبیاں بھی ہیں۔ اس computer کے ذریعے سے قرآن پاک کے الفاظ کی analysis ہوئی ہے۔ بڑی تحقیق ہوئی ہے۔ تو کمال کی بات ہے کہ موت کا جتنا ذکر ہے، اتنا ہی زندگی کا ذکر ہے۔ جتنا دنیا کا ذکر ہے، اتنا آخرت کا ذکر ہے۔ حتیٰ کہ کمال کی بات یہ ہے کہ پانی اور خشک زمین میں جتنا ratio ہے... پانی اور خشک زمین میں جتنا ratio ہے، تو قرآن میں پانی کا اس ratio کے حساب سے ذکر ہے اور زمین کا اس کے حساب سے ذکر ہے۔ باقاعدہ calculate کیا گیا ہے۔ عجیب و غریب انداز... مطلب یہ خالق کے بغیر کوئی نہیں کر سکتا۔

اور ایک اور بات میں آپ کو بتاؤں۔ وہ کیا ہے... سورة کہف میں... وَازْدَادُوا تِسْعًا... ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کی تفسیر پوچھی گئی کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا 300 سال شمسی ہیں اور 300 پہ مزید 9 سال بڑھا دو 309 سال یہ قمری ہیں۔ ثَلَاثَ مِائَةٍ اب دیکھو اس طرح ثَلَاثَ مِائَةٍ وَتِسْعَة بھی کہہ سکتے تھے نا۔ وَازْدَادُوا تِسْعًا کہہ کر ایک بڑی حقیقت بیان کر دی۔ اس کو علیحدہ کر دیا۔ اب بھی آپ ratio نکالیں، بالکل یہی ratio بنتی ہے۔ قمری اور شمسی سالوں کی، یعنی 309 سال قمری جو ہوتے ہیں وہ 300 سال شمسی کے برابر ہوتے ہیں۔ calculate کرو۔

تو یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ یہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے یہ دو سلسلے چلائے ہیں۔ ایک انبیاء کا سلسلہ اور ایک کتابوں کا سلسلہ۔ اور آخری نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو پوری امت کے لیے ہیں، یعنی پوری دنیا کے لیے، قیامت تک کے لیے۔ ہوں گے تو ظاہر ہے مسلسل لیکن میں نے کہا عمل کے لحاظ سے۔ اور قرآن بھی آخری کتاب ہے، اس میں ساری چیزیں جمع ہو گئی ہیں۔ تو اب اگر اللہ کے رسول کی بات پہ، نہ عمل کیا جائے، جو اتنے پاک ہیں، جو اتنے صاف ہیں، جو اتنے امانت دار ہیں، جو اتنے صادق ہیں، مجھے بتاؤ ان کو چھوڑ کے پھر کس کی بات پہ عمل کیا جائے؟ اس طرح قرآن پہ اگر عمل نہ کیا جائے تو پھر کون سے article پہ عمل کیا جائے؟ آخر آپ کسی چیز پر عمل کریں گے نا؟ یا تو آپ کا خود experience ہو، تو یہ experience والی باتیں ہیں ہی نہیں۔ یہ experience سے باہر کی باتیں ہیں۔ اور آپ بھی مانتے ہیں کہ experience سے باہر کی باتیں ہیں۔ تو پھر کسی کی ماننا پڑے گا نا؟ کوئی بتائے گا آپ کو۔ تو بتانے والوں میں سے کون سا ہو جس پہ آپ یقین کر لیں؟ جس کی بات آپ مان لیں؟ تو ہمارے پاس ایک ہی choice رہتا ہے، اور وہ کیا ہے؟ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لیں، اور قرآن پاک کو لے لیں۔ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جب کبھی تم میں اختلاف ہو تو ان دونوں پر، ان دو شاہدوں پر پیش کر دو، کہ وہ حق بات اس میں کون سی ہے۔ بڑا اچھا ہمیں وہ دیا گیا ہے، choice دیا گیا ہے۔

تو اس وجہ سے یہ بات بڑی لمبی ہو گئی، لیکن چلو اچھا ہوا الحمد للہ، اتنی بات لمبی کرنا مقصود نہیں تھا۔ یہ صرف میں آپ سے یہ کہنا چاہتا تھا کہ ہم نے بات اللہ سے لینی ہے، اور اللہ سے لینے کا طریقہ پیغمبروں کے ذریعے سے ہے۔ اور پیغمبروں سے لینے کا طریقہ ان کے صحابہ سے ہے۔ اور صحابہ سے لینے کے پھر تین راستے ہیں۔ محدثین حضرات نے ان سے حدیث روایت کی۔ اس کے لیے اللہ پاک نے اپنے سلسلے بنائے۔ اور فقہاء حضرات نے ان احادیث شریفہ سے فقہ مرتب کیا۔ اس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ اور صوفیائے کرام نے پھر اس پر عمل کر کے دکھوایا۔ اس کے پھر اپنے طریقے ہیں۔ اب دیکھ لیں سماعت کو باقاعدہ کتابت میں لانا اور پھر اس کے لیے اس کو قابل یقین بنانا، یعنی اس پر اعتماد ہو جانا، یہ ایک تجرباتی چیز تھی۔ اللہ پاک نے اس کے لیے پورے نظام وضع کر دیے احادیث شریفہ کے۔ امام بخاری نے خدمت کی، امام مسلم نے خدمت کی، امام ترمذی نے خدمت کی، امام ابو داؤد نے خدمت کی، امام ابن ماجہ نے خدمت کی، امام نسائی نے خدمت کی... اس طرح مطلب یہ کہ امام... وہ... سب نے مطلب اپنے اپنے طور پہ محنت کی۔

تو ان سے پھر فقہاء نے لیا، اور فقہاء نے پھر کیا کیا؟ ما شاء اللہ اس کے مسائل مرتب کر دیے۔ یہ البتہ ایک بات عرض کروں جو ترتیب میں نے احادیث شریفہ کی بتائی ہے نا، یہ متاخرین احادیث شریفہ کی ہیں۔متاخرین احادیث شریفہ ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ متقدمین احادیث شریفہ میں نہیں ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث شریف پہ عمل کیا؟ وہ تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تو آج کل کوئی کہتا ہے فقہ حنفی، یہ بخاری کے مطابق نہیں ہے، خدا کے بندے امام بخاری تو اس وقت تھے ہی نہیں۔ وہ ان سے کیسے پوچھتے؟ ہاں البتہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو جن روایات سے ملی تھی بات، وہ کم تھی، یا ایک تھی، یا دو تھی، یا تین تھی۔ روایتیں زیادہ سے زیادہ تین روایتیں تھیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بہترین روایت وہ ہے جو تین سے مروی ہے۔ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ان سے بھی زیادہ advance تھی۔ یا ایک، یا دو، یا تین، اس طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ امامِ مدینہ، سبحان اللہ ان کے سامنے سب کچھ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ حیران ہوں گے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ محمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آئے ہیں، یعنی چاروں امام پورے ہو گئے اس کے بعد پھر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم اور ان حضرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

تو خیر یہ تو مطلب میں عرض کر رہا تھا کہ آج کل جو لوگ الٹ سنتے ہیں، اس وجہ سے میں ذرا یہ بات عرض کر رہا تھا، کہ ان حضرات کو اللہ پاک نے بہت original form میں چیزیں دے دی تھیں۔ ہاں البتہ بعد والوں کے لیے انتہائی مستند انداز میں پیش کرنے کی جو انہوں نے خدمت کی، وہ بذاتِ خود بہت اونچی بات ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت۔ ابھی مدارس میں جو کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں وہ یہی پڑھائی جا رہی ہیں، لیکن عمل کون سی پر ہو رہا ہے؟ اس سے پہلے کی پر ہو رہا ہے۔ کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان سے پہلے گزرے ہیں۔ ایک دفعہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ تو یہ کہتے ہیں، اور آپ یہ کہتے ہیں۔ فرمایا ہاں ٹھیک ہے، میں یہ کہتا ہوں، اور وہ یہ کہتے ہیں۔ میرے آخری راوی کو دیکھو، ان کے آخری راوی کو دیکھو، کون زیادہ فقیہ ہے؟ پھر اس سے پہلے میرے راوی کو دیکھو، اور ان کے راوی کو دیکھو، کون زیادہ فقیہ ہے؟ پھر اس سے پہلے ان کے راوی کو دیکھو، میرے راوی کو دیکھو، کون زیادہ فقیہ ہے؟ بات سامنے بات بالکل آ گئی۔ بس انہوں نے کہا جی بالکل ٹھیک ہے۔ یعنی اس قسم کی باتیں ہوتی تھیں اس وقت۔ یہ نہیں کہ مطلب ویسے... نہیں باقاعدہ دلیل کے ساتھ باتیں ہوتی تھیں۔ کیوں، ظاہر ہے مطلب ایک ہی... دین تو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی اترا تھا نا۔ کوئی اور یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میرے اوپر دین اترا ہے؟ باقی تو صرف سننے والے ہیں نا، یا دیکھنے والے ہیں۔ اب سننے اور دیکھنے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ سننے اور دیکھنے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک صاحب ہیں جو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، اور ایک صاحب جو کبھی کبھی آتے تھے۔ اب دونوں میں اختلاف ہو جائے تو ہم کس کی بات مانیں گے؟ جو ہمیشہ ساتھ رہیں، ان کی طرف زیادہ ذہن جائے گا نا۔ یا اس طرح فقیہ اور غیر فقیہ والی بات ہو جائے گی، اس میں بھی فقیہ کی طرف بات جائے گی نا۔ یہی چیزیں تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے تھیں۔ وہ یہی تو دیکھتے تھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایتیں اکثر لیتے ہیں۔ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھیں وہ کیسے تھے، ان کو تو صحابہ کرام بھی اہلِ بیت میں سے سمجھنے لگے تھے۔ اتنا زیادہ ان کا آنا جانا تھا۔

خیر یہ تو درمیان کی باتیں آ گئیں۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے۔ اور علم حاصل کرنے کا راستہ یہ ہے۔ یہ جو میں نے پڑھا ہے ابھی، یہ آیت کریمہ: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔ بتا دو، جو جاننے والے ہیں، اور جو وہ نہیں جاننے والے، کیا برابر ہو سکتے ہیں؟ استفہامی انداز ہے۔ یعنی ایسا تو ہو نہیں سکتا۔ تو پھر یہ علم کی فضیلت ہے۔ اور اس کی برکت سے علماء کی فضیلت ہے۔ کہ عالم جو ہوتا ہے، وہ سبحان اللہ، اللہ پاک نے اس کو اس چیز کا امانت دار بنایا ہے جو انتہائی قیمتی چیز ہے۔ اس لیے حدیث شریف ابھی آپ نے سن لی، جس میں فرمایا کہ اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمانا چاہیں، ان کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔ يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔ تو اگر کسی کو اس کے لیے چن لیا ہے، تو کبھی احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو جائے۔ کہ میرے پاس یہ چیز نہیں، میرے پاس یہ چیز نہیں۔ بھئی خدا کے بندے آپ کے پاس وہ چیز ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ہے۔ تو وہ ایک دفعہ ایک حافظ... حفظِ قرآن کے طالبِ علم تھے۔ والد صاحب ان کو لائے تھے کہ یہ آج کل شوق سے نہیں پڑھ رہا، کچھ ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ تو حضرت نے ان کو سمجھانے کے لیے فرمایا، حضرت کی بڑی library تھی اس طرح چاروں طرف دیواروں کے اوپر racks لگے ہوئے تھے، اس میں وہ بڑی بڑی کتابیں پڑی ہوئی تھیں دینی۔ فرمایا دیکھو نا یہ اوپر، یہ ساری کتابیں نظر آ رہی ہیں؟ جی نظر آ رہی ہیں۔ فرمایا یہ ساری کتابیں قرآن کے ایک لفظ تک بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ قرآن کے ایک لفظ تک بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ تو آپ کو اللہ پاک پورا قرآن دینا چاہتا ہے اور تو اس سے بھاگ رہا ہے؟ تو یہی بات میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ بہت بڑی دولت ہے، اگر کسی کے پاس ہو، اور جو اس کو سنبھالے۔ احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو جائے۔

قرآن کی ناقدری میں یہ بھی آتا ہے کہ جس شخص کے پاس قرآن کا علم ہو، اور وہ کسی اور چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو کم سمجھے۔ کسی اور چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو کم سمجھے، تو سمجھو کہ اس نے قرآن کی ناقدری کی۔ اور جو قرآن کی قدر کرے گا، پھر اللہ پاک اس کی قدر کروائے گا۔ جو قرآن کی قدر کرے گا، وہ اس کی اللہ پاک قدر کروائے گا، کروانا اس کا کام ہے۔ وہ ہمارا کام نہیں ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی دین کے بارے میں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ نہیں ایسی بات نہیں، اگر اللہ نے مجھے دین عطا فرمایا ہے، تو مجھ سے زیادہ خوش قسمت سبحان اللہ! اس پر تو مجھے بہت زیادہ شکر گزاری کرنی چاہیے۔ اگر سر کے بل کھڑا ہو کر مسلسل انسان شکر کرتا رہے، اور پوری زندگی، تو ایمان کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ ایمان کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ تو یہ تو اللہ پاک نے ہم پر فضل فرمایا کہ ایمان دیا، پھر ایمان کے ساتھ اللہ علم کی دولت عطا فرما دے، اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟

تو میں England گیا تھا تو وہاں پر مختلف جگہوں پر بیانات ہوتے تھے۔ تو ایک مدرسے میں مجھے لے جایا گیا۔ تو مدرسے کے مہتمم صاحب نے مجھ سے کہا کہ یہ ہمارے students ہیں، طلباء ہیں، چونکہ یہاں یونیورسٹیاں بھی ہیں، یونیورسٹیوں کے طلباء بھی ہیں، ان سے ملاقات ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ تو یہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تو ذرا تھوڑا سا آپ ان کو نصیحت کر لیں۔ تو بیان record ہوا ہے، موجود ہے۔ اس بیان میں میں نے حضرات سے کہا، میں نے کہا دیکھیں بھائیو! یہ دور ہے Specialization کا۔ اس میں کوئی بھی ساری چیزوں کو نہیں جانتا، یہ ناممکن ہے۔ اگر engineer ہے تو doctor نہیں ہے۔ اگر doctor ہے تو engineer نہیں ہے۔ اس طرح کوئی scientist ہے تو artist نہیں ہے۔ artist ہے تو scientist نہیں ہے۔ کوئی معیشت کا ماہر ہے تو کوئی کسی اور industry کا ماہر ہے، کوئی اور کسی چیز کا ماہر ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں Specialization کا دور چل رہا ہے۔ اس Specialization کے دور میں Specialization کی قدر ہوتی ہے، کسی خاص چیز کی نہیں۔ کہ جس چیز میں آپ Specialist ہیں، بس اسی کو excel کرو، اسی کو آگے بڑھاؤ۔ تاکہ لوگ آپ سے اسی میں پوچھیں گے، کیونکہ لوگوں کو اس کی حاجت تو ہو گی۔ تو جب یہ بات ہے، تو تم بھی اپنے field کے Specialist ہو۔ اور باقی لوگ بھی اپنے اپنے field کے Specialist ہوں گے۔ تو ان کو اپنے فیلڈ میں Specialist رہنے دو نا۔ یہ ان کا right ہے۔ لیکن تم ان کے لیے اپنے Specialization کو کیوں کم سمجھ رہے ہو؟ اگر ان کو ضرورت ہو گی اس چیز کی، تو آپ کے پاس آئیں گے۔ اس میں پھر آپ کی بات چلے گی۔

تو اس طریقے سے الحمد للہ بات میں نے ان کے سامنے عرض کر لی۔ مقصد یہ ہے کہ ہمیں کم از کم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس کو بھی اللہ پاک نوازے اس line پر، وہ کم از کم اس کی وہ نہ کرے۔ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ... سبحان اللہ، اس سے بڑا تمغہ کوئی اور ہوگا؟ بھئی 100 تمغے میرے سینے پہ لگ جائیں، اور یہ تمغہ نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں یہ تمغہ لگ جائے، اور کوئی اور تمغہ نہ ہو، بتاؤ کس کی جیت ہے؟ سمجھنے کی بات ہے بس۔

ایک بہت... ایک ایسی family تھی جس میں بڑے بڑے لوگ تھے، یعنی ہوتے ہیں بعض فیملیوں میں نا، بس ایک دوسرے کو پھر support کرتے ہیں۔ تو ان میں generals بھی تھے، اس میں doctors بھی تھے، professors تھے، scientists تھے، اور بڑے landlords تھے، اور اس طرح بڑے بڑے businessmen تھے۔ یعنی پوری ایک family ایک بہت بڑے high-fi level کی family تھی۔ ان میں ایک مولوی صاحب بھی تھے۔ ظاہر ہے جس دور میں ہم رہ رہے ہیں، اس دور میں مولویوں کی قدر تو نہیں ہے۔ لیکن جب لوگوں کی نگاہوں میں ان کی قدر ہٹ جائے گی، اور وہ اللہ کے لیے کام کر رہے ہوں گے، تو اللہ کی نگاہ میں ان کی قدر اور بڑھ جائے گی۔ تو خیر ایسا ہوا کہ ان لوگوں نے اشاروں اشاروں میں planning بنا دی کہ ان کو ذرا تھوڑا سا downgrade کرنا ہے۔ تو general صاحب سے پوچھا، general صاحب آپ کی کیا... وہ ہے؟ یعنی... تو انہوں نے شروع کر دیا، جی ما شاء اللہ یہ ہے، اتنی تنخواہ ہے، یہ اتنے fringe benefits ہیں، فلانا ڈینگڑا سارا system بتا دیا۔ وہ غلط بھی نہیں تھا، ٹھیک تھا۔ پھر businessman سے کہا، اس نے اپنے اپنے سارے business کا بتا دیا۔ پھر scientist سے کہا اس نے اپنا بتایا، doctor سے کہا، engineer سے کہا، professor سے کہا، سب نے اپنی اپنی بڑی بڑی باتیں بتائیں۔ آخر میں جن کے لیے ساری planning تھی، یعنی مولوی صاحب، ان سے پوچھا جی حضرت آپ کا کیا ہے status؟ تو اس نے روحانی سی آواز میں کہا، میری تنخواہ ابھی شروع نہیں ہوئی۔ میری تنخواہ ابھی شروع نہیں ہوئی۔ تو judge صاحب بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا کس نے آپ کی تنخواہ ابھی نہیں شروع کی؟ مجھے بتاؤ میں ان سے تنخواہ شروع کروا دیتا ہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کام کر رہے ہو اور آپ کی تنخواہ بھی شروع نہ ہو؟ آپ میرے سامنے case دائر کر دیں۔ تو اس نے کہا نہیں گزارہ allowance مل رہا ہے۔ تنخواہ تو آخرت میں ملے گی۔ گزارہ allowance ابھی مل رہا ہے، تنخواہ تو آخرت میں ملے گی۔ بس سب لوگ چپ ہو گئے۔

یہ گزارہ allowance ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ مولوی کہاں سے آیا ہے مجھے بتاؤ؟ مولوی کا origin کیا ہے؟ اس کے پاس یہ علم کہاں سے آ گیا؟ ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آیا ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث ہے اس مسئلے میں۔ ہے پکی بات؟ تو جن کا وارث ہوتا ہے اسی طریقے پر ہوگا نا۔ جن کا وارث ہوتا ہے تو ان کے اسی طریقے پر، اس کے ساتھ وہی چیز ملے گی نا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ پاک نے باقاعدہ اختیار دیا تھا، کہ اگر آپ چاہیں تو یہ احد کے پہاڑ کو سونے کا کر دیا جائے، اور تیرے ساتھ چلے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں کبھی کھانا چاہتا ہوں، کبھی صبر کرنا چاہتا ہوں۔ اب یہ مجھے بتائیں کہ تو جن کا وارث ہے، تو اس کا جو طریقہ ہے، تو اس طریقے کو ظاہر ہے کم از کم سمجھنا تو پڑے گا کہ وہ کیا ہے۔

یہ ابھی social media پہ آج کل طوفان ہے ہر چیز کا۔ تو کچھ مولوی حضرات بھی اپنی بات کرتے ہیں۔ تو بات کرتے ہیں بڑے عجیب انداز میں، اپنے problems بتاتے ہیں، دیکھو نا مولوی کی بھی تو اولاد ہوتی ہے، مولوی بھی مطلب اس کو بھی سردی لگتی ہے، مولوی کا بھی یہ ہوتا ہے، مولوی... مطلب لوگ ہم پہ ترس کھائیں۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ کن کو کہہ رہے ہو؟ ان میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ یا وہ آپ کے حق میں ہیں، یا آپ کے خلاف ہیں۔ confirm بات ہے۔ جو آپ کے حق میں ہیں، وہ پہلے سے کر رہے ہیں جتنا کر سکتے ہیں۔ اور جو آپ کے خلاف ہیں، ان کے سامنے اپنی بےعزتی کروانی ہے اگر آپ یہ باتیں کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی فائدہ تو نہیں ہوگا، اور ان کی نظروں میں گرو گے نا۔ وہ یہی تو چاہتے ہیں۔ نیپولین بوناپارٹ (Napoleon Bonaparte) وہ قید ہو گیا تھا۔ انگریز فوج نے قید کیا تھا۔ تو ایک صحافی ان کے پاس گیا، interview لینے کے لیے۔ تو دیکھا کہ اس میں تاریکی بھی ہے، روشنی بھی نہیں، کم ہے۔ کمرے میں سیلن کی بو بھی آ رہی ہے۔ carpets بھی خراب تھے۔ اس طرح اور نظام بھی... تو اس نے نپولین سے کہا کہ آپ اس پر احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ کہ آپ کو جس طرح رکھا ہے۔ تو نپولین نے بڑی عجیب بات کی۔ فرمایا بادشاہ کی اگر اپنی طاقت نہ ہو، تو پھر خاموش ہی رہنا چاہیے، ورنہ جگ ہنسائی ہوگی۔ کیونکہ میں جتنا کہوں گا وہ اس سے خوش ہوں گے۔ وہ تنگ ہی کرنا چاہتے ہیں نا، تو وہ یہی کہیں گے بھئی تنگ ہو رہا ہے۔ تو جو تنگ ہو رہا ہو تو اس کو تو تنگ کیا جاتا ہے۔

تو یہ نیپولین بوناپارٹ نے کہا۔ تو جو آپ کے مخالف ہیں، وہ تو خوش ہوں گے اس پر۔ ہاں اللہ سے کہو۔ حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے ابتدا میں کام شروع کیا تو تین افراد تھے صرف استاد، جن کی تنخواہیں نہیں تھیں۔ خود مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا لطف اللہ پشاوری صاحب، مولانا عبدالحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ مولانا لطف اللہ پشاوری صاحب نے ایک دن کہا، یہ ہمارے گاؤں کے تھے اس وجہ سے مجھے معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ تنخواہ ہماری ادھر نہیں ہے، تو ذرا میں گھر جا کر تھوڑا سا اپنے گھر والوں کے لیے زمین وغیرہ بیچ کے بندوبست کر لوں۔ تو مولانا یوسف بنوری صاحب نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ کچھ آ رہا ہے۔ کچھ آ رہا ہے۔ تو ویسے بے تکلف دوست تھے، تو انہوں نے کہا بلی کو خواب میں چھیچھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی دن کوئی صاحب بہت بڑا ہدیہ لے کے آ گیا مدرسے میں۔ تو حضرت نے ان کی جو تنخواہ تھی، وہ plate میں رکھ کے نا، لے کر، کہ حضرت یہ لیجیے، چھیچھڑے آ گئے ہیں۔ چھیچھڑے آ گئے۔ تو یہ، یہ بات تو تھی۔

تو حضرت کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ طالب علموں کے لیے سر پر ٹوکرا روٹیوں کا رکھ کے جا رہے تھے۔ اور بارش ہوئی تھی تو slip ہو گئے، اور ٹوکرا گر پڑا۔ تو رو پڑے۔ کہ یا اللہ، اس سے زیادہ کی ہمت نہیں ہے۔ اس سے زیادہ کی ہمت نہیں ہے۔ کس سے کہا؟ اللہ تعالیٰ سے کہا۔ بس وہ پھر تو سنتا ہے نا پھر۔ بس record ہو گیا۔ اس کے بعد پھر حضرت نے فرمایا، کوئی مسئلہ نہیں بس پھر اس کے بعد فتوحات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پھر ایک وقت میں ان کا مدرسہ یونیورسٹیوں سے بھی اونچا level کا مدرسہ بن گیا۔ اس کے لحاظ سے۔

تو یہ میں آپ کو بتاؤں، اسی طرح مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مدرسہ، دارالعلوم کراچی۔ یہ ہمارے اکوڑہ خٹک کے مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی یہی حال تھا۔ یہ سب تقریباً ایسے ہی ہیں۔ تو ایسے کام، اس میں ایک بات ہوتی ہے کہ کام شروع کرو، وسائل کو نہ دیکھو۔ اپنے جو وسائل موجود ہیں، اس کے مطابق کام شروع کرو۔ اور اللہ پاک اگر کروانا چاہے گا تو خود وسائل پہنچا دے گا۔ یہ ترتیب قدرتی ہے۔ جس میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ٹھیک ہے نا؟ پھر اللہ پاک خود ہی راستہ بناتے ہیں، جب اللہ پاک چاہے۔

تو ایسا ہے کہ ہم لوگوں کو بھی چاہیے کہ ہم علمِ دین حاصل کریں۔ ہاں البتہ علمِ دین تو general بات ہے۔ پھر اس میں کچھ خصوصی باتیں بھی ہیں۔ نمبر ایک، ایک وہ علم دین جو ہر مسلمان پہ فرض ہے۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ۔ وہ ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے، چاہے مرد ہے، چاہے عورت۔ چاہے مرد ہے، چاہے عورت، وہ ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے۔

تو طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ۔ یہ ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے۔ اور دوسرا علم وہ ہے، جو تخصص کا علم ہے، مطلب یہ کہ جس کو کہتے ہیں نا بڑی کتابیں پڑھیں گے، اوروں کو بھی پڑھانے کے قابل ہو جائیں، تحقیق کرنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ ذرا آٹھ سال کا، دس سال کا، جو بھی ترتیب ہے، اس کے مطابق ہوتا ہے۔ اب شیطان بھی آخر کچھ کرتا ہے۔ تو آپ بڑے حیران ہوں گے، کہ لوگوں کے سامنے معیار بڑا عجیب رکھا ہے شیطان نے۔ کہ اگر مدرسے میں ہم نہیں پڑھ سکتے تو فرضِ عین علم بھی نہیں پڑھیں گے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ جو ہر مسلمان پہ فرض ہے، چاہے کسی بھی حالت میں ہو، آپ نے پڑھنا ہے، اس کو سیکھنا ہے۔ إِذَا دَخَلَ دَخَلَ كُلُّهُ وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ كُلُّهُ (مفہوم: جب لینا ہے تو پورا لینا ہے اور جب نہیں لینا تو نہیں لینا)۔ یہ کیا عجیب بات ہے بھئی، یہاں پر یہ باتیں نہیں چلیں گی۔ یہاں پر جو فرضِ عین علم ہے، وہ پڑھنا پڑے گا سب کو۔ اور وہ آسان بھی ہے، اس کے لیے نہ مدرسے کی ضرورت ہے۔ کہ آپ انتظار کریں، مدرسہ بنے گا تو میں سیکھوں گا۔ نہ اس کے لیے مطلب ظاہر ہے، پیسوں کی ضرورت ہے۔ آپ کے پاس کتاب ہے، کتاب سے سیکھ لو۔ آج کل تو ساری چیزیں مل جاتی ہیں۔ ہماری website کے اوپر الحمد للہ سارا موجود ہے، tazkia.org پہ۔ ہم نے اس کے کوئی پیسے نہیں رکھے۔ جتنا بھی کوئی سیکھنا چاہے تو سیکھے اس سے۔ مفت ہے۔ اپنے گھر بیٹھے سیکھے۔ الحمد للہ اس پر ہمارے ہاں بیان بھی ہو رہے ہیں۔ آج بھی شام کو ہو گا ان شاء اللہ مغرب کے بعد۔ ہر اتوار کو مغرب کو ہوتا ہے۔ خواتین کے لیے ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تو پتہ چلا کہ دو مہینے میں الحمد للہ، اگر روزانہ تین تین گھنٹے کی تعلیم ہو، تو دو مہینے میں پورا ہو جاتا ہے ما شاء اللہ۔ بھئی پوری عمر میں دو مہینے بھی نہیں دے سکتے؟ کیسی عجیب بات ہے۔

اور ویسے مولوی حضرات سے بھی میری شکایت ہے، کہ وہ بھی اس کو اہم نہیں سمجھتے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ ان سے تو زیادہ گلہ ہے۔ کہ وہ بھی اس کو اہم نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں جب تک ایک building کھڑی نہیں ہو گی نا مدرسے کی، اس وقت تک میں مہتمم نہیں بنوں گا، تو اس وقت تک یہ معاملہ علم کا ویسے ہی ہے۔ یہ حبِ جاہ کی چیزیں ہیں، یہ للہ فی اللہ والی بات نہیں ہے۔ اگر خدمت کرنی ہے، تو آپ کے گھر پر سارا کچھ ہو سکتا ہے۔ کیا پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مدرسے ہوا کرتے تھے؟ اصحابِ صفہ کا چبوترا تھا۔ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، باقی صحابہ کے لیے اس قسم کے چبوترے تھے؟ لوگ کیسے سیکھتے تھے؟ جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں، ان سے کوئی ملنے کے لیے آیا، حضرت آپ مجھے کچھ پڑھا سکتے ہیں؟ میرے پاس وقت ہے۔ حضرت آپ جب گھر تک جائیں گے، اتنا فاصلہ جب آپ طے کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کے ساتھ جاؤں، آپ سے سیکھ سکتا ہوں؟ ہاں ٹھیک ہے چلو جی۔ اس طرح سیکھ رہے ہیں۔ یہ طریقہ تھا اس وقت۔ تو یہ طریقہ تو اب بھی ہو سکتا ہے۔ جو چیز لازم ہو نا، اس کو اللہ بہت آسان کر دیتا ہے۔ اس کو اللہ بہت آسان کر لیتا ہے۔ اس وجہ سے، اس کے لیے یہ شوق نہ کرو کہ بھئی میرا پورا مدرسہ بنے گا، تو پھر یہ کام ہوگا۔ نہیں، تم یہ شروع کرو، اللہ نے اگر قبولیت عطا فرمائی تو آپ کی اسی چیز کو پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچا دے۔

دیوبند کا مدرسہ کیسے شروع ہوا تھا؟ ایک درخت کے نیچے۔ بس، انار کا درخت تھا۔ ہاں، اس کے نیچے وہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور کہاں سے کہاں پہنچ گیا؟ الحمد للہ، ثم الحمد للہ تحدیثِ نعمت کے طور پہ عرض کرتا ہوں، کہ ہمارے ہاں خانقاہ کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟ ایک دن ہم نے اعلان کر دیا کہ آج سے ہمارا drawing room جو ہے، یہ عصر سے لے کر عشاء تک خانقاہ ہے۔ عصر سے لے کر عشاء تک خانقاہ ہے۔ خانقاہی معمولات شروع ہو گئے اس میں، بس۔ کچھ ہی عرصہ میں جگہ تھوڑی پڑ گئی۔ پھر کیا ہوا؟ ساتھیوں نے خود ہی کہا کہ بھئی یہاں پر تو پورا نہیں ہو سکتا، تو انہوں نے ایک جگہ کرائے پہ لے لی۔ وہاں پر ہم shift ہو گئے۔ اور وہیں سلسلہ شروع ہو گیا۔ پھر اللہ پاک نے اس کو اور بڑھا دیا، اور بڑھا دیا۔ اب اللہ کا شکر ہے کہ یہاں بھی خانقاہ ہے، جہانگیرہ میں بھی خانقاہ ہے، اور جگہوں پر بھی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو، اللہ پاک جب کرتے ہیں تو ایسے کرتے ہیں۔

میرے پاس جب طالب علم فارغ ہو کے آتے ہیں، کبھی کبھی مجھ سے مشورہ کرتے ہیں، تو میں ان سے کہتا ہوں، جس ترتیب سے پڑھا ہے اس ترتیب سے پڑھاؤ۔ جس ترتیب سے پڑھا ہے، اس ترتیب سے پڑھاؤ۔ پہلی کتابیں جیسے آپ لوگوں نے پڑھی ہیں نا۔ پہلے کون سی کتاب پڑھتے ہیں مدرسے میں؟ بخاری شریف؟ صرف و نحو پڑھتے ہیں نا۔ تو آپ بھی ادھر سے شروع کریں نا۔ اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ اس کا فائدہ ہوگا صرف و نحو آپ کی پکی ہو جائے گی۔ ایک ہوتا ہے پڑھنا، اور ایک ہوتا ہے پڑھانا۔ پڑھانے میں انسان صحیح پڑھتا ہے۔ پڑھانے میں انسان صحیح پڑھتا ہے۔ کیوں؟ خود ہم نے بھی تو پڑھایا ہے نا۔ پڑھانے میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ کوئی طالب علم کوئی بھی سوال کر سکتا ہے۔ تو اگر آپ کی تیاری نہیں ہوگی تو جواب نہیں دے سکو گے۔ تو آپ موہوم سوالات کے لیے بھی تیار ہوں گے۔ جن کا ویسے امکان ہو کہ بھئی عین ممکن ہے یہ سوال کر لے، عین ممکن ہے یہ سوال کر لے۔ تو آپ کو پوری تیاری کرنی پڑے گی۔ آپ کو طالبعلمی کے حوالے سے پڑھائی کام نہیں آئے گی، بلکہ آپ کو مزید اضافہ ریفرنس بکس اور تمام چیزوں کو ساتھ لے کے پڑھنا ہو گا تو تب آپ لوگوں کے جوابات دے سکیں گے۔ تو صحیح معنوں میں آپ صرف پڑھیں گے جب آپ صرف پڑھائیں گے۔ نحو پڑھیں گے جب آپ نحو پڑھائیں گے۔ پھر اصول مطلب جو ہوں گے وہ سب وہ یعنی وہ فنون، یہ سب جیسے آپ ان کو پڑھائیں گے تو آپ پڑھیں گے اس کو صحیح معنوں میں۔ پھر اس کے بعد ان شاء اللہ قرآن اور حدیث کی بات آئے گی۔ فقہ کی اور پھر اس کے بعد قرآن اور حدیث کی بات آئے گی۔ پھر ما شاء اللہ۔

تو اسی طریقے سے اب اس وقت تین باتیں تو پہلے سے لکھی ہوئی ہیں نا کہ بھئی یا تو مجھے مہتمم ہونا چاہیے، یا مجھے شیخ الحدیث ہونا چاہیے، یا مجھے شیخ القرآن ہونا چاہیے۔ اس سے کم درجے کی کوئی ہے ہی نہیں تو پھر کیا پڑھاؤں؟ ہے یہ بات نا؟ اس سے کم درجے کی کیا ہے؟ وہ تو علم ہے ہی نہیں۔ حالانکہ حضرت... یہ آدی مولا رحمۃ اللہ علیہ، بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، حاجی صاحب ترنگ زئی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ تھے۔ تو ان کو کسی ہم عصر نے، اہل کشف تھے، تو کشف میں دیکھا کہ ان کی ترقی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ تو اس نے کہا کہ میں دیکھوں کہ یہ کر کیا رہے ہیں؟ اتنی زیادہ ترقی ہو گئی، یہ کر کیا رہے ہیں؟ وہاں گئے ان کے ساتھ ٹھہر گئے، میں دیکھوں۔ کوئی خاص معمولات میں فرق نہیں پایا، وہی عام معمولات جو ہم کرتے ہیں تہجد کی نماز، اشراق اور یہ قرآن پڑھنا، اور اس طرح ذکر اذکار، اور مطلب یہ ہے کہ بچوں کو یہ ناظرہ پڑھا رہے تھے۔ سارا وہی تھا۔ تو آخر میں ان کو پوچھنا پڑا، حضرت اس کے علاوہ کچھ کام؟ انہوں نے کہا بیٹے کچھ بھی نہیں، یہی ہے۔ تو میں نے تو یہ دیکھا ہے... انہوں نے کہا، آپ نے دیکھا ہے نا، میں نے تو نہیں دیکھا۔ ہمارے پاس تو یہی ہے، یہی کرتا ہوں، اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتا۔

تو اصل بات یہ ہے کہ اللہ پاک پھر اخلاص کو دیکھتے ہیں۔ جو شخص چھوٹی سے چھوٹی کتاب پڑھانے کے لیے تیار ہو گیا، اس نے سب سے بڑے کا تعلق حاصل کر لیا۔ یعنی دین کی line کا۔ اس نے سب سے بڑے کا تعلق حاصل کر لیا، کیونکہ یہ دنیا عکس ہے۔ جب آپ نے بڑی چیز پر نظر کی، ہاں، لوگ آپ کو خود دیں، پھر مجبوری ہے۔ جب آپ نے بڑی چیز پر نظر کی، تو آپ نیچے چلے گئے۔ اس وجہ سے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ بنیادوں پہ بات کرنی چاہیے۔ بنیادوں پہ بات کرنی چاہیے۔ یہ فرضِ عین علم میں اس لیے بہت زیادہ ذکر کرتا ہوں، کہ یہ ہماری مجبوری ہے۔ اب کیا کریں، اگر ہم نہیں کریں گے تو پڑھنا تو ہے، لازم تو ہے۔ فَرِيضَةٌ۔ جبکہ مدرسے میں داخل ہونا فرض نہیں ہے۔ ہے؟ کوئی فتویٰ دے سکتا ہے؟ کہ مدرسے میں داخل ہونا فرض ہے؟ مدرسے میں داخل ہونا فرض نہیں ہے۔ لیکن یہ فرضِ عین علم حاصل کرنا، کیا ہے؟ یہ فرض ہے۔ تو فرض کا اہتمام زیادہ ہوگا یا باقی چیزوں کا؟

بس یہی میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اس چیز کو آگے بڑھائیں۔ علمائے کرام اپنی نگرانی میں ان کے courses شروع کروا دیں۔ گھر گھر شروع کروا دیں۔ گھر گھر شروع کروا دیں۔ تاکہ یہ چیز مطلب آگے بڑھے۔ میں آپ کو، حاجی بشیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہوا کرتے تھے، تبلیغی جماعت کے۔ مغربی پاکستان اس وقت ہوتا تھا، ان کے امیر تھے۔ مغربی پاکستان کے امیر تھے۔ تشریف لائے تھے ادھر پنڈی کے مرکز میں۔ ہمارے ایک ساتھی تھے۔ وہ mathematics کے بڑے ماہر تھے۔ تو حضرت کو پتہ لگ گیا کہ یہ mathematics کے بڑے ماہر ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ، ایک واقعہ سنو، کہ ایک بادشاہ تھے۔ اس نے شطرنج کا game بنانے والے کو کہا کہ کیا چاہیے آپ کو؟ انعام۔ اس نے کہا حضرت چھوٹی سی چیز چاہیے۔ کہتے ہیں کہ آپ اس پہ ایک دانہ رکھ لیں پہلے پہ۔ اور پھر اگلے پہ دو رکھ لیں۔ پھر تیسرے پہ اس کا ڈبل کر لیں۔ پھر چوتھے پہ اس کا ڈبل... پھر پانچویں... یہ سارے کے سارے 52 کے 52 خانے، یہ سب آپ اس کے حساب سے مجھے دے دیں۔ انہوں نے کہا یہ کون سی مشکل ہے؟ بھئی حساب لگا لو، دے دو۔ جب حساب لگایا تو پوری دنیا میں اتنا غلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، آپ computer سے حساب لگا دیں کہ کتنا ہوتا ہے۔ تو اس نے باقاعدہ اس کے لیے computer program لکھا۔ ہمارے ساتھی نے۔ اور وہ بہت زیادہ amount تھی۔ تو وہ حضرت کے سامنے لے گئے۔ تو حضرت نے کہا میں کوئی آپ کا ریاضی کا امتحان نہیں لینا چاہتا تھا۔ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ اگر آپ کسی ایک کو دعوت دیں، اور پھر اس کو کہہ دیں کہ آپ نے پھر اگلے کو دعوت دینی ہے۔ پھر وہ اس دوسرے کو کہہ دے، تو کہتے ہیں 52 step میں ساری دنیا مسلمان ہو چکی ہو گی۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ چونکہ time پورا ہو گیا مجبوری ہے۔ تو اس پر آپ لوگ ذرا سوچیں۔ اور اس طریقے سے کام شروع کر لیں، تو کتنی جلدی ان شاء اللہ پوری دنیا میں علم پھیل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

علمِ دین کی اہمیت، قرآن کا اعجاز اور ہماری ذمہ داریاں - خواتین کیلئے اصلاحی بیان - اشاعت اول