عنوانات:
1- لطائفِ سبعہ کا بیان (سات لطیفوں کا بیان)۔
2- تجلیٔ افعال و تجلیٔ صفات و تجلیٔ ذات۔
3- انسان کی جامعیت اور لطائف عشرہ سے مرکب ہونا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
لطائف سبعہ کا بیان (سات لطیفوں کا بیان):-
دفتر اوّل کے مکتوب نمبر 58 میں فرماتے ہیں:
متن:
یہ راہ جس کے طے کرنے کے ہم درپے ہیں کل سات قدم ہے اور اس بیان میں کہ دوسرے سلسلوں کے مشائخ کے بر خلاف مشائخ نقشبندیہ نے سیر کی ابتدا عالِم امر سے اختیار کی ہے اور ان بزرگوں کا طریقہ (بعینہ) اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے اور اس کے مناسب بیان میں۔
آپ کا بزرگ عنایت نامہ صادر ہوا، چونکہ اُس سے اس بزرگ گروہ (حضراتِ نقشبندیہ) کی باتیں سننے کا شوق معلوم ہوا، اس لئے آپ کی خواہش پورا کرنے اور مقصود کی طرف رغبت دلانے کیلئے چند باتیں تحریر کی جاتی ہیں۔
میرے مخدوم! یہ راستہ جس کے طے کرنے کے ہم درپے ہیں انسان کے سات لطیفوں کی تعداد کے مطابق (یعنی 1۔ قلب، 2۔ روح، 3۔ سِر، 4۔ خفی، 5۔ اخفٰی، اور 6۔ قالب و 7۔ نفس) کل سات قدم ہیں (جن میں سے) دو (2) قدم عالمِ خلق میں ہیں جو کہ قالب یعنی بدن عنصری اور نفس سے تعلق رکھتے ہیں اور پانچ قدم عالَم امر میں ہیں جوکہ (لطائف) 1۔ قلب، 2۔ روح، 3۔ سِر، 4۔ خفی، 5۔ اخفٰی، کے ساتھ وابستہ ہیں، اور ان سات قدموں میں سے ہر ایک قدم میں دس ہزار پردے پھاڑنے پڑتے ہیں خواہ وہ پردے نورانی ہیں یا ظلمانی۔ اِنَّ لِلّٰہِ سَبْعِیْنَ اَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُّوْرٍ وَّ ظُلْمَةٍ (بیشک اللہ تعالیٰ کے لئے نور و ظلمات کے ستّر ہزار پردے ہیں)۔
اور پہلا قدم جو عالمِ امر میں رکھتے ہیں (اس میں) تجلّئ افعال ظاہر ہوتی ہے اور دوسرے قدم میں تجلّئ صفات اور تیسرے قدم میں تجلیات ذاتیہ میں (سیر) شروع ہوتی ہے علیٰ ہذا القیاس، باقی لطائف میں ان کے درجات کے تفاوت کے لحاظ سے ترقی ہو جاتی ہے جیسا کہ اس راستہ کے سالکوں پر مخفی نہیں ہے، اور ان سات قدموں میں سے ہر ایک قدم پر (سالک) اپنے آپ سے دُور اور حق سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان قدموں کے پورا ہونے تک حق سبحانہ و تعالیٰ کا قرب بھی پورے طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ پس اس وقت وہ فنا و بقا سے مشرف ہو جاتے ہیں اور ولایتِ خاصہ کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔
تشریح:
یہاں حضرت نے لطائف سبعہ یعنی سات لطائف کا بیان فرمایا ہے۔ ان میں پانچ عالمِ امر کے لطائف ہیں اور دو عالمِ خلق کے ہیں۔ عالمِ امر کے لطائف اصل میں الله جل شانهٗ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، اور عالمِ خلق کے لطائف یعنی قلب، روح، سر، خفی اور اخفی، اصل میں عمل کا ذریعہ ہیں۔ ان میں جذب حاصل ہوتا ہے، عروج حاصل ہوتا ہے، قالب و نفس کی صفائی ہو جاتی ہے، جس سے انسان عمل پہ آتا ہے اور سلوک طے ہوتا ہے۔
انسان کی ترقی کے اندر رکاوٹ انسان کا اپنا جسم اور نفس ہے۔ جسم جبلت ہے اور نفس مزاحمت ہے۔ قرآن پاک میں واضح طور پر نفسِ انسانی کی تین قسمیں بیان فرمائی گئی ہیں: نفسِ اَمّارہ، نفسِ لَوّامہ اور نفسِ مطمئنہ۔ یہ تین قسموں والا نفس ہے۔ ابتدا میں نفس، نفسِ امارہ ہوتا ہے، اس کے بعد نفسِ لوامہ ہو جاتا ہے، اور مزید کچھ محنت ہوتی ہے تو نفسِ مطمئنہ بن جاتا ہے۔ نفسِ مطمئنہ ہی مطلوب ہے۔ عبدیت کی بنیاد نفسِ مطمئنہ پر ہے۔ نفس فطرتاً باغی ہے، اس باغی نفس کو اللہ تعالیٰ سے راضی کرنا ہوتا ہے۔ بس یہی سارا راستہ ہے۔ سلوک اسی کو کہتے ہیں کہ باغی نفس کو اللہ سے راضی کر لیا جائے۔
لہٰذا جو نفس بغاوت کر چکا ہے، سب پہلے اس بغاوت سے توبہ ہو گی، یہ مقامِ توبہ ہے۔ پھر رضائے الٰہی کے اسباب اختیار کرنے کے لئے ہمت پیدا کرنا ہو گی، یہ مقامِ انابت ہے۔ اس کے بعد ریاضت کے ذریعہ سے اس کو قابو کرنے کی کوشش کرنا، یہ مقامِ ریاضت ہے۔ پھر اس کی حرص کو قابو کرنے کے لئے اسے قناعت پہ لانا، اسے کم پہ عادی کرنا، یہ مقامِ قناعت ہے۔ ایک ہوتا ہے کبھی کبھی کم کھانا، کبھی کبھی کم چیز لے لینا، یہ مطلوب نہیں ہے۔
جب ہم Race cource park میں صبح کی سیر کے لئے جاتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ شوقیہ طور پر دو دن کے لئے آ کر خوب چکر لگاتے ہیں، بعد میں ان کا پتا نہیں چلتا۔ بعض غائب ہو جاتے ہیں اور بعض مستقل طور پر آتے ہیں، جو مستقل طور پر آتے ہیں، فائدہ انہی کو ہوتا ہے۔ اس میں جگہ جگہ درختوں پر اور بورڈوں پر لکھا ہوتا ہے کہ آپ کو فائدہ دو دن میں محسوس نہیں ہو گا، بلکہ جب مسلسل واک کریں گے تب اس کا فائدہ محسوس ہو گا۔ بہت سارے لوگ اسی میں پھنسے ہوتے ہیں کہ وہ شوق رکھتے ہیں لیکن استقامت نہیں رکھتے، جب کہ اصل بات ہی استقامت ہے۔ نفس کو قابو کرنے کا مطلب اس کو خیر پر استقامت پہ لانا ہے۔ یہی اصل میں اس کی تربیت ہے۔ کبھی کبھی قابو کرنا، کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں میں بڑی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن وہ صلاحیت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد نفس جو ادھر ادھر منہ ماری کرتا ہے، کبھی نظر کے ذریعہ، کبھی سننے کے ذریعہ، کبھی بولنے کے ذریعہ، کبھی سوچنے کے ذریعہ، کبھی چھونے کے ذریعہ، یہ جو منہ ماری کے تمام رستے ہیں، ان کو کنٹرول کرنا، مقامِ تقویٰ ہے۔ اس کے بعد جو کہا جائے، اس کو کرنے پہ راضی ہونا اور جس سے روکا جائے اس سے رکنے پہ راضی ہونا، مقامِ صبر ہے۔
آرمی والے جب پریڈ کراتے ہیں، اس میں attention کے اشارے پر کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر وہ کچھ حرکت وغیرہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح سنتری وغیرہ ڈیوٹی پر چوکس کھڑے ہوتے ہیں، ان پر بھی اس وقت سیدھا کھڑے رہنا لازم ہوتا ہے۔ صحیح بات ہے اگر ہمیں یہ ڈیوٹی دی جائے تو ہم یہ نہیں کر سکیں گے، لیکن وہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک جگہ پہ مستقل طور پہ کھڑا ہونا بھی ایک ہمت والا کام ہے، آسان کام نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ کچھ نہیں کرتے، کمال کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کھڑے ہو کر کچھ بھی نہیں کرتے، لیکن وہ کمال کرتے ہیں۔ میں نے ایک کتاب پڑھی ہے، ویسے ہی ہنسانے والی کتاب ہے، کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ اس نے اپنے فوج کے زمانے کے حالات میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم جب attention کے اشارے پہ کھڑے ہو جاتے، تو خارش ہوتی، مگر ہم نہیں کر سکتے تھے، کوئی مچھر آتا تو اسے بھگانے کے لئے ہاتھ بھی نہیں ہلا سکتے تھے، خیر جب stand it easy کا اشارہ ہو جاتا تو ہم خوب خارش کرتے اور ساری کسر نکالتے۔ یہ واقعی صبر سکھانے کا ایک ذریعہ ہے۔
پھر اس کے بعد مقامِ زہد ہے۔ جو قناعت میں سکھایا جاتا ہے اس کو اپنے اوپر لاگو کرنا اور اللہ کے پاس جو ہے اس کو موجودہ دنیا پر ترجیح دینا، یعنی عملی طور پر عاجلہ کو آجلہ پہ فوقیت دینا، یہ مقامِ زہد ہے۔
بزرگوں کا سکھانے کا طریقہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے۔ بعض حضرات کو اللہ پاک نے سکھانے کی صلاحیت بخشی ہوتی ہے۔ ایک بزرگ بادشاہ کے پاس آئے تو بادشاہ سے کہا ’’اَلسّلَامُ عَلَیْکُمْ یَآ اَیُّھَا الزَّاھِدُ‘‘ بادشاہ بڑا حیران ہوا۔ کہتا ہے آپ مجھے زاہد کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں کیا آپ زاہد نہیں ہیں؟ اس نے کہا: ظاہر ہے میں تو بادشاہ ہوں دنیا دار ہوں، زاہد کیسے ہو سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اچھا یہ بتاؤ زاہد کس کو کہتے ہیں؟ اس نے کہا: جو کم پر قناعت کرے۔ انہوں نے کہا: تو بتاؤ پھر دنیا کم ہے یا آخرت کم ہے؟ بادشاہ کی آنکھیں کھل گئیں کہ وہ تو دوسری بات کر رہے ہیں۔ اس نے کہا: آپ صحیح کہتے ہیں۔ واقعتاً دنیا دار زاہد ہے، کیونکہ تھوڑی سی دنیا پہ قناعت کئے ہوئے ہے۔ صحیح معنوں میں آخرت کو ترجیح دینا مقامِ زھد ہے۔
پھر اس کے بعد اللہ پر ہی بھروسہ کرنا اور اس کے لئے کسی خطرہ کو جی میں نہ لانا، یہ مقامِ توکل ہے۔ اس کے بعد اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہر چیز کو دل سے نہ صرف تسلیم کر لے، بلکہ نفس کے اوپر اس کو لاگو کر لے، یہ مقامِ تسلیم ہے۔ باغی نفس ان تمام مراحل سے گذر کر راضی نفس ہو جاتا ہے، جس کو مقامِ رضا کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُۗۖ O ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ O فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ O وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠۔﴾ (الفجر27-30)
ترجمہ: ’’البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ) اے وہ جان جو (اللہ کی اطاعت میں) چین پا چکی ہے۔ اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آ جا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔ اور شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں۔ اور داخل ہو جا میری جنت میں‘‘۔
میرے اس بیان کے بعد ان شاء اللہ آپ کو یہ اندازہ ہو چکا ہو گا کہ اگر لطائفِ سبعہ کا بیان اس تشریح کے ساتھ نہ کیا جائے تو لوگ سمجھیں گے کہ بس مراقبات سے ہی سارا کچھ طے ہو جائے گا، سارا کام انہی سے مکمل ہو جائے گا۔
مراقبات کا تعلق ان پانچ چیزوں کے ساتھ ہے، لطیفۂ قلب، لطیفۂ روح، لطیفۂ سر، لطیفۂ خفی اور لطیفۂ اخفیٰ۔ باقی عملی نفاذ ہے۔ اپنے نفس کے اوپر اس کو لاگو کرنا ہے۔ اور نفس کے اوپر لاگو کرنے کے لئے ذرائع وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اشخاص کے اعتبار سے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کسی خادم کو کہہ دیں کہ بازار سے فلاں چیز لاؤ۔ اس سے اس کے نفس کی اصلاح نہیں ہو گی کیونکہ وہ اس کا عادی ہے، بھلا اس کو اس میں کیا مشقت! وہ تو یہ کام کرتا رہتا ہے، لیکن اگر ڈپٹی کمشنر کو کہہ دیں کہ آپ بازار سے سب لوگوں کے سامنے سبزی خرید کر لے آؤ، تو صرف سبزی خرید کر لے آنے سے اس کی بہت بڑی اصلاح ہو جائے گی، کیونکہ وہ اس چیز کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ علیه نے حضرت شبلی رحمة اللہ علیه کو سبزی بچینے پر لگایا۔ حضرت شبلی اس علاقے میں گورنر رہے تھے، بعد میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا، اسی علاقے میں حضرت سے ایک سال تک سبزی بکوائی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر گورنر آلو پیاز کی آواز لگائے گا تو اس کا نفس اس پہ کیا رد عمل کرے گا۔
حافظ ضامن شہید رحمة اللہ علیه حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی رحمة اللہ علیه کے مرید اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمة اللہ علیه کے پیر بھائی تھے۔ یہ جھنجھانہ میں ہوتے تھے۔ وہاں پر حافظ ضامن شہید کے بیٹے کا سسرال تھا۔ آپ کو پتا ہے کہ ہندوستان تو رسومات میں بالکل اٹا ہوا تھا۔ رسومات اگر کوئی سیکھے تو ہندوستانیوں سے سیکھے۔ کراچی وغیرہ میں بھی رسومات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے اکثر لوگ ہندوستان سے آئے ہیں۔ خیر حافظ ضامن شہید اپنے شیخ کا بستر وغیرہ اٹھا کے لے جاتے تھے۔ کسی نے کہا کہ حضرت تھوڑا سا خیال کریں، یہاں پر آپ کے بیٹے کا سسرال ہے، اس کا تو خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا: اچھا! ان کی ایسی کی تیسی! میں ان کے لئے اپنے شیخ کی بات نہ مانوں؟ اصل میں واقعی چشیت میں فدائیت پائی جاتی ہے۔ اس کو ماننا پڑتا ہے۔ کسی چیز کی بھی پروا نہ کرنا یہ فدائیت ہے۔
سوختن افروختن و جامہ دریدن
پروانہ ز من شمع ز من گل ز من آموخت
چشتیت میں چیزیں موجود ہیں۔ تبھی میں ایک دن عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمة اللہ علیه کے ذریعہ ان دو بڑے سلسلوں (چشتیہ اور نقشبندیہ) کو الحمد للہ بہت زبردست طریقہ سے ملا دیا اور دونوں سلسلوں نے ایک دوسرے کو بہت فائدہ پہنچایا۔ الحمد للّٰہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلہ میں دونوں سلسلوں کے بڑے پیارے رنگ ہیں۔
میں عرض کر رہا تھا کہ دس مقامات طے کرنے سے اصلاح ہوتی ہے۔ قالب چار لطائف سے بنا ہے۔ آگ، ہوا، پانی اور مٹی۔ یہ جو خاک والا عنصر ہے، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی میں سارا کمال ہے۔ ؎
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
یہ چار عناصر جن سے انسان بنا ہے، یہ چار طبیعتیں ہیں۔ ان کو جبلت کہتے ہیں، جس کی جو جبلت ہے اس کے مطابق اس کا مزاج ہوتا ہے۔ اگر شریعت میں کوئی ایسا امر ہے جو اس کے مزاج کے ساتھ ٹکرا رہا ہے تو یہ اس کے لئے ایک مستقل مجاہدہ ہو گا اور اس مجاہدہ پہ اس کو اجر ملے گا۔ جبلت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جو طبیعت کا جمالی ہو، جمالی رہے گا، اور جو جلالی ہو، وہ جلالی رہے گا، چاہے کتنا ہی بڑا بزرگ کیوں نہ بن جائے۔ لیکن بہرحال اس کو اپنی جبلت پر شریعت کو نافذ کرنا پڑے گا۔ یہ سات لطائف کی کچھ تشریح کر دی ہے۔ ان شاء اللہ میرے خیال میں اب اس میں کوئی اشکال نہیں ہو گا۔
فرمایا: ’’اور پہلا قدم جو عالمِ امر میں رکھتے ہیں اس میں تجلّئ افعال ظاہر ہوتی ہے۔ (کیونکہ یہ عروج ہے) اور دوسرے قدم میں تجلّئ صفات اور تیسرے قدم میں تجلی ذات‘‘۔
ذرا غور کریں اور یاد کر لیں، آدمی بہت ساری چیزیں بھول جاتا ہے۔ یہ مشارب ہیں۔ حضرت مجدد صاحب رحمة اللہ علیه کے اس سلسلہ میں ادوار کی جو اہمیت اور افادیت ہے اس کو جاننا چاہئے، پھر بات سمجھنا آسان ہو جاتی ہے۔ پہلا دور پانچ لطائف کے اجرا کا ہے۔ قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ۔ ان کو ذاکر بنایا جاتا ہے۔ ہر لطیفہ پہ ذکر کرایا جاتا ہے۔ ہر لطیفہ پہ ذکر کرانا، یہ لطائف کے اجرا کا دور ہے پھر اس کے بعد فیض کا اجرا ہے۔ ذکر سے فیض آتا ہے۔ جس لطیفہ کا اجرا ہو گیا وہ اوپر عرش کے ساتھ جڑ گیا، اب وہاں سے اس لطیفہ کے ذریعہ فیض آئے گا۔ لہٰذا جب تک لطیفہ ذاکر نہیں ہو گا تب تک connect نہیں ہو گا اور جب تک connect نہیں ہو گا تب تک فیض نہیں آ سکے گا۔ connect تو ہو گیا لیکن آپ اس میں فیض کا اجرا نہیں کرواتے تو گویا کنکشن تو آپ نے لگا دیا، لیکن اس پہ پنکھا نہیں لگا رہے، اس پہ فریج نہیں لگا رہے، اس کو استعمال نہیں کر رہے۔ ہاں! اگر آپ کنکشن کرا دیں اور پھر اس کے ساتھ ساتھ اس کا فائدہ بھی لینا شروع کر لیں، تو یہ فیض کا اجرا ہے۔ فیض کا اجرا دوسرے نمبر پہ ہوتا ہے۔ تیسرے نمبر پر مشارب ہیں۔ ان میں خاص خاص فیوض و برکات کا اجرا ہوتا ہے۔ ایک ہوتا ہے عام فیض جس کو ہم فیض کہتے ہیں، کوئی بھی فائدہ جو پہنچ رہا ہے وہ ایک عام فیض ہے۔ پہلا فیض جس کا اجرا لطیفۂ قلب پہ کرایا جاتا ہے وہ فیض ’’فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ‘‘ کا ہے۔ یہ تجلئ افعال ہے۔ پھر لطیفۂ روح پر صفاتِ ثبوتیہ کا اجرا ہوتا ہے، یہ تجلئ صفاتیہ ہے، اس کے بعد لطیفہ سر پر شیوناتِ ذاتیہ کا اجر ہوتا ہے، یہ تجلئ ذات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے لطائف کا اجرا ہوا، پھر فیض کا اجرا ہوا اور اب اس پہ خاص فیوض کا اجرا ہے، یعنی افعال کا، صفات کا اور پھر ذات کا، اسی کو تجلئ افعال تجلئ صفات اور تجلئ ذات کہتے ہیں۔ چوتھے لطیفہ میں خصوصی طور پر تنزیہ کا اجرا کرایا جاتا ہے اور پھر پانچواں لطیفہ شانِ جامع کا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ پانچوں لطائف پر ہم اپنے اپنے مشرب چلاتے ہیں، جس کا جو مشرب ہوتا ہے اسی پر اس کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
فرمایا:
’’باقی لطائف میں ان کے درجات کے تفاوت کے لحاظ سے ترقی ہو جاتی ہے جیسا کہ اس راستہ کے سالکوں پر مخفی نہیں ہے، اور ان سات قدموں میں سے ہر ایک قدم پر سالک اپنے آپ سے دُور اور حق سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک ہوتا جاتا ہے‘‘۔
کیونکہ عروج اور نزول ساتھ ساتھ ہیں۔ عروج کے لحاظ سے بھی انسان اپنے آپ سے دور ہوتا ہے اور نزول کے لحاظ سے بھی اپنے آپ سے دور ہوتا ہے۔
فرمایا:
’’ان سات قدموں میں سے ہر ایک قدم پر سالک اپنے آپ سے دُور اور حق سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان قدموں کے پورا ہونے تک حق سبحانہ و تعالیٰ کا قرب پورے طور پر حاصل ہو جاتا ہے‘‘۔
یوں سمجھ لیجئے کہ نفسِ مطمئنہ حاصل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے میں نفسِ امارہ کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے، اور انسان حقیقی معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اصل چیز بندگی ہے: ’’اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ)۔
اللہ پاک نے فرمایا ہے:
﴿یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُۗۖ O ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ O فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ O وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠﴾ (الفجر27-30)
ترجمہ: ’’(البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ) اے وہ جان جو (اللہ کی اطاعت میں) چین پا چکی ہے۔ اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آ جا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔ اور شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں۔ اور داخل ہو جا میری جنت میں‘‘۔
گویا کہ جس وقت انسان کا نفس قابو میں آ جاتا ہے اور انسان حقیقی طور پر اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، اس کے بعد اس کی اس دنیا میں موجودگی خیر ہی خیر ہوتی ہے، اس کا ہر روز اس کو اللہ کے اور قریب کرتا ہے اور اپنے آپ سے دور کرتا ہے، تجرید و تفرید والا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ پس اس وقت وہ فنا و بقا سے مشرف ہو جاتے ہیں اور ولایتِ خاصہ کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔
اسی کی مزید تشریح کرتے ہوئے دفتر سوم کے مکتوب نمبر 11 میں فرماتے ہیں:
انسان کی جامعیت اور لطائف عشرہ سے مرکب ہونا:
متن:
آدمی ایک ایسا نسخہ جامعہ ہے جو اجزائے عشرہ یعنی عناصرِ اربعہ اور نفسِ ناطقہ اور قلب، روح، سّر، خفی اور اخفیٰ سے مرکب ہے، اور ان کے علاوہ دوسرے قویٰ وجوارح (اعضا) جو انسان میں ہیں وہ ان ہی اجزا کی طرف راجع ہیں، اور یہ اجزا ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ عناصر اربعہ کا ایک دوسرے کی ضد ہونا تو ظاہرہی ہے اور اس طرح عالمِ خلق کا عالمِ امر کی ضد ہونا بھی ظاہر ہے اور عالمِ امر کے پنجگانہ لطائف میں ہر ایک الگ الگ امر کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی ایک کمال کی طرف منسوب ہے۔ اور نفسِ ناطقہ خود اپنی ہوا و ہوس اور خواہش کا طالب ہے ان میں سےکوئی ایک بھی دوسرے کے ساتھ نہیں ملتا۔۔۔۔۔ خداوند جل سلطانہ کی عنایت نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ ان متضاد چیزوں میں سے ہر ایک کی تیزی اور غلبہ کو توڑ کر جمع فرما دیا ہے اور ایک خاص مزاج اور ہیئت وحدانی عطا فرمائی ہے ۔ اور مزاج خاص اور ہیئت وحدانی کے حصول کے بعد اپنی حکمتِ بالغہ سے اس کو ایک صورت بخشی ہے تاکہ وہ ان متفرق و متضاد اجزاء کی حفاظت کرے، اس مجموعے کو اس نے انسان کے نام سے مسمی کر کے جامعیت اور ہیئت وحدانی کے حصول کے اعتبار سے خلافت کی استعداد کے شرف سے بھی مشرف فرمایا، (خلافت کی) یہ دولت انسان کے علاوہ کسی او رکو میسر نہیں ہوئی۔ عالمِ کبیر اگرچہ بڑا ہے لیکن وہ بھی جامعیت سے خالی اور ہیئت وحدانی سے بے نصیب ہے۔ اور معاملہ کی یہ خوبی تمام افرادِ انسانی میں ثابت ہے اور عوام و خواص انسان اس میں شرکت رکھتے ہیں۔
تشریح:
یعنی استعداد سب میں ہے۔ کون ہے جو اس سے فائدہ حاصل کرے۔ دیکھیں! حضرت نے بالکل صاف صاف باتیں فرمائیں ہیں۔ کچھ لوگ اس کو نہیں سمجھتے تو مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے۔ حضرت نے دس اجزا کا بتایا ہے جن سے انسان مرکب ہے۔ ان میں سے چار تو عناصرِ اربعہ ہیں، جو قالب ہے اور جبلت ہے۔ جبلت کا ہر جز دوسرے سے مختلف ہے۔ نفسِ ناطقہ اور باقی لطائف کا اپنا اپنا کام ہے، اپنا اپنا تعلق ہے۔ اب قلب کا اپنا میدان ہے، روح کا اپنا میدان ہے، سر کا اپنا میدان ہے، خفی کا اپنا میدان ہے، اخفیٰ کا اپنا میدان ہے اور نفس کا اپنا میدان ہے۔ عالمِ امر کی ہر چیز کا اپنا اپنا میدان ہے۔ ان سب کا مقصود ہوائے نفسانی کی مخالفت ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه نے اس کو بہت مختصر انداز میں سمجھایا ہے۔ یہ اجتہاد ہے، اختلاف و مخالفت نہیں ہے۔ دیکھیں! عالمِ امر کی تمام باتوں کو حضرت نے فاعلات میں شمار کیا ہوا ہے اور نفس کی تمام چیزوں کو مجاہدات میں شامل کیا ہوا ہے۔ فاعلات اور مجاہدات دو ذرائع ہیں۔ فاعلات سے مراد قلب، روح، سر، خفی اور اخفیٰ ہیں۔ ان پانچوں کی اپنی اپنی انفرادی خصوصیات ہیں، جس کے ذریعے انسان بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے، انسان کے اندر کچھ مخفی صلاحیتیں ہوتی ہیں ان مخفی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اپنی اپنی محنت ہے۔ جو محنت کرے گا اس کو اس سے فائدہ ہو گا۔ عالمِ امر کے لطائف فاعلات ہیں، اور باقی عالمِ خلق کے پانچ لطائف، وہ مجاہدات کا میدان ہے۔ اس میں ضد آتی ہے، یوں کہہ سکتے ہیں کہ ن دونوں کے ذریعہ جو حاصل ہوتا ہے وہ ہے نفس کا توڑ اور اللہ سے جوڑ۔ عالم امر کے ذریعہ اللہ سے جوڑ اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے، اور عالمِ خلق کے ذریعہ نفس کا توڑ ہے۔ نفس کی ضد کو، نفس کے زرو کو توڑنا ہے، کیونکہ اللہ کے لئے نفس کی جتنی مخالفت کرو گے، اتنا اللہ کے قریب ہو گے، اور عالمِ امر کے لطائف کی جتنی موافقت کرو گے اتنا اللہ کے قریب ہو گے، کیونکہ یہ (عالمِ امر کے لطائف) فاعلات ہیں اور وہ (عالمِ خلق کے لطائف) مجاہدات ہیں۔ نفس اللہ کے حکم کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، تم اللہ کے حکم کے مطابق نفس سے مزاحمت کرو۔ مزاحمت کی مزاحمت کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ دو منفیوں کی جمع سے مثبت بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں (نفس کی) ضد کی ضد آپ کو مفید ہو گی۔ نفس کی ضد اللہ تعالیٰ کے احکامات کو توڑنا ہے۔ اس لئے حدیث شریف میں اس کے لئے بڑے جامع الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، فرمایا: ’’عقل مند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لئے کام کیا‘‘۔ تو ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس نے عالمِ خلق کی مخالفت کو قابو کیا اور عالمِ امر کے ذریعہ کام کیا وہ سمجھ دار اور کامیاب ہے۔
آخرت کے لئے کام کرنے کے لئے آپ کو احکامات ملاء اعلی کے ذریعہ سے ملتے ہیں، اس کے ساتھ آپ کا تعلق قلب اور روح کے ذریعے ہو گا۔ ان کے ذریعہ آپ کا اوپر کے ساتھ تعلق ہے اور اوپر سے آئے ہوئے احکام کو اپنے نفس پر نافذ کرنا ہے۔ کیونکہ حضرت مجدد صاحب رحمة اللہ علیه کی تحقیق کے مطابق ہماری روح نفس کے اندر گر کے گرفتار ہو چکی ہے اور نفس کے لئے استعمال ہوتی ہے اور ایسے استعمال ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو بھول چکی ہے کہ میں کس کی تھی۔ لہٰذا سب سے پہلے اس کو ذکر کے ذریعے یاد کرانا ہوتا ہے کہ تو کہاں کی ہے، تو یہاں کی نہیں ہے۔ جب اس کو یاد ہو جاتا ہے یعنی اللہ یاد آ جاتا ہے تو وہ بے چین ہو جاتی ہے۔ اب بتاؤ یہ بے چینی اچھی ہے یا بری ہے؟ ظاہر ہے اچھی ہے۔ اگر ایسا آدمی بے چین ہو جائے اور اس کے والدین پریشان ہو جائیں، اس کو ماہرِ نفسیات کے پاس لے جائیں کہ اس کا علاج کر دو، تو پھر کیا کیا جائے۔ کیونکہ واقعتاً ایسا ہوتا ہے، اس وجہ سے بڑا محتاط رہنا پڑتا ہے۔
خیر جب روح کو یاد آ جاتا ہے کہ میں کہاں کی تھی تو یہ بے چین ہو جاتی ہے کہ میں یہاں کیوں ہوں۔ پھر مجاہدات کے ذریعہ نفس کے ہاتھ پیر قابو کر کے روح کو آزاد کرانا ہوتا ہے۔ جب روح آزاد ہو جاتی ہے تو اپنے گھر جاتی ہے جیسے کہ جب قیدی آزاد ہوتا ہے تو اپنے گھر ہی جاتا ہے، جہاں سے آیا ہے وہیں جائے گا۔ روح بھی ملاءِ اعلی جاتی ہے۔ جب وہاں جاتی ہے، تو وہاں سے پھر اس کا رابطہ دل کے ساتھ ہوتا ہے، کیونکہ دل اس کا eye peace ہے، تو ہمارے دل کے اندر ملاءِ اعلی کی تمام چیزیں نظر آتی ہیں، ان کا اثر محسوس ہوتا ہے، پھر دل الہامات کا رستہ بن جاتا ہے۔ خلوت در انجمن کی کیفیت ہو جاتی ہے، آدمی لوگوں کے درمیان ہوتا ہے لیکن لوگوں کا نہیں ہوتا، اللہ کا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ گائیڈڈ ہوتا ہے، باقاعدہ اس کو بتایا جاتا ہے کہ یہاں کرو یہاں نہ کرو، ایسا کرو ایسا نہ کرو، بلکہ بعض دفعہ کہا جاتا ہے کہ یہاں سے بھاگو۔ ایسا بھی ہوتا ہے جب خطرے کی گھنٹی بج جائے تو پھر بھاگنے کا حکم دیا جاتا ہے، جیسے کہ دجال سے بھی بھاگیں گے۔ چنانچہ جب ایسا نظام فعال ہو جاتا ہے کہ ملاء اعلی کے ساتھ تعلق ہو جاتا ہے تو یہ آدمی پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے الله جل شانهٗ کے احکامات کا حاصل کرنے والا ہو جاتا ہے۔ ؎
گفتۂ او گفتۂ اللہ بود
گرچہ از حلقوم ِعبد اللہ بود
اس کا کہنا اللہ کا کہنا ہوتا ہے، اگرچہ وہ ایک انسان کی زبان سے نکل رہا ہوتا ہے، لیکن وہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ رہی ہوتی ہے۔ پھر مزید ترقی یہ ہوتی ہے کہ اسی ملاءِ اعلی کے ساتھ روح کے وابستہ ہونے کی وجہ سے (چونکہ قلب ایک eye peace ہے جس کی روشنی عقل پہ پڑتی ہے تو) عقل بھی روشن ہو جاتی ہے، جیسے ایمان سے دل روشن ہو گیا تھا۔ ایک انسان مسلمان ہو گیا تو ایمان کی وجہ سے اس کی عقل روشن ہو جاتی ہے۔ اب اس کی سوچ ہی بدل جاتی ہے، پہلے اس کی سوچ تھی دنیا کی چیزوں کے لئے، اب جب ایمان لے آیا تو اس کی سوچ ہی بدل گئی۔ ایسی کایا پلٹ جاتی ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ آخر موسی علیہ السلام کے ساتھ جادو گروں کا جو واقعہ قرآن پاک میں مذکور ہے، اس میں کیسا عجیب منظر ہے کہ یا تو وہ جادو گر کچھ ہی دیر پہلے فرعون سے کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو ہمیں کیا دو گے، سودے بازی کر رہے ہیں، فرعون کہتا ہے ہم آپ کو مقربین میں سے بنا دیں گے۔ اور جس وقت وہ ایمان لاتے ہیں تو فرعون کہتا ہے اچھا تم لوگ میری اجازت کے بغیر ایمان لے آئے؟ دیکھو! اب میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں، تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور تمہیں سولی پہ چڑھاؤں گا۔ اب دیکھو! جادو گر ایمان لائے ہیں اور ایمان لانے کے بعد بالکل حالات بدل چکے ہیں، اب وہ کہتے ہیں:
﴿فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ﴾ (طٰہٰ: 72)
ترجمہ: ’’اب تمہیں جو کچھ کرنا ہو، کرلو۔ تم جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیوی زندگی کے لیے ہو گا‘‘۔
یعنی جو تم ہمارے ساتھ کرو گے وہ دنیا میں ہی کرو گے، آخرت میں تو کچھ نہیں کر سکتے۔ دیکھو! دنیا اور آخرت کی سوچ اتنے زبردست طریقے سے پہنچ گئی کہ نقشہ ہی بدل گیا۔ یہ اصل میں ایمان کی روشنی ہے۔ تو ایمان عقل میں آتا ہے اور ایمان کی روشنی جب عقل پہ پڑ جاتی ہے اور نفس پہ قابو پا چکے ہوں تو عقل مسلمان ہو جاتی ہے۔ پھر عقل میں وہی سوچ کا مادہ، وہی فکر کا مادہ اور وہی فیصلے کا مادہ اور وہی تمام چیزیں اسلام کے لئے استعمال ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اب پیغمبر کی موجودگی میں نفس خود بخود تابع ہو جاتا ہے اور براہ راست یہ چیزیں حاصل ہو جاتی ہیں جیسے صحابہ کو حاصل ہوئی تھیں اور جیسے جادو گروں کو حاصل ہو گئیں کیونکہ پیغمبر ساتھ تھے۔ لیکن ہمیں محنت کرنی ہوتی ہے، محنت کے ذریعہ اپنے نفس کو قابو کرنا ہوتا ہے، عالمِ خلق کے لطائف پہ کام کرنا ہوتا ہے، اور کام کرنے کا انداز ہر لطیفہ کا مختلف ہے۔
تجلیٔ افعال و تجلیٔ صفات و تجلیٔ ذات:
دفتر سوم کے مکتوب نمبر 75 میں فرماتے ہیں:
متن:
تجلی افعال سے مراد حق سبحانہ کے فعل کا ظہور سالک پر اس طرح ہو کہ بندوں کے افعال اس فعل کے ظلال نظر آئیں اور (بندہ) اس فعل کو ان افعال کی اصل جانے اور ان افعال کے قیام کو اس فعل واحد سے سمجھے۔ اور اس تجلی کا کمال یہ ہے کہ یہ ظلال اس کی نظر سے کلی طور پر پوشیدہ ہو کر اپنی اصل سے ملحق ہو جائیں اور ان افعال کا فاعل جمادات (بے جان) کی طرح اپنے آپ کو بے حس و حرکت معلوم کرے۔ اور وہ توحید وجودی والے جو کہ عینیت اشیا کے قائل ہیں اور "ہمہ اوست" (سب کچھ وہی ہے) کہتے ہیں اس مقام میں کہا ہے جس میں بندوں کے بے شمار افعال کو ایک ہی فاعل جل شانہ کا فعل جانا ہے.
تشریح:
سبحان اللہ! یہ وحدۃ الوجود کی بہت زبردست تشریح ہے۔ اس کو حضرت شاہ ولی رحمة اللہ علیه صاحب نے بہت تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے، پھر حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیه نے بھی عبقات میں بہت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ مثلاً سورج گرمی اور روشنی کے ایک ہی طرح کے سگنلز بھیج رہا ہے، لیکن اس کا ہر چیز پر الگ اثر پڑتا ہے۔ کلوروفل کے ساتھ مل کے فوڈ بنتا ہے، پانی کے ساتھ مل کے پانی گرم ہو جاتا ہے. ہم نے گھر میں چمن لگایا ہوا تھا۔ لیکن اس میں پودے وغیرہ ٹھیک سے نشو و نما نہیں پا رہے تھے۔ ہم نے مالی کو بلایا اس نے کہا که یہاں سورج نہیں آتا، یہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح یہ سورج کی گرمی اور روشنی لکڑی پہ پڑتی ہے تو الگ معاملہ ہوتا ہے، انسان کے چمڑے پہ پڑتی ہے تو وٹامن ڈی پیدا ہوتے ہیں۔ اب سورج کی روشنی ایک ہی ہے لیکن ہر چیز کے ساتھ ملحق ہو کر اس کا نتیجہ الگ الگ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے امر کے ساتھ باقی تمام اشیاء اس طرح مربوط ہوں کہ ہر چیز اس سے ہوتی ہوئی نظر آ جائے، گویا تمام افعال کے پیچھے اللہ کا فعل نظر آ جائے، یا دوسرے لفظوں میں تمام افعال اللہ کے افعال کا ظلال نظر آئیں اور پھر ظلال بھی چھپ جائیں اور صرف وہی نظر آئے جو فاعل حقیقی ہے۔ ع
پردے پہ مصور بھی تنہا نظر آتا ہے
حضرت نے کیسے اچھے الفاظ کے ساتھ فرمایا:
’’اس تجلی کا کمال یہ ہے کہ یہ ظلال اس کی نظر سے کلی طور پر پوشیدہ ہو کر اپنی اصل سے ملحق ہو جائیں اور ان افعال کا فاعل جمادات (بے جان) کی طرح اپنے آپ کو بے حس و حرکت معلوم کرے۔ اور وہ توحید وجودی والے جو کہ عینیت اشیا کے قائل ہیں اور ”ہمہ اوست“ (سب کچھ وہی ہے) کہتے ہیں اس مقام میں کہا ہے جس میں بندوں کے بے شمار افعال کو ایک ہی فاعل جل شانہ کا فعل جانا ہے‘‘۔
متن:
اس جگہ افعال کی نسبتیں پوشیدہ ہیں جو اپنے کرنے والوں کے ساتھ منسوب ہیں اور نسبت کا حدوث ان افعال کے لئے فاعل واحد سے ثابت کرتےہیں نہ کہ نفس افعال کا اختفا اور ان کا اصل کے ساتھ الحاق۔ شتان بینھما و ان کاد ان یخفیٰ علی البعض (اور ان دونوں کے درمیان بڑا فرق ہے اور قریب ہے کہ یہ بعض پر پوشیدہ رہے)۔
تجلی صفات سے مراد یہ ہے کہ سالک پر حق تعالیٰ سبحانہ کی صفات کا ظہور اس طرز پر ہو کہ بندوں کی صفات کو واجب جل سلطانہ کی صفات کا ظلال جانے اور ان کے قیام کو ان کے اصول کے ساتھ معلوم کرے۔ مثلاً ممکن کے علم کو واجب تعالیٰ کے علم کا ظل سمجھے اور اس کے ساتھ قائم جانے اور اسی طرح اس (ممکن) کی قدرت کو حق تعالیٰ کی قدرت جانے اور اس کا قیام اس کے ساتھ تصور کرے۔ اس تجلی کا کمال یہ ہے کہ یہ تمام ظلالی صفات سالک کی نظر سے پوشیدہ ہو کر اپنے اصول کے ساتھ ملحق ہو جائیں اور اپنے آپ کو جو کہ پہلے ان صفات سے موصوف رہ چکا ہے جماد کی طرح بے حیات و بے علم جانے اور وجود اس کے کمالات و توابع وجود کا کوئی اثر اپنے اندر نہ پائے، نہ وہاں اس کا کوئی ذکر رہے نہ کوئی توجہ نہ حضور رہے نہ شہود۔ اصل سے ملحق ہونے کے بعد اگر توجہ ہے تو خود بخود متوجہ ہے اور اگر حضور ہے تو خود بخود حاضر ہے۔ اس مقام سے سالک کا نصیب یہ ہے کہ اس کو فنا و نیستی کی حقیقت حاصل ہو جائے اور کمالات کے انتساب کی نفی ہے جو بزعم خود ان کمالات کو اپنی طرف منسوب کرتا تھا (منتفی ہو جائے)
یہ دولت فنا جو نیستی کی حقیقت ہے اگرچہ تجلی صفات کی انتہا ہے لیکن اس کا حصول تجلی ذات کے پر تو سے ہے اور جب تک ذات متجلی نہیں ہوتی یہ دولت بھی میسر نہیں ہوتی بلکہ تجلی صفات بھی انجام تک نہیں پہنچتی۔
تجلی صفات کے سر انجام ہونے اور صفات و ذات کی فنا حاصل ہونے کے بعد عارف کو ایک ہستی تجلی دکھائی دیتی ہے گویا کہ وہ تجلی ذات کی دہلیز پر ہے اور گویا وہ تجلی صفات اور تجلی ذات کے درمیان برزخ ہے جب کسی صاحب دولت کو اس تجلی سے گزار کر (فوق کی طرف) لے جاتے ہیں (عروج) تو اس کو تجلی ذات سے اپنی استعداد کے مطابق حصہ مل جاتا ہے.
اور تجلی ذات کی نسبت کیا لکھوں اور کیا لکھا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ذوقی چیز ہے، جو وہاں پہنچا اس نے پا لیا اور جس نے اس کو چکھا ہی نہیں وہ کیا جانے۔
قلم ایں جا رسید و سر بشکست
(ترجمہ)
پہنچا یہاں قلم تو قلم اس کا سر ہوا
بس اتنا ظاہر کیا جاتا ہے کہ "تجلی ذات" اس عارف کے حق میں جس کی فنا کا ذکر اوپر ہو چکا ہے دائمہ ہے اور جو تجلی دوسروں کے لئے برق کی طرح ہے وہ اس کے لئے دائمی ہے، بلکہ تجلی برقی بھی حقیقت میں تجلی ذات نہیں ہے اگرچہ بعض نے اس کو تجلی ذات کہا ہے البتہ شیون ذات میں سے کسی شان کی تجلی ہے جو کہ جلدی پوشیدہ ہو جانے والی ہے۔ اور جہاں تجلی ذات ہے وہ شیون و اعتبارات کے ملاحظہ کے بغیر ہے اس کے لئے دوام لازم ہے اور وہاں پوشیدہ ہونا بھی متصور نہیں ہے۔ تجلیات کی تلونیات (رنگ بدلتے رہنا) صفات و شیون کا پتا دیتی ہیں اور حضرت ذات تعالیٰ و تقدس تلوینات سے منزہ و مبرا ہے اور وہاں پوشیدہ ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ (الجمعہ:04) (یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بڑے فضل والا ہے)۔
تشریح:
ایک انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، جسے اَنانیت کہتے ہیں۔ یہ انانیت انسان کو اپنے رب سے کاٹ دیتی ہے۔ اور یہی انانیت انسان کے لئے سب سے بڑا حجاب ہے۔ اس انانیت کو دور کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے، اسی پہ ساری محنت ہے۔ یہ انانیت صرف فنائیت سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔ یہ ایسے ختم ہو گی کہ جو شخص اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے اور دوسروں کی کچھ صلاحیتوں کو بھی مانتا ہے، وہ جس کو اپنے سے زیادہ صلاحیتوں والا سمجھتا ہے ان کی خوشامد کرتا ہے، اپنی غرض کے لئے ان کی عزت کرتا ہے۔ مثلاً کسی کو مال دار جانتا ہے تو مال کے لئے اس کی عزت کرتا ہے، کسی کو معزز جانتا ہے تو عزت کے لئے اس کی عزت کرتا ہے، کسی کو طاقتور اور با اثر سمجھتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی عزت کرتا ہے۔ یہ آدمی سب کچھ اپنی غرض کے لئے کرتا ہے، مخلص کسی کے ساتھ بھی نہیں ہے، اپنی غرض کا بندہ ہے۔ اس شخص کی اصلاح تب ہو گی جب سب سے پہلے اس کے اندر باقی لوگوں سے کچھ بھی نہ ہونے کا یقین آ جائے، بلکہ دوسرے لفظوں میں کائنات کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، جس چیز سے بھی ہو رہا ہے اُس سے اِس کو کاٹا جائے۔ اس بات کو یوں بھی کہتے ہیں کہ اس کا تعلق آفاق سے کٹ جائے۔ آفاق سے کاٹنا آسان ہے، لیکن اپنے آپ سے کاٹنا بڑا مشکل ہے۔ میں اکثر تبلیغی جماعت والوں سے کہا کرتا ہوں کہ دوسرے ملکوں میں تبلیغ آسان ہے اور اپنے علاقے میں، اپنے شہر میں تبلیغ مشکل ہے اور اپنے شہر سے زیادہ اپنے محلے میں تبلیغ مشکل ہے، اور اپنے محلے سے زیادہ اپنے گھر میں تبلیغ مشکل ہے، اور اپنے گھر سے زیادہ اپنے آپ کو تبلیغ مشکل ہے۔ یہ اپنے آپ کو تبلیغ کرنا، یہی تصوف ہے۔ سب سے مشکل تبلیغ یہی ہے۔ اپنے آپ کو سمجھانا بہت مشکل ہے کیونکہ انسان غرض کا بندہ ہے۔ تو باقی تمام آفاق سے کاٹنا نسبتاً آسان ہے اس لئے پہلے ابتدا آفاق سے کرتے ہیں، جب اس میں کمال حاصل ہو جاتا ہے، پھر اپنے آپ سے کاٹتے ہیں۔ اور اس میں ذکر اذکار اور بے نفسی کے ذریعہ یہ دکھایا جاتا ہے کہ تُو کچھ بھی نہیں، تو جو کر سکتا ہے وہ بھی تب ہی کر سکتا ہے جب اللہ کرنے کا فیصلہ کر لے، جب تک وہ نہ فیصلہ نہ کرے تو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
آج کل کی صورت حال میں دیکھیں تو یہ مثال بہترین رہے گی کہ جراثیم میں جان ہوتی ہے، وائرس میں جان نہیں ہوتی۔ اب ایک وائرس نے پوری دنیا کو تگنی کا ناچ نچایا ہے۔ اس کے اندر جان ہی نہیں ہے، وہ محض ذرہ ہے۔ اس ذرہ کے اندر ایک میسیج ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اب وہ ایسا عجیب میسیج ہے کہ جب وہ ذرہ آپ کی باڈی میں پہنچتا ہے تو آپ کی باڈی آپ کے حق میں فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ اس میسیج کے حق میں فیصلہ کرنا شروع کر دیتی ہے، اور وہی کچھ کرنے لگ جاتی ہے جو وہ میسیج چاہتا ہے۔ کیا یہ قیامت والا واقعہ نہیں ہے کہ جہاں تمام جسم کے اجزا کو کہا جائے گا کہ بات کرو، بتاؤ اپنا اپنا حال۔ تو انسان جھنجھلا کر کہے گا کہ تم نے یہ باتیں کیوں شروع کیں؟ تو جسم کے اجزا کہیں گے کہ جس اللہ نے سب کو بولنا سکھایا ہے اس نے ہمیں بھی سکھا دیا ہے۔ آنکھیں آپ کے خلاف بات کریں گی، کان آپ کے خلاف بات کرے گا، ناک آپ کے خلاف بات کرے گی، دماغ آپ کے خلاف بات کرے گا، دل آپ کے خلاف بات کرے گا۔ اسی طرح وائرس جب آپ کے جسم میں آ جاتا ہے اور وہ آپ کے جسم میں incarporate ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر آپ کا جسم خود بخود وہی کرنے لگتا ہے جو وہ میسیج چاہتا ہے۔ اور پھر کمال کی بات یہ ہے کہ اس سے ویسے ہی میسیج بننے شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ میسیج اس طرح بنتے ہیں کہ آپ کے جسم کو توڑا جاتا ہے، اس سے وہ میسیج بنایا جاتا ہے، اور دوسرے لوگوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ اب بتاؤ! جس کا جسم بھی یہ کر رہا ہے، نہ وہ اپنے لئے چاہتا ہے نہ دوسروں کے لئے چاہتا ہے، لیکن ہو رہا ہے، کیونکہ حکم جو اوپر سے آیا ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ہمیں وائرس نے سکھا دیا کہ تُو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے ساری چیزیں اس طرح بنائی ہیں کہ اللہ پاک نے اسباب بنا لئے اور اسباب کے اندر اپنی قدرت کو چھپا دیا ہے۔ اب جو لوگ اسباب کو دیکھتے ہیں وہ صرف اسباب کو موثر جانتے ہیں، لیکن جو لوگ اس کنکشن کو جان لیتے ہیں جو قدرت اور اسباب کے درمیان میں ہے، وہ اسباب کو بھول جاتے ہیں، وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ادھر سے ہدایات آ رہی ہیں، جب تک وہ ہدایات نہ آئیں اس وقت تک یہ اسباب کچھ نہیں کر سکتے۔ انسان کو ”ہمہ اوست“ کا میسیج مل جاتا ہے کہ سب کچھ تو ادھر سے ہے، سب کچھ تو وہی کر رہا ہے۔ اب اس میں جب تک آپ کا علم تمام چیزوں سے ختم ہو تو یہ وحدۃ الوجود ہے اور جب آپ کا علم واپس آ گیا کہ آپ کو ساری چیزیں نظر آ رہی ہیں لیکن اس کے اندر وہ سگنل بھی نظر آ رہا ہے تو یہ وحدۃ الشہود ہے۔ یعنی پہلے آپ کا تعلق باقی چیزوں سے کاٹا جاتا ہے۔ جیسے کلچ کی مثال ہے۔ جب کلچ دبا کر گئیر بدلتے ہیں تو پہلے گیئر سے آپ کو کاٹ دیا جاتا ہے، پھر اس کے بعد دوسرے گیئر سے آپ کا تعلق ملا دیا جاتا ہے۔ یہ کلچ والا کردار وحدۃ الوجود کا ہے کہ اس میں پہلے سب سے کاٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد وحدۃ الشہود کے ساتھ ساری چیزیں بھی نظر آتی ہیں، ان کے کام بھی نظر آتے ہیں لیکن ان کے پیچھے وہ قدرت کا سگنل بھی نظر آتا ہے۔ نتیجتاً ”ہمہ از اوست“ والا مرتبہ نصیب ہو جاتا ہے، پہلے ”ہمہ اوست“ تھا اب ”ہمہ از اوست“ ہو گیا، یعنی سب کچھ اس کی طرف سے ہے، سب کچھ وہی ہے، جس میں کوئی اور نظر ہی نہیں آ رہا وہ ”ہمہ اوست“ ہے۔ اور ”ہمہ از اوست“ کا مطلب ہے کہ سب کچھ علماً نظر آ رہا ہے، لیکن پتا چل گیا کہ یہ سب از خود کچھ بھی نہیں ہے۔ ایسا شخص تمام لوگوں کے حقوق ادا کرتا ہے، کیونکہ اس کو وہ حق نظر آتے ہیں۔ ”ہمہ اوست“ میں کسی اور کا حق نظر نہیں آتا، بلکہ اس کو اپنا آپ بھی نظر نہیں آتا تو باقیوں کا حق کیا نظر آئے گا، لہٰذا وہ معذور ہوتا ہے۔ لیکن ”ہمہ از اوست“ والا صاحب ما شاء اللہ عارف ہوتا ہے، اس کو نظر آتا ہے کہ میرے والد بھی ہیں، ان کا بھی حق ہے، میری والدہ بھی ہیں ان کا بھی حق ہے، پڑوسی کا بھی حق ہے، میں نے نماز بھی پڑھنی ہے، اور وہ سب کام کرنے ہیں جن کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کو ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پہ نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ”ہمہ از اوست“ ہے۔
میرے خیال میں اب وہ وقت آ گیا ہے کہ میں آپ کو وہ نقشبندی غزل سنا دوں۔ اب آپ کو یہ ساری چیزیں سمجھ میں آئیں گی ان شاء اللہ۔ آج ما شاء اللہ کافی چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔
نقشبندی سلسلے کا ایک کلام آپ کی سماعتوں کے حوالے کر رہا ہوں ملاحظہ فرمائیے۔
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
اسے پانا کہاں ممکن ہے دل کو یہ بتانا ہے
تشریح:
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے۔ اس میں رستہ ہی منزل بن جاتا ہے کیونکہ جس رستہ پہ بھی چلیں گے اس کے ذریعہ سے اگلی منزل حاصل ہو گی، پھر وہ اگلی منزل رستہ بن جائے گی، اس پہ چلیں تو اس سے اگلی منزل حاصل ہو گی۔ جس نے اس کو شروع کر لیا گویا اس نے اِس کو پا لیا اگرچہ حقیقتاً ابھی حاصل نہیں ہوا لیکن اگر راستہ پہ آ گیا تو راستہ کی حد تک تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے۔ لیکن آخر میں تنزیہ والی بات کا پتا چلتا ہے کہ اللہ کو پانا تو نا ممکن ہے۔
کہ وہ ہے ذات وراء الوراء اور ہم کہاں سوچو
مگر اس تک جو راہ جائے اسی راہ پر ہی جانا ہے
تشریح:
تنزیہ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی ذات تو وراء الوراء ہے اور ہم کچھ بھی نہیں ہیں، ہمارا تو وجود بھی اس کے حکم پر مبنی ہے تو ہماری کیا حقیقت کہ ہم اس کو پا لیں، لیکن فرمایا اس تک راستہ جاتا ہے، جانا اسی پر ہی ہے، جس کو ہم سیر الی اللہ کہتے ہیں۔ یعنی اگرچہ ایسا ہو نہیں سکتا لیکن کرنا یہی ہے، اس لئے کہ اس کو راضی کرنے کا رستہ یہی ہے۔
شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیه نے اس کی بڑی اچھی تمثیل بیان کی ہے۔ فرمایا اگر کسی وقت بادشاہ آئینے میں ظاہر ہو جائے اور حکم دے دے کہ اس آئینے کی طرف سے آپ کو جو حکم ملے وہ میری طرف سے ہو گا۔ نوٹیفکیشن جاری ہو جائے کہ جو آئینے کی طرف سے آپ کو حکم دیا جائے گا وہ میری طرف سے ہو گا، تو کوئی بھی اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتا، حالانکہ وہ آئینہ ہے، وہ عکس بادشاہ تو نہیں ہے، لیکن اس کو بادشاہ نے اپنا قائم مقام بنا لیا، لہٰذا ہم اس کو مانیں گے۔ جیسے خانہ کعبہ کی طرف سجدہ کرنے کا حکم ہے، تو خانہ کعبہ کو سجدہ کرنا یا خانہ کعبہ کی طرف سجدہ کرنا اللہ ہی کو سجدہ کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس طرف سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ اس کو ہی سجدہ ہے۔
یہ عشق کی راہ ہے اس پر چلے جانا مگر آگے
بھی کوہِ نفس سر کرنے میں مردانگی دکھانا ہے
تشریح:
ابھی الحمد للہ حضرت نے اجزائے عشرہ یعنی لطائفِ عشرہ بتائے ہیں۔ جن میں پانچ عالمِ امر کے ہیں اور پانچ عالمِ خلق کے ہیں۔ تو پانچ عالمِ امر کے عشق و جذب سے طے ہوتے ہیں۔ اور پانچ عالمِ خلق کے ایسے ہیں جیسے پہاڑ پہ چڑھنا، کیونکہ نفس اور جبلت کی مخالفت ہے، اس پہاڑ پہ چڑھنا ہے، اس پہ مردانگی دکھانی ہے۔ آپ کا عشق یہاں کام کرے گا۔ اگر آپ نے عشق کو وہاں استعمال نہیں کیا، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو عشق ہے ہی نہیں۔ عشق یہیں ناکام ہو جائے گا۔ عشق تو وہی ہے کہ محبوب جو کہے وہ کرو، اور کرنے پہ تب عمل ہو گا جب آپ کا جسم آپ کا ساتھ دے گا، جب آپ کا نفس آپ کا ساتھ دے گا، اگر نفس ساتھ نہیں دے گا تو آپ کر ہی نہیں سکتے۔ لہٰذا کوہِ نفس پہ چڑھنے میں مردانگی بھی دکھانی ہے۔
مقامِ قلب میں روح بند ہے نفس کے شکنجہ میں
ریاضت سے سلوک سے روح کو نفس سے چھڑانا ہے
تشریح:
کیونکہ عالمِ امر کے لطائف پہ کام کرنے سے جو عروج اور جذب حاصل ہوتا ہے اس جذب کو بروئے کار لا کر عالمِ خلق کے لطائف کے خلاف کام کرنا ہوتا ہے، ان کو دبانا پڑتا ہے، ان کو مجبور کرنا ہوتا ہے جیسے کہ حدیث شریف میں قابو کا لفظ ہے، ان کو قابو کرنا پڑتا ہے۔ عشق والی بات تو ہے لیکن ساتھ ساتھ عالمِ خلق کے لطائف کے خلاف کام کرنا ہوتا ہے۔ عالمِ خلق کے لطائف جو مزاحمت کرتے ہیں، وہ مزاحمت پیدا کرنی ہے، تاکہ وہ اگر آپ کو روکنا چاہیں تو آپ ان کے روکنے کو روک سکیں۔
یہی ہے راہ پانے کا یہی مقصود آنے کا
کہ جانیں اس کو مانیں اس کی اس پہ نفس کو لانا ہے
تشریح:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ شعر اس پوری غزل کا حاصل ہے اور یہ کم از کم انسان کے بس میں نہیں ہے کہ ایسا شعر کہہ سکے۔ دو مصرعوں میں اتنی بڑی حقیقت آئی ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ دیکھیں! اللہ پاک فرماتے ہیں:
﴿وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلَّا لِيَعبُدُوْنِ﴾ (الذاریات: 56)
ترجمہ: ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله تعالیٰ عنه اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’اَیْ لِیَعْرِفُوْنِ‘‘ کہ میں نے انہیں اپنی معرفت کے لئے، اپنے پہچاننے کے لئے پیدا کیا ہے۔
یوں سمجھ لیجئے کہ ہم لوگ کس مقصد کے لئے آئے ہیں، اس کا بھی اس کے ساتھ تعلق ہے۔ اور کس طریقہ سے اپنے مقصد کو پائیں گے، وہ بھی اسی میں شامل ہے۔
جیسے کہا: ’’یہی ہے راہ پانے کا یہی مقصود آنے کا۔ کہ جانیں اس کو (یعنی اس کی معرفت حاصل کریں۔) مانیں اس کی (یعنی عبدیت) ۔
آپ مجھے بتائیں! کیا یہ کسی کے ذہن میں آ سکتا ہے؟ کم از کم میری سمجھ میں تو نہیں آ سکتا کہ اتنے مختصر الفاظ میں اتنا بڑا علم، اتنی بڑی بات جو تمام تشریحات کے ساتھ اس میں موجود ہے۔ یعنی نفس کو معرفت اور عبدیت پر لانا ہے۔ یہی اصل میں سارا کا سارا سلوک ہے۔ اس لئے عرض کرتا ہوں کہ یہ شعر پوری غزل کا حاصل ہے اور نقشبندی سلسلے کا بھی پورا نچوڑ ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو اس میں یہ سارا مفہوم آ جاتا ہے۔
طریق عشق میں رکنا کہاں جائز ہے چلتے جا
نکلتے جا حجابوں سے نظر اس پر جمانا ہے
تشریح:
یعنی جب آپ کو اللہ کے ساتھ محبت ہے تو آپ نے معاملہ بہت اونچا شروع کیا، یہ کوئی گپ شپ کی بات نہیں ہے۔ اب اپنے آپ کو بھول جاؤ۔ طریقِ عشق میں رکنا کہاں جائز ہے؟ یہ آرام اور یہ تمام چیزیں طریق عشق میں نہیں ہوتیں۔ اس میں رکنا کہاں جائز ہے چلتے جا۔ چلتے جا کا مطلب یہ ہے کہ نکلتے جا حجابوں سے۔ حجاب آئیں گے، مسلسل آئیں گے لیکن کسی حجاب میں رکنا نہیں ہے، پھنسنا نہیں ہے۔ حجابات ظلماتی بھی ہوتے ہیں، نورانی بھی ہوتے ہیں۔ نورانی حجابات میں بھی لوگ پھنس جاتے ہیں، کبھی خوابوں میں، کبھی کرامات میں، کبھی دوسری چیزوں میں پھنس جاتے ہیں۔ ان چیزوں میں نہیں پھنسنا۔
نکلتے جا حجابوں سے نظر اس پر جمانا ہے
تشریح:
یعنی حجابوں سے نکلنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ نظر اس پہ جمانا ہے۔ جیسے انسان نے بہت دور ایک بڑے لمبے اونچے مینار تک پہنچنا ہو، تو راستے خود بخود مینار کے ساتھ متعین ہوتے جائیں گے، آپ کو پتا نہیں کہ کون سے راستے پہ جانا ہے، لیکن آپ جس راہ پہ جائیں گے، مینار کو دیکھتے جائیں گے، اور معلوم ہوتا جائے گا کہ اچھا ٹھیک ہے، اس راستہ پر جانا ہے، پھر ادھر جانا ہے اور پھر ادھر جانا ہے۔ اخیر میں آپ وہیں پہنچ جائیں گے جہاں مینار ہے۔ اسی طرح اس میں بھی نظر اس پر جمانا ہے پھر کام بنے گا۔
کہ بس صرف وہ ہی رہ جائے نہ کوئی اور ہو دل میں
کہ اس وحدت کے دریا میں بھی ایک ڈبکی لگانا ہے
تشریح:
ڈبکی کا لفظ آیا ہے یہ اسم تصغیر ہے۔ یعنی وحدت کے دریا میں تھوڑے وقت کے لئے رہنا ہے، ایسا نہ ہو کہ اسی کو مستقل حال بنا دیں۔
ڈبکی اس لئے لگوانی ہے تاکہ دنیا کے گند سے دل پاک ہو جائے۔ کیونکہ جب تک تم اپنے آپ کو نہیں بھولو گے تمام چیزوں کو نہیں بھولو گے تو کیسے اس سے بچو گے۔
جو گند دنیا کی دل میں ہے وہ اس سے پاک ہو جائے
شرابِ عشقِ وحدت دل کو خُم پہ خُم پلانا ہے
نکالے وہ تجھے واں سے تو پھر تو جان لے سب کو
تشریح:
یعنی پہلے چیزوں کا علم ختم ہو گیا تھا، اب واپس آ گیا۔ تعلق اپنی جگہ بدستور قائم ہے، کسی سے نہ ہونے کا یقین بھی ہے، لیکن علم سب چیزوں کا اپنی اپنی جگہ پر آ گیا۔
نکالے وہ تجھے واں سے تو پھر تو جان لے سب کو
مگر پہچان لے اس کو حقیقت اِس کی پانا ہے
تشریح:
اب آپ سب کچھ جان لو گے لیکن اس کو بھی پہچان لو گے۔ یہ پہچان لو گے کہ سب کام وہی کرتے ہیں، اور پھر معرفت کی حقیقت آپ کو سمجھ آ جائے گی۔
ہو قلب میں ذات بحت کا خیال عقل بن جائے سِرّ شبیر
ہو نفس قابو کہ اپنے آپ کو اس کا بنانا ہے
تشریح:
اب یہاں یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ ہم نے تمام چیزوں سے یہ حاصل کیا کہ سب سے پہلے تو یہ بات ہے کہ دل میں اللہ ہو، اور عقل سر بن جائے۔ یعنی انسان دنیاوی چیزوں کی بنیاد پر فیصلے نہ کرے، بلکہ انسان کے دل پر جو چیزیں عالم بالا سے، ملاء اعلی سے آتی ہیں، اس کے مطابق فیصلہ کرے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا سے کٹ جائے۔ دنیا سے کٹنا نہیں ہے بلکہ دنیا میں انسان اللہ کے لئے رہے، اپنے لئے نہ رہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ نفس قابو کر کے رہے۔ اور نفس کو قابو کر کے شریعت پر ہی چلنا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح شریعت پر ہی چلنا ہے۔ ’’مَا اَنَا عَلَيْهِ وَ اَصْحَابِيَ‘‘ (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2641) میں یہی بات ہے کہ میں جس پر راستہ پہ ہوں جس پر میرے صحابہ ہیں تم بھی اس راستہ پر چلنا۔ تو سب چیزوں کا مقصد تمام طریقوں سے شریعت پر چلنا ہے، یعنی عبادات کے لحاظ سے بھی شریعت پر چلنا ہے، معاملات کے لحاظ سے بھی شریعت پر چلنا ہے، معاشرت کے لحاظ سے بھی شریعت پر چلنا ہے، اخلاق کے لحاظ سے بھی شریعت پر چلنا ہے، عقائد کے لحاظ سے بھی شریعت پر چلنا ہے۔ شریعت پر چلنا ہی مطلوب ہے اور اس میں سب سے بڑی رکاوٹ نفس ہے۔ اگر آپ نے نفس کو قابو تو کیا لیکن چونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات‘‘ (بخاری شریف، حدیث نمبر: 1) اس لئے اگر آپ نے نفس کو اللہ کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے قابو کیا تو پھر بھی فائدہ نہیں ہو گا، جیسے کہ جوگی وغیرہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہی فرمایا کہ عقل مند وہ جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لئے کام کیا، دنیا کے لئے نہیں۔
معلوم ہوا کہ نفس کو قابو کرنے کا اصل مقصد شریعت پر اللہ کے لئے چلنا ہے۔ شریعت کے اندر دنیا کی خوبیاں بھی ہیں، اگر آپ دنیا کے لئے چل رہے ہیں تو دنیا کے فائدے آپ کو مل جائیں گے، لیکن وہ اصل چیز نہیں ملے گی۔ جیسے ناروے میں، سویڈن میں Umar laws نافذ کئے گئے ہیں۔ Umar laws کا مطلب ہے حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنه نے جو اصطلاحات کی تھیں اس کے مطابق انہوں نے قوانین بنائے ہیں۔ اب ظاہر ہے انہوں نے اپنی دنیا کو سنوارنے کے لئے بنائے ہیں تو ان کو آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ہاں، دنیا میں ان کو اس کا فائدہ ہو جائے گا۔ پوری شریعت نافذ کرنے سے آپ کو دنیا کے فوائد بھی ملیں گے لیکن آپ نے اس کے لئے نہیں کرنا بلکہ اللہ کے لئے کرنا ہے۔ دنیا کے فوائد ویسے ہی مل جائیں گے۔
میں یہ عرض کر رہا تھا کہ نفس کو اس طرح قابو کرنا ہے کہ دل میں اللہ ہو، اور عقل سِرّ بن جائے، یعنی اللہ تعالیٰ سے احکامات لے۔ یہ چیز جب بن جاتی ہے، اسی کو سلوک کہتے ہیں اور یہی تصوف ہے۔ ہمارا تصوف یہی ہے، جیسے حضرت مجدد صاحب نے آخری مکتوبات شریفہ میں یہی بات ارشاد فرمائی ہے کہ تصوف اور طریقت کا اصل مقصود یہ ہے کہ شریعت پر استقامت نصیب ہو جائے اور اس پر چلنا آسان ہو جائے اور عقائدِ صحیحہ پر پختگی آ جائے۔ یہ مواجید و حال، یہ راستے کی باتیں ہیں، ان کی طرف نہیں جانا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگوں نے تصوف کو چیستان اور تخیلستان بنایا ہوا ہے، خیالات کی دنیا میں رہتے ہیں اور عملی دنیا میں نہیں آتے، وہ تصوف نہیں ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ تصوف یہ ہے کہ ہر عمل میں صحابہ کو سامنے رکھنا ہے، جو صحابہ نے زندگی میں کیا ہم نے بھی وہی کرنا ہے۔ اسی کے لئے اپنے آپ کو بنانا ہے، جس کا ذریعہ تصوف ہے۔ اگر آپ ’’مَا اَنَا عَلَيْهِ وَ اَصْحَابِيْ‘‘ کو سمجھتے ہیں تو سارے تصوف کو سمجھنا آسان ہے۔ کیونکہ تصوف ایک ذریعہ ہے، مقصود نہیں ہے، اس ذریعہ کو استعمال کر کے آپ نے مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ یہ بنیادی بات ہے اور حضرت مجدد صاحب رحمة اللہ علیه کی یہ بات اگر کسی نے نہیں سمجھی تو ہم اس کو نقشبندی نہیں کہتے۔ وہ خیالی دنیا میں رہ رہا ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمة اللہ علیه نے تو یہ باتیں نہیں کیں۔ انہوں نے جو باتیں کیں میں آپ کو بتاتا ہوں، میں آپ کو ان کے مکتوب نمبر بتا سکتا ہوں، اس کی تمام تفصیلات بتا سکتا ہوں۔ پھر اس کے بعد شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیه نے بھی یہ باتیں نہیں کیں، سید احمد شہید رحمة اللہ علیه نے بھی یہ باتیں نہیں کیں، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه نے بھی یہ باتیں نہیں کیں۔ اب بتاؤ یہ باتیں دوسرے لوگوں نے کہاں سے نکالی ہیں! یہ لوگوں کی اپنی باتیں ہیں۔ اصل بات وہی ہے جو میں نے عرض کی کہ بنیاد تو شریعت پر عمل کرنا ہے، البتہ شریعت پر عمل کرنا ایسا آسان ہو جائے، آپ کی طبیعت کے مطابق ہو جائے، عبدیت آپ کی طبیعت ثانیہ بن جائے، ہم لوگ اس کے اندر مزاحمت محسوس نہ کریں، بلکہ ہم اس کو واقعی اپنے لئے ایک کام سمجھیں کہ ہم تو اسی کام کے لئے آئے ہیں۔ بس یہی تین باتیں اگر حاصل ہو جائیں کہ دل میں اللہ ہو، یعنی نیت اللہ کے لئے ہو، عقل وہی فیصلے کرے جو اللہ ہم سے چاہتا ہے، اور تیسری بات یہ کہ نفس وہی کرے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہے۔ نفس قابو ہو جائے۔ اگر یہ ہم حاصل کر چکے ہیں تو ہم تصوف میں کامیاب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نصب فرما دے۔
وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ