الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد!اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سیرت النبی ﷺ، آج چونکہ جمعرات ہے تو سیرت النبی ﷺ کی تعلیم ہوتی ہے۔ اور اس میں نماز کے بارے میں الحمدللہ تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی الحمدللہ کافی تفصیلات بیان کی گئی تھیں کہ نماز سے ہمیں کیا ملتا ہے۔ نماز کے جو اخلاقی، تمدنی اور معاشی جو فائدے ہیں، اس پہ بات ہوئی تھی۔ جس میں بات ہوئی تھی کہ ستر پوشی کا خیال، پھر اس کے بعد طہارت اور پاکیزگی کے بارے میں، اور جو جسم اور اعضاء کے پاک اور ستھرا رکھنے پر مجبور رکھنا یہ اس کی خاصیت ہے، اور پابندیِ وقت سکھاتی ہے، صبح خیزی اس سے حاصل ہوتی ہے، اللہ کا خوف، ہوشیاری اور یہ مسلمانوں کا ایک امتیازی نشان قرار پایا ہے۔ تو انشاءاللہ آج مزید جو اس کے فوائد ہیں بیان کیے جائیں گے۔
صف بندی:ایک افسر کی اطاعت، تمام سپاہیوں کی باہمی محبت اور دستگیری اور ایک تکبیر کی آواز پر پوری صفوف کی حرکت اور نشست و برخاست، مسلمانوں کو صفِ جنگ کے اوصاف سکھاتی ہے۔ یعنی جیسے کہ ایک افسر Caution دیتا ہے اور تمام سپاہی اس کے اوپر عمل کرتے ہیں، اس طرح امام بھی ایک تکبیر کے ساتھ سب مقتدیوں کو ایک کام کرنے کے لیے اشارہ کرتے ہیں اور سب وہی کام کرتے ہیں۔ ان کی قوائے عمل کو بیدار کرتی ہے۔ جاڑوں میں پانچ وقت وضو کرنا، ظہر کے وقت دھوپ کی شدت میں گھر سے باہر نکل کر مسجد کو جانا، عصر کے وقت لہو و لعب کی دلچسپیوں سے وقت نکال کر خدا کو یاد کرنا، رات کو سونے سے پہلے دعا و زاری کر لینا، صبح کو خوابِ سحر کی لذت کو چھوڑ کر حمدِ باری میں مصروف ہونا۔ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم فرضی راحت و تکلیف سے بے پرواہ ہو کر عمل کی طاقت اپنے میں پیدا کریں۔ اور کام کی ضرورت کے وقت احساسِ فرض کے تقاضوں کو بجا لائیں۔ اور اس کے لیے عارضی تکلیفوں کو برداشت کرنے کا اپنے آپ کو خوگر بنائیں۔
ہفتے میں ایک دن نمازِ جمعہ کے لیے شہر کے سب مسلمان ایک جگہ جمع ہوں اور دن رات کے پرارام سے پرارام وقت میں ممکن تھا مگر اس کے لیے بھی دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا تاکہ اس اجتماع اور مظاہرے میں بھی مسلمان سپاہیانہ خصائص کے خوگر رہیں اور نمازِ جمعہ کا ہر پابند شہادت دے کہ اس کی اتنی عبادات مشکلات کے اوقات اتفاقات میں اس کے لیے کس قدر ممد ثابت ہوتی ہیں۔
دس: تمام عبادات بلکہ تمام مذاہب کا اصل مقصد تکمیلِ اخلاق ہے۔ لیکن اصلاحِ اخلاق کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ نفس ہر وقت بیدار اور اثر قبول کرنے کے لیے آمادہ رہے۔ تمام عبادات میں صرف نماز ایک ایسی چیز ہے جو نفس کو بیدار رکھ سکتی ہے۔ روزہ، حج، زکوٰۃ اولاً تو ہر شخص پر فرض نہیں۔ اور اس کے ساتھ روزہ سال میں ایک بار فرض ہوتا ہے، زکوٰۃ کا بھی یہی حال ہے، حج عمر میں ایک بار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ فرائض نفس کی تنبیہ اور بیداری کا دائمی اور ہر روز ذریعہ نہیں ہو سکتے۔ برخلاف اس کے کہ نمازوں میں پانچ اوقات، پانچ بار ادا کرنی ہوتی ہے، ہر وقت وضو کرنا پڑتا ہے، سجدہ، رکوع، قیام و قعود، جہر و خفاء، تسبیح و تہلیل، تکبیر و تشہد نے اس کے ارکان اور اعمال میں تنوع، امتیاز پیدا کر دیا ہے۔ جن میں ہر چیز نفس میں تدریجی اثر پذیری کی قابلیت پیدا کرتی ہے۔ اور ہر چوبیس گھنٹے میں چند گھنٹوں کے وقفہ سے نفسِ انسانی کو ہوشیار اور قلب کو خفتوں کو بیدار کرتی ہے۔ اس طرح نفس کو رات دن تنبیہ ہوا کرتی ہے۔
گیارہ: الفت و محبت۔ نماز مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ محلہ کے تمام مسلمان جب کسی ایک جگہ دن میں پانچ دفعہ جمع ہوں اور باہم ایک دوسرے سے ملیں تو ان کی بیگانگی دور ہو جاتی ہے۔ ان میں آپس میں محبت اور الفت پیدا ہو جاتی ہے، اس طرح وہ ایک دوسرے کی امداد کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ قرآن پاک نے نماز کے اس وصف اور اثر کی طرف خود اشارہ کیا ہے:وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًاخدا سے ڈرتے رہو، نماز کھڑی رکھو، اور مشرکین میں سے نہ ہو، ان میں سے جن نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور بہت سے جتھے ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز کا اجتماع مسلمانوں کو جتھہ بندی اور فرقہ آرائی سے بھی روک سکتا ہے۔ کہ جب ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی رہے گی تو غلط فہمیوں کا موقع کم ملے گا۔
بارہ: غم خواری۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر نماز مسلمانوں میں باہمی ہمدردی اور غم خواری کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ جب امیر و غریب سب ایک جگہ جمع ہوں گے اور امراء اپنی آنکھ سے غریبوں کو دیکھیں گے تو ان کی فیاضی کو تحریک ہو گی۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کی خبر ہو گی اور اس کی تلافی کی صورت پیدا ہو گی۔ ابتدائے اسلام میں اصحابِ صفہ کا ایک گروہ تھا جو سب سے زیادہ مستحقِ اعانت تھا۔ یہ گروہ مسجد میں رہتا تھا، صحابہ نماز کو جاتے تو ان کو دیکھ کر خود بخود ہمدردی پیدا ہوتی تھی۔ چنانچہ اکثر صحابہ رضی اللہ اجمعین کھجور کے خوشے لے جا کر مسجد میں لٹکا دیتے تھے، جس پر یہ گروہ گزر اوقات کیا کرتا تھا۔ اکثر صحابہ رضی اللہ اجمعین خود آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو ساتھ لاتے اور اپنے گھروں میں کھانا کھلاتے تھے۔ اب بھی مساجد خیرات و صدقات کا ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے:وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
اصل میں واقعی نماز الحمدللہ اللہ پاک نے ہمیں ایسی عبادت نصیب فرمائی ہے کہ اس میں گوناگوں فوائد ہیں اور ان میں اپنے انفرادی فوائد کے علاوہ اجتماعی فوائد بھی بہت زیادہ ہیں۔ اور یہ جو ابھی فوائد بیان کیے جا رہے ہیں، یہ زیادہ تر اجتماعی فوائد ہیں۔ انفرادی فوائد تو اس میں بہت ہیں۔ اور من جانب اللہ جو کام ہوتے ہیں اس میں کام ایک ہوتا ہے لیکن اس میں فوائد بے شمار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہ ہماری حقیقت کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور جو جو مسائل ہو سکتے ہیں کسی وقت، ہم لوگوں کو، ان سب کا اللہ کو پتہ ہوتا ہے۔ اور پھر کس طریقے سے ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے یہ بھی اللہ جل شانہ کو معلوم ہوتا ہے۔ اب اگرچہ ہم لوگوں کو تو صرف حکم پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ یعنی ہم لوگ تو ان مصالح کو نہیں دیکھتے، ہمیں تو صرف اللہ پاک کے فرمان کو جیسے ایک General مطلب کوئی Plan بناتا ہے، تو سپاہیوں کو یہ تو نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کے Plan میں کیا ہے۔ اس کو تو عمل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن وہ General جو ہوتا ہے وہ تمام چیزوں کا خیال رکھتا ہے کہ ان میں کس کس قسم کے فوائد ہوں اور کیا کیا باتیں ہوں، کن کن نقصانات سے بچا جائے۔ وہ تمام باتوں کا احاطہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کرتا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ، اب اللہ جل شانہ کو تو ماضی، حال، مستقبل تمام چیزوں کا پتہ ہوتا ہے۔ اور انسان کی نفسیات کی باریکات تک پتہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ جل شانہ کا جو طریقہ کار ہوتا ہے، یعنی سمجھانے کا اور اللہ جل شانہ کا تربیت کا، وہ بہت زیادہ مطلب مکمل ہوتا ہے۔ تو نماز، جس کو اللہ جل شانہ نے پانچ وقت فرض کیا ہے، اس میں اللہ پاک نے بہت زیادہ فائدے رکھے ہیں۔ ان میں سے چند فائدے یہاں بیان ہو رہے ہیں۔
اب اجتماعیت۔ اجتماعیت چونکہ ایک فطری چیز ہے اس لیے تمام قوموں نے اس کے لیے مختلف اوقات اور تہوار مقرر کیے ہیں۔ جن قوموں کو مذہبی قیود سے آزاد کہا جاتا ہے، ان میں بھی اس اجتماعیت کی نمائش کلبوں، کانفرنسوں، اینیورسریوں میں اور دوسرے جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں سے کی جاتی ہے۔ لیکن یہ اجتماعیت جہاں فائدہ پہنچاتی ہے وہاں اپنے مضر اثرات بھی ضرور پیش کرتی ہے۔ اجتماعیت کام چاہتی ہے، اگر مفید کام پیشِ نظر نہ ہو تو وہی رنگ رلیوں، رقص و سرود، شراب خوری، قمار بازی، چور چوری، بدنظری، بدکاری، رشک و حسد بلکہ قتل و غارت تک پہنچا دیتی ہے۔ میلے ٹھیلے، عرس، ہولی، تہوار جس کی مثالیں عرب مشرکوں میں ملتی تھیں، اب بھی ملتی ہیں۔ قبور پر ناجائز اجتماع غرض تمام اجتماعی بدعات، بدترین گناہوں اور فسادات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ اگر ان خطرناک رسوم کا صرف انسداد ہی کیا جاتا اور ان کی جگہ اسلام ان کے سامنے کوئی دوسری چیز پیش نہ کرتا، تو محض یہ سلبی علاج کافی نہ ہوتا۔ ضرورت تھی کہ وہ اپنے قومی اجتماع کے لیے کوئی مشغلہ مقرر کرے جس سے قلبِ انسان اپنی فطری پیاس کو بھی بجھا سکے اور اجتماعیت پیدا ہو کر بدی کے بجائے نیکی کا رخ کی طرف بہے۔ چنانچہ اسلام نے اس لیے روزانہ جماعت کی عام نمازیں، ہفتہ میں جمعہ کی نماز، اور سال میں دو دفعہ عیدین کی نمازیں مقرر کیں، کہ اجتماعیت کا فطری تقاضا بھی پورا ہو اور مشرکانہ بدیوں اور اخلاقی برائیوں سے بھی احتراز ہو۔ کہ اس اجتماع کی بنیادی دعوتِ خلوص و خیر پر رکھی گئی ہے۔ اج کے عالمگیر مذہبی اجتماع میں دوسرے اجتماعی اور اقتصادی مقاصد کے برکار رکھنے کے ساتھ اس کے مشاغل بھی خدا کے ذکر اور اس کی بارگاہ میں توبہ و انابت کو قرار دیا۔ اس طرح اسلام کا ہر اجتماع پاکیزگی، خیال اور اخلاصِ عمل کی بنیاد پر قائم ہے۔
واقعتاً جب بھی چند لوگ آپس میں ملتے ہیں، تو ان کے جو نفوس ہوتے ہیں، وہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی کام تلاش کر لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا یہ شادی بیاہ کے موقع پہ، یہ نوجوان لڑکے یا لڑکیاں آپس میں جب جمع ہو جاتی ہیں تو ایک دوسرے کے اوپر طنز کے تیر چلانا، استہزاء، ایک دوسرے کو مذاق اور ایک دوسرے کو تنگ کرنا، یہ ایک عام مشغلہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ نفس تو ہر ایک کے ساتھ ہے نا، تو یہ مطلب ظاہراً بظاہر مطلب لگتا ہے ایسے جیسے کہ ہنسی مذاق ہے، لیکن اصل میں انسان اپنے اپنے نفس کی خواہشات پوری کر رہا ہوتا ہے۔ تو اس سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ہمیں معلوم ہیں کہ کتنے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کس حد تک خطرناک مطلب اس سے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تو یہ ہر انسان کی اجتماعی جو چیزیں ہوتی ہیں وہ مطلب یہ ہے کہ اس کی آئینہ دار ہوتی ہیں کہ ان کی تربیت کتنی ہوئی ہے۔
اب نماز، نماز ایسی عبادت ہے جس کی بنیاد ہی ذکر پر رکھی گئی ہے، "وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي"، نماز کو قائم کر لو میری یاد کے لیے۔ ہاں جی؟ اور خشوع و خضوع اس کے لیے لازمی مطلب جو ہے نا وہ کیا۔ خشوع و خضوع کا مطلب کیا ہے؟ اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ ہونا۔ یعنی وہ بھی ذکر ہی کی ایک صورت ہے۔ یعنی ذکر کی ایک بہترین انداز میں مزید جو ہے نا وہ اس کی ہے شکل ہے۔ خشوع و خضوع کے ذریعے، کیونکہ ذکر میں کیا ہوتا ہے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے نا آدمی، تو اس میں مطلب بھی یعنی خشوع و خضوع میں جب نماز میں انسان خشوع و خضوع اختیار کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے جو ذکر مطلوب ہے نماز کے اندر اس کی طرف بہت زیادہ متوجہ ہونا اور اپنے آپ کو کٹ کٹا کے۔ یعنی لوگوں سے کٹ کٹا کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا۔ اس میں جو تکبیرِ تحریمہ ہے، یہ اصل میں پوری دنیا سے انسان کو اپنے، انسان اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے، پوری دنیا سے۔ اس وقت وہ دنیا میں نہیں ہوتا، جس وقت اس نے تکبیر تحریمہ کہہ دیا، تو اب وہ یہاں پر نہیں ہے۔ ہمارے شیخ، مرشد حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ دیکھو، کمال ہے۔ یہ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی آدمی بیٹھا ہو، اور اچانک وہ کہہ دے السلام علیکم ورحمۃ اللہ، تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟ بھئی کیا ہو گیا ہے اپ کو؟ اچانک آپ نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ دیا، کیا مطلب؟ حالانکہ نماز میں ہمارے ساتھ پڑھ رہے ہوتے ہیں، اور نماز کے فوراً بعد وہ کیا پڑھتا ہے، وہ کہتا ہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ، کہتا ہے نا؟ تو اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادھر نہیں تھا۔ بیشک اس کا جسم ادھر تھا، لیکن اس کی روح ادھر نہیں تھی، وہ اللہ کے پاس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نمازی کے سامنے گزرنا منع ہے، سخت منع ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ ادھر ہے ہی نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے، تو تو اللہ اور اس کے درمیان سے گزر رہا ہے۔ یہ تو بڑی سخت بات ہے۔ ہاں جی؟
تو اس کو سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ ایک دفعہ میرا بیٹا، الحمدللہ اب تو خیر بڑا ہے ماشاءاللہ۔ اس وقت وہ چھوٹا سا تھا، پتہ نہیں تین سال عمر تھی، ساڑھے تین سال عمر تھی، جو بھی تھا۔ وہ ویسے لیکن یہ ہے کہ مسجد چلا جایا کرتا تھا۔ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تھا، نماز پڑھ لیتا تھا۔ تو بس جیسے بھی پڑھتا تھا، وہ پڑھتا تھا۔ ایک دن روتا ہوا آیا۔ رو رہا تھا، کہتا ہے، وہ فلاں بوڑھا ہے نا، اس نے مجھے نماز میں ہٹا دیا۔ اس ظالم کو پتہ نہیں تھا کہ میں کس کے سامنے کھڑا تھا۔ مجھے اتنی خوشی ہوئی، میں نے کہا اس بچے کو کم از کم پتہ ہے کہ میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہم بڑوں کو اگر یاد آ جائے تو کتنی بڑی اچھی بات ہو گی۔ ہاں جی، اگر ہم یہی یاد رکھیں کہ ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ ہاں جی، تو یہ کتنی بڑی بات ہو گی۔ لیکن، لیکن اس بچے کو یہ ظاہر ہے بچہ معصوم ہوتا ہے تو ظاہر ہے اس کے تو خیالات بڑے پاک ہوتے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ، اس نے مجھے کہتا ہے اس بوڑھے کو معلوم نہیں تھا کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں۔ تو یہ بات بالکل صحیح ہے کہ انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، "قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ"، سبحان اللہ! کیا پیاری بات ہے۔ ہاں جی؟ یعنی اللہ کے سامنے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ، نماز کے اندر جو چیزیں ہیں، ہمیں ذرا اس کا استحضار ہونا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نماز کیسے پڑھ رہے ہیں، ہم نماز میں کیا کر رہے ہیں، نماز میں کیا کیا چیزیں رکھی گئی ہیں، کیا کیا باتیں اللہ تعالیٰ نے اس میں سموئی ہوئی ہیں۔ اب اگر ہم اس کا ادراک کر لیں تو ہماری نماز پتہ نہیں کیسی بن جائے۔ ہاں جی؟ تو اب یہاں پر بھی مطلب یہاں والی بات ہے کہ اب دیکھیں اجتماعیت جہاں پر بھی ہوتی ہے، وہاں شر پھیلتا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ نفوس میں شر ہے۔ نفوس میں شر ہے۔ ان نفوس کے شر کو، تربیت کے ذریعے سے اور ذکر کے ذریعے سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اب نماز میں ذکر بھی ہے، نماز میں تربیت بھی ہے۔ جیسے ابھی بتایا گیا کہ نماز میں جو تربیت ہے کہ جیسے، جیسے ایک افسر باقی سپاہیوں کو Caution دیتا ہے۔ ہاں جی؟ اور ان کی Caution پر وہ سارے لوگ Attentive بھی ہوتے ہیں۔ دائیں بھی مڑتے ہیں، بائیں بھی مڑتے ہیں، روانہ بھی ہوتے ہیں، رک بھی جاتے ہیں۔ سب جو کام اس کو بتاتے ہیں اس طریقے سے کرتے ہیں۔ اس طرح امام بھی مطلب جو ہے نا بتاتا ہے کہ مطلب جو ہے نا یعنی ہاتھ باندھ کے کھڑے ہو جائیں، جھک جائیں، سجدہ کر لیں، رکوع کر لیں، بیٹھ جائیں۔ یہ ساری باتیں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ اکبر۔ اب دیکھیں یعنی اجتماعیت بھی ہے مکمل، اور ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر بھی ہے۔ یعنی اللہ کے ذکر کے ساتھ وہ اجتماعی اعمال سارے ہو رہے ہیں۔ اب کیسے بہت زبردست Combination ہے۔ تو یہ، یہ جو چیز ہے مطلب یہ ہے کہ ہم یہ جو شر ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ دور کیا جاتا ہے، اور اس کا اجتماعیت کا خیر حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ نماز کی ماشاءاللہ خوبی ہے۔ تو یہ مطلب یہ اقتصادی مقاصد کے برعکس اس کے مشاغل خدا کے ذکر اس کی بارگاہ میں توبہ اور عنابت کو قرار دیا اس طرح اسلام کا ہر اجتماع پاگیزگی خیال اور اخلاص عمل کی بنیاد پر قائم ہے۔
بیس، کاموں کا تنوع۔ انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہے کہ وہ ہم رنگی کے باوجود تفنن اور تجدد کا طالب ہے۔لیکن اگر انسان کے دل اور دماغ، اعضاء اور جوارح، ہر وقت اسی ایک کام میں مصروف رہیں تو سکون، اطمینان، عیش و راحت اور دلچسپی کی لذت، جو ہر عمل کا آخری نتیجہ ہے، مفقود ہو جائے۔ مفید سے مفید کام سے بھی دنیا چیخ اٹھے۔ اس لیے قدرت نے اوقات کی تقسیم ایسے مناسب طریقے پر کی ہے جس میں انسان کو حرکت و سکون دونوں کے یکساں مواقع ملتے رہیں۔ رات اور دن کا اختلاف اسی بنا پر آیاتِ الٰہی میں شمار کیا گیا ہے۔ کہ اس تغیر و تبدل سے نظامِ عالم میں نیرنگی پیدا ہوتی ہے اور اس تقسیم سے انسانوں میں اپنے ہر کام کی لذت قائم رہتی ہے۔ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جو نہ تو ہر لمحہ اور ہر لحظہ انسان پر فرض ہے اور نہ سال میں ایک دفعہ یا عمر بھر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ بلکہ ہر روز پانچ دفعہ اس کو ادا کرنا پڑتا ہے، صبح سے کام شروع کیا تو ظہر پر آ کر توڑ دیا۔ پھر مشغولیتیں اور عصر پر پہنچ کر ختم ہوئیں۔ پھر جو سلسلہ چڑھا اس کا مغرب پر ختم ہوا۔ بعد ازیں خانگی مصروفیات شروع ہوئیں اور عشاء پر جا کر منتہی ہوئیں۔ اب نیند آ گئی اور صبح تک بے خبر رہی۔ اٹھے تو دعاؤں کے افتتاح سے پھر اپنے کاروبار شروع کیا۔ وہ دولتمند جو جسمانی یا دماغی محنت و مشقت اور مزدوری سے اپنی روزی نہیں حاصل کرتے، اس روحانی Interval کے لطف سے آگاہ نہیں۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان چند گھنٹوں تک ایک ہی قسم کی محنت کے بوجھ سے جو دبا جاتا تھا، وہ چند منٹ میں ہاتھ منہ دھو کر، دربارِ الٰہی میں تسبیح اور نشست و برخاست کے ذریعے، اس سے ہلکا ہو گیا اور پھر سے اس نے اپنے کام کے لیے نئی قوت پیدا کر لی۔
اس میں ایک تجربہ ہمیں ہوا ہے۔ بڑا عجیب تجربہ ہوا ہے۔ ہمارے دفتر میں کمپیوٹر جب آ گیا، یہ بالکل کمپیوٹر کے ابتدائی دن تھے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ، ابتدا، ابتدا مطلب یہ شروع ہو گئے تھے 1980s کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مطلب کمپیوٹر پاکستان میں عام نہیں تھا۔ ہمارے دفتر چونکہ کافی Advance دفتروں میں شمار ہوتا تھا۔ تو لہٰذا وہاں کمپیوٹر مطلب پہلے آیا تھا۔ تو ہم بھی کمپیوٹر پہ کام کرتے تھے۔ اور کام بھی اچھا خاصا کر لیتے تھے۔ یعنی رات کے دو دو بجے تک بھی بعض دفعہ ہم لگے رہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ، Afternoon میں جا کے، عصر کی نماز بھی ہماری ادھر آ جاتی، مغرب کی نماز بھی ادھر آ جاتی، عشاء کی نماز بھی ہماری ادھر آ جاتی اور بعض دفعہ رات کو دو بجے ہم یعنی گھر واپس اتے۔ اس میں ہمیں ایک تجربہ ہوا۔ وہ تجربہ یہ ہوا کہ یہ جو نماز کے اوقات ہیں نا، یہ اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کہ یہ Compulsory وقفہ ہے۔ یعنی اپ عصر کو بیٹھ جائیں، تو مغرب کو آپ کو اٹھنا ہی پڑے گا۔ اور مغرب کو اپ بیٹھ جائیں تو عشاء کے لیے اٹھنا پڑے گا۔ ہاں جی؟ عشاء کے لیے اٹھ جائیں تو پھر ظاہر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وقفہ اگر نہ ہوتا، تو انسان کمپیوٹر ایسی چیز ہے جس میں انسان کو خود بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں کتنا مصروف ہوں۔ یا کہ میں کتنا کام کر رہا ہوں۔ گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ اور پتہ بھی نہیں چلتا مطلب کہ میں نے کتنا کام کیا ہے۔ پتہ اس وقت چلتا ہے جب کمپیوٹر سے اٹھتا ہے، پھر سر چکراتا ہے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ میں کدھر ہوں۔ کیوں؟ ایسے ہی ہے نا؟ مطلب پتہ چلتا ہے پھر کہ بھئی میں کدھر ہوں۔ تو اب یہ ہے کہ یہ جو وقفہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے، یہ اصل میں Fatigue کو ختم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جو Mental Fatigue ہے اور Physical Fatigue ہے دونوں قسم کی۔ اس کو توڑنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ تبدیلی۔ مسلسل انسان بیٹھا رہے، بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل انسان کھڑا رہے، بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل بولتا رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل چپ رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل سوتا رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل جاگتا رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ یعنی انسان کی صحت اس تبدیلی میں ہے۔ انسان کی صحت جو ہے اس تبدیلی میں ہے۔ اگر یہ تبدیلی نہ ہو، تو انسان کی صحت برقرار نہیں رہتی اور بوریت غالب آ جاتی ہے۔ Depression طاری ہو جاتی ہے۔ ہاں جی؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اتنا زبردست، متنوع قسم کے، یعنی چیزوں کا بندوبست کر دیا ہے کہ اس میں خود بخود یہ چیز شامل ہے۔ ہم اس کی نیت نہیں کریں گے ورنہ ثواب میں کمی آ جائے گی۔ ہم اس کی نیت نہیں کریں گے، لیکن یہ اللہ پاک مفت میں دے رہا ہے۔ ہاں جی مفت میں اللہ، اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں، مطلب اللہ پاک نے اس کا نظام کیا ہوا ہے۔ تو حضرت نے مطلب، اس بات، یہ بات کی ہے۔
اب 15 نمبر، تربیت۔ انسان کی عملی کامیابی، استقلال اور مواظبت پر موقوف ہے۔ جس کام کو اس نے شروع کیا پھر اس پر عمر بھر قائم رہے۔ اسی کا نام عادات و اخلاق کی استواری، Character کی مضبوطی ہے۔ جس کام میں اس خلقی استواری اور Character کی مضبوطی کی تربیت ہو، وہ ضرور ہے کہ روزانہ ہو بلکہ دن میں کئی دفعہ ہو۔ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جس کی بارہا آوری کے لیے انسان میں استقلال، مواظبت اور مداومت شرط ہے۔ اس لیے انسان میں اس اخلاقی خوبی کے پیدا کرنے کا ذریعہ نماز سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ اس لیے قرآن پاک نے صحابہ کی مدح میں فرمایا:الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَوہ جو اپنی نماز مداومت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّیعنی مطلب یہ ہے کہ محبوب ترین عمل خدا کے نزدیک وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، گو وہ کم ہو۔
یعنی مطلب یہ ہے کہ Discipline اور ساتھ ساتھ Continuity، اب میں آپ کو بتا دوں Exercise۔ ہم دیکھتے ہیں جو Exercise کرنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس میں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پورے تندہی کے ساتھ Exercise شروع کرتے ہیں۔ اور چونکہ ابتداء میں تو اس میں انسان میں شوق و ذوق ہوتا ہے، تو دو گھنٹے، ڈھائی گھنٹے وہ Exercise کرتے ہیں، پورا۔ اب انسان کا جسم اس کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ تو بس دو تین دن میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ نہیں کر سکتے۔ بعض لوگ چارپائی سے ہل بھی نہیں سکتے۔ مطلب اگر وہ یعنی مطلب طریقے سے اگر کام شروع نہ کریں تو ہل بھی نہیں سکتے۔ اس حد تک مطلب یہ چیز، کیونکہ انسان ہے مطلب اس کے لیے اللہ پاک نے پورا نظام بنایا ہے۔ اچھا، اب یہ ہے کہ اگر وہ، مطلب یہ ہے کہ ایک ترتیب سے کام شروع کرے۔ کہ جتنا انسان برداشت کر سکے، شروع کر دے، اور پھر مستقل کرے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شروع کر لیتے ہیں، بڑے جذبے کے ساتھ ایک ہفتہ، دو ہفتے کر لیتے ہیں، پھر بات بس، چھوڑ دیتے۔ یہ بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارے ریس کورس میں، مختلف جگہوں پہ کچھ لکھا ہوتا ہے۔ ان میں، ایک فقرہ یہ بھی لکھا ہے کہ Changes Come...Changes do not come overnight. Over time.Changes come over time, do not come overnight.مطلب تبدیلی آتی ہے وقت کے ساتھ، یعنی وقت لگانا پڑتا ہے۔ نہیں کہ بس ایک ہی رات میں۔ کوئی آدمی یہ نہیں کر سکتا کہ آج میں بڑی محنت کر لوں گا تو میرا پیٹ کم ہو جائے گا۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ مسلسل روزانہ جائے گا، اور جتنا اس کو ڈاکٹر نے بتایا ہے، اتنا کرے گا تو پھر اس کے بعد اس میں تبدیلی آئے گی۔ مطلب آہستہ آہستہ اس میں تبدیلی آئے گی۔ تو جو مستقل مزاجی ہے، وہ بنیادی چیز ہے۔ استقامت، مستقل مزاجی۔ تو یہ تربیت میں استقامت اور مستقل مزاجی کا بہت بڑا دخل ہے۔ ہاں جی، یہی چیز Discipline سکھاتی ہے۔ یہ PT وغیرہ جو کراتے ہیں نا، آرمی والے، باقاعدہ صبح سویرے اٹھاتے ہیں، اور جو ہے نا مطلب ہے کہ ان کو PT کراتے ہیں، اور عصر کے وقت بھی ان کو کچھ کھیل کود جو روزانہ کراتے ہیں، تو اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کی عادت نہ چھوٹے۔ ان کی عادت نہ چھوٹے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ Alert رہیں۔ مطلب یہ کہ Alertness پیدا کرنے کے لیے، کچھ کام ان کے ذمے اس طرح لگائے جاتے ہیں، جس سے ان کی یہ صلاحیت بچی رہتی ہے۔
نظم، جماعت۔کسی قوم کی زندگی اس کے نظم و جماعت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ یہی گرہ جب کھل جاتی ہے تو قوم کا شیرازہ منتشر، پراگندہ ہو جاتا ہے۔ اسلام میں نماز باجماعت مسلمانوں کی زندگی کی عملی مثال ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے اسی عملی مثال کو عربوں کے سامنے پیش کر کے، ان کی زندگی کا خاکہ کھینچا، اور بتایا کہ مسلمانوں کا یہ وصف، ان کا یہ صف بہ صف کھڑا ہونا، ایک دوسرے سے شانہ سے شانہ ملانا، اور یکساں حرکت و جنبش کرنا، ان کی قومی زندگی کا مستحکم اور مضبوط دیوار کا مصالحہ ہے۔ جس طرح نماز کی درستی صف، اور نماز با، نماز جماعت کی درستی پر موقوف ہے۔ اس طرح پوری قوم کی زندگی اسی باہم تعاون، باہمی تعاون، تضامن، مشارکت، میل جول اور باہمی ہمدردی پر موقوف ہے۔ اس لیے آپ ﷺ صفوف کی درستی پر بہت زور دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ جب تک تم خوب مل کر کھڑے نہ ہو گے، تمہارے دل آپس میں، تمہارے دل آپس میں نہیں ملیں گے۔
اصل میں یہاں پر ایک بات ہے۔ ہم لوگ الفاظ کے پیچھے جاتے ہیں۔ حقیقت کے پیچھے، پیچھے نہیں جاتے۔ الفاظ اصل میں حقیقت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ تو اگر صرف الفاظ کے پیچھے کوئی چلا جائے تو وہ، اور حقیقت اس کا حاصل نہ کرے، تو اس کو وہ نعمت نہیں ملتی وہ جو چیز اس کے اندر ہے وہ نہیں ملتی۔ اب یہاں پر "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ"، اپنے صفوں کو برابر رکھو۔ یہ اصل میں الفاظ ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے ایک حقیقت ہے۔ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے میں Discipline پیدا کرو۔ اپنے میں Discipline پیدا کرو۔ یعنی یہ چیز عملاً تمہارے اندر ہونی چاہیے کہ ایک طرح کا مطلب وہ، نظام ایک وقت میں چلے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں سب ایک ہی طرح کا Behavior وہ شو کریں۔ یعنی گویا کہ الف سے لے کر ی تک، ایک ہی حقیقت کے ترجمان ہوں۔ یہ مطلب ہے اس کا۔ تو اب یہ جو نماز کے اندر آپ اس کا، بتاتے ہیں، تو اس کی ایک حقیقت ہے، اور ایک اس کا مظاہرہ ہے۔ تو مظاہرہ تو ہوتا ہے نماز میں۔ لیکن حقیقت اس سے حاصل کی جاتی ہے۔ حقیقت اس سے حاصل کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ صلاحیت، جس کا تو یہاں مظاہرہ کر رہا ہے، اس حقیقت کو اپنی زندگی میں پھیلاؤ۔ اپنی زندگی میں اپناؤ۔ اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناؤ۔ یہ بات ہے۔ پھر آپ کو اس کا فائدہ ملے گا۔ پھر آپ کو اس کا فائدہ ملے گا۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اگر ہماری زندگی نماز کے نہج پر آ جائے، پوری زندگی، تو ہم کامیاب ترین لوگوں میں شمار ہو جائیں گے۔ اگر نماز کے نہج پر، نماز کے نہج پر یہی بات ہے کہ نماز کے اندر جو صفات ہیں، وہ ہمارے اسی طرح بن جائیں نا، کہ جو Assignment بھی ہمیں دیا جائے، تو اس کے اندر یکا یگت، اتفاق اور Discipline اور حاضر باشی، استقلال، یہ ساری چیزیں کیا کامیابی کے ضامن نہیں ہیں؟ اگر ہم لوگ اپنے کاموں میں یہ چیزیں پیدا کر لیں، جو نماز میں اتنی چیزیں بتائی گئی ہیں، تو کیا ہم کامیاب نہیں ہوں گے؟ تو وہ نماز گویا کہ ہمیں ایک Rehearsal کروا رہا ہے۔ ایک Rehearsal کروا رہا ہے کہ ہم باقی زندگی میں بھی اسی طریقے سے کریں۔
آرمی میں، میدانِ جنگ میں کیا PT کرنا ہوتا ہے؟ کیا کرنا ہوتا ہے؟ وہاں تو لڑتے ہیں۔ اچھا، تو PT کیوں کراتے ہیں؟ اگر کسی کام کی نہیں ہے؟ PT اس لیے کراتے ہیں کہ ایک آواز سے سب Actions ایک جیسا ہونا انسان سیکھ لے۔ ہاں جی؟ اور مطلب جو Target دیا جائے اس Target کو آدمی مشترکہ طور پر حاصل کر لے۔ یہی مطلب اس میں بتایا جاتا ہے، سکھایا جاتا ہے۔ اب آگے جا کر مطلب اس کا جو زندگی میں استعمال ہے، وہ تو مختلف کاموں میں ہے۔ لیکن یہاں پر صرف ایک مظاہرہ کرایا جاتا ہے، اور اس مظاہرے کے ذریعے سے ہمیں گویا کہ سبق سکھایا جاتا ہے، تو نماز میں بھی ہمیں سبق سکھایا جاتا ہے، لیکن وہ جو سبق ہوتا ہے ہر جگہ مختلف کاموں میں مختلف ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر وہ صفات پیدا کرنی ہوتی ہیں جو نماز کے اندر موجود ہیں۔
مساوات۔بلکہ آج کل تو ایک بات اور بھی بڑا، بہت افسوس ہے، لیکن بہرحال کیا کریں، کہنا پڑتا ہے۔ اس وقت ہر چیز کو ہم لوگوں نے اتنا سطحی لیا ہوا ہے کہ مثلاً الفاظ امام کہہ دیتے ہیں "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ"، اللہ اکبر۔ کیا صفوں کو سیدھا کرنے کا Time دے دیا گیا؟ کیا اسی فقرے کے ساتھ سارے صف سیدھے ہو گئے؟ سنت طریقہ کیا تھا؟ مولانا صاحب سنت طریقہ کیا تھا؟ پہلے صفیں درست ہوتیں، پھر اللہ اکبر کہہ دیتے نا۔ بلکہ اس کے لیے لوگ بھی مقرر تھے۔ ان کے لیے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اپنے منڈوں کو، یعنی وہ Relax رکھو، تاکہ وہ جس طریقے سے اگے پیچھے کرے تو آپ اس کے ساتھ اگے پیچھے ہو جائیں، مزاحمت نہ کرو۔ یہاں تک فرماتے تھے۔ اب وہ صرف بس جس کو کہتے ہیں نا وہ، صرف الفاظ تک آ گئے نا سارے ہم۔ تو اب اس میں کہتے ہیں، "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، اللہ اکبر"۔ چلو جی، صفیں درست ہو گئیں۔ ہاں جی، یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ باقاعدہ صفوں کو درست کرنے کا اہتمام، پہلے امام کرے گا نا، پھر دوسرے کریں گے۔ جب امام کو ہی اس کا اہتمام نہیں ہے، کہ وہ Time ہی نہیں دے رہا، تو پھر کیسے مطلب جو ہے نا وہ باقی لوگ اس کو کریں گے؟ تو اس کا باقاعدہ یعنی طریقہ کار ہے، اور اس کو سیکھنا چاہیے۔ سنت میں ساری چیزیں موجود ہیں الحمدللہ۔
یہی جماعت، کی نماز مسلمانوں میں برادرانہ مساوات اور انسانی برابری کی درسگاہ ہے۔ یہاں امیر و غریب، کالے گورے، رومی حبشی، عرب و عجم کی کوئی تمیز نہیں۔ سب ایک ساتھ ایک درجہ، اور ایک صف میں کھڑے ہو کر خدا کے اگے سرنگوں ہوتے ہیں۔ جماعت کی امامت کے لیے حسب و نسب، نسل و خاندان، رنگ و روپ، قومیت اور جنسیت، عہدہ اور منصب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ علم و دانش، فضل و کمال، تقویٰ و طہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں شاہ و گدا اور شریف و رذیل کی تفریق نہیں ہے۔ سب ہی ایک زمین پر ایک امام کے پیچھے، ایک صف میں دوش بدوش کھڑے ہوتے ہیں، اور کوئی کسی کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔ اس برادرانہ مساوات اور انسانی برادری کی مشق دن میں پانچ دفعہ ہوتی ہے۔ کیا مسلمانوں کی معاشرتی جمہوریت کی یہ درسگاہ کہیں اور بھی قائم ہے؟
ہاں جی، ایسا نہیں ہے۔ یعنی ہر جگہ تفریق، تفریق، تفریق، تفریق۔ میں نے بھی ایک آرمی Organization میں کام کیا ہے۔ تو ہم دیکھتے تھے کہ Colonel کے Level کے لوگ علیحدہ کھڑے ہوتے تھے۔ اور Major اور Captain کے لوگ علیحدہ کھڑے ہوتے تھے۔ اور باقی لوگ علیحدہ کھڑے ہوتے تھے۔ یہ آپس میں Mix نہیں ہوتے تھے۔ ہاں جی؟ اب ظاہر ہے جب یہ تفریق کا یہ عالم ہو گا، تو کیسے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا ہوں گے؟ وہ تو ظاہر ہے نہیں پیدا ہو سکتے۔ ہم نے تو تفریق کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ تو یہ، مطلب ظاہر ہے، یہ نماز ہمیں سکھاتا ہے۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز، نہ کوئی بندہ رہا، نہ کوئی بندہ نواز۔ سب ایک صف میں کھڑے ہیں۔ ہاں جی؟ چاہے شاہ ہے، چاہے گدا ہے۔ یہ والی بات۔ تو نماز ہمیں مساوات سکھاتی ہے۔ صحیح معنوں میں نماز سکھاتی ہے۔
اطاعت۔جماعت کی سلامتی بغیر ایک مفترض الطاعۃ امام کے ناممکن ہے۔ جس کے اشارہ پر تمام قوم حرکت کرے۔ نماز باجماعت مسلمانوں کی زندگی کا رمز ہے، کہ جس طرح ان کی اس عبادت کا ایک امام ہے، جس کے اشارہ پر وہ حرکت کرتے ہیں، اس طرح قوم کی پوری زندگی کا بھی ایک امام ہونا چاہیے، جس کی اللہ اکبر کی آواز پر قوم کے کاروان کے لیے بانگِ درا اور صدائے جرس ثابت ہو۔ اطاعتِ امام کے لیے ایک طرف تو قوم میں فرمانبرداری کی قابلیت موجود ہونی چاہیے۔ جس کی تعلیم مقتدیوں کی نماز میں ہوتی ہے۔ اور دوسری طرف امام کو اخلاقِ صالحہ کی ایک ایسی مثال پیش کرنی چاہیے، جو ہمیشہ لوگوں کو پیشِ نظر، پیشِ نظر رہے۔ نماز ان دونوں چیزوں کا مجموعہ ہے۔ وہ ایک دائمی حرکت ہے جو قوم کے اعضاء و جوارح کو ہر وقت اطاعت گزاری کے لیے تیار رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ نمازِ پنجگانہ اور جمعہ و عیدین کی امامت خاص امام کا حق ہے۔ اس لیے ہر وقت قوم کو اس کے اعمال کے احتساب، اس پر نکتہ چینی اور اس سے اثر پذیری کا موقع ملتا ہے۔ نماز کے اوقات خاص طور پر ایسے موزوں ہیں جو ایک عیاش اور راحت طلب شخص کا پردہ فاش کر دیتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو شب بھر عیش و عشرت میں مصروف ہو، نمازِ صبح میں شریک نہیں ہو سکتا۔ ایک راحت طلب آدمی ظہر کے وقت دھوپ کی دھوپ کی شدت برداشت کر کے شریکِ جماعت ہونا پسند نہیں کر سکتا۔ چنانچہ خلافتِ راشدہ کے بعد جب بنو امیہ کا زمانہ آیا تو صحابہ کو خاص طور پر اس کا احساس ہوا اور بے خوف نگاہوں نے ان پر نکتہ چینیاں کیں۔ حدیث میں بھی خاص طور پر اس زمانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ائمہ وقت پر نماز ادا کرنے میں غفلت کریں گے۔
19، معیارِ فضیلت۔نماز کی امامت کے لیے چونکہ سوائے علم و فضل اور تقویٰ کے اور کوئی قید نہیں۔ اس لیے امامت کے رتبہ اور درجہ کو حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ہر وقت ممکن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جماعت میں جو سب سے زیادہ صاحبِ علم ہے، وہ امام بننے کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ ایک دفعہ ایک مقام سے کچھ لوگ مسلمان ہونے کے لیے آئے۔ دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ ان میں جو صاحب سب سے کم سن ہیں، انہیں قرآن زیادہ یاد ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسی کم سن صحابی کو ان کا امام مقرر فرمایا۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں میں اس کے ذریعے سے علمی و عملی فضائل کے حاصل کرنے کے شوق و ترغیب بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
روزانہ کی مجلسِ عمومی۔آپ ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں یہ قاعدہ تھا کہ جب کوئی اہم واقعہ پیش آتا، تو یا کوئی سیاسی اور قومی مشکل پیدا ہوتی، یا کوئی مذہبی بات سنانی ہوتی، تو مسلمانوں میں منادی کرائی جاتی کہ الصلاة جامعة (نماز جمع کرنے والی)۔ سب لوگ اس وقت پر جمع ہو جاتے ہیں اور اس امرِ اہم سے اطلاع پاتے، یا اس کے متعلق اپنا مشورہ عرض کر لیتے۔ گویا مسلمانوں کی مذہبی، مجلسی، سیاسی، مخاصمتی مسائل کا مخلصانہ حل کا بھی ذریعہ تھا، جس کے لیے نماز کا تعلق سے ہر مسلمان کا کسل و سستی کے بہانہ کے بغیر جمع ہونا ضروری تھا۔ ان تمام امور کو سامنے رکھنے سے بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز اسلام کا اولین شعار اور اس کے مذہبی و اجتماعی اور تمدنی اور سیاسی اخلاقی مقاصد کی آئینہ دار ہے۔ اس کی شیرازہ بندی سے مسلمانوں کا شیرازہ بنتا ہے، بندھا ہے اور اسی کی گرہ کھل جانے سے اس کے نظم و جماعت کی ہر گرہ کھل گئی ہے۔ مسجدِ مسلمانوں کے ہر قومی اجتماع کا مرکز، اور نماز اس مرکز اجتماع کی ضروری سمت تھی۔ جس طرح آج ہر جلسہ کا افتتاح اس کے نصب العین کے ظاہرتین کے لیے صدارتی خطبہ سے ہوتا ہے، اس طرح مسلمان جب زندہ تھے ان کی ہر اجتماع کا افتتاح نماز سے ہوتا تھا۔ اس کی ہر چیز اس کے تابع، اور اس کے زیرِ اثر نظر آتی تھی۔ ان کی نماز کا گھر ہی دارالامارۃ ہوتا تھا، اور وہی دارالشورٰی تھا، وہی بیت المال تھا، وہی صیغہ جنگ کا دفتر تھا، وہی درسگاہ اور وہی مکتب تھا۔ جماعت کی ہر ترقی کی بنیاد افراد کی باہمی نظم و ارتباط پر ہے اور جماعت کے فائدے کے لیے افراد کا اپنے آرام و عیش اور فائدے کو قربان کر دینا اور اختلافِ باہمی طے کر کے صرف ایک مرکز پر جمع ہو کر جماعتی ہستی کے وحدت میں فنا ہو جانا، اس کے حصول کی لازمی شرط ہے۔ اس کی خاطر کسی ایک کو امام، قائد اور سردار، لشکر مان کر اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی عادت کر لینا ضروری ہے۔ اسلام کی نماز انہی رموز و اسرار کا گنجینہ ہے۔ یہ مسلمانوں کو نظم و جماعت، اطاعت پذیری اور فرمانبرداری، وحدتِ قومی کا سبق دن میں پانچ بار سکھاتی ہے، اس لیے اس کے بغیر مسلمان مسلمان نہیں۔
ان کی کوئی اجتماعی وحدت ہے، نہ ان کی قیادت و امامت ہے، نہ زندگی ہے اور نہ زندگی کا نصب العین ہے۔ اسی بنا پر دائی اسلام نے فرما دیا:الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَہمارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ ہے وہ نماز ہے، تو جس نے اس کو چھوڑا اس نے کفر کا کام کیا۔ کہ نماز کو چھوڑ کر مسلمان صرف قالبِ بے جان، شرابِ بے نشہ، گلِ بے رنگ و بو ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور رفتہ رفتہ اسلامی جماعت کا ایک ایک شعار اور ایک ایک امتیازی خصوصیت اس سے رخصت ہو جاتی ہے۔ اسی لیے نماز اسلام کا اولین شعار ہے اور اس کی زندگی سے اسلام کی زندگی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو نماز صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عرب کی روحانی کایا پلٹ۔وہ عرب جو خدا کی عبادت سے بیگانہ تھا، وہ جس کی پیشانی خدا کے سامنے کبھی نہیں جھکی تھی، وہ جس کا دل خدا کی پرستش سے لذت آشنا نہیں تھا، وہ جس کی زبان خدا کی تسبیح و تحمید کے ذائقہ سے واقف نہ تھی، وہ جس کی انکھوں نے شب بیداری کا اضطراب انگیز منظر نہیں دیکھا تھا، وہ جس کی روح ربانی تسکین و تسلی کے احساس سے خالی تھی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے دفعتاً کیا ہو گیا کہ اب عبادت الٰہی اس کے ہر کام کا مقصد بن گئی؟ اب اس کو اپنے ہر کام میں اخلاص کے سوا اور کوئی چیز مطلوب نہ تھی۔ اس کی پیشانی خدا کے سامنے جھک کر پھر اٹھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے دل کو اس لذت کے سوا دنیا کی کوئی لذت پسند نہیں اتی تھی۔ اس کی زبان کو اس مزہ کے سوا کوئی مزہ اچھا نہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں کو اس منظر کے سوا اور کسی منظر کی طالب نہ تھیں۔ اس کی روح یادِ الٰہی کی تڑپ اور ذکرِ الٰہی کی بے قراری کے سوا کسی اور چیز سے تسلی نہ پاتی تھی۔دل را کہ مردہ بود حیاتِ نوین رسیدتا بوئے از نسیمِ درِ محمد رسی، درِ مشام رفت۔وہ عرب جن کی حالت یہ تھی کہ "وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا" اور جو خدا کو بہت کم یاد کرتے تھے۔ دعوتِ حق اور فیضِ نبوت کی اثر و برکت نے ان کی یہ شان نمایاں کی، کہ دنیا کی کاروباری مشغولیتیں بھی ان کو ذکر سے غافل نہیں کر سکیں۔رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِایسے لوگ جن کو کاروبار اور خرید و فروخت خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتے۔ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے غرض ہر حال اس کے اندر خدا کی، خدا کی یاد کے لیے بے قراری تھی۔وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْجو خدا کو اٹھتے بیٹھتے لیٹے یاد کرتے تھے۔ راتوں کو جب غافل دنیا نیند کے خمار میں ہوتی وہ بستروں سے اٹھ کر خدا کے سامنے سر بسجود اور راز و نیاز میں مصروف ہوتے تھے۔تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًاجن کے پہلو رات کو خوابوں سے علاحدہ رہتے تھے، وہ خوف اور امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے تھے۔وہ جن کا حال تھا کہ "وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ" اور جب ان سے کہا جاتا خدا کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے، اب ان کی یہ صورت ہو گئی،تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًاتم ان کو دیکھو کہ رکوع میں جھکے ہوئے اور سجدہ میں پڑے ہوئے خدا کے فضل اور خوشنودی کو تلاش کرتے ہیں۔وہ جن کے دلوں کی کیفیت یہ تھی کہ "وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ" اور جب تنہا خدا کا نام لیا جاتا تو ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے مکدر ہو جاتے۔آفتابِ نبوت کی پرتو نے ان مقدر ائینوں میں ایسی خشیتِ الٰہی کا جوہر پیدا کر دیا،الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْوہ لوگ جن کا، جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں۔
یہ خود قرآن پاک کی شہادت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے عمل اور تعلیم نے عرب کی روحانی کائنات میں کتنا عظیم الشان انقلاب پیدا کیا تھا۔ وہ تمام لوگ جو حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکے تھے، خواہ وہ کھیتی کرتے ہوں یا تجارت یا محنت مزدوری، لیکن ان میں سے کوئی چیز ان کو خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ صحابہ، خرید و فروخت اور تجارت کرتے تھے لیکن جب خدا کا کوئی معاملہ پیش اتا، تو یہ شغل و عمل ان کو یاد الٰہی سے غافل نہیں کرتا تھا، بلکہ اس کو پوری طرح ادا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ بازار میں تھے۔ نماز کی تکبیر ہوئی۔ دیکھا کہ صحابہ نے فوراً دکانیں بند کر دیں اور مسجد میں داخل ہو گئے۔ صحابہ رضی اللہ اجمعین تمام تر راتیں خدا کی یاد میں جاگ جاگ کر بسر کرتے ہیں، یہاں تک کہ مکہ معظمہ کہ غیر مطمئن، اور راتوں میں بھی وہ عبادتِ الٰہی مصروف... عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ خدا نے گواہی دی:
إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ
بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ تو دو تہائی رات کے قریب، اور آدھی رات، اور تہائی رات کے بعد اٹھتا ہے، اور تیرے ساتھ ایک جماعت بھی اٹھ کر نماز پڑھتی ہے۔
اس زمانے میں صحابہ و مومنین کو راتوں کے سوا خدا کی یاد کرنے کا موقع کہاں ملتا تھا؟ جلوۂ دیدار کے مشتاق دن بھر کے انتظار کے بعد رات کو کسی مخفی گوشہ میں جمع ہوتے تھے، ذوق و شوق سے اپنی پیشانی خدا کے سامنے زمین پر رکھ دیتے، دیر تک سجدہ میں پڑے رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے اس صالحانہ حال کو دیکھتے پھرتے تھے۔
قرآن پاک نے اس نظارہ کی کیفیت کو اپنے الفاظ میں اس طرح ادا کیا ہے:
وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ
اور اس غالب رحم والے پر بھروسہ کر، جو رات کو جب تو نماز کے لیے اٹھتا ہے اور سجدہ میں پڑے رہنے والوں کے درمیان آنا جانا تیرا دیکھتا ہے۔
مدینہ منورہ میں آ کر سب سے پہلا فقرہ جو آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
اے لوگو! غریبوں کو کھانا کھلاؤ، اور سلام کو پھیلاؤ، اور نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں۔
بعض صحابہ نے اس حکم پر شدت سے عمل کیا کہ انہوں نے راتوں کا سونا چھوڑ دیا، آخر اپ ﷺ کو لوگوں کے اعتدال میانہ روی کا حکم دینا پڑا۔
چنانچہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ رات بھر نماز میں مصروف رہتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا، عثمان تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ ذرا نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ اجمعین راتوں کو اٹھ اٹھ کر نمازیں پڑھتے اور بہت کم سوتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رات کے تین حصے کر دیے تھے۔ ایک میں خود نماز پڑھتے تھے، دوسرے میں ان کی بیوی اور تیسرے میں ان کا غلام۔ اور باری باری ایک دوسرے کو جگایا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ ساری رات نماز پڑھا کر آپ ﷺ کو معلوم تو ان کو جا کر نصیحت فرمائی۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ صحابی کا بھی یہی حال تھا کہ وہ رات، رات بھر نماز گزار دیتے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان کے اسلامی بھائی تھے۔ ایک شب ان کے ہاں مہمان ہوئے جب رات کو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھنے لگے، تو حضرت سلمان نے منع کیا کہ پچھلے پہر جب سناٹا چھایا ہوا تھا حضرت سلمان نے ان کو جگایا اب نماز کا وقت ہے۔ کوئی صحابی ایسا نہ تھا جس نے اسلام لانے کے بعد، پھر ایک وقت کی بھی نماز عمداً قضا کی ہو۔ یہاں تک کہ لڑائی اور خطرہ کی حالت میں بھی وہ اس غرض سے غافل نہیں رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اپ ﷺ نے ایک پرخطر کام کے لیے کہیں بھیجا تھا۔ جب وہ منزلِ مقصود کے قریب پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ ان کو خوف تھا کہ کہیں ٹھہر کر عصر کی نماز پڑھنے کا اہتمام کیا جائے تو وقت نکل جائے گا، اور اگر عصر میں تاخیر کی جائے تو حکمِ الٰہی کی تعمیل میں دیر ہو جائے گی۔ اس مشکل کا حل انہوں نے اس طرح کیا کہ وہ اشاروں میں نماز پڑھتے جاتے تھے اور چلتے جاتے تھے۔
سخت سے سخت مجبوری کی حالت میں بھی نماز ان سے ترک نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ بیماری کی حالت میں وہ دوسروں کا سہارا لے کر مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔ پھر وہ جس خشوع و خضوع، محویت اور استغراق کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ان کا نظارہ بڑا پر اثر ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو ان پر شدت سے رقت طاری ہوتی کہ کافر عورتوں، بچوں تک پر اس کا اثر ہوتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نماز میں اس زور سے روتے کہ رونے کی اواز پچھلی صف تک جاتی تھی۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ ایک رات تہجد کے لیے کھڑے ہوئے تو صرف ایک ایت کی تلاوت میں صبح کر دی۔ بار بار اس کو دہراتے تھے اور مزے لیتے تھے۔شبِ شبت صبحِ ہماں محوِ تماشہ باشمحضرت انس رضی اللہ عنہ قیام اور سجدہ میں اتنی دیر لگاتے تھے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ کچھ بھول گئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو کئی کئی سورتیں پڑھ ڈالتے تھے، اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ معلوم ہوتا کہ کوئی ستون کھڑا ہے۔ اور جب سجدے میں جاتے تو اتنی دیر تک سجدہ کرتے کہ حرمِ محترم کے کبوتر ایک ساکتِ جامد سمجھ کر ان کے پیٹھ پر ا کر بیٹھ جاتے تھے۔ ایک رات میدانِ جنگ میں ایک پہاڑی پر دو صحابی پہرہ دینے کے لیے متعین تھے۔ ایک صاحب سو جاتے ہیں، دوسرے نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ دشمن ان کو طاق کر کے تیر مارتا ہے، جو بدن میں ترازو ہو جاتا ہے۔ کپڑے خون سے تر بتر ہو جاتے ہیں مگر نماز کا استغراق اس طرح قائم رہتا ہے۔ نماز تمام کر کے اپنے رفیق کو بیدار کرتے اور واقعہ سناتے ہیں۔ ساتھی کہتا ہے کہ تو نے اسی وقت مجھے کیوں نہیں جگایا؟ جواب ملتا ہے کہ میں نے ایک پیاری سورت شروع کی تھی۔ پسند نہ ایا کہ اس کو ختم کیے بغیر نماز توڑ دوں۔
اس سے بھی زیادہ پراثر منظر یہ ہے کہ دشمنوں کی فوجیں مقابل کھڑی ہیں، تیروں کا مینہ برس رہا ہے۔ نیزوں اور تلواروں کی بجلیاں ہر طرف کوند رہی ہیں۔ سر اور گردن دست و بازو کٹ کر گر رہے ہیں، کہ دفعتاً نماز کا وقت ا جاتا ہے۔ فوراً جنگ کی صفیں، نمازیوں کی صفیں بن جاتی ہیں اور اللہ اکبر کی اواز کے ساتھ موت و حیات سے بے پرواہ ہو کر گردنیں جھکنے اور اٹھنے لگتی ہیں۔
نور کا تڑکا ہے۔ اسلام کے دائرے کا مرکز، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ امام، نماز میں امامِ نماز ہے۔ پچھلی صفیں صحابہ کے صفوں، صحابہ کی صفیں کھڑی ہیں۔ دفعتاً ایک شقی خنجر بکف اگے بڑھ کر خلیفہ پر حملہ کر کے شکمِ مبارک کو چاک کر دیتا ہے۔ اپ غش کھا کر گر پڑتے ہیں۔ خون کا فوارہ جاری ہوتا ہے، سب کچھ ہو رہا ہے مگر نماز کی صفیں اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نماز بڑھانے کے لیے اگے بڑھتے ہیں۔ پہلے صبح کا دوگانہ ہوتا ہے، جب خلیفہ وقت کو اٹھایا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو جس صبح نماز میں زخم لگا اس کے بعد صبح کو لوگوں نے ان کو نماز کے لیے جگایا۔ تو بولے ہاں! جو شخص نماز چھوڑ دے اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ چنانچہ اس حالت میں کہ زخم سے خون جا رہا تھا اپنی نماز پڑھی۔ حضرت امیر المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ صبح کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوتے ہیں یا صبح کی نماز میں ہوتے ہیں کہ ابن ملجم کی تلوار ان کو گھائل کر دیتی ہے۔ اور کچھ دیر کے بعد وہ داعیِ اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ امامِ مظلوم حسین رضی اللہ تعالی عنہ بن علی کربلا کے میدان میں رونق افروز ہوتے ہیں۔ عزیزوں اور دوستوں کی لاشیں میدانِ جنگ میں نظر کے سامنے پڑی ہوتی ہیں۔ ہزاروں اشقیاء اپ کو نرغے میں لیے ہوتے ہیں۔ اتنے میں ظہر کا وقت ا جاتا ہے۔ اپ دشمنوں سے اجازت چاہتے ہیں کہ وہ اتنا موقع دیں کہ اپ ظہر کی نماز ادا کر سکیں۔
نماز میں جس خضوع خشوع کا حکم ہے، صحابہ کرام رضي الله عنہم نے اس میں یہ نمونے پیش کیے کہ عزیز سے عزیز چیز بھی اگر ان کے پاس ان کے اس روحانی ذوق و شوق میں خلل انداز ہوتی تھی تو ان کو ذوق اس کو نثار کر دیا جاتا تھا۔ حضرت ابو طلحہ انصاری رضي الله عنه اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک خوشنما چڑیا نے سامنے آ کر چہچہانا شروع کیا۔ حضرت ابو طلحہ رضي الله عنه دیر تک ادھر دیکھتے رہے، پھر جب نماز کا خیال آیا تو رکعات یاد نہ رہیں۔ دل میں کہا کہ اس باغ نے فتنہ برپا کیا ہے۔ ایک... ایک کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور واقعہ بیان کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! یہ باغ راہِ خدا میں نذر کیا جاتا ہے۔
اس طرح ایک اور صحابہ... صحابی اپنے باغ میں نماز میں مشغول تھے۔ باغ اس وقت نہایت سرسبز و شاداب اور پھلوں سے لدا ہوا تھا۔ پھلوں کی طرف نظر اٹھ گئی تو نماز یاد نہ رہی۔ جب اس کا خیال آیا تو دل میں نادم ہوئے کہ دنیا کے مال و دولت نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہ حضرت عثمان رضي الله عنه کے خلافت کا دور تھا، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ باغ، جس نے مجھے فتنہ میں مبتلا کر دیا، راہِ خدا میں دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عثمان رضي الله عنه نے اس کو بیت المال کی طرف سے بیچا، پچاس ہزار میں فروخت ہوا۔
تو یہ ہے نماز کا معاملہ جو صحابہ رضی اللہ اجمعین نماز کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے نماز ہماری بہت بڑی دولت ہے، بہت بڑی دولت ہے۔ اور اس کو سیکھنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جس طریقے سے نماز میں اللہ جل شانہ کا تعلق حاصل ہوتا ہے، حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بڑی عجیب بات فرمائی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ جن لوگوں کو سماع میں اور اس قسم کی دوسری چیزوں میں مزہ ملتا ہے۔ تو ان کے مزے سے انکار نہیں ہے لیکن جن کو نماز میں مزہ ملتا ہے، پھر ان کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جن کو نماز میں مزہ ملتا ہے یعنی نماز کے اندر گم ہو سکیں، پھر ان کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ نماز نماز ہے۔ تو نماز کو صحیح معنوں میں اس کو سمجھنا اور اس کے اوپر محنت کرنا اور اس کے اندر جو چیزیں اللہ نے داخل کی ہیں، جو اس میں رکھی ہیں ہمارے لیے، ان کو حاصل کرنا۔ یہ ہمارے لیے سب سے بڑا قیمتی سرمایہ ہے، مطلب جو ہے نا اس کو حاصل کریں۔
اس وجہ سے اگر دیکھا جائے، تو قران کے اندر جب ایمان کا تعارف ہوا ہے، شاندار طریقے سے، "الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ"۔ تو اس میں دو باتوں کا، اعمال کے لحاظ سے ذکر ہے۔ باقی ایمان کا ہے اور یقین کا ہے۔ باقی ایمان و یقین ہے۔ تو جو اعمال کے لحاظ سے ذکر ہے وہ کیا ہے؟ "وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ"۔ ہاں جی؟ مطلب یہ ہے کہ ایک جو ہے نا وہ جلوی عبادت ہے اور دوسرا سلبی عبادت ہے۔ جلوی عبادت اس طرح ہے کہ انسان نماز میں اللہ پاک کی طرف بڑھتا ہے اور سلبی یہ ہے کہ مال کی وجہ سے چونکہ رکاوٹ ہوتی ہے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ ہاں جی، تو یہ دو چیزیں جو ہیں نا مطلب اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر جو ہے نا رکھی ہیں۔ اور اس وجہ سے نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ حکم ہے، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ"، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ"، "أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ"۔ تو یہ دو چیزیں ہمیں بہت کچھ دے سکتی ہیں۔
تو بہرحال، حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جس انداز میں نماز کا تعارف کیا ہے، واقعتاً اس کا حق ہے کہ اس کو پوری امت تک پہنچایا جائے۔ اور نماز کے ساتھ پوری امت کا ایک قلبی تعلق پیدا کیا جائے۔ اس وقت عادت کے طور پر تو الحمدللہ موجود ہے۔ لیکن عادت سے بڑھ کر قلب کی صورت بن جائے۔ مجھے کل ہی ایک صاحب نے بڑا اچھا Comment بھیجا ہے ایک بیان پر۔ اس میں انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین جو ہوتے تھے، وہ جو کام قلب کے ہوتے تھے تو اس وقت ان کا نفس بھی متاثر ہوتا تھا اس سے، اور عقل بھی متاثر ہوتا تھا۔ اور جو عقل کا ہوتا تھا اس میں ان کا قلب بھی متاثر ہوتا تھا، اس کا نفس بھی متاثر ہوتا تھا۔ اور جو نفس کا ہوتا تھا اس کا جو ہے نا اس سے قلب بھی متاثر ہوتا تھا، عقل بھی ہوتا تھا۔ تو وہ ساری چیزیں باہم مربوط تھیں۔ اس وقت ہم لوگوں نے علیحدہ علیحدہ کر دی ہیں۔ ہاں جی، نفس پہ محنت ہے تو اس میں یہ چیزیں نہیں ہیں۔ اور اگر مطلب یہ ہے کہ قلبی چیزیں ہیں تو اس میں پھر وہ، وہ چیزیں نہیں ہیں۔ مطلب ایک مطلب ہم نے جدا جدا کر دیا، شیرازہ بندی ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم دوبارہ پھر اس چیز پر آ جائیں۔ اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کے اندر رکھی ہیں ان کو سمجھیں بھی اور اس کے مطابق اعمال بھی کر لیں، "وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ"۔
اب درود شریف پڑھتے ہیں، تو درود شریف کے لیے دسترخوان بچھایا جائے گا چونکہ اج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں درود شریف کی رات ہوتی ہے۔ انشاءاللہ العزیز۔ پہلے وہ پڑھتے ہیں نا درود شریف۔
(اشعار کی صورت میں درود شریف و نعت کی ادائیگی)
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہےنبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہےنبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
صحابہ نے جو سیکھا آپ سے کر کے وہ دکھلایاصحابہ نے جو سیکھا آپ سے کر کے وہ دکھلایاتبھی تو مشعلِ راہ ان کی ساری زندگانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
جو پیکر تھے سراپا صدق کے صدیق کہلائےجو پیکر تھے سراپا صدق کے صدیق کہلائےجو عشق و سوز سے پر ہے یہی ان کی کہانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
فراست سے کہ جن کا کام ہر اک پر تھا تھے عمرفراست سے کہ جن کا کام ہر اک پر تھا تھے عمرتھی دور اندیشی ان کی جو وہ دشمن نے بھی مانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
حیا اور جود کے پیکر مجھے عثمان یاد آئےحیا اور جود کے پیکر مجھے عثمان یاد آئےوفا کے سامنے ان کی جھکی جو حکمرانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
شجاعت علم میں آگے علی کا نام رہتا ہےشجاعت علم میں آگے علی کا نام رہتا ہےقلم ہے ہاتھ میں دشمن پہ تلوار بھی چلانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
صحابہ اہلِ بیت و امہات المؤمنین سب کیصحابہ اہلِ بیت و امہات المؤمنین سب کیمحبت دل میں ہو نسبت رسول کی جس نے پانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یہ در وہ ہے کہ جس در کی کی جبرائیل نے دربانییہ در وہ ہے کہ جس در کی کی جبرائیل نے دربانیشبیر بن اک خدا کے آپ کی عظمت کس نے جانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہےنبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے