الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات کو ہمارے ہاں سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب سیرت النبی ﷺ کے حصہ پنجم سے تعلیم ہو رہی ہے۔ نمازوں کے اوقات کے بارے میں بات چل رہی تھی گزشتہ ہفتہ۔
نماز کے اوقات کی تعیین میں بھی یہ اصول مدنظر رکھا گیا ہے کہ وہ ایسے ہونے چاہئیں جن میں نسبتاً سکون میسر ہوتا ہو اسی لئے ظہر کی نماز کا اصلی وقت اگرچہ فوراً بعد زوال ہونا چاہئے تاہم چونکہ اس وقت گرمی سخت ہوتی ہے اس لئے توقف کا حکم دیا گیا۔ گرمی کے دنوں میں چونکہ اور بھی زیادہ شدت ہوتی ہے اس لئے فرمایا کہ یہ دوپہر کی گرمی (گویا) جہنم کی آگ ہے اس لئے ذرا ٹھنڈک کے بعد ظہر کی نماز پڑھو۔
﴿فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ﴾
کیونکہ نماز میں حضور ہوتا ہے۔
نماز کی روحانی کیفیت کا سب سے اعلیٰ منظر یہ ہے کہ انسان پر ایسی حالت طاری ہو جائے کہ اسے معلوم ہو کہ وہ اس وقت خدا کے سامنے کھڑا ہے۔ گذر چکا ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ احسان کیا ہے؟ فرمایا یہ ہے کہ جب تم عبادت کرو تو تم کو یہ معلوم ہو کہ تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔ کیوں کہ اگر تم خدا کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو بہرحال دیکھ رہا ہے۔ کبھی کبھی آنحضرت ﷺ پر نماز میں رقت طاری ہو جاتی تھی اور چشم مبارک سے آنسو نکلنے لگتے تھے۔ ایک صحابی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی اس کیفیت کو ایک دفعہ دیکھا تھا کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نماز میں ہیں آنکھوں سے آنسو جاری ہیں روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا چکی چل رہی ہے یا ہانڈی ابل رہی ہے۔
رات کی نمازوں میں آنحضرت ﷺ پر عجیب ذوق و شوق کا عالم طاری ہوتا تھا۔ قرآن پڑھتے چلے جاتے۔ جب خدا کی عظمت و کبریائی کا ذکر آتا پناہ مانگتے، جب رحم و کرم کی آیتیں آتیں تو دعا کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز دو دو رکعت کر کے ہے اور ہر دوسری رکعت میں تشہد ہے اور تضرع و زاری ہے خشوع اور خضوع ہے عاجزی اور مسکنت ہے اور ہاتھ اٹھا کر اے رب، اے رب کہنا ہے، جس نے ایسا نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔
ایک دفعہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے اور لوگ مسجد میں زور زور سے قراءت کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا لوگو تم میں سے ہر ایک خدا سے مناجات کر رہا ہے تو وہ سمجھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ایک دوسرے کی مناجات میں اپنی آواز سے خلل انداز نہ ہو۔
ایک صحابی نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ ہدایت فرمائیے۔ ارشاد ہوا کہ ”جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تمہاری نماز ایسی ہونی چاہئے کہ یہ معلوم ہو کہ تم اس وقت مر رہے ہو اور دنیا کو چھوڑ رہے ہو“
تمہاری نماز کی اس کیفیت کا کوئی شخص اندازہ کر سکتا ہے؟
اس پوری تفصیل سے ظاہر ہوگا کہ اسلام کی نماز کیا ہے؟ قرآن کس نماز کو لے کر اترا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نے کس نماز کی تعلیم دی ہے؟ اور اس کی اصلی کیفیتیں کیا کیا ہیں؟ اور اگر نماز یہ نماز ہو تو وہ انسان کی روحانی اور اخلاقی اصلاحات کا کتنا مؤثر ذریعہ ہے؟ اسی لئے قرآن پاک نے نماز کی محافظت یعنی پابندی اور آداب کے ساتھ ادا کرنے کو ایمان کا نتیجہ بتایا ہے۔
﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهٖ وَهُمْ عَلىٰ صَلَاتِهِمْ يُحافظُونَ﴾ (سورة الانعام: 92)
اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن کو مانتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی نگہداشت کرتے ہیں۔
نماز کی اس نگہداشت اور محافظت کے دو معنی ہیں اور دونوں یہاں مقصود ہیں یعنی ایک تو اس کے ظاہری شرائط کی تعمیل اور دوسرے اس کے باطنی آداب کی رعایت۔
نماز کے اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی فائدے:
نماز تو درحقیقت ایمان کا ذائقہ روح کی غذا اور دل کی تسکین کا سامان ہے مگر اسی کے ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کے اجتماعی اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی اصلاحات کا بھی کارگر آلہ ہے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے اخلاق و تمدن و معاشرت کی جتنی اصلاحیں وجود میں آئیں ان کا بڑا حصہ نماز کی بدولت حاصل ہوا اس کا اثر ہے کہ اسلام نے ایک ایسے بدوی وحشی اور غیر متمدن ملک کو جس کو پہننے اوڑھنے کا بھی سلیقہ نہ تھا، چند سال میں ادب و تہذیب کے اعلیٰ معیار پر پہنچا دیا، اور آج بھی اسلام جب افریقہ کے وحشی سے وحشی ملک میں پہنچ جاتا ہے، تو وہ کسی بیرونی تعلیم کے بغیر صرف مذہب کے اثر سے مہذب و متمدن ہو جاتا ہے، متمدن قوموں میں جب وہ پہنچ جاتا ہے، تو ان کے تخیل کو بلند سے بلند تر ، پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنا دیتا ہے، اور ان کو اخلاص کی وہ تعلیم دیتا ہے جس کے سبب سے ان کا وہی کام جو پہلے مٹی تھا، اب اکسیر بن جاتا ہے۔
1۔ نماز کے ان معاشرتی فائدوں میں بالکل ابتدائی چیز ستر پوشی کا خیال ہے، انسان کا شرم و حیا کی نگہداشت کے لئے اپنے جسم کے بعض حصوں کو چھپانا نہایت ضروری ہے، عرب کے بدو اس تہذیب سے ناواقف تھے بلکہ شہروں کے باشندے بھی اس سے بے پرواہ تھے، یہاں تک کہ غیر قریشی عورتیں جب حج کے لئے آتی تھیں تو اپنے کپڑے اتار دیتی تھیں، اور اکثر ننگی ہو کر طواف کرتی تھیں، اسلام آیا تو اس نے ستر پوشی کو ضروری قرار دیا، یہاں تک کہ بغیر اس ستر پوشی کے اس کے نزدیک نماز ہی درست نہیں، آیت نازل ہوئی:
﴿خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ (سورۃ الاعراف: 31)
ہر نماز کے وقت اپنے کپڑے پہنو۔مردوں کے لئے کم از کم ناف سے گھٹنے تک، اور عورتوں کے لئے پیشانی سے لے کر پاؤں تک چھپانا نماز میں ضروری قرار پایا، اس تعلیم نے جاہل اور وحشی عربوں کو اور جہاں جہاں اسلام گیا، وہاں کے برہنہ باشندوں کو ستر عورت پر مجبور کیا، اور نماز کی تاکید نے دن میں پانچ دفعہ اس کو اس فرض سے آشنا کر کے ہمیشہ کے لئے ان کو ستر پوش بنا دیا، افریقہ اور ہندوستان میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لباسوں پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے تمدن کے اس ابتدائی سبق میں دنیا کی کتنی بڑی مدد کی ہے، دوسری طرف متمدن قومیں زیب و زینت اور حسن و آرائش اور تمدن کی بے اعتدالی سے بے حیائی پر اتر آتی ہیں، مرد گھٹنوں سے اونچا لباس اور عورتیں نیم برہنہ یا نہایت باریک لباس پہنتی ہیں، نماز ان کی بھی اصلاح کرتی ہے اور ان متمدن قوموں کو اعتدال سے تجاوز نہیں کرنے دیتی، چنانچہ عورتوں کو تیز خوشبو لگا کر مسجد میں جانے سے منع فرمایا، اور بے حیائی کے کپڑوں کے پہننے سے عموماً روک دیا ہے، اور کہہ دیا ہے کہ ستر عورت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
2۔ اس کے بعد تمدن کا دوسرا ابتدائی سبق طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکام میں سے ہے۔
ماشاءاللہ کتنے خوبصورت انداز میں حضرت اس بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ واقعی یہ چیزیں ہم پہلے بھی پڑھتے آ رہے ہیں، مطلب یہ کوئی نہیں کہ نئی باتیں ہیں لیکن اس انداز میں کہ یہ باتیں ہمیں ایسے منظم انداز میں سمجھائی جائیں کہ اب نماز کے جو ارکان ہیں اور نماز کی جو شرائط ہیں یہ میرے خیال میں سب لوگ یاد کرتے ہیں کہ یہ نماز کے ارکان ہیں اور یہ نماز کی شرائط ہیں۔ اس کے پیچھے کیا سبحان اللہ اصلاحی انقلاب کا پیش خیمہ، مطلب یہ کیا چیز ہے؟ وہ یہ مطلب حضرت اس کو سمجھا رہے ہیں۔
اب دیکھ لیں۔ یعنی بے حیائی، یہ اگر انسان اس کو روکے نہیں تو اس کا پھر کوئی end نہیں ہے۔ آپ ذرا غور سے دیکھیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یورپ میں اور امریکہ میں، اور جو مہذب ملک سمجھے جاتے ہیں صورتحال یہ ہے کہ سخت سردی میں مرد تو پورا لباس پہنتے ہیں اور عورتیں مجبور ہیں کہ وہ گھٹنوں تک ہی لباس، زیادہ سے زیادہ پہنتی ہیں، اس سے نیچے وہ نہیں پہنتیں۔ حالانکہ آخر ان کو بھی سردی لگتی ہے، ہے کہ نہیں؟ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہ جو half blouse اور پھر بالکل یعنی ننگے ہاتھ، اور اس طریقے سے اور بے حیائی کے جو اثرات ہیں وہ بالکل نظر آتے ہیں۔
اب یہ ان لوگوں کے باقاعدہ اُن کے پڑھے لکھے لوگوں کی بات ہے یا ان کے intelligent لوگوں کی بات ہے یا ان کے وہ جو دوسروں کو عقل سکھانے والے ہیں، ان کی بات بتا رہا ہوں جو اس قسم کے کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل واضح بات ہے کہ انسان کے اندر یہ جو جذبے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مقصد کے لیے رکھے ہیں۔ اور اگر ان جذبوں کو صرف خاص مقاصد کے لیے نہ رکھا جائے اور ان کو اس طرح open رکھا جائے، تو اس سے بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے۔ مثلاً پانی ہے۔ اب پانی ماشاءاللہ آ رہا ہے، پہاڑوں سے، چشموں سے پانی آ رہا ہے اور سمندر میں جا رہا ہے۔ اگر آپ اس کو ویسے جانے دیں تو ضائع ہے۔ اور اگر آپ اس کو روک دیں تو یہ پانی store ہو کر باقاعدہ ایک قوت بن جاتا ہے۔ جس سے آبپاشی کا نظام بھی ہوتا ہے، جس سے power generation کا نظام بھی ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے اندر بگاڑ آ جائے، تو تباہی ہے سیلاب ہے۔ تو اب دیکھ لیں مطلب یہ ہے کہ آپ اس کو control کر لیں تو اس میں فائدہ ہے، out of control ہو جائے تو نقصان ہے۔
تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہٗ نے مرد اور عورت کا جو نظام بنایا ہوا ہے اس کے اندر بڑی حکمتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مثال کے طور پر کھانے میں لذت نہ ہوتی، تو کھانا کون کھاتا؟ کھانے کی ضرورت تو پھر بھی ہوتی۔ باقاعدہ ایک عالم کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی کراچی کے، بہت بڑے عالم تھے، مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے پیاس نہیں لگتی، یہ بھی ایک بیماری ہے۔ مجھے پیاس نہیں لگتی، تو ڈاکٹروں نے مجھے کہا ہے کہ آپ نے اتنے گلاس روزانہ پینے ہیں۔ بے شک آپ کو پیاس نہ لگے لیکن آپ نے اتنے گلاس روزانہ پینے ہیں۔ تو کہتے ہیں میں نے اپنے خادموں کو ٹائم بتا دیا ہے تقسیم کیا ہوا ہے کہ اتنے اتنے بجے میرے پاس گلاس میرے سامنے ہونا چاہیے، اور آپ لوگوں نے بتانا ہے کہ آپ نے پانی پینا ہے۔ ہاں، تو پھر میں پانی پیتا ہوں۔
حالانکہ مجھے پیاس نہیں لگتی، اب دیکھ لیں پانی جسم کی بڑی ضرورت ہے۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ، اللہ پاک فرماتے ہیں ہم نے پانی سے ہر ساری چیزوں کو زندہ کر دیا ہے، یا زندہ رکھا ہے۔ اب یہ پانی اتنا ضروری ہے جسم کے لیے لیکن اگر آپ کو پیاس نہ لگے تو آپ اس سے بے پروا ہو جائیں گے۔ بے پروا ہو جائیں گے اور بے پروائی کی وجہ سے آپ کی صحت کو زبردست نقصان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ کے جسم کے حصوں کو، جس کو پانی کی ضرورت ہے، پانی نہ پہنچے تو عین ممکن ہے کہ وہ permanent damage ہو جائے اس کو۔ یعنی آپ کو پھر مجبوراً باقاعدہ calculate کر کے زبردستی اس نظام کو اپنانا پڑتا ہے۔ اب اگر آپ کو کھانے کی ضرورت نہ ہو تو پھر کھانے کے لیے بھی آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔
تو اس طرح جو نسل کو برقرار رکھنے والی چیز ہے، اگر اس میں یہ لذت اللہ نہ رکھتے تو پھر ظاہر ہے وہ بھی ایک بوجھ ہی ہوتا۔ ایک بوجھ ہی ہوتا، ظاہر ہے پھر کون اس کے لیے تیار ہوتا۔ اب اللہ پاک نے اس کے اندر یہ جو چیزیں رکھی ہوئی ہیں، یہ حکمت سے رکھی ہوئی ہیں۔ اب اگر یہ اسی مقصد کے لیے استعمال ہو تو پھر تو فائدہ ہے، لیکن اگر آپ اس کو آزاد کر لیں تو بس پھر تباہی ہے۔ پھر ظاہر ہے گھر گھر مصیبت ہے، پریشانی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو اسلام ہے، اسلام نے تمام اقدار جو لوگوں کو سکھائے ہیں، کیونکہ خالقِ کائنات جس نے ساری چیزیں بنائی ہیں، اس کو ان تمام چیزوں کی تفصیلات کا پتہ ہے۔ لہٰذا اس نے ایسے قوانین بنائے ہیں کہ ان قوانین پر عمل کریں گے تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
اب یہاں پر حضرت نے جو تفصیلات بتائی ہیں، دیکھیں ستر پوشی۔ تو ستر پوشی اس چیز کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس حیا کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ستر پوشی بہت ضروری ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ میرے ساتھ خود یہ واقعہ ہوا ہے۔ لنچ کے لیے میں جا رہا تھا اپنے دفتر سے ڈائننگ ہال۔ راستے میں کچھ فاصلہ تھا دھوپ لگ رہی تھی۔ میں نے قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی، جو بالکل دور سے ایسی نظر آتی جیسے کوئی قیمہ ہو۔ یعنی رنگ اس کا ایسا تھا کہ جیسے قیمہ ہو۔ کیونکہ ویسے بھی قراقلی کا جو مطلب ہوتا ہے بال جو ہوتے ہیں، وہ اس طرح curly type ہوتے ہیں تو دور سے نظر آتے ہیں جیسے یہ قیمہ پڑا ہوا ہے۔ تو میں نے دھوپ میں دیکھا کہ ایک سایہ میرے اوپر جھپٹ رہا ہے۔ تو فوراً مجھے اندازہ ہو گیا کوئی چیل وغیرہ ہے، اور اس نے اس کو قیمہ سمجھا ہوا ہے۔ تو میں نے فوراً قراقلی ٹوپی اپنے ہاتھ میں لے کر اس طرح نیچے کر لی۔ اس طرح نیچے کر لی اور وہ جو چیل ہے اس طرح dive کر کے پھر دوبارہ اٹھ کر چلا گیا، ظاہر ہے اس کے ہاتھ وہ چیز نہیں آئی۔
لیکن دیکھیں نا میں نے کہا کہ دیکھو یہ ٹوپی جو ہے جو بظاہر قیمہ نظر آ رہا ہے، تو چیل کے لیے اس نے دعوت کا کام دے دیا۔ اب چیل چیل ہی ہے، اس کا کام ہی یہی ہے، وہ ظاہر ہے اُس سے اس کی طرف نہیں آئے گا تو کس کی طرف آئے گا؟ تو اس نے جو غوطہ لگایا اس لیے غوطہ لگایا کہ اس کو اٹھا لے، تو میں نے الحمدللہ اپنا دفاع کر لیا۔ لیکن بہرحال اگر میں ذرا بھی وہ کرتا تو ٹوپی کو اڑا لے جاتا۔ تو اب یہ بات ہے کہ جو عورتیں اس طرح کھلی پھرتی ہوں، یا ان کے جسم کے حصے اس طرح کھلے ہوں، تو یہ چیزیں تو اللہ پاک نے فطرت میں رکھی ہیں۔ پھر اس قسم کے چیل اور گدھ وغیرہ اگر حملہ کر لیں تو یہ بتائیں کہ یہ ان کو دعوت ہے یا نہیں ہے؟ بالکل ان کو دعوت ہے۔ تو پھر ان سے گلہ کیا ہے؟ تو شریعت نے ان چیزوں کو چھپائے رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے۔ چونکہ نماز کا حکم عام ہے مسلمانوں کو، لہٰذا نماز میں اس چیز کو نافذ کر دیا گیا۔ کہ نماز اس کے بغیر ہوتی نہیں اور نماز پڑھنا فرض ہے۔ نماز پڑھنا فرض ہے، اور نماز اس کے بغیر ہوتی نہیں۔ تو لہٰذا اس چیز کو adopt ہی کرنا ہوگا۔ اس چیز کو adopt ہی کرنا ہوگا، تو adopt کر لیا۔
تو اب یہ ہے کہ جہاں جہاں اسلام پہنچا ہے، تو وہاں پر یہ تمدن خود بخود رواج پا گیا۔ اور وہ عرب جس کا ابھی ابھی بتایا گیا جو طواف ننگے کیا کرتے تھے۔ جو طواف ننگے کیا کرتے تھے، سیٹیاں بجاتے تھے، ماشاءاللہ وہ ایسے مہذب بن گئے کہ دوسروں کی حیاؤں کے ماشاءاللہ محافظ بن گئے۔ تو یہ والی بات ہے۔ جس وقت بیت المقدس پہ حملہ ہوا مسلمانوں کا اور مسلمانوں نے ان کا ظاہر ہے بیت المقدس لے لیا، تو اس وقت وہاں کے لوگوں نے یہ planning کی کہ ان کو بے حیائی کی طرف مائل کیا جائے تو انہوں نے ننگی عورتیں سامنے کھڑی کیں۔ تو امیر صاحب نے حکم دے دیا کہ ذرا بھر بھی اوپر نہیں دیکھنا، سب لوگوں نے نیچے دیکھنا ہے۔ اب وہ ساری فوج گزر کے آ گئی، ان کو پتہ بھی نہیں چلا کہ اوپر کیا ہے۔ ان سے بعد میں لوگوں نے پوچھا، انہوں نے کہا ہمیں تو نہیں معلوم کہ اوپر کیا تھا ہم تو نیچے دیکھ کے آ رہے تھے۔ یہ ہے سبحان اللہ اس قسم کے نظارے بھی اللہ پاک نے پھر دکھا دیے۔
تو اب یہ ہے کہ یہ جو نماز کے اندر حیا کا ماشاءاللہ جو نفاذ ہے، وہ الحمدللہ نماز کے بعد... إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ۔ حضرت اس آیت کا معنی آج سمجھ میں آ گیا۔ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ۔ بے شک نماز بے حیائی اور منکرات سے روکنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد تو بڑی چیز ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اگر نماز کے اندر آپ، نماز کے تمام ارکان اور تمام شرائط پر عمل کریں گے، تو اس کے اندر ان تمام چیزوں کا انتظام رکھا گیا ہے کہ اس سے ماشاءاللہ وہ بے حیائی کے کام بھی رک جائیں گے اور منکرات کی جو چیزیں ہیں، ان سے بھی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں گے۔ یہ والی بات ہے، تو آج ماشاءاللہ اس بات کا پتہ چل گیا۔
۔ اس کے بعد تمدن کا دوسرا ابتدائی سبق طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکام میں سے ہے، اقراء کے بعد دوسری ہی وحی میں جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اس میں یہ حکم تھا:
﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾(سورۃ المدثر: 4)
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ۔چنانچہ اسلام نے اس طہارت اور پاکیزگی کے اصول مقرر کئے، اور آنحضرت ﷺ نے اپنی تعلیمات سے اس کے حدود متعین فرمائے اور نماز کی درستی کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ انسان کا بدن، اس کے کپڑے اور اس کی نماز پڑھنے کی جگہ نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک ہو، اہل عرب کو دوسری وحشی قوموں کی طرح طہارت و نظافت کی مطلق تمیز نہ تھی،
یہاں تک کہ ایک بدو نے مسجد نبوی میں آ کر سب کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کر دیا، صحابہؓ اس کو مارنے کو دوڑے، آپ ﷺ نے ان کو روکا اور اس بدو کو اپنے پاس بلا کر نہایت مہربانی سے فرمایا کہ "یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے، اس قسم کی نجاستوں کے لئے یہ موزوں نہیں ہے"، اور صحابہ سے فرمایا کہ اس نجاست پر پانی بہا دو، ایک دفعہ ایک قبر کے پاس سے آپ ﷺ گزرے تو فرمایا کہ "اس قبر والے پر اس لئے عذاب ہو رہا ہے کہ یہ پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا"، غرض اس تعلیم نے جو صرف نماز کے لئے تھی، اہل عرب اور عام مسلمانوں کو پاک و صاف رہنے کا خوگر بنایا، اور استنجاء، بیت الخلا اور طہارت کے وہ آداب سکھائے جن سے آج کی بڑی بڑی متمدن قومیں بھی نا آشنا ہیں۔
اصل میں ایک ہوتی ہے صفائی اور ایک ہوتی ہے پاکی۔ یہ دو چیزیں ہیں۔ صفائی بھی ضروری ہے اور پاکی بھی ضروری ہے۔ صفائی جسم کے لیے ضروری ہے اور پاکی روح کے لیے ضروری ہے۔ صفائی جسم کے لیے ضروری ہے اور پاکی روح کے لیے ضروری ہے۔ اگر پاک چیز نہ ہو، اس کو آپ اس کو استعمال کر لیں تو اس سے آپ کی روح کو نقصان ہوتا ہے، اور اگر صاف چیز نہیں ہو تو آپ کے جسم کو نقصان ہو سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے صفائی ستھرائی دونوں پر شریعت نے زور دیا ہے۔ صفائی میں یہ والی بات بتائی جیسے اپنے گھروں کے سامنے وہ کچرا وچرا نہ ڈالو، کوئی اس طرح یہ جو بات ہے جیسے یہود کرتے ہیں۔ تو یہ صفائی کا ایک وہ تھا، اور اس طریقے سے یعنی جمعہ کے غسل کا جو ہے، اس طرح اور ہم لوگ جو نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، تو اس میں بھی صفائی سب آ جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پاکی بھی شامل ہوتی ہے۔ یعنی مثال کے طور پر بعض دفعہ ایسی چیز ہوتی ہے کہ وہ چیز پاک نہ ہو لیکن صاف کرنے والی ہو۔ تو اس سے وہ چیز صاف تو ہو جائے گی لیکن پاک نہیں ہوگی۔ تو جسم کا فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن روح کا نقصان ہو جائے گا۔ تو نماز کے اندر بالخصوص اور پھر عام حالات میں بھی، ایسے طریقے اختیار کرنا جن سے صفائی بھی حاصل ہو اور جن سے پاکی بھی حاصل ہو، اسلام اس پر زور دیتا ہے۔
نجاستوں سے اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو صاف رکھنے کی تعلیم دی، جو صحابہ طہارت کا اہتمام کرتے تھے خدا نے ان کی مدح فرمائی:
﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾(سورۃ التوبہ: 108)
"اس مسجد میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک و صاف رہیں، اور اللہ تعالیٰ پاک و صاف رہنے والوں کو پیار کرتا ہے۔"
دیکھیں پاکی بھی ہے، صفائی بھی ہے۔ پاک و صاف رہنے والوں کو ماشاءاللہ پیار کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صفائی پسند بھی ہیں اور پاکی پسند بھی ہیں، تو اللہ جل شانہٗ کے نزدیک وہ ماشاءاللہ پیارے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت فرماتے ہیں۔ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ۔ تو یہ ان کے لیے ہے۔ یہ قباء مسجد کے جو نمازی تھے ان کے لیے یہ نازل ہوئی تھی۔ تو آپ ﷺ نے خصوصی طور پر ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آیت آپ لوگوں کے لیے اتری ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم جب استنجاء کرتے ہیں تو اس سے پہلے ہم ڈھیلے کے ساتھ استنجاء خشک کرتے ہیں پھر پانی کے ذریعے سے ہم وہ طہارت کرتے ہیں۔
یعنی دونوں ڈبل چیزیں۔ یعنی پہلے مٹی کے ساتھ خشک کرنا استنجاء، اور پھر اس کے بعد پانی کے ذریعے سے۔ یعنی اس میں بہت زبردست، کیونکہ مٹی کے ساتھ استنجاء خشک کرنے کا (فائدہ) یہ ہوتا ہے کہ یہ تو کھڑے ہو کر بھی کیا جا سکتا ہے، تو اس سے پھر یہ خطرہ ختم ہو جاتا ہے کہ کوئی drop بعد میں آئے گا۔ اور پھر اس کے بعد آپ بیٹھ کر وہ پانی کے ساتھ بھی کر لیتے ہیں تو اس سے یہ ہوتا ہے کہ ماشاءاللہ پاکی بھی حاصل ہو گئی اور صفائی بھی حاصل ہو گئی اور ماشاءاللہ یہ اللہ تعالیٰ کو چونکہ بہت پسند ہے تو اللہ پاک نے ان کے لیے یہ آیتِ کریمہ اتاری۔
جب اسلام نے طہارت و پاکیزگی کو خدا کے پیار کرنے کا ذریعہ ٹھہرایا تو اس نعمت سے محرومی کو کون پسند کر سکتا ہے؟
3۔ نماز کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے جسم اور اعضاء کے پاک اور ستھرا رکھنے پر مجبور کرتی ہے، دن میں عموماً پانچ دفعہ ہر نمازی کو منہ ہاتھ پاؤں جو اکثر کھلے رہتے ہیں ان کے دھونے کی ضرورت پیش آتی ہے، ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرنی ہوتی ہے، ایک بڑے ڈاکٹر نے مجھ سے یہ کہا کہ آج کل کے جراثیم کے نظریہ کی بناء پر بہت سی بیماریاں ناک کی سانس کے ذریعہ جراثیم کے بدن کے اندر جانے سے پیدا ہوتی ہیں اور ناک کے نتھنوں کو پانی ڈال کر صاف کرنے سے یہ جراثیم دور ہوتے ہیں۔
بہت ساری باتیں ابھی کھلتی ہیں مطلب کھل رہی ہیں۔ ہم لوگ اس کے لیے نہیں کر رہے، کیونکہ چودہ سو سال پہلے تو یہ چیزیں نہیں معلوم تھیں لوگوں کو۔ ہم لوگ اس کے لیے نہیں کر رہے کہ ہمیں یہ فائدے ہوں گے تو پھر ہم کریں گے۔ لیکن یہ فائدے بطور اضافی فائدوں کے خود بخود حاصل ہو ہی جاتے ہیں۔ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس کے اندر اللہ پاک نے ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن کی ضرورت اب ڈاکٹر لوگ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اس طرح کرو، اس طرح کرو، اس طرح کرو۔ تو اس سے یہ فائدہ ہو گا، اس سے یہ فائدہ ہو گا، اس سے یہ فائدہ ہو گا۔ لیکن ہمارے لیے نماز کے اندر وہ اللہ تعالیٰ نے وہ خوبیاں خود ہی رکھی ہیں۔ خود ہی رکھی ہیں۔ تو اگرچہ ہم لوگ یہ چیزیں لوگوں کو نہیں بتاتے، تاکہ لوگ صرف اس مقصد کے لیے نہ کریں کیونکہ پھر ظاہر ہے وہ اخلاص والی بات نہیں حاصل ہو گی۔ لیکن بہرحال اس کے جو اپنے فوائد ہیں، وہ ہیں تو صحیح۔ وہ اگر ہم لوگ اس نیت سے نہ بھی کریں، پھر بھی وہ چیزیں یہاں تو ہمیں حاصل تو ہوں گی نا۔
ذرا یعنی مثال کے طور پر میں وضو کرتا ہوں اور وضو کرنے سے میرا چہرہ جو دھلتا ہے، اس سے مجھے بالخصوص کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں medically۔ جن کا مجھے علم نہیں ہے۔ تو کیا اگر مجھے علم نہ ہو تو فائدے مجھے حاصل نہیں ہوں گے؟ پھر بھی حاصل ہوں گے۔ اگرچہ مجھے ان کا پتہ نہیں ہو گا۔ لیکن بہرحال وہ فائدے تو ہمیں حاصل ہوں گے۔ تو مسلمان جو ہیں اس کو اللہ کا حکم سمجھ کر کرتے ہیں اور ان کو فائدے ویسے ہی ساتھ حاصل ہو جاتے ہیں۔
دنیا میں اسلام کے سوا اور کوئی مذہب نہیں ہے جس نے ناک میں پانی ڈالنا ضروری قرار دیا ہو، حالانکہ طبی حیثیت سے یہ سب سے زیادہ ضروری چیز ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام کس قدر طبی اصول پر مبنی ہیں، نمازوں کو پنج وقتہ وضو کی ہدایت کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم نازل ہوا، اس ملک میں جہاں پانی سب سے زیادہ کمیاب ہے۔اہل عرب اور خصوصاً بدو دانتوں کو بہت کم صاف کرتے ہیں، جس سے گندہ دہنی اور بدنمائی کے علاوہ طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، آنحضرت ﷺ نے ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کی اتنی تاکید فرمائی ہے کہ گویا وجوب کے قریب پہنچ گئی اور فرمایا کہ "اگر میری امت پر یہ شاق نہ گزرتا تو میں اس کو ضروری قرار دیتا"۔اسی پانی کی کمی کی وجہ سے اہل عرب نہاتے کم تھے، ان کے کپڑے عموماً اون کے ہوا کرتے تھے، وہ محنت مزدوری کرتے تھے جس سے پسینہ میں شرابور ہو جاتے تھے اور چونکہ ایک ایک کپڑے کو ہفتوں پہنے رکھتے تھے، اس لئے جب مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو ان کے بدن اور کپڑوں سے بدبو آتی تھی، اس بناء پر اسلام نے ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ جمعہ کو نماز سے پہلے غسل کرنا اور نہانا مستحب و واجب کر دیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
﴿غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلٰى كُلِّ مُحْتَلِمٍ﴾(صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ)
جمعہ کے دن نہانا ہر بالغ پر ضروری ہے۔اسی کے ساتھ اس دن دھلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو ملنا اور صفائی و نظافت کے دوسرے امور کو مستحسن قرار دیا، بعض حالات میں غسل کرنا فرض قرار دیا، جس کے بغیر کوئی نماز ممکن ہی نہیں، فرمایا:
﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾(سورۃ المائدہ: 6)
اور اگر تم ناپاک ہو گئے ہو تو نہا کر اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔
یہاں پر بھی ذرا ہم ذرا دیکھیں تو ایک طرف وہ یورپ کا جو علاقہ ہے جہاں پر باقاعدہ ہفتوں نہیں، مہینوں لوگ نہیں نہاتے تھے۔ بلکہ سالوں۔ اور وہ عطر کے ذریعے سے اس کی compensation کرتے تھے۔ عطر اپنے جسم پر ملتے تھے تاکہ ان کے ان کے جسم سے بدبو نہ آئے، لیکن نہاتے نہیں تھے۔ نہانا ان کو ترکوں نے سکھایا ہے۔ جب ترک یورپ پر قابض ہو گئے۔ اور spain نے سکھایا ہے۔ جب spain میں مسلمان آباد ہو گئے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں نے نہانا سیکھا ہے۔ پہلے ان کو نہانا آتا ہی نہیں تھا، نہانے کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ تو یہ جو مطلب نظافت والی جو بات ہے، یہ مسلمانوں نے ان کو سکھائی ہے۔ ان کے ہاں اس بات کی نہیں، جبکہ مطلب دیکھیں نا ایسی جگہ جہاں پانی کی بھی کمی تھی۔ اور جہاں اس قسم کے حالات تھے وہ چودہ سو سال سے وہ چیز چلی آ رہی تھی۔
4۔ پابندی وقت:انسان کی کامیاب عملی زندگی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے تمام کام مقررہ اوقات پر انجام پائیں، انسان فطرتاً آرام پسند اور راحت طلب پیدا ہوا ہے، اس کو پابند اوقات بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بعض کاموں کے اوقات جبراً مقرر کر دیئے جائیں، جیسا کہ کاروبار کے کاموں میں آپ کو یہ اصول نظر آتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے دوسرے کاموں کے اوقات بھی ان کی خاطر مقرر کر لیتا ہے، اور اس طرح اس کی زندگی باقاعدہ ہو جاتی ہے، اور اس کا وقت فضول برباد نہیں ہوتا، نماز کے اوقات چونکہ مقرر ہیں، اس لئے وہ لوگ جو نماز کے پابند ہیں، خصوصاً نماز باجماعت کے، ان کے اوقات خود بخود منظم ہو جاتے ہیں، ان کے دن رات کے کام باقاعدہ انجام پاتے ہیں، اور نماز کے اوقات ان کے کاموں کا معیار ہو جاتے ہیں، وقت پر سونا اور وقت پر اٹھنا ان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے، مشہور صحابی حضرت سلمان فارسیؓ کا مقولہ ہے:
﴿الصَّلَاةُ مِكْيَالٌ فَمَنْ أَوْفَىٰ أَوْفَىٰ بِهِ وَمَنْ طَفَّفَ فَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا لِلْمُطَفِّفِيْنَ﴾نماز ایک پیمانہ ہے، جس نے اس کو پورا ناپا، اس کو پورا ناپ دیا جائے گا، اور جس نے ناپنے میں کمی کی، تو تمہیں کم ناپنے والوں کی سزا معلوم ہے۔اس قول کے جہاں اور مطلب ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نماز ہر مسلمان کے کام کا پیمانہ ہے، اسی سے اس کی ہر چیز ناپی جا سکتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو معاملہ آپ کا نماز کے ساتھ ہے، وہ آپ کا باقی معمولات کے ساتھ بھی چل پڑے گا۔ یعنی آپ کی زندگی کے جو دوسرے کام ہیں وہ نماز کی نہج پر آ جائیں تو ان کے اندر انتظام آ جائے گا۔ ان کے اندر نظام آ جائے گا۔ مثال کے طور پر جیسے ایک امام کے پیچھے ہم کھڑے ہوتے ہیں، اور وہ اللہ اکبر کہتا ہے، ہم بھی اللہ اکبر کہتے ہیں، وہ جھکتا ہے تو ہم بھی جھکتے ہیں، وہ اٹھتا ہے تو ہم بھی اٹھتے ہیں۔ یہ امیر کی اطاعت کی بات ہو گئی۔ کہ مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے اندر امیر کی اطاعت کا مطلب کیا ہے۔ تو یہ تمام چیزیں جو ہماری نماز کے اندر جو اللہ پاک نے رکھی ہیں، ان سے ہماری معاشرت ساری کی ساری بہتر ہو جاتی ہے۔ معاشرت بہتر ہو جاتی ہے۔
5۔ صبح خیزی:طب اور حفظان صحت کے اصول سے رات کو سویرے سونا اور صبح کو طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہونا جس درجہ ضروری ہے، وہ مخفی نہیں، جو لوگ نماز کے پابند ہیں، وہ اس اصول کی خلاف ورزی کبھی نہیں کر سکتے، جب تک رات کو وقت پر سویا نہ جائے گا، صبح کو وقت پر آنکھ نہیں کھل سکتی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے رات کو نماز عشاء کے بعد بے کار باتیں کرنے سے اور قصہ کہانی سے منع فرمایا ہے تا کہ وقت پر سونے سے وقت پر آنکھ کھل سکے، اور صبح خیزی مسلمانوں کی عادت ہو جائے، اور صبح کو مؤذن کی پر تاثیر آواز:
﴿الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ﴾سونے سے نماز بہتر ہے۔ان کو بے تابانہ اپنے خواب کے بستر سے اٹھا دے۔
یہ بات، یعنی واقعتاً جن قوموں نے بھی دنیا پر حکومت کی ہے، ان کے اندر سحر خیزی کا وہ موجود ہے۔ صبح سویرے اٹھنا۔ صبح سویرے اٹھنا، یہ ان کے معمولات میں ہوا کرتا ہے۔ یہ ہماری جو فوج ہوتی ہے، ان کو یہ Training ہے، اس میں بھی یہ چیز شامل ہوتی ہے۔ کہ صبح سویرے اٹھنا اور پھر ان کے کچھ معمولات ہوتے ہیں، ان کو کرنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو دن کی ابتدا ہے، وہ آپ کے تمام اعمال کا انتظام کرتی ہے۔ جس طرح آپ ابتدا کرتے ہیں، باقی آپ کا دن اسی طریقے سے چلتا ہے۔ یہ ہم نے دیکھا ہے کہ اب لوگ یہ جو لیٹ اٹھتے ہیں، اور لیٹ ناشتہ کرتے ہیں گیارہ بجے تقریباً بعض لوگ ناشتہ کرتے ہیں، تو ان کا ناشتہ گیارہ بجے جب ہو گیا تو ان کا Lunch کس وقت ہو گا پھر؟ ان کا Lunch ہو گا چار بجے۔ اور ان کا Dinner کس وقت ہو گا پھر؟ ظاہر ہے وہ رات کے گیارہ بجے ہو گا۔ اب گیارہ بجے Dinner کرے گا، تو سوئے گا کس وقت؟ اگر جلدی سوتا ہے اس کے فوراً بعد تو بیمار۔ اور اگر دیر کرتا ہے تو نماز گئی۔ اب کتنا نقصان ہوا؟ یعنی دیر سے ناشتہ کرنے کا کتنا نقصان ہے؟ یہ ایک معاشرتی نقصان ہے۔ اگر ذرا بھی ہم اس کے ان تمام عواقب کے اوپر نظر دوڑائیں تو ہمیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ سحر خیزی جو ہے، یہ بہت بڑی دولت ہے۔ سحر خیزی بہت بڑی دولت ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، بہت اہم بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دیکھیں! عموماً لوگ خبریں سنتے ہیں۔ سنتے ہیں نا؟ اور سردیوں میں نو بجے کافی دیر ہوتی ہے۔ تو نو بجے خبروں کے لیے، نو بجے تک وہ جاگتے رہتے ہیں۔ اب یہ خبریں جو ہیں، آج کل مثال کے طور پر یہ ساری کی ساری آپ کے Mobile پر موجود ہوتی ہیں پہلے سے۔ نہیں تو آپ صبح اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ اب خبریں سننے کے لیے، مطلب وہ نہ فرض ہے، نہ واجب ہے، نہ سنت ہے، نہ مستحب ہے۔ اس کے لیے آپ کون سی چیز کو قربان کر رہے ہیں؟ نماز کو قربان کر رہے ہیں فجر کی۔ کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں کون سی چیز کے لیے؟ جس کو آپ ویسے بھی کر سکتے ہیں۔
ایک دفعہ ایسا ہوا تھا مجھ سے میں میرے بعض ساتھیوں نے پوچھا کہ آپ TV دیکھتے ہیں خبریں؟ میں نے کہا نہیں۔ اخبار؟ میں نے کہا اتنا زیادہ نہیں۔ تو پھر آپ کو پتہ کیسے چلتا ہے؟ میں نے کہا پتہ چلتا ہے نا آپ جو کہہ رہے ہیں وہ سارا مجھے پتہ چل رہا ہے نا۔ کون سی بات ہے جو مجھ سے چھپی ہوئی ہے اور آپ کو پتہ ہے اور مجھے پتہ نہیں ہے؟ وہ جو خبر ہوگی وہ مجھے پہنچ جائے گی، اور جو خبر نہیں ہوگی، فضول بات ہوگی، تو میں اس کے پیچھے کیوں پڑوں؟ خوامخواہ ان کے پیچھے میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟ اور جو اصل خبر ہوگی، وہ تو سب جگہ پھیل جاتی ہے۔ وہ تو مطلب یہ ہے کہ وہ آپ نہیں بھی سننا چاہتے تو آپ سن لیتے ہیں۔ تو ضرورت ہی کیا ہے کہ آپ اس کے لیے اتنا بڑا نقصان کر لیں۔ تو یہ اصل میں شیطانی باتیں ہیں ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان بہت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ہم کتنی معمولی چیز کے لیے کتنی بڑی چیز کا نقصان کر رہے ہیں۔ فجر کی نماز، سبحان اللہ! کتنی بڑی چیز ہے۔ اس کو کون سی چیز کے لیے ہم قربان کر رہے ہیں؟ کیا چیز ہے وہ؟ اور فضول گپ شپ، ویسے ہی ادھر ادھر کی باتیں۔ یہ وہ سارا، اس کا کوئی سر نہ پیر۔
اور سیاسی مباحثیں۔ خدا کے بندو! سیاسی مباحثے میں نہیں منع کرتا کہ وہ نہیں ہونے چاہئیں، لیکن ہر وقت نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ مطلب ظاہر ہے آپ اس سے بے شک اپنے آپ کو باخبر رکھیں، لیکن جب ضرورت ہو تو اس کو پھر استعمال بھی کر لیں۔ صحیح لوگوں کو پہچان بھی لیں۔ صرف سیاسی بحث کرنے سے اور سیاسی باتیں سوچنے سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا؟ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ اسلام آباد میں ہوتا ہے۔ کہ اسلام آباد میں بہت سارے لوگ ووٹ نہیں ڈالتے۔ اور سب سے زیادہ سیاسی بحثیں اسلام آباد میں ہوتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے؟ بہت سارے لوگ ووٹ نہیں ڈالتے۔ کیوں، وہ دوسری جگہوں پہ ہوتے ہیں ان کے تو، پہنچ جاتے ہیں، وہ ووٹ کے دنوں میں ادھر ادھر چلے جاتے ہیں۔ یہاں پر ان کے ووٹ ویسے پڑے رہتے ہیں۔ اور کیا ہے، بحث سب سے زیادہ یہاں پر ہوتی ہیں سیاسی۔ تو خوامخواہ اپنے آپ کو اور اپنے اوقات کو ضائع کرنا یہ کون سا طریقہ ہے؟ تو ان چیزوں کے لیے اپنے آپ کو انسان محروم نہ کرے، اتنی بڑی نعمت سے۔
6۔ اللہ کا خوف:ایک مسلمان جو نماز پڑھتا ہے، جب کبھی غلطی سے یا بشری کمزوری سے اس کا قدم ڈگمگاتا ہے، تو رحمت الٰہی اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے، اس کو اپنے فعل پر ندامت ہوتی ہے، اس کو اپنے خدا کے سامنے جاتے ہوئے شرم آتی ہے، اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے، وہ لوگوں سے اس بناء پر شرماتا ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ نمازی ہو کر اس قسم کے افعال کا مرتکب ہوتا ہے، کہ اس کے پاؤں بدی کے راستہ پر پڑتے وقت کانپتے ہیں، غرض نماز انسان کے اخلاقی حاسہ کو بیدار کرتی ہے اور برائیوں سے بچاتی ہے، اور خود خدا نے نماز کا وصف یہ بیان کیا ہے:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾(سورۃ العنکبوت: 45)
بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔
دیکھیں سب سے زیادہ نقصان جو ہوتا ہے انسان کو، اس سے ہوتا ہے کہ انسان کو یاد نہ ہو کوئی چیز۔ یعنی ایک ضروری چیز یاد نہ ہو۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت ضروری بات ہوتی ہے اور آپ کو وقت پہ یاد نہیں رہتی۔ تو بعد میں آپ افسوس کرتے ہیں کہ اوہو! یہ کیا ہو گیا دیکھو میں بھول گیا تھا۔ کاش میں اس کو یاد کر لیتا تو مجھے یہ نقصان نہ ہوتا۔ تو اب یہ بات ہے کہ سب سے بڑی بات کہ انسان کو اگر اللہ یاد نہ رہے تو گناہوں میں پڑ جاتا ہے اور اپنی عاقبت سے غافل ہو جاتا ہے۔ اب ایسی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رہے یا آپ کو کوئی یاد دلائے تو کتنی اچھی بات ہو گی؟ اب یہ پانچ وقت جو نماز آپ پڑھتے ہیں، یہ آپ کو یاد دلا رہی ہے، یاد دلا رہی ہے۔ یہ چیز اتنی زیادہ شیطان کے اوپر بھاری ہے کہ اللہ کو یاد دلانے والی سب سے بڑی چیز جو ہے نا وہ اذان ہے۔ سب سے بڑی چیز کیا ہے؟ اذان ہے۔ اس وجہ سے شیطان اذان سے سب سے زیادہ گھبراتا ہے، اور جس وقت اذان ہو رہی ہے تو بہت ڈر کے مارے پیچھے بھاگتا ہے۔ بہت دور چلا جاتا ہے۔ پھر جس وقت وہ ختم ہو جاتی ہے، پھر واپس آتا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اس کو پتہ ہے کہ اس کا وزن کیا ہے۔ اس کا زور کیا ہے۔ اس کو پتہ ہوتا ہے۔ اللہ اکبر کا کیا زور ہے، حی علی الصلاۃ کا کیا زور ہے، حی علی الفلاح کا کیا زور ہے۔ یہ آدمی کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب ایسے ملک میں چلا جاتا ہے جہاں اذان کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ اذان کیا چیز ہے۔ اذان کا کیا Influence ہے۔ جس وقت یہ بوسنیا آزاد ہو گیا، تو یہ بوسنیا تقریباً یورپ کا مرکز ہے۔ تو اس کی جو مرکزی جامع مسجد ہے، اس سے اذان جو ہو رہی تھی، BBC نے اس کو سنوایا تھا، مطلب پورے ریڈیو پر جو ہے نا وہ۔ تو مجھے بھی رونا آ گیا۔ میں نے کہا آج کفر پر کتنا بڑا لرزہ طاری ہو گا کہ عین یورپ کے وسط میں جامع مسجد سے اذان کی آواز پوری دنیا میں جا رہی ہے۔
یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ تو اس طریقے سے یہ بہت بہت بڑی بات ہے کہ کوئی چیز آپ کو یاد دلائے کہ تم اللہ کے بندے ہو۔ اور تمہیں اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ کی بات ماننی چاہیے۔ تو نماز کے اندر یہ خوبی ہے کہ آپ کو اذان کے ذریعے سے اور پھر نماز کے ذریعے سے اللہ یاد دلاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کو تنبیہ ہو جاتی ہے اگر کچھ غلط کاموں میں انسان مصروف ہوتا ہے تو اگر اس نے واقعی نماز پڑھی ہے، تو اس کو شرم و حیا بھی آ جاتی ہے۔ کچھ خیال بھی آ جاتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں تو توبہ کرنے کی توفیق بھی ہو جاتی ہے۔
ایک صاحب تھے وہ فلم کا عادی تھا، لیکن تھا نمازی۔ فلم کا عادی تھا۔ تو اس نے کہا کہ میں نے، ہاف ٹائم ہوتا تھا نا ہاف ٹائم فلم کا۔ کہتا اس میں میں نے جماعتیں کرائی ہیں، کیونکہ تھا نمازی اور باوضو، باوضو فلم دیکھتا تھا۔ تو وہ ادھر جا کر بس وہ چند کپڑے اپنے ساتھ لے جا کر بچھا کے اذان بھی دیتا تھا اور لوگ ان کے ساتھ جو ان کی طرح ہوتے تھے، تو نماز پڑھ لیتے تھے، چاہے پانچ چاہے چھ چاہے سات۔ اسی نماز نے اس کو فلم سے روک دیا۔ کیسے؟ پشاور کے میرا خیال میں ہاں تین سینما اکٹھے ہیں ایک جگہ پہ، یہ ایک جگہ پہ تین سینما اکٹھے ہیں۔ اس میں سے ایک میں اس کی بڑی پسندیدہ فلم لگی ہوئی تھی۔ اور کافی دور سے اس کے لیے آیا تھا، اپنے گاؤں سے آیا تھا۔ تو ظاہر ہے اس کا وہ عادی تھا، ہاف ٹائم میں نماز پڑھنے کا وہ عادی تھا۔ تو ہاف ٹائم میں جب نماز کے لیے نکلا تو وہاں کوئی مسجد اس کو نظر نہیں آئی۔ بہت Busy علاقہ ہے۔ تو کوئی مسجد اس کو نظر نہیں آئی۔ تو جس سے بھی پوچھتا تھا، اس کو بھی پتہ نہیں تھا۔ تو حیران تھا کہ کیا کیسا علاقہ ہے پشاور اور وہاں پر مسجد کی جگہ نہیں ہے کہ کیسے عجیب بات ہے؟ تو خیر بہرحال وہ نماز کو چھوڑ نہیں سکتا تھا، تو وہ چلتا جا رہا تھا جا رہا تھا ادھر ہاف ٹائم کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وہ نماز کو چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ تو اتنے میں ایک چھوٹی سی مسجد کہیں مزار کے پاس، کسی کوئی مزار کے پاس ایک چھوٹی سی مسجد، مطلب اس (خانقاہ) کی آدھی بھی نہیں، مطلب اس سے آدھی سے بھی کم، اتنی چھوٹی سی مسجد تھی وہاں پر، آپ کہہ سکتے ہیں گویا ایک کمرہ ہی ہو گا۔ وہاں پر وہ پہنچ گیا، تو شکر ادا کیا اس نے کہا اور جا کر اندر جا کر جیسے ہی نیت باندھی، اس کے دل پہ یہ بات اتری کہ کب تک اس چیز کے... اب چھوڑ بھی دو نا یہ فلم دیکھنا، چھوڑ بھی دو۔ قبولیت ہو گئی نا، مطلب ظاہر ہے۔ اس نے جو محنت کی یا قربانی کی نماز کے لیے تو بس قبولیت ہو گئی، تو اس کے دل میں یہ بات آ گئی خود ہی۔ بتا رہے ہیں کہ کب تک یہ چیز رہے گی؟ اچھا پھر جس وقت اس نے نماز پوری کی، اس کے بعد اس نے یہ ہوشیاری کی، اس نے کہا کہ اگر میں نے یہ فلم آدھی میں چھوڑ دی نا، تو یہ مجھے بار بار اس پہ مجبور کرے گا کہ پتہ نہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ پتہ نہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ تو خوامخواہ میری توبہ ٹوٹ جائے گی تو اس کو دیکھو پھر توبہ کر لو۔ تو اس نے اس کو مکمل کیا اور پھر اس کے بعد ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ یہ ایک واقعہ ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات۔
تو یہ نماز کی بالکل صاف کرامت ہے کہ نماز نے اخیر میں اس کو روک ہی دیا نا۔ چونکہ اس نے فلم کے لیے نماز نہیں چھوڑی، تو نماز نے اس کو فلم کا نہیں چھوڑا۔ اس نے ماشاءاللہ اس نے وہ جو ہے نا فلم اس سے چھڑوا دی۔ تو اسی طریقے سے اگر ہم کسی غلط سوسائیٹی کے لیے نماز نہ چھوڑیں، تو نماز آپ کو غلط سوسائیٹی سے بالآخر نکال ہی دے گی، نکال ہی دے گی۔ نماز کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو۔ کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو۔ یعنی ایسی ہو کہ بالکل جیسے آپ کہہ دیں، یعنی آپ دیکھیں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس وقت سجدہ کیا تھا؟ کون سا وقت تھا وہ؟ بالکل جب وقتِ شہادت، اس وقت اس نے یہ سجدہ کیا ہے۔ تو یہ بہت اونچی چیز ہے۔ بہت اونچی چیز ہے۔ لہٰذا نماز کو کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اور نماز کو پڑھنا چاہیے۔ نماز آپ کو ماشاءاللہ اپنی طرف لے ہی آئے گی۔
ہوشیاری: نماز، عقل، ہوش، بیداری اور آیاتِ الٰہی میں تدبر و غور، خدا کی تسبیح و تہلیل اور اپنے لیے دعائے مغفرت کا نام ہے۔ اس لیے وہ تمام چیزیں جو انسان کے عقل و ہوش اور فہم و احساس کو کھو دیں، نماز کی حقیقت کے منافی ہیں۔ اس لیے اس وقت بھی جب شراب کی ممانعت نہیں ہوئی تھی اس کو پی کر نشے کی حالت میں نماز پڑھنا، نماز پڑھنا جائز نہیں تھا۔ لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ۔ نشے کی حالت میں تم نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ جو کچھ کہتے ہو۔ اس بنا پر ایک نماز کا پابند آدمی تمام ایسی چیزوں سے جو اس کے عقل و ہوش کو گم کر دیں قطعاً پرہیز کرے گا۔
مسلمان کا امتیازی نشان: مذہبی، بلکہ سیاسی حیثیت سے بھی اسلام کو سب سے زیادہ مخلصین اور منافقین کے امتیاز کی ضرورت تھی۔ قانون ان دونوں گروہوں میں کوئی امتیاز نہیں کر سکتا تھا۔ احکام میں حج ایک ایسی چیز تھی جس کے اہلِ عرب مدت سے خوگر تھے۔ اس کے ساتھ ان کے مذاق کی چیز تھی، خلائق کا اجتماع ایک میلے کی صورت اختیار کر لیتا تھا جو عرب کے تمدن کا ایک لازمی جزو تھا۔ فخر و امتیاز کے مواقع بھی اس میں حاصل ہو سکتے تھے۔ گویا اسلام نے اس کی اصلاح کر دی، زکوٰۃ بھی کوئی حدِ فاصل نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اکثر منافقین متمول تھے اور یہ جاہ و فخر کا بھی ذریعہ ہو سکتی تھی۔ اس کے ساتھ عرب کی فیاض طبیعت پر بھی گراں نہیں ہو سکتی تھی۔ فقراء کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ بھی فطری ہے۔ صرف معمولی تحریک کی ضرورت تھی۔ روزہ بھی اس کا معیار نہیں قرار پایا کیونکہ روزے میں چھپے چھپے کھا لینے کا موقع آسانی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ صرف نماز ایک ایسی چیز ہے جو ان دو گروہوں میں حدِ فاصل ہو سکتی تھی۔ چنانچہ قرآن پاک نے اس فریضے میں سستی کو منافقین کی خاص پہچان قرار دیا۔ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ۔ جب وہ نماز پڑھنے کو اٹھتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ اٹھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کام انسان مجبوراً کرتا ہے، اس کی شان اور ہوتی ہے۔ اور جو انسان ولولے کے ساتھ جو کام کرتا ہے، اس کی شان اور ہوتی ہے۔ تو منافق کو تو پتہ ہوتا ہے نا کہ وہ اندر سے تو کافر ہوتا ہے۔ اندر سے مسلمان ہوتا نہیں ہے، تو ان کے لیے ایک مفت کی پھٹیگ ہے۔ وہ کیوں، وہ کیوں جو ہے نا مطلب نماز پڑھے؟ لیکن پڑھنا تو ہوتا ہے لوگوں کے سامنے۔ تو وہ جو بس جس کو کہتے ہیں نا بس صرف وہ یعنی اس کی Routine ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا اس کے، دلی Attachment اس کے ساتھ کچھ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً اس کی نماز بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہ سستی والی نماز ہوتی ہے۔ بس اس میں جو ہے نا بس مردہ مردہ وہ جو ہے نا وہ جو یعنی کام ہوتے ہیں۔ سجدے میں بھی، رکوع میں بھی، کوئی خاص مطلب اس میں والہانہ پن نہیں ہوتا۔کیوں، وجہ کیا ہے؟ دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، وجہ یہ ہے کہ پانچ وقت نماز پڑھنی پڑتی ہے۔ پانچ وقت، تو پانچ وقت میں آپ اپنی Will power کے ساتھ کتنی دفعہ کر سکیں گے؟ تو ظاہر ہے کبھی تو آپ ظاہر ہو ہی جائیں گے۔ چونکہ ظاہر ہے اندرونی تحریک ہے نہیں تو بیرونی طور پر آپ کب تک چلائیں گے؟ اس وجہ سے پتہ چل جاتا ہے۔
وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ۔ خشوع و خضوع والوں کے علاوہ سب پر نماز... نماز سب پر گراں ہے۔ خصوصاً عشاء اور فجر کی نماز کہ یہ نسبتاً راحت کے اوقات ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ۔ منافقین پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی نماز گراں نہیں۔ گویا ان پر کوئی نماز زیادہ گراں نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب ہم صحابہ کسی کو عشاء اور صبح کی نمازوں میں غیر حاضر پاتے تھے تو ہم اس سے بدگمان ہو جاتے تھے کہ کہیں منافق تو نہیں۔
مدینہ آ کر نماز میں قبلے کی تبدیلی جہاں اور مصلحتیں اس کی تھیں وہاں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس سے مخلصین اور منافقین کی تمیز ہو جائے۔ مکہ معظمہ کے لوگ جو کعبہ کی عظمت کے قائل تھے بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ مدینہ میں یہود آباد تھے جن میں سے کچھ مسلمان ہو گئے تھے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبے کی عظمت تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس لیے عرب منافقین کی پہچان بیت المقدس کو قبلہ بنانے سے اور یہود منافقین کی پہچان کعبے کو قبلہ بنانے سے ہو سکتی تھی۔
کیا مطلب یہ کہ جو عرب تھے وہ بیت المقدس مجبورا نماز پڑھتے تھے نا۔ تو ان کا دل تو نہیں چاہتا تھا۔ اور جو یہود مسلمان تھے، منافقین تھے بظاہر۔۔۔ منافقین بظاہر مسلمان تھے، تو ان کے لیے خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا بہت مشکل تھا۔
چنانچہ قرآن پاک میں ہے، وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ۔ اور جس قبلے پر تم ہو اس کو ہم نے قبلہ نہیں بنایا لیکن اس لیے تاکہ ہم ان کو جو رسول کی پیروی کرتے ہیں، ان سے الگ کر دیں جو الٹے پاؤں پھر جائیں گے اور یہ قبلہ گراں ہوا لیکن ان پر جن کو خدا نے ہدایت دکھائی۔
یہ پہچان و شناخت اب قیامت تک رہے گی۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا، جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی وہ مسلمان ہے۔باطل کی شکست اور حق کی خاطر لڑنا انسان کا فرض ہے۔ اس فرض کو انجام دینے کے لیے انسان کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ اس تیاری کا نقشہ ہماری روزانہ کی نمازوں میں ہے۔ نمازیں ہیں، چنانچہ ابو داؤد میں ہے كَانَ النَّبِيُّ وَالْجُيُوشُ إِذَا عَلَوْا كَبَّرُوا وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا، فَوُضِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَى ذَلِكَ۔ آپ ﷺ اور آپ کا لشکر جب پہاڑی پر چڑھتا تو تکبیر، اور جب نیچے اترتا تو تسبیح کہتا تھا۔ نماز اسی طریقے پر قائم کی گئی۔
تو میرے خیال میں یہ آج کے لیے کافی ہے۔ اب انشاءاللہ ہم درود شریف پڑھیں گے۔ یہ جمعہ کی رات ہے۔ اور جمعہ کی رات میں آپ ﷺ کی طرف سے خصوصی فرمائش کی گئی ہے کہ نورانی دن اور نورانی رات میں مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجو۔ کثرت کے ساتھ۔ اس وجہ سے ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جمعرات یعنی جمعہ کی رات، اور جمعہ کے دن، جمعہ کے دن عصر کے بعد اور جمعہ کی رات کو ظاہر ہے مغرب کے بعد۔ ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ درود شریف پڑھیں زیادہ۔ تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انشاءاللہ العزیز ہم درود شریف پڑھیں گے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ محبت کے ساتھ پڑھا جائے تو اور بات ہے۔ محبت کے ساتھ، جذبے کے ساتھ پڑھا جائے۔ آپ ﷺ کے ساتھ محبت ہو۔ ویسے آپ ﷺ کی محبت جو ہے نا، یہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایمان کی تکمیل کی، بتائی گئی نا آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہے جب تک مجھ سے، اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرو۔ اور ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب تک اپنے آپ سے بھی مجھ سے زیادہ محبت نہ کرو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محبت تو ہے ہی ویسے ضروری، لیکن درود شریف پڑھتے وقت اگر اس محبت کو بڑھایا جائے، تو مزید ماشاءاللہ اس کے اندر وہ طاقت آ جاتی ہے۔ کیونکہ درود شریف یہ ہمیں آپ ﷺ کے قریب کرنے والا ہے اور سنت اعمال پر لانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس وجہ سے ہم کوشش کرتے ہیں کہ دونوں کو جمع کر لیں۔ تو پہلے نعت سنی جائے گی ان شاءاللہ، پھر اس کے بعد ان شاءاللہ درود شریف کی مجلس ہو گی۔
یہ حافظ صاحب والی جو نعت ہے نا، اس نعت شریف کا ایک واقعہ بھی ہے پہلے سن پھر آپ کو واقعہ بتائے گے۔
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں
وہ ہیں محبوب ِ رب ِّ کریم مصطفے ٰ
وہ کہ مظہر ہدایت کے ہیں مجتبے ٰ
تو مری اب زباں پہ ہو صلِّ علی ٰ
اب درود و سلام میں ہمیشہ پڑھوں ، دل سے میں ہر جگہ صرف یہاں ہی نہیں
ہیں سراپا وہ رحمت ہمارے لئے
ان کا رستہ ہدایت ہمارے لئے
منبعِ فیض و حکمت ہمارے لئے
جو کبھی بھی جدا ہوگیا ان سے تو اس کے بچنے کا کوئی مکاں ہی نہیں
اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل
ان کی تعلیم دیں پر اثر کے طفیل
ہے بشر زندہ خیر البشر کے طفیل
نام لیوا اگر نہ رہے ان کا تو پھر خدا کی قسم یہ جہاں ہی نہیں
پڑھ کے سیرت میں ان کی ہی ، انساں بنوں
ان کے پیچھے رہوں مرد میداں بنوں
ان کو میں چھوڑ کر کیسے حیراں بنوں
گر محبت نہ حاصل ہو ان کی شبیر ؔتو کہوں یو ں کہ پھر تو ایماں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں
یہ ابھی ان شاءاللہ پڑھا جائے گا درودِ تنجینا۔ یہ درودِ تنجینا جو ہے نا بہت سارے فتنوں اور بہت ساری بلاؤں، مصیبتوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ اگر آپ اس کا ترجمہ پڑھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ آج کل ادھر ادھر لوگ بھاگتے پھرتے ہیں اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے، اور جو حل ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں، اس کے قریب نہیں جاتے۔ تو یہ درودِ تنجینا جو ہے نا ماشاءاللہ، ایسے کاموں کے لیے ہے۔ تو آپ جو ہے نا ماشاءاللہ یعنی یہ درودِ تنجینا وہ جو ہے نا وہ آپ ابھی پڑھیں گے انشاءاللہ۔ اس کا یہ ہو گا، انشاءاللہ العزیز، یہ ہزار مرتبہ ہم پڑھتے ہیں تو مختلف جگہوں پہ ہمارے جو ساتھی ہیں وہ بھی اطلاع کر دیتے ہیں...
تجزیہ اور خلاصہ:بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)سب سے جامع عنوان: نماز کے معاشرتی، تمدنی اور روحانی ثمراتمتبادل عنوان: اسلام میں طہارت، ستر پوشی اور پابندیِ وقت کا فلسفہاہم موضوعات:نماز کے اوقات کی حکمت اور روحانی کیفیات۔نماز کے ذریعے اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی اصلاح۔ستر پوشی کی اہمیت اور بے حیائی کے نقصانات۔طہارت، صفائی اور وضو کے طبی اور روحانی فوائد۔پابندیِ وقت، سحر خیزی اور نظم و ضبط کی تربیت۔حیا اور پاکیزگی پر مغربی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کا تقابل۔نمازِ فجر اور تہجد کی برکات، اور منافقین پر نماز کا بوجھ۔محبتِ رسول ﷺ اور درود شریف (خصوصاً درودِ تنجینا) کی فضیلت و اہمیت۔خلاصہ:اس تفصیلی بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب 'سیرت النبی ﷺ' کے حوالے سے نماز کی روحانی، معاشرتی، اور تمدنی حکمتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے بیان فرمایا کہ نماز محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کو ستر پوشی، طہارت، سحر خیزی اور وقت کی پابندی سکھاتی ہے، جو ایک مہذب اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ مغربی تہذیب اور بے حیائی کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے، آپ نے واضح کیا کہ احکامِ الٰہی انسان کی اپنی جسمانی اور روحانی صحت کے محافظ ہیں۔ مزید برآں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے جمعہ کی رات کی مناسبت سے محبتِ رسول ﷺ، درود شریف پڑھنے کی فضیلت اور درودِ تنجینا کی برکات کو دلائل اور خوبصورت اشعار کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔