الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم النبيين، أما بعد:فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔
آج جمعرات ہے، جمعرات کے دن ہمارے ہاں حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی جو مرتبہ "سیرت النبی ﷺ" ہے کتاب، اس سے درس کا معمول ہے۔چونکہ اس میں سنت... یعنی آپ ﷺ کی سیرت کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ ایک تو اس میں مستند باتیں آجائیں، یعنی اس میں جو غیر مستند باتیں ہیں وہ علیحدہ کی گئی ہیں۔ بعض لوگ شوق میں غیر مستند باتیں بھی شامل کر لیتے ہیں، لیکن اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جو مستند باتیں ہوتی ہیں ان پر بھی پھر بعض لوگوں کو شک ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بعض حضرات کا یہ طریقہ ہے کہ وہ غیر مستند باتوں کو بالکل نہیں لاتے اور اس کی پوری چھان بین کر کے جو ہے نا مطلب اس کو سامنے لاتے ہیں۔ اور اس میں ایک اور بات بھی ہوتی ہے کہ چونکہ سیرت کا تعلق آپ ﷺ کی زندگی کے ساتھ ہے، تو اس وجہ سے آپ ﷺ پر انسان قصداً تو کم از کم جھوٹ نہیں بول سکتا، مطلب ظاہر ہے وہ تو بہت غلط بات ہے۔ تو اس وجہ سے بھی بہت زیادہ یعنی کوشش کرنی چاہیے اس بات کی کہ مستند بات ہی ہم آگے بڑھائیں۔
تو اس وقت شریعت کے جو بنیادی امور ہیں اس کے بارے میں بات ہو رہی ہے، جو سب سے پہلے نماز کی بات ہے، تو نماز کی بات پہلے سے چلی آرہی ہے اور نمازوں کے اوقات کے بارے میں پچھلی دفعہ کافی تفصیل سے بات ہوئی تھی، تو آج انشاءاللہ اس کی تدریجی تکمیل کے بارے میں بات ہو گی۔
اسلام کا آغاز سب کو معلوم ہے کہ کس غربت، مظلومی اور بے سر و سامانی کے ساتھ ہوا تھا، اس لیے ابتدائی زمانہ میں دن کے وقت کوئی نماز نہیں تھی، لوگ صرف رات کو کہیں ادھر ادھر چھپ کر دیر تک نماز پڑھا کرتے تھے۔ سورۃ مزمل میں جو مکہ کی نہایت ابتدائی سورتوں میں ہے، یہ آیات ہیں:يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا (اے کملی اوڑھ کر سونے والے! تھوڑی دیر کے علاوہ ساری رات اٹھ کر نماز پڑھا کر، آدھی رات تک یا اس سے کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ اور اس میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔ ہم تجھ پر عنقریب ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں یعنی شریعت کے مفصل احکام اتارنے والے ہیں۔ بے شک رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے میں طمانیت قلب کا زیادہ موقع ہے اور قرآن سمجھ کر پڑھنے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ بیشبہ تجھ کو دن کے وقت آرام کی فرصت حاصل ہے)۔
نماز کا یہ طریقہ غالباً ان تین برسوں تک رہا جب اسلام کی دعوت برملا نہیں دی جا سکتی تھی، کیونکہ جہاں {وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} (اپنے قریب کے اہل خاندان کو ہوشیار کرو) کے ذریعے سے دعوت کے اعلان کا حکم آیا ہے اس میں بھی یہ بات مذکور ہے:وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (اور غالب مہربان پر بھروسہ رکھ جو تجھ کو اس وقت دیکھتا ہے جب تو نماز کے لیے اٹھتا ہے اور نمازیوں میں تیرے پھرنا دیکھتا ہے، بے شک وہی سنتا اور جانتا ہے)۔اس کا مقصد ہے کہ اعلان دعوت کا حکم ملنے سے پہلے آپ ﷺ ان دشمنوں کے بیچ میں راتوں کو اٹھ کر خود نماز پڑھتے اور مسلمانوں کو دیکھتے پھرتے کہ کون نماز میں مصروف ہے اور کون سویا ہوا ہے۔ جو اس کی نماز کے لیے جگانا چاہیے، ایسے پرخطر حالات میں آپ کا راتوں کو تن تنہا یہ فرض انجام دینے کے لیے نکلنا اس اعتماد پر تھا کہ خدا آپ کو خود دیکھ رہا ہے اور آپ کی حفاظت کر رہا ہے۔
اس کے بعد جب نسبتاً اطمینان حاصل ہوا اور دعوت کے اظہار کا وقت آیا تو رفتہ رفتہ اسلام کا قدم تکمیل کی طرف بڑھا اور رات کو طویل نماز تہجد کے علاوہ رات کے ابتدائی حصے یعنی عشاء اور تاروں کے جھلملاتے وقت بھی ایک فجر کی نماز کا اضافہ ہو گیا۔وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ (اور اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کھینچ، بے شک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور اپنے رب کی تعریف کی تسبیح کر جب تو رات کو تہجد کے وقت اٹھتا ہے اور کچھ رات کے حصہ میں اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے پیٹھ پھیرتے وقت)۔
اس کتاب میں یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ اس میں قرآن اور آپ ﷺ کی سیرت کو ساتھ ساتھ لیا جا رہا ہے۔ تو اس میں دو فائدے کم از کم فوراً مل جاتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کے واقعات سمجھ میں آ جاتے ہیں، قرآن پاک کے نزول کے احکامات کے ذریعے سے۔ اور دوسرا یہ کہ قرآن پاک کا شان نزول بھی واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے اور اس سے قرآن کی تفسیر میں پھر بڑی مدد ملتی ہے۔ بہت ساری باتیں اس کتاب کے پڑھنے کے بعد کھلیں کہ کیسے مطلب جو ہے نا یہ چیزیں واقع ہوئی ہیں وہ تدریجاً، کس طریقے سے یہ چیزیں آئی ہیں۔ کیونکہ اگر ہم علیحدہ علیحدہ ان کو دیکھتے ہیں تو پھر اس میں جوڑ سمجھ میں نہیں آتا۔ لیکن جب ہم ان کو اکٹھا دیکھتے ہیں تو پھر ماشاءاللہ یعنی وہ بالکل ساتھ ساتھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔
اس کا تجربہ مجھے "میراث" کے کام میں ہوا تھا کہ میراث پر جب میں کام کر رہا تھا تو تین کام بیک وقت شروع تھے۔ ایک میراث کا آسان حساب، یعنی حساب کو ایک فارمولے بن رہے تھے۔ دوسرا یہ کہ "فہم المیراث مدلل" جس میں جزئیات، جو میراث کے کلیات اور جزئیات اس پہ بحث قرآن و حدیث کی روشنی میں ہو رہی تھی اور فقہ کی ترتیب پر اس میں بات چل رہی تھی۔ اور تیسرا Software اس کا ڈیولپ ہو رہا تھا۔ اب یہ تینوں چیزیں بیک وقت ہونے کا اتنا بڑا فائدہ ہوا کہ "فہم المیراث مدلل"، اس کی گویا کہ جو عملی صورت ہے وہ "میراث کے آسان حساب" کی صورت میں نظر آ رہا تھا، یعنی اس کے مطلب ہمیں پتہ چل رہا تھا کہ اس کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ یا کیسے اس کے کلیے دریافت ہوئے، یہ سارے کے سارے مطلب اس کے ساتھ مل جل کر وہ بات چل رہی تھی۔ اور Software کے ذریعے سے میراث کے آسان حساب کی فوراً جانچ پڑتال ہو سکتی تھی کہ اس میں کوئی غلطی کمزوری تو نہیں ہے، مطلب فوراً۔ اور اس طرح Software کا بھی چیکنگ ہو جایا کرتا تھا کہ مطلب اس میں یعنی Algorithm صحیح بن رہا ہے یا نہیں بن رہا۔ تو یہ تینوں ایک دوسرے کی گویا کہ تصحیح اور مطلب جو ہے نا وہ یعنی تفہیم اس کے کا ذریعہ بن رہے تھے۔
تو اس طریقے سے یہاں پر بھی قرآن پاک کی جو آیت مبارکہ جس انداز میں حضرت لا رہے ہیں، اس طریقے سے جو یعنی سیرت کی بات ہے، سیرت کا جو موضوع ہے وہ اچھی طرح سمجھ میں آ رہا ہے اور دوسری طرف سیرت کے موضوع کے ذریعے سے قرآن پاک کی جو سمجھ ہے اس میں اضافہ الحمدللہ ہو رہا ہے۔
یہ آیت سورۂ طور کے آخر میں ہے اور سورۂ طور کے متعلق معلوم ہے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئی تھی اور شاید یہ اس وقت جب قریش نے آپ ﷺ کو ایذا دینا شروع کر دیا تھا، کیونکہ اسی سورت میں اس آیت سے پہلے آپ کے مصائب ان پر صبر کرنے اور فیصلہ الٰہی کے انتظار کا حکم اور آپ کی ہر قسم کی حفاظت کی خوشخبری ہے۔ ابھی تک یہ رات کی نمازوں کی تفریق ہے، سورۃ دھر میں جو جمہور کے نزدیک مکی ہے اور غالباً سورۂ طور کے بعد اتری ہے، انہی معنوں کی ایک اور آیت ہے جس میں ان اوقات کے علاوہ ان کے دن کے خاتمہ کے قریب ایک نماز جس کو عصر کہتے ہیں اور بڑھ جاتی ہے۔فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا (تو اپنے پروردگار کے فیصلے کا انتظار کر اور مخالفوں میں سے کسی گناہ گار یا اللہ کے ناشکر گزار کا کہنا نہ مان، اور صبح کو اور تیسرے پہر کو اپنے پروردگار کا نام لیا کر، اور کچھ رات گئے اس کو سجدہ کر اور رات کو دیر تک اس کی تسبیح کیا کر)۔
یعنی حضرت نے یہ بات پہلے سمجھائی ہے کہ جب ذکر اور تسبیح بلا تعین وقت کے آ جائے تو اس سے عام تسبیح مراد لی جاتی ہے، یعنی عام تسبیح سے مراد یہ ہے کہ مستحب تسبیح اور جس پر کوئی مطلب پابندی نہیں، کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔ اور جب وقت کے ساتھ تعین ہو جاتا ہے تو اس سے نماز مراد ہوتا ہے۔ یہ پہلی دفعہ مجھے اس کتاب کے ذریعے سمجھ میں آیا، مطلب یہ ہے کہ یعنی جب اس تسبیح کو وقت کا پابند کر دیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا مراد ذکر سے مراد جو ہے نا نماز ہے۔تو یہاں پر بھی دیکھیں نا: {فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا}، صبح اور سہ پہر کے وقت۔ {وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا}۔ تین... مطلب رات کا وقت ہے، صبح کا وقت ہے اور درمیانی سہ پہر کا وقت ہے۔
اب رات کی دیر تک نماز تہجد کے علاوہ تین وقتوں کی تصریح، یعنی صبح اخیر دن اور ابتدائی شب میں، مگر ہنوز ظہر و عصر اور {وَمِنَ اللَّيْلِ} رات میں مغرب اور عشاء کی تفریق نہیں ہوئی تھی، کیونکہ کل تین نمازیں تھیں۔ ایک فجر کے وقت، ایک سہ پہر کو اور ایک رات کو۔ اس لیے ابھی تک باقی دو نمازوں کی جگہ رات کو دیر تک نماز پڑھتے رہنے کا حکم تھا جیسا کہ آیت بالا سے ظاہر ہے۔ اب ان تین وقتوں کی تسبیح و تحمید باقاعدہ نماز کا قالب اختیار کرتی حکم ہوتا ہے:أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ...(دن کے دونوں کناروں میں یعنی فجر اور عصر، اور رات کے ایک ٹکڑے میں نماز پڑھا کر)۔
یہ آیت سورۂ ہود کی ہے جو مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں اکثر انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ بیان کر کے انہوں نے اپنے اپنے امت کو خدائے برحق کی عبادت کی دعوت دی۔ آپ ﷺ کو بھی نماز کی اقامت کا حکم دیا گیا اور غالباً نماز کے اوقات کے سلسلے میں یہ پہلی آیت ہے جس میں تسبیح کے بجائے باقاعدہ صلاۃ کی اقامت کا حکم کیا گیا ہے۔
اس وقت مسلمانوں کی خاصی تعداد تھی جیسے کہ اس سے پہلی آیت سے ظاہر ہوتا ہے:فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا...(پس تو سیدھا چلا چل جیسے کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی وہ بھی سیدھے چلیں اور تم لوگ حد سے آگے نہ بڑھو)۔اب رات کی طویل نماز کو چھوڑ کر تین نمازیں باقاعدہ فرض ہوتی ہیں۔ ایک دن کے آخری ایک کنارہ میں یعنی رات کے خاتمہ کے قریب تاروں کے جھلملاتے وقت، دوسرے دن کے دوسرے کنارے میں دن کے خاتمہ کے قریب، اور تیسرے رات کے ابتدائی حصے میں۔ پہلے سے صبح کی نماز، پہلی سے صبح کی نماز، دوسری سے عصر کی اور جس کو پہلے اصیل کہا گیا ہے اور تیسری سے عشاء کی نماز مراد ہے۔
ابھی تک دن اور رات کی نمازوں میں اجمال اور ابہام تھا۔ اور دوسری میں ظہر و عصر اور تیسری میں مغرب و عشاء کی نمازیں چھپی ہوئی تھیں۔ اب رات کی نماز سب سے پہلے علیحدہ ہوتی ہیں۔ سورۂ ق میں جو مکی سورت ہے، اللہ تعالیٰ اپنے اوقات خلق کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے:فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ (پس ان مخالفوں کے کہنے پر اے رسول صبر کر اور آفتاب کے نکلنے سے پہلے یعنی صبح اور اس کے ڈوبنے سے پہلے یعنی عصر اپنے پروردگار کی حمد تسبیح کر، اور کچھ رات گئے پر یعنی عشاء اس کی تسبیح کر اور آفتاب کے سجدہ کرنے کے بعد یعنی مغرب کے وقت اس کی تسبیح کر)۔
یعنی صبر کی تلقین ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکم اس وقت کا ہے جب کفار قریش ہنوز آپ کی ایذا و تحقیر کے درپے تھے۔ اس آیت پاک میں رات کی نماز کا ابہام دور کر کے مغرب اور عشاء کی تعین کر دی گئی۔ ایک کی نسبت کہا گیا {وَمِنَ اللَّيْلِ} (کچھ رات گئے) اور دوسرے کی نسبت کہا گیا {وَأَدْبَارَ السُّجُودِ} (کب؟ آفتاب کے ڈوبنے پر)۔اوقات نماز کی تفصیل کے سلسلے میں رات سے آغاز اس لیے کیا کہ یہ نسبتاً کفار سے محفوظ رہنے کا وقت تھا۔ زوال کے بعد سے غروب تک کی نماز جس کو پہلے اصیل اور پھر طرف النہار (دن کے دونوں کناروں میں) اور یہاں "قبل غروب" نماز کہا گیا ہے، ہنوز تفصیل طلب ہے جس کے اندر ظہر اور عصر دونوں نمازیں داخل ہیں۔چنانچہ سورۂ روم میں جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، اس کی تفصیل کی گئی ہے۔ اس سورت کے اترنے کا وقت تاریخ سے ثابت ہے، وہ رومیوں کی شکست کامل کے بعد ہے جس کا زمانہ نبوت کے پانچویں چھٹے سال سے لے کر آٹھویں نویں سال تک ہے۔فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ (اللہ کی تسبیح کرو جب شام یعنی مغرب یا رات کو، اور جب صبح کرو اور اس کی حمد آسمان اور زمین میں ہے، اور اخیر دن کو اس کی تسبیح کرو اور جب ظہر کرو)۔اس آیت پاک میں زوال کے بعد ظہر اور غروب سے قبل عصر کی مبہم نمازوں کی توضیح کی گئی ہے۔ ایک کو "عشیا" یعنی عصر اور دوسرے کو "حین تظہرون" یعنی ظہر کہا گیا۔ تمام آیتوں کے سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز فجر کا بالتصریح ذکر طہ، طور، دھر، ہود، ق، روم اور نور میں ہے۔ ظہر کا بالاجمال دھر، ق، طہ اور اسراء میں ہے، اور بالتصریح اسراء اور روم میں۔ اور عصر کا بقرہ، دھر، ہود، طہ، ق اور روم میں۔ مغرب کا بالاجمال ہود، طہ اور روم میں اور بالتصریح ق اور ہود میں۔ اور عشاء کا بصورت صلاۃ اللیل مزمل، طور اور دھر میں، بصورت عشاء بالاجمال طہ، ہود اور روم میں اور بالتصریح ق اور ہود میں۔ تمام نمازوں کا بالاجمال تذکرہ بقرہ، اسراء اور طہ میں ہے۔ طور سے فجر اور عشاء کے دو وقتوں کی نماز، اسراء، ہود اور طہ سے کم از کم بظاہر تین وقتوں کی نماز، روم سے چار وقتوں کی، اور طہ اور روم سے پانچ وقتوں کی نماز ثابت ہے۔
اس میں ایک بہت بڑی بات ہمارے سامنے آئی۔ اللہ جل شانہ قادر مطلق ہے، اگر چاہے تو سارے کے سارے آن کی آن میں مسلمان کر لے۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے یہ چونکہ دنیا دارالاسباب بنایا ہے اور ہر ایک کو پورا پورا اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی کسی کو مجبور نہیں کیا گیا، {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ}۔ اس وجہ سے ترغیب اور ترہیب والی بات تو ہے، لیکن ترغیب و ترہیب کی حد تک ہی ہے، زبردستی نہیں ہے۔ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسباب کا اختیار کرنا۔ اب دیکھیں نا یہ جو اخفاء کیا گیا ہے اور چھپ چھپ کے جو سارا کچھ کرایا گیا ہے، اور ایک باقاعدہ جیسے مثال کے طور پر ایک پلاننگ کے تحت جیسے ہوتا ہے کہ مطلب آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ جو ہے نا مطلب یہ کہ اصل بات تک بڑھنا، یہ جو ہے نا یہ بہت بڑی بات ہے جو ہمیں قرآن سے سیکھنی چاہیے۔ مسلمانوں میں آج کل اس کی کمی ہے۔ کیونکہ مسلمان پہلے نہیں سوچتے کہ آج کل کے مسلمان کہ ہمیں کیا کرنا ہے، پلاننگ نہیں کرتے۔ بس عین وقت پہ، نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ دیکھیں یہاں پر اللہ کریم مطلب خود یعنی اختیار ہے سب کچھ لیکن کس طریقے سے نمازوں کو یعنی فرض قرار دے رہے ہیں، اس طرح یعنی مطلب پہلے ابہام اور پھر اس کے بعد یعنی اس کا یعنی اظہار اور پھر مختلف طریقوں سے آہستہ آہستہ یہ سارا کچھ کیا گیا۔ تو ہمیں اس سے سیکھنا چاہیے کہ ہمیں بھی سارے کام کو تدریج کے ساتھ اور باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ اور ساتھ ساتھ مطلب جو ہے نا مطلب حالات کا جائزہ لیتے لیتے جیسے کام کرنے ہوتے ہیں اس طرح کرنے چاہیے۔ یعنی بعض دفعہ ایک چیز ظاہر... مطلب جس کو کہتے ہیں وہ جائز کیا لازم ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے کرنے کے حالات نہیں ہوتے۔ اس وقت بالکل ایسی بات ہے جیسے کہ آپ مورچے سے باہر ہیں، تو آپ فائر نہیں کرتے۔ کیونکہ فائر کریں گے تو دوسری طرف سے جو فائر آئے گا آپ کے پاس بچنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا۔ تو اس وقت آپ مورچے تک چھپ کے نیچے نیچے نیچے نیچے جاتے ہیں، جس وقت اپنے مورچے میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر اس وقت آپ فائر کھول لیتے ہیں۔ مطلب یہ طریقہ کار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ اپنے جس کو کہتے ہیں نا وہ موت کو خود تو دعوت نہیں دینا۔ البتہ یہ ہے کہ خود آجائے تو شہادت ہے۔
تو اس طریقے سے یہاں پر بھی مطلب وہ تدریج ہے اور منصوبہ بندی ہے اور چیزوں کو راز میں رکھنا ہے اور اس طرح مطلب جو ہے نا وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنا ہے اپنی منزل کی طرف۔
ایک نکتہ: جمع بین الصلوتین۔اوپر کی آیتوں میں غور کی نظر ڈالنے سے ایک عجیب نکتہ حل ہوتا ہے۔ پہلی آیتوں میں ظہر اور عصر کی نمازیں مجمل ہیں، یعنی دونوں کو ایک ہی لفظ "قبل الغروب" یا "اصیل" یا "طرف النہار" کے ذریعے سے بیان کیا گیا ہے۔ اور آخری آیت میں جو سورۂ روم کی ہے، ظہر اور عصر کی نماز کا نام تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ مگر شام کی نماز میں اجمال ہے، یعنی مغرب اور عشاء دونوں کو {حِينَ تُمْسُونَ}، جب رات کرو کے ذریعے سے ادا کیا گیا ہے۔ اس سے ایک جانب ایک لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ دونوں مل کر ایک بھی ہیں اور علیحدہ بھی ہیں۔ اس بنا پر کسی اشد ضرورت اور سفر کی بے اطمینانی کے وقت ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اور صبح کی نماز چونکہ ہر آیت میں ہمیشہ علیحدہ ذکر کی گئی ہے، اس لیے اس کا کسی دوسرے نماز سے ملانا جائز نہیں۔ احادیث میں "جمع بین الصلوتین" کے عنوان سے آپ ﷺ کی عملی مثالیں اس نکتہ قرآنی کی تشریح میں موجود ہیں۔
نوٹ میں فرماتے ہیں: موطا امام مالک، مسلم، ترمذی، باب القصر فی الصلوۃ و فی السفر والحضر۔ بعض مستشرقین کو جمع بین الصلوتین کی حدیث سے دیکھ کر یہ شبہ ہوا ہے کہ زمانہ نبوی میں شاید تین وقت کی نمازیں ادا ہوتی تھیں۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں فاضل ونسک کو بھی یہ شبہ ہوا ہے۔ دیکھو اس کا مضمون "صلوۃ"۔ مگر حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ نمازیں ہمیشہ پانچ وقتوں کی ہوتی ہیں، البتہ بضرورت ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ہیں۔ رکعتیں اتنی رہتی ہیں صرف وقت میں کمی ہو جاتی تھی۔ فقہاء میں باہم اس کے متعلق اختلاف ہے کہ دونوں نمازوں کو یکجا کن صورتوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ احناف کے نزدیک حقیقی طور پر صرف ایک موقع پر حج میں "عرفات" میں نو ذی الحجہ کو ظہر اور عصر، اور "مزدلفہ" میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ باقی دونوں صورتوں میں جمع صوری ہے، یعنی ایک نماز اخیر وقت میں دوسری اول وقت میں پڑھی جائے۔ حنفیہ کے علاوہ دوسرے فقہاء کے نزدیک سفر میں حقیقتاً دو نمازیں یکجا ایک وقت میں پڑھی جائیں اور آپ ﷺ نے ایسا کیا ہے۔ شیعوں میں بھی... شیعوں میں دو دو نمازوں کے ایک ساتھ پڑھنے کا عام رواج ہے۔
اوقات پنجگانہ اور آیت اسراء:محدثین اور مؤرخین کا اتفاق عام ہے کہ نماز کے اوقات پنجگانہ کی تعیین معراج میں ہوئی ہے، جو ہماری تحقیق کے مطابق بعثت کے بارہویں سال اور ہجرت کے ایک سال پہلے واقع ہوئی تھی۔ گو اوقات پنجگانہ کا ذکر سورۂ ق اور روم میں موجود ہے جو اس سے پہلے نازل ہو چکی تھی، لیکن اقامت صلوۃ کے امر کے ساتھ سب سے پہلے اسی سورۂ اسراء (معراج) میں نماز پنجگانہ کا حکم ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز پنجگانہ کی تکمیل بصورت صلوۃ اسی معراج میں ہوئی۔ جس طرح وضو پر عمل گو پہلے سے تھا مگر اس کا حکم قرآن میں مدنی سورتوں کے اندر نازل ہوا ہے۔ سورۂ اسراء (یعنی معراج) کی وہ آیت جس میں نماز پنجگانہ کا ذکر ہے حسب ذیل ہے:أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (آفتاب کے جھکاؤ کے وقت رات کی تاریکی تک نماز کھڑی کر اور فجر کی قرات قائم کر، بے شک فجر کی قرات میں حضور ہوتا ہے)۔
یہ آیت کریمہ اوقات پنجگانہ کی تعیین اور اس کے سبب کو پوری طرح بیان کرتی ہے۔ اس میں سب سے اہم اور تشریح کے قابل لفظ "دلوک" ہے۔ دلوک کے اصلی معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ لیکن تحقیق طلب یہ ہے کہ دلوک الشمس یعنی آفتاب کے جھکنے سے کیا مراد ہے؟ اور اہل عرب ان کو کن معنوں میں لیتے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ عربی میں اس لفظ کا اطلاق تین اوقات یعنی آفتاب کے تین حالتوں پر ہوتا ہے۔زوال پر بمقابل نقطہ نگاہ سے آفتاب کے ہٹ جانے، اور غروب پر جب آفتاب مذکورہ میں کہا گیا کہ اوقات دلوک جھکاؤ پر نماز پڑھو، تو ان تینوں دلوکات یعنی آفتاب کے تینوں جھکاؤ پر ایک ایک نماز لازم آئی۔ غرض یہ کہ اوج کمال پر پہنچنے کے بعد جب آفتاب ڈھلنا شروع ہوتا ہے تو اس کے تین دلوک یا جھکاؤ ہوتے ہیں۔ایک نقطہ سمت الراس سے، دوسرا نقطہ تقابل سے، اور تیسرا دائرہ افق سے۔پہلا ظہر کا وقت، دوسرا عصر کا، اور تیسرا مغرب کا۔اس کی ہر دلوک یعنی انحطاط پر اس کی خدائی کی نفی اور تردید اور خدائے برحق کی الوہیت کے اقرار و اعلان کے لیے ایک ایک نماز رکھی گئی۔ اس طرح دلوک کے لفظ کے اندر تین نمازوں کے اوقات بتائے گئے۔ چوتھی نماز کا وقت "غسق اللیل" (رات کی تاریکی) ہے۔ یہ عشاء کی نماز ہے۔ اس کو حقیقت میں نصف شب کو ادا ہونا چاہیے، جب آفتاب کا چہرہ نورانی تو بہ تو حجابات ظلمت میں چھپ جاتا ہے۔ لیکن لوگوں کی تکلیف کے خیال سے وہ سونے سے پہلے رکھی گئی تاکہ خواب کی غفلت کی تلافی اس سے ہو جائے۔ اور پانچویں نماز کا وقت "قرآن الفجر" بتایا گیا ہے۔ یہ آفتاب کے طلوع سے پہلے اس لیے ادا کی جاتی ہے کہ عنقریب وہ ظاہر ہو کر اپنے پرستاروں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا، اس لیے ضرور ہے کہ دنیا اس کے طلوع سے پہلے خالق اکبر کا نام لے اور اس باطل پرستی سے جس میں آفتاب پرست عنقریب مبتلا ہونے والے ہیں براءت ظاہر کرے۔غرض اس آیت پاک سے اقامت صلوۃ کے اوقات پنجگانہ کا ثبوت ملتا ہے۔ جب ابہام کو یہ دکھانا ہے کہ کلام عرب میں آفتاب کے ان تینوں جھکاؤ یا میلانات پر دلوک کا اطلاق ہوتا ہے، اگر کلام عرب سے یہ ثابت ہو تو اس آیت سے اوقات پنجگانہ کی تشریح کے قبول کرنے میں کسی کو عذر نہیں ہو گا۔
ماشاءاللہ۔ یعنی... (سامعین سے مخاطب) مفتی صاحب پہلے سے آپ کو اس آیت سے یہ استدلال بتایا گیا تھا کہ اس میں پانچوں نمازیں اس سے ثابت ہو جاتی ہیں؟ (سامعین: تفسیر میں لکھا ہے)۔ اچھا لکھا ہے۔تو یہ اس میں مطلب یہ ہے کہ باقاعدہ ایک پورا ایک تحقیقی موضوع ہے۔اب حضرت فرماتے ہیں دلوک کی تحقیق:مفسرین میں سے بعض نے دلوک سے زوال کا وقت اور بعض نے غروب کا وقت مراد لیا ہے۔ اور اہل لغت نے بھی اس کے یہ دونوں معنی لکھے۔ ایک تیسرے معنی اور بھی بیان کیے یعنی مقابل نقطہ نگاہ سے ہٹ جانا۔ اس کے ثبوت میں ایک جاہلی شاعر کا شعر بھی پیش کیا ہے، چنانچہ لسان العرب میں ہے:هَذَا مَقَامُ قَدَمِي رَبَاحِ ... ذَبَّبَ حَتَّى دَلَكَتْ بِرَاحِ(یعنی سورج ہتھیلی میں آ گیا)۔کہا گیا ہے ابن مسعود نے روایت کی ہے کہ دلوک الشمس غروب ہے اور ابن ہانی نے اخفش سے نقل کیا ہے کہ دلوک الشمس زوال سے غروب تک ہے، اور زجاج نے کہا دلوک الشمس ظہر کے وقت زوال ہے اور یہ اس کا میلان ہے غروب کی طرف، اور اس کا دلوک بھی کہا جاتا ہے... (عربی عبارت)... اور کہا گیا کہ آفتاب کا دلوک ہوا یعنی وہ غروب ہوا اور کہا گیا کہ اس کے معنی ہیں کہ آفتاب زرد ہو گیا اور غروب کے لیے جھک گیا، اور قرآن میں ہے کہ دلوک الشمس کے وقت رات کی تاریکی تک نماز کھڑی کر۔ اور آفتاب کو دلوک ہوا یعنی وہ آسمان کے بیچ سے ہٹ گیا۔ اور فراء نے کہا ابن عباس سے روایت ہے کہ دلوک الشمس کے معنی ظہر کے وقت آفتاب کے زوال کے ہیں اور اس نے بیان کیا کہ میں نے اہل عرب کو دلوک سے آفتاب کا غروب مراد لیتے دیکھا ہے۔ شاعر کہتے ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں لڑائی میں رباح کے دونوں قدم جمے تھے، اس نے دشمنوں سے اپنی عزت کی حفاظت کی یہاں تک کہ سورج ہتھیلی سے جھک گیا۔ابو منصور نے کہا ہم نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ دلوک الشمس آفتاب کا غروب ہے، اور ابن ہانی نے اخفش سے نقل کیا کہ دلوک الشمس کے وقت آفتاب کا زوال ہے اور اس کے معنی غروب کے لیے جھکنا بھی ہے۔ اور یہ بھی اس کا دلوک ہے، محاورہ میں کہا جاتا ہے... (عربی)... یعنی آفتاب زوال کے لیے جھک گیا یہاں تک کہ دیکھنے والا جب اس کو دیکھنا چاہے تو اس کی کرنوں کی شدت کو توڑنے کے لیے اس کو آنکھ پر ہتھیلی رکھنے کی ضرورت ہے۔تو اگر کہا جائے کہ عرب کے محاورہ میں دلوک کے کیا معنی ہیں؟ تو جواب دیا ہے کہ دلوک کے معنی زوال کے ہیں، اس لیے آفتاب کو ذالکہ کہتے ہیں جب وہ دوپہر کو جھک جائے، اور جب آفتاب ڈوب جاتا ہے تب بھی اس کو ذالکہ کہتے ہیں کیونکہ وہ ان دونوں حالتوں میں وہ جھک جاتا ہے۔ فراء نے کہا ہے کہ اس قول، شعر یا محاورہ جو "براح" کا لفظ ہے یہ "راحت" کی جمع ہے جس کے معنی ہتھیلی کے ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں کو آنکھوں پر ہتھیلی رکھ کر دیکھتا ہے کہ آفتاب ابھی غروب ہوا یا نہیں۔شعراء عرب نے آفتاب کے ڈھل کر آنکھوں کے سامنے آ جانے کے وقت آنکھوں پر ہتھیلی رکھنے کا اکثر ذکر کیا ہے۔ (عربی شعر)... اور آفتاب قریب تھا کہ بیمار ہو کر دبلا ہو جائے میں اس کو ہتھیلی سے ہٹاتا تھا تاکہ وہ ہٹ جائے۔ اس دوسرے شعر سے پہلے شعر کے معنی کھل جاتے ہیں کہ اس میں دلوک سے زوال اور غروب کے بجائے وہ وقت مراد ہے جب آفتاب ڈھل کر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے، یہ عصر کا وقت ہوتا ہے۔الغرض دلوک کا لفظ آفتاب کے ہر جھکاؤ کے برابر بولا جاتا ہے۔ اس کا پہلا جھکاؤ زوال ہے یعنی سمت الراس سے ہٹ جانا۔ اور دوسرا عصر کا ہے جو نظر سے ہٹ جانا ہے، مطلب کیونکہ انسان اوپر تو نہیں دیکھتا نا، سامنے دیکھتا ہے، تو سامنے دیکھتا ہے تو سامنے مطلب جو حصہ ہے وہ نظر آتا ہے۔ تو اس سے نیچے جانے سے جو ہے نا مطلب وہ جو ہے نا... مثال کے طور پر آپ یا اوپر دیکھتے ہیں اگر سمت الراس میں دیکھنا ہو، یا پھر نیچے دیکھتے ہیں اگر غروب ہوتے وقت دیکھنا ہو، اور یا پھر یہ کہ نظر، آپ کا نظر کے مقابلے میں جو ہے نا تو وہ عصر کے وقت دیکھتے ہیں۔ تو تینوں مقامات سے ہٹ جانا یہ دلوک ہے۔ تو ظاہر ہے تینوں کو زوال کہتے ہیں۔
اچھا۔ تو اس کا پہلا جھکاؤ زوال کہلاتا ہے جب وہ سمت الراس سے ہٹتا ہے، دوسرا جھکاؤ عصر کے وقت ہے جب وہ مقابل کے سمت نظر سے ہٹتا ہے اور مغرب کی طرف چلنے والوں کی آنکھوں کے سامنے پڑتا ہے، اس وقت شعاعوں کی تیزی سے بچنے کے لیے آدمی کو آنکھوں کے اوپر ہتھیلی رکھنے یا کسی اور چیز کی آڑ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا تیسرا جھکاؤ غروب کے وقت ہے جب وہ سمت افق سے بھی نیچے ڈوب جاتا ہے۔ انہی تین مسلسل اوقات کی وجہ سے جو زوال سے لے کر غروب تک کے زمانے پر مشتمل ہے، یعنی اہل لغت نے جیسا کہ اوپر گزرا تسامحاً یہ قید ہے کہ دلوک زوال سے غروب تک کے وقت کو کہتے ہیں، حالانکہ اس کا اطلاق تحقیقی طور سے آفتاب کے تین میلانات پر ہے۔ اور اول اس میلان پر جو سمت الراس سے ہوتا ہے، پھر اس میلان پر جو سمت نظر سے ہوتا ہے، اور بالاخر اس کا کامل میلان جو سمت افق سے ہوتا ہے۔ یہ اوقات زوال سے غروب تک مسلسل یکے بعد دیگرے چند چند گھنٹوں کے بعد آتا ہے، تو اس تمام بحث کا نتیجہ یہ ہوا:أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ (آفتاب کے دلوک کے وقت نماز کھڑی کر) سے مراد تین نمازیں ہیں کیونکہ تین دلوک ہوتے ہیں۔ ظہر، جب آفتاب کا دلوک جھکاؤ سمت الراس سے ہو ہے۔ اور عصر، جب اس کا سمت الراس سے ہو۔ اور مغرب جب اس کا کامل ہو۔اس کے بعد {غَسَقِ اللَّيْلِ} رات کی تاریکی اور {قُرْآنَ الْفَجْرِ} سے مطلب عشاء اور فجر کی نمازیں مراد ہے۔ اس طرح اس آیت سے جو سورۂ اسراء میں واقع ہے اوقات پنجگانہ میں اقامت صلوۃ کے اوقات کی تشریح ہو جاتی ہے۔
اوقات نماز کا ایک اور راز:اس آیت کریمہ کو ایک دفعہ اور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ نماز کے اوقات کا آغاز ظہر (میلان اول آفتاب) سے ہوتا ہے اور یہی اس حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں بذریعہ جبریل نماز کے اوقات پنجگانہ کی تعلیم کا ذکر ہے۔ اس میں پہلے ظہر کا نام آتا ہے پھر بہ ترتیب اور چاروں نمازوں کا ظہر کے بعد عصر، پھر مغرب، پھر سونے سے پہلے عشاء، یہ چار نمازیں تقریباً دو تین گھنٹوں کے فاصلے سے ہیں اس کے بعد صبح کی نماز ہے جو عشاء سے تقریباً سات آٹھ گھنٹوں کا فاصل رکھتی ہے اور پھر صبح سے ظہر تک تقریباً اس قدر فصل ہے۔ چنانچہ اس آیت میں ظہر سے عشاء تک ایک ساتھ نماز کا مسلسل حکم ہے چند گھنٹے ٹھہر کر صبح کا حکم ہوتا ہے پھر خاموشی ہو جاتی ہے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو کر ایک لمبے وقفے کے بعد پھر ظہر کا وقت آتا ہے اور اسی طرح دور قائم ہو جاتا ہے غرض ظہر سے عصر، عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء تک مسلسل نمازیں ہیں پھر صبح تک استراحت کا طویل وقفہ ہے، صبح اٹھ کر خدا کی یاد ہوتی ہے اور پھر انسانی کاروبار کے لئے ایک طویل وقفہ رکھا گیا ہے جو صبح سے ظہر تک ہے، اور اس میں کوئی فرض نماز نہیں رکھی گئی ہے۔
تو میرے خیال میں اس وقت تو یہ کافی ہے کیونکہ یہ بحث کافی لمبی ہے۔ لیکن یہ بہت دلچسپ بحث ہے۔ اگرچہ جن لوگوں کا ذوق یہ نہیں ہو، یہ تحقیقی میدان کا، تو ان کے لیے کافی خشک بحث ہے۔ لیکن جن کا ذوق یہ ہو کہ نکتہ سے نکتہ نکالنا، جس کو نکتہ رسی کہتے ہیں، تو ان کے لیے واقعی... حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ لوگ پتہ نہیں کن کن چیزوں پہ وجد کرتے ہیں، وجد کی باتیں تو یہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھو کس طرح نکتے سے نکتہ ملایا جاتا ہے اور کس طرح بات سے بات نکالی جاتی ہے اور اس سے کتنے دلچسپ اور عمدہ مفاہیم کا استحضار ہوتا ہے۔ یہ واقعی ایک بہت بڑا میدان ہے۔تو تفسیروں میں بعض تفسیریں اس کے لیے زیادہ مشہور ہیں۔ "کشاف" ہے، اس طرح "روح المعانی" ہے، اور اس طرح ہمارے متاخرین کے تفاسیر میں "تفسیرِ مظہری" بہت تحقیقی تفسیروں میں آتا ہے۔ اور پھر بعد میں قریبی زمانے میں مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا "معارف القرآن"، وہ بہت زیادہ۔ اور جامعیت کے لحاظ سے اور اختصار کے لحاظ سے "تفسیر عثمانی"۔ لہٰذا اگر کوئی تفصیلی تفسیر کسی نے دیکھنا ہو، یعنی ایک ہی تفسیر اگر رکھنا چاہتے ہو جس میں ساری تفسیروں کا ایک قسم کا نچوڑ آ جائے، وہ "معارف القرآن" ہے۔ اور اگر مختصر تفسیر کوئی رکھنا چاہے ایک جلد کا، جس سے کم از کم جو راجح اقوال ہیں اس تک رسائی ہو جائے، تو وہ ہے "تفسیر عثمانی"۔
مجھے ایک عالم نے مشورہ دیا تھا تفسیر عثمانی کا، میں نے پوچھا تھا کہ میں کون سا تفسیر لوں؟ انہوں نے کہا اگر مختصر لینا ہو تو تفسیر عثمانی لے لو۔ تو میں نے ہدیہ کر لیا، اس وقت میں اسٹوڈنٹ تھا۔ تو حضرت نے چونکہ وجہ نہیں بتائی تھی لہٰذا مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیوں اتنا زیادہ اہم ہے۔ تقریباً ایک سال میرے پاس ویسے پڑا رہا۔ پھر جب میں نے اس پہ غور کیا کہ آخر اس میں کیا نکتہ ہے، مطلب کس وجہ سے کہا گیا ہے مجھے۔ تو وہ میں نے جب اس کو اس نیت سے مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اس میں وجہ یہ ہے کہ اس میں راجح قول لیا جاتا ہے صرف، مرجوح اقوال نہیں لیے جاتے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تفسیر آیت بالآیت ہے، یعنی ایک آیت کی تفسیر کو دوسری آیت کی تفسیر کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے، اشارہ دیا جاتا ہے۔ تو اس سے بہت یعنی گویا کہ جامعیت اس میں آ گئی اور آسانی اس میں آ گئی اور راجح قول کی وجہ سے۔۔۔ یعنی آپ بہت سارے تفاسیر کو دیکھنے کے بعد آخری جس نتیجے پہ پہنچتے ہیں وہ وہاں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ تو اس لحاظ سے ماشاءاللہ کافی جامعیت اس میں پائی جاتی ہے۔
تو یہ طریقہ کار جو... جیسے بالخصوص سیرت میں اس قسم کا ترتیب اس میں آئی ہے۔ اس وجہ سے الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ ہماری جمعرات کی جو مجلس ہے اس کے لیے مختص ہے، تو الحمدللہ یہ بھی سیرت کا موضوع ہے اور صبح فجر کی نماز کے بعد جو آج کل سوال وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی سیرت کے موضوع سے ہیں۔ کہ سیرت کو سوال و جواب کی صورت میں گویا کہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔ تو سوال و جواب کے ذریعے سے مطالعہ کرنے کا بنیادی مقصد اس میں یہ ہے کہ سوال سے خود بخود ایک تجسس قائم ہو جاتا ہے، اور اس تجسس کو دور کرنے کے لیے جب جواب دیا جاتا ہے تو جواب کو انسان اچھی طرح غور سے سن لیتا ہے۔ ویسے اگر رواں بیان آپ کر رہے ہوں تو ممکن ہے کہ انسان سو جائے اس میں، چاہے وہ کتنا اہم مضمون کیوں نہ ہو۔ بلکہ ہمارے بعض ذرا سخت لوگ جو ہیں نا، ان کے جو شاگرد ہیں ان سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں، تو ان کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے، جو معتدل علماء ہیں، وہ یہ بتاتے ہیں کہ بیچارے درمیان میں سو جاتے تھے، استاد جب بیان کرتے تھے تو یہ سو جاتے تھے، تو جب یہ اٹھ جاتے تھے تو کوئی موضوع چل رہا ہوتا تھا تو اس سے پہلے اس کی بنیاد تو اس کو معلوم نہیں ہوتی، تو اسی پہ بس ڈٹ جاتے کہ بس یہ اس طرح ہے۔ حالانکہ اس کی تشریحات پہلے گزر چکی ہوتی تھی، تو اعتدال تو اس تشریحات میں ہوتی تھی۔ تو وہ چونکہ تشریحات درمیان میں کٹ جاتیں تو بس پھر تو تشدد ہوتا ہے۔ سیاق و سباق سے کٹنا تشدد کا ایک پورا میدان ہے۔ تو اس وجہ سے پھر یہ آ جاتا ہے کہ پورا نہیں سنتے۔ لیکن سوال و جواب کی صورت میں اگر آپ کو کوئی چیز سمجھائی جائے...یہ ایک کتاب ہے ماشاءاللہ بہت عمدہ کتاب ہے، مولانا ابوالقاسم دلاوری رحمۃ اللہ علیہ کی "عماد الدین" کتاب جو ہے، وہ سوال و جواب کی صورت میں ہے نماز پر ہی ہے۔ اور ماشاءاللہ بہت عمدہ اور بہت تفصیلی کتاب ہے۔ یعنی اس میں نمازوں کے احکام جو بیان کیے گئے ہیں۔ اور دوسری جو بہت بڑی کتاب ہے جو مختلف فقہی موضوعات مختصر مختصر وہ ہے "تعلیم الاسلام" جو بچوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ تو آج کل بڑوں کی بھی ضرورت ہے۔ تو وہ "تعلیم الاسلام" جو ہے وہ واقعی تعلیمات اسلام ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر انسان اس کو پڑھ لے تو بنیادی چیزوں کا پتہ سوال و جواب کی صورت میں معلوم ہو جاتا ہے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔