عقائدِ اسلام: انبیاء، ملائکہ، آخرت اور صحابہ کرام کی عظمت (مکتوباتِ مجدد الف ثانیؒ کی روشنی میں)

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوب نمبر 17، دفتر سوم کی تعلیم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

انبیاء کرام علیہم السلام کی معصومیت، مقام اور ان کا اپنی جبلت پر قابو پانا۔

ملائکہ کے فرائض، خصوصیات اور خواصِ بشر کی ملائکہ پر فضیلت۔

عذابِ قبر، منکر نکیر کے سوالات اور عالمِ برزخ کی حقیقت۔

قیامت کا برحق ہونا، حساب کتاب، میزان، اعمال نامے اور پل صراط پر ایمان۔

نبی کریم ﷺ کی شفاعت اور اولیاء و صلحاء کی شفاعت (بإذن اللہ) کا تصور۔

ایمان کی تعریف (اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب)، کبیرہ گناہ کے مرتکب کا شرعی حکم اور ایمان کے لیے کلمہ استثناء (ان شاءاللہ) کے استعمال سے گریز کی حکمت۔

خلفائے راشدین کی ترتیب اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت کے اسباب۔

تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم کی اہمیت اور مشاجراتِ صحابہ میں سکوت کا حکم۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

آج اتوار کا دن ہے اور الحمدللہ ہم نے خواتین کے لیے یہ عقائد بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اصل میں یہ عقائد حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک خاتون کو ہی ارشاد فرمائے تھے اپنے خط میں، اس وجہ سے مناسب ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بھی خواتین تک ان کو پہنچائیں۔

عقیدہ نمبر(8)

چونکہ سات عقائد ہو چکے تھے۔

انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات تمام جہان کے لئے رحمت ہیں۔ حضرتِ حق سبحانہ وتعالیٰ نے ان کو مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور ان بزرگوں کے ذریعے بندوں کو اپنی بارگاہ میں بلایا ہے اور دارالسلام (جنّت) کی طرف جو کہ اس کی رضا کا مقام ہے دعوت دی ہے وہ شخص بہت ہی بے نصیب ہے جو (مولائے) کریم کی دعوت کو قبول نہ کرے اور اس کی دولت کے دسترخوان سے نفع نہ اٹھائے۔ اور ان بزرگواروں (انبیاء) نے حضرت سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے جو کچھ تبلیغ کی ہے وہ سب حق اور سچ ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ عقل بھی اگرچہ حجت (دلیل) ہے لیکن اس کا دلیل ہونا ناقص ہے۔ حجتِ بالغہ کاملہ صرف انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کی بعثت سے حاصل ہوئی ہے تاکہ بندوں کے لئے کوئی عذر کا موقع نہ رہے۔ انبیاء میں سب سے پہلے حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات ہیں اور ان میں سب سے آخر اور خاتمِ نبوت حضرت محمد رسول اللہ علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات ہیں، لہٰذا تمام انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات پر ایمان لانا چاہئے اور سب کو معصوم اور راست گو (سچا) سمجھنا چاہئے۔ ان بزرگوں علیہم الصلوات و التسلیمات میں سے کسی ایک پر ایمان نہ لانا تمام (انبیاء ) پر ایمان نہ لانے کے برابر ہے کیونکہ ان سب کا کلمہ متفق ہے اور ان کے دین کے اصول بھی ایک ہی ہیں۔۔۔ اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہم الصلوٰۃ و السلام جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تو وہ خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کی شریعت کی متابعت کریں گے۔۔۔

یعنی خود ان کا جو ذات ہے وہ نبی کے طور پہ نہیں ہوگا۔

حضرت خواجہ نقشبند قدس اللہ تعالیٰ سرہما کے کامل خلفا میں سے ہیں اور عالم و محدث بھی ہیں اپنی کتاب ’’فصولِ ستہ‘‘ میں معتمد روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام نزول کے بعد امام ابی حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب پر عمل کریں گے اور ان کے حلال کو حلال اور ان کے حرام کو حرام قرار دیں گے۔

یہ عقیدہ انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ہم سب کو رکھنا ہے۔ انبیاء علیہم السلام وہ ہستیاں ہیں جن کو اللہ پاک نے معصوم بنایا ہے۔ فرشتے بھی معصوم ہیں اور انبیاء بھی معصوم ہیں لیکن دونوں میں فرق ہے۔ ملائکہ کے پاس نفس ہے ہی نہیں، اس وجہ سے وہ بغیر مزاحمت کے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے پر مامور ہیں۔ جبکہ انبیاء علیہ السلام کے پاس نفس ہوتا ہے لیکن وہ اپنے نفس پر غالب ہوتے ہیں اور وہ جو اعمال کرتے ہیں، نفس کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کی جو تکالیف جو دے رہے ہوتے ہیں انبیاء علیہ السلام کو ان پر صبر کرتے ہیں۔

اب ذرا تھوڑا سا میں اس بات کو سمجھاؤں بہت اہم بات ہے۔ ملائکہ کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا، ان کے پاس نفس ہی نہیں ہے ان کو تکلیف کیا دیں گے کوئی؟ ملائکہ کو کوئی کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔ لہٰذا صبر کا یہ والا معاملہ ان کے ساتھ ہے ہی نہیں۔ اس طریقے سے ملائکہ کو بھوک نہیں لگتی، ملائکہ کو پیاس نہیں لگتی، مطلب کوئی اور نفسانی خواہشات ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ لیکن انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں اور اللہ پاک نے ان کو اپنے نفس پر غالب کیا ہوتا ہے ان کو چنا ہوتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب تشریف لے گئے مدین، تو وہاں پر کچھ بچیاں وہ پانی بھرنے کے انتظار میں تھیں۔ تو ان کے لیے کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔ تو موسیٰ علیہ السلام چونکہ ظاہر ہے انسان تھے اور تکلیف کا احساس کرتے تھے، لہٰذا ان سے پوچھا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ ہمارے باپ بوڑھے ہیں اور یہاں تو یہ سارے لوگ پانی بھریں گے پھر اس کے بعد ہمیں باری ملے گی۔ تو چونکہ موسیٰ علیہ السلام توانا مرد تھے، تو ان کے لیے راستہ بنا لیا اور ان کو پانی بھرنے کا موقع دے دیا۔ اب یہ کام حضرت نے فرما دیا اور اس کے بعد پھر آکر سائے میں کھڑے ہو کر یہ عرض کی اللہ تعالیٰ کے سامنے:

رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔

اے اللہ جو کچھ تو میری طرف بھیجے گا نعمت میں اس کا محتاج ہوں۔

یہ گویا کہ یوں سمجھ لیں عبدیت کا اظہار تھا، بندگی کا اظہار تھا۔ تو اللہ جل شانہ نے ان کے لیے وہیں پر ہی انتظام کر دیا گھر کا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام عام انسانوں کی طرح سارا کچھ کرتے ہیں، اور شادی بھی کرتے ہیں، کھانا بھی کھاتے ہیں، سوتے بھی ہیں، جاگتے بھی ہیں۔ لیکن وہ چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں لہٰذا وہ وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہتے ہیں۔ جبکہ فرشتوں کے پاس نفس ہی نہیں ہوتا لہٰذا وہ وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہتے ہیں۔ تو نتیجے میں دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں معصومیت میں، لیکن ہر ایک کی معصومیت مختلف ہے ایک دوسرے سے۔

باقی اس میں جو یہ بات فرمائی گئی ہے کہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ کی بات، اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ خود نبی کے طور پر نہیں آئیں گے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا اتباع کریں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں دو طریقے ہیں، یا تو کوئی نئی تحقیق کر لیں اور یا پھر پرانی تحقیق کو لے لیں۔ تو اب نئی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پرانی تحقیقیں موجود ہیں، اب پرانی تحقیقوں میں سے کون کر لے؟ ایک ہی کرتے ہیں تو ظاہر ہے وہ اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کو چن لیں تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

(عقیدہ نمبر 9)

ملائکہ علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات حضرت حق سبحانہ کے معزز بندے ہیں اور حق تعالیٰ کی جانب سے رسالت و تبلیغ کی دولت سے مشرف ہیں ۔ وہ جس چیز کے لئے مامور ہیں اس تعمیل کرتے ہیں۔ مولیٰ جل سلطانہ کی سرکشی اور نافرمانی ان کے حق میں مفقود ہے۔ وہ خوراک و پوشاک سے پاک ہیں ، ازدواجی تعلقات سے معرا (خالی) ہیں اور توالدو تناسل سے مبرا ہیں۔ حق جل سلطانہ کی کتابیں اور صحیفے ان ہی کے ذریعے نازل ہوئی ہیں اور ان ہی کی امانت پر محفوظ و مامون رہی ہیں۔ ان سب پر ایمان لانا بھی دین کی ضروریات میں سے ہے اور ان کو سچا جاننا بھی واجباتِ اسلام میں سے ہے۔۔۔ جمہور اہلِ حق کے نزدیک خواص بشر خواصِ ملک سے افضل ہیں کیونکہ ان (خواصِ بشر) کا حق تعالیٰ سے واصل ہونا موانعات اور تعلقات کے باوجود ہے اور ملائکہ کا قرب بغیر کسی مزاحمت اور ممانعت کے ہے ۔ تسبیح و تقدس اگرچہ فرشتوں کا کام ہے لیکن جہاد کو اس دولت کے ساتھ جمع کرنا کامل انسان کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنىٰ (نسا:4 آیت95) (اللہ تعالیٰ نے اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے بہترین جزا کا وعدہ فرمایا ہے)۔

ملائکہ کے بارے میں حضرت فرماتے ہیں کہ یہ اللہ پاک کے معزز بندے ہیں، ان کے ساتھ نفس نہیں ہوتا۔ یہ توالد و تناسل، خوراک، پوشاک، ان سب چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔ تو وہ وہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ وہ وہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ تو یہ ماشاءاللہ، فرشتے چونکہ اللہ تعالیٰ کے معزز بندے ہیں تو ان کے بھی بڑے اونچے مقامات ہیں۔ البتہ یہ فرمایا کہ

خواصِ بشر جو ہوتے ہیں وہ خواصِ ملائکہ سے افضل ہیں۔

اس کی وجہ ہے کہ یہ جو کرتے ہیں جہاد کرتے ہیں اپنے نفس کے ساتھ، اور جبکہ فرشتوں کا نفس کے ساتھ وہ ہے ہی نہیں معاملہ۔ تو فَضَّلَ اللهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَىٰ۔ تو جو ملائکہ ہیں وہ بھی بڑے اونچے مقام والے ہیں لیکن جو خواص بشر ہیں وہ ان سے آگے ہوتے ہیں۔

(عقیدہ نمبر10)

مخبر صادق علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام نے جن چیزوں کی خبر دی ہے مثلاً احوالِ قبر اور احوالِ قیامت اور حشر و نشر اور بہشت و دوزخ، سب سچ اور حق ہیں۔ آخرت پر ایمان لانا بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان کی طرح ضروریاتِ اسلام میں سے ہے۔ آخرت کا منکر صانعِ حقیقی کے منکر کی مانند ہے اور قطعی کافر ہے۔۔۔ اور قبر کا عذاب اور اس کا ضغطہ (تنگ ہونا) وغیرہ حق ہیں، اور اس کا انکار کرنے والا اگرچہ کافر نہیں ہے لیکن بدعتی ہے کیونکہ وہ احادیثِ مشہورہ کا منکر ہے۔ 

یہ اصل میں اس کے بارے میں یہ فرمایا گیا، کیونکہ قبر کا عذاب جو ہے یہ احادیث مشہورہ سے ثابت ہے۔ لہٰذا جو اس کا منکر ہے وہ اس کا منکر ہے۔ 

 اور چونکہ قبر دنیا و آخرت کے درمیان برزخ ہے اس لئے اس کا عذاب یھی ایک اعتبار سے دنیا کے عذاب کے مشابہ ہے کہ وہ بھی منقطع (ختم ) ہونے والا ہے اور ایک اعتبار سے عذابِ آخرت کے مانند ہے کیونکہ وہ عذابِ آخرت کی قسم سے ہے۔ اس عذات کے مستحق زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پیشاب (کی چھینٹوں) سے احتیاط نہیں کرتے اور وہ لوگ بھی ہیں جن کو چغل خوری اور نکتہ چینی کی عادت ہے۔۔۔ اور قبر میں منکر نکیر کا سوال بھی حق ہے اور قبر میں یہ ایک عظیم فتنہ اور آزمائش ہے۔ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ ثابت قدم رکھے ۔

قبر کا عذاب یہ جو ہے، یہ آج کل کوئی فتنے اس طرح آئے ہوئے ہیں کہ بعض لوگ قبر کے عذاب سے منکر ہیں۔ تو یہ چونکہ احادیث مشہورہ کا انکار ہے، لہٰذا یہ بدعتی لوگ ہیں اور اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ 

یہ اصل میں یہ چونکہ برزخ ہے۔ برزخ سے مراد یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک مقام ہے۔ تو لہٰذا اس کا کچھ حصہ دنیا کی طرح ہے اور کچھ حصہ اس کا آخرت کی طرح ہے۔ دنیا کے لحاظ سے اس لیے کہ یہ ختم ہونے والا ہے اور آخرت کے لحاظ سے وہ عذابِ آخرت کی طرح ہے۔ کیونکہ دنیا کی چیزیں مختلف ہیں، آخرت کی چیزیں مختلف ہیں۔

(عقیدہ نمبر11)

قیامت کا دن برحق ہے اور یقیناً آنے والا ہے۔ اس دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور ستارے گر جائیں گے، زمین اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر معدوم ہو جائیں گے جیسا کہ نصوصِ قرآنی اس کی ناطق ہیں اور تمام اسلامی فرقوں کا اس پر اجماع ہے اور وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس کا منکر کافر ہے۔ اگرچہ وہ وہمی مقدمات سے اپنے کفر کو آراستہ کر کے پیش کرے اور بیوقوفوں کو راہِ راست سے بھٹکائے۔۔۔ اس دن قبروں سے اٹھنا اور بوسیدہ اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کا زندہ ہونا حق ہے۔ اعمال کا حساب اور میزان (ترازو) کا قائم ہونا، اور اعمال ناموں کا اڑکر آنا، اور نیک لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اور بُرے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں پہنچنا بھی حق ہے۔ اور پل صراط جو کہ دوزخ کی پشت پر رکھی جائے گی اس پر سے گزرکر جنتیوں کا جنت میں پہنچنا اور دوزخیوں کا دوزخ میں گرنا بھی حق ہے۔ یہ سب اُمور ممکنات میں سے ہیں جن کے واقع ہونے کی خبرمخبر صادق نے دی ہے پس ان کو بغیر توقف کے قبول کر لینا چاہئے اور وہمی مقدمات کی بنا ء پر شک و تردد نہیں کرنا چاہئے ۔ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ  (حشر59 آیت7) (جو کچھ رسول تم کو دے اس کو پکڑ لو) نص قطعی ہے۔۔۔ اور اس (قیامت کے) روز بُرے لوگوں کے حق میں نیک لوگوں کا شفاعت کرنا حضرت رحمٰن جل سلطانہ کی اجازت سے شفاعت کرنا حق ہے۔ پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوات والتسلیمات نے فرمایا ہے: شَفَاعَتِیْ لِاَھْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ (میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے)۔۔۔ اور کافروں کو حساب کے بعد دوزخ میں ہمیشہ کے لئے داخل ہونا ہے، اور عذابِ دوزخ بھی حق ہے۔ اور اسی طرح مؤمنوں کا ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہونا ہے، اور جنت کی نعمتیں بھی حق ہیں۔۔۔ مؤمن فاسق کو اگرچہ اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اپنے گناہوں کے موافق عذاب میں مبتلا ہوگا لیکن ہمیشہ دوزخ میں رہنا اس کے حق میں مفقود ہے، کیونکہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا اور اس کا انجام رحمت پر ہے اور اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔۔۔ ایمان اور کفر کا مدار خاتمہ پر ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمام عمر اِن دونوں صفتوں (ایمان اور کفر) میں سے کسی ایک کے ساتھ متصف رہتا ہے اور آخر میں اس کی ضد سے متصف ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا اعتبار خاتمہ کا ہے۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔ 

قیامت، یہ دن ہے جو سب پہ آنے والا ہے اور یہ حق ہے، ہمارا ایمان ہے اس پر۔ اس دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، ستارے گر جائیں گے، قرآن پاک میں آتا ہے، إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ۔

اور زمین اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر معدوم ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نصوص قرآنی اس پر ناطق ہے۔ تمام اسلامی فرقے اس کو مانتے ہیں اور اس کا اعتقاد رکھتے ہیں، اس لیے اس کا منکر کافر ہے۔ اگرچہ وہ وہمی مقدمات سے اپنے کفر کو آراستہ کرکے پیش کر لے اور بیوقوفوں کو راہ راست سے بھٹکالے

جیسے کہ آج کل سوشل میڈیا کے اوپر اس قسم کی باتیں چلتی ہیں اور لوگوں کو راہ راست سے بھٹکانے کی کوششیں ہو رہی ہوتی ہیں۔

اس دن قبروں سے اٹھنا اور بوسیدہ اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کا زندہ ہونا حق ہے۔ اعمال کا حساب اور میزان کا قائم ہونا، اعمال ناموں کا اڑ کر آنا اور نیک لوگوں کے دائیں ہاتھ میں، اور برے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں پہنچنا بھی حق ہے۔

کیوں؟ قرآن پاک میں ہے۔ ا

اور پل صراط جو کہ دوزخ کی پشت پر رکھی جائے گی، اس پر سے گزر کر جنتیوں کا جنت میں پہنچنا اور دوزخیوں کا دوزخ میں گرنا حق ہے۔ یہ سب امور ممکنات میں سے ہیں جن کے واقع ہونے کی خبر مخبر صادق نے دی ہے پس ان کو بغیر توقف کے قبول کرنا چاہیے، اور وہمی مقدمات کی بنا پر شک و تردد نہیں کرنا چاہیے۔

اصل بات یہ ہے کہ موٹی سی بات ہے کہ یہ ساری کائنات پہلے نہیں تھی پھر بعد میں اللہ نے بنائی۔ تو جب بالکل کچھ نہیں تھا اس وقت اس کو بنایا، اگر وہ ممکن تھا تو جو کچھ تھا لیکن ختم ہوا اس کو بنانا اس سے زیادہ مشکل ہے؟ ظاہر ہے اس سے زیادہ تو مشکل نہیں ہے نا، مشکل تو ہے کہ بالکل نہ ہونے سے کسی چیز کو بنانا۔ تو اس طریقے سے یہ ہے کہ یہ اس کا باقاعدہ اللہ پاک کی ایک صفت ہے جس کو اللہ پاک فرماتے ہیں بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ بدیع کا لفظ اس کے، اس کے لیے آتا ہے کہ کچھ نہ ہونے سے کسی چیز کو پیدا کرنا۔ یعنی اس کے لیے کوئی ڈیزائین نہیں ہوتا، کوئی طریقہ پہلے سے نہیں ہوتا، کوئی مثال نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو بنا سکتا ہے۔ باقی انسان ایسا نہیں کر سکتے، انسان کی جتنے ایجادات ہیں، جتنے بھی چیزیں ہیں، وہ سب کسی چیز کی نقل ہیں۔ پہلے سے ایک چیز موجود ہوتی ہے اس کے مطابق وہ نقل کر لیتے ہیں۔


مثلاً جہاز پرندوں کو دیکھ کر بنایا گیا۔ submarine مچھلیوں کو دیکھ کر بنایا گیا۔ آخر مچھلیوں کو study کیا گیا نا کہ مچھلیاں کیسے درمیان میں جاتی ہیں؟ تو انہوں نے ان قوانین کو دریافت کر لیا، اس کی بنیاد پر submarine بنا دی۔ اس طرح یہ ڈاکٹروں نے bypass کا جو operation وہ کرنے کے لیے جو طریقہ کار دریافت کیا، اس کے لیے اللہ پاک نے پہلے سے وہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں نا رانوں میں۔ اگر یہ نہ ہوتی تو کیا کرتے ڈاکٹر؟ ڈاکٹر تو کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے سے نظام رکھا ہوا تھا، وہ آدم علیہ السلام کے وقت سے ہی چیز آرہی تھی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سائنسدان جو ہیں وہ ایک چیز جو پہلے سے موجود ہوتی ہے اس کی بنیاد پر ایک کام کرتے ہیں۔

کیوں؟ physical laws یہ سارے کے سارے discoveries کے بعد inventions کی طرف جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ discoveries پہلے ہوتی ہیں پھر اس کے بعد invention ہوتا ہے۔ کوئی قانون دریافت ہوتا ہے۔ مثلاً یہ قانون دریافت ہوا کہ پانی ڈھلوان کی طرف بہتا ہے۔ بس یہ قانون دریافت ہو گیا۔ اب اس کے لیے piping system اس سے design کرنا، یہ اس قانون کا استعمال ہے۔ یہ اس قانون کا استعمال ہے تو قانون پہلے سے دریافت ہو گیا، وہ پہلے سے موجود تھا نا۔ پہلے سے موجود تھا۔ تو اس قانون کو دریافت کر کے، اس قانون کو استعمال کر لیا گیا۔ یہ نیوٹن نے معلوم کر دیا کہ کوئی چیز چلتی ہو تو جب تک اس کو روکنے والی چیز نہ ہو تو چلتی رہے گی، اور کوئی چیز رکی ہوئی ہو تو جب تک اس کو کوئی چیز ہلائے گی نہیں تو وہ اس وقت تک وہ رکی رہے گی۔ تو یہ قانون اس نے دریافت کر لیا نا، کہ پہلے سے موجود ہے۔ اب اس کے بعد اس نے اس کو لوگوں نے استعمال کر لیا۔ لوگوں نے استعمال کر لیا۔

لیکن اللہ جل شانہٗ کے لیے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا بالکل بنیاد سے خالق ہے۔ ہر چیز کو بنیاد سے جانتے ہیں، بنیاد سے اس کو بنایا ہوا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو اتنا ہے کہ کُن کہہ دے تو وہ چیز ہو جائے گا۔ اس کے لیے تو کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ تو قیامت کی یہ باتیں اگر کسی کو مشکل نظر آتی ہیں، تو مشکل لوگوں کو نظر اس لیے آتی ہیں کہ ہم خود اپنے آپ کو دیکھتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو دیکھتے ہیں، لیکن اب یہ جو drones ہوتے ہیں اور یہ chip ہوتا ہے، اور chip کے ذریعے سے اطلاع ہوتی ہے اور drone کے ذریعے سے بم گرتا ہے۔ انسان ہے، ظاہر ہے اس نے اس کو وہ بنا لیا۔ اب بظاہر یہ بڑی عجیب بات ہے۔ پہلی پہلی دفعہ جب یہ آ گیا تو لوگ حیران تھے، بھئی یہ کیسے اس کو پتہ چل گیا؟ اور کیسے بم ادھر ہی گرتا ہے، کسی اور جگہ نہیں جاتا؟ تو پتہ چلا کہ بھئی یہ کوئی chip رکھتا ہے ادھر۔ تو اس کا radiation جو جاتا ہے، وہ اس کو sense کرتا ہے اور اس کے مطابق وہ آتا ہے۔ بس ٹھیک ہے جی۔ تو، انسان کے لیے بھی دیکھیں اللہ پاک نے ایسے راستے بنا دیے وہ اس طرح کر سکتے ہیں۔ تو قیامت میں جو چیزیں ہو رہی ہیں، اب ظاہر ہے مثال کے طور پر، جیسے drone نشانے پہ، وہ چیز پھینکتا ہے، وہ اس طرف ہی جاتا ہے، تو جس کا اعمال نامہ ہوگا، وہ اس کو کھینچے گا نا اپنے اعمال نامے کو، اس کے اندر وہ خاصیت اللہ پاک پیدا فرمائیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کو کھینچے گا، اور خود اڑ کے جائے گا اس کے پاس، اس میں کیا مشکل ہے؟

تو اس طرح بہت ساری باتیں ہیں جو کہ ہم لوگ یقیناً پریشان بھی ہو سکتے ہیں۔ کیوں؟ ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہیں ہی نہیں۔ بہت ساری چیزیں جس کو ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن مانتے ہیں۔ بجلی کو کسی نے دیکھا ہے؟ مانتے ہیں یا نہیں مانتے؟ مانتے ہیں۔ کون ہے جو نہیں مانتا؟ چلو ہاتھ لگائیں نا۔ مانتے ہیں، لیکن دیکھا کسی نے نہیں ہے۔ اور ایسی عجیب چیز ہے کہ اس کو تولا بھی نہیں جا سکتا۔ اس سے وزن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بجلی جس میں ہو اور بجلی جس میں نہیں ہو، وزن میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ تو اب ظاہر ہے اتنی powerful چیز ہے کہ بڑے بڑے مشینوں کو چلا دے۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اس کا کوئی وزن بھی نہیں ہے۔ تو یہ چیزیں اللہ پاک نے اس لیے پیدا کی ہیں تاکہ ہم لوگ ذرا ان چیزوں کو جان لیں اور مان لیں۔

تو اس طریقے سے شفاعت کرنا، یہ حق ہے۔ اللہ جل شانہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بڑی شفاعت کے لیے شفیع بنایا ہوا ہے۔ ہاں، دوسرے شفیع بھی ہوں گے۔ مثلاً حافظِ قرآن، وہ اپنے گھر کے دس افراد کی شفاعت کر سکیں گے۔ تو اسی طریقے سے اور اولیاء اللہ وہ بھی شفاعت کر سکیں گے اللہ کے حکم سے۔ کیونکہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا۔ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی سفارش کر لے اس کے اذن کے بغیر؟ تو شفاعت جو ہوگی وہ اللہ کے اذن سے ہی ہوگی۔

اصل میں ایک بہت ہی خفی بات ہے، وہ ذرا تھوڑا سا ہمیں سمجھنا چاہیے۔ ذرا شفاعت ہی کے معاملے پر ہم غور کر لیں۔ جن کو اجازت اللہ پاک دے رہے ہیں شفاعت کا، تو اللہ پاک چاہتے ہیں نا کہ اس کو معاف کر لے؟ اللہ پاک چاہتے ہیں نا کہ اس کو معاف کر لے لیکن اس کے اعزاز کے لیے اس کو اجازت دے رہے ہیں کہ تو اس کا شفاعت کر سکتا ہے۔ تو اصل جو کرم اور احسان ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کا ہوا نا۔ اصل کرم اور احسان تو اللہ تعالیٰ کا ہوا۔ مثلاً میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کروں، کرنا بھی چاہیے، کیونکہ ایمان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنا ایمان ہے۔ کیونکہ اگر کوئی نہیں محبت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا"، یہ بھی ہمارے علمائے کرام نے ذرا محتاط ترجمہ کیا ہے، ورنہ اس کا اصل ترجمہ کیا ہے؟ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، تم میں سے کوئی ایماندار ہو نہیں سکتا اس وقت تک... عربی الفاظ ایسے ہیں، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ۔ لیکن علمائے کرام نے اور بہت ساری چیزوں کے مدنظر اس کا محتاط ترجمہ کیا ہے کہ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت تو ایمان ہے۔ لیکن یہ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے پیدا کیا اور یہ تمام صفات اللہ پاک نے ان کو دیے ہیں۔ تو اپنی امت کے ساتھ جو شفقت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور محبت ہے، یہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ڈالا ہوا ہے نا۔ تو اصل محبت کس کو ہے؟ اصل محبت تو اللہ تعالیٰ کو ہے اپنی مخلوق کے ساتھ۔ وہ فرماتے ہیں، الْخَلْقُ عِيَالُ اللهِ، بندے جو ہیں نا یہ مخلوق ہیں، یہ اللہ کے کنبہ ہے۔ اور اپنے مخلوق کے ساتھ جو احسان کرتا ہے، کوئی احسان کرتا ہے، اس کے مخلوق کے ساتھ، اس پر اللہ پاک بہت کرم فرماتے ہیں۔

یہ شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد تھے، ان کا واقعہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ ایک دفعہ جا رہے تھے نماز کے لیے۔ بڑے صاف ستھرے کپڑے، عطر لگے، پہن کر جمعہ کی نماز کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک کتا آ گیا۔ پگڈنڈی ہے، یا وہ گزر سکتا ہے یا کتا گزر سکتا ہے، دونوں میں سے کوئی ایک ہی گزرے، باقی آگے پیچھے کیچڑ ہے۔ انہوں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ کتا ہے، یہ غیر مکلف ہے۔ اگر یہ کیچڑ میں اتر جائے تو اس کو کیا؟ اب میں تو مکلف ہوں، پھر مجھے کپڑے دھونے پڑیں گے، یہ ہوگا وہ ہو گیا۔ یہ خیال میں آ گیا۔ ادھر ان کے خیال میں آنا تھا، ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے انتظام ہوا کہ کتے نے communication channel بنا دیا۔ جس طریقے سے بھی بات ہو گئی، لیکن حضرت کو بات سمجھ آ گئی۔ اور کتا کہہ رہا ہے، "ٹھیک ہے، میں اتر جاؤں گا اس میں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میرے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن یہ جو تیرا خیال ہے، اگر تو نہیں اترا اور میں اترا، تو وہ جو گند تیرے دل میں آ جائے گا، اپنے آپ کو مجھ سے بہتر سمجھنے کا، اس کو پھر سمندر کا پانی بھی دھو نہیں سکے گا۔"

اس پر حضرت بے ساختہ، اس نے جمپ لگایا، اپنے کیچڑ میں جمپ لگایا۔ اور پھر واپس جا کے، انہوں نے کپڑے بدلے اور یہ کیا وہ کیا۔ تو پھر اس کے بعد اللہ کی طرف سے الہام ہوا۔ کہ میرے بندے، تجھے پتہ ہے کہ یہ علم میں نے تجھے کیوں دیا؟ اس وقت یہ علم جو تجھے علم دیا ہے، یہ کیوں دیا ہے؟ تو شاہ عبدالرحیم صاحب نے کہا کہ میں تو نہیں جانتا۔ تو اللہ پاک کی طرف سے الہام ہوا کہ اس لیے کہ تو نے فلاں وقت میں سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے کتے کے بچے پر رحم کیا تھا۔ اور اس کو بوری سے cover کر لیا تھا۔ وہ ادا مجھے پسند آئی، تو آج میں نے اسی کی نسل سے تجھے وہ علم عطا کر دیا، جو تیرے لیے بہت مفید ہے۔

تو مخلوق کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنا، یہ بہت اللہ کو پسند ہے۔ کیوں؟ اللہ تعالیٰ کو خود تو حاجت نہیں ہے۔ اللہ پاک کو کون سی چیز کی حاجت ہے؟ تم اللہ کے ساتھ کیا کر سکتے ہو؟ کیا دے سکتے ہو اللہ تعالیٰ کو؟ اللہ تعالیٰ کو تو کوئی کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ چاہے کچھ بھی کر دے، ذبح بھی کر دے انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے لیے، تو اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ کو تو کچھ بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہے۔ ہاں، مخلوق کو ضرورت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی نے وہ ضرورت پیدا کی ہے۔ لہٰذا اللہ پاک اس کی لاج بھی رکھتے ہیں۔

مثلاً حدیث شریف ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندے سے پوچھے گا، "اے میرے بندے! میں بیمار تھا، تو نے میری عیادت نہیں کی۔ اے میرے بندے! میں بھوکا تھا، تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔" تو بندہ بہت حیرانی سے کہے گا، "یا اللہ! تو تو خالق ہے، تو تو مالک ہے، تو کیسے بیمار ہو سکتا ہے؟ تو کیسے بھوکا ہو سکتا ہے؟" تو اللہ پاک فرمائے گا، "وہ میرا فلاں بندہ جو بھوکا تھا نا، اگر تو اس کو کھلاتا تو مجھے ادھر پاتا۔ اور میرا فلاں بندہ جو بیمار تھا نا، اگر تو اس کی عیادت کے لیے جاتا تو تو مجھے ادھر پاتا۔" یہ اصل میں وہ link ہے، link to the subject ہے۔ تو اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ جل شانہٗ جو ہے، اس نے شفاعت کا جو مقام مختلف ہستیوں کو دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ۔ اور پھر اس کے بعد انبیاء کرام کو، اور صحابہ کرام کو، اولیاء کرام کو، حفاظ کرام کو، یہ سب کو جو اللہ پاک نے شفاعت کی اجازت دی ہے، یہ اللہ پاک کی بڑی مہربانی ہے۔

اب تین cases ہیں۔ جو مومن پکے ہیں، جن کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُم۔ اور جو کافر پکے ہیں، جنہوں نے حق کا کلمہ ہی نہیں پڑھا، وہ سیدھے دوزخ میں جائیں گے۔ ان دونوں کے لیے حکم یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے جنت میں، ہمیشہ کے لیے دوزخ میں۔ اب تیسری category ہے جو فاسق مسلمان ہیں، گناہ گار مسلمان ہیں، ان کا حساب ہوگا۔ اگر ان کی نیکیاں بڑھ گئیں، تو جنت۔ اگر گناہ بڑھ گئے، دوزخ۔ limited time کے لیے دوزخ۔ کیونکہ ایمان ان کے پاس ہے۔ اگر آپ ایک کو صفر پر divide کر لیں تو infinity result آتا ہے۔ تو ایمان اگر نہ ہو تو infinite time کے لیے انسان دوزخ میں جائے گا۔ لیکن اگر zero نہیں ہے، 1 ہے بیشک، پھر اس کے حساب سے ہوگا۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ ہے کہ یوں سمجھ لیجیے، پھر نیکیوں کے حساب سے ہوگا۔ لیکن اگر zero ہے تو infinite time کے لیے۔ مطلب وہ جو ہے نا اس کے حساب سے۔ تو اس وجہ سے ماشاءاللہ اللہ تعالیٰ نے جن کو گناہوں سے پاک رکھا ہے، تو بس وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ جو کافر ہیں جن کے پاس ایمان ہے ہی نہیں، سیدھے دوزخ میں۔ اور باقی درمیان والے جو ہیں نا اس طرح ہوں گے، جن کا حساب کتاب ہوگا۔ 

اعمال نامے ان کو دیے جائیں گے۔ نیک لوگوں کو جن کا اعمال نامہ اچھا ہوگا ان کو دائیں ہاتھ میں۔ اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔ اور یہ قرآن پاک میں پورے تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ وہ لوگ اپنے اعمال ناموں پہ کتنے خوش ہوں گے جو نیک اعمال والے ہوں گے۔ وہ لوگوں کو دکھائیں گے، میں نہیں کہتا تھا، ہم نہیں کہتے تھے، دیکھو ایسا ہو گا، ایسا ہو گا، دیکھو اللہ پاک نے ہمیں دائیں ہاتھ میں دے دیا۔ یہ خوشی جو ہے یہ خوشی، حقیقی خوشی ہوگی۔ البتہ اس کی مثال کے طور پر خوشی ہمارے بچوں میں دیکھی جا سکتی ہے، جب بچوں کو report book ملتی ہے سکول میں، pass ہو جاتے ہیں تو دوڑ لگاتے ہیں اور اپنے والدین کے سامنے report book پھینکتے ہیں کہ ہم pass ہو گئے، اس طرح یہ ہو گیا یہ ہو گیا۔ وہ خوشی ان کو ہوتی ہے۔ اس خوشی کا اظہار ایک قسم کا پاگل پن کے انداز میں کرتے ہیں۔ بے انتہا خوشی کا اظہار وہ کرتے ہیں۔ تو وہاں کی خوشی پھر اصل خوشی ہوگی۔ جن کو اللہ پاک یہ مقام دے گا، تو اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرما دے۔

(عقیدہ نمبر 12)

ایمان سے مراد تصدیقِ قلبی ہے ان اُمور کے ساتھ جو دین میں ضرورت کے تحت تواتر کے ساتھ پایہ ثبوت کو پہنچ چکے ہیں۔ اور اقرارِ لسانی (زبان سے اقرار کرنا) بھی ان اُمور کے ساتھ ضروری ہے جیسا کہ صانعِ حقیقی کے وجود پر حق تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا ہے۔۔۔ اور اسی طرح آسمانی کتابوں اور نازل شدہ صحیفوں کو حق جاننا ہے۔۔۔ اور انبیاء کرام اور ملائکہ عظام علیہم الصلوات و التسلیمات الیٰ یوم القیام پر ایمان لانا ہے۔۔۔ اور آخرت پر ایمان لانا جس میں جسموں کے ساتھ اُٹھنا ، عذابِ دوزخ اور ثوابِ بہشت کا دائمی ہونا۔ آسمانوں کا پھٹنا اور ستاروں کا جھڑنا اور زمین و پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونا ہے۔

یہ اصل میں ایمان جو ہے، کیا چیز ہے؟ إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ۔ زبان کے ساتھ اقرار کرنا، اور دل سے اس کی تصدیق۔ اگر دل سے تصدیق نہ ہو، تو منافق ہے۔ اور اگر اقرار باللسان نہ ہو، تو مومن ہے لیکن عند اللہ، عند الناس نہیں۔ لوگ اس کو مومن نہیں سمجھیں گے۔ لہٰذا مر گیا تو ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ ان کو کیا پتہ کہ یہ مسلمان ہے؟ اللہ کو پتہ ہوگا۔ لیکن ان کو تو پتہ نہیں ہوگا نا۔ لوگ تو اپنے علم کے مطابق مکلف ہوں گے نا۔ لہٰذا جو عام لوگ ہیں وہ ان کے ساتھ ویسے ہی معاملہ کریں گے جیسے کہ وہ جانتے ہیں کسی کو۔ جبکہ اللہ جل شانہٗ ان کو جانتا ہوگا کہ یہ مسلمان ہیں، لہٰذا اللہ پاک ان پر کرم کا معاملہ فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے، بہت بڑی بات ہے ایمان کی دولت جو ہے، اس کو قائم رکھنا، بہت ضروری ہے۔ البتہ یہاں پر ایک بات آ رہی ہے، وہ ان شاءاللہ ابھی بات کریں گے۔

(عقیدہ نمبر 13)

اور اسی طرح ایمان لانا پانچوں وقت کی نماز پر۔ اور ان میں رکعتوں کے تعین پر ، مال کی زکوٰۃ پر اور رمضان کے روزوں پر اور حج بیت الحرام کے لئے استطاعتِ راہ کی توفیق پر۔۔۔ اور اسی طرح ایمان لانا کہ شراب پینا۔ ناحق کسی نفس کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، چوری، زنا اور یتیم کا مال کھانا اور سود کھانا سب حرام ہیں۔ 

یعنی اللہ جل شانہٗ کے حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال سمجھنا اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام جاننا، ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں اعمال کے، ان کو حق سمجھنا، جیسے فرائض ہیں۔ فرائض کو ماننا لازم ہے۔ فرائض کا منکر کافر ہوتا ہے۔ البتہ واجبات جو ہیں ان کا منکر کافر نہیں ہوتا لیکن نقصان کے لحاظ سے برابر ہے اس کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

اور مؤمن کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان سے خارج نہیں ہوتا

یہ ہمارا مسلک ہے ہمارے بزرگوں کا، کہ مومن کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل جو ہمارے پاس ہے وہ یہ ہے کہ حجاج بن یوسف نے بہت سارے بڑے بڑے لوگوں کو شہید کیا تھا۔ بڑے بڑے لوگ، یعنی معمولی لوگ نہیں تھے، نیک لوگ تھے۔ اور کسی کو قتل کرنا سخت کبیرہ گناہ ہے، ابھی اس کا ذکر گزرا۔ تو اگر کبیرہ گناہ سے کافر ہوتے تو ان کے پیچھے صحابہ نماز پڑھتے؟ پتہ چل گیا نا کہ کبیرہ گناہ سے وہ کافر نہیں ہوتا ورنہ ان کے پیچھے کیسے نماز پڑھتے؟ یہ ایک بڑی بات ہے۔

اور کفر میں بھی داخل نہیں ہوتا۔ کبیرہ گناہ کو حلال جاننا کفر ہے اور گناہِ کبیرہ کا ارتکاب فسق ہے۔۔۔ 

 کھلم کھلا اگر کرلے، تو پھر فسق ہے۔ یہاں پر ایک بات آ رہی ہے وہ۔ 

اور اپنے آپ کو مؤمن برحق جاننا چاہئے یعنی اپنے ایمان کے ثبوت اور حق ہونے کا اعتراف کرنا چاہئے۔ اور کلمۂ استثنا یعنی ایمان کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ کو نہیں ملانا چاہئے کیونکہ اس میں شک کا وہم ہوتا ہے، کہ وہ ایمان کے ثبوت کی صورت میں مخالفت رکھتا ہے۔ اگر استثنا کا استعمال خاتمہ کے ساتھ راجع کریں جو مبہم ہے تووہ بھی ثبوتِ حال کے اشتباہ سے خالی نہیں ہے۔ لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ شک و شبہ کی صورت کو ترک کر دیا جائے۔

یہ اصل میں ہمارے اماموں کے درمیان میں اختلاف ہے اس پر۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أَنَا مُؤْمِنٌ حَقًّا، میں بالکل مومن ہوں۔ یہ کہنا لازم ہے ایمان کے لیے۔ جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَاءَ اللهُ۔ حضرت نے اس پر ایک اور جگہ تبصرہ فرمایا ہے کہ مومن ساتھ ”ان شاء اللہ“ اگر عاقبت کے لحاظ سے ہو، کہ مطلب بالآخر، کچھ پتہ نہیں کہ میں مسلمان رہتا ہوں یا نہیں رہتا ہوں، پتہ نہیں۔ ایسی صورت میں بھی ساتھ ”ان شاء اللہ“ نہیں کہنا چاہیے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اس میں شک کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اور ایمان میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ ایمان میں ذرہ بھر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ ایمان، یقین کا  اوپر درجہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے بالکل ذرہ بھر بھی اس میں شک نہ کریں۔

تو اس وجہ سے ہمارا جو مسلک ہے وہ یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں ہم مومن ہیں۔ الحمدللہ۔ دیکھیں مومن ہیں نا الحمدللہ۔ اللہ کو مانتے ہیں۔ اللہ کو ایک مانتے ہیں۔ یہ جتنے بھی عقیدے بیان کیے سب کے اوپر ہمارا یقین ہے یا نہیں ہے؟ مانتے ہیں نا۔ جب مانتے ہیں تو مومن ہیں نا۔ بھئی بجلی آن ہے، روشنی آ رہی ہے، تو بجلی ہے نا۔ بس ٹھیک ہے نا، نظر آ رہی ہے بس۔ تو اسی طریقے سے یہ بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، یہ یہ چیزیں گنی جا سکتی ہیں۔ یہ مانتا ہوں، یہ مانتا ہوں، یہ مانتا ہوں، یہ مانتا ہوں، بس ٹھیک ہے جی مطلب ظاہر ہے مومن حق۔ اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہ ہو سکتا ہے، کسی وقت بھی کسی کا ایمان سلب ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ بچائے۔ اس وقت وہ مومن نہیں ہوگا۔ اس وقت مومن نہیں رہے گا۔ ایمان کے جو صفات ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ بھی ایمان قبول کر لے کوئی، تو جب تک اس کا خلاف کوئی نہ کرے، تو اس وقت تک وہ جاری رہے گا۔ عمل میں یہ چیز نہیں ہے۔ عمل مسلسل کرنے پڑتے ہیں۔ مثلاً نماز کا وقت آ گیا، تو نئے سرے سے آپ کو نماز پڑھنی پڑے گی۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے میں نے ظہر کی نماز پڑھی تو عصر کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب آپ ظہر بھی پڑھیں گے، عصر بھی پڑھیں گے، مغرب بھی پڑھیں گے، عشاء بھی پڑھیں گے، اور جب تک زندہ ہیں پڑھتے رہیں گے۔ اس میں، جب بھی آپ نہیں پڑھیں گے تو گناہ ہوگا، فسق ہے، کبیرہ گناہ ہوگا۔ لیکن ایمان؟ ایک دفعہ کسی نے کلمہ پڑھ لیا، اور ایمان قبول کر لیا، اس کے بعد وہ مومن ہے۔ جب تک وہ کلمہ کفر اس سے صادر نہ ہو۔ جب تک اس سے کلمہ کفر صادر نہ ہو، وہ مومن ہے۔ یا کوئی کفر کی حرکت وہ نہ کرے۔ البتہ گناہ کبیرہ سے کوئی کافر نہیں ہوتا جیسے کہ فرمایا گیا۔ گناہ کبیرہ سے کافر نہیں ہوتا۔ البتہ کفر کی حرکت، جیسے مثال کے طور پر کسی حرام کو حلال جانے۔ تو یہ کفر ہے۔ اگر اس نے دل میں جان لیا ہے، تو اندرونی طور پہ کافر ہے، اللہ کو پتہ ہے۔ اور اگر اس نے اقرار بھی کر لیا تو ظاہری طور پر بھی کافر ہے۔ پھر اس کو کافر کہنا پڑے گا۔ کیونکہ، جو حلال کو حرام جانتا ہے اور حرام کو حلال جانتا ہے، وہ پھر ظاہر ہے چونکہ اس چیز کو نہیں مان رہا تو اس کا ایمان چلا جاتا ہے۔

(عقیدہ نمبر 14)

اور حضرات خلفاء اربعہ کی افضلیت ان کی خلافت کی ترتیب کے موافق ہے کیونکہ اہلِ حق کا اجماع اسی پر ہے کہ پیغمبروں صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ سبحانہ علیہم اجمعین کے بعد افضلِ بشر حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ بعدازاں حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور ان کی افضلیت کی وجہ جو کچھ اس فقیر نے سمجھی ہے وہ فضائل و مناقب کی کثرت نہیں ہے بلکہ

1۔ ایمان کی اسبقیت ہے اور

2۔ مال کے خرچ کرنے میں پیش پیش رہنا ہے اور

 3۔دین کی تائید اور ملتِ متین کی ترویج میں اپنے نفس کو لگائے رکھنے میں اولیت ہے،

کیونکہ سابق اگرچہ دین کے معاملے میں لاحق کا استاد ہے اور لاحق جو کچھ پاتا ہے وہ سابق کی دولت کے دسترخوان سے پاتا ہے۔ اور ان تینوں صفات کا مجموعہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات میں منحصر ہے جس نے ایمان کی سبقت کے ساتھ ساتھ مال کو خرچ کیا اور اپنے نفس کو دین کے کاموں میں لگا دیا ۔

یعنی جان و مال کو بہترین طریقے سے پیش کر دیا۔ کوئی اس سے آگے نہیں ہو سکا، جان و مال کے خرچ میں۔ اب دیکھو جان کا یہاں تک ہے کہ ہر وقت ہر چیز میں، غارِ ثور کا جیسے واقعہ ہے اور جگہوں پہ، یعنی بالکل پیش پیش۔ مال کا یہ بات ہے کہ پورا گھر صاف کرکے لے آئے۔ اپنی عزیز ترین جان، اپنی بیٹی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں دے دیا۔ الغرض یہ کہ جو ایثار اور جو قربانی کہی جا سکتی ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو recognize کرنے کے طور پر فرمایا کہ باقی لوگوں نے میرے ساتھ جو احسان کیا ہے اس کا میں اس کو بدلہ دے چکا ہوں، لیکن ابوبکر کا بدلہ تو صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا۔ ایک اور بات بھی اس میں ہے: 

اللہ جل شانہ کا نظام، یہ بھی بے نیاز ہے، اللہ پاک کا نظام بھی بے نیاز ہے۔ وہ رشتہ دار نہیں کسی کے، یعنی وہ والی بات نہیں۔ اندازہ کر لیں کہ نسب کے لحاظ سے اگر دیکھیں تو سب سے زیادہ قریبی علی  رضی اللہ عنہ ہیں آپ ﷺ کے، سب سے قریبی۔ پھر اس کے بعد قریبی عثمان  رضی اللہ عنہ ہیں، پھر اس کے بعد قریبی عمر  رضی اللہ عنہ ہیں، اور سب سے دور ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ ہیں، نسبی اعتبار سے۔ تو جو سب سے دور ہے وہ پہلا خلیفہ، جو اس کے بعد دور ہے وہ دوسرے خلیفہ، جو اس کے بعد دور ہے وہ تیسرا خلیفہ، اور جو سب سے قریب ہے وہ چوتھا خلیفہ۔ اب یہ کیا چیز ہے؟ 

لیکن یاد رکھنا چاہیے، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے، کہ جو قربت ہے وہ بھی اللہ پاک نے ختم نہیں فرمایا، اس کا جو مقام ہے وہ اپنی جگہ پہ رکھا ہے۔ ظاہر میں یہ سلسلہ بنا ہے، باطن میں دوسرا سلسلہ بنا ہے اور دوسرا سلسلہ یہ ہے کہ اب جو قرب باطنی ہے اس کے لیے اللہ پاک نے حضرت امیر علی  رضی اللہ عنہ، ان کے خاندان کو چن لیا۔ یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں، یہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ الله عليہ، مکتوب نمبر 123 دفتر سوم۔ کہ فرمایا کہ جو محبین اور محبوبین ہیں ان کو اللہ جل شانہ جو دے رہا ہے علی  رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے اور پھر علی  رضی اللہ عنہ کی جو اولاد ہیں حسنین کریمین، پھر ان کی جو اولاد ہے ان کے ذریعے سے دے رہا ہے۔ جب وہ ختم ہو گئے امام، تو اس کے بعد پھر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ الله عليہ، حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ یعنی ایسا اللہ پاک نے۔۔۔ تو باطنی جو سلطنت ہے، وہ تو ہے۔ اور اس کی انتہا جو ہے ظاہری و باطنی دونوں کی، وہ بھی اہل بیت پر ہے، امام مہدی عليه السلام۔ دونوں۔ کیونکہ وہ ظاہری بھی ہے، اور باطنی بھی ہے، دونوں چیزیں اس میں جمع ہو گئی ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے، بے نیاز ہے، مطلب اس میں کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: لَیْسَ مِنَ النَّاسِ اَحَدٌ اَمَنَّ عَلَیَّ فِیْ نَفْسِہٖ وَ مَالِہٖ مِن اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ قَحَافَتَہ وَلَوْکُنْتُ مُتًّخِذًامِّنَ النَّاسِ خَلِیْلاً لَاَ تَّخَذْتُ اَبَابَکْرٍ خَلِیْلاً وَ لکِنَّ اُخُوَّۃَ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ سُدُّوْاعَنِّی کُلَّ خَوْخَتٍہ فِیْ ھذَا الْمَسْجِدِ غَیْرَ خَوْخَتٍہ اَبِیْ بَکْرٍ(لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے مجھ پر ابوبکر بن ابو قحافہؓ سے زیادہ بڑھ کر اپنے نفس اور مال خرچ کرنے میں احسان کیا ہو، اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا لیکن اسلامی اخوت افضل ہے ، 

اور آگے فرمایا

اس مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے علاوہ جتنی کھڑکیاں ہیں سب کو بند کر دو)۔۔۔ اور حضرت علیہ و علیٰ آلہ الصلوۃ و اسلام نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِی اِلَیْکُمْ فَقُلْتُمْ کَذَبْتَ وَ قَالَ اَبُوبَکْرٍ صَدَقْتَ۔

 تو آپ ﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کئی فضائل بیان فرمائے۔ 

اور آپ علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام نے یہ بھی فرمایا: لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّاب (اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہوتا)۔۔۔ اور حضرت امیر (علی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا  ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ دونوں اس امت میں سب سے افضل ہیں جو کوئی مجھ کو ان دونوں پر فضیلت دے وہ مفتری ہے اور میں اس کو اتنے کوڑے لگاؤں گا جتنے مفتری کو لگاتے ہیں۔

اور وہ جھگڑے اور جنگیں جو حضرت خیر ا لبشر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے صحابہؓ کے درمیان واقع ہوئی ہیں ان کو نیک نیتی پر محمول کرنا چاہئے اور ان کو ہوا و ہوس کے گمان اور حُبِّ جاہ و ریاست اور طلبِ رفعت و منزلت سے دُور سمجھنا چاہئے کیونکہ یہ نفسِ امارہ کی رذیل خصلتوں میں سے ہیں۔ اور ان بزرگوں کے نفوس حضرت خیر البشر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کی صحبت میں پاک و مزکی ہو چکے تھے، البتہ اسقدر ہے کہ جو جھگڑے اور جنگیں حضرت علیؓ کی خلافت میں واقع ہوئیں ان میں حضرت امیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب حق تھا اور مخالفین خطائے اجتہادی پر تھے، جس میں طعن و ملامت کی مجال نہیں لہٰذا فاسق کہنے کی بھی گنجائش نہیں ہو سکتی جبکہ تمام صحابہ عدول ہیں اور ان کی تمام روایات مقبول ہیں۔ 

اس کے بارے میں ایک بات عرض کروں۔ ہم چار اماموں کو مانتے ہیں، اور چاروں اماموں کو حق پر سمجھتے ہیں، الحمدللہ۔ لیکن مانتے صرف ایک کی ہیں، یعنی عمل صرف ایک امام کی بات پر کرتے ہیں۔ کسی کو ہم ناحق نہیں سمجھتے لیکن، اور ان میں اتنا اختلاف ہے کہ فاتحہ خلف الامام جو ہے وہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حرام ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض ہے۔ اتنا اختلاف ہے۔ اس کے باوجود ہم دونوں کو حق پر سمجھتے ہیں۔ تو یہ عبادات میں اختلاف ہے، وہ معاملات میں اختلاف ہے صحابہ کرام کے درمیان میں جو ہوا ہے، وہ معاملات کا اختلاف تھا نا۔ تو معاملات کے اختلاف میں تو تلوار چل سکتی ہے۔ معاملات کے اختلاف میں تو تلوار چل سکتی ہے۔

یہی اصل میں بنیادی بات ہے جو بعض لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ حضرت ابن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ، ان کو علمائے کرام نے فتویٰ کے ذریعے سے سولی پہ چڑھایا۔ حالانکہ ان کو حق پہ سمجھتے تھے، ناحق پہ نہیں سمجھتے تھے۔ حق پہ سمجھتے تھے۔ لیکن لوگوں کے عقائد کو بچانے کے لیے، شریعت کے لیے ان کے ساتھ ایسا کرنا پڑا۔ تو ہمارے جتنے بھی مشائخ و علمائے کرام ہیں، وہ سمجھتے ہیں دونوں طرف حق پہ تھے۔ حضرت ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ بھی حق پہ تھے، اور جو ان کو شہید کرنے والے وہ بھی حق پر ہیں! حالانکہ جان گئی ہے، معمولی بات تو نہیں ہے۔ کیا خیال ہے جلاد کسی کو مارتا ہے، اس پر شریعت حکم لگا دیتی ہے تو جلاد کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے؟ جلاد کو؟ وہ جلاد کی ڈیوٹی ہے نا، وہ تو اس کی ڈیوٹی ہے، اپنی ڈیوٹی پوری کر رہا ہے۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ ابھی تک یہ رواج ہے کہ جو جلاد ہوتا ہے پھانسی جو دیتا ہے وہ اس کے کان میں کہتا ہے جس کو پھانسی دے رہا ہوتا ہے کہ "مجھے آپ کے ساتھ کوئی وہ نہیں ہے، میں تو صرف ڈیوٹی پر ہوں، میں ڈیوٹی پوری کر رہا ہوں، مجھ سے ناراض نہ ہونا"۔ یہ کہہ دیتے ہیں اس کو۔ اور واقعی بات بھی صحیح ہے کہ وہ تو۔۔۔ اس سے بھی آگے چلے جاؤ تو عزرائیل علیہ السلام سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے اللہ کے حکم پر کر رہے ہیں۔ تو شریعت کیا چیز ہے؟ اللہ کا حکم نہیں ہے؟ شریعت بھی تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے نا۔ وہ تکوینی حکم ہے، یہ تشریعی حکم ہے۔ تو جن علمائے کرام نے تشریعی حکم کے مطابق ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کر لیا، تو انہوں نے ڈیوٹی پوری کی ہے۔ اسی طریقے سے صحابہ کرام نے بھی اپنی اپنی ڈیوٹی پوری کی۔ جنہوں نے اپنی ڈیوٹی جو سمجھی اس کے مطابق انہوں نے اپنی ڈیوٹی پوری کی۔ اس کے لیے اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ تو میرے بہت قریبی ساتھی ہیں اور ایسا ہے اور ویسا ہے، نہیں یہ بھی نہیں سوچا۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ کر اپنی ڈیوٹی پوری کی۔

آپ یقین کیجئے جنگِ صفین جو ہوا ہے، جنگِ جمل جو ہوا ہے، اگر آپ سے ایک طرف کے حقائق چھپا دیے جائیں اور صرف ایک طرف کے آپ کے پاس رہ جائیں تو آپ کہیں گے یہ حق پر ہیں۔ لیکن جب آپ دوسرے طرف کا سنیں گے تو آپ کہیں گے یہ حق پر ہیں۔ وہ باتیں ہی ایسی تھیں۔ مثلاً میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں صرف سمجھ میں آنے کے لیے۔ عثمان  رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ عثمان  رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے جو لوگ تھے وہ علی  رضی اللہ عنہ، ان کی فوج میں آ گئے۔ اب؟ صحابہ کرام کی طرف سے مطالبہ ہوا کہ عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لو۔ اب بتاؤ، یہ حق پر ہے یا نہیں ہے؟ یہ بات صرف اگر دیکھو، عثمان  رضی اللہ عنہ خلیفہ ہے اور بے گناہ شہید ہوا ہے، تو یہ قصاص کہنا حق ہے یا نہیں ہے؟ حق ہے نا؟ اب جواب علی  رضی اللہ عنہ کا سن لو۔ قصاص کون لے گا؟ قصاص لینے کا حق کس کو ہے قانوناً؟ خلیفہ کو ہے۔ خلیفہ ابھی تک بنا نہیں ہے، آپ خلیفہ مانتے نہیں، میں کیسے قصاص لوں؟ پہلے آپ میرے ہاتھ پر بیعت کر لیں، خلافت ہو جائے، پھر اس کے بعد پھر میں کروں گا نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب دیکھو کیسی اصولی باتیں ہیں۔ تو علمائے کرام، آپ ﷺ کے ارشادات کے موافق اور قرائن کے انداز سے فرماتے ہیں، حق علی  رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ کیونکہ واقعتاً بلویٰ کے condition میں اور ایسے ابتلاء کی condition میں حد تب ہی نافذ کیا جا سکتا ہے جب خلافت establish ہو جائے، پھر اس کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ ورنہ پھر تو فتنہ ہی ہوگا۔ تو ایسی صورت میں علی  رضی اللہ عنہ نے بالکل صحیح کیا۔

پھر علی رضی اللہ عنہ کو اللہ پاک نے اس موقع پہ ایک مقام سے نوازا، وہ یہ ہے کہ أَقْضَاکُمْ عَلِيٌّ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا أَقْضَاکُمْ عَلِيٌّ یعنی سب سے بڑے اچھے قاضی جو ہیں نا وہ علی  رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ مشکل فیصلے کوئی اور شاید نہ کر سکتا۔ اس کے لیے علی  رضی اللہ عنہ کو چن لیا گیا تھا کہ فیصلے اس نے کرنے ہیں کیونکہ اقضیٰ ہے، أَقْضَاکُمْ عَلِيٌّ ہے۔ تو خوارج جو ان سے علیحدہ ہوئے تھے، اس بنیاد پر علیحدہ ہوئے تھے کہ آپ نے یہ جنگ تو کر لیا لیکن نہ باندی بنایا نہ غلام بنایا، نہ مالِ غنیمت جمع کیا۔ تو علی  رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ کافروں کے ساتھ لڑائی میں ہوتا ہے، مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ایسا نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں قتال تو ہوتا ہے لیکن مالِ غنیمت جمع نہیں ہوتا اور باندی غلام بھی نہیں بنتے۔ خوارج نے جب سوال کیا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ سے، تو انہوں نے فرمایا کہ "مجھے بتاؤ عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا کو کون باندی بنا سکتا ہے؟" تو یہ باقاعدہ پورا جو ہے نا ایک باب قتال بين المسلمين کا ایک establish ہوا علی  رضی اللہ عنہ کے دور میں، جو بڑا مشکل باب ہے۔ تو علی  رضی اللہ عنہ کو اللہ پاک نے اس کے لیے چنا تھا، اور علی  رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تیرا حال عیسیٰ عليه السلام کی طرح ہے کہ کچھ لوگ تیرے ساتھ اتنی محبت کریں گے کہ وہ جہنمی ہو جائیں گے، اور کچھ لوگ تیرے ساتھ اتنی مخالفت کریں گے کہ وہ جہنمی ہو جائیں گے۔ اور یہ واقعی بالکل صحیح ہے، خارجی، ناصبی اور شیعہ دونوں علی  رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہیں۔ خارجی علی  رضی اللہ عنہ کے مخالف ہیں تب جہنمی ہیں، اور شیعہ جو ہے وہ محبت کی وجہ سے جہنمی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں۔ تو خارجی اور ناصبی یہ دشمنی میں ہے، اور یہ دوسرے محبت میں ہیں۔ استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ، أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه۔

ان بزرگوں کی تعظیم و توقیر حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوٰۃ و السلام کی تعظیم و توقیر ہے اور ان کی تعظیم نہ کرنا آپ ﷺ کی تعظیم نہ کرنا ہے 

یعنی صحابہ کرام کی۔ 

لہٰذا تمام (صحابہؓ) کی تعظیم و توقیر حضرت خیر البشر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کی صحبت کی وجہ سے کرنی چاہئے۔۔۔شیخ شبلیؒ فرماتے ہیں ’’ جس نے صحابہ کرامؓ کی عزت نہ کی اس کا رسول اللہ ﷺ پر بھی ایمان نہیں۔

اعتقاد درست کرنے کے بعد اعمال کا بجا لانا بھی ضروری ہے۔ 

میرا خیال میں یہ ٹاپک نیا شروع ہو جائے گا۔ اس کو اس پر ختم کرتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح عقائد قبول کرنے اور ان کو رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہر قسم کی غلطی سے محفوظ فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



عقائدِ اسلام: انبیاء، ملائکہ، آخرت اور صحابہ کرام کی عظمت (مکتوباتِ مجدد الف ثانیؒ کی روشنی میں) - خواتین کیلئے اصلاحی بیان