رمضان المبارک کا مقصد: تزکیۂ نفس، اعتکاف اور شبِ قدر کی تلاش

احادیث از خطبات الاحکام، خطبہ نمبر44 : رمضان شریف کی فضیلت کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • رمضان المبارک کی فضیلت اور تقویٰ کا حصول۔
    • روزہ بطور ڈھال اور نفس کی تربیت۔
      • عبادت کی روح (دھیان) اور ظاہری شکل (عینک کی مثال)۔
        • نفس پر قابو پانے کی اہمیت اور جدید تصوف کا ماڈل (مسجد کو خانقاہ بنانا)۔
          • خواتین کے لیے اعتکاف اور تراویح کی اہمیت۔
            • لیلۃ القدر کی حقیقت، فضیلت اور اس کی تلاش کا طریقہ۔
              • وقت کی قدردانی اور رمضان کے آخری عشرے کی منصوبہ بندی۔

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

                الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

                اَمَّا بَعْدُ

                أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ قَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ:"يٰاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَھْرٌ مُّبَارَكٌ، شَھْرٌ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهٗ فَرِيْضَةً وَّ قِيَامَ لَيْلِهٖ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيْهِ بِخَصْلَةٍ مِّنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدّٰى فَرِيْضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَ مَنْ أَدّٰى فَرِيْضَةً فِيْهِ كَانَ كَمَنْ أَدّٰى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَ هُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ، وَ الصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَ شَھْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَ شَھْرٌ يُّزَادُ فِيْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيْهِ صَائِمًا كَانَ لَهٗ مَغْفِرَةً لِّذُنُوْبِهٖ وَ عِتْقَ رَقَبَتِهٖ مِنَ النَّارِ، وَ كَانَ لَهٗ مِثْلَ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ، قُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ! (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا یُفَطِّرُ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يُعْطِي اللهُ ھٰذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی مُذْقَةِ لَبَنٍ اَوْ تَمْرَةٍ اَوْ شَرْبَةٍ مِّنْ مَاءٍ، وَ مَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِيْ شَرْبَةً لَّا يَظْمَأُ حَتّٰى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَ هُوَ شَھْرٌ أَوَّلُهٗ رَحْمَةٌ وَّ أَوْسَطُهٗ مَغْفِرَةٌ وَّ اٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ، وَ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَّمْلُوكِهٖ فِيْهِ غَفَرَ اللهُ لَهٗ وَ أَعْتَقَهٗ مِنَ النَّارِ''.، وَاسْتَكْثِرُوا فِيهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ: خَصْلَتَيْنِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، وَخَصْلَتَيْنِ لَا غِنَى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ: فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَتَسْتَغْفِرُونَهُ، وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنَى بِكُمْ عَنْهُمَا: فَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَتَعُوذُونَ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَشْبَعَ فِيهِ صَائِمًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ». صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِیْم وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

                معزز خواتین و حضرات! آج چونکہ جوڑ ہے، لیکن یہ ذرا مختلف قسم کا جوڑ ہے کہ آپ لوگ اپنے گھروں میں Online یہ بیان سن رہے ہیں۔ الحمد للہ آپ کے سامنے رمضان شریف کے فضائل بیان کیے گئے، مسائل بھی بیان کیے گئے۔ تو ظاہر ہے بنیادی باتیں تو الحمد للہ آپ کے سامنے ہو گئیں۔

                میں نے صرف چند... ایک آیتِ کریمہ اور چند احادیثِ شریفہ کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے جو رمضان ہی کے بارے میں ہے۔ اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں: اے ایمان والو! تمہارے اوپر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ، متقی بن جاؤ۔

                سیدھی سادی بات ہے، درمیان میں کوئی لمبی چوڑی Analysis نہیں ہے کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں ان کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے اگر صحیح طریقے سے رکھیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ» روزہ ڈھال ہے، اگر کوئی اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ تو ظاہر ہے روزہ ڈھال کس طرح ہے؟ یہ برائیوں سے بچاتا ہے۔ اور پھاڑ ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جو روزے کا جو اصل حکمت ہے اس کو بھول جانا، یہ پھاڑ ڈالنا ہے۔ اور وہ اصل حکمت کیا ہے؟ کہ اللہ جل شانہٗ نے اس میں وہ چیزیں جو حلال ہیں، کھانا پینا اور حلال مباشرت، ان کو صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک منع کر دیا۔ اب یہ حلال ہے لیکن اس کے قریب نہیں جا سکتے۔ اگر کوئی اس کے قریب روزے میں جائے گا تو یہ حرام ہو جائے گا۔ حالانکہ فی الاصل یہ حلال ہے، لیکن چونکہ روزے کا حکم ہے، روزہ فرض ہے اور فرض کا ترک حرام ہے، لہٰذا یہ حرام ہو جائے گا۔

                تو اس سے بچنا، حرام سے بچنا ہے۔ اور حرام سے بچنا تقویٰ ہے۔ بالکل موٹی سی بات ہے۔ اب اگر ہم لوگ ان Limits کو، جو ٹائم کے لحاظ سے ہیں، سیکھ لیں اور حرام سے بچنا ہمارے لیے ممکن ہو جائے اس کے ذریعے سے، تو کیا ہم جائز و ناجائز کے جو Limits ہیں، جو حلال و حرام کے دوسرے طریقے سے Limits ہیں... مثلاً ایک کھانا حلال ہے ایک حرام ہے۔ دو طرح حلال و حرام ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ حرام مال سے اس کو خرید لیا جائے، کسی سے چھین لیا جائے، وہ بھی حرام ہے۔ حلال مال سے کوئی حرام چیز لے لی جائے تو وہ بھی حرام ہے، مثلاً شراب کوئی لے لے، مردار گوشت کوئی لے لے۔ تو حلال مال سے حرام لے لینے سے وہ بھی حرام بن جاتا ہے، اور حرام پیسوں سے حلال چیز لی جائے وہ بھی حرام بنتا ہے۔

                تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں گویا کہ پورا ایک نظام دے دیا گیا کہ ہم لوگوں کو حدود کی پرواہ کرنی چاہیے، حدود کا خیال رکھنا چاہیے، Limits کا خیال رکھنا چاہیے۔ اصل میں یہی حدود ہی کی پرواہ ہی تقویٰ ہے۔ یہ حدود کی جو پرواہ ہے، یہی تقویٰ ہے۔ کہ انسان حدود کا خیال رکھے کہ میں نے اس سے آگے نہیں جانا۔

                ہمارے گاؤں جہانگیرہ کے پاس ایک گاؤں ہے، اس کو "الہ ڈنڈ" کہتے ہیں، نام اس کا الہ ڈنڈ ہے۔ تو ان کی زبان ذرا سرائیکی زبان کی طرح ہے ہندکو۔ تو کہتے ہیں: "الہ ڈنڈ دے پرے نہ جا"۔ مطلب ہے کہ الہ ڈنڈ سے آگے نہ جاؤ۔ بس یہاں تک آپ کے حدود ہیں، اس سے آگے نہیں جانا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کچھ حدود ہوتے ہیں جہاں تک آپ جا سکتے ہیں، اس سے آگے نہیں جا سکتے۔ یہاں تک فرمایا گیا: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ»۔ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔ اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ تو جس نے اپنے آپ کو مشتبہ امور سے بچا لیا، اس نے اپنے دین کو بچا لیا، خالص کر دیا۔ پس انسان حرام سے تو بچے ہی بچے، مشتبہ امور سے بھی بچنا چاہیے تاکہ انسان متقی بن جائے۔

                بہت ساری چیزیں انسان وقت کے ساتھ ساتھ سیکھ لیتا ہے اور بہت ساری چیزیں انسان وقت کے ساتھ ساتھ بھول جاتا ہے۔ بزرگوں نے بڑی محنتیں کی ہوتی ہیں لیکن صحیح طریقے سے ان سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے انسان آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ اصل چیز کو بھول جاتا ہے اور صرف رسمی کارروائیوں کے پیچھے لگ جاتا ہے۔

                مثلاً تصوف ہی کو ہم لے لیں۔ تصوف یا طریقت، یہ شریعت پر آنے کا ایک نظام ہے۔ اس کا کوئی اپنی ذاتی مقصد کوئی نہیں۔ شریعت پر آنے کا نظام ہے۔ کیوں؟ انسان شریعت پر آنا چاہتا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ جو مومن ہے تو اس کو تو ظاہر ہے اس کو طریقہ کیا ہو گا؟ وہ یہی ہو گا کہ اللہ کو راضی کرنا چاہے گا، جنت میں جانا چاہتا ہو گا، دوزخ سے بچنا چاہتا ہو گا، یہ مسلمان کی بڑی خواہش ہے۔ اب کرتا کیوں نہیں؟ اس کے لیے جو محنت ہے وہ کرتا کیوں نہیں؟ مثلاً نماز کیوں نہیں پڑھتا؟ روزے کیوں نہیں رکھتا؟ زکوٰۃ کیوں نہیں دیتا؟ حج کیوں نہیں کرتا؟ اللہ کے راستے میں خرچ کیوں نہیں کرتا؟ یہ ساری باتیں اس کو معلوم تو ہیں۔ یہ نہیں کہ معلوم نہیں ہے۔ ایک بہت بڑی حقیقت ہے، ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جو نفس کا ہے۔

                وہ نفس اس کو نہیں کرنے دیتا۔ جس کی وجہ سے اس کے دل میں دنیا کی محبت آ گئی۔ تو دنیا کی محبت اس کو آخرت کی طرف نہیں جانے دیتا۔ تو یہ جو بات سمجھ میں آنی چاہیے کہ اصل کیا ہے؟ دین پر آنا تو چاہتے ہیں لوگ، دین پر عمل کرنا تو چاہتے ہیں، لیکن نفس وہ درمیان میں آ جاتا ہے۔

                حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ پاک کا دیدار ہوا خواب میں۔ پوچھا: یا اللہ! تجھ تک پہنچنے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟ فرمایا: «دَعْ نَفْسَكَ وَتَعَالْ» اپنے نفس کو چھوڑ دے اور میرے پاس آ جا۔ تو اس کا مطلب ہے ہمارا جو نفس ہے، یہ ہی ہمارے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آخر قرآن میں شیطان جو کہے گا وہ کیا کہے گا؟ شیطان کو لوگ گالیاں دیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہمارا یہ حال ہو گیا ہم ادھر پہنچ گئے۔ اگر تم ہمیں خراب نہ کرتے تو ہم ادھر نہ ہوتے۔ شیطان ان کی ساری باتیں سن کے کہے گا: ﴿فَلَا تَلُومُونِي﴾ مجھے ملامت نہ کرو ﴿وَلُومُوا أَنفُسَكُم﴾ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ میں نے تمہارے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا تھا، اللہ پاک نے تم سے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے میرے جھوٹے وعدے کو لے لیا، اللہ تعالیٰ کے سچے وعدے کو نہیں لیا، تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ بھگتو، میں بھی بھگت رہا ہوں، نہ تم مجھ سے کچھ کم کر سکتے ہو، نہ میں تم سے کچھ کم کر سکتا ہوں۔

                تو اس کا مطلب ہمارا جو نفس ہے، یہ سارے کا سارا گند اس کی وجہ سے ہے۔ تو اسی نفس کی اصلاح ہی تو ہے جس کے ذریعے سے انسان شریعت پر آ سکتا ہے۔ اسی نفس کی اصلاح ہی کو تو "طریقت" کہتے ہیں۔ تو طریقت بذاتِ خود شریعت پر آنے کا ایک نظام ہے۔ یہ فی الاصل مطلوب نہیں، لیکن مطلوب کے لیے مطلوب ہے، مطلوب کے لیے ذریعہ ہے۔ کیا یہ سیڑھیاں جو باہر لگی ہوئی ہیں، یہ اصل میں مطلوب ہیں؟ اصل میں مطلوب نہیں ہیں۔ اگر یہاں کوئی لفٹ رکھ دے... لفٹ بنا دے اور لفٹ کے ذریعے سے ہم اوپر جا سکیں، تو سیڑھیوں کی کیا ضرورت ہو گی؟

                تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل چیز جو ہے نا وہ مطلوب ہوتا ہے، تو مطلوب یہاں شریعت ہے اور شریعت پر چلنا کیا ہے؟ یہ عبدیت ہے۔ اور عبدیت کیا ہے؟ نفس کا قابو میں آ جانا۔ عبدیت کیا ہے؟ نفس کا قابو میں آ جانا۔

                آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا اور بعد میں صرف تمنائیں کرتا رہا اللہ پاک سے۔"

                تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ اصل میں ہماری بھول ہے۔ ہم نفس کو قابو نہیں کرتے اور ہم کہتے ہیں ساری باتیں ٹھیک ہو جائیں۔ ہمارے ایک رشتہ دار تھے، اب فوت ہو گئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت فرمائے، بڑے اچھے آدمی تھے۔ جب بچے تھے، مجھ سے کافی عمر میں چھوٹے تھے۔ جب بچے تھے تو اپنی والدہ سے کہہ رہے ہیں: "امی! میں سکول نہیں جاؤں گا، میں کالج پڑھوں گا۔" تو اس کی والدہ ہنس پڑی کہ بچہ ہے نا ظاہر ہے اس کو کیا کہیں۔ اگر سکول نہیں پڑھے گا تو کالج کیسے جائے گا؟ ظاہر ہے کالج تو تب جا سکے گا جب سکول پڑھے گا۔ تو یہ جو بات ہے کہ ہم لوگ بھی ایسے ہی سادہ ہیں جیسے وہ بچہ سادہ تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اصلاح کے بغیر عمل کیسے ٹھیک... بھئی نفس کی اصلاح کیا چیز ہے؟ بس عمل ٹھیک کرنا چاہیے نا، بس عمل ٹھیک ہونا چاہیے۔ تو ہم نے کب کہا ہے کہ عمل ٹھیک نہیں ہونا چاہیے؟ لیکن عمل ٹھیک ہونے کے لیے تو نفس کی اصلاح ہے۔

                تو اب دو قسم کے ذریعے ہوتے ہیں۔ یہ بہت اہم مضمون ہے، آپ لوگ اس کو اچھی طرح سنیں۔ دو قسم کے مضمون ہیں، دو قسم کے وہ ہیں نظام۔ ایک وہ ذرائع ہیں جو اللہ نے ہمیں دیے ہیں ٹھیک ہونے کے لیے۔ اور ایک وہ ذرائع ہیں جو ہمیں مجبوراً استعمال کرنے پڑتے ہیں کیونکہ ہم نے اللہ کے دیے ہوئے ذرائع کی قدر نہیں کی ہوتی۔

                مثلاً دیکھنے کے لیے ذریعہ کیا ہے؟ آنکھ۔ لیکن اگر آنکھ کسی کی خراب ہو جائے کسی کی بے احتیاطی کی وجہ سے، کسی بیماری کی وجہ سے، تو ڈاکٹر اس کو چشمہ لگا دیتے ہیں۔ اب وہ آدمی کہتا ہے بھئی چشمہ کی کیا ضرورت ہے؟ اصل تو آنکھ ہے۔ تو ڈاکٹر کہے گا بالکل ایسا ہی ہے، اصل تو آنکھ ہے، اب بھی آنکھ ہی سے دیکھو گے لیکن یہ عینک اس کے لیے سپورٹ ہے۔ آنکھ کو جس قسم کی وہ ضرورت ہے اینگل کی، یہ عینک اس کو مہیا کرتا ہے۔ نتیجتاً آپ زیادہ اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اب اچھی بات ہے اس کو سمجھ لیں ہم۔ کہ آنکھ ہی کے ذریعے سے دیکھنا ہے، کان کے ذریعے سے نہیں دیکھنا۔ لیکن اس کے لیے عینک اس لیے لگاتے ہیں کیونکہ آنکھ میں اتنی اب طاقت نہیں رہی، کمزور ہو گئی۔ اب اس کو قوت پہنچانے کے لیے کیا ہے؟ عینک ہے۔ تو اس عینک کی جو ناقدری کرے گا تو نقصان کس چیز کو پہنچائے گا؟ آنکھ کو نقصان پہنچائے گا، آنکھ صحیح طریقے سے نہیں دیکھ سکے گی۔

                اس لیے اللہ نے جو ذرائع دے دیے ہیں وہ کون سے ہیں؟ مثلاً سب سے پہلے ذریعہ تو نماز ہے۔ نماز۔ پانچ وقت کا نماز۔ اس میں اللہ پاک بہت دیتے ہیں اور بہت تربیت فرماتے ہیں۔ ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾۔ بے شک نماز منکرات سے روکتی ہے، بے حیائی کی باتوں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد تو بڑی چیز ہے۔ اللہ کی یاد تو بڑی چیز ہے۔

                اب ذرا غور سے دیکھیں اس میں دونوں چیزیں آ گئیں کہ نماز جو ہے نا وہ بے حیائی کی باتوں سے، منکرات سے روکتی ہے، تو یہ ذریعہ ہو گیا۔ اور اللہ کی یاد اس کا ذریعہ ہو گیا۔ یعنی اس نماز کو بہتر کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ وہ ذکر اللہ ہے۔

                کیونکہ اگر ہم نماز اچھی طرح پڑھنا چاہتے ہیں، تو یہ تب ہو گا جب اس میں ہمیں اللہ یاد ہو گا۔ جب اس میں ہمیں اللہ یاد ہو گا۔ مثلاً نماز میں میں کھڑا ہو گیا، مجھے اللہ یاد نہیں ہے، مجھے ساری دنیا کی چیزیں یاد ہیں لیکن اللہ یاد نہیں، تو میری نماز کیسی ہو گی؟ میری نماز کمزور ہو گی۔ اب یہ اللہ کا یاد جو نماز کے اندر جو اتنی بڑی چیز ہے، اس کو میں اگر ضائع کر چکا ہوں، یعنی مجھ سے میرے پاس وہ چیز نہیں ہے، تو اس کو باہر سے اگر مہیا کیا جائے تو نماز بہتر ہو جائے گی۔ نماز بہتر ہو جائے گی۔ نماز بہتر ہو جائے گی تو تربیت جو نماز کے ذریعے سے ہوتی ہے وہ بہتر ہو جائے گی۔ نتیجتاً ہم بہتر ہو جائیں گے۔ منکرات اور بے حیائی کی چیزوں سے بچ سکیں گے۔

                آج کل غفلت کی نمازیں لوگ پڑھ رہے ہیں، نتیجتاً بچتے نہیں ہیں۔ کہتے ہیں جی کمال ہے، نماز بھی پڑھتے ہیں، وہ جھوٹ بھی بولتے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں، بد نظری بھی کرتے ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں، حرام کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ نماز کے اندر قوت نہیں رہی۔ نماز کے اندر اللہ کا دھیان نہیں رہا۔ تو جیسے میں نے عرض کیا کہ اصل تو آنکھ ہے دیکھنے کے لیے، لیکن اگر وہ کمزور ہو جائے تو پھر عینک سپورٹ ہے۔ تو عینک کی بھی قدر کرو گے۔ عینک کے ذریعے سے آپ کی آنکھ بنے گی صحیح، آنکھ کے ذریعے سے آپ دیکھ سکیں گے۔

                تو اس طرح سے آپ بہتر ہوں گے نماز کے ذریعے سے ہی، لیکن نماز کو بہتر کرنے سے آپ کی نماز بہتر ہو گی اور بہتر نماز کی وجہ سے آپ بہتر بنیں گے۔ بعینہ اسی طرح روزہ ہے۔ روزے کے بارے میں فرمایا: ﴿يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ اے ایمان والو! تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ، تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔

                اب تقویٰ حاصل کرنے کا ذریعہ روزہ ہے۔ لیکن اگر آپ نے اپنے نفس کو ادھر ادھر منہ ماری سے روکنے کا پابند نہیں کیا، یہ قابو نہیں ہے، تو روزے میں کیا کرے گا؟ روزہ رکھ لو گے، لیکن ٹی وی کے سامنے بیٹھو گے۔ ڈائجسٹوں کے ذریعے سے، جاسوسی ناولوں کے ذریعے سے، گپ شپ کے ذریعے سے اپنے روزے کو مشغول کرو گے۔ سمجھو گے کہ میرا روزہ مشغول ہو رہا ہے اور مطلب یہ کہ... تو اب ظاہر ہے مطلب اس... اس روزے میں آپ کو کیا ملے گا؟ جس میں آپ نے حلال چیزوں کو تو چھوڑ دیا اور حرام چیزوں کو نہیں چھوڑا۔ پھر روزہ آپ کو کیا دے گا؟

                تو یہ جو فرماتے ہیں کہ بعض لوگ... بعض لوگوں کی نماز صرف اٹھک بیٹھک رہ جاتی ہے، ان کو نماز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اور بعض لوگوں کا روزہ صرف فاقہ رہ جاتا ہے، ان کو اس کا فائدہ نہیں ہوتا روزے کا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے کی روح نکل جاتی ہے اگر ہم روزے کے حقوق ادا نہ کریں۔ اس کی روح نکل جاتی ہے۔ اس طرح نماز کی روح نکل جاتی ہے اگر ہم اس کے حقوق ادا نہ کریں۔ اس طرح زکوٰۃ کی روح نکل جاتی ہے اگر ہم اس کے حقوق ادا نہ کریں۔ حج کی روح نکل جائے گا اگر ہم اس کا... اس کے وہ جو ہے نا اس کا حق ادا نہیں کریں گے۔

                تو اس کا پتہ چلا کہ ایک تو اعمالِ شریعت جو ہے وہ مطلب اس کا ظاہری ڈھانچہ ہے، اس کے اندر روحانی قوت کی بات ہوتی ہے۔ وہ روحانی قوت اگر چلی جائے تو وہ... تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان بیمار ہو جائے تو پھر کیا کرتے ہیں؟ علاج کرتے ہیں۔ تو اگر یہ چیزیں بیمار ہو جائیں، مثلاً نماز کمزور ہو جائے، روزہ کمزور ہو جائے، زکوٰۃ کمزور ہو جائے، حج کمزور ہو جائے، تو پھر اس کا علاج کرنا پڑتا ہے۔ نماز کا علاج نہیں کرتے، نماز کا علاج تو یہ ہے کہ آپ اس کو صحیح مسائل کے ساتھ پڑھیں بس، یہ تو نماز... لیکن اس کا جو روح ہے اس کو صحیح کرنا پڑتا ہے۔ تو اس کا روح کا جس چیز کے ساتھ تعلق ہو گا تو اس کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔ مثلاً نماز کے لیے کیا چیز ہے؟ وہ ذکر ہے۔ وہ ذکر ہے۔ اور روزے کے لیے کیا ہے؟ نفس کو قابو کرنا۔

                یا اللہ یا کریم یا کریم یا کریم! کیا زبردست بات ہے۔ نماز کے لیے جو فرمایا:

                «أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهٗ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»۔ تو ایسی نماز پڑھ جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے، اور اگر خدا کو نہیں دیکھ پا رہا تو یقیناً خدا تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہاں دل کی بات ہے، یہاں دل کی بات ہے۔ اور روزے میں نفس کی بات ہے۔ «الصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ»۔ نماز مومن کا معراج ہے۔ سبحان اللہ! اس میں عروج ہے۔ اس میں کیا ہے؟ عروج ہے۔ اور روزہ... روزے کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں: «الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ» روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا جزا دیتا ہوں۔ اور ایک حدیث شریف کو اگر اس طرح پڑھا جائے: «وَأَنَا أُجْزَى بِهٖ» تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس کا جزا ہوں۔

                تو آپ اندازہ کر لیں، یہاں نفس کو کچلنا ہے۔ تو نفس کو کچلنے سے براہِ راست اللہ تعالیٰ آپ تک پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی اللہ جل شانہٗ آپ کو لے لیتے ہیں اپنے پناہ میں لے لیتے ہیں۔ «أَنَا أُجْزَى بِهٖ»۔ اور نماز میں آپ اللہ کے پاس پہنچتے ہیں، «الصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ»۔

                تو یہ حکمتیں ہیں ان کے اندر۔ تو اس وجہ سے اپنی نماز کو مکمل کر لو تاکہ عروج حاصل ہو، اور روزہ صحیح کر لو تاکہ نزول حاصل ہو۔ اور دونوں تصوف کے بڑے مراحل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے شیخ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اخیر وقت میں تصوف کا جو جدید ترین ماڈل پیش کیا تھا... ظاہر ہے اپنے دور کے مجتہد تھے۔ جو جدید ترین ماڈل پیش کیا تھا وہ یہ تھا کہ رمضان شریف میں ہر مسجد کو خانقاہ بناؤ۔ ہر مسجد کو خانقاہ بناؤ۔ کیسے بناؤ؟ اعتکاف کرو۔ روزہ تو رکھنا ہی ہو گا، روزہ تو رکھنا ہی ہو گا کیونکہ رمضان شریف ہے، اور ساتھ نماز... یہ دونوں چیزیں۔ تو ماشاءاللہ کتنی زیادہ تربیت ہو جائے گی! وہ ایک مہینے کی جو تربیت ہے وہ سال کے پورے بارہ مہینوں پہ بھاری ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آج کل کی جدید چلہ کشی سکھائی۔

                اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے۔ ہمیں قدر نہیں ہے۔ حضرت نے تو پورا ماڈل دیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا، رمضان شریف کے مہینے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اپنے نفس کا علاج کرنا چاہیے، اپنے نفس کو سنوارنا چاہیے، اپنے نفس کو قابو کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں اس کے طریقے سوچنے چاہیے۔ کس طریقے سے میں قابو کر سکتا ہوں، کس طریقے سے میں... کیوں؟ وجہ کیا ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ پاک یہ اس کے ذریعے سے... مطلب ہے رمضان شریف میں چونکہ یہ مہینہ ہے ہی اس لیے، لہٰذا اس کے لیے زبردست Facilities مہیا کر لیتے ہیں اللہ پاک، اس مقصد کے لیے۔ سب سے بڑی Facility، شیاطین کو قید کر لیتے ہیں۔

                تو پھر کون سی چیز رہ گئی مجھے بتاؤ؟ نفس ہی رہ گیا نا! شیاطین کو قید کر دیا، تو اب نفس رہ گیا، تو نفس کا علاج کرو۔ باقی کام آپ کے نفس کا ہے۔ پھر کیا ہے؟ دیکھو نفس کا علاج کیسے ہوتا ہے۔ صبح سے مطلب فجر سے لے کر مغرب تک تو روزہ رکھو۔ اور روزے کے حقوق ادا کرو۔ افطاری زبردست کر لو، ماشاءاللہ۔ «لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ» روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، فرحتیں ہیں۔ ایک وہ جو فرحت افطار کے وقت، اور ایک وہ جو اللہ کے ساتھ ملاقات ہو گی۔ اس میں بھی ایک باریک نکتہ ہے۔ اللہ اکبر۔ روزہ ایک دن کا افطار سے ختم ہوتا ہے، پورا ہوتا ہے۔ اور پورے زندگی کا روزہ موت سے مکمل ہوتا ہے۔

                پورے زندگی کا روزہ کیا ہے؟ کیوں ظاہر ہے روزہ ہے نا، مطلب یہ پابندیاں ہیں، یہ نہیں کرنا، یہ نہیں کرنا، یہ نہیں کرنا، تو یہ روزہ ہی ہے۔ تو یہ جو روزہ آپ کا پوری زندگی کا ہے، یہ پورا ہو گا موت کے وقت۔ تو جیسے آپ کو خوشی ہو رہی ہے افطار کے وقت پابندی ختم ہو رہی ہے، اس طرح موت کے وقت بھی پابندی ختم ہو رہی ہے، تو خوشی تو ہو گی۔

                تو یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ الحمد للہ اس میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ پھر آپ نے افطار کر لیا، کھانا کھا لیا، عشاء کی نماز پڑھ لی۔ اب نفس کی خواہش کیا ہے؟ آرام کرو۔ نفس کی خواہش کیا ہے؟ آرام کرو۔ کیوں ظاہر ہے پورے دن روزہ رکھا ہے، افطاری کی ہے، کھانا ڈٹ کے کھایا ہے، نماز اب پڑھی ہے تو اب اس کے بعد تو... لیکن نہیں نہیں، تم اس وقت رمضان شریف میں ہو۔ تمہاری مرضی کی بات نہیں چلے گی۔

                مجھے ایک میجر صاحب نے ایک واقعہ سنایا ہے۔ جب وہ کیڈٹ تھے اور ایبٹ آباد میں... اب ٹریننگ پہ چلے گئے، دو سال کی ٹریننگ ہوتی ہے ان کی بڑی Tough۔ کہتے ہیں جنوری کے ابتدائی دن تھے اور ایبٹ آباد ٹھنڈا علاقہ۔ تو ہم نے بیرکوں میں جب چلے گئے تو... کہ یار بھئی ہیٹنگ کا انتظام تو نہیں ہے، یہ تو کافی ٹھنڈا ہو گا۔ سینئر لوگوں نے وہی باتیں سنیں۔ تو انہوں نے کہا جی آپ کے لیے گرمی کا بندوبست کر لیتے ہیں، کوئی بات نہیں، ذرا وقت آ جائے تو بندوبست کر لیں گے۔ کیسے بندوبست کیا؟ رات کے بارہ بجے آ گئے وہ۔ "باہر آؤ! قمیص اتارو، بنیان بھی اتارو۔ لان، ایبٹ آباد، رات کے بارہ بجے، اس پہ لیٹ جاؤ۔" سب کو لٹا دیا۔

                دو گھنٹے۔ دو بجے تک۔ اب سردی سے ہم ٹھٹھر رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں جی بس لیٹے رہو۔ دو گھنٹے کے بعد کہا جاؤ اب بیرکوں میں جاؤ۔ ہم دوڑ کے گئے، پوچھا کیوں جی feel ہو رہا ہے گرمی؟ کہا جی بس ٹھیک ہے جی۔

                کیوں؟ اصل میں بات کیا ہے، تم اس وقت کیا بننا چاہتے ہو؟ آرمی آفیسر بننا چاہتے ہو، تو بننے کے لیے پھر یہ پراسس تو ہے۔ یہ تو ہو گا۔ تو یہاں پر روزہ ہے۔ روزہ ہے، روزہ۔ نارمل دن نہیں ہے۔ Declare ہو گیا ہے معاملہ، مجاہدہ شروع ہے۔ تو کیا ہے؟ عشاء کی نماز کے بعد باقی دنوں میں نو رکعات عشاء کی نماز۔ اور ان دنوں 29 رکعات۔ اور جو اہلِ محبت ہیں، سبحان اللہ! اس میں قرآن سنتے ہیں۔ اور جھوم جھوم کے سنتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے الحمد للہ۔ ایک عجیب نظارہ اللہ پاک نے دکھایا ہے، سبحان اللہ۔ عجیب نظارہ۔ آنکھوں دیکھا حال ہے، کسی سے سنا نہیں ہے، آنکھوں دیکھا حال بتا رہا ہوں۔

                حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو ہمارے شیخ تھے، وہ ان کے ہاں ترتیب یہ تھی کہ ان کے ہاں قرآن کا ختم پانچ ختم ہوتے تھے رمضان شریف میں۔ پہلے عشرے میں ایک، دوسرے عشرے میں دوسرا اور آخری عشرے میں تین ختم ہوتے تھے۔ جب راتیں لمبی تھیں تو چھ راتوں میں ایک ختم۔ ایک رات میں، یہ ستائیسویں کو دوسرا ختم اور آخری دو راتوں میں تیسرا ختم۔ یہ ترتیب ہوتی تھی۔ اب یہ آخری دن کی بات ہے، یعنی اٹھائیسویں کی بات ہے۔ اٹھائیسویں کو نصف قرآن پڑھا گیا۔

                یہ وہ لوگ تھے جو حضرت کے ساتھ قرآن سنتے تھے۔ تو ساڑھے چار قرآن سن لیے۔ ساڑھے چار قرآن سن لیے۔ چھٹیاں ہو گئیں یونیورسٹی کی، صبح جا رہے ہیں۔ تو حضرت سے مصافحہ کر رہے ہیں کہ حضرت ہم کل جا رہے ہیں۔ تو حضرت نے حیرت سے کہا: "قرآن کو چھوڑ کے جا رہے ہو؟ آدھا قرآن چھوڑ کے جا رہے ہو؟" اب وہ کیا جواب دیں؟ جواب تو کوئی نہیں۔ کہا: "بھئی قرآن آدھا قرآن کیوں نامکمل چھوڑتے ہو؟ یہ ساتھ ادھر ادھر حفاظ موجود ہوں گے، ان کی منت سماجت کر لو، اگر وہ آپ کو آدھا قرآن نفلوں میں سنا دیں آج، تو آپ کا قرآن مکمل ہو جائے گا پھر... پھر چلے جاؤ۔"

                سبحان اللہ! باہمت بزرگ کے مرید تھے۔ لہٰذا خود بھی باہمت تھے۔ بات پر عمل کر لیا، ادھر ادھر حافظوں کو تیار کر لیا اور ماشاءاللہ ایک جماعت تیار ہو گئی۔ اسی وقت جماعت تیار ہو گئی اور نفلوں میں قرآن سنا جانے لگا، آدھا قرآن۔ تو حضرت بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ اب حضرت جا تو نہیں رہے تھے، حضرت بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ یہ ہیں باہمت لوگ جو رمضان کی قدر کرتے ہیں۔

                اب ذرا میں... چونکہ خواتین کا بیان ہے، میں نے بہت ساری باتیں مردوں کی کیں۔ تو اب خواتین کی بات بھی کرتا ہوں۔ کہ شاید خواتین بعض سمجھتی ہیں کہ تراویح جو ہے نا صرف مردوں کے اوپر سنتِ مؤکدہ ہے، 20 رکعات تراویح۔ نہیں نہیں نہیں۔ یہ عورتوں کے لیے بھی ایسا ہی حکم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مردوں کو 20 رکعات تراویح جماعت کے ساتھ ہے اور عورتوں پہ جماعت لازم نہیں، وہ اپنے گھر میں اکیلے پڑھ سکتی ہیں۔

                اب یہ اکیلے پڑھ سکنا یہ ایک Facility ہے۔ ایک آسانی ہے، اللہ پاک نے دی ہے۔ لیکن ایک تو ہوتی ہے آسانی کا شکر ادا کرنا اور ایک ہوتا ہے آسانی سے ناجائز فائدہ اٹھانا۔ یہ دو باتیں ہوتی ہیں۔ شکر تو اس کا یہ ہے کہ جو کر سکتی ہیں ان کو اچھی طرح کر لے، یہ تو شکر ہے۔ مثلاً وقت پر 20 رکعات تراویح بڑے اچھے انداز میں پڑھ لے، یہ شکر ہے۔ اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے گپ شپ میں لگی رہے، ادھر ادھر چیزوں میں لگی رہے، اور پھر جو ہے نا مطلب دیر کر کے نماز پڑھ لے، اور کبھی کبھی رہ بھی جائے پھر، جب بہت دیر ہو جائے۔ تو یہ ناشکری ہے۔

                عورتوں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ گھر کے کام کاج کرتی ہیں، گھر کا کام کاج ان کے اوپر سر کے اوپر سوار ہوتا ہے۔ تو ان کی Priority یہ ہوتی ہے کہ پہلے گھر کا کام ختم کروں پھر نماز پڑھوں گی۔ حالانکہ یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ نماز پڑھو پھر گھر کا کام مکمل کرو۔ کیا مسئلہ ہے؟ تو اس وجہ سے خواتین سے میں عرض کروں گا کہ رمضان شریف کے مہینے میں کم از کم تربیت کی نقطہ نگاہ سے، وقت پر نماز پڑھا کرو۔ جیسے وقت داخل ہو تو مردوں کی انتظار نہ کرو۔ مرد تو جماعت سے نماز پڑھتے ہیں، وہ تو مسجدوں میں پڑھیں گے، مسجد کا جو ٹائم ہو گا اس کے حساب سے پڑھیں گے۔ آپ کے اوپر مسجد کا نماز تو ہے ہی نہیں، تو آپ تو وقت کے لحاظ سے پڑھو۔ وقت داخل ہو جائے، نماز پڑھ لو۔ اس سے ان شاء اللہ آپ کو آسانی ہو گی۔

                تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ عورتیں اس میں سستی کرتی ہیں۔

                دوسری بات، جیسے میں نے ابھی اعتکاف کا ذکر کیا۔ مرد اعتکاف کرتے ہیں مسجد میں۔ لیکن عورتیں بھی اعتکاف کر سکتی ہیں، لیکن ان کا اعتکاف گھروں میں ہو گا۔ یہ بھی ایک Facility ہے کہ وہ اس وقت ان کے گھر کا وہ کونہ جو انہوں نے منتخب کیا ہوتا ہے، اس کو اللہ پاک مسجد مان لیتے ہیں اور آپ کے لیے وہ مسجد ہو جاتا ہے۔ اس میں آپ کھڑے ہیں۔ مرد جو ہے مسجد میں اعتکاف کرنے پر مجبور ہے، لہٰذا اگر مسجد بڑا ہو گیا تو تو ٹھیک ہے، اور اگر مسجد چھوٹی ہو تو اسی چھوٹی جگہ پہ انہوں نے کرنی ہے پھر، کیا کریں گے۔ لیکن عورت کے لیے کافی اختیار ہے، پورے کمرے کو مسجد قرار دیں اور اس میں رہیں۔

                تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک Facility ہے، عورتیں اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، مسجدیں اپنے گھر میں بنا لیں اور پھر اس کے حساب سے نماز پڑھیں، اس میں رہیں، اعتکاف کریں۔ تو میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ رمضان شریف سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ۔

                تو ابھی میں جو حدیث شریفہ ہے اس کے بارے میں عرض کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے اخیر میں ایک خطبہ پڑھا۔ فرمایا: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ» اے لوگو! تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ «شَهْرٌ مُبَارَكٌ» برکت والا مہینہ۔ «شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ» وہ مہینہ جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ «جَعَلَ اللّٰهُ صِيَامَهٗ فَرِيضَةً» اللہ پاک نے اس کے روزے کو فرض قرار دیا۔ «وَقِيَامَ لَيْلِهٖ تَطَوُّعًا» اور رات کا قیام ثواب کی چیز۔ «مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ» جس نے اللہ پاک کے قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا عمل کیا جو نفل کے لحاظ سے ہو، تو ایسا ہے جیسا کہ اس نے باقی دنوں میں فرض کا عمل کیا ہو۔ «وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ» اور جس نے اس مہینے میں کوئی فرض عمل کر لیا، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے باقی دنوں میں ستر فرضوں کو ادا کیا ہو۔

                «وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ» اور یہ مہینہ صبر کا ہے۔ «وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ» اور صبر کا بدلہ تو جنت ہے۔ «وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ» اور یہ مہینہ خیر خواہی کا ہے۔ «وَشَهْرٌ يَّزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ» اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ «مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهٗ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهٖ» جس نے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کر لیا اس میں، اس کے لیے اس کے گناہوں کی بخشش ہے۔ «وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ» اور اس کا گردن آگ سے چھڑایا جائے گا۔ «وَكَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ» اور اس کو اتنا اجر ملے گا جتنا کہ اس روزہ دار کو اجر ملے گا، ہاں ان کے اجر سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

                «قُلْنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ» ہم نے کہا اے رسول اللہ! «لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ» ہم میں تو ہر شخص کی یہ استطاعت نہیں کہ ہم روزہ دار کو روزہ افطار کر سکیں۔ «فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يُعْطِي اللّٰهُ هَذَا الثَّوَابَ» اللہ تعالیٰ تو یہ ثواب اس کو بھی دیتے ہیں «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ» جس نے روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ سے روزہ کھلوایا، «أَوْ تَمْرَةٍ» یا کھجور سے، «أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ» یا تھوڑے سے پانی سے۔ «وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللّٰهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ» اور اگر کسی نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا تو اس کو اللہ پاک میرے حوض سے پانی پلائیں گے، پھر اس کو پیاس نہیں لگے گی جب تک کہ جنت میں داخل نہ ہو جائے۔

                «وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهٗ رَحْمَةٌ» اور یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا حصہ رحمت ہے، پہلا حصہ۔ «وَأَوْسَطُهٗ مَغْفِرَةٌ» اور اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے۔ «وَآخِرُهٗ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ» اس کا آخری حصہ جہنم سے خلاصی کا ہے۔ «وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهٖ فِيهِ» اور جس نے اپنے مملوک یعنی غلام باندی کا بوجھ ہلکا کر دیا اس میں، «غَفَرَ اللّٰهُ لَهٗ» اللہ پاک اس کو معاف کر دے گا، مغفرت فرمائے گا۔ «وَأَعْتَقَهٗ مِنَ النَّارِ» اور اس کو آگ سے چھڑا دیں گے۔

                اللہ جل شانہٗ ہم سب کو یہ اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تو اس میں ایک تو یہ والی بات ہو گئی کہ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ اس کی میں آپ کو تھوڑی سی بات بتانا چاہتا ہوں۔ ہزار مہینوں سے اس کا افضل ہونا یہ تو قرآن سے ثابت ہے۔ اس پہ تو کوئی شک کی بات ہو نہیں سکتی۔ ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3)﴾۔

                اب صرف یہ والی بات ہے کہ ملتا کب ہے؟ ملے گا بھی یا نہیں ملے گا؟ ایک سوال ہے۔ تو اس میں ایک ہے شرعی پہلو اور ایک ہے عوامی پہلو۔ شرعی پہلو میں بڑی گنجائش ہے اور عوامی پہلو نے اپنے لیے بڑی مصیبت بنائی ہے۔ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ پوری رات کے اندر ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اگر اس لمحے کوئی عبادت کر رہا ہو، دعا کر رہا ہو، تو اس کا کام بن جائے گا۔ اور اگر اس وقت سو رہا ہو یا کسی چیز میں مصروف ہو تو بس ضائع ہو جائے گا، نہیں وہ ملے گا اس کو۔

                اب یہ تو ایک الگ بات، شوشہ چھوڑ دیا نا لوگوں نے۔ دوسرا شوشہ جو چھوڑا اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ وہ یہ شوشہ چھوڑا کہ انسان جاگ رہا ہوتا ہے، جاگ رہا ہوتا ہے، جاگ رہا ہوتا ہے، عین اس وقت نیند آ جاتی ہے۔ کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ کوئی اللہ پاک دینا بھی چاہتا ہے اور نہیں بھی دینا چاہتا! کیسی فضول قسم کی سوچ ہے۔ ﴿أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي﴾ میں بندے کے گمان کے ساتھ جو میرے ساتھ رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہو جائے گا ان کے ساتھ؟ کتنی خطرناک سوچ ہے۔

                تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک نے یہ نہیں فرمایا۔ اللہ پاک نے کیا فرمایا؟ ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ بے شک ہم نے نازل کیا قرآن کو لیلۃ القدر میں۔ ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ﴾ اور تمہیں کیا پتہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ یہ استفہام کا ایک وہ ہے انداز ہے جس میں کسی چیز کی عظمت کا بتایا جائے۔ بھئی تمہیں کیا پتہ کہ یہ کون ہے؟ تو یہ، یہ بات ہے ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ﴾۔ ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾ لیلۃ القدر تو وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ﴿تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (5)﴾۔ یعنی اس میں جبرائیل علیہ السلام ماشاءاللہ اترتے ہیں۔

                تو اس کے بارے میں کہ وہ دعاؤں... حدیث شریف میں آتا ہے کہ وہ دعائیں کرتے ہیں، جماعت کے ساتھ اترتے ہیں۔ اور یہ معاملہ اخیر تک رات تک ﴿هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾ اخیر تک چلتا رہتا ہے۔ تو پتہ چلا کہ یہ پوری رات ہے، لیلۃ المبارک ہے۔ ہاں اس میں لمحۃ المبارک نہیں کہا، لمحۃ القدر نہیں فرمایا، لیلۃ القدر فرمایا۔ تو لیلۃ پوری رات ہے، وہ غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور فجر تک جاری رہتا ہے۔ تو اللہ پاک نے تو اس کو اتنی وسعت دی ہے۔ اب دیکھیں ذرا تھوڑا سا عوامی سوچ بنا کیوں ہے؟ وہ بتاتا ہوں۔ بننے کے لیے بھی کوئی ذریعہ ہوتا ہے، مسئلہ ہوتا ہے۔

                بنا اس لیے ہے کہ اس میں دو باتیں ہیں۔ ایک ہے لیلۃ القدر کی اپنی ذاتی رحمت اور ذاتی برکت۔ وہ غروبِ آفتاب سے فجر تک ہے۔ اس میں آپ "سبحان اللہ" پڑھیں گے تو ایسا ہے جیسے آپ نے ایک ہزار مہینے ہر رات کے اندر "سبحان اللہ" پڑھا بلکہ اس سے زیادہ۔ ایک پارہ پڑھ لیا تو ایسا ہے جیسے آپ نے ہزار مہینے ہر رات کے اندر ایک پارہ پڑھ لیا بلکہ اس سے زیادہ۔ یہ اس کی ذاتی برکت ہے۔ یہ جو ذاتی برکت ہے یہ کسی اور وجہ سے ختم نہیں ہوتی۔ لیکن ایک برکت ہے ملائکہ کے آنے کی وجہ سے اس میں۔ جبرائیل علیہ السلام اور اس کے ساتھ جو ملائکہ آتے ہیں، ان کی آنے کی وجہ سے جو رحمت ہے وہ صرف اس وقت ہے جس وقت وہ فرشتے آئے ہوں، وہ ہر وقت نہیں ہے۔

                اب اس کے کچھ علامات بھی ہوتی ہیں، بعض لوگوں کے لیے علامات ہوتی ہیں، بعض کے لیے نہیں ہوتیں کیونکہ بعض لوگ کشف والے ہوتے ہیں بعض کشف والے نہیں ہوتے۔ تو اب وہ علامات میں کیا ہے؟ کبھی روشنی، کبھی انتہائی خوبصورت ماحول، خوشبودار۔ کبھی دریا کا... سمندر کا پانی کڑوا جو ہوتا ہے وہ میٹھا ہو جاتا ہے۔

                ایک دفعہ ہم حضرت کے ہاں نماز پڑھ رہے تھے وہاں پر، غالباً ستائیسویں کی رات تھی۔ تو جو مولوی صاحب تھے وہ پڑھ رہے تھے قرآن پاک تو اس میں سورہ یاسین شریف بھی آ رہا تھا۔ تو سورہ یاسین شریف اس نے ایسا خوبصورت پڑھا کہ ہر ایک جھوم اٹھا۔ تو میں نے جب سلام پھیرا تو میرے ساتھی لاہور کا کوئی آدمی آیا ہوا تھا، مجھ سے پوچھا: "یہ قاری صاحب کو سورہ یاسین کچھ بہت ہی زیادہ یاد تھا؟" مطلب ظاہر ہے بالکل Different، بہت ہی زیادہ یاد تھا۔ میں نے کہا: "چپ رہو، بس کچھ حالات، اشارے کچھ اور ہیں۔" مجھے فوراً سمجھ آ گیا کہ یہ لیلۃ القدر کی برکت ہے۔ کوئی آئے ہوں گے فرشتے۔ تو ظاہر ہے ان کی وجہ سے پھر ہر چیز Improved ہو جاتی ہے نا۔ تو بس وہ کچھ ہو گیا، قاری صاحب کے اندر کیا بات تھی وہ تو ماحول کے اندر بات تھی۔ تو کچھ ہو چکا ہو گا۔ تو میں سمجھا کہ معاملہ تو ہے۔ اسی رات ماشاءاللہ حضرت نے تھوڑا سا وعظ بھی کر لیا خلافِ معمول۔

                کیونکہ پشاور میں وہ اٹھائیسویں تھی، پاکستان کی چھبیسویں تھی، بلوچستان کی ستائیسویں تھی۔ یہ اس رات تین رویت تھے۔ بلوچستان والوں کی رویت شاید صحیح تھی۔ پشاور کی اٹھائیسویں تھی لہٰذا وہاں تو ستائیسویں کا امکان نہیں تھا۔ تو سوچ بھی نہیں آ سکتا تھا کہ آج وہ ہو گا۔ اور ہمارے پنجاب کی جو تھی وہ جو ہے نا وہ چھبیسویں تھی پاکستان کی، تو ہمیں بھی کوئی سوچ نہیں ہو سکتا تھا۔ بلوچستان کی ستائیسویں تھی۔ تو یہاں جب آ گیا تو یہاں بھی ایسا واقعہ ہوا تھا۔ یہاں پنڈی میں ہماری مسجد میں بھی ایک صاحب کو اس قسم کا واقعہ ہوا تھا۔ میں نے کہا بس ٹھیک ہے اس کا مطلب یہ ہے۔ دیکھو چھبیسویں، اٹھائیسویں، نہ یہ ستائیسویں نہ وہ ستائیسویں ہے، لیکن واقعہ کس چیز کا ہو رہا ہے؟ ایسے جیسے لیلۃ القدر کا ہو۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اصل رویت ستائیسویں کی تھی۔ لیکن وہ ہوا تو اب ظاہر ہے مطلب وہ... ہو جاتا ہے، ایسے حالات ہو جاتے ہیں۔

                تو وہ جو برکت ہوتی ہے فرشتوں کی، وہ Place to place ہوتی ہے، Time to time ہوتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہاں پر 2 بجے رات کو ہو، عین ممکن ہے کسی جگہ پر 4 بجے رات کو ہو، عین ممکن ہے کسی... کسی جو ہے نا مطلب بالکل مغرب کے بعد کا ہو۔ کیونکہ اس میں کیا ہے؟ وہ فرشتوں کی ادھر موجودگی کی وجہ سے ہے۔ اس کی اپنی جو ذاتی برکت ہے لیلۃ القدر کی، وہ تو سب جگہ ہے۔ اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ اس میں آپ کو بالکل روشنی نظر نہ آئے، کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ لیلۃ القدر کے لیے روشنی کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ اس کی برکت ہے اپنی، وہ رہے گی۔ اس کا جو Multiplication factor ہے وہ کم نہیں ہو گا۔ بے شک آپ کو کچھ پتہ نہ چلے۔ لیکن اس کے محسوسات، اس میں فرق پڑ سکتا ہے۔

                تو اس سے غلطی لوگوں کو لگ گئی کہ کسی کو ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا اور پھر نہیں تھا، تو سمجھے کہ شاید لیلۃ القدر اتنا ہی وقت ہوتا ہے بس۔ مجھے ابھی تک آتے ہیں لوگ چونکہ الحمد للہ مجھے لوگ اپنے باتیں مجھ سے شیئر کرتے ہیں۔ تو کبھی کبھی بچے بھی مجھے ٹیلی فون کر لیتے ہیں کہ ہم نے یہ دیکھا۔ تو وہ اس میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔

                تو یہ جو بات ہے مطلب کہ لیلۃ القدر جو ہے، "لیلۃ القدر" ہے، لمحۃ القدر نہیں ہے۔ ایک تو یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے لمحہ والی بات بھی صحیح ہے لیکن فرشتوں کے لیے۔ کیونکہ وہ سیاح ہوتے ہیں، وہ پوری دنیا میں پھر رہے ہیں۔ تو کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی ادھر، تو جہاں جس وقت ہوں گے تو وہاں پر... وہاں پر عید ہو گی نا۔ وہاں تو معاملہ مختلف ہو گا۔ بلکہ بعض نشانیاں بتائی جاتی ہیں کہ ایسے جھرجھری سی بعض دفعہ آ جاتی ہے اچانک، Without any reason۔ وہ بھی فرشتوں کے مصافحے کی علامت ہوتی ہے کہ فرشتوں نے... یہ بعض قبروں پہ لوگ جاتے ہیں نا تو وہاں پر بھی یہ کیفیت ہو جاتی ہے۔ تو اس بزرگ کی روحانیت کی برکت ہوتی ہے، وہ دھچکا لگ جاتا ہے۔ تو وہ، وہ ظاہر ہے مطلب اس کی روحانیت کی برکت ہوتی ہے، تو یہاں فرشتوں کی روحانیت کی برکت ہوتی ہے۔

                تو یہ جو چیز ہے مطلب یہ سارا، یہ روحانیت والی جو باتیں ہیں، وہ تو لمحات کی باتیں ہیں۔ اس میں ہم لمحات مانتے ہیں۔ لیکن لیلۃ القدر میں لمحات نہیں مانتے کیونکہ قرآن پاک کے نص سے ثابت ہے۔ اس کے لیے ہمیں کسی کے خواب کی ضرورت نہیں ہے، کسی کے کشف کی ضرورت نہیں ہے، کسی کے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اللہ پاک نے دیا ہے۔ اس وجہ سے جو اللہ نے دیا ہے اس کو وصول کرو۔ تو اس کا طریقہ یہ ہے، ڈٹ جاؤ۔

                دیکھو میں آپ کو بتاؤں۔ ایک ہوتا ہے Object to thinking، ایک ہوتا ہے Subject to thinking۔ اب یہ ہے کہ آپ نے لیلۃ القدر کمانا ہے۔ نشانیاں ہیں موجود۔ نمبر ایک نشانی، آخری عشرے میں ہے۔ نمبر دو نشانی، آخری طاق راتوں میں ہے۔ نمبر تین، روایات کے لحاظ سے ستائیسویں کا پلڑا غالب ہے، لیکن باقی راتوں میں بھی موجود ہیں امکانات اور واقعات، موجود ہیں۔ صرف ستائیسویں کو نہیں ہے۔ مثلاً ہمارے خیابان میں جو اعتکاف ہمارا ہوا تھا، اس میں نشانیاں تیئیسویں کو آئی تھیں۔ تو تیئیسویں کو، کبھی اکیسویں کو، کبھی پچیسویں کو، کبھی ستائیسویں کو۔ مطلب یہ مختلف راتوں کی مطلب ہوتی ہیں۔ ہاں زیادہ ستائیسویں کو ہوتی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ اب جس سے بھی پوچھیں گے تو وہ بتائے گا کہ زیادہ امکان ستائیسویں کو ہوتا ہے۔

                لیکن زیادہ امکان میں آپ کو بتاتا ہوں ابھی۔ آپ Assume کر لیں کہ 60 فیصد امکان ستائیسویں کو ہے اور جو 30 فیصد امکان ہے وہ باقی طاق راتوں کا ہے۔ اور 10 فیصد امکان باقی راتوں کا ہے۔ اب بتاؤ کون سی رات چھوڑو گے؟

                اس کا میں مثال دیتا ہوں کہ ایک شخص جاب پہ آنا چاہتا ہے، اس کا جاب والا بتاتا ہے: "بھئی یہاں جاب ہمارے ہاں بڑا Different طریقہ ہے۔ 10 دن کا کام ہے ہمارے پاس، اس میں ایک رات یا ایک دن ایسا ہے، میں لکھ کے چھوڑ دوں گا، جس میں آپ کو ایک کروڑ روپیہ ملے گا، مل سکتا ہے۔ باقی دنوں میں آپ کو ہزار روپے دن کے حساب سے ملے گا۔ آپ کو اختیار ہے آپ جتنے دن بھی کام کرنا چاہیں۔ اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ فلاں دن کا جو امکان ہے وہ 60 فیصد ہے اور باقی جو Odd Days ہیں اس کا 30 فیصد ہے اور باقیوں کا 10 فیصد ہے۔ آپ کو اختیار ہے اب، اب جتنا کام کرنا چاہیں کرو۔" اب بتاؤ کیا کرے گا وہ؟ پورے دس کام کرے گا تاکہ کوئی چانس رہنے کا باقی نہ رہے۔ تو یہ فارمولا ہم اس میں کیوں نہیں استعمال کر سکتے؟ بھئی 10 راتیں ہی تو ہیں نا۔

                تو اس کا Best طریقہ تو اعتکاف ہے۔ اس سے Best طریقہ اور کوئی نہیں، کیونکہ اعتکاف میں ایک ایسا عمل ہے کہ وہ بیسویں سے شروع ہوتا ہے اور چاند رات پہ ختم ہوتا ہے۔ لہٰذا جو اعتکاف میں ایک دفعہ بیٹھ گیا، تو وہ تو اعتکاف میں آ گیا نا، کم از کم اعتکاف تو اس کا جاری ہے، بے شک سو بھی کیوں نہ رہا ہو۔ اس کا اعتکاف تو جاری ہے۔ تو اب جونسی رات بھی ہو گی لیلۃ القدر کی، تو اس میں کم از کم اس کا اعتکاف تو ہے، ایک بات۔

                دوسری بات یہ ہے کہ باجماعت نماز اس کی ہے مسجد میں۔ دونوں نمازیں، مغرب کی اور عشاء کی نماز تو اس کی کم از کم مسجد میں آ گئی نا، اور تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ آئے گی، وہ مسجد میں جو ہے۔ اور باقی اعمال میں بھی اس کی شرکت ہو جاتی ہو گی۔ نتیجتاً Best طریقہ تو اس کا اعتکاف ہے۔

                عورتیں بھی اس طریقے سے حاصل کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ Best طریقہ استعمال نہیں کر سکتے، تو پھر ایک Working Method ہے۔ Working Method یہ ہے کہ آپ کم از کم یہ دو نمازیں، فرض، مغرب اور عشاء باجماعت تکبیر اولی کے ساتھ باقاعدہ اس کا اہتمام کریں۔ تو یہ تو کم از کم آپ کے کھاتے میں آ ہی جائیں گی۔ جس کے بارے میں ایک صحابی فرما بھی رہے، فرماتے بھی تھے کہ جو یہ حاصل کر لے تو اس نے بڑا حصہ پا لیا۔ تو یہ تو عام لوگ بھی پا سکتے ہیں۔

                اس کے بعد جتنا وقت جاگ سکتے ہو وہ ذکر کے ساتھ گزارو۔ مسجد جاتے وقت بھی ذکر کرو، مسجد سے آتے وقت بھی ذکر کرو۔ کسی کے ساتھ نہ جاؤ، کسی کے ساتھ نہ آؤ ورنہ ضائع ہو گا وقت۔ بھئی اپنے پولیٹکس کم از کم 10 دن تک ملتوی کر لو۔ اپنے دفتر کے احوال یہ بھی 10 دن تک ملتوی کرو۔ بھئی لوگ شادیوں کے لیے چھٹیاں کرتے ہیں، تو اگر آپ کو چھٹی ملتی ہے تو ان دنوں کے لیے چھٹی کیوں نہیں لیتے؟ شادیوں کے لیے بھی تو لوگ چھٹیاں لیتے ہیں نا، پکنک کے لیے بھی چھٹیاں لیتے ہیں۔ تو اگر یہ والی بات ہے تو پھر ہم اس کے لیے لیں۔ مجھے تو صحیح بات ہے، بڑا حوصلہ لگتا ہے ان لوگوں کا جو بڑی معمولی معمولی چیزوں کے لیے اس رات کو قربان کر لیتے ہیں۔

                یہ صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ یہ دیہاڑی والے ہیں نا دیہاڑی والے، ان بیچاروں کی کافی کم کمائی ہوتی ہے لیکن ان کے بھی اپنے اصول ہیں۔ کہتے ہیں جمعے کو نہیں کام کرنا۔ آپ بے شک آپ کچھ بھی کر لیں، نہیں جمعے کو نہیں کام کرنا۔ لوگ کہتے ہیں لے جاتے ہیں، نہیں نہیں جمعے کو نہیں کام کرنا۔ تو ان کا اپنے اصول ہیں، تو اگر یہ والی بات ہے تو بھئی یہ 10 دن ہمارے نہیں ہیں۔ اس میں ہم کچھ نہیں کریں گے، اس میں ہم صرف اللہ کو راضی کریں گے۔ تو بس ٹھیک ہے نا۔

                تو ایک تو یہ والی بات ہے کہ ہم ان راتوں کو، ان دنوں کو کوشش کر لیں کہ استعمال کر لیں اس چیز میں۔ ایک بات۔ پھر ان راتوں کو جاگ کر گزاریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شب بیداری فرماتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی شب بیداری کرواتے۔ تو اس میں شب بیداری کریں۔ دن کو سوئیں نا۔ اس کا بھی بہترین طریقہ اعتکاف ہے۔ اعتکاف میں پھر انسان مینج کر سکتا ہے، رات کو جاگے، دن کو سوئے۔ اس سے ماشاءاللہ آپ کی نیند بھی پوری ہو گی اور آپ رات کو جاگ بھی سکیں گے۔

                تو اگر کوئی اس طریقے سے رمضان شریف گزارے گا، تو میں سمجھتا ہوں ان شاء اللہ، ان شاء اللہ، ان شاء اللہ رمضان سے پہلے، ختم ہونے سے پہلے پہلے ولی اللہ بن چکا ہو گا۔ کنفرم بات ہے۔ اس کی میں اپنی طرف سے بات نہیں کر رہا ہوں، میں تو بہت چھوٹا آدمی ہوں میں کیا کر سکتا ہوں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں، اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ کیوں؟ ان کے پاس ایمان ہو گا اور انہوں نے تقویٰ حاصل کیا ہو گا۔ دو ہی باتیں اللہ پاک نے فرمائی ہیں۔ اب اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ اے ایمان والو! رمضان شریف کے روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔ تو رمضان شریف تقویٰ حاصل کرنے کا مہینہ، اور تقویٰ والا اللہ پاک کا دوست۔ تو اس کا مطلب ہے: اے ایمان والو! رمضان شریف کے روزے تم پر فرض ہیں جیسے تم سے پہلوں پہ فرض کیے گئے تھے تاکہ تم ولی اللہ بن جاؤ۔ آپ اس کی عبارتی... مطلب جو ہے نا وہ تشریح کر سکتے ہیں۔ تاکہ تم ولی اللہ بن جاؤ۔ ان دو آیتوں کو ملاؤ۔

                یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی برستی ہے اس میں، اتنی برستی ہے، اتنی برستی ہے کہ کوئی آدمی اس سے خالی نہ جائے۔ جو خالی جانا بھی چاہتا ہے اس کو بھی... اس کے اوپر بھی پھینکتے ہیں۔ اس کے اوپر بھی پھینکتے ہیں۔ لیکن جب بالکل ہی وہ نہیں لیتا، کوئی ایک دروازے پہ کھڑا ہے کہ اس کو کچھ دوں، وہ قصداً دوسرے دروازے پہ نکلنے کی کوشش کر لے، وہاں سے اس کو پکڑتا ہے کہ مطلب میں اس کو دوں، وہاں سے بھاگ کے دوسرے دروازے سے نکلنا چاہتا ہے۔ ایسے... ایسے، ایسے، ایسے ناقدرے آدمی کا جب مہلت ختم ہو جاتی ہے، پھر اس کو حکم ہوتا ہے: "چلو! اب تم نے اپنی تباہی قبول کر لی ہے تو تم تباہ ہو"۔ یہ بات ہے۔

                تو حدیث شریف میں ایسا ہی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آمین کہا۔ تو پھر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی؟ فرمایا: جبرائیل علیہ السلام آئے تھے اور اس نے کہا تھا کہ جس پر رمضان شریف گزر جائے اور اس کی مغفرت نہ ہو تو اللہ اس کو تباہ و برباد کر دے۔ تو میں نے کہہ دیا آمین۔ کیوں؟ جو اللہ پاک نے اس کو اتنا دینا چاہا، حالانکہ اللہ اس کا محتاج تو نہیں ہے، یہ محتاج ہے، لیکن اللہ پاک دینا چاہتا ہے اور یہ بھاگنا چاہتا ہے، یہ نہیں لینا چاہتا، تو بالاخر اس کو راندۂ درگاہ کر لیا جاتا ہے۔

                اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس چیز سے بچائے، رمضان شریف کی قدر دانی نصیب فرمائے۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ اللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهٗ وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنَّا كُنَّا مِنَ الظَّالِمِينَ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى۔

                اخیر میں یہ ایک اعلان سن لیں، ہمارے سارے پروگرام Online ہوتے ہیں۔ آج آپ لوگوں نے Online یہ سن لیا، تو ان شاء اللہ ابھی آپ جو ہے نا اپنے گھروں میں بیٹھ کے مغرب سے لے کے عشاء تک جو ہمارے Online پروگرام ہیں وہ سن سکتی ہیں، اور ساتھ ہی یہ اتوار کا جو اگلا بیان ہے وہ بھی رمضان شریف سے متعلق ہو گا، اس کو بھی سننے کی کوشش کر لیں اور رمضان شریف میں بھی جتنے ہمارے بیانات ہوتے ہیں Online، چونکہ لاک ڈاؤن پتہ نہیں کہ کب تک ہے، لہٰذا آپ جو ہے نا مطلب اس چیز سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے آپ کو اس خانقاہ کے ساتھ وابستہ رکھیں تاکہ اس کے برکات آپ کو ملتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


                رمضان المبارک کا مقصد: تزکیۂ نفس، اعتکاف اور شبِ قدر کی تلاش - خواتین کیلئے اصلاحی بیان