دین میں راہِ اعتدال، تقاضائے ولایت اور عصرِ حاضر کے فتنے

جمعہ بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دین کے ہر معاملے میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
  2. ہر کام کے ہونے کا یقین صرف اللہ پر رکھنا اور اسباب کو سنت کے مطابق اختیار کرنا ہی اصل اعتدال ہے۔
  3. شعائرِ اللہ کا ادب و احترام لازم ہے لیکن اسے اس حد تک نہیں لے جانا چاہیے کہ وہ شرک بن جائے۔
  4. قرآن مجید کو اپنی ذاتی رائے کے بجائے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی تشریح کے مطابق سمجھنا لازم ہے۔
  5. ولایت کی بنیاد ایمان اور تقویٰ ہے، لہٰذا اولیاء اللہ کی قدر کرنے کے باوجود حاجات صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہییں۔
  6. دین میں اپنی طرف سے اضافے کرنا اور ثواب سمجھ کر نئے تہوار منانا صریح بدعت ہے۔
  7. قادیانیت اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کے فتنوں کا سدباب کرنے کے لیے ان کا معاشی بائیکاٹ اور طرزِ زندگی ترک کرنا لازم ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلَا اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ اِنَّ اللّٰہَ وملائکتہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

معزز خواتین و حضرات۔ ابھی ابھی ربیع الاول کا مہینہ گزرا ہے۔ جس میں الحمد للہ ہمارے ساتھیوں جن میں مرد بھی ہیں خواتین بھی ہیں جنہوں نے بڑے شوق سے درود شریف پڑھا ہے۔ الحمد للہ، اللہ جل شانہ کے فضل و کرم سے پچیس کروڑ سے کچھ زیادہ پڑھا گیا۔ اور کئی ختم قرآن ہوئے ہیں تیس ختم قرآن ہوئے ہیں۔ کچھ نوافل نو سو کے لگ بھگ پڑھے گئے الحمد للہ۔ اور صلاۃ تسبیح کافی تعداد میں پڑھی گئی۔ اور ما شاء اللہ کلمہ طیبہ بھی پڑھا گیا سورہ یسین شریف سورہ ملک۔ ان سب کا ایصال ثواب الحمد للہ ساتھیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ہے۔ الحمد للہ اللہ پاک قبول فرمائے۔ اور اللہ جل شانہ کے فضل و کرم سے روضہ اقدس پر یہ پیش بھی ہو گیا۔ اور بقول ہمارے بزرگوں کے قبولیت کے آثار بھی ظاہر ہوئے الحمد للہ۔ تو یہ نعمت ہمیں الحمد للہ اللہ پاک نے نصیب فرمائی۔ یہ نعمت ہمیں الحمد للہ ہمیں اپنے بزرگوں کی برکت سے نصیب ہوئی کیونکہ ہمارے بزرگوں کا ذوق یہی تھا اور یہی ہے۔

اصل میں ہر چیز کے اندر اعتدال ضروری ہوتا ہے یعنی افراط میں بھی نقصان ہوتا ہے تفریط میں بھی نقصان ہوتا ہے۔ اس طرح دین کی ہر بات میں بھی افراط تفریط سے بچا جاتا ہے۔ یہود میں تفریط تھی نصاری میں افراط، دونوں گمراہ ہوئے۔ اور ہمارے لیے اللہ جل شانہ نے معتدل راستہ منتخب فرمایا راہ اعتدال۔ جن کو اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ کہا گیا یعنی ان لوگوں کا جن پر اللہ پاک نے نعمت کی ہے۔ اور وہ کیا ہے وہ انبیاء ہیں اس طرح صدیقین ہیں شہداء ہیں اور صالحین ہیں۔ ان کا راستہ الحمد للہ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ہے۔ اور ان میں اعتدال پایا جاتا ہے۔

اعتدال کس معنی میں؟ یعنی اس معنی میں کہ توحید سبحان اللہ ایسی توحید کہ اس میں توحید افعالی بھی آ جاتی ہے ہم ہر کام کو اللہ تعالی سے ہوتا ہوا سمجھتے ہیں۔ اللہ جل شانہ کے ارادے سے ہوتا ہے اللہ پاک ہی کا ارادہ نافذ العمل ہے۔ اللہ کے ارادے کے بغیر کسی کا ارادہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ بات بھی ظاہر ہے ہم مانتے ہیں۔ دوسری طرف الحمد للہ اللہ پاک نے اسباب کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اسباب جو بنائے ہیں وہ بھی اللہ پاک کی طرف سے آئے ہیں اور حکم بھی اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جیسے کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۔ اس میں دو باتوں کی اجازت ہے اور ایک بات سے منع کیا گیا کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا کھاؤ پیو اور اسراف مت کرو۔ اب یہ سب اسباب ہیں۔ یعنی اکل اور شرب یہ اسباب ہیں اللہ نے حکم دیا ہے۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان اسباب کو اختیار کر لو۔ اب اگر کوئی اکل و شرب نہیں کرتا تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا اللہ تعالی کا حکم نہیں مانتا۔ تو اللہ تعالی کے حکم سے ان اسباب کو اختیار کر لے لیکن کیا وَلَا تُسْرِفُوْا اس میں اسراف نہ کرے مطلب اس پہ اعتدال ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اسباب کا دائرہ جو اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے ان اسباب کے دائروں کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اور اسباب کے اوپر اتنا یقین کہ اللہ کو بھول جائے، یہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اب اسی کے اندر اعتدال پر عمل کیا جائے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ اس میں ہم لوگ اپنے آپ کو مجبور بھی نہ سمجھیں اور مکمل مختار بھی نہ سمجھیں۔

اب مثال کے طور پر دیکھیں اس وقت سردی آ گئی۔ اس میں میرا کوئی بس نہیں چلتا۔ میں اگر چاہوں کہ جون کے مہینے میں سردی آ جائے تو میرا بس نہیں ہے۔ سردی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے۔ اور جس وقت بھی اللہ پاک نے اس کا نظام بنایا ہے اس کے حساب سے آئے گی۔ لیکن سردی میں مجھے کیا کرنا ہے اس کے اعمال اپنے ہوں گے۔ مثلا سردی میں میں اگر اپنا وضو صحیح طریقے سے کرتا ہوں اور اس کی پرواہ نہیں کرتا ہوں کہ مجھے تکلیف ہو گی، تو صبح سویرے میں اٹھوں، نماز پڑھوں، اجر میرا بڑھ جائے گا الحمد للہ، سردی کے لحاظ سے بڑھ جائے گا۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ گرمیوں میں، ظاہر ہے پھر اپنے اسباب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نیند پوری نہیں ہوتی راتیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ اب یہ چیز ہمارے بس میں نہیں ہے۔ ان چھوٹی راتوں کے اندر بھی عشاء کی نماز بھی پڑھنا، مغرب کی نماز بھی پڑھنا اور فجر کی نماز بھی پڑھنا اور اس کو پھر اپنے طور سے انتظام کرنا کہ آپ کی نیند بھی پوری ہو جائے، یہ ہمارے کام ہیں مطلب یہ ہمارے اسباب کا اختیار کرنا ہے۔ تو اس میں ہم لوگوں کو اس طریقے پہ چلنا ہو گا جس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے۔ یعنی گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نمونہ اسباب کو اختیار کرنے کا بتایا ہے اسی طریقے سے ہم بھی اسباب اختیار کریں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریقے سے اللہ پاک کی طرف توجہ دلائی ہے اور اللہ پاک سے ہونے کا یقین دلایا ہے اسی طریقے سے اللہ پاک سے ہی ساری چیزوں کے ہونے کا یقین ہمیں بھی نصیب ہو جائے، یہ ہے اعتدال۔ یہ ہے طریقہ، گویا کہ طریق سنت جو ہے وہ اعتدال ہے۔ طریق سنت جو ہے وہ اعتدال ہے۔

پھر یعنی اسی طریقے سے اللہ پاک کے جو شعائر ہیں، ان کا ادب کرنا ان کا احترام کرنا یہ ہمارا دین ہے۔ لیکن ان شعائر اور ادب کو اس حد تک نہیں لے جانا کہ وہ شرک بن جائے؛ کیونکہ وہ ہمارے دین کا دوسرا سرا ہے۔ اب دیکھ رہے ہیں، مثال کے طور پر نہر ہے، نہر جاری ہے، تو ادھر بھی دیوار ہے، ادھر بھی دیوار ہے، نیچے بھی دیوار ہے۔ پانی اسی کے اندر اندر بہے گا۔ نہ ادھر اس طرف جائے گا، نہ ادھر اس طرف جائے گا، نہ نیچے جائے گا۔ اور اگر ان میں دراڑ پڑ گئی، چاہے دائیں پڑ گئی، چاہے بائیں پڑ گئی، چاہے نیچے پڑ گئی، تو نہر صحیح نہیں ہے، پھر نہر اس کو نہیں کہیں گے، پھر اس کو گڑھا کہیں گے، پھر اس کو اور مطلب سیلاب کہیں گے یا کچھ اور چیز کہیں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ ہمارا دین، یہ جس انتظام سے اللہ پاک نے بنایا ہے، پیغمبروں کے ذریعے سے ہمیں بتایا ہے، اس طریقے سے ہمیں کرنا یہ ہمارے لیے لازم ہے۔ یہ ہمارے لیے لازم ہے۔

ابھی میں نے ایک آیت کریمہ پڑھی ہے۔ اس میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ آگاہ ہو جاؤ، جو اللہ کے دوست ہیں جو اللہ کے ولی ہیں، ان کے اوپر نہ خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ان کے اوپر نہ خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ تو اس لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ یہ ہمیں گویا کہ بتایا گیا ہے کہ اللہ والے جو ہیں ان کو اللہ پاک نے خاص شان دی ہوئی ہے، اور یہ بات ہے کہ اللہ پاک نے ان سے خوف اور حزن کو ختم کیا ہے۔ لیکن ہوا کیسے ہے؟ ہوا کیسے ہے؟ ہوا ایسے ہے: اَلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ مطلب یہ ہے کہ ایسے ہوا ہے کہ انہوں نے ایمان کو حاصل کیا تھا، یعنی ایمان قبول کیا تھا اور ساتھ ساتھ انہوں نے تقویٰ اختیار کیا تھا۔ یعنی ایمان والے تھے، انہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ گویا کہ ایمان اور تقویٰ جو ہے، یہ بنیادی چیزیں ہیں۔ اگر ایمان اور تقویٰ ہے تو ولایت ہے۔ اگر ایمان نہیں ہے پھر بھی ولایت نہیں ہے۔ ایمان ہے لیکن تقویٰ نہیں ہے تو پھر ولایت خاصہ نہیں ہے۔ جس کو اللہ ولی خاص کہتے ہیں۔ اور لوگ ولی سمجھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کہ ایمان کے ساتھ تقویٰ کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اب بات یہ ہے کہ اس میں اب دو باتیں ہو گئیں۔ ایک تو اولیاء کا مقام ہے۔ سبحان اللہ، اس سے انکار نہیں کیونکہ اللہ پاک نے پہلے سے ان کا مقام بتا دیا۔ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اس سے بھی انکار نہ ہو۔ دوسری طرف اولیاء جس طرح بنتے ہیں اس سے بھی انکار نہ ہو، اس کام سے بھی انکار نہ ہو۔ اور وہ کام کیا ہے؟ ایمان اور تقویٰ۔ ایمان کے بغیر اور تقویٰ کے بغیر کوئی ولی نہیں ہو سکتا۔ لہذا اگر عقیدے میں گڑبڑ ہے تو بھی ولی نہیں بن سکتا۔ چاہے اعمال کے لحاظ سے کتنا ہی اونچا چلا جائے۔ اور اگر عقیدہ تو صحیح ہے لیکن اعمال صحیح نہیں ہیں تو پھر بھی وہ خاص ولی نہیں بن سکتا جس کو ولی اللہ کہتے ہیں عمومی طور پر وہ مطلب یہ ہے کہ نہیں بن سکتا۔ ٹھیک ہے عام آدمی ہو گا۔ عام آدمی ہوگا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ ہم لوگوں کو دونوں باتوں کو دیکھنا ہوگا۔

اب یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں۔ جذباتی نہیں ہونا، جذباتی تو پیغمبر کے ساتھ بھی نہیں ہونا، مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے بھی اللہ تعالی نے جو احکامات بھیجے ہیں اسی کے حساب سے۔ جیسے، صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا سجدہ کرنے کو تو فرمایا کہ کیا میری قبر کو سجدہ کرو گے؟ انہوں نے کہا نہیں ایسا تو نہیں۔ تو اب دیکھیں مطلب یہ ہے کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا وہ بتا دیا کہ، اس حد سے آگے نہیں بڑھنا۔ مطلب جو اللہ تعالی نے جس کے لیے جو مقرر کیا ہوا ہے، اس حد سے آگے نہیں بڑھنا۔ فرشتوں کو ماننا ہے لیکن فرشتوں کو اتنا ماننا ہے جتنا اللہ پاک نے اجازت دی ہے۔ کتابوں کو ماننا ہے، اتنا ماننا ہے جس طرح اللہ پاک نے بتایا، جیسے مثال کے طور پر، زبور ہے، تورات ہے، انجیل ہے، اس کو ماننا ہے۔ لیکن اس پر عمل اب نہیں ہے کیونکہ عمل اب قرآن پر ہے۔ اب قرآن پر ہے، ایمان اُس پر ہے۔ لیکن عمل اب قرآن پر ہے۔ تو جس طرح اللہ پاک نے بتا دیا اسی طریقے سے عمل کرنا ہے۔ اور قرآن کو جو ماننا ہے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے حساب سے ماننا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح کے ساتھ ماننا ہے۔ اپنی تشریح کے ساتھ نہیں ماننا، اپنی تشریح کے ساتھ نہیں ہے۔

جیسے کہ یہ فرمایا کہ جس نے اپنی رائے سے تشریح کی، تفسیر کی قرآن کی، اگر اس نے صحیح بھی کی پھر بھی غلطی کی۔ جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی، اگر اس نے صحیح تفسیر بھی کی پھر بھی غلطی کی، اب دیکھ لیں۔ کیوں غلطی کی، بتاتا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ، کبھی کبھی تو پاگل آدمی کی بات بھی صحیح ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھی تو پاگل کی بات بھی صحیح ہو سکتی ہے، اب اگر پاگل نے کوئی صحیح بات کر لی۔ تو کیا اس کی باقی باتیں مانی جا سکتیں؟ باقی باتیں تو نہیں مانی جا سکتیں بس ٹھیک ہے وہ بات اس کی صحیح ہے۔ کبھی کبھی جھوٹا بھی سچ بولتا ہے۔ لیکن اب ظاہر ہے کہ جو جھوٹا ہوتا ہے، تو ظاہر ہے مطلب ان کی باقی باتوں کے بارے میں ہم یقین کرتے ہیں؟ ہم نہیں کرتے ہم کہتے ہیں یہ تو جھوٹا ہے، یہ تو جھوٹ بولتے ہیں، عین ممکن ہے اس وقت وہ بات جو کر رہے ہوں وہ سچی ہو۔ لیکن ہمیں تحقیق کرنی ہوتی ہے کیونکہ یہ جھوٹا ہے، لہذا ہمیں ان کی بات پر یقین نہیں ہے، جب تک کہ ہم دوسرے دلائل سے اس کو صحیح ثابت نہ کریں۔ تو اسی طریقے سے، مطلب یہ ہے کہ انسان، اگر یہ عادت بنا لے کہ بغیر بنیاد کے اور بغیر سند کے اگر کوئی بات کرنے لگے تو یہ بات غلط ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی کیمسٹ ہے۔ یعنی وہ دوائیاں بیچنے والا ہے۔ تو وہ جب تک ڈاکٹر ان کو نہ بتائے تو اس وقت وہ اپنی مرضی سے دوائی نہیں دے سکتا۔ بے شک وہ کسی وقت صحیح دوائی بھی دے دے، پھر بھی وہ غلطی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے اوپر اعتماد نہیں ہو سکتا۔ اب اگر کسی وقت اس نے صحیح دوائی بھی دی، تب بھی اس نے اصولی غلطی کی۔ اگر حکومت کو پتہ چل گیا اور حکومت کا صحیح قانون نافذ ہوا، تو اس کو پکڑا جائے گا، اس کو سزا ہو گی۔ کیونکہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے، وہ دوائی نہیں دے سکتا، وہ دوائی بیچ سکتا ہے۔ وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا میں ایک مشہور کیمسٹ ہیں، اس کی دکان پہ کھڑا تھا۔ تو کوئی آدمی آیا اس نے کہا جی مجھے کھانسی کی دوائی چاہیے۔ اس نے اس کو ایک سیرپ پکڑا دیا۔ اس نے پیسے دیے جانے لگا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ میں نے اسے کہا، میں نے کہا بھائی میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں۔ لیکن ڈاکٹروں سے سنا ہے کہ تین قسم کی کھانسیاں ہوتی ہیں، جن کا علاج ایک دوسرے کا ضد ہے۔ مثلا جو ایک کا علاج ہے وہ دوسرے کی بیماری ہے۔ تین قسم کی کھانسیاں ہیں۔ اب آپ کو کیا پتہ کہ اس کو کس قسم کی کھانسی ہے، آپ نے اس کو دیکھا ہے؟ اگر دیکھا نہیں ہے تو آپ کیسے اس کو دوائی دے سکتے ہیں؟ عین ممکن ہے اس کو expectorant کی ضرورت ہو، آپ suppressant دے دیں تو اس کو مزید بیمار کر لیں گے۔ عین ممکن ہے اس کو suppressant کی ضرورت ہو، آپ expectorant دے دیں تو اس کو مزید بیمار کر لیں گے۔ عین ممکن ہے اس کو cardiac cough ہو، اگر آپ ان دونوں میں سے کسی کو دے دیں تو اس کو مزید بیمار کر لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پہلے دیکھنا ہے اور دیکھنے کے بعد اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر نہیں ہیں تو آپ تو فیصلہ نہیں کر سکتے۔ وہ فوراً سمجھ گیا، اس نے اس سے سیرپ واپس لے لی، پیسے اس کو دے دیے، کہتا ہے جاو ڈاکٹر سے لکھوا کے لے آؤ۔ یہی طریقہ ہوتا ہے۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ کہ اگر کسی نے تفسیر قرآن، اپنی رائے سے کی، اگر اس نے صحیح بھی کی پھر بھی غلطی کی۔ اصولی طور پہ غلطی کی۔ یہ بڑی بات ہے۔ تو اسی طریقے سے ہم لوگ اصولوں کے پابند ہیں۔

تو اب یہ دیکھیں نا جو اولیاء اللہ ہیں۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ اب اولیاء اللہ کی بات ماننی ہے۔ اولیاء اللہ کی قدر کرنی ہے۔ اولیاء اللہ کا ادب کرنا ہے، اولیاء اللہ سے محبت کرنی ہے، یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ ساری باتیں اپنی جگہ درست۔ لیکن اولیاء اللہ کو اللہ تعالی کے کاموں میں شریک نہیں کرنا۔ اولیاء اللہ سے مانگنا نہیں ہے۔ مانگنا اللہ تعالی سے۔ کیونکہ، وہ تو اس صورت میں ہو جب دینے والا محتاج ہو کسی کا۔ کہ خود نہ دے سکتا ہو۔ تو پھر چلو ٹھیک ہے اس نے جو ذریعہ بنایا ہوگا تو اس کو۔ لیکن یہاں پر تو اللہ تعالی خود کہتا ہے یہ سورہ فاتحہ میں پڑھا، سکھا رہا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ یہ کون سکھا رہا ہے؟ یہ تو اللہ تعالی سکھا رہا ہے۔ جب اللہ تعالی سکھا رہا ہے تو ہم اللہ ہی سے بات کریں گے اور اللہ پاک ہی سے مانگیں گے۔

یہی طریقہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سکھایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کا طریقہ سکھایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کا طریقہ سکھایا ہے اور صحابہ کرام کو دعا کا طریقہ سکھاتے تھے۔ بہت ساری دعائیں سکھائی ہیں۔ تو وہ دعائیں اس طریقے سے کرنی چاہییں۔ تو اب یہ ہے کہ نبی اللہ سے ملاتا ہے نبی اپنی طرف دعوت نہیں دیتا۔ اور اللہ تعالی نبی کا ادب کرواتا ہے نبی کے طریقے پر چلواتا ہے نبی کی اتباع کرواتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ، لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ یہ اللہ پاک کی طرف سے۔ اس کا مطلب ہے اللہ پاک تو حضور کا ادب کروا رہا ہے حضور سے محبت کروا رہا ہے، حضور کے طریقے پر چلواتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل شانہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کا فرما رہے ہیں۔ شریک نہ ٹھہرانے کا فرما رہے ہیں کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرو۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے اسی لیے بھیجا ہے۔ اس طرح اولیاء اللہ جو ہیں، یہ بھی حضور کے طریقے پر چلتے ہیں۔ حضور کے طریقے پر ہی اولیاء بنتے ہیں۔ تو کیا جب ولی بن جائیں گے تو پھر حضور کے طریقے پر نہیں چلیں گے؟ پھر بھی تو حضور کے طریقے پر چلیں گے نا۔ تو حضور کا طریقہ کیا تھا؟ حضور کا طریقہ یہ تھا کہ اللہ پاک سے مانگو۔ اللہ پاک سے لو۔ اللہ کی طرف متوجہ ہو۔

اب آج کل یہ سلسلہ چل پڑا ہے کہ جذباتی طور پر اٹیچمنٹ کر لیتے ہیں مثلا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ سبحان اللہ بہت بڑے بزرگ ہیں۔ اللہ کے ولی ہیں۔ اور اولیاء اللہ کے سردار ہیں۔ لیکن ہیں تو انسان۔ ہیں تو بشر۔ تو اس وجہ سے اب ہم ان کو نعوذ باللہ من ذلک اللہ پاک کی صفات میں شریک نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی کرے گا تو یہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جرم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بھی جرم ہوگا۔ اور ظاہر ہے اللہ تعالی کے نزدیک بھی جرم ہوگا۔ اور اپنے آپ کو تباہ کرے گا۔ تو یہ اس قسم کی باتیں، یہ باتیں میں کیوں کر رہا ہوں کہ ابھی ربیع الاول گزرا ہے تو ربیع الاول میں اپنی طرف سے لوگوں نے کچھ عیدوں کا سلسلہ بنایا ہوا تھا۔ اب ایک اور عید بھی وجود میں آ رہی ہے۔ عیدِ غوثیہ اس کو کہتے ہیں۔ یعنی چونکہ ربیع الثانی میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا مطلب عرس ہوتا ہے۔ تو اب لوگوں نے اس قسم کی باتیں بھی شروع کر لی ہیں۔ اصل میں یہ بہت زیادتی اپنے ساتھ کر رہے ہیں۔ دین کے اندر اضافہ بالکل نہیں ہے۔

جس کو آپ دین سمجھ رہے ہیں اور جس میں آپ ثواب سمجھ رہے ہوں، اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ جس کو آپ دین سمجھ رہے ہیں اور جس میں آپ ثواب سمجھ رہے ہیں تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اگر اس کو آپ اس کو دنیا سمجھ رہے ہیں تو ایک لغو کام بیشک آپ کر لیں۔ وہ لغو، بطور لغو تو ہوگا۔ اس کی سزا تو ہو سکتی ہے لیکن وہ کم از کم بدعت نہیں ہوگا۔ بدعت اس صورت میں بن جاتا ہے جب آپ اس کو دین سمجھتے ہوں۔ جب آپ اس کو ثواب کی چیز سمجھتے ہوں۔ اب دیکھ لیں جو یہ حضرات ایسے کام کرتے ہیں تو کیسے، مطلب ظاہر ہے اگر کوئی اس سے روکے تو ان کے مخالف ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ اور جب ان سے بات کی جاتی ہے دین سے روکتے ہیں۔ تو دین سمجھتے ہیں یا نہیں سمجھتے؟ تو جب دین سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب پھر بدعت ہو گیا نا۔ اس وجہ سے ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ کبھی بھی اپنے آپ کو ایسی چیزوں میں نہیں لانا چاہیے۔

اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس وقت فتنوں کا دور ہے۔ بڑے بڑے فتنے وجود میں آ رہے ہیں۔ بڑے بڑے فتنے۔ عظیم الشان فتنہ جو چل رہا ہے وہ قادیانیت کا۔ اللہ تعالی قادیانیوں کو تہس نہس کر دے تباہ و برباد کر لے۔ ان لوگوں نے بہت بڑا فتنہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی اب ایسے علاقوں میں بعض علاقے ہیں ان میں قرآن پاک وہ تقسیم کر رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ پرانا قرآن ہمیں دو، نیا قرآن ہم سے لو۔ تو نیا قرآن انہوں نے خود چھپوایا ہے اس کے اندر انہوں نے مسائل پیدا کیے ہیں۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ غریب لوگ جو ہیں ان کے پاس چلے جائیں گے، ان کی مدد کریں گے اور دوائیاں ان کو پہنچائیں گے ان کو خوراک پہنچائیں گے۔ پھر اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد جائیں گے کہ اگر آپ چاہیں کہ مزید آپ کو ملتا رہے اس طرح تو آپ یہ فارم پہ دستخط کریں۔ تو فارم پہ دستخط کا مطلب یہ ہے کہ قادیانی ہو جائیں۔ یہ ان غریب علاقوں میں اس قسم کا کام کر رہے ہیں۔ تو اب یہ بہت بڑا فتنہ ہے اور غربت یہ واقعی مجبور کر دیتی ہے انسان کو۔ لیکن یہ ہماری حکومتوں کو چاہیے ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ ایسی چیزوں کو روکیں لیکن ہم لوگوں کو بھی خود ہوش سے کام لینا چاہیے اور ایسے لوگوں کا سدِباب کرنا چاہیے۔

اس طرح جو مسلمانوں کے اوپر حملے تابڑ توڑ ہو رہے ہیں مختلف صورتوں میں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاکے بنائے جا رہے ہیں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف یعنی وہ باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ اصل میں مسلمانوں کی غیرت کو گویا کہ ناپنے کے طریقے ہیں ان کے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں کتنی حرارت باقی ہے۔ تاکہ اس کے حساب سے ان کے لیے پلاننگ کی جائے۔ وہ اس قسم کے وقتا فوقتا یہ کام کرتے ہیں۔ تو بس اس کا ہمارے پاس تو یہی بات ہے کہ ہم لوگ جب میدان جنگ ہوتا ہے تو اس میں نارمل قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔ جس وقت جنگ کی حالت ہو جاتی ہے پھر اس وقت نارمل قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔ اور نارمل قوانین یہ ہے کہ ہم فرانس سے بھی چیزیں لے سکتے تھے انگلینڈ سے بھی چیزیں لے سکتے تھے امریکہ سے بھی لے سکتے تھے اپنی ضرورت کی چیزیں سب سے لے سکتے ہیں یہ نارمل قوانین ہیں۔ لیکن جس وقت یہ ہمارے مذہب پر حملے شروع کر دیں پھر نارمل قوانین نہیں رہتے۔ پھر اس کے بعد غیرت کا تقاضا بھی ہے اور اور جس کو کہتے ہیں نا جنگ کا تقاضا بھی ہے کہ جنگ میں پھر ظاہر ہے جو دشمن کا اسلحہ ہوتا ہے اس کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ اور دشمن کا اسلحہ اس وقت معیشت ہے جیسے میں نے آپ کو بتایا قادیانی وہ پیسے تقسیم کر رہے ہیں۔ تو گویا کہ ان کے پاس جو دولت ہے وہ ان کا اسلحہ ہے۔ تو ان کی دولت کو ختم کرنے کی ضرورت ہوگی ان کی معیشت کو وہ زک پہنچانے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اسی سے ان کو احساس بھی ہوتا ہے کہ ہم نے غلط کام کیا۔ تو ان کا معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اور جو چیزیں ان لوگوں نے بنائی ہیں ان کو نہیں لینا چاہیے کسی اور جگہ کی لینی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ ظاہر ہے مطلب اللہ کی دنیا بہت وسیع ہے۔ تو کسی اور جگہ سے اپنی ضرورت پوری کرنی چاہیے ورنہ اپنی ضروریات کو کمی کر کے اس طرح کر کے ہم لوگ ذرا تھوڑا سا وہ کم پر گزارا کر کے ایسے لوگوں کو زک پہنچائیں۔ ورنہ پھر یہ بات ہے کہ یہ مزید شیر ہوتے جائیں گے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ کام کرنا چاہیے کہ ایک تو ان کا معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان کے طور طریقوں کو چھوڑنا چاہیے۔ ظاہر ہے ان کے طور طریقوں میں جو نحوست ہے وہ ہمارے اندر بھی آئے گی۔ تو ان کے طور طریقوں کو چھوڑنا چاہیے ان سے محبت والا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔ وجہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ پاک نے مطلب یہ قرآن پاک میں فرمایا کہ وَلَنْ ترضى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النصارى حتى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ اِنَّ هدى اللَّهِ هُوَ الهدى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ۔ یعنی تم راضی نہیں کر سکتے یہود و نصاری کو اس وقت تک جب تک کہ تم ان کی طرح بالکل نہ ہو جاؤ۔ ان کی اتباع نہ کرو۔ ان کی ملتوں کا اتباع نہ کرو۔ اور اگر تم لوگوں نے ہدایت کے بعد ایسا کیا تو پھر اللہ پاک سے بچانے والا تمہارے لیے کوئی نہیں ہوگا۔ تو اس وجہ سے یہ ہے ہم لوگوں کو یعنی ایسے لوگوں کا معاشی بائیکاٹ بھی کرنا چاہیے۔ اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہمیں دین کو سیکھنا چاہیے فرض عین درجے کا علم کم از کم ہمیں سیکھنا چاہیے۔ اور اپنی روحانی تربیت کے لیے جن مشائخ کے ساتھ تعلق ہو ان کے طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔

اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ یعنی اللہ پاک سے مانگنا چاہیے کہ اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے۔ یعنی رَبِّ اِنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ یہ دعا کرنا چاہیے۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ اَصْلِحْ لَنَا شَانَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا الى اَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ اس طرح رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ۔ اَللَّهُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔ اس قسم کی دعائیں کرنی چاہیے۔ تاکہ اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائے اور ہم لوگوں کو ان کی طرح نہ ہونے دے۔ اور اللہ پاک ان کی نحوست سے ہمیں بچائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ على الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔