جمعۃ المبارک کی عصر کے بعد 80 سال کے گناہوں کی معافی کا خاص عمل

فضائل درود شریف، چہل درود و سلام، مناجاتِ مقبول اور دعا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • جمعہ کے دن عصر کے بعد درود شریف پڑھنے کی فضیلت اور 80 سال کے گناہوں کی معافی۔
    • درود شریف کے الفاظ اور پڑھنے کا طریقہ (عام طریقہ اور انگلیوں پر گننے کا طریقہ)۔
      • محدثین کے نزدیک ضعیف روایات کا فضائل میں معتبر ہونا۔
        • ذکر کی عادت بنانا اور ربیع الاول کے مہینے کی مناسبت سے درود کی کثرت۔
          • چہل درود شریف (40 درود) کی تلاوت اور جامع دعا۔

            الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

            وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَاةُ عَلَيَّ نُورٌ عَلَى الصِّرَاطِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثَمَانِينَ مَرَّةً غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُ ثَمَانِينَ عَامًا».

            حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث شریف مروی ہے کہ مجھ پر درود پڑھنا پلِ صراط پر گزرنے کے وقت نور ہے، اور جو شخص جمعہ کے دن 80 دفعہ مجھ پر درود بھیجے اس کے 80 سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ذَكَرَهُ السَّخَاوِيُّ مِنْ عِدَّةِ رِوَايَاتٍ ضَعِيفَةٍ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ. علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”القول البدیع“ میں اس حدیث کو متعدد روایات سے جن پر ضعف کا حکم بھی لگا ہے، نقل کیا اور صاحبِ ”اتحاف“ نے ”شرحِ احیاء“ میں اس حدیث کو مختلف طرق سے نقل کیا ہے۔ اور محدثین کا قاعدہ ہے کہ ضعیف روایت بالخصوص جب کہ وہ متعدد طرق سے نقل کی جائے، فضائل میں معتبر ہوتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے ”جامع صغیر“ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث پر ”حسن“ کی علامت لگائی گئی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرحِ شفا“ میں ”جامع صغیر“ کے حوالے سے بروایت طبرانی و دارقطنی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی نقل کی جاتی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہی نقل کی گئی ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھے: اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهِ وَسَلِّمْ تَسْلِيمًا اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے اور 80 سال کے عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا۔ دارقطنی کی ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر 80 مرتبہ درود شریف پڑھے اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! درود کس طرح پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ

            اور یہ پڑھ کر ایک انگلی بند کر لے، انگلی بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انگلیوں پر شمار کیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انگلیوں پر گننے کی ترغیب وارد ہوئی ہے اور ارشاد ہوا کہ انگلیوں پر گنا کرو اس لیے کہ قیامت کے دن ان کو گویائی دی جائے گی، ان سے پوچھا جائے گا۔ جیسا کہ فضائلِ ذکر کے ”فصلِ دوم“ کی حدیث نمبر 18 میں یہ مضمون تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ہم لوگ اپنے ہاتھوں سے سینکڑوں گناہ کرتے ہیں جب قیامت کے دن پیشی کے وقت ہاتھ اور انگلیاں ہزاروں گناہ گنوائیں گی، جو ان سے کی گئی یا ان سے گنی گئی ہیں۔ دارقطنی نے اس روایت کو حافظ عراقی نے ”حسن“ بتلایا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن 100 مرتبہ درود پڑھے، اس کے ساتھ قیامت کے دن ایسی روشنی آئے گی کہ اگر وہ ساری مخلوق پر تقسیم کر دی جائے تو سب کے لیے کافی ہو جائے۔ حضرت سہل بن عبداللہ سے نقل ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد: اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهِ وَسَلِّمْ 80 دفعہ پڑھے اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دوسری جگہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے اور قبول ہو جائے تو اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”زاد السعید“ میں بحوالہ ”درِ مختار“ اصبہانی سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں طویل بحث کی ہے کہ درود شریف میں مقبول غیر مقبول ہوتے ہیں یا نہیں۔ شیخ ابو سلیمان دارانی نے نقل کیا ہے کہ ساری عبادات میں مقبول و مردود ہونے کا احتمال ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف مقبول ہی ہوتا ہے اور وہ باوصف اس حدیث کے نقل کیا ہے۔

            یہاں پر ایک بات میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ جمعہ کے دن کی یہ روایت جو ہے نا وہ 80 سال والی، یہ یہاں پر مختلف طرق سے آیا ہوا ہے۔ تو ہم لوگ الحمدللہ اہتمام کرتے ہیں کہ عصر کی نماز کے بعد اٹھنے سے پہلے یہ 80 مرتبہ درود شریف پڑھتے ہیں، جیسے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کا بھی معمول تھا۔ لیکن اگر کسی کو رہ جائے، مطلب کوئی سفر میں ہو یا کوئی کسی وجہ سے رہ جائے، تو ایک اور حدیث شریف کا یہاں پر بتایا گیا جس میں عصر کی نماز کا قید نہیں ہے۔ جگہ سے اٹھنے کا قید نہیں ہے، بس جمعہ کے دن جس وقت بھی پڑھ لے۔ تو وہ بھی ذرا اگر یاد رکھیں تو میرے خیال میں اس دن وہی پڑھ لیں۔ ہاں جی وہ کیا ہے: اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ ہاں جی؟ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ... اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ تو یہ جو ہے نا مطلب اس کو انگلیوں پر گنیں، پھر مطلب یہ ہے کہ اس طرح... اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ... تو ایک انگلی بند کر لیں، پھر دوسری اس طرح۔ تو ظاہر ہے مطلب اس پر عمل ہو جائے گا۔ تو انشاءاللہ 80 مرتبہ پڑھنے سے 80 سال کے گناہ معاف ہونے کی نوید مل جائے گی انشاءاللہ۔

            تو یہ اصل میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ بہانہ دیکھتے ہیں، مطلب کوئی لگا... کوئی کام ایسا ہو جاتا ہے جس سے اللہ پاک معاف فرماتے ہیں۔ تو ہمیں ہر وقت کوشش کرنی چاہیے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بات فرمائی ہے کہ جو تدبیر پر یقین کرنے والے ہیں وہ موٹی تدبیر تو کرتے ہیں لیکن چھوٹی تدبیر نہیں کرتے کیونکہ ان کو تدبیر پر یقین ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں چھوٹی تدبیر سے کیا ہوگا؟ اس سے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ لیکن جو تقدیر پر یقین کرنے والے ہیں وہ چھوٹی تدبیر بھی کرتے ہیں بڑی تدبیر بھی کرتے ہیں، کیوں کہ ان کا اس پر یقین نہیں ہوتا، وہ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اگر لکھا ہے تو کسی چھوٹی سی کام سے بھی کروا سکتے ہیں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کا جو خیر کا سبب ہو اس کو اختیار کرنا چاہیے، اسی میں ہماری خوبی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ، زیادہ سے زیادہ برکات درود شریف کی نصیب فرمائے۔ اور بالخصوص یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے، اس میں تو درود شریف کے ساتھ تعلق... مطلب ظاہر ہے کہ بنانا چاہیے۔ اس طرح بنانا چاہیے کہ ربیع الاول کے بغیر بھی وہ جاری رہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو Inertia break ہوا ہے وہ اس کو... جیسے خانقاہ میں کوئی آتا ہے، خانقاہ میں کوئی آتا ہے تو ہم ان کو یہ بتاتے ہیں کہ بھئی خانقاہ میں ہم لوگ آپ کو زیادہ ذکر اس لیے بتاتے ہیں تاکہ آپ کو عادت ہو جائے۔ اور جب عادت ہو جائے تو پھر چلتے پھرتے بھی آپ ذکر کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے ذکر پھر ایک مشکل چیز نہیں رہے گی بلکہ آپ کے لیے آسان رہے گا۔ وہ یہاں پر ایک تبلیغی جماعت میں چلنے والے تھے، تو اس کا جب وقت پورا ہو گیا تو یہاں تشریف لائے تھے، ایک سہ روزہ ہمارے ہاں لگا ہوا تھا۔ تو اس کے بعد میں نے ان کو یہی طریقہ بتایا تھا کہ یہ ذکر کرنے کا کہ جس سے عادت ہو جائے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان کو ایسی عادت ہو گئی کہ وہ بعد میں مجھے Telephone کیا کہ وہ سلسلہ میرا ابھی تک چل رہا ہے میں اسی پہ ہی ہوں... مطلب جو ہے نا وہ ذکر اس طرح کر رہا ہوں۔ تو یہ کوئی مشکل نہیں ہوتا، بس یہ Counter اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے، تو فارغ وقت تو ہوتا ہی ہے، بہت سارے لوگوں کے پاس... مطلب یہ ہے کہ یہ تو نہیں ہوتا کہ ہر وقت ہی Busy ہوتے ہیں۔ تو وہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ پڑھتے رہتے ہیں، درود شریف پڑھتے رہتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے یہ گویا کہ ربیع الاول کے مہینے میں درود شریف پڑھنے کا... کی عادت بنانی چاہیے، تاکہ عادت بن جائے تو پھر یہ چلتا رہے گا انشاءاللہ۔ کیونکہ درود شریف ایسی بات ہے کہ تو ہر وقت پڑھنا چاہیے۔ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

            تو جمعہ کے دن ہمارا یہ بھی ترتیب ہے کہ الحمدللہ 40 حدیث شریف ہم پڑھتے ہیں۔ 40 حدیث شریف جو ہے نا مطلب یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”زاد السعید“ کے نام سے لکھی ہوئی تھی اور حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو من و عن اپنے رسالے... اپنی کتاب ”فضائل درود شریف“ میں نقل فرمایا۔ اور ماشاءاللہ اب ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ ہے کہ اس کو باقاعدہ روزانہ پڑھتے ہیں۔ الحمدللہ ہم بھی روزانہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں الحمدللہ، اور جمعہ کے دن اس وقت پڑھتے ہیں، چونکہ گھڑی... مقبول گھڑیاں ہوتی ہیں، تو اس میں پہلے درود شریف پڑھتے ہیں 40 حدیث شریف، پھر اس کے بعد دعائیں کرتے ہیں۔


            جمعۃ المبارک کی عصر کے بعد 80 سال کے گناہوں کی معافی کا خاص عمل - جمعہ آخری وقت کی دعا