الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات کو ہمارے ہاں سیرت النبی کی تعلیم ہوتی ہے۔ سیرت النبی جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمائی ہے اور مولانا شبلی نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔
عبادات کا باب اس میں چل رہا ہے، اور عبادات میں جو دوسری اہم عبادت ہے، مالی عبادت، زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔ اس میں زکوٰۃ کی مدت کی تعیین کے بارے میں جو بات شروع ہو رہی تھی تو ان شاء اللہ آج اس سے شروع کرتے ہیں۔
زکوٰۃ کی مدت کی تعیین:
اسلام سے پہلے زکوٰۃ کی مدت کی تعیین میں بڑی افراط و تفریط تھی، تورات میں جو عشر یعنی دسواں حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ تین سال میں ایک دفعہ واجب ہوتا تھا۔ (استثنا 14 - 28) اور انجیل میں کسی مدت اور زمانہ کی تعیین ہی نہ تھی۔ اس بنا پر زکوٰۃ کی تنظیم کے سلسلہ میں سب سے پہلی چیز اس کی مدت کا تعین تھا کہ وہ نہ تو اس قدر قریب اور مختصر زمانہ میں واجب الادا ہو کہ انسان بار بار کے دینے سے اکتا جائے اور بجائے خوشی اور دلی رغبت کے اس کو ناگوار اور جبر معلوم ہو اور نہ اس قدر لمبی مدت ہو کہ غریبوں مسکینوں اور قابل امداد لوگوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے طویل انتظار کی سخت تکلیف اٹھانی پڑے۔ اسلام نے اس معاملہ میں دنیا کے دوسرے مالی کاروبار کو دیکھ کر ایک سال کی مدت مقرر کی کیوں کہ تمام متمدن دنیا نے خوب سوچ سمجھ کر اپنے کاروبار کے لئے 12 مہینوں کا سال مقرر کیا ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ چاروں موسم اس سال میں گزر جاتے ہیں۔ چاروں موسم اس سال میں گزر جاتے ہیں۔ تو گویا کہ ہر قسم کی تبدیلی گزر جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے یہ گویا کہ ایک پیمانہ ہے۔
جس کی وجہ یہ ہے کہ آمدنی کا اصلی سرچشمہ زمین کی پیداوار ہے اور اس کے بعد اس پیداوار کی خود یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کی صنعتی صورت کا بنانا اور ان کا بیوپار کرنا ہے آمدنی کے ان تمام ذریعہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ سال کے مختلف موسم اور فصلیں جاڑا، گرمی، برسات، ربیع اور خریف گذر جائیں تا کہ پورے سال کے آمد و خرچ اور نفع و نقصان کی میزان لگ سکے اور زمیندار کاشتکار تاجر نوکر صناع ہر ایک اپنی آمدنی و سرمایہ کا حساب کتاب کر کے اپنی مالی حالت کا اندازہ لگا سکے۔ بڑے جانوروں کی پیدائش اور نسل کی افزائش میں بھی اوسطاً ایک سال لگتا ہے۔ ان تمام وجوہات سے ہر منظم جماعت ہر حکومت اور ہر قومی نظام نے محصول اور ٹیکس وصول کرنے کی مدت ایک سال مقرر کی ہے۔ شریعت محمدی نے بھی اس بارہ میں اسی طبعی اصول کا اتباع کیا ہے اور ایک سال کی مدت کی آمدنی پر ایک دفعہ اس نے زکوٰۃ کی رقم عائد کی ہے۔ چنانچہ اس کا کھلا ہوا ارشاد سورہ توبہ میں موجود ہے جس میں زکوٰۃ کے تمام احکام بیان ہوئے ہیں۔ زکوٰۃ کے بیان کے بعد ہی ہے۔﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ (سورۃ التوبہ، آیت: 36)مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔
جیسے میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ واقعی ایک شہرہ آفاق تصنیف ہے، یہ مطلب سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت النبی۔ کہ اس میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو انتہائی مدلل، منظم اور مدون صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ یعنی زکوٰۃ پر ہم نے ابھی تک بہت کچھ پڑھا ہے، مطلب ظاہر ہے کہ الحمد للہ پڑھتے آ رہے ہیں۔ لیکن یہ باتیں جو آج ہم سن رہے ہیں، کبھی پہلے سنی ہیں ہم نے؟ یہ باتیں ہم نے کبھی نہیں سنی تھیں۔ یعنی یہ ایک ایسا طریقہ ہے، آج کل کے لوگوں میں پیدا کرنا ضروری ہے اس کا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دور گزر گیا جب لوگ اعتماد پر بات کرتے تھے۔ مثلاً مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم الاسلام میں کوئی حوالہ نہیں ہے۔ کہ انہوں نے کہاں سے لیا ہوا ہے، لیکن ان پر اتنا اعتماد تھا لوگوں کا کہ وہ بغیر حوالے کے وہ ساری چیزیں مانتے جاتے تھے۔ اس طرح فقہ حنفی میں، یعنی قرآن اور حدیث کا حوالہ دینا وہ کم رواج رہا اسی وجہ سے، کہ اعتماد رہا تھا۔ لیکن اب وہی ہمارے اکابر علماء جو پہلے ان چیزوں کی اتنی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے، اب کرتے ہیں۔ اور اب باقاعدہ حوالے سے بات کرتے ہیں، اور سند بتاتے ہیں، جو آج کل کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے ایک پہاڑ ہمارے سامنے کھڑا کیا ہے، social media کے ذریعے سے۔ جس کو کہتے ہیں نا وہ burst of information؟ کہ وہ بالکل ایسے ایک مطلب جس کو کہتے ہیں نا بوچھاڑ ہے information کی۔ اب اس میں غلط بھی ہوتے ہیں، صحیح بھی ہوتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ خطرناک جھوٹ وہ ہوتا ہے جس میں کچھ سچ بھی شامل ہو۔ تو اب اس سچ کو واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اس سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کر دیں۔ تو پھر آپ کی بات مانی جائے گی۔ اور سچ کو جھوٹ سے واضح کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دلیل کے لیے سند کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اب یہ ساری چیزیں ایک انتہائی منظم انداز میں ہونی چاہییں۔
اب یہ اللہ جل شانہٗ کا ایک نظام ہے، تربیت کا، کہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس پر لوگوں کو لگا لیتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر کافی لکھا ہوا ہے، مطلب حکمت کی باتوں کے عنوان سے۔ تو یہ جو حضرت سید سلیمان ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے للہ پاک نے کام جو لیا ہے، یہ بہت بڑا کام ہے کہ اس میں باقاعدہ ہر چیز کے بارے میں source بتایا جا رہا ہے، اور کہ پہلے زمانے میں کیا ہوتا رہا اور اب کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ مطلب یہ بالکل تفصیل مطلب یہ بتائی گئی ہے۔
تو میں اس کا لب لباب بتاتا ہوں۔ کہ زکوٰۃ کی مدت کی تعیین میں گزشتہ امتوں میں افراط و تفریط والی بات تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جو تعلیمات تھیں، محفوظ بھی نہیں تھیں۔ لہٰذا سند کا بھی حوالہ دینا بڑا مشکل تھا کیونکہ جس کتاب کی سند دی جا رہی ہے، کیا وہ محفوظ ہے؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہمیں گمان ہے جیسے اسرائیلی واقعات ہیں۔ جس کے بارے میں ہمارے فقہاء کا قانون ہے: لَا نُصَدِّقُ وَلَا نُكَذِّبُ۔ ہم نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں کچھ پتا نہیں ہے کہ اس میں کون سا واقعہ سچا ہے اور کون سا واقعہ سچا نہیں۔ ہمیں نہیں پتا۔ لہٰذا اس میں ایک تو یہ بات ہے کہ محفوظ نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ وقتی تھیں۔ اس پیغمبر کے یا اس کے ساتھ جو دوسرے پیغمبر تشریف لائے تھے اس کو سمجھانے کے لیے، ان تک تھیں۔ دوسری بات۔
اور وہ محدود تھیں، علاقائی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس علاقے میں جو پیغمبر آیا، اسی علاقے کے لیے وہ دین بن گیا۔ تو اصل میں گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ انسانیت کی development ہو رہی تھی۔ جیسے مختلف جگہوں پہ modules میں کام ہو رہے ہوتے ہیں مختلف۔ تو ان modules میں کام جب ہو رہے ہوتے ہیں تو کوئی پھر آتا ہے پھر ان سب کو جوڑ دیتا ہے۔ تو ایک ماشاءاللہ ایک established نظام بن جاتا ہے۔ تو اس طریقے سے مختلف پیغمبروں کے ذریعے سے اللہ جل شانہٗ نے مختلف کاموں کو رواج دیا۔ چل پڑے۔ کچھ ختم ہوئے، کچھ چل پڑے۔ کچھ رہے، کچھ باقی۔
تو آپ ﷺ جب تشریف لائے تو آپ ﷺ کے سامنے ساری دنیا تھی۔ صرف ایک علاقہ نہیں تھا۔ ایک بات۔
قیامت تک کا وقت تھا۔ دوسری بات۔
تیسری بات، حفاظت کا ایک بہت بڑا نظام اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ قرآن۔
ایسی کتاب جس کی اللہ پاک نے خود ذمہ داری لی کہ اس میں کوئی گڑبڑ نہیں کر سکتا۔ اور احادیث شریفہ کا ایسا زبردست نظام رجال کے ذریعے سے کہ آج بھی بالکل دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کیا جا سکتا ہے۔ یہ کسی گزشتہ امتوں میں کسی کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں۔ لہٰذا ان سے یہ توقع کی ہی نہیں جا سکتی تھی کہ وہ اس قسم کے کام کر لیں گے۔
تو حضرت نے فرمایا کہ ان کے ہاں یہ بات تھی کہ کوئی اس کے لیے تعیین نہیں تھی۔ اور مطلب یہ ہے کہ تین سال کی مدت تھی یہودیوں میں، اور عیسائیوں میں کوئی مدت ہی نہیں تھی۔ تو اس وجہ سے اسلام جب آیا تو اسلام نے ایک بالکل ایک قدرتی نظام جو سال کا ہوتا ہے۔ اور سال کیوں ہے؟ کہ اس میں تمام موسم گزر جاتے ہیں۔ پورے سال میں تمام قسم کے موسم گزر جاتے ہیں۔ اور چونکہ عموماً جو مال کا تعلق ہے وہ زمین کے ساتھ ہوتا ہے، زمین کی پیداوار کے ساتھ ہوتا ہے، زمین کی پیداوار سے جو متعلق چیزیں ہوتی ہیں ان پر ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ زمین کے اوپر جو موسموں کی تبدیلی ہے اس میں سارا کچھ آ جاتا ہے۔ یہ جو بارہ مہینے ہیں، یہ ایک باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔ مطلب إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ... یہ چلے آ رہے ہیں۔
اس میں اگر دیکھا جائے تو قمری مہینے مطلب تھے۔ قمری مہینے تھے۔ مطلب 12 قمری مہینے۔ وہ تقریباً ایک موسم بن جاتا ہے تھوڑے سے فرق کے ساتھ۔ جس فرق کا باقاعدہ قرآن ہی میں اشارہ دیا گیا ہے۔ اور وہ اشارہ کیا ہے؟ سورہ کہف کے اندر:وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًاعلی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا گیا کہ یہ "وَازْدَادُوا تِسْعًا" کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا کہ 309 سال قمری بنتے ہیں اور 300 سال شمسی بنتے ہیں۔ اب بھی حساب کر لیں یہی بنتا ہے۔ 309 سال قمری، 300 سال شمسی بنتے ہیں۔ تو یہ مطلب ہے کہ تقریباً گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ 12 قمری مہینے، یہ تقریباً... تو جو شمسی سال ہے، مطلب اس میں گویا کہ تقریباً اتنی مدت جس میں پورے موسم گزر جائیں، سورج جہاں سے چلا تھا وہیں پر پہنچ جائے۔ خطِ استوا سے خطِ استوا پہ دوبارہ پہنچ جائے۔ تو اس میں ٹھیک 12 شمسی مہینے لگتے ہیں۔ 365.24 کے لگ بھگ دن ہوتے ہیں۔ اس میں اتنے دن لگ جاتے ہیں۔
تو یہ ہمارا شمسی سال ہوتا ہے، موسمی سال ہوتا ہے۔ شمسی سال میں موسموں کا advantage ہے۔ Time calculable۔ اس کا حساب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مشاہدہ مشکل ہے۔ جبکہ قمری سال میں قمری مہینوں کا مشاہدہ آسان ہے، حساب مشکل ہے۔ تو چونکہ عوام کے لیے مشاہدہ آسان تھا، تو لہٰذا عبادات جن کا سب کے ساتھ تعلق ہے۔ اس کا تعلق ان کے ساتھ لگا دیا، قمری مہینوں کے ساتھ لگا دیا۔ یہ قمری مہینوں کو بنیاد بنا دیا گیا ہماری عبادات کا۔ لیکن نمازوں کے اوقات شمسی طریقے سے ہیں۔ نمازوں کے جو اوقات ہیں، کیونکہ حساب قمری سالوں کا نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر آپ کہ دیں کہ 12 محرم کو یہ اوقات ہوں گے نہیں ہوں گے! اگلے سال تبدیل ہوں گے، پھر اگلے سال اور تبدیل ہوں گے، اگلے سال اور تبدیل ہوں گے۔ لیکن اگر آپ کہہ دیں 12 جنوری کو یہ ہیں، تو 12 جنوری کو ہمیشہ تقریباً اتنے ہی بنیں گے۔ تو گویا کہ نمازوں کے اوقات کے لیے وہ شمسی سال۔
اس وجہ سے، الحمدللہ، ثم الحمدللہ، ثم الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے کام ہم سے لے لیا کہ اس چیز کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اور جو یہ موجودہ شمسی سال ہے، جو ہمارے ہاں رائج ہے، یہ مشرکانہ شمسی سال ہے۔ یہ عیسوی نہیں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ عیسائیوں نے لیا ہے رومن empire سے لیا ہوا ہے، وہ جو رومن وہ جو لوگ پہلے تھے مشرک لوگ، وہ ان سے لیا ہوا ہے۔ تو انہوں نے جو جنوری، فروری، مارچ، یہ سب ان دیوتاؤں کے نام ہیں۔ البتہ ان میں جولیس (جولائی) یہ بادشاہ ہے اور اگستس، یہ بادشاہ کے نام ہیں۔ تو یہ ان کے لیے بازیچۂ اطفال بنا تھا۔ انہوں نے اپنے اپنے حساب سے کیا ہوا تھا۔ تو یہ ایک انتہائی غیر منظم قسم کا سال ہے۔ logically اس کے اندر بڑے flaws ہیں۔ تو اس وجہ سے پھر ہم نے الحمدللہ، الحمدللہ، ثم الحمدللہ، ایک نیا شمسی سال باقاعدہ الحمدللہ 12 مہینوں کا وہ کیا، بنا لیا۔ جس میں 6 مہینے ابتدائی جو ہوتے ہیں، یہ 30 دن کے ہوتے ہیں۔ اور اگلے 5 مہینے 31 دن کے ہوتے ہیں۔ اور آخری جو بارہواں مہینہ ہے، وہ leap سالوں میں 31 کا ہوتا ہے اور بغیر leap سال کے 30 دن کا ہوتا ہے۔
اور اس کا فائدہ اتنا بڑا ہوا کہ ہم نے الحمدللہ نمازوں کے اوقات کا حساب اس سال سے بھی کیا، اس سال کے حساب سے بھی کیا۔ تو جو اس کو کہتے ہیں نا error جو آتا ہے۔ وہ اس دوسرے سال میں بہت کم آتا ہے، جو ہمارا مجوزہ سال ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا leap month درمیان میں آتا ہے۔ فروری ہے نا؟ یا 28 ہوتا ہے یا 29 ہوتا ہے۔ تو اگر 28 کے بجائے 29 کر لیں تو 10 مہینے آپ نے شفٹ کر لیے۔ تو وقتوں میں فرق پڑے گا یا نہیں پڑے گا؟ سارے مہینوں میں فرق پڑ جائے گا نا، 10 مہینوں میں فرق پڑ جائے گا۔ جبکہ ہمارے سال میں بالکل درمیان میں ہے۔ سال ختم ہو گیا، تو مطلب جب سال ختم ہو گیا تو اس کا کسی بھی، اس سال پہ بھی فرق نہیں پڑا، اس سال پہ بھی فرق نہیں پڑا، صرف وہ correction ہو گئی۔
ٹھیک ہے نا؟ تو اس میں بہت کم فرق پڑتا ہے الحمدللہ، اس کی وجہ سے error اس کا بہت کم آتا ہے۔ پھر اس میں ہم نے جو ابتدا لی ہے، ابتدا لی ہے۔ یہ ابتدا اس سال کی بھی یہی تھی۔ آپ حضرات جانتے ہیں، دیکھیں نا، نومبر یہ لاطینی زبان ہے نا، تو اس میں نومبر کا مطلب نواں مہینہ، دسمبر کا مطلب دسواں مہینہ، اکتوبر کا مطلب آٹھواں مہینہ، ستمبر کا مطلب ساتواں مہینہ۔ کیا خیال ہے؟ ستمبر ساتواں مہینہ ہوتا ہے؟ کیوں اس کا نام ستمبر ہے؟ اس کا نام ستمبر اس لیے ہے کہ پہلے یہ مارچ سے سن شروع ہو رہا تھا۔ یہ بعد میں ان لوگوں نے اس کو جنوری سے کر لیا۔ مارچ سے شروع ہو رہا تھا۔ اگر مارچ سے شروع کر لیں تو ستمبر ساتواں مہینہ بنتا ہے۔ ٹھیک ہے نا، دسمبر دسواں مہینہ بنتا ہے۔ تو یہ گویا کہ مطلب یوں سمجھ لیں اگر 23 مارچ سے لے لو تو یہ خط استوا سے شروع ہو گیا نا؟ کیونکہ 23 مارچ کو اور 21 ستمبر کو سورج خط استوا پہ ہوتا ہے۔ تو آپ یا ستمبر سے شروع کر لیں یا مارچ سے شروع کر لیں۔
تو ہم نے اس کو ستمبر سے شروع کیا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں، وہ ستمبر کے موسم کے ساتھ ملتی ہیں۔ ستمبر کے موسم کے ساتھ ملتی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی یہی تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اس سال کو اپنائیں، شمسی سال جو ہم نے تجویز کیا ہوا ہے، تو اس میں ایک تو آسانی ہے، کیونکہ اس میں مطلب آپ کو یاد رکھنے کی بہت مشکل ہے کہ 31 کا ہے، 30 کا ہے۔ مطلب پہلے، پہلے 30 کے ہیں پھر بعد میں 5، 31 کے ہیں پھر آخری ایک 30 کا ہو گا یا 31 کا ہو گا، تو بہت آسان ترتیب ہے نمبر ایک۔
دوسری بات؛ یہ ہے کہ leap سال کی گڑبڑ بہت کم effect ڈالتی ہے۔
تیسرا؛ شروع خط استوا کے مطلب اس سے ہوتا ہے تو اس کا بھی calculation پہ فرق پڑتا ہے۔ مطلب جس کو intercept کہتے ہیں نا، intercept پہ فرق پڑ جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سارے اس کے اندر فائدے ہیں۔ تو یہ تجویز ہم نے الحمدللہ کی، مفتی مختار الدین شاہ صاحب اتنے زیادہ اتنے زیادہ خوش ہوئے کہ مجھے حکم دیا کہ آپ اس کو چھاپیں، میں اس کو پھیلاوں۔ بہت خوش ہوئے اس پر۔ کہتے ہیں یہ، اللہ کرے کوئی مسلمان ملک ایسا، بہادر ملک پیدا ہو جائے جو اس کو شروع کرائے۔ کیونکہ موجودہ ہمارے جو لوگ ہیں، وہ تو آپ کو پتا ہے وہ تو اس کام کرنے سے رہے ہیں۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا پراجیکٹ ہے، الحمدللہ۔ اس کے لیے ہم نے کمپیوٹر پروگرام بھی بنائے ہوئے ہیں calculate کرنے کے لیے، تمام چیزیں اس کی ہو چکی ہیں۔ اور یہ ہماری کتاب میں شامل ہے۔ یہ نصاب میں جو کتاب شامل تھی۔ اور فلکیات والا، اس کے اندر یہ موجود ہے۔ تفصیلات اس کے اندر موجود ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان شاء اللہ کسی وقت بھی اگر موقع مل گیا، یا او آئی سی (OIC) والوں کو غیرت آ گئی۔ اور انہوں نے کچھ اپنے وسائل پہ اپنے... اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو گئے تو کر سکیں گے پھر ان شاء اللہ۔ تو یہ بہت اہم چیز ہے۔ تو خیر بہرحال یہ تو پتا نہیں کہاں سے کہاں میں، کہاں نکل گیا، یہ باتیں تو اس میں نہیں تھیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ بھی اس ضمن میں آ گئی۔
تو خوب سوچ سمجھ کر اپنے کاروبار کے لئے 12 مہینوں کا سال مقرر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آمدنی کا اصلی سرچشمہ زمین کی پیداوار ہے اور اس کے بعد اس پیداوار کی خود یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کی صنعتی صورت کا بنانا اور ان کا بیوپار کرنا ہے
تو یہ ماشاءاللہ اس اسلام نے اس کو اسی بنیاد پر... کیونکہ قرآن میں ہے:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾دیکھو، پیدائش سے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی وقت سے مقرر کر لیا جب سے یہ زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں۔
زکوٰۃ کی مقدار:
تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں زکوٰۃ کی مقدار پیداوار کا دسواں حصہ تھا اور نقد میں آدھا مثقال جو امیر و غریب سب پر یکساں فرض تھا۔ لیکن زمین کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں کہیں زمین صرف بارش سے سیراب ہوتی ہے اور کہیں نہر کے پانی سے جہاں مزدوری اور محنت کا اضافہ ہو جاتا ہے نقد دولت کے بھی مختلف اصناف ہیں، بعض مرتبہ دولت بے محنت مفت ہاتھ آ جاتی ہے اور بعض اوقات سخت محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے سب کا یکساں حال نہیں ہو سکتا۔ انجیل نے حسب دستور اس مشکل کا کوئی حل نہیں کیا۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کاملہ نے علم اقتصاد سیاسی (پولیٹیکل اکانومی) کے نہایت صحیح اصول کے مطابق دولت کے فطری اور طبعی ذرائع کی تعیین کی اور ہر ایک کے لئے زکوٰۃ کی مناسب شرح مقرر کر دی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدیہ نے تورات کی قانونی تعیین اور انجیل کی اخلاقی عدم تعیین دونوں حقیقتوں کو اپنے نظام میں جمع کر لیا۔ اس نے اخلاقی طور پر ہر شخص کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا کل مال یا نصف مال یا کم و بیش جو وہ چاہے خدا کی راہ میں دے دے اس کا نام انفاق یا عام خیرات و صدقہ ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرض کر دیا کہ ہر شخص کی دولت میں غریبوں اور محتاجوں اور دوسرے نیک کاموں کے لئے بھی ایک مقررہ سالانہ حصہ ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ المعارج، آیات: 23-25)
"جو اپنی نماز ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور جن کے مالوں میں مانگنے اور محروم کا معلوم حصہ ہے"اللہ تعالیٰ عجیب عجیب نظارے دکھاتا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، یہ وہ بزرگ ہیں جو بیک وقت فقیہ بھی تھے اور صوفی بھی تھے، سارے تھے، لیکن ان کا اتنا مشہور تھا کہ ان کو اپنے استاذ بھی صوفی کہتے تھے،یعنی استادوں نے ان کا نام صوفی رکھا ہوا تھا۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، مشہور واقعہ ہے نا یہ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، یہ بھی ان کے class fellow تھے۔ تو یہ تین افراد ان کے ایک صاحب کا تو نام مجھے اب نہیں آ رہا، ان دو کا آتا ہے، یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک تیسرے تھے۔ تو یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ وہ برجال میں بہت سخت ناقد ہیں۔ تنقید، بہت سخت تنقید کرتے ہیں، کسی کو بخشتے نہیں ہیں۔ یہ ہماری سب سے بڑی دلیل بھی ہے۔ اتنے سخت ناقد جس نے اپنے استادوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ ان کی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں جو آراء ہیں وہ سننے کے قابل ہیں۔
تو خیر بہرحال یہ ہے کہ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ہم اپنے استاد کا ذرا امتحان لینا چاہتے ہیں کہ وہ کتنے ثقہ ہیں۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ چھوڑو، استادوں کے ساتھ اس طرح نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا نہیں، ہمیں تو کرنا ہے۔ خیر، پھر انہوں نے اس طرح کیا کہ 10 احادیث شریف چن لیں۔ اور ان کے راویوں میں گڑبڑ کی، متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ راویوں کو ادھر کا ادھر سے لگا دیا، ادھر کا ادھر لگا دیا۔ اور حدیث شریف کی بنیاد جو ہوتی ہے وہ راویوں پر ہوتی ہے۔ متن تو ظاہر ہے اگر ثابت ہو جائے تو پھر ظاہر ہے اس کو لیں گے نا۔ اس کی جو سند ہے وہ تو راویوں پر ہے۔
تو انہوں نے کہا استاد جی! ہم نے آپ سے کچھ احادیث سنی ہیں، تو ذرا چیک کرنا چاہتے ہیں کہ سنی ہیں یا نہیں سنی؟ کہا بالکل ٹھیک ہے، بتائیں۔ پوچھیں!
پہلی حدیث پڑھی، اس میں راویوں میں گڑبڑ تھی۔ حضرت نے فرمایا: یہ آپ لوگوں نے مجھ سے نہیں سنی۔ ٹھیک ہے جی، کاٹ دیا۔ دوسری حدیث سنائی، اس میں بھی گڑبڑ تھی۔ انہوں نے کہا: آپ لوگوں نے مجھ سے نہیں سنی۔ لیکن طبیعت پہ ذرا ملال آ گیا کہ یہ میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ تیسری جو حدیث سنائی، وہ بھی اسی طرح کی تھی تو بس ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اور اٹھ گئے اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بالکل سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ فرمایا: تو تو صوفی ہے، تو تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ دیکھو! استاد کیا کہتا ہے اس کو؟ تو تو صوفی ہے، تو تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ اور دوسرے آدمی سے کہا جس کا نام مجھے نہیں آتا، وہ کہتا ہے: تو اس قابل ہی نہیں تو کر سکے۔ یعنی تیرا ذہن اتنا تیز نہیں ہے کہ تو یہ کر سکے۔ یحییٰ بن معین سے کہا کہ یہ تیری شرارت یہ ساری شرارتیں تیری ہیں۔ اٹھے، ان کو ٹڈے مار مار کے چبوترے سے نیچے گرا دیا۔
تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کہا کہ ہم نہیں کہتے تھے استادوں کے ساتھ اس طرح نہیں کرتے؟ کہتے ہیں یہی تو ہمارے سر کے تاج ہیں! کم از کم آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا استاد ثقہ ہے۔ ٹھیک ہے، چوٹ کھائی لیکن آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا استاد ثقہ ہے۔
تو اس سے پتا چلا کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ صوفی مزاج بھی تھے۔ صوفی بھی تھے، صوفی مزاج بھی تھے۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ دونوں قسم کے حضرات کا اجتماع ہوتا تھا۔ فقہاء بھی آتے تھے، یعنی ظاہر علماء بھی، اور صوفیاء بھی آتے تھے۔ تو کبھی کبھی دونوں کا آپس میں اکٹھا اجتماع ہو جاتا۔ ادھر وہ بھی بیٹھے ہیں ادھر وہ بھی۔ تو ایک دن ایسا ہوا تھا کہ صوفی بھی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک اس طرح علمِ ظاہر کے عالم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ علمِ ظاہر کے جو عالم تھے وہ بھی ذرا تھوڑے سے تنقیدی مزاج کے زیادہ تھے۔ تو انہوں نے اس صوفی کو جانچنا چاہا کہ یہ کتنے پانی میں ہے؟ تو انہوں نے کچھ پوچھنا چاہا تو امام صاحب نے روک دیا، بس یہاں گڑبڑ نہ کرو۔ پھنس جاؤ گے۔ یہاں گڑبڑ نہ کرو۔
اس نے بات مانی نہیں، انہوں نے اس سے پوچھا: کچھ زکوٰۃ کے بارے میں بھی جانتے ہو؟ تو اس نے کہا: کون سی زکوٰۃ کی؟ فقراء کی یا امراء کی؟ فقراء کی یا امراء کی؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ امراء کی زکوٰۃ تو میں نے سنی ہے، یہ فقراء کی زکوٰۃ کون سی ہوتی ہے؟ فقراء پہ تو وہ ہی نہیں ہے مطلب زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہوتی۔ تو اس نے کہا دیکھو! امراء کے لیے تو قرآن نے بتا دیا ہے کہ اگر نصاب کو پہنچ جائے تو پھر سال میں ڈھائی ہے۔ فقراء پہ سارا کا سارا خرچ کرنا ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جمع کیوں کیا؟ اس کے لیے کچھ مطلب اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کوئی عمل کر لو۔ تو انہوں نے کہا دلیل؟ انہوں نے کہا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل۔ بس فوراً امام صاحب نے کہا اب جواب دو نا! اب پھنس گئے ہو نا! اب جواب دو!
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ یہاں دیکھیں نا حضرت نے بھی یہ بات فرمائی ہے۔
اس نے اخلاقی طور پر ہر شخص کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا کل مال یا نصف مال یا کم و بیش جو وہ چاہے خدا کی راہ میں دے دے اس کا نام انفاق یا عام خیرات و صدقہ ہے۔
اب سمجھ میں آ گئی نا بات؟
لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرض کر دیا کہ ہر شخص کی دولت میں غریبوں اور محتاجوں اور دوسرے نیک کاموں کے لئے بھی ایک مقررہ سالانہ حصہ ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔
"وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ"دونوں کے لیے ہے۔
اس میں یہ بھی ہے، وہ بھی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اچھا۔
اس آیت سے صاف و صریح طریقہ سے یہ ثابت ہے کہ مسلمانوں کی دولت میں غریبوں کا جو حصہ ہے وہ متعین، مقرر، معلوم اور عملاً رائج ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ﴿مَعْلُومٌ﴾ اور ﴿مَعْلُومَاتٍ﴾ کے الفاظ جہاں آئے ہیں وہاں یہی مقصود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عرب میں جو قوم کسی نہ کسی طرح زکوٰۃ ادا کرتی تھی اس کی جو شرح متعین اور رواج پذیر تھی اس کو اسلام نے کسی قدر اصلاح کے بعد قبول کر لیا تھا۔ عرب میں اس قسم کی زکوٰۃ صرف بنی اسرائیل ادا کرتے تھے جس کا حکم تورات میں مذکور ہے اور اس کی شرح بھی اس میں مقرر ہے۔ یعنی پیداوار میں دسواں حصہ اور نقد میں نصف مثقال۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمت ربانی سے اجناس زکوٰۃ پر مختلف شرحیں مقرر فرمائیں جو قیمت کے لحاظ سے اسی شرح معلوم کے مساوی ہیں اور ان شرحوں کو فرامین کی صورت میں لکھوا کر اپنے عمال کے پاس بھجوایا۔ یہی تحریری فرامین تدوین حدیث کے زمانہ تک بعینہٖ محفوظ تھے اور تدوین حدیث کے بعد ان کو بعینہٖ کتب حدیث میں درج کیا گیا جو آج تک موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کا مخرج قرآن پاک میں بھی ایک حیثیت سے مذکور ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ انسان کی دولت صرف اس کی محنت اور سرمایہ کی پیداوار ہے۔ اس لئے اصول کا اقتضا یہ ہے کہ جس حد تک محنت اور سرمایہ کم لگتا ہو زکوٰۃ کی مقدار اسی قدر زیادہ رکھی جائے اور جیسے جیسے محنت بڑھتی اور سرمایہ کا اضافہ ہوتا جائے زکوٰۃ کی شرح کم ہوتی جائے۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ قبیلوں کے سردار چوتھائی وصول کرتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنے سرداروں کو رِباع (یعنی چوتھائی والا) کہا کرتے تھے۔ شاید دوسری پرانی قوموں میں بھی یہ دستور ہو۔ ہندوستان میں مرہٹوں نے بھی چوتھ ہی کو رائج کیا تھا مگر چونکہ اسلام کو محکوموں اور سپاہیوں کے ساتھ زیادہ رعایت مد نظر تھی اس لئے اس نے چار کو پانچ کر دیا۔ اس طرح چوتھ کے بجائے دولت کا پانچواں حصہ خدا اور رسول کا حصہ قرار پایا
خُمس۔
جس کو رسول اور ان کے بعد ان کے نائب اپنے ذاتی ضروریات اہل و عیال کے نان و نفقہ اور نادار مسلمانوں کی امداد یا حکومت اور جماعت کی کسی اور ضروری مدد میں صرف کر سکیں۔اس زکوٰۃ کا نام جو غنیمت کے مال پر عائد ہوتی ہے "خُمس" ہے قرآن نے کہا۔﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (سورۃ الانفال، آیت: 41)"اور جان لو کہ جو کچھ تم کو غنیمت ملے اس کا پانچواں حصہ خدا کے لئے اور رسول کے لئے اور قرابت مندوں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لئے ہے"
نکتہ:
اس موقع پر ایک خاص بات سمجھنے کے لائق ہے جہاد یا دشمنوں سے لڑائی کا اصلی مقصد دین کی حمایت اور اعلائے کلمۃ اللہ ہے غنیمت کا مال حاصل کرنا نہیں اور اگر کوئی صرف حصول غنیمت کی نیت سے دشمن سے لڑے تو اس کی یہ لڑائی اسلام کی نگاہ میں جہاد نہ ہو گی اور نہ اس کا کوئی ثواب ملے گا۔ اس کی طرف خود قرآن پاک میں اشارہ موجود ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی متعدد حدیثوں میں اس کی تشریح فرما دی ہے۔ اس بنا پر درحقیقت وہ مال غنیمت جو لڑائی میں دشمنوں سے ہاتھ آتا ہے ایک ایسا سرمایہ ہے جو بلا قصد اور بلا محنت اتفاقاً مسلمانوں کو مل جاتا ہے
یعنی نیت کی تو وہ تو سارا جہاد گڑبڑ ہو گیا۔ یعنی اس کی نیت تو کی ہی نہیں جا سکتی۔ تو جب نیت کے بغیر آپ کو ملے تو وہ کون سی چیز ہو گی؟ فضل ہی ہو گا نا؟ تو اللہ تعالیٰ کا فضل۔ تو پھر ظاہر ہے وہ تو۔۔۔
اس سے یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے کہ جو سرمایہ کسی محنت کے بغیر اتفاقاً ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ نظامِ جماعت کا حق ہے یا حکومت کے مقررہ بالا مصارف کے لئے ہے۔
یہ اصول کہ جو سرمایہ بلا کسی محنت کے اتفاقاً کسی مسلمان کے ہاتھ آ جائے اس میں سے پانچواں حصہ خدا اور رسول کا ہے تاکہ وہ جماعت کے مشترکہ مقاصد کے صرف میں آئے وہی ہے جس کی بنا پر رِکاز یعنی دفینہ میں جو کسی کو بلا محنت اتفاقاً غیب سے ہاتھ آ جائے خمس (یعنی پانچواں حصہ) جماعت کے بیت المال کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
محنت اور سرمایہ سے جو دولت پیدا ہوتی ہے
اب دیکھیں نا یہ چیزیں ہماری اصطلاحات موجود ہیں۔ لیکن اس کی یہ تشریح کسی نے کی ہے؟ ٹھیک ہے بس ایک categorical imperative بات ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے۔ بس اس سے زیادہ مطلب وہ کوئی بات نہیں ہے، لیکن یہاں پر دیکھو کتنی detail کے ساتھ اس کو inter-link کیا گیا ہے۔
محنت اور سرمایہ سے جو دولت پیدا ہوتی ہے اس میں سب سے پہلی چیز زمین کی پیداوار ہے۔ تورات نے ہر قسم کی پیداوار پر عشری یعنی دسواں حصہ مقرر کیا تھا۔ شریعتِ محمدیہ نے نہایت نکتہ سنجی کے ساتھ پیداوار کی مختلف قسموں پر مختلف شرح زکوٰۃ کی تفصیل کی۔ سب سے پہلے پیداوار کے ان اصناف پر زکوٰۃ مقرر ہوئی جو کچھ زمانہ تک محفوظ رہ سکتے ہیں تاکہ ان سے حسب منشاء خانگی اور تجارتی فائدہ اٹھایا جا سکے اور نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی بنا پر سبزیوں اور ترکاریوں پر جو ایک دو روز سے زیادہ نہیں رہ سکتیں کوئی زکوٰۃ مقرر نہیں فرمائی گئی۔ اسی طرح اس مالیت پر جس میں نشو و نما اور ترقی کی (نمو والی بات ہے)
صلاحیت نہیں مثلاً آلات، مکان، لباس، سامان، اسباب، سواری، قیمتی پتھر ان پر بھی زکوٰۃ نہیں رکھی گئی، کچھ دنوں تک باقی رہنے والی اور نشو و نما پانے والی چیزیں چار ہیں۔
کچھ وقت تک باقی رہنے والی اور نشوونما پانے والی، دو شرطیں ہیں۔
زمین، جانور، سونا، چاندی یا ان کے سکے اور تجارتی مال، چنانچہ ان چاروں چیزوں پر زکوٰۃ مقرر ہوئی۔
زمین کی دو قسمیں کی گئیں ایک وہ جس کے جوتنے اور بونے کی محنت اور مزدوری کا خرچ گاہ کا شکار کرتا ہے
موسمی اور اقلیمی خصوصیت کی وجہ سے اس کے سیراب کرنے میں کاشتکار کی کسی بڑی محنت اور مزدوری کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ بارش یا نہر کے پانی یا زمین کی نمی اور شبنم سے آپ سے آپ سیراب ہوتی ہے اس پر بلا محنت والی اتفاقی دولت سے آدھی زکوٰۃ یعنی عشر (1/10) مقرر کیا گیا۔ زمین کی دوسری قسم یعنی وہ جس کی سیرابی کاشتکار کی خاص محنت اور مزدوری سے ہو مثلاً کنوئیں سے پانی نکال کر لانا یا نہر بنا کر پانی لانا تو اس میں قسم اول سے بھی نصف یعنی بیسواں حصہ (1/20) مقرر ہوا۔
سبحان اللہ!
نقدی سرمایہ جس کی ترقی حفاظت نشو و نما اور افزائش میں انسان کو شب و روز کی سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور جس کی افزائش کے لئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس میں ہر قدم پر چوری، گم شدگی، لوٹ اور نقصان کا اندیشہ رہتا ہے زمین کی دوسری قسم کا بھی آدھا یعنی چالیسواں (1/40) حصہ مقرر ہوا۔
یہ کبھی کسی نے بتایا یہ Logic۔ یہ وہ بات ہے جس پہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے چہرے کو دیکھ کے فرمایا: "اتنے بڑے علامہ کو میں کیسے نصیحت کر لوں؟" علامہ تھے ناں...
زمینی پیداوار اور نقد سرمایہ میں شرحِ زکوٰۃ کی کمی بیشی کی ایک دقیق اقتصادی علت اور بھی ہے انسان کی اصلی ضرورت جس پر اس کا جینا منحصر ہے صرف غذا ہے۔ زمین کے مالکوں کو یہ چیز براہ راست خود اپنی محنت سے حاصل ہوتی جاتی ہے اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سے وہ بے پروا ہو جاتے ہیں لیکن سونے چاندی کے مالکوں اور تاجروں کی جو دولت ہے وہ براہ راست ان کی زندگی کی اصلی ضرورت کے کام میں نہیں آتی بلکہ مبادلہ اور خرید و فروخت کے ذریعہ سے وہ اس کو حاصل کرتے ہیں وہ کاشتکاروں کی پیداوار کو خرید کر ان کو نقد روپے دیتے ہیں جس سے ان کی دوسری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں پھر وہ اس پیداوار کو لے کر گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک پھرتے ہیں اور اس کی بھی اجرت ادا کرتے ہیں نیز جو محنت زمین کی پیداوار حاصل کرنے میں صرف ہوتی ہے اس سے بدرجہا زیادہ نقد کے حصول میں صرف کرنی پڑتی ہے۔ سونا چاندی صدیوں کے فطری انقلابات کے بعد کہیں پیدا ہوتی ہے اور غلہ ہر سال اور سال کی ہر فصل میں انسان کی کوشش سے پیدا ہوتا ہے اس لئے سونا چاندی کی قیمت کا معیار غلہ سے گراں تر ہے ایک اور بات یہ ہے کہ کاشتکار اور زمینوں کے مالک عموماً دیہاتوں میں رہتے اور شہروں سے دور ہوتے ہیں نیز وہ عموماً سونا چاندی اور سکوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس لئے نسبتاً وہ قومی ضروریاتِ دین کی مالی خدمات اور مستحقین کی امداد میں اس انفاق یعنی اخلاقی خیرات کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں جن کو عموماً نقد صورت میں دولت کے مالک اور تاجر پورا کیا کرتے ہیں اس بنا پر بھی سخت ضرورت تھی کہ ان کے لئے قانونی خیرات کی شرح اہل زمین سے مختلف رکھی جائے۔
زکوٰۃ کی شرح مقدار کی تعیین میں اس خمس والی آیت سے ایک اور نکتہ معلوم ہوتا ہے
یعنی دیکھیں نا خُمس، پھر اس کا نصف، پھر اس کا نصف، پھر اس کا نصف۔
کہ خمس میں چونکہ امامت و حکومت کے تمام ذاتی و قومی مصارف شامل ہیں اس لئے وہ کل کا خمس یعنی 1/5 مقرر ہوا اور زکوٰۃ کے مصارف جیسا کہ سورہ توبہ رکوع 8 میں مذکور ہیں صرف آٹھ ہیں اس بناء پر ان آٹھ مصارف کے لئے مجموعی رقم چالیسواں حصہ رکھی گئی پھر غور کیجئے کہ سونا چاندی کی شرح 200 درہم یا اس کے مماثل سونا ہے۔ ان دو سو درہموں کو 5 پر تقسیم کر دیجئے تو 40 ہو جائے گا
یعنی مطلب یہ ہے کہ جو یعنی اس وقت کا 200...
یہ کل زکوٰۃ کی شرحیں 1/5 اور 1/10 اور 1/20 اور 1/40 ایک دوسرے کا نصف یا ایک دوسرے کا مضاعف ہوتی چلی گئی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ یہ تقسیم و تحدید حساب اور اقتصادیات کے خاص اصول پر مبنی ہے۔
جانوروں پر زکوٰۃ:
تورات میں ہر قسم کے جانوروں میں دسواں حصہ زکوٰۃ کا تھا۔ (1) لیکن چونکہ ہر قسم کے جانوروں میں نسل کی افزائش کی صلاحیت اور مدتِ افزائش (زمانہ حمل) یکساں نہیں ہوتی نیز جانوروں میں دسویں بیسویں کا حصہ مشاع ہر تعداد پر چسپاں نہیں ہو سکتا اس لئے ان میں دسویں بیسویں کے بجائے تعداد کے تعیین کی ضرورت تھی۔ شریعتِ محمدیہ نے اس نقص کو پورا کیا۔ چنانچہ اسی پہلے اصول (پیدائش اور افزائش کی مدت کیفیت اور کمیت) کی بنا پر اولاً بے نسل یا کم نسل کے جانوروں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ کر دیا۔ مثلاً خچر، گھوڑے (2) پر کوئی زکوٰۃ نہیں دوسرے جانوروں کی مالیت اور قوت و کیفیت افزائش کے لحاظ سے حسبِ ذیل شرح معین ہوئی۔ یہ وہ شرح نامہ ہے جو خود آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمتِ ربانی سے فیصلہ فرما کر طے کیا اور زبانی نہیں بلکہ فرامین کی صورت میں لکھوا کر عمال کو عنایت فرمایا تھا اور خلفائے راشدین نے اسی کی نقلیں حدودِ حکومت میں بھجوائیں اور جس کی تعمیل آج تک برابر بلا اختلاف ہوتی آئی ہے۔
نام جانور: اونٹ۔ تعداد: 1 سے 4 تک۔ شرح زکوٰۃ: کچھ نہیں۔نام اونٹ، 20 سے 24 تک، 4 بکریاں اس میں آئیں۔اونٹ، 5 سے 9 تک، ایک بکری۔25 سے 35، اونٹ کا ایک سالہ بچہ۔10 سے 14 سال تک دو بکریاں۔ (شاید یہاں 10 سے 14 تعداد کا ذکر ہے)36 سے 45 تک اونٹ کا دو سالہ بچہ۔15 سے 19، تین بکریاں۔
یعنی اس کے ساتھ ساتھ تعداد کے ساتھ ساتھ بڑھتی بڑھائی گئی۔ اور بکری، پھر اس کی بکری کے لیے ہے، پھر اس طرح یہ مطلب یعنی گائے بھینس وغیرہ کے لیے ہے۔ تو اس ترتیب کو رکھا گیا ہے کہ جس میں وہی نمو والی اور وہ چیزیں ہوتیں۔ تو اس میں انہوں نے مطلب یہ رکھی کہ ہر ایک پر اس کے proportional رکھا جائے
نصابِ مال کی تعیین:
شرحِ زکوٰۃ کے تعیین کے سلسلہ میں شرائعِ سابقہ میں ایک اور کمی تھی جس کی تکمیل محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے کر دی۔ جن دوسری شریعتوں میں قانونی خیرات کی تعیین ہے ان میں امیر و غریب اور کم اور زیادہ دولت والوں کی تفریق نہیں کی گئی تھی۔ مثلاً اگر دس میں روپے والوں یا دس پانچ گائے اور بکری والوں سے یہ زکوٰۃ وصول کی جاتی تو ان پر ظلم ہوتا، تورات میں غلہ اور مویشی پر جو عشر اور نقد پر جو آدھا مثقال مقرر کیا گیا ہے اس میں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے بلکہ آدھے مثقال کی زکوٰۃ میں تو یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ:"خداوند کے لئے نذر کرتے وقت آدھے مثقال سے امیر زیادہ نہ دے اور غریب کم نہ دے"۔ (خروج 30: 15)
لیکن شریعتِ محمدی نے اس نکتہ کو ملحوظ رکھا اور غریبوں، ناداروں، مقروضوں اور ان غلاموں کو جو سرمایہ نہیں رکھتے یا اپنی آزادی کے لئے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اس سے بالکل مستثنیٰ کر دیا نیز دولت کی کم مقدار رکھنے والوں پر بھی ان کی اپنی حسبِ خواہش اخلاقی خیرات کے علاوہ کوئی باقاعدہ زکوٰۃ عائد نہیں کی اور کم مقدار کی دولت کا معیار بھی اس نے خود مقرر کر دیا۔ سونے کی زکوٰۃ وہی آدھا مثقال رکھا لیکن بتا دیا کہ یہ آدھا مثقال اسی سے لیا جائے گا جو کم از کم پانچ اوقیہ یعنی بیس مثقال سونے کا مالک ہو اور 5 اوقیہ یعنی 20 مثقال سونے کی متوسط قیمت دو سو درہم چاندی کے سکے ہیں یعنی ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے۔ (1) وہ کم سے کم معیارِ دولت جس پر زکوٰۃ نہیں حسب ذیل ہے۔
نام: غلہ اور پھل۔ 5 وسق سے کم پر زکوٰۃ نہیں۔ اونٹ، 5 عدد سے کم پر نہیں۔ گائے، بیل اور بھینس، 30 عدد سے کم پر نہیں۔ بھیڑ بکری، 40 عدد سے کم ہو تو نہیں۔
سونا 5 اوقیہ یعنی 20 مثقال سے کم پر زکوٰۃ نہیں، اور چاندی 200 درہم سے کم پر زکوٰۃ نہیں۔ اس معیار سے امیر و غریب کی سطحوں میں جو یکساں زکوٰۃ کی ناہمواری تھی وہ دور ہو گئی اور جو غریب خود زکوٰۃ کے مستحق تھے وہ اس قومی محصول سے بری ہو گئے۔
ان مذکورہ بالا اشیاء کی تعداد و جنسیت کے اختلاف کی وجہ سے گو مختلف ہے مگر مالی اعتبار سے وہ ایک ہی معیار پر مبنی ہیں۔ پانچ وسق غلہ، دو سو درہم چاندی اور پانچ اوقیہ سونا درحقیقت ایک ہی معیار ہے۔ ایک اوقیہ جیسا کہ معلوم ہو چکا چالیس درہم کے برابر ہے۔ اس بنا پر پانچ اوقیہ اور دو سو درہم برابر ہیں۔ اسی طرح ایک وسق غلہ کی قیمت اس زمانہ میں چالیس (1) یا 4 مثقال تھی یعنی پانچ اوقیہ اور پانچ وسق کی قیمت وہی دو سو درہم یا 20 مثقال ہوگی۔
اصل میں یہ جو ہے نا، یقین جانیے کہ آپ ﷺ کی ہر بات کو چونکہ اللہ پاک نے خود own کیا ہوا ہے۔ کہ میری طرف سے ہے، کہ "نہیں کوئی بات فرماتے نہیں آپ ﷺ، مگر جو اس کو وحی کی گئی"۔ تو یہ سارا نظام اترا ہے۔ اترا ہے! اور اللہ جل شانہٗ چونکہ ہماری ساری چیزوں کو جانتے ہیں، تو یہ شرح مقرر کرنا، یعنی ایسے proportional، یہ انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اس امت کو جو قیامت تک مطلب رہنا تھا، ان کے لیے یہ ساری چیزیں بہت تفصیلی مقرر فرما دیں۔
زکوٰۃ کے مصارف، اور ان میں اصلاحات... میرے خیال میں یہ نیا چیپٹر ہے، تو اس پر ان شاء اللہ پھر بعد میں بات ہو گی۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان علومِ عظیمہ سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ بہت بڑے علوم ہیں، بہت بڑے علوم ہیں۔ یعنی واقعی انسان کا دل کھلتا ہے۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ لوگ پتا نہیں کن چیزوں سے وجد کرتے ہیں؟ وجد کی چیزیں تو یہ ہیں۔ وجد کی چیزیں تو یہ ہیں۔ علومِ نافعہ۔
اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے حضرات بھی فرماتے ہیں کہ یہ جانوروں کی چیزیں، کھانے پینے کی چیزیں، اور اس پہ خوش ہو جانا، یہ انسانوں کا تو یہ عقل کی چیزیں ہوتی ہیں ان چیزوں پہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کا تو رزق یہ ہوتا ہے۔
تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً اگر ہم لوگ دیکھیں تو یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر بڑا احسان کیا ہے۔ ہمارے اکابرین نے بہت کام کیا ہے۔ سبحان اللہ! اب ان کاموں کو dump رہنے دیا جائے؟ مطلب وہ بس ٹھیک ہے جی پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو فروغ دینا چاہیے؟ ان کو سامنے لانا چاہیے تاکہ لوگوں تک پہنچیں؟ اس وقت سوشل میڈیا پر اس قسم کی چیزیں اگر آ جائیں، باقاعدہ systematic انداز میں، تو کتنا اچھا اثر ہو گا؟ کہ یہ جو اسلام ہے، کوئی اس طرح randomly نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر کتنا systematization ہے، ہر چیز کی اپنی ایک بنیاد ہے۔ تو یہ اس انداز میں اس کو یعنی متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ تو الحمد للہ، ہماری اس خانقاہ میں اللہ پاک نے یہ فضل فرمایا ہے
جس میں ہم میں تو یہ صلاحیت نہیں تھی، لیکن اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اپنے وقت پر، جو اس وقت کی مناسب چیز تھی وہ شروع کروا دی۔ یعنی یہ بھی ہم نے کیسے اس کا فیصلہ کیا، مطلب اس کتاب کا؟ کرونا اس کا باعث ہو گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے اللہ تعالیٰ نے اتنے علوم کا دروازہ کھول دیا۔ ورنہ کتابیں ہمارے پاس پڑی تو تھیں نا؟ پڑی تھیں لیکن پڑھی نہیں تھیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی، شکر ہے اللہ کا۔ اور پھر ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جو "سلوکِ سلیمانی" ہے، جو ظاہر ہے اسی کی continuation ہے۔ یعنی کتنے خوبصورت انداز میں تمام چیزوں کو جمع کیا ہے۔ نظری اور عملی چیزوں کو کیسے خوبصورت انداز میں جمع کر لیا ہے تو یہ بہت، بہت، بہت اللہ کا کرم ہے، الحمدللہ۔ اللہ کا شکر ہے۔
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو پورا frame of work دے دیا، اس کو پھر سند کی بنیاد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دلوا دی۔ چونکہ وہ قرآن و حدیث کے بہت بڑے عالم تھے۔
یعنی وہ کام اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر لے لیا۔ عملی طور پر نفاذ کا کام سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ سے لے لیا۔ عملی طور پہ نافذ کیا تھا نا۔ تو وہ ان سے لے لیا۔ اور پھر آج کل کے دور کے لحاظ سے اس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی team سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لے لیا اور یہی اللہ پاک کا نظام ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح چلاتے ہیں۔ قدرتی طور پر اس قسم کے حالات بن جاتے ہیں، جو ماشاءاللہ جو چیز ہونی ہوتی ہے وہ اس طریقے سے ہو جاتا ہے۔
تو اللہ پاک کرے کہ ہم اس مبارک جماعت کے ساتھ رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو خیر جہاں رکھی ہے، وہاں سے اس کو لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری ضد، ہماری اکڑ، ہماری پتا نہیں انانیت اور کیا کیا چیزیں، اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔
ہاں جی، آسانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں نعمتیں نصیب فرمائے
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: اسلام کا معاشی نظام: زکوٰۃ، عشر اور خمس کے احکام و حکمتیںمتبادل عنوان: زکوٰۃ کی فرضیت، شمسی و قمری سال کی حقیقت اور سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں مالی عبادات
اہم موضوعات:
سیرت النبی ﷺ (علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ) اور مالی عبادات۔
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ایک سال (حولانِ حول) مقرر کرنے کی معاشی حکمت۔
شمسی اور قمری کیلنڈر کا فرق اور قرآنی دلیل (سورہ کہف) کی روشنی میں شمسی سال کی اہمیت۔
یہودیت اور عیسائیت کے معاشی احکامات کا اسلامی نظامِ زکوٰۃ سے تقابل۔
عشر (دسواں حصہ)، نصف عشر (بیسواں حصہ) اور خمس (پانچواں حصہ) کے احکام و منطق۔
سونا، چاندی، زرعی پیداوار (غلہ) اور جانوروں (اونٹ، گائے، بکری) پر زکوٰۃ کے نصاب کی تفصیل۔
امام احمد بن حنبل رحمة الله عليه اور یحییٰ بن معین رحمة الله عليه کے واقعے سے علمِ ظاہر اور تصوف کا امتزاج۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اسلام کے معاشی نظام، بالخصوص زکوٰۃ، عشر اور خمس کے تفصیلی احکام اور ان کے پیچھے پوشیدہ معاشی و طبعی حکمتوں پر نہایت مدلل گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب "سیرت النبی" کے حوالے سے واضح کیا کہ اسلام نے زکوٰۃ کے لیے ایک سال کی مدت کیوں مقرر کی اور کس طرح شمسی سال میں تمام موسموں کا گزرنا زرعی اور تجارتی حسابات کے لیے ناگزیر ہے۔ آپ نے پیداوار، محنت اور سرمائے کے فرق کے لحاظ سے زکوٰۃ کی مختلف شرحوں (مثلاً قدرتی پیداوار پر عشر اور محنت طلب پیداوار پر نصف عشر) کی عقلی توجیہ بیان کی اور جانوروں، سونے چاندی کے نصاب کو واضح کیا۔ علاوہ ازیں، آپ نے محدثین (امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ) کے ایمان افروز واقعات سنا کر یہ ثابت کیا کہ دین میں سند اور تحقیق کی کیا اہمیت ہے، اور اکابرینِ امت نے ان علوم کو کس قدر منظم انداز میں ہم تک پہنچایا ہے۔