دولت، غربت اور زکوٰۃ کا اسلامی نظام

درس 28 : زکوٰۃ کے مصارف اور ان میں اصلاحات، (باہمی اعانت کی عملی تدبیر، دولتمندی کی بیماریوں کا علاج)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں آج کل حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت کے شہرہ آفاق سیرت النبی کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب سے تعلیم ہوتی ہے۔ اور زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔ تو زکوٰۃ کی مختلف جو تفصیلات ہیں وہ حضرت بیان فرما رہے تھے زکوٰۃ کے لغوی معنی سے لے کر اس کی اصطلاحی اور پھر گزشتہ امتوں میں اس کے جو صورت اس کی جو صورتیں تھیں اور پھر اس امت میں چونکہ یہ امت قیامت تک کا مطلب ایک ہی مذہب پہ چلتی رہے گی۔ تو اس وجہ سے اس میں وہ تمام چیزیں جمع کی گئی ہیں جو گزشتہ امتوں میں تھیں اور اس کی ترقی یافتہ صورت اس نے اختیار کی ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ساری باتیں حضرت بیان فرما رہے ہیں۔ تو آج ہے ان شاء اللہ باہمی اعانت کی عملی تدبیر یہ۔

باہمی اعانت کی عملی تدبیر

زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف کا بڑا حصہ غریبوں اور حاجت مندوں کی امداد ہے۔ انسانیت کا یہ وہ طبقہ ہے جس کے ساتھ تمام مذہبوں نے ہمدردی کی ہے، اور اس کی تسلی اور تسکین کے لئے دوسری دنیا کی توقع اور امید کے بڑے بڑے خوش آئند الفاظ استعمال کئے ہیں، لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی زندگی کی یہ تلخی محض اہل مذاہب کی شیریں کلامی سے دور نہیں ہو سکتی۔ محمد رسول اللہ ﷺ دنیا کے پہلے اور وہی پچھلے پیغمبر ہیں جنہوں نے اس طبقہ کے ساتھ اپنی عملی ہمدردی کا ثبوت دیا اور اس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کے لئے عملی تدبیر جاری اور نافذ فرمائی۔ خود اپنی زندگی غریبوں اور مسکینوں کی صورت سے بسر کی اور دعا فرمائی کہ خداوند! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اٹھا اور مسکینوں ہی کے زمرہ میں میرا حشر کر۔ آپ کے گھر کا چبوترا (صفہ) غریبوں اور مسکینوں کی پناہ کا سایہ تھا، وہی آپ کی بزم قدس کے مقرب درباری اور اسلام کے معرکوں کے مخلص جانباز تھے۔ آپ کی نظر میں کسی انسان کی غربت اور تنگ دستی اس کی ذلت اور رسوائی کے ہم معنی نہ تھی۔ نہ دولت وامارت عزت و وقار کے مرادف تھی بلکہ صرف نیکی اور پرہیزگاری فضیلت و بزرگی کا اصلی معیار تھی۔

حضرت مسیحؑ نے فرمایا کہ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیوں کہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔ ۱؂

﴿ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ ﴾ جو دولت مند ہیں وہی غریب ہیں۔

اس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ جو غریب ہیں وہی دولت مند ہوں گے۔ پھر انہیں خوشخبری دی کہ غریب (جن کو خدا کے آگے اپنی کسی دولت کا حساب نہیں دینا ہے) دولت والوں سے 40 سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

اسلام نے ان روحانی تسلیوں اور بشارتوں کے ساتھ جو مزید کام کیا وہ ان کی دنیاوی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کی عملی تدبیریں ہیں جن کا نام صدقہ اور زکوٰۃ ہے۔ اس کی تعلیم نے اس عملی ہمدردی اور اعانت کو صرف اخلاقی ترغیب و تشویق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے لئے دو قسم کی تدبیریں اختیار کیں۔ ایک یہ کہ ہر مسلمان کو نصیحت کی کہ جس سے جتنا ہو اپنی دولت سے ان کی مدد کرے۔ یہ اخلاقی خیرات ہے جس کا نام قرآن کی اصطلاح میں انفاق ہے لیکن چونکہ یہ اخلاقی خیرات ہر شخص کو اس ضروری نیکی پر مجبور نہیں کرتی اس لئے ایک مقدار معین کے مالک پر ایک ایسا قانونی محصول عائد کیا جس کا سالانہ ادا کرنا اس کا مذہبی فرض ہے اور اس مجموعی رقم کا بڑا حصہ غریبوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت کے لئے مخصوص کیا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس تعلیم کو ایک ناقابل تغیر دستور العمل کے طور پر اپنی امت کو ہمیشہ کے لئے سپرد فرمایا۔ چنانچہ آپ نے معاذ بن جبلؓ کو اپنا نائب بنا کر یمن بھیجا تو توحید اور نماز کے بعد جس چیز کا حکم دیا وہ یہی زکوٰۃ ہے۔ پھر اس کی نسبت ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ:

﴿ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَاءِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَاءِهِمْ ﴾ وہ ان کے دولتمندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو لوٹا دیا جائے

صحابہؓ نے آپ کی ہدایت کے بموجب ان دونوں قسموں کی خیراتوں پر اس شدت سے عمل کیا کہ جو استطاعت نہ بھی رکھتے تھے وہ بازار جا کر مزدوری کرتے تھے تا کہ جو رقم ہاتھ آئے وہ غریب و معذور بھائیوں کی اخلاقی اعانت میں خرچ کریں اور اس معاملہ میں خود آپ نے یہاں تک اس طبقہ کی دلجوئی کی، فرمایا ''اگر کسی کے پاس کچھ اور نہ ہو تو لطف و مہربانی سے بات کرنا ہی اس کا صدقہ ہے'' اس سے زیادہ یہ کہ اس کی بھی ممانعت کی گئی کہ جو تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے اس کو سختی سے واپس نہ کیا کرو، خدا نے تعلیم دی:

﴿ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ ۝ وَاَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ ﴾ (الضحیٰ: 10) تو یتیم کو نہ دبانا اور نہ مانگنے والے کو جھڑک۔

ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ اگر تم کسی حاجت مند کی مدد کرو تو اس پر احسان مت دھرو کہ وہ شرمندہ ہو بلکہ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو یہ نعمت دی اور اس کی توفیق عنایت کی۔ احسان دھرنے سے وہ نیکی کا پیالہ حباب کی طرح ٹوٹ کر بیٹھ جائے گا فرمایا:

﴿ لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى ﴾ تم اپنی خیرات کو احسان دھر کر یا طعنہ دے کر برباد نہ کرو۔

اس لطف، اس مدارات اور اس دلجوئی کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا کے حکم سے انسانیت کے قابل رحم طبقہ کی چارہ نوازی فرمائی اور ہم کو باہمی انسانی محبت اور ایک دوسرے کی مدد کا سبق پڑھایا۔ اگر یہ حکم صرف اخلاقی حیثیت سے یا صرف مبہم طریقہ سے ہوتا یا سب کو سب کچھ دے ڈالنے کا عام حکم دے دیا جاتا تو کبھی اس پر اس خوبی، اس نظام اور اس پابندی کے ساتھ عمل نہ ہوسکتا اور آج بھی مسلمانوں کے سامنے یہ راہ کھلی ہوئی ہے اور کچھ نہ کچھ ہر جگہ اس پر عمل بھی ہے یہی سبب ہے کہ مسلمانوں میں اگر امیر کم ہیں تو ویسے غریب و محتاج بھی کم ہیں جیسے دوسری قوموں میں نظر آتے ہیں تاہم افسوس ہے کہ ایک مدت سے مسلمانوں کا یہ نظام سخت ابتری کی حالت میں ہے اور اس کی تنظیم کی طرف سے غفلت بڑھتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا ہر قسم کا جماعتی کام منتشر و پراگندہ ہے۔

حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کا یعنی فرمایا تھا کہ یہ مسلمانوں کا جو زکوٰۃ کا نظام ہے یہ کافی وہ ضائع ہو رہا ہے۔ مطلب جو زکوٰۃ ہے وہ صحیح طور پر تقسیم نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو وجوہات ہیں۔ اس کی ایک تو یہ ہے کہ جو دولتمند ہیں وہ اگر اپنے مال کا زکوٰۃ نکالنا بھی چاہتے ہیں تو مستحقین کی تلاش کی تکلیف نہیں کرتے۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو مستحق نہیں ہوتے لیکن وہ مانگنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ ان غریبوں کا حصہ کھا لیتے ہیں جو غریبوں تک پہنچنا چاہیے۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی باقاعدہ نظام، ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے کہ مال صحیح طریقے سے غریبوں تک پہنچ جائے جو ان کا حق ہے۔

دولت مندی کی بیماریوں کا علاج

دولت مندی اور تمول کا مسئلہ ہمیشہ سے دنیا کے مذاہب میں ایک معرکۃ الآراء بحث کی حیثیت سے چلا آرہا ہے، یہودیت کی طرح بعض ایسے مذہب ہیں جن میں نہ تو دولت مندی کی کوئی تحقیر کی گئی اور نہ مفلسی وغربت کو سراہا گیا ہے بلکہ گویا اس بحث کو نامفصل چھوڑ دیا گیا ہے لیکن عیسائیت اور بودھ مت دو ایسے مذہب ہیں جن میں دولت کی پوری تحقیر کی گئی ہے۔ عیسائیت کی نظر میں دولت مندی اور تمول نجات کی راہ کا کانٹا ہے بلکہ کوئی انسان اس وقت تک نجات نہیں پا سکتا جب وہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے خدا کی راہ میں لٹا نہ دے، انجیل میں ہے کہ ایک نیکوکار دولت مند نے حضرت عیسیٰؑ سے نجات کا طریقہ دریافت کیا تو جواب میں فرمایا:

''اگر تو کامل ہوا چاہتا ہے تو جا کے سب کچھ جو تیرا ہے بیچ ڈال اور محتاجوں کو دے کہ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا تب آ کے میرے پیچھے ہولے۔''

وہ دولت مند یہ تعلیم سن کر غمگین ہو کر چلا گیا تب انجیل میں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:

''میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزر جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔'' (متی ۱۹۔۲۱-۲۴)

بودھ مت نے نیک لوگوں کو ترک دنیا کی تلقین کی ہے اور ہر قسم کی دولت سے پاک رہنے کی ہدایت کی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے یہ سامان کیا ہے کہ جب وہ بھوکے ہوں تو بھیک کا پیالہ لے کر لوگوں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیں۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طریقوں کو ناپسند فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ اگر دولت کوئی ایسی بری چیز ہے تو اس برائی کو دوسروں کی طرف منتقل کر دینا ان کی خیر خواہی تو نہیں ہوئی، دشمنی ہوئی۔ اور اگر غربت کوئی برائی کی چیز ہے تو سب کچھ دوسروں کو دے کر خود اس حال میں بن جانا کہاں کی دانشمندی اور اصلاح ہے؟ اس لیے یہ طریقہ ہر شخص کے لیے یکساں مفید نہیں ہے۔ نہ نفسِ دولت فرشتہ کو شیطان، نہ نفسِ غربت شیطان کو فرشتہ بناتی ہے۔

جس طرح دولتمندی دنیا میں ہزاروں سیہ کاریوں کا محرک ہے، اس طرح غربت بھی دنیا کے ہزاروں جرائم کا باعث ہے۔ اور ان دونوں خرابیوں سے انسانوں کو بچانا ایک نبوت عظمیٰ کا فرض تھا۔ دولت بحیثیت دولت اور غربت بحیثیت غربت، نیک و بد اور خیر و شر دونوں صفتوں سے پاک ہے۔ بلکہ نیکی کرنے کی عام صلاحیت اور اہلیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک نیکوکار دولتمند ایک نیکوکار غریب سے بدرجہا نیکی کے موقع زیادہ رکھتا ہے۔ اس لیے دولت اسلام کی نگاہ میں خدا کی ایک نعمت ہے، لعنت نہیں، ہنر ہے، عیب نہیں، خیر ہے، شر نہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں متعدد موقعوں پر دولت کو خیر اور فضل سے تعبیر کیا گیا اور احادیث سے بھی دولت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

چنانچہ آنحضرت ﷺ کے ایک صحابی نے مرتے وقت یہ چاہا کہ اپنا سارا مال و اسباب خدا کی راہ میں دے دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اہل وعیال کو غنی چھوڑ جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔

آپ کے حلقہ بگوشوں میں دولت مند بھی تھے اور غریب بھی اور دونوں آپ کے دربار میں برابری کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ غریبوں نے آ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہمارے دولت مند بھائی تو ہم سے سبقت لئے جاتے ہیں ہم جو نیکی کے کام کرتے ہیں وہ بھی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ خیرات بھی کرتے ہیں جو ہم نہیں کر پاتے۔ آپ نے ان کو ایک دعا سکھائی کہ یہ پڑھ لیا کرو۔ دولت مند صحابیوں نے یہ سنا تو وہ بھی وہ دعا پڑھنے لگے۔ غریبوں نے پھر جا کر عرض کی تو آپ نے فرمایا یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہے دے۔

آنحضرت ﷺ نے اس عظیم الشان مسئلہ کو جو دنیا میں ہمیشہ سے غیر منفصل اور ناطے شدہ چلا آرہا تھا اپنی روشن تعلیم اور تلقین کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لئے حل کر دیا۔ ایک دفعہ آپ نے تقریر میں فرمایا کہ ''لوگو! مجھے تمہاری نسبت جو ڈر ہے وہ دنیا کے خیر و برکت کا ہے''۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دنیا کے خیر و برکت سے آپ کا کیا مقصود ہے۔ فرمایا ''دنیا کا باغ و بہار'' (عیش و نشاط اور مال و دولت) ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا بھلائی سے بھی برائی پیدا ہوتی ہے؟ سائل کا منشاء یہ تھا کہ دولت جو خیر و برکت ہے وہ فتنہ کیوں کر ہو سکتی ہے۔ آپ نے سوال سن کر ذرا تامل کیا پھر پیشانی سے پسینہ کے قطرے پونچھے پھر فرمایا ''بھلائی سے بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن دولت کی مثال ایک ہرے بھرے چراگاہ کی ہے جس کو موسم بہار نے سرسبز و شاداب بنایا ہو، جب بعض جانور حرص و طمع میں آ کر حد اعتدال سے زیادہ کھا لیتے ہیں تو دیکھو وہی خیر و برکت کی چیز ان کی ہلاکت اور موت کا باعث ہو جاتی ہے، لیکن جو جانور اس کو اعتدال سے چرتا ہے جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ دھوپ کے سامنے ہو جاتا ہے اور کچھ دیر جگالی کرتا ہے فضلہ باہر پھینک دیتا ہے اور پھر چرنے لگتا ہے۔ دولت ایک خوشگوار چیز ہے تو جو شخص اس کو صحیح طریقہ سے خرچ کرے تو یہ دولت اس کے لئے بہترین مددگار ہے لیکن جو شخص اس کو صحیح طریقہ سے حاصل نہیں کرتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا چلا جاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔

اس تقریر میں آنحضرت ﷺ نے مسئلہ کے اہم نکتہ کو واضح فرمادیا اور بتا دیا کہ نفسِ دولت خیر و شر نہیں ہے بلکہ اس کا درست و نادرست طریقہ حصول اور جائز و ناجائز مصرف خیر و شر ہے۔ اگر درست طریقہ سے وہ حاصل کی جائے اور صحیح طریقہ سے خرچ کی جائے تو وہ نیکیوں اور بھلائیوں کا بہتر سے بہتر ذریعہ ہے اگر اس کے حصول و صرف کا طریقہ صحیح نہیں تو وہ بری اور شرانگیز ہے۔ اخلاقی محاسن و معائب، امیر و غریب دونوں کے لئے یکساں ہیں۔ ایک غنی و فیاض و متواضع امیر اور ایک قناعت پسند اور صابر و شاکر غریب اسلام کی نظر میں فضیلت کے ایک ہی درجہ پر ہیں اسی طرح ایک متکبر، بخیل، امیر اور خوشامدی اور لالچی فقیر پستی کی ایک ہی سطح پر ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ دولت کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک طرف امراء اور دولت مندوں کے اخلاق کی اصلاح کی جائے اور دوسری طرف غریبوں اور فقیروں کی امداد اور دستگیری کے ساتھ ان کے اخلاق و عادات کو بھی درست کیا جائے اسلام میں زکوٰۃ اسی عظیم الشان دوطرفہ اصلاح کا نام ہے۔

اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم نے سب سے پہلے حصول دولت کے ناجائز طریقوں دھوکا فریب، خیانت، لوٹ مار، جوا، سود وغیرہ کی سخت سے سخت ممانعت کی۔ سرمایہ داری کے اصول کی حمایت نہیں کی اور اس کا سب سے آسان ترین ذریعہ اور غریبوں کے لوٹنے کے سب سے عام طریقہ سود کو حرامِ مطلق اور خدا اور رسول سے لڑائی کے ہم معنی فرمایا۔ جو زمین یونہی پڑی ہوئی ہے اس کو جو بھی اپنی کوشش سے آباد و سیراب کرے اسی کی ملکیت قرار دی۔ چنانچہ فرمایا ''زمین خدا کی ہے اور سب بندے خدا کے بندے ہیں جو کسی مردہ زمین کو زندہ کرے وہ اسی کی ہے'' متروکہ جائیداد کا مالک کسی ایک کو نہیں بلکہ بقدر استحقاق تمام عزیزوں کو اس کا حصہ دار بنا دیا۔ ممالک مفتوحہ کو امیرِ اسلام کی شخصی ملکیت نہیں بلکہ پوری جماعت کی ملکیت قرار دیا۔ فطرت کی ان بخششوں کو جو انسانی محنت کی ممنون نہیں جیسے پانی، تالاب، گھاس، چراگاہ، نمک کی کان، معدنیات وغیرہ جماعتی تصرف میں دیا اور بن لڑائی کے دشمنوں سے حاصل کی ہوئی زمینوں کو امراء اور دولت مندوں کے بجائے خالص غریبوں اور بیکسوں کا حق قرار دیا اور اس کی وجہ بھی ظاہر کردی۔

﴿ مَآ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِۙ كَىْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ (حشر: ۷) بستیوں والوں کی ملکیت سے اللہ جو اپنے رسول کو ہاتھ لگادے وہ خدا اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کا حق ہے، تاکہ وہ دولت پھر کر تم میں سے دولتمندوں ہی کے لینے دینے میں نہ رہ جائے۔

اس کے بعد اس سلسلہ میں دولت مندی کی سب سے بڑی بیماری بخل کو دنیا میں انسانیت کا بدترین مظہر اور آخرت میں بڑی سے بڑی سزا کا مستوجب قرار دیا اور جو اس گناہ سے پاک ہو اسی کو کامیابی کی بشارت دی، فرمایا:

﴿ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾ (حشر: ۹)

بخل کا مبتلا دوسروں کے ساتھ بخل نہیں کرتا بلکہ درحقیقت وہ خود اپنے ساتھ بخل کرتا ہے وہ اس کی بدولت اس دنیا میں اپنے آپ کو ہر دلعزیزی اور نیک نامی بلکہ جائز آرام و راحت تک سے اور آخرت میں ثواب کی نعمت سے محروم رکھتا ہے، فرمایا:

﴿ وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ وَاللّٰهُ الْغَنِىُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ﴾ (محمد: 38) اور جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اللہ تو غنی ہے اور تم ہی محتاج ہو۔

اس آیت پاک میں درپردہ یہ بھی واضح کردیا کہ جس دولت کو تم اپنی سمجھتے ہو وہ درحقیقت تمہاری نہیں، اصل مالک خدا ہے اور تم خود اس کے محتاج ہو پھر جو شخص مال کا اصلی مالک نہ ہو بلکہ محض امین ہو وہ اصلی مالک کے حکم کے مطابق اس کو صرف نہ کرے اور یہ سمجھے کہ یہ خود اس کی ملکیت ہے اور اس کو اپنی ملکیت میں سے کسی کو کچھ دینے نہ دینے کا اختیار ہے، خائن اور بے ایمان نہ کہا جائے گا؟ درحقیقت یہی تصور کہ یہ مال میرا ہے اور میری شخصیت اور انانیت کی طرف اس کی نسبت ہے دنیا کی تمام برائیوں اور بدیوں کی جڑ ہے۔ اس آیت پاک کی یہ تعلیم اسی جڑ کو کھودتی اور بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیتی ہے۔ پھر دولت کے ان مجازی مالکوں اور امینوں کو یہ بتا دیا گیا کہ ان کو خدا کی عدالت میں اپنی دولت کے ایک ایک ذرہ کا حساب دینا پڑے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ﴾ (تکاثر: 8) پھر اس دن تم سے تمہاری نعمت کا حساب پوچھا جائے گا۔

اس لئے ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنی دولت کو کہاں اور کس طرح صرف کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو جو اپنے روپے کی تھیلیوں کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں تنبیہ کی: ﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ ۝ الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ ۙ ۝ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ ؕ كَلَّا... ﴾ (ہمزہ: 1) برائی ہو اس کی جو طعنہ دیتا اور عیب چنتا ہو جو مال کو سمیٹ کر رکھتا ہو اور اس کو گن گن کر وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے ساتھ سدا رہے گا، ہرگز نہیں۔

فرمایا رشک کرنا صرف دو آدمیوں پر جائز ہے ایک تو اس پر جس کو خدا نے علم دیا ہے اور وہ اس کے مطابق شب و روز عمل کرتا ہے اور دوسرے اس پر جس کو خدا نے دولت دی ہے اور وہ اس کو دن رات خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے. جو لوگ سونے چاندی کو زمین میں گاڑ کر رکھتے ہوں اور کارِ خیر میں خرچ نہ کرتے ہوں ان کو خطاب کیا: ﴿ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۙ ﴾ (توبہ: ۳۴) وہ لوگ جو سونا اور چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔

اس آیت پاک نے صحابہ میں دو فریق پیدا کر دیئے ایک کہتا تھا کہ جو کچھ ملے سب خدا کی راہ میں خرچ کر دینا چاہئے کل کے لئے کچھ نہ رکھنا چاہئے ورنہ جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ اس آیت کے تحت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ دوسرا کہتا تھا خدا نے ہماری دولت میں جو حق واجب ٹھہرایا ہے (یعنی زکوٰۃ) اس کے ادا کرنے کے بعد سرمایہ جمع کرنا عذاب کا مستوجب نہیں۔ لیکن اہل راز صحابہ اور علمائے امت نے اپنے قول و عمل سے اس مشکل کی پوری گرہ کھول دی۔

حضرت موسیٰؑ کی توراۃ میں مقررہ زکوٰۃ ادا کرنے کے سوا مال کی خیرات کی کوئی تعلیم نہیں اور حضرت عیسیٰؑ کی انجیل میں آسمانی بادشاہی کی کنجیاں اسی کے حوالہ کی گئی ہیں، جو سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دے۔ یہ دونوں تعلیمات اپنی اپنی جگہ پر صحیح و درست ہیں لیکن جس طرح پہلی تعلیم بعض بلند ہمت حوصلہ مندوں کے حوصلہ سے کم ہے اسی طرح دوسری تعلیم جو یقیناً ایک بلند روحانی تخیل ہے مگر وہ عملاً عام انسانوں کے حوصلہ سے بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک گونہ انسانی فطرت کے دائرہ سے باہر ہے اور اسی لئے بہت کم لوگ اس پر عمل کر سکے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم موسوی اور عیسوی دونوں شریعتوں کی جامع ہے۔ اسلام نے خیرات کے درجے مقرر کر دیئے ایک قانونی اور دوسری اخلاقی، قانونی خیرات کی وہی مقدار باقی رکھی جو موسوی شریعت میں ملحوظ تھی یعنی نصف مثقال نقد میں اور عشر پیداوار میں یہ وہ کم سے کم خیرات ہے جس کا سالانہ ادا کرنا ہر مستطیع اور صاحب نصاب پر واجب ہے اور اس کا وصول اور خرچ کرنا جماعت کا فرض ہے اور اخلاقی خیرات جس کو ہر انسان کی مرضی اور خوشی پر منحصر رکھا ہے اس کو حضرت عیسیٰؑ کی تعلیم کی طرح بلند سے بلند روحانی تخیل کے مطابق قرار دیا اور بلند ہمت انسانوں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔

صحابہؓ میں دونوں قسم کے لوگ تھے۔ وہ بھی تھے جو کل کے لئے آج اٹھا کر رکھنا حرام سمجھتے تھے جیسے حضرت ابوذرؓ اور وہ بھی تھے جو وقت پر اپنی تمام دولت اسلام کے قدموں پر لا کر ڈال دیتے تھے جیسے حضرت ابوبکرؓ اور ایسے بھی تھے جو اپنی تجارت کا تمام سرمایہ خدا کی راہ میں بیک وقت لٹا دیتے تھے جیسے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور وہ بھی تھے جو خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلا دیتے تھے اور خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچاتے تھے جیسے حضرت علی مرتضیٰؓ اور بعض انصار کرامؓ خدا نے ان کی مدح فرمائی۔

﴿ وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا ﴾ (دہر: 8) اور وہ اپنی ذاتی حاجت کے باوجود اپنا کھانا مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔

﴿ وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾ (حشر: 9) اور وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود حاجت مند ہوں۔

غرض محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم مختلف انسانی طبیعتوں کے موافق اور فطرت سلیمہ کے مطابق ہے اور ہر ایک کے لئے اس کی استعداد اور اہلیت کے مطابق نجات کا دروازہ کھولتی ہے۔ اس نے وہ طریقہ سکھایا ہے جس سے اہل حاجت اور نیک کاموں کے لئے عملاً ہر وقت امداد مل سکے اور ساتھ ہی اہل دل اور اہل استعداد کے مرتبہ کمال کے لئے بلند سے بلند روحانی معیار کی دعوت اور ترغیب بھی پیش کر دی ہے اور اس کی خوبیاں اور بڑائیاں بھی بیان کر دی ہیں تا کہ امت کے باحوصلہ افراد ہمت کے شہپروں سے اڑ کر اس سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔

حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں اسلام کے اس آخری مرتبہ کمال کی تشریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں:۔

"وایں طائفہ جان و مال در باختہ اند و ہیچ کس ماسوا اللہ نہ پرداختہ اند گفتہ ایشاں است الفقیر ماہم مباح و دمہ حد ر یعنی درویش صادق آں بود کہ بخون و مال او را دعویٰ نبود... اگر مالش برند خوش گردد گوید الحمدللہ کہ حجابے از پیش من برداشتند نا گفتہ اند زکوٰۃ نعمت دنیا نزدیک ایں طائفہ محمود نباشد از انکہ بخل ناستودہ است و نقلی تمام باید تا دویست درم را در بند کند و یکسال محبوس دارد آنگاہ پنج درم از اں بدہد"

اس فرقہ نے اپنی جان اور مال کو ہار دیا ہے اور خدا کے سوا کسی سے دل نہیں لگایا۔ اس کا مقولہ ہے کہ درویش وہ ہے جس کا مال وقف اور جس کا خون معاف ہو۔ اس کو اپنی جان و مال پر کوئی دعویٰ نہ ہو.. اگر لوگ اس کا مال اٹھا لے جائیں تو خوش ہو کہ الحمد للہ اس کے اور خدا کے درمیان جو ایک پردہ پڑا تھا وہ اٹھ گیا۔ یہاں تک کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ دنیا کی دولت کو جمع کر کے زکوٰۃ دینا کچھ اچھا نہیں ہے کیوں کہ بخالت تعریف کے قابل نہیں اور اس کے لئے کہ سال میں دو سو درہم جمع ہوں اور پھر وہ ایک سال تک بند پڑے رہیں، تب جا کر ایک سال کے بعد پانچ درہم ان میں سے خدا کی راہ میں دئے، بڑی بخالت کی حالت ہے۔

اس کے بعد حضرت شبلیؒ کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے۔ کسی نے حضرت شبلیؒ سے امتحاناً پوچھا کہ زکوٰۃ کتنے پر ہوتی ہے، فرمایا فقہاء کے مسلک پر جواب چاہئے یا فقراء کے؟ کہا دونوں کے، فرمایا فقہاء کے مذہب کے مطابق ایک سال گزرنے پر دوسو درم میں سے پانچ درم اور فقراء کے مسلک پر فوراً پورے کے پورے دوسو اور اس نذرانہ کی خوشی میں اپنی جان بھی سر پر رکھ کر پیش کرنی چاہئے۔ فقیہ نے کہا ہم نے یہ مذہب آئمہ دین سے حاصل کیا ہے، فرمایا ہم نے یہ مسلک صدیق اکبرؓ سے حاصل کیا ہے کہ جو کچھ تھا وہ سب سرور عالم ﷺ کے سامنے رکھ دیا اور اپنی جگر گوشہ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) کو شکرانہ میں دیا۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتی مثال اسی دوسرے فریق کے مطابق تھی۔ آپ کے پاس عمر بھر کبھی اتنا جمع نہ ہوا کہ زکوٰۃ کی نوبت آئے جو کچھ ہوتا وہ اسی دن اہل استحقاق میں تقسیم ہو جاتا۔ اگر گھر میں رات کو سونے چاندی کے چند خزف ریزے بھی پڑے رہتے، تو گھر میں آرام نہ فرماتے۔ مگر عام امت کے لئے اپنے مسلک کو فرض نہیں قرار دیا بلکہ اتنا ہی ان کے لئے مقرر کیا گیا جو ان کی قوتِ استطاعت اور ہمت کے مطابق ہو، تا کہ نجات کا دروازہ غریبوں اور دولت مندوں کے ہر طبقہ کے لئے یکساں کھلا رہے اور اس لئے تا کہ بے قیدی و عدم پابندی لوگوں کی سستی اور عدم عمل کا باعث نہ ہو۔ مقدار معین کے مالک پر ایک رقم قانوناً فرض کی گئی تا کہ جماعت کے مجبور و معذور افراد کی لازمی طور سے دستگیری ہوتی رہے۔

سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ یہ اصل میں حضرت نے ایک بہت ہی زیادہ اہم مضمون کو گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ یعنی گویا کہ capitalism جس کو ہم کہتے ہیں۔ دولت، مطلب یہ کہ جو جمع کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا پورا ایک نقشہ کھینچا ہے کہ کیسے اس کا علاج کرنا چاہیے۔

در حقیقت مالکِ ارض و سما خداست
ایں امانت چند روزہ نزدِ ماست

یعنی اصل میں تو ہر چیز کا مالک خدا ہے، اور یہ امانت چند روز کے لیے ہمارے پاس ہے، مطلب یہ بنیاد ہے۔ پھر حضرت نے بڑے خوبصورت انداز میں یہ نقشہ کھینچا ہے کہ چونکہ اسلام تدریجی طور پر آیا ہے۔ تدریجی طور پر آیا ہے، تدریجی طور پر نافذ ہوا ہے۔ تدریجی طور پر اس طرح آیا ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے پیغمبر آئے، اپنی اپنی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے ایک پیغام لے کر آئے۔ اس میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جو دو بڑے پیغمبر آئے ہیں، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ایک رخ لیا ہے، تو عیسیٰ علیہ السلام نے دوسرا رخ لیا ہے۔ تقریبا ہر چیز میں۔ تو ہمارے مذہب میں ان دونوں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ جیسے کہ اس مال کے حصے میں موسیٰ علیہ السلام کا عدم استقلال وہ یہ کہ جو خیرات تھا، لازمی تھا۔ اور باقی نہیں تھا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاں پورے کا پورا دے دینا چاہیے تھا۔ تو boundary condition دونوں کی طے ہو گئی تھی۔ اسلام کے اندر ان دونوں کو اس طرح وہ adjust کیا گیا کہ کم سے کم موسیٰ علیہ السلام والا طریقہ، اور عالی ہمت لوگوں کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کا طریقہ۔ یعنی جو عالی ہمت ہے، جو کر سکتے ہیں وہ عیسیٰ علیہ السلام والے طریقے پر عمل کر لیں، یعنی اپنے طور پر خود کچھ نہ رکھیں۔ جو ملے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ یہ بات کی۔ جن میں ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسلک ہے اور اس طریقے سے مطلب ہے کہ کچھ حضرات تھے جو کہ زکوۃ دیتے تھے اور بوقتِ ضرورت مال خرچ کرتے تھے، جیسے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح کے۔

تو یہ دونوں طریقے اسلام کے اندر گویا کہ آ گئے۔ اب اس میں جو اسلام پر عمل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے، ہر حوصلے والے آدمی کے لیے گنجائش ہے۔ جن کا حوصلہ کم ہے وہ اس کم سے کم پر عمل کر لیں، یعنی فرض و واجب پر عمل کر لیں۔ باقی اس کے لیے معاف ہے۔ نفلی درجے میں ہے۔ اور جو عالی ہمت ہے وہ نفلی بھی وہ کر لے۔

اب دیکھیں، عشاء کی نماز پڑھ لو اور فجر کی نماز پڑھ لو، درمیان میں آپ سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا آپ سو جائیں۔ لیکن اگر پوری رات اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا رہے اور عشاء کی نماز بھی پڑھ لے اور فجر کی بھی پڑھ لے تو کیا دونوں برابر ہیں؟ اس کا درجہ یقیناً اونچا ہے۔ لیکن سب کے اوپر نہیں ہے۔ تہجد کی نماز بہت اونچی نماز ہے لیکن سب کے لیے نہیں ہے۔ نفل بنا دیا گیا۔ اگر کوئی مطلب پڑھنا چاہے تو اس کی بہت بڑی فضیلت بتائی گئی۔ لیکن اگر کوئی نہ پڑھ سکے تو اس پر لازم نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ کوئی آدمی تہجد پڑھ رہا ہو اور دوسرا آدمی تہجد نہیں پڑھ رہا، تو اس کو یہ حق نہیں کہ تہجد نہ پڑھنے والے کو کم سمجھے۔ یا اس کو ملامت کرے۔ تو اس طریقے سے جو اپنا پورا مال خرچ نہیں کر رہا اور دوسرا پورا مال خرچ کر رہا ہے۔ اور دوسرا آدمی پورا مال تو خرچ نہیں کر رہا لیکن زکوۃ دے رہا ہے تو اس کو اس کی ملامت کا حق نہیں ہے۔ ہاں اس کا مقام اونچا ضرور ہے۔ اس کا مقام اونچا ضرور ہے لیکن اس کو ملامت کرنے کا حق نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے گویا کہ بہترین طریقے سے یہ ماشاءاللہ یہ adjustment ہو گئی۔

تو سرمایہ دارانہ نظام جو ہے، سرمایہ دارانہ نظام، اس کا جو بنیاد ہے وہ ہے دولت کی مشین کے ذریعے سے مزید دولت کو لوگوں سے کھینچنا۔ زیادہ دولت کے ذریعے سے کم دولت کو اپنی طرف کھینچنا یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کیا ہے؟ کہ اپنی بڑی زیادہ دولت کی بنیاد پر آپ کم دولت مند شخص کی جو تھوڑی دولت ہے وہ بھی اپنی طرف کھینچ لو۔ اس کو money pump کہتے ہیں۔ تو جو money pump ہے اس کے ذریعے، جیسے سود ہے۔ سود کے ذریعے سے لوگ پیسوں کی بنیاد پر پیسے کھینچتے ہیں۔

ایک صاحب سے کسی نے کہا کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ وہ ذرا سادہ آدمی تھے۔ اس نے ایک روپیہ لے لیا اور ایک دکاندار کے جو گلے ہیں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور انتظار کر رہا ہے کہ اب پیسے اس کی طرف آئیں گے۔ تو آخر کافی دیر کھڑا رہا، غصے میں اس نے پھینک دیا گلے میں پھینک دیا اس کو۔ تو دکاندار نے کہا "کیا بات ہے بھئی کیا ہو گیا؟" کہتا ہے "مجھے کسی نے کہا پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے، تو یہ تو کھینچ نہیں رہا تھا تو غصے میں میں نے پھینک دیا۔" انہوں نے کہا "بات تو ٹھیک تھی نا، زیادہ پیسوں نے تھوڑے کو کھینچ لیا۔" زیادہ پیسوں نے تھوڑے کو کھینچ لیا۔

تو یہ money pump اس کے ذریعے سے جو مالدار لوگ ہوتے ہیں وہ جب غریب ہوتا ہے اس پر قابل رحم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے دل میں رحم کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔ وہ اسی دولت کی بنیاد پر ہی غریبوں سے، جو کہ مستحق تھے امداد کے، وہ ان کی جیب سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو کہ اس کے پاس بیچارے کے پاس ہوتا۔ تو یہ سرمایہ دارانہ نظام کی پوری theory ہے۔ تو اسلام نے اس سرمایہ دارانہ نظام کی بالکل بیخ کنی کی ہے، اس انداز میں کہ جو غریب ہیں ان کا حق بنایا مالدار لوگوں کے مال میں، کم سے کم زکوۃ کی صورت میں۔ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کی صورت میں۔ اور بہت سارے مصارف اس طرح قائم کر دیئے جس کے ذریعے سے ان غریب لوگوں کی دلجوئی ہو سکے۔ مثلاً کفارہ، غریبوں کو کھانا کھلانا۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ جو نذر نیاز اور یہ تمام چیزیں، وہ سب اس میں شامل ہیں کہ مطلب غریبوں کو پہنچائیں۔ یا ہمارے حج کے موقع پر جو دم ہے۔ ہاں یہ بھی سارے مطلب ہے کہ اس قسم کی ایک چیز ہے کہ وہ غریبوں کو کھلانا ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اسلام نے ایک انتہائی بہترین طریقے سے معاشرے کو balance کرنے کی صورت پیدا فرمائی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔