شریعتِ محمدیہ میں نظامِ زکوٰۃ: مصارف، انقلابی اصلاحات اور اس کے روحانی و سماجی ثمرات

درس 27 : زکوٰۃ کے مصارف اور ان میں اصلاحات، دو ضرورتمندوں میں ترجیح، اسلام میں زکوٰۃ کے مصارف ہشت گانہ، زکوٰۃ کے مقاصد، فوائد اور اصلاحات اور تزکیہ نفس

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • گزشتہ شریعتوں (خصوصاً حضرت موسیٰ عليه السلام کی شریعت) اور شریعتِ محمدی ﷺ میں زکوٰۃ کے نظام کا تقابلی جائزہ۔
  • قرآنِ مجید کی سورۃ التوبہ کے حوالے سے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف (فقراء، مساکین، عاملین وغیرہ) کی تفصیلی تشریح۔
  • پیشہ ور (Professional) بھکاریوں کی نفسیات اور مستحقین کی درست پہچان کا طریقہ۔
  • زکوٰۃ و صدقات میں اقربا پروری کے بجائے مستحق رشتہ داروں کو ترجیح دینے کا شرعی اصول اور اس کی حکمت۔
  • زکوٰۃ کا روحانی و اخلاقی مقصد: تزکیہِ نفس، حبِ مال کا علاج اور معاشرتی فلاح (سود اور زکوٰۃ کا تقابل)۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

معزز خواتین و حضرات! آج جمعے کی رات ہے۔ اور جمعے کی رات ہمارے ہاں سیرت کے موضوع پر بات ہوا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، الحمد للہ! اللہ جل شانہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

تو اس سلسلے میں حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی کتاب سیرت النبی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ جس میں زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی ہے۔ تو آج ہے زکوٰۃ کے مصارف اور ان میں اصلاحات۔

زکوٰۃ کے مصارف اور ان میں اصلاحات:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تین قسم کی زکوٰۃ تھی؛ ایک آدھے مثقال سونے چاندی کی یہ رقم جماعت کے خیمہ یا پھر بیت المقدس کی تعمیر و مرمت اور قربانی کے طلائی و نقرئی ظروف و سامان کے بنانے میں خرچ کی جاتی تھی۔ (خروج 30: 13) دوسری خیرات یہ تھی کہ کھیت کاٹتے اور پھل توڑتے وقت حکم تھا کہ جا بجا کونوں اور گوشوں میں کچھ دانے اور پھل چھوڑ دیئے جائیں۔ وہ غریبوں اور مسافروں کا حصہ تھا۔ (احبار 19: 10) اور سوم یہ تھی کہ ہر تیسرے سال کے بعد پیداوار اور جانوروں کا دسواں حصہ خدا کے نام پر نکالا جائے اس کے مصارف یہ تھے کہ دینے والا مع اہل و عیال کے بیت المقدس جا کر جشن منائے اور کھلائے اور کھلائے اور لاویوں میں جو مورتی کاہن اور خدا کے گھر کے خدمت گزار ہیں نام بنام تقسیم کیا جائے (اس کے بدلے میں وہ خاندانی وراثت سے محروم رکھے گئے تھے) اس کے بعد یہ چیزیں بیت المقدس کے خزانہ میں جمع کر دی جاتی تھیں کہ ان سے مسافروں، یتیموں اور بیواؤں کو کھانا کھلایا جائے۔ (استثناء 14: 26 سے 29 تک)

شریعتِ محمدیہ نے مذہب کی حقیقت میں سب سے بڑی جو اصلاح کی۔

1۔ وہ عبادت میں خدا اور بندہ کے درمیان سے واسطوں کا حذف کرنا تھا۔ یہاں ہر شخص اپنا آپ امام اور کاہن ہے۔ اس بنا پر مفت خور کاہنوں اور عبادت گاہوں کے خادموں کی ضرورت ساقط ہو گئی اور اس لئے زکوٰۃ کا یہ مصرف جو قطعاً بیکار تھا کلیتہً اڑ گیا۔

2۔ عبادت میں سادگی پیدا کر کے ظاہری رسموں اور نمائشوں سے اس کو پاک کر دیا گیا اس لئے سونے چاندی کے سامانوں قربانی کے برتنوں اور محرابوں کے طلائی شمع دانوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

3۔ حج ان ہی پر واجب کیا گیا جن کے پاس زادِ راہ ہو اس لئے ہر شخص کو خواہ مخواہ بیت اللہ جانے کی حاجت نہ رہی اور اس لئے یہ رقم بھی خارج ہو گئی۔

4۔ زکوٰۃ کی چیز کو مالک کے ذاتی ضروریات اور کھانے میں صرف ہونے کی ممانعت کر دی گئی کہ اگر وہ مالک ہی کے ضروریات میں خرچ ہو گئی تو اس میں ایثار کیا ہوا۔

5۔ اسی طرح وہ تمام سامان اور رقمیں جو ان مدوں سے بچیں، غریبوں، مسکینوں اور مسافروں وغیرہ کو دے دی گئیں۔

یعنی ایک تو یہ بات ہے کہ جو مصارف تھے، ان میں تبدیلی کی گئی۔ مصارف۔۔۔ یعنی کہاں کہاں صرف کیا جا سکتا ہے، کہاں کہاں صرف نہیں کیا جا سکتا۔ تو غیر ضروری مصارف جو تھے وہ ختم کیے گئے۔

گذشتہ اصلاحات کے علاوہ شریعت محمدیہ نے زکوٰۃ کے سلسلہ میں بعض اور اصلاحیں بھی کی ہیں مثلاً:

6۔ شریعت سابقہ میں ایک بڑی تنگی یہ تھی کہ زکوٰۃ خود مستحقین کے حوالہ نہیں کی جاتی تھی بلکہ ذخیرہ میں جمع ہو کر اس کا کھانا پک کر غرباء میں تقسیم ہوتا تھا لیکن عام انسانی ضرورتیں صرف کھانے تک محدود نہیں ہیں۔ اس لئے شریعت محمدیہ نے اس رسم میں یہ اصلاح کی کہ غلہ یا رقم خود مستحقین کو دے دی جائے تا کہ وہ جس طرح چاہیں اپنی ضروریات میں صرف کریں۔

7۔ ایک بڑی کمی یہ تھی کہ نقد زکوٰۃ جو آدھے مثقال والی تھی وہ بیت المقدس کے خرچ کے لئے مخصوص تھی اس کے علاوہ کوئی دوسری نقد زکوٰۃ نہ تھی۔ شریعت محمدیہ نے بیس مثقال پر آدھا مثقال نقد زکوٰۃ فرض کر کے اس کو بھی تمام تر مستحقین کے ہاتھوں میں دے دیا۔

8۔ غلہ کی صورت یہ تھی کہ سارے کا سارا بیت المقدس چلا جاتا تھا اور وہیں سے وہ پکوا کر تقسیم کیا جاتا تھا۔ یہ انتظام بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی قوم کے لئے تو شاید موزوں ہو سکتا ہو مگر ایک عالمگیر مذہب کے تمام عالم میں منتشر پیروؤں کے لئے یہ بالکل ناممکن تھا اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ ہر جگہ کی زکوٰۃ اسی مقام کے مستحقین میں صرف کی جائے۔

9۔ بعض منافقین اور دیہاتی بدوؤں کی یہ حالت تھی کہ وہ اس قسم کے صدقات کی لالچ کرتے تھے۔ جب تک ان کو امداد ملتی رہتی خوش اور مطمئن رہتے اور جب نہ ملتی تو طعن و طنز کرنے لگتے۔ اسلام نے ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے اور ان کی مفت خوری کی عادت بد کی اصلاح کے لئے زکوٰۃ کے جملہ مصارف کی تعیین کر دی اور بتا دیا کہ اس کے مستحق کون لوگ ہیں اور اس رقم سے کس کس کو مدد دی جا سکتی ہے۔ چنانچہ سورۂ توبہ کے ساتویں رکوع میں اس کا مفصل ذکر ہے۔

10۔ اگر زکوٰۃ کے مصارف کی تعیین نہ کی جاتی اور اس کے مستحقین کے اوصاف نہ بتا دیئے جاتے تو یہ تمام سرمایہ خلفاء اور سلاطین کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتا اور سلطنت کی دوسری آمدنیوں کی طرح یہ بھی ان کے عیش و عشرت کے پر تکلف سامانوں کی نذر ہو جاتا اس لئے تاکید کر دی گئی کہ جو غیر مستحق اس کو لے گا اس کے لئے یہ حرام ہے اور جو شخص کسی غیر مستحق کو اپنی زکوٰۃ جان بوجھ کر دے گا تو اس کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ اسی بندش کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں زکوٰۃ تا بامکان اب تک صحیح مصارف میں خرچ ہوتی ہے۔

اب بھی لوگوں کی کوشش ہے کہ اس کو اس طرح کر لیا جائے جیسے غامدی وغیرہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ یعنی Tax کی طرح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے Tax میں کمی بیشی حکومت کر سکتی ہے، اس طرح زکوٰۃ میں بھی کمی بیشی کر سکتی ہے۔ اس قسم کے لوگ اب بھی موجود ہیں۔ لیکن اللہ پاک نے اس کا بہت مضبوط بنیادوں پر فیصلہ فرمایا ہے، لہٰذا کوئی بھی اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔

11۔ اس قسم کی مالی رقوم جب کوئی اپنے پیروؤں پر عائد کرتا ہے تو اس کی نہایت قوی بدگمانی ہو سکتی ہے کہ وہ اس طرح اپنے اور اپنے خاندان کے لئے ایک دائمی آمدنی کا سلسلہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ حضرت موسیٰ کی شریعت میں زکوٰۃ کا مستحق حضرت ہارون اور ان کی اولاد (بنولاوی) کو ٹھہرایا گیا تھا، کہ وہ خاندانی کاہن مقرر ہوئے تھے۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اس قسم کی بدگمانیوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا اور اپنے خاندان کے لئے قیامت تک زکوٰۃ کی ہر مد قطعی طور پر حرام قرار دی۔

یہ اصل میں واقعی بہت بڑی تبدیلی ہے۔ ابھی بھی دیکھیں کہ خانقاہوں میں اور دوسری جگہوں پر بھی اس قسم کے معاملات ہوتے ہیں، مسجدوں میں بھی ہوتے ہیں، کہ وہ خاندانی سلسلے چل پڑتے ہیں۔ تو یہ اس سے مذہب کا وہ زبردست انتظام ہے کہ اس میں جن کی وجہ سے سارا کچھ ملا ہے، ان کو زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جا سکتی۔

12۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف قرار دیئے گئے۔

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (توبہ۔8)

زکوٰۃ کا مال تو غریبوں مسکینوں اور زکوٰۃ کے صیغہ میں کام کرنے والوں، اور ان لوگوں کے لئے ہے جن کے دلوں کو اسلام کی طرف ملانا ہے اور گردن چھڑانے میں جو تاوان بھریں ان میں اور خدا کی راہ میں اور مسافر کے بارہ میں یہ خدا کی طرف سے ٹھہرایا ہوا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (اس لئے اس کی یہ تقسیم علم و حکمت پر مبنی ہے)

فقراء میں ان خود دار اور مستور الحال شرفاء کو ترجیح دی ہے جو دین اور مسلمانوں کے کسی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے کوئی نوکری چاکری یا بیوپار نہیں کر سکتے اور حاجت مند ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور اپنی آبرو اور خودداری کو ہر حال میں قائم رکھتے ہیں چنانچہ فرمایا:

﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ۔37)

ان مفلسوں کو دینا ہے جو اللہ کی راہ میں اٹک رہے ہیں اور زمین میں (روزی حاصل کرنے کے لئے) چل پھر نہیں سکتے، ناواقف ان کے نہ مانگنے کی وجہ سے ان کو بے احتیاج سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرہ سے پہچانتے ہو کہ وہ حاجت مند ہیں، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔

یہ اور لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مانگتے نہیں۔

تمام مستحقین کو درجہ بدرجہ ان کی اہمیت اور اپنے تعلق کے لحاظ سے دینا چاہئے۔ چنانچہ اسی سورہ میں فرمایا:

﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ﴾ (بقرہ۔۲۲)

اور جس نے خدا کی محبت پر (یا مال کی محبت کے باوجود) قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مانگنے والوں اور (غلاموں یا مقروضوں کی) گردن چھڑانے میں مال دیا۔

اس کے تین چار رکوع کے بعد ہے۔

﴿قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (بقرہ۔۳۶)

کہو جو تم مال خرچ کرو وہ اپنے ماں باپ رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے۔

دو ضرور تمندوں میں ترجیح:

اسلام سے پہلے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ قرابت مندوں اور رشتہ داروں کے دینے سے اجنبی بیگانہ اور بے تعلق لوگوں کو دینا زیادہ ثواب کا کام ہے اور اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی تھی کہ اپنے لوگوں کے دینے میں کچھ نہ کچھ نفسانیت کا اور ایک حیثیت سے خود غرضی کا شائبہ ہوتا ہے کیوں کہ وہ اپنے ہی رشتہ دار ہیں اور ان کا نفع و نقصان اپنا ہی نفع و نقصان ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک قسم کا اخلاقی مغالطہ اور فریب تھا۔ ایک انسان پر دوسرے انسان کے جو حقوق ہیں وہ تمام تر تعلقات کی کمی و بیشی پر مبنی ہیں۔ جو جتنا قریب ہے اتنا ہی زیادہ آپ کے حقوق اس پر اور اس کے حقوق آپ پر ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو رشتہ داری اور قرابت مندی کے فطری تعلقات بالکل لغو اور مہمل ہو جائیں۔ انسان پر سب سے پہلے اس کا اپنا حق ہے پھر اہل و عیال کا۔ ان کے جائز حقوق ادا کرنے کے بعد اگر سال میں کچھ بچ رہے تو اس میں حصہ پانے کے سب سے زیادہ مستحق قرابت دار ہیں۔ چنانچہ وراثت اور ترکہ کی تقسیم میں اس اصول کی رعایت کی گئی ہے۔

یہ ایک بہت اہم بات ہے، جو کہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ دیکھیں، اگر آپ باہر والوں کو دیتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو نہیں دیتے۔ جو اپنے رشتہ دار ہیں، ان کو نہیں دیتے۔ تو اب ظاہر مطلب ہے کہ باہر والے مثال کے طور پر بہت زیادہ یعنی غریب ہیں مثلاً۔ تو اس پہ ساری دنیا کی نظر ہوگی۔ تو ان کو تو سارے لوگ دیں گے، تو وہ ضرورت سے زیادہ مالدار ہو جائیں گے۔ اور جو اپنے قریبی قریبی لوگ ہیں، جن کو سارے لوگ جانتے ہیں، وہ محروم ہو جائیں گے۔ تو ہر ایک اپنے قریبی لوگوں کا ذمہ دار ہے۔ اپنے قریبی لوگوں کا ذمہ دار ہے، کیونکہ ان کو وہ جانتا ہے۔ تو ایک تو اس میں مستحق کی پہچان آسانی کے ساتھ ہو سکتی ہے، دھوکہ نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرا یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ پر چیز مل جائے گی۔

اب مثال کے طور پر، میں کراچی اپنی زکوٰۃ بھیج دوں، تو یہاں راولپنڈی کے غریب کیا کریں گے؟ ان کو کیا کراچی والے بھیجیں گے؟ مطلب ظاہر ہے وہ تو محروم ہو جائیں گے۔ تو اس وجہ سے، اپنے اپنے علاقے میں تقسیم ہونا چاہیے۔ یہ زیادہ preferable ہے۔ اور اپنے علاقے کے مقابلے میں اپنے خاندان میں زیادہ بہتر ہے۔ اور اپنے خاندان میں زیادہ قریبی رشتہ داروں میں، جن کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، مثلاً بہن ہے، بھائی ہے، بھتیجی ہے، بھتیجا ہے۔ ان لوگوں کو زیادہ دینا ثواب ہے اگر وہ حاجت مند ہوں، یعنی وہ غریب ہوں۔

یہ سمجھنا بھی کہ اگر قرابت داروں کو ترجیح دی جائے تو دوسرے غریبوں کا حق کون ادا کرے گا ایک قسم کا مغالطہ ہے دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی کا رشتہ دار ضرور ہے

یہ بات آگئی۔۔۔

اس بنا پر اگر ہر شخص اپنے رشتہ داروں کی خبر گیری کرے تو کل انسانوں کی خبر گیری ہو جائے گی اس کے علاوہ اس مقام پر ایک اور غلط فہمی بھی ہے جس کو دور ہو جانا چاہئے مستحقین میں باہم ایک کو دوسرے پر جو فوقیت ہے اس کا مدار دو چیزوں پر ہے ایک تو دینے والوں سے ان اشخاص کے قرب و بعد کی نسبت، دوسرے ان اشخاص کی حاجتوں اور ضرورتوں کی کمی و بیشی۔ قرابت مندوں کی ترجیح کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خواہ ان کی ضرورت کتنی ہی کم اور معمولی ہو ان کو ان لوگوں پر ترجیح ہے جن کی ضرورت اور حاجتمندی ان سے کہیں زیادہ ہے بلکہ مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ اگر دو ضرورت مند برابر کے حاجت مند ہوں اور ان میں سے ایک آپ کا عزیز یا دوست یا ہمسایہ ہو تو وہ آپ کی امداد کا زیادہ مستحق ہوگا۔ یعنی ضرورت اور حاجت کی مساوات کے بعد تعلقات کی کمی و بیشی ترجیح کا دوسرا سبب بنے گی نہ کہ پہلا سبب اور یہ انسان کی فطرت ہے کہ ایسی حالت میں وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو ترجیح دے۔

فقراء اور مساکین میں سے ان لوگوں پر جو بے حیائی کے ساتھ در بدر بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو ترجیح دی گئی ہے جو فقر و فاقہ کی ہر قسم کی تکلیف گوارا کرتے ہیں، لیکن اپنی عزت و آبرو اور خودداری کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں۔ یہ تعلیم خود قرآن پاک نے دی ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا نیز آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا، مسکین وہ نہیں ہے جس کو ایک دو لقمے در بدر پھرایا کرتے ہیں۔ صحابہؓ نے دریافت کیا پھر کون مسکین ہے۔ ارشاد ہوا، وہ جس کو حاجت ہے لیکن اس کا پتہ نہیں چلتا اور وہ کسی سے مانگتا نہیں۔

اس تعلیم کے دو مقصد ہیں ایک تو یہ کہ ان بھیک مانگنے والوں کو تو کوئی نہ کوئی دے ہی دے گا اور وہ کہیں نہ کہیں سے پا ہی جائیں گے اس لئے ان کی طرف اس قدر اعتنا ضروری نہیں، اصلی توجہ ان مستور الحال مسکینوں کی طرف ہونی چاہئے جو صبر و قناعت کے ساتھ فقر و فاقہ کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں کہ ان کی خبر اکثریت کو نہیں ہو سکتی اور اکثر وہ امداد سے محروم رہ جاتے ہیں، دوسرا مقصد یہ ہے کہ شریعت اپنی تعلیم اور عمل سے یہ ثابت کر دے کہ بے حیا گداگروں کی عزت اس کی نگاہ میں نہایت کم ہے اور وہ ہر حال میں اس بے حیائی کو ناپسند کرتی ہے۔

یہ دیکھیں نا، یہ والی بات اب اچھی طرح سمجھ میں آ جانی چاہیے۔ کہ جو لوگ دربدر پھرتے ہیں اور مانگتے ہیں تو ابھی آج کے اخبار میں تھا کہ ایک غریب گداگر وہ Accident ہوا، موٹر سائیکل نے اس کو مارا۔ تو اس کے پاس سے اسی ہزار روپے برآمد ہوئے۔ اس کے پاس پڑے ہوئے تھے، 80,000 روپے۔ اور مانگ رہا تھا۔ تو اب ان کو کیا کریں؟ تو ایسے Professional لوگ جو ہوتے ہیں ان کو تو طریقے بھی آتے ہیں۔

اس کا ایک زبردست Test ہے۔ پتہ نہیں، میں پہلے بتا چکا ہوں یا نہیں، بہت بہترین Test ہے اس کا۔ دینے سے پہلے آپ ذرا تھوڑا سا، ایک Side پہ ہو کر اس کا جائزہ لیں۔ کہ جس وقت وہ مانگتا ہے اس کا Face کیسا ہے؟ اور جس وقت وہ مانگ نہیں رہا اس کا Face کیسا ہے؟ چہرہ کیسا ہے؟ جو واقعی مستحق ہوتا ہے نا، اس کا چہرہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ چونکہ اس کو وہ تکلیف رفع تو نہیں ہوئی نا۔ وہ تو مسلسل ہے۔ لیکن جو مستحق صحیح نہیں ہے، وہ Actor ہے۔ تو Acting تو Acting کے وقت کرے گا نا۔ وہ جب اس کا کسی کی طرف دھیان نہیں ہوگا تو وہ بالکل عام، بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ ہوگا۔ یعنی اس میں وہ چیز نہیں ہوگی، وہ مانگنے والی جو چیز ہوتی ہے، غریب شکل اور معصوم شکل جو بنائی جاتی ہے۔ وہ چیز نہیں ہوگی، وہ Change ہو جائے گی۔

تو یہ بہت آسان Test ہے، اگر کوئی کرنا چاہے تو اس کو کیا جا سکتا ہے۔ کہ دیکھے کہ آیا وہ اسی حالت میں ہے یا نہیں؟ ہم نے دیکھا ہے، مسجدوں میں جو کھڑے ہو جاتے ہیں اور رونا شروع کر لیتے ہیں، تھوڑی دیر بعد پھر ان کو دیکھیں۔ بالکل Normal ہو جاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصل میں وہ Professional ہیں۔ تو Professionalism کی وجہ سے انہوں نے طریقے سیکھے ہوتے ہیں، رونا بھی ان کو آتا ہے۔ مانگنے کا طریقہ بھی ان کو آتا ہے، اور لوگوں کے جذبات کو انگیخت کرنے کا طریقہ بھی ان کو آتا ہے۔ لہٰذا وہ، یہ کرتے ہیں اور پھر لوگ ان کے سامنے بیوقوف بنتے رہتے ہیں۔

شریعت نے مصارف زکوٰۃ کی تعیین و تحدید اس غرض سے بھی کی ہے تاکہ ہر شخص کو مانگنے کی ہمت نہ ہو اور ہر کس و ناکس اس کو اپنی آمدنی کا ایک آسان ذریعہ نہ سمجھ لے۔ جیسا کہ بعض منافقین اور اہل بادیہ نے اس کو اپنے ایمان و اسلام کی قیمت سمجھ رکھا تھا۔ چنانچہ وحی الٰہی نے ان کی پردہ دری ان الفاظ میں کی ۔

﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ ۰ وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ ۰ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ﴾ (توبہ۔8)

اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو تجھ کو (پیغمبر کو) زکوٰۃ بانٹنے میں طعن دیتے ہیں اگر ان کو اس میں سے ملے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے تو وہ ناخوش ہو جائیں اور کیا خوب تھا اگر وہ اس پر راضی رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہیں کہ ہم کو اللہ بس ہے، ان کو اللہ اپنی مہربانی سے اور اس کا رسول دے رہیں گے ہم کو تو خدا ہی چاہئے زکوٰۃ تو حق ہے غریبوں کا، مسکینوں کا، اور اس کا کام کرنے والوں کا، اور ان کا جن کا دل (اسلام کی طرف) پرچانا ہے، اور گردن چھڑانے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں میں یہ حصے خدا کی طرف سے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔

ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے زکوٰۃ کے مال میں سے کچھ پانے کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا ”اے شخص اللہ تعالیٰ نے مال زکوٰۃ کی تقسیم میں کسی انسان کو بلکہ پیغمبر تک کو کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔ بلکہ اس کی تقسیم خود اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اس کے آٹھ مصرف بیان کر دیئے ہیں اگر تم ان آٹھ میں سے ہو تو میں تم کو دے سکتا ہوں۔“

یہ والی بات ہے۔

اسلام میں زکوٰۃ کے مصارف ہشت گانہ:

یہ آٹھوں مصارف نیکی، بھلائی اور خیر و فلاح کی ہر قسم اور ہر صنف کو محیط ہیں، فقراء اور مساکین میں وہ تمام اہل حاجت داخل ہیں جو اپنی محنت و کوشش سے اپنی روزی کمانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسے بوڑھے، بیمار، اندھے، لولے، لنگڑے، مفلوج، کوڑھی، یا وہ جو محنت کر سکتے ہیں لیکن موجودہ حالت میں دین وملت کی کسی ایسی ضروری خدمت میں مصروف ہیں کہ وہ اپنی روزی کمانے کی فرصت نہیں پاتے، جیسے مبلغین، مذہبی معلمین، بالغ طالب العلم جو ﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ﴾ میں اسی طرح داخل ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں اصحاب صفہ داخل تھے اور وہ کم نصیب بھی داخل ہیں جو اپنی پوری محنت اور کوشش کے باوجود اپنی روزی کا سامان پیدا کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں اور فاقہ کرتے ہیں۔

﴿وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ یعنی امام کی طرف سے صدقہ کی تحصیل وصول کا کام کرنے والے بھی اس میں سے اپنے کام کی اجرت پاسکتے ہیں اور ﴿وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ﴾ (جن کی تالیف قلوب کی جائے) میں وہ لوگ داخل ہیں جن کو ابھی اسلام کی طرف مائل کرنا ہے یا جن کو اسلام پر مضبوط کرنا ہے ﴿وَفِي الرِّقَابِ﴾ (گردن کے چھڑانے میں) اس سے مقصود وہ غلام ہیں جن کی گردنیں دوسروں کے قبضہ میں ہیں اور ان کو خرید کر آزاد کرنا ہے اور وہ مقروض ہیں جو اپنا قرض آپ کسی طرح ادا نہیں کر سکتے ﴿وَالْغَارِمِينَ﴾ (تاوان اٹھانے والوں) سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جنہوں نے دوسرے لوگوں اور قبیلوں میں مصالحت کرانے کے لئے کسی مالی ضمانت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔ یہ مالی ضمانت ایک قومی نظام کی حیثیت سے زکوٰۃ کے بیت المال سے ادا کی جا سکتی ہے۔ ﴿وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ﴾ (خدا کی راہ میں) ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر قسم کے نیک کاموں کو شامل ہے۔ ۱؎ اور حسب ضرورت کبھی اس سے مذہبی لڑائی یا سفر حج یا اور دوسرے نیک کام مراد لئے جاسکتے ہیں اور ﴿وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (مسافر) میں مسافروں کی ذاتی مدد کے علاوہ مسافروں کی راحت رسانی کے سامان کی تیاری مثلاً راستوں کی درستی، پلوں اور مسافر خانوں کی تعمیر بھی داخل ہو سکتی ہے۔ یہ ہیں زکوٰۃ کے وہ آٹھ مقررہ مصارف جن میں اسلام نے اس قومی ومذہبی رقم کو خرچ کرنے کی تاکید کی ہے۔

مسکینوں، فقیروں اور معذوروں کی امداد:

زکوٰۃ کا سب سے اہم مصرف یہ ہے کہ اس سے لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، کوڑھی، مفلوج اور دوسرے معذور لوگوں کی امداد کی جائے۔ نادار یتیموں بیواؤں اور ان لوگوں کی خبر گیری کی جائے جو اپنی کوشش اور جدوجہد کے باوجود روزی کا سامان نہیں کر پاتے۔ یہ زکوٰۃ کا وہ مصرف ہے جو تقریباً ہر قوم میں اور ہر مذہب میں ضروری خیال کیا گیا ہے اور ان مستحقین کی یہ قابل افسوس حالت خود کسی مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ لیکن اسلام نے ان کے علاوہ زکوٰۃ کے چند اور ایسے مصارف مقرر کئے ہیں جن کی اہمیت کو خاص طور سے صرف اسلام ہی نے محسوس کیا ہے۔

ان میں کیا ہے؟

غلامی کا انسداد:

غلامی انسان کے قدیم تمدن کی سب سے بوجھل زنجیر تھی یہ زنجیر انسانیت کی نازک گردن سے صرف اسلام نے کاٹ کر الگ کی، غلاموں کے آزاد کرنے کے فضائل بتائے ان کے ساتھ نیکی احسان اور حسن سلوک کی تاکید کی اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ زکوٰۃ کی آمدنی کا ایک خاص حصہ اس کے لئے نامزد فرمایا کہ اس سے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جائے لیکن چونکہ غلاموں کو آزاد کرنے کی پوری قیمت یا اس کی آزادی کا پورا زر فدیہ ہر ایک شخص برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لئے زکوٰۃ کی مجموعی رقم سے اجتماعی طور سے اس فرض کو ادا کرنے کی صورت تجویز کی انسانوں کے اس درماندہ طبقہ پر یہ اتنا بڑا عظیم الشان احسان کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر دنیا کے محسنین کی فہرست میں نظر نہیں آسکتی۔

پیغمبر اسلامؐ کی شریعت نے صرف اس لئے کہ انسانوں کے اس واجب الرحم فرقہ کو اپنی کھوئی ہوئی آزادی واپس ملے، اپنی امت پر ایک دائمی رقم واجب ٹھہرا دی کہ اس کے ذریعہ سے نیکی کے اس سلسلہ کو اس وقت تک قائم رکھا جائے جب تک دنیا کے تمام غلام آزاد نہ ہو جائیں یا اس رسم کا دنیا کی تمام قوموں سے خاتمہ نہ ہوجائے۔

مسافر:

گذشتہ زمانہ میں سفر کی مشکلات اور دقتوں کو پیش نظر رکھ کر یہ بہ آسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ مسافروں کی امداد اور ان کے لئے سفر کے وسائل و ذرائع کی آسانی کی کتنی ضرورت تھی۔ صحرا اور بیابان جنگل اور میدان آبادی اور ویرانی ہر جگہ آنے جانے والوں کا تانتا لگا رہتا تھا اور اب تک یہ سلسلہ قائم ہے۔ یہ وہ ہیں جو اپنے اہل وعیال عزیز واقارب دوست واحباب مال و دولت سے الگ ہو کر اتفاقات اور حوادث کے سیلاب سے بہہ کر کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں ان کے پاس کھانے کے لئے کھانا، پینے کے لئے پانی ،سونے کے لئے بستر ، اوڑھنے کے لئے چادر نہیں ہوتی اور یہ حالت ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت پیش آجاتی ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ان کے آرام و آسائش کا سامان کیا جائے اسی اصول پر سرائیں، کنوئیں، مسافر خانے پہلے بھی بنوائے جاتے تھے اور اب بھی بنوائے جاتے ہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب اس اسٹیم اور بجلی کے عہد میں یہ تمام مشکلیں افسانہ کہن اور داستان پارینہ ہوگئی ہیں اب ہر جگہ اچھے سے اچھے ہوٹل ، تیز سے تیز سواریاں، بڑے سے بڑے بنک، اور آمدورفت کا سامان کرنے والی کمپنیاں قائم ہوگئی ہیں اور سفر و حضر میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ مگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو کچھ ہوا ہے یہ صرف دولتمندوں اور سرمایہ داروں کی راحت و آسائش کے لئے ہوا

یعنی ان کے لیے ہوا ہے۔

اور ان کے ان نئے طریقوں نے پرانے طریقوں کے پرانے آثار کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہے۔ آج متمدن دنیا کے بڑے سے بڑے پررونق شہروں سے لے کر معمولی دیہاتوں تک میں جہاں امیر اور دولتمند مسافروں کے لئے قدم قدم پر ہوٹل، ریستوران ، قہوہ خانے، اور آرام خانے موجود ہیں وہاں اس پورے مسیحی ملک میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح ایک غریب مسافر کے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ کسی کی جیب میں جب تک کسی بنک کا نوٹ اور چیک نہیں اس کے لئے ہوٹلوں اور اقامت خانوں کے تمام دروازے بند ہیں۔ کیا یہ انسانیت کے لئے رحم ہے؟ کیا یہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی ہے؟ لیکن ان تمام ملکوں کے طول وعرض میں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کے قبضہ میں آئے سراؤں، مسافرخانوں، کنوؤں اور مہمان خانوں کا وہ وسیع سلسلہ قائم ہو گیا کہ ایک غریب مسلمان سپین کے کنارہ سے چل کر کاشغر کے ایک گاؤں میں بہ آرام و آسائش پہنچ جاتا تھا اور ہندوستان کے اس سرے سے روم کے اس سرے تک ﴿اَهْلاً بِاَهْلٍ وَادٍ طَاناً بِاَوْطَانٍ﴾ کہتا ہوا بے خطر چلا جاتا تھا اور آج بھی اس نظام کی بدولت ان اسلامی ملکوں میں جو ابھی یورپ کے سرمایہ دارانہ طور وطریق سے واقف نہیں ہیں غریب مسافروں کو وہی آرام و آسائش حاصل ہے اور امراء اور دولتمندوں کے لئے کیا کہنا کہ ایک پرانے جہاں گرد سیاح بزرگ (سعدی) کے مقولہ کے مطابق:

منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

یعنی مطلب یہ ہے کہ جو منعم ہوتا ہے وہ کہیں پہ بھی جاتا ہے وہ غریب نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے لیے ہر جگہ خیمے موجود ہیں، اطمینان موجود ہے۔

جماعتی کاموں کے اخراجات:

جب تک منتشر افراد ایک شیرازہ میں نہیں بندھ جاتے حقیقت میں جماعت کا وجود نہیں ہوتا۔ لیکن جماعت کے وجود کے ساتھ ہی افراد کی طرح جماعت کو بھی ضروریات پیش آتی ہیں، جماعت کے کمزوروں معذوروں اور مفلسوں کی مدد جماعت اور اس کے اصول کی حفاظت کے لئے سرفروشانہ مجاہدہ کی صورت میں اس کے اخراجات کی کفالت، جماعت کی آمدورفت اور سفر کے وسائل کی ترقی و تعمیر، جماعت کی خاطر جماعت کے مالی نقصان اٹھانے والوں اور مقروضوں کی امداد کرنا، جماعت کے ان کارکنوں کو معاوضہ دینا جو جماعت کی مذہبی علمی تعلیمی خدمات بجالائیں اور اس رقم کی فراہمی اور نظم و نسق کے فرائض انجام دیں زکوٰۃ اسی نظام جماعت کا سرمایہ دولت ہے۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ جو جماعتی کام ہوتے ہیں ان میں کہ ان کے جو اخراجات ہیں وہ بھی اسی میں ہیں۔

زکوٰۃ کے مقاصد، فوائد اور اصلاحات:

زکوٰۃ کا اصلی اور مرکزی مقصد وہی ہے جو خود لفظ ”زکوٰۃ“ کے اندر ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی پاکی اور صفائی کے ہیں یعنی گناہ اور دوسری روحانی قلبی اور اخلاقی برائیوں سے پاک وصاف ہونا قرآن پاک میں یہ لفظ اسی معنی میں بار بار آیا ہے۔ سورہ والشمس میں ہے۔

﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴾ (شمس۔1)

مراد پایا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک وصاف کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو میلا اور گندہ کیا۔

ایک اور سورہ میں ہے

﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴾ (اعلیٰ۔1)

مراد پایا وہ جو پاک و صاف ہوا۔

یہ تزکیہ اور پاکی وصفائی نبوت کی ان تین عظیم الشان خصوصیتوں میں سے ایک ہے جن کا ذکر قرآن پاک کی تین چار آیتوں میں آیا ہے۔

﴿ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾ (بقرہ و جمعہ۔1)

وہ نبی خدا کی آیتیں پڑھ کر ان کو سناتا ہے اور ان کو گناہوں سے پاک وصاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔

تزکیۂ نفس:

ان آیتوں سے اندازہ ہوگا کہ زکوٰۃ اور تزکیہ یعنی پاکی و صفائی کی اہمیت اسلام اور شریعت محمدی میں کتنی ہے؟ یہ دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت، مذہب کی اصل غایت اور نبوتوں کا اصل مقصد ہے۔ انسانوں کی روحانی و نفسانی بیماریوں کے بڑے حصہ کا سبب تو خدا سے خوف ورجاء اور تعلق و محبت کا نہ ہونا ہے اور اس کی اصلاح نماز سے ہوتی ہے۔ لیکن دوسرا بڑا سبب غیر اللہ کی محبت اور مال و دولت اور دیگر اسباب دنیا سے دل کا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اسی دوسری بیماری کا علاج ہے

کیا Connection ہے جی! سبحان اللہ۔ یہ اس کتاب کا کمال ہے کہ اس میں وہ، مطلب جو باتیں یعنی ہم لوگ As it is لیتے ہیں۔ As it is مطلب یہ ہے کہ بس ہم پڑھ کے لے لیتے ہیں کہ ہاں یہ صحیح ہے۔ یہاں پر اس کی سند مل جاتی ہے، یہاں پر اس کی سمجھ مل جاتی ہے۔ یعنی یہ بڑی بات ہے۔ دیکھو کہ

زکوٰۃ اور تزکیہ یعنی پاکی اور صفائی کی اہمیت اسلام اور شریعتِ محمدی میں کتنی ہے، یہ دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت مذہب کی اصل غایت اور نبوتوں کا اصل مقصد ہے۔ انسانوں کی روحانی اور نفسانی بیماریوں کے بڑے حصے کا سبب تو خدا سے خوف و رجاء اور تعلق و محبت کا نہ ہونا ہے۔ اس کی اصلاح نماز سے ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ خدا سے خوف اور رجاء کا نہ ہونا، یعنی الإِيمَانُ بَيْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ، اور تعلق و محبت کا نہ ہونا۔ اس کی اصلاح تو نماز سے ہو جاتی ہے۔ لیکن جو دوسرا سبب ہے، غیر اللہ سے محبت۔ یعنی مال سے محبت، دولت سے محبت، دیگر اسبابِ دنیا سے محبت، یہ جو دل کا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اس کا علاج ہے۔

غزوہ تبوک کے موقع پر جب بعض صحابہؓ سے باغ و بستان کی محبت کے سبب سے، جو ان کی دولت تھی، غزوہ میں عدم شرکت کا جرم ثابت ہوا ہے اور پھر ان کی صداقت اور سچائی کے باعث خدا نے ان کو معاف کیا ہے وہاں محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

﴿ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ﴾ (توبہ۔13)

ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کر ان کو پاک وصاف بنا۔

اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے محبوب مال میں سے کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں دیتے رہنے سے انسانی نفس کے آئینہ کا سب سے بڑا زنگ جس کا نام "محبت مال" ہے دل سے دور ہو جاتا ہے۔ بخل کی بیماری کا اس سے علاج ہو جاتا ہے۔ مال کی حرص بھی کم ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ شخصی خود غرضی کی بجائے جماعتی اغراض کے لئے اپنے اوپر ایثار کرنا انسان سیکھتا ہے اور یہی وہ دیواریں ہیں جن پر تہذیب نفس اور حسن خلق کی عمارت قائم اور جماعتی زندگی کا نظام ہے۔

قرآن مجید میں سود اور صدقہ میں جو حد فاصل قرار دی گئی ہے، وہ یہ ہے۔

﴿ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ﴾ (بقرہ۔38)

خدا سود کو گھٹاتا اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ درحقیقت سود میں نقصان اور صدقہ کے مال میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ مشاہدہ بالکل برعکس ہے۔ بلکہ اخروی ثواب وگناہ اور برکت و بے برکتی کے فرق کے علاوہ اصلی مقصد اس سے یہ ہے کہ سود گو شخصی دولت میں اضافہ کرتا ہے لیکن جماعتی دولت کو برباد کر دیتا ہے جس سے پوری قوم مفلس ہو جاتی ہے اور آخر وہ شخص بھی تباہ ہو جاتا ہے اور قومی صدقہ وعطا سے قوم کے نہ کمانے والے افراد کی امداد ہو کر قومی دولت کا معتدل نظام باقی رہتا ہے اور ساری قوم خوشی اور برکت کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اگر سود لینے والا کبھی اتفاقی مالی خطرہ میں پڑ جاتا ہے تو اس کی مدد کے لئے جماعت ایک انگلی تک نہیں ہلاتی لیکن صدقہ دینے والے کی امداد کے لئے پوری قوم کھڑی ہو جاتی ہے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ سود خور اس قدر حریص اور طماع ہو جاتے ہیں کہ ان کو مال کی کثیر مقدار بھی کم نظر آتی ہے اور جو لوگ صدقہ اور زکوٰۃ دینے کے خوگر ہوتے ہیں وہ اس قدر مستغنی اور قانع ہو جاتے ہیں کہ ان کے لئے تھوڑا مال بھی کافی ہوتا ہے۔ سود خور اپنے مال کے اضافہ اور ترقی کی حرص میں اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ جس تلوار سے دوسروں کو قتل کر کے اس کی دولت پر قبضہ کرتا ہے آخر اسی تلوار سے دوسرا اس کو قتل کر کے اس کے تمام اصل ومنافع پر بیک دفعہ قبضہ کر لیتا ہے۔ لیکن صدقہ وخیرات دینے والا جو دوسروں کی دولت ناجائز طریق سے نہیں لوٹتا بلکہ خود دوسروں کو اپنے مال سے دیتا ہے اور سلامت روی کے ساتھ اپنے کاروبار کو چلاتا ہے، اس کو کوئی دوسرا بھی نہیں لوٹتا وہ اپنے سرمایہ اور قلیل منافع کو محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے تجارتی شہروں کی منڈیاں اور کوٹھیاں اس عبرت انگیز واقعہ کی پوری تصویر ہیں اور یہ ہر روز کا مشاہدہ ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ استغنا اور قناعت ایسی چیز ہے جو تمام اخلاقی محاسن کا سنگ بنیاد ہے۔ بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے نہایت بلیغ وحکیمانہ طریق سے یہ ارشاد فرمایا کہ:

﴿ لَيْسَ الْغِنٰى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنٰى غِنَى النَّفْسِ ﴾

تونگری دولت کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ مال کی بے نیازی کا نام ہے۔

اس حدیث کا ترجمہ سعدی نے ان لفظوں میں کیا ہے "تونگری بدل ست نہ بمال" دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ دولت آمدنی کی زیادتی کا نام نہیں بلکہ ضروریات کی کمی کا نام ہے لیکن یہ غیر فانی دولت حرص وطمع سے نہیں بلکہ صبر وقناعت کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ اس بناء پر کیا کسی کو زکوٰۃ وصدقہ کے مظہر مزکی اور مصلح اخلاق ہونے میں شبہ ہوسکتا ہے؟

سود خور کو دوسروں کو لوٹنے سے اتنی فرصت کہاں ملتی ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کا فرض ادا کرے وہ تو ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ دوسرے مصیبتوں اور دقتوں میں پھنسیں اور وہ ان کی اس حالت سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں وہ ہمیشہ قابل ہمدردی اشخاص کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مال ودولت سے اس کی مدد کر کے ان کے زخم دل پر مرہم رکھ سکیں۔