اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات کو ہمارے ہاں درود شریف کی مجلس ہوتی ہے اور ساتھ سیرت النبی... اں... پہ جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمة الله عليه کی تحقیقات ہیں۔ ان میں سے کچھ پڑھا جاتا ہے۔
الحمدللہ بہت... گہرے علوم ہیں حضرت کے پاس، اور نماز کے بارے میں بہت ہی زیادہ... یعنی... اہم اور مفید معلومات دینے کے بعد، انشاءاللہ آج زکوٰۃ کے بارے میں حضرت کی بات کو ہم سنیں گے، انشاءاللہ۔
زکوٰۃ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: وَآتُوا الزَّكَاةَ۔ زکوٰۃ کی حقیقت اور مفہوم۔ حضرت... مطلب اس انداز میں بات کرتے ہیں تاکہ... ساری چیزیں سمجھ میں آ جائیں۔ نماز کے بعد، جس کا اصل تعلق خالق اور مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے، اور جس کا ایک بڑا فائدہ نظامِ جماعت کا قیام ہے، اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکوٰۃ ہے، جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے۔
دیکھیں کیسے خوبصورت طریقے سے... تشریح کر رہے ہیں۔ یعنی نماز جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا... ذریعہ ہے اور زکوٰۃ یہ اللہ کے لیے... لوگوں کے ساتھ تعلق کا ذریعہ ہے۔ ماشاءاللہ۔ اور جس کا اہم فائدہ نظامِ جماعت کے قیام کے لیے مالی سرمایہ باہم پہنچانا ہے۔ زکوٰۃ کا دوسرا نام صدقہ ہے، جس کا اطلاق تعمیم کے ساتھ ہر مالی اور جسمانی امداد اور نیکی پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن فقہِ اسلام میں زکوٰۃ صرف اس مالی امداد کو کہتے ہیں جو ہر مسلمان، ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہے۔
اصل میں شریعت میں جتنے بھی... احکامات ہیں، ان کے جو نام ہیں... وہ اس کے دو، مطلب ہوتے ہیں، محل ہوتے ہیں۔ ایک اس کا عمومی... محل ہوتا ہے، یعنی عمومی طور پر عربی کے لحاظ سے اور... عرف کے لحاظ سے، معاشرے کے لحاظ سے... یعنی... جس میں... سب برابر ہوتے ہیں۔ اہ... اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟ اور ایک شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب کیا ہے؟ اب زکوٰۃ... یہ اس کا عرفی نام جو ہے ناں، وہ تو... اور ہے... یعنی پاکی۔ اور... جو ہے ناں، مطلب یہ ہے کہ... ایک خاص... مال کی وہ پاکی ہے جو کہ کچھ... حصہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دینے سے، حکم کے ساتھ دینے سے جو ہے ناں وہ پاکی اس میں آتی ہے۔ اس کے لیے بتایا جاتا ہے۔ اس طرح صلوٰۃ ہے۔ اس کا اپنا ایک... مطلب عرفی... مطلب بھی ہے۔ لیکن یہ... ایک خاص مطلب... ایک خاص طریقے سے... جو شریعت نے مقرر کیا ہے، وہ اور ہے۔
زکوٰۃ گزشتہ مذاہب میں۔ زکوٰۃ بھی ان عبادات میں سے ہے جو تمام آسمانی مذاہب کے صحیفوں میں فرض بتائی گئی، لیکن ان کے پیروؤں نے اس فرض کو اس حد تک بھلا دیا تھا کہ بظاہر ان کے مذہبی احکام کی فہرست میں اس کا نام بھی نظر نہیں آتا۔ حالانکہ قرآن پاک کا دعویٰ ہے اور اس کی تائید مختلف آسمانی صحیفوں سے ہوتی ہے کہ جس طرح نماز ہر مذہب کا جزوِ لاینفک تھی، اس طرح زکوٰۃ بھی تمام مذاہب کا ہمیشہ ضروری جزو رہی ہے۔ بنی اسرائیل سے خدا کا جو عہد تھا، تو اس میں نماز اور زکوٰۃ دونوں تھیں۔ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ۔ بنی اسرائیل سے اقرار لیا تھا کہ کھڑی رکھیو نماز اور دیتے رہیو زکوٰۃ۔ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ۔ اے بنی اسرائیل اگر تم کھڑی رکھتے ہو نماز کو اور دیتے رہتے ہو... دیتے رہتے ہو زکوٰۃ کو۔
حضرت اسماعیل عليه السلام کے ذکر میں: وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولاً نَبِيًّا وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ۔ اور قرآن میں اسماعیل کا ذکر کر، بے شک وہ وعدے کا سچا تھا، اور وہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر تھا، اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتا تھا، اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔ حضرت عیسیٰ عليه السلام کہتے ہیں: وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا۔ اور خدا نے مجھے زندگی بھر نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی تاکید کی ہے۔
تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر زمین کی پیداوار اور جانوروں میں ایک عشر یعنی دسواں حصہ... احبار 27، 30، 32۔ نیز ہر بیس برس یا اس سے زیادہ عمر والے پر، خواہ امیر ہو یا غریب، آدھا مثقال دینا واجب تھا۔ خروج 30... اہ... خروج 15... 13، 15، 30۔ ساتھ ہی غلہ کاٹتے وقت گرا پڑا اناج، کھلیان کے منتشر بالیں اور پھل والے درختوں میں کچھ پھل چھوڑ دیتے تھے۔ جو اموال کی زکوٰۃ تھی اور یہ عملاً ہر تیسرے سال واجب الادا ہوتی تھی۔ یہ رقم بیت المقدس کے خزانے میں جمع کی جاتی تھی۔ اس کا ساٹھواں حصہ مذہبی عہدہ دار پاتے تھے۔ دسواں حصہ حضرت ہارون عليه السلام کی اولاد... لاویین، قومی خادمان ہونے کی حیثیت سے لیتے تھے۔ اور ہر تیسرے... سال میں دسواں حصہ بیت المقدس کے حاجیوں کی مہمانی کے لیے رکھا جاتا تھا۔ اس مد سے عام مسافروں، غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کو روزانہ کھانا پکا کر تقسیم کیا جاتا تھا۔ اور نقد آدھے مثقال والی زکوٰۃ کی رقم جماعت کے خیمہ یا مسجدِ بیت المقدس اور قربانی کے ظروف، آلات کی خریداری کے خرچ کے لیے رہتی تھی۔
حضرت عیسیٰ عليه السلام نے شریعتِ موسوی کے انتظامی قواعد میں کوئی ترمیم نہیں کی بلکہ ان کی روحانی کیفیت پر زیادہ زور دیا۔ انجیل لوقا... 10، 8... میں ہے... کہ جو اپنا عشر، زکوٰۃ، ریا، ریا، نمائش اور فخر کے لیے دیتا ہے، اس سے عشر بہتر ہے جو اپنے قصور پر نادم ہے۔ اسی انجیل کے 21 ویں باب کی پہلی آیت میں ہے: اگر کوئی دولت مند ہیکل کے خزانوں میں اپنی زکوٰۃ کی بڑی رقم ڈالے، اور اس کے مقابلے میں کوئی غریب بیوہ خلوصِ دل سے دو دمڑی ڈالے، تو اس کی زکوٰۃ کا مرتبہ اور رتبہ اس دولت مند کی زکوٰۃ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ حضرت عیسیٰ عليه السلام نے لوگوں کو ترغیب دی کہ جس کے پاس جو کچھ ہو، خدا کی راہ میں لٹا دے۔ کیونکہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزر جانا آسان ہے، مگر دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔ متی 19، 24۔ ساتھ ہی انہوں نے خود اپنی طرف سے نیز اپنے رفیقوں کی طرف سے اپنا ادنیٰ، اپنا، ادائی کا باوجود آدھے مثقال والی زکوٰۃ ادا کی۔
تورات کے زمانے میں چونکہ دولت زیادہ تر زمین کی پیداوار اور جانوروں کے گلوں تک محدود تھی، اس لیے انہی دو چیزوں کی زکوٰۃ کا زیادہ ذکر آیا ہے۔ سونا چاندی اور ان کے سکوں کی چونکہ قلت تھی، اس لیے ان کی زکوٰۃ کا ذکر ایک دو جگہ ہے۔ اس بنا پر یہودیوں نے نقد... زکوٰۃ کی اہمیت محسوس نہیں کی۔ علاوہ بریں زکوٰۃ کی مدت کی تعین... کہ وہ ہر سال یا دوسرے یا تیسرے سال واجب الادا تھی۔ نیز یہ کہ اس کا مصرف کیا ہے، یعنی وہ خود... کہاں خرچ کی جائے، اس کی تفصیل بھی خود تورات کی زبان سے کم سنائی دیتی ہے۔ غرض وہ جو کچھ ہو مگر حالت یہ تھی کہ یہود نے اس فرض کو بھلا دیا تھا اور خصوصاً عرب میں، جہاں کہ دولت کے وہ تنہا مالک بیٹھے تھے، چند کے سوا اکثر اس فرض کا دھیان بھی نہیں تھا۔ قرآن نے ان کو یاد دلایا: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ... ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ۔ اور تم، بنی اسرائیل، سے معاہدہ تھا کہ نماز کھڑی رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا۔ پھر تم پھر گئے مگر تم میں سے تھوڑے، اور تم دھیان نہیں دیتے۔
عیسوی مذہب میں گو سب کچھ دینے کا حکم تھا مگر یہ حکم ہر ایک کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا تھا۔ اور نہ ہر شخص اس پر عمل کر سکتا تھا۔ دوسرے مذاہب میں بھی اگرچہ خیرات اور... دان کرنے کے احکام موجود تھے... تاہم ان کے لیے کوئی نظام اور اصول مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ ورنہ ہر شخص پر قانوناً کوئی رقم واجب الادا تھی... جس کے ادا کرنے پر وہ مجبور ہو سکتا تھا۔
اسلام کی اصلاح میں تکمیل۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے اس بارے میں بھی اپنے تکمیلی کارنامے انجام دیے۔ اس نے نہایت خوبی اور دقتِ نظر کے ساتھ زکوٰۃ کا پورا نظام تیار کیا۔ انسان کے مالی کاروبار کا معیار عموماً سالانہ آمدنی سے قائم ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام نے زکوٰۃ کی مدت سال بھر کے بعد مقرر کی اور ہر سال اس کا ادا کرنا ضروری قرار دیا۔ ساتھ ہی اس نے دولت کے تین سرچشمے قرار دیے۔ سونا، چاندی اور جانور اور پیداوار۔ ان میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ شرح مقرر کی۔ سونے چاندی میں سے چالیسواں حصہ اور پیداوار میں دسواں حصہ مقرر تعین کیا۔ جانوروں کی مختلف قسموں میں ان کی مختلف تعداد پر ان کی قدر و قیمت کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف شرحیں قرار دیں۔ پھر زکوٰۃ سے ہر قسم کے مصارف کی تعین اور تحدید کی اور اس کی تحصیل، وصول اور جمع و خرچ کے احکام بیت المال سے متعلق کیے۔ یہ تو اجمال تھا، اب تفصیلی حیثیت سے اس میں سے ہر ایک پہلو پر شریعتِ محمدی کے تکمیلی حیثیت کو نمایاں کرنا ہے۔
اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت۔ اسلام کی تعلیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کی صحیفہ وحی میں نماز کے ساتھ ساتھ جو فریضہ سب سے اہم نظر آتا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔
نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور زکوٰۃ حقوق العباد میں سے۔ ان دونوں فریضوں کا باہم لازم ملزوم... ملزوم اور مربوط ہونا اس حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی یکساں لحاظ رکھا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز کا ذکر ہے اس کے متصل ہی ہمیشہ زکوٰۃ کا بھی بیان ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں 82 مقامات پر اقامتِ صلاۃ کے بعد ایتاءِ زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ یا ﴿أَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ﴾۔ اور زکوٰۃ ادا کرنے کی مدح یا اس کے دینے اور نہ دینے والے کا تذکرہ اس کے علاوہ ہے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اسلام میں زکوٰۃ کی کیا اہمیت ہے۔
بارگاہ نبوی میں آ کر جب کسی نے اسلام کے احکام دریافت کیے تو ہمیشہ آپ ﷺ نے نماز کے بعد زکوٰۃ کا پہلا درجہ دیا۔ صحیحین کی کتاب الایمان میں اس قسم کی متعدد حدیثیں ہیں جس میں یہ ترتیب ملحوظ رہی۔ بلکہ کبیرہ اسلام کی شرائط بیعت میں داخل کی گئی، چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم ﷺ سے بیعت تین باتوں پر کی: نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنا۔ وفد عبدالقیس نے 5 ہجری میں نبوت کے آستانہ پر حاضر ہو کر جب اسلام کی تعلیمات دریافت کیں، تو آپ ﷺ نے اعمال میں پہلے نماز پھر زکوٰۃ کی جگہ دی۔ 9 ہجری میں جب آپ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا ہے تو اسلام کے مذہبی فرائض کی ترتیب بتائی کہ پہلے ان کو توحید کی دعوت دینا، جب وہ جان لیں تو ان کو بتانا کہ دن میں پانچ وقت کی نماز ان پر فرض ہے۔ جب وہ نماز پڑھ لیں تو انہیں بتانے کا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال میں ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے دولتمندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔
صحابہ رضوان اللہ اجمعین جو لوگ شریعت کے رازداں تھے، وہ اس نقطہ سے اچھی طرح واقف تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد جب اہلِ عرب نے بغاوت کی اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف تلوار کھینچ لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو توحید کا قائل ہو اس کا خون روا نہیں، اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: خدا کی قسم! جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا، میں اس سے لڑوں گا کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے... مال کا حق۔ خدا کی قسم! جو رسولِ خدا کے زمانے میں بھیڑ کا ایک بچہ بھی دیتا تھا، اس کو دینا پڑے گا۔ حقیقت میں یہ ایک لطیف نقطہ تھا جس کو صرف شریعت کا محرم اسرار سمجھ سکتا تھا۔ اس نے سمجھا اور امت کو سمجھایا اور سب نے اس کے سامنے اطاعت کی گردن جھکا دی۔
نماز اور زکوٰۃ کے باہمی ارتباط کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ اسلام کی تنظیمی زندگی صرف دو بنیادوں پر قائم ہے، جن میں سے ایک روحانی، دوسرا مادی ہے۔ اسلام کا نظام روحانی نماز باجماعت سے اور جو کسی مسجد میں ادا ہو، قائم ہوتا ہے۔ اور نظام مادی زکوٰۃ سے جو کسی بیت المال میں جمع ہو کر تقسیم و مرتب ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں چیزیں اسلام میں ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں۔ ان کی انفرادی حیثیت کے ساتھ اس کی اجتماعی حیثیت پر بھی شریعتِ محمدی نے خاص زور دیا ہے۔ نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پا جاتی ہے، لیکن اپنی فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے۔ اس طرح زکوٰۃ بیت المال کے مجتمعی صورت کے علاوہ بھی ادا ہو جاتی ہے مگر اس پر اس کی فرضیت کے بعض اہم مقاصد فوت ہو جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں جب بعض قبیلوں نے یہ کہا تو وہ زکوٰۃ بیت المال میں داخل نہیں کریں گے بلکہ بطورِ خود اس کو صرف کر دیں گے، تو شریعتِ محمدی کے شناسائے راز نے ان کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں زکوٰۃ ادا کرنے پر مجبور کیا۔ کہ اگر ان کی یہ بات تسلیم کی جاتی تو اسلام کے وحدت کا رشتہ اس وقت پارہ پارہ، مسلمانوں کی امامت اور جماعت کا نظام اس وقت درہم برہم ہو جاتا۔
درحقیقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کا ماخذ قرآن پاک کی یہ آیت تھی:﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ... فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ان مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ، تو اگر وہ توبہ کریں اور نماز کھڑی کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کو آزادی دیں۔
الغرض زکوٰۃ، یا دوسرے الفاظ میں غریبوں کی چارہ گری، مسکینوں کی دستگیری، مسافروں کی امداد، یتیموں کی خبر گیری، بیواؤں کی نصرت، غلاموں اور قیدیوں کی اعانت، نماز کے بعد اسلام کی عبادت کا دوسرا رکن ہے۔ اور اس فریضہ کی سب سے پہلے اہمیت ہے جو مذاہب کی تاریخ میں نظر آتی ہے۔
اصل میں اگر دیکھا جائے تو سورہ بقرہ کی بالکل ابتدائی رکوع جو ہے، اس میں ایمانیات اور عبادات اور یقین، تین چیزوں کو جمع کیا گیا ہے۔ ایمانیات میں ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ اور ﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ﴾۔ عبادات میں ﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾۔ اور یقین بالاخرت ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں بالکل ابتدا میں۔ گویا کہ ان تین چیزوں سے پورے دین کی تشکیل ہو جاتی ہے۔ تو اس وقت اکثر میں جب اس کے بارے میں بات کرتا تھا تو میں عرض کر لیتا تھا کہ ایک جانی عبادت ہے ایک مالی عبادت ہے۔ لیکن آج حضرت کے تعبیرات کی روشنی میں عرض کیا جا سکتا ہے کہ ایک اسلام کا روحانی نظام ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق والا، اور ایک مادی نظام ہے اور معاشی۔ تو روحانی نظام نماز ہے اور مادی نظام جو ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ اور ایمانیات میں غیب پر ایمان ہے اور وحی پر ایمان ہے۔ اور آخرت پر یقین ہے۔ اگر یہ تین چیزیں لوگوں کو مل جائیں تو اللہ پاک کا صریح وعدہ ہے: ﴿أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ﴾ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ ﴿وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پائیں گے۔
یعنی مکمل فلاح کے لیے اللہ جل شانہ نے اعمال کا جو ڈھانچہ دیا اور ایمان و اعمال کا، اس میں یہ بات ہے کہ ایمان تو غیب پر ہے، جس کا ذریعہ وحی ہے۔ جس کا ذریعہ وحی ہے۔ اور اعمال جانی ہیں یا مالی، یا یوں سمجھ لیجئے کہ روحانی ہیں اور یا مادی ہیں۔ ان سب کو کرنا۔ اور آخرت پر یقین۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے، عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے عمل کیا۔ تو آخرت کا مطلب کیا ہے؟ کیونکہ آخرت کے لیے جو عمل ہوتا ہے وہ خدا کے لیے ہوتا ہے۔ اور جو یہاں کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے مطلب مادی زندگی کے لیے ہوتا ہے۔ تو یہاں پر ہم لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ماشاءاللہ اسلام نے ہمیں دونوں نظاموں کی تفصیل دی ہوئی ہے۔ ان میں سے نماز کے بارے میں پہلے بات ہوئی، اب زکوٰۃ کی بات چل رہی ہے۔
زکوٰۃ کا آغاز اور تدریجی تکمیل۔ جس طرح عام نماز کا آغاز اسلام کے ساتھ ساتھ ہوا اور مدینہ آکر وہ رفتہ رفتہ تکمیل کو پہنچی، اس طرح زکوٰۃ یعنی مطلق مالی خیرات کی ترغیب بھی ابتدائے اسلام ہی سے شروع ہوئی تھی۔ لیکن اس کا پورا نظام آہستہ آہستہ فتح مکہ کے بعد قائم ہوا۔ بعض مورخوں اور محدثوں کو اس بناء پر 8 ہجری میں زکوٰۃ کی فرضیت کی تصریح ملتی ہے۔ اس سے پہلے کے واقعات میں جو زکوٰۃ کا لفظ آیا ہے، اس سے پریشانی ہوئی ہے۔ حالانکہ شروع اسلام میں زکوٰۃ کا لفظ صرف خیرات کا مترادف تھا۔ اس کی مقدار، نصاب، سال اور دوسری خصوصیات جو زکوٰۃ کی حقیقت میں داخل ہیں، وہ بعد کو رفتہ رفتہ مناسب حالات کے پیدا ہونے کے ساتھ تکمیل کو پہنچیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام صرف دو لفظوں سے مرکب ہے: خدا کا حق اور بھائیوں کا حق۔ پہلے لفظ کا مظہر اعظم نماز اور دوسرے کا زکوٰۃ ہے۔ اس لیے محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ حق جب بلند ہوئی تو اس پکار کی ہر آواز انہی دو لفظوں کی تفصیل اور تشریح تھی۔ آپ ﷺ جس طرح بعثت سے پہلے غار حرا میں چھپ کر خدا کی یاد، یعنی نماز میں مصروف رہتے تھے، اس طرح بے کس اور لاچار انسانوں کی دستگیری بھی فرمایا کرتے تھے۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے بعثت کے وقت آپ ﷺ کی نسبت جو فرمایا کہ آپ قرابت داروں کا حق پورا ادا کرتے ہیں، قرض داروں کا قرض ادا کرتے ہیں، غریبوں کو کماتے ہیں، مہمانوں کو کھلاتے ہیں، لوگوں کو مصیبتوں میں مدد دیتے ہیں، غور کرو کیا زکوٰۃ انہی فرائض کے مجموعے کا نام نہیں؟
اسی بناء پر یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ نماز اور زکوٰۃ توام ہیں، اور انہی دو اجمالی حقیقتوں کی تشریح کا نام اسلام ہے۔ سورہ مدثر اگرچہ وحی کی ابتدائی سورت ہے، لیکن اس سر زمین میں وہ تمام بیج موجود ہیں، جس سے آگے، آگے چل کر رفتہ رفتہ احکام اسلام کا عظیم الشان تناور درخت تیار ہوا۔ اس میں نماز کی تمام تفصیلات کو صرف ایک لفظ میں ادا کیا: ﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ اور اپنے پروردگار کی بڑائی کر۔ پروردگار کی بڑائی نماز کی روح ہے، جو اس سورت میں موجود ہے۔ اس کے بعد ﴿وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ﴾ اور بدلہ بہت چاہنے کے لیے کسی پر احسان نہ کر۔ یہی وہ بیج ہے جس سے زکوٰۃ کے تمام برگ و بار برآمد ہوتے ہیں۔
سورہ مدثر کے بعد سورہ مزمل اتری ہے، اس میں ایک ہی ایت میں ان دونوں کا موجود اور زکوٰۃ کی کس قدر تفصیل بھی دی گئی ہے: ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا﴾ اور نماز کھڑی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو ایک اچھا قرض دو، اور جو تم آگے بھیجو گے اپنے واسطے اس کو خدا کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ پاؤ گے۔
بعثت کے پانچویں سال جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ وغیرہ ہجرت کر کے حبشہ گئے ہیں اور نجاشی نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے اسلام کی حقیقت اور اس کی تعلیمات دریافت کی ہیں، تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں جو تقریر کی، اس میں یہ ہے: "اور وہ پیغمبر ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم نماز پڑھیں، روزے رکھیں اور زکوٰۃ دیں۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام زکوٰۃ یا مالی خیرات کا آغاز اسلام کی ابتداء میں ہو چکا تھا۔ اور وفد عبد القیس، کہ جو تقریباً پانچ ہجری میں آیا تھا، سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے جن احکام کی تعلیم دی، اس میں ایک زکوٰۃ بھی تھی۔
اسی طرح چھ ہجری میں جب نجاشی شاہ روم، ہرقل کے پہنچنے کے بعد، ابوسفیان سے، جو اس وقت تک کافر تھے، اسلام کی تعلیمات دریافت کیں، تو انہوں نے دوسری چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ اور صدقہ کا بھی تذکرہ کیا۔ ان واقعات سے بخوبی واضح ہے کہ آٹھ ہجری سے پہلے ہجرت سے بھی پہلے بعثت کے بعد ہی نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کی تعلیم بھی موجود تھی۔ لیکن چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تعلیم صرف نظریوں کا پیش کرنا نہیں تھا، بلکہ امت کو عموما اسلام کی تعلیمات پر کاربند بنانا تھا، اس لیے حالات کے اقتضاء اور مناسبت کے ساتھ ساتھ تعلیمات کے تفصیلی اجزاء اور ان کے متعلقہ احکام کی تشریح آہستہ آہستہ آہستہ تکمیل کو پہنچائی گئی۔
میں جب اس نظام پر غور کرتا ہوں جو نظامِ دعوت ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ ہی مجھ پر نظامِ تربیت کے راستے کھلتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح اسلام متعارف ہوا، تدریجاً... یعنی اسلام پر ایمان جو ہے نا، وہ تو پورے کا پورا ہے پہلے سے۔ لیکن جو اعمال کا نظام ہے، یعنی اعمال پر لانے کا نظام ہے، وہ تدریجاً آیا ہوا ہے۔ نماز بھی تدریجاً ہے، زکوٰۃ بھی تدریجاً ہے، اور بہت سارے اعمال بھی، روزہ بھی ہے۔
تو اس سے پتہ چلا کہ تربیت میں بھی تدریج کو بڑا دخل ہے۔ محقق شیخ اور ویسے عام لوگوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ عام لوگ یکدم سارا کچھ ڈالتے ہیں، جبکہ محقق شیخ ان کی استعداد کے مطابق آہستہ آہستہ آہستہ وہ چیز بتاتے ہیں۔ سمجھا دیتے ہیں ابتداء میں اتنا، جتنا وہ سمجھ سکتا ہے۔ عمل پہ اتنا لاتے ہیں، جتنا کہ وہ کر سکتے ہیں، اور باقی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ یہ طریقہ تربیت ہے، اور اسلام کی ابتداء میں طریقہ دعوت بھی یہی تھا۔
تو یہ دونوں نظام یہ آپس میں باہم مربوط ہیں۔ اچھا، تو یہاں پر بھی فرمایا کہ صرف نظریوں کا پیش کرنا نہیں تھا، بلکہ امت کو عموما اسلام کی تعلیمات پر کاربند بنانا تھا، اس لیے حالات کے اقتضاء اور مناسبت کے ساتھ ساتھ تعلیمات کے تفصیلی اجزاء اور ان کے متعلقہ احکام کی تشریح آہستہ آہستہ تکمیل کو پہنچائی گئی۔
مکہ معظمہ میں مسلمانوں کی پریشانی، پراگندگی، شکست حالی اور غربت و مسکینی کی جو کیفیت تھی، اس کی بناء پر اتنا ہی ان کے لیے بہت تھا کہ وہ کسی یتیم، مسکین اور بھوکے کو کھانا کھلا دیں۔ چنانچہ اس زمانے میں اس قسم کی خیرات کی تعلیم دی گئی: ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ فَكُّ رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ﴾ اور تو کیا سمجھا کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟ کسی قرض دار یا قیدی یا غلام کی گردن چھڑانا ہے، یا بھوک کے دن میں ناطے کے کسی بن باپ کے بچے کو، یا خاک میں پڑے ہوئے کسی محتاج کو کھانا کھلانا۔
عام قریش پر جنہوں نے محمد ﷺ کی اس انسانی ہمدردی کی پکار کو نہیں سنا، عتاب آیا: ﴿فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ وہی ہے جو بن باپ کے بچے کو دھکا دیتا ہے (یعنی یتیم کو) اور غریب کے کھلانے پر اپنے آپ کو آمادہ نہیں کرتا۔
﴿كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ یہ بات نہیں بلکہ بن باپ کے بچے کی تم عزت نہیں کرتے، اور آپس میں محتاج کے کھلانے کی تاکید نہیں کرتے۔
اور مسلمانوں کے اخلاص، باہمی ہمدردی، ان کے جذبۂ ترحم کی تعریف فرمائی کہ: ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾ اور وہ حاجت مند کے، بھوکا ہونے کے باوجود، محتاج، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو صرف خدا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ بدلہ چاہتے ہیں، نہ شکریہ۔
مدینہ منورہ آ کر جب مسلمانوں کو کسی قدر اطمینان ہوا اور انہوں نے کچھ اپنا کاروبار شروع کیا، تو روزہ کے ساتھ ساتھ دو ہجری میں صدقۃ الفطر واجب ہوا، یعنی سال میں ایک دفعہ عید کے دن نماز سے پہلے ہر مسلمان سیر، سوا سیر غلہ خدا کی راہ میں خیرات کرے، تاکہ غریب محتاج بھی اپنی عید کا دن پیٹ بھر کر خوشی اور مسرت سے گزاریں۔
اس کے بعد مسلمانوں کو صدقہ و خیرات کی عام طور سے تاکید کی گئی اور انہوں نے دریافت کیا: "یا رسول اللہ ہم کیا خیرات کریں؟" ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ﴾ وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خیرات کریں؟ ارشاد ہوا: ﴿قُلِ الْعَفْوَ﴾ کہہ دو اے پیغمبر، تمہاری ضرورت سے جو کچھ بچ رہے، اس کو خیرات کرو۔ یہ زکوٰۃ کے تعین کی راہ میں اسلام کا پہلا قدم ہے۔ صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ، بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار اور نصاب کے احکام نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کو حکم تھا کہ جو کچھ بچے، وہ خدا کی راہ میں خیرات کر دیں، آئندہ کے لیے کچھ بچا کر نہ رکھیں۔ کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی حالت اسی کی متقاضی تھی۔
کچھ دنوں کے بعد جب مسلمانوں کو فتوحات نصیب ہوئیں، زمینیں اور جاگیریں ہاتھ آئیں، تجارت کا مدنی شہر شروع ہوا تو حکم ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ﴾ اے مسلمانو! اپنی کمائی سے کچھ اچھی چیزیں اور ہم تمہارے لیے زمین سے پیدا کریں، اس میں سے کچھ خیرات میں دو۔
مسلمانوں نے اس کی تعمیل کی تو خدا نے ان کی تعریف کی: ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ اور ہم نے ان کو جو روزی دی ہے، ان میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔
صحابہ پر ان کا یہ خیال تھا، حال تھا کہ وہ بھی جن کے پاس کچھ نہ تھا، خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ دینے کے لیے بیقرار رہتے تھے۔ چنانچہ جب یہ حکم ہوا کہ ہر مسلمان پر صدقہ دینا فرض ہے، تو غریب اور نادار صحابہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا: "اے خدا کے رسول، جس کے پاس کچھ نہ ہو، وہ کیا کرے؟" فرمایا: "وہ محنت، مزدوری کر کے اپنے ہاتھ سے پیدا کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی صدقہ دے۔" انہوں نے پھر گزارش کی: "جس میں اس کی بھی طاقت نہ ہو، وہ کیا کرے؟" فرمایا: "وہ خواہ مخواہ حاجت مند کی مدد کرے۔" انہوں نے پھر دریافت کیا کہ "اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو؟" ارشاد ہوا: "تو وہ نیکی کا کام کرے اور برائی سے بچے، یہی اس کا صدقہ ہے۔" آپ ﷺ کی ان پر اثر تعلیمات اور نصیحتوں کا صحابہ پر یہ اثر ہوا کہ وہ اس غرض کے لیے بازار جا کر بوجھ اٹھاتے تھے، اس سے جو کچھ ملتا تھا، اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔
لیکن بھئی! ہم اب تک تمام عرب اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوا، اس لیے اس کا کوئی مرتب قومی نظام بھی قائم نہیں تھا۔ رمضان آٹھ ہجری میں مکہ معظمہ کے فتح نے تمام عرب کو ایک سر رشتہ میں منسلک کر دیا اور اب وہ وقت آیا کہ اسلام اپنے خاص نظام قائم کرے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ اے محمد ﷺ! ان کے مال میں سے صدقہ وصول کرو، اس کے ذریعے سے تم ان کو پاک و صاف کر سکو۔
چنانچہ اس کے بعد نویں سال یعنی محرم نو ہجری میں زکوٰۃ کے تمام احکام اور قوانین مرتب ہوئے، اس کی وصولی کے لیے تمام عرب میں محصلوں اور عاملوں کا تقرر ہوا اور باقاعدہ ایک بیت المال کی صورت پیدا ہوئی۔ یہ تمام احکام و قوانین سورہ برأت میں مذکور ہیں، جو آٹھ ہجری کے آخر میں نازل ہوئے۔
تو آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ اب جو ہے نا وہ، دعا کریں۔