اتباعِ سنت، صحابہ کا معیار اور محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا
خواتین کے لیے اصلاحی بیان
- • حقیقتِ عید میلاد النبی ﷺ اور تاریخی حقائق (12 ربیع الاول کے حوالے سے تحقیق)
- • محبتِ رسول ﷺ کا اصل تقاضا: اتباعِ سنت اور درود شریف کی کثرت
- • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل دین کا اصل معیار اور تشریح
- • نفس کی اقسام (امارہ، لوامہ، مطمئنہ) اور تزکیہ نفس کے مراحل
- • شریعت کے احکام (اوامر و نواہی) بمقابلہ نفسانی خواہشات
- • دین میں اعتدال، فقہاء کرام کا اجتہاد اور اختلافِ رائے کی حقیقت
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ: فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
معزز خواتین و حضرات! ربیع الاول کا مہینہ چونکہ شروع ہو چکا ہے اس لیے ہمارے تمام جو بیانات ہیں اور تعلیمات ہیں، ان کا رخ اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل شانہ کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر طریقہ اللہ پاک کو محبوب ہے۔ اور ہر وہ شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چل رہا ہو، وہ بھی اللہ جل شانہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور اللہ پاک نے یہ حقیقت اس عنوان سے بتائی ہے کہ انسان کو صحیح بات ہے، سمجھ کر وجد آ جاتا ہے۔
اللہ پاک فرماتے ہیں: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ " اے میرے حبیب! اپنی امت سے کہہ دیں اگر تم اللہ جل شانہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ پاک تم سے محبت کرنے لگیں گے"، تمہیں اپنا محبوب بنا لیں گے۔ اس وجہ سے جو تقاضا ہے قرآن پاک میں: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ۔ یعنی "جو لوگ ایمان والے ہیں ان کو اللہ جل شانہ کے ساتھ شدید محبت ہوتی ہے"۔ یعنی شدید محبت لازمی ہے ہر مسلمان کے لیے، یہ ایمان کی علامت ہے۔
تو اللہ جل شانہ کے ساتھ شدید محبت جو ہونی چاہیے، وہ کیسے ہو گی؟ اس کے لیے اللہ پاک نے طریقہ بتا دیا کہ میرے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر لو تو تمہیں اللہ پاک اپنا محبوب بنا لے گا۔ پس اللہ کی محبت، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، یہ لازم ملزوم ہو گئے۔ یعنی اللہ کی محبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ تو اب جس کو اللہ جل شانہ کی محبت کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل ہو جائے، یعنی اللہ جل شانہ کی محبت کے ذریعے سے اس کو یہ نسبت حاصل ہو رہی ہے۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ذریعے سے اللہ کی محبت کو پا لے، تو یہ نبوی طریقہ ہے۔ بزرگوں میں ہم دیکھتے ہیں مختلف شانیں ہوتی ہیں، کسی پر ایک رخ غالب ہوتا ہے کسی پر دوسرا رخ غالب ہوتا ہے۔ تو بہرحال یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات اللہ کی طرف سے تھی۔ قرآن پاک میں اس کے بارے میں صاف واضح ارشاد ہے کہ نہیں فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے کچھ، مگر جو ان کو وحی کیا جاتا ہے وہ بتاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ چیز بتا دی محبت کی بات کہ جب تک مجھے اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے، اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ اور ایک روایت میں عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب تک تم مجھے اپنے آپ سے زیادہ پیارا نہ سمجھو، اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ اب ذرا غور فرمائیں۔ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مامور ہے، ماجور ہے۔ اس وجہ سے جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی دعوت دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی باتیں کرتا ہے، یہ ساری کی ساری مطلوب باتیں ہیں۔ ہمارا یہ طریقہ نہیں کہ صرف ربیع الاول میں یہ باتیں کریں۔ ربیع الاول تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا peak ہو سکتا ہے؛ کیونکہ ربیع الاول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آنا فطری بات ہے۔ یعنی ہر انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے یاد آجاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا مہینہ ہے۔ ہمارے علاقوں میں اس کو "بارہ وفات" کہتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 12 ربیع الاول کی وفات کی بات کرتے ہیں لوگ۔ یہاں پر عید میلاد النبی بتاتے ہیں۔ دونوں باتیں اپنی اصل سے ہٹی ہوئی ہیں۔ دونوں باتیں اپنی اصل سے ہٹی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ 12 ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات ہوئے ہیں نہ 12 ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی ہے۔ یہ ایک تاریخی غلطی ہے۔ محققین نے اس بات پر تحقیق کر لی ہے اور آج کل یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ back calculations آج کل مشکل نہیں ہیں۔ آپ ہزار سال پہلے کی، 2 ہزار سال، 15 ہزار سال پہلے کی بیک کیلکولیشن کر سکتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو کون سا دن تھا۔ تو یہ بات ثابت ہے حدیث شریف کی کتابوں میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن پیدا ہوئے ہیں اور ربیع الاول میں پیدا ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی ثابت ہے حدیث شریف میں ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن دنیا سے تشریف لے گئے اور ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے۔ یہ دونوں باتیں ثابت ہیں۔ اب جب یہ دونوں باتیں ثابت ہو گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال پیر ربیع الاول میں کب کب آتا تھا، کون سی تاریخ کو آتا تھا، اس کا حساب کیا جا سکتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سال، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 63 سال تھی، یہ بھی تو حدیث شریف سے ثابت ہے۔ حدیث شریف سے کون سی چیز ثابت ہے؟ ربیع الاول کا مہینہ ثابت ہے، پیر کا دن ثابت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا پتا ہے۔ تو یہ تین چیزیں تو حدیث شریف سے ثابت ہوئیں اور تاریخ ثابت نہیں ہے حدیث شریف سے۔ تو تاریخ معلوم کی جا سکتی ہے۔ اب تاریخ ثابت نہیں، اس کے اندر ایک بہت بڑی حکمت اور بصیرت کی بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دن منانے کا کوئی اس وقت وہ نہیں تھا۔ اگر یہ منایا جاتا تو مجھے بتاؤ کیا تاریخ چھپی رہ سکتی تھی؟ پھر تو یہ تاریخ نمایاں طور پر حدیث شریف میں موجود ہوتی۔ جیسے پیر کا دن موجود ہے، ربیع الاول کا مہینہ موجود ہے، تو یہ documentation تو ان دنوں تھیں۔ اس وجہ سے یہ بات تو اس میں چھپی نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو دن منانے والی بات ہے، کوئی دن منایا نہیں جاتا تھا صحابہ کے دور میں، تابعین کے دور میں، تبع تابعین کے دور میں، لہذا تاریخ چھپی رہ گئی۔ اب جس نے 12 وفات کا کہا ہے، تو انہوں نے 12 ربیع الاول کو سمجھا ہے۔ اور جنہوں نے عید میلاد النبی بارہویں تاریخ کو سمجھا ہے، انہوں نے بھی اس کو اس لحاظ سے سمجھا ہے۔ حالانکہ back calculation کر کے پتا چل گیا کہ 8 یا 9 ربیع الاول، یہ ولادت کی تاریخ ہے۔ 8 یا 9 ربیع الاول یہ ولادت کی، اور یکم یا 2 یہ وفات کی تاریخ ہے۔ اور اس کو back calculation سے اس طرح کہ حدیث شریف میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور پھر اس کے بعد جتنے دنوں کے بعد وفات ہونا یہ چیزیں لکھی گئی ہیں، اس سے پتا چلا کہ یکم یا 2 ربیع الاول کی تاریخ بنتی ہے۔ کیونکہ پیر کا دن اسی وقت بنتا ہے۔ تو پتا چلا کہ یہ لوگوں نے اپنے اپنے اندازے سے یہ چیزیں وہ کی ہیں، حالانکہ اس کے ساتھ کوئی حقیقت وابستہ نہیں ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ شاید اللہ پاک نے تاریخ کو چھپایا اس لیے کہ اس دن کو منوانا تھا نہیں۔ یعنی اللہ پاک کی منشا کے مطابق نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو روزانہ تذکرہ ہونا چاہیے۔ جب فرمایا گیا قرآن پاک میں: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ہم نے تمہارا ذکر تمہارے لیے بلند کر دیا۔ تو اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام آئے اور جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ آپ کو پتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ"؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہے؟ مطلب ظاہر ہے وہ جاننا چاہتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ رہا تھا۔ تو جب جبرائیل علیہ السلام نے کہا، اللہ پاک فرماتے ہیں: "جہاں میرا نام لیا جائے گا، وہاں تیرا نام لیا جائے گا" اور چونکہ اللہ پاک کا نام تو کثرت کے ساتھ لیے جانے کا حکم ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا۔ تو جہاں ایک چیز ثابت ہو گئی، تو اس دوسری چیز کی وجہ سے دوسری چیز بھی ثابت ہو گئی اور وہ کیا ہے؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی کثرت کے ساتھ لیا جانا لگے۔ جہاں جہاں اللہ کا نام لیا جائے وہاں اللہ کے رسول کا نام لینا چاہیے۔ یعنی جس کثرت کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے اس کثرت کے ساتھ درود شریف بھی پڑھنا چاہیے۔ یہ چیزیں آپس میں بالکل باہم مربوط ہیں۔ تو جب اس قسم کی باتیں ہمیں سمجھ میں آ جائیں، تو مجھے بتاؤ کوئی دن خاص کرنا ضروری ہو گا؟ اس کے لیے کوئی دن خاص کرنے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم صرف اس دن کریں گے اور باقی دن چھٹی! یہ تو ہمارا طریقہ نہیں ہے۔ ہم اس طریقے کو پسند نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں ساری عمر ،ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود شریف بھیجو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق زندگی گزارو۔ یہ ہے بنیادی بات۔ اس وجہ سے ہمارے ہاں کوئی خاص دن منانے والی بات نظر نہیں آئے گی۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ایک دفعہ ہم گئے، چونکہ حضرت وہاں تھے پشاور میں تھے اور ہم ادھر تھے تو جس دن چھٹی ہوتی تھی تو موقع ملتا تھا کہ ہم بھاگ کے وہاں چلے جائیں۔ تو ربیع الاول کی چھٹی بھی ملا کرتی تھی، پہلے 12 ربیع الاول کو چھٹی ہوتی تھی۔ تو چھٹی ہو گئی تھی تو ہم ادھر چلے گئے، تو حضرت بات فرما رہے تھے، تو حضرت نے بات باتوں باتوں میں فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حضرت کی گھٹی میں بالکل شامل تھی۔ بہت زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت تھی حضرت کو۔ تو حضرت نے فرمایا ہم دن نہیں مناتے، ہم دن نہیں مناتے، لیکن ان دنوں خود ہی میلاد بن جاتےہیں مطلب خود ہی مطلب ظاہر ہے وہ ایسا بن جاتے ہیں کہ جس سے محبت ٹپکتی۔ اور بات بالکل صحیح ہے۔ لہذا ہم لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا محسوس ہونا ان دنوں زیادہ، یہ تو فطری بات ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ عام لوگ بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ اور تذکرہ کسی رخ سے بھی ہو تو یاد تو آئیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب یاد آئیں گے تو درود شریف بھی یاد آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی تازہ ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ بھی ہو گا۔ تو یہ باتیں بالکل صاف باتیں ہیں۔ لہذا اس کے اندر تو کوئی بخل نہیں ہونا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہ ہو۔ یہ میں نہیں مناتے کا مطلب یہ نہیں لے سکتا کہ اس دن ذکر نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہیں ہونا چاہیے، یہ میں نہیں کہتا۔ کیونکہ میں کہتا ہوں نہ صرف اس دن کر لو بلکہ باقی دنوں میں بھی کرو۔ ہمارا جو طریقہ ہے وہ کیا ہے، آپ صرف اس دن نہ کرو باقی دن بھی کرو۔ سنت طریقہ اپناؤ۔ سنت سے دور نہ بھاگو۔ اپنی نفس کی خواہشات کے پیچھے نہ جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چل کر دکھاؤ۔ یہ ہے کمالِ محبت۔ یہ کیا ہے کہ آج ایک نئی بات بنا دی، گھوڑے نکل رہے ہیں، کسی وقت یہ ہے کہ وہ جھنڈے بن رہے ہیں، کسی وقت کیا، دوسرے سال کوئی اور طریقہ بن رہا ہے۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟ اپنی مرضی اپنے نفس کے مطابق جو مرضی چاہو کرو؟ نہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی حکم موجود ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چلوں، جس پر میرے صحابہ چلیں۔ اور وہ ایک ہی چیز ہے۔ جس پر میں چلا ہوں، جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ لہذا ہمارے پاس model موجود ہے۔ ہمارے پاس نمونہ موجود ہے۔ ہم اپنی مرضی کیوں کریں؟ کسی نے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ کیسے چلنا چاہیے؟ میں نے کہا صحابہ کو دیکھو، صحابہ کیسے چلتے تھے؟ ضرورت ہی کیا ہے کہ آپ کوئی نئی بات نکالیں؟ صحابہ جس طریقے سے چلتے تھے، جنازے کے ساتھ تم بھی اس طرح چلو۔ روایات میں غور کیا تو پتا چلا صحابہ خاموش چلتے تھے جنازے کے ساتھ، فکر کرتے تھے کہ یہ دن ہمارے اوپر بھی آنے والا ہے۔ جنازے کو موت کے استحضار کا مطلب لیتے تھے۔ لہذا یہ گپ شپ آپس میں نہیں لگاتے تھے۔ شور شرابہ نہیں ہوتا تھا۔ آرام کے ساتھ نیچی نگاہ اور جا رہے ہیں میت کے ساتھ، کیوں؟ ایک عبرت کا نمونہ ہوتا تھا۔ اب ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔ لوگ اس طرح کرتے ہیں؟ جنازے کے ساتھ جاتے جاتے لطیفے سناتے ہیں ایک دوسرے کو۔یہ کیا لطیفوں کا موقع ہے؟ سیاست پر بحث کرتے ہیں۔Backbiting کرتے ہیں۔ اور ساتھ مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو ذاکر ظاہر کرنے کے لیے ذکر بھی کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری مرضی ہے ہی نہیں۔ دین ہماری مرضی سے نہیں بنا۔ دین تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنا ہے۔ یہ تو اوامر و نواہی سے بنا ہے۔ اوامر و نواہی کیا ہوتا ہے؟ یعنی جس چیز کا حکم ہے اور جس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ یہ اوامر و نواہی ہے۔ اوامر و نواہی کا دوسرا نام شریعت ہے۔اوامر و نواہی کا دوسرا نام شریعت ہے۔ لہذا شریعت کے مطابق زندگی گزارنا، یہ عین دین داری ہے۔ اور شریعت کے خلاف زندگی گزارنا یہ عین بے دینی ہے۔ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا یہ اتباعِ ہویٰ کہلاتا ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھاجن لوگوں نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا معبود بنایا؟ اپنا معبود بنایا ہے۔ یعنی ان کا اس طرح خیال رکھتے ہیں جس طرح معبود کا خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ہر وقت ہمیں اللہ کا حکم بھی ہمارے سامنے ہوتا ہے اور نفس کا تقاضا بھی سامنے ہوتا ہے۔ دونوں باتوں میں کوئی select کرنا ہوتا ہے۔ کہ میں اللہ کے حکم کو لے لوں یا نفس کے اتباع کو لے لوں؟ یہ دونوں باتیں ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ ان دونوں باتوں میں selection ہماری مرضی ہوتی ہے۔ اور اس مرضی کے اوپر فیصلہ ہوتا ہے کہ ہم ٹھیک کر رہے ہیں یا غلط کر رہے ہیں۔ لہذا اگر ہم نے اللہ کی بات کو لے لیا، تو دین دار کہلائیں گے۔ اور اگر نفس کی بات کو لے لیا، تو بے دین کہلائیں گے۔ بس یہ بالکل صاف صاف بات ہے۔ اب دین داری کا مطلب کیا ہو گیا؟ یعنی کیسے ہم اللہ کی بات کو مانیں گے؟ اللہ تعالیٰ خود تو تیرے سامنے نہیں آ موجود ہوں گے کہ وہ فرمائیں گے کہ تم یہ کرو، نہیں، اللہ پاک نے ایک نظام ہدایت بنایا ہوا ہے، جس کے ذریعے سے ہم تک بات پہنچی ہے۔ اور وہ قرآن و سنت ہے۔ قرآن کے ذریعے سے اللہ پاک نے ہمیں سکھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے ذریعے سے ہمیں ساری بات سمجھا دی۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے، یعنی اللہ کی مرضی کے مطابق، اللہ کی وحی کے مطابق یہ فرمایا کہ گزشتہ امتوں میں یہود میں 71 فرقے بن گئے تھے، نصاریٰ میں 72 بن گئے تھے، میری امت میں عنقریب 73 بن جائیں گے۔ اور فرمایا نجات صرف ایک کو ہو گی۔ صحابہ کرام گھبرا گئے، پوچھا یا رسول اللہ! ہم کیسے پہچانیں گے اس نجات والے فرقے کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چل رہا ہوں، جس پر میرے صحابہ چل رہے ہیں۔ یہ طریقہ ہے۔ جس پر میں چل رہا ہوں، جس پر میرے صحابہ چل رہے ہیں۔ اب ہمارے پاس تین گویا nodes آ گئے۔ ایک ہے قرآن کی بات، ایک ہے سنت کی بات، ایک ہے صحابہ کی تشریح۔ ان تینوں کو ہم کیسے آپس میں ایڈجسٹ کر سکتے ہیں؟ قرآن کی تشریح سنت ہے۔ اور سنت کی تشریح طریقِ صحابہ ہے۔ قرآن کی تشریح سنت ہے۔ قرآن ہمیں اپنی طرف سے سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ قرآن عربی میں ہے۔ لیکن صرف عربی والے قرآن کو نہیں جان سکتے۔ بلکہ جو سنت کا علم رکھتے ہیں ساتھ، وہ قرآن کو جان سکتے ہیں؛ کیونکہ قرآن کے بارے میں صاف واضح طور پر حدیث شریف موجود ہے کہ جس نے قرآن کی اپنی رائے سے اس کی تشریح کر لی، چاہے صحیح بھی ہو پھر بھی غلطی کی۔ چاہے صحیح بھی کی، پھر بھی غلطی کی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کی chemist کی دکان ہے۔ اس کے ساتھ دوائیاں بہت ساری پڑی ہوئی ہیں۔ ہر قسم کی دوائی موجود ہے۔ اگر وہ بیمار ہو گیا، ڈاکٹر کے ساتھ consultنہیں کیا، اور اپنی مرضی سے کوئی دوائی چن کر اس نے استعمال کر لی، اور صحیح دوائی استعمال کر لی، پھر بھی اس نے غلطی کی۔ کیوں غلطی کی؟ آئندہ کسی وقت غلط دوائی بھی چن سکتا ہے۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو اب جس طریقے سے کیمسٹ کا یہ فیصلہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتا، اسی طریقے سے قرآن کی وہ تشریح جو سنت کی تشریح سے مختلف ہو وہ کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کے اوپر ہم نہیں چل سکتے۔ چلیں گے تو کس چیز پر چلیں گے؟ قرآن کی اس تشریح پر جو سنت کے مطابق ہو۔ کیونکہ قرآن کیا ہے، یہ مجمل ہے ہمارے لیے، یعنی ہم لوگ اس کی پوری تشریح نہیں جانتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مفصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر یہ ساری باتیں کھلی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ بعض باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سمجھانی تھیں اللہ پاک جبرائیل علیہ السلام کو بھیجتے تھے اور جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے اللہ پاک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات سمجھاتے۔ ابھی ابھی گزرا ہے "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ" کے بارے میں بات ہوئی ہے۔ جس کی تشریح جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کی جو تشریح سنت کے مطابق ہو وہ مقبول ہے اور سنت کی جو تشریح صحابہ کے طریقے کے مطابق ہو وہ مقبول ہے۔ ہم سنت کی تشریح اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے، کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ جیسے قرآن کی تشریح جب ہم کرتے ہیں، اس میں بہت سارے علوم ہمیں چاہیے ہوتے ہیں۔ مثلاً: ایک علم اس وقت کی عربی کا جاننا۔ آج کل کے دور کی عربی اور اس دور کی عربی ایک جیسی ہے؟ بہت فرق ہے۔ اور ہر زبان میں فرق ہوتا ہے۔ یہ کوئی صرف عربی میں نہیں ہے۔ وزیرستان کے حضرات ادھر موجود ہیں، ان کی پشتو ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ تو ظاہر ہے کیا وہ پشتو نہیں بول رہے؟ پشتو بول رہے ہیں لیکن ان کی اپنی پشتو ہے، ہماری اپنی پشتو ہے۔ ہو سکتا ہے اس طرح۔ بہت سارے پنجابی لوگ ایک علاقے کے پنجابی دوسرے علاقے کی پنجابی نہیں سمجھ پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے اپنے محاورے ہیں، ان کے اپنے اپنے استعارے ہیں، ان کے اپنے اپنے کنایات ہیں، ان کے اپنے اپنے الفاظ ہیں۔ تو اس طرح عربی میں بھی ہے۔ تو عربی جو ہے اس دور کی عربی، اس کو باقاعدہ جاہلی اشعار کے اندر محفوظ رکھا گیا ہے، یا احادیث شریفہ کے الفاظ میں محفوظ رکھی گئی ہے۔ اس دور کے اندر عربی کی جو تشریح تھی، وہ آج چاہیے ہو گی۔ تب ہی ہمیں معلوم ہو گا۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ لفظ "مَتَاعٌ" آیا ہوا ہے قرآن پاک میں: مَتَاعٌ قَلِيلٌ۔ اب متاع کا مطلب کیا ہے؟ مجھے پتا ہے، آپ کو پتا ہے، سب کو پتا ہے۔ لیکن کیوں پتا ہے؟ اس پر لوگوں نے محنتیں کی ہیں۔ ان کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہے۔ تو ایک صاحب جو کہ ظاہر ہے اس چیز کے پیچھے لگے ہوئے تھے، لغت کے ماہر تھے، اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ متاع کس چیز کو کہتے ہیں۔ تو باقاعدہ عرب علاقوں میں پھرتے تھے کہ متاع کا صحیح معنی معلوم ہو جائے، اور پتا نہیں چل رہا تھا۔ پتا نہیں چل رہا تھا۔ تو ایک دفعہ جا رہے تھے، راستے پر چلتے چلتے ایک بچی نے آواز لگائی کہ کتا میری متاع لے گیا۔ اپنی والدہ کو کہا:کتا میری متاع لے گیا۔ اب ان کے کان کھڑے ہو گئے، اس کے پیچھے چل رہے تھے، وہ فوراً واپس آئے، بچی سے کہا کیا لے گیا؟ کہتی ہے متاع لے گیا۔ متاع، کون سی چیز ہے، کون سی چیز ہے؟ تو اس نے وہ جو گھاس سے بنا ہوا ہوتا ہے جس سے برتن کو صاف کرتے ہیں، اس کو ہم شوڑا کہتے ہیں، پتا نہیں آپ کیا کہتے ہیں ۔ہاں مانجا۔ تو یہ مانجا جو ہے یہ گھاس سے بنا ہوا، اس کو متاع کہتے تھے۔ اب یہ ایسی چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ تو اس کو قرآن میں اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے کہ ایسی چیز جو بالکل بے قیمت ہو۔ اس کو مَتَاعٌ قَلِيلٌ۔ یعنی متاع بھی ہے اور وہ بھی قلیل! تو دنیا ایسی ہے۔ دنیا ایسی ہے۔ بس ضرورت پوری کر لو، گرا دو۔ ضرورت پوری کرو گرا دو۔ یہی مطلب جیسے متاع کا مطلب اس طرح ہے۔ اب دیکھیں اگر یہ چیز ان کو نہ معلوم ہوتی، ہم تک نہ پہنچتی، تو ہم متاع کا معنی کیا کرتے؟ تو اسی طریقے سے بہت ساری چیزیں ہیں جو اس دور کی عربی کو محفوظ رکھنے سے ہمیں سمجھ میں آ سکتی ہیں، ورنہ ہمیں سمجھ میں نہ آتیں۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو جاننے کی ضرورت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو جاننے کے لیے صحابہ کرام کی تشریحات کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک موقع پر فرمایا، خوارج کی وجہ سے، خوارج اپنی مرضی سے تشریح کرتے تھے قرآن کی۔ یہ پہلا گمراہ فرقہ تھا جو کہ قرآن میں اپنی مرضی کی تشریح کرتا تھا۔ تفسیر بالرائے کے قائل خوارج تھے جو کہ بعد میں اللہ تعالیٰ بچائے، ان کے انجام سے۔ بہت خراب انجام سے دوچار ہو گئے۔ تو یہ جو خوارج تھے، یہ اپنی مرضی، اپنی من مانی کیا کرتے تھے۔ تو علی کرم اللہ وجہہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بھیجا ان کے پاس، ان سے بات کرنے کے لیے۔ اور ساتھ یہ نصیحت فرمائی کہ آپ ان کے ساتھ قرآن پر بات نہ کریں۔ اس میں تو وہ اپنی من مانی کریں گے۔ آپ ان کے ساتھ حدیث کی زبان میں بات کریں، جس میں وہ من مانی نہیں کر سکتے۔ پھر ایک موقع پر فرمایا، تم کیا سمجھتے ہو کہ قرآن کیا ہے؟ ہمیں پتا ہے کہ قرآن کہاں اترا ہے، کس طرح اترا ہے، کس پر اترا ہے، کیسے اترا ہے، کس معنی کے لیے اترا ہے، یہ ساری چیزیں ہمیں معلوم ہیں۔ تمہیں کیا معلوم ہے؟ اور پھر ایک دفعہ قرآن کو اپنے ہاتھ میں رکھ ، ان کے سامنے کہا، يَا مُصْحَفُ كَلِّمِ النَّاسَ، يَا مُصْحَفُ كَلِّمِ النَّاسَ۔ اے قرآن لوگوں سے بات کر، لوگوں سے بات کر۔ تو خوارج ہنسنے لگے کہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ انہوں نے کہا تمہاری تو بات کر رہا ہوں۔ تم سمجھتے ہو کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے، تو قرآن تم سے بات کرے نا پھر! قرآن تم سے بات نہیں کرے گا۔ قرآن والا تم سے بات کرے گا، قرآن تمہیں سمجھائے گا۔ تو یہ والی بات میں اب سمجھ رہا ہوں کہ اس وقت کے لیے، ہمارے لیے بڑا ہی معیار ہے؛ کیونکہ اس وقت اس دور میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی من مانی تشریح کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں بالکل، اور پھر بڑے بڑے لوگوں پر طنز کرتے ہیں۔ بڑے بڑے لوگوں کے خلاف باتیں بناتے ہیں۔ تو آج کل کے دور کے خوارج بھی اس طرح کرتے ہیں۔ لیکن خوارج کا نمونہ اللہ پاک نے صحابہ کے دور میں بھیج دیا کہ خوارج اس کو کہتے ہیں۔ اور اگر کوئی خوارج کے راستے پر چلتا ہے تو ان کا انجام یہ ہوتا ہے۔ تو بہرحال میں عرض کروں گا کہ ہم لوگ اللہ جل شانہ کی بات کو مانیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر، جس کو ہم صحابہ کرام سے سیکھیں گے۔ بس یہ تین باتیں ہمیں یاد رہنی چاہئیں۔ اللہ کی بات مانیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر، اور صحابہ کی تشریح کے ساتھ۔ صحابہ اس کو سمجھائیں گے کہ کیسے کرنا ہے۔ بس اگر ہمیں یہ معلوم ہو گیا، کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ صحابہ میں ہر قسم کے طبقے موجود تھے۔ صحابہ میں مالدار لوگ تھے، غریب لوگ تھے، ہوشیار لوگ تھے، سادہ لوگ تھے، دیہاتی لوگ تھے، شہری لوگ تھے، کالے لوگ تھے، گورے لوگ تھے، عورتیں تھیں، مرد تھے، یہ سارے صحابہ کرام میں موجود تھے۔ اور دین سب کو سکھایا گیا۔ دین سب کو سکھایا گیا۔ لہذا جو دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھایا وہی اس جیسے لوگوں کے لیے معیار بن گیا۔ مثال کے طور پر شہری لوگوں کے لیے شہری صحابہ کا طریقہ معیار بن گیا۔ دیہاتی لوگوں کے لیے دیہاتی صحابہ کا طریقہ معیار بن گیا۔ مالدار لوگوں کے لیے مالدار صحابہ کا طریقہ معیار بن گیا۔ غریب لوگوں کے لیے غریب صحابہ کا طریقہ معیار بن گیا۔ یعنی اب ہر شخص کے لیے اپنا معیار موجود ہے۔ ہر شخص کے لیے اپنا معیار موجود ہے۔ سبحان اللہ! یعنی گویا کہ اس ذریعے سے، جیسے فرماتے ہیں صحابہ کی جماعت مبعوث کی گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ یعنی گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی تشریح کے لیے صحابہ کرام کی جماعت کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اور اس کا ایک مقصد تھا اور مقصد یہ تھا کہ دین کی تفصیل سامنے آ جائے۔ دین کا پہلا اجمال قرآن ہے؛ کیونکہ قرآن کے اندر اشارات ہیں۔ تفصیلات نہیں ہیں۔ بہت کم تفصیلات قرآن میں پائی جاتی ہیں۔ اس اجمال کی تشریح سنت میں ہے۔ اور پھر ان سنتوں کی تشریح صحابہ کی زندگی میں ہے۔ تو گویا کہ یہ تین چیزیں باہم ایسے مربوط ہیں کہ اگر ان کو کوئی ساتھ لے گا تو ان شاء اللہ کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگا۔ اب میں ذرا موٹی سی بات عرض کرتا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے سمجھانے کی اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ گویا کہ میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے عرض کیا، کہ صحابہ کا طریقہ جو ہے، ہر قسم کے شخص کے لیے اس قسم کے صحابی کا طریقہ معیار ہے۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں۔ أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ۔ جن کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پا لو گے۔ گویا کہ ہر صحابی ہر گروپ کے لیے نمائندہ ہے۔ اس جیسے حالات کے گروپ کے لیے نمائندہ ہے۔ اب وہ اس کا گروپ اس کے پیچھے جائے گا تو ظاہر ہے وہ کامیاب ہوگا۔ بےشک علماء صحابہ جو ہیں، علماء کے لیے نمونہ ہیں۔ اور عوام صحابہ، عوام کے لیے نمونہ ہیں۔ عوام صحابہ نے کیسے علماء صحابہ سے حاصل کیا؟ یہ عوام کے لیے نمونہ ہے کہ کیسے اپنے علماء سے حاصل کرو۔ ساری چیزیں موجود ہیں۔ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، تو اب اس کے لیے جو رکاوٹیں ہیں، رکاوٹیں کون سی ہیں؟ سبحان اللہ! وہ ہمارا نفس ہماری رکاوٹ ہے۔ ہمارا جو نفس ہے، یہ ہمارے لیے رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا، کیا تم نے نہیں دیکھا جن لوگوں نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا؟ یعنی جیسے اللہ پاک کا حکم ماننا چاہیے تھا اس طرح یہ نفس کی بات مانتے ہیں۔ اور نفس ہر شخص کے ساتھ ہے۔ چونکہ نفس ہر شخص کے ساتھ ہے، ہر شخص خطرے میں ہے۔ ہر شخص کی، قرآن اور سنت کے اور صحابہ کی تشریح کے مقابلے میں اپنی کوئی بات ہوتی ہے۔ جس کو ہم بے شک رواج کہہ دیں۔ جس کو بے شک ہم کہیں "میرے خیال میں"۔ یہ آج کل یہ بہت ساری یہ باتیں بہت چلتی ہیں میرے خیال میں یہ چیز ایسی ہے۔ بھائی میرے خیال کی کیا وقعت ہے؟ میرے خیال کی تو کوئی value نہیں ہے۔ میرے خیال کو کوئی support حاصل نہیں ہے۔ support جن کو حاصل ہے، وہ کن کو حاصل ہے؟ وہ قرآن، حدیث، طریقِ صحابہ۔ اس کو support حاصل ہے۔ جب یہ چیزیں سمجھ میں آ گئیں کہ مطلب ظاہر ہے کہ ہماری چیز کو کوئی حاصل نہیں ہے، تو اس سے نکلنا لازمی ہو گیا۔ اور اس معیار تک پہنچنا لازمی ہو گیا۔ تو اس معیار تک پہنچنے کے لیے ہمیں ان رکاوٹوں کو دور کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر، میں لاہور جا رہا ہوں، سیلاب آ گیا، سیلاب آ گیا۔ اب راستہ بند ہو گیا۔ کیا کروں گا؟ پہنچنا ضروری ہے۔ لیکن راستہ بند ہے۔ پھر میں سوچوں گا، اپنا گوگل میں دیکھوں گا کہ کوئی اور راستہ ہے لاہور تک جانے کا؟ بے شک تھوڑا لمبا ہو، لیکن ہے یا نہیں ہے؟ مل گیا، اسی راستے پر چلا جاؤں گا۔ نہیں، تو پھر چاہے کشتی میں بیٹھ جاؤں، چاہے ہوائی جہاز سے چلا جاؤں، چاہے کسی اور طریقے سے، لیکن بہرحال میں نے جانا اگر ہے، تو راستوں کی رکاوٹوں کو تو دور کرنا پڑے گا۔ تو یہ جو راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، یہ "سیر الی اللہ" کہلاتا ہے۔ جتنے بھی رکاوٹوں کو دور کرنے کے راستے ہیں، وہ سارے کے سارے سیر الی اللہ کہلاتے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو ان رکاوٹوں سے محفوظ کر لینا۔ اپنے آپ کو ایسا محفوظ کر لینا کہ نفس جو بھی بات کرے، آپ کے اندر اتنی قوت موجود ہو کہ نفس کی بات نہ مانیں اور اللہ کی بات مانیں۔ ابتداء میں تو ایسا ہی ہوگا۔ لیکن جب آپ چلیں گے، چلیں گے، چلیں گے، پھر کیا ہوگا؟ نفس کہنا ہی چھوڑ دے گا۔ دوسری خلاف بات کرنا ہی چھوڑ دے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ اس کے اندر اللہ پاک نے ایک لچک رکھی ہے۔ اور وہ لچک یہ ہے کہ آپ اس کی بات مانیں، تو یہ مزید منواتا جائے گا۔ پھر یہ شیر ہوتا جائے گا۔ پھر اس کی ڈیمانڈ بڑھتی جائے گی۔ اس پر مطمئن نہیں ہوگا، اگلی دفعہ کچھ اور مانگے گا۔ شیطان کا پورا نظام اسی پر مبنی ہے۔ شیطان کیا کرتا ہے؟ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ قرآن پاک میں اس طرح فرمایا گیا ہے۔ اب اس طرح یہ ہوتا ہے کہ، مثال کے طور پر، سینما ہے۔ اب سینما کے ساتھ کوئی گزر رہا ہے تو بہت سارے پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ اب سب سے پہلے شیطان یہ وسوسہ ڈالے گا، ذرا ان پوسٹر کو تو دیکھو۔ اب بظاہر پوسٹر دیکھنا کوئی اتنی زیادہ بڑی بات نہیں ہے۔ لیکن پوسٹر لگے ہی اس لیے ہوئے ہیں، کہ یہ تو راستہ بنا رہے ہیں۔ یہ تو راستہ بنا رہے ہیں۔ اب آپ نے پوسٹر دیکھے اور اپنے خیال میں اپنے آپ کو بچا رہے ہیں لیکن اس کے بعد مزید شیر ہوگا۔ نہیں نہیں نہیں، پوچھو یہ کیسی فلم ہے؟ اچھا پوچھ لیا، کسی کی زبانی کہلوایا بہت اچھی فلم ہے۔ چلو دیکھو جی پیسے میرے پاس ہیں، وہ دیکھ لو۔ پھر نہیں دیکھوں گا۔ چلو اس دفعہ، اس دفعہ دیکھو۔ اس کے بعد پھر قریب آ گیا پھر مزید۔۔۔ یہ میں نے آپ کو ذرا ایک عام چیز کے بارے میں بتایا ورنہ یہ بہت تفصیلی باتیں ہیں۔ اس میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسا ہی طریقہ بناتا ہے شیطان کہ ابتداء میں ایک بظاہر بے ضرر قسم کی بات بتاتا ہے۔ لیکن وہ راستہ بناتا ہے ضرر رساں چیزوں کی طرف۔ جس میں ہمارا موبائل بھی آتا ہے، جس میں ہماری بہت ساری چیزیں آتی ہیں۔ اب یہ اس میں یہ لچک ہے، کہ اگر آپ اس کی بات مانیں تو مزید منواتے جائیں گے۔ یہ ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ آپ نہ مانیں۔ ادھر ہی اس کا گلا گھونٹ دیں، نہیں ماننا۔ تو یہ پہلی دفعہ زور سے کہے گا، کرنا ہے۔ آپ نہیں مانیں، دوسری دفعہ ڈرے گا کہ یہ تو کچھ تھوڑا سا کمزور آواز سے کہنا ہے، ایسا نہ ہو کوئی سارا نظام ہی گڑبڑ نہ کر دے۔ پھر کہیں گے، کر نا۔ تو پھر آپ نہیں مانیں ۔۔کر نا۔ پھر ذرا اور کمزور آواز سے۔ اس طرح یہ آواز اور کمزور ہوتی جائے گی۔ حتیٰ کہ کہنا ہی چھوڑ دے گا۔ یہ ہے نفسِ مطمئنہ۔ مان لیا، مان لیا۔ تو اس کو ہم نے اس حد تک لے جانا ہے۔۔ pressing and pressing and pressing and pressing it مطلب اس کے ذریعے سے، آپ اس کو بالکل، یعنی یوں سمجھ لیں کہ اس کا شر، اگر کمرے کے برابر ہے۔ تو جب آپ اس کی نہیں مانیں گے تو پھر چھوٹے کمرے کے برابر ہو جائے گا۔ جب آپ نہیں مانیں گے تو باتھ روم کے برابر ہو جائے گا۔ نہیں مانیں گے تو پھر گھڑے کے برابر ہو جائے گا۔ نہیں مانیں گے تو پھر ڈبیا کے برابر ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ یہی طریقہ کار ہے اس کا۔ اب کوئی اور طریقہ ہے ہی نہیں، تو میں کیا کروں؟ کرنا تو اس طریقے سے ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے جو فرمایا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا جو لوگ کوشش محنت کرتے ہیں مجھ تک پہنچنے میں لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہم ضرور بالضرور ان کو ہدایت کے راستے سجھائیں گے گویا کہ معرفت کے راستے کھلیں گے۔ معرفت کے راستے کھلیں گے لیکن وہ جدوجہد کے اوپر ہی منحصر ہے۔ جو جدوجہد نہیں کرے گا تو بیٹھے بٹھائے یہ چیزیں نہیں پتا چلیں گی۔ ہر کام جو انسان شروع کرتا ہے، ابتداء میں بالکل نہیں جانتا۔ لیکن جس وقت وہ شروع کرتا ہے تو تھوڑی بہت سمجھ بوجھ ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرے لوگوں سے استفادہ کرنے کے راستے کھل جاتے ہیں، اس کو پتا چلتا ہے کہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ کام کیے ہوئے ہیں۔ اچھا میں دیکھوں اس نے کیسے، کیوں، اگر ابتداء میں دوسروں کو دیکھیں تو آپ کو باتوں کا پتا ہی نہیں چلے گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ لیکن تھوڑی سمجھ بوجھ جب پیدا ہو گئی، تو اب اس کے بعد ان کی باتوں کو سمجھنے کی بھی صلاحیت پیدا ہو گئی۔ پھر ان کے اندر منتخب کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو جائے گی۔ پھر ان کو مزید improve کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو جائے گی۔ حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا کہ لوگ پھر آپ سے سیکھیں گے۔ یعنی آپ کو اس کا expert سمجھا جائے گا۔ بس یہی طریقہ ہے۔ دنیا میں بھی یہی چیز چلتی ہے۔لیکن نفس کے معاملے میں تو یہ بات بالکل ایسی ہے، کہ انسان اپنی مرضی سے اگر کچھ کرے گا، تو کبھی بھی نفس کی باگیں اس کے ہاتھ نہیں آئیں گی۔ بلکہ نفس اس کے اوپر سوار ہوگا۔ نفس اس کے اوپر سوار ہوگا۔ لیکن جیسے جیسے یہ نفس کی باگیں کھینچتا جائے گا، اس کے اوپر اس کا کنٹرول آتا جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ مکمل کنٹرول میں آ جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد، یہی نفس جو برائی کے لیے استعمال ہوتا تھا، یہ اچھائی کے لیے استعمال ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہی نفس جو کہ اللہ سے دور کرنے والا تھا، یہی نفس اللہ پاک کو راضی کرنے والا ہوگا۔ اور اس کی سند باقاعدہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ پہلے والے نفس کی بھی موجود ہے، نفسِ امارہ کی، جس میں فرمایا گیا ہے کہ میں اپنے نفس سے اپنے آپ کو بری نہیں سمجھتا، یہ تو برائی کی طرف ہی مائل کرنے والا ہے۔ تو یہ بھی ابتداء میں ہے۔ لیکن انتہاء میں کیا ہے؟ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔ " اے مطمئن نفس، لوٹ جا اپنے رب کی طرف، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے، وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا"۔ بندوں میں داخل ہونا پہلے ہے۔ جنت میں داخل ہونا بعد میں ہے۔ عبدیت پہلے حاصل کرنی ہے، جنت کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔ جو ہمارے کام ہیں، اس کو پہلے کرنا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے کام میں کبھی بھی کمی نہیں کرتا۔ اللہ کی مہربانی بہت زیادہ ہے۔ لیکن اس کے لیے جو ذریعہ بنایا گیا ہے، اس کا احترام ضروری ہے۔ بغیر اس کے کوئی نہیں کر سکتا۔ ورنہ کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو ایمان کو بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ وہ تو کہتے ہیں کہ جو بے ایمان لوگ ہیں، جو بظاہر اچھے لوگ ہیں، ظاہر ہے اچھے معاملات کے لحاظ سے اچھے لوگ ہیں، وہ کہتے ہیں یہ جنت میں جائیں گے۔ ہمارے ایک پروفیسرصاحب تھے پشاور یونیورسٹی میں، تو وہ کہتے تھے کہ HM Close ہمارے ایک ٹیچر تھے، انگریز تھے۔ وہ یہ بلڈ بینک کے لیے کام کرتے تھے، اور لوگوں کو تیار کرتے تھے بلڈ دینے کے لیے، مریضوں تک پہنچاتے تھے، ایک اچھا کام تھا، لہٰذا لوگوں میں بڑے مشہور تھے۔ تو ہمارے اس پروفیسرصاحب نے کہا، اگر مجھے جنت میں اللہ بھیجے گا تو میں کہوں گا کہ پہلے ایچ ایم کلوز (HM Close) کو بھیجو پھر میں اس کے پاس جاؤں گا۔ مجھے کسی نے بتایا، میں نے کہا اس سے پوچھو کب جائے گا؟ یہ کون ہے؟ اس کو، اس کو وہاں کون دیکھے گا؟ اس کی حیثیت ہی کیا ہے؟ یہ تو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، اپنی نظروں میں کچھ سمجھتا ہے۔ اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کس کی حیثیت ہے؟ کیا ہے؟ اگر یہ کہتا ہے میں نہیں جانا چاہتا تو اچھا دوسری طرف چلےجاؤ۔ یہ دوسرا راستہ تمہارے لیے کھلا ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ یہ ہم لوگ ذرا میرے خیال میں والی بات کچھ زیادہ ہی بڑھا دیتے ہیں۔ تو ایمان ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی دوسری بات نہیں چلتی۔ ایمان ایسی چیز ہے جس میں دوسری بات نہیں چلتی۔ ایمان جب تک نہیں ہوگا، اس وقت تک کوئی نیکی کام نہیں آئے گی۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت ساری چیزیں ہیں، وہ آپ اس کو ٹرانسفر کر رہے ہیں، لیکن درمیان میں ایک دیوار ہے۔ وہ ساری چیزیں یہاں رکی ہوئی ہیں۔ جیسے ہی وہ دیوار ہٹ گئی، وہ چیزیں ٹرانسفر ہونا کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ بس ایمان اس کو، اور کفر اس دیوار کو سمجھو۔ جب وہ دیوار ہٹ گئی تو کفر ختم ہو گیا، ایمان ہو گیا۔ اب آپ کی ساری نیکیاں ادھر ٹرانسفر ہو گئیں۔ جب تک یہ دیوار قائم ہے، وہ ساری نیکیاں آپ کی ادھر رکی ہوئی ہیں۔ آپ کو ادھر صلہ ملے گا، ادھر کچھ بھی نہیں ملے گا۔ جتنے کفار ہیں، انہوں نے کچھ، جتنے بھی اچھے کام کیے ہیں، وہ ساروں کے ساروں کا اجر ان کو ادھر مل گیا۔ ان کو اس کے مطابق صلہ مل گیا۔ مسلمان کا معاملہ چونکہ الگ ہے، وہ صاحبِ ایمان ہوتے ہیں، لہٰذا ان کو کچھ یہاں ملتا ہے اور کچھ وہاں ملتا ہے۔ زیادہ اُدھر ملتا ہے، اِدھر تھوڑا ملتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ جو زمین اور آسمان، اس کے اندر ہے، اگر یہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتا تو اللہ تعالیٰ کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پینے دیتا۔ ایک گھونٹ پانی بھی نہ پینے دیتا۔ اس کا مطلب کیا ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ دوسری بات: اللہ پاک نے فرمایا، حدیثِ قدسی ہے، اگر مسلمان کے فتنے میں پڑنے والی بات نہ ہوتی کہ مسلمان فتنے میں پڑ جائیں گے، تو میں کافروں کے لیے، جو ان کے گھر تھے، وہ سونے اور چاندی کے بنوا دیتا۔ کافروں کے گھر سونے اور چاندی کے بنواتا۔ اس میں جو پہلے والی بات ہے، اس میں ایک فہم چھپا ہوا ہے۔ کہ کچھ قوانین اللہ کے اٹل ہوتے ہیں۔ وہ پہلے سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان قوانین کو کوئی نظام بائی پاس نہیں کر سکتا۔ وہ اللہ پاک نے بنائے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی قانون ہے کہ لوگ اثر لیتے ہیں عاجلہ سے۔ عاجلہ سے اثر لیتے ہیں۔ اب عاجلہ سے جو اثر لیتے ہیں، تو اگر سونے چاندی کے گھر کافروں کے بن جائیں، تو عاجلہ ہے نا؟ تو مسلمانوں کے جی میں بھی یہ بات آتی کہ کاش ہمیں بھی ایسا ملتا اور اس کے لیے کفر کو پسند کر لیتے۔ تو جو کفر کو پسند کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ تو یہ ایک گویا کہ، یہاں پتہ چل گیا کہ کچھ ایسے حقائق ہیں جو اللہ جل شانہ نے طے کی ہیں باتیں۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا، اگر یہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی۔ کئی جگہوں پر قرآن پاک میں اس کا ذکر ہے، اگر یہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی، تو میں ایسا کر دیتا۔ تو اس کا مطلب ہے جو باتیں طے کی ہیں اللہ پاک نے، اس کے خلاف نہیں کرتے۔ تو لہٰذا اس کے مطابق پھر ساری چیزیں ایڈجسٹ کی جاتی ہیں۔ تو کچھ چیزیں Adjustable ہیں، کچھ چیزیں طے شدہ ہیں۔ تو جو دوسری بات ہے وہ Adjustable ہے۔ کافروں کے گھر سونے چاندی کے بنوانا Adjustable تھا۔ تو اس کو ایڈجسٹ کر لیا، نہیں بنایا۔ اور پہلے والی بات طے شدہ ہے، اس کو Changeنہیں کیا۔ بس یہی والی بات ہمیں سمجھ میں آنی چاہیے کہ اللہ کے قوانینِ فطرت میں قوانینِ شریعت کے مطابق ایڈجسٹ کرنا انسان سیکھے۔ جو قوانینِ فطرت ہیں، اس میں قوانینِ شریعت کے مطابق ہم لوگ کر لیں۔ مثال کے طور پر، جہاں پر بھی آپ جائیں، وہ جو ان کے حالات ہوں گے، یہ آپ کے قوانینِ فطرت ہوں گے۔ اب وہاں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا کر سکتے ہو، کیا نہیں کر سکتے ہو؟ یہ شریعت کی بات ہو گی۔ یہ شریعت کی بات ہو گی۔ تو اب یہ ہے اصل میں یہی فقہاء کے سامنے اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا وہ تمام باتوں کو اس طرح اس کے مطابق فیصلے کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال ابھی میں دوبارہ اصل بات کی طرف جاتا ہوں، اور وہ کیا ہے؟ کہ ہمارے سامنے بہت بڑا ذریعہ ہے اللہ پاک کی طرف سے لینے کا، وہ قرآن ہے۔ قرآن کی تشریح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر صحابہ نے جیسے عمل کیا، وہ ہمارے لیے معیار ہے۔ کیونکہ ہم لوگ اگر اپنی مرضی کے مطابق سنت پر بھی عمل کریں گے، اس میں بھی میرا خیال شامل ہوگا۔ تو جو میرا خیال ہے وہ مجھے گمراہ کرے گا، وہ نقصان پہنچائے گا کیونکہ اس میں نفس کی چیز شامل ہو گی۔ جب میں دیکھوں گا، آج کل بھی ایسی حالت ہے، بہت سارے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔ اور ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم یہ کام کیسے کریں؟ ہم ان سے کہتے ہیں کہ بھئی ہم تو اس کے ماہر ہی نہیں ہیں، تو ہم کیسے یہ کام کریں؟ کیسے ہم آپ کو بتائیں؟ کہتے ہیں، نہیں آپ کچھ کہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ تھوڑا سا، یعنی خود فیصلہ نہیں کر پا رہے تو ہمارے اوپر فیصلہ چھوڑنا چاہتے ہیں کہ چلو جی ان کے ساتھ اللہ پاک کی رہنمائی موجود ہوگی، تو جو ان کی زبان سے نکلے گا، وہ ہمارے لیے بہتر ہوگا۔ حالانکہ ہماری یہ پوزیشن نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہم بار بار انکار کرتے ہیں۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوزیشن یہ تھی۔ صحابہ کرام کی پوزیشن یہ تھی، کیونکہ صحابہ کرام نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو جانا اور پہچانا، اس کو سپورٹ حاصل ہے۔ ان کے درمیان جو اجتہاد ہوا ہے، اس اجتہاد کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اور ان کا یہ حال ہے کہ جو صحیح اجتہاد پہ ان کو دو اجر مل رہے ہیں، اور جو ان کے مقابلے میں اس کو ایک اجر مل رہا ہے۔ تو اتنی پاک جماعت کی جو تشریح ہے، میں اس کو بائی پاس کیسے کر سکتا ہوں؟ لہٰذا ہمیں صحابہ کرام کی جو تشریح ہے اس کو لینا چاہیے۔ تمام فقہاء کا طریقہ یہی تھا۔ فقہاء کرام کیا کرتے تھے؟ قرآن سے لیتے تھے، سنت میں غور کرتے تھے، صحابہ کے طریقے کے مطابق۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض فقہاء پر کسی خاص جماعتِ صحابہ کا زیادہ اثر ہوتا تھا، تو وہ اسی کے مطابق رائے دیتے تھے۔ اور بعض پہ کوئی دوسرا ہوتا تھا، تو وہ اس کے مطابق رائے دیتے تھے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے کہا گیا، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے کہا گیا، -یہ بڑی عجیب بات ہے۔ آج کل کے علماء کے لیے تو میں کہتا ہوں کہ مشعلِ راہ ہے یہ بات، مشعلِ راہ ہے- ہارون الرشید نے امام مالک سے کہا، میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی موطا امام مالک پہ پوری خلافت کو جمع کر دوں۔ یعنی وہ تیری اس تحقیق کے مطابق چلیں۔ موطا امام مالک میں کیا تھا؟ حدیث شریفہ تھی نا، حدیث شریفہ تھی۔ اور جمع کس نے کی تھی؟ امام مالک نے کی تھی نا؟ سلیکشن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی تھی نا؟ تو اس کا مطلب ہے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی سلیکشن میں ان کی رائے شامل تھی۔ تو اب یہ جو بات ہے، انہوں نے کہا کہ میں اس پر پوری خلافت کو جمع کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بڑا ہی زبردست جواب دیا۔ فرمایا، ایسا نہ کرو۔ صحابہ کرام مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔ اور ان علاقوں کے لوگوں نے ان صحابہ کی پیروی کرنی شروع کر لی ہے۔ ان کو اس کی پیروی کرنے دیں، میری بات پہ نہ لائیں۔ ان کوان صحابہ کرام کی پیروی کرنے دیں، میرے طریقے پہ نہ لائیں۔ یہ کتنی بصیرت کی بات ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے آپ کو صحابہ کے طریقے کے مقابلے میں کچھ نہیں سمجھا، اور ہے بھی یہی بات۔ یہی وہ ما شاء اللہ زریں اصول ہے۔ اگر اس کو ہم سامنے رکھیں، تو ہماری تمام قسم کا جو، جس کو کہتے ہیں اختلافی تشدد ہے، وہ دور ہو سکتا ہے۔ اختلافی تشدد دور ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا اختلاف کس بنیاد پر ہے؟ نفس کی بنیاد پر ہے یا اللہ کی رضا کی بنیاد پر ہے؟ اگر اللہ کی رضا کی بنیاد پر ہے تو ہم اس طریقہ کار کو سمجھیں گے جو ہے: قرآن، سنت، صحابہ کرام اور پھر فقہاء کرام کی اس کی تشریح۔ یہ چیز ہمیں سمجھ میں آ جائے گی۔ اب میں اس لبِ لباب پہ آتا ہوں، آج کل کے دور میں جو بڑی باتیں ہیں۔ یہ میلاد النبی منانا چاہیے، نہیں منانا چاہیے؟ بالکل آسان ہے سمجھنا۔ دیکھ لو صحابہ کرام نے اگر منایا، تم بھی مناؤ، نہیں منایا تم نہ مناؤ۔ آسان سی بات ہے پھر اس میں درمیان میں کیا غور کرنے کی بات ہے؟ اس کو لمبی چوڑی تفصیلات میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کسی صحابی نے بھی منایا ہو، تم مناؤ۔ کیونکہ ایک صحابی بھی کیا ہے؟ وہ روشنی ہے، مینار ہے۔ لیکن اگر کسی نے بھی نہیں منایا، تابعین نے نہیں منایا، تبع تابعین نے نہیں منایا، تم کیسے مناتے ہو پھر؟ لیکن نہ منانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی باتوں کی مخالفت کی جائے، نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی باتیں تو ہمیشہ کرنی چاہئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی باتوں کے لیے صرف ایک دن خاص نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر روز، ہر وقت یہ ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ ہے، جیسے میں نے ابھی پہلے تلاوت کی تھی: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ اس کے بارے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جب پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا مطلب ہے؟ فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا، جہاں میرا نام لیا جائے گا، وہاں تیرا نام لیا جائے گا۔ اب اللہ کے نام کے لیے اللہ پاک نے قرآن میں کیا فرمایا ہے؟ وَاذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اللہ تعالیٰ کی یاد کو کثرت کے ساتھ کرو، اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔ جب کثرت کے ساتھ اللہ کا نام لیا جائے گا تو کثرت کے ساتھ درود شریف بھی پڑھا جائے گا۔ کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی باتیں بھی ہوں گی۔ ہاں یہ خود بخود ثابت ہو گیا۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ گویا کہ مومنین کو شدید محبت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ ٹھیک ہے جی، یہ بھی بالکل صحیح بات ہے، قرآن سے ثابت ہے۔ لیکن اس بات کی تشریح کے لیے اللہ پاک نے فرمایا: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ اے میرے حبیب! اپنی امت سے کہہ دیں اگر تم مجھ سے محبت کرنا چاہتے ہو، یعنی اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو، تو میری اتباع کر لو، تو اللہ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ تو گویا کہ اللہ کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں پنہاں ہے۔ بالکل جی باتیں بالکل صاف ہو گئیں، دو دو چار کی طرح صاف ہو گئیں۔ تو اب اس کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوگا جب تک تم مجھ سے والدین سے زیادہ، اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرنے لگو۔ بلکہ ایک روایت میں فرمایا جب تک مجھ سے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت نہ کرنے لگو۔ تو پتہ چل گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ تو جب سب سے زیادہ ہونی چاہیے تو مجھے بتاؤ میرا نفس کیا کہتا ہے؟ میں جب بھی کبھی بات کروں تو اپنے آپ کو سامنے لاتا ہوں نا؟ اپنے آپ کو سامنے لاتا ہوں نا؟ میں سمجھتا ہوں کہ میری طرف لوگ دیکھیں، میں، میری بات کو سنیں۔ یہ میری باتیں ہیں، اچھا یہ میری باتیں ہیں۔ تو اب مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت ہونی چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ تو اپنے آپ سے زیادہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سامنے لاؤں۔ اپنے آپ سے زیادہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سامنے لاؤں۔ اپنے آپ سے زیادہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو زیادہ واضح کرنے کی کوشش کر لوں۔ یہ بات بالکل سامنے آ گئی۔ جتنا جتنا آپ کو اپنے آپ کے ساتھ محبت ہے، اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرو۔ بس سارے معاملات درست ہوتے جائیں گے۔ سارے معاملات درست ہوتے جائیں گے۔ تو یہ بات ما شاء اللہ بالکل بے غبار ثابت ہو گئی کہ ہمیں ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنی چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے لیے ہمیں صحابہ کرام کے طریقے کو اپنانا چاہیے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے طریقے پر چلنے کے لیے جو معیارِ حق ہے، اس تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے نفس کی خواہشات کو دبانا پڑے گا۔ جو اس کے لیے رکاوٹ ہیں، ان خواہشات کو دبانے کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ ہمیں ان مشائخ کے پاس جانا پڑے گا جنہوں نے ایسا کیا ہوا ہے۔ جنہوں نے ایسا کیا ہوا ہے، ان کی باتوں میں نفسانیت نہیں ہو گی، للہیت ہو گی۔ لہٰذا ہمارے اوپر بھی اثر کریں گی، آہستہ آہستہ ہم بھی اس راستے پہ چل پڑیں گے جس راستے پہ وہ چل پڑے تھے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ جس وقت شاہ عبدالعزیز دعاجو رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تشریف لے گئے، حضرت نے ان سے فرمایا، وہ باتوں باتوں میں بہت اصلاح فرماتے تھے۔ فرمایا، باہر جا کے دیکھو کچھ ہو رہا ہے۔ اب باہر گئے تو پتہ نہیں چلا۔ اندر آ گئے۔ حضرت کچھ پتہ نہیں چلا۔ نہیں نہیں، کچھ ہو رہا ہے، کچھ خاص بات ہو رہی ہے، ذرا پتہ کر لو۔ چار پانچ دفعہ جب گئے تو اندازہ ہوا کہ ایک، ایک جگہ سے Dropping ہو رہی ہے پانی کی، قطرہ قطرہ پڑ رہا ہے، اس نے پتھر میں سوراخ کیا ہے۔ تو حضرت سمجھے کہ شاید یہی بات ہے۔ اندر جا کر اطلاع کر دی، حضرت یہی بات تو نہیں؟ فرمایا، ہاں ہاں، لیکن کیا سمجھے؟ انہوں نے کہا حضرت آپ ہی سمجھا دیں۔ فرمایا دیکھو، ہمارے جو معمولات ہوتے ہیں نا معمولات، یہ جو روزانہ ہم کرتے ہیں نا، تو اگر یہ دیکھو نا، یہ جتنا سارا پانی اس کے اوپر گرا ہے اتنے عرصے میں، اگر سارا ایک ہی وقت میں اس چٹان کے اوپر پڑتا، تو اس پہ کچھ نہیں ہونا تھا۔ لیکن اب دیکھو جو ایک ایک drop اس پہ پڑ رہی ہے نا، تو اس نے اس میں سوراخ کر لیا، کہ ہمارے معمولات میں جو استقامت ہے، جو روزانہ ہم معمولات کرتے ہیں، یہ ہمارے پتھر دل میں بھی سوراخ کر لے گا۔ پتھر دل میں بھی سوراخ کر لے گا اور راستہ بنا لے گا۔ بس دیکھو کتنی بڑی بات سمجھا دی۔ تو اس طریقے سے ہمارا جو نفس ہے باغی ہے، لیکن اس بغاوت کو دور کرنے کے لیے جو اسباب ہیں، ان اسباب کو اختیار کرنے کے ساتھ صحیح رہنمائی کی موجودگی میں، ان شاء اللہ ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ یہ نفس جو ہم پر سوار ہے، ہم اس پر سوار ہو جائیں گے۔ اور جس وقت ہم نفس پہ سوار ہو گئے، تو پھر طریقہ تو بالکل واضح ہے، طریقے میں تو کوئی فرق ہے ہی نہیں، وہ ہے صحابہ کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنا۔ صحابہ کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنا محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے۔ یہی ہماری زندگی کا نصب العین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے، اس کے مطابق پوری زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم۔ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔