جمعہ دعا
جمعہ دعا
- اذان سن کر مؤذن کے الفاظ دہرانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اور ان کے لیے وسیلہ مانگنا شفاعت کو واجب کر دیتا ہے۔
- وسیلہ جنت کا وہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جو پوری مخلوق میں صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔
- وسیلہ کا لغوی معنی ہر وہ عمل، نبی یا نیک بندہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب اور محبت حاصل کی جائے۔
- مقام محمود شفاعت کا وہ عظیم مرتبہ اور اعزاز ہے جس پر اولین و آخرین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثنا کریں گے۔
- اذان کے بعد کی دعا میں "وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ" کے الفاظ ثابت نہیں، البتہ بعض روایات میں "إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ" کا اضافہ موجود ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله تعالى عنهما أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ كَذَا فِي التَّرْغِيبِ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب تم اذان سنا کرو تو جو الفاظ مؤذن کہے وہی تم کہا کرو، اس کے بعد مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لیے کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہ اس پر دس دفعہ درود بھیجتے ہیں۔ پھر اللہ جل شانہ سے میرے لیے وسیلہ کی دعا کیا کرو، وسیلہ جنت کا ایک درجہ ہے جو صرف ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ ایک شخص میں ہی ہوں۔ پس جو شخص میرے لیے اللہ سے وسیلہ کی دعا کرے گا، اس پر میری شفاعت اتر پڑے گی۔ "اتر پڑے گی" کا مطلب یہ ہے کہ محقق ہو جائے گی، اس لیے کہ بعض روایات میں اس جگہ یہ ارشاد ہے کہ اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔
بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص اذان سنے اور یہ دعا پڑھے، اَللَّهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ اٰتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودَنِ الَّذِي وَعَدْتَهُ، اس کے لیے میری شفاعت اتر جاتی ہے۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اذان سنتے تو خود یہ دعا پڑھتے: اَللَّهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنی آواز سے پڑھتے کہ پاس والے اس کو سنتے تھے۔
اور بھی متعدد احادیث سے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ مضمون نقل کیا ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جب تم مجھ پر درود پڑھا کرو تو میرے لیے وسیلہ بھی مانگا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! وسیلہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کا اعلی درجہ ہے جو صرف ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وسیلہ کے اصل معنی لغت میں تو وہ چیز ہے جس کی وجہ سے کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کے دربار میں تقرب حاصل کیا جائے، لیکن اس جگہ ایک اعلی درجہ مراد ہے جیسا کہ خود حدیث میں وارد ہے کہ جنت کا ایک درجہ ہے اور قرآن پاک کی آیت وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ میں ماتحت تفسیر کے دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ اس سے وہی تقرب مراد ہے جو اوپر گزرا، حضرت ابن عباس، مجاہد، عطا وغیرہ سے یہی قول منقول ہے۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف تقرب حاصل کرو اس چیز کے ساتھ جو اس کو راضی کر دے۔ واحدی، بغوی، زمخشری سبھی نے یہی قول نقل کیا ہے کہ وسیلہ ہر وہ چیز ہے جس سے تقرب حاصل کیا جاتا ہے، قرابت ہو یا کوئی عمل ہو، اور اس قول میں انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے توسل حاصل کرنا بھی داخل ہے۔
علامہ جزری رحمۃ اللہ علیہ نے حصن حصین میں آداب دعا میں لکھا ہے، وَأَنْ يَتَوَسَّلَ إِلَى اللهِ تَعَالٰی بِأَنْبِيَائِهِ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِهِ، یعنی توسل حاصل کرے اللہ جل شانہ کی طرف اس کے انبیاء کے ساتھ جیسا کہ بخاری، مسلم، بزار اور حاکم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے، اور اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ جیسا کہ بخاری سے معلوم ہوتا ہے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ دوسرا قول آیت شریفہ میں یہ ہے کہ اس سے مراد محبت ہے، اللہ کے محبوب بنو، جیسا کہ ماوردی وغیرہ نے ابو زید سے نقل کیا ہے اور حدیث پاک میں فضیلت سے مراد وہ مرتبہ عالیہ ہے جو ساری مخلوق سے اونچا ہے اور احتمال ہے کہ کوئی اور مرتبہ مراد ہو یا وسیلہ کی تفسیر ہو۔ اور مقام محمود وہی ہے جس کو اللہ جل شانہ نے اپنے کلام پاک میں سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا: عَسٰی أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا، امید ہے کہ پہنچائیں گے آپ کو آپ کے رب مقام محمود تک۔
مقام محمود کی تفسیر میں علماء کے چند اقوال ہیں، ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے حق میں گواہی دینا اور کہا گیا ہے کہ حمد کا جھنڈا جو قیامت کے دن آپ کو دیا جائے گا وہ مراد ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ جل شانہ کا آپ کو قیامت کے دن عرش پر اور بعض نے کہا کرسی پر بٹھانے کو کہا ہے۔ ابن جوزی نے ان دونوں قولوں کو بڑی جماعت سے نقل کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد شفاعت ہے، اس لیے کہ وہ ایسا مقام ہے کہ اس میں اولین و آخرین سبھی کہ آپ کی تعریف کریں گے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاذ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے اتباع میں کہتے ہیں کہ ان اقوال میں کوئی منافات نہیں، اس واسطے کہ احتمال ہے کہ عرش یا کرسی پر بٹھانا شفاعت کی اجازت کی علامت ہو اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما ہوں تو اللہ جل شانہ ان کو حمد کا جھنڈا عطا فرما دے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر گواہی دیں۔
ابن حبان نے ایک حدیث میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اللہ جل شانہ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائیں گے، پھر مجھے ایک سبز جوڑا پہنائیں گے، پھر میں وہ کہوں گا جو اللہ چاہیں گے، پس یہی مقام محمود ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ "پھر میں کہوں گا" اس سے مراد وہ حمد و ثنا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت سے پہلے کہیں گے اور مقام محمود ان سب چیزوں کے مجموعے کا نام ہے جو اس وقت میں پیش آئیں گی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب ہے کہ میں وہ کہوں گا جو اللہ تعالی چاہیں گے، حدیث کی کتابوں بخاری، مسلم وغیرہ میں شفاعت کی طویل حدیث میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے جس میں مذکور ہے کہ جب میں اللہ تعالی کی زیارت کروں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا، اللہ جل شانہ مجھے سجدہ میں جب تک چاہیں گے پڑا رہنے دیں گے، اس کے بعد اللہ جل شانہ کا ارشاد ہو گا کہ محمد! سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، سفارش کرو قبول کی جائے گی، مانگو تمہارا سوال پورا کیا جائے گا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس پر میں سجدہ سے سر اٹھاؤں گا، پھر اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا، وہ حمد و ثنا کروں گا جو اس وقت میرا رب مجھے الہام کرے گا، پھر میں امت کے لیے سفارش کروں گا، بہت لمبی حدیث شفاعت کی ہے جو مشکوٰۃ میں بھی مذکور ہے۔
ہاں اجازت ہے تجھے آج عزت ہے تجھے
زیبا شفاعت ہے تجھے بے شک یہ ہے شاں تیرا
یہاں ایک قابل لحاظ ہے کہ اوپر کی دعا اَلْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ کے بعد وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ کا لفظ بھی مشہور ہے، محدثین فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اس حدیث میں ثابت نہیں ہے البتہ بعض روایات جیسے کہ حصن حصین میں اس کے اخیر میں إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ کا اضافہ ہے۔
اللہ جل شانہ ہمیں بہت زیادہ درود شریف کی برکات نصیب فرما دے۔