عظمتِ درود و سلام: شفاعت کی ضمانت اور محبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر
کتاب: فضائل درود شریف
- روضہ رسول پر حاضری کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے مغفرت طلب کرنا آدابِ زیارت میں شامل ہے۔
- دعاؤں کا سارا وقت درود شریف کے لیے مختص کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کی تمام فکروں کی کفایت اور گناہ معاف فرماتا ہے۔
- جب بندہ اپنی ذاتی طلب پر اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے تو اللہ اس کی تمام مہمات کی کفایت فرماتا ہے۔
- احوال اور اوقات کے اعتبار سے اعمال کی فضیلت بدلتی ہے، چنانچہ مدینہ منورہ میں دیگر وظائف کے بجائے کثرتِ درود افضل عمل ہے۔
- صبح و شام دس دس مرتبہ درود شریف پڑھنے والے شخص کے لیے قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت یقینی ہو جاتی ہے۔
- درود شریف ایک انتہائی منفرد قرآنی عمل ہے جو اپنے اندر دعا، ذکر اور درود تینوں صفات کو سموئے ہوئے ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان اور ہر شے سے بڑھ کر محبت کرنا کامل ایمان کا تقاضا اور کثرتِ درود کا سبب ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وفاء الوفا میں لکھا ہے کہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن الحسین سامری حنبلیؒ اپنی کتاب مُسْتَوْعِبْ میں زیارۃ قبر النبی ﷺ کے باب میں آدابِ زیارت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”پھر قبر شریف کے قریب آئے اور قبر شریف کی طرف منہ کرکے اور منبر کو اپنی بائیں طرف کرکے کھڑا ہو۔“ اور اس کے بعد علامہ سامری حنبلیؒ نے سلام اور دُعا کی کیفیت لکھی ہے اور منجملہ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ فِيْ كِتَابِكَ لِنَبِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ وَإِنِّيْ قَدْ أَتَيْتُ نَبِيَّكَ مُسْتَغْفِرًا، فَأَسْئَلُكَ أَنْ تُوْجِبَ لِي الْمَغْفِرَةَ كَمَا أَوْجَبْتَهَا لِمَنْ أَتَاهُ فِيْ حَيَاتِهِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
اے اللہ! تو نے اپنے کلامِ پاک میں اپنے نبی علیہ السلام سے یوں ارشاد فرمایا کہ: ”اگر وہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور پھر اللہ جل شانہٗ سے معافی چاہتے اور رسول اللہ ﷺ بھی اُن کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے، تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ کا قبول کرنے والا، رحمت کرنے والا پاتے۔“ اور میں تیرے نبی کے پاس اس حال میں حاضر ہوا ہوں کہ استغفار کرنے والا ہوں۔ تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو میرے لئے مغفرت کو واجب کر دے جیسا کہ تو نے مغفرت واجب کی تھی اُس شخص کے لئے جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کی زندگی میں آیا ہو۔ اے اللہ! میں تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے نبی ﷺ کے وسیلہ سے۔
اس کے بعد اور لمبی چوڑی دعائیں ذکر کی ہیں۔
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِنِّيْ أُكْثِرُ الصَّلٰوةَ عَلَيْكَ، فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلٰوتِيْ؟ فَقَالَ: ”مَا شِئْتَ“، قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: ”مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ“، قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: ”مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ“، قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: ”مَا شِئْتَ، فَإِنْ زِدْتَّ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ“، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلٰوتِيْ كُلَّهَا؟ قَالَ: ”إِذًا تُكْفٰی هَمَّكَ، وَيُكَفَّرُ لَكَ ذَنْبُكَ“۔ (رواه الترمذی وزاد المنذری فی الترغیب احمد والحاکم وقال صححه وبسط السخاوی فی تخریجه)
حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ پر درود کثرت سے بھیجنا چاہتا ہوں تو اس کی مقدار اپنے اوقاتِ دعا میں سے کتنی مقرر کروں؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ”جتنا تیرا جی چاہے“۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک چوتھائی؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے اور اگر اس پر بڑھا دے تو تیرے لئے بہتر ہے“۔ تو میں نے عرض کیا کہ نصف کر دوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے اور اگر بڑھا دے تو تیرے لئے زیادہ بہتر ہے“۔ میں نے عرض کیا: تو دو تہائی کر دوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے اور اگر اس سے بڑھا دے تو تیرے لئے زیادہ بہتر ہے“۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے سارے وقت کو آپ کے درود کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ”تو اس صورت میں تیرے سارے فکروں کی کفایت کی جائے گی اور تیرے گناہ بھی معاف کر دیئے جائیں گے“۔
﴿ف﴾ مطلب تو واضح ہے وہ یہ کہ میں نے کچھ وقت اپنے لئے دُعاؤں کا مقرر کر رکھا ہے اور چاہتا یہ ہوں کہ درود شریف کثرت سے پڑھا کروں تو اپنے اس معین وقت میں سے درود شریف کے لئے کتنا وقت تجویز کروں۔ مثلاً میں نے اپنے اَوراد و وظائف کے لئے دو گھنٹے مقرر کر رکھے ہیں تو اس میں سے کتنا وقت درود شریف کے لئے تجویز کروں۔ علامہ سخاویؒ نے امام احمدؒ کی ایک روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اپنے سارے وقت کو آپ پر درود کے لئے مقرر کردوں تو کیسا؟ حضور ﷺ نے فرمایا ”ایسی صورت میں حق تعالیٰ شانہٗ تیرے دُنیا و آخرت کے سارے فکروں کی کفایت فرمائے گا۔“ علامہ سخاویؒ نے متعدد صحابہؓ سے اسی قسم کا مضمون نقل کیا ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں کہ متعدد صحابہ کرامؓ نے اس قسم کی درخواستیں کی ہوں۔
علامہ سخاویؒ کہتے ہیں کہ درود شریف چونکہ اللہ کے ذکر پر اور حضور اقدس ﷺ کی تعظیم پر مشتمل ہے تو حقیقت میں یہ ایسا ہی ہے جیسا دوسری حدیث میں اللہ جل شانہٗ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ جس کو میرا ذکر مجھ سے دُعا مانگنے میں مانع ہو (یعنی کثرتِ ذکر کی وجہ سے دُعا کا وقت نہ ملے) تو میں اُس کو دعا مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۔
صاحبِ مظاہر حق نے لکھا ہے کہ: ”سبب اِس کا یہ ہے کہ جب بندہ اپنی طلب، رغبت کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیز میں کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے اپنے مطالب پر تو وہ کفایت کرتا ہے اس کے سب مہمات کی مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللهُ لَهٗ، یعنی جو اللہ کا ہو رہتا ہے وہ کفایت کرتا ہے اُس کو۔ جب شیخ بزرگوار عبدالوہاب متقی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اِس مسکین کو یعنی شیخ عبدالحق کو واسطے زیارت مدینہ منورہ کی رخصت کیا۔ فرمایا کہ جانو اور آگاہ ہو کہ نہیں ہے اِس راہ میں کوئی عبادت بعد اداءِ فرض کے مانند درود کے اُوپر سید کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے۔ چاہئے کہ تمام اوقات اپنے کو اِس میں صَرف کرنا اور چیز میں مشغول نہ ہونا۔ عرض کیا گیا کہ اِس کے لئے کچھ عدد معین ہو، فرمایا یہ کہ معین کرنا عدد کا شرط نہیں، اتنا پڑھو کہ ساتھ اس کے رطب اللسان ہو اور اُس کے رنگ میں رنگین ہو اور مستغرق ہو اس میں۔“
اِس پر یہ اشکال نہ کیا جائے کہ اِس حدیثِ پاک سے یہ معلوم ہوا کہ درود شریف سب اوراد و وظائف کے بجائے پڑھنا زیادہ مفید ہے۔ اِس لئے کہ اوّل تو خود اِس حدیثِ پاک کے درمیان میں اشارہ ہے کہ انہوں نے یہ وقت اپنی ذات کے لئے دُعاؤں کا مقرر کر رکھا تھا اُس میں سے درود شریف کیلئے مقرر کرنے کا ارادہ فرما رہے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ چیز لوگوں کے احوال کے اعتبار سے مختلف ہوا کرتی ہے جیسا کہ فضائلِ ذکر کے باب دوم حدیث نمبر 20 کے ذیل میں گزرا ہے کہ بعض روایات میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کو افضل الدعاء کہا گیا ہے اور بعض روایات میں اِستغفار کو افضل الدعاء کہا گیا ہے۔ اسی طرح سے اور اعمال کے درمیان میں بھی مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے یہ اختلاف لوگوں کے حالات کے اختلاف کے اعتبار سے اور اوقات کے اعتبار سے ہوا کرتا ہے جیسا کہ ابھی مظاہر حق سے نقل کیا گیا ہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نور اللہ مرقدہٗ کو اُن کے شیخ نے مدینہ پاک کے سفر میں یہ وصیت کی کہ تمام اوقات درود شریف ہی میں خرچ کریں۔ اپنے اکابر کا بھی یہی معمول ہے کہ وہ مدینہ پاک کے سفر میں درود شریف کی بہت تاکید کرتے ہیں۔
علامہ منذریؒ نے ترغیب میں حضرت اُبیؓ کی حدیثِ بالا میں اُن کے سوال سے پہلے ایک مضمون اور بھی نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب چوتھائی رات گزر جاتی تو حضور اقدس ﷺ کھڑے ہو جاتے اور ارشاد فرماتے ”اے لوگو اللہ کا ذکر کرو اے لوگو اللہ کا ذکر کرو (یعنی بار بار فرماتے) رَاجِفَہ آگئی اور رَادِفَہ آرہی ہے، مَوت اُن سب چیزوں کے ساتھ جو اُس کے ساتھ لاحق ہیں آرہی ہے۔ مَوت اُن سب چیزوں کے ساتھ جو اُس کے ساتھ لاحق ہیں آرہی ہے۔“ اِس کو بھی دو مرتبہ فرماتے۔ رَاجِفَہ اور رَادِفَہ قرآن پاک کی آیت جو سورۃ والنّٰزِعَات میں ہے، کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ۙ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۙ قُلُوْبٌ يَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌ ۙ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ ۙ جس کا ترجمہ اور مطلب یہ ہے کہ اُوپر چند چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”قیامت ضرور آئے گی، جس دن ہلادینے والی چیز سب کو ہلا ڈالے گی اس سے مراد پہلا صُور ہے۔ اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی، اس سے مراد دوسرا صُور ہے۔ بہت سے دل اُس روز کے خوف کے مارے دھڑک رہے ہوں گے، شرم کی وجہ سے اُن کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی“۔ (بیان القرآن مع زیادۃ)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے حضورِ اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص صبح اور شام مجھ پر دس دس مرتبہ درود شریف پڑھے، اُس کو قیامت کے دن میری شفاعت پہنچ کر رہے گی۔ (رواه الطبرانی بإسنادین احدهما جيد لكن فيه انقطاع كذا فى القول البديع) (فائدہ): علامہ سخاویؒ نے متعدد احادیث سے درود شریف پڑھنے والے کو حضور ﷺ کی شفاعت حاصل ہونے کا مژدہ نقل کیا ہے
اللہ جل شانہ ہم سب کو درود شریف کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔
اصل میں یہ وہ عمل ہے جس کا اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں انتہائی منفرد انداز میں حکم دیا ہے۔ انتہائی منفرد انداز میں، کوئی اور عمل اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اور وہ ہے: إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے اس عظیم نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے مومنو! تم بھی درود و سلام اہتمام کے ساتھ ان پر بھیجو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک کو یہ بات بہت محبوب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے۔ درود میں دعا بھی ہے، درود میں ذکر بھی ہے اور درود میں درود بھی ہے۔ تینوں چیزیں اس میں آ گئی ہیں۔ اللّٰهُمَّ سے جب شروع ہو گئی تو دعا ہو گئی نا۔ دعا ہو گئہ۔ اور اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ ذکر ہو گیا۔ اور درود تو ہے ہی۔ تو تینوں چیزیں اس کے اندر آجاتی ہیں۔
باقی یہ ہے کہ ذکر کی اپنی برکات ہیں، درود شریف کی اپنی ہیں، استغفار کی اپنی ہیں۔ حالات کے مطابق تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، لوگوں کے حالات کے مطابق بھی اور اوقات کے مطابق بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ لہذا مشائخ کے ساتھ جن کا تعلق ہوتا ہے وہ ان کو اس حال کے مطابق بتا دیتے ہیں جس حال کے مطابق جو مناسب ہوتا ہے وہ بتا دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ عمل ہے بہت اونچا، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ بالخصوص جن لوگوں کے دلوں میں اس کام کی اہمیت کم ہو۔ ان کے لیے تو یہ چیزیں بہت ضروری ہو جاتی ہیں۔ ان کو یہ بات سمجھ آ جائے کہ بہت اونچا کام ہے۔ اور اس کے ذریعے سے بہت سارے لوگوں کا کام بن گیا ہے۔ درود و سلام کے ذریعے سے۔
اور ہم لوگ کچھ باتوں کو بھول جاتے ہیں۔ دیکھیں اللہ جل شانہ نے صاف ارشاد فرمایا ہے۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی جو کرے گا وہ اللہ کا محبوب بن جائے گا اس آیت کے مطابق۔ بالکل واضح بات ہے اس میں کوئی درمیان والی بات نہیں ہے۔
دوسری بات؛ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ تم میں کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ مجھے اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ اور پھر ایک روایت میں عمر رضی الله عنه سے ارشاد فرمایا، جب تک اپنے آپ سے بھی زیادہ مجھے محبوب نہ سمجھو۔ کیا خیال ہے؟ اگر یہ حالت ہو جائے کسی کی، تو درود شریف کیسے پڑھے گا؟ کچھ پوچھنے کی ضرورت ہوگی؟ اگر یہ حال کسی کا ہو جائے کہ ہر شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے محبوب ہوں تو اس وقت درود شریف پڑھنے کی حالت اس کی کیسی ہوگی؟ خود بخود انسان کو سمجھ جانا چاہیے۔
اس وجہ سے جو اللہ والے اس مقام پہ پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ، ان کا حال یہی تھا آج خود جیسا فرمایا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے چالیس درود و سلام کا ایک set بنایا۔ چالیس درود و سلام کی احادیث شریفہ کا۔ ایک set بنایا۔ اس کا نام رکھا زاد السعید۔ کیا نام تھا؟ زاد السعید۔ زاد السعید کا مطلب کیا ہے؟ نیک بخت لوگوں کی زادِ راہ۔ نیک بخت لوگوں کی زادِ راہ۔ یہ زاد السعید بھی اصل میں چالیس درود و سلام ہیں۔ اور حضرت شیخ الحدیث رحمة الله علیه نے اس کو من و عن رکھا ہے۔ من و عن اس طرح ہی رکھا ہے جس طریقے سے ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اسی میں پڑھتے ہیں، ابھی پڑھیں گے ان شاء اللہ۔ تو ان کو حضرت نے البتہ مقبول وظیفہ کا نام دے دیا۔ تو اس مقبول وظیفہ کو حضرت کے خلفاء نے پوری دنیا کے اندر عام کر دیا۔ تقریباً دنیا کی شاید ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے، تقریباً۔ دنیا کی ہر زبان میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے، تقریباً، اور پھیلایا ہے۔
تو اس طریقے سے ہمارے مشائخ جو ہیں وہ تو اس چیز کو بہت اعلی نعمت سمجھتے ہیں درودِ پاک کو۔ تو اگر ہم بھی پڑھیں، ان شاء اللہ ہمیں بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ اب ہم ان شاء اللہ العزیز اس کو پڑھتے ہیں۔ پہلے پڑھیں گے ان شاء اللہ العزیز درود و سلام کو۔ لیکن اس سے پہلے میرے خیال میں تھوڑا سا ایک نعت کے کچھ الفاظ ہیں، وہ پڑھ لیں گے تھوڑے سے تاکہ ذرا جذبات بن جائیں۔ پھر اس کے بعد ان شاء اللہ اسی کیفیت میں اس کو پڑھیں گے ان شاء اللہ۔ کیونکہ محبت ایک ایسی چیز، تو جتنی محبت زیادہ ہوگی اتنا ہی زیادہ اثر ہوگا ان شاء اللہ العزیز۔
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
صحابہ نے جو سیکھا آپ سے کر کے وہ دکھلایا تبھی تو مشعلِ راہ ان کی ساری زندگانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
جو پیکر تھے سراپا صدق کے، صدیق کہلائے جو عشق و سوز سے پُر ہے، یہی ان کی کہانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
وقت کی کمی کی وجہ سے پورا نہیں سن پا رہے لیکن الحمدللہ اس سے بھی بڑا فائدہ ہوا۔ جتنا ہم نے سنا اللہ تعالیٰ اس کے مطابق اپنے جذبات بنانے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ عطا فرما دے۔
سَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى سَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْزِلْ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ۔ اَللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا۔ اس کو حدیث شریف کی نیت سے بھی سنیں گے تو حدیث شریف کی سماعت کا ثواب بھی ملے گا اور درود شریف کا بھی۔
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَتَرَحَّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا تَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ تَحَنَّنْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا تَحَنَّنْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ سَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا سَلَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ۔
بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ اَللَّهُمَّ يَا رَبِّ اَللَّهُمَّ يَا رَبِّ اَللَّهُمَّ يَا رَبِّ۔ اَللَّهُمَّ يَا كَبِيرُ يَا سَمِيعُ يَا بَصِيرُ يَا مَنْ لَا شَرِيكَ لَهُ وَلَا وَزِيرَ لَهُ يَا خَالِقَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْمُنِيرِ وَيَا عِصْمَةَ الْبَائِسِ الْخَائِفِ الْمُسْتَجِيرِ يَا رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِيرِ يَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْكَسِيرِ أَدْعُوكَ دُعَاءَ الْبَائِسِ الْفَقِيرِ كَدُعَاءِ الْمُضْطَرِّ الذَّلِيلِ أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ وَبِمَفَاتِيحِ الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ وَبِالْأَسْمَاءِ الثَّمَانِيَةِ الْمَكْتُوبَةِ عَلَى قَرْنِ الشَّمْسِ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَجَلَاءَ حُزْنِي۔ اَللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ اَللَّهُمَّ يَا مُؤْنِسَ كُلِّ وَحِيدٍ وَيَا صَاحِبَ كُلِّ فَرِيدٍ وَيَا قَرِيبًا غَيْرَ بَعِيدٍ وَيَا شَاهِدًا غَيْرَ غَائِبٍ وَيَا غَالِبًا غَيْرَ مَغْلُوبٍ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ۔ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ۔ يَا نُورَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ يَا زَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ يَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ يَا عِمَادَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ يَا قَيُّومَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ۔ يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ۔ وَمُنْتَهَى الْعَائِذِينَ وَمُفَرِّجَ الْمَكْرُوبِينَ وَالْمُرَوِّحَ الْمَغْمُومِينَ وَمُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ وَيَا كَاشِفَ الْمَكْرُوهِ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ مَنْزُولٌ بِكَ كُلُّ حَاجَةٍ۔
اَللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَنِي۔ إِنَّكَ سَمِيعُ الْعَلِيمِ۔ إِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔ إِنَّكَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔ اَللَّهُمَّ إِنَّكَ الْبَرُّ الْجَوَادُ الْكَرِيمُ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي وَاسْتُرْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَاهْدِنِي وَلَا تُضِلَّنِي وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ إِلَهِي رَبِّي فَحَبِّبْنِي وَفِي نَفْسِي لَكَ فَذَلِّلْنِي وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ فَعَظِّمْنِي وَمِنْ سَيِّئِ الْأَخْلَاقِ فَجَنِّبْنِي۔ اَللَّهُمَّ إِنَّكَ سَأَلْتَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا مَا لَا نَمْلِكُ إِلَّا بِكَ فَأَعْطِنَا مِنْهَا مَا يُرْضِيكَ عَنَّا۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا دَائِمًا وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا خَاشِعًا وَأَسْأَلُكَ يَقِينًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ دِينًا قَيِّمًا وَأَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ مِنْ كُلِّ بَلِيَّةٍ وَأَسْأَلُكَ تَمَامَ الْعَافِيَةِ وَأَسْأَلُكَ الشُّكْرَ عَلَى الْعَافِيَةِ وَأَسْأَلُكَ الْغِنَى عَنِ النَّاسِ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تُبْتُ إِلَيْكَ مِنْهُ ثُمَّ عُدْتُ فِيهِ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا أَعْطَيْتُكَ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ لَمْ أُوفِ لَكَ بِهِ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِلْعَمَلِ الَّذِي أَرَدْتُ بِهِ وَجْهَكَ فَخَالَطَهُ مِنِّي فِيمَا لَيْسَ لَكَ۔ اَللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي فَإِنَّكَ بِي عَالِمٌ وَلَا تُعَذِّبْنِي فَإِنَّكَ عَلَيَّ قَادِرٌ۔ اَللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي فَإِنَّكَ بِي عَالِمٌ وَلَا تُعَذِّبْنِي فَإِنَّكَ عَلَيَّ قَادِرٌ۔ اَللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي فَإِنَّكَ بِي عَالِمٌ وَلَا تُعَذِّبْنِي فَإِنَّكَ عَلَيَّ قَادِرٌ۔
اَللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔ اَللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي مِنْ حَيْثُ شِئْتَ وَمِنْ أَيْنَ شِئْتَ۔ حَسْبِيَ اللَّهُ لِدِينِي حَسْبِيَ اللَّهُ لِدُنْيَايَ حَسْبِيَ اللَّهُ لِمَا أَهَمَّنِي حَسْبِيَ اللَّهُ لِمَنْ بَغَى عَلَيَّ حَسْبِيَ اللَّهُ لِمَنْ حَسَدَنِي حَسْبِيَ اللَّهُ لِمَنْ كَادَنِي بِسُوءٍ حَسْبِيَ اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ حَسْبِيَ اللَّهُ عِنْدَ الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ حَسْبِيَ اللَّهُ عِنْدَ الْمِيزَانِ حَسْبِيَ اللَّهُ عِنْدَ الصِّرَاطِ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ ثَوَابَ الشَّاكِرِينَ وَنُزُلَ الْمُقَرَّبِينَ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّينَ وَيَقِينَ الصِّدِّيقِينَ وَذِلَّةَ الْمُتَّقِينَ وَإِخْبَاتَ الْمُوقِنِينَ حَتَّى تَوَفَّانِي عَلَى ذَلِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ السَّابِغَةِ عَلَيَّ وَبَلَاؤُكَ الْحَسَنُ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وَفَضْلِكَ الَّذِي فَضَّلْتَ عَلَيَّ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ بِمَنِّكَ وَفَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا دَائِمًا وَهُدًى قَيِّمًا وَعِلْمًا نَافِعًا۔ اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِفَاصِلٍ عِنْدِي نِعْمَةً وَأَكْفِنِي۔ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي خُلُقِي وَطَيِّبْ لِي كَسْبِي وَقَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي وَلَا تَذْهَبْ طَلَبِي إِلَى شَيْءٍ صَرَفْتَهُ عَنِّي۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَجِيرُكَ مِنْ جَمِيعِ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْتَهُ وَأَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ وَأَجْعَلُ عِنْدَكَ وَلِيجَةً وَأَجْعَلُ عِنْدَكَ زُلْفَةً وَحُسْنَ مَآبٍ وَأَجْعَلُ مِمَّنْ يَخَافُ مَقَامَكَ وَوَعِيدَكَ وَأَرْجُو لِقَاءَكَ وَأَجْعَلُ مِمَّنْ يَتُوبُ إِلَيْكَ تَوْبَةً نَصُوحًا وَأَسْأَلُكَ عَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَعَمَلًا نَجِيحًا وَسَعْيًا مَشْكُورًا وَتِجَارَةً لَنْ تَبُورَ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَكَّ رَقَبَتِي مِنَ النَّارِ۔
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ۔ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَعُودَ عَلَيَّ رَحِمٌ قَطَعْتُهُ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ امْرَأَةٍ تُشِيبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ عَذَابًا۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ فِي الْحَقِّ بَعْدَ الْيَقِينِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ يَوْمِ الدِّينِ۔ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَوْتِ الْفُجَاءَةِ وَمِنْ لَدْغَةِ الْحَيَّةِ وَمِنْ سَبُعٍ غَيُورٍ وَمِنْ كُلِّ ذَلِكَ وَمِنْ حَرَقٍ وَمِنْ غَرَقٍ وَمِنَ الْهَدْمِ وَمِنْ تَرَدٍّ مِنْ شَاهِقٍ ثُمَّ يَقُولُ۔ وَتَقَبَّلْ هَذِهِ الدَّعَوَاتِ فِي حَقِّ مُحَمَّدٍ أَشْرَفَ عَلِيٍّ وَعَبْدِ الْوَاسِعِ وَمُحَمَّدٍ مُصْطَفَى وَمُحَمَّدٍ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدٍ شَفِيعٍ وَعَبْدِ الْمَاجِدِ وَحَضْرَةِ مَوْلَانَا أَشْرَفَ السُّلَيْمَانِيِّ وَحَضْرَةِ صُوفِي إِقْبَالَ وَحَضْرَةِ سَيِّدِ وَصِيِّ اللَّهِ وَحَضْرَةِ سَيِّدِ تَنْظِيمِ الْحَقِّ وَفِي حَقِّ آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَجَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى سَيِّدِ الْكَائِنَاتِ وَكُلِّ الْمَخْلُوقَاتِ صَلَاةً۔ اَللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرما دے۔ یا اللہ! یہ مبارک وقت ہے، آخری وقت ہے۔ یا اللہ! یا رب العالمین! تو اس وقت دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے ہمارے حق میں بھی، یا اللہ، جو دعائیں ہم نے کیں وہ بھی قبول فرما۔ اور جو دعائیں ہم کرنا چاہتے تھے لیکن نہیں کر سکے، یا اللہ! وہ بھی قبول فرما۔ پوری امتِ مسلمہ کے حق میں، یا اللہ! بہترین فیصلے فرما دے۔ یا اللہ مرحومہ، یا اللہ اس امت کے حق میں، یا اللہ بہترین فیصلے فرما۔
ہم کمزور ہیں، اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں۔ یا اللہ! توبہ کرتے ہیں، سچے دل سے توبہ کرتے ہیں۔ یا اللہ! تمام گناہوں سے، چھوٹے گناہوں سے بھی، بڑے گناہوں سے بھی۔ جو ہمیں معلوم ہیں، جو معلوم نہیں، جو قصداً ہوئے، جو خطا سے ہوئے، جو ظاہر کیے، جو باطن کیے۔ یا اللہ! ان تمام گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، ہمارے تما تمام گناہوں سے کو معاف فرما دے۔ آئندہ کے لیے ان شاء اللہ ہم برائی نہیں کریں گے۔ غلطی سے پھر بھی ہو گیا فوراً توبہ کریں گے۔
اب ہم، یا اللہ! تیرے بننا چاہتے ہیں۔ یا اللہ! تو ہمیں اپنا بنا دے اور یا اللہ ہمارا بن جا۔ یا اللہ! افراط تفریط سے نکال لے۔ یا اللہ! جو حق راستہ ہے وہ حق دکھا دے، اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ جو باطل راستہ ہے باطل دکھا دے، اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے ایک ایک لمحے کی حفاظت فرما دے۔ ہمارے ایک ایک پیسے کی حفاظت فرما دے۔ ہمارے ایک ایک بال کی حفاظت فرما۔ ہماری اولاد کی حفاظت فرما۔ اور ان سب کو اپنے راستے کے لیے اپنے دین کے لیے قبول فرما دے۔ یا رب العالمین! شیطان سے ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دے۔ ہمارے نفسوں کی بہترین تربیت فرما دے۔ ہمارے قلوب کو قلبِ سلیم بنا دے۔ عقل کو عقلِ فہیم بنا دے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔