اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
﴿پنجم﴾ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ نے "زاد السعید" میں ایک مستقل فصل آدابِ متفرقہ میں لکھی ہے اگرچہ اس کے متفرق مضامین پہلے گزر چکے ہیں، اہمیت کی وجہ سے ان کو یکجا ہی ذکر کیا جاتا ہے۔ وہ ارشاد فرماتے ہیں:
جب اسمِ مبارک لکھے صلوٰۃ و سلام بھی لکھے یعنی صلی اللہ علیہ وسلم پورا لکھے اس میں کوتاہی نہ کرے، صرف "ص" یا "صلعم" پر اکتفا نہ کرے۔
ایک شخص حدیثِ شریف لکھتا تھا اور بسببِ بخل نامِ مبارک کے ساتھ درود شریف نہ لکھتا تھا، اُس کے سیدھے ہاتھ کو مرضِ اکلہ عارض ہوا، یعنی اُس کا ہاتھ گل گیا۔
شیخ ابن حجر مکی نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص صرف "صلی اللہ علیہ" پر...
اکتفا کرتا تھا "وسلم" نہ لکھتا تھا، حضورِ انور ﷺ نے اُس کو خواب میں ارشاد فرمایا تو اپنے کو چالیس نیکیوں سے کیوں محروم رکھتا ہے، یعنی 'وسلم' میں چار حرف ہیں، ہر حرف پر ایک نیکی اور ہر نیکی پر دس گنا ثواب۔ لہذا 'وسلم' میں چالیس نیکیاں ہوئیں،
درود شریف پڑھنے والے کو مناسب ہے کہ بدن و کپڑے پاک وصاف رکھے۔
آپ کے نامِ مبارک سے پہلے لفظِ "سیدنا" بڑھا دینا مستحب اور افضل ہے۔ انتہیٰ۔
اس آکلہ والے قصہ کو اور چالیس نیکیوں والے قصہ کو علامہ سخاوی نے بھی "قولِ بدیع" میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ نے درود شریف کے متعلق ایک مستقل فصل مسائل کے بارے میں تحریر فرمائی ہے اس کا اضافہ بھی اس جگہ مناسب ہے۔ حضرت تحریر فرماتے ہیں:
مسئلہ 1: عمر بھر میں ایک بار درود شریف پڑھنا فرض ہے بوجہِ حکم ﴿صَلُّوا﴾ کے جو شعبان 2ھ میں نازل ہوا۔
مسئلہ 2: اگر ایک مجلس میں کئی بار آپ کا نامِ پاک ذکر کیا جائے تو طحاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ ہر بار میں ذکر کرنے والے اور سُننے والے پر درود پڑھنا واجب ہے مگر مفتیٰ بہ یہ ہے کہ ایک بار پڑھنا واجب ہے پھر
مستحب ہے۔
نماز میں بجز تشہدِ اخیر کے دوسرے ارکان میں درود شریف پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار)
جب خطبہ میں حضور ﷺ کا نامِ مبارک آئے یا خطیب یہ آیت پڑھے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
اپنے دل میں بلا جنبشِ زبان کے صلی اللہ علیہ وسلم کہہ لے۔ (درمختار)
بے وضو درود شریف پڑھنا جائز ہے اور با وضو نورٌ علیٰ نور ہے۔
یہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں جا رہا تھا ایک عالم کے ساتھ، فاضلِ دیوبند... تو میں پیچھے بیٹھا ہوا تھا تانگے میں، حضرت نے اپنا رخ میری طرف کر کے فرمایا: "شبیر! یاد رکھو! بے وضو درود شریف پڑھنا جائز ہے۔ شیطان پہلے وضو نہیں رہنے دیتا اور پھر کہتا ہے کہ درود بغیر وضو کے نہیں پڑھا جاتا، کہ درود شریف نہ پڑھو۔"
تو جب ذکر کیا جا سکتا ہے، قرآن پڑھا جا سکتا ہے بغیر وضو کے... یعنی بغیر ہاتھ لگائے قرآن پڑھا جا سکتا ہے یاد سے اگر... تو درود شریف بھی تو ظاہر ہے اس کا حکم بھی تو قرآن میں ہے نا، تو وہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ مطلب مجھے اچھی طرح سمجھا دیا۔
تو یہ والی بات صحیح ہے کہ بعض لوگ اپنے خیال میں یہ بڑا اچھا کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔ کیونکہ انگریزی میں کہتے ہیں:
Something is better than nothing۔ یعنی کچھ تو نہ ہونے سے بہتر ہے نا۔ یعنی بالکل ہی انسان کے پاس کچھ نہ ہو تو اس سے کچھ نہ کچھ جو اچھا ہو، وہ تو بہتر ہے۔ مثلاً کسی کو دس روپے نہیں ملے تو کیا ایک روپے سے بھی انکار کر دے؟
مطلب ظاہر ہے ٹھیک ہے، ایک روپیہ بھی اگر ملتا ہے تو یہ بھی اچھا ہے۔ لیکن دس روپے کی کوشش کر لے۔
تو "نورٌ علی نور" ہے باوضو، لیکن اگر وضو نہ ہو تو پڑھی جا سکتی ہے۔
بجز حضراتِ انبیاء، حضراتِ ملائکہ علیہم السلام کے کسی اور پر استقلالاً درود شریف نہ پڑھے، البتہ تبعاً مضائقہ نہیں، مثلاً یوں نہ کہے 'اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ' بلکہ یوں کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ
(درمختار)
"درِ مختار" میں ہے کہ اسبابِ تجارت کھولنے کے وقت یا ایسے ہی کسی موقع پر یعنی جہاں درود شریف پڑھنا مقصود نہ ہو بلکہ کسی دنیوی غرض کا اس کو ذریعہ بنایا جائے درود شریف پڑھنا ممنوع ہے۔
"درِ مختار" میں ہے کہ درود شریف پڑھتے وقت اعضاء کو حرکت دینا اور بلند آواز کرنا جہل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض جگہ جو رسم ہے کہ نمازوں کے بعد حلقہ باندھ کر بہت چلا چلا کر درود شریف پڑھتے ہیں قابلِ ترک ہے
يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم دَائِمًا أَبَدًا
عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔ اس میں جذبات کی بات نہیں ہے، اس میں مسائل کی بات ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے مسائل جذبات کے تابع نہیں ہوتے، قرآن و سنت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو قرآن و سنت میں جیسے بتایا جاتا ہے، اسی طرح عمل کرنا چاہیے۔ اسی میں خیر ہے۔
میں بہت دفعہ کہہ چکا ہوں، اس کے باوجود بھی بعض لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آتی۔ میں جو کہتا ہوں "مسلم شریف" کی روایت ہے کہ جس وقت اذان کہی جا رہی ہو تو جو الفاظ اذان کے ہیں، وہی الفاظ کہے جائیں۔ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلا باِللہ... یہ جو ہے نا... پڑھا جائے حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ کے بعد۔
اور جس وقت اذان پوری ہو جائے، تو پھر اس کے بعد درود شریف پڑھے، پھر اس کے بعد اللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ... یہ مسلم شریف کی جب روایت ہے تو پھر ہم اپنی طرف سے کیوں خواہ مخواہ آگے پیچھے کر لیں؟
تو جس وقت أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ پڑھا جاتا ہے، لوگ اس وقت "صلی اللہ علیہ وسلم" پڑھ لیتے ہیں۔ بھئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ وہی الفاظ پڑھو جو الفاظ اذان کے ہیں، تو پھر اس کو کیوں تبدیل کرتے ہو؟ اس وقت حکم پر عمل کر لو۔
آپ کی محبت زیادہ اچھی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا اچھا ہے؟
وہ محبت ہی کدھر ہے جس میں حکم کی خلاف ورزی ہو؟ وہ محبت تو نہیں رہی۔ تو یہ والی بات اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ جو، جیسے الفاظ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذان کے، اس طریقے سے (کہے)۔
یہ میں نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ" اس لیے کہا کہ دوسری روایت میں ایسے موجود ہے۔ لہذا دوسری روایت کی بنا پر میں نے کہہ دیا، ورنہ صحیح بات ہے اگر وہی الفاظ کہے جائیں، پھر بھی ٹھیک ہے۔ کیونکہ مسلم شریف کی روایت میں تو یہی ہے کہ جو الفاظ کہے جائیں اسی طریقے سے کہو۔ پھر اس کے بعد درود شریف پڑھو۔