اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمِ
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَكْثِرُوا مِنَ الصَّلَوَاتِ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهٗ يَوْمٌ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهٗ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهَا قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ۔ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ كَذَا فِي التَّرْغِيبِ زَادَ السَّخَاوِيُّ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ فَنَبِيُّ اللهِ حَيٌّ يُرْزَقُ وَبَسَطَ فِي التَّخْرِيجِ وَأَخْرَجَ مَعْنَاهُ عَنْ عِدَّةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَقَالَ الْقَارِي وَلَهٗ طُرُقٌ كَثِيرَةٌ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ میرے اوپر جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ ایسا مبارک دن ہے کہ ملائکہ اس میں حاضر ہوتے ہیں اور جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ درود اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے انتقال کے بعد بھی؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں انتقال کے بعد بھی، اللہ جل شانہ نے زمین پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بدنوں کو کھائے۔ بس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے، رزق دیا جاتا ہے۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے انبیاء علیہم السلام کے اجساد کو زمین پر حرام کر دیا۔ پس کوئی فرق نہیں ان کے لیے دونوں حالتوں میں یعنی زندگی اور موت میں۔ اس حدیث پاک میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ درود روحِ مبارک اور بدنِ مبارک دونوں پر پیش ہوتا ہے اور حضور ﷺ کا ارشاد کہ اللہ کا نبی زندہ ہے، رزق دیا جاتا ہے، اس سے مراد حضور ﷺ کی پاک ذات ہو سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے ہر نبی مراد ہے اس لیے کہ حضور ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں کھڑے ہوتے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اور اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ اور یہ حدیث کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں، صحیح ہے اور رزق سے مراد رزقِ معنوی بھی ہو سکتا ہے اس میں بھی کوئی مانع نہیں کہ رزقِ حسی مراد ہو اور وہی ظاہر اور متبادر ہے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث بہت سے طرق سے نقل کی ہے۔ حضرت اوس رضی اللہ تعالی عنہ کے واسطے سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے: تمہارے افضل ترین ایام میں سے جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اسی دن میں نفخہ اولیٰ صور ہوگا، اسی میں صاعقہ دوسرا صور ہو گا پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ آپ تو قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ جل شانہ نے زمین پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے بدنوں کو کھائے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے بھی حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ میرے اوپر ہر جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ میری امت کا درود ہر جمعہ کو پیش کیا جاتا ہے اور جو شخص میرے اوپر درود پڑھنے میں سب سے زیادہ ہو گا وہ مجھ سے قیامت کے دن سب سے زیادہ قریب ہو گا۔ یہ مضمون کہ کثرت سے درود پڑھنے والا قیامت کے دن حضور ﷺ سے سب سے زیادہ قریب ہو گا، فصل اول کے نمبر پانچ میں گزر چکا ہے۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے بھی حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ جو شخص بھی جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ پر فوراً پیش ہوتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی حضور ﷺ کے ارشاد نقل کیا ہے کہ میرے اوپر روشن رات یعنی جمعہ کی رات اور روشن دن یعنی جمعہ کے دن میں کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے تو میں تمہارے لیے دعا اور استغفار کرتا ہوں۔
اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خالد بن معدان وغیرہ سے حضور ﷺ کے ارشادات نقل کیے گئے ہیں کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔
سلیمان بن سحیم کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ کی خدمت میں سلام کرتے ہیں کیا آپ کو اس کا پتہ چلتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اور میں ان کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ابراہیم بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے جب حج کیا اور مدینہ پاک حاضری ہوئی اور میں نے قبر اطہر کی طرف بڑھ کر حضور ﷺ کی خدمت میں سلام پیش کیا تو میں نے روضہ اقدس سے سلام کی آواز سنی۔
"جلاء الافہام" میں حافظ ابن قیم سے نقل کیا ہے کہ جمعہ کے دن درود شریف کی زیادہ فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور حضور ﷺ کی ذاتِ اطہر ساری مخلوق کے سردار، اس لیے اس دن کو حضور ﷺ پر درود کے ساتھ ایک ایسی خصوصیت ہے جو اور دنوں کو نہیں ہے اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ حضور ﷺ اپنی والدہ کے پیٹ میں اس دن تشریف لائے تھے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن درود شریف کی فضیلت حضرت ابوہریرہ، حضرت انس، اوس بن اوس، ابو امامہ، ابو درداء اور ابو مسعود، حضرت عمر، ان کے صاحبزادے عبداللہ وغیرہ حضرات صحابہ سے نقل کی گئی ہے جن کی روایات علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمع کی ہیں۔
یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمِ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الصَّلَاةُ عَلَيَّ نُورٌ عَلَى الصِّرَاطِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثَمَانِينَ مَرَّةً غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُ ثَمَانِينَ عَامًا۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مجھ پر درود پڑھنا پل صراط پر گزرنے کے وقت نور ہے اور جو شخص جمعہ کے دن اسی (80) دفعہ مجھ پر درود بھیجے، اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ذَكَرَهُ السَّخَاوِيُّ مِنْ عِدَّةِ رِوَايَاتٍ ضَعِيفَةٍ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے "قولِ بدیع" میں اس حدیث کی متعدد روایات جن پر ضعف کا حکم بھی لگایا گیا ہے، نقل کی ہیں اور صاحبِ اتحاف نے بھی "شرحِ احیاء" میں اس حدیث کو مختلف طرق سے نقل کیا ہے اور محدثین کا قاعدہ ہے کہ ضعیف روایت بالخصوص جبکہ وہ متعدد طرق سے نقل کی جائے، فضائل میں معتبر ہوتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے "جامع صغیر" میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث پر حسن کی علامت لگائی گئی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ "شرح شفاء" میں جامع صغیر کے حوالے سے بروایت طبرانی و دارقطنی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے بھی نقل کی جاتی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث میں یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسی (80) مرتبہ یہ درود شریف پڑھے: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِيمًا۔ اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف ہوں گے اور اسی (80) سال کی عبادت کا ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا۔
ایک بات جو کہ بہت اہم ہے سمجھانا، اصل میں یہ دور ہے فتنے کا۔ اور فتنہ اس کو کہتے ہیں جس کو انسان فتنہ نہیں سمجھتا ہو، یعنی اس میں پڑ جائے اور پتا بھی نہ چلے کہ میں فتنے میں پڑ گیا ہوں۔ تو آج کل یہ والی بات ہے کہ Social media ہے، لوگوں سے ملنا جلنا ہوتا ہے، ہر قسم کی باتیں لوگ سن چکے ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو سناتے ہیں، اور اس میں بعض باتیں ایسی باتوں باتوں میں ہو جاتی ہیں جس سے انسان کا دماغ ہل جاتا ہے اور کچھ سے کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ مثلاً ایک بات بہت اہم ہے کہ جو فضائل کی کتابیں ہوتی ہیں ان میں ہر طرح کی روایات ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فضائل سے مسائل تبدیل نہیں ہوتے، فضائل سے مسائل تبدیل نہیں ہوتے۔ مثلاً، میں نے آج نماز پڑھی، جمعہ کے دن نماز پڑھی۔ اب یہ ہے کہ مجھے اس کا ثواب 25 گنا یا 27 گنا مل جاتا ہے ایک روایت کے مطابق۔ اور میں نے اللہ کے راستے میں نماز پڑھی تو ایک ضعیف روایت کے مطابق مجھے 49 کروڑ نمازوں کا ثواب مل سکتا ہے۔ اب مجھے 49 کروڑ نمازوں کا ثواب ملے یا وہ 25 نمازوں کا ثواب ملے، نماز میں کوئی فرق پڑا؟ نماز پہ کوئی فرق نہیں پڑا۔ اور نماز مجھے پڑھنی تو تھی، میں نے اس وجہ سے تو نہیں پڑھی... نماز مجھے پڑھنی تھی، اور نماز میں نے پڑھی، اس میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اب اجر کس کے ذمے ہے؟ اللہ کے ذمے ہے۔ تو آپ کو کیا پریشانی ہوئی؟ جبکہ اللہ پاک یہ بھی فرما رہے ہیں:
أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔
میں بندے کے اس گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔
تو کیا بندے کے گمان کے لیے ضعیف حدیث کافی نہیں ہے؟ کیا خیال ہے؟ بھئی کم از کم کشف اور خواب سے تو معتبر ہے نا۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ "اگر مجھے ضعیف حدیث بھی ملے تو وہ میں اپنی بات اور قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں"۔
اب ضعیف حدیث ہوتی کیا ہے وہ ذرا سمجھنے کی کوشش کر لیں۔ اچھی طرح ذہن نشین کریں، کام آئے گا ان شاء اللہ بار بار۔ ضعیف حدیث اصل میں متن کے ساتھ مسئلہ کوئی نہیں ہوتا، متن تو وہی ہوتا ہے۔ یہ روایت پر منحصر ہوتا ہے۔ جب راوی سارے ثقہ ہوں، ان کے درمیان میں کوئی انقطاع نہ ہو تو وہ روایت صحیح ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر راویوں میں ضعف پایا جائے مثلاً کوئی مجہول ہو۔ مجہول اس کو کہتے ہیں جس کو لوگ جانتے نہیں ہوں۔ روایت مجھے نہیں معلوم کہ کہاں کون ہے لیکن اس نے کہہ دیا۔ تو اس سے بھی روایت ضعیف ہو جاتی ہے حدیث شریف کے قانون کے مطابق۔
اگر ہم راستے پہ جاتے ہیں اور کوئی ہمیں بتاتا ہے کہ آگے جا کر سڑک Block ہے، اور اس آدمی کو جو یہ بات کہہ رہا ہے اس کو میں نہیں جانتا، تو کیا خیال ہے؟ میں کہوں گا تو کون ہے؟ جاؤ جاؤ اپنا کام کرو۔ مجھے فکر پڑ جائے گی نا کہ بھئی راستہ تو آگے Block ہے اور اگر ایک آدمی اور بھی راستے میں ملے جس سے میں پوچھوں اور وہ مجھے کہے کہ یہ راستہ Block ہے، تو کیا اس کو میں جانتا ہوں گا؟ اس کو بھی نہیں جانتا۔ اب میرا شک اور بھی مضبوط ہو گیا! اور اگر تیسرا ایک آدمی بھی کہہ دے بھئی آگے کیسے جا رہے ہو ادھر تو راستہ Block ہے۔ اب پھر کیا ہو گا؟ جاؤں گا میں آگے؟ تو یہ کیوں میں واپس ہو گیا؟ کیا وہ روایت صحیح ہو گئی؟ روایت وہی ضعیف ہی ہے، اس پر میں نے عمل کر لیا، کیوں؟ مجھے مشکل پیش آئی۔ اگر میں Trial لیتا ہوں... Risk میں جاتا ہوں، بڑا مسئلہ ہے۔
تو کیا خیال ہے یہ Risk کم ہے، یا ادھر آخرت سے واپس آنے کا Risk کم ہے؟ واپس آ سکتے ہیں دوبارہ؟ چلو جی وہ عمل تو میں نے ضعیف حدیث کی وجہ سے چھوڑا تھا، تو اب میں واپس آتا ہوں کیونکہ مجھے پتا چل گیا اب میں یہ عمل کرتا ہوں۔ کوئی Chance ہے؟
تو بس یہی والی بات ہے کہ اگر ہوشیار آدمی ہو وہ ان چیزوں سے دلائل پکڑ لیتا ہے۔ تو یہ جو محدثین نے ایک قانون بنایا ہے کہ ایک ضعیف حدیث اگر کئی طرق، کئی راویوں سے آ جائے تو ان کو قوت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ قوت حاصل ہو جاتی ہے نا، ہم خود ہی اس کو مطلب دیکھ رہے ہیں۔ اور اس سے کوئی حکم بدلتا بھی نہیں۔ حکم اس طرح نہیں بدلتا کہ درود شریف بھی وہی ہے اور میں بھی اس طرح پڑھتا ہوں۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ 80 سال کے گناہ معاف ہو گئے... نہیں ہوئے، Chance تو پیدا ہوا نا۔ میں نے عمل کر لیا Chance تو پیدا ہو گیا نا۔ اور میرا وقت کتنا لگا؟
سب سے بڑی بات، ہم سے زیادہ جاننے والوں کا عمل تھا۔ ہم سے زیادہ جاننے والوں کا عمل تھا۔ خود یہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کا عمل تھا باقاعدہ۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ 50 سال تک احادیث شریفہ کا درس دے چکے ہیں۔ تو ان کی بات زیادہ معتبر ہو گی یا میری اور آپ کی؟
جو بات بہت ہی اہم بات ہے سمجھ کی بات ہے، دیکھیں... علم بھی بار بار تکرار سے پختہ ہوتا ہے۔ علم بھی بار بار کی تکرار سے پختہ ہوتا ہے۔ اور برکت بھی بار بار احادیث شریف پڑھنے سے آ جاتی ہے۔ یہ شیخ الحدیث جو آخر میں ہوتے ہیں نا، اللہ تعالیٰ ان کو بہت برکت عطا فرماتے ہیں۔ ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کھول لیتے ہیں، ان پر چیزیں اللہ تعالیٰ منکشف فرماتے ہیں۔ ہے نا یہ بات؟
تو جب یہ والی بات ہے، تو یہ جو یہ حضرات جس وقت کوئی Step لے لیں تو اس میں بہت بڑا خیر ہوتا ہے۔ اب یہ جو کتابیں ہیں فضائل کی، ان میں آپ کو ہر قسم کی روایات ملیں گی کیونکہ وہ فضائل کی کتابیں ہیں، فضائل اعمال، چاہے وہ نماز کے بارے میں ہے، چاہے وہ ذکر کے بارے میں ہے، چاہے وہ درود شریف کے بارے میں ہے، چاہے رمضان شریف کے بارے میں ہے، چاہے تبلیغ کے بارے میں ہے، یہ سب روایات آپ کو اس میں ہر قسم کی روایات مل جائیں گی۔
میرے اور آپ کے لیے تو وہ روایات کیا، قرآن پاک کی آیتیں کافی ہیں۔ یہ تو ذرا تھوڑا سا اور مزید Push دینے کے لیے، ورنہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا یہ کافی نہیں ہے؟ کمال کی بات ہے کہ وہ حکم وہ کام جو اللہ جل شانہٗ نے ایک عظیم الشان طریقے سے اس امت کو پہنچایا ہے۔ اچھا کیا اس قابل نہیں ہے کہ اس کو خاص طریقے سے کیا جائے؟ دیکھو سن لو ذرا اچھی طرح، بے شک اللہ اور اس کے فرشتے إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ اس عظیم نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کون؟ اللہ اور اس کے فرشتے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اے مومنو! سبحان اللہ مجھے تو مزہ آ جاتا ہے جب میں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کا صیغہ پڑھتا ہوں قرآن میں، کیونکہ الحمد للہ اللہ پاک نے ہمیں خطاب فرمایا ہے۔ اللہ کا شکر ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ہاں تم بھی اہتمام کے ساتھ ان پر درود و سلام بھیجو۔
کیا بات ہے، اس کے بعد کوئی چیز رہتی ہے؟ ذکر کے بارے میں کوئی کتابیں بھری ہوئی ہیں الحمد للہ، حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا پورا رسالہ ہے، فضائلِ ذکر۔ میرے لیے تو ایک قرآن پاک کی آیت کافی ہے۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ۔ پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میری نعمت کا شکر ادا کرو اور اس کا انکار مت کرو۔
تو میرے لیے تو یہ آیت کافی ہے، چاہے مجھے کوئی اور آیت سامنے نہ بھی ہوتی پھر بھی مجھے... میرے لیے کافی ہے کیونکہ اس کے لیے تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے۔ کہ جو اتنا بڑا... بڑی ہستی آپ سے کہہ رہی ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا تو میں ان کی... اس کی یاد رکھنے کے لیے تو میں سارا کچھ کر رہا ہوں۔ میں اگر نماز پڑھتا ہوں اس لیے پڑھتا ہوں کہ اللہ مجھے یاد رکھے۔ میں اگر روزے رکھتا ہوں اس لیے رکھتا ہوں کہ اللہ مجھے یاد رکھے۔ میں جو اعتکاف کر رہا ہوں اس لیے کر رہا ہوں کہ اللہ مجھے یاد رکھے۔ یہی تو ہمارا مقصود ہے۔ اس سے زیادہ ہم کیا کہیں گے کہ اللہ ہمیں یاد رکھے، مشکل وقت میں اللہ ہمیں چھوڑے نہیں اللہ پاک ہمیں یاد رکھے۔
تو جب اللہ پاک یاد رکھنے کا ہمیں اس بات پر یعنی وہ دے رہے ہیں، ماشاءاللہ قرآن کی آیت ہے، ضعیف آیت نہیں ہے، ضعیف حدیث شریف نہیں ہے۔ تو اس کے لیے میرے لیے کافی ہے نا، باقی تو مزید Bonus ہے۔ ہاں جی؟ تو اس وجہ سے کہتے ہیں عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔
عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے، پشتو میں ذرا سخت الفاظ ہیں، پشتو والے ذرا تھوڑے سے الفاظ سخت اختیار کرتے ہیں، ہاں، ان کا جو... وہ کہتے ہیں کہ اصیل تہ اشارہ دہ او کمصل تہ لوڑ، ہاں، اصیل کے لیے اشارہ ہے اور کمصل کے لیے پھر ڈانگ ہے۔ عقل و فہم کے لیے... اس کا سر پھاڑ دیا جاتا ہے۔ ہاں جی؟ جو نہیں سمجھتا۔ تو اصل بات یہ ہے کہ ہمارے لیے تو اشارہ کافی ہے، الحمدللہ۔ اشارہ ہو گیا نا، اس سے زیادہ ہم کیا کہیں؟
تو یہ جتنے بھی احادیث شریف، فضائل کی کتابیں ہیں، اس میں جو ضعیف روایات ہیں اس پہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ اب ذرا میں آپ کو وجہ بتا رہا ہوں کہ ضعیف احادیث جمع ہی کیوں کی جاتی ہیں؟ اصل میں دیکھو، اللہ جل شانہٗ نے اس دین کو باقی رکھنا تھا۔ قرآن کو باقی رکھنا تھا تو کتنے سارے حافظ پیدا ہو گئے تھے الحمدللہ۔ اب قاری صاحب ماشاءاللہ رات کو پڑھتے ہیں، بس سبحان اللہ پڑھتے جاتے ہیں۔ ہاں جی؟ تو ماشاءاللہ جو ہے نا وہ... کیسے ان کو اس طرح کتاب کو یاد کریں نا، کوئی اور کتاب کو؟ یاد ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا ہے، لیکن اللہ پاک نے ایسا انتظام کیا کہ بچوں کو زیادہ بہتر یاد ہوتا ہے اور بڑوں کو تھوڑا سا مشکل سے یاد ہوتا ہے۔ ہاں جی؟ بچے... بچے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن غلط پڑھو، ٹوک دیں گے، یہ تو... یہ تو نہیں ہے۔
میرا بیٹا اس وقت بچہ تھا وہ آیا مجھے کہتے ہیں آج ہم نے ایک قرآن دیکھا ہے اس میں ایک آیت غلط لکھی ہوئی تھی۔ اچھا؟ کون سا قرآن؟ Company ومپنی کا بتایا، تو چند دنوں کے بعد اخباروں میں آ گیا کہ وزارتِ مذہبی امور نے اس قرآن کو ضبط کر لیا، اس میں غلطیاں تھیں۔
اب دیکھو ایک چھوٹا بچہ بھی جو ہے نا اس کو پکڑ سکتا ہے۔ کوئی مشکل نہیں اس کے لیے، کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ ایک دفعہ ایسا ہوا، ایک صاحب نے قرآن کو بہت خوبصورت لکھا۔ پہلے اس نے یہ کیا، انجیل بہت خوبصورت لکھا، اور وہ جا کر پادریوں کو Gift کر دیا۔ ان کے کلیسا میں۔ انہوں نے بہت شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ پھر جو یہودیوں کے رابی تھے ان کے پاس گئے، تورات بہت خوبصورت لکھا، ان کو دے دیا انہوں نے بھی بہت شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ پھر اس نے قرآن لکھ دیا، خوبصورت۔ اور جا کر مسجد میں گئے، اور ان سے کہا کہ یہ میں آپ کے لیے لکھ چکا ہوں آپ اس کو قبول فرمائیں۔ انہوں نے کہا جی آپ ذرا تشریف رکھیں تھوڑا سا نا۔ اس کو بٹھا دیا اور حافظوں کو بلا لیا۔ ان سے کہا جی دیکھو کوئی غلطی ولتی تو نہیں ہے۔ اب پڑھتے رہے پڑھتے رہے، غلطی نکل آئی جی نوٹ کر لیا، پھر پڑھتے رہے پڑھتے رہے غلطی نکل آئی نوٹ کر لیا۔ جب چند غلطیاں آ گئیں نا، تو انہوں نے شکریہ کے ساتھ واپس کیا کہ آپ نے بڑی محنت کی ہے لیکن چونکہ ہمارے معیار کے مطابق نہیں ہے یہ صحیح نہیں ہے اس کے اندر غلطیاں ہیں لہذا ہم معذور ہیں اس کو ہم نہیں رکھ سکتے۔ واپس... تشریف لائے۔ اور وہ مسلمان ہو گیا۔ وہ یہی چاہتا تھا کہ میں... مجھے پتہ چل جائے کون احتیاط کرتا ہے۔ تو اب دیکھو اللہ پاک نے یہ نظام بنایا ہوا ہے قرآن میں کوئی غلطی نہیں کر سکتا۔
تو احادیث شریف کے لیے اللہ پاک نے ایسا انتظام کیا کہ کچھ حضرات کا ایک Group بنا لیا، پورا زبردست Group ہے۔ بخاری شریف کا، مسلم شریف کا، ابو داؤد شریف کا۔ ہاں، ان حضرات کے... جس جو تھے مطلب جو ہے نا وہ، انہوں نے... انہوں نے سختی کی۔ انہوں نے سخت شرائط لکھ دیے، بنا دیے۔ سخت شرائط بنا دیے۔ شرائط کس نے بنا دیئے؟
ان حضرات نے، بخاری نے، مسلم نے، ابو داؤد نے، ترمذی نے، نسائی نے، ابن ماجہ، انہوں نے شرائط بنائے۔ اللہ کی طرف سے نہیں اترے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا کہ نشانی کس نے بنائی... یہ، یہ جو، یہ جو قوانین کس نے بنائے؟ بندوں نے بنائے، علماء نے بنائے، تو وہ تو ٹھیک ہے، بخاری شریف ٹھیک ہے کیونکہ بخاری شریف کے قواعد امام بخاری نے بنائے ہیں۔ اور فقہ حنفی ٹھیک نہیں کیونکہ اس کے قواعد امام ابو حنیفہ نے بنائے ہیں۔ اس کے لیے کوئی اور طریقہ چاہیے۔
ہاں جی؟ اور فقہ شافعی ٹھیک نہیں کیونکہ اس کے قواعد امام شافعی نے بنائے ہیں۔ خدا کے بندو ایک قانون اختیار کر لو۔ ایک قانون، اگر بندوں کے قوانین کو نہیں مانتے ہو پھر ان کو بھی نہ مانو۔ اور اگر بندوں کے قوانین اس میں منظور ہیں تو پھر اس میں کیوں منظور نہیں؟ ہے نا یہ بات؟
تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو قوانین بنائے انہوں نے ماشاءاللہ، اب سخت قوانین بنائے۔ اس میں چھانٹی ہو گئی۔ خود امام بخاری رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ اتنے لاکھ احادیث شریفہ میں، میں نے چھانٹی کی۔ اس میں اتنے نکل ائے، وہ میں نے کیا ہے۔ اب اس کی صحت کے بارے میں حضرت فرماتے ہیں کہ یہ صحیح ہے۔ امام بخاری رحمة الله عليه، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے۔
اب صحیح احادیث جمع تو ہو گئیں، اس کی نیت یہ تھی کہ کہیں آپ ﷺ پر جھوٹ نہ بولا جائے۔ اس چیز سے بچنے کے لیے کہ دین میں کوئی تبدیلی نہ آئے، تو اس وجہ سے اتنی سختی کی۔ کچھ اور بڑے بڑے حضرات تھے جیسے صاحبِ کنز العمال ہے، امام بیہقی رحمة الله عليه ہیں۔ ہاں جی؟ اس طرح اور حضرات، بڑے بڑے حضرات، بڑے بڑے علماء، یعنی یہ نہیں کہ امام بخاری ان سے بڑے ہیں۔ یہ تو امام بخاری کی کتاب اونچی ہے اس لحاظ سے تو وہ صحیح ہے۔ یہ نہیں کہ مطلب... وہ تو ان کی، جس کو ہم کہتے ہیں، ان کا اصولی یہ تھا کہ صحیح کتابیں جمع کی جائیں۔ اگر امام بیہقی کرتے تو وہ بھی اس طرح کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے اصول کیا بنایا؟ انہوں نے اصول یہ بنایا، کہ کہیں پر ہماری سختی کی وجہ سے حضور ﷺ کی احادیث شریف ضائع نہ ہو جائیں۔ اس لیے ذرا تھوڑا سا اصول نرم کر دو تاکہ اور احادیث شریف بھی اس میں آ جائیں، کہیں احادیث شریف ہماری سختی کی وجہ سے ضائع نہ ہو جائیں۔ کیا خیال ہے کیسی نیت تھی؟
اچھی نیت تھی؟ اسی میں پھر ضعیف احادیث وغیرہ بھی آ گئیں۔ اب ضعیف حدیث کے اوپر کوئی قسم نہیں کھا سکتا کہ یہ غلط ہے۔ کوئی قسم نہیں کھا سکتا کہ یہ غلط ہے۔ ہاں ضعیف کہے گا اس کو۔ تو اس ضعیف حدیث شریف کے جو مطلب ہے... فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فضائل میں اس پر عمل ہو سکتا ہے۔ اور لوگوں کے لیے رہنمائی بھی اس میں موجود ہوتی ہے۔ مزید تحقیق کر لیں تو ممکن ہے کہ آگے صحیح ثابت ہو جائے اس کا کوئی شواہد۔ تو مطلب جو ہے نا آپ اس سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ تو اس طریقے سے علم بڑھتا ہے آگے۔ اس طرح علم آگے بڑھتا ہے، تو بہرحال یہ ہے کہ یہ ماشاءاللہ یہ فضائل درود شریف کی جو کتاب ہے جو میرے سامنے ہے، یہ حضرت شیخ الحدیث رحمة الله عليه نے جو لکھی ہے، بہت ہی پیاری کتاب ہے۔ نورانی کتاب ہے۔ نورانی کتاب ہے۔
اگر تھوڑا سا اس پر اس کا جو ابتداء ہے اس کو... اس کو بھی جو ہے نا اگر دیکھا جائے تو بہت فائدہ ہو گا تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ کتاب لکھی کیوں گئی ہے؟ ہاں؟ اور پھر کس طریقے سے مطلب جو ہے نا وہ آگے بڑھی ہے؟ تو ان حضرات نے بڑی محنتیں کی ہیں۔ درود شریف کی جو فضیلت ہے وہ الحمدللہ پوری امت میں مسلمہ ہے۔ یہ کوئی اس کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتا۔
اب علمائے کرام نے یہ بھی ایک کام کیا کہ جو صحیح اسناد کے ساتھ احادیث شریفہ درود پاک کے بارے میں ہیں، روایات ہیں، ان کو جمع کر کے وہ بھی شائع کر دیں۔ مثلاً ان میں سے ایک، 40 درود و سلام ہیں۔ جن میں 25 درود ہیں اور 15 سلام۔ یہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه نے جمع کیے زاد السعید کے نام سے۔ اور حضرت مولانا زکریا صاحب رحمة الله عليه نے مِنْهُ وَعَنْهُ اس کے اندر داخل کی فضائل درود شریف میں، مِنْهُ وَعَنْهُ درمیان میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اور حضرت شیخ رحمة الله عليه کے خلفاء نے اس کو سبحان اللہ تقریباً دنیا کی ہر زبان کے اندر پہنچا دیا۔ دنیا تک پہنچ گیا۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ... یہ جو حضرت تھانوی رحمة الله عليه کی جو کوشش ہے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی۔
زاد السعید۔ ہاں جی؟ تو اب یہ کہ اتنی اونچی نیت ہے ان حضرات کی، اتنی پاک نیت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو... بہت کچھ دے دیا بلکہ جو اس کو مطلب لیتے ہیں تو ان کو بھی اللہ تعالیٰ بہت کچھ دیتے ہیں۔
تو ہمارے سلسلے میں باقاعدہ یہ وظیفہ ہے۔ ہم روزانہ اس کو پڑھتے ہیں۔ چہل حدیث شریف اس کو کہتے ہیں۔ جب چہل حدیث شریف آپ کہتے ہیں تو یہ حدیث شریف ہوا نا۔ وہ درود و سلام کا وظیفہ بھی ہے۔ اس کی دو حیثیتیں ہیں، ایک تو یہ کہ یہ حدیث شریف ہیں سارے۔ کیونکہ حدیث شریف کا جز بھی اگر پڑھ لیا جائے تو وہ بھی تو حدیث ہی ہوتا ہے نا۔ کیا خیال ہے؟
اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ہے۔ ٹکڑا ہے حدیث شریف کا لیکن... اس طریقے سے جو ہے نا مطلب إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ حدیث شریف کا ٹکڑا ہے نا۔ تو کیا... کیا اس کو کیا کیا کہتے ہیں؟
حدیث ہی کہتے ہیں نا إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ حدیث شریف ہے۔ اسی طریقے سے یہ احادیث شریف سے لیے گئے ٹکڑے ہیں۔ اور یہ احادیث شریف ہی ہیں لہٰذا جو إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کو سنتا ہے تو حدیث شریف کا ثواب ملتا ہے سننے کا یا نہیں ملتا؟
تو اگر ان کو سننے کا، سنے گا اس نیت سے کہ میں حدیث شریف سن رہا ہوں تو حدیث شریف کے سننے کا ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اب میں ایک اور چیز آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ذرا انشاءاللہ مسئلہ آسان ہو گیا کافی حد تک۔
میں نے ایک Audio سنی ہے۔ بہت پرانے دیوبند کی Audio سنی ہے۔ دارالحدیث کی۔ جس میں ایک طالب علم بڑے خوبصورت آواز میں احادیث شریف مسلسل روایت کر رہا ہے۔ ہاں جی بس بالکل جیسے پانی کی طرح جا رہا ہے۔ اور باقی لوگ سن رہے ہیں۔ بڑے عجیب جذب کے انداز میں وہ، وہ سنا رہا ہے، حدیث شریف۔ ہاں جی؟ تو میری بھی کوشش ہوتی ہے کہ میں ان احادیث شریف کو اس انداز میں سناؤں۔ میں نے آج آپ کے سامنے اس انداز میں سنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ آپ اس کو اس انداز میں سننے کی کوشش کر لیں۔
آپ کو سننے کا اجر ملے گا، مجھے سنانے کا اجر ملے گا۔ یہی بات ہے نا۔
تو یہ احادیث شریفہ ہیں، تو احادیث شریفہ ہی کے انداز میں اس کو ہم سن... شروع سنتے ہیں یعنی پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں، ٹھیک ہے نا؟ تو بعض لوگ کہتے ہیں کمال ہے اتنی جلدی جلدی پڑھتے ہیں، جلدی جلدی پڑھتے ہیں، یہ کیا ہے؟ خدا کے بندے احادیث شریف کی روایات ہیں! اور ساتھ ساتھ درود شریف بھی ہے۔ تو درود شریف کے فض... آپ کو مل جائے یعنی ثواب مل رہا ہے اور ساتھ ساتھ احادیث شریف کی روایات کا سننے کا بھی اجر مل رہا ہے، سبحان اللہ۔
(ٹرانسکرپشن کا اختتام)
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: جمعہ کے دن درودِ پاک کی فضیلت اور حیاتِ انبیاء علیہم السلام
متبادل عنوان: کثرتِ درود اور بارگاہِ نبوی ﷺ میں اس کی پیشی
اہم موضوعات:
جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کی خاص فضیلت۔
درودِ پاک کا حضور ﷺ کی بارگاہ میں براہِ راست پیش کیا جانا۔
قبرِ اطہر میں انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ مبارکہ اور رزق۔
درودِ پاک کی برکت سے پل صراط پر نور اور گناہوں کی معافی۔
جمعہ کے مخصوص اوقات (عصر کے بعد) میں درود پڑھنے کا ثواب۔
خلاصہ: