اب چونکہ رمضان شریف آنے والا ہے تو رمضان شریف ہی سے متعلق کلام جو ہے وہ پڑھا جائے گا ان شاءاللہ۔
اصل میں یہ جو اصلاح کا عمل ہے اس کو سمجھنے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے کشف ہو جائے، مجھے کرامت حاصل ہو جائیں یا مجھے کوئی اچھا مقام اس میں حاصل ہو جائے، میری منزلیں طے ہو جائیں، یہ ساری باتیں دنیاوی بن جاتی ہے۔
شیطان کسی کو چھوڑتا نہیں ہے آسانی کے ساتھ اپنی اصلاح کرنے کے لیے۔ اول تو اصلاح کے لیے کوئی آتا نہیں اور جب آتا ہے تو پھر ان کو ان چیزوں میں involve کر لیتا ہے۔ تو صحیح اصلاح اس وقت ہوتی ہے جب انسان کو اپنے عیوب نظر آنے لگتے ہیں۔
کہتے ہیں اصل کشف جو ہے وہ اصل میں اپنے عیوب کا کشف ہے۔ کسی کو اگر اپنے عیوب معلوم ہونے لگیں تو یہ بہت مبارک کشف ہے۔ اور اگر دوسروں کے عیوب معلوم ہونے لگیں تو یہ انتہائی درجے کا خطرناک کشف ہے۔ اگر دوسروں کے عیوب نظر آنے لگیں نا... ہو جاتا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو وضو کے پانی میں گناہ دھلتے ہوئے نظر آتے تھے۔ تو حضرت نے باقاعدہ دعا کی اللہ تعالیٰ سے کہ یا اللہ یہ مجھ سے لے لے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ تو دوسروں کے گناہوں کا نظر آنا یہ بہت خطرناک معاملہ ہے، اس سے تو پناہ مانگنا چاہیے۔
حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے یہ فرمایا، یہ حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ تو انہوں نے فرمایا مجھے شیخ شہاب سے دو باتوں کی نصیحت ملی ہے، دو باتوں کا خیال رکھو۔ ایک یہ کہ دوسروں کے اوپر بدگمان نہ ہوا کرو۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اپنے اوپر کبھی اچھا گمان نہ کرو۔ اپنے اوپر اچھا گمان نہ کرو، دوسروں کے ساتھ بدگمانی نہ کرو۔ بچے رہو گے۔
تو یہ واقعتاً ہم نے دیکھا ہے کہ اگر تھوڑا سا بھی دین کے اوپر کوئی آ جائے نا تو پورے معاشرے کو سر پہ اٹھا لیتا ہے کہ فلاں میں یہ خرابی ہے، فلاں میں یہ خرابی ہے، فلاں میں یہ خرابی ہے۔ یہ بیچارہ مشکلات بنا رہا ہے، اپنے لیے بھی، دوسروں کے لیے بھی۔
اور جس کو فکر لاحق ہو جائے کہ مجھ میں یہ خرابی، مجھ میں یہ خرابی، مجھ میں یہ خرابی، وہ خاموشی سے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائے گا، کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ اِس کی اصلاح ہو رہی ہے۔ ہاں وہ آگے بڑھ رہا ہو گا، اللہ تعالیٰ ان کو اونچے مقامات دے رہا ہو گا اور لوگوں کو پتا بھی نہیں ہو گا۔ اور جو اس طرف... فلاں میں یہ خرابی ہے، فلاں میں یہ خرابی ہے، فلاں میں یہ خرابی ہے، اس سے پھر خواہ مخواہ شہرت بھی ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ دوسروں کے لیے مسئلہ بھی بن جاتا ہے اور اپنے لیے بھی دردِ سر بن جاتا ہے۔
تو یہ نورِ رمضان... رمضان کا تو نور confirm بات ہے نا، اس میں تو اختلاف تو نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث شریف سے بھی ثابت ہے کہ رمضان شریف کے مہینے میں شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اور نفس کے اوپر پیر رکھا جاتا ہے، اس وجہ سے اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ اصلاح تو رمضان شریف سے شروع ہو جاتی ہے۔ تو اس اصلاح سے اگر مجھے یہ چیز مل جائے، نورِ رمضان کا بتایا ہے، کہ مجھے اپنے عیوب نظر آنے شروع ہو جائیں تو کتنا اچھا ہو گا۔ یہ مطلب یہ کہہ رہے ہیں۔
نورِ رمضان سے ہو محسوس مجھے مقصدِ زیست
پھر ہو اس مقصدِ زیست کے لیے ہی میرا سفر
نورِ رمضان مجھے اللہ سے ملائے اس طرح
کہ مجھے اس کے علاوہ رہے کسی کا نہ ڈر
یعنی مجھے اللہ تعالیٰ سے یہ نورِ رمضان اس طرح ملا دے کہ مجھے اس کے علاوہ کسی اور سے ڈر نہ رہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کر لوں، اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہوں، اللہ کے لیے کام کرتا رہوں، یہ مجھے مل جائے۔
نورِ رمضان مجھے اللہ سے ملائے اس طرح
کہ مجھے اس کے علاوہ رہے کسی کا نہ ڈر
نورِ رمضان مجھے کر دے اُس سے مانوس یوں کہ
پھر کسی حال میں چھوٹے نہ مجھ سے اُس کا در
یعنی میں خالص اس کے در کا بن جاؤں، نورِ رمضان کے ذریعے سے میرے دل کی صفائی اتنی ہو جائے، دنیا کی محبت میرے دل سے اتنی نکل جائے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میرے دل میں ایسے آ جائے کہ میں اس کے در کا ہی رہوں، کسی اور کا نہ بنوں۔
نورِ رمضان مجھے اس کیف سے آشنا کر دے
جس سے وہ چشم و قلب میں میرے رہے عمر بھر
نورِ رمضان سے اسحار میں استغفار سیکھوں
ہاں یہ دیکھیں نا، نورِ رمضان کی برکت سے میں سحری کے وقت استغفار کرنا سیکھوں۔ کیونکہ قرآن پاک میں ہے: وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔ مطلب یہ ہے کہ سحری کے وقت جو استغفار ہے یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس کے اوپر بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ عموماً اس کو لوگ نہیں جانتے۔
نماز تو پڑھ لیتے ہیں، نماز کے بارے میں لوگوں کو پتا ہے تہجد کی نماز کا تو۔ لیکن اگر تہجد کی نماز کا وقت بہت کم رہ جائے مثلاً پانچ منٹ رہ جائیں، اس میں آپ وضو بھی نہیں کر سکتے، استغفار تو کر سکتے ہیں۔ تو استغفار بھی اس کا بہت بڑا شعبہ ہے تہجد کا مطلب جو ہے نا سحری کے وقت کا، وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔
تو یہ... یہ جو ہے نا مطلب یہ رمضان شریف چونکہ سحری کے لیے تو انسان اٹھتا ہی ہے، تو اب اگر تھوڑی دیر پہلے اٹھ جائے اور استغفار کر لے اور چار چھ آٹھ رکعت پڑھ لے، اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے دعا کر دے۔ تو وہ جو مسلسل جو آواز آ رہی ہوتی ہے کہ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اس کو دوں، ہے کوئی پریشان حال کہ اس کی پریشانی دور کر لوں، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت ختم کروں... یہ آواز جو آ رہی ہے اس کے اوپر لبیک ہو جائے گا۔ کام بن جائے گا ان شاءاللہ۔
نورِ رمضان سے اسحار میں استغفار سیکھوں
اور یہ کہ کیسے ہو ہر شام میری چشمِ تر
اور افطار کے وقت چشمِ تر نصیب ہو جائے مطلب رو رو کے دعائیں کرنا نصیب ہو جائے۔ عموماً افطار کے وقت لوگوں کو اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کتنا قیمتی وقت ہے۔ اس وقت کتنے لوگوں کی لاکھوں لوگوں کی مغفرت ہو رہی ہے، تو میرا نام اس میں شامل کیوں نہ ہو؟ تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے مطلب جو ہے نا اللہ کے سامنے رونا چاہیے۔
نورِ رمضان سے اسحار میں استغفار سیکھوں
اور یہ کہ کیسے ہو ہر شام میری چشمِ تر
نورِ رمضان سے تلاوت کا بنوں میں رسیا
نورِ رمضاں سے دعا کا کھلے مقام مجھ پر
یہ دوسرا شعبہ ہے۔ رونا اور اس کے علاوہ تلاوت کرنا۔ اللہ کے سامنے کھڑا ہونا اور اللہ کے لیے مشقت برداشت کرنا۔ یہ رمضان کا خصوصی تحفہ ہے۔ جو عموماً حاصل نہیں ہوا کرتے، رمضان میں یہ چیزیں حاصل ہو سکتی ہیں آسانی سے۔ رمضان سے یہ فائدے انسان لے لے۔
دیکھیں اگر ان چیزوں کا پتا ہو تو رمضان شریف کا لوگ استقبال کریں۔ اور سمجھیں کہ اتنا یہ قیمتی مہینہ آ رہا ہے تاکہ میں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاؤں۔ لیکن اگر یہ پتا نہ ہو اور صرف پتا ہو کہ بس روزہ رکھنا ہے، اس میں بھوکا رہنا ہے، اس میں پیاسا رہنا ہے، اس میں یہ ہو... تو بوجھ محسوس کریں گے کہ یہ تو بڑا مشکل مہینہ آ رہا ہے، گرمیوں کا مہینہ آ رہا ہے اور یہ ہو گیا وہ ہو گیا تو Depression پہلے سے لاحق ہونی شروع ہو جائے گی۔ آدمی سمجھے گا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا کیا پہاڑ ہمارے اوپر گر گیا۔
لیکن جس وقت انسان کو ان کی فوائد کا پتا ہو گا... یہ دیکھیں نا مطلب یہ جو لوگ مشکل مشکل کام کر رہے ہوتے ہیں، دو دو تین تین چار کام کر رہے ہوتے ہیں، یعنی Part-time کر رہے ہوتے ہیں، تو تکلیف تو ان کو ہوتی ہے۔ کیونکہ مطلب تکلیف تو ہر وقت ہوتی ہے، لیکن اس تکلیف کے بدلے میں ان کو جو ملتا ہے وہ بھی نظر آتا ہے۔ وہ بھی ان کو نظر آتا ہے، لہذا وہ تکلیف ان کی بہت کم ہو جاتی ہے۔
وہ یہاں پر ہمارے ایک مزدور آئے تھے وہ جو ہے نا وہ جو کیا کرتے ہیں جو چیزوں کو توڑتے ہیں، Hammer والے۔ تو وہ... تو اس کا کوئی دوست آیا تو اس نے کہا اچھا آپ یہ کام کرتے ہیں؟ اس نے کہا ہاں بس یہی... یہ تو کام کرنا پڑتا ہے ہمیں اور کیا کریں۔
مطلب یہ ہے کہ چونکہ ان کو پتا ہوتا ہے اس پہ مجھے پیسے مل رہے ہیں تو لہذا ان کو تکلیف نہیں ہوتی اس کے ساتھ۔ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب انسان کو پتا ہوتا ہے کہ میری چیزیں جا رہی ہیں اور نقصان ہو رہا ہے اور مطلب جو ہے نا میں اس کو روک نہیں سکتا۔ یہ تکلیف کی بات ہوتی ہے۔
نورِ رمضان سے تلاوت کا بنوں میں رسیا
نورِ رمضاں سے دعا کا کھلے مقام مجھ پر
یعنی دعا کا جو مقام ہے نورِ رمضان کی برکت سے...
دعا کیا ہے؟ الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ... الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔ دعاؤں کے بارے میں سبحان اللہ کیا احکامات ہیں قرآن پاک کے، کھلے احکامات ہیں، واضح احکامات ہیں۔ حدیث شریف میں ہے۔ اب دعا کا مقام ہی لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔
یعنی لوگوں سے تو کہہ دیں گے میرے لیے دعا کرو لیکن خود دعا نہیں کریں گے۔ بھئی اپنی دعا تو زیادہ قبول ہوتی ہے۔ اپنی دعا تو زیادہ قبول ہوتی ہے۔ جو خود دعا کرتے ہیں ان کے لیے جو لوگ دعا کرتے ہیں وہ دعائیں زیادہ جلدی قبول ہو جاتی ہیں۔ اور جو خود دعا نہیں کرتے اور دوسرے سے دعا کرواتے ہیں تو اس کے مسائل ہوتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خود جو کر رہا ہے تو اللہ پاک کے سامنے ہوتا ہے کہ اللہ جتنا میں کر سکتا ہوں وہ تو میں کر رہا ہوں، آگے تو تیرا ہی کرم ہے۔ تو اس کے کرم میں دوسروں کی دعائیں بھی ہوتی ہیں، تو کام بن جاتا ہے۔ لیکن جو انسان خود کام کر سکتا ہے اور وہ کرتا نہ ہو... مجھے بتائیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے دعا کے لیے یہ معیار بنایا ہے کہ انتہائی درجے کا نیک انسان ہو تب دعا کر سکتے ہو؟ کسی جگہ پر ہے؟
اللہ تعالیٰ تو کافر کی بھی سن لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو شیطان کی بھی سنی۔ شیطان نے دعا کی تو مان لی یا نہیں مانی؟ اللہ تعالیٰ تو کافر... فرعون کی نہیں سنتا تھا؟ تو دعا کا جو معاملہ ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ تو آپ کو بس پتا ہو کہ کوئی ہے جو میری دعا سنتا ہے اور قبول کرتا ہے، یہی بس اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہی وہ Connection point ہے۔
اگر کسی کو یہ پتا ہو کہ کوئی ہے جو میرا سنتا ہے اور ہر وقت سنتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کوئی تھے نا مطلب بت خانے میں، تو "یا صنم، یا صنم، یا صنم" کہتے تھے۔ کہیں غلطی سے منہ سے نکلا "یا صمد"۔ صنم کی جگہ صمد نکلا تو آواز آئی کہ بتاؤ بندے کیا چاہتے ہو؟ وہ رونے لگ گیا کہ میں تو سارا عمر صنم صنم کہتا ہوں تو آواز نہیں آئی، ایک دفعہ غلطی سے نکلا آواز آ گئی۔۔۔ تو مسلمان ہو گیا۔
مطلب یہ ہے کہ یہ والی بات ہے کہ جو اللہ جل شانہ کے اس کرم کا مشاہدہ کرنا چاہے تو آ کر دعائیں کرنا شروع کر لے۔ بہت آسان بات ہے اور یہ رمضان شریف میں انسان سیکھتا ہے۔ حج میں اور رمضان میں۔
نورِ رمضان سے اوقات کا میں نظم سیکھوں
پر مشقت کا عادی ہونا اس کے ساتھ ہو مگر
یعنی اوقات کا نظم سیکھوں اور اس کے ساتھ یہ مشقت بھی میں اس کو برداشت کرنا سیکھ لوں۔ کہ مشقت بھی ساتھ ہو اور اوقات کا نظم بھی ہو۔ اب دیکھیں نا آپ صبح سویرے اٹھتے ہیں سحری کے لیے، مشقت تو ہے۔ دن بھر آپ روزہ رکھتے ہیں مشقت تو ہے۔ اوقات کا یہ ہے کہ ہر چیز کے لیے اپنا اپنا وقت مقرر ہے۔ آپ افطاری دو منٹ پہلے نہیں کر سکتے۔ اور اگر جو وقت ہے اس سے زیادہ دیر ہو جائے تو مکروہ ہو جائے گا، دیر بھی نہیں کر سکتے۔
تو اب یہ وقت کی جو پابندی ہے، جو اللہ تعالیٰ کرا رہے ہیں، کسی وجہ سے کرا رہے ہیں۔ یعنی یہ تو چلو جی مان لیا کہ وقت سے پہلے نہیں کر سکتے لیکن وقت کے بعد مکروہ کیوں ہے؟ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ وقت کی پابندی کروانا چاہتا ہے، وقت کی اہمیت دلانا چاہتا ہے کہ یہ ساری چیزوں کے لیے اپنا اپنا وقت مقرر ہوتا ہے تو اس کے حساب سے چلو گے تو فائدہ ہو گا۔
نورِ رمضان سے اوقات کا میں نظم سیکھوں
پر مشقت کا عادی ہونا اس کے ساتھ ہو مگر
نورِ رمضان سے رمضان کے ہر لمحے کی شبیؔر
میں کروں قدر اور پاؤں میں لیلۃُ القدر
یعنی جو رمضان شریف کے اوقات کی قدر کرتا ہے اس کو لیلۃ القدر مل جاتی ہے۔ جو رمضان شریف کے اوقات کی قدر کرتا ہے تو اس کو لیلۃ القدر مل جاتی ہے۔ جو نہیں کرتا تو وہ ان سے رہ جاتا ہے۔ "چلو اس طرح کروں گا، اس طرح کروں گا"۔ "کروں گا" میں رہ جاتا ہے۔ اور جو یہ کہتا ہے "کرتا ہوں" تو اس کو مل جاتا ہے۔ یہ "کروں گا" ختم نہیں ہوتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، کروں گا، کروں گا، کروں گا، کروں گا۔ لیکن یہ جو "کرتا ہوں" اس پہ فیصلہ ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس پر آنے کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہے نا۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين