دعوتِ انبیاء اور حقیقتِ توحید: وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا علمی و تحقیقی جائزہ
درس 133: دفتر اول، مکتوب: 272
- انبیاء کرام علیہم السلام نے توحیدِ وجودی کو پوشیدہ نہیں رکھا بلکہ ان کی دعوت ایک معبودِ حقیقی کی وحدت پر مبنی تھی۔
- پیغمبروں پر یہ تہمت لگانا سراسر بے بنیاد ہے کہ انہوں نے حقیقت چھپا کر تقیہ کیا اور کثرت یا غیریت کی تعلیم دی۔
- انبیاء کرام نے متشابہات جیسی مشکل باتوں کو بلا جھجک بیان کیا لہٰذا وہ عوام کی کم فہمی کے ڈر سے حقیقت نہیں چھپا سکتے تھے۔
- اللہ تعالیٰ کا وجود ہی اصل اور بالذات ہے جبکہ عالم ایک مخلوق ہے جو محض اللہ کے امر سے موجود اور حادث ہے۔
- وحدت الوجود دراصل ایک کیفیتی اور استغراقی حالت کا نام ہے اور یہ کوئی علمی حقیقت یا شرعی عقیدہ نہیں ہے۔
- سکر اور غلبۂ حال میں انسان شرعاً معذور ہوتا ہے لیکن ہوش کی حالت میں وحدت الوجود کی تقلید کرنا زندیقیت ہے۔
- خالق اور مخلوق کو ایک جاننا بداہتِ عقل و شریعت کے خلاف ہے کیونکہ حادث چیز کبھی قدیم کی عین نہیں ہو سکتی۔
- توحیدِ شہودی میں سالک کا تعلقِ بندگی اتنا کامل ہو جاتا ہے کہ اشیاء کی موجودگی کے باوجود ماسوی اللہ سے کوئی التفات نہیں رہتا۔
- کمالِ فنا اس میں ہے کہ انسان سکر کے بجائے صحو اور ہوش کی حالت میں رہتے ہوئے اعمال کرے۔
- متقدمین صوفیاء کی توحید و اتحاد پر مبنی عبارتیں غلبۂ حال کا نتیجہ تھیں جنہیں بعد میں وحدت الوجود کے نظریے کے طور پر مدون کیا گیا۔
- معرفت کے باب میں اکابرین کی اجتہادی غلطیوں پر حسنِ ظن رکھنا چاہیے لیکن ان کی پیروی کر کے اپنے لیے کوئی راستہ نکالنا درست نہیں۔
- روحانی کمالات اور ولایت کے حصول کے لیے توحیدِ شہودی کا راستہ توحیدِ وجودی کی نسبت زیادہ محفوظ، آسان اور منزل سے قریب تر ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔
مکتوب نمبر: 272
تو گزشتہ سے پیوستہ آگے ارشاد فرماتے ہیں:
ان لوگوں میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ حضرات پیغمبر علیہم الصلوات و التسلیمات نے عوام کے "قصورِ فہم" کو مدِ نظر رکھتے ہوئے توحیدِ وجودی کے اسرار کو پوشیدہ رکھا ہے اور اپنی دعوت کی بنا غیر و غیریت پر رکھی ہے اور وحدت کو چھپا کر کثرت پر دلالت کی ہے۔ یہ بات شیعوں کے تقیے کے مانند سننے کے قابل نہیں ہے۔ حضرات پیغمبر علیہم الصلوات و التسلیمات جو کچھ کہ نفس الامر (حقیقتِ کار) ہے اس کی تبلیغ کے زیادہ مستحق اور سزا وار ہیں، اور جب نفس الامر میں ایک ہی (ذات) موجود ہے اور اس کے غیر کا کوئی وجود نہیں ہے تو وہ اس کو پوشیدہ رکھ کر کیوں نفس الامر کے خلاف اظہار کریں؟ بالخصوص وہ احکام جو واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی ذات و صفات اور افعال سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے اظہار و اعلان کے وہ زیادہ حق دار ہیں، اگرچہ کوتاہ نظر ان کے سمجھنے میں قاصر ہوں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ قرآن کریم کی آیاتِ متشابہات اور احادیث شریفہ کی متشابہات جن کے سمجھنے سے عوام کیا خواص بھی عاجز ہیں، اس کے با وجود (انبیائے کرام علیہم السلام حق تعالیٰ کی طرف سے) ان کے اظہار کرنے سے منع نہیں ہوئے اور نہ ہی عوام کی غلطی اور کوتاہ فہمی ان کے اظہار کی مانع ہوئی۔
حضرت نے یہ ارشاد فرمایا کہ جو وجودیہ لوگ تھے انہوں نے پیغمبروں کے بارے میں اپنے خیال کو اس طرح بیان کیا کہ پیغمبر بھی توحیدِ وجودی کو جانتے تھے یا اس کے بارے میں ان کا علم تھا لیکن ان اسرار کو پوشیدہ رکھا۔ اور اپنی دعوت کو غیریت پر رکھی ہے اور وحدت کو چھپا کر کثرت پر دلالت کی ہے۔ یہ واقعی پیغمبر پر بہت بڑا الزام اور تہمت ہے۔ پیغمبر اصل میں مامور ہوتے ہیں کہ جو کچھ ان تک اللہ تعالی پہنچائے ان کو آگے اسی طرح بڑھا دیں۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ نہیں پوچھا تھا صحابہ کرام سے کہ جو کچھ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے پہنچا ہے کیا میں نے تم تک پہنچایا؟ تو سب صحابہ کرام نے کہا نہ صرف پہنچایا بلکہ اس کا حق ادا کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کے کہا یا اللہ تو گواہ رہنا، یا اللہ تو گواہ رہنا، یا اللہ تو گواہ رہنا۔ اب صحابہ کرام کے بارے میں اگر کوئی کہے کہ ان کو تو پتا ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کون سی چیز چھپائی، اگر وہ یہ کہیں تو ان کی یہ بات اس لیے مانی نہیں جا سکتی کہ اصل بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلی جائے گی۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو معلوم تھا کہ میں نے کچھ نہیں پہنچایا، تو پھر کیوں فرماتے؟ جب انہوں نے اس کا اظہار اس طرح کیا کہ کوئی چیز نہیں میں نے باقی رکھی، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سمجھا تو لہذا یہ بہت غلط بات ہے جو پیغمبروں کے بارے میں کی جا سکتی ہے۔
اور یا یوں سمجھ لیجئے کہ چاہے پیغمبر -نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- بھی تقیہ کرتے تھے حالانکہ ظاہر ہے پیغمبروں کے بارے میں تو تقیہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔ حتی کہ اہل تشیع سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ اچھا تم کہتے ہو کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے تو تقیہ کیا، یعنی اپنی خلافت کو چھپایا، اپنی اولیت کو چھپایا اور باقی خلفاء کے ساتھ مشیر کے طور پہ رہے، ان کی بیعت بھی کی۔ تو پھر ظاہر ہے اگر یہ تقیہ اتنی اہم بات تھی، امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے کیوں نہیں کیا؟ ان کو بھی پھر تقیہ کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تو اس وقت پوری جماعت موجود تھی بمقابلہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے، ان کے پاس تو صرف 72 آدمی تھے اس وقت یعنی اس لحاظ سے تو۔ تو وہ تقیہ کے زیادہ حق دار تھے کہ تقیہ کو کر لیتے لیکن انہوں نے تقیہ نہیں کیا۔ اور اگر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ بہت بہادر تھے تو علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں پھر کیا کہیں گے؟ کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ تو لہذا ایسی کوئی تہمت ظاہر ہے نہیں لگائی جا سکتی اہل بیت پر اور پیغمبروں پر بھی اس طرح تہمت نہیں لگائی جا سکتی جس طرح کہ یہ لوگ لگا رہے ہیں۔ تو پیغمبر بھی ان تمام چیزوں سے بری ہیں۔ انہوں نے کوئی چیز چھپائی نہیں ہے۔
اور فرمایا:
حضرات پیغمبر علیہم الصلوات و التسلیمات جو کچھ کہ نفس الامر (حقیقتِ کار) ہے اس کی تبلیغ کے زیادہ مستحق اور سزا وار ہیں.
جو حقیقت ہے وہ حقیقت بتلا دیتے ہیں، وہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے۔ باقاعدہ قرآن شریف میں نص موجود ہے کہ نہیں فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات مگر جو ان کو وحی کی جاتی ہے۔ تو لہذا نص موجود ہے۔
اور جب نفس الامر میں ایک ہی (ذات) موجود ہے
یعنی اصل وجود اللہ جل شانہ کی طرح ہے، تو پہلے حضرت مکتوب نمبر 234 میں بہت تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ اصل جو ہے وہ کیا ہے؟ وجود اللہ جل شانہ کا ہے اور باقی معدوم ہے۔ ہاں البتہ وجودی تجلی کی وجہ سے، تنزل کی وجہ سے جو تجلی آتی ہے وجودی، اس کے ذریعے سے عدم یہ ہے کہ عروج کرتا ہے اور عروجی ان کے وہ مقام ان کا وجود بنتا ہے، یعنی وہ موجود ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ خود موجود نہیں ہیں، اللہ تعالی کے امر سے موجود ہیں، خود حادث ہیں۔ خود حادث ہیں۔ تو یہ جو چیز ہے اس کو ہم اگر دیکھیں تو یہ والی بات ہے کہ نفس الامر تو ہے یہ کہ اللہ تعالی خود اپنی ذات کے ساتھ موجود ہے اور اصل وجود اللہ جل شانہ ہی کا ہے۔
تو وہ اس کو پوشیدہ رکھ کر کیوں نفس الامر کے خلاف اظہار کریں؟ بالخصوص وہ احکام جو واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی ذات و صفات اور افعال سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے اظہار و اعلان کے وہ زیادہ حق دار ہیں، اگرچہ کوتاہ نظر ان کے سمجھنے میں قاصر ہوں۔
یعنی جو احکامات جو واجب الوجود اللہ جل شانہ کی ذات، صفات اور افعال کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو ظاہر ہے ان کا اعلان و اظہار یہ انبیاء کرام کے لیے لازمی بات تھی تو انہوں نے تو ایسے ہی کرنا تھا۔
کیا تم نہیں دیکھتے،
اب دیکھو کتنی بڑی دلیل دے رہے ہیں حضرت، دلیل دیکھ لو۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ قرآن کریم کی آیاتِ متشابہات اور احادیث شریفہ کی متشابہات جن کے سمجھنے سے عوام کیا خواص بھی عاجز ہیں، اس کے با وجود (انبیائے کرام علیہم السلام حق تعالیٰ کی طرف سے) ان کے اظہار کرنے سے منع نہیں ہوئے اور نہ ہی عوام کی غلطی اور کوتاہ فہمی ان کے اظہار کی مانع ہوئی۔
چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے آیت تھی اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى تو انہوں نے ایسے ہی بیان کر دیا۔ ہاں یہ البتہ اس کے بارے میں ارشاد فرما دیا ضرور۔ اس کے بارے میں ضرور یہ ارشاد فرمایا۔ تو یہ ضرور ارشاد فرمایا کہ یہ آیاتِ متشابہات وہ کیا ہیں؟ یہ مطلب جو علماء ہیں وہ آیاتِ محکمات میں غور کرتے ہیں۔ اور آیاتِ متشابہات کے بارے میں علمائے راسخین کیا کہتے ہیں؟ بس جو اللہ کی طرف سے ہے۔
تو اصل بات یہی ہے۔ کہ یہ جو آیاتِ متشابہات ہیں، یہ اور احادیثِ شریفہ کے جو متشابہات ہیں یہ واقعتاً بڑے مشکل ہیں۔ جو زائغین ہوتے ہیں ان کے اندر بات کرتے ہیں اور جو علمائے راسخین ہوتے ہیں آیاتِ محکمات سے کام کر لیتے ہیں اور ان میں فرماتے ہیں جیسے اللہ پاک کی اس سے مراد ہے بس وہی مراد ہماری بھی ہے۔ ہم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔ قَالُوْا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ، فرشتوں نے بھی یہی فرمایا تھا۔
یہ جماعت اس شخص کو جو دو وجود کا قائل ہے اور اس تعالیٰ کے ما سوا کی عبادت سے پرہیز کرتا ہے، اس کو مشرک کہتی ہے، اور اس شخص کو جو ایک وجود کا قائل ہے اس کو موحّد کہتی ہے اگرچہ وہ ہزار بتوں کی عبادت کرتا ہو، اس خیال سے کہ یہ (بت) حق سبحانہٗ کے ظہورات ہیں اور ان کی عبادت حق تعالیٰ شانہ ہی کی عبادت ہے۔ انصاف سے کام لینا چاہیے کہ ان دونوں میں سے کون مشرک ہے اور کون موحّد؟
یعنی جو شخص کہتا ہے کہ نہیں، عالم بھی موجود ہے اور اللہ بھی، لیکن اللہ جل شانہ تو بالذات موجود ہے اور عالم اللہ پاک کی صفت کے ذریعے سے وجود میں آیا ہے خالق ہونے کے لحاظ سے۔ تو وہ اس کو کہتے ہیں یہ تو مشرک ہے کہ کیوں کہ مطلب کہتا ہے۔ اور وہ عبادت صرف ایک کی ہی کرتا ہے۔ ظاہر ہے مطلب اللہ کی ہی عبادت کرتے ہیں نا عالم مراد عالم کی تو عبادت نہیں کرتا۔ تو ان کو تو یہ مشرک کہہ دیتے ہیں۔ اور جو وحدت الوجود یعنی ایک وجود کا قائل ہے اس کو موحد کہتے ہیں، اس کے مقابلے میں جو ہزار یا ہزار سے بھی زیادہ ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان میں اللہ پاک نے ظہور فرمایا ہے۔ اور پھر اس کے ساتھ وہ معاملہ کرتے ہیں، تو وہ مشرک نہیں ہیں؟
یہ اصل میں آپ حیران ہوں گے کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ ہندوستان میں بلکہ بعض عرب ممالک میں یہ چیزیں چل پڑی تھیں۔ حضرت نے کوئی ایسی باتیں نہیں کی ہیں کہ وہ یعنی فرضی باتیں ہیں۔ ایسی باتیں اس وقت ہو رہی تھیں۔ وحدت الوجود کا لوگوں نے ایک وہ بنایا ہوا تھا، گورکھ دھندا بنایا ہوا تھا۔ ایک عجیب چیز بنائی۔
اصل میں وحدت الوجود ایک کیفیت ہے۔ اگر کیفیت کو کیفیت رہنے دیا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ایک کیفیت ہے۔ کیفیت کیا ہوتی ہے؟ انسان بعض دفعہ عشق کی وجہ سے تمام چیزیں بھول جاتا ہے، صرف معشوق یاد ہوتا ہے۔ یہ ایک کیفیت ہوئی۔ اب وہ کوئی علمی بات تھوڑا ہی کر رہا ہے۔ اس کو کیا پتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ تو ان کی یہ بات علمی بات نہیں ہوتی۔ وہ ایک کیفیتی بات ہوتی ہے۔ اس وجہ سے وہ معذور ہوتے ہیں شرعاً۔ وہ ماجور نہیں ہوتے، معذور ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی اس کی تقلید کرتا ہے یعنی اُسی طرح کرتا ہے تو وہ چونکہ وہ معذور نہیں ہے۔ وہ تو ہوش میں ہے۔ لہذا وہ زندیق ہو جائے گا۔ وہ زندیق ہو جائے گا۔ وہ تو اپنی کیفیت اور حال کی وجہ سے معذور ہے۔
تو اس وجہ سے۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبروں نے اس وجہ سے یہ بات نہیں کی، کہ یہ تو کیفیت ہے تو کیفیت تو پیغمبر کا کام نہیں ہوتا نا کہ اس کے بارے میں بتائے، وہ تو کیفیت کسی چیز کی وجہ سے آ جائے تو اس کے احکامات ہیں وہ جیسے یہ حکم ہے کہ معذور ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ وہ چونکہ ایک ہوش والی بات تو ہے نہیں اور دین تو ہوش کے اوپر منحصر ہے۔ تو ہوش میں تو وہ ہے نہیں۔ آخر یہی تو بات ہے نا کہ نیند کی حالت میں اور نابالغ ہونے میں اور ہوش میں نہ ہونے میں یہی تین چیزیں مرفوع القلم کر دیتی ہیں آدمی کو۔ یعنی اس وقت وہ جو کچھ کر رہا ہے اللہ تعالی اس کے اوپر گرفت نہیں فرماتے۔ اب یہ بچے ہیں نا، بچے کیا کیا نہیں کرتے؟ لیکن معاف ہے۔ مرفوع القلم ہیں مطلب ان سے پوچھا نہیں جائے گا۔ ہاں والدین کے ذمے ان کی تربیت ہے۔ لیکن اللہ پاک کا ان کے اوپر وہ مطالبہ تو نہیں۔ لیکن تربیت نہیں کی تو بلوغ کے فوراً بعد تو آپ اس کو تبدیل نہیں کر سکیں گے نا۔ پھر تو وہی چیزیں چلیں گی، پھر تو گنہگار ہوگا۔ لہذا تربیت تو پہلے سے شروع کرنی پڑے گی۔ لہذا بچے اگرچہ مرفوع القلم ہوتے ہیں لیکن تربیت کے لیے ان کا وہ ہونا ضروری ہے۔ تب ہی تو فرمایا نا کہ سات سال کی عمر میں ان کو نماز پڑھاؤ اور دس سال میں پھر مار کے پڑھاؤ۔
اس کی وجہ کیا ہے؟ میرا بیٹا تھا، وہ ظاہر ہے یہ پڑھ چکا تھا، نماز کا سبق اس کو آتا تھا، نماز بھی اس کو آتی تھی۔ میں نے کہا "نماز کیوں نہیں پڑھتے ہو؟" کہتا ہے "میں ابھی سات سال کا نہیں ہوں۔" میں نے کہا "پھر ٹھیک ہے۔" میں نے اس کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے کہا ظاہر ہے اس نے اتنی بڑی دلیل مجھے دی کہ اس سے پہلے میرا کوئی حق نہیں بنتا کہ اس کو میں خوامخواہ وہ کر لوں۔ سات سال کی عمر میں ہے نا کہ اس کو پڑھاؤ۔ سات سال کا ابھی ہے نہیں۔ سات سال کا ہو گیا تو خود ہی پڑھنا شروع کیا۔ مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ تو یہ ہے۔ اب اگر میں اس کو اس سے پہلے ڈانٹتا کہ نہیں، تو یہ میرے نفس کی وجہ سے ہوتا۔ تو ظاہر ہے اس وقت پھر مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا نا۔ خیر۔ بڑی زبردست بات ہے یہ۔
انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات نے وحدتِ وجود کی دعوت نہیں دی اور نہ ہی دو وجود کہنے والے کو مشرک کہا ہے.
یعنی عالم کو ماننے والے کو کہا وہ تو مشرک نہیں کہا۔ اصل میں ان تفصیلات میں تو انبیاء کرام گئے ہی نہیں نا۔ تو نفی ثابت ہے نا، مثبت کی تو وہاں ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ ظاہر ہے وہ چیز تھی ہی نہیں۔
بلکہ ان کی دعوت ایک معبود جلّ شانہ کی وحدت پر ہے،
لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ۔ دعوت کیا ہے؟ قُوْلُوْا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ تُفْلِحُوْا۔ یہی دعوت ہے۔
اور ما سوا کی عبادت کو شرک کہتے ہیں، اگرچہ صوفیہ وجودیہ ما سوا (غیر حق) کو غیریت کے عنوان سے نہ جانیں تو بھی شرک دفع نہیں کر سکتے،
مطلب یہ ہے کہ وہ اگر ان کو غیر نہ بھی کہیں ماسوا کو، پھر بھی شرک۔۔۔ کیونکہ
ماسوا تو ماسوا ہی ہے خواہ جانیں یا نہ جانیں۔ ان میں سے بعض متاخرین عالم (خلق) کو حق جلّ سلطانہٗ کا عین نہیں کہتے،
عین سے مراد یہ ہے کہ بالکل وہی۔
عین نہیں کہتے اور عینیت سے پرہیز کرتے ہیں، اور عینیت کے ماننے والوں کو طعن و تشنیع کرتے ہیں، اسی وجہ سے شیخ محیی الدین (ابن العربی) اور ان کے متبعین کے ساتھ انکار سے پیش آتے ہیں اور ان کو بری طرح سے یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ جماعت عالم کو حق تعالیٰ جلّ سلطانہٗ کا غیر نہیں کہتے،
یعنی عین بھی نہیں کہتے غیر بھی نہیں کہتے۔ حضرت ان کی بھی گرفت فرماتے ہیں۔
بلکہ نہ تو حق تعالیٰ کا عین جانتے ہیں نہ ہی حق جل و علا کا غیر سمجھتے ہیں۔ یہ بات بھی صواب سے دور ہے (صحیح نہیں ہے) کیونکہ اَلْإِثْنَانِ مُتَغَائِرَانِ (دو چیزیں ایک دوسرے کی غیر ہوتی ہیں)
ٹھیک ہے نا؟
قاعدہ کلیہ ہے۔ اثنینیت (دوئی) کا منکر بداہتِ عقل کا مخالف ہے، (یعنی وہ الف ب ت سے بھی واقف نہیں ہے)۔
مطلب یہ ہے کہ بدیہیت سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اور جو شریعت اور حقیقت ہے اس سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے۔ تو اب یہاں پر عقل کے طور پر ثابت ہے کہ دو چیزیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یعنی یہ نہیں کہ اگر عین ہے تو غیر نہیں ہے۔ اور اگر غیر ہے تو عین نہیں ہے۔ یہی ہو سکتا ہے نا؟ اگر روشنی ہے تو اندھیرا نہیں، اگر اندھیرا ہے تو روشنی نہیں۔ صاف بات ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ اندھیرا اور روشنی ایک ہی جگہ پر ہوں؟ وہ تو نہیں ہو سکتا۔ تو یہ دونوں چیزوں میں سے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں ان میں سے کوئی ایک ہی ہو گی نا۔ اگر غیر ہے تو عین نہیں ہے اور اگر عین ہے تو غیر نہیں ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ متکلمین نے صفات واجبی جل سلطانہٗ کے بارے میں لَا ھُوَ وَ لَاغَیْرُہٗ (نہ وہ عینِ ذات ہے اور نہ وہ غیر ذات) کہا ہے
یعنی صفاتِ واجبی جو اللہ پاک کی ہیں۔
لَا ھُوَ وَ لَاغَیْرُہٗ (نہ وہ عینِ ذات ہے اور نہ وہ غیر ذات) کہا ہے اور غیر سے غیرِ اصطلاحی مراد لے کر اس امر کو مدِ نظر رکھا ہے کہ دو متغائر چیزوں کا باہم انفکاک (علیحدہ) ہونا جائز ہے کیونکہ صفات واجبی جل سلطانہٗ حضرت ذات تعالیٰ و تقدس سے جدا نہیں ہیں اور نہ ہی اس تعالیٰ و تقدس کی صفاتِ قدیمہ اور ذات کے درمیان جدائی کا جواز متصور ہو سکتا ہے لہذا لَا ھُوَ وَ لَاغَیْرُہٗ صفاتِ قدیمہ میں صادق ہے۔ بر خلاف عالَم (مخلوق) کے کہ اس میں یہ نسبت مفقود ہے کیونکہ کَانَ اللہُ وَ لَمْ یَکُنْ مَّعَہُ شَیْءٌ
حضرت بہت زبردست دلیل دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تھے اور باقی اور کچھ نہیں تھا۔
لہذا عالم سے غیریت کی نفی کرنا بھی لغت اور اصطلاح دونوں صدق سے دور ہے
یعنی غیریت کی نفی اس لیے ہے کہ وہ اس وقت تھا ہی نہیں جس وقت اللہ تھے۔ تو وہ تو ایک حادث چیز ہے۔ تو حادث کو آپ قدیم کے ساتھ کیسے ملاتے ہیں؟ صفاتِ قدیمہ میں تو آ ہی نہیں سکتا۔ یہ حادث ہے۔ تخلیق بذات خود حادث ہونے پہ دلالت کرتی ہے۔ تخلیق سے مراد یہ ہے کہ پہلے ایک چیز نہیں تھی بعد میں وجود میں آ گئی۔ بعد میں وجود میں آ گئی۔ پہلے ایک چیز نہیں تھی بعد میں وجود میں آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر تو ہے۔ تو اب اس سے کوئی نفی کرے گا تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔
اس جماعت نے حقیقتِ حال تک اپنی نا رسائی کی وجہ سے عالَم (مخلوق) کو صفاتِ قدیمہ کی مانند خیال کیا ہے اور اُس (عالَم) کے لئے ایک مخصوص حکم کا اطلاق کیا ہے، اور چونکہ یہ جماعت عینیتِ عالَم کی نفی کی قائل ہو گئی ہے اس لئے عالَم کی غیریت کا قائل ہونا ان پر لازم ہو گیا ہے
یعنی دو میں سے ایک ہو سکتا ہے نا تو چونکہ ان سے نفی کی قائل ہو گئے تو لہذا اس کو ماننا پڑے گا۔ یہ متکلمین سے بات کر رہے ہیں نا تو متکلمین تو دلیل سے بات کرتے ہیں نا تو دلیل دے دی نا حضرت نے۔ وہ تو دلیل کی بات کرتے ہیں نا ہر چیز پر دلیل لاتے ہیں۔
اس لئے عالَم کی غیریت کا قائل ہونا ان پر لازم ہو گیا ہے اور وہ توحیدِ وجودی والے گروہ سے نکل آئی وہ توحیدِ وجودی میں تو نہیں ہے۔
اور عالَم کے متعدد وجودوں کی قائل ہو گئی کیونکہ توحیدِ وجودی میں عین کہنے کے بغیر چارہ نہیں، جیسا کہ شیخ محیی الدین رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے متبعین نے کہا ہے۔ ان کا عین کہنا اس معنی میں نہیں ہے کہ عالم اپنے صانع کے ساتھ متحد ہے
اب دیکھو راستہ دے رہے ہیں حضرت کو۔
حَاشَا وَ کَلَّا (ہر گز ایسا نہیں ہے) بلکہ اس معنی میں ہے کہ عالم معدوم ہے اور واجب الوجود تعالیٰ و تقدس موجود ہے
تو لہذا وہی ہے۔ اور باقی اس کے وہ ہے۔
جیسا کہ اس فقیر نے اپنے بعض رسائل میں اس معنی کی تحقیق کی ہے۔
بہرحال باریک بحث ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ہم جو ہیں اپنے لیے بہت صائب راستہ ڈھونڈ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرح کوئی نہیں۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ لہذا باقی جو بھی ہے وہ اللہ کے ساتھ اس کا کوئی وہ نہیں ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِه شَيْءٌ اس کی طرح کوئی نہیں ہے۔ تو عالم مخلوق ہے۔ اور مخلوق کبھی خالق کی عین نہیں ہو سکتی۔ اور یہ حادث ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو حقیقت کہا ہے۔ وَمَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا۔ قرآن نے اس کو حقیقت کہا ہے نا۔ تو لہذا اس حقیقت کا ادراک ہم سب کو کرنا چاہیے۔ سُبْحَانَكَ تو پاک ہے۔ ان تمام چیزوں سے۔ تو ہم پھر کرتے ہیں یا اللہ ہمیں بچا لے۔ اگر کسی کجی میں پڑ جائیں تو جہنم ہے۔ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ پس ہمیں عذابِ جہنم سے نجات عطا فرما۔
یہ میں تفسیر نہیں بیان کر رہا ہوں یہ لطیف نقطے ہیں۔ ان کو لطائف کہتے ہیں۔ لطائف کہتے ہیں۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تو تفسیر کا نمبر بھی بعد میں آتا ہے۔ ان کے ہاں کلام پہلے ہے۔ اللہ پاک نے جن الفاظ میں بات فرمائی ان کی طرح اور کچھ نہیں ہے۔ لہذا اگر کوئی قرآن کا ترجمہ پڑھے، اور قرآن ساتھ نہ پڑھے، تو اس کو تلاوت کا ثواب نہیں مل سکتا۔ (مل سکتا ہے مفتی صاحب؟) اس کو تلاوت کا ثواب نہیں مل سکتا۔ کیوں؟ قرآن ہے ہی نہیں وہ۔ وہ قرآن ہے ہی نہیں۔ وہ قرآن کا ترجمہ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو مطلب ظاہر ہے وہ اللہ کا کلام ہے، ایک اللہ کی صفت ہے۔ تو اس کی طرح کون سی چیز ہو سکتی ہے؟ اس پر بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوا تھا نا "قرآن مخلوق ہے" پر۔ بڑا مسئلہ کھڑا ہوا تھا تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے، قرآن اللہ پاک کی صفت ہے۔ جو خارج میں موجود ہے۔ جو خارج میں موجود ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ یہ صفت، اللہ کی صفت کو تو فنا نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کی صفت کو تو فنا نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس وجہ سے یہ والی بات، قرآن، کوئی بھی زبان میں اس کا ترجمہ کریں، یا تفسیر کر لیں وہ قرآن کے اس میں نہیں آتا۔ اس لیے اس کا مرتبہ مؤخر ہو گا۔ اور یہاں تک کہ اگر کوئی تفسیر اٹھائے ہاتھ میں اور اس کا وضو نہیں ہے۔ اور اس کا جو غیر عربی حصہ ہے وہ عربی سے زیادہ ہو۔ تو جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ قرآن کے الفاظ والے حصے کو ہاتھ نہ لگائے۔ کیونکہ وہ قرآن ہے نہیں۔ یہ حکم قرآن پر ہے کہ وہ یہ ہے کہ بغیر وضو اس کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔ باقی چیزوں پہ نہیں ہے۔ تو وہ اگر الفاظ ہیں، مطلب کوئی اور ترجمہ ہے، یا تفسیر ہے۔ تو اگر وہ مطلب الفاظ کی تعداد کے لحاظ سے یا volume کے لحاظ سے قرآن سے زیادہ ہے، تو پھر یہ ہے کہ اس کو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے، لیکن اس حصے کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا جس حصے میں وہ الفاظِ قرآن موجود ہیں۔
اور ویسے موقع ہے تو میں عرض بھی کر لوں، کہ اس وقت پہلے ایک فتوی چل رہا تھا، کہ digital words یہ وہ ان words میں نہیں آتے۔ یعنی قرآن کے الفاظ، یعنی اسکرین کے اوپر اگر قرآن کے الفاظ ابھر آئیں، یعنی لائٹ کی صورت میں، کسی کلر کی صورت میں، جس کو قرآن کے الفاظ کے طور پہ پڑھا جا سکے۔ تو پہلے یہ فتوی تھا کہ اس کو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ قرآن نہیں ہے۔ یہ قرآن نہیں ہے۔ لیکن اب موجودہ فتوی یہ ہے کہ یہ عارضی قرآن ہے۔ جب تک یہ الفاظ اسکرین پر موجود ہیں تو اس کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا بغیر وضو کے۔ کیونکہ ورنہ پھر تو اگر آپ کہتے ہیں کہ اصل قرآن تو یہ الفاظ بھی نہیں ہیں جیسے بعض لوگ کہتے ہیں۔ تو یہ بعض واقعی مطلب یہ ہے کہ جو قرآن ہے وہ تو اصل الفاظ تو اللہ کا کلام ہے۔ لیکن چونکہ ان الفاظ کی صورت میں ہے اس وقت، لہذا اس پر قرآن کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور اس کے قرآن کے ادب جس طرح ہے اس کا ادب اس طرح کیا۔ تو بعینہٖ اسی طرح وہ چیز بھی بن گئی ہے۔ اگرچہ عارضی طور پر بن گئی ہے۔ تو عارضی طور پر تو اس نے وہ صفت لے لی۔ تو لہذا اب یہ فتوی ہے، جامعہ فاروقیہ کا بھی فتوی ہے۔ ملا ہے میرے پاس کہیں ہو گا۔ تو کہ یہ اسکرین پہ جو، جس وقت الفاظِ قرآن موجود ہوں گے اس کا احترام ایسے ہی ہوگا، جس طرح مصحف ہے جس طرح اس کا ہوتا ہے۔ اس کا احترام اس طریقے سے ہوگا ان شاء اللہ۔ اور یہ بہت ضروری بات تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ ورنہ یہ بے ادبی بہت بڑھ جاتی ہے۔
حالانکہ دیکھیں نا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موجود ہے کہ انہوں نے ایک صاحب کو ڈانٹا، اس بات پر کہ اس نے چھوٹا قرآن یعنی چھوٹے چھوٹے حروف تھے اس کو پڑھ رہے تھے۔ تو ڈانٹا، اس نے کہا کہ بڑے بڑے حروف والا قرآن پڑھو، اس سے ادب میں کمی آئے گی۔ دور اندیشی۔ سبحان اللّٰهِ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات کیا ہے؟ کہ چھوٹے چھوٹے حروف والا قرآن نہ پڑھو۔ موٹے موٹے حروف والا پڑھو۔ قرآن کا ادب، عظمت، اس میں کمی نہ آئے۔
تو چونکہ یہ چیز آہستہ آہستہ نفسیات پر اثر ڈالتی ہے، لاشعور پہ اثر ڈالتی ہے۔ اس لاشعوری اثر سے بچنے کے لیے اس کا اہتمام ضروری تھا۔ اللہ تعالی جامعہ فاروقیہ کو اس کا اجر عطا فرمائے کہ انہوں نے اس چیز کا ادراک کیا۔ اور انہوں نے ماشاء اللّٰهُ اس کے بارے میں فتوی جاری کیا۔ میں اس چیز کو ایک موقع سمجھ کر چونکہ ماشاء اللّٰهُ اس کو لوگ سن رہے ہیں کم از کم یہ فتوی بھی پہنچ جائے گا نا حضرات تک۔
اچھا جیسے کہ اس فقیر نے بعض رسائل میں اس معنی کی تحقیق کی ہے کہ اللہ تعالی کا وجود اصل وجود ہے۔ اور باقی عدم ہے اور تجلیِ وجودی کے ذریعے سے وہ وجود میں آئے ہیں۔ اس پر حضرت نے پوری تحقیق فرمائی ہے مکتوب نمبر 234 میں۔ تو اس وجہ سے ہم وہاں پر جا کر اس کو دیکھ لیں گے ان شاء اللہ۔ ہماری جو کتاب ہے ان شاء اللہ العزیز، اللہ تعالی توفیق دے کہ اس کو ہم جلدی چھاپ لیں، حقیقتِ توحید و رسالت۔ حقیقتِ توحید و رسالت، اس کتاب میں الحمد للہ، اس کی تفصیل موجود ہوگی، ان شاء اللہ۔
سوال: صوفیہ وجودیہ دو وجود کے کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں اور وہ اس اعتبار سے ہے کہ وہ دو بِین (دو دیکھنے والا) ہے اور دو دیکھنے والا طریقت کا مشرک ہے۔
جواب: دو بِینی (دو دیکھنا) جو کہ طریقت میں شرک ہے وہ توحیدِ شہودی سے دفع ہو جاتا ہے
سُبْحَانَ اللّٰهِ!
اور اس مقام میں توحیدِ وجودی کا کچھ کام نہیں چاہیے کہ سالک کا مشہود و ملحوظ ایک ذاتِ مقدس کے علاوہ کوئی دوسرا امر نہ ہو تاکہ فنا متحقق ہو کر طریقت کا شرک دور ہو جائے۔ (جیسا کہ) دن میں آفتاب کو تنہا دیکھتے ہیں اور ستاروں کو نہیں دیکھ سکتے (اسی طرح) دو کا دیکھنا دور ہو گیا ہے اگرچہ ہزاروں ستارے دن میں بھی موجود ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ ایک آفتاب مشہود ہے خواہ ستارے معدوم ہوں یا موجود۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ کمالِ فنا اس صورت میں ہے کہ اشیاء موجود ہیں لیکن سالک مطلوبِ حقیقی کے ساتھ کمالِ تعلق کی وجہ سے کسی چیز کی طرف التفات نہ کرے بلکہ کسی چیز کو دیکھے بھی نہیں اور کوئی چیز اس کی "دیدۂِ بصیرت" میں بھی نہ آئے۔ اگر چیزیں موجود نہ ہوں تو فنا کس چیز سے متحقق ہو گی اور فانی کس چیز سے ہو گا اور کس چیز کو فراموش کرے گا؟
تنزیہ ہے نا حضرت کے مسلک میں، بہت زیادہ تنزیہ ہے۔ بہت زیادہ تنزیہ ہے۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ صوفیۂ وجودیہ کہتے ہیں کہ جو دو وجود مانتا ہے، یعنی گویا کہ عالم کو اس سے علیحدہ مانتے ہیں اللہ تعالی سے، غیر مانتے ہیں۔ تو یہ دو وجود کا قائل ہو گیا۔ تو لہذا یہ شرک فی الطریقت ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ جو دو بینی یعنی دو کا دیکھنا ہے، جو شرک فی الطریقت ہے۔ وہ توحیدِ شہودی سے دفع ہو جاتا ہے۔ کیسے؟ کیونکہ توحیدِ شہودی یہ ہے کہ اس میں انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے دن کے وقت سورج موجود ہے تو ستارے نظر نہیں آتے۔ حالانکہ اس کے علم میں ہے کہ ستارے موجود ہیں۔ لیکن اس کے مشاہدے میں نہیں ہیں۔ مشہود نہیں ہیں وہ۔ اب وہ اس وقت یہ جو مشہود نہیں ہیں۔ یہ اصل میں سورج کی روشنی کی زیادتی کی وجہ سے ہے۔ سورج کی روشنی کی زیادتی کی وجہ سے ہے۔ لیکن۔۔۔ تو توحیدِ شہودی میں ایک کا نظر آنا یہ اصل میں تعلق کی وجہ سے ہے کہ ایک کے ساتھ اتنا تعلق ہے کہ باقیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چاہے وہ محبت کا ہے، چاہے وہ۔۔۔ لیکن بہرحال یہ کہ وہ تعلق اتنا زیادہ ہے بندے کا اپنے اللہ کے ساتھ کہ باقی ان کو محسوس ہی نہیں ہو رہے۔
ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو کہا کہ جو سب سے خوبصورت بچہ لے آئیں، تو وہ اپنا کالا کلوٹا بیٹا لے آیا صبح۔ اس نے کہا میں نے تو خوبصورت بچے کا کہا تھا، کل خوبصورت بچے کو لے آؤ۔ اگلے دن پھر وہی بچہ لے آیا۔ دو تین دفعہ ایسا ہوا۔ اس نے کہا یہ کیا کر رہے ہو، میری بات آپ کو سمجھ نہیں آتی کیا مسئلہ ہے؟ کہتے ہیں حضور آپ نے کہا تھا کہ سب سے خوبصورت بچہ لے آئیں۔ میرے نزدیک تو سب سے خوبصورت یہی ہے۔ میرے لیے تو سب سے زیادہ خوبصورت یہی ہے۔ اب یہ اس تعلق کی وجہ سے تھا نا۔ باپ اور بیٹے کا، محبت کا جو تعلق تھا۔ اس کی وجہ سے باقی چیزیں اس کے لیے، وہ اگرچہ بہت خوبصورت ہوں، لیکن ان کو وہ خوبصورت نظر نہیں آ رہی تھیں۔ تو اسی طریقے سے اللہ تعالی کے ساتھ جس کا محبت کا تعلق اتنا بڑھ جائے۔ کہ اس کو باقی نظر ہی نہ آئیں اور باقیوں کا پتا ہی نہیں چلے۔ یعنی گویا کہ دل کی آنکھوں سے غائب ہو جائیں۔ ایسی صورت میں وہ توحیدِ شہودی حاصل ہو جاتا ہے۔ اب اس توحیدِ شہودی میں فنا قائم ہو گیا۔
حضرت نے آگے دلیل بڑی زبردست دی ہے۔ فرمایا کہ اگر باقی چیزیں نہیں تو فنا کس چیز سے ہے؟ فنا کس چیز سے حاصل کی ہے؟ تو کچھ ہے تو اس سے فنا حاصل کی ہے نا، تو کچھ ہونے کے ساتھ جو فنا ہے وہ زیادہ کامل ہے۔ بمقابلہ کچھ نہ ہونے کے ساتھ جو فنا ہے۔ ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ توکل تو بچہ بھی کر سکتا ہے کہ جیب میں کچھ نہ ہو تو کہے کہ۔ جو اللہ کرے گا وہی ہوگا۔ کہتے ہیں اصل توکل یہ ہے کہ بینک بھرے ہوں اور پھر بھی کہے جب اگر اللہ کرے گا تو ہوگا۔ پھر یہ توکل ہے۔ تو بات صحیح ہے کہ اگر چیزیں موجود ہوں، لیکن ان کے ہوتے ہوئے بھی ناموجود ہوں، تو یہ فنا کامل ہے اور عملی ہے۔ اس وجہ سے ایسے لوگ کامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کامل ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہوش میں ہیں صحو کی حالت میں ہیں، جبکہ پہلے والے سکر کی حالت میں ہیں۔
تو سکر سے صحو زیادہ افضل ہے کیونکہ باقی کام کر سکتا ہے، حکم پر عمل کر سکتا ہے۔ دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ اگر آپ وہ کہتے ہیں وہ والے پہلے والا سکر میں تو گنجائش ہے نا۔ لیکن اگر آپ اس کو تولنا چاہیں عملی طور پر تو پھر قرآن کس پر اترا؟ قرآن پر عمل کون کرے گا؟ قرآن کے احکامات کیا ہیں؟ ان سب چیزوں کی تشریح کیا ہوگی؟ اگر کوئی اور چیز نہیں ہے تو وہ تو پھر ہو ہی نہیں سکتا۔ تو ان چیزوں کے ہوتے ہوئے اگر کوئی مشہودی تعلق رکھتا ہے تو وہ فنائیتِ عملی کے ساتھ ما شاء اللہ ممتاز ہو کر جو اعمال کرے گا وہ بہت ما شاء اللہ مقبول اعمال ہوں گے۔ کیونکہ ان کے اوپر کسی اور کا اثر نہیں ہوگا۔ کسی اور کا اثر ہی نہیں ہوگا۔ وحدت الوجود صرف اس چیز کے لیے مفید ہے کہ دنیا کا اثر آپ سے ہٹا دے۔ یہ ایک عارضی حالت ہے باقی یہ مطلوب نہیں ہے۔ مطلوب تو اعمال ہیں۔ اعمال صحو میں ہو سکتے ہیں، سکر میں تو ہو نہیں سکتے۔ تو جتنا مرحلہ آپ کا وحدت الوجود میں جا رہا ہے، سکر کی حالت میں، وہ تو آپ کی زندگی سے نکل گیا نا۔ اس میں تو ایسے جیسے ہم مر گئے ہیں۔ وہ تو مطلب یہ ہے کہ وہ تو آپ کی زندگی کا حصہ ہی نہیں ہے۔ لیکن وہ توحیدِ شہودی میں تو آپ زندہ ہیں آپ تو باہوش ہیں آپ اعمال کر رہے ہیں آپ کی ساری چیزیں materialize ہو رہی ہیں۔ تولی جا رہی ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ اصل توحید تو یہی ہے کہ انسان اس حالت میں عمل کر لے کہ چیزوں کو دیکھ رہا ہو۔
سب سے پہلے جس شخص نے توحیدِ وجودی کی تصریح کی ہے وہ شیخ محیی الدین ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، ان سے پہلے کے مشائخ کی عبارتیں اگرچہ توحید و اتحاد کی خبر دیتی ہیں لیکن توحیدِ شہودی پر حمل کرنے کے قابل ہیں کیونکہ جب وہ حق جل شانہٗ کے غیر کو نہیں دیکھتے تو بعض کہتے ہیں: "لَیْسَ فِیْ جُبَّتِیْ سِوَی اللّٰہِ" (میرے جبے میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کچھ نہیں) اور بعض "سُبْحَانِیْ" (میں پاک ہوں) پکار اٹھتے ہیں اور بعض "لَیْسَ فِی الدَّارِ غَیْرُ دَیَّارٍ" (گھر میں اس کے سوا کوئی رہنے والا نہیں ہے) کی آواز لگاتے ہیں۔ یہ سب پھول ایک ہی "یک بینی" کی شاخ سے کھلے ہیں، ان عبارتوں میں سے کوئی عبارت بھی وحدت وجود پر دلالت نہیں کرتی، اور جس شخص نے مسئلہ وحدت الوجود کو ابواب و فصول میں لکھا ہے اور صرف و نحو کی مانند اس کو تالیف کیا ہے وہ شیخ محیی الدین رحمۃ اللہ علیہ ہی ہیں، اور اس مسئلے کے بعض دقیق معارف کو اپنی طرف منسوب کیا ہے حتیٰ کہ انہوں نے کہا کہ "خاتم النبوت" بعض علوم و معارف کو "خاتم الولایت" سے اخذ کرتا ہے۔ اور "خاتمِ ولایتِ محمدی" اپنے آپ کو جانتے ہیں۔ ان کے شارحین نے اس کی توجیہ میں کہا ہے کہ اگر بادشاہ اپنے خزانچی سے کوئی چیز لے لے تو کیا نقصان ہے۔
یہ اصل میں بات یہ ہے کہ غلبۂ حال میں کوئی تحریر ہو تو وہ سند نہیں ہوتی۔ البتہ یہ والی بات ضرور ہے کہ جو۔۔۔ مثال کے طور پر کوئی چیز سامنے آ جائے، اور وہ میں اب میں آپ کو کیا بتاؤں؟ یہ فیصل مسجد ہے بنی ہے نا بڑی خوبصورت لگتی ہے۔ تو اس کو اگر کوئی سوچے کہ کیسے بنی ہوگی تو بڑا عجیب مطلب سوچے گا کہ کیسے بنی ہوگی یہ تو کافی مطلب اتنا لمبا چوڑا کام کیسے ہوا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایک پہلی اینٹ نے دوسری اینٹ کی جگہ بنائی، دوسری اینٹ نے تیسری اینٹ کی جگہ بنائی، تیسری نے چوتھی اینٹ کی جگہ بنائی۔ یہ ایسے ہی بنی ہے نا۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ attached ہیں۔ تو اسی طریقے سے جو احوال و کیفیات کا جو علم ہوتا ہے وہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ attach ہوتا جاتا ہے اور ایک لمبا چوڑا سلسلہ اس کے ساتھ بن جاتا ہے۔ ایک ابواب و فصول اس سے سارے وجود میں آ جاتے ہیں۔ لیکن اس کی بنیاد وہی چیز ہی ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے جو حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے تو اس وقت اس سے کچھ ایسے مسائل مستنبط نہیں ہوئے تھے جو بعد میں اس کی خطرناک صورتیں نکل آئیں۔ لہذا حضرت کو بڑے شد و مد کے ساتھ اس کا رد کرنا پڑا۔ کیونکہ اس وقت ان سے ساری چیزیں غلط وجود میں آ گئی تھیں۔
لیکن میں تو کہتا ہوں کہ بہت سارے اچھے لوگ جیسے عیسیٰ علیہ السلام، تو عیسیٰ علیہ السلام نے جو پیغام دے دیا، تو اس پیغام میں تو کوئی غلطی نہیں تھی، وہ تو پیغمبر کا پیغام تھا۔ لیکن بعد میں لوگوں نے اس کے ساتھ جو اپنی چیزیں ملا دیں تو کیا سے کیا ہو گیا، اب کیا عیسائی جو ہے آج کل جو عیسیٰ علیہ السلام کا نام لیتے ہیں تو کیا وہ عیسیٰ علیہ السلام کی بات کرتے ہیں؟ اور انہوں نے بہت ساری چیزیں اپنے ساتھ ملا دی ہیں۔ اس طرح جو شیعہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تو بہت ساری باتیں اپنی ملا کے ساتھ وہ سمجھتے ہیں لوگ کہ شاید علی رضی اللہ عنہ نے اس طرح حالانکہ ایسا نہیں ہوتا، وہ تو ان سے پاک ہیں۔ تو یہ جو بات ہوتی ہے کہ یہ جو ابتدا کرنے والے ہوتے ہیں بے شک کتنی اچھی نیت کے ساتھ کوئی بات کیوں نہ کریں۔ لیکن بعد میں وہ چیز اس طرح نہیں ہوتی، میں آپ کو اس کی ایک مثال دوں۔ کہتے ہیں کہ عرب ممالک میں ایک جگہ پر یہ دستور تھا کہ جب مہمان آتے ہیں تو اتنے لمبے لمبے ڈنڈے تین ان کے سامنے کھانے کے ساتھ رکھ لیتے ہیں۔ تو ایک مہمان نے کہا کہ میں ذرا تحقیق کر لوں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا جی آپ نے کیوں رکھا ہے، کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم بس ہمارا اسی طرح دستور چلا آ رہا ہے اس طرح ہم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ بوڑھوں کے ساتھ ملاقات ہماری کر سکتے ہیں اپنے علاقے کے بوڑھوں کے ساتھ؟ کہتے ہیں ہاں کہ ٹھیک ہے جی ان کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے کہا یہ ڈنڈوں کا کیا مطلب ہے؟ کہتے ہیں چلے تو اس طرح ہی آ رہے ہیں ہاں البتہ ہمارے وقت میں اتنے لمبے لمبے نہیں تھے بس اتنے اتنے ہوتے تھے۔ یہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے۔ پتا چلا کہ وہ یہ خلال کرنے والا نہیں ہوتا tooth pick تو وہ کچھ اچھے دور میں لوگ تین خلال کے لیے رکھ لیتے تھے تاکہ مہمان اس کو استعمال کر لے تو ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے ڈنڈے بن گئے۔ تو اس طرح مطلب ظاہر ہے کہ ابتدا میں چاہے کتنی ہی اچھی نیت کے ساتھ بات کی گئی ہو لیکن پھر بعد میں مسائل ہوتے ہیں۔
پھر اس میں جو حضرات اس کی رد کرتے ہیں نا پھر اس رد میں وہ پھر پروا نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ سدِ باب کے طور پر بہت کچھ کہنا پڑتا ہے۔ سدِ باب کے طور پر کیونکہ اس میں پھر تمام چیزوں کو نکالنا پڑتا ہے، جہاں جڑیں پہنچی ہوتی ہیں ان کو نکالنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کے اندر یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے کتنی اس کی شرح کے ساتھ تردید کی ہے حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی چیزوں کی لیکن خود فرماتے ہیں مکتوبات شریف میں آیا ہے کہ نظرِ کشفی سے میں جب دیکھتا ہوں تو میں ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات پہ پاتا ہوں۔ جنت کے اعلیٰ مقامات میں پاتا ہوں۔ تو اس سے پتا چلا کہ ان کا یعنی جس کو کہتے ہیں نا وہ اجتہادی طور پہ غلطی تھی۔ اجتہادی طور پر فقہ میں بھی غلطی ہو سکتی ہے لیکن اس پہ اجر ملتا ہے۔ ایک اجر ملتا ہے۔ اور دو اجر اگر صواب پہ ہو اس کو ملتے ہیں۔ تو اگر معرفت کی باتوں میں ہو یعنی ان چیزوں میں تو ان میں بھی تو اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے نا؟ تو یہ جو اجتہادی غلطی ہوتی ہے اللہ تعالی تو نیت کو دیکھتے ہیں إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ لہذا ان کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرتے ہیں۔
لیکن میں اس میں درخواست کروں گا خدا کے لیے اس میں اپنے لیے کوئی راستہ نہ نکالیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں بھئی ہم بے تکان باتیں کریں گے، بے تکی اور اجتہادی طور پہ کریں گے، لہذا اللہ پاک معاف کرے گا۔ نہیں بھئی یہ "ظُنُّوا بِالْمُؤْمِنِينَ خَيْرًا" میں آتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ اچھا گمان اور اپنے ساتھ؟ بدگمان۔ ورنہ کباڑا ہو جائے گا۔ اسی سے، میرے خیال میں میں نے اچھی نیت سے یہ بات کی ہو گی، اور آپ حضرات اس کو پتا نہیں کہاں لے جائیں گے۔ اخیر میں پتا چلے گا کہ یہیں سے کافی فلاسفر پیدا ہوئے اور انہوں نے کیا کیا باتیں کر دیں اور آگے اس سے کیا کیا بن گیا۔ ایسے ہی ہوتا ہے نا۔ تو اپنے لیے ان کو نہیں لینا چاہیے۔
غرض فنا و بقا اور ولایت صغریٰ و کبریٰ کے کمالات حاصل کرنے کے لئے توحیدِ وجودی بالکل درکار نہیں ہے، توحید شہودی حاصل ہونی چاہیے تاکہ فنا متحقق ہو جائے اور ما سوی اللہ کا نسیان بھی حاصل ہو جائے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی سالک کو ابتدا سے انتہا تک سیر میسر ہو جائے اور توحیدِ وجودی کے علوم و معارف میں سے کچھ بھی اس پر ظاہر نہ ہو، بلکہ قریب ہے کہ ان علوم کا انکار کر دے۔ فقیر کے نزدیک وہ راستہ جو ان معارف کے ظہور کے بغیر سلوک کے ساتھ میسر ہو جائے وہ اس راستے سے زیادہ قریب ہے جو اس ظہور پر مشتمل ہے۔ نیز اس راہ (توحیدِ شہودی) کے سالکوں میں سے اکثر مطلوب تک پہنچتے ہیں اور اُس راہ (توحیدِ وجودی) کے چلنے والے اکثر راستے ہی میں رہ جاتے ہیں اور دریا کے ایک قطرے کے ساتھ سیراب ہو جاتے ہیں اور ظل و اصل کے باہمی اتحاد کے وہم میں پڑ کر ظل میں گرفتار رہتے ہیں اور اصل سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو اس فقیر نے تجربات ہی سے معلوم کیا ہے۔
کہتے ہیں چھوٹا منہ بڑی بات۔ اللہ تعالی معاف فرمائے کیا ہم کہہ سکتے ہیں؟ حضرت نے جو ارشاد فرمایا ہے اپنے تجربات کی بنیاد پر۔ تو میں غور کرتا رہا کہ اس توحیدِ وجودی اس پہ تو ہم کبھی گزرے نہیں ہیں تو یہ کیا مطلب کیا ہوا؟ یعنی یہ چیز تو مطلب ہمیں تو نہیں معلوم کہ توحیدِ وجودی کبھی ہمیں حاصل ہوا ہو یا اس قسم کی باتیں ہو چکی ہوں۔ تو یہ تو کبھی نہیں ہوئی۔ لیکن ایک چیز ہے جس کو ہم کہتے ہیں "کیفیتِ حضوری"۔ کیفیتِ حضوری یہ جس وقت انسان کو چاہے عارضی طور پر کیوں نہ حاصل ہو جائے، تو اس سے وہ چیزیں بھی چھانٹی ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ یہ کہ توحیدِ شہودی کا ادراک تو ہونے لگتا ہے تو اسی وجہ سے جو ہے نہ وہ یہ کیفیتِ حضوری میں۔ کیونکہ جب انسان اللہ کے سامنے ہو تو باقی چیزوں کی قیمت ختم ہو جاتی ہے۔ جو باقی چیزیں مطلب ان کی قیمت ختم ہو جائے گی، ان کی طرف توجہ نہیں رہے گی۔
بالکل اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص ہے اور بڑی گپ شپ لگا رہا ہے اور یہ اور وہ سارا ہنس رہا ہے اور یہ اور وہ، اچانک پتا چلا کہ اس کا ایک بہت محبوب استاد جس کے سامنے بالکل دم نہیں مارتا، وہ ادھر ادھر کھڑا ہے۔ جیسے اس کو دیکھے گا، بالکل ساری ہنسی ختم، بالکل ایک ایسی حالت ہو جائے گی، آدمی حیران ہو جائے گا کہ بھئی یہ کیا مطلب؟ اب اس وقت کیا ہو گیا؟ کیفیتِ حضوری ہوئی نا۔ اس کے سامنے ایک بہت ہی محترم اور معظم شخص، ان کے لیے جس کو کسی حالت میں بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا، وہ سامنے آ گیا تو اپنے سارے خواہشات اور یہ ساری چیزیں جو ties تھیں، وہ ساری ختم ہو گئیں۔ اور یکدم وہ سارا zero level پر آ گیا۔ تو اسی طریقے سے اگر کیفیتِ حضوری حاصل ہو تو اس سے بھی ما شاء اللہ یہ کام چل پڑتے ہیں۔ اس طریقے سے ہو جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ انسان وحدت الوجود کے اس میں چلا جائے۔ کیفیتِ حضوری ہوتے ہوتے فنائیت حاصل ہو جائے۔ اور اس فنائیت میں ما شاء اللہ مخلوق سے قلبی رابطہ منقطع ہو جائے۔ بے شک ذہنی رابطہ ہو، قلبی رابطہ منقطع ہو جائے۔ قلب کے اوپر ان کا اثر نہ ہو۔ تو ایسی حالت میں پھر وہ جو وحدت الشہود والی بات ہے وہ ان کو اس کی کیفیت، اور چونکہ عملی چیز تو وہی ہے تو وہ ان کو حاصل ہو سکتی ہے۔
وَ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ الْمُلْھِمُ لِلصَّوَابِ (اور اللہ سبحانہٗ ہی صحیح بات دل میں ڈالنے والا ہے)
اور نیز اس فقیر کو اگرچہ راہِ ثانی (یعنی توحیدِ وجودی کی راہ) سے سیر و سلوک میسر ہوا ہے،
حضرت خود اس راستے سے گزرے ہیں۔ خود گزرے ہیں، اس میں وہ کیا ہے۔
اور توحیدِ وجودی کے علوم و معارف کے ظہورات سے کافی حصہ حاصل ہوا ہے لیکن چونکہ خداوند جل سلطانہٗ کی عنایت اس فقیر کے شاملِ حال تھی اور فقیر کی سیر محبوبی تھی اس لئے راستے کے جنگلوں اور صحراؤں کو فضل و عنایت کی امداد سے طے کرا دیا اور کمال مہربانی کے ساتھ ظلال سے گزار کر اصل تک پہنچا دیا
یعنی ظلال میں پھنسائے نہیں، ظلال میں رہ نہیں گئے، ظلال سے اصل تک پہنچا دیا۔
اور جب معاملہ مریدوں تک پہنچا تو معلوم ہوا کہ دوسرا راستہ (یعنی توحیدِ شہودی کی راہ) وصول سے زیادہ قریب اور حصول کے لئے زیادہ آسان ہے۔ ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰنَا لِهٰذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ أَنْ هَدٰنَا اللّٰهُ ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَـقِّ﴾ (الأعراف: 43)
اللہ جل شانہ ہم سب کو حضرت کے فیوض و برکات سے کمال درجے کا حصہ نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔