مجذوب

کتاب: ہوشِ دیوانگی

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مجذوب کا تعارف اور اس کی بنیادی اقسام
    • پہلی قسم: باہوش مجذوب (صاحبِ جذبِ وہبی) کا اعلیٰ مقام
      • دوسری قسم: عقل و ہوش کھو دینے والا مجذوب اور اس کی حالت
        • عقل و ہوش سے بیگانہ مجذوب کی اقتداء اور اس سے مرادیں مانگنے کی ممانعت
          • دین اور شریعت کی پیروی میں عقل و ہوش کی مرکزیت
            • جذبِ کسبی سے جذبِ وہبی تک کا سفر اور مقامِ قلب میں روح و نفس کی کشمکش

              ایک لفظ ہے مجذوب جو کافی مشہور ہے۔ اور بہت confusions ہیں اس کے بارے میں۔ تو اس لیے اس کے بارے میں جو ہمارے بزرگوں اور مشائخ نے لکھا ہے، اس کی وضاحت ضروری تھی۔ اس پہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کافی لکھا ہے، مجذوبوں کے بارے میں۔

              مجذوب جو ہوتا ہے یہ اصل میں دو قسم کا ہے۔ ایک وہ جو ہوش و حواس میں ہے اور حالتِ جذب اس کو حاصل ہے۔ لیکن وہ حالتِ جذب منتہی کی حالتِ جذب ہو۔ یعنی جس کو وہبی جذب کہتے ہیں۔ یہ تو بہت بڑی چیز ہے اور یہ تو ماشاءاللہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ جتنے بھی اہلِ حق ہوتے ہیں اور تکمیل کے بعد ان کو تقریباً یہ چیز حاصل ہو جاتی ہے۔

              اور ایک وہ مجذوب ہوتا ہے جو کثرت سے مجاہدات یا ذکر اذکار کر لے کہ اس کی اتنی capacity نہ ہو۔ تو وہ اس کا دماغ اڑ جاتا ہے، fuse اڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ وہ ہوش و حواس میں نہیں رہتا۔ اور ان کی حالت مجنون جیسی ہو جاتی ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ کی محبت میں ان کے ساتھ ایسا ہو چکا ہوتا ہے لہٰذا اس کا ایک مقام ہوتا ہے۔ لیکن وہ مقام stable ہوتا ہے۔ اس میں وہ کم و بیش نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ کہ اس کی حالت میت کی سی ہوتی ہے جیسے زندہ لاش۔ بس جس مقام پر ہوتا ہے اسی مقام پہ ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے ایک اچھا آدمی جس مقام پہ فوت ہو جائے تو اس کا وہ مقام ہوتا ہے، لیکن یہ تو چونکہ چلتا پھرتا ہے تو ایک ابتلاء ہوتا ہے۔

              اب اگر کوئی اس کی بے ادبی گستاخی کر لے تو اس کو سزا ملتی ہے۔ اور اگر اس کی کوئی مانتا ہے تو نقصان اٹھاتا ہے کیونکہ وہ شریعت پہ چلتا نہیں ہے اور نہ شریعت پہ چل سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے ایک امتحان اور آزمائش ہوتا ہے وہ۔ ایسی صورت میں ایسے لوگوں کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے۔ بہت سارے لوگ مجذوبوں کے پیچھے چلتے ہیں، ان کو اہلِ خدمت سمجھتے ہیں اور ان سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔ تو یہ بہت ہی کچی بات ہے اور کافی دھوکے میں ہیں لوگ۔ شیطان نے ان کو گمراہ کیا ہے۔

              اور تیسرا مجذوب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پہ بڑا زور دیا، اس کو مجذوبِ متمکن کہتے ہیں۔ تو یہ تینوں کو الحمدللہ ابھی ہم نے جمع کیا ہے اپنے کلام میں، تو وہ سنا لیتے ہیں۔


              مجذوب

              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

              سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب


              اس میں بات ہو گئی کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ مجذوب جذب سے بنتا ہے۔ یعنی جذب جس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اور یہ ایک محبوبِ خدا بھی ہوتا ہے کیونکہ اللہ پاک کی محبت میں اس کی ایسی حالت ہو چکی ہوتی ہے۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              عقل اور ہوش سے ہے بیگانہ اگر

              اقتداء سے رکھو پرے مجذوب


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              یعنی ایک تو اس کی یہ حالت ہے کہ وہ عقل و ہوش سے بیگانہ ہے، اور ہوش کی حالت میں نہیں ہے، سمجھ اس کو نہیں ہے، تو اس کی اقتداء نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے۔ کیونکہ اصل میں شریعت ہے۔ ایک طرف حضور ﷺ ہیں، دوسری طرف وہ ہے، تو ہم حضور ﷺ کے پیچھے جائیں گے یا ان کے پیچھے جائیں گے؟ تو یہ بات ہے کہ اس وقت یہ مقتدیٰ نہیں بن سکتا۔ ٹھیک ہے، اللہ کا پیارا ہوگا، لیکن وہ اس کے لیے ہے... مطلب ظاہر ہے کہ اپنے آپ کے لیے ہے۔ باقیوں کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔


              بات شریعت کی ہی چلے گی ہمیش

              گو خدا کو تو ہے پیارے مجذوب


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              دین کی بنیاد عقل و ہوش پہ ہے

              اور اس پر نہیں چلے مجذوب


              کیونکہ دین کی بنیاد عقل و ہوش پر ہے، اور مجذوب اس پہ چل نہیں سکتا لہٰذا کیسے اس کی اقتداء کی جا سکتی ہے۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              ہاں جذب ہوش کے قابو میں رہے

              اور شریعت کی بھی مانے مجذوب


              دو conditions بتائی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ ہوش بھی اس کو حاصل ہو... یعنی مجذوب کہ جذب کی حالت میں ہوش میں ہو۔ اور دوسری بات ہے کہ شریعت کی مانتا ہو۔ جب شریعت کی مانتا ہو، تو شریعت پر دل سے اور محبت کے ساتھ عمل کرے گا۔ مجذوب جو ہے۔ کیونکہ مجذوب وہی ہوتا ہے جس کو اللہ کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔ اب اس کی اقتداء اس لیے نہیں کی جا رہی تھی کیونکہ وہ شریعت پہ نہیں چل رہا تھا۔ کیونکہ عقل اس کی کام نہیں کر رہی تھی۔ اب اگر اس کا عقل و ہوش میں ہے اور شریعت پر چل رہا ہے تو پھر تو پھر بہت اعلیٰ مقام پر ہے۔ کیونکہ اس کا ہر کام میں اللہ پاک کی محبت وللہیت ہوگی۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              ایسا جذب فضلِ خداوندی ہے

              دل کی باتیں پھر بتائے مجذوب


              اس کے بارے میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو باتیں ارشاد فرمائیں، اگر اس کو ہم یاد کر لیں، تو کافی ساری چیزیں سمجھ میں آ جائیں گی۔ کیونکہ حضرت فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو جذبِ کسبی حاصل ہو جائے اور جذبِ کسبی حاصل ہونے کے بعد وہ سلوک طے کر لے۔ کیونکہ جذبِ کسبی کا مقصد جو ہے نا وہ سلوک طے کرنا ہے۔ سلوک طے کر لے۔ تو اس کا سیرِ الی اللہ مکمل ہو جائے گی۔ جب سلوک طے کر لے اور پھر اس کو اللہ پاک کے فضل سے جذبِ وہبی حاصل ہو جائے۔ پہلے تو کسبی تھا۔ اب وہبی حاصل ہو جائے۔ اور وہ ظاہر ہے چونکہ سلوک طے کر چکا ہے، عقل و ہوش میں ہوگا، لہٰذا ایسی صورت میں یہ جو مجذوب ہوگا، وہ حضرت فرماتے ہیں اس کے بعد پھر چونکہ انسان جب جذب... مطلب جو ہے نا وہ کسبی جو ہوتا ہے، وہ مقامِ قلب میں آ جاتا ہے۔ اور مقامِ قلب میں جب آ جاتا ہے، تو پھر وہاں پر مقابلہ ہوتا ہے۔ مقامِ قلب میں مقابلہ ہوتا ہے۔

              اب مقامِ قلب میں مقابلہ کس طرح ہوتا ہے؟ یعنی روح اور نفس۔ کیونکہ نفس نے روح کو دبوچا ہوتا ہے۔ نفس روح کو چھوڑ نہیں رہا ہوتا۔ تو ایسی صورت میں پھر روح اپنے مقام پہ واپس جانا چاہتا ہے، لیکن نفس اس کو چھوڑ نہیں رہا ہوتا۔ اس وقت مجاہدہ کر کے نفس سے روح کو زبردستی چھڑایا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جب نفس سے روح چھوٹ گیا، تو یہ چلا جائے گا اپنے مقام... ملاءِ اعلیٰ میں۔ تو ملاءِ اعلیٰ میں جب یہ پہنچے گا، تو اب یہ ہوگا کہ جو قلب ہے، اس کا تعلق چونکہ روح کے ساتھ ہے اور روح وہاں پر ہے، لہٰذا قلب کو وہاں کے حالات نظر آنے شروع ہو جائیں گے۔ اور سنائی دینے لگیں گے۔ ایسی صورت میں پھر کیا ہوگا؟ پھر اب یہ جو قلب ہے، ہوگا تو اِدھر، لیکن وہاں کے حالات کو اس کو پتہ . چل رہا ہوگا، تو گویا کہ یہ جو چیز ہے مطلب اس کو وہاں کی باتیں جب معلوم ہو گی اور یہاں کی زبان بات کر رہی ہو گی، تو باتیں اُدھر کی ہوں گی نا... یہاں کی تو نہیں ہوں گی؟ تو پھر کہتے ہیں، 'دل کی باتیں پھر وہ بتائے مجذوب'۔ وہ باتیں وہ بتائیں گے جو اوروں کو معلوم نہیں ہو سکتیں۔

              اور پھر ساتھ ساتھ یہ ہے کہ یہ جو عقل ہے، چونکہ اس کا تعلق بھی قلب کے ساتھ ہے، لہٰذا قلب اس کے اوپر اثر انداز ہو جائے گا اور وہ قلب روح کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے، لہٰذا روح کا جو اثر وہاں سے لے رہا ہے ملاءِ اعلیٰ سے، یہ عقل پہ پہنچ جائے گا۔ جب عقل پہ پہنچے گا، تو عقلِ سرّ بن جائے گا۔ اور اس کا تعلق بھی براہِ راست ملاءِ اعلیٰ کے ساتھ ہو جائے گا۔ اب ملاءِ اعلیٰ کی چیزوں کو دیکھ کر جو عقل فیصلے کرے گا، وہ فیصلے یہاں کے فیصلوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ وہ فیصلے پھر وہاں کے لحاظ سے ہوں گے۔ تو ایسی صورت میں مطلب یہ ہوگا تو یہاں، لیکن وہاں کا ہوگا۔ خلوت در انجمن جس کو ہم کہتے ہیں۔

              تو گویا کہ یہ جو شخص ہے مجذوب... جو صحیح مجذوب ہے، مجذوبِ وہبی ہے... جذبِ وہبی جس کو حاصل ہے، تو یہ دل کی باتیں... یعنی دل کی آنکھیں اس کو حاصل ہیں، دل کے کان اس کو حاصل ہیں، لہٰذا یہ دل کی باتیں پھر بتائے گا اور لوگ ان سے فیض حاصل کریں گے۔ جس کے بارے میں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

              بینی اندر خود علومِ انبیاء

              بے کتاب و بے معید و اوستا

              یعنی تم اپنے آپ میں دیکھو گے علومِ انبیاء کو۔ اب انبیاء کرام علیہم السلام کو کہاں سے مل رہے ہیں؟ ادھر سے مل رہا ہے نا؟ تو ان کو پھر ادھر سے ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ لہٰذا

              بینی اندر خود علومِ انبیاء

              بے کتاب و بے معید و اوستا

              جیسے انبیاء کرام کو کتاب کے ذریعے سے تو نہیں ملتا، ان کو تو براہِ راست وحی ہوتی ہے۔ اور اس طرح استاذ بھی ان کا نہیں ہوتا۔ تو یہی فرمایا کہ بے کتاب و بے معید و اوستا۔ تو یہ جو اللہ والوں کے اوپر جو باتیں کھلتی ہیں، اور وہ کتابوں میں بھی نہیں ملتیں، تو وہ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کا تعلق وہاں کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ تو یہ مجذوب جو ہوتا ہے، یہ بڑے کام کا ہوتا ہے، کیونکہ ان کو اللہ جل شانہ مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے

              نفس پہ خوب پھر چھائے مجذوب


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

              سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب


              اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے


              یہ تیسری قسم ہے مجذوب کا... یعنی پہلا ہوش میں نہیں ہے۔ دوسرا ہوش میں ہے لیکن تکمیل اس کی ہو چکی ہے۔ تیسرا ہوش میں ہے لیکن اس کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ تین cases ہوئے نا؟ تو یہ تیسرا case ہے۔


              اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے

              اور سلوک نہ کرے طے مجذوب


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              پھر یہ مجذوبِ متمکن ہے بس

              اور یہ حق تک نہ پہنچے مجذوب


              یہ اصطلاح جو ہے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے پیش فرمایا ہے۔ اصل میں تمکین اور تلوین یہ دو اصطلاحات ہیں۔ تلوین بدلتے حالات کو کہتے ہیں، جس کے احوال بدلتے رہتے ہیں، ان کو تلوین والے کہتے ہیں، صاحبِ تلوین کہتے ہیں۔ اور صاحبِ تمکین وہ ہوتے ہیں جس کے حالات یکساں ہوتے ہیں... مطلب وہ stable ہو جاتے ہیں۔ تو اب یہ بات ہے کہ جذب کی حالت میں ویسے عام طور پر تلوین رہتی ہے، جو جذبِ کسبی ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ میں نہیں ہوتے۔ مطلب گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اس کو جلدی سلوک طے کرنا چاہیے۔ لیکن اگر سلوک طے کیے بغیر وہ ہوش میں رہے، اور control کیا اپنے آپ کو، تمکین کی حالت اس نے حاصل کر لی، تو تمکین سے متمکن ہے۔ تو لہٰذا وہ مجذوب متمکن ہے۔ ابھی سالک تو بنا نہیں ہے۔ لہٰذا مجذوب متمکن رہ گیا۔ وہ سلوک تو اس نے طے نہیں کیا۔ لہٰذا اس کے جو خواص اور جو آثار ہیں، وہ مجذوبِ متمکن کے ہوں گے۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              اس کے آثار بزرگوں کے ہیں

              لیکن بزرگ نہیں، یہ ہے مجذوب


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              عمومی آثار اس کے بزرگوں کے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بظاہر جو چیزیں ہوتی ہیں، اچھے جن کو لوگ سمجھتے ہیں، وہ ان میں پائی جاتی ہیں۔ توجہ کی قوت ان میں پائی جاتی ہے، الفاظ میں تاثیر پائی جاتی ہے، لوگ ان کی طرف کافی آتے ہیں۔ لیکن یہ دنیا سے نکلے نہیں ہوتے۔ دنیا کی محبت ان کے دل میں ہوتی ہے۔ کیونکہ نفس کے مارے ہوتے ہیں، نفس سے نکلے نہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ پھر لوگوں کو متاثر کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ اور ان سے پھر دنیا کے فائدے اٹھانا شروع کر لیتے ہیں۔ تو ایک فتنہ بن جاتے ہیں۔ ایک فتنہ بن جاتے ہیں۔

              بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو اللہ جل شانہ نوازتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ اس کو کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ اللہ کے لیے استعمال کرتے ہیں یا اپنے نفس کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ تو جو لوگ اپنے نفس کے لیے اس کو استعمال کر دیں، تو بس پھر گئے۔ تو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اس سے وہ چیز واپس نہیں لیتے، بس اس کے لیے پھر وہی ہے۔ جیسے انسان کو دنیا میں کوئی نعمتیں مل جاتی ہیں نا؟ جیسے دولت مل گیا۔ یا کوئی اور اس کو کوئی چیز مل گیا، اچھی جو دنیا میں اچھی چیز سمجھی جاتی ہے۔ لیکن وہ اس نے اللہ کے لیے استعمال نہیں کیا، اپنے نفس کے لیے استعمال کیا، تو بس پھر اللہ پاک نے چھوڑ دیا اس کو۔ ٹھیک ہے بس، یہی ہے۔

              اس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عجیب مثال دی ہے۔ بڑی عجیب مثال دی ہے۔ فرمایا کہ ایک بادشاہ نے کسی کو بلایا مثلاً... یعنی ملاقات کے لیے۔ اب وہ بادشاہ جاننا چاہتا ہے کہ یہ میرے ساتھ کیسا ہے، مخلص ہے یا نہیں ہے؟ تو اس نے اپنے محل میں کوئی چیزیں ادھر ادھر پیسے ویسے گرا دیے۔ گرا دیے۔ اب وہ جس وقت وہ آتا ہے، اور پیسے دیکھتا ہے، تو اگر وہ بادشاہ کا وفادار ہے، صحیح معنوں میں، تو بادشاہ تک پہنچا دے گا کہ اس طرح یہ پیسے میں نے ادھر گرے ہوئے دیکھے ہیں، تو یہ کس کے ہیں؟ یہ آپ لے لیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس نے اگر ہضم کر لیے، مطلب جیب میں ڈال دیے، تو بادشاہ کو پتہ تو چل جائے گا کہ اس نے اٹھا لیے اور... دیے نہیں ہیں، تو بادشاہ چونکہ کافی وہ ہوتا ہے، مطلب ظاہر ہے ان کے لیے پیسے کی کیا حیثیت ہے جو تھوڑے سے پیسے ہوتے ہیں، تو اس سے واپس نہیں لیتے، لیکن اپنے دل میں اس کو جگہ بھی نہیں دیتے۔ محروم ہو جاتا ہے۔ تو یہ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو محروم ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کو بس ان کا چھوڑ دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے بس تم لوگوں نے یہ لے لیا، تو لے لیا۔ تمہارے لیے یہی ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے انجام سے بچائے، بہت خطرناک انجام ہے۔


              چاہیے یہ کہ مستعد ہو

              کرے دس مقاماتِ سلوک طے مجذوب


              ہونا تو یہ چاہیے کہ جذب سے فائدہ اٹھاتے اور دس مقاماتِ سلوک طے کر لیتے، تو یہ جو دس مقاماتِ سلوک یہ طے کر لیتے، اس سے تمام چیزیں اس کی نفسانی چیزیں نکل جاتیں۔ اور یہ مقامِ رضا تک پہنچ جاتا۔ اور جب مقامِ رضا پہ پہنچ جاتا، تو اللہ پاک بھی اس سے راضی ہو جاتا۔ تو اس کو ہونا تو یہ چاہیے تھا، لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو ظاہر ہے اس سے محروم ہو گیا۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


              سیر الی اللہ تب اس کا پورا ہو

              سیر فی اللہ پہ یہ چلے مجذوب


              اگر اس نے دس مقاماتِ سلوک طے کر لیے، تو یہ سیر الی اللہ پورا کر لے گا۔ اور پھر اس کے بعد سیر فی اللہ پہ جائے گا۔ سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ، دو اصطلاحات ہیں۔ یعنی سیر الی اللہ وہ ہے، یعنی اللہ کے راستے پہ آنا۔ سیر الی اللہ کا مطلب کیا ہے؟ اللہ کے راستے پہ آنا۔ اب جیسے آپ سیر الی اللہ پہ آ گئے، تو اس کے بعد پھر سیر فی اللہ شروع ہو گیا۔ پھر اس کی کوئی limit نہیں ہے، وہ تو آپ کی زندگی تک ہے، جتنی آپ کی زندگی ہے وہ چلتے رہیں گے آپ۔ تو سیر الی اللہ میں یہ کرتے ہیں، آپ کی وہ رکاوٹیں دور کرتے ہیں، وہ رکاوٹ دل میں جو ہے، دنیا کی محبت، نفس کا جو ہے نا امارہ پن، اور عقل کا جو ہے نا بے راہ روی، ان تینوں چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا، یہ سیر الی اللہ ہے۔ اپنی تربیت ان تین چیزوں کی کروانا، یہ سیر الی اللہ ہے۔ جب یہ تین چیزیں ٹھیک ہو گئیں، تو اب یہ سیر فی اللہ پہ چلنے کے قابل ہو گیا۔

              اب اس کی کوئی نماز... نفس نہیں کھائے گا۔ بلکہ اللہ کے لیے ہوگا۔ اس کا کوئی روزہ نفس کے لیے نہیں ہوگا۔ اس کا کوئی کام نفس کے لیے نہیں ہوگا۔ وہ اگر ایک دفعہ سبحان اللہ بھی کہیں گے تو اللہ کے لیے کہیں گے۔ اور اگر جان قربان کریں گے وہ بھی اللہ کے لیے کریں گے۔ یعنی اس کی بڑی سے بڑی چیز بھی اللہ کے لیے ہوگی، اور چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اللہ کے لیے ہوگی۔ اسی کو سیر فی اللہ کہتے ہیں، اسی کو طریقِ صحابہ بھی کہتے ہیں۔ یعنی صحابہ کے طریق، صحابی بنے گا نا یہ، ظاہر ہے صحابہ تو صحابہ ہیں وہ تو ان کا اپنا مقام ہے۔ لیکن صحابہ کے طریقے پہ چل پڑا۔ جیسے صحابہ شریعت پر چلتے تھے خالص اللہ کی رضا کے لیے، آپ ﷺ کے طریقے پر، بس وہی طریقہ اب ان کا بھی ہوگا۔ تو شریعت بدلتی تو نہیں ہے نا؟ صحابہ کرام کے لیے بھی تو وہی شریعت تھی نا جو ہمارے لیے ہے۔ شریعت تو نہیں بدلتی۔ البتہ یہ ہے کہ نیتوں کا فرق ہوتا ہے، وہ جو دل کی صفائی کا فرق ہوتا ہے، عقل کے ادراک کا فرق ہوتا ہے، یعنی معرفت کا فرق ہوتا ہے، ان چیزوں میں فرق ہے۔ لیکن ویسے شریعت تو وہی شریعت ہی ہے۔ تو اب یہ جو سیر فی اللہ ہے یہ عمر بھر کے لیے ہے۔ سیر فی اللہ اگر اللہ تعالیٰ نصیب فرما دے، تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ پھر پوری زندگی اس پہ رہنا ہے۔ اس کا جو آخری مقام اس کا ہوگا تو وہی ہوگا۔


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

              سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب


              عشق کے نور میں ملفوف شبیر

              ایسے اشعار سنائے مجذوب


              یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

              سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب



              مجذوب - عارفانہ کلام