قیقتِ فنا و بقا، توحیدِ شہودی اور اصلاحِ نفس کی ناگزیریت

درس 133: دفتر اول، مکتوب: 272

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. روحانی کمال کا اصل محور اللہ تعالیٰ کی کامل تنزیہ کا اقرار، خیالی مشاہدات کی نفی اور نفس کی اصلاح ہے۔
  2. فنا کا مطلب ماسوا اللہ کو نیست و نابود کرنا نہیں، بلکہ اس کو بھول جانا اور اس کی دید کا مفقود ہو جانا ہے۔
  3. اصل وجود صرف اللہ کا ہے، جبکہ کائنات کی تمام اشیاء عدم ہیں جو اللہ کی تجلیِ وجودی سے ظہور میں آئی ہیں۔
  4. توحید شہودی کو توحید وجودی کا لازمی نتیجہ سمجھنا درست نہیں، اور روحانی ترقی کے لیے وحدت الوجود کے علاوہ دیگر راستے بھی موجود ہیں۔
  5. کثرت میں وحدت کا درست مفہوم تمام موجودات کے ایک خالق کو ماننا ہے، مخلوق کو خالق کا عین سمجھنا باطل ہے۔
  6. انبیاء کرام کثرت میں وحدت کے سفلی مشاہدات سے بالاتر ہیں، کیونکہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
  7. انبیاء کے برعکس عام انسانوں کے لیے مخلوق کی طرف توجہ کے دوران اپنے نفس کے شرور سے بچنے کا اہتمام کرنا انتہائی ضروری ہے۔
  8. دین کی محنت کرنے والوں کے لیے قلب، نفس اور عقل کی اصلاح لازمی ہے تاکہ ان کا کام نفسانی شرارتوں سے پاک رہے۔
  9. اللہ کی ذات وراء الوریٰ ہے، اس لیے روحانی ترقی کا کمال علم سے جہل اور معرفت سے حیرت کی طرف جانا ہے۔
  10. روحانی سفر کا انجام تشبیہ سے تنزیہ کی طرف ہے، لہٰذا کلمہ لا کی حقیقت سے تمام خیالی مشاہدات کی نفی کرنا ضروری ہے۔
  11. نقشبندی سلسلے کا یہ امتیاز ہے کہ اس میں نہایت کو بدایت میں درج کیا جاتا ہے اور سالک کی توجہ احدیتِ صرف کی طرف رہتی ہے۔
  12. صفات کے بجائے خالص اللہ کی ذات کی طرف متوجہ رہنے والا سالک آزمائش کے وقت ثابت قدم رہتا ہے اور دنیاوی طلب سے بے نیاز ہوتا ہے۔
  13. انسان کے لیے ذاتِ باری تعالیٰ کا ادراک ناممکن ہے، اسی لیے کثرت میں وحدت کے تصورات درحقیقت اللہ کا شہود نہیں بلکہ ذہنی پیداوار ہیں۔
  14. روحانی کیفیات کو مستحکم کرنے کے لیے مجاہدات اور ریاضت کے ذریعے نفسِ امارہ کے زور کو توڑنا اور اس کی نفی کرنا لازمی ہے۔
  15. تصوف کی آخری اور اعلیٰ ترین منزل نفس کا مطمئنہ ہو کر مقامِ رضا تک پہنچنا اور اللہ کی کامل بندگی حاصل کرنا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی معرکۃ الآراء مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت کے فیوض و برکات سے ہم سب کو بیش از بیش حصہ نصیب فرمائے۔

تنبیہ کے طور پر گزشتہ مضامین میں جو بات آئی ہے، اس میں تنبیہ کے طور پر فرماتے ہیں:

تنبیہ: سابقہ تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ اگرچہ موجودات متعدد ہوں

یعنی بہت سارے موجودات ہوں، جیسے اب ظاہر ہے مطلب کائنات پوری،

اور حق جل و علا کا ما سوی بھی موجود ہو

یعنی اللہ جل شانہ تو اللہ ہی ہیں اور ساتھ دوسری بھی،

پھر بھی یہ بات روا ہے کہ فنا اور بقا متحقق ہو جائے

کہ فنا اور بقا، اس کا جو وجود ہے وہ قائم ہو جائے، کیسے؟

اور ولایت صغریٰ و کبریٰ بھی حاصل ہو جائے کیونکہ ما سویٰ کا نسیان فنا ہے

یعنی جو اللہ کے علاوہ ہے وہ بھول جائے انسان، اس کو فنا کہتے ہیں،

نہ یہ کہ ما سویٰ کا نیست و نابود کرنا

کیونکہ یہ تو انسان کے بس میں نہیں ہے، ختم تو نہیں کر سکتا۔ یعنی آپ سامنے بیٹھے ہیں میرے اور میں آپ کو بھول جاؤں، یہ تو میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے، میرا state of mind ہے۔ لیکن آپ کو ختم کر دوں یہ تو میرا state of mind والی بات نہیں ہے، وہ تو ایک الگ چیز ہے، ٹھیک ہے نا۔ تو فرمایا کہ:

کیونکہ ما سویٰ کا نسیان تو فنا ہے، نہ کہ ما سویٰ کا نیست و نابود کرنا، اور چاہیے کہ ما سویٰ کی دید مفقود ہو جائے

یعنی مطلب یہ ہے کہ انسان اس کو دیکھ نہ سکے، مطلب اس کی طرف نظر نہ ہو،

نہ یہ کہ ما سویٰ معدوم و نا چیز ہو جائے۔

مطلب ظاہر ہے، اس وجہ سے مجھے ذرا تھوڑا سا گزشتہ کی طرف جانا پڑے گا۔ حضرت نے فرمایا ہے مکتوب نمبر 234 میں کہ ساری چیزیں اصل میں عدم ہیں اور اصل وجود تو اللہ جل شانہ کا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ کی تجلیِ وجودی، وہ جس وقت عدم پہ پڑتی ہے تو اس سے چیزیں بطور ترقی—تجلی تو تنزل ہے لیکن یہاں اس کا جو اثر ہے وہ عدم کی ترقی ہے—اور وہ کیا ہے؟ وہ موجودات ہیں، مطلب وہ موجودات وجود میں آ جاتے ہیں۔ تو جو اللہ کی تجلی سے وجود میں آیا ہو، اس کو کوئی ختم تو نہیں کر سکتا: ﴿مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا﴾۔ اللہ پاک، مطلب یہ "مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا" اس کو تو کوئی ختم نہیں کر سکتا، لیکن یہ بات ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ رہے، یہ بات ہو سکتی ہے۔ توجہ الی الغیر نہ ہو، اس چیز کا خاتمہ ہمارے بس میں نہیں ہے، وہ تو ہو نہیں سکتا، نہ ہم اس کے مکلف ہیں۔

یہ بات ظاہر ہونے کے با وجود اکثر خواص پر بھی پوشیدہ رہی ہے تو عوام کے بارے میں کیا کہا جائے۔ ان لوگوں نے توحیدِ شہودی کو توحیدِ وجودی کا عین خیال کر کے وحدتِ وجود کی معرفت کو اس راہ کی شرائط میں سے جانا ہے

یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ بعض حضرات نے توحید شہودی جو ہے، اس کو توحید وجودی کا ایک نتیجہ قرار دیا ہے۔ یعنی گویا کہ اس کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔

حضرت فرماتے ہیں کہ سابقہ تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ موجودات اگر کثرت سے بھی ہوں، پھر بھی فنا اور بقا کا وجود ہو سکتا ہے۔ کیونکہ فنا کا مطلب سویٰ کا نسیان ہے، ما سویٰ کا نیست و نابود ہونا نہیں ہے۔ مجھے حضرت کی وہ مکتوب شریف 234 کی بات یاد آ گئی کہ حضرت نے فرمایا تھا کہ اصل میں تو اللہ ہی کا وجود ہے۔ اس لیے تو واجب الوجود کہتے ہیں، ٹھیک ہے نا، اصل میں تو اللہ ہی کا وجود ہے۔ لیکن اللہ پاک کی تجلی جو تنزل ہے، اس تجلی کے عدم پر پڑنے سے، عدم عروج کر کے، ترقی کر کے وہ موجودات ظہور میں آتے ہیں۔ تو جو چیز اللہ تعالیٰ کی تجلیِ وجود سے ظہور میں آئی ہے، تو ظاہر ہے اس کو کوئی ختم تو نہیں کر سکتا: ﴿ومَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا﴾۔ تو لہٰذا اس چیز کا معدوم کرنا، ہم نہ اس کے مکلف ہیں اور نہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔

فرمایا:

یہ بات ظاہر ہونے کے با وجود اکثر خواص پر بھی پوشیدہ رہی ہے تو عوام کے بارے میں کیا کہا جائے۔ ان لوگوں نے توحیدِ شہودی کو توحیدِ وجودی کا عین خیال کر کے وحدتِ وجود کی معرفت کو اس راہ کی شرائط میں سے جانا ہے۔

یہ غلط فہمی مجھے بھی تھی۔ غلط فہمی اس لیے تھی کہ میں جب پڑھتا تھا تو میں یہ سمجھتا تھا کہ شاید یہ وحدت الوجود پہلے ہو گا، پھر اس کے بعد وحدت الشہود وجود میں آئے گا، مطلب ظاہر ہے اس کی ترقی ہے۔ حالانکہ بعد میں پتا چلا کہ نہیں۔ یہ اس کی ایک صورت ہے، اس طریقے سے بھی ہو سکتا ہے، یہ نہیں کہ یہ واحد راستہ ہے۔ واحد راستہ نہیں ہے۔ لاہور جانے کے لیے راستے اور بھی ہیں، صرف جی ٹی روڈ نہیں ہے۔ آج کل موٹروے بھی ہے، دوسرے راستے بھی ہیں۔ تو اس طرح یہ اور راستے بھی ہیں جس کے ذریعے سے انسان جا سکتا ہے۔

اور دو وجود کہنے والے کو۔۔۔

دو وجود سے مراد یہ ہے کہ ایک تو اللہ پاک کا وجود ہے جو واجب الوجود ہے اور دوسرا ممکن۔

کہنے والے کو ضالّ و مضل (گمراہ اور گمراہ کرنے والا) خیال کیا ہے یہاں تک کہ ان میں سے اکثر نے حق جلَّ سلطانہٗ کی معرفت کو توحیدِ وجودی کے معارف میں منحصر خیال کیا

یعنی اللہ جل شانہ کی معرفت تب ہو گی جب توحید وجودی حاصل ہو گا،

اور شہودِ وحدت کو کثرت کے آئینے میں انجام کار تصور کیا ہے۔

شہودِ وحدت یعنی کثرت میں وحدت نظر آئے۔

ایک آن میں مٹ جائیں گی کثرت نمائیاں
جب آئینے کے سامنے ہم آ کے ھو کریں

تو انہوں نے وحدت کو کثرت کی صورت میں دیکھا ہے، یعنی کثرت سے انہوں نے وہ دیکھا ہے کہ ہے تو کثرت لیکن ان سب کو ایک سمجھا، نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ عدم نہیں ہے، کالعدم ہے۔ فنا میں کالعدم ہو جاتے ہیں۔ عدم نہیں ہو جاتے ہیں۔ یہ فرق ہے۔ یعنی انسان اس کو دیکھ نہیں پا رہا ہوتا۔

تو فرمایا کہ:

یہاں تک کہ ان میں سے اکثر نے حق جلَّ سلطانہٗ کی معرفت کو توحیدِ وجودی کے معارف میں منحصر خیال کیا اور شہودِ وحدت کو کثرت کے آئینے میں انجام کار تصور کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ ہمارے حضرت پیغمبر علیہ و علیٰ جمیع اخوانہ من الصلوات افضلہا و من التسلیمات اکملہا کمالاتِ نبوت کے حصول کے بعد شہودِ وحدت در کثرت کے مقام میں رہے ہیں

یعنی پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی کثرت میں وحدت نظر آئی۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ وہ گویا کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی وحدت کا نظارہ کیا کثرت میں۔

اصل میں اس میں بہت، یعنی سمجھنے کے لحاظ سے باریک فرق ہے، سمجھنے کے لحاظ سے باریک فرق ہے۔ باریک فرق یہ ہے کہ کثرت اس معنی میں سمجھنا کہ چیزیں بہت زیادہ ہیں لیکن خالق سب کا ایک ہے، یہ تو کثرت میں وحدت ٹھیک ہے۔ اگر یہ معنی ہو، جس کو ہم کہتے ہیں، یعنی چیزیں تو بہت ہیں، موجودات بہت ہیں، ستارے بھی ہیں، آسمان بھی ہے، اس طریقے سے سیارے بھی ہیں، کیا کیا چیزیں ہیں عجائبات! تو کثرت ہے۔ تو یہ کثرت جو مخلوقات کی ہے، ان سب کا خالق ایک ہے۔ اس لحاظ سے تو بات ٹھیک ہے۔ لیکن یوں سمجھ لیجیے کہ یہ جو کثرت ہے، یوں سمجھ لیجیے یہ جو کائنات ہے، وہ عین ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کا، یہ نہیں۔ یعنی یوں سمجھ لیں یہ کثرت جو ہے وحدت میں تبدیل نہیں ہوتی۔ البتہ چیزوں کی کثرت اس لحاظ سے وحدت میں تبدیل ہو سکتی ہے کہ سب اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں۔ سب اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں۔

اور میرے خیال میں آج کل کی سائنس کا جو بڑا المیہ ہے وہ یہی ہے، سب سے بڑا المیہ، جو atheist ہیں، جو خدا کے منکر ہیں۔ ان کا المیہ یہی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان تمام منتشر چیزوں کو ایک کیسے پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اصل میں ان کا مسئلہ ہے۔ وہ اس چیز میں پھنس جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اگر اس چیز کو مان بھی لیں کہ ہر چیز کا اپنا ایک فاعل موجود ہے، لیکن وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ سب کا فاعل ایک ہے۔ تو سائنس تو اسی میں پھنسی ہوئی ہے۔ لیکن یہ جو وحدت الوجود والے ہیں، وہ اس چیز میں پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ پوری کائنات جو ہے، یہ گویا کہ عین ہے اللہ جل شانہ کی ذات کا، اصل میں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔

حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت آسان تعریف اس کی کر لی اور سمجھایا کہ اللہ جل شانہ ہی کی ذات اصل میں موجود ہے، اصل وہی ہے۔ باقی عدم ہے۔ اور اللہ جل شانہ کی ذات کی تجلیِ وجودی جو تنزل ہے اللہ جل شانہ کی ذات، وہ جب پڑی ہے عدم پر، تو عدم سے، مطلب یہ بطور ترقی موجودات ظہور میں آئے۔ اب وہ جتنے موجودات ظہور میں آئے ہیں وہ بطور تخلیق ہے یا بطور امرِ کُن ہے، وہ سب کے سب اللہ پاک کی مخلوق ہیں، اللہ پاک نے پیدا کیے ہیں۔ تو ان سب کو ایک وحدت بے شک مان لو، کہ سب کو اللہ پاک نے پیدا کیا ہے اس کو بے شک مان لو۔ لیکن اس کو اللہ پاک کا عین نہیں کہہ سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عدم ہے، وہ وجود ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ لیکن اس کو اللہ پاک کا عین نہیں کہہ سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عدم ہے، وہ وجود ہے۔ تو عدم کبھی وجود کا عین ہو سکتا ہے؟

لیکن حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کو اسی میں راستہ دیا ہے تاویل میں۔ یہ اسی میں راستہ دیا کہ صفر جمع ایک مساوی ایک۔ تو انہوں نے جو عدم کو، مطلب جس کو کہتے ہیں نا وہ جو عین کہا، تو اس کے بدلے اس کا اپنا وجود تو ہے ہی نہیں۔ اس کا اپنا وجود تو ہے نہیں تو وہ موجود ہے اس کے موجود کرنے سے، تو انہوں نے فرمایا ان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے۔ تو حضرت نے ان کو راستہ یہ دیا ہے۔ آگے بات آ رہی ہے، بہت اہم باتیں آ رہی ہیں ماشاءاللہ آگے۔

اور آیت کریمہ: ﴿إِنَّـآ أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ (الکوثر: 1) ترجمہ: ”(اے پیغمبر) بے شک ہم نے آپ کو کوثر (یعنی خیر کثیر) عطا فرمائی“۔ سے اس مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس آیت کریمہ کا ترجمہ اس عبارت سے کرتے ہیں: "تحقیق کہ ہم نے آپ کو کثرت میں وحدت کا مشاہدہ عطا کیا ہے"۔

یہ تفسیر بالرائے ہے۔ ظاہر ہے اس کا کہیں پر نص میں تو موجود نہیں ہو گا۔ تو یہ تفسیر بالرائے ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کوثر کے "و" کے درمیان آنے سے جو حروف کثر کے درمیان ہے اس سے اس اشارہ کو سمجھا ہے۔

کوثر میں کاف کو واؤ مٹا دو تو کیا بنتا ہے؟ کثر۔

حَاشَا وَ کَلَّا (ہرگز ایسا نہیں ہے) کہ اس قسم کے معارف مقامِ نبوت کے شایاں ہوں۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوات و التحیات خدائے بے چون جل سلطانہٗ کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں اور جو چیز چون کے آئینے میں گنجائش رکھتی ہے وہ بے چونی سے بے نصیب ہے

ویسے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، اللہ تعالیٰ کی طرح تو کوئی ہے ہی نہیں۔ یعنی مخلوق کہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ملحق ہو سکتی ہے، ممکن نہیں۔

اور چونی و چَندی کے داغ سے داغ دار ہے۔ حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ ان کو انصاف دے۔ شاید یہ لوگ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو اپنے کمالات کی ترازو میں تولنا چاہتے ہیں

اس پر مجھے ایک بات یاد آئی۔ کہتے ہیں ایک لنگڑا، اس کو کسی نے بہت modern بیساکھی جس میں بڑی facilities چلنے کے لحاظ سے تھیں، آج کل ہیں نا ظاہر ہے مطلب یہ کہ دنیائے مصنوعات میں کافی ساری چیزیں آج کل آئی ہیں۔ تو بہت زبردست سی بیساکھی تھی جس سے کافی سارے کام لیے جا سکتے تھے۔ تو وہ لنگڑا جو ہے وہ ایک صحیح آدمی جس کے پیر صحیح سلامت، ان سے کہتے ہیں: "یہ بیساکھی بہت زبردست ہے۔ اور اس کا یہ فائدہ ہے اور اس کا یہ فائدہ ہے اس کا یہ فائدہ ہے، آپ بھی اس کو لے لیں۔" اس کو کہتے ہیں: "مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں۔ مجھے بیساکھی کی کیا ضرورت ہے؟" کہتے ہیں: "نہیں، اس کا یہ فائدہ ہے، یہ فائدہ ہے، یہ فائدہ ہے، یہ فائدہ ہے۔" کہتے ہیں: "وہ فائدہ آپ کے لیے ہے نا، ہمارے لیے اس کے کیا فائدے؟" تو یہاں پر یہ ہے کہ انبیاء کرام کو اپنے کمالات کے ترازو میں وہ گویا کہ تولنا چاہتے ہیں، حالانکہ انبیاء کو تو ان چیزوں کی ضرورت ہی نہیں۔ انبیاء تو براہ راست وحی کے مخاطب ہیں۔ تو کہاں ہم اور کہاں وہ!

حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پر ایک بڑی عجیب بات فرمائی ہے، گزشتہ اسباق میں گزری یہ بات، کہ انبیاء کرام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف متوجہ رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، اور چونکہ ان کو براہ راست وحی ہوتی ہے، لہٰذا ان کے لیے مخلوق کی طرف متوجہ ہونا عین شریعت ہے۔ ان کو مخلوق کی طرف متوجہ ہونا، کیوں؟ اللہ کے براہ راست حکم کے مطابق ہے نا۔ تو ان کے لیے تو وہ عین شریعت ہے۔ لہٰذا ان کو پھر دوبارہ پیچھے کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کا یہ اِس طرف دیکھنا ہی اُس طرف دیکھنا ہے۔ کیونکہ وہ ظاہر ہے مطلب مکلف ہیں اسی طرف۔ تو فرمایا جو باقی لوگ ہیں جو ہم غیر انبیاء ہیں، ان کی یہ بات ہے کہ اگر وہ مخلوق کی طرف ہی دیکھیں صرف، تو عین ممکن ہے مخلوق میں ان کا نفس بھی ہے۔ مخلوق میں نفس بھی ہے نا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مخلوق کی طرف متوجہ ہونے میں اپنے نفس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ لہٰذا ان کو اپنے نفس کے شر سے بچنے کے لیے پیچھے پیچھے دیکھنا ہوتا ہے۔ یعنی اپنے رخ کو سیدھا کرنے کے لیے کہ کہیں میں وہ مخلوق میں نفس کی طرف متوجہ نہ رہوں۔

اب میں ذرا تھوڑی سی بہت عجیب بات کرنے لگا ہوں، لیکن یہ مجبوری ہے میری۔ کیا کریں جب ایسی بات آ جائے تو پھر کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً تبلیغی جماعت والے حضرات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو بہت زیادہ درجات عطا فرمائے، ہمارے بزرگوں کی لائن پر ہیں۔ لیکن اگر یہ صرف مخلوق کی طرف متوجہ رہیں، اور رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ رہ سکیں، اور اپنی اصلاح سے غافل ہوں، تو یہ اپنے نفس کے پیچھے چل رہے ہوں گے پھر۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وجہ یہ ہے انبیاء، انبیاء ہیں، وہ کہتے ہیں نا ہمارا کام انبیاء کا ہے۔ وہ فرق صرف یہی ہے، جو بزرگوں کو معلوم ہے اور ان کو معلوم نہیں ہے۔ کیونکہ انبیاء تو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں نا، ان کی تشکیل ہے، ان کی حفاظت ہے۔ لیکن باقی انسانوں کی تو نہیں ہے، باقی انسانوں کو تو خود اس چیز کو حاصل کرنا پڑے گا۔ تو اگر ان کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ دل کا کسی وقت بھی منقطع ہوتا ہے، تو ان کی توجہ نفس کی طرف ہو جائے گی۔ بجائے اور لوگوں کے، اپنے نفس کی طرف ہو جائے گی۔

میں آپ کو سمجھاتا ہوں نفس کی طرف کیسے ہو جاتی ہے۔ دیکھیں مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ باوجود اس کے اتنے بزرگ مقام کے، جن کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں، ان کو اتنے اونچے مقام پر سمجھتے ہیں، شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ، جن کے ساتھ بہت زیادہ اختلاف کرتے ہیں، باوجود فرماتے ہیں کہ کشف کی نگاہ میں، میں اس کو جنت کے بہت اونچے مقامات میں دیکھ رہا ہوں۔ تو بے نفسی ہے نا، بے نفسی ہے نا۔ لیکن آج کل تبلیغ والے حضرات، جو علماء تبلیغ میں نہیں چلتے ان پہ بھی رحم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بے چاروں کے اوپر بات کھلی نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ بیچاروں کے اوپر بات کھلی نہیں۔ مشائخ کے بارے میں بھی ایسی باتیں کرتے ہیں: بے چاروں کے اوپر بات کھلی نہیں ہے۔

مجھے خود یاد ہے، مکہ مکرمہ میں، حاجی عبدالمنان صاحب کے ساتھ جا رہے تھے تو اس میں تبلیغی جماعت کے ایک بڑے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ تو راستے میں بات چیت ہوتی رہی۔ تو وہ ساتھی کہنے لگے جماعت کے ساتھی، کہتے ہیں: "میں صیانۃ المسلمین کے جلسے میں شامل رہا ہوں۔" صیانۃ المسلمین کے جلسے کیا ہوتے ہیں؟ وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء اس میں مدعو ہوتے ہیں اور وہ بیان فرماتے ہیں۔ خلفاء، عام لوگ نہیں۔ اور وہ بھی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے، یا ان کے خلفاء کے خلفاء۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے بیانات بھی سنے، لیکن وہ تبلیغ والوں کا جو سادہ سا بیان ہے نا اس کے مقابلے میں ان کے بیان کچھ بھی نہیں۔ یہ بات انہوں نے جب کی نا تو مجھے وہ عبدالمنان صاحب کہنے لگے: سنو، یہ المیہ ہے۔ یہ المیہ ہے اسی وجہ سے جو ابھی میں نے بتایا۔ جب تک قلب، نفس اور عقل کی اصلاح نہیں ہو چکی ہو، تو دل میں دنیا کی محبت ہو گی، نفس امارہ ہو گا اور عقل بے وقوف ہو گی، یعنی عقل کام نہیں کرے گی صحیح۔ جب ایسا ہو گا تو بے شک آپ کتنے ہی اونچے کام کیوں نہ کر رہے ہوں، اس کے اندر ان چیزوں کی شرارت موجود ہو گی۔ نفس کی بھی شرارت موجود ہو گی، عقل کا نقصان بھی موجود ہو گا، اور دل کا بھی قصور موجود ہو گا۔

اب جو مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ والے حضرات تھے، بلکہ وہ تو حضرات تو بہت پہلے کی بات ہے جس وقت ہم جماعت میں چلتے تھے، بہت عاجزی ہوتی تھی، بہت عاجزی۔ ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ اور یہ مجھے یاد ہے اپنے بڑوں نے ہمیں بتایا۔ مجھے خود جماعت کے امیر جو تھے وہ یعنی 1971 کی بات ہے، شکرگڑھ کی طرف ہماری تشکیل ہوئی تھی۔ تو وہاں ایک بہت بڑے عالم تھے، ان کی خدمت میں ہمیں جانا تھا۔ یعنی وہ جاتے ہیں نا وہ دعا لینے کے لیے ایک طریقہ کار ہے۔ تو حضرت نے مجھے ساتھ لے لیا اور راستے میں مجھ سے پوچھتے ہیں: "شبیر! جن کے پاس ہم جا رہے ہیں یہ عالم ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان کو دعوت دیں۔ علماء کو دعوت دینا ہمارا کام نہیں ہے۔ علماء کو دعوت دینا ہمارا کام نہیں ہے۔" اب دیکھیں حضرت کے الفاظ سنیں: "کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری چکنی چپڑی باتوں سے وہ متاثر ہو کر اپنے اہم کام کو چھوڑ کر ہمارے کام کی طرف آ جائیں اور وہ اہم کام رہ جائے، اس کا ذمہ دار پھر کون ہو گا؟" یہ خود میں اپنی بات بتاؤں، درمیان میں کوئی راوی نہیں ہے۔ میں نے کہا: "حضرت! میرا بھی یہی مسلک ہے۔" فرمایا: "پھر کوئی بات نہیں، پھر ٹھیک ہے۔" اچھا جب ہم پہنچے، حضرت کو اطلاع پہلے سے ہو گئی تھی۔ الحمدللہ، بہت بڑے بزرگ تھے، عالم بھی تھے۔ فرمایا: "مجھے آپ کی اطلاع ہو چکی تھی۔ ان شاءاللہ جمعہ کے بیان میں، میں آپ لوگوں کا تعارف کر دوں گا۔" اور بہت دعائیں دیں۔ پھر جب تک ہم ادھر تھے حضرت ہمارے ساتھ ساتھ رہے، یعنی کسی نہ کسی درجے میں ہمارے ساتھ ساتھ رہے۔ یہی بات ہوتی ہے۔ اگر مشائخ کی عظمت دل میں ہو، علماء کا اکرام دل میں ہو تو علماء کے دل اور مشائخ کے دل اس کی طرف آ جائیں گے خود بخود۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو اِدھر ہم پہنچیں گے اُدھر ان کے دل الٹے ہو جائیں گے۔ بجائے فائدے کے توڑ پیدا ہو گا۔ ہمارے دلوں کا جو میل ہے وہ راستے کو خراب کر دے گا۔

یہ والی بات ہے۔ اس کی مثال بزرگوں نے دی ہے، بزرگوں نے۔ بزرگوں کو سمجھانے کا طریقہ آتا ہے۔ یہ دی ہے کہ پرنالہ میں صاف بارش کا پانی آتا ہے۔ اوپر سے چونکہ بارش کا پانی تو بے انتہا پاک ہوتا ہے، کوئی impurity اس میں نہیں ہوتی، بالکل صاف صاف پانی ہوتا ہے۔ لیکن اگر پرنالے کے اندر کوئی گند پڑا ہو، وہ پانی جب نیچے کی طرف پرنالے سے ہو کے گزرے گا وہ پانی ناپاک ہو گا۔ حالانکہ بارش کا پانی ہے۔ اس لیے اگر ہمارے اندر کھوٹ ہو گا تو ان بزرگوں کا فیض ہماری طرف متوجہ ہو گا تو ہمیں کسی اور صورت میں ملے گا۔ یہ والی بات ہے۔

حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کو اس بات کا اتنا احساس تھا۔ حضرت خود فرماتے ہیں جو مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ملفوظات جمع کیے ہیں ان کی بات میں کر رہا ہوں۔ حضرت نے خود ارشاد فرمایا کہ میں جس وقت میوات گشت کے لیے جاتا ہوں تو میں صلحاء کی جماعت کو ساتھ لے کے جاتا ہوں۔ اس پہلی بات پہ غور کر لیں کہ اس میں کیا بات ہے۔ یعنی اپنی حفاظت اتنی زیادہ مقصود اور فکر تھی اس کی کہ صلحاء کی جماعت کو اپنے ساتھ لینا چاہتے ہیں تاکہ مجھے کوئی نقصان نہ ہو۔ دوسری بات: فرمایا پھر بھی لوگوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے میرے دل پہ اثر آ جاتا ہے۔ اس اثر کو دور کرنے کے لیے یا میں رائے پور شریف جاتا ہوں یا سہارنپور شریف جاتا ہوں یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔ اب بتائیں یہ کیا چیز ہے؟ سہارنپور شریف میں کیا تھا؟ خانقاہ تھی۔ رائے پور شریف میں؟ خانقاہ تھی۔ اور مسجد میں اعتکاف۔

ایک جماعت کے ساتھی نے مجھ سے رمضان میں پوچھا، ہمارے ساتھی ہیں، "اعتکاف بھی آ رہا ہے اور تقاضا ہے کہ میں جماعت میں چلا جاؤں۔ تو کیا کروں؟ آپ کا کیا مشورہ ہے؟" میں نے کہا: "تبلیغ کہاں سے شروع ہوئی ہے؟" کہتے ہیں: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔" میں نے کہا: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں میں جو کیا ہے وہی کر لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں میں جو کیا ہے وہی کر لو۔" کہتا ہے: "ہاں، یہ بات تو ٹھیک ہے، سمجھ میں آ گئی بات۔" پھر اعتکاف کیا اس نے۔

مطلب میرا یہ ہے کہ باتیں دور چلی جا رہی ہیں۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے۔ یہ والی بات نہیں ہے، تین چیزوں کی اصلاح۔ قلب، نفس اور عقل کی اصلاح کا مسئلہ گم ہو گیا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ بعض ساتھی برملا کہتے ہیں کہ ہم فلاں بزرگ کے پاس اس لیے نہیں جاتے یا فلاں بزرگ کی کتابیں اس لیے نہیں پڑھتے کہ پھر اپنی اصلاح کی فکر ہو جاتی ہے۔ الفاظ بالکل یہی الفاظ: "اپنی اصلاح کی فکر ہو جاتی ہے۔" یعنی اپنی اصلاح کے دشمن ہو گئے ہیں۔ خدا کے بندو! کہاں جا رہے ہو؟ یہ کون سی تبلیغ ہے جس میں آپ اپنی اصلاح سے اتنی زیادہ روگردان ہو گئے ہیں کہ اپنی اصلاح کی فکر کو بھی غلط سمجھنے لگے ہیں!

یہی اصل میں بات ہے جس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ اور یہ اصلاح ہم جیسے لوگ ہی کریں گے، جو جماعت کے ساتھ متعلق لوگ ہیں۔ باقی لوگ باہر سے آ کر نہیں کریں گے۔ باہر والوں کو کیا پتا؟ ان کو کیا پتا کہ جماعت کی عظمت کیا ہے، جماعت کا مقام کیا ہے؟ ان کو تو اس چیز کا پتا نہیں ہے۔ وہ تو مخالفت ہی کریں گے۔ لیکن یہ جو درد ہے وہ صرف ان لوگوں کو ہو گا جن کو جماعت کے ساتھ محبت ہے۔ ہماری جو بزرگوں کی جماعت ہے وہ خدانخواستہ اگر یہ غلط لائن پہ چل گئی ہے پھر اس کا کون کیا کرے گا؟ اور یہ بات بالکل ذہن میں نہیں آنی چاہیے کہ جماعت غلط طرف نہیں جا سکتی۔

عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے کس طرف چلے گئے؟ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت کرنے والے کدھر چلے گئے؟ مہدی سوڈانی کے لوگ کدھر چلے گئے؟ سارے اس طرح ہوتے ہیں، مطلب ابتدا بڑی اچھی ہوتی ہے۔ اور اگر خیال نہ رکھا جائے تو بہت دور جا سکتے ہیں۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ اہم ہیں۔ اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سوچنے کی توفیق عطا فرما دے۔

بہرحال یہ جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے جو بات ارشاد فرمائی کہ انبیاء کرام چونکہ ان کی تشکیل ہو چکی ہوتی ہے، وہ براہ راست وحی کے مخاطب ہوتے ہیں اور ان کی یہ جو وحی ہے، وحی ان کے لیے وہ شریعت ہے۔ لہٰذا اس کے اوپر ان کا چلنا، باقی کاموں کے، وہ تو وہی ہے۔ ان کے لیے جیسے نماز ہے اس طرح تبلیغ بھی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے براہ راست ان کو حکم ہے۔ ہم لوگ اپنے آپ کو بچائیں گے پہلے۔

مجھے آپ بتائیں، جہاز میں جب آپ بیٹھتے ہیں، کچھ ہدایات وہ بتاتے ہیں۔ ان ہدایات میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر خراب حالت پیدا ہو جائے، مطلب آکسیجن کم ہو جائے جہاز کی فضا میں، تو آپ کے سامنے ماسک خود گر جائے گا۔ آکسیجن کا ماسک۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی infant یا چھوٹے بچے ہیں، یہ جو حضرات جانتے ہیں وہ ان کو یاد آیا ہو گا۔ اگر کسی کے پاس infants یا چھوٹے بچے ہیں، پہلے اپنے آپ کو ماسک لگائیں پھر اس کے بعد بچے کو لگائیں۔ مجھے بتاؤ یہ کیا چیز ہے اس میں؟ پہلے اپنے آپ کو لگاؤ، پھر اس کے بعد اس کو لگاؤ۔ حالانکہ بچے کا حق زیادہ ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ خدانخواستہ آپ نے بچے کو لگایا، اسی دوران آپ خود بےہوش ہو گئے۔ تو بچہ بھی گیا آپ بھی گئے۔ تو اگر آپ اپنے آپ کو لگا رہے ہیں تو چانس تو ہے نا، fifty percent چانس تو ہے کہ بچ جائیں گے۔ آپ بھی، بچہ بھی بچ جائے گا۔ کیونکہ بچے کے لیے آپ care کر رہے ہیں، بچہ خود اپنی care تو نہیں کر سکتا۔ تو یہ ہر چیز کے اندر حکمت ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی حضرت نے یہ بات فرمائی۔

شاید یہ لوگ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو اپنے کمالات کی ترازو میں تولنا چاہتے ہیں اور ان کے کمالات کو اپنے کمالات کی مانند جانتے ہیں۔ ﴿كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ﴾ (الکہف: 5) ترجمہ: ”کتنی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلی ہے“۔

کتنی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلی ہے۔

چوں آں کرمے کہ در سنگے نہاں است
زمین و آسمان او ہماں است

وہ کیڑا جو کہ پتھر میں نہاں ہے
زمین و آسماں اس کا وہاں ہے

وہ کیڑا جو کہ پتھر میں نہاں ہے، زمین و آسماں اس کا وہاں ہے۔ یعنی کیڑے کا سارا کچھ ہی وہی ہو گا نا اس کو تو۔ جو بچہ ابھی ماں کے پیٹ سے باہر نہیں آیا، تو اس کی پوری دنیا ماں کا پیٹ ہے۔ اس کو تو کچھ پتا نہیں اور کہ دنیا میں اور بھی کچھ ہے۔ وہ تو کچھ اور چیز نہیں سمجھ سکتا۔

(حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی) امت کا یہ کمینہ (اپنے آپ کو فرما رہے ہیں یعنی حضرت، خود مجدد رحمۃ اللہ علیہ) اس قسم کی معرفت سے جو شروع میں اس کو حاصل ہوئی تھی ندامت و استغفار کرتا ہے اور ایسا شہود جو نصاریٰ (عیسائیوں) کے حلول کے (عقیدہ کی) مانند ہے، اس پاک بارگاہ سے اس کی نفی کرتا ہے۔

اصل بات یہی والی بات ہے۔ وہ شہود جس میں آپ اللہ پاک کا گویا کہ چیزوں کی صورت میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ اللہ کی طرف آپ دیکھ رہے ہیں لیکن وہ یوں سمجھ لیں کہ وہ چیزیں بھی اس کے ساتھ ہیں۔ تو فرمایا یہ تو حلول کا عقیدہ ہے۔ تو یہ میں تو ایسی چیز سے پناہ مانگتا ہوں۔

حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ ”جو کچھ دیکھا گیا، سنا گیا اور سمجھا گیا وہ سب اس کا غیر ہے۔ کلمہ "لا" کی حقیقت سے اس کی نفی کرنی چاہیے

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ سنا گیا وہ ہمارے کانوں نے سنا، ہمارے دماغ نے اس سے نتیجہ نکالا۔ جو کہا گیا وہ کسی انسان نے کہا ہے۔ اور جو سوچا گیا وہ بھی کسی انسان نے سوچا ہے۔ چونکہ انسان کی سوچ کی رسائی وراء الوراء ذات تک نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا جو کہا گیا کہ یہ اللہ ہے، تو وہ اللہ نہیں ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کیونکہ اللہ کے لیے کوئی مثال نہیں ہے۔ اور مثال کے بغیر بات نہیں ہو سکتی۔ تو اللہ کے لیے اب آپ کیا بات کریں گے آپ، کہ اللہ ایسا ہے۔ کسی کے ذہن میں اللہ جل شانہ کی ذات کے بارے میں کوئی صحیح بات نہیں آ سکتی۔ کیونکہ اللہ جل شانہ کی ذات ان تمام چیزوں سے وراء الوراء ہے۔ اس تک آپ کا ذہن جا ہی نہیں سکتا۔ یہ فرمایا۔

لہذا کثرت میں وحدت کا مشاہدہ بھی نفی کے لائق ہے

یعنی آپ نے کثرت میں وحدت، یعنی اللہ پاک کا جو وہ کیا ہے، وہ بھی نفی کے لائق ہے کیونکہ آپ نے اپنے ذہن کو بنیاد بنا لیا۔ اپنی سوچ کو بنیاد بنایا۔

اور جو کچھ نفی کے لائق ہے وہ بھی اس جنابِ قدس سے منتفی اور دور ہے۔ حضرت خواجہ قدس سرہٗ کے اس کلام نے مجھ کو اس شہود سے نکالا اور مشاہدہ و معائنہ کی گرفتاریوں سے نجات بخشی

مطلب یہ ہے کہ دیکھو ایک تو ہوتا ہے نا تشبیہ، اور ایک ہوتا ہے تنزیہ۔ تشبیہ میں آپ تجلیات کو لے رہے ہوتے ہیں۔ مطلب جو تنزلات ہوتے ہیں، اس کو آپ لے رہے ہوتے ہیں۔ تنزیہ میں آپ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے۔ اس کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ تو اس وجہ سے جو تشبیہات ہیں، تشبیہ، وہ ایک انسان جب سفر شروع کرتا ہے تو وہ تو تشبیہات میں ہو گا۔ اس کو تو آپ کسی مثال سے سمجھائیں گے، یہ ہے، وہ اس طرح، یہ اس طرح۔ یہ جتنی بھی مثالیں ہیں، یہ دم توڑتی جائیں گی۔ جتنے حجابات دور ہوں گی تو یہ دم توڑتی جائیں گی، توڑتی جائیں گی، توڑتی جائیں گی۔ حتی کہ یہ ساری کی ساری ختم ہو جائیں گی۔ تو یہ سیر تشبیہ الی تنزیہ، یہ ہوتا ہے۔ تو ہوتا ہے سے مراد یہ ہے کہ مجبوری ہے۔ ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ آخری کیا ہو گا؟ آخری نتیجہ اس کا تنزیہ ہونا چاہیے۔ اور وہ تنزیہ کیا ہے؟ کہ اللہ کی طرح کوئی نہیں ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ"۔ یعنی جو آخری بات ہے، وہ وہی ہے جو قرآن پاک میں اللہ پاک کے لیے فرمایا گیا ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ"۔

حضرت خواجہ قدس سرہٗ کے اس کلام نے مجھ کو اس شہود سے نکالا اور مشاہدہ و معائنہ کی گرفتاریوں سے نجات بخشی اور میرے اسباب (ہستی) کو علم سے جہل کی طرف۔۔۔

یعنی جو میں جانتا تھا وہ میں نے مان لیا کہ وہ جہل ہے۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ فرمایا ہے کہ برسوں کے پڑھنے پڑھانے کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ یہ کہ پہلے ہم جہل مرکب میں تھے، اب جہل بسیط میں آ گئے۔ پہلے ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم جاہل ہیں، اب کم از کم اس بات کو جان رہے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔ یعنی پہلے ہم جس چیز کو علم سمجھتے تھے، وہ تو جہل تھا۔ یعنی اس کا علم سمجھنا جہل تھا۔ اب اتنا علم حاصل ہو گیا کہ اس کو ہم جہل سمجھ رہے ہیں، ترقی ہو گئی۔

تو یہاں بھی حضرت نے فرمایا کہ:

مجھے علم سے جہل کی طرف نکالا اور معرفت سے حیرت کی طرف لے گیا۔

دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، ذرا سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں، ویسے تو ٹھیک تو اس طرح نہیں ہو گا لیکن بہرحال صرف سمجھانے... وہی تشبیہ والی بات ہے نا تشبیہ، ابتدا میں تشبیہ ہوتی ہے پھر اس کے بعد وہ جاتا ہے تنزیہ کی طرف۔ انتہائی تیز روشنی آپ کے سامنے آ جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ کیا ہو جاتا ہے؟ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اور آپ کو کچھ نظر نہیں آتا۔ آپ کو کچھ نظر نہیں آتا۔ بعینہ یہی صورت ہے کہ جب چیزیں ایسی آ جائیں جو آپ کے دماغ کی range سے out ہوں۔ آپ کا دماغ اس پہ جم نہ سکے۔ اگر ایک بات اس طرح ہے تو دوسرا یہ ہے تو تیسرا یہ ہے تو چوتھا یہ ہے تو پھر کیا ہو گا؟ اس کو کیا کہیں گے؟ اسی کو حیرت کہتے ہیں۔ سمجھ میں آئی نا بات؟ اس کو حیرت کہتے ہیں۔

یعنی علم اتنا بڑھ جائے کہ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا دماغ اس کو سنبھال نہ سکے۔ اور اس کو سہار نہ سکے۔ تو نتیجہ کیا ہو گا، حیرت ہو گی۔ آپ کے اوپر انکشافات اگر ایسے ہونے لگیں کہ آپ کا ذہن اس کو سنبھال نہ سکے تو پھر کیا ہو گا؟ پھر ظاہر ہے حیرت ہو گی۔ تو فرمایا کہ یہ جو، علم سے جہل کی طرف آنا یہ بھی ترقی ہے۔ کیوں ترقی ہے؟ کہ ہم مخلوقات ہیں۔ مخلوق کا اصل کیا ہے؟ عدم ہے نا۔ تو ہم اپنی حقیقت کی طرف جا رہے ہیں نا۔ اگر ہم اپنے آپ کو جہل کی طرف نسبت کر رہے ہیں تو حقیقت کی طرف جا رہے ہیں نا۔ بات تو صحیح ہے۔ پہلے ہم جانتے نہیں تھے کہ ہم نہیں جانتے، اب تھوڑا تھوڑا جاننے لگے ہیں کہ نہیں ہم نہیں جانتے۔ تو اسی طریقے سے جو ہمارے یعنی معرفت یعنی ہم چیزوں کو پہچانتے تھے، لیکن وہ پہچاننا ایسا ہو گیا کہ اب تو بالکل سارا کچھ ختم ہو گیا اور حیرت میں تبدیل ہو گیا۔ کہ تعین ہی نہیں ہو سکتا کہ کون سی چیز ہے۔ دائرہ لا تعین۔ نقشبندی سلسلے کا کیا ہے؟ دائرہ لا تعین۔ ٹھیک ہے؟

میں صرف اسی ایک بات سے حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کا مرید اور ان کا حلقہ بگوش مطیع ہوں، اور سچ بات تو یہ ہے کہ اولیاء میں سے شاید ہی کسی نے اس کلام کی مانند بات کی ہو اور تمام مشاہدات و معائنات کی اس طریقے سے نفی کی ہو۔ اس مقام میں ان کے اس کلام کی حقیقت کو ڈھونڈنا چاہیے جو کہ آپ نے فرمایا ہے: ’’معرفتِ خدا بر بہاء الدین حرام اگر ابتدائے و انتہائے با یزید نباشد‘‘۔ (یعنی بہاء الدین پر خدا کی معرفت حرام ہو اگر اس کی ابتدا بایزید کی انتہا نہ ہو)۔

کیونکہ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ اس بزرگی کے با وجود شہود و مشاہدے سے آگے نہیں بڑھے اور "سُبْحَانِیْ مَا أَعظَمَ شَانِیْ" (میں پاک ہوں اور میری شان بڑی ہے) کے تنگ کوچہ سے قدم باہر نہیں نکالا بخلاف ہمارے حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے کہ انہوں نے ایک ہی کلمہ "لا" سے ان کے تمام مشاہدات کی نفی فرما دی ہے اور سب کو غیر حق جل سلطانہٗ قرار دے دیا۔ ان (بایزید رحمۃ اللہ علیہ) کا تنزیہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تشبیہ ہے اور ان کا بے چون (ان کے نزدیک) چون ہے اور ان کا کمال (ان کے نزدیک) نقص ہے۔ لہذا لازمی طور پر ان (بایزید رحمۃ اللہ علیہ) کی انتہا تشبیہ سے آگے نہیں گزری ہے جو ہمارے خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدا ہو گئی کیونکہ ابتدا تشبیہ سے ہے اور انتہا تنزیہ کے ساتھ۔ شاید کہ آخری حال میں حضرت با یزید رحمۃ اللہ علیہ کو اس نقص کی اطلاع بخش دی گئی ہو، کیونکہ موت کے وقت وہ کہتے تھے کہ "مَا ذَکَرتُکَ اِلَّا عَنْ غَفْلَۃٍ وَّ مَا خَدَمْتُکَ إِلَّا عَنْ فَتْرَۃٍ" (میں نے تجھ کو یاد نہیں کیا مگر غفلت سے اور میں نے تیری خدمت (عبادت) نہیں کی مگر سستی سے)۔

انہوں نے اپنے پہلے حضور (مشاہدے) کو غفلت سمجھا کیونکہ وہ حضور اللہ تعالیٰ کا حضور نہ تھا بلکہ ظلال میں سے ایک ظل کا حضور اور اس کے ظہورات میں سے ایک ظہور تھا، لہذا لازمی طور پر وہ حضرت جل سلطانہٗ سے غافل ہوئے۔ چونکہ وہ بلند و بزرگ ذات وراء الوریٰ ہے،

اچھا اس میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ، یہ اصل میں یہاں پر کہتے ہیں چھوٹا منہ بڑی بات والی بات۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بہت اونچا ہے۔ کیونکہ ان کو سید الطائفہ کہتے ہیں۔ سید الطائفہ۔ سید الطائفہ سے مراد یعنی پورے ایک اولیاء کے group کے سردار۔ ایک خاص group کے سردار ہیں۔ ایک سید الطائفہ ہیں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ ان کا ایک الگ ذوق تھا اور بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک الگ ذوق تھا۔ تو وہ اپنے طور پر سید الطائفہ ہیں۔ لہٰذا ان کا جو مقام ہے، وہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے بارے میں ہمیں ادراک ہونا چاہیے۔

اصل بات یہ ہے کہ جن کا عروج زیادہ ہوتا ہے، ان کا نزول بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے پھر۔ تو یہ جو حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ باتیں ہیں اس وقت عروج کی کیفیت کی ہیں۔ تو ان کا نزول بھی پھر اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ نزول بھی پھر زیادہ ہو گا، تو نزول کی کیفیت کی بات وہی ہے جو حضرت ابھی فرما رہے ہیں آخری وقت میں۔ کہ انہوں نے پھر فرما دیا کہ میں نے تو۔ اور یہ بالکل وہی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہیں فرمایا کہ میں نے تیری ثنا کا حق ادا نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، یہی فرماتے ہیں نا؟ کچھ اس قسم کے الفاظ ہیں کہ میں نے تیری ثنا کا حق ادا نہیں کیا۔ تو حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی کہتے ہیں "مَا ذَكَرْتُكَ اِلَّا عَنْ غَفْلَةٍ وَمَا خَدَمْتُكَ اِلَّا عَنْ فَتْرَةٍ"۔

انہوں نے اپنے پہلے حضور (مشاہدے) کو غفلت سمجھا کیونکہ وہ حضور اللہ تعالیٰ کا حضور نہ تھا بلکہ ظلال میں سے ایک ظل کا حضور اور اس کے ظہورات میں سے ایک ظہور تھا، لہذا لازمی طور پر وہ حضرت جل سلطانہٗ سے غافل ہوئے۔

مطلب یہ ہے کہ حجابات دور ہوتے ہیں، وہ دور ہوتے ہیں، دور ہوتے ہیں۔ تو حجابات سے پھر ہر جو، یہ میں نے خود حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات میں پڑھا ہے۔ فرمایا کہ جو بزرگ ہوتے ہیں جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ جب اگلے قدم میں جاتے ہیں تو ان کو یہ گزشتہ والے گمراہی نظر آتی ہے۔ تو اس سے استغفار کرتے ہیں۔ مطلب جو گزشتہ مقام ان کا ہوتا ہے نا وہ ان کو چونکہ ترقی کر رہے ہوتے ہیں ترقی کی وجہ سے وہ پھر استغفار کرتے ہیں۔ اس پر استغفار کرتے ہیں۔

چونکہ وہ بلند و بزرگ ذات وراء الوریٰ ہے، تمام ظلال اور ظہورات اس کے مبادی و مقدمات ہیں، اور اس کے معارج (زینے) اور مُعِدّات (اسباب و ذرائع) ہیں، اور جو کچھ کہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے "ما نہایت را در بدایت درج می کنیم" (ہم نہایت (انتہا) کو بدایت (ابتدا) میں درج کرتے ہیں) عین واقعہ کے مطابق ہے۔ اس طریقۂ عالیہ کے ہدایت یافتہ مبتدی کو یہ دولت اپنے شیخ مقتدا سے جو اس کمال کے ساتھ مشرف ہوتا ہے، انعکاسی طور پر حاصل ہو جاتی ہے خواہ وہ اس کو جانیں یا نہ جانیں۔ لہذا لازمی طور پر کاملوں کی نہایت ان بزرگواروں کی بدایت میں درج ہو گی۔

اب اگر ہم وہی مکتوب نمبر 287 کی یہ بات لے لیں۔ تو مکتوب نمبر 287 میں حضرت نے جو ارشاد فرمایا تھا۔ وہ یہی ارشاد فرمایا تھا نا کہ ہم نے نہایت کو اس لیے بدایت میں درج کر لیا کہ حضرت نے فرمایا جیسے کہ ممکن ہے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو شوق دلانے کے لیے یہ کروا رہے ہوں حالانکہ جو جذبِ کسبی ہے وہ اور جذبِ وہبی میں بہت زیادہ فرق ہے۔ حضرت نے خود فرمایا نا۔ تو جو جذبِ کسبی ہے وہ تو اس کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بلکہ جذبِ کسبی کے تو مامور انسان نہیں ہے صرف یہ ضرورت ہے۔ جس وقت جذبِ کسبی حاصل ہو گیا اس کے بعد تو پھر سلوک طے کرنا ہے۔ اور سلوک طے کرنے کے بعد پھر جذبِ وہبی عطا ہوتا ہے۔ جذبِ وہبی عطا ہوتا ہے۔ تو وہ جذبِ وہبی کی طرح تو جذبِ کسبی نہیں ہو سکتا۔ تو وہ جو نہایت کو ابتدا میں درج کیا تو اس میں صرف فرمایا کہ صورتاً اس کی طرح ہے۔ حضرت نے خود فرمایا۔ صورتاً نہایت ہے حالانکہ حقیقتاً نہایت نہیں ہے۔ حقیقتاً نہایت تو بعد میں آئے گا۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر احدیت کی توجہ ان میں غلبہ پیدا کرے اور ظاہر کو بھی باطن کے رنگ میں رنگ دے تو سالک سفلی مشاہدات سے جو ممکنات کے آئینوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں آزاد ہو جاتا ہے

یعنی احدیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کا جو وحدانیت ہے۔ اگر اس کی توجہ کی وجہ سے ظاہر کے ساتھ باطن بھی رنگا جائے۔ یعنی باطن پر بھی اس کا اثر چلا جائے۔ کیونکہ ظاہر پر اثر تو جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اگر باطن بھی رنگا جائے۔ تو پھر کیا ہو گا سالک جو ہے

سفلی مشاہدات

نیچے والے جو ہوتے ہیں سفلی۔

جو ممکنات کے آئینوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

ممکنات سے مراد یہ ہیں جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ یعنی ممکن امکان ہے، کائنات جیسے ہے نا۔ تو وہ امکان سے ہے۔ امکان سے مراد یہ ہے کہ تخلیق، امر کن سے جو چیزیں وجود میں آ گئیں۔ تو ممکنات کے ائینوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ ممکنات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ممکنات کی صورت میں انسان کو جو مشاہدات ہو رہے ہوتے ہیں۔ "اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ"۔ یہ وہی ہے نا ممکنات ہیں نا۔ تو ممکنات کے آئینے میں مطلب ظہور ہے۔

آزاد ہو جاتا ہے اور معارفِ تشبیہی سے چھٹکارا پا جاتا ہے

یعنی معارف تشبیہی تشبیہ مطلب تشبیہات کی جو صورتیں ہیں وہ۔

اور اگر توجہ کا یہ غلبہ پیدا نہ ہو سکے اور صرف باطن پر ہی محدود رہے تو اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر کثرت میں وحدت کے مشاہدے کی لذت پاتا ہے اور توحید و اتحاد سے محظوظ ہوتا ہے۔ لیکن یہ شہود ان کے حق میں ظاہر پر ہی محدود رہتا ہے اور باطن میں کچھ بھی سرایت نہیں کرتا اور ان کا باطن احدیتِ صرف کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ان کا ظاہر کثرت میں وحدت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ظاہری نسبت کے غلبے کی وجہ سے باطنی توجہ معلوم نہ ہو اور شہود ظاہر کے علاوہ کوئی اور امر مفہوم نہ ہو۔ جیسا کہ ابتدا میں ان سطور کے لکھنے والے (حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ) کا حال تھا کہ ظاہری نسبت کے غلبے کی وجہ سے باطنی توجہ جو احدیتِ صرف کی طرف تھی آگاہی نہیں رکھتا تھا اور کلی طور پر اپنے آپ کو کثرت میں وحدتِ شہود کی طرف متوجہ پاتا تھا۔ ایک مدت کے بعد حضرت حق سبحانہٗ نے باطن کی توجہ پر اطلاع بخشی اور باطن کو ظاہر پر نصرت دی اور معاملہ یہاں تک پہنچا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سُبحَانَہٗ عَلٰی ذٰالِکَ۔ کیونکہ ابتدا ہی سے ان حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی توجّہ احدیتِ صرف کی طرف ہے اور اسم و صفت سے سوائے ذات تعالیٰ کے اور کچھ نہیں چاہتے۔

ذات کی طرف تھی۔ یعنی اسما و صفات جو ہے اس کی طرف توجہ نہیں تھی بلکہ ذات کی طرف توجہ تھی۔ تو چونکہ یہ جو ذات کی طرف توجہ ہوتی ہے انسان کو پھر اور چیز نظر ہی نہیں آتا۔ ذرا باریک قسم کی بات ہے لیکن اگر میں عرض کروں کہ اللہ جل شانہ کی صفات، بہت بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات۔ اب جو اللہ کی ذات میں مشغول ہو،ا اس کو اللہ کی صفات کی طرف بھی دھیان نہ رہے۔ تو ان کو باقی چیزوں کی طرف کیا دھیان ہو گا؟ یعنی جو اللہ کی ذات میں اتنا مشغول ہوا، یعنی میں آپ کو بتاؤں، یہ بڑی مشکل چیز ہے سمجھانا لیکن بہرحال عرض کرتا ہوں۔

دیکھو، اللہ پاک کریم ہے، اللہ پاک رزاق ہے۔ اب میں رزق کی تلاش میں ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کی صفت مجھ پر کھل جائے۔ کہ اللہ مجھے دے رہا ہے، رزق دے رہا ہے، یہ مجھ پر کھل جائے۔ اس کی وجہ سے میں اللہ پاک کی صفت رزاقیت میں فنا ہو جاؤں۔ اور اللہ تعالیٰ کے گن گانے لگوں، اللہ پاک رازق ہے، اللہ پاک رازق ہے، اللہ رازق ہے۔ لیکن اللہ پاک کی اور صفات بھی تو ہیں نا کہ اللہ پاک حکیم بھی ہے۔ اللہ جل شانہ حسیب بھی ہے۔ اس طرح اللہ جل شانہ صمد بھی ہے۔ اب یہ اور صفات ہیں۔ اب اگر اللہ پاک کی صفت صمدیت متوجہ ہو گئی۔ اور کچھ عرصے کے لیے رزق والا معاملہ گڑبڑا گیا۔ تو اب اگر یہ اللہ کی ذات کا عاشق نہیں ہے، تو پھر کیا ہو جائے گا؟ بس واپس چلا جائے گا۔ اوندھا ہو جائے گا۔ جہاں سے آیا تھا وہیں گیا چلا جائے گا واپس۔ ٹھیک ہے نا بات؟ لیکن اگر اس کی طبیعت میں ذرا عاشقانہ رنگ ہو مزاج عاشقانہ ہو۔ ہوتے ہیں بعض لوگوں کے مزاج عاشقانہ ہوتے ہیں۔ مزاج عاشقانہ ہو۔ ایسی صورت میں اللہ پاک کی صفت رزاقیت سے اللہ پاک کی ذات کی طرف متوجہ ہو گیا کہ اللہ پاک کی ذات، اس کی طرف۔ اور صفتِ رزاقیت بھول گیا۔ اب جس کے ساتھ محبت ہو جاتی ہے، اس کے لیے تو انسان کچھ بھی برداشت کر سکتا ہے۔ اب اگر اس کے رزق کو تنگ کر دیا گیا، مثال کے طور پر۔ وہ اسی سے مزہ اٹھائے گا، کہے گا یہ اللہ پاک کی طرف سے ہے۔ وہ واپس نہیں جائے گا۔ یہ کیا چیز ہے؟ یہ دو قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ دو قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک خاص چیز کے عاشق ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ کو میں ذرا تھوڑا سا نیچے آ کر ایک اور چیز بتاؤں۔ پیروں میں جو لوگ فرق کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں؟ ایک پیر ہوتا ہے کہ جو آپ کی دنیا کا خیال رکھتا ہے۔ اور ایک پیر آپ کے دین کا خیال رکھتا ہے۔ مثلاً جو دنیا کا خیال رکھتا ہے وہ آپ کی دنیا کے لیے دعائیں کرتا ہے۔ وہ آپ کے طریقے ان کو آتے ہیں اس کے ذریعے سے آپ کی مدد کرتا ہے کہ آپ کو جاب اچھی مل جائے آپ کا یہ فلاں کام ہو جائے آپ کے فلاں کام ہو جائے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ایسے پیر کے تو لوگ گن گاتے ہیں۔ یہ بڑا زبردست پیر ہے۔ لیکن جو پیر کسی کے دین کی طرف متوجہ ہو اور اس کے دین کو بچاتا ہے اور دین پر سرزنش کرتا ہے دین ہی کے بارے میں باز پرس کرتا ہے تو اس کے ساتھ کتنے لوگ ہوتے ہیں؟ بہت کم لوگ اس طرف جاتے ہیں۔ تو بس یہی ہے۔ دو قسم کے لوگ یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ دو قسم کے لوگ یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔

اب ذرا تھوڑا سا میں تھوڑا سا آگے آگے آہستہ آہستہ جاؤں گا۔ اللہ جل شانہ کی ذات کے پاس کسی چیز کی کمی تو نہیں ہے؟ کیا اللہ پاک آپ کو اس لیے کم دے گا کہ اس کے پاس خزانہ کم ہو گیا؟ یہ تو ہے نہیں۔ وہ تو صرف جانچ رہا ہے دیکھ رہا ہے کہ تو کس category میں ہے۔ اگر تو اس category میں ثابت ہو گیا کہ جو اس کا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایوب علیہ السلام کی طرح پھر بعد میں بڑے فتوحات کے دروازے کھول دے۔ پھر سب کچھ آپ کے اوپر کھول دے۔ لیکن اس سے پہلے پہلے اگر آپ واپس ہو گئے، turn ہو گئے۔ تو وہ تو گیا وہ point تو lose ہو گیا نا۔ وہاں پہنچ تو نہیں سکے آپ۔ تو اس طرح یہ جو اللہ والے خالصتاً اللہ کی طرف بلاتے ہیں، اور دین کی طرف ان کے متوجہ ہوتے ہیں، تو یہ ہرگز یہ بات نہیں ہے کہ ان کو دنیا ملے گی نہیں۔ ان کو دنیا انعام کے طور پر ملے گی۔ اگر ملے گی تو انعام کے طور پر ملے گی۔ طلب کے طور پہ نہیں ملے گی۔ پہلے والے کو طلب کے طور پہ ملتی ہے۔ طلب کے طور پہ ملتی ہے۔ اور دوسروں کو انعام کے طور پہ ملے گی۔ اب کہاں انعام اور کہاں طلب؟ یہ دونوں برابر تو نہیں ہو سکتے۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے پاس لوگ آتے تھے، بیٹھتے تھے، کیوں کہ حضرت بہت وسیع الظرف تھے۔ ہر قسم کے لوگوں کو accommodate کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے خلفاء میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بہت scrutiny والے تھے۔ وہ چھانٹنے والے تھے، وہ چھانٹا کرتے تھے۔ لیکن حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی بہت وسیع الظرف تھے، بہت زیادہ۔ سب کو accommodate کرتے تھے۔ لہٰذا حضرت کے پاس ہر قسم کے ذوق کے لوگ آتے تھے۔

اسی طرح شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ، وہ ہر قسم کے لوگوں کو accommodate کرتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ بہت کانٹ چھانٹ کے۔ ہوتے ہیں مزاج ہوتے ہیں۔ تو حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کچھ لوگ آئے تھے۔ تو حضرت سے کہا کہ حضرت اگر کوئی اللہ اللہ کا نام سیکھنے کے لیے آئے تو ان کو بتا دیا کریں۔ تو فرمایا کہ اچھا بتا دیا کرو۔ یہ ایک terminology تھی ان دنوں خلافت کا۔ کہ اگر کسی کو بتا دیا جاتا کہ اللہ اللہ کا نام بتا دیا کرو کوئی آئے نا، تو اس کا مطلب ہے خلیفہ ہو گیا اس کا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے آپ کو خلفاء سمجھ لیا۔ آگے جا کے حضرت نے اپنی لسٹ announce کر دی کہ میرے خلفاء کے نام یہ یہ ہیں۔ ان میں ان کے نام نہیں تھے۔ وہ آ گئے حضرت کے پاس۔ اور حضرت سے پوچھا کہ حضرت آپ نے تو ہمیں اجازت دے دی تھی۔ اور اس میں ہمارا نام تو نہیں ہے۔ فرمایا مانگے کی اجازت تھوڑی اجازت ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نہ؟ مانگے کی اجازت تھوڑی اجازت ہوتی ہے۔ بس یہی طلب والی بات ہے۔ تو جو طلب کرنے والے ہیں ان کی بات اور ہوتی ہے اور جن کو انعام کے طور پہ ملتی ہے اللہ کی طرف سے، وہ بات اور ہوتی ہے نا؟ لیکن ذرا حوصلہ کرنا پڑتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ۔

وہ معارفِ توحیدی اور مشاہدات سفلی جو اس بزرگ خاندان (نقشبندیہ) کے بعض خلفاء سے ظاہر ہوئے ہیں، وہ بھی اسی قسم سے ہیں نہ یہ کہ یہ حضرات ظاہر و باطن میں شہود کی طرف متوجہ اور اسی معرفت میں گرفتار رہے ہیں بخلاف دوسرے (بزرگوں) کے جو ظاہر و باطن میں اسی شہود کے گرفتار رہتے ہیں اور اس شہود کو جامع تنزیہ و تشبیہ جان کر اسی کو کمال سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس جماعت کا اگرچہ باطن بھی تنزیۂ صرف کے ساتھ ایمان رکھتا ہے لیکن ان کی گرفتاری دوسری چیز ہے اور ایمان کچھ اور، حال بھی اور ہے اور علم بھی کچھ اور، اور وہ جماعت جو تنزیۂ صرف کے ساتھ ایمان نہیں رکھتی اور مشاہدہ سفلی کے سوا دوسری کسی چیز پر اعتقاد نہیں رکھتی وہ ملحدوں (بے دینوں) میں سے ہے جو اس بحث سے خارج ہے۔

یعنی جو مشاہدات سفلی سے مراد یہ ہے کہ جو امکان یعنی جو چیزوں کے اندر جو مشاہدات ہوتے ہیں، وہ والی بات ہے۔ تو فرمایا کہ بعض نقشبندی حضرات سے بھی، خلفاء سے بھی اس قسم کی جو باتیں ظاہر ہوئی ہیں، وہ اسی قسم کے ہیں کہ۔۔۔

نہ کہ یہ حضرات ظاہر و باطن میں شہود کی طرف متوجہ اور اسی معرفت میں گرفتار رہے ہیں بخلاف دوسرے (بزرگوں) کے جو ظاہر و باطن میں اسی شہود کے گرفتار رہتے ہیں

مطلب یہ ہے کہ ان کا شہود جو ہوتا ہے نا شہود کہ میں گویا کہ مشاہدہ کر رہا ہوں۔ یہ بذات خود ایک عدم تکمیل ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ مجھے مشاہدہ اور اس سے جو ہے نہ وہ معاینہ سے بچا لیا گیا۔ تو یہ جو شہود سمجھتے ہیں کہ مجھے نظر آ رہا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ تو تکمیل نہیں ہے؟ تو جو لوگ اس کو کمال سمجھ بیٹھے ہیں تو یہ تو کمال کی حالت نہیں ہے۔ اور فرمایا کہ:

جو اس جماعت کا اگرچہ باطن بھی تنزیہہ صرف کے ساتھ ایمان رکھتا ہے لیکن گرفتاری دوسری چیز ہے اور ایمان کچھ اور۔

ایمان اور ہوتا ہے اور مشغولی اور ہوتی ہے۔ ایمان دیکھو نا میں آپ کو بتاؤں۔ اس وقت مجھے آپ بتائیں کون شخص ہے جو یہ نہیں جانتا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے علم کے لحاظ سے؟ کوئی ہے اس طرح؟ نہیں مسلمان تو کوئی بھی نہیں ہو گا۔ لیکن محسوس کتنے لوگ کر رہے ہیں؟ محسوس تو بہت تھوڑے لوگ کر رہے ہیں نا، کہ اتنا محسوس ہو جائے کہ آدمی کے اعمال کے اندر فرق محسوس ہو جائے۔ جیسے اللہ پاک کسی کو دیکھ رہا ہے نا۔ تو جیسے کیا واللہ پاک تو دیکھ ہی رہا ہے۔ "اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ"۔ جیسے تو اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اللہ تو بے شک تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ جو گرفتاری ہے وہ اور چیز ہے اور ایمان کی بات اور ہے۔ باقی یہ ہے کہ جو جماعت جو تنزیہ صرف کے ساتھ ایمان بھی نہیں رکھتی، وہ تو ملحد ہے۔ ایمان تو سبحان اللہ سارے مسلمان رکھتے ہیں، لیکن وہ جو... سبحان اللہ، یہ جو کیفیت جو محسوس کرتی ہے سمجھنے کی، وہ، وہ اور ہے۔ اب کیفیت میں کیا ہے؟ کیفیت کو مشاہدہ کے طور پر مان لے یا کیفیت کو حیرت کے طور پر مان لے یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ تو فرمایا کہ مجھے علم سے جہل کی طرف لایا گیا، اور معرفت سے حیرت کی طرف لایا گیا۔ تو جو اصل لوگ ہیں، وہ حیرت کی طرف جاتے ہیں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوریٰ ہے، لہٰذا اس کا تو کوئی ادراک کر ہی نہیں سکتا۔ اس کا تو کوئی ادراک کر ہی نہیں سکتا۔ تو جو کہتا ہے کہ میں نے ادراک کر لیا، تو وہ تو ظاہر ہے۔ فرمایا کہ جس چیز کو تم سمجھتے ہو کہ یہ اللہ ہے، تو کہہ دو کہ یہ اللہ نہیں ہے۔ کیونکہ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ۔ اللہ تعالیٰ کی طرح کوئی اور نہیں ہے۔

فقیر کے نزدیک ممکنات کے آئینوں میں حق جل و علا کا جو شہود جس کو صوفیہ کی ایک جماعت کمال جانتی ہے اور تشبیہ و تنزیہ کے درمیان جمع ہونا خیال کرتی ہے وہ در حقیقت حق جل و علا کا شہود نہیں ہے، ان آئینوں میں اس کا مشہود ان کے خيالی اور من گھڑت (تصور) کے سوا اور کچھ نہیں ہے

انہوں نے کچھ ذہن میں بنایا ہے، اپنے خیال میں کچھ بنایا ہے، اور اس کو سمجھتے ہیں کہ جیسے یہ اللہ ہے، حالانکہ وہ اللہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی طرح کوئی مثال نہیں ہے۔

کیونکہ جو کچھ وہ ممکن میں دیکھتے ہیں، واجب تعالیٰ و تقدس نہیں ہے۔

مقصد میرا یہ ہے۔ یہ ذرا بہت باریک بحث ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ تو کر سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ہو۔ مختصر بات۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ کر سکتے ہو، اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ہو۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا تھا۔ فرمایا تھا کہ اللہ کی ذات میں غور نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی صفات میں غور کرو۔ اور قرآن میں بھی اللہ پاک کی ذات کی طرف تو نہیں، اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ، تو یہ خلق تو صفت ہے نا؟ خلق تو صفت ہے۔ تو حضرت نے ایک موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں کو یہ وحدت الوجود کچھ اس معنی میں آیا کہ انہوں نے اپنے طور پر جو من گھڑت خیال بنا دیے، یہ ان کو سزا کے طور پر ہوا ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے پر عمل نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا کہ ذات میں غور نہ کرو۔ ذات کی طرف غور نہ کرو۔

دیکھو، میں آپ کو بتاؤں۔ "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ"۔ اس میں اچھی طرح غور کر لو، الفاظ۔ اتنے محفوظ الفاظ ہیں۔ كَاَنَّكَ تَرَاهُ، "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ"، جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔ جیسے کا مطلب کیا ہے؟ یعنی حقیقت میں تو نہیں دیکھ رہے ہو۔ لیکن اس کا اثر تم وہ لو، جو خدا کو دیکھنے کا ہوتا۔ "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ"۔ "فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ"، اگر تم یہ نہیں کر پا رہے ہو، نہیں دیکھ سکتے ہو، "فَاِنَّهُ يَرَاكَ"۔ یہاں پر یہ نہیں فرمایا جیسے وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پر فرمایا، "فَاِنَّهُ يَرَاكَ"، بیشک وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہ جو دیکھ رہا ہے، یہ اس کے لیے، آپ کا علم کافی ہے۔ اس علم کو اپنے اوپر مسلط کر لو۔ اس علم کو اپنے اوپر مسلط کر لو، کہ واقعتاً اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے نا۔ مطلب یوں کہہ سکتے ہو اس علم کو کیفیت بنا دو۔ اس، اس قال کو حال میں تبدیل کر لو۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں۔ اس قال کو حال میں تبدیل کر لو۔ قال را بگذار مرد حال شو۔ یہ کیوں فرمایا؟ قال کو ایک طرف کر دو، مرد حال بن جاؤ۔ علم تو تجھے پہلے سے ہے، لیکن اس علم سے اب حال بنا دو نا، تاکہ تیرا حال بن جائے، تو اس سے متاثر ہو جائے۔

ایک بات یاد رکھنا چاہیے، میرے خیال میں اس پر مجھے ختم بھی کرنا چاہیے، بہت اہم بات ہے۔ ہمارا نفس ایک حقیقت ہے۔ اور یہ جو نفس ہے، یہ ایسی ظالم چیز ہے، کہ یہ تمہاری توجہ کبھی بھی کسی اور کی طرف نہیں جانے دے گا، اپنی طرف ہی رکھے گا۔ اس کو حدیثِ نفس کہتے ہیں نا؟ اپنی خواہشات کی طرف رکھے گا۔ ان خواہشات میں تم اللہ کو بھی بھول جاؤ گے۔ بات سمجھ آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ ان خواہشات میں تم اللہ کو بھی بھول جاؤ گے۔ اب جب یہ والی بات ہے، تو اس کے لیے اتنی powerful کیفیت آپ کی ہونی چاہیے، کہ تم اس کیفیت کی وجہ سے ان خواہشات کو بھول جاؤ۔ اس کیفیت کی وجہ سے خواہشات کو بھول جاؤ۔

چلو جی، اب ذرا لڑائی شروع ہو گئی۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس کیفیت کو پیدا کر رہے ہو، لیکن آیا تمہاری کیفیت اتنی strong ہے کہ ان خواہشات کو بھول سکتے ہو؟ جواب نفی میں ہے۔ جواب نفی میں ہے۔ اس صورت میں کیا کرو؟ کچھ مدد کرو اس کے ساتھ۔ وہ مدد کیا ہے؟ اپنے نفس کو تربیت دو۔ یعنی یہ جو نفس کی جو خواہشات ہیں، ان کی کثرت کو مٹا دو اس کی تربیت کے ذریعے سے۔ یعنی اس کی جو بار بار تم نفی کرو گے، تو اس کا جو زور ہے کمزور ہوتا جائے گا۔ جیسے جیسے تم اس کی نہیں مان رہے ہو تو یہ تمہارا ماننا شروع کرے گا۔ مجاہدات اور ریاضت کے ذریعے سے۔ اس مجاہدات اور ریاضت کے ذریعے سے جب تم نفس کے زور کو کم کرو گے، ہوتے ہوتے اس حد تک کم ہو جائے کہ تمہاری وہ روحانیت اس کے اوپر غالب ہو جائے۔ بس کام ہو جائے گا۔ کام ہو جائے گا نا؟ تو گویا کہ دو طرفہ کام ہے آپ کو۔ اپنی روحانیت کو بھی بڑھانا ہے اور ساتھ ساتھ نفس کے زور کو بھی توڑنا ہے۔ نفس کے زور کو بھی توڑنا ہے۔ یہ نفس کا زور جب تک ٹوٹا نہیں ہو گا اس وقت تک تمہاری روحانیت ٹھہر ہی نہیں سکتی۔ ٹھہر ہی نہیں سکتی۔

یہ وہی بات ہے جو بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تھا ان کے کسی ہم عصر نے کہ حضرت آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں لیکن آپ آپ ہیں اور ہم ہم ہیں، ایسا کیوں ہے؟ تو حضرت نے فرمایا جو تم کرتے ہو تمہارا نفس کھا جاتا ہے۔ جو تم کرتے ہو وہ تمہارا نفس، یعنی تم روحانیت کا پرواز کرتے ہو نفس تجھے پکڑ لیتا ہے اور کھا جاتا ہے۔ تو اوپر جا ہی نہیں سکتا۔ تو اب اس نفس کی جو اصلاح ہے وہ اپنی روحانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ تم جذب میں آ کر دو تین چھلانگیں تو مار لو گے لیکن نفس تجھے بہت جلدی پکڑ لے گا، پھر نیچے لے آئے گا، پھر کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں تم مایوس ہو جاؤ گے اور کہو گے کہ بھئی میرا اس پہ بس نہیں چلتا۔ میرا اس پہ بس نہیں چلتا۔ لیکن جس وقت کسی شیخ کامل کے ہاتھ میں ہو گے وہ تمہیں مایوس نہیں ہونے دے گا۔ وہ کہے گا بھئی نفس کا علاج کرو، نفس کا علاج کرو۔ روحانیت کی اچھل کود کو تھوڑا سا مؤخر کر لو، تم نفس کا پہلے علاج کر لو تاکہ تم stable ہو جاؤ۔ تو "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ" یہ کیفیت تب آپ کی stable ہو گی جب آپ کا نفس ماننا سیکھے گا۔ یعنی نفس مطمئنہ ہو جائے گا۔

جب نفس مطمئنہ ہو جائے گا تو قرآن کی نص ہے پھر۔ "يَآ اَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِيْ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِيْ فِيْ عِبَادِيْ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ"۔ یعنی مطمئنہ نفس کو خطاب ہے۔ مطمئنہ نفس وجود میں آ چکا ہو گا تو خطاب ہو گا نا؟ وجود میں نہیں آیا ہو گا تو خطاب کدھر ہو گا؟ تو مطمئنہ نفس کو خطاب ہے کہ اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے۔ اس سے پتا چلا کہ آخری مقام رضا ہے۔ آخری مقام کیا ہے؟ وہ رضا ہے۔ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، اس کا نتیجہ اللہ پاک کی رضا کا ہے۔ فَادْخُلِيْ فِيْ عِبَادِيْ، اس کا نتیجہ اللہ پاک کی بندگی کا ہے۔ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ، اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی جنت ہے۔ کیا خیال ہے؟ step by step ہر چیز سامنے ہے نا؟ تو بس یہی یہ ہے کہ ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

قیقتِ فنا و بقا، توحیدِ شہودی اور اصلاحِ نفس کی ناگزیریت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ