اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوباتِ شریف کا بے نظیر درس ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ جل شانہ نے حضرت کو جو اونچی نسبت عطا فرمائی تھی، کہ ہزار سال کے لیے مجدد بنا کر اللہ پاک نے بھیج دیا، یہ بڑی بات ہے۔ دوسرے مجددین حضرات بھی تشریف لاتے رہتے ہیں، اور سو سال ان کا اثر رہتا ہے۔ لیکن جو مجدد الف ثانی ہیں، تو ان کا اثر ان شاء اللہ یہ جو ہزار سال، ہزار کے بعد جو جتنے بھی ہزار سال، جو ہزار سال ہیں، تو اس میں حضرت کا اثر رہے گا۔ اور بالکل ان مکتوباتِ شریف سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جو مسائل ہیں تو ان مسائل کا حل حضرت نے پیش کیا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ ان سے استفادہ نہ کریں، ان کو سمجھیں نہیں، یا ان کو پڑھیں نہیں، وہ ایک علیحدہ بات ہے، وہ اپنی کمزوری ہے۔
یہ ابھی جو موجودہ مکتوبِ شریف ہے، یہ اصل مکتوبِ شریف، یہ اعتقاد، عقائد کے بارے میں، یہ مکتوب نمبر دو سو چھیاسٹھ (266) ہے۔ چل رہا ہے اور تقریباً آج شاید ختم ہو جائے گا۔ کافی لمبا مکتوب ہے۔ کچھ تقریباً چالیس صفحات سے زیادہ کا مکتوبِ شریف ہے۔ غالباً شاید تمام مکتوبات میں شاید یہ سب سے زیادہ لمبا مکتوب ہو۔ تو اس میں حضرت نے عقائد کے اوپر باتیں کی ہیں کہ عقائد ہمارے کیسے ہونے چاہئیں۔ چونکہ حضرت کے وقت میں بہت سارا بگاڑ آ گیا تھا، بہت سارا مسئلہ بن گیا تھا، جس کو انگریزی میں chunk کہتے ہیں نا، وہ تقریباً chunk والی بات ہو رہی تھی، ساری چیزیں آپس میں mix ہو گئی تھیں۔ تو ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا یہ بہت ضروری تھا۔ تو حضرت نے الحمد للہ یہ کام بہت ہی زیادہ حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ اور ہر چیز کو اپنے اپنے مقام اور اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔
ابھی جیسے ابھی اس مکتوبِ شریف میں اس موقع پر یہ فرما رہے ہیں: ”ان اعتقادی اور عملی دو بازوؤں کے حاصل ہونے کے بعد، اگر حق تعالیٰ جل شانہ کی توفیق رہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک اختیار کر لے۔ جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد اور عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے۔“ اعتقاد اور عمل! دیکھیں نا یہ ذرا تھوڑا سا غور فرما لیں۔ تین چیزیں تھیں نا جو حدیثِ جبریل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے پوچھی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ امت کو صحیح دین کی سمجھ آ جائے۔ اس لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ جبرائیل تھے، آپ لوگوں کو دین سمجھانے کے لیے آئے تھے۔
تو اس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ایمان کیا ہے؟ تو ایمان کا جو جواب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، وہ عقائد ہیں۔
دوسرا سوال جو کیا تھا اسلام کیا ہے؟ تو اسلام کا جو جواب دیا وہ اسلام کے ارکان تھے، یعنی اعمال۔
اور تیسرا جو سوال کیا تھا، وہ پوچھا تھا احسان کیا ہے؟ فرمایا احسان، أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔ تو ایسے عبادت کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر یہ چیز تجھے حاصل نہیں ہے، تو بے شک اللہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ اصل میں یوں کہہ سکتے ہیں، درجۂ حال میں اپنے علم کو حاصل کرنا۔ درجۂ حال میں اپنے علم کو حاصل کرنا۔ تو یہ کیفیت ہے۔ اسی کو کیفیتِ احسان بھی کہتے ہیں۔ احسان کا لغوی معنی یہ ہے، کسی چیز کو اچھی طرح کر کے دکھانا، احسان، بابِ افعال سے ہے۔ تو اچھی طرح کسی چیز کو مطلب ہے کسی چیز کو اچھی طرح کرنا، یہ احسان کی حالت ہے۔ تو ظاہر ہے جب آپ کوئی کام کرتے ہیں، تو اس کو اگر اچھی طرح کر لیں، تمام پہلوؤں سے، تو یہ احسان ہوگا۔
اس کیفیت جس کے ذریعے سے یہ چیز حاصل ہو سکتی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔ تو یہاں پر یہ فرمایا کہ ان اعتقادی اور عملی دو بازوؤں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق تعالیٰ جل شانہ کی توفیق رہنمائی فرمائے، تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک اختیار کر لے۔ جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد اور عمل کے علاوہ کوئی اضافی چیز ہے یا کوئی نئی چیز حاصل کرنی ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ معتقدات کی نسبت ایسا یقین اور اطمینان حاصل ہو جائے۔ یعنی جو عقیدے ہیں ہمارے، وہ اس طرح رچ بس جائیں، واضح ہو جائیں، جس پر قلب مطمئن ہو جائے۔ جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ اور درجۂ حال میں وہ چیز حاصل ہو جائے، وہ اصل میں یہ بات ہے کہ، ”کی نسبت ایسا یقین اور اطمینان حاصل ہو کہ شک ڈالنے والے کی شک اندازی سے زائل نہ ہو“۔ اور شبہ کے پیش آنے سے باطل نہ ہو جائے۔ کیونکہ بحث و مباحثوں کے پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے۔ مطلب دلائل میں انسان پھنستا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مناظرہ شروع ہوا، اور جس وقت مناظرہ ختم ہوا تو یہ والا یہ بن گیا، تو یہ والا یہ بن گیا تھا۔ مطلب ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ لکڑی کے ہوتے ہیں پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔ آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔ خبردار کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اعمال کی بجا آوری کے لیے آسانی اور سہولت حاصل کر لے۔
واقعتاً یہی بات ہے۔ اعمال انسان ویسے بھی ادا کر سکتے ہیں لیکن سستی کے ساتھ۔ وہ حالت ہوتی ہے کہ بس وہ سر سے گزارنے والی بات۔ لیکن جس وقت انسان کو کیفیتِ احسان حاصل ہو جاتی ہے، تو وہ اعمال اس کی زندگی کا سب سے اہم حصہ بن جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے اندر ان اعمال کے اندر اس کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے کہ وہ باقی وقت صرف اسی کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ میں دوبارہ وہ کام کر لوں۔ تو یہ بات ہے۔ ”اور سستی اور سرکشی جو نفسِ امارہ سے پیدا ہوتی ہے، اس کو دور کر لے“۔
اور اس طرح طریقۂ صوفیاء کے سلوک کا مقصود نہیں کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معاینہ کرے۔ آج کل بہت زیادہ اس میں بڑا مسئلہ ہوا ہے، بہت زیادہ مسئلہ ہوا ہے۔ اللہ معاف فرمائے، حضرت نے جتنا اس کے لیے درد کا اظہار کیا تھا، آج کل اس سے اتنی زیادہ غفلت ہے اور اپنے آپ کو کہتے ہیں نقشبندی مجددی! نام کیا لیتے ہیں؟ نقشبندی مجددی! اور نقشبندی مجددی، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وہ فکر کا خیال ہی نہیں کہ حضرت کی فکر کیا تھی۔ حضرت نے اس سلسلے کو کن اصولوں پر استوار کیا تھا؟ اس کی فکر ہی نہیں! آج کل مجھے بتاؤ کہ کون سا نقشبندی ہے، الا ما شاء اللہ، جو ان کشفوں اور انوارات اور اشقالات ان چیزوں میں گم نہیں ہے؟ ہر وقت باتیں یہی کرتے ہیں۔ جب بھی ان کے ساتھ کوئی بیٹھتا ہے تو باتیں کیا ہوتی ہیں؟ ”میری توجہ اتنی دور تک جاتی ہے“۔ اے خدا کے بندو! توجہ کو کیا کرو گے؟ توجہ پھینکنے کی بات ہے؟ کہ آپ خوامخواہ توجہ بس جس کو کہتے ہیں نا... یہ تو کمال کی بات ہے۔ بھئی اس کے اندر محبت کی آگ لگا دو۔ اور پھر ان کے نفس کو اس کام کے اوپر اس کو اتنی وہ کر دو، اس کی training کر دو، کہ وہ نفس اس کو مان جائے۔ یہ تربیت ہے۔ یہ نہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے توجہ مار کر اس کو hypnotize کر دو، وہ عمل کر لے، پھر بعد میں جا کر نفس اپنی من مانی شروع کر دے۔ آج کل تو یہی جو نقشبندیت ہے۔ اسی کو نقشبندی لوگ، نقشبندیت کے ہمارے ہاں معنی ہوئے ہیں۔ جس کی توجہ زیادہ چلتی ہے سمجھتے ہیں یہ شاید بڑا شیخ ہے۔ بھئی تو کافروں کی بھی توجہ چلتی ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، میں نے مواعظ میں پڑھا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک صوفی وہ جا رہا تھا، تو ایک گرو اپنے چیلوں کو توجہ دے رہا تھا۔ یعنی ظاہر ہے ہندو وہ جو لوگ جو ہوتے ہیں یہ جوگی type لوگ جو ہوتے ہیں نا۔ ایک گرو اپنے چیلوں کو توجہ دے رہا تھا۔ یہ صرف اس وجہ سے کھڑا ہو گیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ کیا کرتا ہے۔ وہ ایک نظارے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ، جیسے دھواں type چیز ہے، وہ اس کی طرف آئی اور اس کے دل میں گھس گئی۔ جب اس کے دل میں گھس گئی تو ساری چیزوں سے تعلق اس کا کٹ گیا۔ کسی عبادت میں اس کا جی نہیں لگتا۔ اور اپنے ایمان پر بھی شک ہونے لگا۔ بہت پریشان ہو گیا۔ اور جانتا تو تھا، کیونکہ ظاہر ہے ان چیزوں سے واقف تھا۔ لیکن اب نکالے تو کیسے نکالے؟ بہت پریشان ہو گیا۔ جتنی کوششیں تھیں کر سکتے تھے، بزرگوں کے پاس چلا گیا، یہ ہو گیا وہ ہو گیا، سارا کچھ کرنے سے مایوس ہو گیا، ظاہر ہے کوئی راستہ نہیں بن رہا تھا۔ تو ایک دفعہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس کو ڈانٹا کہ تجھے ضرورت ہی کیا تھی ادھر جا کر کھڑے ہونے کی؟ تجھے کیا ضرورت تھی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا، اور اس طریقے سے وہ ساری چیز زائل ہو گئی۔
تو یہ تو جوگی لوگ بھی کرتے ہیں، اور ہم سے زیادہ بہتر کر سکتے ہیں۔ ان کی اتنی influential ہوتی ہے۔ ہمارے مولانا اظہر گُل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اور یہ مطلب ظاہر ہے ان کے بیٹے تھے عبدالرؤف صاحب۔ یہ وہ صاحب تھے جن کو ان کی والدہ، جو انگریز خاتون تھی، مسلمانوں کی... تو اس نے پاسِ انفاس سکھایا تھا۔ دس سال کی عمر میں۔ دس سال کی عمر میں پاسِ انفاس سکھایا تھا۔ اور یہ فرماتی تھی کہ ”بیٹا سیکھو، یہ اتنے عرصہ تم سانس بغیر ذکر کے لیا کرو گے؟ اس کو سیکھو۔“ تو ذکر ان کو سکھایا تھا، یعنی سانس کے ذریعے۔ وہ عبدالرؤف صاحب ایک جلسے میں شامل تھے، ظاہر ہے وہ کانگریس کے جلسے ہوتے تھے، شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے جلسے ہوتے تھے۔ تو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ادھر بیٹھے ہوئے تھے، تو دیکھا کہ عبدالرؤف صاحب تھوڑا تھوڑا ایک... ایک وہ جو پنڈت تھا اس کے خیمے کی طرف جا رہے ہیں۔ تو حضرت مدنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب ان کو دیکھا، تو چیخ لگائی، ”او عبدالرؤف!“ بس اس سے ان کی توجہ زائل ہو گئی۔ اور جیسے break اس کو لگ گیا اور پھر واپس آ گئے۔ تو ظاہر ہے ان کی توجہات تو ہوتی ہیں۔ یہ کوئی بڑی بات تو نہیں ہے۔ یہ تو انسان کے ساتھ یہ چیزیں ہوتی ہیں، صرف اس کو جس کو کہتے ہیں نا stream line کرنا ہوتا ہے۔ alignment اس کی ہوتی ہے۔ جیسے مقناطیس لوہے میں مقناطیس بننے کی صلاحیت ہوتی ہے، آپ اس کی alignment کر لیں، مقناطیس بن جائے گا۔ تو جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان چیزوں کے اوپر تو نہیں ہونی چاہیے۔
اور پھر یہ انوارات اور یہ، شیطان کو اتنی شکلیں آتی ہیں، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، ان سے بڑے تو یہ نہیں ہوں گے نا جو آج کل کے لوگ ہیں۔ حضرت کے صاحبزادے ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت میرے والد صاحب وہ ایک جگہ پر مراقبے میں تشریف... مطلب مراقبے کے لیے تشریف فرما تھے، مراقبے میں۔ ایک نور سا ان کی طرف آیا۔ اور اس سے ایک آواز آئی: ”اے عبدالقادر! ہم نے تیری عبادت قبول کر لی۔ اس کے بعد جو تو جو کچھ کرے گا اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، شوق سے عبادت کرو تو کر لو، آپ کے اوپر ذمہ داری کوئی نہیں ہے، یعنی ہم نے آپ کو بس اب قبول کر لیا، بے شک اب تم عبادت کرو، نہ کرو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔“ تو حضرت مراقبے میں ہو گئے، جیسے مراقبے میں ہوئے، تو اپنا سر مبارک اٹھایا، کہتے ہیں ”کم بخت! ذلیل! کمینے! شیطان! تو مجھے گمراہ کرنا چاہتا ہے؟“ تو وہ روشنی جو تھی، وہ نور جو تھا وہ اندھیرے میں بدل گیا۔ اور جیسے بھاگتے ہوئے کوئی بات کرتا ہے، ”کہ عبدالقادر! تو مجھ سے اپنے علم کی وجہ سے بچ گیا، ورنہ تیرے اس مقام پر میں نے اتنے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔“ جو تیرے اس مقام پر تھے، اتنے لوگوں کو میں نے گمراہ کیا ہوا ہے اسی طریقے سے۔ بس تو اپنے علم کی وجہ سے بچ گیا۔ تو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”بدبخت! جاتے جاتے بھی وار کر جاتا ہے، میں اللہ کے فضل سے بچ گیا ہوں!“ تو یہ شیطان ہے، یہ بھئی خدا کے بندے، اپنے آپ کو کن چیزوں کے حوالے کرتے ہو؟ اس میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پتہ نہیں آپ کو کون سے چکروں میں ڈال کر شیطان تجھے کہاں سے کہاں پہنچائے۔
ہمارے حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے واقعہ خود سنایا ہے، درمیان میں کوئی اور راوی نہیں ہے۔ فرمایا، مجھے کشفِ قبور ہوتا تھا۔ تو کہتے ہیں کہ میں جہاں بھی جاؤں، تو بس بہت سارے لوگ کھڑے ہو جائیں، اور مجھے سلام کریں اور یہ ہے کہ خیر خیریت پوچھیں، جیسے بزرگ مطلب اٹھتے ہیں قبر سے۔ کہتے ہیں میں نے کسی سے اس کا ذکر کیا کہ اتنے سارے بزرگ ہوتے ہیں مطلب ظاہر ہے ہر جگہ۔ تو کہتے ہیں اصل میں تو یوں کر کہ جب کبھی تجھے کوئی اس طرح اٹھے نا قبر سے، سلام کرے، تو ان سے کہہ، ”حضرت! تھوڑا سا قرآن مجھے سنا دیں۔ تھوڑا سا مجھے قرآن سنا دیں۔“ پھر دیکھنا۔ تو کہتے ہیں کہ اس کے بعد میرا یہ طریقہ ہو گیا کہ میں درخواست کرتا تھا کہ حضرت تھوڑا سا قرآن سنا دیں، میں آپ کے ساتھ قرآن سننا چاہتا ہوں۔ بس غائب! کبھی کبھی خال خال کوئی ملا تو ملا، انہوں نے قرآن بھی سنایا اور یہ، لیکن ویسے نہیں، بس غائب! تو میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا حضرت، کیا وجہ تھی؟ آپ کو کس وجہ سے یہ ہوتا تھا، مطلب ان کو فائدہ کیا تھا؟ فرمایا، ”مجھ میں شیطان تکبر ڈالنا چاہتا تھا کہ تو اتنا بڑا بزرگ ہے کہ ہر جگہ تیرا اس طرح استقبال ہوتا ہے۔“ اس لیے کہتے ہیں، جن کو کشف نہیں ہوتا، وہ محفوظ ہیں۔ جن کو کشف ہوتا ہے ہر وقت خطرے میں ہیں۔
تو ایک دفعہ میں نے کچھ ایسی باتیں حضرت کے سامنے عرض کیں، حضرت نے فوراً فرمایا: ”دور کرو دور کرو! یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔“ کہ ان چیزوں میں نہ پڑو! اور واقعتاً جو اس میں پڑ جاتے ہیں ان چیزوں میں، تو پھر کوئی station، ان کا کچھ پتہ نہیں کہ کہاں پر...
ہمارے ایک ساتھی ہیں، اچھے ساتھی ہیں۔ کشفیات میں پڑ گئے۔ اور بہت زیادہ پڑ گئے۔ اور پتہ نہیں اس کو کیا کیا نظر آتا تھا۔ عجیب و غریب باتیں ان میں نظر آتیں۔ میں ان کو کچی حالت میں نہیں روکنا چاہتا تھا کیونکہ اس حالت میں ممکن ہے کہ شیطان اس کو مجھ سے کاٹ دیتا۔ یہ بھی ہو سکتا تھا نا کہ میں اگر... اللہ پاک نے ایک دن موقع دے دیا۔ اس نے مجھے اپنا کشف سنایا۔ اور سنایا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کے ساتھ شیطان کو ختم کر دیا۔ میں نے کہا، ”اب رک جاؤ، بس اب میری باری ہے۔“ میں نے کہا، ”دیکھو سنو! قرآن ہے، ایک طرف قرآن ہے، دوسری طرف تیرا کشف ہے۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ اللہ پاک سے اس نے ایک مہلت مانگی۔ اللہ پاک نے فرمایا کہ تجھے قیامت تک کے لیے مہلت ہے۔ اب اللہ پاک تو اس کو مہلت دے چکے ہیں، تو کیا تیرا کشف صحیح ہو سکتا ہے اس کے مقابلے میں؟ یہ قیامت تک تو جائے گا۔“ اور میں نے کہا اس کی دلیل یہ ہے کہ دجال کی طرح شکل کا کوئی شخص تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں۔ صحابہ کرام میں سے کسی صحابی نے پوچھا کہ کیا میں اس کو مار دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”اگر وہ دجال نہیں ہے تو اس کو مارنا جرم ہے۔ گنہگار ہو جائیں گے۔ اور اگر وہ دجال ہے تو تُو اس کے مارنے والا نہیں ہے۔ تُو اس کا مارنے والا نہیں ہے، وہ کوئی اور مارے گا اس کو، جس کا پتا ہے عیسیٰ علیہ السلام ماریں گے اس کو۔ تو تُو اس کا مارنے والا نہیں ہے۔“ تو یہ مطلب گویا ہے کہ بالکل طے شدہ والی بات تھی۔ تو میں نے کہا، طے شدہ بات تو یہ ہے کہ قیامت سے پہلے شیطان ختم نہیں ہوگا۔تو لہٰذا تیرا کشف غلط، اور تیرے سارے کشف صفر! اور اپنے کشف کی بات بالکل نہیں ماننی۔ تیرا کشف غلط ثابت ہو گیا، پھر یقین اب اس کے بعد آگے نہیں چلے گی۔ ایسے ہی ہو گیا، الحمدللہ بچ گیا، اللہ کا شکر ہے۔
ایک اور صاحب تھے، ان کو بھی کشف... اس کو میں نے ایک وظیفہ دیا تھا۔ اس وظیفے میں اس کو کچھ نظر آنے لگا، کچھ چیزیں نظر آنے لگیں، کچھ بزرگوں کی (شکلیں) آئیں۔ تو انہوں نے کہا جی فلاں بزرگ ہے، اور اس طرح کہتا ہے، اس طرح کہتا ہے، اس طرح کہتا ہے۔
میں نے کہا: 'ان سے کہو سورہ اخلاص مجھے سنا دیں آپ، سورہ اخلاص سنائیں۔'
تو کہتے ہیں پہلی دفعہ جب میں نے کہا تو اتنا غصہ ہو گیا کہ 'یہ کیا بات ہے؟ فوراً اس طرح کہہ دیا کہ قرآن سنا دو، یہ کوئی طریقہ ہے؟'
تو مجھے کہا کہ ایسا ہے۔ میں نے کہا: 'اس کو کہو جب تک قرآن نہیں سناؤ گے، اس وقت تک میں آپ کی کوئی بات نہیں سننا چاہتا، بس صاف بات ہے۔ قرآن سناؤ گے تو پھر میں آپ کی باقی باتیں سنوں گا ورنہ نہیں سنوں گا۔'
تو میرے خیال میں اگلے دن تک اس کا یہ مسئلہ تھا کہ پھر اس کے بعد اس نے کہا 'قل ھو اللہ...' اس طرح۔ مطلب، میں نے کہا دیکھو نا بگاڑ کے (پڑھ رہا ہے)، صحیح نہیں پڑھ رہا، صحیح نہیں پڑھ سکتا۔
لہٰذا تیرا کشف صفر! اب اس کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ تیرا کشف محفوظ نہیں ہے۔
اگر ایک دفعہ بھی غلطی کا امکان ثابت ہو جائے تو شک تو پڑ گیا نا؟ تو مشکوک چیز پر عمل کرنے جائیں گے؟ شک تو پڑ گیا، لیکن تیرا کشف محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا اب اس اپنے کشف پر عمل نہ کرو۔ اور اس کے لیے وظیفہ میں نے disconnect کر دیا، میں نے کہا نہیں، اب تمہارے لیے نہیں ہے۔
تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ہمیں بزرگوں سے پہنچی ہیں، الحمد للہ! اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے! اور حضرت بزرگوں نے اس کے بارے میں باتیں بھی فرمائی ہیں۔ اور حضرت نے بھی بالکل وضاحت کے ساتھ یہ بات لکھ لی ہے۔ تو اس کے بعد اگر کوئی اپنی طرف سے کرتا ہے تو ان کی اپنی مرضی ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو تو ان دھوکوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ”کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معاینہ کریں“، یہ تو خود لہو و لعب میں داخل ہے۔ اور انوار کس قدر نقصان رکھتے ہیں کہ کوئی شخص انوار اور صورِ غیبی کی تمنا میں اپنے آپ کو ریاضات و مجاہدات میں لگا دے، کیونکہ حسی صورتیں اور وہ غیبی صورتیں، اور یہ انوار اور انوار سب کے سب حق جل وعلیٰ کی مخلوق ہیں، اور حق تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرنے والی نشانی ہیں۔ اور صوفیہ کے طریقوں میں سے طریقۂ عالیہ نقشبندیہ کا اختیار کرنا اولیٰ اور انسب ہے۔ کیونکہ ان بزرگواروں نے سنت کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے اور بدعت سے پرہیز کیا ہے۔ اگر ان کو پیروی کی دولت حاصل ہو جائے اور حال و احوال کچھ بھی حاصل نہ ہو، تو خوش ہیں۔ کیا فرمایا؟ پیروی سنت کی حاصل ہو جائے، اور حال و احوال کچھ بھی حاصل نہ ہو، تو اس پر خوش ہیں۔
آج کل تو سنت کیا، فرائض کا بھی نہیں ہے۔ حرام میں مبتلا ہیں، پاس کو... عورتوں کے ساتھ اختلاط رکھتے ہیں۔ مالی معاملات میں گڑبڑ کرتے ہیں۔ اور پیر، شیخ ہیں! بڑے مشہور مشائخ ہیں، میں نام لے لوں تو آپ حیران ہو جائیں گے۔ یہ کیا بات کی آپ نے؟ تجربات کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں، ویسے نہیں کر رہا ہوں۔ فتوے آ گئے ہیں۔
تو یہ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ان بزرگوں کی جو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے چیزیں بتائی ہیں، ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اور کوئی اس کو گرفت کرنے والا ملا نہیں۔ نتیجتاً معاملہ آگے چلا گیا۔ ایک بات یاد رکھیے! گرفت والے تھے، گرفت والے تھے، لیکن علماء تھے۔ مشائخ گرفت والے نہیں تھے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مشائخ گرفت والے نہیں تھے۔ کیونکہ ان کے پاس یہ بہت آسان والی بات تھی کہ علماء ہیں تو ظاہر کے لوگ ہیں یہ باتیں ان کی چیزیں کیا جانتے ہیں۔ بس بات ختم! اور جو لوگ ان کے معتقد ہیں، ان کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کہ یہ تو علماء ہیں، یہ تو ان چیزوں کو جانتے نہیں ہیں۔ یہ تو ظاہر کے لوگ ہیں، تو یہ باطن کی چیزوں کو کیا جانیں؟ لہٰذا بات ختم! اثر ختم! تو فتوے تو آ گئے ہیں۔ لیکن ان فتووں کی موثریت ان مکتوباتِ شریف میں آئے گی۔ ان مکتوباتِ شریف کے ذریعے سے اب اس کی موثریت آئے گی۔ کیونکہ لوگ ان کو تصوف سمجھتے ہیں ان مکتوباتِ شریف کو۔ اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نقشبندیت کا سرخیل سمجھتے ہیں۔ تو جب حضرت کی طرف سے کوئی چیز آ گئی، تو پھر تو یہ انکار نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اس وجہ سے ہم یہ مکتوباتِ شریف کافی تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں، تاکہ جن کو بھی کوئی غلط فہمی ہے، وہ غلط فہمی دور ہو جائے، اور اپنے آپ کی اصلاح کر لے۔ اس کے بغیر کوئی راستہ ہمارے پاس ہے نہیں۔
واقعتاً نقشبندیہ سلسلہ، یہ تو میں کہتا ہوں کہ سبحان اللہ! یہ تو عجیب یعنی اس کا حال ہے۔ کہ ان کا تو فخر کی بات یہ تھی کہ سنت کے ساتھ... سنت کے ساتھ، زیادہ تر سنت کا مطلب خیال۔ اور وجد اور ان چیزوں کی طرف زیادہ رجحان نہیں۔ وجد، وجدیات! اب کیا بات ہے! ایسے لوگ بھی ہیں، اللہ معاف فرمائے، اللہ معاف فرمائے! نقشبندی مجددی اپنے آپ کو کہتے ہیں، اور اچھل کود میں چشتیوں سے بڑھ کر ہیں! اور اچھل کود ان کا شعار ہے! وہ پتہ نہیں کس طرح کوئی توجہ ڈالتے ہیں۔ وہ ہاتھ ملاتے ہیں۔ وہ ہاتھ ملا کر پھر وہ چونکہ، پھر اس کو سنبھالنے والے چار پانچ کی ٹیم پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ان کو فوراً پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں، پھر کسی اور کو۔ یہاں پر ایک صاحب تھے، مجھے بتایا، یہ رحیم آباد ہے ادھر قریب ہے۔ چک مدد خان پل ہے نا، اس کے پاس جو نیچے جگہ ہے اس کو رحیم آباد کہتے ہیں۔ وہاں کوئی اس قسم کا آدمی آ گیا۔ تو اب ظاہر ہے لوگ تو اچھل کود کر رہے تھے، تو وہ ایک بالکل خاموش بیٹھے تھے، کہتا ہے میں درسی پڑھ رہا تھا۔ تو مجھ پر کچھ نہیں ہوا۔ تو کہتے، ”آئیے، میں آپ کو وہ بتا دوں۔“ یعنی ان کا جو کیفیت والے الفاظ اس وقت میں بھول گیا ہوں۔ ”وہ، وہ، وہ آپ کو سکھا دوں۔“ اچھا بہت کوشش کی لیکن مجھے کچھ نہیں ہوا۔ کہتے ہیں، ”تیرا دل سیاہ ہے۔ تجھے کچھ نہیں ہوتا، شاید تیرا پیر ایسا ہے۔“ کہتا ہے جب یہ کہا نا، تو میں نے پٹھان تھے وہ جو مجھے بات سنا رہے تھے۔ کہتے ہیں، ”میں نے اس سے کہا کہ اب تو میں معاف کرتا ہوں، تجھے پہلی دفعہ، کیونکہ تجھے پتا نہیں ہے۔ پہلی دفعہ میں نے آپ کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد اگر آپ نے میرے پیر کے بارے میں کوئی لفظ نکالا نا، تو پھر تو یہاں نہیں رہے گا۔ یہ میں تمہیں صاف بتاتا ہوں، پھر تو یہاں نہیں رہے گا۔“ تو بس وہ جلدی جلدی میں نے معافی تلافی کر کے وہ چلے گئے۔
تو یہ، یہ حالات ہیں۔ تو میں آپ کو کیا بتاؤں؟ ہمارا تو آج کل project ہے یہ نا، کہ نقشبندی سلسلے کی حفاظت کرنا۔ چونکہ بہت اونچا سلسلہ ہے۔ اور ان کے لوگوں نے پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچایا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ تو ابھی اسی پر غزل ہے۔
یہ اچھلنا یہ کودنا یہ بزرگی تو نہیں
یہ اچھلنا یہ کودنا یہ بزرگی تو نہیں
بزرگ سمجھنا اپنے آپ کو بندگی تو نہیں
اپنے آپ کو بزرگ سمجھے تو بندگی کدھر ہے ہاں!
بزرگ سمجھنا اپنے آپ کو بندگی تو نہیں
پچاس ہزار سال عبادت اولیاء سمجھنا
وہ کہتے ہیں جب یہ حال کسی کو حاصل ہو جائے وہ کہتے ہیں پچاس ہزار سال کوئی ولی عبادت کرتا پھر اس کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے۔ یہ مشہور کیا ہوا ہے۔
پچاس ہزار سال عبادت اولیاء سمجھنا
اپنے خود ساختہ جذب کو یہ بے شرمی تو نہیں
اپنی خود ساختہ اداؤں پہ جو نازاں تم ہو
اپنی خود ساختہ اداؤں پہ جو نازاں تم ہو
تم جس کو نور ہو سمجھے یہ تیرگی تو نہیں
نقشبندیت میں اچھل کود یہ کیا کہتے ہو
نقشبندیت تو ان چیزوں سے بہت دور ہے۔
نقشبندیت میں اچھل کود یہ کیا کہتے ہو
نفس کی خواہش ہے یہ تقلید سرہندی تو نہیں
نقشبندیت ہے باوقار طریقۂ سلوک
نقشبندیت ہے باوقار طریقۂ سلوک
یہ تیرا طرز نمائندگی اس کی تو نہیں
کاش تم شبیر کی یہاں مان لو اور سمجھ جاؤ
آنا اک بار ہے وہاں سے پھر واپسی تو نہیں
مطلب ظاہر ہے یہاں پر اپنی زندگی ضائع کر دو گے، کتنا اچھلو گے، کتنا کودو گے؟ ایک صندل بابا جی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے ادھر اسلام آباد میں۔ میں بھی چلا گیا تھا ملنے کے لیے۔ خیر حضرت تو ہمارے ساتھ باتیں کر رہے تھے، ما شاء اللہ پیاری پیاری باتیں۔ ہمارے پاس record ہے پشتو زبان میں۔ تو ایک صاحب آیا، اور آتے ہی خوشامد کی پوری burst ماری۔ خوشامد۔ کہتا ہے ”اے قربان! قربان!“ پشتو میں ذرا وہ، ”قربان یہ سب، قربان ایسے قربان...“ اب وہ شروع ہو گیا جی۔ آخر میں وہ درمیان میں کہتا ہے کہ ”آپ نے مجھے وہ ایک وظیفہ دیا تھا، اس وظیفے کے کچھ الفاظ کا مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے دوبارہ عطا فرمائیں، کچھ عمل ہوگا۔“ عملیات کے تو لوگ بڑے شوقین ہوتے ہیں نا۔ تو حضرت نے اس سے فرمایا ”بھئی یہ کیا کر رہے ہو؟ کہاں تک اڑو گے، کہیں اترو گے بھی یا نہیں؟ کبھی تو اترو گے نا؟ اپنی قبر کو درست کر لو، اپنی آخرت کو درست کر لو۔ یہ کن چیزوں میں پڑے ہو؟“ یہ حضرت نے ان سے، پشتو میں بھی موجود ہے record میں۔ ”کن چیزوں میں پڑے ہو، اپنی آخرت درست کر لو، اپنی قبر درست کر لو۔“
تو اس پر جب اس کو پتہ چلا کہ میری دال نہیں گل رہی، تو پھر اس نے کہا کہ حضرت مجھے فلاں صاحب سے ملنا ہے تو میں پھر آؤں گا۔ ہم نے کہا اس نے پھر آنا ہے نا کچھ کام ہے جس کے لیے آئے تھے وہ کام ہوا نہیں یہ اب یہاں پر کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
تو یہ اصل میں یہی ہوتا ہے۔ دنیا، دنیا، دنیا، دنیا، دنیا۔ یہ ساری دنیا ہے۔
اگر آپ کی کوئی تعریف کرتا ہے، یہ بھی دنیا ہے۔ اگر آپ کو کوئی مال دیتا ہے، یہ بھی دنیا ہے۔ آپ حلوے مانڈے میں مبتلا ہیں، یہ بھی دنیا ہے۔ آپ بتاؤ دین اس میں کہاں ہے؟
ساری چکر یہی ہے نا! دین تو یہ ہے کہ تم جب، جلدی آؤ یا دیر سے آؤ، لیکن سنت زندگی پہ آ جاؤ۔
سنت زندگی کو اپنا مقصد سمجھو، سنت زندگی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا یہ اپنا مقصد سمجھو۔
تمہارا دل بیدار ہو جائے، تمہارا نفس تابعدار ہو جائے، تمہاری عقل سمجھدار ہو جائے۔ بس یہی چیز ہے، تین کام ہیں، اگر آپ کو حاصل ہو گئے پھر سبحان اللہ آپ نے کچھ حاصل کیا۔ اور اگر یہ کام نہیں ہوئے تو پھر پھرو، اس سے کیا ہو گیا؟
یہی وجہ ہے کہ ان بزرگوں نے سماع اور رقص کو تجویز نہیں کیا۔ دیکھیں اچھل کود۔
اور جو احوال سماع کے دوران ان پر مرتب ہوتے ہیں ان کو بھی قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے، بلکہ ذکرِ جہر کو بھی بدعت جان کر اس سے منع فرماتے ہیں۔ اور وہ ثمرات جو اس کیفیت پر مرتب ہوتے ہیں ان کو بھی قابلِ التفات نہیں سمجھتے۔
ایک دن ہم حضرت ایشاں خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلسِ طعام میں حاضر تھے۔ شیخ کمال جو ہمارے حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے مخلصوں میں سے تھے، انہوں نے کھانا شروع کرتے وقت ان کے حضور میں اسم اللہ بلند آواز سے کہا۔ آپ کو ناگوار ہوا، حتیٰ کہ آپ نے کافی سرزنش فرمائی اور فرمایا کہ ان کو منع کریں کہ ہمارے کھانے کی مجلس میں حاضر نہ ہوا کریں۔
اور میں نے حضرت ایشاں خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ علمائے بخارا کو جمع کر کے، حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں لے گئے، تاکہ ان کو ذکرِ جہر سے منع فرمائیں۔ چنانچہ علمائے کرام رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امیر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ذکرِ جہر بدعت ہے آپ ایسا نہ کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم آئندہ نہیں کریں گے۔
جب اس طریقے کے بزرگوار، صوفیائے ربانی، ذکرِ جہر سے منع کرنے میں اتنا مبالغہ کرتے ہیں تو پھر سماع اور رقص اور وجد و تواجد کا کیا ذکر؟
وہ احوال و مواجید جو غیر مشروع اسباب پر مرتب ہوں، فقیر کے نزدیک استدراج کی قسم سے ہیں۔ کیونکہ استدراج والوں کو بھی احوال و اذواق حاصل ہوتے ہیں۔ اور جہاں ان کی صورتوں کے آئینوں میں کشفِ توحید اور مکاشفہ معائنہ ان کو ظاہر ہو جاتا ہے، اس امر میں حکمائے یونان اور ہندوستان کے جوگی اور برہمن سب برابر ہیں۔
احوال کے سچا اور صادق ہونے کی علامت ان احوال کا علومِ شرعیہ کے مطابق ہونا اور محرمات و مشتبہات کے ارتکاب سے بچنا ہے۔
ایک بات یاد رکھنا چاہیے، بڑی بات عرض کرنا چاہتا ہوں، منہ چھوٹی، لیکن کیا کریں کرنا پڑتی ہے بعض دفعہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، جب خون آ جاتا ہے جسم سے کسی جگہ سے، تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے نزدیک؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک؟ نہیں ٹوٹتا۔ بات سمجھ آ رہی ہے نا؟ نہیں ٹوٹتا۔
اب اگر ہمارے ہاں ذرا سا خون آئے تو ہم دکھاتے پھرتے ہیں بھئی خون نکلا تو نہیں ہے؟ اور جو شافعی ہو گا اس کو پرواہ بھی نہیں ہو گی کیونکہ ظاہر ہے ان کے نزدیک اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
دوسری بات، اگر اپنی محرم کسی عورت کو بھی ہاتھ لگ جائے، شافعی کے نزدیک تو وضو اس کا ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ یعنی اپنی والدہ کو بھی ہاتھ لگ جائے، وضو ٹوٹ جائے گا ان کا۔ لہٰذا وہ مطلب ہمارا نہیں ٹوٹتا۔
اچھا اب جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ اپنی بیوی کو، اپنی بیوی کو، والدہ نہیں اپنی بیوی کو، اگر ہاتھ لگ جائے، پھر بھی، تو مطلب جو ہے نا ان کا وضو ٹوٹ جائے گا۔
اچھا ابھی فاتحہ خلف الامام، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا، یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض ہے اور ہمارے نزدیک حرام ہے۔
کیا خیال ہے ہم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو غلط کہتے ہیں؟ کیوں؟ اس لیے کہ اجتہادی بات ہے۔ اجتہادی بات ہے، ٹھیک ہے نا؟
تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اگر ذکرِ جہری کو بدعت کہتے ہیں تو اجتہادی بات ہے۔ یہ اجتہادی بات ہے، حضرت اپنے مسلک پر قائم ہیں۔ نقشبندیوں کو نہیں کرنا چاہیے، ان کو بس ان کا طریقہ ایسا ہے۔ لیکن ذکرِ جہری ہمارے مشائخ کے نزدیک انتہائی مؤثر طریقہ ہے، قلبی کیفیات کو، قلبی جذب حاصل کرنے کا۔ لہٰذا ہم چشتیوں کو منع نہیں کریں گے۔ ہم چشتیوں کو منع نہیں کریں گے۔
جہاں تک سماع کی بات ہے، اس کے حدود قائم ہیں۔ حدود قائم ہیں۔ اور وہ حدود جو ہیں، فقہاء نے بھی قائم کیے ہیں۔ کیونکہ فقہاء بھی صوفیاء ہوتے تھے۔ تو انہوں نے باقاعدہ حدود قائم کیے ہیں کہ یہ چیز نہیں ہونی چاہیے، یہ چیز نہیں ہونی چاہیے، اگر یہ چیز نہ ہو تو پھر سماع ٹھیک ہے۔
جیسے خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے فرمایا چار شرطیں ہیں اس کے ساتھ، سماع کی۔
پہلی شرط یہ ہے کہ کلام عارفانہ ہو۔ یہ تو بہت سارے لوگ پورا کرتے ہیں۔
دوسری شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا جو ہے وہ، جس کو عام لوگ قوال کہتے ہیں، وہ عارف ہو۔ یعنی اس کا حق ادا کر سکے۔ سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کا کلام، چمبے دی بوٹی۔۔۔ ہاں یہ ہے نا کلام، میں اکثر پنجابیوں سے کہتا ہوں تمہارے اوپر قرض ہے اس کو صحیح طور پر پڑھنا۔ تمہارے اوپر قرض ہے۔ ابھی تم میں ایسا آدمی پیدا نہیں ہوا جو حضرت کا کلام صحیح پڑھ لے۔ صوفی۔۔۔ کوئی صوفی پیدا نہ ہوا۔ ڈوموں نے پڑھا ہے، لیکن ڈوموں سے کیا ہوتا ہے؟ ڈوموں کا تو کام ہی نہیں ہے، وہ تو "ھُو" کا ذکر کر ہی نہیں سکتے۔ ھُو کا ذکر کیسے ہوتا ہے؟ تو میں کہتا ہوں بھئی تمہارے اوپر یہ قرض ہے، آپ نے یہ کلام جو ہے نا مطلب صحیح طریقے سے پڑھنا ہے، کوئی صوفی کو پیدا کرو جو پڑھ سکے۔ تو یہ جو کلام مطلب جو ہے نا، وہ جو پڑھنے والا ہو کون ہو؟ عارف ہو۔ دو باتیں ہو گئیں؟
تیسری بات، جو سننے والے ہیں، وہ بھی عارفین ہوں۔ اور ساتھ مزید یہ فرمایا کہ اس میں کوئی عورت نہ ہو اور کوئی بچہ نہ ہو۔ موجود سامعین میں کوئی عورت اور بچہ موجود نہ ہو۔ تین باتیں ہو گئیں۔
چوتھی بات یہ فرمائی: "آلات چنگ و رباب نہ باشند"۔ میوزیکل انسٹرومنٹس ساتھ نہ ہوں۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک جگہ پر اس طرح تشریف لے گئے وہاں محفلِ سماع گرم تھی۔ تو لوگوں نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ بھی تو چشتی ہیں، آپ آئیے ہمارے ساتھ سماع میں تشریف رکھیں۔ تو وہ جو ہے نا مطلب غالباً حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار تھا۔ تو انہوں نے حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے خواجہ صاحب ناراض ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے؟ تو انہوں نے یہ شرائط بیان کیں کہ حضرت نے شرائط بیان کی ہیں، اب مجھے بتاؤ کہ آپ کا سماع ان شرائط پہ پورا اترتا ہے یا نہیں؟
تو انہوں نے کہا پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے کہا پھر میں کیسے بیٹھوں؟ مجھ سے حضرت ناراض نہیں ہوں گے؟
تو بات یہ ہے کہ یہ جو شرائط، اب ان شرائط پہ اگر آپ پورا کر لیتے ہیں پھر کوئی مسئلہ نہیں۔
شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد صاحب، اور بہت بڑے صاحبِ کشف اور بڑے اونچے علوم والے بزرگ گزرے ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ان کے بڑے اونچے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں اپنے والد صاحب کا۔
تو حضرت کے مکاشفات پر انہوں نے حضرت نے کتاب لکھی ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے۔ اس میں ایک بات حضرت نے یہ بتائی کہ خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے۔ تو حضرت کے ساتھ مراقبے میں ملاقات ہوئی۔ مکاشفے میں ملاقات ہوئی۔ تو حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے پوچھا، کہ اگر کوئی اچھا کلام ہو اور کوئی بتا دے کسی کو، تو اس کا کیسے، کیا مطلب آپ سمجھتے ہیں کیسا ہے؟ تو کہتا ہے، ”بڑا اچھا ہے۔“ انہوں نے کہا، ”اگر وہ شعر میں ہو؟“ کہتا ہے، ”یہ تو اور بھی مفید ہے کیونکہ شعر میں اثر زیادہ ہوتا ہے، اور کلام اچھا ہے۔“ فرمایا، ”اگر وہ کوئی اچھی آواز میں اس کو پڑھ لے؟“ تو انہوں نے کہا، ”یہ تو مزید ما شاء اللہ نور علیٰ نور ہے، کہ بہت ہی زیادہ اچھا فائدہ ہوگا کیونکہ کلام بھی اچھا ہو، اور پڑھنے والے کی آواز بھی اچھی ہو، اور تو شعر بھی ہو، تو یہ تو بہت ہی اچھا ہے۔“ فرمایا، ”یہی ہم سنتے تھے، اس سے زیادہ نہیں تھا۔ اس سے زیادہ نہیں تھا۔ آپ بھی کبھی کبھی سنا کریں۔ ایک دو شعر کبھی کبھی سن لیا کریں۔“
اب شاہ عبدالرحیم صاحب نقشبندی بزرگ تھے۔ خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ چشتی بزرگ تھے۔ تو یہ چیزیں جو ہیں یہ کیا چیز ہے؟ جس طرح آپ کو وہ زمانہ، اور ہمیں وہ زمانہ ملا نہیں، کاش وہ زمانہ دوبارہ لوٹ آئے۔ جس میں فقہاء کرام آپس میں اس زبردست اختلاف کرتے تھے کہ ایک فرماتے تھے کہ یہ حرام ہے، دوسرا کہتا تھا نہیں یہ فرض ہے۔ اور آپس میں ما شاء اللہ ایک وقت جگہ پر کھانا کھاتے تھے، ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کو بہت یعنی اونچا سمجھتے تھے، ان کی قدر کرتے تھے۔ ایسا دور تھا۔ ایسا دور تھا۔ آج! یہ ہمارے ہاں نفسیاتی، نفس پرستی آ گئی۔ ہم اپنی بات پر جم جاتے ہیں۔ یہ ہمارے حضرت خواجہ صاحب، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، یہ ان کے بھی سب کشف تھے نا ہمارے حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب۔ تو یہ گئے حضرت کی قبر پہ حاضری، ہندوستان گئے تھے۔ تو یہ تو حضرت چونکہ نقشبندی حضرات کا وقار بہت ہوتا ہے نا، وقار ہوتا ہے زیادہ ڈیگنیفائیڈ (Dignified)، اور چشتیوں میں ذرا والہانہ پن زیادہ ہوتا ہے، وہ پرواہ نہیں کرتے اپنے زیادہ لباس کی، تمام چیزوں کی۔ تو یہ ذرا کافی سمٹ کے بیٹھ گئے نا طریقے سے، تو کہتے ہیں حضرت کو کشف ہوا، فرمایا: "ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ، میں چشتی بھی ہوں۔ ٹھیک طرح سے بیٹھو، میں چشتی بھی ہوں۔"
اصل میں حضرت کو پہلی نسبت چشتیت کی ملی تھی۔ والد صاحب سے اجازت جو ملی تھی، وہ چشتیوں کے سردار تھے ان کے والد صاحب۔ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ، وہ چشتیوں کے سردار تھے۔ تو یہ جو ہے نا یہ ظاہر ہے ان کو پہلے اجازت تو ادھر سے ملی تھی۔ تو یہ چشتی بھی تھے، یہ قادری بھی تھے۔ قادری بھی تھے اور یہ مولانا روم رحمتہ اللہ کا جو سلسلہ ہے کبروی، وہ ادھر بھی کبروی بھی تھے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ ٹھیک ہے جو انیسز (Analysis) جس بزرگ کا جو ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ دیکھیں ایلوپیتھی علاج ہے۔ ایلوپیتھی بھی علاج ہے، ہومیوپیتھی بھی علاج ہے، یونانی بھی علاج ہے، ایکیوپنکچر بھی ہے۔ ان کے اپنے اپنے اصول ہیں۔ اگر کوئی ڈاکٹر ہومیوپیتھ بھی ہو اور ایلوپیتھ بھی ہو، ایسے ہوتے ہیں، ڈاکٹر ایاز ادھر تھے ہمارے مری روڈ پر، مشہور ڈاکٹر تھے یہ ہومیوپیتھ بھی تھے ایلوپیتھ بھی تھے۔ علاج کرتے تھے، ایسے ہوتے ہیں۔ تو یہ جو بھی علاج کرتے ہیں تو پھر وہ یہ نہیں کرتے کہ ادھر سے ہومیوپیتھی لے لو اور ادھر سے ایلوپیتھی لے لے ان کو مکس کر کے، نہیں، ایسا نہیں ہے۔ وہ جس کا کرتے ہیں پھر اسی کے اصول پہ کرتے ہیں، جس علاج طریقے سے کرتے ہیں اسی اصول کو استعمال کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر ایلوپیتھی کے مطابق کریں گے تو ایلوپیتھی کا لٹریچر فالو کریں گے، ایلوپیتھی کا ریسرچ فالو کریں گے، ایلوپیتھی کا جو مطلب جتنا کچھ فائنڈنگز ہوتی ہیں اسی کے مطابق کریں گے۔ اور اگر ہومیوپیتھی کے مطابق، چاہے جانتے دونوں ہوں۔ وجہ کیا ہے کہ مکسنگ سے پھر آپ کو یہ دیکھیں نا بائی پراسس آف ایلیمینیشن (By process of elimination) یہ بہت اہم چیز ہے ریسرچ کا، کہ آپ ایک ایک کر کے چیزوں کو نکالتے ہیں پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اصل چیز کیا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں نے جو کیا اس کا کس چیز کا اثر تھا۔ تو اگر آپ نے دو طریقوں کو جمع کر دیا تو پتہ نہیں کیا بن جائے گا، اس سے کیا بن جائے گا؟
تو حضرت چونکہ یہاں نقشبندی سلسلے کی بات کر رہے ہیں تو اسی اصول پر بات کر لی۔ ٹھیک ہے نا؟ اسی اصول پہ بات کر لی۔ اگر چشتیت کے مطابق بات کرتے تو اسی اصول کے اوپر بات کرتے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں میں موجود ہے، میرے پاس پڑا ہوا ہے۔ وہ جو ہے نا وہ ذکر جہری کا کہ یہاں ضرورت پڑتی ہے ضربوں، شدید ضربوں کے ساتھ۔ جہری ذکر کا اب نقشبندی ہیں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ یہ بنیادی بات ہے کہ ہم اصولی بات جب کریں گے تو اصول کو سمجھ کے کریں گے۔ اصولی باتیں بغیر سمجھے، اصول کو سمجھے بغیر نہیں کر سکتے۔
تو یہ جو میں نے اتنی تفصیل بیان کر لی اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کہہ دیں بھئی تم حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ کی بڑی باتیں کرتے ہو اور ادھر ذکر جہری بھی کراتے ہو۔ حضرت کی طرف سے مجھے پیغام ملا، جس وقت مکتوبات شریف، مکتوبات شریف کا سلسلہ ہمارا شروع ہوا۔ کچھ عرصہ یہ مکتوبات شریف کا سلسلہ چلتا رہا تو پیغام ملا کہ جب ہماری مکتوبات کا درس ہو تو اس دن آپ جو 'اللہ اللہ' کا ذکر ہے اس کا مراقبہ کر لیا کریں۔ یہ ذکر خفی کر لیا کریں۔ باقی فرمایا باقی آپ جیسے بھی کریں باقی کر لیں، لیکن یہ جو 'اللہ اللہ' کا ذکر ہے یہ ہمارے طریقے پہ کر لیں۔ سبحان اللہ، کیا بات ہے۔ باقی تینوں کو نہیں روکا کہ 'لا الہ الا اللہ' کا ذکر جو ہم کرتے ہیں، یا 'لا الہ الا' کا ذکر جو ہم کرتے ہیں، یا 'حق' کا ذکر، اس کو نہیں روکا۔ فرمایا وہ جیسے آپ کرتے ہیں کرتے رہیں، لیکن یہ جو ہے نا یہ... تو کبھی کبھی ہم بھول جاتے ہیں لیکن اکثر آپ لوگوں نے دیکھا ہے کہ ہم جو ہے نا وہ مکتوبات شریف کے درس کے دن جو ہے نا مطلب اس کو مراقبہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہر ہے حضرت کا حکم ہے، الحمدللہ حضرت اس سلسلے کے سرخیل ہیں۔ تو یہ باتیں جو ہیں اس وجہ سے میں نے تفصیل کے ساتھ کی تاکہ یہ کسی کو خیال نہ ہو کہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔
جو ذکر جہری کی بات ہوئی ہے تو ذکر جہری جو ہے یہ علاجی ذکر ہے۔ یہ ثوابی ذکر نہیں ہے۔ اور ثواب کے طور پہ کوئی کرے گا تو پھر اس میں بات بن سکتی ہے کہ کہیں محدثات الباطل نہ ہو جائے۔ تو اس وجہ سے اس میں ثواب کی نیت نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں دو گروہ مطلب علماء کے دو رائے ہیں، آراء ہیں۔ کچھ حضرات فرماتے ہیں کہ اس میں ذکر کی ثواب کی نیت کی جا سکتی ہے لیکن جو ضرب و جہر ہے اس کی نہ کریں کیونکہ وہ ایک ایکسٹرا چیز ہے۔ تو اس کی ثواب کی نیت نہ کریں۔ اور کچھ حضرات کہتے ہیں کہ بالکل ہی نیت نہ کریں۔ یعنی ذکر جو ہے اس کو بھی علاجی ذکر سمجھ لیں اور اس میں بھی نہ کریں۔ تو ہم خود یہی کرتے ہیں۔ کہ باقاعدہ کبھی کبھی اعلان بھی کر لیتے ہیں کہ یہ ہمارے علاجی ذکر ہیں اس میں ہم ثواب کی نیت نہیں کرتے۔ تو پھر جب ثواب کی نیت نہیں ہوتی تو اس پر بدعت کا فتوی نہیں لگ سکتا۔ کیونکہ جب ثواب کسی چیز میں سمجھا جائے تو اس میں پھر گویا یہ ہے کہ اس کا ثابت کرنا پڑتا ہے شرعی طور پہ کہ آیا وہ ثابت ہے یا نہیں ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو تجرباتی طور پہ بات ہوگی۔ یعنی اگر ثواب کی نیت نہیں ہوگی تو محض ایک تجربے کی بات ہوگی۔ تو تجربے میں ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جو چیز جس چیز کا فائدہ ہو۔ جیسے حبسِ دم ہے صوفیا میں یہ بھی مطلب موجود ہے بلکہ نقشبندی سلسلے میں کافی حبسِ دم سے کام لیا جاتا ہے۔ تو حبسِ دم جو ہے وہ تو جوگیوں سے لیا ہے۔ تو اس کو ہم استعمال کرتے ہیں۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ یہ اگر ثواب کی نیت نہ کی جائے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ بات اسی طرح ہمارے جو نقشبندی سلسلے کے جو مراقبات ہیں وہ بھی مقاصد میں نہیں ہیں، وہ بھی علاج ہیں۔ تو ان کو بھی علاج سمجھنا پڑتا ہے تب جو ہے نا وہ ذرا مطلب اس میں ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تو یہ مقاصد نہیں ہیں یہ کیا ہیں؟ ذرائع ہیں۔ ذکر جہری بالجہر بھی ذریعہ ہے، ذکر سری بھی ذریعہ ہے، مراقبات بھی ذریعہ ہیں۔ تو ذرائع کے اوپر جو ہے نا وہ ذرائع تجرباتی ہوتی ہیں۔ اس میں ثواب کی نیت نہیں کی جاتی، ہاں البتہ یہ ہے کہ اس میں علاج کی نیت کی جاتی ہے۔ تو اگر اس قسم کی بات ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے اس میں۔
جاننا چاہیے کہ سماع اور رقص درحقیقت لہو و لعب میں داخل ہے۔ (عربی عبارت) اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی نالائق ہے جو واہیات خرافات قصے کہانیاں مول لیتا ہے۔ سرود سے منع کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ چنانچہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے شاگرد ہیں اور کبار تابعین میں سے ہیں، فرماتے ہیں "لہو الحدیث" سے مراد سرود ہے۔ اور تفسیر مدارک میں ہے کہ لہو الحدیث سے مراد بادشاہتِ یہود کے قصے کہانیوں میں وقت گزارنا اور سرود و نغمہ ہے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قسم کھاتے تھے کہ بے شک وہ غنا اور سرود ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالی کے قول (لا یشھدون الزور) زور میں حاضر نہیں ہوتے، کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی سرود و سماع میں حاضر نہیں ہوتے۔
اور امام الہدی ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی گئی ہے کہ جس شخص نے ہمارے زمانے میں کسی قاری کو جو کلماتِ قران میں گانے کے طرز پر پڑھنے کی وجہ سے تغیر پیدا کرتا ہے، قرات کے وقت کہا "تو نے بہت اچھا پڑھا" تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ ماتریدی ہمارے امام ہیں مطلب کلام میں۔ اور اس کی عورت کو طلاق ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی اس کی تمام نیکیوں کو ضائع کرتا ہے۔
دیکھیں احتیاط تو اچھی بات ہے۔ ٹھیک ہے اختلاف اپنی جگہ پر بعض مسئلوں میں اختلاف بھی ہوتا ہے لیکن جب بزرگوں میں اختلاف ہو کسی چیز کا اور اس سے بچا جا سکے۔ بعض چیزوں سے تو نہیں بچ سکتے نا، جیسے اب فاتحہ خلف الامام ہے۔ وہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک فرض ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک حرام ہے۔ اس میں ہم دونوں کو جمع نہیں کر سکتے۔ تو اس میں صرف اپنے امام کی بات پہ عمل کرنا ہے اور دوسرے امام کی بات کے بارے میں خاموش رہنا ہے۔ یہی ہم کر سکتے ہیں نا اس میں۔ لیکن کسی وقت جمع کیا جا سکتا ہے، کسی وقت ایسا بھی جمع کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض بزرگوں کا باقاعدہ یہ مسلک ہے، مسلک ہے، جن میں مجدد صاحب بھی شامل ہیں۔ ان کا بھی مسلک تھا۔ کہ جب اختلاف ہوتا تھا ائمہ میں تو ایسا عمل کرتے کہ کسی امام کے خلاف نہ ہو۔ کسی امام کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً مجدد صاحب رحمتہ اللہ علیہ خود نماز اس لیے پڑھاتے تھے، فرماتے تھے کہ فاتحہ خلف الامام کے جو دلائل ہیں وہ بھی کافی وزنی ہیں، لہذا مجھ پر وہ بات نہ آئے۔ ایسے ایسے جو ہے نا مطلب مشائخ ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خون آئے تب بھی وضو کرتے ہیں اور مسِ عورت ہو گیا تو تب بھی وضو کرتے ہیں۔ تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ اس میں جمع کیا جا سکتا ہے نا۔ تکلیف البتہ زیادہ ہے۔ یعنی اس میں آپ کو کام زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ ہاں مجاہدہ زیادہ ہے لیکن بہرحال آپ بچ تو گئے نا۔ تو اس طریقے سے مطلب وہ جو حضرات وہ کر سکتے ہیں۔
تو اب یہ منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر عمل تو کیا جا سکتا ہے نا۔ یہ کوئی مشکل بات تو نہیں ہے نا۔ مطلب یہ ہے کہ قران کو واقعتاً آج کل تو کچھ... بلکہ مجھے تو بے ادبی لگتی ہے بعض دفعہ قران کے ساتھ اس طرح یعنی وہ کھیل کھیلنا گویا ایک قسم کی۔ تو وہ تو مجھے تو بے ادبی لگتی ہے۔ ظاہر ہے کہہ تو کچھ نہیں سکتا کہ میں نہ قاری ہوں نہ عالم ہوں لیکن لگتی تو مجھے بے ادبی ہے کہ بھئی جو ہے نا وہ قران کو اس طرح... حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ قرات پڑھتے تھے تو سادہ قرات پڑھتے تھے۔ بس کہ سمجھ آ جائے، بس اس طریقے سے سادہ قرات پڑھتے تھے۔ بہت زیادہ تکلف اس میں نہیں کرتے تھے۔ اور لوگوں کو تو باقاعدہ ایڈکشن (Addiction) ہو گیا ہے کہ اتنا زیادہ مطلب جو ہے مختلف طریقوں سے پڑھتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ بھئی یہ کرنے والے ہیں، کرنا کیا چاہتے ہیں۔ تو اس میں جو آوازوں کو آگے پیچھے کرنا، مدوں کو بہت زیادہ بڑھانا، مطلب اس کے لیے کوئی تجوید کا قاعدہ سامنے نہیں ہوتا کہ بھئی تجوید... یہ ہمارے مفتی، ہمارے مولانا عبدالحق نافع صاحب جو دیوبند میں استاد تھے، یہ قاری عبدالباسط کو گویا کہتے تھے۔ یہ تو گویا ہے۔ قاری عبدالباسط جو تھے مطلب اس طرح کے، اس کو گویا کہتے تھے کہ یہ گویا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً بعض لوگ بہت ہی زیادہ تکلف کرتے ہیں۔ ان کا جو ہے نا وہ تجوید کے قواعد کو بالائے طاق رکھ لیتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ایسی صورت میں ماتریدی رحمتہ اللہ علیہ کے قول پر اگر عمل کر لیں اور کم از کم ان کو داد نہ دیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ ایسی مجلس میں شامل نہ ہوا جائے، لیکن اگر شامل ہو تو داد تو نہ دیں نا کم از کم۔ جس چیز میں شک ہو۔ علماء کا اختلاف ہو اور وہ بھی ایسے امام کا، ماتریدی رحمتہ اللہ علیہ اس پر ہیں نا، مشرب پر ہیں نا۔ یعنی ہمارا مشرب جو ہے نا ماتریدی ہے نا۔ تو پھر ہم لوگ کم از کم اتنا احترام تو کریں نا اپنے امام کا، کہ ایسی چیزوں میں تو نہ پڑیں۔ تو یہ بات ہے کہ احتیاط کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے اماموں میں اختلاف ہوتا ہے اور اپنے امام کو پکڑنا ہے لازماً، باقی اماموں کی باتوں کو نہیں چھیڑنا۔ لیکن اگر ایسی بات ہو جس کو جس پہ عمل ہو سکتا ہے تو اس میں کوئی ایسی بات تو نہیں ہے۔ انسان کوشش کر سکتا ہے۔ اور یہ تو مجھے یعنی آج سند مل گئی۔ پہلے میری بات بے سند ہوتی تھی۔ تو طبیعت پہ میرا بوجھ آتا تھا بہت زیادہ۔ لیکن ظاہر ہے میرے پاس سند تو نہیں تھی کہ میں کون سی بات کر لوں۔ تو آج الحمدللہ سند مل گئی۔
اور ابو نصیر الدبوسی سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے قاضی ظہیر الدین خوارزمی سے نقل کیا کہ جس نے گانے والے کی کسی سے سرود سنایا اسے اچھا جانا، اس وقت مرتد ہو جاتا ہے۔ خواہ اچھا جانا اعتقاد کے رو سے ہو یا بغیر اعتقاد کے۔ کیونکہ اس نے شریعت کے حکم کو باطل کر دیا اور جس نے شریعت کے حکم کو باطل کر دیا کسی مجتہد کے نزدیک مومن نہیں رہتا۔ اور اللہ تعالی اس کی عبادت کو قبول نہیں کرتا، اس کی سب نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس سے بچائے۔
یہ میں آپ کو کیا بتاؤں؟ بہت خطرناک باتیں ہیں۔ بہت خطرناک باتیں ہیں ہم لوگ محجوبین ہیں۔ محجوبین یعنی ہمیں بہت ساری چیزوں کا مطلب ان چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا، نظر نہیں آتیں۔ ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جنت البقیع میں ایک شیخ کوئی دفن تھے۔ تو، نہیں جنت البقیع میں نہیں مکہ مکرمہ۔ مکہ مکرمہ ایک شیخ دفن تھے۔ تو کسی وجہ سے ان کی قبر کھودی گئی۔ تو وہاں دیکھا کہ ایک لڑکی کی لاش ہے۔ اتفاق سے دیکھنے والوں میں وہ لڑکی فرانس کی تھی۔ اتفاق سے دیکھنے والوں میں فرانس کا آدمی بھی موجود تھا۔ اور وہ اس لڑکی کو جانتا تھا۔ بڑا حیران ہوا کہ اس کی لاش ادھر سے کیسے ملا۔ اب چونکہ فرانس کا تھا تو شک تو اس کو پڑ گیا کہ کچھ ہوا ہے۔ کچھ ہوا ہے۔ تو ایسا ہوا کہ وہ جب فرانس اپنی جگہ پہ گیا تو وہاں اس لڑکی کی قبر کو کسی طریقے سے کھدوایا۔ تو دیکھا وہاں وہ شیخ موجود تھے۔ جو مکہ مکرمہ میں دفن تھے۔ اب تو یہ بہت ہی زیادہ پریشان ہو گئے۔ پھر واپس آئے۔ اور لوگوں کو بتایا۔ ہم لوگ بھی حیران کہ کیا صورتحال ہے کیونکہ جن سب لوگوں کے سامنے وہ تو ان کی قبر سے وہ نکلے نہیں، تو یہاں بھی تو شک تو پڑ گیا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ ان کی بیوی سے پوچھا جائے۔ کہ کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ، کوئی خاص مسئلہ ہو، اگر اس کو پتہ ہو تو ہمیں بتا دیا جائے۔ تو ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو بڑی گھبرا گئی۔ اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ باقی تو تمام چیزوں پہ عامل تھے، کبھی کبھی وہ یہ کہہ دیتے تھے کہ عیسائیوں میں یہ طریقہ اچھا ہے کہ جنابت میں غسل نہیں کرنا پڑتا۔ یہ۔ اور اس لڑکی کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ مسلمان ہو چکی تھی چپکے سے۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے۔ تو ان کو وہاں کے ظاہر ہے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا۔ لیکن اللہ پاک کے ہاں تو مسلمان ہو چکی تھی۔ تو ان کو یہاں پہنچا دیا۔
تو اس طرح یہ والی باتیں ہیں کہ ہمیں کم از کم یہ باتیں تو اب بہت زیادہ روکنی چاہیے کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا میں اس قسم کی باتیں آتی ہیں۔ بغیر تحقیق کے بعض دفعہ، بعض دفعہ بغیر کسی سوچ کے کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے جس میں دوسرے جو غیر مسلم لوگ ہیں ان کے طریقے کی تعریف ہوتی ہے۔ دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، طریقے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ غیر مسلم ہیں اگر ہمارے طریقے پہ چلے گئے ہوں، اس سے ان کو فائدہ ہو رہا ہو، اس کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ تو اپنے منہ پہ تھپڑ مارنے والی بات ہے نا کہ ہمیں حاصل نہیں ہے ان کو حاصل ہے۔ وہ تو اپنے منہ پہ تھپڑ مارنے والی بات ہے۔ اس کے بیان کرنے میں تو انسان کو عبرت ہوتی ہے کہ دیکھو ان لوگوں نے حاصل کیا اور ہم لوگوں نے حاصل نہیں کیا۔ لیکن بعض ان کے شعار ہوتے ہیں۔ مذہبی شعار ہوتے ہیں۔ ان کے جو مذہبی شعار ہیں ان کو ان کا جو ہے نا مطلب اچھا کہنا یہ غلط بات ہے۔ حضرت یہ فرمانا چاہتے ہیں۔ کہ جو ان کے مذہبی شعار کی چیزیں ہیں ان کو اچھا نہ کہو۔ بے شک مجبورا اس کو استعمال بھی کرو۔ بعض دفعہ مجبورا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ۔ اگرچہ جو ہوتے ہیں یعنی جو عزیمت والے لوگ ہوتے ہیں وہ نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی کمزور ہے اور رخصت کے طور پر اس کو استعمال کر لے، تو استعمال کرنا اور بات ہے لیکن اس کو اچھا اور بات ہے۔ یہ خطرناک بات ہے۔
تو یہاں پر حضرت نے فرمایا کہ ان کے کسی کام کو، چاہے اعتقاداً ہو یا غیر اعتقاداً ہو۔ اگر کوئی اچھا کہے گا تو یہ مرتد ہو جائے گا۔ سرود و غنا کی حرمت میں آیا تو احادیث و روایاتِ فقہیہ اس کثرت سے ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص منسوخ حدیث یا روایتِ شاذہ کو سرود کے مباح ہونے میں پیش کرے، تو اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ کسی فقیہ نے کسی زمانے میں بھی سرود کے مباح ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔ اور نہ ہی رقص و پاکوبی کو جائز قرار دیا ہے۔ جیسا کہ امام ضیاء الدین شامی کے ملفوظات میں مذکور ہے۔ اور صوفیہ کا عمل حِلّ و حرمت میں سند نہیں ہے۔ کیا؟ ان کے لیے صرف، یہ تو صرف یہی کافی نہیں کہ ہم ان کو معذور سمجھیں، ان کو ملامت نہ کریں۔ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ یہاں تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول معتبر ہے۔ نہ کہ ابوبکر شبلی اور ابوالحسن نوری کا عمل۔
یہ وہ تاریخی ملفوظ ہے حضرت کا، جو کافی بار حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مواعظ میں لے چکے ہیں۔ کہ حضرت فرماتے تھے کہ یہ وہ بات ہے جہاں پر امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور ان حضرات کا قول مانا جائے گا۔ یہاں پر ابوبکر شبلی اور جنید بغدادی کی بات نہیں مانی جائے گی۔ وجہ کیا ہے؟ domain ہے اپنا اپنا۔ مجھے بتاؤ ڈاکٹری میں انجینئر کی بات مان سکتے ہیں آپ؟ چاہے وہ کتنا عقلمند کیوں نہ ہو۔ آپ نہیں مان سکتے۔ آپ کہیں گے، ”ٹھیک ہے جی آپ بڑے اچھے آدمی ہیں، بڑے اچھے انجینئر ہیں لیکن یہ معاملہ ڈاکٹری کا ہے۔ اور انجینئرنگ کی بات میں ڈاکٹر کی بات نہیں مان سکتے ہو۔“ بے شک کتنا ہی میڈیکل سپیشلسٹ ہو یا جو بھی ہو، سرجیکل سپیشلسٹ ہو، نہیں! ”حضرت آپ کا یہ آپ کا field نہیں ہے، اس میں آپ کی بات نہیں چلے گی۔“ تو بات بالکل صحیح ہے، وہ میرے خیال میں وہ mind بھی نہیں کرتے۔ اگر کسی ڈاکٹر کو کہہ دیں کہ بھئی انجینئرنگ میں بات نہ کرو، اور انجینئر کو کہہ دیں کہ بھئی ڈاکٹری میں بات نہ کرو، تو میرا تو خیال ہے کہ شاید کوئی mind بھی نہیں کرے گا اور کہے گا بات بالکل بات صحیح ہے۔
تو اسی طریقے سے صوفی کو تصوف میں بات کرنی چاہیے، اور فقیہ کو فقہ میں بات کرنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء جو تھے، یہ جب صوفی ہوتے تھے تو اپنے شیخ کی ایسے مانتے تھے جیسے مطلب عام آدمی مانتے تھے۔ اپنے شیخ کی بات مانتے تھے۔ تصوف میں۔ شیخ کی بات مانتے تھے۔ جیسے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی بات مانتے تھے۔ اور فرمایا تھا کہ ”لَوْلَا سَنَتَانِ لَهَلَكَ نُعْمَانُ“۔ یہ وہ دو سال میں نے جو امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزارے ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔ تو اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے، تو صوفیائے کرام جو مقلد ہیں کسی فقیہ کے، تو اس مسئلے میں اپنی بات نہیں کرتے۔ وہ اپنے امام کی بات کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کا field نہیں ہے۔ یہ ان کا field نہیں ہے۔ اور دوسری طرف جو فقہاء ہیں، وہ جس وقت مرید ہوتے ہیں، تو پھر وہ دوسری بات نہیں کرتے، پھر وہ تصوف میں اپنی بات نہیں چلاتے پھر اپنے شیخ کی بات چلاتے ہیں۔ اور یہی محفوظ طریقہ ہے۔ یہی محفوظ طریقہ ہے۔
یہی بات حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے کی تھی جس میں بعض لوگوں کو بڑی ناراضگی ہوتی ہے۔ حضرت نے، فرمایا تھا کہ ”بھئی یہ مسئلہ فقہ کا ہے۔ اس میں ہم حاجی صاحب کی نہیں بات مان سکتے، حاجی صاحب کو ہماری بات ماننی پڑے گی۔“ اور حاجی صاحب تک وہ بات پہنچی بھی اور حضرت نے اس کی تائید فرمائی۔ کہ ”ہاں یہ بات تو بالکل اس طرح ہے۔ اس میں تو ہم ان کی بات مانیں گے۔“ یہ ظاہر ہے مطلب ایک چیز ہے نا، ایک طریقہ کار ہے۔ اس میں کیا خوامخواہ مشکل بات ہے؟ جو چیز مطلب طے ہے، تو اس کو، اس کو کیوں disturb کرتے ہو؟ specialization ہے۔ یہ دور specialization کا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اس specialization کے دور میں یہ بات کسی کو سمجھ نہ آئے۔ اس وقت تو ہنسی اور مذاق کے طور پر کہا جاتا ہے لطیفے کے طور پر، کہ ایک صاحب ایک dental surgeon کے پاس چلا گیا۔ تو اس سے کہا جی میرے دانت ذرا دیکھیں کدھر ہیں۔ تو اس نے اس پر ہاتھ رکھا تو، ”اوہ sorry! یہ تو آپ کے upper jaw میں ہے۔ میں تو lower jaw کا expert ہوں۔“ اچھا اب lower jaw والے کے پاس بھیج دیا۔ تو اس کے اس نے دیکھا، ”کہتے کدھر ہے؟“ تو اس نے کہا، ”right کو“۔ کہتا ہے، ”اوہ sorry sorry! میں تو left upper jaw کا expert ہوں۔“
یعنی کمال کی بات ہے۔ اب آج کل تو دور ایسا آ گیا ہے۔ یعنی physics میں کتنی branches کھل گئی ہیں؟ اور chemistry میں کتنی؟ آپ حیران ہو جائیں گے، میں تو بہت حیران ہو گیا۔ physical chemistry اور chemical physics! subjects ہیں، آپ دیکھ لیں۔ chemical physics بھی ہے اور physical chemistry بھی ہے۔ چلو فرق بتاؤ!
تو یہ آج کل دور specialization کا ہے۔ لہٰذا اس specialization کے دور میں اگر کوئی، کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، تو مجھے تو وہ لوگ سمجھ نہیں آتے کہ وہ لوگ کیسے لوگ ہیں۔ ٹھیک ہے نا!
اچھا اس زمانے کے خام صوفیوں نے اپنے پیروں کے عمل کا بہانہ بنا کر سرود و رقص کو اپنا دین و ملت بنا لیا ہے۔ اور اسی کو طاعت و عبادت سمجھ لیا ہے۔ اَلَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا۔ اور سابقہ روایات سے معلوم ہوا ہے کہ جو شخص لہو و لعب کو مستحسن و اچھا جانے گا وہ اسلام کے گروہ سے نکل جاتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے۔ تو پھر خیال کرنا چاہیے کہ سماع اور رقص کی مجلس کی تعظیم کرنا بلکہ اس کو طاعت و عبادت سمجھنا کس قدر برا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا احسان ہے کہ ہمارے پیر اس مرض میں مبتلا نہیں ہوئے اور ہم متبعین کو اس قسم کے امور کی تقلید سے چھڑا لیا۔ سبحان اللہ! سننے میں آیا ہے کہ مخدوم زادے سرود کی طرف رغبت رکھتے ہیں، اور جمعہ کی راتوں میں سرود اور قصیدہ خوانی کی مجالس منعقد کرتے ہیں۔ دیکھو حضرت نے یہ باتیں کیوں کی ہیں؟ آخر کوئی وجہ، ضرورت تھی نا، ویسے تو نہیں کی۔
اور اکثر احباب اس امر میں موافقت کرتے ہیں۔ نہایت تعجب کی بات ہے کہ دوسرے سلسلوں کے مرید تو اپنے پیروں کے عمل کا بہانہ بنا کر اس امر کے مرتکب ہوں، اور شرعی، شرعی حرمت کو اپنے پیروں کے عمل سے دفع کرتے ہیں۔ اگرچہ فی الحقیقت وہ اس امر پر حق پر نہیں ہیں۔ بھلا اس سلسلے کے احباب اس ارتکاب میں کون سا عذر پیش کریں گے؟ کیونکہ ان کے پیر تو اس طرف نہیں ہیں۔ ایک طرف حرمتِ شرعی اور دوسری طرف اپنے پیروں کی مخالفت ہوئی۔ نہ اہلِ شریعت اس فعل سے راضی اور نہ اہلِ طریقت! اگر حرمتِ شرعی نہ بھی ہوتی، تو بھی طریقت میں کسی نئے امر کا پیدا کرنا برا ہوتا۔ پھر ایسا امر کس طرح برا نہ ہوگا جب کہ حرمتِ شرعی بھی اس کے ساتھ جمع ہو جائے؟ مجھے یقین ہے کہ جناب مرزا جیو (یعنی خواجہ حسام الدین صاحب) اس امر سے راضی نہیں ہوں گے، لیکن آپ کے آداب کو مدنظر رکھ کر صریح طور پر منع بھی نہ کرتے ہوں گے اور دوستوں کو اس اجتماع سے نہ روکتے ہوں گے۔ اس فقیر نے چونکہ اپنے ہاں میں کچھ توقف دیکھا، اس لیے چند فقرے جمع کر کے لکھ بھیجے ہیں۔ اس سبق کو مرزا جیو کی خدمت میں پیش کر دیں، اور اول سے آخر تک ان کے سامنے پڑھیں۔ وَالسَّلَامُ۔ 1:06:30
یہ وہ چلنا، یہ کودنا، یہ بزرگی تو نہیں۔ یہ اچھلنا، یہ کودنا، یہ بزرگی تو نہیں، بزرگ سمجھنا اپنے آپ کو بندگی تو نہیں۔
1:07:10
ہمارے حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ایک مرید، خلیفہ، حضرت مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کو ایک دفعہ فرمایا، ”میاں عبدالحی! کبھی اگر مجھ سے کوئی سنت کے خلاف کام ہو جائے تو مجھے بتا دیا کرو۔“ اپنے خلیفہ کو، چونکہ عالم تھے۔ فرمایا اگر مجھ سے کوئی سنت کی مخالفت ہو جائے، تو مجھے بتا دیا کرو۔ تو حضرت مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”حضرت! عبدالحی آپ کے پاس اس وقت ہوگا کب، جب آپ سنت کے خلاف کریں گے؟ عبدالحی آپ کے پاس اس وقت ہوگا کب، جب آپ سنت کے خلاف کریں گے؟“ اور پھر یہ ہے کہ مولانا عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب غصہ ہو جاتے نا، جلال میں آ جاتے۔ کسی غیر شرعی بات پر۔ تو وہ بہت جلالی بیان کرتے تھے۔ تو حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا گیا کہ اس دوران حضرت کے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ خاموشی کے ساتھ بس کھڑے ہو جاتے۔ تو لوگوں نے بعد میں پوچھا، ”حضرت ہم نے بارہا آپ کو دیکھا ہے کہ جب مولانا عبدالحی صاحب بڑے جلال میں ہوتے ہیں تو آپ ان کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں، کیا کرتے ہیں آپ؟“ فرمایا، ”اس وقت چونکہ ان کا غصہ اللہ کے لیے ہوتا ہے، تو ان پر اللہ کی خصوصی رحمت اتر رہی ہوتی ہے۔ تو میں بھی ساتھ کھڑا ہو جاتا ہوں کہ مجھے بھی اس رحمت سے حصہ مل جائے۔“ اگر نفس کی وجہ سے نہ ہو نا، نفس کی وجہ سے نہ ہو، اور اللہ کے لیے ہو، تو اس پر تو رحمت ہی رحمت ہے۔ اس پر تو رحمت ہی رحمت ہے۔
یہ بہت اہم بات ہے، ہم لوگ سمجھتے ہیں سب کو ایک ہی، وہ کہتے ہیں نا، گھوڑوں گدھوں کو ملا کر رکھتے ہیں۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ نفس کی وجہ سے تشدد سے فتنہ پھیلتا ہے۔ نفس کی وجہ سے تشدد سے فتنہ پھیلتا ہے، ضد میں لوگ آتے ہیں۔ اور اللہ جل شانہ کے لیے جو ہوتا ہے، اس سے رحمت آتی ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی اس طرح مزاج تھا نا، ذرا تھوڑی سی وہ آ جاتا۔ تو حضرت نے فرمایا میرے مزاج میں شدت نہیں ہے، جیسے لوگوں نے مشہور کیا، اس میں حدت ہے۔ اس میں شدت نہیں ہے، اس میں حدت ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ واقعتاً اگر دیکھا جائے، اللہ کے لیے ہو تو حدت ہوتی ہے۔ اور نفس کے لیے ہو تو وہ شدت ہوتی ہے۔ تو تشدد نفس کی وجہ سے نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، دیکھو عمر رضی اللہ عنہ میں حدت تھی یا نہیں تھی؟ اب دیکھیں ایک صاحب کو کھانا کھاتے دیکھا۔ بائیں ہاتھ سے۔ نصیحت کی، بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ پھر دوبارہ آئے تو پھر بائیں ہاتھ سے کھا رہے تھے۔ پھر فرمایا، میں نے آپ کو کہا نہیں تھا کہ بائیں ہاتھ سے نہیں کھانا چاہیے۔ تو وہ پھر بھی خاموش رہے۔ تیسری بات جب دیکھا، تو کوڑا نکالا۔ میں بار بار تجھے کہتا ہوں کہ بائیں ہاتھ سے نہیں کھانا چاہیے۔ اس نے کہا، ”حضرت میرا دایاں ہاتھ ہے نہیں، شہید ہو چکا ہے۔ جہاد میں شہید ہو چکا ہے۔“ تو بس اس کو سن کر حضرت رونے لگ گئے اور اس سے معافیاں مانگنے لگے۔ نفس کے لیے نہیں تھا نا! اللہ کے لیے تھا نا! اس سے معافیاں مانگنے لگے، خدا کے لیے مجھے معاف کر دو، پتہ نہیں دیکھو آپ ناڑا کیسے باندھتے ہوں گے، آپ یہ کام کیسے کرتے ہوں گے، یہ کام کیسے کرتے ہوں گے، آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ یہ ہوتا ہے۔
جس وقت اللہ کے لیے ہوتا ہے، پھر اس میں یہ بات بھی ہوتی ہے۔ جب اپنی غلطی معلوم ہو جاتی ہے فوراً اس طریقے سے کرتے ہیں اور جس وقت نفس کے لیے ہوتی ہے، تو بات بے شک معلوم بھی ہو جائے، لیکن وہ چونکہ بات ہی اور ہوتی ہے۔ جس وجہ سے ہوتی ہے وہ چیز تو ختم نہیں ہو چکی ہوتی، لہٰذا وہ چیز بدستور ہوتی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ کا حکم نہ ٹوٹے۔ کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ٹوٹے۔ ہمارے سامنے تین چیزیں ہیں۔ عقیدہ سلامت ہو۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرما دے۔ اعمال فقہ کے مطابق صحیح ہوں۔ ایک اکثر میں ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں۔ جو مجھے مجبوراً کہنا پڑتا ہے، اور ڈر ڈر کر کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ڈر ڈر کر کہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ دیکھو! قرآن کا پڑھنا مستحب، اور قرآن کا ترجمہ پڑھنا بھی فرضِ کفایہ ہے۔ لیکن شریعت پر عمل کرنا، فرائض پر عمل کرنا فرض ہے۔ اس کا ترک حرام ہے۔ اور واجبات! اس کو ادا کرنا، یہ واجب ہے۔ اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے۔ تو اس کا علم بھی اسی درجے میں ہے۔ فرض کا علم فرض، واجب کا علم واجب۔ جب یہ والی بات ہے، تو وہ کہاں سے معلوم ہوگا؟ وہ آپ کو قرآن اور حدیث سے معلوم ہوگا؟ یہ واجب اور فرض اور واجب کہاں سے معلوم ہوگا؟ فقہ سے! فقہ سے معلوم ہوگا۔ کیونکہ قرآن اور سنت سے، اس سے ہر ایک تو نہیں نکال سکتا نا۔ یہ تو فقہاء کا کام ہے۔ آپ سارا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھ لیں، کیا آپ نماز کا طریقہ نکال سکتے ہیں اس سے؟ نکال کر دکھا دیں۔ نہیں نکال سکتے۔ تو فقہاء کا کام ہے۔ بہت ساری احادیث، قرآن کی آیتیں ان کے سامنے ہوتی ہیں، پھر تشریحات ہوتی ہیں ان کی، اور سب سے وہ نتیجہ جو نکلتا ہے وہ فقہ ہوتا ہے۔ تو فقہ ہمارے سامنے ایک تیار چیز ہے۔ تیار چیز ہے۔ بس اس کو استعمال کرنے کی دیر ہے۔ تو فقہ کے بغیر آپ کو ان چیزوں کا پتہ نہیں چلتا۔
تو آج کل فقہ کا درس دینے کے لیے کوئی عالم تیار نہیں ہے۔ فقہ کا درس دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ قرآن کا درس دینے کے لیے تیار ہیں، حدیث کا درس دینے کے لیے تیار ہیں، فقہ کا درس دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو میں بھی اس، اس دور کا المیہ کہتا ہوں۔ کیونکہ اس دور کے اندر جو لازمی چیزیں ہیں، ان سے غفلت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نماز! جو دو دن میں تفصیل کے ساتھ سیکھی جا سکتی ہے۔ دو دن میں۔ اگر آپ دو دن دے دیں، چھ چھ گھنٹے روزانہ، تو دو دن میں آپ نماز کے مسائل تفصیل کے ساتھ سیکھ سکتے ہیں۔ کسی کے پاس یہ دو دن ہیں؟ یہ دو دن کسی کے پاس نہیں ہیں۔ اور courses کے لیے پانچ پانچ، چھ چھ مہینے ہیں۔ باقی چیزوں کے لیے۔ اسی طرح زکوۃ کے بارے میں ہے، اسی طرح معاملات کے بارے میں ہے۔ یہ فرضِ عین علم ہے۔ بہت لازم ہے، فرضِ عین علم۔ تو طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ۔ یہ جو، کہ جو علم کا حاصل کرنا فرض ہے، کون سا علم جو فرضِ عین علم ہے۔ وہ ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے۔ تو اس کو حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس میں ہمارا کوئی استحقاق نہیں ہے۔ کہ اپنی website پر، ہم نے تین چیزیں دی ہوئی ہیں۔ پہلی چیز ہے عقائد، الحمد للہ! ما شاء اللہ بہت زبردست، ابھی یہ بھی دیں گے ان شاء اللہ یہ جو یہاں ہوا ہے نا یہ بھی دیں گے ان شاء اللہ۔ لیکن عقائد، جو بہشتی زیور میں عقائد لکھے ہیں، وہ سارے کے سارے دیے ہوئے ہیں۔ اور عربی میں عقیدۃ الطحاویہ دیا ہوا ہے۔ اب ہم ذکر کرتے ہیں۔ اور اسی طریقے کے مطابق تین دفعہ جہری کریں گے اور ایک خفی کریں گے ان شاء اللہ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
**سب سے جامع عنوان:** مکتوباتِ مجدد الف ثانیؒ کی روشنی میں تصوف، بدعات کا سدِباب اور فقہ کی اہمیت
**متبادل عنوان:** عقائد، اعمال اور احسان: تصوف میں در آنے والی خرافات اور ان کا شرعی حل
**اہم موضوعات:**
* حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے مکتوبات (مکتوب 266) کی اہمیت و افادیت۔
* حدیثِ جبریل کی روشنی میں دین کے تین بنیادی اجزاء: ایمان (عقائد)، اسلام (اعمال) اور احسان (تصوف/درجۂ حال)۔
* دورِ حاضر میں تصوف کے نام پر ہونے والی خرافات، نقشبندیت کے دعویداروں کی اچھل کود، اور غیر شرعی توجہ و کشف پر تنقید۔
* کشف و کرامات کے فتنے اور شیطان کے مکر و فریب (حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور دیگر بزرگوں کے واقعات)۔
* سماع، رقص اور غیر مسلموں کے مذہبی شعار کو اپنانے یا انہیں اچھا سمجھنے کی سختی سے ممانعت۔
* ہر فن کے ماہر کی قدر: صوفیاء اور فقہاء کے دائرہ کار (Domain/Specialization) کا فرق اور مختلف سلاسل اور مسالک (جیسے ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی) کو خلط ملط کرنے سے گریز۔
* دین کے فرائض (نماز، زکوٰۃ وغیرہ) سیکھنے کی اہمیت اور فقہِ حنفی کی ضرورت۔