مکتوبات امام ربانی
درس 132: مکتوب: 272
- روحانی ترقی کا دارومدار سلوک اور جذب دونوں پر ہے، جو محض وہبی نہیں بلکہ کسبی اور انسان کے اپنے اختیار میں ہیں۔
- طریقت میں جذب کسبی مستقل مقصود نہیں بلکہ سلوک طے کرنے کا محض ایک ذریعہ ہے، جسے مقصود بنا لینا سراسر بدعت اور محرومی ہے۔
- سلوک کی تکمیل کے بغیر محض جذب حاصل کر کے پیر بننے اور بیعت کرنے والے کامل نہیں بلکہ "راستے کے ڈاکو" ہیں۔
- مجذوبوں کے جذبی کاموں سے عوام زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ کامل شخص مبتدی کی طرح نظر آنے کے باوجود محض للہیت میں رو رہا ہوتا ہے۔
- باطن کی کامل اصلاح کے لیے نفس، قلب اور عقل تینوں کی بیک وقت اصلاح لازمی ہے، ورنہ کسی ایک کی بھی نہیں ہو سکتی۔
- انبیاء کرام کا حصہ ایمان بالغیب ہے جس میں وہ کثرت میں رہ کر بھی خالصتاً اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جبکہ عام صوفیہ کا ایمان شہودی ہوتا ہے۔
- روحانی کمال یہ ہے کہ عروج کے وقت کثرت بالکل نظر سے اٹھ جائے اور نزول کے وقت انسان اللہ کے ارادے سے مخلوق کی ہدایت کے لیے راجع ہو۔
- دورانِ عروج اور تفرید و تجرید کے مراتب طے کرتے وقت طالب کا خلافت یا کسی بشارت کی طرف دھیان دینا سخت نقصان دہ ہے۔
- انبیاء کرام کی دعوت خالص تنزیہ ہے، جبکہ کثرت میں وحدت تلاش کرنا یعنی تشبیہ مبتدیوں کے لیے ایک راستہ تو ہے مگر منتہی کا کمال نہیں۔
- ہر خیر کی نسبت اللہ اور ہر نقص کی نسبت نفس کی طرف کرنا توحید کا حقیقی ادب ہے، جس سے ذات کی غیریت کی نفی ہرگز مراد نہیں۔
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آج بدھ کا دن ہے، بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ الله علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یقیناً یہ درس بہت ہی نورانی اور بہت ہی زیادہ مفاہیم کو صاف کرنے والا ہوتا ہے۔ اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا جو مقام ہے، وہ اصل میں مجدد تو ہیں ہی۔ اور مجدد جو ہوتا ہے وہ سو سال کے بعد تشریف لاتے ہیں اور بہت سارے جو اشکالات ہوتے ہیں دین میں، جو لوگوں کے سامنے آ چکے ہوتے ہیں، عملی طور پر مشکلات ہوتی ہیں، ان کو دور فرماتے ہیں، ان کا حل بتاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے جن کی مجدد کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے تو وہ ہشاش بشاش رہتے ہیں اور دین پر بہت ہی زیادہ بسط کے ساتھ عمل کرنا ان کو نصیب ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کو ابہام نہیں ہوتا، مشکلات جو جو صاف ہوتی ہیں، چیزیں سمجھ میں آ رہی ہوتی ہیں۔ کیونکہ مناسبت ایک ایسی چیز ہے جو چیزوں کو واضح کرتی ہے، ان کے جو علوم کا انتقال ہے براہ راست ہوتا ہے، اس میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ اور جب مناسبت نہیں ہوتی تو پھر اشکالات بھی ہوتے ہیں، مسائل بھی ہوتے ہیں۔ اگر چیز سمجھ میں آ بھی جاتی ہے تو کچھ ذرا تھوڑا سا یعنی اس میں مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا جو مقام ہے وہ تو ہزار سال والے مجدد ہیں۔ تو لہٰذا جو آئندہ جو ہزار سال چل رہے ہیں، ان میں جو بھی مجدد تشریف لائیں گے، تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا رنگ لیے ہوئے ہوں گے۔ مطلب ظاہر ہے ان کے ساتھ ان کو وہ ہو گی۔ لہٰذا یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا اور باقی اپنا اپنا جو مجدد ہو گا وقت کا، ان کا جو اثر ہے وہ ضرور ہو گا۔ تو اس وجہ سے ہمیں ان مکتوبات شریف سے بہت کچھ مل رہا ہوتا ہے۔ اور اکثر میں اپنے ساتھیوں سے عرض کرتا ہوں، خدا کے بندو ذرا جاگ جاؤ۔ یہ سونے والی باتیں نہیں ہیں۔ اس میں جاگ جاؤ تاکہ وہ فیض جو اس سلسلے کی طرف متوجہ ہے اللہ جل شانہ کا، ان بزرگوں کی برکت سے، اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ چیزیں آج کل کافی نایاب ہیں۔ یعنی کمیاب ہیں، بہت زیادہ یعنی اس کے بارے میں وہ چیز نہیں ہے جو کہ اس کے ساتھ ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اگر ہمارے سلسلے پہ کرم فرمایا ہے تو ہماری طرف سے قدردانی ہونی چاہیے۔ آپ حضرات کو علم ہو گا، بہت ساری باتیں ہو چکی ہیں، جو سامنے آ رہی تھیں، جن کا حل سامنے نہیں نہیں آ رہا تھا، ان کتابوں کی برکت سے وہ ساری چیزیں کلیئر ہو گئی ہیں کافی حد تک۔ اور میں تو اتنا حیران ہوتا ہوں، کتنی موٹی موٹی باتیں نظر نہیں آ رہی تھیں، موٹی موٹی باتیں۔ اتنی موٹی باتیں میں آپ کو کیا بتاؤں؟ بنیادی چیز۔ جیسے مطلب ظاہر ہے Medicine جو ہے وہ دو چیزوں کا مجموعہ ہے، Medicine اور Surgery، MBBS جس کو ہم کہتے ہیں۔ تو اب کوئی Medicine کر لے Surgery نہ کرے اور پھر اپنے آپ کو MBBS کہے، اور یا Surgery کر لے Medicine نہ کرے اور پھر اپنے آپ کو MBBS کہے تو جائز ہو گا؟ ممکن ہے؟ نہیں ہو گا، کوئی بھی نہیں مانے گا۔ لیکن یہاں سلوک اور جذب دونوں کی چیزیں ہیں، دونوں چیزیں ہیں۔ مطلب سلوک اور جذب، یہ دونوں، جذبِ کسبی اور سلوک، سلوک بھی کسبی ہے۔ یہ بات بھی بتا دوں سلوک وہبی نہیں ہوتا، سلوک کسبی ہوتا ہے۔ اور جذبِ کسبی بھی کسبی ہوتا ہے۔ اور فیصلے کسبی پہ ہوتے ہیں۔ یعنی اختیاری چیزوں پہ ہوتے ہیں۔ یعنی انسان کی جو ترقی ہوتی ہے وہ کسبی پہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم لوگ محنت کریں، کوشش کر لیں اور محنت سے ان چیزوں کو حاصل کر لیں، پھر اپنی طرف سے عطا کے طور پر جتنا عطا فرما دیں، وہ پھر اس کا کام ہے۔ لیکن جو ہم سے چاہتے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے جذبِ کسبی کا ایک مقصد ہے۔ وہ ذریعہ ہے، وہ ایک چیز کا اور وہ چیز کیا ہے کہ سلوک طے کیا جائے۔ وہ خود مستقل طور پر مقصود نہیں ہے۔ جذبِ کسبی جو ہے مستقل طور پر مقصود نہیں ہے۔ یہ صرف ذریعہ ہے، مقصود کو حاصل کرنے کا۔ جیسے FSC کرنا ہے آپ نے Medical کے لیے، داخلہ ہونے کے لیے، Pre-requisite ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ جذب جو ہے، یہ ذریعہ ہے، مقصود کو حاصل کرنے کا۔ اس کو جو مقصود بنائے گا تو یہ پھر طریقت کی بدعات میں آ جائے گا۔ طریقت کی بدعات میں، اگر اس کو کوئی مقصود بنائے گا۔ یہ ذریعہ ہے بس، ذریعے کے طور پہ لو۔ تو یہ تو بدعت والی بات ہو جائے گی نا۔ لیکن اگر سرے سے سلوک ہی مٹا دیا جائے، یعنی سلوک کو touch ہی نہ کیا جائے، تو پھر کیا ہو گا؟ پھر تو محرومی ہے۔ پھر محرومی ہے۔ اور محرومی میں نہیں کہہ رہا، حضرت فرماتے ہیں۔ اتنا واضح طور پر فرماتے ہیں، جس میں درمیان میں کوئی اور بات ہو نہیں سکتی۔ بالکل واضح طور، یہاں تک مثال دی ہے خانہ کعبہ کی کہ کوئی خانہ کعبہ جا رہا ہے اور خانہ کعبہ ہے کہ راستے میں کسی جگہ کو خانہ کعبہ جیسے دیکھا تو وہیں پر بیٹھ گیا۔ تو یہ فرمایا علماً بھی محروم ہے، عملاً بھی محروم ہے۔ کیونکہ اس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہی نہیں کہ خانہ کعبہ کدھر ہے اور پہنچا بھی نہیں۔ ایک شخص ہے جس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہے کہ خانہ کعبہ کیا ہے لیکن گیا نہیں، یعنی اپنی جگہ سے ہلا نہیں، تو یہ عملاً محروم ہے، علماً نہیں محروم، علماً تو اس کو پتہ ہے نا کہ کیا ہے۔ خانہ کعبہ کیا ہے۔ اور جو چلا، پہنچا بھی نہیں ہے، لیکن اس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہے اور روانہ بھی ہوا، لیکن پہنچا نہیں ہے، تو یہ راستے میں ہے۔ محروم نہیں ہے، راستے میں ہے، پہنچ جائے گا ان شاء اللہ۔ اور چوتھا پہنچ گیا تو یہ کامل ہے۔ یہ واصل ہے۔ تو اب یہ جو باتیں ہیں، اس سے حضرت نے کیا نتائج نکالے؟ حضرت نے یہ نتیجہ نکالا، کہ چونکہ جذبِ کسبی جو ہے، جس کو حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ضرورتاً آگے کر دیا۔ پہلے ہوتا تھا جتنے بھی سلاسل تھے، اس میں سلوک پہلے تھا، اور جذب وہبی ہو جاتا تھا، وہبی طور پہ جذب ہو جاتا تھا، کیونکہ مقصود تو ہمارے سلوک سے پورا مل جاتا ہے، تو اب وہ سلوک پہلے ہوتا تھا، لوگوں میں طلب تھی، جانتے تھے کہ سلوک طے کرنا ہے۔ لوگ باقاعدہ مشائخ کی تلاش میں جایا کرتے تھے، قافلوں کی صورت میں جاتے تھے۔ عموماً آپ حضرات اگر دیکھیں تو سوانح میں آپ کو یہ ملے گا، کہ اتنے عرصے میں انہوں نے جو علومِ مروجہ ہیں ان سے فراغت حاصل کر لی اور پھر اس کے بعد کسی شیخ کامل کی تلاش میں چل پڑے۔ یہ بالکل آپ کو تقریباً اپنے بزرگوں کے سوانح میں ملے گا۔ تو یہ بالکل ایک لازمی چیز لوگوں نے اس کو سمجھا ہوا تھا، اس میں کوئی ایسی غلط فہمی والی بات نہیں تھی۔ لیکن چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ مشکلات آتی ہیں، اور لوگوں کی سمجھ میں کمی آتی ہے، تو سلوک کی مشکلات کو دیکھ کر لوگ اس سے غافل ہو رہے تھے۔ نتیجتاً خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے لوگوں کے لیے، ایسے لوگوں کے لیے۔۔۔یہ میں ایسے پہ زور دے رہا ہوں، ایسے لوگوں کے لیے انہوں نے جذب کو پہلے کر دیا، کیونکہ جذب محرک ہے۔ جذب کو پہلے کر دیا کسبی طور پر، تاکہ لوگ سلوک طے کر سکیں، پہلے کر دیا۔ اب پہلے ہو گیا تو ظاہر ہے مطلب پھر اس کے بعد سلوک تو طے کرنا ہے کیونکہ وہ اسی مقصد کے لیے پہلے کر دیا ہے۔ تو فرمایا کہ یہ جو شخص جس نے جذب کسی طریقے سے بھی حاصل کیا، کسی طریقے سے بھی، حاصل کیا ،کسی طریقے پہ بھی میں زور دے رہا ہوں۔ کسی طریقے پہ بھی اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل ہر چیز کے اندر گڑبڑ ہے، مسئلہ ہے۔ کسی طریقے پہ اس لیے کہ چاہے قادری طریقے سے کر لیا، چاہے سہروردی طریقے سے کر لیا، چاہے چشتی طریقے سے کر لیا، چاہے ویسے کر لیا، کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھ کے کر لیا۔ چاہے بزرگوں کے قصے سن سن کے حاصل کر لیا، یہ بھی ہوتا ہے۔ وہ بھی صحبت کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ جذب حاصل کر لیا۔ اب وہ جو جذب حاصل کر لیا، شاعری کے ذریعے سے بھی کر لیتے ہیں بعض دفعہ۔ تو جذب حاصل کر لیا۔ اب وہ جو جذب حاصل کر لیا، اب اس کو سلوک کے لیے استعمال کرنا چاہیے، کہ سلوک طے کرے، اپنا کام کرے، جس مقصد کے لیے ہے۔ فرمایا اگر کسی نے ایسا نہیں کیا، اگر کسی نے ایسا نہیں کیا اور تھا اتنا ہوشیار کہ اپنے جذب کو کنٹرول کر سکا، اور اس سے کام لے سکا۔ مثلاً پیر بن گیا، اور لوگوں کی تربیت بھی کرنے لگا۔ ایسا ہوتا ہے؛ کیونکہ اس میں بزرگی شروع ہو جاتی ہے، کر لیا۔ اب جب کر لیا تو توجہ کی قوت ان کی بڑی ہوتی ہے، مجذوبوں کی۔ توجہ کی قوت عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کاملین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ کاملین اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی طرف اتنی توجہ نہیں کر سکتے۔ تو کاملین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تو اب توجہ کی قوت ان میں ہوتی ہے زیادہ اور ان کے کام ایسے ہوتے ہیں جذبی کام ہوتے ہیں، تو ان جذبی کاموں کی وجہ سے عوام میں بھی ان کی پذیرائی زیادہ ہوتی ہے۔ بقول حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے، ہری بھری فصل آنکھوں کو اچھی لگتی ہے، لیکن اگر اس کو کاٹا جائے تو سوائے جانور کے چارے کے کچھ کام نہ آئے۔ لیکن اصل کام تو فصل کا وہ ہوتا ہے جب وہ پکی ہوتی ہے، پکی فصل۔ تو جو پکی فصل ہے وہ آنکھوں کو بھلی نہیں لگتی، لیکن کام کی وہی چیز ہوتی ہے۔ تو جو کامل ہوتا ہے وہ لوگوں کی نظروں میں بالکل مبتدی کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی کامل بھی رو رہا ہوتا ہے، مبتدی بھی رو رہا ہوتا ہے۔ متوسط ہنس رہا ہوتا ہے، وہ ہنس رہا ہوتا ہے، جذب ہوتا ہے نا، وہ ہنس رہا ہوتا ہے۔ آپ حیران ہوں گے ہمارے Germany میں ایک شخص، لڑکا تھا، وہ Fail ہو گیا subject میں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ حضرت کیا ہوا آپ کے، آپ نے امتحان دیا تھا؟ فرمایا، الحمد للہ میں fail ہو گیا۔ میں نے کہا یہ تو سنت کے خلاف ہے۔ اس نے کہا کیا؟ میں نے کہا اس وقت تو إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ پڑھنا چاہیے۔ اب وہ میرے ساتھ بحث کرنے لگا۔ تو باقی ساتھیوں نے ان کو سمجھا دیا کہ بس شیخ صحیح کہہ رہا ہے، آپ مان جائیں، مان جائیں۔ ٹھیک ہے، اچھی بات ہے آپ کا جذبہ اچھا ہے، لیکن اس وقت إِنَّا لِلّٰهِ، یہ قرآن پاک میں ہے نا، اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔ تو اس وقت تو یہی ہے کہ آپ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ پڑھ لیں۔ تو اب عوام تو ان چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں زیادہ، کہ بیٹا فوت ہو گیا اور یہ ہنس رہا ہے، بس یہ اللہ کی مرضی ہے جی کیا بات ہے جی۔ اور جو کامل ہوتا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو آ رہے ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی نے کہا نا کہ یا رسول اللہ آپ، آپ بھی؟ فرمایا: ہاں یہ تو اللہ کی رحمت ہے۔ اب جو کامل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے رو رہا ہوتا ہے۔ یعنی وہ اس حال کا حق ادا کر رہا ہوتا ہے۔ تو وہ رو رہا ہوتا ہے کہ اللہ پاک اس پر خوش ہوتے ہیں کہ میں اپنے آپ کی عاجزی ظاہر کروں۔ اور جو مبتدی ہوتا ہے وہ تکلیف سے رو رہا ہوتا ہے۔ تو رونا تو دونوں کا ظاہر ہے نا۔ لہٰذا لوگوں کو دونوں ایک جیسے نظر آئیں گے، حالانکہ دونوں ایک جیسے تو نہیں ہوں گے۔ ایک لِلّٰہ رو رہے ہیں، ایک لِلنَّفْسِ رو رہے ہیں۔ دونوں میں بہت زیادہ زمین آسمان کا فرق ہے۔ تو عوام میں بھی پذیرائی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔ توجہ کی قوت بھی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ حضرت نے لکھا ہے، مطلب ظاہر ہے میں تو صرف تشریح کر رہا ہوں۔ تو پھر فرمایا کہ ایسے لوگ نہ خود پہنچے ہیں، نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود پہنچے، نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔ چاہیے کہ اپنی تکمیل کسی منتہی مرجع سے کروا لیں۔ نہیں تو راستے کا ڈاکو نہ بنیں۔ کسی کو بیعت نہ کریں۔ بلکہ ایسے جو طالبین ہیں ان کو جو اہل ہیں اس کے ان تک پہنچائیں۔ زیادہ سے زیادہ شیخِ تعلیم بن سکتے ہیں۔ شیخِ تعلیم سے مراد یہ ہے کہ تعلیم کر سکتے ہیں، سمجھا سکتے ہیں۔ تو اب یہ جو باتیں ہیں یہ بہت اہم باتیں ہیں۔ اب اس وقت ایسی بھگدڑ مچی ہوئی تھی کہ 35 کے 35 اسباق cover ہو گئے اور درمیان میں سلوک پتہ ہی نہیں! سلوک بھی کچھ ہوتا ہے؟ بلکہ پہلے تو ہم اس کو عملی نقصان سمجھتے تھے، عملی، کہ چلو عملی نقصان ہے۔ اب Theoretical والی باتیں بھی آ گئیں، کتابوں میں باتیں آ گئیں۔ میرے پاس text پڑا ہوا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ایک دل کی اصلاح کا طریقہ ہے اور ایک نفس کی اصلاح کا طریقہ ہے، دونوں میں سے جس طریقے سے بھی کر لو۔ اب بتاؤ؟ اب تو بات ہی ظاہر ہو گئی۔ چاہے نفس کی اصلاح کرا دو چاہے دل کی اصلاح کرا دو۔ حالانکہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ جو نقشبندی ہیں، فرماتے ہیں تین کی اصلاح ہونی چاہیے، تین کی اصلاح نہ ہو تو کسی ایک کی بھی نہیں ہو گی۔ تین کی نہیں ہو گی تو کسی ایک کی بھی نہیں ہو گی۔ نفس کی، قلب کی، عقل کی۔ اور یہ خود نہیں فرمایا، کہتے میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں، یہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے مجھ تک پہنچی ہے یہ بات۔ الطاف القدس میں، آپ حضرات نے سنا ہو گا۔ اس طرح میں آپ کو کیا بتاؤں یہ ساری باتیں اب واضح ہو رہی ہیں۔ تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جو برکات ہیں وہ سامنے آ رہی ہیں۔ اہلِ حق قیامت تک موجود ہوں گے۔ یہ صاف بات ہے اس مطلب یہ ختم نہیں ہوں گے، اہلِ حق قیامت تک موجود ہوں گے۔ تو جو اہلِ حق ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ حق پر رکھیں گے۔ اگر کہیں بگاڑ پیدا ہو گا تو اس کے بناؤ کا راستہ بھی اللہ پاک بنائے گا۔ یہ اللہ پاک کی سنت ہے، اللہ پاک کی سنت ہے یعنی کہ کرتا ہے وہ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ اگر اس بناؤ کے ساتھ کوئی، کسی کا نہیں بناؤ آیا، تو ظاہر ہے وہ بیچارہ محروم ہو جائے گا۔ جو اللہ پاک نے، اب یہ اللہ جل شانہ نے اس وقت یہ آشکارہ فرمائیں یہ چیزیں، پہلے بھی ہو سکتی تھیں، پہلے بھی ہو سکتی تھیں، لیکن حکمت ہے، حکمت ہے اللہ کی، اللہ پاک کی ہر چیز میں حکمت ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے میں عرض کروں گا کہ ہمیں اس کو بہت زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہیے اور اس سے استفادہ کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
مکتوب : 272
میر سید محب اللہ مانک پوری کی طرف صادر فرمایا۔ ایمان بالغیب اور ایمانِ شہودی کے بیان میں اور ان میں سے ہر ایک کے اصحاب کے بیان میں جو ایمان بالغیب کو ایمانِ شہادت پر فضیلت دیتے ہیں، اور توحیدِ شہودی و توحیدِ وجودی کے بیان میں، اور اس بیان میں کہ ”فنا“ کے حاصل ہونے میں توحیدِ شہودی در کار ہے، توحیدِ وجودی در کار نہیں، اور اس بیان میں کہ اول شخص جس نے توحیدِ وجودی کا اظہار کیا اور اس کو صراحت سے بیان کیا وہ "صاحبِ فتوحاتِ مکیہ" ہیں، اگرچہ گزشتہ مشائخ کی عبارات بھی توحید و اتحاد کی خبر دیتی ہیں لیکن وہ توحیدِ شہودی پر محمول ہیں، اور اس کے مناسب بیان میں۔
یہاں پر بھی ایک بات میں اکثر کرتا ہوں کہ حضرت فرماتے ہیں، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کہ میں کشف کی نظر سے جب دیکھتا ہوں تو حضرت شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کو بڑے اونچے مقامات میں دیکھتا ہوں، بڑے اونچے مقامات میں لیکن نظریاتی طور پر اتنا سخت رد کیا ہے اس کا کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ تو یہ مقام کی بات نہیں ہے، یہ کام کی بات ہے۔ کام کو لے لو پہلے، پہلے کام کو لے لو۔ اس وقت کے لیے وہی طریقہ ٹھیک تھا۔ اب جب دور آ گیا تو بدل گیا۔ اس وقت وہ اشکالات نہیں تھے، اب ہیں۔ اب ہیں اب اگر اس کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا تو نقصان ہو گا۔ یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ اس کو بھی ذرا اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔
حمد و صلوۃ کے بعد سیادت پناہ برادر عزیز میر محب اللہ کو واضح ہو کہ واجب الوجود تعالیٰ کی ذات پاک اور اس کی تمام صفات کے ساتھ غیب پر ایمان لانا انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان کے اصحاب اور وہ اولیاء جو بتمام و کمال رجوع رکھتے ہیں ان کا حصہ ہے، اور ان کی نسبت اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سی ہے، اگرچہ یہ قلیل ہیں بلکہ اقلّ ہیں، اور وہ علماء اور عامہ مومنین کا حصہ ہے اور ایمانِ شہودی عامہ صوفیہ کے نصیب ہے، خواہ وہ اربابِ عزلت (گوشہ نشین) ہوں یا اربابِ عشرت (لوگوں کے ساتھ رہنے والے) کیونکہ اربابِ عشرت خواہ کتنے ہی مرجوع (رجوع کرنے والے) ہوں لیکن انہوں نے کامل طور پر رجوع نہیں کیا ہے، لہذا ان کا باطن اسی طرح فوق کی طرف نگراں ہے یعنی ظاہر میں وہ مخلوق کے ساتھ ہیں اور باطن میں حق جل سلطانہٗ کے ساتھ، لہذا ہر وقت ایمانِ شہودی ان کی شان ہے۔ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات چونکہ پورے طور پر مرجوع ہیں لہذا وہ ظاہر اور باطن میں مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے میں متوجہ ہیں اس لئے ایمان بالغیب ان کے شایان شان ہے۔
یہ حصہ پہلے بھی اس پہ بات ہوئی تھی پچھلی دفعہ۔ لیکن چونکہ یہ چیزیں آپس میں ملی ہوتی ہیں لہٰذا اگر پہلے ایک چیز سامنے نہ ہو تو دوسری چیز سمجھ میں نہیں نہیں آتی، لہٰذا دوبارہ میں نے عرض کر لیا۔ اللہ جل شانہ نے انبیاء کرام کو چنا ہوتا ہے۔ اور ان کی ساخت ہی ایسی بنائی ہوتی ہے کہ وہ کام تو کرتے ہیں مخلوق میں لیکن رجوع ان کا اللہ کی طرف ہوتا ہے، ٹھیک ہے؟ ان کا نظم ہی ایسے ہوتا ہے۔ یعنی آپ اندازہ کریں موسیٰ علیہ السلام نبوت ابھی نہیں ملی، نبوت ابھی نہیں ملی، مخلوق کی خدمت کی۔ اور جیسے فارغ ہو گئے تو کیا کہا؟ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ یعنی اس میں بالکل اللہ کی طرف متوجہ ہیں کہ، میں آپ کو کیا بتاؤں، یہ چیز اتنی مشکل ہے سمجھانا کہ میں آپ کو عرض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کی Diffusion بہت زیادہ ہے، Diffusion یہ آپس میں چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ جیسے خودداری اور تکبر آپس میں ملا ہوا ہے۔ اس طریقے سے مصلحت اور بزدلی آپس میں ملی ہوئی ہے۔ اب ایک بڑی اونچی چیز ہوتی ہے، ایک بہت خراب چیز ہوتی ہے، لیکن ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کے درمیان Line draw کرنا تو بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اب یہ جو بات ہے کہ جو رفاہی کام ہے، رفاہی کام، آپ رفاہی کام کر رہے ہیں، إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ قیمت اس کی لگتی ہے اس کی نیت کے مطابق۔ اب نیت اس وقت کیا ہے؟ وہ اللہ کے لیے ہے یا مخلوق کے لیے ہے؟ مخلوق کے اندر کام کرنا آسان تو نہیں ہے نا؟ مخلوق کے لیے ہے یا خالق کے لیے ہے؟ یہ چیزیں جو ہیں یہ ہر چیز اس ہوتی ہے۔ یہاں تو اس کا فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا۔ فیصلے تو اللہ پاک کرے گا۔ ہمیں تو حسنِ ظن کا حکم ہے، لہٰذا ہم ہر شخص جو کام کر رہا ہے ہم کہیں گے یہ اللہ کے لیے کر رہا ہے۔ ہمیں کوئی اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن اس کا اپنا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہو گا نا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب سے دے گا، آخر جو تین لوگ پہلے جہنم میں جائیں گے وہ کون ہیں؟ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ عالم، سخی اور شہید۔ یہ تینوں کام بہت اونچے کام ہیں۔ لیکن وہ ہوں گے اپنے نفس کے لیے۔ لہٰذا وہ آگ میں ڈالے جائیں گے۔ تو اب اس چیز سے بچنا کتنا مشکل ہے یعنی تھوڑا سا اندازہ کر لیں آپ اس چیز کا کہ آسان بات نہیں ہے۔ بہت مشکل ہے۔ تو اب انبیائے کرام کا تو معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کی ساخت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہوتی ہے کہ ان کے اوپر مجاہدات جبلت کی وجہ سے آتے ہیں، اور مجاہدات ہوتے ہیں، لیکن ان کے نفس کا معاملہ تو نہیں ہوتا نا۔ نیت تو ان کی بالکل ٹھیک ہوتی ہے۔ ایمان بالغیب کامل ہوتا ہے یہاں پر حضرت نے یہ فرمایا نا ایمان بالغیب ان کا کامل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جو بھی کام کرتے ہیں، خالصتاً لِوَجْہِ اللّٰہ کرتے ہیں۔ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ کس کی ہے؟ ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ ہاں تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کا، ان کا تو یہی ہے۔ لہٰذا وہ جو بھی کام کرتے ہیں خالصتاً لِوَجْہِ اللّٰہ کرتے ہیں۔ اور ہوتے مخلوق میں ہیں، full مخلوق میں۔ ہر چیز کے اندر مخلوق کے اندر ہوتے ہیں، لیکن کرتے سارا کچھ اللہ کے لیے کرتے ہیں۔ یہ معاملہ ان کا کامل ہوتا ہے۔ جبکہ جو ہم لوگ صوفی لوگ ہوتے ہیں، صوفیہ، وہ اس کی طرف آ رہے ہوتے ہیں، ہمارا کام اس طرف آنا ہے، یعنی ہم بھی ایسے ہو جائیں، یہ ہمارے لیے معیار ہے، Target ہے۔ لیکن جتنا جتنا ہم حاصل کر رہے ہوتے ہیں، تھوڑا تھوڑا تو ذرا، وہ ہوتا ہے نا جو، جو ابھی بنا نہیں ہوتا۔ تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ جس وقت ہم کام کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو سہارا دینے کے لیے اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے کام کے دوران بھی اللہ کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے، توجہ کرنی پڑتی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو مکمل مخلوق کی طرف ہماری توجہ نہیں ہو پاتی۔ مکمل ہماری مخلوق کی طرف توجہ نہیں ہو پاتی۔ تو اس طرح پھر ہم لوگ کیسے، ہو سکتے ہیں اس کی طرح؟ یعنی یہ، یہ ذرا سمجھنے کی بات ہے، آگے، ذرا بات سنو۔
اور اس فقیر نے اپنے بعض رسائل میں (اس بات کی) تحقیق کی ہے کہ با وجود رجوع کے فوق کا نگراں رہنا نقصان دہ اور انجام کار تک نہ پہنچنے کی علامت ہے۔
اب بتائیں! حضرت نے اس میں بہت بڑا علم دیا ہے۔ اور وہ علم یہ ہے، کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی کی جو ولایت ہے وہ نبی کی نبوت سے افضل ہے۔ فرمایا نہیں، نبی کی نبوت افضل ہے۔ حضرت کا یہ، نبی کی نبوت افضل ہے کیونکہ وہ کام ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جو اس کا منصب ہے، وہ اس کے لیے ہے۔ اس کے لیے ہے۔ اور جو نبی کی ولایت ہے وہ نبوت کا ذریعہ ہے، مطلب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہے۔ لیکن وہ جو اصل کام ہے وہ تو یہی ہے نا ان کا۔ مخلوق میں رہ کر۔۔۔ مجھے آپ بتاؤ، تھوڑا سا، اچھی مثال آ گئی الحمد للہ۔ آپ گاڑی چلا رہے ہیں، Duty پر ہیں۔ مالک آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ During driving مالک آپ کے ساتھ باتیں کر رہا ہے۔ آپ کو مالک کی باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے یا Driving کی طرف؟ کمال کا Driver کونسا ہو گا؟ ہاں یہی بات ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جب Driving آپ کی پوری ہو جائے تو پھر آپ ان کے ساتھ پھر مکمل توجہ کر لیں۔ أَرِحْنِی بِهَا يَا بِلَالُ یہی تو ہوتا تھا نا۔ اے بلال مجھے راحت پہنچا دو اذان کے ذریعے سے۔ کیونکہ وہ وقت اس کا ہوتا تھا۔ لیکن جو مخلوق کی طرف ہو تو اس میں مخلوق کی طرف Full توجہ، کیا بات ہے جی! ایسی ایسی باتیں میں آپ کو کیا بتاؤں! کہ جو ابنِ مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تھے، اور، مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوچونکہ فکر تھی کہ یہ لوگ میں نے بڑی مشکل سے جمع کیے ہیں تو یہ تو بعد میں بھی پوچھ سکتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہدایت آ گئی کہ کیوں آپ نے تیوری۔۔۔؟ کیونکہ طالب ہے، یہ طالب ہے۔ تو طالب کا خیال تو زیادہ رکھنا ہے۔ باقی لوگ طالب نہیں ہیں، تو جو طالب نہیں ہے، ان پہ محنت تو کرنی ہے، لیکن طالب تو آیا ہوا ہے نا آپ کی طرف، اس کا حق تو زیادہ ہے۔ اب یہ اتنی تمام چیزوں کی رعایت کرنا، یہ، بہت بڑی باتیں ہیں۔ تو یہاں پر یہ ہے کہ۔۔۔
اور کلی طور پر رجوع کرنا نہایت النہایت تک پہنچنے کی علامت ہے۔
رجوع، رجوع، اور رجوع کیا ہوتا ہے؟ وہ جو آپ نے فرمایا تھا کہ: سَيْر عَنِ اللّٰهِ بِاللّٰهِ
صوفیہ نے کمال کو "جمع بین التوجہین" یعنی دونوں توجہات کو جمع ہونے میں جانا ہے اور تشبیہ و تنزیہ کے جامع کو کاملین میں سے شمار کیا ہے۔
آں ایشانند و من چنینم یا رب
وہ تو ایسے ہیں اور میں ایسا ہوں
حضرت کا ذوق!
اور انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات جب مقامِ دعوت سے فارغ ہو جاتے ہیں اور عالمِ بقا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور رجوع کی مصلحت تکمیل کو پہنچ جاتی ہے تو وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ الرفیق الاعلیٰ
کام کر کے،
(بلند درجے والے ساتھی) کی ندا لگا کر کلی طور پر حق جل شانہٗ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور مراتبِ قرب میں فرحاں و شاداں ہوتے ہیں۔
ھَنِیْئًا لِّأَرْبَابِ النَّعِیْمِ نَعِیْمُھَا
وَ لِلْعَاشِقِ الْمِسْکِیْنِ مَا یَتَجَرَّعُ
مبارک منعموں کو ان کی نعمت
مبارک عاشقِ مسکیں کو کلفت
فقیر کے نزدیک کمال یہ ہے کہ عروج کے وقت میں کثرت بالکلیہ طور پر نظر سے اٹھ جائے
مخلوق کی طرف توجہ نہ رہے۔ ایک کی طرف ہو۔ فنائیت میں۔ جو فنائیت ہوتی ہے نا۔
یہاں تک کہ اسماء اور صفات بھی ملحوظ نہ رہیں اور احدیتِ مجردہ کے علاوہ کچھ بھی مشاہدے میں نہ رہے،
اس وقت اس کی بات ہے۔
ثُمَّ عُوْمِلَ مَعَہٗ مَا عُوْمِلَ مَعَہٗ (پھر اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا جو کچھ بھی کیا جائے گا) اور رجوع کے وقت میں مکمل طور پر نظر کثرت پر پڑے
اور جب مخلوق کی طرف راجع کیے جائیں، پھر مخلوق میں ہی بس لگے رہیں، کام کریں۔
اور عام مومنین کی طرح مخلوق کے علاوہ کوئی اور امر مشاہدے میں نہ رہے،
کوئی اور، کسی اور چیز کی طرف خیال ہی نہ رہے۔ یہ بات ہے۔
اور اطاعت کی ادائیگی اور مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے کے علاوہ کوئی اور کام اس سے سر زد نہ ہو،
سبحان اللہ۔
اور جب دعوت کا کام پورا کر لے اور اس فانی دنیا کو رخصت کر دے تو کلی طور پر جنابِ قدس کی طرف متوجہ ہو جائے
یہ درمیان میں مرحلہ وار بھی ہوتا ہے۔ جیسے نماز کا وقت آ گیا۔ تو نماز میں پھر مخلوق کا بالکل خیال نہیں، إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اور جس وقت مخلوق کی طرف تھا، تو پھر پوری مخلوق کی طرف متوجہ ہو۔ ٹھیک ہے نا؟ اور ساتھ ساتھ یہ کہ جس وقت آخر وقت آ جائے۔ تو پھر تو مکمل ہی اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے اخیر وقت میں کوئی بچہ لایا گیا نا ان کےخاندان کا، تو فرمایا: دور کرو، دور کرو، دور کرو، یہ اس کا وقت نہیں ہے، اس کا وقت نہیں ہے۔ یہ والی بات ہے، مطلب جس وقت، یعنی جس کو کہتے ہیں حال۔ کہتے ہیں نا کچھ لوگ ہوتے ہیں ابن الحال، اور کچھ ہوتے ہیں ابو الحال۔ ابو الحال جو ہوتے ہیں وہ حال پر غالب ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت جو اس کے اندر کرنا ہوتا ہے، وہ کرتے ہیں۔ ابن الحال حال کے ساتھ ہو جاتے ہیں، مطلب اس میں وہ خود اپنی بات نہیں کر سکتے۔
اور اطاعت کی ادائیگی اور مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے کے علاوہ کوئی اور کام اس سے سر زد نہ ہو، اور جب دعوت کا کام پورا کر لے اور اس فانی دنیا کو رخصت کر دے تو کلی طور پر جنابِ قدس کی طرف متوجہ ہو جائے اور اپنے سامان کو غیب سے شہادت کی طرف لے جائے اور معاملے کو گوش سے آغوش میں لے آئے۔ ﴿ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾
حضرت کا بھی یہی حال تھا کہ جب حضرت کا آخری وقت آ گیا، تو وضو شکستہ کرنا چاہتے تھے کہ مطلب میں دوبارہ وضو کر لوں، لیکن وقت آ گیا۔ اور فرمایا میں وضو شکستہ نہیں کرتا، بس اللہ کی طرف اسی میں چلے گئے۔ وقت کی بات ہے، اس وقت جو حال ہے اسی کے مطابق جو حکم ہے، اس کے مطابق کرنا۔ یہ والی بات ہے، یہ کاملین کی بات ہوتی ہے۔
کوئی ناقص کلی طور پر رجوع کرنے کو نقص خیال نہ کرے۔ اور باطن کی توجہ کو جو حق جل شانہ کی طرف ہوتی ہے مخلوق کی طرف توجہ سے جو ان کی دعوت و تکمیل کے لیے ہے بہتر نہ جانے کیونکہ صاحب رجوع اپنے اختیار سے رجوع کے مقام میں نہیں آیا۔ اپنے اختیار سے نہیں آیا اس میں یہ بہت بڑے نکتے کی بات آ گئی۔ سبحان اللہ اللہ تعالی ہم سب کو اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ اصل میں بات یہ ہے کہ رجوع یہ میرا خیال میں مفتی صاحب سے میں راستے میں واکنگ میں بات کر رہا تھا کہ جس وقت انسان روحانی طور پر ترقی کر رہا ہوتا ہے اور تفرید و تجرید کے مراتب سے گزر رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کو بالکل مخلوق کی طرف توجہ نہیں کرنی۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت محض اللہ پاک کا خیال ہو۔ اس وقت خلافت کا خیال آئے گا تو سب سے بڑی تھپڑ پڑوائی ہے اس کے لیے۔ اگر خلافت کی طرف خیال آئے گا۔ اس وقت ان چیزوں کو خیال میں بالکل نہیں لانا چاہیے۔ کیونکہ یہ تجرید تفرید کے خلاف ہے۔ بے شک آپ کو مخلوق کی تربیت میں بہت سارے فضائل بھی نظر آئیں اور بہت ساری بشارتیں بھی نظر آئیں، وہ آپ کے لیے نہیں ہیں، بس آپ اپنا کام کریں۔ آپ کی سب سے بڑی بشارت یہ ہے کہ اللہ قبول فرما لے۔ اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ اس سے زیادہ اور کوئی چیز آپ کے سامنے نہ ہو، یہ والی بات ہے۔ تو اس وقت تو بالکل ذرہ بھر بھی اپنی تربیت کے دوران اس لائن کی طرف نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مثال دی ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے بلوغ کے بعد والی باتیں بالکل سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ حضرت نے کیسی مثال دی ہے، اچھا؟ ہاں جی، وہ نہیں آنی چاہئیں۔ بالغ ہونے سے پہلے بلوغ کے بعد والی باتیں جو ہیں، وہ نابالغ کے بالکل سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ تو اسی طریقے سے جس وقت انسان روحانی طور پر ترقی کر رہا ہوتا ہے، اس کی تربیت ہو رہی ہے، تو تربیت کے دوران اس کو بالکل خلافت کا خیال نہیں آنا چاہیے۔ اس سے بالکل قطع تعلق، اور سمجھے کہ میرے لیے تو اصل یہی ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔ مجھے اس سے کیا کہ، جو احمد جام رحمۃ اللہ علیہ کے شعر ہیں، احمد جام رحمۃ اللہ علیہ، وہ اس بزرگ ہیں جن کے شعر سنتے سنتے حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ یہ انہی کا شعر تھا نا، کہ جس میں وہ فرما رہے تھے کہ ؏ کشتگان خنجر تسلیم را ؏ ہر زماں از غیب جان دیگر است اس شعر کو سنتے سنتے حضرت دنیا سے تشریف لے گئے۔ تو یہ احمد جام رحمۃ اللہ علیہ شعر کہتے ہیں، ؏ احمد تو عاشقی است بمشیخت ترا چہ کار ؏ دیوانہ باش سلسلہ شد شد، نشد نشد اے احمد! تو تو عاشق ہے، تجھے مشیخت کے ساتھ کیا کام؟ دیوانہ بن جا، اچھا ہے سلسلہ ہو یا نہ ہو، تیرا اس کے ساتھ کیا کام؟ اس وقت دیوانگی چاہیے۔ اس وقت دیوانگی جو چاہیے، ہاں جی۔ لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر ہو جائے اور اللہ تعالیٰ آپ کا رخ مخلوق کی طرف موڑے تو پھر اس کو صدق دل سے ماننا چاہیے۔ کیونکہ اب تیری تشکیل ہو گئی۔ اب تیری تشکیل ہو گئی اس لائن کی طرف۔ اب تیرا سارا کچھ اسی میں ہے۔ تیرا سارا کچھ اسی میں ہے۔ اب تو نے، تجھے یہی کرنا ہے۔ تو یہ اصل میں حضرت یہی فرما رہے ہیں۔ کہ تجھے اللہ تعالیٰ نے موڑا ہے، رجوع تو تجھے اللہ پاک نے کیا ہے، تو خود اپنی مرضی سے ہوا نہیں ہے۔ لہذا اب اپنی مرضی اس میں نہ چلاؤ، ہاں جی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ فرمایا، کیونکہ صاحب رجوع اپنے اختیار سے رجوع کے مقام میں نہیں آیا ہے بلکہ حق جل شانہ کے ارادہ سے اعلیٰ سے اسفل کی طرف نزول کیا ہے۔ پہلے عروج کر رہا تھا، اب نزول کر رہا ہے۔ اب نزول کر رہا ہے۔ ٹھیک ہے؟ کیا خیال ہے، میزائل؟ میزائل والے، کوئی ہو؟ یہ میزائل کی کیا ٹیکنالوجی ہوتی ہے؟ پہلے اوپر جاتا ہے۔ پھر نیچے آتا ہے۔ اور ہٹ کرتا ہے اپنے ٹارگٹ کو۔ جتنا دور جگہ ہوتا ہے اتنا اس کو اوپر جانا ہوتا ہے۔ ہاں جی۔ اب مجھے بتاؤ اگر یہ اوپر ہی چلا جائے، واپس نہ آئے تو کیا کہتے ہیں؟ میزائل اپنی جگہ چلا گیا۔ ٹھیک ہے نا، لیکن جو واپس آ جاتا ہے اور ہٹ کرے اپنے ٹارگٹ کو، کہتے ہیں، واہ جی، بالکل، کام ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ نزول وہ چیز ہے، بس۔ ہم نے اپنے جو سٹریٹجی ہے تصوف کی، اپنی کتاب پہ لگائی ہوئی ہے۔ حقیقت جذب و سلوک۔ اس پہ لگائی ہوئی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ پہلے ٹیکسی کرتا ہے جہاز، پھر اڑتا ہے، اپنے اوپر، جتنا کوریڈور میں اوپر پہنچنا ہوتا ہے، وہاں پہنچ جاتا ہے۔ پھر سفر کرتا ہے۔ پھر جو ہے نا وہ نیچے آتا ہے، پھر ٹیکسی کرتا ہے اپنی جگہ پہ پہنچ جاتا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں اس میں کرنی ہوتی ہیں اس طرح، رجوع بھی کرنا ہوتا ہے، نزول بھی کرنا ہوتا ہے، فاصلہ طے بھی کرنا ہوتا ہے، ٹھیک ہے نا، یہ سارے کام کرنے ہوتے ہیں۔ اور زمین پر چلنا پہنچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، ورنہ آسمان ہی میں رہے تو پھر وہ تو گئے، ویسے ایک بات بتا دوں۔ جہاز کے پائلٹ کی کمال کا پتہ لینڈنگ کے وقت ہوتا ہے۔ landing میں چلتا ہے، take off میں نہیں۔ take off میں پتا نہیں چلتا۔ take off میں کل آسمان ہوتے ہیں اب جس طرف بھی اڑیں گے تو آسمان ہی ہے نا۔ لہذا کیا مسئلہ ہے آپ کو؟ لیکن اب جب landing کر رہے ہیں تو ایک خاص آسمان، کلی آسمان سے نیچے ایک خاص جگہ پہ کر رہے ہیں۔ وہ جو خاص جگہ پہ landing ہے اس میں کس وقت نیچے آنا ہے اور کس angle پہ آنا ہے اور ہاں جی، وہ سارا چیزوں کا مطلب دھیان خیال کرنا ہے وہ کمال کی بات ہوتی ہے۔ اور جو ہے نا مطلب اڑنے کے لیے بے شک جتنا speed تیز کر لو، تو بس ٹھیک ہے جی آپ اوپر چلے جائیں گے۔ لیکن نیچے کے لیے اوہو speed کو control کرنے کے ساتھ ساتھ سارا کچھ کرنا کیونکہ ذرا بھر بھی آگے پیچھے ہو گیا تو skidding ہو سکتی ہے اور کچھ ہو سکتا ہے جہاز بالکل crash ہو سکتا ہے۔ ہاں جی، تو کمال ہوتا ہے جہاز کا، کس میں ہوتا ہے؟ landing میں ہوتا ہے۔ تو نزول میں شیخ کا پتا چلتا ہے۔ ہاں جی مطلب جو راجع ہے، اس کا نزول جتنا کامل ہو گا اتنا ماشاءاللہ وہ یعنی وہ کام کو صحیح کر سکے گا، تو یہاں والی بات ہے۔ اور وصل سے ہجر کے ساتھ قرار پکڑے، لہذا صاحب رجوع حق جل شانہ کے ارادے سے قائم اور اپنے ارادے سے فانی ہے۔ یعنی صاحب رجوع حق جل شانہ کے ارادے سے قائم اور اپنے ارادے سے فانی ہے۔ اور صاحب توجہ وصل اور شہود سے محظوظ اور قرب معیت سے شاداں ہیں۔ ؏ هجرے كه بود مراد محبوب ؏ از وصل هزار بار خوشتر کیا بات ہے۔ ؏ هجرے كه بود مراد محبوب ؏ از وصل هزار بار خوشتر ؏ وہ ہجر ہے جو ہے مراد دلبر ؏ ہے وصل سے ہزار بار بہتر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو، بلکہ آپ سے میرے خیال میں یہ بات بھی ہوئی تھی کہ اگر کوئی اپنے محبوب کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور محبوب اس کو کہہ دے کہ جاؤ بازار جاؤ، میرے لیے فلاں چیز لے آؤ۔ اور وہ حجتیں کرنے لگے کہ جی حضرت میں تو آپ کی مجلس کو چھوڑ نہیں سکتا اور یہ اور وہ۔ تو کیا کہے گا وہ؟ ہاں جی اچھا، اس وقت بازار جانا ہی ظاہری مطلب ہے کامیابی ہے اس کے لیے، قرب ہے، قرب ہے۔ اچھا دوسرا شخص جو اس کے ساتھ بیٹھا ہے جس کو کہا نہیں گیا کہ بازار جاؤ، وہ اگر کہے کہ مجھے کیوں نہیں کہا، مجھے کہتے تو میں بازار چلا جاتا۔ اس کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟ اس کے بارے میں، جاؤ تم میرے قابل ہی نہیں، جاؤ جاؤ جاؤ، جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ چیز دیکھو ایک ہے، سٹیٹس مختلف ہے۔ یعنی جس کو کہا گیا اور جس کو نہیں کہا گیا۔ جس کو نہیں کہا گیا اس کی تمنا کرنا عیب ہے اور جس کو کہا گیا اس کا انکار کرنا عیب ہے۔ بس یہ ظاہری مطلب ہے کہ ساری بات اس میں آ گئی۔ ہاں جی تو یہاں پر ہے کہ اپنے اختیار سے رجوع کے مقام میں، بلکہ حق جل شانہ کے ارادے سے اعلی سے اسفل کی طرف نزول کیا ہے اور وصل سے ہجر کے ساتھ قرار پکڑنا ہے۔ لہذا صاحب رجوع حق جل شانہ کے ارادے سے قائم اور اپنے ارادے سے فانی ہے۔ اور صاحب توجہ وصل اور شہود سے محظوظ اور قرب معیت سے شاداں ہیں۔ ؏ لأني في الوصال عبيد نفسي ؏ وفي الهجران مولى للموالي ؏ وشغلي بالحبيب بكل حال ؏ أحب إلي من شغلي بحالي ؏ ہے وصل میں نفس کی غلامی ؏ ہے ہجر میں غلامی گرامی ؏ ہے ہجر ہمیشہ یار کی یاد ؏ ہر حال سے پیاری ہے یہی یاد مطلب یہ ہے کہ اگر تشکیل ہو جائے تو پھر اس کے بعد وہ ہجرت آپ کے وصل سے زیادہ وصل ہے۔ ہاں جی اور تشکیل نہ ہو تو پھر ہجر کی تمنا کرنا یہ واقعتا ہجر ہے۔ پھر ہجر کی تمنا کرنا یہ واقعتا ہجر ہے۔ تو یہ اصل میں بنیادی اور رجوع کے فضائل و کمالات زیادہ ہیں۔ صاحب توجہ کو صاحب رجوع کے ساتھ وہی نسبت ہے، رجوع کے ساتھ، جو قطرہ کو دریائے محیط کے ساتھ ہے۔ صاحب توجہ سے مراد جو اس وقت اپنے محبوب کی طرف توجہ کر رہا ہے۔ ہاں جی، جو قطرہ کو دریائے محیط کے ساتھ ہے کیونکہ رجوع نبوت کے فضائل میں سے ہے۔ اور وہ توجہ ولایت کے آثار میں سے ہے۔ شتان ما بينهما ان دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ ایک میں اپنا ارادہ ہے دوسرے میں اللہ کا ارادہ ہے، کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟ ظاہر ہے۔ لیکن ہر شخص کی فہم اس کمال تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے میں کہتا ہوں مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات کو پڑھا کرو۔ یہ واقعتا نہیں پہنچ سکتی۔ ہاں جی، یہ بہت بڑی نعمتیں ہیں، بہت بڑی بڑی نعمتیں اس میں چھپی ہوئی ہیں۔ الله اكبر ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔ تنزیہ اور تشبیہ کو جمع کرنے والوں میں سے۔ بعض کہتے ہیں کہ تمام مومنین کو تنزیہ کے ساتھ ایمان حاصل ہے۔ عارف وہ ہے جو ایمان تشبیہ کو بھی اس کے ساتھ جمع کر لے اور مخلوق کو خالق کا ظہور دیکھے اور کثرت کو وحدت کا لباس سمجھے اور مصنوع میں صانع کا مطالعہ کر لے۔ مختصر یہ کہ صرف تنزیہ کی طرف توجہ کا رہنا ان کے نزدیک نقص ہے اور کثرت کے ملاحظہ کے بغیر وحدت کا مشاہدہ کرنا ان کے نزدیک عیب ہے۔ یہ جماعت احدیت صرف کی طرف متوجہ ہونے والے کو ناقص شمار کرتی ہے اور کثرت کے مطالعہ کو بغیر وحدت کے ملاحظہ کو محدود مقید خیال کرتی ہے۔ سبحان الله وبحمده۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت تنزیہ صرف ہے اور تمام آسمانی کتابیں اسی ایمان تنزیہ کی ناطق ہیں۔ انبیاء علیہم السلام صنم ہائے آفاقی و انفسی باطل خداؤں کی نفی کرتے ہیں، ان کے باطل ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور اس واجب الوجود کی وحدت کی طرف جو بیچون و بیچگون ہے رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ کبھی کسی نص اور کسی پیغمبر نے ایمان تشبیہی، مظاہر اور مناظر میں خدا کو ثابت کرنا کی طرف دعوت دی ہو اور مخلوق کو خالق کا ظہور کہا ہو، تمام پیغمبر علیہم السلام واجب الوجود، تقدس کی توحید کے کلمہ میں متفق ہیں اور حق تعالی کے سوا تمام ارباب باطل خداؤں کی نفی کرتے ہیں۔ والله اعلم بالصواب۔ یہ ایک بات عرض کرتا ہوں جو اس مسئلے میں آ سکتا ہے۔ کہ جیسے کافر لوگوں کے سامنے جو اعمال کے فضائل ہیں بیان کرنے کے لیے ان کے دنیاوی فوائد کا ذکر مفید ہے۔ لیکن مسلمان کے لیے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ مسلمان کو وہ اس کے اونچے مقام یعنی ایمان بالغیب سے گرا رہا ہے۔ ایمان بالمشاہدہ کی طرف لا رہا ہے۔ ہاں جی؟ تو وہ کمزور ہو رہا ہے۔ بالکل یہی بات کثرت میں وحدت کو پانا یہ بالکل صحیح ہے۔ اگر ایک انسان کامل نہ ہو، اگر انسان کامل نہ ہو۔ کیونکہ اس کے لیے یہ راستہ ہے۔ لیکن جو کامل بن جائے پھر ان کی ان چیزوں پہ نظر نہیں ہوتی۔ ہاں جی؟ پھر وہ اس کی نظر اللہ پہ ہوتی ہے اور اللہ کے حکم پر ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضی پہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی رضا کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیتا ہے۔ وہ خود اپنی مرضی کو چلاتا ہی نہیں۔ لہذا اس کا کمال تنزیہ ہے۔ تشبیہ نہیں ہے۔ ہاں، جو اہل تشبیہ ہیں وہ تنزیہ کی طرف جو آ رہے ہیں، ان کے لیے ٹھیک ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے ان کے لیے وہ راستہ ہے۔ لیکن جو کمال حاصل کر چکے ہیں یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ کو پا چکے ہیں، ایسی صورت میں پھر وہ کسی اور چیز کی طرف کیوں دیکھے؟ لیکن یہ نیت کے اعتبار سے میں کہہ رہا ہوں۔ کام کے اعتبار سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ کام تو وہ کثرت میں کرے گا، جیسے پہلی بات ہے۔ تو انبیاء علیہم السلام کا اپنا ڈیسٹینیشن بالکل واضح، ایمان بالغیب کے مطابق ہوتا تھا۔ لیکن کام کثرت میں زیادہ کر رہے ہیں۔ اس کثرت سے متاثر نہیں ہو رہے۔ اس کثرت سے متاثر نہیں ہو رہے کثرت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ اب سمجھ میں بات آ گئی یا نہیں آئی؟ کثرت سے متاثر نہیں ہو رہے ہیں، کثرت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ یہی چیز حضرت فرما رہے ہیں کہ تشبیہ اور تنزیہ کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو کامل ہے، وہ تنزیہ والا ہوتا ہے۔ لیکن کمال تک آنے کے لیے تشبیہ سے، تشبیہ، کم تشبیہ، کم تشبیہ، کم تشبیہ، کم تشبیہ، تنزیہ تک آئے گا۔ وہ راستہ ہے، اس راستے پہ ضرور آئے گا۔ اسی کو تو تجرید و تفرید کہتے ہیں۔ یہ جو کم سے کم پہ آ رہا ہے، اسی کو تو تجرید و تفرید کہتے ہیں۔ ہم جس وقت لاہور جا رہے ہیں، کسی خاص شخص کے ساتھ ملنے کے لیے، تو کیا کرتے ہیں؟ بہت سارے راستے ہیں یہاں پر۔ پشاور کی طرف بھی جاتا ہے۔ اور مری کی طرف بھی جاتا ہے۔ بہت سارے راستے ہیں۔ ان میں ہم لاہور والا راستہ لیکن یہ لاہور والا راستہ صرف لاہور کو جاتا ہے؟ بہت ساری جگہوں کو جاتا ہے۔ اچھا، پھر باقی راستوں کو چھوڑتے چھوڑتے چھوڑتے، یہ تجرید والی بات ہے۔ ہاں مطلب وہ چلتے چلتے چلتے ہم لاہور شہر پہنچ جاتے ہیں۔ اب لاہور شہر میں پھر مخصوص لوکیلٹی کی طرف جو جانا ہے، پھر اس مخصوص لوکیلٹی میں جو مخصوص مطلب جو ہے نا وہ سڑک ہے اس طرف جانا ہے، پھر اس مخصوص سڑک پہ مخصوص سٹریٹ میں جانا ہے، پھر مخصوص سٹریٹ میں مخصوص گھر کی طرف جانا ہے، اس مخصوص گھر میں اس مخصوص شخص کی طرف جانا ہے۔ مسلسل آپ۔ کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ وہاں پہنچ جائیں اور وہ آپ کا محبوب ہو، تو کیا خیال ہے؟ پھر باقی چیزوں کو دیکھنا چاہیے؟ ہاں، یہی والی بات ہے۔ تو تنزیہ جو ہے وہ، اگر انسان کامل ہو، تو پھر اس کے لیے تشبیہ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر کامل نہیں ہے تو راستہ تو اس کا یہی ہے۔ اس لیے فرمایا، حضرت ایک عالم نے فرمایا تھا مجھے کہ جو، جو مطلب اصطلاحات ہیں، یہ مبتدی کے لیے سیڑھی ہے اور منتہی کے لیے عیب ہے۔ مبتدی کے لیے سیڑھی ہے اور منتہی کے لیے عیب ہے۔ کیونکہ منتہی اس کے محتاج نہیں ہے۔ وہ اصطلاحات کا محتاج نہیں ہے۔ وہ جس طریقے سے بھی آپ کو سمجھا دے گا اپنے الفاظ میں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض باتیں کی ہیں اور بڑی کھری باتیں کی ہیں۔ یہ ساری چیزیں ادھر سے نکلی ہیں لیکن ظاہراً مطلب اس کو ماننا ذرا مسئلہ ہوتا ہے۔ تو یہ جو ہے نا یہ والی بات کہ فرمایا کہ جو تمکین والے حضرات ہوتے ہیں، ان کی تھوڑی بات سے بھی لوگ سمجھ جاتے ہیں۔ تلوین والے باتیں بہت کرتے ہیں، لیکن درمیان میں اتنی مکسنگ ہوتی ہے کہ کبھی کس طرف کبھی کس طرف، وہ صحیح راستے کی طرف نہیں گائیڈ کر سکتے تو لوگ کنفیوز ہی کنفیوز ہوتے رہتے ہیں۔ وہ جو تمکین والے ہوتے ہیں وہ بالکل دو باتیں کر لیں گے، اس سے ساری بات سمجھا دیں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ ان کو اصطلاحات کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ آپ کے حالات کے مطابق exact وہ بات کرے گا، بس آپ سمجھ جائیں گے۔ اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو پھر ایسا نہیں کر سکو گے۔ ایسا نہیں کر سکو گے، درمیان میں کچھ نہ کچھ رگڑے لگتے رہیں گے، کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی ادھر، کبھی ادھر۔ یا اللہ یا کریم۔ قل يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون اے رسول آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کریں اور نہیں کسی کو اس کا ہم شریک ٹھہرائیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب نہ قرار دے۔ پھر اگر وہ اس بات کو نہ مانیں تو آپ کہہ دیں کہ تم گواہ رہو ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار مسلمان ہیں۔ یہ لوگ بے شمار صفات المعبود ارباب ثابت کرتے ہیں اور سب کو رب الارباب کی صفات خیال کرتے ہیں اور کتاب و سنت کو اپنے مطلب کی شہادت میں پیش کرتے ہیں۔ مثلاً کتاب، قرآن مجید میں ہے هو الاول والآخر والظاهر والباطن وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى نیز ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم تحقیق جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اور سنت میں ہے، اللهم انت الاول فليس قبلك شيء وانت الآخر فليس بعدك شيء وانت الظاهر فليس فوقك شيء وانت الباطن فليس دونك شيء یا اللہ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، اور تو ہی آخر ہے، جس کے بعد کوئی شے نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے اور تجھ سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں، اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے زیادہ کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ان درجہ بالا احادیث سے کوئی میں کوئی شہادت نہیں ہے کیونکہ عبارت بلیغ انداز میں ما سوی اللہ کے کمال وجود کی نفی کے لیے بطور حصر میں، نہ کہ اصل وجود کی نفی پر۔ جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لا صلاة الا بفاتحة الكتاب سورہ فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں۔ اور فرمایا لا ايمان لمن لا امانة له جو امانت دار نہیں اس کا ایمان کامل نہیں۔ کتاب و سنت میں اس قسم کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ یہ توجیہ نصوص قرآن و حدیث کی تاویل نہیں ہے، جیسے کہ ان لوگوں نے خیال کیا ہے۔ بلکہ نصوص کو کمال بلاغت پر محمول کیا ہے۔ اور چونکہ عرف محاورات عامہ میں جب کہ کسی شخص کی امر رسالت سفارت کا اہتمام کرنا تو اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ جیسے کہ يد الله فوق ايديهم اس سے مقصود حقیقت نہیں بلکہ مجاز ہے، جو حقیقت سے بھی زیادہ بلیغ ہے۔ اور جب فاعل سے جو کامل قدرت والے مالک کا غلام اور بندہ ہے، اس کی قدرت کے اندازے سے بڑھ کر کوئی فعل صادر ہو، اور اس فعل میں اس مالک قدرت کی التفات و توجہ متناظر ہو، تو اس وقت مالک کو یہ بات سزاوار ہے کہ کہہ دے کہ یہ کام میں نے کیا ہے، نہ کہ تو نے۔ یہ بات اتحاد فعل پر، اور اتحاد ذات پر کچھ بھی دلالت نہیں کرتی، حاشا و کلا ہرگز ایسا نہیں کہ بندہ غلام کا فعل عین مالک مقتدر کا فعل ہو۔ یا اس کی ذات بندہ غلام کی ذات کا عین بن جائے۔ اس جماعت نے شاید انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے مذاق کو سمجھا نہیں۔ کیونکہ اس جماعت کی دعوت کا مدار اثنینیت، دوئی پر ہے۔ اور غیر کے وجود غیریت پر ہے۔ اس کی عبارتوں کو توحید اور اتحاد پر لانا بے ہودہ تکلف ہے۔ اگر فی الحقیقت ایک ہی موجود ہوتا، تو اس کے سوا اس کے تمام ظہورات ہوتے۔ اور اس کے ما سوا کی عبادات اس کی عبادت ہوتی۔ جیسے کہ اس جماعت نے گمان کیا ہے۔ تو پھر انبیاء علیہم السلام اس قدر تاکید اور مبالغے کے ساتھ ان کی پرستش سے کیوں منع کرتے؟ اور ان کے پرستاروں پر دائمی عذاب کیوں مرتب کرتے؟ ان کے پرستش کرنے والوں کو خدا کا دشمن کیوں قرار دیتے تھے؟ ان لوگوں کی غلطی پر اطلاع کیوں نہیں دیتے تھے؟ ان کی غیریت کو جو جہالت کی وجہ سے ان میں پیدا ہو گئی تھی کیوں دور نہ کرتے؟ ان کی عبادت میں حق جل شانہ کی عبادت کیوں نہ بتاتے؟ ان لوگوں میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ اصل میں مختلف چیزوں کی تشریحات حضرت رواں انداز میں کر رہے ہیں۔ اصل میں چونکہ حضرت جس دور میں گزرے ہیں نا وہ فتنوں والا دور تھا بہت زیادہ بالخصوص اس قسم کے اعتقادی فتنوں کا۔ مثلا دیکھو میں آپ کو بتاؤں۔ میں اگر کہہ دوں کہ فلاں اس کا مظہر ہے یعنی گویا کہ یہ بھی وہ ہے۔ تو یہ بات تو دوسری طرف جا رہی ہے۔ لیکن اگر میں کہوں کہ یہ جو بھی کرتا ہے وہ اصل میں وہی کرتا ہے تو یہ دوسری طرف جا رہی ہے۔ تو حضرت دوسرے طریقے کے ساتھ ہیں۔ مطلب وہ فرمانا چاہتے ہیں کہ جس پہ بھی نظر پڑے گی آپ کی تو وہاں جو بھی خیر آپ کو نظر آئے گا وہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ لیکن آپ یہ نہیں کہ گویا کہ ہر چیز کو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے اللہ تعالی کا مظہر سمجھنے لگیں۔ یہ یہ والی بات نہیں ہے۔ مطلب یہ والی بات اکثر چونکہ اس طرح کرتے ہیں نا کہ مطلب یعنی یہ باتیں یہاں تک پہنچ جاتی ہیں یہاں تک پہنچ جاتی ہیں میں آپ کو کیا بتاؤں۔ حضرت ویسے نہیں بات کرتے ہیں۔ گجرات کی بات ہے مجھ سے ایک صاحب جہاں کے ہم گئے ہوئے تھے بوڑھے آدمی تھے وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ کہ اللہ اور رسول دو ہیں یا ایک ہے۔ یہ اس دور کی بات کر رہا ہوں یہ مجھ سے پوچھا گیا ہے۔ کہ اللہ رسول ایک ہیں یا دو ہیں؟ تو میں نے اسی سادگی سے جواب دیا میں نے کہا دو ہیں۔ میں نے کہا اس بیچارے کو مزید میں کیا بتاؤں گا۔ میں نے کہا دو ہیں اللہ اللہ ہے اور رسول رسول ہے۔ اور اللہ تعالی نے رسول کو پیدا کیا ہے۔ ہیں جی؟ تو یہ باتیں کہاں تک جاتی ہیں پھر؟ اس حد تک پہنچ جاتی ہیں۔ کہ گویا کہ وما رميت إذ رميت ولكن الله رمى سے میں اگر یہ مطلب لوں کہ نعوذ بالله من ذلك آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی ہیں جو اللہ ہیں۔ تو یہ تو شرک کی طرف معاملہ چلا گیا نا۔ ہاں جی؟ لیکن اگر میں کہہ دوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کیا وہ اللہ تعالی نے کیا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے تھے اللہ پاک ہی کر سکتے ہیں۔ اور سب کچھ اللہ کرتے ہیں۔ تو یہ توحید ہے۔ اب ایک بات کو ایک رنگ میں بتانا ہے تو اس میں یہ ہوتا ہے دوسرے رنگ میں بتائیں گے تو یہ ہوتا ہے۔ اب حضرت نے اتنی ساری تفصیلات جو بیان کی ہیں، اسی وجہ سے بیان کی ہیں کہ لوگ اس حد تک چلے جاتے ہیں پھر۔ تو جن کو ان چیزوں پہ نظر نہیں ہوتی تو وہ کہتے ہیں ان تشریحات کی کیا ضرورت ہے۔ وہ پریشان ہوتے ہیں کہ ان تشریحات کی کیا ضرورت ہے مطلب کیوں وجہ کیا خود ان کا ذہن صاف ہوتا ہے۔ کبھی انہوں نے کبھی یہ سوچا نہیں ہوتا کہ اللہ اور رسول ایک ہیں۔ ان کو تو کبھی یہ خیال نہیں آ سکتا نا۔ تو لہذا وہ کہیں گے ان تشریحات کی کیا ضرورت ہے ہم نے تو کسی نے بھی تو یہ نہیں مانا۔ چلو آپ نے نہیں مانا لیکن لوگ ایسے ہیں یا نہیں ہیں؟ تو بات تو جب کتاب میں آئے گی سب کے لیے آئے گی۔ تو حضرت ان تمام چیزوں کو صاف کر رہے ہیں۔ عقائد کے لحاظ سے صاف کر رہے ہیں۔ کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف ہی آپ کی نظر ہو چاہے کسی کی طرف بھی دیکھیں۔ نظر آپ کی اللہ پہ جائے۔ یہ والی بات۔ کیونکہ سب کچھ اللہ ہی کرتے ہیں۔ فعال لما يريد ہے۔ اور مخلوق کچھ بھی اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتا۔ ہاں جی؟ اور اللہ تعالی ہی کے مرضی کے مطابق سب لوگ کرتے ہیں۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ اس میں بس اتنی احتیاط کر لو۔ اتنی احتیاط کر لو کہ آپ کہہ دو کہ جہاں پر جو خیر ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ جو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور شر جو ہے وہ اصل میں اس کی ضد ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ یعنی جہاں پر نفس کی بات آتی ہے، جہاں پر شیطان کی بات آتی ہے۔ وہاں اس طرف شر ہے، مطلب اس کی طرف شر کی نسبت کی جاتی ہے۔ اور جو اللہ تعالی کی بات ہے اس کی طرف خیر کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو جہاں بھی خیر ہے تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ یعنی آخری مجھے آپ بتاؤ کہ ایسا تو فرمایا ہے نا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا۔ کہ میری بھی ایک رائے ہے۔ اگر یہ اچھی ہے صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے۔ یعنی اپنے نفس کی طرف اشارہ کیا۔ میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ انہوں نے یہ بات مطلب واضح کر لی۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے خیر کی نسبت اللہ پاک کی طرف کی۔ بلکہ آپ دیکھیے یہ ادب جو ہے قرآن میں بھی ہے۔ سورہ کہف میں۔ خضر علیہ السلام جو بتاتے ہیں، reasons بتاتے ہیں۔ کہ میں نے یہ کام کس لیے کیا ہے۔ تو پہلے کام کا کیا بتایا؟ میں نے کیا۔ ہاں جی؟ اور دوسرے کا کیا بتایا؟ ہم نے کیا۔ تیسرے کا کیا بتایا؟ رب نے کیا۔ سبحان اللہ۔ دیکھو جو غلطی نظر آتی تھی، لیکن تھی ٹھیک۔ تو اس کی نسبت کس طرف کی؟ اپنی طرف کی۔ ہاں جی اور دوسرے میں ہم نے کیا، تیسرے میں اللہ کی طرف۔ عرف اراد ربك۔ تو یہ یہ ادب قران میں بھی ہے۔ اور ظاہر ہے مطلب ہے کہ حدیث شریف میں تو میں نے اپ کو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا بتایا کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ٹھیک ہے تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہے۔ اج کل اس کا ضد چل رہا ہوتا ہے۔ بیمار ہے اگر ٹھیک ہو گیا تو ڈاکٹر نے ٹھیک کیا اور فوت ہو گیا، اج کل تو یہی بات ہے۔ ہے یا نہیں ہے؟ تو میرے خیال میں اتنی کافی ہے کیونکہ اج کے مضامین زیادہ ہیں۔ اس کو سنبھالنا پھر مشکل ہو جائے گا۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔ لا اله الا الله لا اله الا الله لا اله الا الله ——— 102 محمد رسول الله۔ لا اله الا هو لا اله الا هو لا اله الا هو ——— 9 اللهم صل على سيدنا مولانا۔ حق حق حق ——— 140 اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وبارك وسلم۔ الله الله الله ——— 160 اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وبارك وسلم۔ الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم النبيين۔ اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار۔ اللهم أحسن فرجي ويسر لي أمري۔ اللهم إني أسألك تمام الوضوء وتمام الصلاة وتمام رضوانك وتمام مغفرتك۔ اللهم آتني كتابي بيميني۔ اللهم غشني برحمتك وجنبني عذابك۔ اللهم ثبت قدمي يوم تزل فيه الأقدام۔ اللهم اجعلنا مفلحين۔ اللهم افتح أقفال قلوبنا بذكرك وأتمم علينا نعمتك وأسبغ علينا من فضلك واجعلنا من عبادك الصالحين۔ اللهم آتنا أفضل ما تؤتي عبادك الصالحين۔ اللهم أحينا مسلمين وأمتنا مسلمين۔ اللهم عذب الكفرة والمشركين الذين يشهدون آياتك ويكذبون رسلك ويصدون عن سبيلك ويتعدون حدودك ويدعون معك إلها آخر لا إله إلا أنت تباركت وتعاليت عما يقول الظالمون علوا كبيرا۔ اللهم اغفر لي وللمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات وأصلحهم وأصلح ذات بينهم وألف بين قلوبهم واجعل في قلوبهم الإيمان والحكمة وثبتهم على ملة رسولك وأوزعهم أن يشكروا نعمتك التي أنعمت عليهم وأن يوفوا بعهدك الذي عاهدتهم عليه وانصرهم على عدوك وعدوهم إله الحق۔ سبحانك لا إله غيرك اغفر لي ذنبي وأصلح لي عملي إنك أنت تغفر الذنوب لمن تشاء وأنت الغفور الرحيم۔ يا غفار اغفر لي يا تواب تب علي يا رحمن ارحمني يا عفو اعف عني يا رؤوف ارأف بي۔ يا رب أوزعني أن أشكر نعمتك التي أنعمت علي وتوفني مسلما بفضلك۔ يا رب أسألك من خيرك كله يا رب افتح لي بخير واختم لي بخير وقني السيئات ومن تق السيئات يومئذ فقد رحمته وذلك هو الفوز العظيم۔ اللهم لك الحمد كله ولك الشكر كله ولك الملك كله ولك الخلق كله بيدك الخير كله وإليك يرجع الأمر كله أسألك الخير كله وأعوذ بك من الشر كله۔ بسم الله الذي لا إله غيره اللهم أذهب عني الهم والحزن اللهم إني بما عندك منصرف وبذنبي معترف۔ اللهم إلهي وإله إبراهيم وإسحاق ويعقوب وإله جبرائيل وميكائيل وإسرافيل أسألك أن تستجيب دعوتي فإني مضطر وتعصمني في ديني فإني مبتلى وتنالني برحمتك فإني مذنب وتنفني من الفقر فإني متمسكن۔ اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك فإن للسائلين عليك حقا أيما عبد أو أمة من أهل البر والبحر تقبلت دعوتهم واستجبت دعاءهم وأن تشركنا في صالح ما يدعونك فيه وأن تشركهم في صالح ما ندعوك فيه وأن تعافينا وإياهم وأن تقبل منا ومنهم وأن تتجاوز عنا وعنهم فإنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين۔ اللهم آت محمدا الوسيلة والفضيلة والدرجة الرفيعة والمقام المحمود الذي وعدته۔ اللهم اجعلنا في المصطفين محبته وفي المقربين ذكره۔ اللهم اهدني من عندك وأفض علي من فضلك وأسبغ علي من رحمتك وأنزل علي من بركاتك۔ اللهم اغفر لي وارحمني وتب علي إنك أنت التواب الرحيم۔ اللهم إني أسألك التوفيق لمحابك من الأعمال وصدق التوكل عليك وحسن الظن بك والغنية عمن سواك ومناصحة التوبة وعزم الصبر وجد الخشية وطلب الرغبة وتعبد الورع وعرفان النعمة وترك العاقبة۔ اللهم إني أسألك مخافة تحجزني عن معاصيك حتى أعمل بطاعتك عملا أستحق به رضاك وحتى أناصحك بالتوبة خوفا منك وحتى أخلص لك النصيحة حياء منك وحتى أتوكل عليك في الأمور كلها حسن ظن بك سبحان خالق النور۔ اللهم لا تهلكنا فجاءة ولا تأخذنا بغتة ولا تغفلنا عن حق ولا وصية۔ اللهم آنس وحشتي في قبري اللهم ارحمني بالقرآن العظيم واجعله لي إماما ونورا وهدى ورحمة اللهم ذكرني منه ما نسيت وعلمني منه ما جهلت وارزقني تلاوته آناء الليل وأطراف النهار واجعله لي حجة يا رب العالمين۔ اللهم أنا عبدك وابن عبدك وابن أمتك ناصيتي بيدك ماض في حكمك عدل في قضاءك أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك أو أنزلته في كتابك أو علمته أحدا من خلقك أو استأثرت به في علم الغيب عندك أن تجعل القرآن ربيع قلبي ونور صدري وجلاء حزني وذهاب همي۔ اللهم اقسم لنا من خشيتك ما تحول به بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصائب الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا۔ اللهم أعنا ولا تعن علينا وانصرنا ولا تنصر علينا وامكر لنا ولا تمكر علينا واهدنا ويسر الهدى لنا وانصرنا على من بغى علينا۔ اللهم اجعلنا لك شاكرين لك ذاكرين لك راهبين لك مطواعين إليك مخبتين أواهين منيبين رب تقبل توبتنا واغسل حوبتنا وأجب دعوتنا وثبت حجتنا واهد قلوبنا وسدد ألسنتنا واسلل سخيمة قلوبنا۔ يا حي يا قيوم يا بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام لا إله إلا أنت برحمتك نستغيث فأغثنا ولا تكلنا إلى أنفسنا طرفة عين أبدا وأصلح لنا شأننا كله۔ يا حنان يا منان يا قديم الإحسان يا من إحسانه فوق كل إحسان يا مالك الدار والملك المعبود في كل مكان يا من هو في كل يوم هو في شأن۔ اللهم إني أسألك يا من لا تراه العيون ولا تخالطه الظنون ولا يصفه الواصفون ولا تغيره الحوادث ولا يخشى الدوائر يعلم مثاقيل الجبال ومكاييل البحار وعدد قطر الأمطار وعدد ورق الأشجار وعدد ما أظلم عليه الليل وأشرق عليه النهار لا تواري منه سماء سماء ولا أرض أرضا ولا بحر ما في قعره ولا جبل ما في وعره اجعل خير عمري آخره وخير عملي خواتمه وخير أيامي يوم ألقاك فيه۔ اللهم احرسني بعينك التي لا تنام واكنفني بكنفك الذي لا يرام وارحمني بقدرتك علي ولا أهلك وأنت رجائي فكم من نعمة أنعمت بها علي قل لك بها شكري وكم من بلية ابتليتني بها قل لك بها صبري فيا من قل عند نعمته شكري فلم يحرمني ويا من قل عند بليته صبري فلم يخذلني ويا من رآني على الخطايا فلم يفضحني يا ذا المعروف الذي لا ينقضي أبدا ويا ذا النعماء التي لا تحصى أبدا أسألك أن تصلي على محمد وعلى آل محمد وبك أدرأ في نحور الأعداء والجبارين۔ اللهم إني أستعينك على ديني بالدنيا وعلى آخرتي بالتقوى فاحفظني فيما غبت عنه ولا تكلني إلى نفسي فيما حضرت يا من لا تضره الذنوب ولا تنقصه المغفرة هب لي ما لا ينقصك واغفر لي ما لا يضرك إنك أنت الوهاب۔ أسألك فرجا قريبا وصبرا جميلا ورزقا واسعا والعافية من جميع البلايا وأسألك الشكر على العافية وأسألك الغنى عن الناس۔ اللهم يا نور السماوات والأرض يا عماد السماوات والأرض يا جبار السماوات والأرض يا ديان السماوات والأرض يا وارث السماوات والأرض يا مالك السماوات والأرض يا عظيم السماوات والأرض يا عالم السماوات والأرض يا قيوم السماوات والأرض يا رحمن الدنيا ورحيم الآخرة۔ اللهم إني أسألك أن لك الحمد لا إله إلا أنت الحنان المنان بديع السماوات والأرض ذو الجلال والإكرام برحمتك يا أرحم الراحمين۔ بسم الله أصبحنا وأمسينا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وأن الجنة حق والنار حق وأن الساعة آتية لا ريب فيها وأن الله يبعث من في القبور الحمد لله الذي لا يرجى إلا فضله ولا رازق غيره الله أكبر ليس كمثله شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع البصير۔ اللهم إني أسألك في صلاتي ودعائي بركة تطهر بها قلبي وتكشف بها كربي وتغفر بها ذنبي وتصلح بها أمري وتغني بها فقري وتذهب بها شري وتكشف بها همي وغمي وتشفي بها سقمي وتقضي بها ديني وتجلو بها حزني وتجمع بها شملي وتبيض بها وجهي يا أرحم الراحمين۔ اللهم إليك مددت يدي وفيما عندك عظمت رغبتي فاقبل توبتي وارحم ضعف قوتي واغفر خطيئتي واقبل معذرتي واجعل لي من كل خير نصيبا وإلى كل خير سبيلا برحمتك يا أرحم الراحمين۔ اللهم لا هادي لمن أضللت ولا معطي لما منعت ولا مانع لما أعطيت ولا باسط لما قبضت ولا مقدم لما أخرت ولا مؤخر لما قدمت اللهم أنت الحليم فلا تعجل وأنت الجواد فلا تبخل وأنت العزيز فلا تذل وأنت المنيع فلا ترام وأنت المجير فلا تضام وأنت على كل شيء قدير۔ اللهم لا تحرمني سعة رحمتك وسبوغ نعمتك وشمول عافيتك وجزيل عطائك ولا تمنع عني مواهبك لسوء ما عندي ولا تجازني بقبيح عملي ولا تصرف وجهك الكريم عني برحمتك يا أرحم الراحمين۔ اللهم لا تحرمني وأنا أدعوك ولا تخيبني وأنا أرجوك اللهم إني أسألك يا فارج الهم ويا كاشف الغم يا مجيب دعوة المضطرين يا رحمن الدنيا يا رحيم الآخرة ارحمني برحمتك۔ اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وأنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت الأول والآخر والظاهر والباطن عليك توكلت وأنت رب العرش العظيم۔ اللهم آت نفسي تقواها وزكها يا خير من زكاها أنت وليها ومولاها يا رب العالمين۔ اللهم إني أسألك مسألة البائس الفقير وأدعوك دعاء المفتقر الذليل لا تجعلني بدعائك رب شقيا وكن بي رؤوفا رحيما يا خير المئولين ويا أكرم المعطين يا رب العالمين۔ اللهم رب جبرائيل وميكائيل وإسرافيل وعزرائيل اعصمني من فتن الدنيا ووفقني لما تحب وترضى وثبتني بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة ولا تضلني بعد أن هديتني وكن لي عونا ومعينا وحافظا وناصرا آمين يا رب العالمين۔ اللهم استر عورتي واقبل عثرتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي ومن تحتي ولا تجعلني من الغافلين۔ اللهم إني أسألك الصبر عند القضاء ومنازل الشهداء وعيش السعداء والنصر على الأعداء ومرافقة الأنبياء يا رب العالمين۔ اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي۔ اللهم ارزقني قبل الموت توبة وعند الموت شهادة وبعد الموت جنة اللهم ارزقني حسن الخاتمة اللهم ارزقني الموت وأنا ساجد لك يا أرحم الراحمين۔ اللهم اجعل قبري روضة من رياض الجنة ولا تجعله حفرة من حفر النار۔ اللهم إني أعوذ بك من فتن الدنيا اللهم إني أعوذ بك من فتن الدنيا اللهم إني أعوذ بك من فتن الدنيا۔ اللهم قوي إيماننا ووحد كلمتنا وانصرنا على أعدائك أعداء الدين اللهم شتت شملهم واجعل الدائرة عليهم اللهم انصر إخواننا المسلمين في كل مكان۔ اللهم ارحم آبائنا وأمهاتنا واغفر لهما وتجاوز عن سيئاتهما وأدخلهما فسيح جناتك وألحقنا بهما يا رب العالمين وبارك اللهم على سيدنا محمد صلى الله عليه وسلم۔ آمين۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وبارك وسلم۔ اس مجلس کو قبول فرما دے۔ یا اللہ یہ جو حضرت کا فیض ہے یا اللہ رب العالمین ہم سب کو نصیب فرما دے۔ یا اللہ اس کے اندر جو برکات ہیں یا اللہ وہ ساری ہمیں نصیب فرما دے۔ یا اللہ شیطان کے تمام یا اللہ رب العالمین شرور سے ہمیں محفوظ فرما۔ ہمارے نفسوں کے شرور سے ہمیں محفوظ فرما۔ ہمارے قلب کو قلب سلیم بنا دے۔ ہماری روح ہمارے جو ہے نفس کو نفس مطمئنہ بنا۔ ہماری عقل کو عقل فہیم بنا دے۔ یا اللہ تو ہم سے راضی ہو جا راضی ہو کے پھر ناراض نہ ہو۔ ہمارے ایک رشتہ دار آج فوت ہوئے ہیں اللہ جل شانہ ان کی مغفرت فرما دے ان کے لیے سورہ فاتحہ پڑھ لیں اور تین دفعہ سورہ اخلاص ان کے لیے دعا کر لیں۔ اے اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمارے اس یا رب العالمین جس جو تلاوت کی اس کو قبول فرما۔ اس کا ثواب اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم جملہ انبیاء کرام جملہ صحابہ کرام جملہ اولیاء کرام مشائخ اور یا رب العالمین ہمارے اس رشتہ دار ڈاکٹر قدرت اللہ صاحب کو پہنچا دے۔ ان کے فیوض و برکات یا رب العالمین ان کے گھر والوں کو پہنچا دے اور یا رب العالمین گھر والوں کو یا رب العالمین صبر جمیل عطا فرما دے۔ اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار۔ اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه عبدك ونبيك وحبيبك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه عبدك ونبيك وحبيبك محمد صلى الله عليه وسلم۔ أنت المستعان ولا حول ولا قوة إلا بك۔ سبحان ربك رب العزة۔