طریقۂ صحابہ، اہمیتِ صحبت اور مکتوباتِ امام ربانیؒ کا درس
درس 131: مکتوب 269 تا 272
- حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات اور دینِ اسلام کے لیے ان کی تجدیدی کوششیں
- اکبر بادشاہ کے فتنے (دینِ الٰہی) کا مقابلہ اور جہانگیر کے دور میں احیائے دین
- دین میں "صحبتِ صالحین" کی فضیلت، اہمیت اور فیض کا تسلسل (مثلاً حضرت اویس قرنیؒ کا واقعہ)
- طریقۂ صحابہ ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾ اور ﴿سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾ کا عملی نمونہ
- سیر الی اللہ، نفس کی اصلاح اور منتہی مجذوب و قلندر کے درجات
- ایمان بالغیب اور ایمانِ شہودی کا فرق اور انبیاء کرام کا مقام
- دین (مذہب) کی قطعیت (Finality) اور سائنس کے ارتقاء (Evolution) کا تقابل
- احکامِ شرعیہ میں عقلی و منطقی دلائل (Logic) کی بجائے احکامِ الٰہی اور اتباعِ سنت پر غیر مشروط یقین
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ، وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ، بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ حضرت کے جملہ فیوض و برکات سے ہمیں مستفید فرمائے۔
بہت اعلیٰ مضامین ہیں اس میں، بقول حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، کہ یہ بہت اہم مضامین اس میں ہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں، وہ کسی اور جگہ نہیں ملتے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دفتر اول مکتوب 269
شیخ فرید (مرتضیٰ خاں) کی طرف صادر فرمایا۔ دین کے دشمنوں کی اہانت کرنے اور ان بے وقوفوں اور بد بختوں کے جھوٹے خداؤں کی توہین و تخریب پر ترغیب دینے اور اس عظیم القدر کام کی تمنا ظاہر کرنے میں اور اس کے مناسب بیان میں۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ یہ تھا کہ وقت کے جو مقتدر حضرات تھے، ان کے ذریعے سے دین کی بات پہنچائی۔ اس وقت چونکہ فتنہ بہت زیادہ تھا، شدید فتنہ تھا۔ اکبر کے دینِ الٰہی کی وجہ سے بہت ساری چیزیں تباہ ہو گئی تھیں۔ بڑے بڑے علماء کرام یا شہید کر دیے گئے تھے یا ان کو ملک بدر کر دیا گیا تھا، یا پھر ان کو اپنا ہمنوا بنا لیا گیا تھا۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے بہت زیادہ یعنی سارے لوگوں پہ محنت کرنے کا کام مشکل تھا۔ تو حضرت نے جو سرکردہ لوگ تھے، ان کے اوپر محنت فرمائی ہے۔ جس میں اکبر کے جو مصاحبین تھے، جو درباری تھے، ان میں سے بھی اکثر، بلکہ نصف سے زیادہ درباری حضرت کے معتقد یا بیعت ہو گئے تھے، اکبر کے دور میں ہی۔ اور بڑے بڑے علماء کے، یا سادات کے، یا جو مطلب اس وقت کے مقتدر حضرات ہو سکتے تھے، تو ان کی طرف یہ مکاتیب شریف بھیجے ہیں۔
تھوڑا سا غور کر لیں، یعنی ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اپنی خانقاہ میں، اور مکاتیب کے ذریعے سے وہ راستے بن رہے ہیں، اور اتنے یعنی گہرے راستے بن رہے ہیں کہ وہ پورا ایک انقلاب برپا کر دیتے۔ یعنی جو اتنا زیادہ Establish بے دینی کا طوفان تھا، وہ سارے کا سارا اس کا منہ موڑ دیا، اور ایک Generation کے بعد... مطلب یہ ہے کہ اکبر کے بعد فوراً اس کے بعد جو جہانگیر آیا ہے، تو جہانگیر جو ہے، یہ پہلے تو جہانگیر اصل میں ان لوگوں میں تھا جو یعنی دین کے بارے میں اچھے جذبات رکھتا تھا۔ شہزادہ تو تھا ہی، لیکن بہرحال نسبتاً اچھا تھا۔ نتیجتاً اکبر کے جو درباری تھے، اکبر کی موت کے بعد ان حضرات کی کوششوں سے جو بے دین شہزادہ ہے وہ نہیں آ سکا، اور ان کو لایا گیا، یہ پہلی کامیابی تھی، مطلب جو اکبر کے دربار میں حاصل ہوئی۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ پھر اکبر کے دور کے جو لوگ تھے، انہوں نے کان بھرنے شروع کر دیے جہانگیر کے، جس کی وجہ سے جہانگیر کو مخالف بنا دیا گیا۔ اور سب سے بڑی وجہ جو تھی وہ ان کو یہ دکھائی گئی کہ دیکھیں نا یہ سجدہ تعظیمی نہیں کرتے۔ سجدہ تعظیمی باقاعدہ اس وقت رائج ہو گیا تھا دربار میں۔ تو یہ بات تھی کہ دیکھیں آپ کے لیے سجدہ تعظیمی نہیں کریں گے، یہ آپ کا مخالف ہے۔ تو ان کو جب لایا گیا تو حضرت نے بالکل ایسے ہی کیا، کہ پہلے پیر داخل کیے، پھر اس کے بعد سر ۔ وہ جگہ ایسے بنا دی گئی تھی تاکہ وہ جھک کے ہی آ سکے۔ تو حضرت نے ایسا کیا، تو جہانگیر کو کھٹکا بیٹھ گیا دماغ میں کہ بات تو صحیح ہے۔ تو ان کو گرفتار کر دیا، گوالیار کے قلعے میں۔
تو ادھر جو حضرت کے معتقدین تھے، ان میں مہابت خان نامی ایک تھے پشاور کے، جن کی مشہور مسجد بنی ہے مسجد مہابت خان، ابھی بھی موجود ہے۔ تو انہوں نے بغاوت کر دی۔ بغاوت کر دی، اب جہانگیر جس کو بھی بھیجے اس کو گرفتار کر لیں۔ وہ بڑا مضبوط جرنیل تھا۔ جس کو بھی بھیجے اس کو گرفتار کر لیں۔ تو جہانگیر حیران ہو گیا کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟ بہرحال پھر ان کو مجبوراً گوالیار کے اس میں وہ حضرت سے درخواست کرنی پڑی کہ آپ ان کو کہہ دیں کہ وہ جو ہمارے جو لوگ ہیں، چھوڑ دیں۔ تو حضرت نے ان کو خط لکھا اور حضرت نے فرمایا کہ ہم حکومت کرنے کے لیے نہیں آئے، حکومت بے شک یہ کرے لیکن شریعت کے مطابق کرے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے، تو آپ ان کو رہا کر دیں۔ تو انہوں نے بڑی عزت کے ساتھ ان کو رہا کر دیا سب کو جن کو پکڑا تھا، بڑے بڑے جرنیلوں کو پکڑا تھا، ان کو رہا کر دیا۔ جس سے جہانگیر پر حضرت کی دھاک بیٹھ گئی کہ یہ تو معمولی شخص نہیں ہے۔ تو پھر ان کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتے تھے، اور بہت یعنی قریب ہو گئے تھے حضرت کے۔
اور شاہ جہاں بادشاہ جو تھے، یہ تو باقاعدہ حضرت سے بیعت ہو گئے، یعنی بعد میں جب شاہ جہاں بادشاہ آئے، اور اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کا تو آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ کیسے تھے، یہ خواجہ معصوم رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت کے صاحبزادے تھے ان سے بیعت تھے۔ تو ان کا تو معاملہ یہ تھا کہ جس تخت پر بیٹھ کر اکبر فقہاء کو سفہاء کہتے تھے، اس تخت پر اپنے ساتھ فقہاء کو بٹھا کر ان سے فتاویٰ عالمگیری لکھوایا۔ چار Generation میں اتنا زیادہ انقلاب آ گیا کہ جس تخت پر بیٹھ کر اکبر فقہاء کو سفہاء کہتے تھے یعنی بیوقوف، تو اس تخت پر اپنے ساتھ فقہاء کو بٹھا کر ان سے فتاویٰ عالمگیری لکھوایا۔ جو باقاعدہ پوری سلطنت کو چلانے کا وہ ہے، یعنی آئین ہے پورا، اس پر پوری سلطنت چلائی جا سکتی ہے۔ تو یہ ہے ان حضرات کی برکت۔
تھوڑا سا غور کر لیں، دو بڑے بزرگ ہندوستان کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ ایک ہیں خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ، جو کہ تقریباً ہندوستان کے... ظاہر ہے آئے تو محمد بن قاسم تھے ابتداء میں سندھ میں، لیکن اگر مضبوط Roots پڑ گئیں تو خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے پڑیں۔ کیونکہ حضرت کی برکت سے تقریباً 90 لاکھ ہندو وہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ 90 لاکھ لوگ، معمولی بات تو نہیں، اس وقت انڈیا کی آبادی کتنی ہوگی؟ تو یہ بات ہے کہ پورا داغ بیل جس کو ہم کہتے ہیں، وہ بھی ایک صوفی کے ذریعے سے پڑی ہے۔ اور پھر جب مشکل پڑ گئی، یعنی جب تقریباً ختم ہونے کو تھا، پھر ایک صوفی کو اللہ نے اٹھا دیا، یعنی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو، جس کی وجہ سے دوبارہ یعنی احیائے دین ہو گیا اور احیائے سنت ہو گئی۔ دونوں محاذوں پہ حضرت لڑے ہیں۔ دونوں محاذوں پہ، شریعت کے محاذ پر بھی اور طریقت کے محاذ پر بھی۔ شریعت کے محاذ پر بھی لڑے ہیں، بہت -سبحان اللہ- ایسی ایسی چیزیں جو غلط رائج ہو گئی تھیں، ان کو وہ توڑ دیا، ان کو وہ سمجھا دیا لوگوں کو۔ اور طریقت کے محاذ پر بھی، کہ جو غلط چیزیں شامل ہو گئی تھیں، برملا ان کا انکار کر دیا۔
اس وقت ان چیزوں کا انکار کرنا معمولی بات نہیں تھی، بہت مشکل تھا۔ تو حضرت کے مکتوبات شریف میں یہی بات تھی۔ تو جس وقت ہم نے مکتوبات شریف شروع کیے، تو دیوانوں کا خواب تھا، مکتوبات شریف اور کہاں ہم۔ کیا بات تھی، دیوانوں کے خواب والی بات تھی۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہمارے ایک ساتھی کو ہو گئی۔ تو حضرت نے ارشاد فرمایا کہ میرا بتایا کہ ان کو کہو کہ یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حالات پہلے دیکھ لیں۔ کہ وہ کن حالات سے گزرے تھے، اور یہ مکتوبات شریف کن حالات میں لکھے گئے ہیں۔ تاکہ ان کو پتہ ہو کہ کسی چیز کا مطلب کیا ہے؟ اور واقعتاً بالکل صحیح ہے، اگر میں ان حالات کو نہ دیکھتا تو شاید میں، مجھے سمجھ میں نہ آتی بات۔ تو پھر میں نے الحمد للہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی کتاب ہے "کاروانِ دعوت و عزیمت" کی جلد نمبر چہارم، وہ میں نے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر لی، اور میں نے اس کو پڑھ لیا الحمد للہ، اس سے مجھے یہ ساری باتیں تفصیلی معلوم ہو گئیں کہ حضرت مجدد صاحب کے کیا حالات تھے اور کن حالات میں حضرت نے یہ کام کیے ہیں۔ تو اس وجہ سے اگر ہم ان چیزوں کو جانیں نا، تو پھر ان شاء اللہ کچھ باتیں ہمیں سمجھ آئیں گی۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) ہر شخص کے دل میں کسی نہ کسی امر کی تمنا ہوا کرتی ہے (اسی طرح) اس فقیر کی بہت زیادہ تمنا یہی ہے کہ خدائے عز و جل کے دشمنوں اور اس کے پیغمبر علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کے دشمنوں کے ساتھ سختی کی جائے اور ان بد نصیبوں کو رسوا کیا جائے اور ان کے باطل معبودوں کو ذلیل و خوار کیا جائے۔ اور (یہ فقیر) یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ حق جل و علا کے نزدیک اس عمل سے زیادہ پسندیدہ عمل کوئی نہیں ہے، اسی وجہ سے آپ کو اس پسندیدہ عمل کے لئے بار بار ترغیب دیتا ہے اور اس عمل میں بجا آوری کو اسلام کے اہم ترین اُمور میں سے جانتا ہے۔ چونکہ آپ بذاتِ خود وہاں تشریف لے گئے ہیں اور اس گندے مقام اور وہاں کے رہنے والوں کی تحقیر اور اہانت کے لئے متعین ہوئے ہیں اس لئے سب سے پہلے اس نعمت کا شکر بجا لانا چاہیے کیونکہ بکثرت لوگ اس جگہ کی اور وہاں کے باشندوں کی تعظیم و توقیر کے لئے جاتے ہیں۔ لِلّٰہِ سُبْحَانَہُ الْحَمْدُ وَ الْمِنَّۃُ (اللہ سبحانہٗ کی حمد اور اس کا احسان ہے) کہ حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہم کو اس بلا میں مبتلا نہیں کیا۔ اس نعمتِ عظمیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد ان بد نصیبوں کی اور ان کے جھوٹے معبودوں کی تحقیر و توہین میں سعیِ بلیغ کرنی چاہیے اور ہر ممکن ذریعے سے خواہ پوشیدہ (طور پر) ہو یا ظاہر (ہر طرح) ان لوگوں کی تخریب میں کوشش کرنی چاہیے، اور ان (ہاتھوں سے بنائے ہوئے) بت تراشیدہ، نا تراشیدہ، گستاخ و بے ادب کی اہانت کرنی چاہیے۔ امید ہے کہ بعض غفلتیں جو آپ سے وقوع میں آئی ہیں اس عمل کی وجہ سے ان کی تلافی اور کفارہ ہو جائے گا۔ جسمانی کمزوری اور سردی کی شدت مانع ہے ورنہ (یہ فقیر) خود آپ کی خدمت میں پہنچ کر اس کام کو بجا لانے کی ترغیب دیتا۔ اور اس تقریب سے اس پتھر پر تھوکتا اور اس کو اپنی سعادت کا سرمایہ سمجھتا۔ اس سے زیادہ کیا مبالغہ کیا جائے۔ و السلام
سبحان اللہ! یعنی یہ جلال ہے حضرت کا، جمال بھی ہے لیکن جمال کے اپنے مواقع ہیں۔ یہ حضرت کا جلال ہے کہ حضرت اپنے ساتھیوں کو ہمت دلایا کرتے تھے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو حضرت کے ساتھ خاص ہیں۔ ایک تو یہ بات ہے کہ دین کی تشریح میں بالکل ایک تلوار کی طرح واضح بات، ﴿قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا﴾، یہ ہے اور یہ یہ ہے۔ مطلب یہ والی بات نہیں ہوتی تھی کہ درمیان میں آ گیا ایک پیچھے... Diffusion والی بات نہیں ہوتی تھی۔ جس سے Confusion ہو جائے۔ بس ایک صحیح مطلب والی بات کرتے تھے۔
دوسری بات یہ تھی کہ کبھی بھی کسی کو رکنے نہیں دیتے تھے۔ چاہے کتنی ترقی کسی کی کیوں نہ ہو جائے، تو اس کو کہتے ہیں آگے بڑھو، آگے بڑھو، آگے بڑھو، راستہ آگے ہے۔ رکنا نہیں ہے۔ یہ بات بھی حضرت کی خاصیتوں میں سے ہے۔ جس کی وجہ سے حضرت کے ساتھی اور حضرات جو تھے وہ رکتے نہیں تھے، وہ بڑھتے جاتے تھے، بڑھتے جاتے تھے۔
میں آپ کو کیا بتاؤں، آج کل بھی اگر ہم دیکھیں، تو ہم لوگ زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ اگر کسی کو کوئی اچھا خواب نظر آ جائے، تو بس اس کی خوشی میں بس، پھر ہفتوں مہینوں خوش رہتے ہیں کہ بس یہ ہو گیا، اور یہ ہو گیا۔ یہ کیا چیز ہے؟ بھئی یہ ظنی چیزیں ہیں، ظنی چیزوں کے لیے آپ یقینی چیزوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ظنی چیزوں کے لیے آپ یقینی چیزوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ تو یہ ظنی چیزوں پہ اتنا وہ ہونا کہ بس وہ یقینی چیزوں میں سستی ہو جائے۔
ایک دفعہ ایک بزرگ تھے ہمارے، فوت ہو گئے تھے، میں نے ان کو خواب میں دیکھا تھا۔ تو تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے عرض کیا کہ حضرت میں نے ان کو خواب میں دیکھا ہے۔ فرمایا، میں نے ان کو جاگتے میں دیکھا ہے۔ ظاہر ہے جب زندہ تھے تو جاگتے میں دیکھا ہے! مقصد یہ ہے کہ واقعتاً ہم لوگ خوابوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس طرح کشفوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ حضرت اس معاملے میں بالکل... ہمارے شیخ رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی یہی حال تھا۔ کہ میں نے ایک دفعہ حضرت کو کچھ ایسی باتیں سنائیں اپنی، تو انہوں نے فوراً فرمایا دور کرو، دور کرو، یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ واقعتاً راستے کے کھیل تماشے ہیں۔
اصل چیز یہ نہیں ہوتی۔ اصل چیز تو اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے۔ میں آپ کو کیا بتاؤں، اگر آپ کسی چیز کو دو لفظوں میں Define کر سکتے ہیں، دو لفظوں میں اگر Define کر سکتے ہیں، وہ ہے طریقۂ صحابہ۔ اصل چیز یہی ہے، صحابہ کا طریقہ۔ اگر آپ کو صحابہ کا طریقہ مل گیا نا، آپ کو کوئی اچھا خواب نہ آئے، کوئی کشف آپ کو نہ ہو، کوئی چیز آپ کو ایسے Extra نہ ہو، لیکن آپ کو صحابہ کا طریقہ مل گیا، بس پھر آپ کامیاب ہیں، الحمد للہ۔ صحابہ کا طریقہ اصل ہے۔ کیوں؟ اس کی Guarantee دی گئی ہے۔ ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾۔ یعنی خیر کا جو معیار بتایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معیار بتایا ہے، فرمایا: ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾ جس پر میں ہوں اور جس پر میرے صحابہ ہیں۔ پس اگر کوئی صحابہ کا طریقہ حاصل کر چکا ہے، چاہے کس طریقے سے حاصل کر لے، طریقہ Is not important، "اصل" Important ہے، مقصود Important ہے۔
آج کل یہ بھی بڑا مسئلہ ہے کہ لوگ ذریعوں میں پھنس گئے ہیں۔ ایک خاص ذریعے پہ اتنا Stress دیتے ہیں کہ مقصود فوت ہو جاتا ہے۔ جو مقصود ہے، وہ فوت ہو جاتا ہے۔ تو یہ اصل چیز کیا ہے؟ ذریعے کو ذریعے کے درجے میں رکھو، ذریعے کی توہین نہ کرو، ذریعے کی ناقدری نہ کرو، وہ آپ کو مقصود تک پہنچائے گا، لیکن اس کو مقصود بھی نہ بناؤ۔ کیونکہ اگر آپ نے اس کو مقصود بنایا تو دین میں آپ نے اضافہ کر دیا، وہ دین تو ہے ہی نہیں، وہ دین تو ہے نہیں۔ دین کا ذریعہ ہے۔ تو جو دین کا ذریعہ ہے اس کو ذریعے کے درجے میں رکھو، اور جو دین کا مقصد ہے اس کو مقصد کے درجے میں رکھو۔
یہی صحابہ کا طریقہ تھا۔ کہ صحابہ کرام جس چیز کے بارے میں، جو بات طے ہو چکی ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے فرماتے، بس اس کے بعد... دیکھو دو نعرے تھے صحابہ کرام کے، دو نعرے۔ بڑے مشہور۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ ﴿آمَنَّا وَصَدَّقْنَا﴾، ﴿سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾۔ "ہم ایمان لائے اور ہم نے تصدیق کر لی"۔ درمیان میں دوسری بات نہیں ہوتی تھی۔ ایمان لائے اور ہم نے تصدیق کر لی۔ ﴿سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾، "ہم نے سن لیا اور اطاعت کر لی"۔ درمیان میں کوئی تیسری بات نہیں ہوتی تھی۔ یہی اصل میں بنیادی چیز ہے، تو حضرت کی پوری کوشش یہی تھی کہ ہم اس پر آ جائیں، صحابہ کے طریقے پر آ جائیں۔
درمیان میں کسی اور جگہ نہ پھنس جائیں۔ ورنہ اگر درمیان میں کسی اور جگہ پھنس گئے، تو میں آپ کو بتاؤں سیدھا راستہ ایک ہوتا ہے، ٹیڑھے راستے بے شمار ہیں۔ ٹیڑھے راستوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ جتنے راستے آپ بنانا چاہیں بنا دیں۔ اچھا میں آپ کو بتاؤں ایک ٹیڑھے راستے کے ساتھ اگر آپ چمٹ جائیں نا، تو آپ کہیں گے چلو جی کسی نہ کسی وقت تو سیدھا ہو جاؤں گا۔ لیکن نہیں، اس کا ایک بڑا نقصان ہوتا ہے اور وہ نقصان انسان کی کمر توڑ دیتا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ٹیڑھے راستے کو اگر آپ نے لے لیا، اور سیدھے راستے کی جو قدر ہے وہ آپ نے نہیں کی، تو سیدھا راستہ تو ایک ہی ہے، لیکن جس چیز سے آپ کو نقصان ہوگا وہ یہ ہوگا کہ آپ جس بنیاد پر سیدھا راستہ ہے، آپ اس کا انکار کر رہے ہیں۔ جو سیدھا راستہ جس بنیاد پر ہے، آپ اس کا انکار کر رہے ہیں، تبھی تو آپ سیدھا راستہ آپ سے گم ہو گیا نا۔ مثلاً قرآن، اور سنت، یہی دو چیزیں ہیں جو Define کرتی ہیں کہ سیدھا راستہ کیا ہے۔
اب اگر آپ نے سیدھا راستہ چھوڑ دیا اور کوئی بھی ٹیڑھا راستہ لے لیا، تو آپ نے ان دو کا انکار کر دیا۔ اب ان دو کا جو انکار ہے، اب آپ کو کہیں رکنے نہیں دیں گے۔ یہ بگاڑ شروع ہو گیا۔ اب سلطانِ علم اس کو کہتے ہیں، یعنی جو بنیادی جس کو کہتے ہیں معیار جس کو ہم کہتے ہیں، Reference جس کو کہتے ہیں۔ Reference آپ کے ہاتھ سے چلا گیا۔ اب آپ کے پاس Reference کیا رہ گیا؟ آپ کے پاس Reference اپنی خواہش رہ گئی۔ آپ کی مرضی رہ گئی۔ آپ کی جو خواہش ہے وہ آپ کے شیطان کے کنٹرول میں ہے۔ وہ آپ کی خواہشات کے مطابق نئی نئی چیزیں Design کر کے آپ کے سامنے کرے گا۔ پھر آپ چلاتے رہیں، جتنا چلائیں۔ تو There will be no stop. یہ Non stop journey، پھر جتنا بگاڑ آ سکتا ہے، بگڑے گا۔
یہ بگاڑ Multiply اس طرح ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس چیز کو بالکل Restrict کر لے کہ میں نے یہ نہیں کرنا، بھئی میں نے قرآن نہیں چھوڑنا، میں نے سنت نہیں چھوڑنی، تو اس کی باگ قرآن اور سنت کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اگر بگڑے گا بھی تو فوراً واپس آئے گا۔ میں آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں، یہ عربوں کے اندر ایک خوبی ہے۔ اور جو ہمارے ہاں نہیں ہے۔ چاہے کتنے بگڑ جائیں نا عرب، ان کو قرآن کی آیت سنا دو نا، فوراً مان جائیں گے۔ حدیث شریف سنا دو، فوراً مان جائیں گے۔ اس میں انکار نہیں کریں گے۔
میں آپ کو واقعہ سناتا ہوں، یہ ہمارے ایک عالم نے سنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ کے بالکل پاس ایک شیخ تھے۔ وہ Photography اس کی ہو رہی تھی۔ ہوتی ہے نا مطلب ظاہر ہے Photography، وہاں تو ویسے بھی Photographer Available ہوتے ہیں۔ عرفات جا رہے ہیں تو راستے میں کھڑے ہیں، خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہیں، منیٰ میں کھڑے ہیں، ہر جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ تصویریں بناتے ہیں لوگوں کی۔ اور آج کل تو تصویروں کو لوگ گناہ سمجھتے ہی نہیں، لہٰذا ہوتے رہتے ہیں۔ تو اس شیخ سے اس عالم نے پوچھا، کراچی کا عالم ہے، عربی جانتا تھا، یعنی عربی بول سکتا تھا۔ اس نے کہا "كَمْ ثَوَابٌ فِي هٰذَا الْعَمَلِ؟" اس شیخ سے کہا کہ کتنا ثواب اس کا ہے؟ اس نے کہا "مَا فِيهِ ثَوَابٌ، هٰذَا إِثْمٌ"۔ کوئی ثواب اس کا نہیں ہے، یہ تو گناہ ہے۔ تو اس عالم نے کہا "اچھا، پھر تو گناہ آپ خانہ کعبہ کے پاس ہی کر رہے ہیں؟" بس، فوراً سمجھ گیا، کہتے ہیں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ"، چھوڑ دیا سارا کچھ، وہاں سے روانہ ہو گیا۔ یہ پاکستانی نہیں کر سکتا، کر کے دکھائیں۔ ہندوستانی نہیں کر سکتا۔ یہ وہ کرتے ہیں۔ ان کو اللہ پاک نے یہ ظرف دیا ہے۔ Original thinking والے لوگ ہیں۔
لیکن بگاڑ ان میں بھی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ ان کو الحمد للہ ہمارے جیسے لوگ نہیں ملے، ہمیں جو لوگ ملے ہیں کیونکہ گزشتہ چار پشتوں سے مجددین ہمارے ہندوستان میں آ رہے ہیں۔ کوئی بات تو ہے نا؟ گزشتہ چار صدیوں سے مجددین ہمارے ہندوستان، پاکستان میں آ رہے ہیں۔ لہٰذا دین کا جو رخ ہے مطلب جس کو کہتے ہیں نا Centralization وہ اس طرف ہو گیا۔
تو وہاں پر جرمنی میں جب میں تھا دو سال، تو وہاں عربوں کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ تو ان کو جب میں باتیں بتاتا تھا، جب وہ پریشان ہو جاتے اور آپس میں الجھ جاتے اور تقریباً گویا کہ جیسے تیز بحث، لڑائی کی صورت اختیار کرتی نا، اس وقت مجھے اپنے بزرگوں کی کوئی بات یاد آ جاتی۔ اور میں کہتا "عِنْدِي تَعْلِيقٌ" (میرے پاس ایک تبصرہ ہے)۔ تو کہتے "کیا، آپ کیا کہتے ہیں؟" میں وہ بات کرتا، کہتے "عِنْدَکَ حَق يَا شَيْخُ" اور دونوں فریق مطمئن ہو جاتے۔ اس پر اتنے وہ ہوگئے کہ تقریباً دو تین مہینے جب مسلسل ایسا ہوتا گیا، تو سمجھے کہ شاید یہ کوئی بڑا شیخ ہے۔ اس کو ہر بات کا پتہ ہے، تو مجھے شیخ شیخ کہنے لگے۔ پھر میں نے ان کو سمجھایا، میں نے کہا بھئی یہ تو میں اپنے علماء کی باتیں آپ کو بتا رہا ہوں، وہ جو ان حضرات کی باتیں ہیں، میری اپنی نہیں ہیں۔ تو بہرحال یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ وہ مانتے ہیں فوراً۔ جیسے میں نے عرض کیا نا کہ میں، میں کہہ دیتا ہوں، کہتے ہیں عِنْدَكَ يَا شَيْخُ؟ اور بات دونوں فریق مان لیتے ہیں۔ تو یہ جو ہے، یہ quality ہمارے اندر ہونی چاہیے۔
یہاں عربوں سے آ کر لوگ کیا کرتے ہیں؟ ٹوپی سر سے اتار لیتے ہیں، نماز میں کثیر حرکت کرنے لگتے ہیں، یا تیز تیز غصے میں باتیں کرنی شروع کر لیتے ہیں۔ یہ ان کے مسائل ہیں، یہ مسائل ہیں ان میں۔ تو میں ان کو کہتا ہوں خدا کے بندو! ان کے اندر جو اچھی باتیں ہیں وہ آپ کیوں نہیں لاتے؟ دیکھو، وہ جب مسجد میں بیٹھے ہوتے ہیں، (یہ تو ما شاء اللہ آپ تو ریاض میں رہے ہیں نا تو آپ کو تو پتہ ہوگا) کہ وہ مسجد میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں نہیں کرتے، وہ قرآن پاک پڑھتے ہیں۔ اچھی خوبی ہے، اس کو لے لو نا ان سے! اچھا، دوسری بات مسجد میں جاتے ہی تحیۃ المسجد پڑھیں گے، پھر بیٹھیں گے۔ یہ ان کی اچھی بات ہے۔ اور دوسری بات، عین لڑائی کے وقت آپ کہہ دیں "صَلِّ عَلَى النَّبِيِّ"، لڑائی چھوڑ دیں گے۔ بتاو کون سی چیز ہے جو رکوا رہی ہے؟ یہ بڑی باتیں ہیں۔
تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ بھئی ان کی اچھی باتیں لے لو، ان کی بری باتیں نہ لو۔ اور جہاں بھی جاؤ تو ان کی اچھی باتیں لو۔ چاہے England کیوں نہ ہو، England والوں کی اچھی باتیں لے لو، America والوں کی اچھی باتیں لو، Russia والوں کی اچھی باتیں لے لو، پاکستان کی اچھی باتوں کو لے لو۔ مطلب جہاں کوئی خیر ہے، "اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ"، دانائی کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے بھی اس کو مل جائے، اس کا original تو اصل میں ہمارے، ہمارا ہی ہوگا۔ تو لہٰذا ہماری چیز ہوگی۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ ہم لوگوں کو اپنے اندر یہ ظرف پیدا کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔
دفتر اول مکتوب 270
شیخ نور محمد کی طرف صادر فرمایا۔ اس بیان میں کہ بعض صحبتیں گوشہ نشینی پر ترجیح رکھتی ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اور اس برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) میرے بھائی شیخ نور محمد! آپ نے (ہم) دُور پڑے ہوؤں کو اس طرح بھلا دیا ہے کہ سلام و پیام سے بھی یاد نہیں کرتے۔ آپ کو گوشہ نشینی و یکسوئی کی بڑی خواہش تھی، سو میسر ہو گئی۔ لیکن بعض ایسی صحبتیں ہیں جو گوشہ نشینی اور تنہائی پر فضلیت رکھتی ہیں۔
دیکھیں، میں نے کہا رکنے نہیں دیتے نا کسی کو۔ مثلاً۔۔۔ اب دیکھو کتنی اونچی بات کر رہے ہیں، ذرا تھوڑا سا غور کر لیں، reference دیکھو:
(مثلًا) حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے حال پر قیاس کریں کہ چونکہ آپ نے گوشہ نشینی اختیار کی لہٰذا حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوت و التسلیمات کی صحبت حاصل نہ کر سکے اور اسی لئے وہ صحبت کے کمالات سے بہرہ ور نہ ہوئے اور تابعین میں سے ہو گئے اور اوّل درجے کی فضیلت سے محروم ہو کر دوسرے درجے میں رہ گئے۔
دیکھیں، مطلب یہ والی بات ہے کہ اس طرف کس کا ذہن جاتا ہے؟ یعنی صحابہ میں سے کم سے کم جو مرتبے کے لحاظ سے جو ہوگا، وہ تابعین کے اونچے سے اونچے مرتبے والوں سے اوپر ہے۔
میں آپ کو اس کی مثال دیتا ہوں۔ حرم شریف میں rush ہو جاتا ہے۔ تو پھر لوگ اوپر بھی چڑھ جاتے ہیں، پھر اس سے اوپر چڑھتے ہیں۔ تین چار، وہ ہے نا میزان بھی ہے اور درمیان میں پھر چھتیں بھی ہیں۔ تو چار بنتی ہیں۔ تو اب ground floor پر، جو آخری صف ہے نا، آخری صف کا آخری آدمی، اس کے بعد اوپر والی منزل کا پہلا آدمی ہے۔ اس کے بعد اوپر والی منزل کا پہلا آدمی شروع ہوگا مرتبے کے لحاظ سے۔ اور اس کا جو آخری آدمی ہوگا، اس کے بعد جو اس کے بعد والا floor ہے، اس کا پہلا آدمی ہوگا۔ اور آخری چھت والا جو ہوگا، وہ اس کا آخری آدمی سب سے آخر میں ہوگا۔ اب بالکل اگر آپ دیکھیں ہوائی فاصلے کے لحاظ سے جو آخری چھت والا، وہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا جو پہلا آدمی ہوگا پہلی صف والا، وہ خانہ کعبہ کے بہت قریب ہوگا۔ لیکن مرتبے کے لحاظ سے کہاں ہے؟ اخیر میں ہے۔
تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صحابہ کرام رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ کا جو آخر سے آخر ہے، وہ بھی تابعین کے اول سے اول سے آگے ہے۔ تو حضرت یہ بات فرما رہے ہیں، صحبت کی مثال۔
اکثر میں ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں، لیکن اس وقت اکثر time کم ہوتا ہے میں سمجھا نہیں پاتا۔ شیخ کو چننے کی جو آٹھ نشانیاں اکثر لوگوں کو بتاتا ہوں۔ تو ان میں بتاتا ہوں کہ ایک نشانی جو یوں کہہ سکتے ہیں چوتھی نشانی ہے، چوتھی! کہ ان کی صحبت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ یعنی کہ درمیان میں کوئی انقطاع نہ ہو، کوئی break نہ ہو۔ یعنی جیسے حدیث شریف ہوتا ہے نا، فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، فلاں نے فلاں سے، اور آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچ جاتی ہے۔ درمیان میں اگر break آ گیا تو وہ حدیث شریف صحیح نہیں رہ سکتی۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اسی طریقے سے صحبت بھی اگر break ہو گئی، تو پھر اس کی چیز وہ نہیں رہے گی۔ آپ کہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فیض نہیں ملا جو سینے کو سینے سے ملا کرتا ہے، جو صحبت کو صحبت سے ملا کرتا ہے۔ الفاظ مل جائیں گے، علم مل جائے گا۔
علم مل جائے گا۔ علم اور بات ہے۔ میں آپ کو بتاؤں جو حدیث شریف کی سند لینے والے لوگ ہیں، وہ علماء ہوتے ہیں یا جہلا ہوتے ہیں؟ علماء ہوتے ہیں نا؟ ہاں علماء ہوتے ہیں۔ اچھا، ان کو اگر کوئی اعلیٰ سند کا استاد مل جائے، شیخ الحدیث مل جائے، اس کے لیے سفر کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ مشقت بھی اٹھاتے ہیں، سفر بھی کرتے ہیں، منتیں بھی کرتے ہیں۔ تاکہ ہمیں۔۔۔ کیوں؟ آخر کیا ان کو حدیثیں معلوم نہیں ہیں؟ پڑھی ہوئی ہیں حدیثیں! حدیثیں پڑھی ہوئی ہیں، وہ کتابوں میں موجود ہیں، کیوں وہ سفر کرتے ہیں؟ اگر یہ فضول کام ہوتا تو وہ سفر کیوں کرتے ہیں؟ سفر اس لیے کرتے ہیں کہ اس کی value ہے۔
جتنے آپ قریب جاتے ہیں، وہ روشنی بڑھتی جاتی ہے۔ میں خانہ کعبہ کے پاس جب ہوتا ہوں نا، الحمد للہ ایک چیز اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرے سامنے ہوتی ہے، الحمد للہ۔ میں کہتا ہوں دیکھو، اس وقت ہم اگر ساتویں row میں ہیں، آٹھویں row میں ہیں، جو بھی ہے۔ لیکن میرے جسم جتنا ہے چوڑا، اس کو خانہ کعبہ کے ساتھ اگر آپ ملا دیں، تو جو solid angle بنتا ہے اس کا۔ اگر میں پاکستان میں اپنے اس جسم کو دیکھوں تو میرا solid angle جتنا بنتا ہے، اس solid angle میں کتنے لوگ آ جائیں گے یہاں کے؟
تو وہ جو فیض ہے جو خانہ کعبہ کا ادھر قریب ہے، وہ یہاں کیسے حاصل ہوگا؟ ٹھیک ہے نا، مطلب دیکھیں نا، یعنی یہ خانہ کعبہ ہے نا، اب یہاں پر، اور ادھر تک۔ تو یہ بالکل اگر اس طرح جاتے ہیں، تو یہاں کتنے لوگ آ جائیں گے؟ تو اگر ہمارے تک پہنچتے ہیں، تو کافی زیادہ لوگ ہو جائیں گے۔ تو گویا کہ جو فیض وہاں ایک آدمی کو ملتا ہے، یہاں لاکھوں کو مل رہا ہوگا۔ تو ایک بٹا لاکھ ہوگا نا آپ کے لیے! تو یہاں تو وہ چیز آپ کو نہیں مل سکتی۔ اس لیے اس کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے۔
ٹھیک ہے نا؟ تو یہ جو میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو بات ہے، کہ یہ جو صحبت والا جو فیض ہے، صحبت والا! یہ اسی نے تو صحابہ کو صحابہ بنایا ہے۔ یعنی صحابی کی علمیت، صحابی کی فقاہت، صحابی کی نسبی شان، یہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ صحابی کی "صحبت" سب سے آگے ہے۔ مثلاً شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سید ہیں، نجیب الطرفین، اور وحشی رضی اللہ عنہ سید نہیں ہیں، بلکہ وہ صحابی ہیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے سامنے نہ آئیں، مجھے اپنا چچا یاد آتے ہیں۔" لیکن وحشی رضی اللہ عنہ کے مقام تک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نہیں پہنچ سکتے۔ یہ بہت عجیب analysis ہے۔
تو یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ صحبت، تو اب صحبت در صحبت، در صحبت، در صحبت، در صحبت، جتنا بھی جاؤ، تو غیر صحبت کے مقابلے میں وہ کیسے ہوں گے؟ ظاہر ہے اپنے وقت کی صحبت اور غیر صحبت کا مقابلہ ہے نا۔ تو بہت فرق ہوگا۔ تو یہی حضرت سمجھانا چاہتے ہیں کہ بعض صحبتیں بہت زیادہ کام کر جاتی ہیں۔
اللہ سبحانہٗ کی عنایت سے (یہاں) ہر روز کی صحبت نئی طرز پر ہے۔ مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَاہُ فَھُوَ مَغْبُوْنٌ (جس کے دو دن برابر ہوں وہ نقصان میں ہے) اور سلام ہو آپ پر اور اُن سب پر جو ہدایت کے راستے پر چلیں اور حضرت محمد مصطفےٰ علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کی متابعت کو لازم پکڑیں۔
اتنے مکتوب ہیں۔ یعنی ایک بہت اہم message communicate کر دیا، اور وہ message یہ ہے کہ صحبت سے اپنے آپ کو محروم نہ کرے۔ صحبت سے اپنے آپ کو محروم نہ کرے۔ بہت بڑی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔ یہ واقعی سمجھ میں نہیں آسکتا آسانی کے ساتھ۔ اور سمجھ میں جب آتا ہے تو وقت بہت گزر چکا ہوتا ہے۔ بہت وقت گزر چکا ہوتا ہے، اس وقت میں بہت کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔ اب جن کو ابتداء میں ایک چیز مل جائے، اور ان کو اللہ تعالیٰ وہ نصیب فرما دے ابتداء میں، اور بعد میں اگر اور لوگوں کو مل بھی جائے، لیکن یہ جو ابتداء میں ملا ہے، آخر کہاں تک گیا ہوگا؟ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ مقربون تو مقربون ہی رہیں گے نا وہ تو۔۔۔ جو پہلے ہیں، جو پہلے ہیں، وہ تو پہلے ہوں گے۔
دفتر اول مکتوب 271
شیخ حسن برکی1 کی طرف صادر فرمایا۔ ایک واقعہ کے استفسار کے حل میں جو انہوں نے دیکھا تھا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔ میرے عزیز بھائی شیخ حسن کا مکتوب شریف موصول ہوا، اللہ تعالیٰ اس کے یعنی آپ کے حال کو اچھا کرے اور اپنے کمال تک پہنچائے۔ جو واقعہ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ نے تحریر کیا تھا اس کا حال واضح ہوا، آپ اس کے (امید وار رہیں، اور جو کچھ) ذکر آپ کو امر کیا گیا ہے اس کی بجا آوری میں پوری تندہی سے کوشش کریں اور احکام شرعیہ کو بجا لانے میں بال برابر بھی تجاوز نہ کریں اور اہلِ سنت و جماعت کے عقائدِ حقہ کے ساتھ اپنے آپ کو آراستہ رکھیں۔
کارِ این است وغیرِ ایں ہمہ ہیچ ترجمہ: کام بس یہ ہے اور باقی ہیچ
اگر آپ کے والدین اور بھائی بھی راضی ہوں تو ہندوستان کی سیر کو غنیمت شمار کریں۔ و السلام
یہ مطلب یہ ہے کہ دعوت کا اپنا انداز ہے نا حضرت کا۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ واقعتاً یہ حضرت نے دو جملوں میں ہی ساری بات فرما دی۔ اہلِ سنت والجماعت، اہلِ سنت والجماعت ہے کیا، آپ کو پتہ ہے؟ اہلِ سنت والجماعت! یہ یہی ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾ ہے۔ صحابہ کی جماعت اور سنت۔ اہلِ سنت والجماعت جو ہم کہتے ہیں، تو یہ عقائد کے لحاظ سے۔ مطلب عقیدے کے لحاظ سے؛ کیونکہ اس میں تو کمزور سے کمزور آدمی بھی اہلِ سنت والجماعت ہے نا، عمل کے لحاظ سے تو کمزور سے کمزور آدمی بھی تو عقیدہ چونکہ اہلِ سنت والجماعت ہے اس کو تو نکال تو نہیں سکتے۔ ایک آدمی کا عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا ہے، اور ایک نماز بھی نہیں پڑھتا۔ اور دوسرے آدمی کا عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا نہیں ہے، وہ پانچوں نمازیں کیا بلکہ تہجد بھی پڑھتا ہے، اور سارا دن نوافل پڑھتا ہے۔ کیا وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے؟ وہی، وہی چیز مطلب ذہن میں لائیں۔ تو عقیدے کے لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت جو ہیں، وہ ایک پورا group ہے۔
پھر اس کے بعد ان کے اندر پھر sub-groups ہیں۔ پھر اعمال کے درجات ہیں۔ اعمال کے درجات ہیں۔ پھر کیفیات کے درجات ہیں۔ تو ہم لوگ صرف عقائد تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھیں۔ اپنے اعمال کو بھی صحابہ کرام کے اعمال کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ اور اپنی کیفیات کو بھی صحابہ کرام کی کیفیات کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ اور یہ اس وقت ہوگا، یہ اس وقت ہوگا جس وقت انسان کی مکمل اصلاح ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے، تو اس کا مطلب کیا ہے کہ نفس کی مکمل اصلاح ہو جائے۔ یعنی نفس، نفسِ مطمئنہ ہو جائے۔ قلب کی مکمل اصلاح ہو جائے، قلبِ سلیم بن جائے۔ اور عقل کی مکمل اصلاح ہو جائے، عقلِ فہیم بن جائے۔ یہ تینوں چیزیں جب واقع ہو جاتی ہیں، تو یہ کہتے ہیں سیر الی اللہ طے ہو گیا۔ سیر الی اللہ طے ہو گیا۔
اب اس کے بعد وہ سیر فی اللہ میں آ گیا۔ یہ جو سیر فی اللہ ہے، یہی طریقِ صحابہ ہے۔ یعنی صحابہ کے اعمال کو صحیح انداز میں کرنے والے لوگ یہی ہیں۔ کیونکہ نفس کی مخالفت ختم ہو گئی، دل کی شرح حاصل ہو گئی ہے، اور عقل کی سمجھ حاصل ہو گئی ہے۔ یہ تینوں جب یعنی صحابہ کا طریقہ سمجھتے بھی ہیں، اور دل بھی اس کے لیے کھلا ہوا ہے، اور ساتھ نفس بھی مطمئن ہے، تو یہ صحیح معنوں میں طریقِ صحابہ پہ چل پڑے ہیں۔ لیکن جو عقیدے کے لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت ہیں، تو یقیناً وہ اہلِ سنت والجماعت ہی ہیں، لیکن اصل جو صحابہ کرام کی طرف چلنے والے لوگ ہیں، یہ آخری ہیں۔ تو ہم لوگ ان کی ناقدری بھی نہیں کر سکتے جو عقیدے کے لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت ہیں۔ پھر اس کے بعد جو عمل کر رہے ہیں اعمالِ اہلِ سنت والجماعت کا، ان کی ناقدری بھی نہیں کر سکتے۔ مثلاً کوئی پانچ نماز پڑھتا ہے دوسرا آدمی تین نمازیں پڑھتا ہے، تو اعمال کے لحاظ سے پانچ والا آگے ہے۔ لیکن ایک آدمی نماز بغیر خشوع کے پڑھتا ہے، اور دوسرا آدمی خشوع کے ساتھ پڑھتا ہے، تو خشوع والے اس سے آگے۔
اب خشوع کیوں نہیں ہوتا؟ کیونکہ نفس مانتا نہیں ہے، نفس ادھر ادھر چرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں وہ خشوع والا نہیں رہتا، جب خشوع والا نہیں رہتا تو اس کی نماز کی وہ قیمت نہیں رہتی۔ اس طرح باقی اعمال کی بھی نہیں۔ تو اس وجہ سے ان تینوں stages کو پار کرنا پڑے گا۔ عقیدہ بھی صحیح ہو اہلِ سنت والجماعت کا ہو، عمل بھی صحیح ہو اہلِ سنت والجماعت کا ہو، اور کیفیت بھی اہلِ سنت والجماعت کی ہو، یعنی صحابہ کی۔ عقیدہ صحابہ کا، عمل صحابہ کا، اور کیفیت صحابہ کی۔ ان تینوں کو حاصل کرنا ہے۔ تو حضرت اس پر زور دے رہے ہیں۔ سبحان اللہ۔
دفتر اول مکتوب 272
میر سید محب اللہ مانک پوری کی طرف صادر فرمایا۔ ایمان بالغیب اور ایمانِ شہودی کے بیان میں (سبحان اللہ) اور ان میں سے ہر ایک کے اصحاب کے بیان میں جو ایمان بالغیب کو ایمانِ شہادت پر فضیلت دیتے ہیں، اور توحیدِ شہودی و توحیدِ وجودی کے بیان میں، اور اس بیان میں کہ ”فنا“ کے حاصل ہونے میں توحیدِ شہودی در کار ہے، توحیدِ وجودی در کار نہیں، اور اس بیان میں کہ اول شخص جس نے توحیدِ وجودی کا اظہار کیا اور اس کو صراحت سے بیان کیا وہ "صاحبِ فتوحاتِ مکیہ" ہیں، اگرچہ گزشتہ مشائخ کی عبارات بھی توحید و اتحاد کی خبر دیتی ہیں لیکن وہ توحیدِ شہودی پر محمول ہیں، اور اس کے مناسب بیان میں۔
حمد و صلوۃ کے بعد سیادت پناہ برادر عزیز میر محب اللہ کو واضح ہو کہ واجب الوجود تعالیٰ کی ذات پاک اور اس کی تمام صفات کے ساتھ غیب پر ایمان لانا انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان کے اصحاب اور وہ اولیاء جو بتمام و کمال رجوع رکھتے ہیں ان کا حصہ ہے، اور ان کی نسبت اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سی ہے، (یہ آگئی نا بات) اگرچہ یہ قلیل ہیں بلکہ اقلّ ہیں، اور وہ علماء اور عامہ مومنین کا حصہ ہے اور ایمانِ شہودی عامہ صوفیہ کے نصیب ہے، خواہ وہ اربابِ عزلت (گوشہ نشین) ہوں یا اربابِ عشرت (لوگوں کے ساتھ رہنے والے) کیونکہ اربابِ عشرت خواہ کتنے ہی مرجوع (رجوع کرنے والے) ہوں لیکن انہوں نے کامل طور پر رجوع نہیں کیا ہے، لہذا ان کا باطن اسی طرح فوق کی طرف نگراں ہے یعنی ظاہر میں وہ مخلوق کے ساتھ ہیں اور باطن میں حق جل سلطانہٗ کے ساتھ، لہذا ہر وقت ایمانِ شہودی ان کی شان ہے۔ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات چونکہ پورے طور پر مرجوع ہیں لہذا وہ ظاہر اور باطن میں مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے میں متوجہ ہیں اس لئے ایمان بالغیب ان کے شایان شان ہے۔
بڑا مشکل مضمون ہے یہ جو آ رہا ہے۔ یہ آسان نہیں ہے اس کو سمجھنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑے گی۔
منتہی مرجوع! ایک لفظ ہے حضرت کے ہاں ہے "منتہی مرجوع"۔ منتہی مرجوع وہ ہوتا ہے جب انسان اپنے نفس سے چھٹکارا پا لیتا ہے، نفس کی resistance اس کی ختم ہو جاتی ہے، نفس کے جال اس کے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یعنی نفسِ مطمئنہ اس کو حاصل ہو گیا۔ اور ساتھ ساتھ قلبِ سلیم بھی اس کو حاصل ہو گیا، اور ساتھ ساتھ عقلِ فہیم بھی اس کو حاصل ہو گیا۔ سیر الی اللہ مکمل ہو گیا، اور پھر اس کے بعد شیخ کے ذریعے سے اس کو اطلاع مل گئی کہ اب اپنا رخ مخلوق کی طرف موڑو۔ ابھی تک اس کا رخ خالق کی طرف تھا، سیر الی اللہ تھا نا، مطلب خالق کی طرف تھا، اب اس کا رخ مخلوق کی طرف موڑا جاتا ہے، دعوت کے لیے۔
دعوت کے لیے! فرمایا کہ جو بعد والے لوگ ہیں، صوفیاء جو بعد میں آنے والے ہیں، یہ اگرچہ منتہی مرجوع ہی کیوں نہ ہوں، لیکن یہ اللہ کی طرف بھی توجہ رکھتے ہیں اور مخلوق کی طرف بھی توجہ رکھتے ہیں۔ لیکن جو انبیاء ہیں، وہ پورے کے پورے توجہ مخلوق کی طرف رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پورے کے پورے اللہ کے بن چکے ہوتے ہیں، اور جو اللہ کرتے ہیں وہ وہی کرتے ہیں۔ یعنی جو اللہ کرتے ہیں وہ وہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے۔ تو گویا وہ اللہ کے حکم سے مخلوق کی طرف پورے کے پورے متوجہ ہیں۔ اور باقی حضرات ایسے نہیں ہیں۔ تو یہ جو بات ہے بہت مشکل بات ہے سمجھنا۔
اس کو میں سمجھانے کے لیے یہ عرض کرتا ہوں، سائنسی چیز۔ کہتے ہیں شمع جو ہے، شمع جو نظر آ رہی ہے، وہ اتنی hot نہیں ہے۔ جو اس کا اوپر کا جو حصہ ہوتا ہے نا، جو نظر نہیں آ رہا، اور شمع کے لو کے قریب ہے، وہ جتنا hot ہے۔ اگر thermostat آپ دونوں جگہ پہ رکھ دیں، تو جو شمع والا حصہ ہے، جو glowing حصہ ہے جو نظر آتا ہے، اس کا temperature کم ہوگا، کئی کم ہوگا اس temperature سے جو اس کے شعلے کے اوپر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شعلہ نظر آ رہا ہے، وہ، اس میں کچھ اَن جلے... اَن جلے ذرات ہیں! اور جب تک کوئی چیز مادی طور پر موجود نہ ہو، material، تو وہ energy جو ہے وہ نظر نہیں آتی۔ تو جب وہ matter موجود ہوتا ہے، تو وہ energy اس کو glow کر لیتی ہے، اس کو ظاہر کر لیتی ہے۔ وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ تو کوئی چیز موجود ہے تبھی تک آپ کو نظر آ رہا ہے۔ کوئی چیز موجود ہے تبھی تو آپ کو نظر آ رہا ہے۔ جو visual ہی نہیں ہے، تو اب دیکھ لو نظر تو آپ کو وہ آ رہا ہے، نظر تو آپ کو وہ آ رہا ہے۔ لیکن اصل تو وہ لوگ ہیں جو اوپر ہیں تھوڑے سے ان سے، جو کہ مکمل جلے ہوئے ہیں! جو مکمل جلے ہوئے ہیں۔ ان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ چیز۔
ہمارے ایک بڑے بزرگ ہیں، اس نے یہ فرمایا کہ مبتدی، متوسط اور منتہی اس میں عوام جن سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں وہ متوسط ہوتے ہیں۔ ان سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جو کام ہوتے ہیں وہ لوگوں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔ کیسے؟ مثلاً بیٹا فوت ہو گیا اور وہ ہنس رہا ہے، بس اللہ کی مرضی۔ اور جو مبتدی ہے وہ بھی رو رہا ہے، اور جو منتہی ہے وہ بھی رو رہا ہے۔ لہٰذا لوگ جو ہے، وہ مبتدی اور منتہی دونوں کو ایک سمجھ لیتے ہیں۔ اور جو متوسط ہے وہ تو prominent نمایاں ہو گیا، کہ یہ تو دیکھو نا، اس موقع پر بھی ہنس رہا ہے۔ یہ بڑا ہے۔
حالانکہ حضرت نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ہری بھری فصل جو آنکھوں کو بڑی اچھی لگتی ہے۔ اور ایک پکی فصل۔ پکی فصل کو اگر آپ کاٹتے ہیں، تو اصل چیز اس کے پاس ہے، پکا دانہ اس کے پاس ہے۔ اور اگر آپ ہری بھری فصل کاٹتے ہیں، تو سوائے چارے کے اس کا کیا کام ہے؟ اس کے اندر تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو کیا خیال ہے، مجذوب متمکن اگر اپنے آپ کو کامل سمجھے، تو کیا ہوگا؟ وہ یہی چیز ہوگی، اس کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔
لیکن جو منتہی مرجوع ہوتا ہے اس کو لوگ اگرچہ کچھ نہیں سمجھتے، کیوں؟ روتا وہ ہے اپنے نفس کی وجہ سے، مبتدی۔ اور جو منتہی ہے وہ اللہ کے لیے روتا ہے کہ اللہ پاک کے سامنے میں اپنی عاجزی کا اظہار کر لوں۔ اللہ پاک نے مجھے جو غم دیا ہے تو غم کا بھی حق ہے۔ میں اس حق کو پورا کر لوں۔ وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ تیرے جانے سے غم زدہ ہوں۔ اور آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں۔ تو کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بھی روتے ہیں؟ فرمایا، ہاں یہ اللہ کی رحمت ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے۔
تو یہ والی بات ہے۔ اب یہ جو ہوتے ہیں، یعنی واصل، جو منتہی ہوتے ہیں، وہ تو ہر موقع کا حق ادا کرتے ہیں۔ غم کا بھی حق ادا کرتے ہیں، خوشی کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔ تکلیف کا بھی حق ادا کرتے ہیں، آسانی کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔ بزرگوں نے بڑی اچھی اچھی باتیں کی ہیں۔ فرمایا بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ظاہری اعمال اتنے نہیں ہوتے، یعنی نوافل کے لحاظ سے یا کچھ اور نمایاں چیزیں نہیں ہوتیں۔ لیکن ان کا دل کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا سیدھا ہوتا ہے، کہ وہ اندر ہی اندر ترقی کرتے جاتے ہیں، لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کہاں پہنچے ہوئے ہیں۔ صرف جن کو پتہ چلتا ہے، ان کو پتہ چلتا ہے۔
ہمارے بزرگوں نے ایسے لوگوں کو قلندر کہا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ایسے لوگوں کو قلندر کہا ہے۔ قلندر یہی ہوتے ہیں۔ عام لوگوں نے قلندر شریعت کو چھوڑنے والوں کو کہا ہے۔ وہ مجذوبوں کو قلندر کہتے ہیں۔ مجذوب اور ہیں، قلندر اور ہیں۔ مجذوب اور ہیں، قلندر اور ہیں۔ قلندر وہ ہیں جن کے قلبی اعمال، قالبی اعمال پر زیادہ غالب ہوں، نوافل کے درجے میں، فرائض میں نہیں۔ فرائض تو وہ سب کو کرنے ہوتے ہیں۔ فرائض سب کو کرنے ہوتے ہیں نوافل کے معاملے میں۔ کیونکہ ہر چیز کے اندر فرض و نفل کا درجہ ہے۔ مثلاً شکر میں فرض کا درجہ بھی ہوگا، نفل کا درجہ بھی ہوگا۔ صبر میں فرض کا درجہ بھی ہوگا، نفل کا درجہ بھی ہوگا۔ اخلاص میں۔ اب یہ تمام چیزیں جو ہیں تو وہ جو ہیں، جو قلبی اعمال کے جو نوافل ہیں، اس میں آگے ہوتے ہیں۔ اور باقی لوگ قالبی اعمال کے نوافل میں زیادہ آگے ہوتے ہیں۔
تو ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ایسا سیدھا ہوتا ہے کہ وہ غم میں، خوشی میں، راحت میں، ملنے جلنے میں، تمام چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت ہٹتے نہیں ہیں۔ کسی وقت ہٹتے نہیں ہیں۔
صنما! رہِ قلندر سزد ار بہ من نمائی
کہ دراز و دور دیدم رہ و رسمِ پارسائی
اے صنم! مجھے تو قلندر کا راستہ دکھا دو، یہ پارسائی والا راستہ تو مجھ سے بڑا لمبا ہے طے نہیں ہو رہا۔ یہ اصل میں لوگ اس کو غلط مطلب۔۔۔ اس کا یہ ہے کہ جو قلبی اعمال والا راستہ ہے، میں اس پہ چلنا چاہتا ہوں، یہ دوسرا راستہ تو میرے لیے بہت مشکل ہے، بہت لمبا ہے۔
تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ جو اصل بات ہے کہ جو انبیاء کا کام ہوتا ہے۔ انبیاء کا معاملہ ہر چیز میں آگے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے۔ اللہ کے امر کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بس اتنی بات میرے خیال میں مختصر کافی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے، اللہ کے حکم کے ساتھ ہوتے ہیں، جو ان کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں۔ ذرہ بھر بھی رکتے نہیں ہیں۔ ذرہ بھر بھی رکتے نہیں ہیں۔ جیسے اللہ کا حکم معلوم ہو گیا فوراً اس طرف رجوع۔ قرآن پاک میں پیغمبروں کے احوال موجود ہیں، بار بار آتے ہیں۔ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ بالکل جو ہے ہر چیز میں اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہیں۔ اور انتہائی سادہ طریقے سے۔ ہمارے ہاں نقش و نگار زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جو انبیائے کرام اور پھر اس کے بعد صحابہ کرام ان میں نقش و نگار نہیں ہوتا، اور پھر اس کے بعد جو اولیائے عظام ہیں، ان میں نقش و نگار نہیں ہوتا، سادہ طریقے کے ساتھ دین پر چل رہے ہوتے ہیں۔
میں نے دیکھا ہے، مکھن بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہم گئے تھے پہاڑ میں رہتے تھے۔ تقریباً 140 سال کی عمر تھی۔ اور پہاڑ میں گھر ہے۔ نیچے بھی اترتے ہیں چڑھتے بھی ہیں۔ بہت سادہ، جھونپڑی نما گھر تھا، خانقاہ، وہ بس سبحان اللہ، سب کچھ وہاں پر۔ انتہائی سادہ طریقے سے، ما شاء اللہ وہاں رہتے تھے۔ چھوٹی سی مسجد تھی، اس کے اندر نماز پڑھتے تھے۔ باقی بس وہ چھوٹا سا گھر تھا۔ اور بس وہ مسجد کے ساتھ کمرہ تھا، اسی میں لوگ جو آتے تھے وہ ٹھہر جاتے تھے۔ تو میں نے دیکھا ہے زندگی کو بہت قریب، مطلب ہے جس کو کہتے ہیں نا یعنی جو سادہ زندگی ہے۔ وہ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے الحمد للہ، وہ حضرات کے پاس۔ تو یہ حضرات جو ہیں، بالکل سادہ طریقے سے زندگی گزارتے تھے۔ نقش و نگار والی زندگی ان کی نہیں تھی۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو ہر وقت اللہ کے ساتھ ہی ہوتے تھے نا یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے لیے۔ تو جو بھی ان کے لیے اس وقت حکم ہوتا تھا اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔
اب یہ ایمان بالغیب، ایمان بالغیب میں کیا چیز ہے اور ایمان شہودی کیا چیز ہے؟ ایمان شہودی میں تو آپ کو نظر آ رہا ہے۔ ایمان بالغیب میں آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا لیکن آپ کو سمجھ آ رہی ہے۔ سمجھ آ رہی ہے۔ دل نے گواہی دی کہ یہ چیز ایسی ہے، بس۔ اس کے بعد مزید کچھ کی ضرورت ان کو نہیں ہوتی۔ تو جو بڑے اللہ والے ہوتے ہیں، ان کی حالت بھی پھر یہی بن جاتی ہے قریب قریب، کہ وہ دلائل کی طرف نہیں جاتے، حکم کی طرف جاتے ہیں۔ دلائل کی طرف نہیں جاتے، حکم کی طرف جاتے ہیں۔
میں اکثر ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں، کبھی سمجھا پاتا ہوں، کبھی نہیں سمجھا پاتا، لیکن مجبوری یہ ہے کہ ظاہر ہے جو بات ہوتی ہے وہ تو بتانی ہوتی ہے۔ اکثر میں عرض کرتا ہوں کہ مسلمانوں کو یہ جو اعمال کے جو دنیاوی فائدے ہیں، نہ بتاؤ۔ مسلمانوں کو اعمال کے دنیاوی فائدے نہ بتاؤ۔ کیوں؟ آپ نے ان کی نیت کے اوپر ڈاکہ ڈالا۔ پہلے وہ اللہ کا حکم سمجھ کر کر رہے تھے۔ اب وہ دنیا کے فائدے کے لیے کریں گے۔ فائدہ ہوا یا نقصان ہوا؟ نقصان ہوا۔ ہاں کافروں کو ضرور بتاؤ۔ کافروں کو ضرور بتاؤ، کیوں؟ ان کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے اسی وجہ سے ایمان لے آئیں۔ ان کو نماز کے فائدے بتاؤ، ان کو روزے کے فائدے بتاؤ۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، میں جا رہا تھا جہاز پر، کراچی۔ اور ساتھ ہی میرے ساتھ ایک Polish engineer بیٹھا ہوا تھا۔ تو رمضان شریف کے دن تھے، میں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں جا رہا تھا وہاں پر۔ تو مجھ سے پوچھا کہ آپ کا روزہ ہے؟ میں نے کہا جی بالکل، میرا روزہ ہے۔ کہتے ہیں، مسلمانوں کا روزہ بہت اچھا روزہ ہے، لیکن ایک کام ہے جو وہ مجھے سمجھ نہیں آتی۔ میں نے کہا کیا؟ کہتے ہیں، یہ پانی بھی نہیں پیتے۔ عیسائی لوگ جو ہیں نا وہ تو پانی پیتے ہیں نا وہ بس صرف کھانا نہیں کھاتے، luxurious meal نہیں کھاتے، باقی سب کچھ کرتے ہیں۔ اچھا، تو یہ پانی بھی نہیں پیتے۔ حالانکہ پانی تو جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ تو انسان کو damage کرتا ہے، اگر پانی نہ پیے۔ اب چونکہ وہ مسلمان نہیں تھا، تو میں اس کو یہ نہیں کہہ سکتا بس خدا کا حکم ہے۔ اس کو میں نہیں بتا سکتا تھا۔ اس کو میں نے کہا کہ دیکھو بھئی، آپ کی بات صحیح ہے پانی بہت ضروری ہے۔ لیکن There are two types of damages. One is reversible and the other is irreversible. تو جو reversible damage ہوتا ہے، وہ واپس ہو جاتا ہے۔ اور جو irreversible ہوتا ہے وہ واپس نہیں ہوتا۔ میں نے کہا، میں نے ڈاکٹروں سے سنا ہے کہ forty-eight hours سے کم اگر آپ نے پانی نہیں دیا جسم کو، تو وہ reversible damage ہے۔ یعنی جو damage ہے، اگر پانی کسی وقت بھی اس کو مل جائے، تو وہ سارا damage واپس ہو جائے گا۔ وہ ختم ہو جائے گا۔ اور ہمارا کوئی روزہ 24 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہے۔ چاہے کہیں پر بھی ہو۔ تو لہٰذا reversible damage ہی ہو گا irreversible تو نہیں ہو گا۔ لیکن اس reversible damage سے جو ہمیں روحانی فائدہ ہوتا ہے spiritual, that is too much. تو اس وجہ سے ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کہتا ہے Then it is okay. Then it is okay. اب ظاہر ہے ان کو ہم نے اس طریقے سے بتانا تھا نا۔
اچھا Germany میں، میں ایک دفعہ نماز پڑھ رہا تھا، تو ایک colleague میرا مجھے دیکھ رہا تھا۔ مجھے کہتا ہے کہ What were you doing? میں نے کہا یہ ہماری عبادت ہے، ہم پانچ دفعہ روزانہ کرتے ہیں۔ کہتا ہے Is it sin not to do this? اب بات تو بالکل سیدھی تھی کہ گناہ تو تھا۔ اب میں اس کو... لیکن میں نے کہا اس کو اگر میں کہوں تو اس پر negative effect پڑے گا۔ تو میں نے کہا اس کا اتنا فائدہ ہے، اتنا فائدہ ہے، اتنا فائدہ ہے کہ کوئی بے وقوف ہی اس کو چھوڑ سکتا ہے۔ اب بات بالکل ایک ہی تھی۔ لیکن ان کو کرنے کے لیے یہ طریقہ مناسب تھا۔
مسلمانوں کے لیے نہیں، بس اللہ کا حکم ہے -سبحان اللہ- اللہ کا حکم ہے۔ اللہ نے ایسے ہی کہا ہے۔ ایک عالم تھے، ان سے کسی نے کہا کہ مغرب کی تین رکعات ہیں اور باقی کے جو ہیں نا جفت ہیں۔ یہ کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب بھی علماء نے دیا ہے۔ لیکن اس کا دماغ بھی ٹھیک کرنا تھا۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ کی ناک آگے کو لگی ہے پیچھے کو نہیں لگی، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اللہ پاک کی مرضی۔ انہوں نے کہا بس اللہ پاک کی مرضی ہے تین رکعات ہیں۔ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اب اس پہ پھر کچھ نہیں کہہ سکتا وہ۔
تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ایسا بتانا ہے۔ مسلمانوں کو آپ logic پہ convince نہ کرو۔ مسلمانوں کو آپ جو source ہے نا، جہاں سے آیا ہے حکم۔ فقہاء کا کیا کام تھا؟ فقہاء نے کیا logic دیے ہیں، دلائل دیے ہیں؟ نہیں، انہوں نے ایک ہی کام کیا ہے۔ آیا یہ چیز ثابت ہے یا نہیں ہے؟ یہ چیز ثابت ہے یا نہیں؟ مطلب اس کو صرف ثبوت چاہیے ہوتا تھا۔ قرآن سے ثبوت، حدیث سے ثبوت، اجماع صحابہ سے ثبوت، یا پھر قیاس۔ چار چیزیں ہیں جس کے ذریعے سے وہ حکم معلوم کرتے ہیں۔ قرآن ہے، یا سنت ہے، یا اجماع صحابہ ہے، یا پھر قیاسِ مجتہد ہے۔ اس طریقے سے وہ ثابت کرتے ہیں، تو اب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کام یہی اس لیے کیا۔
science میں اور مذہب میں دو بہت واضح فرق ہیں۔ Science evolve کرتا ہے۔ Science کیا کرتا ہے؟ Evolve کرتا ہے۔ اور مذہب evolve نہیں کرتا۔ مذہب final چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے finally آیا ہوا ہے۔ جو چیز اللہ نے تبدیل کرنی تھی وہ کر گیا ہے۔ ناسخ منسوخ ہو چکا ہے۔ اب اخیر میں جو بات آئی ہے اس کو کوئی change نہیں کر سکتا۔ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ تو دین میں finality ہے۔ اور science میں evolution ہے۔ اب یہ جو چیز ہے، اگر سمجھ جائیں ہم، تو science کی کسی چیز کو ہم final کہہ نہیں سکتے۔ Because of evolution. اور مذہب کی کسی چیز کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔ Because of finality. اب اگر یہ دو چیزیں آپ کو معلوم ہیں، تو There is no confusion. پھر confusion کوئی نہیں ہوگا۔ چاہے Social Media پر چیخ چیخ کر لوگ کہیں کہ اس کی کوئی logic نہیں اور یہ نہیں، وہ نہیں، وہ کہتا ہے بس تیرے لیے نہیں ہو گا، میرے لیے ہے۔ کیونکہ مجھے صرف اتنا معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے کہا ہے یا نہیں کہا ہے۔ اللہ کی طرف سے آیا ہے یا نہیں آیا ہے۔ پیغمبر کی طرف سے اس کی وہ ہے یا نہیں ہے۔ اگر یہ چیز ہو چکی ہے اس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ ساری دنیا کہہ دے کہ ایسا نہیں ہے۔
میں اپنے ساتھیوں سے کہا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے، لیکن سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں، کہ اگر ساری دنیا بھی کافر ہو جائے، پھر بھی مجھے مسلمان ہونا ہے۔ اگر ساری دنیا بھی کافر ہو جائے، پھر بھی مجھے مسلمان ہونا ہے۔ یہ میرے لیے کوئی دلیل نہیں کہ ساری دنیا کافر ہو گئی لہٰذا میں کافر ہو سکتا ہوں، نہیں -نعوذ باللہ من ذلک- ایسا نہیں ہے۔ اب یہ تب ہو سکتا ہے جب آپ تمام ان چیزوں کو bypass کر دیں۔ جو آپ کے اندر confusion لا سکتے ہیں۔ اگر یہ چیز آپ کی بالکل final ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کی attachment logic پر نہیں ہے، بلکہ غیب پر ہے۔ ایمان بالغیب پر ہے۔ ایمان بالغیب کو logic سے ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن ایمان بالغیب کی چیزوں کو logic سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ ایمان بالغیب جو ہے، وہ ہماری ضرورت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔ ہم آخرت کو ہم کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ جنت اور دوزخ کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ یہ چیزیں ہماری domain سے باہر ہیں۔ ان چیزوں کو ہم لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ اس میں ہماری جو ساری بنیاد ہے وہ مخبر صادق پر ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ final ہے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنی گواہی دلوائی تھی۔ جب دعوت دے رہے تھے تو پہلا statement کیا تھا؟ پہلے یہ تھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے کوئی آ رہا ہے اور ہمارے اوپر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا آپ لوگ یقین کر لیں گے؟ یہ logic تھا۔ logic یہ تھا کہ میری position یہ ہے کہ میری ہر بات مان لیں گے آپ؟ تو سب سے پہلے لوگوں سے یہ کہلوایا، سب نے کہا کیوں نہیں، کیونکہ آپ کو ہم نے صادق و امین پایا ہے۔ بات فائنل ہوگئی۔ اب جب یہ والی بات ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ بات ہے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے۔ وہ اگر میں سمجھ گیا ہوں، اس کے بعد مجھے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی صفات بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھوں گا۔ فرشتوں کے بارے میں، پیغمبروں کے بارے میں، کتابوں کے بارے میں، تقدیر کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، تمام چیزوں کی بات میری آخر یہی، کیونکہ قرآن بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہم کہہ رہے ہیں۔
بعض یہ اہل قرآن ہوتے ہیں نا، جو قرآن کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں مانتے، تو ان کو ایک عالم نے بڑی اچھی بات کی، انہوں نے کہا بھئی قرآن بھی تو حدیث سے ثابت ہے۔ کہ نہیں؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول حدیث ہے نا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ یہ قرآن ہے نا، آپ کو کیا پتہ تھا؟ تو قرآن بھی تو حدیث سے ثابت ہے۔ اور بالکل تشریح بھی حدیث سے ہوتی ہے۔ جو بھی statement قرآن کی ہے، اس کی من مانی تشریح آپ نہیں کر سکتے۔ بلکہ یہ حدیث شریف ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی، چاہے اس نے صحیح ہی کیوں نہیں کی، پھر بھی اس نے غلطی کی۔
میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ کوئی ڈاکٹر کے prescription کے بغیر خود دوائی Chemist سے لے لے۔ اس نے اگر صحیح دوائی بھی لی، پھر بھی اس نے غلطی کی۔ میں کہہ سکتا ہوں؟ کیوں؟ اس وقت ممکن ہے اس کے لیے fit ہو جائے۔ لیکن جو اس کو عادت ہو جائے گی کسی ویسے وقت کوئی دوائی لے لے گا جو اس کے لیے بڑا نقصان دہ ہو۔
ایک ڈاکٹر صاحب تھے، اس نے بڑی اچھی statement دی تھی۔ اس نے کہا غلط علاج سے بہتر ہے کہ علاج نہ کیا جائے۔ غلط علاج سے بہتر ہے کہ علاج نہ کیا جائے۔ کیونکہ دیکھو نا، جیسے کھانسی کی تین قسمیں ہیں۔ ایک Expectorant، دوسرا اس کے لیے Expectorant ہے، دوسرے کے لیے Suppressant ہے، تیسرا Cardiac cough ہوتا ہے۔ وہ اور چیز ہوتی ہے۔ اچھا اب یہ جو ہے اگر آپ Cardiac cough کو Expectorant دیتے ہیں یا Suppressant دیتے ہیں؟ Damage۔ اگر Suppressant کو Expectorant دیتے ہیں؟ Damage۔ اگر Expectorant کو Suppressant دیتے ہیں؟ Damage۔ اب ڈاکٹر نہیں ہے، آپ جا کر Chemist سے لے لیں۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو آپ نے اگر کبھی صحیح بھی کر لیا پھر بھی غلط کیا نا۔ اصولا غلط کیا۔ اصولا غلط کیا۔
تو اس طرح قرآن کی جو تفسیر اگر کسی نے اپنی رائے سے کی، چاہے اس نے ٹھیک بھی کی پھر بھی غلط کیا ہے۔ قرآن کی تفسیر کے لیے ہم سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محتاج ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پر اعتماد کیا ہے ان کی تفسیر۔ جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اور بعض دوسرے صحابہ کرام۔ ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِهِ﴾ کے زمرے میں آ جاتے۔ تو پھر ان کی تفسیر پہ ہم جائیں گے۔ اس کے بعد پھر درجہ بدرجہ، درجہ بدرجہ اس کا exposure بڑھتا جائے گا۔ لیکن یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ میں جو اس کی تفسیر، جو میں کرنا چاہوں، بے شک مجھے کتنی ہی logical لگے۔ مجھے خطرہ ہے۔ کسی وقت بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرما دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ