ولایت پر نبوت کی فضیلت اور روحانیت میں 'سُکر' کے مقابلے میں 'صحو' کا اعلیٰ مقام

درس 130: مکتوب 267 تا 268

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حضرت مجدد الف ثانیؒ کو عطا کردہ علمِ اسرار اور اپنے روحانی احوال چھپانے کی اہمیت
  • طریقت میں نت نئی باتوں (بدعات) کی ممانعت اور حقیقی سلوک (مخالفتِ نفس) کی ضرورت
  • تزکیہ نفس کے بغیر محض تصورات اور مراقبات پر مبنی جدید تصوف اور اس کے کچے پن کی تردید
  • انبیاء کرام کی وراثت: علمِ احکام اور علمِ اسرار کے جامع اور حقیقی علماء کی پہچان
  • ولایت کے مقابلے میں نبوت کی بے پناہ فضیلت اور بعض صوفیاء کی غلط فہمیوں کا ازالہ
  • تصوف اور روحانیت میں 'سُکر' (کیف و مستی) پر 'صحو' (ہوش و آگہی) کی فوقیت اور اس کے کمالات

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔

دفتر اول مکتوب 267

مرزا حسام الدین احمد؂1 کی طرف صادر فرمایا۔ اس بیان میں کہ وہ اسرار و دقائق جن سے حضرت ایشاں (حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ) ممتاز ہوئے ہیں ان میں سے تھوڑا سا بھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا بلکہ رمز و اشارے کے ساتھ بھی ان کے بارے میں گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ وہ اسرار ’’مشکوٰۃِ نبوت‘‘ سے مقتبس ہیں اور ملائکۂ علیین بھی اس دولت میں شریک ہیں، اور اس کے مناسب بیان میں۔ حمد و صلوٰۃ اور تبلیغ دعوات کے بعد عرض ہے کہ آپ کا صحیفۂ شریفہ جو از روئے لطف و کرم اس حقیر کے نام تحریر فرمایا تھا، اس کے مطالعہ سے مشرف ہوا۔ جَزَاکُمُ اللہُ سُبْحَانَہٗ خَیْرًا (اللہ سبحانہٗ آپ کو اس کی بہترین جزا عطاء فرمائے) حق جل سلطانہٗ کے انعامات میں سے کیا کیا تحریر کرے اور اس کا شکر کس طرح ادا کرے۔ وہ ’’علوم و معارف ‘‘ جن کا فیضان ہوتا رہتا ہے ان میں سے بیش تر حصہ تحریر ہوتا رہتا ہے اور ہر اہل و نا اہل کے گوش گزار ہوتا رہتا ہے، لیکن وہ اسرار و دقائق جن کے ساتھ یہ فقیر ممتاز ہے، اس کا ذرا سا حصہ بھی اظہار نہیں کیا جا سکتا بلکہ رمز و اشارہ سے بھی ان دقائق کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اپنے فرزند عزیز (خواجہ محمد صادق رحمۃ اللہ علیہ) جو اس فقیر کے معارف کا مجموعہ اور مقاماتِ سلوک و جذبے کا نسخہ ہے، اس سے بھی ان اسرار و دقائق میں سے کوئی ایک رمز بیان نہیں کر سکتا، اور ان کے پوشیدہ رکھنے میں پوری پوری احتیاط و کوشش کرتا ہے حالانکہ فقیر جانتا ہے کہ میرا فرزند ’’محرمانِ اسرار‘‘ میں سے ہے اور خطا و غلطی سے محفوظ ہے لیکن (یہ فقیر) کیا کرے کہ معانی کی دقت اور باریکی زبان کو پکڑ لیتی ہے اور اسرار کی لطافت ہونٹوں کو بند کر دیتی ہے۔ ﴿وَيَضِيۡقُ صَدۡرِىۡ وَ لَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِیْ﴾ (الشعراء: 13)میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور میری زبان جاری نہیں رہتی۔ نقدِ وقت ہے۔ وہ اسرار اس قبیل (قسم) میں سے نہیں ہیں کہ بیان میں نہیں آ سکتے بلکہ وہ ایسے ہیں کہ بیان میں لائے ہی نہیں جا سکتے ؂

فریادِ حافظ ایں ہمہ آخر بہرزہ نیست
ہم قصۂ غریب و حدیثِ عجیب ہست

ترجمہ:

نہیں بکواس یہ حافظ کی فریاد
وہ البتہ عجیب احوال کی ہے

یہ دولت جس کے پوشیدہ رکھنے میں ہم کوشش کرتے ہیں، انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے ’’مشکوٰۃِ نبوت‘‘ سے اقتباس کی ہوئی ہے، اور ملائکۂ ملاء اعلیٰ علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات بھی اس دولت میں شریک ہیں، اور انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی متابعت کرنے والوں میں سے جس کو اس دولت سے مشرف فرمائیں وہ بھی اس دولت میں شریک ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے دو قسم کے علم سیکھے ہیں، ان دو علموں میں سے ایک یہ ہے کہ جو میں نے تمہارے درمیان پھیلا دیا اور بیان کیا، اور دوسرا علم وہ ہے کہ اگر میں تم پر ظاہر کر دوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے اور وہ علم ’’علمِ اسرار‘‘ ہے کہ ہر شخص کی فہم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ ﴿ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ (الجمعہ: 4)

دوسری عرض یہ ہے کہ وہ مکتوب (266) جو حضرات خواجہ زادوں کے نام تحریر کیا ہے آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا۔ میرے مخدوم و مکرم! طریقت میں بھی کوئی نئی بات نکالنا اس فقیر کے نزدیک اس بدعت سے کم نہیں ہے جو دین میں پیدا کی جائے۔ ’’برکاتِ طریقت‘‘ اسی وقت تک جاری و ساری رہتی ہیں جب تک کہ طریقت میں کوئی نئی بات پیدا نہ کی جائے، اور جب کوئی نئی بات طریقت میں پیدا ہو جائے تو اس طریقے کے فیوض و برکات کی راہ بند ہو جاتی ہے۔ لہٰذا طریقت کی محافظت انتہائی ضروری ہوئی، اور طریقت کی مخالفت سے پرہیز کرنا بھی ضروریات میں سے ہو گیا۔ پس آپ جس جگہ بھی ہوں اور جس سے بھی اپنے طریقے کی مخالفت دیکھیں تو نہایت سختی اور سر زنش کے ساتھ اس کو روکیں اور اس طریقت کی ترویج و تقویت میں کوشش کریں۔ و السلام و الاکرام۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ جل شانہ نے خصوصی انعام و اکرام سے نوازا۔ اس مکتوب شریف میں اس کا ذکر ہے۔ وہ کیا تھا؟ اس کو جاننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد مبارک ہے: "اس چیز کو مبہم رکھو جس کو اللہ نے مبہم رکھا ہے"۔ جس چیز کو اللہ پاک نے ظاہر کیا ہے وہ ظاہر کرنے والی چیز ہوتی ہے، اور جس چیز کو اللہ پاک نے چھپایا، تو وہ چھپانے کی چیز ہوتی ہے۔

ظاہر ہے دنیا میں بھی ہم لوگ اگر کسی کی ملازمت کرتے ہیں، تو ہم ان کے رازوں کے امین بھی ہو جاتے ہیں اور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ ان کو کسی اور کے سامنے افشا کر دیں۔ تو یہاں ملازمت تو نہیں ہے، یہاں تو بندگی ہے۔ ملازمت میں تو اور بات ہوتی ہے، وہ تو ایک لگا بندھا نظام ہوتا ہے اجرت کا، یہاں تو اجرت والی بات ہے ہی نہیں، یہاں تو غلامی ہے، یہاں تو بندگی ہے۔ غلاموں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، بندوں کے تو حقوق بھی نہیں ہوتے۔ تو یہاں پر جو بات ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو جتنا آگے بتانے کی اجازت ہو اتنی ہی بتانی چاہیے بات۔

اب جہاں تک بات ہے بنیادی شریعت کی، اس میں تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ اور اصل میں نجات تو اسی پر ہے۔ جہاں تک بنیادی شریعت کی بات ہے، تو اس میں تو مخفی کوئی چیز نہیں ہے، شریعت واضح ہے، ظاہر ہے، بیّن ہے۔ یہاں تک کہ جو باتیں انسان اپنی ذاتی دوسروں کو نہیں بتا سکتا، بلکہ بتانا جرم ہے شرعی لحاظ سے، جیسے میاں بیوی کی اپنی باتیں ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان باتوں کو بھی اللہ پاک نے ظاہر کروایا، کیونکہ شریعت کی بات تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس کے سمجھانے والے تھے۔ وہاں پر تو اخفا نہیں تھا، ہمارے لیے اخفا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اخفا نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھر کون ہم تک یہ بات پہنچاتا؟ کس طریقے سے ہمیں یہ باتیں سمجھ میں آتیں؟ یہ بھی ایک بڑا عجیب نقطہ آگیا ذہن میں۔

بہشتی زیور جو یہ کتاب ہے، جب یہ لکھی گئی تو بعض لوگوں نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں فحاشی ہے۔ کیوں؟ یہ اس لیے بتایا کہ اس میں ظاہر ہے جیسے مثال کے طور پر غسل فرض ہو جاتا ہے جن باتوں سے، اس کی تفصیل بھی ہے۔ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی ہے۔ غسل کس طرح کیا جاتا ہے، وہ تفصیل ہے۔ حیض کے بارے میں مسائل ہیں، نفاس کے بارے میں مسائل ہیں، اب یہ باتیں ضرورت بھی اس کی ہے اور اس کو افشا کرنے کی بھی بات نہیں ہوتی کہ مطلب لوگوں کے سامنے اس طرح کھل کے بیان بھی نہیں کیے جا سکتا۔ تو حضرت نے ماشاءاللہ اس کو بیان فرمایا ہے؛ کیونکہ علمی باتیں تھیں۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ یہ باتیں تو نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ تو ان کو جواب دیا گیا کہ پھر کس طرح کی جاتیں؟ مطلب اگر ضرورت تو تھی۔ کتاب لکھی گئی ہے خواتین کے لیے تو ان کی باتیں تو اس میں ہوں گی۔ تو جب کچھ نہیں بن پایا تو انہوں نے کہا جی ان کو اردو نہیں آتی۔ یعنی یہ ہے کہ ذرا ایسے پیرائے میں لکھنی چاہیے تھی کہ جو مناسب ہو۔ تو اس کا حضرت نے اس سے وہ کر لیا تھا انتظام۔ اور وہ یہ ہے کہ اس پہ لکھا تھا کہ یہ باتیں خواتین صرف ان کو سمجھائیں۔ جن کو ضرورت ہو اور عام درس میں یہ نہ آئیں، ٹھیک ہے۔ بس اتنا ہی ہو سکتا تھا کہ خود پڑھ لے یا یہ ہے کہ کوئی ایسی خاتون ان کو سمجھائے جو ظاہر ہے پردے کے ساتھ سمجھا سکتی ہے۔

الغرض یہ ہے کہ دین میں شرم بھی نہیں ہے، اور دین میں بے شرمی بھی نہیں ہے۔ دونوں باتیں ہیں۔ دین میں شرم بھی نہیں ہے، دین میں بے شرمی بھی نہیں ہے۔ بے شرمی سے مراد بے حیائی اور شرم سے مراد ضروری چیز جو کہ ظاہر کرنی ہو، اس کے ظاہر کرنے سے طبیعت کا رک جانا، وہ شرم ہے۔ تو دین میں ایسی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین مسئلے پوچھا کرتی تھیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے صحابہ کرام نے باتیں پوچھی ہیں۔ بلکہ ایک دفعہ ایک ایسا مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے ایک صحابی، جس پہ ان کو بڑی شرم آ رہی تھی کہ میں کیسے پوچھوں؟ تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کو تاڑ لیا، فرمایا کہ: میں تیری ماں ہوں، شرم نہ کرو، میں تمہیں بتاتی ہوں آپ پوچھیں۔ تو پھر انہوں نے مسئلہ پوچھا اور اس کا جواب دے دیا۔ مطلب یہ ہے کہ دین میں شرم بھی نہیں ہے اور دین میں بے شرمی بھی نہیں ہے۔ جو چیز جتنی مطلوب ہے اتنا کرنا چاہیے۔

خیر یہ تو میں شریعت کی بات کر رہا تھا کہ شریعت جو ہے بالکل واضح ہے، بین ہے، اظہار والی چیز ہے، شرع ظاہر کو دیکھتی ہے اس کا مطلب ظاہر کے اوپر مبنی ہے تو تمام چیزوں کو ظاہر بھی کرنا ہوتا ہے۔

لیکن ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس پہ آنے کے لیے جو نظام ہے اس کو طریقت کہتے ہیں۔ اس پہ آنے کے لیے جو نظام ہے، یعنی جو رکاوٹیں ہیں اپنے نفس کی، اپنے قلب کی، اپنے عقل کی۔ جو رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے انسان شریعت پر چلنے سے رک سکتا ہے۔ تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا نام "طریقت" ہے۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا نام کیا ہے؟ یہ طریقت ہے۔

تو طریقت جو ہے اس کے بارے میں بھی یہ والی بات ہے کہ شیخ کے ساتھ معاملہ اور ہوتا ہے، باقی لوگوں کے ساتھ معاملہ اور ہوتا ہے۔ اس میں احوال ہوتے ہیں۔ شریعت میں اقوال ہوتے ہیں، اس میں احوال ہوتے ہیں۔ تو یہ جو احوال ہیں وہ صرف اپنے شیخ کو بتانے ہوتے ہیں، کسی اور کو نہیں بتانے ہوتے۔ جرم ہے! جرم ہے۔ اپنا حال کسی اور پر، شیخ کے علاوہ کسی اور پر ظاہر کرنا، یہ جرم ہے۔ اس پر بڑی سخت تنبیہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ اپنا کوئی حال کسی صاحب نے ظاہر کیا تھا کسی پہ خانقاہ میں، تو حضرت اتنے سخت ناراض ہوئے کہ سب کے سامنے ایسا دھنائی کی، ان الفاظ میں کہ "بدبخت! اپنے جورو یعنی اپنی بیوی کو کسی اور کے بغل میں دیکھے، تجھے شرم نہیں آتی؟" یعنی یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ آدمی کوئی اپنی بیوی کسی اور کے حوالے کر دے۔ یعنی احوال ایسی چیز ہے۔ ایسے پردے میں رکھنے ہوتے ہیں۔ یہ ظاہر نہیں کرنے ہوتے۔ یہ کچا پن ہے۔ کسی مرید میں اگر ہو، یہ کچا پن ہے۔ جس کی وجہ سے نقصان ہو سکتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ طریقت جو چیز ختم کرنا چاہتی ہے، یہ اس کے مخالف چیز کیسے؟ طریقت فنائیت چاہتی ہے۔ یعنی انسان اپنی اس کو فنا کر لے، حیثیت کو۔ اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھے۔ یعنی اس کا ہر کام اس طرف جا رہا ہو کہ جس میں فنائیت پائی جاتی ہو۔ اور اس میں اظہار ہے! اس میں دعویٰ ہے۔ اس میں اپنی حیثیت جتانا ہے، بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں اپنے آپ کی بزرگی دکھانا ہے۔ تو اب بتاؤ کون سی چیز ہے؟ بالکل اس کے مخالف چیز ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو سختی کے ساتھ روکا جاتا ہے۔

تو یہ جو بات ہے میں عرض کر رہا ہوں، کہ طریقت اصل میں تو شریعت پر آنے کا نام ہے، شریعت پر چلنے کا نام ہے، شریعت پہ چلنے میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے کا نام ہے۔ لیکن یہ جو اس کا نظام ہے، وہ یہ ہے کہ کسی شیخ کی نگرانی میں ہو اور شیخ کے ساتھ معاملہ اس میں ایسا ہوتا ہے کہ جتنا اس پہ شیخ کھولے، اتنا لے اور جتنا نہ کھولے اس کی حرص نہ کرے۔ اس کی پابندیاں ہیں۔ اس کی حرص نہ کرے۔ وہ تعجیل کے زمرے میں آتا ہے۔ اور جو کھولے، اس کو محفوظ کرے۔ اس کو ضائع نہ کرے۔ اس کے مطابق کام کرے۔ اور اپنے حال کو کسی پہ ظاہر نہ کرے۔

یہ اس طریقے سے انسان اپنے قلب، عقل اور نفس کا علاج کرواتا رہے۔ یہاں تک کہ رکاوٹیں دور ہو جائیں اور سیر الی اللہ مکمل ہو جائے۔ نفس، نفس مطمئنہ بن جائے۔ قلب، قلب سلیم بن جائے۔ عقل، عقل فہیم بن جائے۔ تو گویا کہ سیر الی اللہ مکمل ہو جائے گا، پھر اس کے بعد سیر فی اللہ شروع ہو جائے گا۔ اور سیر فی اللہ میں کیا ہے؟ محض شریعت پر مستقل طور پر موت تک عمل ہے۔ جس میں اور کچھ نہیں ہے۔ محض شریعت پر موت تک عمل ہے۔ یہ سیر فی اللہ ہے۔ یہ چلتا رہے گا۔

اب قلب کے اوپر حجابات ہیں۔ ان حجابات کے دور ہونے کی وجہ سے قلب میں کچھ چیزیں منعکس ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ سمجھانے کے لیے میں عرض کروں، کہ جیسے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ نفس اور روح کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے مقام قلب میں۔ اور نفس کو قابو کرنا ہوتا ہے، تاکہ روح اس سے آزاد ہو جائے۔ جب روح آزاد ہوگا تو اپنے مستقر اصلی یعنی ملاء اعلیٰ پہ پہنچ جائے گا۔ اب یہ ملأ اعلیٰ کا باسی ہو جائے گا۔ لیکن اس کا کنکشن قلب کے ساتھ ہوگا۔ جیسے نفس کا قلب کے ساتھ تعلق ہے، بے شک عبدیت میں ہو اپنی جگہ پہ پہنچ جائے نیچے ہو کر، اس طرف روح جتنا اوپر جائے پھر بھی اس کا قلب کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔

اب حضرت فرماتے ہیں کہ قلب برزخ بن جاتا ہے۔ اور روح کے ذریعے سے ملأ اعلیٰ سے لیتا ہے۔ اور نفس کے ذریعے سے آگے دیتا ہے۔ یہ نظام بن گیا۔ اب یہ جو نظام بن گیا، تو ملأ اعلیٰ تو لوگوں پہ کھلا نہیں ہے نا۔ ملأ اعلیٰ کے اندر کیا ہے؟ جو چیزیں حدیث شریفہ میں بتائی گئیں، بس اتنا ہی معلوم ہے نا، اس سے زیادہ تو معلوم نہیں ہے۔ اب جو جو چیزیں پتہ چلتی ہیں وہ "حقائق" ہیں۔ "اسرار" ہیں۔ جن پہ جتنی جتنی بات کھلتی جاتی ہے، اب جس طریقے سے اپنے احوال طریقت میں کسی پہ ظاہر نہیں کرنے سوائے شیخ کے۔ اس طرح ان اسرار کا بھی جو کشف ہوتا ہے، تو یہ بھی ظاہر نہیں کرنا ہوتا۔ یہ بھی مخفی ہے۔ یہ بھی کسی پہ ظاہر نہیں کرنا ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ جل شانہٗ اور اس شخص کے درمیان ہے۔ اللہ جل شانہٗ اور اس شخص کے درمیان ہے کوئی اور اس میں درمیان میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ شیخ کا کام بھی اتنا ہوتا ہے، جیسے مشاطہ کا ہوتا ہے۔ یعنی جیسے میاں بیوی کی جو ملانے والی ہوتی ہے کہ اس کمرے میں لانے والی ہوتی ہے، تو بس اس کا کام ادھر ختم ہو گیا۔ اس کے بعد وہ تانک جھانک نہیں کر سکتی۔ کرے گی تو سخت پٹائی ہوگی۔

تو یہاں پر بھی بات ہے کہ یہ جو سیر فی اللہ ہے، جب یہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر اس میں اللہ پاک اسرار کھولتے ہیں، تو وہ پھر اس کا اپنا معاملہ ہوتا ہے اللہ کے ساتھ۔ اور وہ اپنی ترتیب چلتی ہے۔ حقائق کھلتے ہیں، یہ "حقیقت" ہے۔ پھر اللہ تعالی اس کے دل پر ہر حالت کے مطابق جو نظام ہوتا ہے کھولتا ہے، تو اسی کو "معرفت" کہتے ہیں۔ پھر یہ جو عارف ہوتا ہے، معرفت والا ہوتا ہے، ایسے شخص کو "عارف باللہ" کہتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ جل شانہ کے نظام کو سمجھنے لگا ہے اور جتنا اس کو بتایا گیا ہے۔ اس کو عارف باللہ کہتے ہیں۔

تو اس میں بعض چیزیں اللہ تعالی جن پر کھول لیتا ہے، دوسرے لوگوں کے لیے وہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ نہ سمجھنے والی چیزیں ہوتی ہیں۔ وہ باقی لوگ سمجھ نہیں سکتے۔ تو ایسی صورت میں چونکہ نجات تو شریعت پر ہے۔ تو تبلیغ تو شریعت کی ہے۔ طریقت میں آپ کا اپنا کام ہے، اپنے آپ کو بنانے کا اس کا بھی کسی اور کے ساتھ تعلق نہیں ہے، سوائے شیخ کے۔

لہذا شیخ کے ساتھ interaction کی اجازت دی گئی ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں۔ اور یہ حقیقت کا معاملہ تو شیخ کے ساتھ بھی نہیں ہے۔ تو اب اس کا کسی کو کیسے بتایا جائے؟ بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر وہ حفاظت اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔ وہ حفاظت اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے

میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ عجیب و غریب باتیں ہیں اور ساری چیزیں سمجھ میں آنے والی ہیں لیکن تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں: اگر آپ کو کوئی محرم راز بنائے، یعنی آپ سے کوئی سرگوشی میں بات کر لے، اور تھوڑا سا ادھر ادھر بھی دیکھے، کہ کوئی ہے یا نہیں ہے۔ بس بے شک آپ کو زبانی طور پر نہ بھی کہے "کہ کسی کو بتانا نہیں"، آپ اس کے امین ہو گئے۔ اب آپ کسی کو نہیں بتا سکتے اس کی اجازت کے بغیر۔ اس نے ظاہر کر دیا کہ یہ خاص بات ہے۔ یہ میری خاص بات ہے، اس کو آپ کسی اور کو نہیں بتا سکتے۔ ہاں! اجازت دے دے تو پھر ٹھیک ہے۔ پھر آپ بتا دیں۔ جس کے لیے بھی اجازت دے دے اور جتنے کی اجازت دے، وہ علیحدہ بات ہے۔ لیکن اگر اجازت کے بغیر آپ نے بتا دیا تو آپ نے تعلقات کھٹے کر دیے۔ مجھے بتاؤ ایک انسان کے ساتھ تعلقات کھٹے کرنے کا نقصان تو سمجھتے ہیں ہم، تو اللہ پاک کے ساتھ کیسے معاملہ ہوگا یہ؟ تو ایسی صورت میں انسان کو بہت بچنا ہوتا ہے۔ تو حضرت نے اب یہی بات بتائی۔ کہ جو چیزیں اللہ پاک نے حضرت پہ کھولی ہیں، تو کچھ کا تعلق تو تھا شریعت کے ساتھ، لہذا وہ تو کھل کے بتا دیا۔ کچھ کا تعلق تھا طریقت کے ساتھ، تو جتنا بتانا تھا اپنے مریدوں کو، اپنے خلفاء کو، وہ اتنا بتا دیا۔ لیکن باقی چیزوں کا تعلق کسی چیز کے ساتھ تھا؟ تو نہیں تھا، لہذا باقی نہیں بتاتے۔

فرمایا اپنے بیٹے کو بھی نہیں بتا سکتا۔ یہ بھی فرمایا۔ کہ اپنے بیٹے کو بھی نہیں بتا سکتا۔ حالانکہ وہ محرم راز بھی ہے، سب کچھ ہے، لیکن نہیں۔ اس وجہ سے چلیں ایک بات اور عرض کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت دعوت دے رہے تھے ابتدائی، سب کو جمع کیا تو سوال کیا کہ "اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے کوئی دشمن آ رہا ہے اور ہم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو آپ لوگ یقین کریں گے؟" تو سب نے کہا کہ کیوں نہیں کریں گے، کیونکہ آپ صادق اور امین ہیں۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی۔ ظاہر ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہوئی۔ حالانکہ پہلے ہی کہا تھا کہ آپ صادق اور امین ہیں، ہم کیوں یقین نہیں کریں گے۔ تو اسی طریقے سے جو حضرات امین ہوتے ہیں رازوں کے۔ اور جن وجوہات، جن بنیادوں کے لیے وہ رازوں کا امین بنایا گیا ہے۔ اس کی استعمال اگر طریقت میں ہو، سمجھنے کے لحاظ سے، یا سمجھانے کے لحاظ سے، وہ ان تک بات پہنچ گئی۔ تو جس وقت وہ سمجھائے گا تو اس چیز کو استعمال کر چکا ہوگا۔ باقی کے لیے تو اس راستے سے گزرنا ضروری نہیں ہے۔

تو اسی طریقے سے بعض باتوں کو سمجھایا جاتا ہے لیکن وہ صرف آگے کام کے لیے ہوتا ہے اور لوگوں کا اس کے ساتھ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ تو حضرت نے بھی یہ بات فرمائی کہ میں جو مجھے چونکہ اس کی اجازت نہیں ہے تو اس وجہ سے میں کسی کو نہیں بتا سکتا۔

البتہ ایک بات جو طریقت کے لحاظ سے اس میں آگے یہ بات فرمائی کہ "طریقت میں کوئی نئی بات نکالنا۔" نئی بات نکالنے سے مراد یہ ہے اصول میں کوئی تبدیلی کرنا۔ کیونکہ جو فروع ہیں اس میں تو تبدیلی ہوتی رہے گی، تجرباتی تبدیلیاں تو اس میں ہوتی رہتی ہیں، وہ تو طریقت مطلب ہی یہ کہ تبدیلی والا راستہ ہے۔ لیکن جو اس کے اصول ہیں، اس میں تبدیلی کی جائے گی تو نقصان ہوگا۔ اور آج کل ہم بھگت رہے ہیں۔ کس طرح بھگت رہے ہیں؟ مجھے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے طریقے کے کچھ نوٹس ملے ہیں، بہت پرانے یعنی حضرت کے دور کے بعد فورا بعد۔ اس میں بھی یہی باتیں جو آج کل ہم کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے۔ وہ باتیں چل رہی ہیں، نفس، بالکل اس طرح نفس، عقل اور دل، تینوں باتیں ہو رہی ہیں۔ اور مجاہدے پر زبردست زور، اور اس کے بغیر یہ کام نہ ہو سکنا، یہ ساری باتیں اس میں ہیں۔ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے عوارف المعارف میں تو میں نے خود دیکھا ہے۔ کہ حضرت نے فرمایا کہ نفس قابو ہو، دل پاک ہو اور عقل فہیم سنت ہو۔ اس میں بھی ہے۔ چشتی حضرات کا بھی یہ ہے۔ اب یہ درمیان میں کیسی چیزیں اڑ گئیں؟ اور اس حد تک اڑ گئیں، کہ اس کا تذکرہ بھی نہیں، اس پر زور بھی نہیں، اس کے بارے میں کوئی فکر بھی نہیں۔ یہ باتیں چل پڑیں۔

حضرت کو اس کا ادراک ہو گیا تھا حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو۔ لہذا انہوں نے خصوصی طور پر ایک تفصیلی مکتوب شریف 287 نمبر اس پر بھیجا اپنے بھائی کو کہ لوگ جذب اور سلوک میں کچھ گڑبڑ کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کے بارے میں کچھ بتاؤں۔ اب گڑبڑ اس حد تک نکلی، اللہ بچائے، دیکھو وقت کے ساتھ ساتھ اینٹ کے اوپر اینٹ رکھی جاتی ہے نا۔ اس حد تک گڑبڑ چلی گئی کہ اتنی موٹی موٹی کتابیں، 35 اسباق اور پتہ نہیں کتنے اور کتنے، اس میں سلوک کے بارے میں کچھ نہیں۔ سلوک کیسے طے کریں؟ مراقبات کے ذریعے سے سارا کچھ طے ہو رہا ہے۔ اور مراقبات بھی صرف "حدیثِ نفس" بن گئے ہیں، باتیں ہو رہی ہیں اپنے آپ کے ساتھ۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ دو طالب علم حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جا رہے تھے، میں بھی ساتھ تھا۔ ایک قبر پر حضرت مراقب ہوئے۔ حضرت چونکہ بڑے صاحبِ کشف تھے، شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ، دیوبند کے اکابر میں سے تھے۔ تو وہ مراقب ہو گئے۔ کہتے ہیں وہ دو طالب علم بھی مراقب ہو گئے۔ تو کہتے ہیں پیچھے سے میں نے دونوں کو مارا گردن پہ کہ وہ آگے کی آنکھ (باطنی آنکھ) تو تمہاری بند ہے، یہ آنکھ کیوں بند کر دی؟ وہ آگے کی آنکھ تو تمہاری بند ہی ہے، تو یہ آنکھ کیوں بند کر دی؟ صرف شو (Show) کرنا چاہتے ہو کہ ہم بزرگ ہیں! اب یہ صورتحال ہے۔ آنکھیں بند اور اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں یہ۔ خیالات بن رہے ہیں جی، اور اس کو مراقبے کا نام دیا ہوا ہے۔

اس طرح مراقبے کے ذریعے سے سارا کچھ تبدیل ہو رہا ہے جی، کیسے؟ کیسے ہو رہا ہے جی؟ کتابوں میں میں دکھا سکتا ہوں آپ کو، یہ کوئی اجنبی باتیں نہیں ہیں۔ کہ مشائخ نقشبندیہ کے طفیل، وہ فیض جو ولایت کبریٰ کا ہے، وہ ان کے طفیل وہ میرے قلب پہ آ گیا، بس، آ گیا۔ اور ولایت کبریٰ حاصل ہو گئی۔ ایسا ہے یا نہیں ہے؟ بیٹھے بیٹھے! ہمارے میلے نہیں ہوتے میلے، اس میں یہ وہ کیا ہوتے ہیں وہ جو دیکھتے ہیں، دور بین اس کو کہتے ہیں وہ لوگ۔ تو وہ کہتے ہیں، بیٹھے بیٹھے انگلستان کی سیر کرو، بیٹھے بیٹھے امریکہ کی سیر کرو! وہ آوازیں لگاتے ہیں۔ تو بس پھر بیٹھے بیٹھے کرتے رہو سیر۔ پتہ نہیں کہاں کہاں پہنچ جاؤ گے۔ یہ والی بات شروع ہو گئی تھی۔

اب پینتیس کے پینتیس اسباق طے ہو گئے اور سلوک کا ذرا بھر پتہ نہیں۔ سلوک کا پتہ ہی نہیں کہ سلوک کس کو کہتے ہیں۔ کہیں پر اس کا ذکر نہیں کہ مقام توبہ کیسے طے ہو گیا، مقام انابت کیسے طے ہو گیا، مقام ریاضت کیسے طے ہو گیا۔ بلکہ دعویٰ کیا گیا ہمارے ہاں مجاہدہ ہے ہی نہیں! دعویٰ کیا گیا ہمارے ہاں مجاہدہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جب میں نے نفس کی باتیں شروع کیں، تو مجھ پر اعتراض ہونے لگے، کھلم کھلا، کہ آپ کہاں سے یہ باتیں لے آئیں ہیں؟ اصل علاج تو دل کا ہے۔

حالانکہ اس دور میں، شیخ عبدالقادر جیلانی کے بھی اس میں یہ لکھا ہے، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ہوتا کیا ہے؟ تقویٰ پیدا ہوتا ہے بلکل یہ ہی بات لکھی ہے حضرت نے میں نے حضرات سے پہلےعرض کیا تھا تقویٰ پیدا ہوتا ہے نفس میں، اور اسٹور ہوتا ہے دل میں۔ حضرت کے الفاظ ہیں، "دل تقویٰ کا مکان ہے اور پرہیزگاری نفس کی مخالفت میں پیدا ہوتی ہے" بالکل صاف اس قسم کی باتیں کی ہیں، پرہیزگاری نفس کی مخالفت سے پیدا ہوتی اور مکان اس کا کونسا ہے؟ دل ہے۔ کام کرنا پڑے گا نفس کے خلاف، دل بنے گا آپ کا اس کے ساتھ۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ اب یہ باتیں، مطلب ظاہر ہے بالکل تقریبا یعنی سلوک کے ساتھ، اس کے ساتھ چونکہ تعلق ہی نہیں، نفس کے بارے میں کوئی بات نہیں۔ تو مجھ پہ جب اعتراض کیا کہ حدیث شریف میں تو دل کا ذکر ہے، تو میں نے کہا قرآن میں نفس کا ذکر ہے! «قد افلح من زکٰہا وقد خاب من دساہا» قرآن میں نفس کا ذکر ہے۔ اور دونوں باتیں ہیں۔ کیوں؟ دل بنتا ہے تقویٰ سے اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے نفس کی مخالفت سے۔ لہذا آپ نفس کے خلاف کام نہیں کرے گا تو دل خاک بنے گا! دل کیسے بنے گا؟ بات آپ کی صحیح ہے کہ دل جب بن جائے گا تو سارا کچھ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن دل بنے گا کیسے؟ اس پہ تو غور کرو نا۔ تو حضرت نے فرمایا، طریقت میں کوئی نئی بات نہیں نکالی جا سکتی۔ تو نئی بات نکالی گئی نا؟ کہ دل پر ہی سارے بس وہ سارا کچھ ہو رہا ہے۔ نتیجتاً کہاں سے کہاں بات پہنچ گئی!

اور اس طرح یہ جو فلسفیانہ تصوف والے ہیں، انہوں نے عقل پر سب کچھ ڈال دیا۔ بس اس کو ٹھیک کر لو، سارا کچھ ٹھیک ہو جائے گا، سوچ کو بہتر کر لو بس سارا کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ بھائی سوچ سے کام لو گے، لیکن کام لو گے کیسے؟ کیا مطلب ہے؟ مثال کے طور پر آپ سوچیں، گاڑی صحیح چلاؤ، تو گاڑی صحیح چلاؤ کا سوچ آپ کی گاڑی چلائے گی؟ آپ ڈرائیونگ اچھی طرح سیکھیں، یہ عقل کا کام ہے، علم اس کا حاصل کر لے، یہ عقل کا کام ہے۔ لیکن یہ جو گیئر بدلنا ہے، اور accelerator پہ پاؤں رکھنا ہے، اور بریک لگانا ہے اور یہ ساری چیزیں، یہ تو آپ کو کرنا پڑے گا نا، یہ تو آپ کے ہاتھ پاؤں کریں گے۔ یہ تو آپ کا دماغ نہیں کر سکتا۔ آپ کا دماغ instruction دے گا۔ لیکن وہ کرے گا تو وہی۔ اب آپ کا ہاتھ کسی نے باندھ لیا، اور آپ کا دماغ اس کو حکم دے رہا ہے کہ فلاں چیز کو ہلاؤ، فلاں چیز کو ہلاؤ، فلاں چیز کو ہلاؤ، وہ ہل ہی نہیں رہا۔ تو آپ کا دماغ اس وقت ہاتھ بن جائے گا؟ آپ کا دماغ تو ہاتھ نہیں بن سکتا، وہ تو ہاتھ کے ذریعے سے کام کرے گا نا۔ تو کیا کرے گا؟ ہاتھ کو کھلوائے گا نا! تو ہاتھ کس چیز نے روکا ہے؟ نفس نے روکا ہے نا! تو نفس سے اس کو چھڑائے گا یا نہیں چھڑائے گا؟ ساری باتیں طے ہیں۔ اس میں کوئی مخفی بات نہیں ہے۔

اب میں آپ سے عرض کر لوں، گزشتہ سارے بزرگوں کی تحریروں میں یہ آ رہا ہے، قلب، نفس اور عقل، قلب، نفس، عقل، قلب، نفس، عقل۔ اب لوگوں نے درمیان سے نفس کو نکالا، کچھ نے درمیان سے عقل کو نکالا، تبدیلی کون لایا؟ تو اس کی مخالفت تو کی جائے گی نا۔ حضرت نے کیا فرمایا ہے؟ سبحان اللہ!

نہایت سختی اور سرزنش کے ساتھ اس کو روکیں۔ تو نہایت سختی اور سرزنش کے ساتھ اس کو روکیں۔

تو آج کل ہمیں یہ کرنا پڑ رہا ہے نا۔ یہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اب اس میں ہم نرمی تو نہیں کر سکتے۔ یہی اصل میں بات یہ ہے کہ ورنہ طریقے کے، فرماتے ہیں فیوض و برکات کے راستے بند ہو جائیں گے۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ یہ حضرت کا الفاظ ہیں، ارشاد ہے: "فرمایا، بہت سارے لوگ بند چشموں پہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں پانی رک گیا ہوتا ہے۔ اور اس امید پر وہاں بیٹھے ہوتے ہیں کہ پانی ہمیں ملے گا۔ پانی تو کہیں اور چلا گیا ہوتا ہے۔ کسی اور چشمے سے نکل رہا ہوتا ہے"۔ یہ بات ہے۔

اس وجہ سے ہمیں بہت خیال رکھنا چاہیے آج کل کے دور میں، چونکہ نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کے سامان زوروں پر ہیں۔ بہت پیدا ہوئے ہیں، مسلسل پیدا ہو رہے ہیں۔ چائنہ نے تو حد کر لی، وہ ہر چیز بنانے پہ تلا ہوا ہے، بالکل لگا ہوا ہے۔ اور سستی سے سستی چیزیں بنا رہا ہے۔ اب اگر یہ نفس کو نہیں روکا گیا، تو پھر اس کا راستہ تو کوئی نہیں روک سکتا۔ پھر تو یہ سیلاب ہے، سونامی ہے۔ پھر تو یہ اس کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا۔ اس وجہ سے ہمیں ان تمام باتوں کا خیال کرنا پڑے گا اور ہمیں دوبارہ اپنے حقیقی راستے کی طرف جانا پڑے گا۔ حقیقی راستے کی طرف جانا پڑے گا، جو حقیقی راستہ تھا اصلاح کا۔ اس کی طرف جانا پڑے گا۔ اصول وہی اپنانے پڑیں گے۔ ٹھیک ہے فروع میں فرق آتا ہے۔

جیسے مثال کے طور پر ہمارے دور میں جو ذرائع ہیں وہ مختلف ہو گئے ہیں۔ اب اس وقت میں جو بات کر رہا ہوں، یہ میری بات اس وقت انگلینڈ میں بھی جا رہی ہے، فرانس میں بھی جا رہی ہے، امریکہ میں بھی جا رہی ہے، تو یہ پہلے تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ذرائع بدل گئے ہیں، لیکن اصول تو نہیں بدل سکتے۔ اصول تو اپنی جگہ پہ ہیں۔ دنیا اوپر سے نیچے ہو جائے، نیچے سے اوپر ہو جائے، ان تین چیزوں میں نہ کمی ہوگی نہ اضافہ ہوگا۔

قیامت کے قریب بھی جو انسان پیدا ہوگا، اس کی آنکھیں دو ہوں گی ان شاء اللہ۔ ناک ایک ہوگی۔ یہ چیزیں اللہ پاک نے ایسے بنائی ہیں۔ اس طریقے سے چل رہی ہیں۔ جس کو انسان کہتے ہیں اس کے ساتھ یہی چیزیں ہیں۔

تو دل بھی موجود ہوگا، عقل بھی موجود ہوگا، نفس بھی موجود ہوگا۔ یہ جو قرآن پاک میں جو چیز آ جاتی ہے، اس کو تبدیل تو نہیں کیا جا سکتا۔ «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا» بالکل permanent بات ہے۔ اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اور اس طریقے سے قلب کے بارے میں جو بات ہے، حدیث شریف میں آئی ہے، بالکل وہ بھی پکی بات ہے، اس کو بھی کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ عقل کے بارے میں جو بات ہے، اس کو بھی کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ تو ان کے ساتھ جو طریقے وابستہ ہیں، جس طریقے سے ان سے کام لینا ہے اور پھر اس کا آپس میں جو تعامل ہے، اس چیز کو سمجھنا ہے، پھر ان شاءاللہ العزیز ہم صحیح طریقے پہ جائیں گے۔

دفتر اول مکتوب 268

عبد الرحیم خانِ خاناں؂1 کی طرف صادر فرمایا۔ اس بیان میں کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی وراثت کا علم کون سا ہے؟ اور وہ حدیث "عُلَمَآءُ أُمَّتِیْ کَأَنْبِیَآءِ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ" سے کون سے علماء مراد ہیں؟ اور اس بیان میں کہ ’’علمِ اسرار‘‘ جو انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی وراثت سے باقی رہ گیا ہے، وہ علمِ توحید وجودی کے ان اسرار کے علاوہ ہے جن کے بارے میں اولیائے امت نے کلام کیا ہے، اور احاطہ و سریان اور قرب و معیت اور ان کے مناسب بیان میں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) اس علاقے کے فقرا کے احوال و اطوار شکر کے لائق ہیں۔ وَ الْمَسْئُولُ مِنَ اللّٰهِ سُبْحَانَہٗ سَلَامَتَکُمْ وَ عَافِیَتَکُمْ وَ ثَبَاتَکُمْ وَ اسْتِقَامَتَکُمْ (اور ہم آپ کی سلامتی عافیت، ثابت قدمی اور استقامت کے لئے اللہ سبحانہ سے دعا کرتے ہیں)

چونکہ ’’علمِ وارثت‘‘ کی بحث درمیان میں آگئی ہے اس لئے چند کلمے وقتی ضرورت کی بنا پر تحریر کئے جاتے ہیں: حدیث شریف میں وارد ہے: ''اَلْعُلَمَآءُ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَآءِ"؂2 ترجمہ: ”علماء انبیاء کے وارث ہیں“۔ واضح ہو کہ جو علم انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات سے باقی و جاری ہے دو قسم کا ہے: (ایک ) علمِ احکام (دوسرا) علمِ اسرار۔ (انبیاء کی) وراثت کا عالم (کہلانے کا مستحق) وہی شخص ہو سکتا ہے جو دونوں قسم کے علم سے بہرہ ور ہو، نہ یہ کہ صرف ایک قسم کا علم حاصل ہو اور دوسری قسم سے محروم ہو۔ یہ بات وراثت کے منافی ہے، کیونکہ وارث کو مورث کے ہر قسم کے ترکے میں سے حصہ ملتا ہے، نہ کہ بعض میں حصہ ہو اور بعض میں نہ ہو۔ وہ شخص جس کا حصہ کسی خاص معین تک محدود ہو وہ (وارث نہیں بلکہ) غرماء (قرض خواہ) میں داخل ہے، جس کا حصہ اس کے حق کی جنس سے متعلق ہے، اسی طرح آنحضرت علیہ و علی آلہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا ہے: ''عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَأَنْبِیَآءِ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ" ترجمہ: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں“۔

علماء سے مراد علمائے وارث ہیں نہ کہ غرماء کہ جنہوں نے ترکے کا بعض حصہ لیا کیونکہ وارث کو قرب و جنسیت کی وجہ سے بھی مورث کی مانند کہہ سکتے ہیں بخلاف غریم کے کہ وہ اس تعلق سے خالی ہے، لہذا جو شخص وارث نہیں ہے وہ عالم بھی نہیں ہے، مگر یہ کہ اس کے علم کو ایک نوع کے ساتھ مقید کر دیا جائے اور مثال کے طور پر یوں کہیں کہ وہ علمِ احکام کا عالم ہے۔ عالم مطلق وہ ہے جو وارث ہو اور اس کو دونوں قسم کے علوم سے وافر حصہ حاصل ہو۔ اکثر لوگوں کا یہ گمان ہے کہ علمِ اسرار سے مراد علمِ توحید وجودی ہے، اور کثرت میں شہودِ وحدت اور وحدت میں کثرت کا مشاہدہ ہے، اور احاطہ و سریان کے معارف اور اس تعالیٰ کی قرب و معیت سے کنایہ ہے جس طرح کہ اربابِ احوال کے نزدیک مکشوف و مشہود ہے۔ حاشا و کلّا ثم حاشا و کلّا (ہرگز نہیں پھر ہرگز نہیں) کہ اس قسم کے علوم و معارف ’’علم اسرار‘‘ سے ہوں اور ’’مرتبۂ نبوت‘‘ کے لائق ہوں کیونکہ ان معارف کی بنیاد وقتی سکر اور غلبۂ حال پر ہے جو صحو (ہوش) کے منافی ہے، اور انبیاء علیہم الصلوات و التحیات کا علم، خواہ وہ علمِ احکام ہو یا علمِ اسرار سب کا سب صحو در صحو (اعلیٰ درجہ کا ہوش ) ہے کہ سکر کا ایک شمہ بھی اس میں نہیں ملا ہے۔ بلکہ یہ معارف اس مقامِ ولایت کے مناسب ہیں جو سکر میں قدم راسخ رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ علوم ’’اسرارِ ولایت‘‘ سے متعلق ہیں نہ کہ ’’اسرارِ نبوت انبیاء‘‘ علیہم الصلوات و التسلیمات سے۔ اگرچہ (نبی سے) ولایت بھی ثابت ہے لیکن اس کے احکام مغلوب ہیں اور نبوت کے احکام کے مقابلے میں مضمحل و بے حقیقت ہیں۔

بلے ہر جا شود مہر آشکارا
سُہا را جز نہاں بودن چہ یارا

ترجمہ:

یقینًا ہر جگہ سورج عیاں ہے
سُہا اس واسطے ہوتا نہاں ہے

فقیر نے اپنی کتابوں اور رسالوں میں لکھا ہے اور تحقیق کی ہے کہ ’’کمالاتِ نبوت‘‘ دریائے محیط کا حکم رکھتے ہیں اور ’’کمالاتِ ولایت‘‘ ان کے مقابلے میں ایک حقیر قطرے کی مانند ہیں۔ لیکن کیا کریں، جن لوگوں کو ’’کمالاتِ نبوت‘‘ تک رسائی نہیں ہے انہوں نے کہا: ''اَْلوَلَایَۃُ أَفْضَلُ مِنَ النُّبُوَّۃِ'' (ولایت نبوت سے افضل ہے) اور ایک جماعت نے اس کی توجیہ میں کہا ہے نبی کی ولایت اس کی نبوت سے افضل ہے۔ ان دونوں گروہوں نے نبوت کی حقیقت کو نہ سمجھا اور غائب پر حکم کیا ہے ۔ صحو پر سکر کو ترجیح دینے کا حکم بھی اسی حکم کی طرح ہے، اگر صحو کی حقیقت کو جان لیتے تو ہرگز سکر کو صحو کے ساتھ نسبت نہ دیتے۔

چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک

ترجمہ:

کہاں خاک اور کہاں عالمِ پاک

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تشریح بڑی عجیب عنوان سے کی ہے۔ فرمایا انگریز شراب کے نشے میں لڑتا ہے۔ پٹھان بغیر نشے کے لڑتا ہے۔ کون بہادر ہے؟ کون بہادر ہے؟ ظاہر ہے جو بغیر نشے کے بغیر ہے کیوں کہ اس کو نشے کی حاجت ہی نہیں۔ وہ صحو بلکہ باقاعدہ وہ۔

واقعتا میں آپ کو کیا بتاؤں؟ ہوش قائم رکھ کے اور پھر خوف نہ ہو اور پھر وہ کام کرے، تین باتیں ہیں۔ ہوش قائم ہو، خوف نہ ہو، اور وہ کام کرے۔ تینوں کام جب پورے ہو جائیں یہ کمال ہے۔ یہ کمال ہے۔

کیونکہ ہوش قائم نہ ہو اس میں انسان کچھ کمالات دکھا سکتا ہے۔ اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ میرے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ لہذا کوئی بات نہیں اگر کچھ کام اور بعض دفعہ۔۔۔ کسی کو خوف نہیں ہوتا لیکن کام وہ نہیں کر پاتا تو یہ تینوں باتیں اکٹھی ہو جائیں پھر کام ہوتا ہے۔

تو یہاں پر بھی بات ہے کہ انبیاء کرام وہ ہوش کی حالت میں ہوتے ہیں اور ہر چیز جانتے ہیں، ہر چیز سمجھتے ہیں، لیکن اپنے آپ کے اوپر ان کا ایسا قابو ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کا حق ادا کرتے ہیں۔ جس طریقے سے کام ہونا ہوتا ہے، اور جو انبیاء کرام کے طرز پر ہوتے ہیں ان کا بھی یہی کام ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے اپ یعنی بے ہوشی میں نہیں جانے دیتے۔

شاید ان لوگوں نے خواص کے صحو کو عوام کے صحو کی مانند سمجھ کر سُکر کو اس پر ترجیح دی ہے۔ کاش کہ خواص کے سکر کو بھی عوام کے سکر کی طرح سمجھتے اور اس حکم کی جرأت نہ کرتے، کیونکہ علماء کے نزدیک یہ بات ثابت و مقرر ہے کہ صحو، سکر سے بہتر ہے۔ اگر صحو و سکر مجازی ہے تو بھی یہ حکم ثابت ہے اور اگر حقیقی ہے تب بھی یہ حکم ثابت ہے۔ ولایت کو نبوت سے افضل کہنے اور سُکر کو صحو پر ترجیح دینے کا حکم ایسا ہی ہے جیسے کوئی کفر کو اسلام پر ترجیح دے اور جہل کو علم سے بہتر جانے، کیونکہ کفر و جہل ’’مقامِ ولایت‘‘ کے مناسب ہے، اور اسلام و معرفت ’’مرتبۂ نبوت‘‘ کے مناسب ہے۔ منصور کہتا ہے۔ شعر

کَفَرْتُ بِدِینِ اللہِ وَ الْکُفْرُ وَاجِبٌ
لَدَیَّ وَ عِنْدَ المُسْلِمینَ قَبِیْحُ

ترجمہ:

دین کو چھوڑا کفر واقع ہو گیا
اور مسلماں اس کو کہتے ہیں قبیح

اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہِ و سلم کفر سے پناہ مانگتے؂3 ہیں: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾ (بنی اسرائیل: 84) ترجمہ: ”کہہ دو کہ: ہر شخص اپنے اپنے طریقے پر کام کر رہا ہے“۔ چنانچہ جس طرح عالمِ مجاز میں اسلام کفر سے بہتر ہے اسی طرح حقیقت میں بھی اسلام کو کفر سے بہتر جاننا چاہیے۔ فَإِنَّ الْمَجَازَ قِنْطَرَۃُ الْحَقِیْقَۃِ (تحقیق مجاز حقیقت کا پل ہے)

اگر کہا جائے کہ مقامِ ولایت میں جس طرح کہ مرتبۂ جمع میں کفر، سکر اور جہل ثابت ہے اس طرح مرتبۂ فرق بعد الجمع میں اسلامؔ ، صحوؔ اور معرفت بھی متحقق و ثابت ہے، لہٰذا کفر و سکر و جہل کو ولایت کے مقام کے مناسب کہنے کے کیا معنی ہوں گے؟ ہم کہتے ہیں کہ صحو وغیرہ کو مرتبۂ فرق میں ثابت کرنا مرتبۂ جمع کی نسبت سے ہے جو سراسر سکر و استتار (پوشیدہ) ہے ورنہ اس مرتبہ میں صحو بھی سکر کے ساتھ ملا ہوا ہے اور اس کا اسلام کفر سے خلط ملط ہے اور اس کی معرفت جہل کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اگر فقیر کتابت میں گنجائش سمجھتا تو مرتبۂ فرق کے احوال و معارف کو تفصیل سے ذکر کرتا، اور اس مرتبے میں سکر وغیرہ کے اختلاط اور اس کی مانند کو بیان کرتا۔ سمجھ دار لوگ شاید اپنی فراست کی بنا پر اس معانی کی باریکی کو سمجھ لیں۔ اَلْعَجَبُ کُلُّ العَجَبِ (تعجب ہی تعجب ہے)۔

پس اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو یہ تمام بزرگی اور بڑائی نبوت کی وجہ سے حاصل ہے نہ کہ ولایت کی وجہ سے، اور ولایت نبوت کے لئے ایک خادم سے زیادہ نہیں ہے۔

بلکہ میں عرض کروں کہ "حال" اور "مقام"، تو ظاہر ہے حال ہوتا ہے مقام کے لیے نا؟ حال ہوتا ہے مقام کے لیے۔ لہٰذا اصل مطلوب تو مقام ہے۔ مطلوب تو مقام ہے. مقام تک آپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، کسی چیز تک آپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو یہ جو بات ہے کہ جو چیزیں ذریعہ بن جاتی ہیں لیکن بعد میں وہ مطلوب نہیں ہوتیں۔ ذریعہ بن سکتا ہے لیکن مطلوب نہیں ہوتا۔ تو اس ذریعے کے ساتھ آپ چمٹ جائیں کہ مجھے ہر وقت یہی چیز حاصل ہو تو یہ تو بڑی عجیب بات ہوگی۔ اصل تو مقام ہے کیونکہ آپ اسی کے لیے ذریعے کو اختیار کر رہے ہیں۔

پس اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو یہ تمام بزرگی اور بڑائی نبوت کی وجہ سے حاصل ہے نہ کہ ولایت کی وجہ سے،

اصل میں اللہ جل شانہ کی معرفت حاصل ہو جانا، اللہ تعالیٰ کی طرف جانا اور اس حد تک جانا کہ انسان اپنے آپ کو بھول جائے، فنائیت اختیار کر لے، یہ تو "جمع" ہے۔ پھر اس کے بعد وہ واپس مخلوق کی طرف آتا ہے، یہ "فرق" ہے۔ تو وہ یہ والی بات ہے کہ انبیاء کا جو کام ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ کے حکم سے آتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ تو ظاہر ہے یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے مامور ہوتے ہیں، لہٰذا عین اس حکم میں بھی کہ ان کا رخ مخلوق کی طرف ہوتا ہے، وہ بھی خالق کی طرف ہوتا ہے۔

اس وجہ سے حضرت نے ایک اصطلاح نکالی تھی نئی، وہ اصطلاح سمجھانے کے لیے نکالی تھی، جیسے "وحدت الشہود" ایک اصطلاح ہے نا سمجھانے کے لیے نکالی تھی، اس طرح "خلوت در انجمن" بھی نکالی تھی۔ خلوت در انجمن اسی کو کہتے ہیں کہ ہو لوگوں کے درمیان لیکن ہو اللہ کے ساتھ۔ لوگوں کے درمیان ہو کر لوگوں کا نہ ہو۔ تو یہ کونسی بات ہے؟ کیا یہ سکر سے ہو سکتا ہے؟ یہ سکر کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ سکر میں آپ لوگوں سے فارغ ہو جائیں گے بلکہ اپنے آپ سے بھی فارغ ہو جائیں گے، تو اس میں تو آپ اپنے فرائض پورے نہیں کر سکتے۔ جب صحو میں آئیں گے تو لوگوں کے درمیان ہوں گے لیکن لوگوں کے ساتھ آپ کی Attachment بالکل نہ ہو، آپ کی Attachment اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ اب یہ کمال کی بات ہے۔ یہ کمال کی بات ہے کہ لوگوں کے درمیان رہ کر لوگوں میں نہ ہو۔

حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ جا رہے تھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور لطیفوں پہ لطیفے سنا رہے تھے۔ اور لوگ ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ جب اپنی جگہ پہ پہنچ گئے تو ساتھیوں سے کہا آپ میں سے کوئی غافل ہوا تھا؟ تو سب نے کہا حضرت ہم تو سب غافل ہوئے تھے۔ فرمایا الحمدللہ میں غافل نہیں ہوا تھا۔ اب سب کو ہنسا رہے ہیں، لیکن وہ غافل نہیں ہیں۔ کیونکہ assignment ہے۔

میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ بچوں کے ساتھ بڑوں جیسی باتیں کرنا کیسا ہے؟ بچوں کے ساتھ بڑوں جیسی باتیں کرنا کیسا ہے؟ کام نہیں ہو سکتا، بچوں کے ساتھ تو بچوں کی طرح کی جو جسے بچے سمجھے، وہی باتیں کرنی پڑیں گی نا۔

اب آپ بچہ نہیں ہیں، لیکن بچہ بن رہے ہیں، لیکن یہ جو بچہ بننا ہے، یہ اختیار کے ساتھ ہے۔ کیونکہ آپ کا اِس سے اس کو فائدہ ہو رہا ہے اختیار کے ساتھ ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ آپ کے مقام پہ نہیں ہوتے۔ لیکن آپ کی طرح ہو جاتے ہیں، یہی تو ان کا کمال ہے۔ یہی تو ان کا کمال ہے کہ آپ کی طرح نہیں ہیں، لیکن آپ کی طرح ہو جاتے ہیں۔ تو حضرت نے یہی فرمایا کہ لوگ دیکھیں لطیفوں کے شائقین تھے۔ تو لطیفوں پہ لطیفے سنا رہے تھے لیکن خود لطیفوں میں شامل نہیں تھے۔ لطیفوں میں خود شامل نہیں تھے۔

ایک بزرگ تھے، یہ ماشاءاللہ فوج سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ تو وہ نوجوانوں کے ساتھ والی بال کھیل رہے تھے۔ اور اسی میں ان کے ساتھ، لعب و رسم بنا لیتے اور ان کی تربیت وغیرہ کرتے ہیں۔ اب سارے مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ ان جیسا معاملہ کرنا ہوتا ہے نا جس طریقے سے کرنا ہوتا ہے۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ چونکہ یونیورسٹی میں تھے۔ تو یونیورسٹی میں ہونے کی وجہ سے اسٹوڈنٹس کو جس طریقے سے handle کرنا ہوتا ہے اس طریقے پہ کام کرتے تھے۔ ان کے ساتھ گپ شپ لگانا، لطیفے سنانا، ان سے سننا، یہ سارا اس طرح ہوتا رہتا تھا۔

اور ڈاکٹر فدا صاحب کی شادی تھی تو ڈڈیال ہم گئے تھے۔ تو ایک بہت ہی سخت متشدد قسم کا آدمی بھی ہمارے ساتھ تھا۔ تو حضرت کی مجلس میں تو زعفران زار مجلس تھی۔ تو غصے سے باہر آ گئے، وہ کہتے ہیں کیسے پیر ہیں، خود بھی ہنستے ہیں دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں، یہ کون سی پیری ہے؟ میں نے کہا حمزہ خان خیال رکھو ہر جگہ آپ کی باتیں نہیں چلیں گی۔ پھر میں نے اس سے پوچھا، میں نے کہا دیکھو حضرت کے پاس جو لوگ بیٹھے ہیں یہ کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ ہیں۔ اور دنیا کی ہر بدمعاشی کر سکتے ہیں۔ صاحب ثروت ہیں، صاحب قلم ہیں، صاحب اختیار ہیں۔ جس رخ پہ بھی چلے جائیں تو جا سکتے ہیں، اسباب کے دائرے میں۔ اگر حضرت نے ان کو چند لطیفوں پر ٹرخا کے اپنے ساتھ بٹھایا اور ان چیزوں سے ہٹایا، تو اچھا کام کیا یا برا؟ خاموش ہو گئے۔

پھر ایک دن میں گیا ہوں ان کے کمرے میں، مجھے بدعتی کہتے تھے۔ میں ان کے نزدیک بدعتی تھا۔ اور محبت اتنا کرتے تھے کہ اگر میں کمرے میں اگر نہ جاتا پھر لڑائی ہوتی۔ اور تھا بدعتی۔ خیر ایک دن میں گیا ہوں، مجھے کہتے ہیں یہ ڈاکٹر فدا صاحب مجھے کیوں مولانا صاحب کے پاس نہیں لے جاتا؟ میں نے کہا کیونکہ تمہارے پیر نہیں ہیں، تم خود نہیں جا سکتے۔ کہتے ہیں جا سکتا ہوں، میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کمال ہے، جب بھی سوتا ہوں مولانا صاحب حاضر، جب بھی سوتا ہوں مولانا صاحب حاضر، یہ مجھے تب چھوڑیں گے جب مجھے بیعت کریں۔

میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا میں نے کہا ڈاکٹر صاحب ان کو کیوں نہیں لے جاتے مولانا صاحب کے پاس؟ کہتے ہیں چھیڑ خانی کرتا ہے۔ کہتا ہے بیعت کرنا چاہتا ہوں، یہ کہاں بیعت کرتا ہے؟ مذاق کرتا ہے۔ میں نے کہا نہیں سچ کہتا ہے۔ کہتے اچھا؟ میں نے کہا ہاں سچ کہتا ہے۔ کہتے ہیں پھر ابھی چلو لے چلتے ہیں۔ ان سے کہا چلو اٹھو بھائی چلتے ہیں۔ اتنی دیر میں کسی کام کے لیے اندر چلے گئے تھوڑی دیر لگائی کہتے ہیں دیکھو ان کا یہ حال ہے، ابھی کہاں ہے؟ خیر بہرحال وہ ڈاکٹر صاحب آ گئے ان کو ہم لے گئے۔ مولانا صاحب اشراق کی نماز کے بعد بیٹھ کر خطوط کے جوابات لکھوا رہے تھے۔ تو ہم اندر دونوں چلے گئے اور ڈاکٹر صاحب نے باہر سے چہرہ اندر کر کے کہا، مولانا صاحب یہ پنج پیری لایا ہوں اس کو یک پیری بنا دے۔ مولانا صاحب نے کہا اچھا بیٹھ جاؤ۔ بیٹھ گئے۔ بہرحال تھوڑی دیر کے بعد جب فارغ ہو گئے اشراق کی نماز پڑھ لی، تو فرمایا آؤ حمزہ خان پانچ پیر تو پہلے سے تمہارے ہیں اب میں چھٹا ہو جاؤں گا، وہاں پر بھی مزاق! پھر تو ان کا یہ حال ہو گیا سبحان اللہ کہ مولانا صاحب کے بغیر جی نہیں سکتے تھے۔ تو یہ مطلب، طریقہ ہے نا یہ محبت والا طریقہ ہے، یہ ہر ایک کو تو نہیں آتا۔ ہر ایک کو تو نہیں آتا۔

تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ ایسے لوگوں کی بات سمجھنا بڑا مشکل ہے۔

«العجب کل العجب»۔ پس اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو یہ تمام بزرگی اور بڑائی نبوت کی وجہ سے حاصل ہے نہ کہ ولایت کی وجہ سے، اور ولایت نبوت کے لئے ایک خادم سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر ولایت کو نبوت پر فضیلت حاصل ہوتی تو ملائکۂ ملاءِ اعلیٰ جن کی ولایت تمام ولایات سے اکمل درجہ کی ہے، تمام انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات سے افضل ہوتے۔ (صوفیہ کی) جماعت میں سے ایک گروہ نے جب ولایت کو نبوت سے افضل جان کر ملاء اعلیٰ کی ولایت کو انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی ولایت سے اکمل خیال کیا تو لازمًا ملائکہ علیین کو انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات سے افضل قرار دے دیا اور جمہور اہلِ سنت سے علیحدہ ہو گئے۔

یہ سب کچھ ان سے نبوت کی حقیت پر عدم واقفیت کی وجہ سے ہے۔ چونکہ لوگوں کی نظر میں عہدِ نبوت کی دوری کی وجہ سے کمالاتِ نبوت، ولایت کے کمالات کے سامنے حقیر (کم درجہ) معلوم ہوتے ہیں اس لئے (اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے فقیر نے) مجبورًا گفتگو کو طول دیا اور حقیقتِ معاملہ کو تھوڑا سا ظاہر کر دیا۔

اصل میں فرض ہے نا فرض، تھوڑے ہیں۔ فرض، تھوڑے ہیں نوافل زیادہ ہیں۔ نوافل میں بھی دو قسم کے ہیں، ایک تو جو سنن مؤکدہ ہیں، مطلب اس کو تو کرنا ہی کرنا ہے۔ تو وہ بھی فرائض کی تعداد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ تو پھر باقی نوافل بھی سمجھ لو، لیکن یہ سارے نوافل کو ملا دو تو فرضوں تک تو نہیں پہنچ سکتے۔ تو اسی طریقے سے یہ جو کمالات ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے متعین ہیں طے ہو چکے ہیں، ان کو حاصل کرنا یہ تو سب سے اول درجے کی بات ہے۔ اس کے بعد جس میں اختیار دیا گیا ہے کہ آپ کریں نہ کریں، تو ان کی بات پھر الگ ہے۔ ان کی بات پھر الگ ہے۔ تو کیا خیال ہے؟

عینک ایک ضرورت ہے بعض ملک کے لیے اور بعض کے لیے کہ جیسے sun glasses ایک protection ہے۔ تو یہ آنکھ کے لیے ہے نا، تو آنکھ ہی نہ ہو تو عینک کیا کرے گی؟ بنیاد ہے۔ اور یہ اس کے ساتھ اضافی چیز ہے۔ تو اضافی چیزوں کی الگ بات ہوتی ہے، جو بنیادی چیزیں ہوتی ہیں، مستقل چیزیں ہوتی ہیں ان کی الگ بات ہوتی ہے۔

تو یہاں پر

﴿رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ إِسۡرَافَنَا فِىۡۤ أَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ‏﴾۔ اے پروردگار ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کاموں میں جو ہم سے زیادتی ہوئی ہے ان کو بھی بخش دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر ہماری مدد فرما۔ ااخوی ارشدی میاں شیخ داؤد چونکہ اس طرف جانے والے تھے اس لئے وہی اس تکلیف (عریضہ پہنچانے) کے باعث ہوئے ہیں۔ و السلام

اللہ پاک ہم سب کو حضرت کی برکت سے، حضرت کے فیوض و برکات نصیب فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ۔