ماہِ ربیع الاول کے تقاضے: حبِ رسول ﷺ، کثرتِ درود و سلام اور رسومات سے اجتناب
خواتین کے لیے اصلاحی بیان
- ربیع الاول کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد اور وابستگی اللہ تعالیٰ سے فیض پانے کا سب سے بڑا نظام ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد منانے کے لیے دو کام سب سے زیادہ مفید ہیں: درود شریف کی کثرت اور سنتوں کی مکمل اتباع۔
- دین میں مستحب اعمال کی ترغیب دی جا سکتی ہے لیکن انہیں واجب سمجھنا یا نہ کرنے والوں پر ناراضگی کا اظہار کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
- صحابہ کرام اور خیر القرون سے ربیع الاول میں کوئی خاص دن منانا ثابت نہیں، لہٰذا دین میں نئی اصطلاحات اور رسومات ایجاد کرنے سے بچنا چاہیے۔
- دین مقررہ اعمال کا نام ہے رسومات کا نہیں؛ مساجد میں نماز کے دوران شور یا لاؤڈ سپیکر کا بے جا استعمال تخریب فی الصلاۃ کے زمرے میں آتا ہے۔
- درود شریف پڑھنے کا عمل خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت پر مبنی ہونا چاہیے۔
- درود شریف کی کثرت کے لیے کوئی ذاتی ہدف، نظام یا وقت مقرر کر لینا استقامت کے حصول کے لیے ایک جائز اور مفید عمل ہے۔
- گھروں میں اجتماعی طور پر درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، دل آپس میں جڑتے ہیں اور گھریلو مسائل حل ہوتے ہیں۔
- جو شخص ایک مرتبہ خلوصِ نیت سے درود پاک پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔
- گناہوں کی کثرت کے باعث پیدا ہونے والے عذابات کے اندیشے کو ٹالنے کے لیے کثرتِ استغفار اور درود شریف بہترین قرآنی ڈھال ہیں۔
- درود شریف دور سے پڑھا جائے تو فرشتوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے اور قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سنتے ہیں۔
- اکابرین اور صلحاء کے تجربات شاہد ہیں کہ درود شریف کی پابندی دنیاوی حاجات کی تکمیل اور اخروی درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
- درود شریف کی اہمیت و فضیلت ثابت کرنے کے لیے واقعات اور خوابوں سے بڑھ کر قرآن مجید کی واضح آیات اور صحیح احادیث قطعی دلیل ہیں۔
- انسان جتنا زیادہ اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے، بارگاہ الٰہی اور نبوی میں اسے اتنا ہی یاد رکھا جاتا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔ معزز خواتین و حضرات!
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ حقائق وابستہ ہیں اور کچھ تعلیمات بھی جاننا ضروری ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ اسی مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے ہیں، اسی مہینے میں دنیا سے تشریف لے گئے ہیں، اسی مہینے میں ہجرت فرمائی ہے۔ اور اسی مہینے میں ہجرت مکمل ہوئی ہے، یہ چاروں کام ربیع الاول میں ہوئے ہیں اور چاروں کام پیر کے دن ہوئے ہیں۔ تو ظاہر ہے اللہ پاک کے تکوینی امور میں اپنی حکمتیں تو ہوتی ہیں۔
READING A: تو اس وجہ سے اللہ جل شانہ نے جو اس کے اندر رکھا ہے اس کی برکات ہیں۔ سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آتی رہتی ہے، مختلف وجوہات سے، مختلف باتوں سے، یاد آتی رہتی ہے۔
ایک چیز ہوا کرتی ہے تصوف میں جس کو تصور شیخ کہتے ہیں، اور اس کو صحبت کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔ کہ گویا کہ آپ ان کی صحبت میں ہیں، یہ ایک term استعمال ہوتا رہا ہے۔ اب چونکہ لوگوں میں تمام چیزوں کا صحیح صحیح رکھنے کا وہ نہیں رہا، لہٰذا ہمارے علمائے کرام اور مشائخ فرماتے ہیں اگر خود سے ہونے لگے تو روکو نہیں اور ویسے کرو نہیں۔ کیونکہ لوگ پھر اس کو دوسری طرف لے جاتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے اللہ پاک سے لینے کا جو سب سے بڑا نظام ہے وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستگی ہے، یعنی اللہ جل شانہ سے لینے کا سب سے بڑا نظام جو ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستگی ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یاد آنا یہ معمولی بات نہیں ہے، اگر تصور شیخ سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور سے کیوں فائدہ نہیں ہوتا ہوگا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ذریعے سے ایسا حاصل کیا جائے کہ اس میں کوئی غلطی کی گنجائش نہ ہو اور اس میں فائدہ ہی فائدہ ہو، اس کے لیے یہ ساری باتیں ہمیں سوچنی پڑیں گی۔
اگر ہم لوگ کسی خاص چیز کو جو شرعاً مطلوب نہیں ہے، لازم کر لیں تو یہ اس میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ مستحب امر جو ایک دینی چیز ہوتی ہے، اس کو بھی اگر ہم واجب سمجھنے لگیں تو اس کا ترک واجب ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس کو واجب سمجھنے لگیں تو اس کا ترک واجب ہو جاتا ہے، تو چہ جائیکہ وہ مستحب نہ ہو۔ لیکن ویسے اگر کوئی کر لے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ اس وقت ہوتا ہے کہ اس کو واجب نہ سمجھیں۔ اور سب سے بڑی اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی نہ کرے تو اس پر نکیر نہ ہو۔ اگر کوئی نہ کرے تو اس پر نکیر نہ ہو، مثلاً میں دو کروڑ مرتبہ ربیع الاول کے مہینے میں درود پاک پڑھتا ہوں، اس سے آپ کو کوئی نہیں روکتا۔ کیونکہ درود پاک کا حکم عام ہے، ﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾۔ یہ نہیں فرمایا کہ فلاں مہینے میں پڑھو، فلاں مہینے میں نہ پڑھو۔ اب کسی ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے دے تو سبحان اللہ! بہت اچھی بات ہے، کس نے آپ کو روکا ہے؟
لیکن اگر کوئی اس میں درود پاک نہیں پڑھتا، صرف فرض نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، حج مطلب یہ کہ ساری چیزیں کرتا ہے لیکن ایک مرتبہ بھی درود شریف نہیں پڑھتا، آپ اس پر نکیر نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مستحب امر ہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک اگر آیا اس کے سامنے تو ایک مرتبہ کم از کم واجب ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کم از کم ایک دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا واجب ہے، وہ تو کرے گا۔ لیکن اس کے بعد پھر مستحب ہے، تو کوئی نہیں کرتا تو ہم اس سے ناراض نہیں ہوں گے۔ بس وہ صرف اپنے آپ کو محروم کر رہا ہے نا۔ ایک بڑی نعمت سے محروم کر رہا ہے۔ تو ٹھیک ہے اس کو اختیار ہے۔ اللہ پاک نے اگر اختیار دیا تو ہم اس سے اختیار تو واپس نہیں لے سکتے۔
تو وہ یہ ہے کہ ہاں ترغیب ہم دے سکتے ہیں۔ ترغیب ہم مستحب کی بھی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز انسان اپنے لیے پسند کرتا ہے تو اسے اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی پسند کرتا ہے۔ تو لہٰذا ترغیب میں ممانعت نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا جیسے واجب سے ہو وہ نہیں، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی ایک لازمی شرط یہ ہے کہ اگر کوئی نہ کرے تو اس سے کوئی ناراضگی نہ ہو۔ ان کو کم نہ سمجھا جائے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ بعض دوسرے اعمال کی وجہ سے ہم سے زیادہ ہوں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کو پتا ہے۔
اب یہ اصولی باتیں ہیں جو طے ہو گئیں۔ اب اس کے بعد اگر ہم پورا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کی وجہ سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے درود شریف میں گزار دیں تو اس سے نیک کام اور کیا ہو سکتا ہے۔ تو بہت اچھا کام ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، نہ ممانعت ہے۔ ہم ایک عام حکم کے اوپر عمل کر رہے ہیں۔ بس یہ والی بات ہے کہ چونکہ یاد آ گیا تو یاد آ گیا تو محبت تو ہے۔ تو جس کے ساتھ محبت ہو جو وہ یاد آ جائے تو اس کا تذکرہ تو ہوتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یاد آنا اس میں دو کاموں کا ہونا بہت زیادہ مفید ہوتا ہے، ایک درود شریف کی کثرت اور دوسرا اتباع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع۔ یہ دو چیزیں بہت ہی زیادہ مفید ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔
کچھ لوگوں نے اس میں اپنی طرف سے ایک چیزیں بنائی ہیں۔ اور چونکہ وہ چیزیں دین میں نہیں ہیں اور اب دین میں سمجھی جانے لگی ہیں تو اس کو روکا جائے گا۔ اس کو روکا جائے گا۔ مثلاً صحابہ کرام سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی عاشق نہیں تھے۔ ان سے زیادہ تو کوئی عاشق نہیں تھے۔ لہٰذا جو کام وہ کر سکتے تھے اور نہیں کیا اب اگر کوئی اس کو دین سمجھ کر کرے گا تو پھر ذمہ داری اس کی ان کی اپنی ہے۔ مثلاً ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جتنی محبت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، عمر رضی اللہ عنہ کو، عثمان رضی اللہ عنہ کو، علی رضی اللہ عنہ کو، یہ چاروں خلفاء راشدین گزرے۔ کہیں پر بھی نہ 12 ربیع الاول منایا گیا ہے نہ 9 ربیع الاول منایا گیا ہے نہ کوئی اور دن منایا گیا ہے۔ کہیں پر بھی یہ ثابت نہیں ہے۔ پھر صحابہ کرام کا پورا دور گزر جاتا ہے کسی نے بھی نہیں منایا۔ پھر تابعین کا پورا دور گزر جاتا ہے کسی نے بھی نہیں منایا۔ پھر تبع تابعین کا دور گزر گیا پھر بھی کبھی نہیں۔ تو انہی تین دوروں کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نا۔ خَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ۔ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد ہے پھر اس کے بعد ہے۔ تو ان تین ادوار میں جو کام نہیں ہوا تو اس کے بعد تو فتنہ ہی فتنہ ہے نا۔ اس کے بعد تو فتنہ ہی فتنہ ہے۔ تو فتنوں کے دور میں اگر کام شروع ہوا ہے دین کی نیت سے اور وہ دین نہیں ہے تو پھر کام خراب ہے۔ تو ظاہر ہے ان کے ساتھ ہم نہیں ہو سکتے۔
اب کیا ہے مثلاً کہتے ہیں ایک دفعہ اگر اصول کو کوئی کراس کر دے۔ پھر اس کے بعد ان کو کسی طریقے سے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اب اصول کیا ہے؟ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَاَصْحَابِيْ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَاَصْحَابِيْ، جس پر میں ہوں اور جس پر میرے صحابہ ہیں۔ اصول یہ ہے۔ اب اگر یہ اصول کسی نے چھوڑ دیا اور اپنی طرف سے مرضی کرنی شروع کر لی۔ تو اس کے بعد پھر آپ کس کو کیسے روک سکتے ہیں؟ پھر آپ کس کو نہیں روک سکتے۔
تو اب یہ ہے کہ 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی منایا جانے لگا مثلاً۔ اس کو عید کہا گیا۔ حالانکہ عید کہنا، عید ایک دینی اصطلاح ہے۔ یہ کوئی دنیاوی نہیں ہے۔ عید دینی اصطلاح ہے۔ تو آپ کو یہ اجازت نہیں ہے کہ آپ اپنی طرف سے کوئی دینی اصطلاح ایجاد کر لیں۔ جیسے میں نماز کے اندر تین سجدے نہیں کر سکتا ایک رکعت میں۔ حالانکہ سجدہ نماز میں بہترین عمل ہوتا ہے۔ لیکن میں تیسرا سجدہ نہیں کر سکتا۔ کیوں نہیں کر سکتا؟ ہمیں نہیں، ہمیں اجازت نہیں، ہم نہیں کر سکتے، ہماری پوزیشن نہیں ہے۔ نماز ہی ساری خراب ہو جائے گی۔ تو عین اسی طریقے سے عید دو ہیں۔ عیدیں دو ہیں جس میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ تو اب یہ والی بات ہے کہ اب لوگوں نے باقاعدہ نماز بھی پڑھنی شروع کر دی۔ کچھ لوگوں نے یہاں تک۔
اور عجیب و غریب رسمیں روز بروز بڑھتی ہیں۔ اور اس کا سارا معاملہ عوام کالانعام کے ہاتھ ہوتا ہے۔ جو مرضی کرے۔ مثلاً میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ اس کو میں کیا کہوں؟ مطلب کس کھاتے میں ڈالوں؟ کہ بازار میں سٹال بنے ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے۔ اور اس پر مقررین جو اکثر بچے ہوتے ہیں، کھڑے ہوتے ہیں اور چیخ چیخ کر بول رہے ہوتے ہیں۔ یا چیخ چیخ کر نعتیں پڑھی جا رہی ہوتی ہیں۔ اور کوئی سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ ادھر سے بھی آواز ادھر سے بھی آواز، سارا ایک بے ہنگم شور بن جاتا ہے۔ مجھے بتاؤ اس سے کیا کرنا چاہتے ہیں آپ؟ کیا فائدہ ہے؟ نقصان ہی کر رہے ہیں نا۔ دین کا مذاق اڑوا رہے ہیں۔ تو ایک تو یہ صورتحال۔
اور بچوں کو، چونکہ بڑے تو اس کے لیے آئیں گے نہیں، اور بچوں کو تو شغل میلہ چاہیے ہوتا ہے۔ ان کو تو اس میں مزہ ہے۔ اور پھر ان کو آپ کپ بھی دینے لگیں۔ پھر تو کہتے ہیں ہمارے پشتو میں کہتے ہیں ایک تو بندر اور دوسرا اس کے پیر میں گھنگرو ڈال دیے۔ تو پھر اس کے بعد اس کے، ان سے کیا آپ توقع رکھ سکتے ہیں؟ تو ظاہر ہے بچوں کو آپ اس طرح کریں گے تو پھر تو اس طرح ہوگا۔ اب بچے ادھر بھی جا کر نعتیں پڑھ رہے ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں، ادھر سے کپ لے کر پھر دوسرے سٹال میں چلے جاتے ہیں۔ ادھر سے لے کے ادھر آ جاتے ہیں۔ اور ایک عجیب سا معاملہ شروع ہوتا ہے۔
ایک تو یہ والی بات ہے۔ دوسرا یہ والی بات ہے کہ پاس ہی مسجد ہوتی ہے۔ نماز پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اور نماز کے دوران وہ چیزیں روکتے بھی نہیں۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں تخریب، تخریب فی الصلاۃ میں آتی ہے۔ یعنی نماز کو خراب کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ میں اگر مسجد کے اندر نماز کے وقت میں نعت پڑھنا شروع کر لوں، اس کو لوگ کیا کہیں گے؟ میں اونچی اونچی آواز سے قرآن پڑھنا شروع کر لوں، اس کو لوگ کیا کہیں گے؟ مجھے لوگ کرنے دیں گے؟ اب تو آپ چلو جی آپ تو مسجد میں نہیں کر سکتے نا۔ لیکن لاؤڈ سپیکر پر جو آپ نے باہر سے لگایا وہ مسجد میں آواز ایسی جا رہی ہے جیسے مسجد میں ہو۔ تو آپ نے مسجد میں کر دیا نا۔ یہ جو چیزیں ہیں ظاہر ہے قابل گرفت ہیں۔ ان سے روکنا ضروری ہے۔
تو یہ رسمی باتیں۔ دین ہمارا رسم نہیں ہے۔ دین میں تو اعمال ہوتے ہیں۔ رسومات نہیں ہوتیں۔ دین میں اعمال ہوتے ہیں۔ تو جو اعمال مقرر ہیں، مثلاً درود شریف عمل ہے۔ یہ رسم نہیں ہے۔ آپ ہزار مرتبہ پڑھ لیں، دو ہزار مرتبہ پڑھیں، ایک لاکھ مرتبہ پڑھیں، ایک کروڑ مرتبہ پڑھ لیں، یہ سارا عمل ہے۔
بس اس میں صرف ایک بات ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ لہٰذا نیت میں اس میں اللہ کی رضا ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو۔ بس۔ یہ بات کافی ہے۔ اگر آپ کسی کو خوش کرنے کے لیے درود پڑھ رہے ہیں، اور کو، تو نیت صحیح نہیں ہے۔ یہ نیت صحیح نہیں ہے۔ تو اس سے آپ کو نقصان ہوگا۔ تو نیت بھی درست کرنی پڑے گی، اور عمل بھی صحیح کرنا پڑے گا۔ تو عمل تو اچھا ہے۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کے ساتھ عمل تو یہ اچھا ہے۔ اور یہ بھی بات ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا ﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾۔ تو اس لحاظ سے عمل بھی بہت اچھا ہے۔ بس اس کو اچھے طریقے سے کرنا چاہیے۔
مجھے کل ایک خاتون کا فون آیا۔ ماشاءاللہ، بہت ہی مصروف خاتون ہے۔ اکیلی بھی ہے، مصروفیت زیادہ ہے۔ اس نے کہا کہ آپ کا پیغام مجھے پہنچ گیا درود شریف کے بارے میں۔ میں درود شریف پڑھنا چاہتی ہوں، لیکن میں کام میں لگی رہتی ہوں۔ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں کہ جیسے تعداد کا میں اندازہ لگاؤں کہ ایک منٹ میں کتنا مرتبہ میں پڑھ سکتی ہوں؟ تو پھر میں وقت کے لحاظ سے اس کا حساب کروں؟ کیونکہ جب میں کام کر رہی ہوں تو ظاہر ہے میرے ہاتھ تو بند ہوں گے۔ تو میں تو گن نہیں سکوں گی۔ تو کیا ایسا ٹھیک ہے؟ میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔ کیونکہ اس میں تعداد مطلوب ہی نہیں ہے۔ یہ تو ہم نے صرف ایک حرکت دینے کے لیے ایک بنایا ہوا نظام۔ یہ کوئی لازمی نہیں ہے کہ آپ نے سوا لاکھ مرتبہ ہی پڑھنا ہے۔ آپ دو لاکھ مرتبہ پڑھ لیں۔ آپ کو کس نے روکا ہے؟ لیکن یہ والی یہ الگ بات ہے کہ کوئی نظام ایسا کر لو جس سے کم از کم کچھ کر سکے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے میں اس طرح کروں گی۔ بس، یہی بات ہے۔
تو اس میں یہ والی بات ہے کہ عمل ہونا چاہیے۔ عمل کی نیت صحیح ہونی چاہیے۔ اور عمل طریقے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ بس یہی تین چیزیں ہیں جو کہ اگر ہم لوگ خیال رکھیں تو ماشاءاللہ اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پچھلے سالوں سے الحمدللہ اللہ پاک نے ایک ماشاءاللہ ایک برکت عطا فرمائی ہے سلسلے کو کہ تقریباً چار سال پہلے ہم نے نیت کی انشاءاللہ اس سال ہم ایک کروڑ مرتبہ درود پاک پڑھیں گے یعنی جو مرد و خواتین ہمارے سلسلے کے ہیں مشتہر کر لیا۔ اور الحمدللہ ایک کروڑ کی جگہ دو کروڑ پڑھا گیا۔ پھر اگلی دفعہ دو کروڑ کی جگہ چار کروڑ پڑھا گیا۔ تیسری دفعہ چار کروڑ کی جگہ ہم سمجھتے تھے آٹھ کروڑ ہو جائے گا تو چودہ کروڑ ہو گیا۔ اب انشاءاللہ امید کرتے ہیں کہ امید ہے کہ تیس کروڑ ہو جائے الحمدللہ۔
ہمت کرنی چاہیے۔
ہمت مرداں مدد خداست
ہمت کرنی چاہیے۔
ہمت مرداں مدد خداست ہمت کرنی چاہیے۔
یہ کام ہمت کے ہیں۔
تھوڑا سا غور کر لیں الفاظ مبارکہ زبان سے ادا کرنے سے ہماری زبان کتنی تھکتی ہے یا ہمارے ہونٹ کتنے تھکتے ہیں حساب لگا دیں۔
کوئی ایسی بات نہیں ہے مشکل نہیں ہے۔
اندازہ ہے میرا کہ چھوٹا درود پاک صَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ یہ ایک گھنٹے میں تین ہزار مرتبہ ہو سکتا ہے۔
بس اگر آپ دو گھنٹے اس کو دے دیں مثال کے طور پر دن میں تو چھ ہزار مرتبہ الحمدللہ ہو جائے گا۔
اور چھ ضرب تیس ایک لاکھ اسی ہزار آپ کا ہو جائے گا انشاءاللہ۔
اتنی سی بات ہے۔
دو گھنٹے کا فارغ ٹائم جس میں انسان درود شریف پڑھ سکے یہ کس کے پاس نہیں ہے۔
ہاں الگ بات ہے کہ بعض دفعہ ہم نے اپنی ایسی چیزیں اپنے اوپر لازمی کی ہوتی ہیں جن کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ہم سمجھتے ہیں شاید یہ بہت ضروری ہے۔ سیاست کے اوپر discussion اور پتا نہیں ایک فلانے یہ کہا اور فلانے نے یہ کہا میں نے یہ کہا اور اپنی بڑائی دوسرے کی چھوٹائی اسی میں سارا دن لگا رہنا یہ یہ چیزوں کو روک دو تو ڈبل فائدہ ہو جائے گا۔ بھئی گناہ سے بچ جاؤ گے اور ماشاءاللہ آپ کا اکاؤنٹ نیکیوں کا بھر جائے گا انشاءاللہ۔ دونوں کام آپ کو حاصل ہو جائیں گے۔ اس لحاظ سے ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھیں۔ کثرت کے ساتھ۔
اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں گھروں میں جو لڑائیاں اور فساد ہیں آج کل تو لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ ان کو کیسے حل کیا جائے۔ تو میں اکثر ان کو بتاتا ہوں کہ آپ لوگ اجتماعی طور پر درود شریف پڑھنا شروع کریں۔ یعنی گٹھلیاں لے لو تقریباً پانچ سو اور اس پر سب مل کر جتنے بھی گھر کے افراد ہیں مل کر بیٹھ کر پڑھ لیا کرو۔ تو nucleation nucleation بھی ایک چیز ہے نا جس سے سٹارٹ انسان لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد خود بخود وہ چیز بڑھتی ہے ٹھیک ہے نا۔ تو وہ nucleation تو سٹارٹ ہو جائے گا نا یعنی ایک کام کے لیے آپ سب اکٹھے ہو گئے اس پہ اتفاق ہو گیا۔ تو آپ کا اتفاق ماشاءاللہ شروع ہو گیا اس پوائنٹ سے۔ تو ایک تو یہ بات ہو گئی۔
دوسری بات درود شریف confirm بات ہے۔ اس میں میری طرف سے کوئی وہ نہیں ہے مبالغے کی کوئی وہ نہیں ہے۔ confirm بات ہے ایک مرتبہ پڑھے گا تو دس مرتبہ رحمتیں دس رحمتیں اللہ تعالیٰ کی فضل و کرم سے ان پہ آ جاتی ہیں۔ اب پانچ سو مرتبہ درود شریف آپ نے اجتماعاً پڑھ لیے تو پانچ ہزار رحمتیں آپ کے اوپر نازل ہو گئیں اور بحیثیت مجموعی نازل ہو گئیں یعنی آپ سب کے اوپر۔ تو welding کیا کرتا ہے۔ welding یہی کرتا ہے کہ لوہے کے دو ٹکڑے آپس میں جوڑ کے رکھ دو اور اس کے اوپر heat سے electrode کو پگھلاؤ تو بس وہ جڑ جائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ذریعے سے جو سب کے قلوب پر آ رہی ہیں قلوب جڑ جائیں گے انشاءاللہ۔ کام ہو جائے گا۔ یہ بہت ماشاءاللہ عجیب نسخے ہیں۔ ہمارے مشائخ نے اس پہ بڑے بڑے کام کیے ہیں الحمدللہ بڑے بڑے کام کیے۔
یہ ہمارے جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے نشر الطیب فی ذکر الحبیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ذریعے سے خوشبو پھیلانا۔ یہ ماشاءاللہ ایک ماشاءاللہ بڑی عمر کی خاتون ہیں ہمارے سلسلے میں ابھی ابھی آئی ہیں کچھ عرصہ پہلے۔ انہوں نے مجھے اپنا خواب بھیجا ہے۔ ابھی تازہ۔ کہ آپ آئے ہوئے ہیں اور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ سب کے اوپر وہ آپ کے پاس ایک شیشی ہے عطر کی وہ عطر پھینکتے ہیں سب کے اوپر۔ تو میں بھی اپنے دوپٹے کے اوپر وہ عطر لے لیتی ہوں۔ اور سب تک وہ عطر پہنچ رہا ہے۔ میں نے کہا یہ عطر یہی درود شریف ہے نا آج کل۔ آج کل یہ تو چل رہا ہے نا الحمدللہ۔ درود شریف کے ذریعے سے اللہ کی رحمتوں کو کیونکہ خواب میں خوشبو رحمت ہوتی ہے۔ خواب میں روشنی جو ہے علم ہوتا ہے۔ اور خوشبو رحمت ہوتی ہے۔ تو اب خوشبو یہ ہے کہ جو پھیلانا ہے یہ رحمت کو پھیلانا ہے نا۔ تو درود شریف الحمدللہ ہم آج کل کوشش کر رہے ہیں نا کہ اس کے ذریعے سے الحمدللہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ہم عام کر لیں۔ تو ماشاءاللہ یہ کوشش جاری ہے اور امید کرتے ہیں کہ سب لوگ اس سے مستفید ہوں گے انشاءاللہ۔
اللہ کا شکر ہے پچھلی دفعہ بھی درود شریف جو چودہ کروڑ پڑھا گیا اس پہ بڑی مبشرات موصول ہوئی تھیں الحمدللہ۔ اللہ کا شکر ہے۔ اور اس پر تو الحمدللہ ابھی شروع ہی سے شروع ہو گیا۔ یعنی ابھی شروع کر رہے ہیں نا کام ابھی شروع ہی سے الحمدللہ مبشرات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اللہ کا شکر ہے۔ تو یہ بہت مبارک چیز ہے اس کی وجہ کہ آج کل اس کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔
آج کل اللہ تعالیٰ کے عذاب کو بلانے کے لیے ہمارے پاس چیزیں بہت ہیں۔ گھر گھر میں ایسی فضول چیزیں ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کے عذاب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ میری پھوپھی کے ہاں بجلی گری۔ اور بجلی ایسی گری کہ اس کا جو ٹیلی ویژن کا انٹینا تھا نا اس کے ذریعے سے آئی اس کا ٹی وی جل گیا۔ میں نے کہا اللہ نے اس کے ساتھ بڑے نرمی کا معاملہ کیا۔ جن کو نقصان نہیں پہنچا لیکن جو چیز ان کو نقصان پہنچانے والی تھی وہ اس کو نقصان پہنچ گیا۔ میں نے کہا کہ اللہ کرے کہ اب اس سے کم از کم اثر لے لیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات۔ یہ ہمارے ہاں گھروں کے اندر جو اسباب استغفراللہ عذابات ہیں۔ یہ بہت زیادہ ہیں آج کل۔ ہماری محفلیں ان چیزوں سے بھری ہوئی ہیں۔ گناہوں کے بازار گرم ہیں۔ ایسی صورت میں کسی وقت بھی عذاب آ سکتا ہے۔
تو ہمیں جو فرمایا گیا تھا یہ حج کے موقع پر اور پھر بعد میں وہ یہی تھا کہ درود شریف اور استغفار کی کثرت کیا جائے تو عذاب ٹل سکتے ہیں۔ تو اس کی ایک سند بھی مل گئی قرآن پاک سے۔ کہ قرآن پاک میں ﴿وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ﴾۔ کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ان کو کیوں عذاب دے گا کہ آپ ان میں ہیں اور اللہ ان کو کیوں عذاب دے کہ یہ استغفار کرنے والے ہیں۔ تو آپ ان میں ہیں کا قائم مقام تو درود شریف ہے اس وقت۔ اور استغفار یہ ہے کہ آج جاری ہے ہر وقت۔ تو اگر استغفار اور درود پاک کو جمع کیا جائے تو اس سے امید کرتے ہیں کہ انشاءاللہ عذابات ٹل جائیں گے۔
اس وجہ سے ہمیں اپنے آپ کو عذابوں سے بچانے کے لیے فضائل درود شریف عذابوں سے بچانے کے لیے ہمیں ایسے اعمال کو رواج دینا پڑے گا۔ دیکھیں ایک ہوتا ہے رسم اور ایک ہوتا ہے رواج۔ رواج تو کوئی بھی چیز جو رائج ہو جائے اس کو رواج کہتے ہیں وہ اچھی بھی ہو سکتی ہے بری بھی ہو سکتی ہے۔ تو اگر ہم اچھی چیزوں کو رواج دیں تو بہت ہی زیادہ بہت ہی زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔ اب دیکھیں ہمارے اکابر نے ماشاءاللہ کتابیں لکھیں۔ مثلاً فضائل درود شریف یہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔ اور نشر الطيب في ذكر النبي الحبيب حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔ اور ساتھ جو ہیں ماشاءاللہ حضرت مولانا عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت ماشاءاللہ بہت اونچی کتاب لکھی تھی درود شریف کے فضائل پر۔ تو ہمیں ایسی چیزوں کو پڑھنا بھی چاہیے تاکہ ہم لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنے گھروں میں اس کی تعلیم کرنی چاہیے۔
یہ دیکھیں میں چند آپ کو سناتا ہوں احادیث شریفہ۔ جس سے کم از کم انشاءاللہ ہمیں push ملے گی کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں۔ مشکوٰۃ شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ مجھ پر درود پڑھا کرو اس لیے کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰهَ وَكَّلَ بِقَبْرِيْ مَلَكًا أَعْطَاهُ أَسْمَاءَ الْخَلَائِقِ فَلَا يُصَلِّيْ عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَبْلَغَنِيْ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيْهِ هٰذَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ قَدْ صَلّٰى عَلَيْكَ۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ایک فرشتہ میری قبر پر مقرر کر رکھا ہے جس کو ساری مخلوق کی باتیں سننے کی قدرت عطا فرمائی ہے۔ پس جو شخص بھی مجھ پر قیامت تک درود بھیجتا رہے گا وہ فرشتہ مجھ کو اس کا اور اس کے باپ کا نام لے کر درود پہنچاتا ہے کہ فلاں شخص جو فلاں کا بیٹا ہے اس نے آپ پر درود بھیجا ہے۔
یہ ماشاءاللہ ایک نظام ہے اللہ پاک نے بنایا ہے۔ اس طرح ملائکہ سیاحین کا ایک الگ حدیث شریف ہے جو پھرتے رہتے ہیں اور جہاں جہاں پر درود ان کو ملتا ہے تو ان کو لے کے سجا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں۔ یہ بھی حدیث شریف موجود ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کے لیے بہت مواقع ہیں۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے القول البدیع میں بھی اس حدیث کو نقل کیا اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ فلاں شخص جو فلاں کا بیٹا ہے اس نے آپ پر درود بھیجا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ جل شانہ اس کے ہر درود کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ درود یعنی رحمت بھیجتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص میرے اوپر میری قبر کے قریب درود بھیجتا ہے تو میں اس کو خود سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے القول البدیع میں متعدد روایات سے یہ مضمون نقل کیا ہے کہ جو شخص دور سے درود بھیجے فرشتہ اس پر متعین ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائے اور جو شخص قریب سے پڑھتا ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خود سنتے ہیں۔ جو شخص دور سے درود بھیجے اس کے متعلق تو پہلی روایات میں تفصیل سے گزر چکا ہے کہ فرشتے اس پر متعین ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جو شخص درود بھیجے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیں۔ اس حدیث پاک میں دوسرا مضمون کہ جو قبر اطہر کے قریب درود پڑھے اس کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس خود سنتے ہیں بہت ہی قابل فخر، قابل عزت اور قابل رشک چیز ہے۔
یہ جو ہم لوگ جو لوگ مدینہ منورہ جاتے ہیں تو ہم سلام بھیجتے ہیں نا تو اگر ہم ادھر سے پڑھ لیں تو بھی پہنچتا ہے اگر ادھر سے پڑھ لیں تو بھی پہنچتا ہے لیکن یہ سعادت جو ہم حاصل کرتے ہیں کہ وہیں پر ہی تو اس کی بات ہو رہی ہے کہ فرمایا کہ میں خود سنتا ہوں۔ تو فرشتے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خود سننے کی بات ہے۔
اللہ کا شکر ہے الحمدللہ ہمارا یہ معمول ہے کہ جو حضرات بھی درود شریف پڑھتے ہیں یہ جو سسٹم ہے ہمارا اس میں جو لوگ درود شریف پڑھتے ہیں آخر میں ہمیں بتا دیتے ہیں کہ ہم نے اتنا اتنا پڑھا ہے۔ کسی اور کو نہیں بتاتے ہمیں بتاتے ہیں صرف۔ ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔ کہ کسی اور کو بتانے سے تو ریا کا اندیشہ ہے۔ کسی اور کو بتانے سے، لیکن شیخ کو بتانے سے ریا کا اندیشہ نہیں ہوتا، confirm بات ہے۔ کیونکہ وہ تو اپنے اصلاحی تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یا کسی کا اصلاحی تعلق ہو یا کسی کا قلبی تعلق ہو جس کی وجہ سے اس کو فائدہ ہوتا ہو ان کو بتانے سے یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔
تو اب جب ہمیں بتا دیتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں الحمدللہ ہمارے وہاں پر مدینہ منورہ میں حضرات ہیں۔ ہمارے پیر بھائی ہیں، یہ وہ صاحب ہیں کہ انجینئر تھے لیکن وہاں مدینہ منورہ جا کے وہیں پر ہی رہ گئے۔ اپنے لوگوں نے ان سے کہا کہ اب آئیں نا تھوڑا سا اس پر غور کریں انہوں نے کہا پوچھ لیجیے اگر اجازت دیتے ہیں تو پھر جاتا ہوں۔ اگر اجازت دیتے ہیں نا تو پھر جاتا ہوں۔ تو آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس کا کیا مقام ہے کہ جن کو وہاں روکا ہے تو آخر کوئی بات تو ہے نا۔ تو ہم ان تک پہنچاتے ہیں۔ پھر وہ پیش کرتے ہیں ہماری طرف سے باقاعدہ ادھر قبر شریف پر پیش کرتے ہیں۔ تو الحمدللہ پھر ادھر سے قبولیت کی بھی وہ بات آتی ہے الحمدللہ۔ تو یہ یہ نظام اللہ کا شکر ہے اللہ پاک نے بنایا ہے ہم نے تو نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔
ایک صاحب ہمارے بیٹھے ہوئے ہیں مکہ مکرمہ میں الحمدللہ ثم الحمدللہ ہر وقت۔ اور ایک مدینہ منورہ میں بیٹھا ہوا ہے۔ ہمارے سلسلے کا وہ ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ کچھ بیت المقدس میں بھی اللہ نے بندوبست کیا ہوا ہے۔ تو الحمدللہ یہ ہمارے سلسلے کے، جس کو کہتے ہیں نا یعنی برکات ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے نظام ایسا چلایا ہوا ہے کہ کوئی نہ کوئی راستہ اللہ تعالیٰ بنا دیتے ہیں۔
تو ماشاءاللہ اب ہم کام کریں۔ باتوں میں نہ لگیں، بلکہ کام کریں۔ یہ بہت ساری روایات ہیں، مزارات والی کتاب تو آپ خود ہی دیکھیں گے تو پھر آپ کو پتا چلے گا، لیکن یہ بات ہے کہ میں تو صرف چیدہ چیدہ باتیں عرض کر سکتا ہوں، وقت اتنا ہوتا ہے۔
یہ کچھ اچھے اچھے خوابیں بھی ہیں اس کے ساتھ متعلقات، حالانکہ حدیث شریف کے مقابلے میں خواب کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، یہ طے شدہ بات ہے۔ کہ حدیث شریف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اطہر سے بات آئی ہے۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں بھی کسی کو بتایا ہو تو اس کا مقام بھی حدیث جتنا نہیں ہوتا۔ کیونکہ خواب ظنی چیز ہے اور ظاہر ہے مطلب ہے کہ حدیث شریف قطعی چیز ہے، مطلب اپنے طور پر۔ لیکن اثر اس کا زیادہ ہوتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ مثلاً ایک پورا عالم ہے جس نے پوری حدیث شریف پڑھی ہیں۔ اس کے اوپر ان تمام احادیث کا جتنا اثر ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں وہ کوئی خواب دیکھتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو فرما دیں کہ یہ کام کرو۔ تو مجھے بتاؤ اثر کس چیز کا زیادہ ہوگا؟ حالانکہ وہ پہلے سے ان کو معلوم ہے کیونکہ عالم ہے ان کو انہوں نے چیزیں پڑھی ہوئی ہیں۔ تو ہمارے جو صوفیاء اور مشائخ ہیں وہ بحث و مباحثہ میں نہیں پڑتے۔ وہ عملی دنیا میں رہتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں اچھا ٹھیک ہے جی، اس کا مقام کم ہے لیکن اثر ہے تو ہمیں تو اثر کروانا چاہیے نا۔ ہمیں تو اثر سے کام ہے تاکہ وہ کام شروع کر لے، بجائے اس کے کہ ہم بحث و مباحثے کر لیں۔ تو اثر سے کام ہو جاتا ہے، آدمی کام شروع کر لیتا ہے تو یہ جو خوابوں کو انہوں نے بیان کیا، حضرت نے بیان کیا، اس وجہ سے بیان کیا ہے تاکہ لوگوں پہ اثر ہو۔
یہ مناہج الحسنات میں ابن فاکهانی کی کتاب فجر منیر سے نقل کیا کہ ایک بزرگ، نیک، صالح، موسیٰ ضریر رحمہ اللہ تھے، انہوں نے اپنا گزرا ہوا قصہ مجھ سے نقل کیا کہ ایک جہاز ڈوبنے لگا اور میں اس میں موجود تھا۔ اس وقت مجھ پر غنودگی سی ہوئی، اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے درود تعلیم فرما کر ارشاد فرمایا کہ جہاز والے اس کو ہزار مرتبہ پڑھیں۔ ہنوز تین سو بار نوبت نہیں پہنچی کہ جہاز نے نجات پائی اور بعد الممات کے بَعْدَاِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌاس میں پڑھنا معمول ہے۔ یہ اصل میں یہ اچھا، اور خوب ہے اور وہ درود یہ ہے، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَاةً تُنْجِيْنَا بِهَا مِنْ جَمِيْعِ الْاَهْوَالِ وَالْاٰفَاتِ، وَتَقْضِيْ لَنَا بِهَا جَمِيْعَ الْحَاجَاتِ، وَتُطَهِّرُنَا بِهَا مِنْ جَمِيْعِ السَّيِّئَاتِ، وَتَرْفَعُنَا بِهَا أَعْلَى الدَّرَجَاتِ، وَتُبَلِّغُنَا بِهَا أَقْصَى الْغَايَاتِ، مِنْ جَمِيْعِ الْخَيْرَاتِ فِي الْحَيَاةِ وَبَعْدَ الْمَمَاتِ، اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ فرمایا کہ ہے۔ اب یہ ماشاءاللہ خوابوں کے لحاظ سے کم از کم یہ تواتر سے چیز آ رہی ہے۔ یہ جو، یہ جو، مطلب، مطلب روایت ہے۔
الحمدللہ ہمارا معمول ہے ہمارے سلسلے کا کہ جمعے کی رات ہم ہزار مرتبہ اس کو پورا کر لیتے ہیں، الحمدللہ۔ مردوں میں ہزار مرتبہ پورا ہوتا ہے اور عورتوں میں زیادہ ہو جاتا ہے، سولہ سترہ سو دفعہ ہو جاتا ہے۔ وہ عورتوں کا اپنا نظام ہے، وہ چل رہا ہے، اللہ کا شکر ہے۔ تو وہ پڑھ لیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ایک صاحب کو ہوئی ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ کہ ستر مرتبہ عشاء کے بعد لوگ اس کو پڑھ لیا کریں۔ تو عذابات دور ہو جائیں گے۔ تو الحمدللہ ہمارا یہ طریقہ ہے کہ انفرادی طور پر ہم ستر مرتبہ بتاتے ہیں عشاء کے بعد، اور اجتماعی طور پر ہم ہزار مرتبہ کرتے ہیں، یہ ہمارا معمول ہے۔ کیونکہ اس کے بڑے برکات دیکھے گئے ہیں۔
دلائل الخیرات کی وجہ تالیف مشہور ہے، یہ مشہور کتاب ہے دلائل الخیرات۔ کہ مؤلف کو سفر میں وضو کے لیے پانی کی ضرورت تھی اور ڈول رسی کے نہ ہونے سے پریشان تھے۔ ایک لڑکی نے یہ حال دیکھ کر دریافت کیا اور کنویں کے اندر تھوک دیا، پانی کنارے تک ابل آیا۔ مؤلف نے حیران ہو کر پوچھا اس نے، یہ کیا برکت ہے؟ اس نے کہا یہ برکت ہے درود شریف کی۔ جس کے بعد انہوں نے کتاب دلائل الخیرات تالیف کی۔
ایک معتمد دوست نے راقم سے ایک خوشنویس لکھنؤ کی حکایت بیان کی، ان کی عادت تھی کہ جب صبح کے وقت کتابت شروع کرتے تو اول ایک بار درود شریف ایک بیاض پر، جو اسی غرض سے بنائی تھی، لکھ لیتے۔ اس کے بعد کام شروع کرتے۔ جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو غلبہ فکر آخرت سے خوف زدہ ہو کر کہنے لگے کہ دیکھیے وہاں جا کر کیا ہوتا ہے۔ ایک مجذوب آ نکلے اور کہنے لگے بابا کیوں گھبراتے ہو، وہ بیاض سرکار میں پیش ہے اور اس پر صاد بن رہے ہیں۔
اچھا ایک بات میں آپ کو بتاؤں۔ یہ درود شریف یہ ہے کہ ماشاءاللہ لکھنے والی جو بات کر رہا ہوں۔ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھتے ہیں تو اس میں آتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو بعض لوگ اس کو صاد لکھ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں پہلی دفعہ جس نے یہ کام کیا تھا اس کے دونوں ہاتھ شل ہو گئے تھے۔ اس کے دونوں ہاتھ شل ہو گئے تھے۔ کیونکہ اس نے گویا کہ درود پاک لکھنے سے اعراض کیا ہوا تھا۔ بعد میں لوگوں کی عادت ہو گئی تو جب وبا عام ہو جائے تو پھر اس کے ساتھ معاملہ دوسرا ہو جاتا ہے۔ لیکن بہرحال بارہا اس کے اوپر تنبیہ ہوئی ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اب دیکھو وہ اپنی کتابت شروع اس سے کرتے تھے تو ان کو اللہ تعالیٰ نے فائدہ پہنچایا۔ اب میں اگر لکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام میں کسی وجہ سے لکھ رہا ہوں اور میں ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم پورا لکھ دوں تو میں نے پورا درود لکھ دیا نا۔ اب یہ طریقہ ہے کہ جس کتاب میں بھی یہ لکھا جاتا ہے درود پاک، تو وہ درود پاک جب تک اس کتاب میں موجود ہوگا اس کے لیے اس کے اوپر رحمتوں کا نزول ہوتا رہے گا۔ اب کتنا آسان بات ہے زبان سے تو آپ اتنا نہیں پڑھ سکتے۔ لیکن آپ کے لیے اللہ پاک نے بہت زبردست ذخیرہ بنا دیا۔
تو اللہ کا شکر ہے ہم نے جب نمازوں کے اوقات کے نقشے بنانے شروع کیے الحمدللہ۔ تو ہم نے اس کے کونے پر ایک کونے پہ اللہ اکبر لکھتے اور دوسرے کونے پہ لکھتے وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ۔ ہم نے کہا جب تک یہ نقشہ مسجد میں لگا رہے گا انشاءاللہ درود شریف کی برکت ہمیں حاصل رہے گی الحمدللہ تو یہ ہونا چاہیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بڑے کام کی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن صاحب سہارنپوری مرحوم کے داماد نے مجھ سے بیان کیا کہ جس مکان میں مولوی صاحب کا انتقال ہوا وہاں ایک مہینے تک خوشبو عطر کی آتی رہی۔ حضرت مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان فرمایا، فرمایا یہ برکت درود شریف کی ہے، مولوی صاحب کا معمول تھا کہ ہر شب جمعہ کو بیدار رہ کر درود شریف کا شغل فرماتے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی فرمائش ہے کہ مجھ پر نورانی دن اور نورانی رات کثرت سے درود بھیجا کرو۔ تو الحمدللہ ہمارا بھی معمول ہے کہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات ہم کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں۔
ابو ذر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا کہ آسمان پر فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے اس سے سبب حصول اس درجہ کا پوچھا اس نے کہا میں نے دس لاکھ حدیثیں لکھی ہیں جب نام مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آتا تو میں درود لکھتا تھا۔ اس سبب سے مجھے یہ درجہ ملا۔ زاد السعید میں یہ قصہ اسی طرح نقل ہے بندہ کے خیال میں کاتب سے غلطی ہوئی ہے صحیح یہ ہے کہ ابو ذر کو ایک شخص نے خواب میں دیکھا جیسا کہ ایک حکایت نمبر انتیس میں آ رہا ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یہ عاشق تھے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بڑے عاشق رسول تھے۔ ان کے عشق رسول مطلب رسالت کے ایسے عجیب واقعات ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ ابھی بھی ایک روایت مطلب آ رہی ہے۔ ان کے نزدیک نماز کے اندر جو درود شریف ہم پڑھتے ہیں نا ہمارے نزدیک تو سنت ہے نا ان کے نزدیک فرض ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک درود پاک نماز میں پڑھنا فرض ہے۔ تو اس وجہ سے زیادہ خدمت جو اللہ پاک نے درود پاک کی لی ہے وہ شوافع سے لی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ دوسرے حضرات یہ سب شوافع ہیں۔ بس اللہ پاک جس سے بھی جو کام لینا ہے لے لے تو لے لے سارے حق پر ہیں۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اور حکایت ہے کہ ان کے بعد انتقال کے کسی نے خواب میں دیکھا اور مغفرت کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے فرمایا یہ پانچ درود شریف جمعہ کی رات کو میں پڑھا کرتا تھا۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلّٰى عَلَيْهِ۔ وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَّمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ۔ کیا بات ہے اے اللہ درود بھیج آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنا اتنی عدد کا کہ جتنے لوگ درود پڑھ رہے ہیں اس پر اور اتنا کہ جتنے لوگ نہیں پڑھ رہے ہیں اس کا مسئلہ الگ۔ اچھا مطلب وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا اَمَرْتَ بِصَلَاتِهِ عَلَيْهِ اور اتنا درود پاک پڑھ لے جس طرح تو نے حکم کیا ہے اس پر صلوٰۃ پڑھنے کا۔ وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ اَنْ يُصَلّٰى عَلَيْهِ اور اتنا درود پاک بھیج ان پر صل رحمت بھیج ان پر جتنا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ان کے اوپر بھیجا جائے۔ وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا يَنْۢبَغِيْ اَنْ يُصَلّٰى عَلَيْهِ اور اتنا کہ جتنا کہ مطلب چاہیے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو فرماتے ہیں اس کو درود خمسہ کہتے ہیں۔ اس وجہ سے ہوا ہے۔
شیخ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ یہ بڑے محدث ہیں۔ شیخ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نقل کیا کہ یہ بھی شافعی ہیں۔ سارے یہ کام شوافع کی طرف اللہ تعالیٰ نے بس اسے لیا ہے۔ شیخ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ ایک صالح کو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال پوچھا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رحم کیا اور مجھے بخش دیا اور جنت میں داخل کیا سبب پوچھے گا تو اس نے کہا فرشتوں نے میرے گناہ اور میرے درودوں کو شمار کیا۔ سو درود کا شمار زیادہ نکلا حق تعالیٰ نے فرمایا اتنا بس ہے اس کا اور مزید حساب نہ کرو اور اس کو جنت میں لے جاؤ۔
شیخ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ لکھا ہے کہ ایک مرد صالح کے معمول مقرر کیا رات کو سوتے وقت درود باعدد معین پڑھا کرتا تھا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور تمام گھر اس کا روشن ہو گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ جو درود منہ لاؤ جو درود پڑھتا ہے تاکہ بوسہ دوں۔ اس شخص نے شرم شرم کی وجہ سے رخسارہ سامنے کر دیا۔ آپ نے رخسارے پر بوسہ دیا بعد اس کے بیدار ہے تو سارے گھر میں مشک کی خوشبو باقی تھی۔ ماشاءاللہ۔ یہ بات ہے۔ بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں جی بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں۔ اور بھی ماشاءاللہ واقعات ہیں۔
لیکن ایک واقعہ میں ڈھونڈ رہا ہوں اسی میں ہے کہیں لیکن بہرحال اگر مجھے نہ ملے مثال کے طور پر فوراً تو میں بیان کر لیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ایک حاکم تھے وزیر تھے۔ تو وہ بھی ایک عدد معین درود پاک پڑھا کرتا تھا ہر رات کو۔ تو ایک دن ایسا ہوا کہ ان کو کسی پڑھ رہا تھا کہ اس کو بادشاہ نے بلایا۔ تو بادشاہ نے بلانے کے مطلب جب ان سے میٹنگ ہو گئی تو پھر واپس آئے تو باقی درود پاک پورا کیا یہ تو ان کے ساتھ واقعہ ہوا۔ ان دنوں ایک نیک آدمی تھے ان کو گھر میں فوراً کچھ چیزوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ تو بڑے پریشان تھے تو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی فرمایا کہ اس امیر کے پاس جاؤ۔ ان کو یہ سنا دینا کہ تو اس طرح کرتا تھا اور تیرے ساتھ ایسا ہوا تھا یعنی گویا سند دے دی کہ بات صحیح ہے۔ اور پھر ان سے اپنا بتا دیں ان کو اپنا عذر تو آپ کی مدد کر لے گا۔ وہ چلا گیا۔ ان کو اپنا بتایا سارا کچھ۔ وہ تو اتنا خوش ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماشاءاللہ مجھے یاد فرمایا ہے۔ اور یہ درود پاک جو میں روز پڑھتا ہوں باقاعدہ یعنی پہنچتا ہے اس کو یاد رکھا گیا ہے۔ تو انہوں نے ایک سو اشرفیوں کا جو تھیلا تھا پہلے تھیلے ہوتے تھے لوگ جمع کر کے رکھتے تھے اپنے پاس ایک تھیلا ان کو دے دیا کہ یہ تو حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر آنکھوں پہ یہ تو آپ لے لیں۔ سو اشرفیوں کا پہلے ان کو فرمایا کہ سو اشرفیاں دے دیں۔ پھر دوسرا دے دیا کہ آپ نے جو بشارت مجھے دی ہے یہ اس کی لے لیں۔ پھر تیسرا دے دیا کہ آپ نے اتنی تکلیف جو اٹھائی ہے یہاں پر آنے کے لیے۔ اور اس طرح کرتے کرتے ہزار اشرفیاں ان کی پوری کر دیں۔ کہ یہ ہے کہ اتنا مجھے بڑی سعادت ملی ہے۔
تو یہ اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ بہت بڑی بات ہے اب ایک اور بات اور بھی عرض کر لوں ابو حفص سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب رونق المجالس میں لکھا ہے۔ کہ بلخ میں ایک تاجر تھا جو بہت زیادہ مالدار تھا اس کا انتقال ہوا۔ اس کے دو بیٹے تھے میراث میں اس کا مال آدھا آدھا تقسیم ہو گیا۔ لیکن ترکہ میں تین بال بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود تھے۔ ایک ایک کو تو دونوں نے لے لیا۔ تیسرے بال کے متعلق بڑے بھائی نے کہا اس کو آدھا آدھا کر لیں۔ چھوٹے بھائی نے کہا ہرگز نہیں خدا کی قسم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک کاٹا نہیں جا سکتا۔ محبت کی بات تھی۔ بڑے بھائی نے کہا کیا تو اس پر راضی ہے کہ یہ تینوں بال تو لے لے اور یہ مال سارا میرے حصے میں لگا دے؟ چھوٹا بھائی خوشی سے راضی ہو گیا۔ بڑے بھائی نے سارا مال لے لیا اور چھوٹے بھائی نے تینوں موئے مبارک لے لیے۔ ان کو اپنی جیب میں ہر وقت رکھتا اور بار بار نکالتا ان کی زیارت کرتا درود شریف پڑھتا۔ تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا کہ بڑے بھائی کا سارا مال ختم ہو گیا اور چھوٹا بھائی بہت زیادہ مالدار ہو گیا۔ جب اس چھوٹے چھوٹے بھائی کی وفات ہوئی تو صلحاء میں سے بعض نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کو کسی کی کوئی ضرورت ہو اس کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ نزہۃ المجالس میں بھی یہ قصہ مختصر نقل کیا ہے لیکن اتنا اس میں اضافہ ہے کہ بڑا بھائی جس نے سارا مال لے لیا تھا بعد میں فقیر ہو گیا۔ تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا فقر و فاقہ کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں فرمایا او محروم! تو نے میرے بالوں میں بے رغبتی کی اور تیرے بھائی نے ان کو لے لیا۔ اور وہ جب ان کو دیکھتا ہے مجھ پر درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہ نے اس کو دنیا اور آخرت میں سعید بنا دیا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو آ کر چھوٹے بھائی کے خادموں میں داخل ہو گیا۔
تو اب یہ بات میں آپ کو کیا بتاؤں؟ سعادتیں ہیں بس سعادتیں ہیں تقسیم ہوتی ہیں الحمدللہ۔ میں کہتا ہوں ان خوابوں کو آپ ایک طرف رکھ لیں۔ خوابیں ہیں چلو۔ لیکن کیا ﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ اس کو ایک طرف رکھا جا سکتا ہے؟ قرآن کی آیات ہیں۔ قرآن پاک کی آیت ہے۔ اس کو ہم نہیں ایک طرف رکھ سکتے، یہ ہمارے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ اللہ پاک نے کنکشن دے دیا ہمیں۔ اور دوسرا وہ جو درود شریف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھ تک پہنچا دیا جاتا ہے، جو دور سے پڑھتے ہیں اور جو قریب پڑھتے ہیں میں خود سنتا ہوں، اس کو ایک طرف نہیں رکھا جا سکتا۔ اس طریقے سے جو بھی ایک بار درود پاک پڑھتا ہے اس کو دس رحمتیں اس کے اوپر نازل ہوتی ہیں، اس کو بھی ایک طرف نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ تو صرف اور صرف نسبت بنانے کے لیے میں نے خواب بیان کر دیے۔ نسبت بنانے کے لیے، تاکہ اثر ہو اور نسبت بن جائے، باقی اصل کام تو ثابت ہے قرآن سے، حدیث سے۔
اس لیے میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ بھئی فضائل ذکر کی تمام احادیث شریفہ اگر نہ ہوتیں، اور تمام دوسری روایتیں نہ ہوتیں، صرف یہ آیت بھی ہوتی ﴿فَاذْكُرُوْنِيٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾ یہ کہاں، سمجھدار کے لیے کافی تھا معاملہ۔ سمجھدار کے لیے معاملہ کافی تھا۔ اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟ ﴿فَاذْكُرُوْنِيٓ أَذْكُرْكُمْ﴾۔ پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ تو اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ اصل میں یہ بات میں نے کیوں کی؟ یہ بات میں نے اس لیے کی کہ جو محروم اور بدقسمت لوگ ہوتے ہیں نا، بدقسمت لوگ، وہ، وہ وہ کیا؟ دلائل کو، قرآن و حدیث کو نہیں دیکھیں گے۔ وہ اس کو دیکھیں گے، دیکھیں نا اس کتاب میں ضعیف حدیثیں بھی ہیں، ضعیف روایتیں بھی ہیں، یہ، یہ۔ بھئی تم ضعیف روایت کی طرف نہ دیکھو نا! آپ سمجھو کہ میں نے نہیں پڑھی۔ آپ اس کی جو مستند روایتیں ہیں اس کو تو اگنور نہیں کر سکتے۔ قرآن کی آیت تو اگنور نہیں کر سکتے، اور جو صحیح احادیث شریفہ ہیں ان کو تو اگنور نہیں کر سکتے، آپ اس پر عمل کر لیں۔
یہ الگ بات ہے کہ ہمارے مشائخ یہ سبحان اللہ اس فیلڈ کے سپیشلسٹ تھے۔ اگر کسی ڈاکٹر کو پتہ چل جائے کہ کسی گھڑے کے پانی سے نفسیاتی اثر جو ہوگا یہ ٹھیک ہو جائے گا تو کیا اس کو دوائی دے گا؟ وہ کہے گا بس ٹھیک، ٹھیک ہونا مقصود ہے، مقصود وہ دوائی دینا تو نہیں ہے۔ یہ ایک باقاعدہ حکیم صاحب تھے۔ وہ لوگوں سے پیسے زیادہ لیتے تھے۔ تو میرے والد صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ پیسے زیادہ لیتے ہیں کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں تھوڑے پیسے لوں تو پھر لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ مجھے کیا دے دیا ہے؟ تو میں ان سے پیسے زیادہ لیتا ہوں تاکہ ان کے اوپر یقین آ جائے تو کم از کم دوائی استعمال کر لیں گے۔ نفسیاتی اثر ہے، ہوتا ہے، ان چیزوں کا ہوتا ہے۔ تو بہرحال یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں ہمارے مشائخ نے نفسیاتی چیزوں کو بھی استعمال کیا ہے۔ لیکن ان نفسیاتی چیزوں کے استعمال کی وجہ سے جو اصل چیزیں ہیں وہ ختم تو نہیں ہوئیں نا؟ اصل چیزیں تو اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ لہٰذا ہم لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
یہ ربیع الاول کا مہینہ آ گیا ہے الحمدللہ۔ پوری کوشش کرنی چاہیے کہ کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھیں۔ ایک آدمی کہتا ہے جی ربیع الاول میں درود پڑھنا کہاں سے ثابت ہے؟ بھئی میں کہتا ہوں کس وقت میں درود پڑھنا ثابت نہیں ہے؟ آپ تو ربیع الاول کی بات کرتے ہیں۔ کس وقت میں درود پاک پڑھنا ثابت نہیں سوائے باتھ روم کے اور ٹوائلٹ کے؟ باقی تو ہر وقت، ہر جگہ ثابت ہے۔ کون سا وقت ہے جہاں، جہاں پر منع کیا گیا ہے؟ تو ثابت تو ہر جگہ ہے۔ ہاں البتہ نفسیاتی اثر ہے، اگر آپ کو ربیع الاول کے ذریعے سے حاصل ہو گیا تو آپ کو اس سے نقصان کیا ہے؟ آپ کو تو فائدہ ہوا نا۔
یہ ڈاکٹر لوگ بعض دفعہ کہتے ہیں نا وہ کوئی زکام وغیرہ ہو جائے نا کہتے ہیں fluid لے لو زیادہ، چاہے چائے لے لو، چاہے شربت لے لو، چاہے کسی طریقے سے، لیکن fluid زیادہ لے لو۔ یا کوئی viral infection وغیرہ ہو جاتی ہے کہتے ہیں fluid زیادہ لے لو۔ تو ہم کہتے ہیں بھئی کام کرو! کچھ کرو! اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ درود شریف پڑھو، ذکر کرو، تلاوت کرو۔ جو بھی کرنا چاہتے ہو صحیح، کرو اور کرو ضرور۔
اور، ہاں یہ الگ بات ہے۔ محبت کا معاملہ الگ ہے۔ محبت کا معاملہ الگ ہے، اس کے ساتھ حساب کتاب ہی الگ ہے۔ محبت کا قانون ہی الگ ہے۔ اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّهُ۔ اس سے زیادہ بڑی بات اور میں کیا کروں؟ آدمی ان کے ساتھ ہوگا جن کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ تو یہ ایک طرف اگر خراب لوگوں سے محبت کی وجہ سے رکنا ہے، اس وجہ سے، کہ کہیں میں ان کے ساتھ نہ ہو جاؤں، تو دوسری طرف اچھے لوگوں کے ساتھ ہونے کا۔ ظاہر ہے مطلب حکم ہو گیا۔ اس وجہ سے اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کر لوں تو میرا مقام کدھر بنے گا؟ بہت بڑی بات ہے۔ تو پھر ان محبت کے اظہار کے جو ذریعے ہیں، ان ذرائع کو میں استعمال کر سکتا ہوں۔ اس کو حاصل کرنے کے جو ذریعے ہیں، وہ استعمال کر سکتا ہوں۔
اب دیکھو اللہ فرماتے ہیں تم ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ تو بس کام ہو گیا نا ہمارا۔ ہم ذکر کریں گے تو انشاءاللہ اللہ تعالیٰ ہمیں یاد رکھیں گے۔ اور درود شریف پڑھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو یاد رکھیں گے۔ یاد تو ہو ہی جائے گا نا وہ سلام کا جواب جو دیتے ہیں۔ تو یاد تو ہو ہی جائے گا اور یہ جو واقعات میں نے سنا دیے۔ کیسے یاد رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم؟ تو درود شریف پڑھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو یاد رکھیں گے۔ ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھیں گے۔ اور جو اعمال ہیں ان کا اپنا اپنا وزن ہے۔ اخلاص جتنا زیادہ ہو گا اتنا زیادہ اس کا وزن زیادہ ہو گا۔ اخلاص کو بڑھانے کے لیے جو دل پر محنت ہے اور نفس کے اوپر محنت ہے۔ اور عقل کے اوپر محنت ہے وہ جاری رکھنی چاہیے۔ کسی اللہ والے کے ساتھ تعلق ہو، ان کے ساتھ رابطہ ہو۔ جو معمولات ہوں اس کو باقاعدگی کے ساتھ پورا کیا جائے اور اطلاع بھی دے دی جائے۔ جو ہمارے ہاں جو معمولات کا چارٹ ہے باقاعدگی کے ساتھ بھیج دیا کریں۔ تو ماشاءاللہ رابطہ رہے گا اور چیز بڑھتی رہے گی انشاءاللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلٰى دِيْنِكَ، يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰى طَاعَتِكَ۔ اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَاَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَاَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَاٰثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَاَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا۔ اَللّٰهُمَّ اشْفِ مَرْضَانَا وَمَرْضَى الْمُسْلِمِيْنَ۔ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا۔ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا۔ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۔ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْنَ۔ یا اللہ اس ربیع الاول کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یا اللہ، یا رب العالمین بہترین جو موقع ہے یا رب العالمین اس کو پورے پورے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا تعلق ہمیں نصیب ہو جائے۔ اور یا اللہ اپنی رضا ہمیں نصیب فرما دے۔ یا اللہ ہمیں سچی توبہ عطا فرما دے۔ یا اللہ گناہ پاک ہمارے سب کے معاف فرما دے۔ ہم سے عذابات کو دور فرما دے۔ ہماری مشکلات کو آسان فرما دے۔ یا اللہ جتنی بھی سہولتیں ہیں نصیب فرما اور جتنی مشکلات ہیں ان سے بچا دے۔ یا اللہ حلال رزق وافر عطا فرما دے۔ جو ہماری مشکلات ہیں ان کو دور فرما دے۔ اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْاَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَاَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔