عقیدہ صحابہؓ، احکامِ شریعت اور اتباعِ سنت و مستحبات سے قربِ الٰہی کا حصول

درس 128: مکتوب 266 (حصہ ہفتم)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت، مشاجراتِ صحابہ اور اجتہادی خطا کا شرعی تصور۔
    • علمِ فقہ کی اہمیت اور فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات میں فرق۔
      • سنت اور مستحب کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دینے کے نقصانات اور شیطان کا طریقۂ واردات۔
        • وقت کی قدر و قیمت (برف فروش کی تمثیل کے ذریعے)۔
          • نماز کو سنت کے مطابق ادا کرنا، تعدیلِ ارکان، خشوع و خضوع اور جدید دور کی غفلتیں۔
            • تصوف و طریقت کا پہلا قدم (مستحبات کی رعایت)۔
              • کشف و مراقبہ کی حقیقت، ان کے خطرات اور شریعت و سلوک کی اولیت۔

                الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

                بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


                آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔

                گزشتہ سے پیوستہ


                عقیدہ نمبر اکیس چل رہا ہے۔

                حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوات و التحیات کے حقوقِ صحبت کی رعایت کر کے تمام صحابہ کرام کو نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوات و التسلیمات کی دوستی کی وجہ سے ان کو دوست رکھنا چاہیے (کیونکہ) آنحضرت علیہ وعلی آلہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: "مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ وَ مَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ" "اور جس نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو دوست رکھا اس نے میری محبت کی وجہ سے ان کو دوست رکھا اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا" ۔ یعنی وہ محبت جو میرے اصحاب رضی اللہ عنہم سے متعلق کی گئی ایسا محبت ہے جیسے کہ مجھ سے متعلق ہے اور اسی طرح وہ بغض جو ان سے تعلق رکھتا ہے ایسا بغض ہے جیسے کہ مجھ سے کیا جائے۔


                اصل میں یہ بہت ہی اہم بات ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو اللہ پاک نے خصوصی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مبعوث فرمایا تھا، یعنی ان کو اللہ پاک نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے، ان کے فروغ کے لیے اور ان کے پھیلانے کے لیے اللہ پاک نے ان کو چن لیا تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان کے ساتھ محبت تھی، ان کو بھی آپ ﷺ کے ساتھ محبت تھی، اور اللہ جل شانہ کو بھی ان کے ساتھ محبت تھی، ان کو بھی اللہ پاک کے ساتھ محبت تھی۔ اس وجہ سے جو بھی صحابہ کرام کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہ اسی نسبت کی وجہ سے رکھتے ہیں، کہ اس نسبت کی وجہ سے اس کی رعایت رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوست ہیں، آپ ﷺ کے ساتھی ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں اصل میں انہوں نے آپ ﷺ کی اس نسبت کا خیال نہیں رکھا، اور اس نسبت کے ساتھ بغض رکھا۔ اس نسبت کے ساتھ بغض رکھا۔ یعنی صحابیت کا خیال نہیں کیا اور صحابہ کو، گویا کہ اس مقام پہ فائز نہیں سمجھا جس پہ اللہ پاک نے ان کو فائز فرمایا ہے۔ اس وجہ سے فرمایا: "فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ" جو ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں وہ اصل میں ایسا ہے جیسے کہ انہوں نے میرے ساتھ محبت کی۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے تو اصل میں وہ میرے بغض کی وجہ سے، میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھ رہا ہے۔


                ہم کو حضرت امیر (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنے والوں سے کوئی دوستی نہیں ہے، بلکہ مناسب ہے کہ ہم ان سے بے زار ہوں، لیکن چونکہ وہ سب پیغبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب کرام ہیں "کہ ما بمحبتِ ایشاں ماموریم و از بغض و ایذائے ایشاں ممنوع" یعنی ہم کو ان کے ساتھ محبت رکھنے کا حکم ہے اور ان کے ساتھ بغض و ایذا رسانی سے روک دیئے گئے ہیں۔ اس لئے لازمًا ہم بھی پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کی دوستی کی وجہ سے تمام صحابہ کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ بغض و ایذا رسانی سے دور رہتے ہیں کیونکہ ان سے بغض و ایذا کا معاملہ سرورِ عالم تک پہنچتا ہے۔ لیکن جو محق (حق پر) ہے ہم اس کو حق والا ہی کہیں گے اور مخطی (بلا قصد خطا وار) کو مخطی، حضرت امیر (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حق پر تھے اور ان کے مخالف خطا پر۔ اس سے زیادہ کہنا فضول ہے۔


                خطاء مختلف وجوہات سے ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کسی کو پورا علم نہ ہو، یا ان کو بات پوری طرح سمجھ نہ آئی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب مثلاً میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ معاملہ اتنا عجیب ہے اور اتنا نازک ہے کہ اگر آپ ایک فریق کی سن لیں نا تو اسی کو حق پہ سمجھیں گے، دوسرے کی اگر نہ سنیں۔ مثلاً علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ جنہوں نے اختلاف کیا، انہوں نے اس وجہ سے اختلاف کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کیوں نہیں حفاظت کی؟ اور مطلب یہ ہے کہ ان کے قاتلوں سے قصاص کیوں نہیں لیا؟ ان کے قاتلوں سے قصاص کیوں نہیں لیا؟ اور جو ان کے قاتل ہیں وہ ان کی فوج میں آ کر شامل ہو گئے ہیں تو ان کو کیوں نہیں دور کر دیا؟ یہ ان کا تھا۔ اب اگر آپ کو دوسری بات نہ سمجھائی جائے تو آپ کیا سمجھیں گے؟


                دوسری بات آپ سنیں، علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں، خلیفہ ہی حد نافذ کر سکتا ہے، قصاص لے سکتا ہے۔ تو جب تک آپ لوگوں نے مجھے خلیفہ نہیں مانا تو میں کیسے کر سکتا ہوں؟ اپنی طرف سے تو نہیں کر سکتا۔ یہ تو میری ذمہ داری ہوگی تو پھر میں کروں گا نا۔ تو اب دیکھو دوسری طرف بھی بالکل واضح بات ہے۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ ان حضرات نے، ما شاء اللہ حق جو سمجھا اس کے مطابق عمل کیا۔ لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ اصل بات تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ہی صحیح تھی، لیکن دوسرے حضرات کو غلطی لگ گئی تھی، خطاء ہو گئی تھی۔ اور چونکہ اجتہادی مسئلہ ہے، تو اجتہادی مسئلے میں جو اخلاص کے ساتھ حق پر ہوتا ہے ان کو دو اجر ملتے ہیں اور جو خطاء پر ہوتے ہیں ان کو ایک اجر ملتا ہے۔

                بالکل ایسے ہی، جیسے کہ خون کے آنے سے وضو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نہیں ٹوٹتا، لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ٹوٹتا ہے۔ اب دیکھیں، ہم دیکھتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ والے حضرات جو ہیں نا وہ خون اگر آ جائے تو بغیر وضو تازہ کیے وہ نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم تصور کر سکتے ہیں اس کا؟ ہم تو نہیں کر سکتے۔ اب ظاہر ہے ان کی نماز کا مسئلہ ہے لیکن چونکہ ان کا مسلک یہی ہے، تو اجتہادی بات ہے تو اب اجتہادی باتوں میں جو بھی خطاء پر ہے ان کو ایک اجر مل رہا ہے اور جو حق پر ہے، ان کو دو اجر مل رہے ہیں۔


                دوسری مثال سمجھو کہ جیسے فاتحہ خلف الامام ہے۔ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حرام ہے۔ اب دیکھو ہم اپنی اپنی بات پہ عمل کرتے ہیں ہم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو غلط نہیں کہتے، حالانکہ فاتحہ امام کے پیچھے پڑھنا ان کے نزدیک فرض ہے۔ اور ہمارے امام کے پیچھے پڑھنا حرام ہے۔ تب یہ اجتہادی بات ہے اور اجتہادی بات کیوں ہے، یہ بڑی تفصیل ہے فقہی امور کی۔ اس کو ظاہر ہے مطلب اتنی مختصر بات میں تو نہیں بیان کیا جا سکتا۔ لیکن بہرحال بات تو ایسی ہے۔ تو اجتہادی باتوں میں اگر اختلاف بھی پایا جائے تو اس میں جو حق پر ہوتا ہے اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جو دوسری طرف ہوتا ہے اس کو ایک اجر ملتا ہے۔

                اب یہاں پر نماز کے مسائل کے بارے میں اختلاف تھا، وہاں قتال کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ کس کو مارنا چاہیے، (کس کو) نہیں مارنا چاہیے۔ تو بات تو اجتہادی ہی تھی نا۔ دونوں تو حق پر ہی کر رہے تھے نا، اللہ کے لیے کر رہے تھے نا۔ تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اس مسئلے میں آگے جانے سے روکا گیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا اگر میرے کسی صحابی کے بارے میں پتہ چل جائے کہ اس نے قتل کیا، پھر بھی ان کے بارے میں بات نہ کرو۔ بس ان کے بارے میں بات نہ کرو۔ بس جب آپ ﷺ نے فرما دیا تو اس کے بعد ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بس ٹھیک ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہم بھی بالکل اسی طرح ہی کریں گے۔


                اس بحث کی تحقیق کی تفصیل کا ذکر اس مکتوب 251 دفتر اول میں درج ہے جو خواجہ محمد اشرف کو لکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بات پوشیدہ رہ گئی ہو تو اس مکتوب کی طرف رجوع فرمائیں۔


                تصحیحِ عقائد کے بعد احکامِ فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بغیر چارہ نہیں۔ اور فرض و واجب، حلال و حرام، سنت و مستحب، مشتبہ و مکروہ کی واقفیت بھی ضروری ہے۔ اور اس طرح علمِ فقہ کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ فقہ کی کتابوں کا مطالعہ ضروریاتِ دین میں سے سمجھیں اور اعمالِ صالحہ کی بجا آوری کی رعایت میں سعیِ بلیغ فرمائیں اور نماز جو کہ دین کا ستون ہے، اس کے چند ارکان اور فضائل بیان کیے جاتے ہیں، غور سے سنیں۔


                اول وضو کامل اور پورے طور پر نقل کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ ہر عضو کو تین بار، بہ تمام و کمال دھونا چاہیے، تاکہ سنت کے طریقے پر وضو ادا ہو، اور سر کا مسح بالاستیعاب یعنی پورے سر کا مسح کرنا چاہیے۔ اور کانوں اور گردن کے مسح میں خوب احتیاط کرنی چاہیے۔ اور بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے پاؤں کی انگلیوں کے نیچے کی طرف سے خلال کرنا لکھا ہے اور اس کی رعایت رکھیں۔


                اور مستحب کی بجا آوری کو معمولی نہ سمجھیں۔ مستحب حق جل شانہ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب عمل ہوتا ہے۔ اگر تمام دنیا کے عوض اللہ تعالیٰ کا ایک پسندیدہ اور محبوب عمل معلوم ہو جائے اور اس کے مطابق عمل میسر ہو جائے تو غنیمت ہے۔ اس کا بھی یہی حکم ہے کہ کوئی چند اس بحث کی تحقیق کا تفصیل سے ذکر اس مکتوب (نمبر 251 دفتر اول) میں درج ہے جو خواجہ محمد اشرف کو لکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بات پوشیدہ رہ گئی ہو تو اس مکتوب کی طرف رجوع فرمائیں۔

                تصحیحِ عقائد کے بعد احکام فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بغیر چارہ نہیں، اور فرض و واجب، حلال و حرام، سنت و مستحب، مشتبہ و مکروہ کی واقفیت بھی ضروری ہے اور اسی طرح علم (فقہ) کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ فقہ کی کتابوں کا مطالعہ ضروریات (دین) میں سے سمجھیں، اور اعمال صالحہ کی بجا آوری کی رعایت میں سعی بلیغ فرمائیں۔ نماز جو کہ دین کا ستون ہے اس کے چند ارکان و فضائل بیان کئے جاتے ہیں، غور سے سنیں۔

                اول وضو کامل اور پورے طور پر کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے، ہر عضو کو تین بار بتمام و کمال دھونا چاہیے تاکہ سنت کے طریقہ پر وضو ادا ہو، اور سر کا مسح بالاستیعاب یعنی سارے سر کا مسح کرنا چاہیے اور کانوں اور گردن کے مسح میں خوب احتیاط کرنی چاہیے اور بائیں ہاتھ کی خضر یعنی چھنگلیا سے پاؤں کی انگلیوں کے نیچے کی طرف سے خلال کرنا لکھا ہے، اس کی رعایت رکھیں، اور مستحب کے بجا لانے کو معمولی نہ سمجھیں۔ مستحب حق جل و علا کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب عمل ہے، اگر تمام دنیا کے عوض اللہ تعالےٰ کا ایک پسندیدہ اور محبوب فعل معلوم ہو جائے اور اس کے مطابق عمل میسر ہو جائے تو غنیمت ہے۔ اس کا بعینہ یہی حکم ہے کہ کوئی خرف ریزوں یعنی ٹھیکروں سے نفیس جواہر خرید لے اور بے فائدہ جماد یعنی پتھر سے روح کو حاصل کرے۔خزف ریزوں یعنی ٹھیکریوں سے نفیس جواہر خرید لے اور بے فائدہ جماد یعنی پتھر سے روح کو حاصل کر لے۔


                اصل میں یہ والی بات فرائض، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ فرائض جو ہیں، یہ تو لوازمات ہیں۔ فرائض اور واجبات، اس میں تو آپ کو چانس ہی نہیں ہے، چھوٹنے کا چانس ہی نہیں۔ اگر آپ چھوڑیں گے تو اس کا گناہ ہوگا۔ حرام ہے اس کا چھوڑنا۔ واجب کا چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے اور فرض کا چھوڑنا یہ حرام ہے اور فرض کا منکر کافر ہے۔ اور واجب کا منکر کافر نہیں ہے، بس یہ فرق ہے۔


                تو اب جب یہ والی بات سمجھ میں آئی تو اب آتی ہے بات مستحبات کی طرف، سنتوں اور مستحبات۔ سنت کے بارے میں تو صاف بات ہے "قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ"۔ اے میرے حبیب آپ ان سے کہہ دیں اگر تم اللہ پاک کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کر لو اللہ پاک تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ تو سنت کی تو بات ہی الگ ہے نا۔ سنت کی تو بات ہی الگ ہے۔ یعنی سنت کو چھوڑنا اتنی بڑی ہمت کی بات ہوگی کسی کی اگر کوئی چھوڑے گا تو۔ یعنی اتنی بڑی نعمت کو چھوڑنا کہ انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ خود محبت کرے۔ اس چیز کو چھوڑنا کیسی عجیب چیز ہے؟ تو سنت کو چھوڑنا تو اس قسم کی بات ہے کہ اس چیز سے انسان اپنا اعراض کر لے گویا کہ۔


                اور مستحب چھوڑنا ایسا ہے کہ اللہ پاک کی ایک پسندیدہ چیز جس کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہے، جو اللہ کو پسند ہے، آپ اس کو چھوڑیں گے تو آپ مجھے بتاؤ کہ آپ کتنی سعادت سے محروم کر رہے ہیں اپنے آپ کو؟ آپ گویا کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیز کو صرف تھوڑے سے نفس کے آرام کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ تھوڑے سے نفس کے آرام کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ مثلاً نماز کے اندر جو مستحبات ہیں، اس کو اگر آپ چھوڑ دیں تو آپ کتنی جلدی فارغ ہو جائیں گے، تھوڑا سا اندازہ تو کر لیں۔ کتنی جلدی فارغ ہو جائیں گے؟ ایک منٹ کا بھی فرق نہیں پڑتا۔ ایک منٹ کا بھی چار رکعات میں فرق نہیں پڑتا۔ اگر مستحبات آپ چھوڑ دیں، مثلاً ثناء آپ چھوڑ دیں۔ تو یہ اس طرح اور کئی چیزیں ہیں۔ آپ جو ہے نا تین دفعہ کی "سبحان ربی العظیم" کی جگہ ایک دفعہ پڑھ لیں "سبحان ربی العظیم"، اب یہ چیزیں آپ نہ کریں تو آپ کا کتنا وقت بچ جائے گا؟ ایک منٹ بھی نہیں بنتا چار رکعات میں، اور آپ اتنی بڑی عظیم نعمت سے اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں


                کمال کی بات یہ ہے کہ اس کمزوری میں علماء زیادہ آگے ہیں۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ پتہ نہیں علماء کے دماغ میں یہ بات کہاں سے بیٹھ گئی، کہ اس مسئلے میں وہ زیادہ سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یا تو اپنے آپ کو عالم سمجھ کر اس چیز کا، گویا کہ اپنے آپ کو وہ نہیں سمجھتے، ایک دو کی بات ہوتی تو پھر کوئی بات نہیں تھی۔ اب تو ایسے جیسے جم غفیر کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی اس سے بالکل اعراض، جیسے مطلب لگ رہا ہے، جیسے اس کو اپنے قابل گویا کہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ نہیں سمجھ رہے۔ تو ایسے حضرات سے میری عاجزانہ درخواست ہے، (ما شاء اللہ مفتی صاحب بھی تشریف لائے ہیں۔ میں عرض کر رہا تھا مفتی صاحب) حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوب شریف میں جو آخری باتیں فرمائی ہیں، اس مکتوب شریف میں جو عقائد کے بارے میں تھا، تو اس میں اب حضرت فرما رہے ہیں کہ کچھ فقہ کے بارے میں بات بھی ہو جائے۔


                تو فرمایا: فقہی امور میں بھی بہت خیال رکھنا چاہیے اور اس کا علم سیکھنا چاہیے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس میں پھر فرائض و واجبات کی بات کی کہ ان کے اوپر ٹھیک ٹھیک عمل ہونا چاہیے۔ اور مستحبات کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ یہ بھی بہت یعنی بڑی بات ہے کیونکہ اللہ کا پسندیدہ عمل ہے۔ پس مستحب کا مطلب کیا ہے؟ اللہ کا پسندیدہ عمل۔

                تو میں نے کہا کہ دیکھو فرائض و واجبات، فرض کا ترک تو حرام ہے اور واجب کا ترک مکروہ تحریمی ہے۔ وہ تو بہت خطرناک بات ہے، وہ تو گناہ میں آدمی شامل ہو جائے گا۔ اور سنت کو چھوڑ دیں تو ترک پر ملامت ہے۔ ویسے فقہی لحاظ سے، لیکن اگر قرآن پاک کی نص کے لحاظ سے دیکھیں نا تو "قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ" یعنی آپ ﷺ کی جو اتباع ہے، سنت کی اتباع، یہ اللہ پاک کی محبوبیت کا راستہ ہے کہ اللہ پاک کا محبوب آدمی بنتا ہے۔ تو انسان اگر سنتوں کو چھوڑتا ہے تو انسان گویا، یعنی اللہ پاک کا محبوب بننا نہیں چاہتا۔ تو یہ کتنی بڑی جرأت ہے؟ کتنی بڑی جرأت ہے؟


                اور پھر مستحبات کی بات میں نے کی، کہ مستحب میں نے کہا کہ مثلاً نماز کے مستحبات ہیں۔ تو چار رکعت نماز میں اب تمام مستحبات چھوڑ دیں تو کیا ایک منٹ بچ جائے گا؟ جتنے مستحبات ہیں نماز کے، وہ اگر آپ چھوڑ دیں اور نماز پڑھ لیں تو کیا آپ کی نماز میں ایک منٹ بچ جائے گا چار رکعت کی نماز میں؟ میرے خیال میں تو نہیں۔ پھر ہم کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے؟ کیا ذوق ہمارا گڑبڑ ہو گیا؟ کیا ہم لوگ اتنے بے ذوق ہو گئے کہ مستحب کا مطلب "اللہ کا پسندیدہ عمل"۔ اللہ تعالیٰ جس چیز سے خوش رہیں، تو آپ توقع رکھتے ہیں کہ میں اللہ کے ساتھ محبت کرتا ہوں اور اس چیز کو بھی آپ سمجھ نہیں رہے کہ جس چیز کو اللہ پسند کرتا ہے، آپ اس چیز کو چھوڑ کر، کیسے جرأت کر رہے ہیں؟


                ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ ہے۔ فرمایا: "جو شخص تصوف میں داخل ہوتا ہے، طریقت میں داخل ہوتا ہے، تو اس کا اول قدم مستحبات کی رعایت ہے"۔ تو اس کا جو اول قدم ہے کیا ہے؟ وہ مستحبات کی رعایت ہے۔

                اور میں نے عرض کیا بڑے دکھی دل کے ساتھ، میں نے کہا اس مسئلے میں علماء زیادہ مبتلا ہیں۔ مستحبات کے ترک میں، بہت عجیب حالت ہے، بہت عجیب حالت ہے۔ بلکہ مجھ سے تو بعض علماء نے کہا بھی۔ یعنی ڈھٹائی کی انتہا ہے۔ کہتے ہیں ہاں علماء فرائض و واجبات تک زیادہ وہ کرتے ہیں۔ گویا کہ مستحبات کو اپنے آپ کو، وہ نہیں سمجھتے، مطلب گویا کہ مطلب اس کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کہ ہمیں بھی اس کی ضرورت ہے۔


                حالانکہ بہت خطرناک بات ہے، یعنی ذوق خطرناک ہے۔ ویسے تو مستحبات پہ ملامت بھی نہیں۔ سنت کے چھوڑنے پہ ملامت ہے مستحبات پہ ملامت بھی نہیں۔ لیکن افسوس تو ہو سکتا ہے نا کہ اتنی بڑی نعمت کو انسان کیسے اور پھر اس کو اپنا ایک اصول بنا لے؟ یہ تو عجیب بات ہے۔ اصول کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ فکر کی بات تو ہے نا۔ کچھ بات تو ہے۔ یہی بات آہستہ آہستہ آہستہ، مفضی ہو جاتی ہے اور چیزوں کی طرف۔


                ایک انڈونیشین تھے ہمارے ساتھ، Class fellow تھے۔ ان کو میں نے ویسے سمجھانے کے لیے ایک نقشہ بنایا۔ بڑے اچھے آدمی تھے۔ انڈونیشیا میں بھی تصوف کافی ما شاء اللہ، یعنی ہے، اگرچہ جیسے گڑبڑ یہاں پر ہوئی ہے، اس طرح گڑبڑیں وہاں پر بھی ہوئی ہیں۔ لیکن بہرحال تصوف کے نام سے کام وہاں پر ہے کیونکہ وہ بھی تصوف والوں کے ذریعے سے مسلمان ہوئے ہیں۔ یعنی انڈونیشیا جو علاقہ ہے، یہ بھی۔ تو میں نے ایک نقطہ بنایا، میں نے کہا یہ نقطہ ایمان ہے۔ اس کے گرد ایک دائرہ ہے۔ وہ دائرہ میں نے کہا فرائض کا ہے۔ اس سے آگے ایک دائرہ ہے، وہ دائرہ واجبات کا ہے۔ اس سے ایک دائرہ آگے ہے، وہ سنن کا ہے۔ اس سے آگے دائرہ ہے وہ مستحبات کا ہے۔ میں نے کہا اس سے ایک دائرہ ہے مباحات کا ہے۔ میں نے کہا شیطان سب سے پہلے آپ کے مستحبات پر Attack کرے گا۔ کیونکہ وہ آگے تو نہیں جا سکے گا۔ لیکن جس وقت آپ کے مستحبات پر Attack کر لے گا تو اس کے لیے سنتوں کا راستہ کھل گیا۔ اگر مستحبات میں وہ کامیاب ہو گیا داخل ہونے میں، تو اب آپ سے سنن چھڑانے کی محنت کرے گا۔ تو گویا کہ سنت آپ کی خطرے میں پڑ گئی۔ اور جب سنت پہ Attack اس کا کامیاب ہو جائے گا تو آپ کے واجبات خطرے میں پڑ گئے۔ اور جب واجبات میں کامیاب ہو تو آپ کے فرائض خطرے میں پڑ گئے۔ اور جب فرائض میں بھی کامیاب ہو تو پھر ایمان خطرے میں ہے۔ اللہ بچائے۔


                تو میں نے کہا شیطان تو یہ راستہ لیتا ہے۔ تو اب بظاہر تو سمجھتے ہیں کہ مستحبات کو ہم چھوڑ رہے ہیں تو کچھ بھی نہیں، لیکن آگے بات جاتی ہے آگے، کہ وجہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جب کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کا فوری صلہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرا اچھا کام اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ اور جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا فوری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے دوسرا غلط کام آسان ہو جاتا ہے۔ تو یہ راستہ جاتا ہے اس طرف۔ اس وجہ سے فکر کی ضرورت ہے۔ اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ارشاد فرمایا بہت اہم نصیحت ہے۔ یہ تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہے نا، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تصوف میں جو لوگ داخل ہوتے ہیں ان کا پہلا قدم جو ہوتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ مستحبات کی رعایت کا۔ مستحبات کی رعایت بہت اہم بات ہے۔ بہت اہم بات ہے۔ یہ اپنے آپ کو گویا کہ اچھے ماحول کے اندر Envelop کرنا ہے، میں اگر اپنے الفاظ میں کہہ سکوں۔ مستحبات کی رعایت کا مطلب کیا ہے؟ اپنے آپ کو اچھے ماحول کے اندر Envelop کرنا ہے۔ ارد گرد اپنے مستحبات کا دائرہ بنا لو، سبحان اللہ، کتنا پیارا ہے۔ ٹائم تو لگتا ہی ہے، وقت تو لگتا ہے، کس کا وقت نہیں لگتا؟


                یہ میں دیکھتا ہوں یہ جو پروا نہیں کرتے، راستے میں کھڑے ہو کر گپ شپ لگاتے ہیں۔ ویسے ہی اپنا وقت... وقت تو نہیں رہتا۔ وقت تو حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے وقت کی قدر ایک برف والے سے سیکھی تھی۔ ایک برف بیچنے والے سے سیکھی تھی۔ کہتے ہیں ہمارے دوست تھے، ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ تو میں نے دیکھا کہ اس کے ماتھے پہ بڑی Tension کے اثرات ہیں، جیسے بہت پریشان ہو۔ میں نے کہا حضرت کیا وجہ ہے، کیا پریشانی ہے؟ اس نے کہا آپ دیکھ نہیں رہے؟ میری برف پگھل رہی ہے اور گاہک نہیں آ رہے! کیونکہ برف اگر آپ اس کو فریج میں رکھ دیں تو فریج پہ تو خرچہ زیادہ آئے گا، برف کی اتنی قیمت نہیں ہوتی۔ اور برف گرمی میں پڑی ہو تو کیا خیال ہے؟ اس نے تو پگھلنا ہے۔ تو پانی تو آپ بیچ نہیں سکتے۔ تو فرمایا: دیکھو میری برف پگھل رہی ہے اور گاہک نہیں آ رہے ہیں۔ بعینہ اسی قسم کی بات ہے، وقت نکل رہا ہے۔ وقت کے ساتھ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ اس کو پکڑ سکتے ہیں؟ دنیا میں واحد یہ چیز ہے جس کے اوپر آپ کا کوئی بس نہیں چلتا۔ چاہے کچھ بھی آپ کریں۔ کوئی Storage place نہیں ہے اس کے لیے۔ ایک سیکنڈ بھی نہیں آپ اس کو Store کر سکتے۔ بس آپ کے پاس تین کام ہیں وقت کے لحاظ سے، تین کام۔ یا اس کو کسی اچھے کام میں لگا دو۔ یا پھر اس کو ضائع کر دو۔ یعنی کچھ بھی نہ کرو اس کے ساتھ۔ اور یا پھر برے کام میں استعمال کر لو اور اپنا بیڑا غرق کر دو۔ یہی تین کام ہوئے۔ یہی تین کام آپ اس کے ساتھ کر سکتے ہیں اس کے علاوہ چوتھا کام اس کے ساتھ کر ہی نہیں سکتے ہو۔


                تو اب دیکھو، فرائض و واجبات تو Fixed ہیں اس کے اندر تو آپ کچھ کر نہیں سکتے جتنے ہیں بس اس سے زیادہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے وہ Fixed ہیں۔ سنن کا معاملہ بھی محدود ہے۔ اگرچہ زیادہ ہیں، لیکن محدود ہیں۔ ایک Limit ہے۔ کیا خیال ہے، ظہر کی کتنی رکعتیں سنتیں ہیں؟ چھ۔ چھ پڑھ لو گے، سات تو نہیں پڑھ سکتے۔ آٹھ، آٹھ پڑھ لو۔ پڑھ سکتے ہو آٹھ؟ آٹھ پڑھ لو گے تو دو خود بخود نفل ہو جائیں گے۔ اس سے زیادہ نہیں کر سکتے۔ تو یہ یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ سنن بھی Limited ہیں۔ آپ کے پاس ایک بہت بڑے ذخیرے کا امکان جو ہے وہ نوافل کا ہی ہو سکتا ہے، مستحبات کا ہی ہو سکتا ہے۔ جس پہ کوئی Limit نہیں ہے جتنا جمع کرنا چاہو کر لو۔ آپ کی مرضی، آپ کی ہمت۔


                اور اس پر اجر سبحان اللہ سبحان اللہ، کیا بات ہے! اللہ کرے کہ یہ بات ہمیں سمجھ آ جائے۔ دیکھو فرمایا سب سے اونچا قرب تو قربِ فرائض کا ہوتا ہے۔ فرائض کا جو قرب ہے، سب سے اونچا۔ اس سے زیادہ کسی چیز کا قرب نہیں ہو سکتا۔ اور پھر فرمایا، نوافل کا جو قرب ہے، وہ بڑھتا ہے۔ کیوں؟ Limit نہیں ہے۔ بڑھتا ہے۔ بڑھتا ہے، بڑھتا ہے، بڑھتا ہے، بڑھتا ہے۔ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اللہ پاک فرماتے ہیں میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے، میں اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ کیا بات ہے! فرائض میں مقابلہ نہیں کر سکتے ہو کسی کا، وہ سارے برابر ہو سکتے ہیں کم از کم بس فرائض تو Limited ہیں، لیکن نوافل میں مقابلہ کر سکتے ہو۔ "وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ"، اس میں تو بہت مقابلہ کر سکتے ہو۔


                حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی آپ بیتی میں فرمایا کہ ہمارے گھر کی جو عورتیں ہیں، رمضان شریف میں قرآن پاک کی تلاوت میں مسابقت کرتی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ اور چھپ چھپ کے معلوم کرتی ہیں کہ اگر وہ دس پارے پڑھے تو میں گیارہ پڑھوں گی۔ اگر اس نے گیارہ پڑھے تو میں نے بارہ پڑھنے ہیں۔ اس کے اندر مقابلہ ہو سکتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ آپ کے پاس چانس ہے۔ جتنا آپ لینا چاہیں تو لے لو۔ تو جہاں لینے کا تھا موقع وہاں پیچھے ہو گئے، کمال کی بات ہے۔ چلو پھر دنیا میں بھی ایسے ہو جاؤ نا۔ دنیا میں بھی ایسے ہو جاؤ۔ دیکھو تین قسم کے لوگ ہیں، تین قسم کے؛

                1۔ وہ لوگ جو دین میں حریص ہیں، دنیا میں حریص نہیں ہیں۔

                2۔ دوسرے وہ جو دین میں بھی حریص ہیں، دنیا میں بھی حریص ہیں۔

                3؛ تیسرے وہ جو دنیا میں حریص ہیں، دین میں حریص نہیں ہیں۔

                کون سی Category میں ہونا چاہیے؟ جو دین میں حریص ہیں اور دنیا میں حریص نہیں ہیں۔ اس میں ہونا چاہیے نا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو چلو وہ برابر برابر والے معاملے پہ چلے جاؤ۔ اگر آپ کو دنیا کو جمع کرنے کا شوق ہے اور اس میں آپ پیچھے نہیں ہو سکتے تو دین میں بھی جمع کرنے کا شوق ہو جائے نا۔ وہاں پر بھی مستحبات کرو نا۔ کبھی آپ نے ایسا کیا کہ بس میرے زندہ رہنے کے لیے تو روٹی کافی ہے نا سادہ روٹی، اور پانی میں ساتھ پی لوں تو زندہ تو رہوں گا نا ان شاء اللہ۔ کیا خیال ہے ڈاکٹر صاحب؟ ان سے پوچھ لیں کہ زندہ رہتا ہے یا نہیں آدمی؟ تو کبھی اس پہ گزارا کیا ہے؟ فرائض واجبات پہ گزارا اس طرح ہے۔ فرائض واجبات پہ گزارا کیا ہے؟ وہ اس طرح ہے کہ نہیں ہے؟


                تو اگر وہاں پر آپ گزارا نہیں کرتے تو پھر یہاں بھی نہ کرو نا۔ یہاں بھی اپنے لیے کچھ بناؤ نا۔ ٹھیک ہے ہم ملامت نہیں کریں گے کسی کو وجہ شریعت کا حکم یہ ہے ملامت نہیں کریں گے، لیکن ترغیب، ترغیب تو ہے۔ ترغیب تو ہے، اور یہ بھی ہے جس چیز کو اپنے لیے پسند کرتے ہو اس کو دوسرے کے لیے پسند کرو، یہ تو ہے۔ کہ اپنے لیے جس چیز کو پسند کرتے ہو دوسرے کے لیے بھی پسند کرو، اپنے اور بھائی کے لیے بھی پسند کرو۔ تو یہی اصل میں بنیادی بات ہے کہ ہم لوگ اس بات کا خیال رکھیں۔


                میرے نانا 108 سال کی عمر میں فوت ہوئے، آخر وقت تک الحمد للہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ ہاں شکر ہے اللہ کا، تو اخیر وقت میں کان سے نہیں سنتے تھے، مطلب ظاہر ہے یہ چیزیں ان کی، اور آنکھ کے لیے انہوں نے بہت موٹا سا شیشہ بنایا تھا، مطالعہ ان کا بدستور تھا۔ تو میری آخری ملاقات جو ہوئی حضرت کے ساتھ، تو میں ان کو لکھ کے بتایا کرتا تھا، لکھ لیتا تھا وہ پڑھ لیتے اور چونکہ بات تو کر سکتے تو جواب مجھے زبان سے دیتے تھے۔ تو میں نے لکھ دیا میں نے کہا حضرت اب آپ سنتے نہیں، سبحان اللہ، اب آپ ما شاء اللہ ذکر کے لیے بالکل فارغ ہو گئے، اب تو آپ بہت ذکر کر سکتے ہیں کیونکہ اب سنائی تو آپ کو دیتا نہیں ہے۔ تو شور تو آپ کو رہتا نہیں ہے۔ تو بس اب تو بس اللہ کے ساتھ ہی آپ لو لگائیں گے۔ تو بہت زیادہ تو ہنس پڑے، کہتے ہیں آپ نے بڑی اچھی بات کی ہے۔ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔ آپ نے بہت اچھی بات کی۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ دیکھو، خوش نصیب ہوتا ہے وہ شخص جس کو یہ بات سمجھ آجائے کہ میرا وقت کیسے قیمتی بن جائے؟ وقت تو جانا ہے، وقت تو رہتا نہیں ہے کسی کے پاس، تو بس قیمتی بن جائے، استعمال ہو جائے۔


                تو یہاں پر حضرت نے یہ بات فرمائی:

                کمالِ طہارت اور کمالِ وضو کے بعد نماز کا قصد کرنا چاہیے، جو مومن کی معراج ہے۔

                سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ، اَلصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ معراج کیوں کہتے ہیں اس کو؟ یعنی اس کے اندر جو روحانیت کی پرواز ہے وہ ایسی ہے جیسے اللہ پاک کے ساتھ ملاقات کرنا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے۔ آپ جو نماز میں، آپ، کیوں وجہ کیا ہے؟ جس وقت ہم کہتے ہیں اللہ اکبر، تکبیر تحریمہ کہتے ہیں تو اس کے ساتھ ہم دنیا سے نکل جاتے ہیں۔ اب آپ دنیا میں نہیں ہیں۔ ہمارے شیخ، مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا سمجھانے کے لیے، کہ دیکھو کبھی کوئی کسی کو اس طرح دیکھا ہو کہ آپ کے درمیان بیٹھا ہو اور اچانک کہہ دے، السلام علیکم! آپ کہیں گے اس کو کیا ہو گیا؟ آپ کدھر تھے؟ اچانک آپ نے کہہ دیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ، کیا بات ہے؟ آپ کو کیا ہو گیا؟ کہاں ہیں؟ تو کہتے ہیں نماز میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ساتھ ہی آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں لوگ اور کہتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ادھر نہیں تھے۔ جیسے آپ نے کہا "اللہ اکبر" تو آپ یہاں سے چلے گئے۔


                عرفات میں الحمد للہ، حضرت کے ساتھ ہم تھے، اللہ کا شکر ہے، کیا عجیب دن تھے سبحان اللہ۔ 1984، حضرت کے ساتھ الحمد للہ ہم نے حج کیا۔ تو حضرت کے ایک خلیفہ نے ہمارے ایک پیر بھائی نے، بیان فرمایا، اور بیان بھی بدلنے کا فرمایا، کہ اب امام بدلنا چاہیے یہی وقت ہے جو، ہم بدل سکتے ہیں بہت پیارا بیان فرمایا۔ اس کے بعد حضرت نے دعا شروع کی۔ حضرت کی دعا تو ویسے بھی عجیب دعا ہوتی تھی۔ اور پھر عرفات کی دعا! اس کی تو بات ہی اور ہے۔ تو حضرت دعا کر رہے تھے ساتھ ہی مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی، تشریف فرما تھے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ، اور جنہوں نے حضرت کو اجازت دی تھی۔ وہ بھی تشریف فرما تھے۔ آمین آمین ہم سب کر رہے تھے۔ اچانک مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ کی زبان سے نکلا، "اوئے یہ تو چلے گئے، یہ تو ہم سے چلے گئے!" بڑی استغراق کی حالت تھی۔ اس کے بعد بھئی لوگ آئے، بس دعا پوری، تو لوگ آئے اور اپنے اپنے مانگ رہے ہیں جس کا جو آ گیا کہ آپ مانگو کیا مانگتے ہو۔ تو یہ دعا کے اندر چلے جانا ہم نے دیکھا تو ہے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا کہ واقعی ایسا ہی ہوتا تھا۔ سب کے لیے یہ چانس موجود ہے۔ چانس سب کے لیے ہے۔ بس مقام مقام کی بات ہے۔


                تو اس طرح سب سے پہلے یہ جو چیز ہے یہ ہم سیکھ سکتے ہیں نماز میں کہ نماز میں ہم سمجھیں کہ ہم یہاں سے چلے گئے۔ جب ہم نے کہہ دیا "اللہ اکبر" تو اب ہم یہاں سے چلے گئے، اب یہاں نہیں ہیں۔ مسجد میں داخل ہو گئے تو آپ اس ملک کی عملداری سے نکل گئے۔ اب آپ کے اوپر کسی ملک کی حکومت نہیں ہے۔ شرعاً کیا خیال ہے مفتی صاحب؟ کسی ملک کی آپ کے اوپر حکومت نہیں ہے۔ اور دوسری طرف یہ بات ہے کہ نماز میں چلے گئے تو دنیا ہی سے چلے گئے آپ۔ دنیا ہی سے چلے گئے۔ اب واپس جب آتے ہیں اس کے بعد آپ سے بات ہو سکتی ہے۔ دیکھو آپ کو سلام نہیں کیا جا سکتا، آپ سے بات نہیں ہو سکتی، آپ کسی کا کچھ کر نہیں سکتے۔ مطلب ظاہر ہے بس اب نماز ہی پڑھ سکتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ آج کل کے بعض عرب حضرات کی نمازوں، اس میں تو آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ نماز، نماز نہیں رہتی پھر، وہ پتہ نہیں کیا چیز بن جاتی ہے۔ جیسے کسی نے، موبائل آیا کسی کا تو ہمارے ہاں تو مفتیان کرام نے یہ بتایا نا کہ ایک ہاتھ سے آپ اس کو بند کر لیں۔ اتنی گنجائش ہے۔ تو بس وہ عوام کو آپ ایک کوئی اختیار دیں تو پھر وہ اختیار وہ اس پہ تو نہیں رہتا نا پھر تو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ تو فون آیا تو اس نے نکال کر کہا، أَخِيْ! فِي الصَلَاة! بھلے میں بھائی نماز میں ہوں، تو کیا نماز رہ گئی ہے؟ اچھے یہ واقعہ مجھے ایک عالم نے سنایا اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے اسے نماز کے بعد کہا کہ آپ کی یہ نماز یہ ٹوٹ گئی ہے۔ کہتا ہے: "عِنْدَكَ أَمْ عِنْدَنَا؟" آپ کے نزدیک ہے یا ہمارے نزدیک؟ انہوں نے کہا آپ کے نزدیک ٹوٹ گئی، ہمارے نزدیک نہیں ٹوٹی!


                یہ بس یہ حالت ہے جی۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ایسی چیز جو ہوتی ہے نا یہ بی بی تمیزہ کا وضو ہوتا ہے۔ بی بی تمیزہ کا وضو۔ وہ کوئی ظاہر ہے دایونی ہو گی جو بھی ہے۔ تو کسی بزرگ نے کہا کہ بھئی نماز تو پڑھ لیا کرو نا۔ انہوں نے کہا میرا وضو نہیں ہوتا۔ تو انہوں نے کہا اچھا میں وضو کراتا ہوں، تو اس کو اس نے وضو کروا دیا۔ وضو کرا کے کہتے اس طرح وضو کر لیا کرو۔ تو سات مہینے کے بعد جب بزرگ آئے انہوں نے کہا کہ بھئی نماز پڑھتی ہو؟ کہتی ہاں پڑھتی ہوں۔ وضو بھی کرتی ہو؟ کہتی، "وہ آپ نے کرایا نہیں تھا؟"

                تو حضرت نے فرمایا: یہ بی بی تمیزہ کا وضو ہے، یہ ٹوٹتا نہیں ہے۔ اس طرح ان کی نماز بھی نہیں ٹوٹتی۔ کچھ بھی کر لو، باتیں کر لو، کبڈی کر لو۔ کرتے ہیں کبڈی؟ ہم نے، بالکل میں نے خود دیکھا ہے مدینہ منورہ میں، مسجد نبوی میں۔ ہم سے غالباً دو صف آگے ایک صاحب تھے۔ اور پتہ نہیں اچانک اس نے پیر اس طرح، اس طرح کھڑے کھڑے نماز کے اندر وہ پیر اس طرح، پانچ چھ دفعہ اس طرح، اس طرح کر لیا۔ کمال کی بات ہے بھئی، آگے پیچھے ہونے کا تو چلو کچھ نہ کچھ، لیکن پیروں کو اس طرح کرنے کی کہاں پر ہے اور کس طرح ہے؟ اور ضرورت اس کی کیا ہے؟ لیکن ہے، ہم نے دیکھا ہے۔


                ایک دفعہ میں میزابِ رحمت کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ وہ برآمدے جو تھے، اب تو برآمدے نہیں رہے لیکن وہ جو ترکی برآمدے تھے پہلے والے، اب ایک صاحب نماز پڑھ رہے ہیں، تو اپنی نماز میں اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی دستار کھولا، پھر باندھ لیا، نماز کے اندر۔ اچھا پھر کمال کی بات ہے، اپنی جیب کے اندر سے خالی ہاتھ ڈالا اور پھر خالی نکالا، یہ مجھے بتاؤ اس کی کون سی تُک بنتی ہے؟ بھئی خالی ہاتھ جیب میں ڈالو اور پھر نکالو، اس کا کیا مطلب؟ اور کبھی ادھر خارش کبھی ادھر خارش۔ میں حیران ہوں میں حیران دیکھتا تھا، وہ ہمارے ساتھی تھے مجھے کہتے ہیں، کیوں آپ کو حیرت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا حیرت نہیں ہوگی تو کیا ہوگی؟ کہتے ہیں، آگے دیکھو۔ میں نے کہا یا اللہ خیر، ابھی ڈانس کرے گا، کیا کرے گا؟ سب کچھ تو اس نے کر لیا ہے۔ اب اس کے بعد یہ کیا کرے گا؟ اب نماز جب ختم ہو گئی تو آرام سے بیٹھ گے۔ کہتے ہیں یہ دیکھو نا، یہ حیرت کی بات ہے۔ اب اس کو کوئی خارش نہیں ہو رہی ہے۔ اس کو ساری خارش نماز میں ہو رہی تھی۔ یہ بات ہے۔ آج کل نماز ایسی ہو گئی، اللہ بچائے، اللہ بچائے، اللہ بچائے۔ بعض لوگ حج اور عمرے سے یہ فیض لے کے آتے ہیں۔ ان کی اچھی باتیں نہیں لاتے۔ ان کی اچھی باتیں بھی ہیں، وہ بھی سنا سکتا ہوں، لیکن ان کی اچھی باتیں نہیں لاتے، ان کی یہ باتیں لاتے ہیں کہ ٹوپی چھوڑ دیں گے، اس طرح نماز کے اندر یہ حرکتیں کریں گے، ہاں اس طرح باتیں، وہ سمجھیں گے شاید ہم نے فیض بڑا پایا ہے۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کر رہا تھا، نماز معراج المؤمنین ہے اس کا خیال رکھنا چاہیے، بہت بڑی چیز ہے، اللہ تعالیٰ سے دلوانے والی نعمت ہے۔ وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ۔


                اور کوشش کرنی چاہیے کہ فرض نماز با جماعت ادا ہوں بلکہ امام کے ساتھ تکبیر اولی بھی ترک نہیں ہونی چاہیے، اور نماز کو مستحب وقت میں ادا کرنا چاہیے۔ قرأت میں قدر مسنون کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ رکوع و سجود میں بھی طمانیت ضروری ہے کیونکہ فرض ہے یا بقولِ مختار واجب۔ قومہ میں اس طرح سیدھا کھڑا ہونا چاہیے کہ تمام بدن کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں

                ہم نے کپڑوں کا کہا ہے نا، حضرت فرماتے ہیں کہ ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں، یعنی بالکل سیدھے ہو جائیں، ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ جیسے میں ادھر جا رہا ہوں تو میرا ہاتھ اس طرف، جب میں کھڑا ہو جاؤں گا تو ہاتھ بھی اس طرف ہو جائے گا، پیر بھی سیدھے ہو جائیں گے، سینہ بھی سیدھا ہو جائے گا، مطلب ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پہ آ جائیں، یہ والی بات ہے۔

                اور سیدھا کھڑے ہونے کے بعد طمانیت در کار ہے کیونکہ طمانیت فرض ہے یا واجب یا سنت علی اختلاف الاقوال۔ ایسے ہی جلسے میں جو دو سجدوں کے درمیان ہے اچھی طرح بیٹھنے کے بعد اطمینان ضروری ہے جیسا کہ قومہ میں۔ رکوع و سجود کی کم سے کم تسبیحیں تین بار ہیں اور زیادہ سے زیادہ سات بار یا گیارہ بار ہیں علی اختلاف الاقوال۔ امام کی تسبیح مقتدیوں کے حال کے اندازے کے مطابق ہونی چاہیے۔ شرم کی بات ہے کہ انسان تنہا پڑھنے کی حالت میں طاقت ہوتے ہوئے اقل تسبیحات پر کفایت کرے۔ اگر زیادہ نہ ہو سکے تو پانچ یا سات بار تو کہے۔ سجدہ کرتے وقت اول وہ اعضا زمین پر رکھے جو زمین کے نزدیک ہیں۔ پس اول دونوں زانو زمین پر رکھے پھر دونوں ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی۔

                اس طرح ناک لگ جائے گی پھر پیشانی۔ اور اٹھنے میں بالکل Reverse۔

                زانو اور ہاتھ زمین پر رکھتے وقت دائیں طرف سے ابتدا کی جائے۔ سر اٹھاتے وقت اول ان اعضا کو اٹھانا چاہیے جو آسمان سے نزدیک ہیں، پس پہلے پیشانی اٹھانی چاہیے۔ قیام کے وقت اپنی نظر کو سجدے کی جگہ پر، اور رکوع کے وقت اپنے پاؤں پر اور سجدے میں ناک کی نوک پر، اور جلوس کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں پر یا اپنی گود کی طرف نظر رکھنی چاہیے۔ جب نظر پراگندہ ہونے سے روک لی جائے اور مذکورہ بالا جگہوں پر جما لی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ نماز بجمعیت اور حضور دل کے ساتھ میسر ہو گئی


                میں اب آپ کو اس کا ایک Logic بتاؤں، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، حضرت نے بڑی قیمتی بات فرمائی ہے الحمد للہ۔ خشوع کے بارے میں لوگ پوچھتے ہیں، کہ خشوع کیا چیز ہے؟ کیا خیال ہے، پوچھتے ہیں نا؟ خشوع کیا چیز ہے؟ خشوع مطلب ظاہر ہے کیسا؟ کیونکہ خشوع کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہے۔ کم سے کم خشوع یہ ہے، اصل تو کیفیتِ احسان ہے نا، وہ تو ملے گی تو ملے گی۔ جو کم سے کم خشوع ہے وہ یہ ہے کہ جو آپ، یہ جو اعمال ہیں مستحب اعمال ہیں، سنت اعمال ہیں، فرض و اعمال ہیں، واجب اعمال ہیں، ان کو اپنی اپنی جگہ پر کرنے کے لیے آپ کا ذہن اتنا اس طرف متوجہ ہو، کوئی اور چیز آپ کو اس سے ہٹا نہ سکے۔ اتنا خشوع، کم سے کم۔ سمجھ میں آ گئی نا؟ لہٰذا حضرت نے یہی بات فرمائی کہ اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ جو ضروری خشوع، آپ کو حاصل ہو گیا۔ ضروری خشوع آپ کو، کیوں وجہ کیا ہے؟ اگر آپ کا ذہن کسی اور طرف گیا ہو گا تو پھر آپ یہ نہیں کر سکیں گے۔ وہ آپ جو ہے نا کبھی ایک چیز رہ جائے گی کبھی دوسری چیز رہ جائے گی۔ لیکن اگر آپ اس کو یعنی دیکھو نا، پہلے آپ ناک رکھتے ہیں، پھر پیشانی رکھتے ہیں، اٹھنے میں ریورس کرتے ہیں، اور آگے نہیں دیکھتے بلکہ آپ جب بیٹھے ہو تو اپنے ہاتھوں پہ یا گود میں نظر رکھتے ہیں، سجدے میں ناک کے نوک پر رکھتے ہیں، اور اپنے انگوٹھوں پہ جو ہے نا وہ رکھتے ہیں، اس میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ ساری چیزوں کا جو اہتمام آپ کر رہے ہیں تو ما شاء اللہ یہ خشوع ہے نا۔ یہ خشوع ہے۔


                تو اتنا خشوع تو ہر ایک کر سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی بات تو نہیں کہ انسان نہیں کر سکتا۔ میں حیران ہوتا ہوں، نماز اتنی بڑی عبادت ہونے کے باوجود، لوگ جو اس کی ناقدری کرتے ہیں نا، تو میرا دل بہت دکھتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص ہے، کیا کرے گا بھئی، کتنا ہم لوگوں کا وقت اہم ہے، اور کتنا وقت ہمارا بچتا ہے؟ مثلاً میں رکوع میں جاتا ہوں، تو رکوع میں بالکل میری کمر سیدھی ہو جائے اور یا اس طرح ہو، اس میں کتنا وقت لگے گا؟ کچھ بھی نہیں؟ پھر اٹھتے وقت، میں ادھر پہنچ کے ادھر سے چلا جاتا ہوں اور ادھر کھڑا ہو جاتا ہوں، اور پھر ادھر سے جاتا ہوں، کتنا وقت میرا زیادہ لگے گا؟ اور تھکاوٹ کتنی ہو گی؟ صرف اور صرف ناقدری ہے اور کچھ نہیں ہے۔ غفلت ہے اور کچھ نہیں ہے، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

                اور دیکھو نا ساٹھ سال تک نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، یعنی آپ دیکھیں بوڑھے بوڑھوں کی نمازیں دیکھیں۔ کیا خیال ہے، اب جو اس طرح نمازیں پڑھے تو اس نے جوانی میں بھی ایسے ہی نمازیں پڑھی ہوں گی۔ جس کی جو نماز اب ہے، تو ظاہر ہے جوانی میں بھی ایسی ہی تھی۔ بلکہ شاید اس سے بھی ممکن ہے خراب ہو، کیونکہ اس وقت تو اور چیزوں کا بھی اثرات ہوں گے۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی نمازیں درست کر لیں۔ ایک چھوٹی سی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اس کی قدر کریں اور اس کے مطابق اپنی نمازیں بنائیں۔ "نمازِ سنت کے مطابق پڑھیں" حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی۔ کسی کو نہیں ملتی ہو نا تو انٹرنیٹ پہ بھی مل جائے گی۔ اس کو ہی لے کے ڈاؤن لوڈ کر کے پرنٹ کر لو۔ ویسے مل جاتی ہے۔ دینی کتب خانوں سے مل جاتی ہے۔

                ہم نے منگوائی ہے کبھی اس میں، ہاں؟ خانقاہ میں منگوائی ہے کبھی؟ منگوانی چاہیے یہ ایسی چیز ہے "نمازِ سنت کے مطابق پڑھیں" منگوائی ہے کتاب اس کو منگوانی چاہیے رکھیں، مطلب بعض دفعہ ہم اس کے فضائل بیان کرتے ہیں تو اسی وقت اگر کوئی لے لے تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کو فائدہ ہو گا ان شاء اللہ کیونکہ اکثر میں اس کا ذکر تو کرتا رہتا ہوں۔ ہاں، نمازِ سنت کے مطابق پڑھیں۔ اب اس وقت کہہ لوں، اس وقت موقعہ گرم ہے۔ اس وقت وہ لے کر ان شاء اللہ اس عمل کی توفیق بھی ہو جائے گی اور جب اس کو پتہ چلے گا کہ میں نے بازار میں لینی ہے تو بازار جائے گا تو جائے گا نا، اتنے میں معاملہ ٹھنڈا پڑ چکا ہو گا، پھر موقعہ نہیں ملتا۔


                تو ایسی چیزیں منزل ہو گیا، یا نمازِ سنت کے مطابق پڑھیے، مناجاتِ مقبول ہو گیا، یا چہل حدیث شریف ہو گیا۔ یہ بہت مفید چیزیں ہیں۔ ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ اور اگر کسی کے پاس موبائل ہے تو موبائل پہ ڈاؤن لوڈ کر کے اس کو پڑھیں۔ بہت ما شاء اللہ، یعنی آسانی کی باتیں ہیں۔


                اچھا ایک بات اور بھی مجھے کرنی ہے جو کتاب میں نہیں لکھی۔ وہ یہ ہے کہ ابھی حضرت نے بات فرمائی ہے مجھے اس سے یاد آ گئی یہ بات۔ حضرت نے فرمایا کہ باجماعت نماز میں امام صاحب جو ہیں یہ مقتدیوں کی رعایت کریں۔ کیونکہ ذو الحاجہ ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں بھی آتا ہے، ذو الحاجہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس میں تو آپ جو کم سے کم مقدار ہے، اس پہ آپ کر لیں، تاکہ سب کو سہولت ہو، اس میں کسی کو تکلیف نہ ہو۔ لیکن اپنی جو نماز ہے ذاتی، انفرادی، وہ انسان جتنی لمبی کر سکے، اچھا ہے۔ اب عجیب بات یہ ہے کہ ائمہ حضرات کو جب ہم دیکھتے ہیں، تو ان کی جماعت والی نماز لمبی ہوتی ہے، اپنی انفرادی نماز چھوٹی ہوتی ہے۔ مفتی صاحب اس کو ہم کیا کہیں گے؟ اس کی کوئی Logic ہے؟ اس کی کوئی Logic نہیں ہے۔ حالانکہ الٹی بات ہے نا۔ کہ جماعت والی نماز آج کل کے لوگوں کی رعایت کے لیے، بلکہ آپ ﷺ نے باقاعدہ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ: کیا آپ فتنہ بننا چاہتے ہیں؟ سورۃ البقرہ پڑھتے ہیں فتنہ بننا چاہتے ہیں ذو الحاجہ ہوتے ہیں تو یہ، یہ جو ہے نا مطلب جو، یعنی ایک دفعہ میں نے باقاعدہ دیکھا تھا کہ تقریباً چار رکعت نماز غالباً نو، دس منٹ میں پتہ نہیں گیارہ منٹ میں پڑھی تھی۔ اور ذاتی انفرادی نماز چھ، سات منٹ میں۔ تو کیا بات ہے، اس کو کیا کہیں گے ہم؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ آج کل لوگ ہمارے جو نماز کے لیے آتے ہیں ان کو بڑی غنیمت سمجھنا چاہیے۔ الحمد للہ آ رہے ہیں، ہماری کسی وجہ سے اگر یہ آنا بند کر لیں، تو کتنا نقصان ہے! ان کو تو کم از کم ہم آنے دیں نا جو آ رہے ہیں۔ ہماری وجہ سے کہیں بدک کے واپس نہ چلے جائیں۔

                یہ بہت اہم بات ہے۔ مجھے یاد ہے، رویتِ ہلال کمیٹی کے اجلاس میں، میں جا رہا تھا۔ راستے میں مجھے مغرب کی نماز پڑھنی تھی۔ اور میں نے بڑی مشکل سے مسجد دریافت کر لی راستے میں، جو فیصل ایوینیو ہے اس پہ میں جا رہا تھا۔ تو بائیں طرف اس میں مجھے مینار نظر آیا تو میں چلا گیا۔ میرے خیال میں غالباً، سبحان ربی العظیم، 21 مرتبہ پڑھا جا سکتا ہو گا۔ اس وقت میرا وقت کیسا تھا؟ لیکن پروا ہی نہیں۔ اتنی لمبی! میں ابھی تک نہیں سمجھا ہوں کہ ہمارے پنجاب کے ائمہ، خطیب حضرات یہ قعدہ میں کیا پڑھتے ہیں؟ زیادہ دعائیں پڑھتے ہیں؟ ایک دعا پڑھتے ہیں؟

                کیونکہ ہم نے تو بہت آہستہ آہستہ بھی پڑھا ہو نا، پھر بھی ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایک ہمیں مزید دعائیں کرنی پڑتی ہیں ساتھ۔ ٹھیک ہے، اچھا ہے، الحمدللہ ہمیں تو فائدہ ہو جاتا ہے، لیکن کسی کو حاجت ہو تو اس کا خیال رکھنا چاہیے، نہیں رکھنا چاہیے؟ کوئی جلدی جانا چاہتا ہو؟

                ابھی تک مجھے پتہ نہیں کہ۔۔ بلکہ میں تو میرے خیال میں بعض حضرات سے درخواست کروں گا، مجھے سنائیں کہ آپ کتنی دیر میں سناتے ہیں؟ مطلب قعدہ میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟ التحیات اور پھر اس کے بعد جو درود شریف، پھر اس کے بعد جو... اہ... یہ کس طریقے سے پڑھتے ہیں؟ کیسے ہو جاتا ہے؟

                اور دوسرا، اکثر یہ بات ہوتی ہے کہ آج کل کا موسم allergy کا موسم ہے، اور carpet allergy سب سے خطرناک allergy ہے۔ carpet allergy سب سے خطرناک allergy ہے، کیونکہ اس کے اندر برس ہا برس کی وہ چیزیں پڑی ہوتی ہیں۔ اور بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں اس کے۔

                اتنا لمبا سجدہ کیسے کرتے ہیں؟ بس تین دفعہ پڑھ لو اور اس کے بعد لوگوں کو سانس لینے دو۔ جتنا کم سے کم وقت آپ سجدے میں گزار سکتے ہیں اس carpet پر، وہ اتنا اچھا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے خدانخواستہ اگر کسی کو allergy شروع ہوگئی، تو نماز میں اس کی یکسوئی کدھر رہے گی؟ چھینکیں شروع ہو جائیں گی۔ اور کمال کی بات ہے کہ نماز میں چھینکیں آتی بھی زیادہ ہیں۔ کیوں آتی ہے؟ وہ بتاتا ہوں، Medical reason!

                Medical reason یہ ہے کہ آپ نیچے جھکتے ہیں، جھک کے دیکھتے ہیں۔ اگر سامنے دیکھتے پھر نہیں آئے گی۔ جیسے آپ نے نیچے دیکھا تو یہ سارا sinus نیچے کی طرف اس کا رخ ہو گیا۔ اور آپ کو اگر ذرہ بھر بھی allergy کا کوئی مسئلہ ہوگا تو چھینکیں آنی شروع ہو جائیں گی۔

                تو اس لحاظ سے نمازیوں کی یکسوئی کے لیے۔ ویسے بھی شریعت کا حکم تو ہے کہ مختصر نماز پڑھانی چاہیے، مختصر پڑھانی چاہیے۔ تو یہ جو بیمار ہیں، ان بیماروں کا خیال تو بہت زیادہ ضروری ہے نا وجہ یہ ہے کہ وہ ان کو مسئلہ ہوتا ہے۔

                ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے: سانس کی قدر اگر کسی سے پوچھنا چاہتے ہو تو اس سے پوچھو جس کو asthma کی بیماری ہو۔ یعنی جن کو سانس کا مسئلہ ہو ان سے پوچھو، کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ سانس لینا کتنا مشکل ہے۔

                حضرت کو تھا حضرت کے جو خدام تھے وہ بہت خیال رکھتے تھے کہ کہیں کسی نے اگربتی نہ جلائی ہو، کہیں کسی نے وہ جو دیسی scent نہیں ہوتا، جو لگا دیتے ہیں بس کام شروع ہو جائے، اس کا وہ خیال رکھتے ہیں کیونکہ حضرت بیمار ہو جاتے تھے۔ لوگ تو شوق میں لگاتے ہیں نا۔

                لیکن ظاہر ہے ہر ایک کے لیے تو نہیں ہوتا۔ تو وہ یہ چیز، اور اگربتیاں بھی لوگ شوق سے لگاتے ہیں، حالانکہ asthma والوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اگر asthma والے ہوں تو پوچھنا چاہیے،اگر کوئی asthma والے ہوتے ہوں تو نہیں لگانی چاہیے آج کل کے دور میں۔

                تو بہرحال میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ چونکہ میں خود بھی allergy کا مریض ہوں، تو مجھے بھی اس کا پتہ چلتا ہے کہ میں سجدے میں کتنی مشکل سے وقت گزارتا ہوں۔ اگر سجدہ لمبا ہو جائے۔

                اس کے لیے باقاعدہ ہم نے فتویٰ لے لیا پھر کہ اس کے لیے کیا کریں؟ کس طریقے سے؟ کہ ہر ایک کو سمجھا تو سکتے نہیں جی۔ تو بتایا گیا کہ متأخره سجدہ کرو۔ یعنی تھوڑا سا تاخیر کے ساتھ شامل ہو جاؤ، یعنی اوپر اوپر وہ زیادہ وقت گزارو۔ اور سجدے میں بالکل تھوڑا تاخیر کے ساتھ جاؤ، تو آپ کو time تھوڑا لگے گا۔ تو اس سے یہ ہوگا کہ یہ مسئلہ آپ کو نہیں ہوگا۔ تو ٹھیک ہے، جن کو مسئلہ ہو تو ان کو یہ اس طرح کہہ رہ سکتا ہے۔

                کیونکہ ظاہر ہے، دوسرے کا عمل تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ ہاں، پہلے نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ پہلے کی ممانعت ہے۔ آپ تھوڑے ایک لمحے کے لیے بھی اگر امام سے پہلے ہو گئے تو اس کے اوپر بڑی وعید ہے۔ کیا وعید ہے؟

                تمہارا سر گدھے کا بنایا جائے گا۔ مطلب آخر وجہ کیا ہے؟ آپ اگر آپ پہلے اٹھتے ہیں تو مجھے بتاؤ کیا نماز پہلے ختم کر سکتے ہیں آپ؟ نماز تو آپ امام کے ساتھ ہی ختم کریں گے نا۔ تو جب امام کے ساتھ ہی نماز ختم کرنی ہے تو پہلے اٹھنے کا آپ کو فائدہ کیا ہے؟ تو یہ گدھا پن نہیں ہے؟ تو ویسے گدھے کو حماقت کی نشانی سمجھنا یہ تو حدیث شریف سے ثابت ہو گیا نا۔

                یورپ والے تو اس کو ذہانت کا سمجھتے ہیں نا۔ وہ گدھے کو ذہین لوگوں کا وہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ تو، کم از کم حدیث شریف سے ثابت ہو گیا کہ گدھا جو ہے وہ کیا ہے؟ حماقت کی علامت ہے۔ نہیں اس طرح کرنا چاہیے۔ خوامخواہ جو ہے نا، بلاوجہ اپنے آپ کو آگے کرنا، اس سے آپ کو فائدہ کیا ہے؟ ماشاءاللہ جی حضرت کی برکت سے آج ماشاءاللہ بہت ساری چیزیں آ گئیں۔

                اسی رکوع کے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو کھلا رکھنا اور سجود کے وقت انگلیوں کا ملانا سنت ہے۔

                اس طرح کرتے ہیں نا۔ عموماً اس طرح کرتے ہیں۔ اس طرح کرتے ہیں مطلب یعنی بیٹھے ہوئے۔ قعدہ... قعدہ میں۔ رکوع کی بات نہیں ہے اور رکوع میں تو کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ جو ہے نا اس میں جو ہے نا وہ بیٹھے ہوئے، وہ اس طرح مطلب بلکہ قبلہ رخ ہونی چاہئیں۔ کہ ساری انگلیاں قبلہ کے رخ ہونی چاہئیں۔

                اور سجود کے وقت انگلیوں کا... اور اس کو بھی مدنظر... انگلیوں کا کھلا رکھنا یا ملانا بے تقریب اور بے فائدہ نہیں ہے۔ شارع نے اس میں کئی قسم کے فائدے ملاحظہ کر کے اس پر فرمایا ہے۔

                نیز شارعِ شریعت عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام کی متابعت کے برابر کوئی فائدہ نہیں ہے۔

                یہ سب احکام مفصل و واضح طور پر کتبِ فقہ میں درج ہیں۔ یہاں بیان کرنے سے مقصود صرف یہ ہے کہ علمِ فقہ کے مطابق عمل بجا لانے میں ترغیب ہو۔

                حضرت نے بات فرمائی کہ میں ساری چیزیں نہیں لکھنا چاہتا۔ آپ ذرا مطلب خود اس کو پڑھ لیں، فقہ کی کتابیں موجود ہیں۔ صرف ترغیب کے طور پر حضرت نے چند باتیں فرمائیں۔


                وَفَّقَنَا اللّٰهُ سُبْحَانَهُ وَإِيَّاكُمْ عَلَى الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ الْمُوَافِقَةِ لِلْعُلُوْمِ الشَّرْعِيَّةِ بَعْدَ أَنْ وَفَّقَنَا اللّٰهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لِتَسْهِيْلِ الْعَقَائِدِ الدِّيْنِيَّةِ بِحُرْمَةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ عَلَيْهِ وَآلِهِمْ وَعَلَى آلِ كُلٍّ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَفْضَلُهَا وَمِنَ التَّسْلِيْمَاتِ أَكْمَلُهَا۔


                اگر نماز کے فضائل جاننے اور اس کے مخصوص کمالات معلوم کرنے کا ذوق و شوق اپنے اندر پائے تو تین مکتوب جو ایک دوسرے سے متصل اور ملے ہوئے ہیں، ان کا مطالعہ فرمائیں۔ پہلا مکتوب 260 فرزندِ محمد صادق کے نام لکھا گیا اور دوسرا مکتوب نمبر 261 میر محمد نعمان کے نام اور تیسرا مکتوب 263 مشیخت مآب شیخ تاج کے نام لکھا ہے۔


                ان اعتقادی اور عملی دو بازوؤں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق سبحانہ و تعالیٰ کی توفیق راہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک اختیار کر لے۔ جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد و عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے، یا کوئی نئی چیز حاصل کرے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ معتقدات کی نسبت ایسا یقین و اطمینان حاصل ہو جائے کہ شک ڈالنے والے کی شک اندازی سے زائل نہ ہو، اور شبہ کے پیش آنے سے باطل نہ ہو جائے۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کے پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں، اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے۔


                مطلب یہ ہے کہ اگر آپ دلیل سے مان جاتے ہیں، تو دلیل سے آپ ہٹ بھی سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ اگر دلیل سے آپ نے، آپ کو کسی نے منوا لیا، تو دلیل سے آپ کو ہٹا بھی سکتے ہیں۔ اور آپ کو تمام چیزوں کا، وہ تو ہو گا نہیں، ایسا۔ تو نتیجہ کیا ہو گا، کوئی آدمی ذرا زیادہ Genius Type ہو اور ہف... فتیین... ہاں؟ تو کیا ہوگا؟ وہ آپ کو ہٹا دے گا۔ جیسے نہیں ہوتے غامدی ٹائپ یا اس قسم کے لوگ۔ جو، کھوج لگاتے ہیں، باقاعدہ کہاں کہاں سے لوگوں کو خراب کر سکتے ہیں۔ اور اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور لوگ جو ہے نا وہ خراب کر لیتے ہیں۔ تو اس طریقے سے مطلب، یعنی، یہ ہے کہ، کوئی بھی خراب ہو سکتا ہے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ خبردار کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اور اعمال کی بجا آوری کے لیے آسانی اور سہولت حاصل کرے، اور سستی اور سرکشی جو نفسِ امارہ سے پیدا ہوتی ہے اس کو دور کرے۔ اور اس طرح طریقہ صوفیہ کے سلوک کا مقصود یہ نہیں کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کرے۔ یہ تو خود لہو و لعب میں داخل ہے۔


                بہت خوبصورت سلسلہ ہے نقشبندیہ۔ بہت خوبصورت سلسلہ ہے۔ بہت مضبوط بنیادوں پہ قائم سلسلہ ہے۔ لیکن افسوس، دراڑیں پڑ گئیں۔ اور جو چیزیں، فائدے کے لیے تھیں، ان کو نقصان کے لیے استعمال کیا گیا۔ تو حضرت کے مکتوبات شریف میں یہ چیزیں بکھری ہوئی ملیں گی آپ کو۔ مثلاً دیکھیں نا کیا فرمایا: کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں۔ یہ مت فرمائیں نا! تو جو مراقبات میں کشفیات کے رخ پہ نکل جائیں، تو خطرات شروع ہو جاتے ہیں۔ خطرات شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تک انسان کی نفس کی اصلاح نہ ہو چکی ہو۔ ہر وقت وہ خطرے میں ہے۔ ہر وقت وہ خطرے میں ہے۔ کیونکہ نفس کی اصلاح جب ہو جاتی ہے، تو ذوق صحیح ہو جاتا ہے۔ مزاج صحیح ہو جاتا ہے۔ پسند ناپسند صحیح ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ان کشفیات سے خود ہی اعراض ہو جائے گا۔ ان چیزوں کی طرف پھر نہیں جائے گا۔


                اور جو صحیح کشف ہو گا، اسی کو ہی صرف لے گا۔ غلط چیزوں کی طرف نہیں، ان کو کوئی جیسے کوئی آدمی دھوکہ نہیں کھا سکے گا غلط بات بتا کے۔ اس طرح کوئی غلط کشف بھی دھوکہ نہیں کر سکے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ اس نے صحیح چیز کو پا لیا ہو گا۔ جب تک ایسا نہیں ہے وہ خطرے میں ہے۔ اس وجہ سے پہلی نیت جو ہے، انسان کی درست ہونی چاہیے۔ کہ میں کس لیے تصوف کو کر رہا ہوں؟ کس لیے میں سلوک کو طے کر رہا ہوں؟ کیا میں بزرگ بننے کے لیے کر رہا ہوں؟ یا اللہ پاک کا فرمانبردار بندہ بننے کے لیے کر رہا ہوں؟ اگر میں اللہ پاک کا فرمانبردار بندہ بننے کے لیے کر رہا ہوں، تو یہ ساری چیزیں مائنس جو اس کے علاوہ ہیں۔ اب ہمارا اس سے کوئی کام نہیں ہو گا۔


                تو وہ جو چیز اوّل ہے وہ اوّل ہے نا۔ جو چیز اوّل، اَلْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ۔ جو اصل چیز ہے، جو کہ ہماری اصلاح ہو جائے، وہ بنیادی چیز ہے نا، وہ تو پھر، مزید تو صرف تجاوزات ہیں، اضافے ہیں۔ تو اب یہ جو چیز ہے مطلب، یہ سلوک کا طے کرنا، یہ لازم ہے، اوّل ہے۔ وجہ کیا ہے؟ "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" پر عمل کرنا چاہتے ہیں آپ۔ تو "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" پر جو عمل ہے وہ نفس کے ساتھ متعلق ہے۔ وہ نفس کے ساتھ متعلق ہے۔ جب تک آپ کا نفس صاف نہیں ہوا، پاک نہیں ہوا، اس وقت تک آپ کی کوئی گفتار پاک ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی سماعت کے پاک ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی سوچ کے پاک ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی کشف کے صحیح ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ ہر چیز میں خطرے میں ہیں۔ تو پہلے اپنے آپ کو محفوظ تو کرو!


                اب صورتحال یہ ہے کہ مراقبہ پر زور ہے۔ حالانکہ مراقبہ محض ایک ذریعہ ہے۔ مفید ذریعہ ہے، یہ نہیں کہ مطلب، نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ غلط چیز ہے۔ مراقبہ ایک ذریعہ ہے۔ اس کو ذریعہ کی حد تک رکھو، اس کو مقصود نہ بنایا جائے۔ جس وقت آپ کو اتنا جذب حاصل ہو جائے، کہ اب آپ سلوک طے کر سکتے ہیں، تو فوراً سلوک طے کرنا چاہیے۔ مزید دیر نہیں لگانی چاہیے۔ کیونکہ جو آپ کی اصل چیز ہے وہ آپ کے سامنے آ گئی۔ اس کو طے کر لو، اس کے بعد پھر ما شاء اللہ، پھر الحمد للہ چونکہ حفاظت میں آ جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی، اس وجہ سے سلوک، جو سیر فی اللہ ہے، وہ آپ کے لیے سبحان اللہ کافی کھلا راستہ ہے۔ جتنا آگے بڑھ سکتے ہو، بڑھو۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن سب سے پہلے ان چیزوں کو تو درست کرو نا، کہ جو سلوک والی لائن ہے اس کو تو درست کر لو۔ تاکہ گناہ سے محفوظ ہو جاؤ۔ کیفیتِ احسان لوگ مراقبہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ کیفیت احسان مراقبہ نہیں ہے۔ کیفیتِ احسان لوگ مراقبہ سمجھتے ہیں۔ اور نفس کی اصلاح کو بھی مراقبے کے ذریعے سے کرتے ہیں یہ خیالی چیزیں ہیں تصوراتی چیزیں ہیں۔ یہ معاملہ بہت دور تک چلا جاتا ہے۔ ایک دفعہ چیز De-track ہو جائے نا، تو پھر جتنا، جتنا وقت بڑھتا ہے، جو De-tracking بڑھتی جاتی ہے۔


                تو اب صورتحال یہ ہے کہ مراقبے حال بنے ہوئے ہیں اور اس میں مراقبے کیا کرتے ہیں، خیالات پالتے ہیں۔ اور پھر ان خیالات کی تشریحات کرتے رہتے ہیں۔ فلسفیانہ تصوف بن گیا ہے۔ اسی میں لگے رہتے ہیں۔ اور اتنا زبردست وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو وہ راس آ جاتے ہیں۔ بات ثبوت سے کروں گا ان شاء اللہ۔ مجھے مفتی نعیم صاحب نے کہا، اس وقت ایک اہم عہدے پہ تھے کوہاٹ یونیورسٹی میں، اسلامیات ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔ ان کو باقاعدہ حکومت کی طرف سے Instructions گئیں کہ شمس الدین عظیمی کی کتابیں وہ داخل کر لیں۔ اسلامیات کے نصاب میں تصوف کو داخل کر لیں اور تصوف کو شمس الدین عظیمی کی کتابوں سے لے لیں۔ وہ کیوں پسند آیا ان کو؟ کہ اس میں یہی چیزیں ہیں۔ اصل چیز ختم۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟


                روحانی ڈائجسٹ نام سنا ہے کہیں؟ روحانی ڈائجسٹ، عظیمی سلسلہ۔ اس کے پہلے جو، بیک، اس پہ ایک ننگ دھڑنگ تصویر ہے۔ ان کا جو ہے نا وہ جو ان کے پیر ہیں۔ کیا نام ہے اس کا؟ ہاں، تاج الدین اولیاء۔ ہاں، اور اس میں لکھا ہے، کہ وہ ایک کروڑ فائلیں ایک سیکنڈ میں سائن کرتے ہیں۔ خدا کے بندو، کیا کرنا چاہتے ہو؟ کیا کرنا چاہتے ہو؟ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ، وہی فلسفیوں والی بات ہے کہ اللہ پاک نے عقلِ اوّل کو پیدا کیا اب نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ اللہ پاک تو اب کچھ نہیں کر رہا، اب عقلِ اوّل نے عقلِ دوم کو پیدا کیا، اب عقلِ اوّل، دوم کر رہا ہے، اور یہ سارا سلسلہ جس طریقے سے، انہوں نے بھی نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ، اللہ پاک نے تاج الدین بابا اولیاء کو پیدا کر لیا، اب سارا کام وہی کر رہے ہیں۔ اب اللہ پاک نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ کچھ نہیں کر رہا۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔


                عقیدے سلامت رہ گئے؟ یہ بات یہاں تک چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ضرورت ہے کہ ہم حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ کار کو، نقشبندی سلسلے کے لیے انتہائی مستند، وہ سمجھیں۔ اس سے آگے پیچھے نہ ہوں۔ اس سے آگے پیچھے ہوں گے تو دشمنوں کو پسند آئیں گے۔ پھر ہمارا اپنے ساتھ کوئی کام نہیں ہوگا۔ اور یہ حال ہو گا کہ مراقبات کرتے رہیں گے، نفس کی شرارتیں زوروں پر ہوں گی۔ اور اپنے خیال میں کہہ دیں گے کہ سارا کچھ ہو گیا۔ میں آپ کو ایسی کتابیں دکھا سکتا ہوں نقشبندی سلسلے کے بعض حضرات کی جن کا یہ خیال ہے کہ وہ باقاعدہ وہ، انہوں نے لکھا ہے باقاعدہ۔ مجھے بلکہ ایک صاحب نے ایک کتاب دے دی، تو میں نے پوچھا کہ کون ہیں، جب پتہ چلا میں نے کہا بس ٹھیک ہے مجھے پتہ ہے کہ اس میں کیا لکھا ہوگا۔ تو کیا ہے؟ وہ میں ڈھونڈ رہا تھا اور مجھے وہ مل گیا۔

                تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ بزرگوں کی کتابوں سے واقعات لے لے کر، کاٹ کاٹ کر، وہ صحیح باتیں وہ کر کے نا، بتاتے ہیں کہ سب سے اونچا مقام یہ ہے، سب سے اونچا مقام عبدیت ہے اور پھر یہ اور فلاں۔ سارا لکھنے کے بعد اخیر میں کہتے ہیں، مجھے کشف ہو گیا کہ آپ کو یہ مقام حاصل ہو گیا۔

                چلو جی! چھٹی ہو گئی۔ کشف سے حاصل ہو گیا۔

                اگر غلام احمد قادیانی کہہ دے مجھے کشف ہو گیا کہ تو نبی ہے تو مان لو گے؟

                یہ کون سی بات ہے؟ یہ کشفیات سے فیصلے ہوتے ہیں؟ تو یہ اصل میں یہ والی بات ہے کہ پھر اس ٹریک پہ لوگ چل پڑتے ہیں۔ اس ٹریک پہ لوگ چل پڑتے ہیں۔ اس وجہ سے صحیح طریقہ کیا ہے؟ جذب کسبی بامرِ مجبوری ہے۔ جذب کسبی کیا ہے؟ بامرِ مجبوری ہے۔ کیونکہ لوگ سلوک طے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اتنا جذب پیدا کر لو کہ سلوک طے کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جب تیار ہو جاؤ تو سلوک طے کر لو۔ جب سلوک طے ہو جائے گا، دس مقامات تفصیل کے ساتھ طے ہو جائیں گے، سبحان اللہ، سیر الی اللہ مکمل ہو گیا۔ پھر سیر فی اللہ میں جتنا آگے جا سکتے ہو، جاؤ۔ جیسے ابھی میں نے عرض کیا تھا تھوڑی دیر پہلے، فرائض واجبات مکمل کر لو سننِ مؤکدہ کے ساتھ، پھر اس کے بعد نوافل میں بہت بڑا میدان ہے آپ کے پاس۔ اس میں پھر آپ کو کوئی روکے گا نہیں۔ نوافل کا بہت بڑا میدان ہے۔ جتنا آگے جا سکتے ہو۔ چاہے نفلی صدقات میں جانا چاہتے ہو، چاہے نفلی رفاہی کام میں جانا چاہتے ہو، چاہے نفلی عبادات میں جانا چاہتے ہو، یہ سارے کے سارے نفلی معاشرت کی، یہ سارے کے سارے راستے آپ کے لیے کھلے ہیں۔ پھر جتنا جا سکتے ہو۔ طریقہ مطلب جو ہے نا وہ یہ ہے، کیا ہے؟ اس کے ذریعے سے آپ اللہ پاک کا قرب حاصل کر لو، ٹھیک ہے۔ لیکن فرائض واجبات کے بعد۔ فرائض واجبات اور سنن مؤکدہ کے بعد، بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟


                بعینہ اس طریقے سے اپنا سلوک طے کر لو۔ جو لازم اور فرض ہے۔ فرض سلوک طے کر لو، پھر اس کے بعد جاؤ نا، سیر فی اللہ کے لیے آپ کے پاس کوئی Limited میدان تو نہیں ہے۔ جتنا ذکر کر سکتے ہو پھر کرو، جتنی تلاوت کر سکتے ہو کر سکتے ہو تو کرو، جتنے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہو تو کرو۔ جو جو آپ کے لیے مواقع ہیں وہ سارے کے سارے مطلب استعمال کر لو، آگے بڑھتے رہو۔ ان شاء اللہ کبھی کوئی نہیں روکے گا۔ آپ چلتے جائیں، چلتے جائیں، چلتے جائیں۔ اور اگر آپ کے ذمے کوئی خدمت لگ گئی اس کو کرتے رہو۔ لیکن یہ تو نہیں نا کہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ، ابھی وہ فرائض پورے نہیں واجبات پورے نہیں اور آپ، ان چیزوں میں لگ جائیں۔ ٹھیک ہے نا یہ والی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں سمجھ عطا فرما دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔




                عنوان: قیدہ صحابہؓ، احکامِ شریعت اور اتباعِ سنت و مستحبات سے قربِ الٰہی کا حصول


                اہم موضوعات:

                صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت، مشاجراتِ صحابہ اور اجتہادی خطا کا شرعی تصور۔

                علمِ فقہ کی اہمیت اور فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات میں فرق۔

                سنت اور مستحب کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دینے کے نقصانات اور شیطان کا طریقۂ واردات۔

                وقت کی قدر و قیمت (برف فروش کی تمثیل کے ذریعے)۔

                نماز کو سنت کے مطابق ادا کرنا، تعدیلِ ارکان، خشوع و خضوع اور جدید دور کی غفلتیں۔

                تصوف و طریقت کا پہلا قدم (مستحبات کی رعایت)۔

                کشف و مراقبہ کی حقیقت، ان کے خطرات اور شریعت و سلوک کی اولیت۔








                عقیدہ صحابہؓ، احکامِ شریعت اور اتباعِ سنت و مستحبات سے قربِ الٰہی کا حصول - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ