مکتوباتِ امام ربانیؒ: عقائدِ اہل سنت، درجاتِ ایمان اور عظمتِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ

درس 127: مکتوب 266 (حصہ ششم)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • گناہوں کی سزا اور عذابِ جہنم (محدود اور لامحدود عذاب کا فرق)۔
    • ایمان کی حقیقت: نفسِ ایمان میں برابری اور کیفیات و اعمال کے سبب فرق۔
      • امام اعظم ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے ایمان کے متعلق اقوال کی تطبیق۔
        • امام اعظمؒ کی فقہی بصیرت (شفق ابیض اور شفق احمر کی سائنسی و فقہی توجیہ)۔
          • درجاتِ احسان، ولایتِ عامہ اور ولایتِ خاصہ کا بیان۔
            • خلفائے راشدینؓ کی افضلیت کی ترتیب اور اہل سنت کا اجماع۔
              • صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت عظامؓ سے یکساں محبت کی اہمیت اور افراط و تفریط (خوارج و روافض) سے اجتناب۔
                • مشاجراتِ صحابہؓ کو خطائے اجتہادی پر محمول کرنے اور ان کا ادب ملحوظ رکھنے کی تلقین۔

                  اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ

                  وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

                  أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

                  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


                  آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریفہ کا درس ہوتا ہے۔ اور آج کل عقائد کی بات چل رہی ہے اس میں۔ مکتوب شریف جو ہے اس میں عقائد ماشاءاللہ بیان کیے جا رہے ہیں۔ تو عقیدہ نمبر 19، اس کا سلسلہ چل رہا ہے

                  گزشتہ سے پیوستہ 

                  فرمایا: اور اگر یہ کہا جائے کہ کفر کے علاوہ بعض گناہوں کی سزا بھی عذابِ دوزخ آئی ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَ مَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا﴾ (النساء: 93) "جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کرے، پس اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا" اور اخبار (احادیث شریفہ) میں ہے کہ جو شخص قصدًا ایک نماز فرض قضا کرے تو اس کو ایک حقبہ (یعنی اَسّی سال) دوزخ میں عذاب دیا جائے گا۔ لہذا دوزخ کا عذاب صرف کافروں کے لئے ہی مخصوص نہ رہا (اور تم کہتے ہو کہ دوزخ کا عذاب کافروں کے لئے ہی مخصوص ہے)

                  (جواب میں) میں کہتا ہوں کہ یہ عذاب اس قاتل کے لئے مخصوص ہے جو قتل کو حلال جانے کیونکہ قتل کو حلال جاننے والا کافر ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے۔ اور کفر کے علاوہ دوسرے گناہوں کے لئے بھی دوزخ کا عذاب آیا ہے۔

                  اصل میں ایک ہوتا ہے نہ ختم ہونے والا عذاب اور ایک ہوتا ہے محدود عذاب۔ کچھ عرصے کے لیے، وہ کچھ عرصہ کچھ بھی ہوسکتا ہے، بہت زیادہ بھی ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو یہ جو گناہوں کا جو عذاب ہو سکتا ہے یعنی ایمان کے ساتھ وہ جو ہے یہ محدود عذاب ہوتا ہے۔ اور جو کفر والا عذاب ہے، یہ لامحدود ہے۔

                  اور کفر جو ہے یہ اصل میں کسی بھی چیز، جو کہ اللہ جل شانہٗ نے ہمارے لیے لازم کی ہو کہ اس پر ایمان لانا، اس میں اگر کوئی شک کرے یا کوئی اس کا انکار کر لے، تو وہ کفر ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی سارے انبیائے کرام کو مانے لیکن موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر نہ مانے تو کافر ہوگا، حالانکہ اس نے سارے انبیاء کو مانا ہے۔ سارے فرشتوں کو مانتا ہو لیکن اسرافیل علیہ السلام کو نہ مانے تو کافر ہوگا۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ اس طریقے سے قرآن پاک کی کسی ایک آیت سے بھی انکار کفر ہے۔

                  تو اس وجہ سے یہ جو فرمایا کہ جو قتل کو حلال جانے، اب قتل حرام ہے تو قتل کو جو حلال جانے گا تو اس نے شریعت کو نہیں مانا۔ تو اس وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا۔ یا کفر کی کسی بات کو پسند کرنا،یہ بھی کفر ہے۔ کفر کی کسی بات کو پسند کرنا یہ بھی کفر ہے۔ تو یہ جو چیز ہے اس پہ انسان کو بعض دفعہ ہو جاتا ہے، انسان سمجھتا ہے شاید یہ گناہ ہے۔ گناہ نہیں ہوتا، وہ کفر ہوتا ہے لیکن اس کو علم نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ جو گناہ کفر نہیں ہیں، مطلب کفر کی طرف نہیں جاتے، تو ان کے لیے محدود عذاب ہوگا اور وہ بھی اگر اللہ پاک معاف کرنا چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔ یعنی اللہ پاک تو مختار ہے۔ جس کے گناہ کو بھی معاف کرنا چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔

                  اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو توبہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہوں چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔ تو جو توبہ کرتے ہیں، ان کے تو اللہ تعالیٰ گناہ معاف فرماتے ہیں، لہٰذا توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اور جس وقت کسی چیز کی فضیلت سن لے تو انسان اس پر فوراً عمل کر لے، اس عمل کا نور نصیب ہو جاتا ہے۔ تو آئیے ہم سب توبہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی توبہ کو قبول فرمائے۔ اللہ تعالیٰ، ہم توبہ کرتے ہیں تمام گناہوں سے، چھوٹے گناہوں سے بھی، بڑے گناہوں سے بھی، جو ہمیں معلوم ہیں، جو ہمیں معلوم نہیں ہیں، جو قصداً ہوئے، جو خطا سے، جو ظاہر کے، باطن کے سارے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، ہماری توبہ اے اللہ قبول فرما لے۔

                  وہ بھی صفاتِ کفر کے شائبہ سے خالی نہیں ہے، جیسا کہ اس گناہ کو معمولی سمجھنا اور اس کے ارتکاب کے وقت بے پروائی کرنا اور شرعی اوامر و نواہی کو بے کار و خوار سمجھنا وغیرہ وغیرہ۔ خبر (حدیث) میں ہے: شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي : ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی“ اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ: أُمَّتِی أُمَّۃٌ مَّرْحُومَۃٌ لَّا عَذَابَ لَہَا فِی الْآخِرَۃِ: ”میری امت، امت مرحومہ (رحم کی ہوئی) ہے اس کے لئے آخرت میں عذاب نہیں ہے“۔ اور آیۂ کریمہ: ﴿اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَ لَمْ يَلْبِـسُوٓا إِيْمَانَـهُـمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَـهُـمُ الْأَمْنُ﴾ (الانعام: 82) ترجمہ: ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو ملوث نہیں کیا، ان کے لیے امن ہے“۔ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔اور مشرکوں کے بچوں کے احوال، اور پہاڑوں پر رہنے والے، اور پیغمبروں کے زمانۂ فترت کے مشرکوں کا حال، اس مکتوب (دفتر اول مکتوب 259) میں جو فرزندی محمد سعید رحمۃ اللہ علیہ کے نام تحریر ہوا ہے، مفصل مذکور ہو چکا ہے وہاں ملاحظہ کر لیں۔

                  اور ایمان کے کم و زیادہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اَلْإِیْمَانُ لَا یَزِیدُ وَ لَا یَنْقُصُ (ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم) اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یَزِیدُ وَ یَنْقُصُ (ایمان زیادہ اور کم ہوتا ہے) اور اس میں شک نہیں کہ ایمان سے مراد تصدیق اور یقین قلبی ہے جس میں زیادتی و کمی کی گنجائش نہیں، لہذا جو ایمان کہ کمی و زیادتی کو تسلیم کرے وہ دائرہ ظن میں داخل ہے نہ کہ یقین کے درجے میں۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اعمالِ صالحہ کا بجا لانا اس یقین کو جِلا دیتا ہے اور غیر صالح اعمال کا بجا لانا یقین کو مکدر کر دیتا ہے۔ لہذا (ایمان کی) کمی و زیادتی اعمال کے اعتبار سے اس یقین کو روشن و جِلا کرنے میں ثابت ہوئی نہ کہ نفسِ یقین میں۔

                  اصل میں یہ بڑا عجیب نکتہ ہے۔ ایمان کو یعنی وہ کیا سمجھیں۔ ایمان ہے مطلب ماننے سے تعلق رکھتا ہے۔ Recognize کرتے ہیں ہم، جیسے کوئی آئین کو مانتا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے ایمان کی طرح ہے۔ جو آئین کو نہیں مانتا وہ باغی ہے۔ اب آئین میں کسی چیز پہ عمل نہیں کرتا، وہ مجرم ہے۔

                  تو اس طریقے سے جو ایمان رکھتا ہے تو وہ کیا ہے؟ وہ بنیاد اس کو حاصل ہو گئی۔ بنیاد اس کو حاصل ہو گئی۔ Zero اور One۔ یہ Zero کفر ہے اور One ایمان ہے آپ کہہ سکتے ہیں۔ اب کسی بھی چیز کو Zero سے ضرب دی جائے گی تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ Zero نکلے گا! اور کسی چیز کو One سے ضرب دی جائے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ وہی نکلے گا جس سے ضرب دی ہے۔ ہزار سے ضرب دی ہے تو ہزار، اگر پچاس ہزار سے ضرب دی تو پچاس ہزار، اگر ایک ارب سے ضرب دی تو ایک ارب۔ پس یوں سمجھ لیجیے کہ One یہ تو ایمان ہے، بنیاد ہے۔ بنیاد بن گیا۔ اب اس کے بعد جتنی نیکیاں کرو تو آپ اس One سے ضرب دے رہے ہیں آپ اس کو۔ آپ کی اس کی نیکیاں باقی ہیں۔ وہ اس کے حساب سے۔ اور اگر ایمان نہیں ہیں، نہیں اگر مطلب ایمان نہیں ہے، تو صفر سے ضرب دو چاہے کتنی ہی کو۔

                  لہٰذا میں اپنے Students کو اکثر یہ Formula بتایا کرتا تھا، سمجھانے کے لیے کہ:

                  Q = K (alpha, beta, gamma, delta...)

                  جتنا بھی ہے۔ اب alpha, beta, gamma, delta یہ ایمانیات ہیں۔ یعنی ہر چیز پر ایمان، اس میں alpha ہے تو جیسے اللہ پر ایمان، beta ہے رسولوں پر ایمان، gamma کتابوں پر ایمان۔ اب اس میں سے کوئی بھی Zero ہوا نا، تو ظاہر ہے وہ گیا، سارا کچھ گیا۔ کوئی بھی Zero ہوا۔ اور اگر سارے One ہیں، تو پھر K ہے۔ پھر K ضرب One is equal to K ۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ ہے کہ پھر جو K کی Value ہے، وہی اس کی Q کی Value ہے۔

                  لہٰذا ہم لوگ جو ایمان کو کہتے ہیں ﴿لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ﴾ وہ One والی بات ہے۔ اور وہ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ﴿يَزِيدُ وَيَنْقُصُ﴾ انہوں نے ایمان کے ساتھ کیفیت کو شامل کر لیا ہے۔ کیفیتِ ایمان۔ کیفیتِ ایمان کم و زیادہ ہوتی ہے؟ کیفیتِ ایمان کا دارومدار اعمال پر ہے۔ کیفیت کا دارومدار کس چیز پر ہے؟ حضرت نے بھی اس چیز کو سمجھایا ہے۔ ذرا غور کریں کہ حضرت نے وہی فرمایا، یقین کو مکدر کر دیتا ہے، تو کیا چیز ہے یہ؟ مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اثر، اثر اس پہ ڈالا۔

                  تو یہ جو چیز ہے، امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بہت اونچی تحقیق ہے حضرت کی۔ میں دیکھتا ہوں نا کہ حضرت کی تحقیق بعض دفعہ ایسے وقت میں ثابت ہوتی ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ یہ شفقِ احمر و ابیض پہ میں کام کر رہا تھا۔ تو شفقِ ابیض جو ہے، یہ اس کے لیے جو Degree ہے، وہ Fixed ہے۔ وہ Fixed ہے۔ مطلب یہ ہے کہ 18 Degree پر غائب ہوتی ہے، شفقِ ابیض۔ چاہے موسم کچھ بھی ہو۔ ہاں بادل ہو تو مطلب ظاہر ہے مطلب نظر نہیں آئے گا لیکن ہوگا تو سہی۔ لیکن یہ ہے Fixed۔ کیونکہ شفقِ ابیض کیا چیز ہے؟ یہ Seven lights ہیں، Seven سات روشنیاں ہیں، اس سے بنی ہے۔ تو لہٰذا اس پہ موسم اثر انداز نہیں ہوتا۔ Humidity, temperature, dust یہ تمام چیزیں اس پہ اثر انداز... کم و بیش ہوگی لیکن ہوگی، رہے گی ضرور۔ یعنی dim ہو سکتی ہے لیکن غائب نہیں ہو سکتی۔ جبکہ جو سرخ light ہے نا، شفقِ احمر جس کو کہتے ہیں، اس پہ موسم اثر انداز ہوتا ہے۔

                  اس پہ موسم اثر انداز ہوتا ہے۔ یعنی Humidity ہوگی تو یہ زیادہ دیر تک رہے گی۔ Humidity نہیں ہوگی، خشک ہوگا تو کم دیر میں ختم ہو جائے گی۔ یعنی degree کے لحاظ سے، time کے لحاظ سے نہیں، degree کے لحاظ سے۔ یعنی عین ممکن ہے کہ آج ساڑھے بارہ degree پہ غائب ہو جائے اور کل ساڑھے چودہ پہ غائب ہو جائے۔ ممکن ہے اگلے دن پندرہ پہ غائب ہو جائے، ممکن ہے اگلے دن پھر تیرہ پہ غائب ہو جائے۔ یعنی vary کرتی ہے۔ تو اب دیکھیں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی جو تحقیق ہے شفقِ ابیض والی، اس کی calculation ممکن ہے۔ جبکہ شفقِ احمر کی calculation ممکن نہیں ہے۔ اس کی calculation ممکن نہیں ہے۔ وہ آپ کو مشاہدہ کرنا پڑے گا۔

                  یا تو مشاہدہ کرو، یا پھر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق پر عمل کرو۔ دونوں باتوں میں سے ایک بات ہے۔ یا تو پھر مشاہدہ کرو۔ تو مشاہدہ شفقِ احمر کا آسان ہے کیونکہ وہ light کی موجودگی میں بھی نظر آ جاتا ہے۔ یعنی محسوس ہے کیونکہ ایک رنگ ہے نا، مشاہدہ اس کا آسان ہے۔ لیکن آج کل مشاہدہ کرتا کون ہے؟ مسئلہ یہ ہے نا! مشاہدہ کوئی نہیں کرتا۔ تو سب مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ، اکثر علمائے کرام پوچھتے ہیں مجھ سے کہ شفقِ احمر کی کیا degree ہے؟ میں نے کہا یہ تو مجھے بھی پتہ نہیں۔ کیونکہ ساڑھے بارہ سے لے کر ساڑھے سولہ تک میں نے مختلف اوقات میں مختلف دیکھا ہے۔ تو میں اس پہ کوئی fix بات نہیں کر سکتا۔ اگر آپ نے عمل کرنا ہے شفقِ احمر پہ، تو پھر مشاہدہ کرو۔ اور اگر عمل calculation پہ کرنا ہے، تو پھر شفقِ ابیض ہے۔ کیونکہ وہ اس کی Degree fixed ہے۔

                  تو یہ اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت کی جو تحقیق ہوتی ہے بہت اعلیٰ درجے کی تحقیق ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس وقت کی موجودگی میں بھی جن حضرات نے ان کے ساتھ اختلاف کیا تھا، تو ان میں سے بعض نے یہ فرمایا: "ہم حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اس لیے اختلاف کر رہے ہیں کہ ان کی بات تک ہم پہنچ نہیں رہے۔ ان کی بات تک ہم پہنچ نہیں رہے۔ اگر ان کی بات تک پہنچ جائیں تو اختلاف نہیں رہے گا۔"

                  اور واقعتاً جو بھی پہنچے ہیں تو پھر وہ ایسے مداح بن گئے کہ یہ خود واقعہ لکھا ہے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا، کہ وہ کسی جگہ گئے غالباً شام تھا، تو ایک محدث جو ان کے استاذ تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو اس استاذ نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا میں کوفہ سے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا اچھا! یہ کوفہ میں ابو حنیفہ کون ہے جو دین میں نئی نئی باتیں نکالتا ہے؟ تو امام صاحب چونکہ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاذ تھے، وہ بھی استاذ تھے یہ بھی استاذ، اب درمیان میں کچھ کہہ نہیں سکتے تھے تو خاموش ہوگئے۔ اب ان سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتے تھے اور یہ بھی استاذ تھے۔ لیکن اتنا کیا کہ اگلے دن ایک کاغذ پر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے جو انہوں نے کچھ مسئلے سنے تھے، بڑے تحقیقی مسئلے تھے، وہ انہوں نے لکھ دیے، "قال النعمان"، ابو حنیفہ نہیں لکھا، "قال النعمان"، ان کے نام سے۔ اور وہ لکھا اور حضرت کو اگلے دن پیش کر دیا۔

                  انہوں نے پڑھا، ایک ایک مسئلہ پڑھتے ہیں: واہ واہ واہ! کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا عالم ہے، سبحان اللہ کیا بات ہے! اب بہت زیادہ تائید اور بہت زیادہ خوش ہو رہے ہیں۔ جب پورا پڑھ لیا تو انہوں نے کہا: "یہ نعمان کون ہے؟" انہوں نے کہا: "حضرت یہ وہی ہے جس کو آپ

                  ابو حنیفہ کہتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ نئی نئی باتیں نکالتے ہیں۔ یہ وہی بزرگ ہیں جو میرے استاذ ہیں۔ یہ نئی باتیں نہیں نکالتے، ہاں تحقیق کرکے بات کرتے ہیں۔" تو فوراً کہنے لگے: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ! اف استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ، میں نے تو بڑا ظلم کیا اپنے اوپر میں نے اتنے بڑے آدمی کے بارے میں اس قسم کی بات کی۔ اللہ کرے میری ان سے ملاقات ہو جائے میں ان سے معافی مانگوں۔"

                  اور پھر عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ الحمدللہ مجھے اللہ پاک نے وہ دن دکھایا کہ جب حرم شریف میں یہ دونوں استاذ میرے مل رہے تھے، حضرت (امام صاحب) تو ہر سال حج پہ جاتے تھے نا! ہر سال حج پہ جاتے تھے۔ تو جب میرے دونوں استاذ آپس میں مل رہے تھے، تو بار بار میرے وہ محدث استاذ کہتے تھے کہ: "مجھے آپ معاف کر لیں، میں نے آپ کے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہیں تو آپ مجھے معاف کر دیں۔" بار بار معافی مانگ رہے تھے۔ یہ اصل میں، یہ مقام ہے حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ بہت اونچا مقام ہےعلمی لحاظ سے اور سمجھ کے لحاظ سے، بہت اونچا مقام ہے۔

                  ٹھیک ہے ہم دوسرے ائمہ کو غلط نہیں کہتے، وہ بھی بڑے اولیاء ہیں، بہت بڑے اولیاء ہیں اور ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ لیکن یہ میں آپ کو صاف بتاؤں کہ اللہ پاک نے ہمیں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پہ جو پیدا فرمایا ہے، بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کی جو تحقیقات ہیں... جتنا عرصہ گزرے گا تو مزید الحمد للہ اس میں Clarity آتی جائے گی وقت کے ساتھ ساتھ۔ جیسے میں نے ابھی شفقِ ابیض والی بات کی، یہ تو میرے خیال میں بہت سارے حنفیوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔ معلوم ہے؟ بہت سارے حنفیوں کو بھی معلوم نہیں ہے! لیکن بہرحال وہ بہت بڑی نعمت ہے۔

                  ایک جماعت جس نے یقین کو جِلا یافتہ اور روشن معلوم کیا تو اس نے اس یقین کی نسبت جو جِلا یافتہ اور روشن نہیں، زیادہ کہہ دیا۔ گویا بعض لوگوں نے غیر متجلی یقین کو یقین ہی نہیں سمجھا اور انہی میں سے بعض نے متجلی کو یقین جان کر غیر متجلی کو ناقص کہہ دیا اور دوسرے گروہ نے جو نظر کی تیزی اور بصیرت رکھتے تھے دیکھا کہ یہ کمی و زیادتی یقین کی صفات کی طرف راجع ہے نہ کہ نفسِ یقین کی طرف۔

                  حضرت نے بھی یہی بات یہ فرمائی ہے نا! فرمایا:

                  جو نظر کی تیزی اور بصیرت رکھتے تھے، دیکھا کہ یہ کمی اور زیادتی یقین کی صفات کی طرف راجع ہیں، نہ کہ نفسِ یقین کی طرف۔

                  یعنی یقین کی صفت میں کمی زیادتی ہو رہی ہے لیکن یقین کی ذات میں نہیں، نفسِ یقین میں نہیں۔ مطلب یہ اس طرح ہو رہی ہے۔

                  جیسے شفقِ ابیض کا میں نے کہہ دیا، شفقِ ابیض Fixed ہے، لیکن موسم کے حالات اس کو Dim کر سکتے ہیں، تیز کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اس کی میرے خیال میں بہت اچھی مثال ہے۔ dim کر سکتے ہیں، تیز کر سکتے ہیں، تو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ شفقِ ابیض تبدیل ہو گئی۔ شفقِ ابیض تو fixed ہے وہ تو تبدیل نہیں ہو رہی! یہ صرف اس کی جو روشنی ہے وہ کم و بیش ہو رہی ہے، شفق تبدیل نہیں ہو رہی، ٹھیک ہے نا!

                  اس وجہ سے انہوں نے یقین کو غیر زائد و ناقص کہہ دیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دو آئینے جو باہم برابر ہوں لیکن روشنی اور نورانیت میں تفاوت رکھتے ہوں، جب ایک شخص اس آئینے کو دیکھتا ہے جس میں جلا اور روشنی زیادہ ہے اور وہ نور اور روشنی کی نمائندگی زیادہ کرتا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ آئینہ دوسرے آئینے سے زیادہ روشن ہے کیونکہ اُس میں جلا و روشنی زیادہ نہیں ہے۔ دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ یہ دونوں آئینے (کمی و زیادتی میں) برابر ہیں البتہ فرق صرف جلا کی نمائندگی کا ہے جو ان دونوں کی صفات ہیں۔

                  آئینے کی صفت کیا ہے؟ منعکس کرنا! اب تیز روشنی آئی تو تیز روشنی منعکس کرے گی۔ اور کم آئے گی تو کم کو منعکس کرے گی۔ تو آئینے پہ کیا فرق پڑا؟ آئینے پہ تو کوئی فرق نہیں پڑا! آئینہ تو وہی ہے نا! آئینہ تو وہی ہے۔ تو یہ حضرت کی بھی بہت زبردست عمدہ مثال ہے جو فرمایا ہے آئینے کی مثال، اور یہ جو شفقِ ابیض والی بات ہم نے کی، یہ بھی ماشاءاللہ بہت اچھے موقع کی مثال ماشاءاللہ، اللہ پاک نے نصیب فرمائی ہے۔

                  البتہ فرق صرف جلا کی نمائندگی کا ہے جو ان دونوں کی صفات ہیں۔ پس دوسرے کی نظر صائب ہے اور شئے کی حقیقت تک رسائی رکھتا ہے اور پہلے شخص کی نظر ظاہر پر ہے لہذا کوتاہ ہے اور صفت سے ذات تک نہیں پہنچی ہے

                  یہ حضرت کا میدان ہے نا! صفات اور ذات۔ اس پہ حضرت کلام فرماتے رہتے ہیں نا! تو حضرت نے اس پہ بات فرما دی۔

                  ﴿يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾

                  (المجادلہ: 11) تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا ہوا ہے، درجے بلند کرے گا" اس تحقیق سے کہ جس کے اظہار کے لیے اس فقیر کو توفیق بخشی گئی، مخالفین کے اعتراضات جو انہوں نے ایمان کے زیادہ اور کم نہ ہونے پر کیے تھے، زائل ہو گئے۔ الحمدللہ۔

                  اور عام مومنوں کا ایمان تمام وجوہ میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ایمان کے مثل نہیں ہوا۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ایمان تمام تر جِلا یافتہ اور نورانی ہے جو ثمرات اور نتائج کئی گنا زیادہ رکھتا ہے۔ ان عام مومنوں کے ایمان کے مقابلے میں، جو اپنے اپنے درجات کے فرق کے لحاظ سے بہت ساری ظلمتیں اور کدورتیں رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان، کہ جو وزن میں تمام امت کے ایمان سے زیادہ ہے، اس کو بھی جِلا اور نورانیت کے اعتبار سے سمجھنا چاہیے اور زیادتی کو صفاتِ کاملہ کی طرف راجع کرنا چاہیے۔

                  حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ منقول ہے نا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان اور ایک عام گناہگار کا ایمان برابر ہے۔

                  یہ بہت بڑی بات تھی، کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ تو اصل میں صفتِ ایمان کی بات حضرت فرما رہے تھے نا! تو صفتِ ایمان تو برابر ہے نا۔ دیکھو صاف بات سنو، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کو مانتے تھے، ہم بھی مانتے ہیں۔ وہ اللہ کو ایک مانتے تھے، ہم بھی اللہ کو ایک مانتے ہیں۔ وہ تمام پیغمبروں کو مانتے تھے، ہم بھی تمام پیغمبروں کو مانتے ہیں۔ اچھا وہ تمام کتابوں کو مانتے تھے، ہم بھی تمام کتابوں کو مانتے ہیں۔ مجھے بتاؤ کون سی چیز ہے جو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مانتے تھے اور ہم نہیں مانتے؟ کوئی ایسی چیز ہے؟ اگر ایسی ہوگی تو کفر میں چلے جائیں گے! تو پتہ چلا کہ ایمان تو برابر ہے نا! جو ایمان ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے، وہی ایمان ہمارا بھی ہے۔

                  لیکن کیفیتِ ایمان میں فرق ہے۔ آخر کیفیتِ احسان سب کو حاصل ہوتی ہے؟ مجھے بتاؤ اللہ ہے، یہ کون نہیں مانتا؟ ایمان تو ہے نا! لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو ہر وقت ہر کوئی ایک جیسا محسوس کرتے ہیں؟ ایک جیسا تو محسوس... تو یہ کس چیز پر منحصر ہے؟ آپ ﷺ نے جو فرمایا: ﴿أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ﴾ یہ کیفیتِ احسان ہے۔ اب اس میں یہ والی بات ہے کہ اگر یہ کیفیتِ احسان سب کو حاصل ہے، تو پھر محنت کس بات کی ہے؟ تو سب کو تو حاصل نہیں ہے۔ تو جب سب کو حاصل نہیں ہے تو سب کی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔ سب کی حالت ایک جیسی نہیں تو کون سی چیز میں فرق ہے؟ ایمان میں فرق ہے؟ ایمان میں تو فرق نہیں ہے! کیفیت میں فرق ہے! اب ذرا غور سے سنو! تین سوال کیے گئے تھے آپ ﷺ سے، مَا الْإِيمَانُ؟ مَا الْإِسْلَامُ؟ مَا الْإِحْسَانُ؟ مَا الْإِيمَانُ میں ایمانیات آگئے۔ مَا الْإِسْلَامُ میں اعمال آگئے۔ اور مَا الْإِحْسَانُ میں کیفیات آگئیں۔

                  پس تین چیزیں ممکن ہیں۔ ایک شخص ایسا بھی ممکن ہے جو مومن ہو لیکن اس کا کوئی عمل نہ ہو، کوئی کیفیت نہ ہو، صحیح ہے۔ ممکن ہے۔ دوسرا شخص ایسا ممکن ہے کہ اس کا ایمان بھی صحیح ہو، مومن ہو، اس کے اعمال بھی ہوں۔ لیکن کیفیات ساتھ نہ رکھتا ہو۔ اور تیسرا وہ ہے کہ جو مومن بھی ہو، جو عمل بھی کرتا ہو اور ساتھ ساتھ ان کی کیفیت بھی صحیح ہو۔ تو کامل کون ہوگا؟ آخری۔ پھر اس کے بعد کون ہوگا؟ دوسرے نمبر۔ پھر اس کے بعد کون ہوگا؟ تیسرا مرتبہ۔

                  دیکھیں ذرا غور کرو، اللہ پاک نے قرآن پاک میں جو فرمایا ہے ولایت کے لیے، دو قسم کی آیات ہیں۔ ایک آیت یہ ہے: ﴿اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾ یہاں پر یہ فرمایا کہ اللہ مومنین کا دوست ہے۔ ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اچھا یہاں پر ایمان کے ساتھ کچھ شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب محض ایمان جو ہے، یہ بھی اللہ پاک کی دوستی کا ذریعہ ہے۔ کفر کے مقابلے میں۔ کفر کے مقابلے میں! دوستی کا... یعنی کافر نہیں ہے اور مسلمان دوست ہے۔ پہلی بات ثابت ہو گئی۔

                  دوسری قسم کی جو آیت ہے، وہ کیا ہے؟ ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ "آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے اولیاء ہیں ان کو نہ خوف ہوگا نہ ان کو غم ہوگا"۔ اور وہ کیا ہوں گے؟ "جو ایمان لا چکے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا" یہاں تقویٰ کی شرط ہے۔ اچھا، تقویٰ کی شرط ولایتِ خاصہ کے لیے ہے، ولایتِ عامہ کے لیے نہیں ہے۔ پس اگر میں کسی عام گناہگار سے گناہگار آدمی کو بھی کہہ دوں "اے اللہ کے ولی"، تو غلط نہیں ہوگا۔ اس آیت کے مطابق، اگر میں کہہ دوں "اے اللہ کے ولی"، تو بالکل ٹھیک ہے، مطلب غلط نہیں ہے۔ لیکن جس وقت ہم اولیاء کی باتیں کر رہے ہوں گے تو کن کی باتیں کر رہے ہوں گے؟ ان اولیائے خاص ولایتِ خاصہ والوں کی باتیں کر رہے ہوں گے۔ ٹھیک ہے نا! عام آدمی بھی اس کو سمجھتا ہے۔ تو پتہ چل گیا کہ دیکھیں، جو صرف ایمان رکھتا ہے تو ایمان میں وہ جو کیفیتِ احسان ساتھ بھی رکھتا ہے، ان میں فرق کس چیز کا ہوا؟ ایمان کا فرق ہوا؟ ایمان کا تو فرق... کمی بیشی کس چیز میں ہے؟ کیفیت میں ہے۔ بس یہی بات ہے نا! وہ سب بات ثابت ہوگئی نا! ہاں، یہی بات حضرت نے فرمائی ہے۔

                  کیا تم نہیں دیکھتے کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات نفس انسانیت میں عام لوگوں کے ساتھ برابر ہیں اور حقیقت و ذات میں سب باہم متحد ہیں لیکن صفاتِ کاملہ کے اعتبار سے ان (انبیاء علیہم السلام) کو دوسرے (انسانوں) پر فضیلت حاصل ہے۔ جس میں صفات کاملہ نہیں ہیں گویا وہ اس نوع سے خارج اور اس کے فضائل و خصائص سے محروم ہے لیکن اس تفاوت کے با وجود نفس انسانیت میں زیادتی و کمی واقع نہیں،

                  بلکہ زندہ، ایک شخص بالکل بر لبِ موت ہے، بس مرنے والا ہے۔ جب آپ اس سے پوچھیں یہ زندہ ہے یا مردہ؟ تو کیا کہیں گے؟ زندہ ہے، کہیں گے زندہ ہے۔ ایک آدمی بالکل پورے Full active ہے۔ کیا اس کا وہ جو زندہ ہے اور یہ زندہ برابر ہے؟ برابر نہیں ہے! لیکن زندگی کے اعتبار سے دونوں برابر! دونوں، دونوں، دونوں برابر! زندگی کے اعتبار سے دونوں برابر، لیکن حقیقتِ زندگی کے اعتبار سے فرق! یہ مکمل زندگی سے لطف اٹھا رہا ہے اور یہ بالکل برلبِ موت ہے، یہ تو مرنے والا ہے۔

                  حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا جو واقعہ ہے کہ حضرت کے آخری وقت میں غشی طاری ہوگئی، تو ان کی اولاد سمجھی کہ شاید نزع کا عالم طاری ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے کلمے کی تلقین شروع کی، جیسے مسلمانوں کو کی جاتی ہے۔ تو امام صاحب بار بار فرماتے تھے: "ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں۔" اب بچے ڈر گئے، یا اللہ! کیا بات ہے؟ حضرت تو عمر بھر ذاکر شاغل رہے ہیں، آخری وقت میں یہ کہتے ہیں کہ "ابھی نہیں، ابھی نہیں"، کیا مسئلہ ہے؟ اتنے میں حضرت کو افاقہ ہو گیا، غشی ختم ہو گئی۔ تو بچوں نے پوچھا کہ حضرت! ہم تو کلمے کی تلقین کر رہے تھے، آپ فرماتے تھے "ابھی نہیں، ابھی نہیں"، کیا وجہ تھی؟

                  فرمایا: "اچھا میں نے یہ کہا ہے؟"

                  انہوں نے کہا: "جی آپ نے تو یہی کہا ہے۔"

                  انہوں نے کہا: "یہ تو مجھے پتہ نہیں ہے کہ میں نے آپ کو یہ کہا ہو۔ ہاں شیطان میرے سامنے آیا تھا۔ اور وہ سر پہ خاک ڈال رہا تھا۔ اور مجھے کہہ رہا تھا کہ اے احمد! تو مجھ سے بچ کے چلا گیا۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ نہیں، ابھی میں زندہ ہوں۔ میں ابھی بچ کے نہیں... ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ ابھی تو میں زندہ ہوں۔"

                  تو اس حالت میں بھی کیا فرما رہے تھے؟ میں زندہ ہوں۔ تو زندگی کے اعتبار سے تو ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن زندگی سے لطف اٹھانے میں بہت فرق۔

                  اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ انسانیت زیادتی و نقصان کے قابل ہے۔ وَ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ المُلْھِمُ لِلصَّوَابِ

                  سبحان اللہ۔

                  اور اسی طرح بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ "تصدیقِ ایمانی" سے مراد ان کے نزدیک تصدیق منطقی ہے جو ظن اور یقین دونوں کو شامل ہے، اس صورت میں "نفسِ ایمان" میں کمی و زیادتی کی گنجائش ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ اس جگہ تصدیق سے مراد یقین و اذعانِ قلبی (دل سے قبول کر لینا ہے) نہ کہ عام معنیٰ میں جس میں ظن بھی شامل ہے۔

                  یہ بھی ہمارا مسلک ہے۔ اس میں بھی امام صاحب کا اپنا ایک مسلک ہے، آگے آ رہا ہے ماشاءاللہ۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "أَنَا مُؤْمِنٌ حَقًّا" (میں یقینًا مومن ہوں) اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"

                  سبحان اللہ! کیا بات ہے جی سبحان اللہ! امام صاحب کی... اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے۔ بہت عظیم شخصیت ہیں۔

                  حقیقت میں ان کا یہ اختلاف "نزاع لفظی" ہے۔ مذہبِ اول (پہلے قول) کا تعلق ایمانِ حال سے ہے، اور مذہب ثانی (دوسرے قول) کا تعلق مآل و عاقبت کار سے ہے

                  یعنی مآل میں دیکھو نا، میں اس وقت اپنے اس وقت کا مکلف ہوں۔ میں اس وقت اگر سب کچھ مانتا ہوں، تو مومن ہوں نا یا نہیں ہوں؟ یقینی مومن ہوں، الحمدللہ۔ یقینی مومن ہوں، الحمدللہ! ہاں، دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس کو آخرت تک لے جائے۔ آخرت تک مجھے نصیب ہو۔ حُسنِ خاتمہ نصیب ہو، یہ دعا میں کہنا ہے۔ لیکن جو حضرات کہتے ہیں "إِنْ شَاءَ اللهُ"، إِنْ شَاءَ اللهُ سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی وقت سلب ہو سکتا ہے۔ تو وہ خاتمے کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں کہ پتہ نہیں میری موت کس حالت میں ہوگی۔ جیسے ایک بزرگ سے پوچھا گیا تھا، تاتاریوں کا دور تھا، تو تیمور جو شہزادہ تھا تو اس نے ایک بزرگ تھے،جو اذان دیتے تھے۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہم عبادت کے لیے لوگوں کو بلاتے ہیں تو اس کے لیے طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا چھوڑو ساری باتیں، یہ بتاؤ، تیری داڑھی اچھی ہے یا میرے کتے کی دم؟ اس نے کہا: مجھے نہیں پتہ، اگر میں ایمان کے ساتھ دنیا سے چلا گیا تو پھر تو میری داڑھی اچھی ہے۔ اور اگر میں ایمان کے ساتھ دنیا سے نہیں گیا، تو پھر تیرے کتے کی دم اچھی ہے، جلے گا تو نہیں۔

                  اب یہ جو تھا یہ والی بات، یعنی انسان کو اپنی عاقبت کا خوف ہو۔ تو یہ بات تھی۔ تو اس پہ بڑا اثر ہوا اور اس نے کہا "ایمان کیا چیز ہے؟" تو انہوں نے بتا دیا، سارا ایمان۔ تو انہوں نے کہا "اچھا ٹھیک ہے، میں اس کو مانتا ہوں لیکن ابھی میں اعلان نہیں کر سکتا۔ جس وقت میں بادشاہ بن جاؤں نا، تو اس وقت میرے پاس آجانا۔ تو مجھے یاد دلا دینا، تو میں قبول کر لوں گا اسلام۔" تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے، وہ اس انتظار میں تھے کہ پھر اس کا آخری وقت آگیا۔ تو اس نے بیٹے کو وصیت کی کہ جس وقت بادشاہ بن جائے تیمور، تو جا کے ان کے محل کے قریب اذان دے دینا۔ تو وہ تجھے بلا لے گا۔ تو پھر اس کو یہ وعدہ یاد دلانا۔ تو اس نے ایسے ہی کیا، اس محل کے قریب اذان دی۔ لوگوں نے پکڑ لیا اور بادشاہ کے پاس لے گئے، انہوں نے کہا "یہ کیا کر رہے تھے؟" کہتے، "میرے والد نے مجھے وصیت کی اس طرح کیا تھا اور آپ نے ان کے ساتھ کچھ باتیں کی تھیں۔" کہا، "اچھا، اچھا ٹھیک ہے، بیٹھو بیٹھو۔" ان کا جو بڑا تھا مصاحب، اس کو لے گئے اندر۔ بادشاہوں کو طریقے تو آتے ہیں نا ظاہری بات ہے سیاسی لوگ ہوتے ہیں، سیاست کرتے ہیں۔ تو اس کو اندر لے گئے، اور ان کو سمجھایا کہ اس طرح ہے۔ "یہ تو میں نے وعدہ کیا تھا تو کیا خیال ہے آپ کا اس کے بارے میں؟" تو اس کے ساتھ اٹھ کے گلے ملے، کہتے ہیں "میں تو پہلے سے مسلمان ہوں!" وہ بھی مسلمان ہو گیا تھا کسی طریقے سے، واللہ اعلم۔ تو بس اس کے بعد پھر دونوں نے مل کے باقیوں کو Convince کر دیا اور پورا، ظاہر ہے، جتنا بادشاہت مسلمان ہو گئی۔ اور پھر الحمدللہ اللہ پاک نے ان سے کام لے لیا۔

                  کیا کہا تھا اقبال نے؟

                  پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

                  تو یہ ہے کہ یہ "إِنْ شَاءَ اللهُ" اس معنی میں بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن نفسِ ایمان، موجودہ ایمان، ایمانِ حال، اس پہ تو انسان کو کہنا چاہیے کہ میں یقیناً مومن ہوں۔ کیوں؟ یقیناً نہیں کہے گا تو شک ہے۔ اور ایمان میں شک کفر ہے۔ تو پھر تو کہنا پڑے گا میں مومن ہوں! یہ مطلب جو میں مانتا ہوں تو میں مومن ہوں! ٹھیک ہے نا! تو یہ اصل میں یہ والی بات ہے۔ یا کریم!

                  لیکن صورتِ استثناء سے پرہیز کرنا اولی و احوط ہے۔ کَمَا لَا یَخْفٰی عَلَی المُنْصِفِ (جیسا کہ منصف لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے)

                  مطلب دیکھیں نا یہ استثنیٰ والی بات، یہ احتیاطاً ہے۔ احتیاطاً بہتر ہے۔

                  عقیدہ نمبر 20:

                  اور اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں، اور ان سے بکثرت خوارقِ عادات واقع ہونے کی وجہ سے ان کی یہ بات عادت مستمرہ (دائمی) بن گئی ہے۔ کرامات کا انکار کرنے والا علم عادی اور ضروری کا انکار کرنے والا ہے۔ نبی کا معجزہ نبوت کے دعوے سے مقرون (ملا ہوا) ہوتا ہے، اور ولی کی کرامت اس معنی میں خالی ہے بلکہ اس نبی کی پیروی کے اعتراف کے ساتھ مقرون (ملی ہوئی) ہوتی ہے۔ فَلَا اشْتِبَاہَ بَیْنَ الْمُعْجَزَۃِ وَ الْکَرَامَۃِ کَمَا زَعَمَ المُنْکِرُوْنَ، جیسے منکرین جو ہیں نا وہ اس کا زعم رکھتے ہیں کہ دونوں میں وہ کیا ہو جائے گی، نبوت اس میں فرق نہیں رہے گا۔ نہیں! یہ اتباعِ نبوت کے وسیلے میں ہے۔ اتباعِ نبوت کے وسیلے میں ہے، کہ جو مومن حق، وہ نبی کا کامل متبع ہوگا۔ اللہ جل شانہٗ ان کے، جو نبوت کے برکت سے، جو اس نبی کی نبوت کو مان رہا ہے، ان کو بھی اللہ پاک کچھ چیزیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو البتہ فرق یہ ہے کہ وہ دلیل ہے نبوت کی معجزہ، اور کرامت جو ہے نا کیا ہے، یہ ظن ہے اولیاء اللہ کے ساتھ، کہ حسنِ ظن کا موقع دیتا ہے کہ ان کے بارے میں انسان نیک گمان کرتا ہے اور ان کے معتقد ہو جاتے ہیں۔

                  عقیدہ نمبر 21:

                  اور خلفائے راشدین کے درمیان افضلیت کی ترتیب خلافت کی ترتیب کے مطابق ہے لیکن شیخین کی افضلیت صحابہ اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ اکابرین آئمہ کی ایک جماعت نے جن میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں جنہوں نے اس بات کو نقل کیا ہے کہ "شیخ الامام ابو الحسن اشعری؂10 رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بقیہ تمام امت پر قطعی ہے" اور امام ذہبی؂11 رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت علی کا یہ قول ان کی خلافت و مملکت کے زمانے میں آپ کے متبعین میں سے ایک جمِ غفیر کے سامنے تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ "إِنَّ أَبَا بَکْرٍ و عُمَرَ أَفْضَلُ الْأُمَّۃِ" ترجمہ: ”ابو بکر اور عمر تمام امت میں افضل ہیں“ـ پھر فرماتے ہیں کہ اس روایت کو اسی (80) سے زیادہ راویوں نے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کیا ہے اور ان میں سے ایک جماعت کا نام بھی لیا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رافضیوں کا برا کرے یہ کیسے جاہل ہیں۔ بخاری نے ان (حضرت علی) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "خَیْرُ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِی عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلِہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ أَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ابْنُہٗ مُحَمَّدُ بْنُ الحَنَفِیَّۃُ ثُمَّ أَنْتَ؟ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِّنَ المُسْلِمیْنَ"، نبی ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں بہتر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پھر ایک اور شخص۔ اس پر آپ کے صاحبزادے محمد ابن حنفیہ نے کہا پھر آپ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ میں تو تمام مسلمانوں میں سے ایک فرد ہوں۔

                  امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: "مجھے اطلاع ملی ہے کہ لوگ مجھے ان دونوں (شیخین) پر فضیلت دیتے ہیں، لہذا جو بھی مجھ کو ان پر فضیلت دیتا ہے وہ مفتری (جھوٹا) ہے اور اس کے لئے وہ سزا ہے جو ایک مفتری کی ہوتی ہے" اور دار قطنی نے آپ (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ہے کہ: "میں جس کو پاؤں گا کہ وہ حضرت ابو بکر و عمر پر مجھے فضیلت دیتا ہے تو میں اس کو اتنے کوڑے لگاؤں گا جتنے ایک مفتری کو لگنے چاہئیں"۔ اس قسم کی اور بہت سی روایتیں خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور آپ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس کثرت اور تواتر سے آئی ہیں جس میں کسی کو انکار کی مجال نہیں۔ حتی کہ عبد الرزاق جو اکابر شعیہ میں سے ہے کہتا ہے کہ: "أُفَضِّلُ الشَیْخَیْنِ بِتَفْضِیْلِ عَلِیٍّ إِیَّاھُمَا عَلٰی نَفْسِہٖ وَ إِلَّا لَمَا فَضَّلْتُہُمَا کَفٰی بِيْ وِزْرًا أَنْ أُحِبَّہٗ ثُمَّ أُخَالِفَہٗ" (میں شیخین کو اس لئے فضیلت دیتا ہوں کہ خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اوپر ان کو فضیلت دی ہے ورنہ میں ان (شیخین) کو کبھی فضیلت نہ دیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ گناہ ہے کہ میں ان (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے محبت کا دعویٰ کروں اور پھر ان (کے اقوال) کی مخالفت کروں)۔ یہ سب کچھ صواعق؂12 سے لیا گیا ہے۔

                  لیکن اب رہی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت علی اللہ تعالیٰ عنہ پر فضیلت سو اکثر علمائے اہلِ سنت اس مسلک پر ہیں کہ شیخین کے بعد حضرت عثمان افضل ہیں، پھر اس کے بعد حضرت علی۔ آئمہ اربعہ؂13 مجتہدین کا مذہب بھی یہی ہے۔ اور بعض لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کے بارے میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے جو توقف نقل کیا ہے، اس کے متعلق قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس توقف سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کی طرف رجوع کر لیا ہے اور قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہی اصح ہے۔

                  اسی طرح وہ توقف جو بعض نے امام اعظم رحمہ اللہ کی اس عبارت سے سمجھا ہے کہ "مِنْ عَلَامَاتِ السُّنَّۃِ وَ الْجَمَاعَۃِ تَفْضِیلُ الشَیْخَینِ وَ مَحبَۃُّ الخَتَنَیْنِ" (اہل سنت و جماعت کی علامت میں سے یہ بھی ہے کہ شیخین کو فضیلت دی جائے اور ختنین (دونوں داماد) (حضرت عثمان و حضرت علی سے محبت کی جائے)۔

                  اس فقیر کے نزدیک اس عبارت کے اختیار کرنے میں ایک دوسرا محل ہے کہ حضرات ختنین کی خلافت کے زمانے میں بہت زیادہ فتنے و فساد پیدا ہو گئے تھے جس کہ وجہ سے لوگوں کے دلوں میں بہت کدورت پیدا ہو گئی تھی۔ اس لئے امام (ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ) نے اس بات کو مدِ نظر رکھ کر ان کے حق میں محبت کا لفظ اختیار کر لیا ہے اور ان کی دوستی کو علاماتِ اہل سنت سے قرار دیا ہے، بغیر اس امر کے کہ کسی قسم کا توقف ملحوظ ہو، اور کیسے توقف ہو سکتا ہے کیونکہ حنفیوں کی کتابیں ایسے مضامین سے بھری پڑی ہیں کہ ان (خلفائے راشدین) کی فضیلت ان کی ترتیب، ترتیبِ خلافت کے مطابق ہے۔

                  مختصر یہ کہ شیخین کی افضلیت یقینی ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت ان سے کم درجے کی ہے۔ لیکن زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ حضرت عثمان کی فضیلت کے منکر کو بلکہ شیخین کی افضلیت کے منکر کے لئے بھی ہم کفر کا حکم نہ لگائیں البتہ ان کو بدعتی و گمراہ جانیں، کیونکہ ان کی تکفیر میں علماء کا اختلاف ہے اور اس اجماع کے قطعی ہونے میں بہت قیل و قال ہے۔ اس کا منکر بد نصیب یزید کا ساتھی ہے، اسی احتیاط کی بنا پر اس (یزید) کے لعن طعن کرنے میں توقف کیا ہے۔ وہ ایذا جو حضرت پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کو خلفائے راشدین کو ایذا رسانی کی جہت سے پہنچی ہے وہ ایسی ہے کہ جیسی کہ حضرات امامین (حضرت امام حسن و امام حسین) کو ایذا رسانی کی جہت سے پہنچی ہے۔

                  مطلب یہ ہے کہ خلفائے راشدین کی مخالفت بھی ایسے ہی تکلیف دیتی ہے آپ ﷺ کو، جیسے کہ امام حسن رضی الله عنه اور حسین رضی الله عنه کی مخالفت آپ ﷺ کو تکلیف دیتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے۔

                  ویسے یہ بات میں صاف عرض کر لوں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے، انہوں نے اتنا زیادہ Balance یعنی معتدل وہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ساری عمر یہ شیعوں سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اہلِ بیت کے بارے میں بہت اونچے الفاظ ہیں ان کے۔ اس پر فرق کوئی نہیں پڑتا، یہی تو بات ہے نا! آج کل کیا حالت ہے؟ تھوڑے سے صحابہ کے بارے میں انسان محبت کی باتیں کرے، اہلِ بیت چھپ جائیں۔ اہلِ بیت کی طرف نگاہ نہیں جاتی۔ بلکہ بعض لوگ تو بے احتیاط ہو جاتے ہیں، اور اس قسم کی باتیں کر لیتے ہیں جن سے انسان حیران ہو جاتا ہے۔

                  بھئی صحابہ کی حمایت، اہلِ بیت کی مخالفت، یہ دونوں آپس میں لازم ملزوم تو نہیں ہیں؟ جیسے صحابہ کی حمایت لازم ہے، اس طرح اہلِ بیت کی محبت لازم ہے۔ دونوں، دونوں، دونوں! چونکہ روایات ساری کی ساری موجود ہیں۔ یعنی یہ روایت بھی موجود ہے: ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾، جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ جن کے پیچھے جاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔ تو اس کے مطابق تو صحابہ کی بات آجاتی ہے۔ لیکن ذرا غور فرمائیں کیا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی نہیں ہیں؟ کیا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحابیہ نہیں ہیں؟ کیا حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما صحابی نہیں ہیں؟ تو پھر اس میں کیا اختلاف ہو گیا؟ یہ تو ختم ہو گئی بات، کہ دونوں طرف صحابہ ہیں۔ لہٰذا اس مسئلے میں تو ہم فرق نہیں کر سکتے۔

                  اب بات رہ گئی اہلِ بیت کے علاوہ، تو یہ بات بھی ہے کہ آپ ﷺ نے اہلِ بیت کے بارے میں بھی روایت بیان کی ہے۔ "عترتی" کا لفظ آیا ہے احادیث شریف میں۔ قرآن اور میری عترت! قرآن اور سنت بھی ہے، قرآن اور میری عترت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سارے امام اپنے دور کے اہلِ بیت کے ساتھ رہے ہیں۔ دیکھ لو تاریخ پڑھ لو۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک، یہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ رہے ہیں۔ ان کے خلفاء ہیں۔ ان کی روایت اس کے بارے میں بڑی عجیب ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی: ﴿لَوْلَا السَّنَتَانِ لَهَلَكَ النُّعْمَانُ﴾، اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔ وہ دو سال کون سے؟ جو حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزارے۔ تو یہ ان کے بارے میں فرمایا۔

                  تو ایک تو یہ بات ہے پھر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے بیٹے امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ، ان کے خلیفہ ہیں۔ یعنی ہمارے جتنے بھی بڑے آئے ہیں، سارے کے سارے حتیٰ کہ امام زید رحمۃ اللہ علیہ، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بالکل ساتھ ساتھ تھے۔ ان کے ساتھ باقاعدہ وہ خروج میں مدد بھی کی تھی۔ امام زید رحمۃ اللہ علیہ۔ اور یہی وجہ ہے کہ زیدی فقہ اور حنفی فقہ بہت قریب قریب ہیں۔

                  تو اب یہ جو بات ہے کہ یہ تو ظاہر ہے مطلب اہلِ بیت والی بات آگئی۔ پھر ان کو سفینہ بھی کہا گیا، کہ نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح جو اس میں بیٹھ گیا وہ محفوظ ہو گیا اہلِ بیت کے ساتھ۔ تو اب یہ وہ بھی آپ ﷺ کے اقوال ہیں۔ جو اقوال ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہیں وہ بھی نبوت کی طرف سے آئے ہیں اور جو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ہیں وہ بھی نبوت کی طرف سے آئے ہیں۔ اب ان کا تو مان لیا جائے اور یہ مانا نہ جائے، تو یہ کہاں کی بات ہے؟ یہ تو اپنے نفس کا ماننا ہوا! کچھ کو مانتا ہوں، کچھ کو نہیں مانتا۔

                  ایک صاحب تھے عالم ہیں، تو عاشورہ کے دن -میرے ساتھ کچھ محبت ہو گئی تھی ان کو۔ عاشورہ کے دن مجھے ٹیلیفون کیا۔ "میں آج کیا کروں؟ کچھ نصیحت کریں، آج کے دن کیا کروں؟" میں نے کہا درود شریف پڑھیں، جتنا ہو سکتا ہے زیادہ سے زیادہ۔ اور اس کا ایصالِ ثواب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کریں۔ شکر ہے کہ مان گئے۔ اگلے دن کہتے ہیں: "کمال ہے! سارا کچھ واش ہو گیا دل سے۔" کہتے ہیں: "ہم تو یزید زندہ باد کے نعرے لگانے والے تھے۔" خود کہتا ہے۔ "ہم نے نعرے لگائے ہیں یزید زندہ باد کے!" کہتا ہے: "ذہن سے بالکل دل سے وہ ساری چیزیں اتر گئیں۔" یہ ایسا دور بھی آ گیا ہے۔ اللہ پاک معاف فرمائے۔

                  پھر یہ تو ان کی تو الحمدللہ کیفیت کے ذریعے سے اصلاح ہو گئی۔ میں نے کہا اب ذرا تھوڑی سی علمی اصلاح بھی ہونی چاہیے نا! بغیر علمی اصلاح کے تو وہ کیفیت والی تو واپس بھی ہو سکتی ہے کسی وقت دوبارہ علم! میں نے کہا یہ بتاؤ کہ کسی صحابی میں اور کسی تابعی میں اختلاف آ جائے تو آپ کس کی بات مانیں گے؟

                  کہتے ہیں: "صحابی کی۔"

                  میں نے کہا پکی بات ہے؟

                  کہتے ہیں: "ہاں بالکل اس پہ کیا شک ہے؟ ﴿الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ﴾۔"

                  ظاہر ہے ہمارے احادیث کی کتابیں آپ دیکھیں تو اس میں یہ لسٹاں آتی ہیں نا کہ ﴿فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ عَنْ فُلَانٍ﴾، اور من صحابی، وھو عن فلان وکان صحابی والصحابۃ کلہم عدول، باقاعدہ یہ آتا ہے نا احادیث شریفہ کے اس میں۔ تو میں نے کہا: "اچھی بات ہے، تو پھر بتاؤ کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی تھے یا تابعی تھے؟"

                  کہتے ہیں: "صحابی تھے۔"

                  میں نے کہا: "یزید تابعی تھے یا صحابی تھے؟"

                  کہتے ہیں: "ہائیں! یہ کیا ہوا؟"

                  یہ تو یہ کیا ہوا، یہ تو بالکل صاف بات ہے۔

                  اب بس یہی بات ہوتی ہے۔ کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔

                  تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں آج کل بہت ہیں اور یہ سب غلط لوگوں کی کتابیں پڑھنے کی وجہ سے۔ اس میں بہت خیال رکھنا چاہیے۔ جو غلط کتابیں ہیں، ان کو نہیں پڑھنا چاہیے۔ وہ مجھے ایک ڈاکٹر نے کہا تھا، مجھے کوئی دوائی تھی اس کے بارے میں بڑا discuss کر رہا تھا اس کے ساتھ۔ اس نے کہا، "یا صحیح علاج کرو، یا نہ کرو۔ غلط علاج سے علاج نہ کرنا بہتر ہے۔" تو بات صحیح ہے، بھئی یا صحیح کتاب پڑھو یا نہ پڑھو۔ بس پھر وہ نہ پڑھنا آپ کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ غلط پڑھو گے تو خوامخواہ غلط راستے پہ پڑ جاؤ گے نا، مسئلہ بن جائے گا۔

                  یا کریم!

                  ﴿آنحضرت علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا:

                  "اَللّٰهَ اَللّٰهَ فِيْ أَصْحَابِيْ لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِيْ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ وَ مَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ وَ مَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِيْ وَ مَنْ آذَانِيْ فَقَدْ آذَى اللّٰهَ وَ مَنْ آذَى اللّٰهَ فَیُوشِکُ أَنْ یَأْخُذَہٗ"

                  " میرے اصحاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میرے بعد ان کو نشانہ ملامت نہ بناؤ۔ جس نے ان کو دوست رکھا اس نے گویا میری محبت کی وجہ سے ان کو دوست رکھا۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے گویا میری دشمنی کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ اور جس نے ان کو ایذاء دی اس نے گویا مجھ کو ایذاء دی۔ اور جس نے مجھ کو ایذاء دی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ کرے گا۔

                  اور اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے:

                  ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللّٰهَ وَ رَسُولَهٗ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ﴾ (الأحزاب: 57)

                  " بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے"۔

                  اور جو کچھ مولانا سعد الدین نے شرح عقائد نسفی میں اس فضیلت کے بارے میں انصاف سمجھا ہے، وہ انصاف سے دور ہے اور جو تردید انہوں نے کی ہے وہ سرا سر لا حاصل ہے، کیونکہ علماء کے نزدیک یہ بات مقرر ہے کہ اس جگہ افضلیت سے وہ مراد ہے جو خدائے جل و علا کے نزدیک کثرت ثواب کے اعتبار سے ہے، نہ کہ وہ افضلیت جو فضائل و مناقب بکثرت ظاہر ہونے کے اعتبار سے ہو کیونکہ ایسی فضیلت عقل مندوں کے نزدیک اعتبار کے لائق ہے۔ سلف صحابہ و تابعین نے جس قدر فضائل و مناقب حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے نقل کئے ہیں وہ اور کسی صحابی کی نسبت منقول نہیں۔ حتی کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا "جو فضائل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آئے ہیں وہ کسی اور صحابی کی نسبت نہیں آئے"۔


                  بہت، بہت اونچا مقام تھا۔ لیکن بہرحال شیخین، شیخین ہیں۔ ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ دفتر میں کسی کے ساتھ کوئی بات ہو رہی تھی، میں نے کہا کہ میرے سامنے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جتنی تعریفیں کرو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کیوں؟ میں نے کہا، دیکھو میں اگر اس ہاتھ کو اس کے ہاتھ کے اوپر رکھوں، اور اس ہاتھ کو اوپر اٹھاؤں، تو دوسرے ہاتھ کو کیا ہوگا؟ دوسرا ہاتھ خود بخود اٹھتا جائے گا ساتھ۔ تو میرے سامنے جتنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرو گے، تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف سے جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام اوپر اٹھتا جائے گا، تو ساتھ ہی شیخین کا مقام بھی اٹھتا جائے گا۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ شیخین افضل ہیں۔ اس وجہ سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

                  تو واقعتاً اگر نصوص میں غور کیا جائے تو بات بڑی صاف ہے۔ اور یہ بھی آپ کو بات بتاؤں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں بڑی عجیب تحقیق کی ہے۔

                  خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِيْ۔ فرمایا یہ "ق" صدیق کا آخر ہے۔ "ر" عمر کا آخر ہے۔ اور "ن" عثمان کا آخر ہے۔ اور "ی" علی کا آخر ہے۔ تو لہذا یہ پہلے سے یہ ترتیب بنی ہوئی ہے۔ اور یہ اللہ پاک نے کام لینا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے لیے صدیق ہی بنے تھے۔ اور وہ پہلے پہلے کرنا تھا۔ وہ بعد میں نہیں ہو سکتا تھا، پہلے ہی ہونا تھا۔ اس کے لیے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشکیل تھی۔

                  واقعتاً دیکھا جائے وہ جو، وہ کام، سب صحابہ متردد ہو گئے تھے یا نہیں؟ مطلب ہے بعض مسئلوں میں۔ اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے کرنا ہے،اکیلے۔ اور بعد میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اللہ تعالیٰ رحم کرے ابوبکر پر، ان کے ذریعے سے ہم بچ گئے۔ ان کے ذریعے سے ہم بچ گئے۔ تو یہ کام کیا کس نے؟ اللہ پاک نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لیا۔ بیشک ڈھائی سال تھے، لیکن وہ ڈھائی سال آگے جتنی ساری خلافت پہ بھاری ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی جو چیزیں تھیں وہ اس بنیاد پہ بنی ہیں، جو بنیاد ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنا چکے ہیں۔ اگر وہ بنیاد نہ بناتے تو وہ عمارت کدھر بنتی؟ تو وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

                  پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد وہ کام کر دیے جو دور اندیشی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جتنے کام ہیں وہ، استقامت اور یقینِ محکم، والی جو بات ہے ، اس قسم کی باتیں تھیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے وہ کام لیے۔ وہ بنیاد ہوتی ہے۔ استقامت اور یقینِ محکم بنیاد ہے۔ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو کام لیے وہ دور اندیشی کے ہیں سارے۔ اب دیکھیں اتنی دور دور تک حضرت کی سوچ گئی ہے نا کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ اب بھی Norway میں اور Sweden میں اور ان علاقوں میں جو "Omar "laws ہیں، باقاعدہ ان کو "Omar laws" کہتے ہیں۔ وہ Social security system جو انہوں نے بنایا ہے۔ وہ جو colonies system انہوں نے بنایا ہے، جو فوجی units کا system انہوں نے بنایا ہے۔ وہ سب دنیا اس پہ چل رہی ہے۔ تو یہ اتنی دور اندیشی والا نظام عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنایا۔ اس وجہ سے جو مستشرقین تھے وہ کہتے تھے کہ "اگر ایک عمر اور ہوتے تو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین نہ ہوتا"۔ تو ظاہر ہے مطلب اللہ پاک نے ان سے یہ کام لیا۔

                  عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو قربانی لی ہے نا، میں بتاؤں وہ قربانی کیا قربانی ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی بیشک زیادہ ہے، شہادت بہت المیہ ہے۔ لیکن ذرا دیکھو، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت خلیفہ نہیں تھے۔ اور ظاہر ہےکہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہیں۔ خلیفہ ہونے کے باوجود اپنے حق میں تلوار نہیں چلائی۔ کمال کی بات ہے دو باتوں کے درمیان سارا کچھ لے آئے۔ اور دونوں آپ ﷺ کی باتیں تھیں۔ ایک فرمایا کہ: مجھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں قمیص دی جائے گی۔ لوگ تجھ سے وہ قمیص اتروانا چاہیں گے، اس کو اتارنا نہیں ہے"۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ خلافت ہے۔ اب دیکھو اس پر اس لیے استعفیٰ نہیں دیا۔ نہیں تو استعفیٰ تو دے دیتے۔ زیادہ آسان تھا۔ استعفیٰ اس لیے نہیں دیا کہ آپ ﷺ کی بات ہے۔ اور دوسری فرمایا کہ میں نے سنا ہے آپ ﷺ سے، کہ اگر مسلمانوں کے درمیان ایک دفعہ تلوار چل جائے گی، پھر وہ رکے گی نہیں۔ پھر وہ رکے گی نہیں۔ اور میں اس کی ابتدا کرنا نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس کی ابتدا ہو جائے۔ لہذا تلوار اس لیے نہیں چلائی۔

                  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ڈیوٹی لگائی، کہ ان کے دروازے پہ پہرا دو، کوئی اندر نہ جانے پائے۔ تو دروازے سے کوئی نہیں جا سکا۔ پھر قتال کی اجازت مانگی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، تو انہوں نے اجازت نہیں دی۔ جب خلیفہ کی مرضی کے بغیر تو ہو نہیں سکتا قتال۔ انہوں نے اجازت نہیں دی۔ انہوں نے یہی بات بتائی کہ مجھے یہ پتہ چلا ہے۔ اب قتال کی اجازت ملی نہیں، دروازے سے کوئی جا نہ سکا، پیچھے سے لوگ پھلانگ کے آ گئے۔ اور شہید کر دیا۔ اور شہادت میں انہوں نے اپنی صفائی پیش کی ہے۔ ان کو نہ گرفتار کرنے کی کوشش کی نہ ان کو مروانے کی کوشش کی، صرف صفائی پیش کی ہے۔ تو یہ جو مظلومیت ہے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی، یہ تو اتنی زیادہ ہے کہ میں تو حیران ہوں کہ اس کو لوگ بھول کیسے سکتے ہیں۔ اتنی زیادہ ہے۔ تو قربانی لے لی اب عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔

                  اور حلم کا پورا پہاڑ تھے، حلم کے۔ وہ چیز اللہ پاک نے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے سے ظاہر کروائی۔ پھر اس کے بعد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو فقاہت، اتنی فقاہت تھی، اتنے مشکل مشکل مسئلے چٹکیوں میں حل کرتے تھے۔ اب یہ جو فتنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں آیا، اگر یہ کسی اور کے دور میں آتا تو یہ فقاہت کی ضرورت تھی اس وقت۔ تو اللہ پاک نے ان سے وہی کام لیا جس کے لیے اللہ پاک نے ان کو بنایا تھا،"فقاہت"۔ اس وجہ سے آج بھی مسلمانوں کے درمیان اگر کبھی لڑائی ہو، فیصلہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس میں پڑ گئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا تھا: "تمہیں ابتلا میں ڈالا جائے گا، ایسی ابتلا میں جس میں پہلے کوئی نہیں آیا ہوگا"۔ تو وہ تو ہوا نا۔ وہ تو ہوا۔ اور یہ بھی فرمایاکہ: "کتنا شقی ہو گا وہ جو تیری داڑھی کو تیرے خون سے سرخ کر دے گا"۔ کتنا شقی ہو گا۔ تو یہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس امت کا سب سے بڑا شقی جو ہے وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرنے والا ہے۔ جو سب سے بڑا شقی ہے، وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرنے والا ہے۔

                  اور یہ شقی، خبیث جو تھا، ابنِ ملجم۔ جس وقت اس کو قصاص میں مارا جانے لگا۔ تو جس وقت اس کے ہاتھ کاٹے گئے، کچھ نہیں کہا۔ پیر کاٹے گئے، کچھ نہیں کہا۔ کان کاٹے گئے، کچھ نہیں کہا۔ آنکھوں میں سلائی ماری گئی گرم، آنکھیں بہہ گئیں، کچھ نہیں کہا۔ جب اس کی زبان کاٹی جانے لگی تو رونے لگ گیا۔ انہوں نے کہا کیوں؟ اب تجھے وہ آ گئی؟ کہتا ہے میں اس زبان سے روزانہ ستر ہزار مرتبہ ذکر کرتا ہوں۔ ستر ہزار مرتبہ ذکر کرتا ہوں اس زبان سے۔ اس وجہ سے میں رو رہا ہوں۔ تو اس سے پتہ چلا، خارجی، خوارج، یہ اتنا بڑا گند ہے۔ کہ ذکر کے ذریعے سے بھی نہیں دھلتا۔ اتنا بڑا گند ہے، خارجیت۔

                  خارجی کی نظر اپنے اوپر ہوتی ہے کہ میں جو سوچتا ہوں وہ ٹھیک ہے۔ کسی اور کی سوچ کو نہیں مانتا۔ وہ اختلاف کی اجازت نہیں دیتا، خارجی جو ہوتا ہے۔ آج بھی جو ان کے نقشِ قدم پہ چل رہے ہیں ان کا حال ایسا ہے۔ خارجی سوچ رکھتے ہیں کہ صرف ہم ٹھیک ہیں۔ کوئی اور ٹھیک نہیں ہے۔ تو یہ جو بات ہے یہ خارجیت بہت بڑی مصیبت ہے۔

                  حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت بہترین فیصلہ فرمایا ہے معارف القرآن میں۔ بالکل اس کی ابتداء میں اگر آپ دیکھیں۔ تو اس میں فرمایا ہے کہ دیکھو سورہ فاتحہ میں:

                  اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين ۔

                  گویا کہ اللہ پاک ہمیں رجال اللہ کے پیچھے لانا چاہتا ہے۔ یہ ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اِهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، ہم مانگتے ہیں نا اللہ پاک سے۔ تو اللہ پاک اس ہدایت کے راستے کی تعریف کیا کرتا ہے؟ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پہ تو نے انعام فرمایا۔ انعام کن پر ہے؟ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین۔ تو یہ، اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں وہ ہیں۔ اور رجالِ شیطان سے بچنے کے ہیں۔ تو یہاں پر رجال کا مسئلہ ہے۔

                  اور سورہ بقرہ کی ابتدا میں:

                  الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ

                  کتاب اللہ کی بات ہے۔ فرمایا :دونوں ضروری ہیں ہدایت کے لئے۔ لہذا جو لوگ صرف رجال کو لیتے ہیں اور کتاب کو نہیں لیتے وہ بھی گمراہ ہیں، فاطمیین کی طرح۔ اور جو لوگ کتاب اللہ کو لیتے ہیں اور رجال اللہ کو نہیں لیتے وہ بھی گمراہ ہیں، جیسے خوارج۔ جو لوگ کتاب اللہ کو لیتے ہیں اور رجال اللہ کو نہیں لیتے وہ بھی گمراہ ہیں، جیسے خوارج۔


                  ایک جگہ پر میں گیا تھا وہاں میرا بیان تھا۔ وہ ذرا سخت طبیعت کے لوگ ہیں۔ نام میں نہیں لیتا۔ سخت طبیعت کے لوگ ہیں متشددین ہیں۔ تو وہاں میں جب بیان میں نے کیا، تو اس وقت تو تقریباً پچاس ساٹھ لوگ اس میں بیعت میں آ گئے۔ مطلب وہ اسی متشددین لوگوں میں سے۔ اور ان کے جو بڑے تھے انہوں نے کہا کہ آپ کا جو تصوف ہے یہ ہمارے قرآن و سنت کا تصوف ہے، اس کو تو ہم بھی مانتے ہیں۔ لہذا وہاں تو معاملہ ٹھیک ہو گیا۔

                  اگلی دفعہ جب میں گیا اگلے سال، انہی کی Request پر کہ آپ آئیں پھر۔ تو Request پہ جب گیا، تو اس وقت جو لوگ متشدد ان میں تھے نا انہوں نے کچھ شرارت کی۔ شرارت یہ کی، عجیب شرارت تھی۔ شرارت یہ کی کہ کہا جو قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا تھا نا انہوں نے کہا جی اب فلاں آ جائیں تلاوت کریں۔ ادھر ادھر دیکھا جی:وہ نہیں ہیں، اچھا ٹھیک ،جی فلاں تم آ جاؤ، وہ آ گیا۔ جب وہ اٹھے نا تو ان کے زیرِ لب مسکراہٹ سے میں نے اندازہ کیا کہ کوئی ناٹک کھیلا جا رہا ہے۔ کچھ مسئلہ ہے۔ میں نے کہا چلو جو کچھ ہے وہ دیکھا جائے گا۔ اچھا جب وہ آ گیا، تو اس نے قرآن پاک کی جو تلاوت کی اس میں یہی آیاتِ کریمہ بیان کیں کہ وہ جو قرآن سے اعراض کرنے والے تھے تو ان کو کہا جائے گا کہ اب کیوں بھاگتے ہو؟ کچھ اس طرح بات۔ تو اس سے پھر وہ ساتھ میں انہوں نے کہا میں اس کا ترجمہ بھی بتا دوں۔ ترجمہ بتا دیا۔ پھر کہا کہ دیکھو قرآن ہی پیر ہوتا ہے، کوئی اور پیر نہیں ہوتا۔ استدلال یہ کر لیا۔

                  تو میں سمجھ گیا کہ سارا ناٹک اس کے لئے بنایا گیا تھا۔ میں نے سنی ان سنی کر دی۔ میں نے کہا اگر ابتداسے رد کروں گا تو ماحول خراب ہو گا۔ تو میں نے سنی ان سنی کر لی، تقریباً ایک گھنٹہ بیان کرنے کے بعد، آخری پانچ منٹ میں، میں نے پھر جواب دے دیا۔ میں نے کہا حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمایا ہے۔ کہ رجال اللہ کو بھی ماننا پڑتا ہے، اور کتاب اللہ کو بھی ماننا پڑتا ہے۔ اور جو صرف کتاب اللہ کو مانتا ہے وہ بھی گمراہ ہے، اگر رجال اللہ کو نہیں مانتا۔ اور رجال اللہ کو کوئی مانتا ہے اور کتاب اللہ کو نہیں مانتا وہ بھی گمراہ ہے۔

                  مثال بھی دی ہے۔ میں نے کہا جس وقت خوارج نے خروج کر لیا۔ تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی سرکوبی کے لئے جب گئے، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہلے بھیجا ان کے پاس۔ پھر اس کے بعد خود تشریف لے گئے۔ اور پھر فرمایا ان سے، کہا: قرآن پاک ساتھ رکھا اور فرمایا:

                  يَا مُصْحَفُ! كَلِّمِ النَّاسَ۔ لوگوں سے بات کر، یا لوگوں کو یہ مسئلہ بتا۔ انہوں نے کہا آپ کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا میں وہی کہہ رہا ہوں جو تم چاہتے ہو۔ اگر تم صرف قرآن کو مانتے ہو ، کسی اور چیز کو نہیں مانتے، پھر قرآن تم سے بات کرے نا۔ قرآن پھر تم سے بات کرے۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا تھا کہ دیکھو ان کے ساتھ حدیث پہ بات کرنا قرآن پہ بات نہ کرنا۔ کیونکہ قرآن کے اپنے معنی یہ ایجاد کر لیں گے۔ اپنی طرف سے مفہوم گھڑ لیں گے۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا۔

                  تو میں نے کہا کہ دیکھو قرآن کو تو سب مانتے ہیں۔ لیکن قرآن پر لانے کے لیے کچھ لوگ ہیں۔ قرآن پر لانے کے لئے کچھ لوگ ہیں، ان کو "پیر" کہتے ہیں، جو صحیح پیر ہوتے ہیں۔ پھر اس وقت بھی غالباً گیارہ لوگ سلسلے میں داخل ہو گئے۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ کچھ لوگ متشدد ہوتے ہیں۔ اور یہ متشدد لوگ بہت خطرناک لوگ ہیں بہت خطرناک لوگ ہیں۔ یہ خواہ مخواہ مصیبت بناتے ہیں۔

                  اس کے با وجود تینوں خلفاء کی فضیلت کے بارے میں حکم کرتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ افضلیت کی وجہ ان فضائل و مناقب کے علاوہ کچھ اور ہے، اور اس افضلیت کی اطلاع "دولتِ وحی" کے مشاہدہ کرنے والوں کو میسر ہے جنہوں نے صریح طور پر یا قرائن سے معلوم کیا ہے اور وہ پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں، لہذا جو کچھ کہ شارح عقائد نسفی نے بیان کیا ہے کہ افضلیت سے مراد کثرت ثواب ہے تو توقف کی گنجائش سے ساقط ہے کیونکہ توقف کے لئے اس وقت گنجائش ہوتی ہے جب کہ اس افضلیت کو صاحبِ شریعت کی طرف سے صراحۃ یا دلالۃً معلوم نہ کر لیا ہو۔ اور جب معلوم کر لیا ہے تو پھر توقف کیوں؟ اور اگر معلوم نہیں کیا تو افضلیت کا حکم کیوں کریں؟ اور جو شخص سب کو برابر سمجھتا ہے اور ایک دوسرے پر افضلیت دینا بیکار سمجھتا ہے وہ فضول اور لا حاصل ہے۔ وہ عجیب احمق ہے جو اہلِ حق کے اجماع کو فضول و بے کار سمجھتا ہے۔

                  صحابہ کرام کا اجماع ہے نا۔ صحابہ کرام جمع ہو گئے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر۔ بس ٹھیک ہے جی ترتیب سے۔

                  اچھا،

                  شاید فضل کا لفظ اس کو فضولی کی طرف لے گیا ہے۔ جو کچھ صاحب فتوحات مکیہ کہتے ہیں کہ ان کی خلافت کی ترتیب کا سبب ان کی عمروں کی مدتوں سے ہے۔ (یہ بات) ان کی فضیلت میں مساوات پر دلالت نہیں کرتی۔ کیونکہ خلافت کا معاملہ دوسرا ہے اور افضلیت کی بحث دوسری ہےـ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں جو ان (شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ) کی شطحیات سے ہیں، ان کی شان کے لائق نہیں ہیں، ان کے اکثر کشفیہ معارف جو اہل سنت کے علوم سے جدا واقع ہوئے ہیں وہ صواب سے دور ہیں، لہذا ایسی باتوں کی متابعت وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل بیمار ہے یا مقلدِ محض ہے۔

                  اور صحابہ کے درمیان جو لڑائی جھگڑے واقع ہوئے ان کی اچھے معنوں میں تاویل کرنی چاہیے اور نفسانی خواہش و تعصب سے دور رکھنا چاہیے۔ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی افراط محبت کے با وجود فرماتے ہیں: "جو مخالفات و محاربات (جنگ و جدال) ان (صحابہ) کے درمیان واقع ہوئے ہیں وہ خلافت کا نزاع نہ تھا بلکہ خطائے اجتہادی کے سبب سے تھا"ـ اور اس (شرح عقائد) کے حاشیہ "خیالی"؂15 میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے لشکر نے (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی اطاعت سے بغاوت کی اور ساتھ ہی اس امر کا اعتراف بھی کیا کہ وہ (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تمام اہلِ زمانہ سے افضل ہیں اور وہ امامت کے ان سے زیادہ حق دار ہیں۔ ایک شبہے کی وجہ سے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینا تھا اور حاشیہ قرہ کمال (الدین اسمعیل) میں حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "ہمارے جن بھائیوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی وہ فاسق و کافر نہیں ہیں کیونکہ ان کے لئے تاویل ہے" اور اس میں شک نہیں کہ خطائے اجتہادی ملامت اور طعن و تشنیع سے بہت دور ہے۔

                  حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوات و التحیات کے حقوقِ صحبت کی رعایت کر کے تمام صحابہ کرام کو نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوات و التسلیمات کی دوستی کی وجہ سے ان کو دوست رکھنا چاہیے




                  مکتوباتِ امام ربانیؒ: عقائدِ اہل سنت، درجاتِ ایمان اور عظمتِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ