مکتوباتِ امام ربانی: عقائدِ اہلسنت، قیامت کا احوال اور نقشبندی طریقۂ سلوک

درس 126: مکتوب 266 (حصہ پنجم)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • عقیدہ نمبر 15 تا 19 کی تشریح (قیامت، حساب، میزان، پل صراط، جنت و جہنم، اور فرشتوں کی حقیقت)۔
    • اکبر کے دین الہٰی کا فتنہ اور اسلام کی کاملیت۔
      • طریقہ نقشبندیہ میں عوام کی آسانی کے لیے "جذب" کو مقدم اور "سلوک" کو مؤخر کرنے کی حکمت۔
        • خانقاہ سے وابستہ چار قسم کے افراد کی مثالیں اور باطنی راستے کے دھوکے۔
          • شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی خطائے کشفی (کفار کے لیے ابدی عذاب کی نفی) کا شرعی نصوص سے مدلل رد۔
            • کشف اور الہام کی ظنی حیثیت بمقابلہ قرآن و سنت کی قطعی نصوص۔
              • تکمیلِ ایمان کے لیے "تولیٰ" (اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت) اور "تبرا" (کفر، کفار اور مشرکانہ رسومات سے بیزاری) کی اہمیت۔

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

                أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

                بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

                آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کی مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یہ شہرِ آفاق مکتوبات شریف ہیں اور اس میں علوم بہت زیادہ اللہ تعالیٰ نے ماشاءاللہ ہم تک پہنچانے کا انتظام فرمایا ہے حضرت کی برکت سے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ اس میں بہت علوم ہیں، ہم اس کی طرف توجہ نہیں کر رہے اور واقعتاً بات بھی ایسی ہے کہ جیسا کہ اس طرف توجہ کرنے کا حق تھا ایسا نہیں ہو رہا۔

                عقائد کی بات چل رہی ہے،

                عقیدہ (15) روز قیامت "حق" ہے۔ اس روز اسمان، ستارے، زمین، پہاڑ، سمندر، حیوان، نباتات اور معدنیات سب کے سب معدوم و ناچیز ہو جائیں گے، آسمان شق ہو جائیں گے اور ستارے منتشر ہو کر گر جائیں گے، اور زمین و پہاڑ پراگندہ ذرات ہو جائیں گے۔ یہ تمام توڑ پھوڑ اور فنا کا تعلق نفخہ اولیٰ سے ہے ـــ اور نفخہ ثانیہ (دوسرے صور) پر لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کی طرف روانہ ہوں گے ـــ اور فلاسفہ (یعنی حکماء یونان وغیرہ) آسمانوں، ستاروں کے نیست و نابود ہونے کو نہیں مانتے اور ان کا فانی اور فاسد ہونا جائز نہیں سمجھتے، وہ ان کو ازلی اور ابدی کہتے ہیں ـــ اور اس امر کے باوجود ان میں سے متاخرین اپنی بے وقوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو زمرہ اہل اسلام میں شمار کرتے ہیں اور اسلام کے بعض احکام بھی بجا لانے کا دعوی کرتے ہیں ـــ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اہل اسلام ان کی ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور جرات و دلیری کے ساتھ ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ بعض مسلمان ان لوگوں میں سے بعض کے اسلام کو کامل جانتے ہیں، اور اگر کوئی ان پر طعن و تشنیع کرے تو اس کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ نصوص قطعی کے منکر ہیں اور انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے اجماع کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ (1) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ (2)(التکویر) (جب آفتاب بے نور ہو جائے گا اور ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے)۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ (1) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ (2) (الانشقاق) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کا حکم سن لے گا، اور وہی اسی لائق ہے) اور اللہ فرماتا ہے وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ (19) (النبا) (اور آسمان کھل جائے گا ور اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے) (یعنی بھٹ جائے گا) اسی قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ صرف کلمہ شہادت زبان سے ادا کر لینا اسلام میں کافی نہیں ہے، بلکہ ان تمام چیزوں کی تصدیق بھی ضروری ہے جن کا بجا لانا اور ان پر عمل کرنا دین کی ضروریات میں سے ہے اور کفر و کافری سے تبرا اور بیزار ہونا بھی ضروری ہے تاکہ اسلام متصور ہو جائے۔ وَبِدُونِہٖ خَرْطُ الْقَتَادِ(اس کے علاوہ بے فائدہ تکلیف اٹھانا ہے)۔

                حضرت کے زمانے میں، حضرت کے دور میں بہت ساری چیزیں آپس میں mix ہو چکی تھیں، جیسا کہ اکبر کا دور تھا، اکبر کا دینِ الٰہی۔ اس میں سات مذہبوں کو اکٹھا کیا گیا تھا، اس کو "ست دھرم" کہتے تھے۔ اور اپنے خیال میں انہوں نے سات مذہبوں کی جو اچھی اچھی چیزیں تھیں، وہ جمع کر لی تھیں اور سمجھتے تھے کہ ہم ہر مذہب کی اچھی چیز کو مانتے ہیں۔ تو ظاہر ہے اول تو یہی بڑی فساد کی بات تھی کہ کسی اور مذہب کی چیز کو اسلام میں شامل کرنا، نمبر ایک۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام کو نامکمل سمجھنا۔ یعنی اسلام کے اندر جو تفصیلات طے ہو چکی ہیں، ان کو ابھی بھی نامکمل سمجھنا۔

                حالانکہ اللہ پاک کا قرآن پاک میں مکمل اعلان ہے: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ (3) (المائدہ) آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر لیا، مکمل کر لیا۔ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر لیا وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کر لیا۔

                اب تین اعلان ہیں: پہلی بات کہ اسلام کا دین مکمل ہے، اس کے اندر کوئی کمی نہیں۔ نمبر ایک۔ نمبر دو، اللہ پاک نے اپنی نعمت مسلمانوں پر تمام کر دی، جو خیر کی چیز تھی وہ مل گئی۔ تیسری چیز، اسلام ہی واحد دین ہے جو اللہ پاک کا پسندیدہ دین ہے، اس کے علاوہ اور کوئی دین پسندیدہ دین نہیں ہے۔ یہ تین اعلان اسی ایک آیت میں ہوئے ہیں۔ اب جو قرآن کو مانتا ہے، تو پھر اپنی طرف سے اس کی دوسری تاویل کیسے کر سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ فائنل بات ہو گئی۔ اس میں اب کوئی اور بات نہیں ہو سکتی۔ تو جن لوگوں نے سات مذہبوں کو اکٹھا کیا، تو انہوں نے پہلے سے مان لیا کہ اسلام نامکمل ہے۔ دوسری بات کہ دوسرے مذہبوں کے اندر جو بعض چیزیں ہیں وہ اسلام سے اچھی ہیں۔ تو ان دو غلط باتوں کا مجموعہ بھی غلط ہے۔ لہٰذا یہ چیزیں حضرت کے دور میں تھیں۔ تو حضرت نے ماشاءاللہ بڑی جرأت، ہمت اور حکمت کا مظاہرہ کر کے ان باتوں کو ان دنوں ماشاءاللہ امت تک پہنچایا اور یہ جو حضرت کے الفاظ میں بظاہر جو شدت لگتی ہے، یہ اسی وجہ سے ہے۔

                جس وقت ہم نے مکتوبات شریف پہ کام شروع کیا، تو ہمارے ایک ساتھی کو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی۔ تو حضرت نے فرمایا کہ ان کو کہو کہ حضرت کی زندگی کا مطالعہ پہلے کر لیں۔ یعنی حضرت نے زندگی کیسے گزاری ہے، کون سےحالات میں رہے۔ پھر ان کو مکتوبات شریف کا پتہ چلے گا کہ مکتوبات شریف کے اندر کیا ہے۔ بات بالکل صحیح تھی۔ تو مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمة الله عليه نے حضرت پر پوری ایک جلد، کاروانِ دعوت و عزیمت میں، جلد چہارم، اس پہ لکھی ہے۔ تو میں نے وہ Internet سے download کی، اور پھر اس کو تفصیل سے پڑھا، ٹھیک سے پڑھا۔ اور یہ ساری باتیں مجھے پھر ظاہر ہے اس وقت معلوم ہو گئیں۔

                تو اب جو باتیں میں دیکھتا ہوں مکتوبات شریف میں، تو مجھے پتہ چلتا ہے کہ کس چیز کا ردِ عمل ہے، کس چیز کی تفصیل ہے، کس چیز کی ضرورت ہے، مطلب ظاہر ہے وہ تمام چیزیں اب پتہ چلتا ہے۔ تو یہ وجوہات بھی تھیں کہ جو عقائد پہ حضرت نے اتنا تفصیل کے ساتھ مکتوب، سب سے بڑا تفصیل، غالباً مکتوب شریف یہی ہے۔ 44 صفحات کا یہ مکتوب شریف ہے۔ سب سے لمبا اور تفصیلی مکتوب شریف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ عقیدہ اگر صحیح نہیں ہو تو باقی اعمال چاہے کتنے ہی صحیح ہو جائیں، تو رد ہیں۔ لہٰذا عقیدہ کی حفاظت بہت اہم ہوتی ہے۔ اور حضرت نے عقائد کی بھی حفاظت فرمائی ہے، شریعت کی بھی حفاظت فرمائی ہے، طریقت کی بھی حفاظت فرمائی ہے۔ تینوں چیزوں کی۔ جو حدیثِ جبریل میں جو تین چیزیں ہیں نا، ما الایمان؟ ما الاسلام؟ اور ما الاحسان؟ تو ان تینوں چیزوں کی حضرت نے ماشاءاللہ حفاظت فرمائی ہے۔ عقائد کو بھی بالتفصیل ماشاءاللہ بیان فرمایا ہے، جیسے ابھی عقیدہ نمبر 15 ہے۔ اس طرح اور عقائد بھی تفصیل کے ساتھ آئیں گے۔ اور دوسری بات کہ اسلام کے جو بنیادی ارکان ہیں ان تمام چیزوں کی ماشاءاللہ تفصیلات، جہاں تک ہو سکا، تو بیان فرمائی ہیں، اور پھر طریقت، سبحان اللہ! بہت اہم چیز ہے۔

                میں آپ کو کیا بتاؤں حضرت کے اندر اللہ پاک نے کتنا سوز بھرا ہوا تھا۔ یہ مکتوب نمبر 287 جو ہے، اس کو جب انسان دیکھتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ حضرت نے کس حد تک کڑھن کے ساتھ اس مکتوب شریف کو لکھا ہے، کڑھن کے ساتھ۔

                اس کی وجہ یہ ہے کہ نقشبندی سلسلے کے اندر ایک بہت خاص صفت ہے۔ اور اس خاص صفت کے اندر جو خاص احتیاط ہے، اگر اس کو خیال میں نہیں لایا جائے گا، تو بجائے فائدہ کے وہی چیز نقصان دہ بن جائے گی۔ یہ بات ہے، یہ بہت اہم بات ہے۔ تو وہ خاص صفت جو ہے وہ یہ ہے۔ بہت اہم بات ہے اللہ تعالیٰ سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

                وہ خاص صفت یہ ہے کہ عوام کا اس میں خیال رکھا گیا ہے۔ جو طریقہ خواص کے لیے تھا بہتر وہ تو چل رہے تھے خواص کے لیے جو بہتر طریقے تھے۔ چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ اور کبرویہ بہت سارے سلسلے ہیں۔ لیکن وہ اس صورت میں ہیں کہ ان میں جو لوگ آئیں تو کسی بھی وجہ سے وہ پہلے سے تیار ہوں۔ ہر قسم کی ریاضت کے لیے، مشقت کے لیے، پہلے سے تیار ہوں۔ یعنی آتے ہی وہ حضرات مجاہدات پر، ریاضتوں پر اور مشقتوں پر لگا دیتے تھے۔

                جیسے سوات بابا جی ہیں مولانا عبدالغفور صاحب، خود اس نے جنگلوں میں وقت گزارتے ہیں۔ ہاں جی کافی مطلب جو ہے نا وہ اس میں مشقتوں میں زندگی گزاری ہے۔حضرت مولانا عبدالرحیم سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ، یہ انگریز کی فوج میں سپاہی تھے۔ اور استعفیٰ دے دیا اور حضرت کے مرید ہو گئے۔ حضرت نے ان کو بیعت فرما کر سوات میں بڑی وادیاں ہیں تو ایک وادی میں بھیج دیا۔ اور یہ فرمایا کہ جب تک میں بلاؤں نہیں تو ادھر ہی رہنا اور بس اس چشمے پہ بتا دیا کہ بس وہیں پر نماز روزہ کر لینا اور جو ملے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بس وہ کھائیں۔ جب تک میں نہ بلاؤں تو اس وقت تک ادھر رہنا۔

                اب مجھے بتاؤ پہلے سے اگر کوئی تیار نہیں ہے، ایسے کام کے لیے وہ کرے گا؟

                ابھی بھی مجھے یاد ہے یہ وہاں پر شیرین بابا جی ہیں سیدو شریف میں سنا ہے نام؟ ہاں ان کی خدمت میں ہم گئے تھے۔ تو شیرین بابا جی بھی بڑے لمبے لمبے وظیفے دیا کرتے تھے۔ تیس ہزار دفعہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھو یا فلاں ذکر اتنا کرو۔ تو کوئی کہتا کہ یہ تو زیادہ ہے۔ تو فرماتے ہیں، اچھا جاؤ گرم روٹی کھاؤ یہ ایسی بات ہے منہ اٹھا کے چلے آتے ہو جاؤ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کے گرم روٹی کھاؤ اس طرح بالکل صاف بتا دیتے۔

                تو ہمارے ساتھ ایک صاحب چڑھ رہے تھے پہاڑ کے اوپر ساتھ ہم جب جا رہے تھے بعد میں پتہ چلا کہ اس کی بھی 120 سال عمر تھی۔ جو چڑھ رہے تھے وہاں عمرے کافی ہیں الحمد للہ۔ تو بہرحال وہ گیا تو اس نے کہا بابا جی میرے لطائف بجھ گئے ہیں۔ تو انہوں نے کہا سادہ ذکر کر لیا کرو، یہ اچھا ہے۔ خیر ان کے ساتھ کوئی نوجوان آیا تھا، ان کو اپنے ساتھ لایا تھا۔ تو انہوں نے کہا جی اس کا مسئلہ ہے آپ سے اس کے بارے میں بات کرنی ہے۔ انہوں نے کہا چھ مہینے کے لیے اپنے ساتھ چلہ کرواو نا چھ مہینے کے لیے چلے لگواؤ ہاں جی یعنی ان کے لیے یہ کوئی مشکل بات ہی نہیں تھی کہ چھ مہینے کا چلہ اور تیس ہزار روزانہ۔

                تو اب مجھے بتاؤ ایسے لوگ آج کل کیسے ملیں گے؟ تو ان کا یہ بالکل ہوتا تھا ان دنوں۔۔۔

                تو وہ سلاسل جو تھے، ان میں خواص زیادہ آسانی کے ساتھ چل پڑتے تھے۔ شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ جاتے ہی ان کو مجاہدے پہ لگا دیا۔ عبدالرحیم سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کو لگا دیا وادی میں۔ وہ چیزیں ہو سکتی تھیں۔ لیکن عوام ان کے لیے کیا کیا جائے؟ تو حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے عوام کے لیے اس میں انتظام کر دیا کہ عوام میں کیسے شوق پیدا کیا جائے مجاہدات اور ریاضتوں کو برداشت کرنے کی؟ یہ ان کا احسان ہے۔

                اس کے لیے انہوں نے جذب کو مقدم کر لیا۔ جذب کو مقدم کر لیا اور سلوک کو مؤخر کر لیا۔ ورنہ باقی تمام سلسلوں میں سلوک مقدم ہے، جذبِ وہبی بعد میں آتا ہے خود بخود۔

                تو ایسے ہوا کہ اب حضرت نے تو ماشاء اللہ بڑی حکمت کا مظاہرہ کیا۔ اب اس کو (یعنی جذب کو) کیسے مقدم کر لیا؟ جذب کو؟ اس کے لیے انہوں نے ایسے طریقے دریافت کر لیے جس سے جو انسان ہے جس کا روح پہلے سے عاشق تھا اللہ تعالیٰ کا، لیکن جس وقت نفس میں آ گیا تو نفس کی چیزوں کا شکار ہو گیا اور دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گیا نفس کی وجہ سے۔ اب اس کو دوبارہ یہ یاد دلایا جائے کہ تو کسی کا عاشق تھا۔ اس کے لیے ذکر اور فکر اور مراقبہ، یہ چیزیں کرانے کی حضرت نے ماشاء اللہ پوری تفصیل انہوں نے دریافت کر لی۔

                نتیجتاً ان مراقبات اور ذکر اذکار سے انسان کے اندر جذب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جذب کی وجہ سے انسان سلوک طے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ تو یہ اصل نقطہ ہے نقشبندی سلسلے کا۔ اصل، اصل، اصل۔ ورنہ کوئی مجھے بتا دے اس کے علاوہ کوئی۔ اصل نقطہ نقشبندی سلسلے میں یہ ہے۔

                اب ہوا یہ کہ اللہ بچائے نفس اور شیطان تو ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ تو ایسی عیاری کی نفس اور شیطان نے کہ جو مراقبات ہیں۔ جو تیاری ہے۔ اب اس میں کیفیات طاری ہو جاتی ہیں۔ ہیں بعض دفعہ کشف بھی ہونے لگتا ہے۔ کیفیات طاری ہو جاتی ہیں۔ اب وہ جو کیفیات طاری ہو گئیں وہ تو اس لیے تھا کہ اس کو سلوک میں استعمال کرو۔ تو لوگوں نے ان کو کافی سمجھ لیا کہ ہم تو منتہی ہو گئے۔

                حالانکہ منتہی کہاں ہوئے؟ ابھی سلوک تو طے نہیں ہوا۔ تو حضرت نے اس پر اتنا سخت کلام کیا ہے، اتنا سخت کلام کیا ہے اس واسطے میں کہتا ہوں سارے نقشبندی حضرات کو وہ 287 نمبر مکتوب پڑھنا چاہیے لازمی۔ کہ حضرت نے اتنی وضاحت کے ساتھ وہ چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ اس میں فرمایا کہ خانہ کعبہ کی مثال دی خانہ کعبہ کی۔

                کہ کوئی شخص ہے، جا رہا ہے خانہ کعبہ کی زیارت کرنے کے لیے، اور راستے میں کوئی جگہ اس کو خانہ کعبہ جیسی نظر آئی، اور وہیں پر بیٹھ گیا اور سمجھے کہ یہ خانہ کعبہ ہے۔ یہ شخص علماً بھی محروم ہے اور عملاً بھی محروم ہے۔ کیونکہ خانہ کعبہ تو وہ ہے نہیں جس کو خانہ کعبہ سمجھ رہا ہے، تو دونوں طرح محروم ہو گیا۔

                فرمایا کچھ لوگ وہ ہیں جو کہ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کیا ہے، اصل خانہ کعبہ کیا ہے۔ لیکن اپنی جگہ سے ہلے ہی نہیں، اپنی جگہ پہ ہیں۔ تو یہ عملاً محروم ہیں، لیکن علماً محروم نہیں ہیں۔ مطلب ان سے بہتر ہیں۔

                تیسرے وہ جو کہ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کیا ہے، اور اس کے لیے چل بھی پڑے ہیں۔ لیکن ابھی پہنچے نہیں ہیں۔ تو یہ ابھی علماً بھی محروم نہیں ہیں اور عملاً بھی محروم نہیں ہیں، لیکن پہنچے بھی ابھی نہیں ہیں۔ ابھی راستے میں ہیں، متوسط ہیں۔

                اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو پہنچ گئے۔ فرمایا: اصل تو یہ لوگ ہیں۔ اصل تو یہ لوگ ہیں۔ لیکن وہ جو تیسرے نمبر پر ہیں، یہ بھی پہنچ جائیں گے ان شاء اللہ۔ ابھی چل رہے ہیں۔ لیکن وہ پہلے دو طبقے محروم ہیں۔ پہلا والا تو دونوں طرح، علماً اور عملاً۔ دوسرا صرف عملاً محروم ہے۔

                تو حضرت نے اسی سے ابتداء فرمائی ہے یعنی بہترین مثال دے کر فرمایا کہ جس شخص کو جذب کسی طرح سے بھی حاصل ہو گیا۔ یہ الفاظ ہیں۔ اس میں یہ باریک نکتہ ہے کہ جذب کا صرف یہ طریقہ نہیں ہے، نقشبندی طریقہ، اور طریقوں سے بھی جذب حاصل ہو سکتا ہے۔ کسی طریقے سے بھی جذب حاصل ہو جائے تو پھر اس کو سلوک کے دس مقامات کم از کم طے کرنے چاہیے۔ بغیر اس کے طے کیے نہ وہ خود پہنچا ہے، نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔ اور اس کو چاہیے کہ راستے کا ڈاکو نہ بنے۔ لوگوں کو گمراہ نہ کرے۔ بلکہ صحیح لوگوں تک ان کی رہنمائی کرے۔

                خطرناک بات جو حضرت نے بات فرمائی کہ ایسے لوگ جو جذب حاصل کر چکے ہوں اور ابھی سلوک طے نہ کر چکے ہوں، ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جس سے عوام کو توجہ ان کی طرف ہوتی ہے۔ مثلاً توجہ کی قوت ان میں زیادہ ہوتی ہے، منتہی کی کم ہوتی ہے۔ یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہ بات فرمائی ہے۔ ان کی توجہ اس لیے ہوتی ہے کہ منتہی کی نظر اللہ پر ہوتی ہے۔ اور وہ مخلوق کی طرف بہت مشکل سے آتا ہے۔ ہیں، تو اس کی توجہ اس لیے اتنی وہ نہیں ہوتی، اور جبکہ یہ جو ہے تو خود ہی توجہ کر دے گا۔ ظاہر ہے سو فیصد ان کی طرف ہو جائے گا، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ کر لیتے ہیں، توجہ کر لیتے ہیں۔

                اور اب تو اللہ مجھے معاف کرے، مجھے معاف کرے، میں نام کسی کا نہیں لوں گا، کیونکہ نام لینے سے تو شر پھیلےگا ہے۔ لیکن ایسے بڑے بڑے لوگ ہیں جو اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہماری توجہ وہاں تک پہنچتی ہے۔ یہ بتاؤ! اور پوری مسجد کو ہلا دیتے ہیں اپنی توجہ سے۔ ہیں! اور جھوٹ بھی نہیں، جھوٹ بھی نہیں ہے، ہیں موجود۔ اچھا! لیکن کیا یہ کمال ہے؟ کیا یہ معیار ہے؟ یہ اگر ہے تو پھر جوگیوں کو تو ان سے بھی زیادہ توجہ حاصل ہے۔ تو جوگیوں کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ یہ تو کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ تو کھیل تماشے ہیں۔

                ایک دفعہ میں نے کوئی اس قسم کی چیز حضرت سے پوچھی، حضرت مولانا اشرف صاحب رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه سے، حضرت نے فوراً فرمایا، "دور کرو، دور کرو، یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔" یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ اور واقعتاً یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ لوگ اس سے جی بہلاتے ہیں۔ کیا چیز ہے یہ؟ تو خیر بہرحال یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں تو تھیں۔ تو حضرت نے یہ باتیں فرمائیں کہ یہ ایسے لوگوں کی توجہ کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ اور ان کے انداز و اطوار ایسے ہوتے ہیں کہ عوام کو ان کی طرف توجہ جلدی ہو جاتی ہے۔ یہی بات حضرت تھانوی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه نے فرمائی ہے۔ انہوں نے اس کو متوسط کا نام دیا ہے۔ حضرت نے اپنی terminology میں ان کو متوسط کا حضرت نے مجذوب متمکن بتایا ہے۔ اور حضرت تھانوی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه نے اس کو متوسط فرمایا ہے۔

                فرمایا مبتدی اور منتہی کا رنگ ایک ہوتا ہے۔ منتہی مبتدی کی طرح نظر آتا ہے۔ عوام کی طرح نظر آتا ہے، عوام میں بیٹھ کے۔ حضرت مولانا عزیر گل صاحب رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه کو اگر آپ دیکھتے نا، اور کسانوں میں بیٹھے ہوتے، ہرگز پتہ نہیں چل سکتا کہ یہ بزرگ ہیں۔ بالکل نہیں پتہ چل سکتا تھا۔ بس ایسے اپنے آپ کو مٹایا ہوا تھا۔ تو منتہی اور مبتدی تقریباً ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ لیکن متوسط جو ہوتا ہے یہ عالمِ جذب میں ہوتا ہے، لہٰذا ان کی جو — جیسے مثال کے طور پر مسلسل روزے رکھنا۔ اور رومال وغیرہ اس طرح اس کو اپنے اس پہ لانا، اور بہت اس قسم کی چیزیں زیادہ ہوتی ہیں، نتیجتاً عوام ان چیزوں کی طرف زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ تو کوئی بڑا کامل ہے۔

                مجھے آپ بتائیں کہ آپ دیکھ رہے ہیں، راستہ، driving پورا مکمل دیکھ رہے ہیں، لیکن آپ کی کسی غیر محرم کی طرف نظر نہیں جاتی۔ دوسرا شخص غیر محرم سے نظر بچانے کے لیے نیچے کر لیتا ہے اور accident کر لیتا ہے، کون کامل ہے؟ تو اس کو پھر عوام تو نہیں جانتے نا! تو خیر بہرحال یہ ہے کہ یہ مسئلہ تھا۔ تو حضرت نے فرمایا متوسط جو ہوتا ہے جو درمیان میں ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہری بھری فصل۔ اور منتہی کی مثال ہوتی ہے جیسے پکی ہوئی فصل۔ فرمایا پکی ہوئی فصل آنکھوں کو بھلی نہیں لگتی، لیکن اس کے اندر جو چیز ہے وہ اصل میں مطلوب ہے۔ اور ہری بھری فصل کو اگر کاٹ دو ابھی، تو سوائے چارے کے اور کچھ کام نہیں ہے۔ جانور کے چارے کے، اور کسی کام کا نہیں ہوگا۔

                تو یہ جو بات ہے کہ حضرت نے بھی یہ بات فرمائی۔ اب یہ اللہ نہ کرے اگر کسی کو یہ مسئلہ ہو جائے کہ وہ اپنی جذب کی حالت کو کمال سمجھے، اور لوگ بھی اس کو کمال سمجھے، تو اس کی محرومی میں کیا شک ہے؟ پھر کمال کی بات یہ ہے کہ یہ چکنے گھڑے بن جاتے ہیں۔ چکنے گھڑے اس لیے بن جاتے ہیں کہ جو عوام لوگ ہوتے ہیں، مبتدی لوگ ہوتے ہیں، جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا، وہ اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ لہٰذا ان کی اصلاح کی گنجائش ہے۔ جس وقت بھی سمجھ جائیں گے تو آ جائیں گے راستے پر۔ کام کر لیں گے تو بن جائیں گے۔ لیکن جو اس طرح کمال حاصل کر چکا ہوگا اپنے خیال میں، اپنے زعم میں، اس کو اصلاح کی ضرورت ہے؟ اس کو تو اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ بڑے بڑوں سے اپنے آپ کو باکمال سمجھے۔ یہ والی بات ہے۔

                تو یہ چیز جو ہے نا، یہ حضرت نے اس پہ بہت بہت بہت کڑھن کا اظہار کیا ہے۔ اور پھر فرمایا، مطلب بہت تفصیل کے ساتھ ان چیزوں پہ بات فرمائی ہے۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ حضرت مجدد صاحب رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه نے طریقت کی بھی حفاظت کی ہے، الحَمْدُ لِلّٰهِ، اس انداز میں، شریعت کی بھی حفاظت کی ہے، اور عقائد کی بھی حفاظت کی ہے۔ تو یہاں پر ابھی بات کر رہے ہیں کہ جو لوگ ہیں، ان عقائد کو نہیں مانتے جن کا قرآن و حدیث میں وضاحت کے ساتھ ثبوت موجود ہے۔ تو جب یہ عقائد نہیں مانتے، یہ صرف یہی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ قرآن و حدیث کو نہیں مانتے۔ تو جو قرآن و حدیث کو نہیں مانیں گے تو کیا ہوگا؟

                دیکھیں! عقائد میں درمیان والی چیز نہیں ہوتی۔ یا پورا ہوتا ہے، یا بالکل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، وہ سارے پیغمبروں کو مانتا ہے، لیکن موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام کو پیغمبر نہیں مانتا، وہ مسلمان ہے یا کافر ہے؟ ایک آدمی کہتا ہے، "بھئی صرف موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام کو نہیں مانتا، تو دیکھو اتنے ایک لاکھ چوبیس کو مانتا ہے، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟" بھئی کیا فرق پڑتا ہے! اس نے اللہ اور اللہ کے رسول کو جھوٹا سمجھا ہے، کیا فرق پڑتا ہے؟ جب اللہ اور اللہ کا رسول موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَام کو پیغمبر بتاتا ہے، اور یہ کہتا ہے نہیں ہے، تو مجھے بتاؤ جو اللہ کو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ اور اللہ کے رسول کو جھوٹا کہے گا، وہ مسلمان ہو سکتا ہے؟ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں پر بھی قرآن کی جو صریح آیات ہیں ان کی تکذیب ہے۔ تو اس وجہ سے یہ مسلمان نہیں ہے۔ تو حضرت نے یہی بات فرمائی ہے۔

                عقیدہ (16) اور حساب، میزان (اعمال کا وزن ہونا) اور پل صراط "حق" ہے کہ مخبر صادق علیہ و علی آلہ والسلام نے ان کی خبر دی ہے۔ (لیکن) نبوت کے اطوار سے ناواقفیت کی بنا پر بعض جاہلوں کا ان امور کو بعید از عقل سمجھنا درجہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ نبوت کے اطوار عقل کے اطوار سے بالاتر ہیں۔ حقیقت میں انبیاء کرامؑ کی سچی خبروں کو عقل کی نظر کے موافق کرنے کی کوشش کرنا حقیقت میں "طور نبوت" سے انکار ہے کیونکہ یہاں معاملہ صرف تقلید (انبیا) پر مبنی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ "طور نبوت" "طور عقل" کے مخالف ہے، بلکہ "طور عقل" انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی تقلید کی تائید کے بغیر اس عالی مطلب کی طرف ہدایت حاصل نہیں کر سکتی۔ مخالفت دوسری چیز ہے اور رسائی نہ ہونا دوسری بات ہے۔ کیونکہ مخالفت رسائی کے بعد متصور ہوتی ہے۔

                عقل جن چیزوں تک پہنچ ہی نہیں سکتا، رسائی ہی نہیں ہے، تو کیسے اس کے بارے میں اس کی بات سنو گے؟ جو آدمی امریکہ نہیں گیا ہے، وہ امریکہ کے بارے میں بات کرے گا اور خبریں بھی اس کو نہیں ملی ہوں گی صحیح، تو کچھ کرے گا تو آپ اس کو مانیں گے؟ بس ظاہر ہے نہیں ہے بس۔ نہیں ہے علم۔ علم نہ ہونا یہ عیب نہیں ہے کسی چیز کا اگر وہ علم ضروری نہ ہو۔ لیکن اگر جھوٹی بات بتائے گا تو وہ تو عیب ہے نا۔ تو اس طریقے سے عقل ہے نا عقل، میں اگر مان لوں کہ عقل کی رسائی وہاں تک نہیں ہے تو یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ واقعتاً ایسی بات ہے۔ لیکن میں اگر کہہ دوں کہ نہیں، میری عقل وہاں تک پہنچ سکتی ہے اور وہاں کی باتوں کو دیکھ سکتی ہے، وہاں کی باتوں کو جان سکتی ہے، ایسا ممکن نہیں ہے۔

                اس لیے اسلام میں، یعنی جو ہمارے قرآنِ پاک ہے، اس میں ابتدا ہی، پہلا رکوع جو ہے وہ کس چیز کا ہے؟ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (2) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ (3) وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ (4) (البقرہ)

                یعنی یہ فرمایا کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ غیب پر ایمان رکھنا تو جو غیب ہے وہاں تک عقل کی رسائی ہے ہی نہیں۔ تو وہاں ہم عقل کی بات کیسے سنیں گے؟

                اب کوئی قبر کا عذاب ہے، وہ کہتا ہے کہ مجھے نہیں پتا، یہ کیسے مطلب یہ تو نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں نہیں معلوم ہوتا۔ تو وہ عقل کی بات کر رہا ہے، تو عقل کی بات یہاں چلے گی نہیں۔ یہاں تو يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ہے۔

                اب يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ جو ہے، اس پر پہلے ایمان کا بتایا گیا۔ پھر اس کے بعد عمل ہے۔ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ۔ اور اس کے بعد پھر کیا ہے؟ وحی پر ایمان ہے۔ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ۔ پھر آخرت پر یقین ہے: وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ۔

                تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ عقل کو final چیز سمجھتے ہیں، وہ ایمان بالغیب کا انکار کرتے ہیں۔ تو جو ایمان بالغیب کا انکار کرے گا تو قرآن کا انکار ہے، وہ کیسے مسلمان ہو گا؟

                عقیدہ (17) اور بہشت و دوزخ موجود ہیں۔ قیامت کے دن حساب کے بعد ایک گروہ بہشت میں بھیجا جائے گا اور دوسرا گروہ دوزخ میں۔ اور ان (مومنوں) کے لئے ثواب اور (کفار کے لئے) عذاب دائمی و ابدی ہوگا جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ جیسا کہ قطعی اور موکدہ نصوص اس امر پر دلالت کرتے ہیں۔

                صاحب فصوص اصل میں حضرت کو چونکہ ان تمام references کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوتا تھا جو اس وقت لوگ استعمال کرتے تھے۔ تو یہ حضرت ان کو بزرگ مانتے ہیں، یہ نہیں کہ ان کو بزرگ نہیں مانتے۔ شیخ محی الدین ابن عربی رحمة الله عليه کی بہت تعریف فرمائی ہے حضرت نے۔ اور فرمایا کہ میں نے ان کو کشف سے بہت اعلیٰ مقامات میں جنت میں دیکھا ہے۔ تو ٹھیک ہے، لیکن وہ تو اللہ پاک اجتہادی طور پر جس کی بھی بات معاف فرما دے وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ لیکن اس اجتہادی بات میں اگر کوئی غلطی ہے، تو اس کو نوٹ کرنا، یہ تو مجتہدین کا کام ہے نا۔ وہ تو کریں گے نا۔

                تو یہاں پر یہ ہے،

                صاحب فصوص (شیخ محی الدین ابن عربیؒ) کہتے ہیں کہ سب کا انجام "رحمت" ہے (جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا) وَرَحْـمَتِىْ وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ (اعراف 7 آیت 156) (اور میری رحمت سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے) ـ اور کفار کے لئے دوزخ کا عذاب تین حقبہ (ایک حقبہ اسی برس کی مدت) تک ثابت ہے۔ اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ "آگ ان کے حق میں برداً و سلاماً (ٹھنڈی اور سلامتی والی) ہو جائے گا جیسا کہ حضرت ابراہیم علی بنینا و علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوگئی تھی۔ اور حق جل و علا کی وعید میں خلاف کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور وہ (صاحب فصوص) "یہ کہتے ہیں کہ اہل دل (صوفیہ) میں سے کوئی بھی کفار کے دائمی عذاب کی طرف نہیں گیا ہے"۔ اور اس مسئلہ میں بھی وہ راہ حق سے دور جا پڑے ہیں، اور انہوں نے یہ نہیں جانا کہ مومنوں اور کافروں کے حق میں "وسعت رحمت" صرف اسی دنیا میں مخصوص ہے لیکن آخرت میں کافروں کو رحمت کی بو تک نہیں پہنچے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللّٰهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (یوسف 12 آیت 87) (بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سوائے کافروں کے کوئی مایوس (ناامید) نہ ہو گا ـــ جیسا کہ سبحانہ و تعالیٰ نے وَرَحْمَتِىْ وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ کے بعد فرمایا ہے: فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ (اعراف 7 آیت 156) (پھر میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو متقی ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں، اور ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں)۔ شیخ (ابن عربیؒ) نے آیت کے اول حصہ کو تو پڑھ لیا اور آخری حصہ کے عمل کو نہ فرمایا۔

                اور جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ رَحْـمَتَ اللّـٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ (اعراف 7 آیت 56) (بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت محسنین کے قریب ہے) ـــ نیز آئیہ کریمہ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَـهٝ (ابراہیم 14 آیت 47) (پس ہرگز گمان نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا) بھی وعدہ خلافی کی خصوصیت پر دلالت نہیں کرتی ـــ اور ہو سکتا ہے کہ اس جگہ وعدہ خلافی کے نہ ہونے کا اقتصار و انحصار اس وجہ سے ہو کہ وعدہ سے مراد رسولوں کی نصرت اور کفار پر ان کا غلبہ ہے۔ اوریہ بات وعدہ و وعید دونوں کو متضمن ہے یعنی رسولوں کے لئے وعدہ ہے اور کفار کے لئے وعید لہذا اس آیۃ کریمہ میں بھی خلفِ وعدہ (وعدہ خلافی) کی نفی ہوتی ہے اور خلف وعید کی بھی نفی۔ فَالآیَۃُ مُسْتَشْھِدَۃ عَلَیْہِ لَا لَہُ (لہذا آیت مذکورہ شیخ کے خلاف ہے تائید میں نہیں ہے)، اور اسی طرح خلف در وعید (وعید میں خلاف ہونا) بھی وعدہ خلافی کے مانند جھوٹ کو مستلزم ہے۔ اور یہ حضرت جل سلطانہ کے شایان شان نہیں ہے۔ کیونکہ وہ (حق تعالیٰ) ازل ہی میں جانتا تھا کہ کفار کو دائمی عذاب نہیں دوں گا۔ باوجود اس کے کسی مصلحت کی بنا پر اپنے علم کے خلاف فرما دیا کہ میں ان پر دائمی عذاب مسلط کر دوں گا۔ اس بات کو جائز کرنا نہایت ہی برا ہے: سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ (صفت 37 آیت 180) (تمہارا بڑی عزت والا رب ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں)

                اور کفار کے لئے دائمی عذاب کے نہ ہونے پر اہل دل (صوفیہ) کا اجماع صرف شیخ کا اپنا کشف ہے اور کشف میں خطا اور غلطی کی بہت گنجائش ہے اور خصوصاً وہ کشف جو مسلمانوں کے اجماع کے مخالف ہو، اس لئے اس کا کچھ اعتبار و اعتماد نہیں ہے۔


                مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، نصوص نصوص ہیں۔ لہٰذا نصوص کے خلاف جو بھی بات ثابت ہوگی تو اس کو تو ظاہر ہے نہیں مانا جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ اجتہادی طور پر کسی کو بات سمجھ ہی نہ آئی ہو اور وہ اس کو کہہ دے اور کسی وجہ سے اللہ پاک اس کے باقی کاموں کی وجہ سے اس کو اس کے مطابق مقام عطا فرما دے وہ علیحدہ بات ہے۔

                لیکن بہرحال یہ والی بات ہے کہ جو نصوص ہیں، ہم تو اسی کی بات کریں گے۔ اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اور وہ بچانا یہی ہے کہ ہم کسی ظاہر چیز کے خلاف نہ جائیں۔ جو قرآن اور حدیث کے ظاہری مطلب ہیں، اس کے اندر اپنی طرف سے کوئی تصرف نہ کریں۔

                تو حضرت نے بھی یہاں پر ارشاد فرمایا ہے، یہ باتیں ہوتی ہیں۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمة الله عليه ان کا بھی ایک مسئلے میں اختلاف تھا جمہور کے ساتھ۔ تو اس مسئلے کو جب اللہ تعالیٰ نے ان پر کھول دیا، تو حضرت نے رجوع فرما لیا، اس رجوع کا باقاعدہ اعلان کیا۔

                جب اعلان کیا، تو اس پر حضرت تھانوی رحمة الله عليه اتنے خوش ہوئے، کہ سید سلیمان ندوی رحمة الله عليه صاحب کی شان میں غزل لکھی فارسی میں۔ شیخ نے اپنے مرید کی شان میں غزل لکھی۔ مطلب ظاہر ہے بڑی بات ہے عالم کا اپنی کسی بات سے رجوع کرنا، یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہوتی۔ تو انہوں نے جب رجوع کر لیا تو حضرت اس پر اتنا خوش ہوئے کہ انہوں نے باقاعدہ حضرت کی شان میں غزل لکھی۔

                تو یہ جو ہے کہ اس قسم کی باتوں میں ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ بعض حضرات رجوع کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ رجوع communicate نہیں ہوتی۔ تو اللہ پاک نے جو ان کو جو مقام دیا ہوتا ہے وہ تو رجوع کے بعد کا ہوتا ہے۔ اور لوگوں کے سامنے بات رجوع سے پہلے والی آتی ہے۔

                تو کیسے؟ اب اللہ کو تو پتا ہوتا ہے اگر لوگوں کو پتا نہیں ہے۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ علامہ اقبال مرحوم ان کے کلام کو اگر آپ پڑھیں، تو اس میں باقاعدہ بعض اشعار کمیونسٹوں کے حق میں ہیں۔ تو کیا علامہ اقبال آخر میں کمیونسٹ تھے؟ وہ تو نہیں تھے۔ بس ٹھیک ہے اس وقت ان کے جو دور ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ان کے کلام کے ساتھ یہ ظلم کیا گیا کہ جو بعد میں جن چیزوں سے رجوع حضرت کی ثابت ہے، وہ شامل نہیں کیا گیا۔ مثلاً یہ ان کا شعر ہے کہ:

                جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

                یہ کونسا شعر ہے؟ یہ کمیونزم کا شعر ہے۔ تو ظاہر ہے علامہ اقبال پھر بعد میں تو ایسے نہیں تھے۔ بہت ساری باتیں انہوں نے کیں اور انہوں نے رجوع کیا ہے۔ یہ مولانا حسین احمد مدنی رحمة الله عليه کے بارے میں کچھ اشعار کہے تھے، اس سے بھی رجوع کر لیا۔

                لیکن یہ الگ بات ہے کہ اب وہ رجوع والی باتیں نہیں آئیں۔ تو اسی طرح ہم لوگ بھی یہی کہہ سکتے ہیں کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمة الله عليه ان کی رجوع communicate نہیں ہوئی۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ اگر علامہ اقبال کو ہم کتنا ہی اونچا آدمی کیوں نہ سمجھیں، لیکن ان کا کوئی اس وقت کا شعر اگر کوئی reference بنائے گا، تو ہم کہیں گے نہیں یہ غلط ہے۔ اس کو صحیح نہیں کہیں گے۔کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ ہم نے تو علامہ اقبال مرحوم کو کسی خاص وجہ سے بڑا سمجھا ہے، کہ وہ مسلمانوں کی بات کرتا ہے، تو اگر مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کی بات کرتا ہو پھر بھی ہم اس کو بڑا سمجھیں گے؟ ہم کہیں گے ٹھیک ہے، وہ علامہ اقبال بڑے ہیں، لیکن یہ شعر اس سے حضرت کا اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اس کو سمجھنا چاہیے۔

                اور انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم کسی کی بڑائی کی وجہ سے نہ تو قرآن و حدیث کی بات کو جھٹلائیں، اور نہ ہم اس کو جو اللہ نے بعد میں کسی رجوع کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے مقام دیا ہو، اس کو جھٹلائیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا حصہ جو اللہ نے مقرر رکھا ہے، ہم اس کو مان لیتے ہیں۔ یہی بات ہمارے لیے ہے۔

                عقیدہ (18): فرشتے خداوند جل سلطانہ کے بندے ہیں جو گناہوں سے پاک اور خطا و نسیان (بھول چوک) سے بھی محفوظ ہیں (جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُـمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (تحریم 66 آیت 6) (اللہ تعالیٰ جو حکم ان کو کرتا ہے وہ اس میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم ہوتا ہے)۔ وہ کھانے پینے سے اور مرد و زن ہونے سے منزہ اور مبرا ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے لئے مذکر ضمیروں کا استعمال اس اعتبار سے ہے کہ صنف ذکور کو صنف نساء کے مقابلہ میں شرف حاصل ہے چنانچہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے بھی مذکر ضمیروں کا استعمال کیا ہے اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے بعض (فرشتوں) کو رسالت کے لئے منتخب کیا ہے جیسا کہ بعض انسانوں کو رسالت کی دولت سے مشرف فرمایا ہے (جیسا کہ ارشاد ہے) اَللّٰهُ يَصْطَفِىْ مِنَ الْمَلَآئِكَـةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ (حج 22 آیت 75) (اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے بعض کو رسالت کے لئے منتخب فرما لیتا ہے)۔

                جمہور علماء اہل حق اس بات پر متفق ہیں کہ "خاص انسان خاص فرشتوں سے افضل ہیں"۔ اور امام غزالیؒ اور امام الحرمین اور صاحب فتوحات مکیہ اس بات کے قائل ہیں کہ خاص فرشتے خاص انسانوں سے افضل ہیں ـــ اور جو کچھ اس فقیر پر ظاہر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ فرشتہ کی ولایت نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی ولایت سے افضل ہے لیکن نبوت و رسالت میں نبی کے لئے ایسا درجہ ہے کہ جس تک فرشتہ نہیں پہنچا ہے اور وہ درجہ عنصر خاک کی وجہ سے ظاہر ہوا ہے جو بشر کے ساتھ مخصوص ہے اور اس فقیر پر یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ "کمالات ولایت" کمالات نبوت" کے مقابلہ میں کسی گنتی میں نہیں ہیں ، کاش کہ ان کے درمیان وہ نسبت ہی ہوتی جو قطرہ کو دریائے محیط کے ساتھ ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ پس وہ فضیلت جو نبی کو نبوت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے وہ اس فضیلت سے کئی گنا زائد ہے جو ولایت کی وجہ سے حاصل ہو، لہذا "فضیلت مطلق" انبیائے کرم علیہم الصلوات و التسلیمات کا حصہ ہے اور جزئی فضیلت ملائکہ کرام کے لئے ہے۔ پس درست وہی ہے جو علمائے کرام شَکَرَ اللّٰہُ تَعالیٰ سَعْیُہم نے فرمایا ہے

                بات بڑی آسان ہے، اللہ پاک نے قرآن پاک میں فیصلہ فرمایا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پس الہام کیا نفس کو دو قسم کی چیزیں۔ ایک اس کے فجور یعنی نفس کے، اور ایک اس کا تقویٰ۔ اب فجور کی ضد جو ہے نا وہ تقویٰ ہے۔ فجور کا جو ضد ہے، وہ تقویٰ ہے۔ پس انبیاء کرام تو خیر وہ تو بہت ہی بڑے لوگ ہیں، عام انسان بھی اگر اپنے نفس کے تقاضوں کو قربان کرتا ہے، تو وہ متقی میں ہے۔ وہ متقین میں ہے اور تقویٰ کے حساب سے فضیلت ہے: «إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ» بے شک تم میں زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔

                تو یہ جو نفس ہے، اور عنصرِ خاک ہے، یہ کہاں ہے؟ انسان میں ہے یا فرشتے میں ہے؟ تو اس وجہ سے اس کی جو فضیلت ہے وہ ہے۔ لیکن فرشتوں کو جو اللہ پاک نے فضیلت دی ہے وہ اصل میں اللہ پاک نے جس کو کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو بنایا ایسا ہے کہ ان سے جو کام لینا ہے، وہ کام وہ کرتے ہیں۔ «وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» مطلب جو ان کو کہا جاتا ہے وہ۔ ان کے اندر اس حد تک وہ ہے کہ وہ خود اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ اپنی مرضی سے ان کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔

                ایک دفعہ ایک صاحب کو کسی موقع پہ فرشتوں کی زیارت ہوئی۔ تو کسی کام کا فرشتوں سے کہہ دیا کہ آپ ذرا یہ کام کر لیں۔ کام بڑا جائز تھا اور ضروری بھی تھا۔ تو فرشتوں نے کہا کہ اللہ پاک سے مانگو اگر اللہ پاک ہمیں حکم دیں گے، تو ہم کوئی دیر نہیں لگائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے مانگو، اگر اللہ پاک نے حکم ہمیں دے دیا، تو ہم کوئی دیر نہیں لگائیں گے پھر۔ تو وہی ہوا کہ اس نے اللہ پاک سے مانگا، اور اللہ پاک نے اس کی دعا قبول فرمائی، اور بس، فرشتوں نے پھر ان سے پوچھا بھی نہیں، فوراً action کر لیا۔ مطلب پھر اس درمیان میں، اس کو پتہ اس وقت چلا کہ جب سارا کچھ ہو گیا تھا۔

                تو یہ جو چیز ہے کہ یہ والی بات، موکل میں اور فرشتے میں یہی فرق ہے۔ موکلات جو ہوتے ہیں نا ان میں اور فرشتوں میں۔ موکل جو ہوتا ہے وہ آپ کے کسی عمل کی وجہ سے آپ کی بات مانے گا۔ آپ اسے کہیں گے تو وہ کرے گا۔ لیکن فرشتہ آپ کی بات نہیں مانے گا۔ فرشتہ اللہ تعالیٰ کی بات مانتا ہے براہِ راست۔ آپ اللہ سے کہہ دیں۔ آپ اللہ پاک سے جب کہہ دیں گے، تو وہ کر دیں گے جیسے اللہ پاک حکم کر لیں گے پھر ان کو۔ تو یہ جو بات ہے مطلب یہ جو فرشتوں کا جو یہ مقام ہے، بہت اونچا ہے، کہ «وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ»۔ کوئی حکم جو ہے نا اس کا، اللہ پاک کا وہ ٹالتے نہیں ہیں۔ بس جیسے مطلب ان کا حکم ہو اسی طریقے سے کر لیتے ہیں۔

                اچھا، اس تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ انبیاء عليه الصلاة والسلام کے درجات میں سے کسی نبی کے درجے تک کوئی ولی نہیں پہنچتا، بلکہ اس ولی کا سر ہمیشہ اس نبی کے قدم کے نیچے ہوتا ہے۔ جاننا چاہیے کہ ان مسائل میں سے ہر ایک مسئلہ میں جن میں علماء اور صوفیاء کا اختلاف ہے جب اچھی طرح غور و خوض کیا جائے، تو حق علماء کی جانب معلوم ہوتا ہے۔ اور اس کا راز یہ ہے کہ علماء کی نظر نے انبیاء عليه الصلاة والسلام کی متابعت کے باعث نبوت کے کمالات اور اس کے علوم میں نفوذ کیا ہے، اور صوفیاء کی نظر ولایت کے کمالات اور اس کے معارف تک محدود رہتی ہے۔ لہٰذا وہ علم جو نبوت کی مشکوٰۃ سے حاصل کیا جائے، وہ لازماً اس علم سے جو مرتبہ ولایت سے اخذ کیا ہے، کئی درجہ زیادہ صحیح اور حق ہوگا۔ ان معارف میں سے بعض کی تحقیق اس مکتوب دفترِ اول مکتوب نمبر 260، میں جو فرزندِ ارشد خواجہ محمد صادق کے نام طریقِ علم کے بیان میں لکھا ہے، درج ہو چکی ہے۔ اگرچہ دقت اور پوشیدگی رہ گئی، تو اس مکتوب کی طرف رجوع کریں۔

                اچھا اس میں حضرت نے جو بات فرمائی ہے علماء کی اور صوفیاء کی جو بات کی۔ یہ ان صوفیاء کی بات نہیں جو علماء بھی تھے۔ جو علماء بھی تھے اور صوفیاء بھی تھے، تو ظاہر ہے ان پہ تو علماء کی تعریف بھی طاری صادق آئے گی نا۔ تو وہ تو بات الگ ہے، جیسے حضرت تھانوی رحمة الله عليه اگرچہ ولی اللہ ہیں لیکن عالم بھی ہیں۔ لہٰذا ان کے اوپر یہ بات نہیں آئے گی۔ لیکن جو ولی اللہ تو ہیں اپنے عمل کی وجہ سے، تقویٰ کی وجہ سے، لیکن وہ عالم نہیں ہیں، تو ان کو جو معلومات ہوں گی، دو طریقے سے ہوں گی۔ یا وہ معلومات کسی عالم سے حاصل کی ہوں گی، تو اس پر بھی یہ بات نہیں آئے گی۔ اگر کسی عالم سے معلومات حاصل کی ہوں، تو پھر وہ، ان پر بھی یہ بات نہیں کیونکہ وہ تو بات عالم کی ہوگی نا۔ اس ولی کی بات تو نہیں ہوگی۔ صرف وہ بیان کرے گا لیکن بات تو عالم کی ہوگی۔ لیکن یا پھر کشف کی ہوگی۔ ہاں جی، تو یہ جو بات کر رہے ہیں، کشف ظنی چیز ہے یا اس پہ بات آ سکتی ہے۔ یہی بات ہے نا؟ یا کسی عالم سے پوچھی ہوگی، کتاب میں کسی عالم کی کتاب میں پڑھی ہوگی، اور یا پھر کشف کی ہوگی۔

                اب مجھے بتاؤ، کشف قطعی ہے یا ظنی ہے؟ ظنی ہے۔ اور نصوص ظنی ہیں یا قطعی ہیں؟ قطعی ہیں۔ تو قطعی کو ظنی پہ فضیلت ہے یا نہیں ہے؟ قطعی اور ظنی کے درمیان اگر مقابلہ آ جائے تو ترجیح کس کو دو گے؟ قطعی کو دیں گے۔ تو یہ بات ہے کہ علماء کو جو چیز ملی ہے وہ نصوص سے ملی ہے، نصوص سے۔ اور نصوص کیا ہیں؟ وہ قطعی ہیں۔ لہٰذا ان کی بات ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو فضیلت حاصل ہوگی اور وہ اٹل ہوگی۔ جبکہ اولیاء اللہ میں سے کشف سے جو جو بات کر رہے ہیں، کشف، ظنی چیز ہے، اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ ظنی میں غلطی کیسے ہو سکتی ہے؟ بتاتا ہوں نصوص کی مثال ایسی ہے جیسے آپ کے سامنے کوئی چیز ذرا دیکھ رہے ہیں، اس طرح ہے۔ اس میں غلطی نہیں ہوتی۔

                اور کشف اور الہام اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں کہ کشف جو ہوتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آپ کسی دور سے ایک چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ دور سے ایک چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ دور سے ایک چیز کو دیکھ رہے ہیں۔

                تو یہ جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ دور سے جو آپ چیز دیکھ رہے ہیں، اس میں ٹھیک ہے چیز صحیح ہو گی، لیکن اب آپ صحیح نہیں دیکھ رہے ہوں گے مثلاً۔ آپ چاند دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہمیں اس کا تجربہ ہے نا اس وجہ سے میں اس کی مثال دے رہا ہوں۔ ہاں جی! آپ چاند دیکھنا چاہتے ہوں گے اور دور کوئی ٹہنی وہ اس طرح مڑی ہوگی، اس پہ سورج کی بھلے روشنی پڑ رہی ہوگی یا کوئی اور، وہ آپ کو چمک نظر آئے گی، آپ کہیں گے یہ تو چاند ہے۔ ہاں جی! وہ چاند نہیں ہوگا۔ حالانکہ، حالانکہ آپ کی آنکھوں نے دھوکہ بھی نہیں اس لحاظ کا کھایا کہ وہ چیز موجود تو ہے جو ہے، اور آپ نے اس کو چاند ہی سمجھا، لیکن وہ چاند اس لیے نہیں کہ وہ اس سے دور ہے، غلطی لگ گئی۔

                تو اس طرح کشف میں بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دوں۔ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا کشف بہت زبردست تھا۔ مطلب ہمارے اکابر، ہمارے اکابر۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت بیمار ہوئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا جی ان کے بارے میں کیا آپ کا کشف بتاتا ہے؟ فرمایا، کوئی بات نہیں ابھی دس سال ہیں۔ ہاں جی! تو اسی بیماری میں فوت ہو گئے۔ 49 سال کی عمر۔ اس پر جو ہے نا مطلب یہ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ نے فرمایا، مجھے کیا پتہ، میں نے تو ان کی طرف جو غور کیا تو مجھے مہدی کا نام مکشوف ہوا۔ مہدی کے جو الفاظ تھے وہ، مہدی کے الفاظ، اس کے ابجد 49 (59) بنتے ہیں تو میں نے کہا کہ بس ٹھیک ہے۔ ہاں جی! 59 سال ہیں تو ابھی 10 سال ہیں۔ حالانکہ وہ مہدی علیہ السلام کی عمر کے بارے میں بات تھی، وہ 49 سال ہوگی تو وہ جو ہے نا مطلب وہ، غلطی ہو گئی۔

                اب دیکھو صرف Interpretation میں غلطی ہو گئی۔ یعنی غلطی Interpretation میں ہے، چیز دیکھنے میں نہیں ہے۔ تو Interpret کرنے میں تو غلطی ہوتی رہتی ہے۔ تو اس لیے جو ظنی چیز ہوتی ہے اب اس کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اس میں آپ کا جو اپنا سمجھ ہے وہ Involved ہے۔ کہ آپ اس کو کیسے سمجھتے ہیں۔ چیز آپ کو مکشوف ہو گیا، لیکن اس مکشوف سے آپ مطلب کیا لیتے ہیں؟ وہ کیونکہ اشارے سے ہوتے ہیں نا، ان اشاروں سے آپ نے کوئی بات سمجھنی ہے، تو لہذا اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ الہام کا بھی اس قسم کی بات ہے۔ کیونکہ الہام میں بھی جیسے اللہ پاک کی طرف سے الہام آتا ہے، شیطان کی طرف سے بھی آتا ہے۔ تو کبھی شیطانی الہام مطلب Mix ہو جاتا ہے۔ ہمارے حضرت کو اللہ پاک نے بڑی بصیرت عطا فرمائی تھی تو کبھی جب ہم خواب بتاتے حضرت کو، تو حضرت یہاں تک بتاتے کہ یہاں تک کا حصہ یہ تو صحیح ہے اور یہاں اس سے آگے شیطان کے چکر ہیں۔ شیطان نے درمیان میں گڑبڑ کی ہے۔ ہاں جی! تو چلتا ہے، شیطان یہ کام نہیں کرے گا تو کیا کرے گا؟ اس کا کام ہی یہی ہے۔

                تو لوگ جو ہے نا "إِذَا دَخَلَ دَخَلَ كُلُّهُ وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ كُلُّهُ" کی بات کرتے ہیں۔ یا خواب بالکل ٹھیک ہے یا بالکل غلط ہے، درمیان کی کوئی بات وہ نہیں جانتے۔ ہاں جی! لیکن جو محققین ہوتے ہیں وہ اس چیز کو، بلکہ میں آپ کو بتاؤں موٹی سی بات ہے، کہ ہر چیز کو جائز کہنا اس کے لیے علم کی ضرورت نہیں ہے، ہر چیز کو ناجائز کہنا اس کے لیے بھی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ علم کی ضرورت تب ہوتی ہے جب آپ حد بندی کریں، یہ جائز ہے، یہ ناجائز ہے، اور یہ جو جائز ہے یہ کہاں تک غایت تک جائز ہے؟ اس سے آگے ناجائز ہے۔ اور اگر یہ ناجائز ہے تو کہاں تک ناجائز ہے؟ اس سے آگے جائز ہو جائے گا۔ اب یہ علم کی بات ہے۔ اس وجہ سے جو محققین ہوتے ہیں، ان کو واقعی صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ باقی تو سارے اندازے لگانے والوں کے لیے علم کی کیا ضرورت ہے؟ وہ جو بھی کہہ دیں وہ کہہ سکتے ہیں۔ ہاں جی!

                یا کریم!

                عقیدہ نمبر 19: ایمان سے مراد جو کچھ دینی امور سے متعلق ضرورت اور تواتر کے طریق پر ہم تک پہنچا ہے، اس کی دل سے تصدیق کرنا ہے۔ ایمان سے مراد جو کچھ دینی امور سے متعلق ضرورت اور تواتر کے طریق پر ہم تک پہنچے، اس کی دل سے تصدیق کرنا اور زبان سے اقرار کرنا بھی ایمان کا رکن ہے۔ "إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ" جیسے کہ علماء نے کہا، اس کے بغیر ایمان کے منعدم ہونے کا احتمال ہے۔ اور اس علامت کی تصدیق، کفر پر تبرا کرنا اور کافری سے، اور جو کچھ کافری کے لوازم اور خصائص ہیں جیسے زنار کا باندھنا اور اس کے مانند وغیرہ سے بیزاری کا اظہار کرنا ہے۔

                اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی پناہ، اگر کوئی اس تصدیق کا بھی دعویٰ کرے اور کفر سے بیزاری کا اظہار نہ کرے تو دو دینوں کی تصدیق کرنے والا ہو جائے گا جو ارتداد کے داغ سے داغدار ہوگا، اور حقیقت میں اس کا حکم منافق کے حکم میں ہو جائے گا۔ ﴿مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ﴾ نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے۔ لہذا ایمان کی تاکید میں کفر سے تبرا، بیزاری کے اظہار کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ تبرا کا ادنیٰ درجہ دل سے بیزاری کرنا ہے۔ تبرا کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ دل اور جسم دونوں سے ہو اور تبرا سے مراد حق جل شانہٗ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی رکھنا ہے، خواہ دشمنی قلب سے ہو جبکہ ان سے نقصان پہنچنے کا خوف ہو، خواہ دل اور جسم دونوں سے ہو جبکہ ان سے ضرر کا خوف نہ ہو۔

                ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ﴾ ہاں جی! کفار اور منافقین سے جہاد کرو، ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ اس مضمون کی تاکید کرتی ہے کیونکہ خدائے عزوجل کی محبت اور اس کے رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام اور تسلیمات کی محبت ان کے دشمنوں کی دشمنی کے بغیر صورت پذیر نہیں ہوتی۔

                اس جگہ یہ مصرع صادق آتا ہے: تولا بے تبریٰ نیست ممکن حبِ حق کے واسطے غیر سے نفرت ضرور

                شیعہ فرقہ نے جو یہ قاعدہ اہل بیت کی محبت اور دوستی میں جاری کیا اور تینوں خلفاء اور ان کے علاوہ اکثر صحابہ پر تبرا کرنا اہل بیت کی دوستی کو شرط قرار دیا، نامناسب ہے۔ ہاں جی! کیونکہ دوستوں کی محبت کے لیے شرط ہے کہ ان کے دشمنوں سے تبرا کیا جائے، نہ کہ مطلق طور پر دشمنوں کے علاوہ دوسروں سے بھی ہو۔ اور کوئی عقلمند، منصف اس بات کو تجویز نہیں کرتا کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب پیغمبر علیہ السلام کے یا اہل بیت کے دشمن ہوں۔ حالانکہ ان بزرگواروں نے آپ علیہ السلام کی محبت میں اپنے اموال اور جانوں کو صرف کر دیا، اور اپنی عزت و حکومت کو برباد کر دیا، تو اہل بیت سے ان کی دشمنی کس طرح منسوب کی جا سکتی ہے؟ جبکہ نصِ قطعی سے آپ ﷺ کے قرابت داروں کی اس وقت محبت ثابت ہے۔ اور دعوت کو، ہجرت کو ان کی محبت قرار دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے اہل قرابت کی دوستی کے علاوہ کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور جو شخص ایک نیکی کمائے گا ہم اس کی نیکیوں اور، اور زیادہ کر لیں گے۔

                اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو بزرگی حاصل ہوئی، شجرۂ انبیاء بن گئے، یہ سب اللہ کے دشمنوں کے ساتھ اعلان تبرا کرنے کی وجہ سے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ﴾ سورۃ الممتحنہ کی آیت نمبر 4۔ تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام میں اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے ساتھ تھے عمدہ نمونہ ہے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا، ہم تم سے اور جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو، ان سے بیزار ہیں۔ اور ہم تمہارے منکر ہیں، اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض ظاہر ہو گیا، جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔

                اور اس فقیر کی نظر میں، رضائے حق جل شانہٗ حاصل کرنے کے لیے اس تبرا یعنی بیزاری کے اظہار کے برابر کوئی عمل نہیں۔ یہ فقیر اپنے ذوق میں پاتا ہے کہ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کو کافر، کفر اور کافری کے ساتھ ذاتی عداوت ہے۔ اور یہ آفاقی لات و عزیٰ اور ان کی پوجا کرنے والے ذاتِ حق جل شانہٗ کے دشمن ہیں۔ اور دوزخ کا دائمی عذاب اس برے فعل کی سزا ہے۔ اور خواہشِ نفسانی کے علاوہ تمام برے اعمال میں نسبت نہیں رکھتا، کیونکہ ان کی عداوت اور عذاب اور غضب، ذاتی نسبت سے نہیں ہے۔ اگر غضب ہے تو صفات کی طرف منسوب ہے۔ وگرنہ کفر و بے تاب عذاب و غصہ تو افعال کی طرف راجع ہے۔ لہذا دوزخ کا دائمی عذاب ان کے گناہوں کی سزا نہیں ہوئی، بلکہ ان کے افعال کی مغفرت کو اپنی مشیت اور ارادہ پر منحصر رکھا ہے۔





                جاننا چاہیے کہ کفار و کافروں کے ساتھ ذاتی عداوت رکھی گئی ہے، تو لازماً رحمت و رافت جو صفاتِ جمال میں سے ہیں، آخرت میں کافروں کو نہیں پہنچے گی۔ اور رحمت کی صفت ذاتی عداوت کو دور نہیں کرے گی کیونکہ جو چیز ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، اس چیز کی نسبت جو صفت سے تعلق رکھتی ہے، زیادہ قوی اور بلند ہے۔ لہٰذا مقتضائے صفت، صفت کے تقاضے مقتضائے ذات کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ اور یہ جو حدیثِ قدسی میں آیا ہے: سَبَقَتْ رَحْمَتِي عَلَى غَضَبِي، میری رحمت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اس غضب سے مراد غضبِ صفاتی سے مراد ہے، جو گناہگار مسلمان، مومنوں کے ساتھ مخصوص ہے، نہ کہ غضبِ ذاتی جو مشرکوں کے ساتھ ہے۔ بہت گہری دلیل دی ہے، بہت گہری دلیل دی ہے۔ ہاں جی۔

                یہ آدمی حیران ہو جاتا ہے حضرت کی بصیرت پہ۔ یہ اصل میں حضرت نے جو بات چلائی ہے، وہ یہ بہت اہم بات چلائی ہے۔ اصل میں دیکھیں ناں، قرآن پاک میں شیطان کے بارے میں صاف، واضح طور پر آیا ہے کہ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور اس کو دشمن ہی پکڑو۔ تو جو جو شیطان کے ساتھ ہیں، ان سب کے لیے ایک بات ثابت ہو گئی، کیونکہ دو باتیں ہیں؛ یا اللہ پاک کی بات ہے، یا پھر شیطان کی بات ہے۔ تو جو شیطان کی مانیں گے، تو ظاہر ہے، مطلب ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

                تو اب یہ جو بات ہے کہ جو کفار ہیں جنہوں نے اللہ جل شانہٗ کی بات کو نہیں مانا، تسلیم نہیں کیا۔ ایک تو ماننا نہ ماننا ہے ناں، تسلیم نہیں کیا، بلکہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ اللہ تعالیٰ کی ذات کے، جو ہے ناں مطلب ہے، اس کا انکار کر لیا، یعنی اس کے، اس، ان احکامات کا۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ ان کے ساتھ اللہ جل شانہٗ کا جو، جو کچھ جو دشمنی ہے، وہ ذاتی دشمنی ہو گئی۔ ذاتی دشمنی اور چیز ہے اور صفات کی اور چیز ہے۔

                مسلمانوں کے بارے میں صفات کا فرمایا۔ صفات کا اس طرح فرمایا کہ چونکہ ان کا ایمان تو ہے، تو ذات سے تو بات نکل گئی، ہاں جی؟ ذات سے تو بات نکل گئی۔ ذات کو تو مانتے ہیں، لیکن وہ جو بعض چیزیں ہیں جو اللہ پاک نے دی ہیں، تو وہ اپنے نفس کی وجہ سے اس کو مان نہ سکے، ہاں جی، اور وہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس حالت میں چلے گئے۔ تو ان کے لیے فرمایا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ کیونکہ دونوں صفات ہیں، لیکن کفار کا معاملہ چونکہ ذات کے ساتھ ہے، لہٰذا اس ذات کی وجہ سے وہ صفات کا معاملہ نہیں آئے گا، کیونکہ صفات ذات پر غالب نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا صفات کا جو حکم ہے مسلمانوں کے لیے ہے اور جو ذات کا حکم ہے، وہ کفار کے لیے ہے۔

                ہاں، یہ، یہ بہت بڑی تحقیق ہے، کہ مطلب ہے کہ اس کو علیحدہ جدا جدا کر لیا کہ ذات والی بات تو کفار کے لیے ہے کہ کفار کے ساتھ جو، یعنی وہ ہے مطلب، وہ اللہ پاک کی جو دشمنی ہے وہ ذاتی ہے۔ ذاتی دشمنی ہے۔ اور مسلمانوں کا جو، مطلب جو وہ ہے کہ وہ صفات کی وجہ سے ہے، تو جو صفات کی وجہ سے ہے اس میں صفات میں آپ ﷺ، اللہ پاک نے قبول ہی فرمایا ہے کہ میری جو رحمت ہے وہ غضب پہ سبقت لے گئی، لہٰذا ان کے ساتھ معاملہ مختلف ہوگا۔

                اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس معاملے میں بالکل clear تھے۔ ایک عالم ہیں، نام نہیں لوں گا کیونکہ پھر مسائل پیدا ہو جائیں گے، اس نے مجھے خود واقعہ سنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سخت رد کرتا تھا، یہ جو باطل فرقے ہیں، ان کا میں بہت رد کرتا تھا۔ تو کہتے ہیں ایک صاحب ان میں سے کوئی عالم تھے، وہ آئے میرے بیان میں بیٹھے ہوئے تھے، تو اس نے ایک چٹ بھیجا، کہ آپ اتنا سخت رد جو کرتے ہیں، تو اگر ہماری بات صحیح ہو گئی تو پھر آپ کیا جواب دیں گے؟

                تو کہتے ہیں کہ ایک وقت کے لیے اس نے مجھے بڑا متزلزل کر دیا کہ واقعتاً، ہمیں کیا پتا، واللہ اعلم، ممکن ہے ان میں سے بھی کوئی بات حق ہو، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم حق کی سختی، مطلب ہے مخالفت کر رہے ہوں۔ تو کہتے ہیں میں بہت ڈر گیا، اور وہ ڈر مجھ پر غالب آ گیا۔ تو کہتے ہیں میں دوپہر کے وقت قیلولہ کر رہا تھا، تو قیلولہ کے وقت میں نے خواب دیکھا۔ خواب میں کوئی مجھے بتاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام تجھے بلا رہے ہیں۔ ہاں جی، تو کہاں ہیں؟ تو پتا چلا کہ وہاں پر جو، اس درخت پہ، مجھے بتایا کہ یہ درخت ہے۔ کہتے ہیں میں اس درخت کے قریب، تشریف لا رہے تھے۔ کہتے ہیں میں ادب کی وجہ سے اور ڈر کی وجہ سے کافی دور کھڑا ہو گیا کہ ابراہیم علیہ السلام کا بڑا اونچا مقام ہے۔ تو میں قریب نہیں جا سکتا تھا۔ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام نے ادھر سے آواز دی؛ ”یاد رکھو! اگر اس معاملے میں نرمی کرو گے، پھر ہمارے ساتھ نہیں آ سکو گے، ہمارے پاس نہیں آ سکو گے“۔

                کہتے ہیں اس کے بعد پھر میں نے کہا اچھا اب دیکھ تو، دیکھوں میں تجھے ذرا۔ ہاں جی! تو یہ، یہ بات ہے کہ مطلب یہ ہے کہ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ۝ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ۔ ہاں جی؟ بالکل واضح واضح باتیں ہیں۔ لہٰذا ان معاملات میں نرمی نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حکمت کی وجہ سے آپ اس کو ہر وقت اظہار نہیں کرتے، لیکن بہرحال نرمی تو نہیں ہے ناں! چاہے وہ آپ کا والد کیوں نہیں ہو، چاہے وہ آپ کی والدہ کیوں نہ ہو، چاہے وہ بیٹا کیوں نہیں ہو، اس مسئلے میں کوئی بات نہیں چلتی۔

                دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ بہرحال میں نے کتاب میں نہیں پڑھا لیکن ایک عالم سے سنا ہے، واللہ اعلم، ان کی جو تحقیق ہے وہ میں بتا رہا ہوں صرف۔ فی الحال میں زیادہ نہیں جانتا اس مسئلے میں۔ لیکن بہرحال انہوں نے کہا کہ ابو طالب صاحب جب فوت ہوئے، تو حالانکہ آپ ﷺ کے بڑے محبوب چچا تھے اور بہت تکلیفیں اٹھائیں آپ ﷺ کے لیے، بہت تکلیفیں اٹھائیں۔ لیکن چونکہ دعوت کا انکار کیا ہوا تھا اور ایمان نہیں لائے تھے، تو اس پر جو ہے ناں وہ آپ ﷺ کو بڑا دھچکا لگتا، ہاں جی، کہ مطلب ظاہر ہے، بلکہ اخیر میں یہاں تک فرمایا تھا کہ بس صرف آپ میرے کان میں کہہ دیں تاکہ میں پھر گواہی دے سکوں۔ ہاں جی، مطلب یہاں تک بھی یہ والی بات۔ تو عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غالباً بعد میں کہا کہ ان کے ہونٹ ہل رہے تھے، تو فرمایا نہیں نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔

                ہاں جی، تو ان کا، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بلکہ جنازہ وغیرہ تو ان کا کوئی بھی ثابت نہیں کر سکتا ناں! ہاں جی۔ تو وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہا کہ آپ، کیا آپ نے اپنے باپ کو دبا دیا؟ ہاں جی؟ یعنی دفن والا صیغہ بھی استعمال نہیں کیا۔ ہاں جی! تو اب یہ جو چیزیں ہیں، مطلب یہ ظاہر ہے ہم لوگوں کو اسے دیکھنا چاہیے کہ یہ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ خاندانی شرافت اور جو دوسری باتیں ہیں وہ دنیا کی حد تک ہیں۔ ہاں جی، باقی یہ ہے کہ یہ معاملہ، ظاہر ہے چونکہ دین کا معاملہ ہے، اس مسئلے میں ہم کسی کی رعایت نہیں کر سکتے۔

                سوال: اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں کافروں کو رحمت سے حصہ حاصل ہے جیسے کہ تُو نے مرضِ عبادت میں تحقیق کی، تو پھر دنیا میں رحمت کی صفت نے ذاتی عداوت کو کیسے دور کر دیا؟ سوال، یہ میں نے خود کر لیا۔

                جواب میں کہتا ہوں کہ دنیا میں خاص کافروں کو رحمت کا حاصل ہونا ظاہری طور پر اور صورت کے اعتبار سے ہے، لیکن حقیقت میں وہ ان کے حق میں استدراج اور قید ہے۔ ان کے حق میں آیا کریمہ ہے: «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ ﴿٥٥﴾ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ ۚ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ مال اور اولاد میں جو ان کو ترقی دے رہے ہیں تو ان سے، ان کو فائدہ پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں؟ نہیں، بلکہ ان کو اس حکمت کا شعور نہیں ہے۔

                اور آیتِ کریمہ ہے: «سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ﴿١٨٢﴾ وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ» ہم ان کو جہنم کی طرف اس طرح آہستہ آہستہ لے جاتے ہیں جس کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی، اور ہم ان کو مہلت دیتے ہیں۔ بے شک ہماری تدبیر بہت مضبوط ہے۔ انہی معنوں پر ارشاد ہے، پس سمجھ لو۔ فافہم جلیلا۔

                دوزخ کا دائمی عذاب کفر کی جزا، بدلہ ہے اور بس۔ اگر پوچھے کہ ایک شخص ایمان کے باوجود کفر کی رسمیں بجا لاتا ہے اور اہلِ کفر کی رسموں کی تعظیم کرتا ہے، علماء اس پر کفر کا حکم لگاتے ہیں اور مرتد سمجھتے ہیں جیسے کہ ہندوستان میں ایسے اکثر مسلمان اس بلا میں گرفتار ہیں۔ لہٰذا چاہیے کہ علماء کے فتوے کے بموجب وہ شخص آخرت کے ابدی عذاب میں گرفتار ہو۔ حالانکہ صحاح احادیث میں آ چکا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اس کو دوزخ سے باہر نکال لیں گے اور دائمی عذاب میں نہیں رہنے دیں گے۔ آپ کی اس مسئلے کی کیا تحقیق ہے؟

                جواب: میں کہتا ہوں اگر وہ شخص کافر ہے تو دائمی عذاب اس کا نصیب ہے، عیاذ باللہ سبحانہ و تعالیٰ۔ اور اگر کفر کی رسومات بجا لانے کے باوجود ذرہ برابر ایمان بھی رکھتا ہے، تو دوزخ کے عذاب میں مبتلا تو ہوگا، لیکن ذرہ برابر ایمان کی برکت سے امید ہے کہ ابدی عذاب سے خلاصی ہو جائے گی اور دائمی گرفتاری سے نجات پا لے گا۔

                فقیر ایک مرتبہ، یہ میں نے پڑھا تھا کسی جگہ، فقیر ایک مرتبہ ایک شخص کی مزاج پرسی کے لیے گیا جس کا معاملہ نزع اور موت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جب فقیر اس کے حال پر متوجہ ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا قلب ظلماتِ بسیار بہت زیادہ ظلمتوں میں گھرا ہوا ہے۔ ہر چند ان ظلمتوں کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہوا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پھر بہت زیادہ توجہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ظلمات اور تاریکیاں صفاتِ کفر کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں جو اس میں پوشیدہ ہیں، اور یہ کدورت اس کی کفر اور اہلِ کفر کے ساتھ دوستی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اور توجہ کرنے سے یہ ظلمتیں دور نہیں ہو سکتیں بلکہ ان ظلمات کا دور ہونا دوزخ کے عذاب پر وابستہ ہے جو کفر کی جزا ہے۔

                نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ذرہ برابر بھی ایمان رکھتا ہے جس کی برکت سے آخرکار اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ جب اس کے حال کا مشاہدہ کیا، تو اب دل میں آیا کہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے یا نہیں؟ توجہ کرنے پر معلوم ہوا کہ نماز ادا کرنی چاہیے۔ لہٰذا وہ مسلمان جو ایمان کے باوجود اہلِ کفر کی رسومات بجا لاتے ہیں، اہلِ ہنود کے تہواروں کے ایام کی تعظیم کرتے ہیں، ان کی نمازِ جنازہ پڑھنی چاہیے، ان کو کفار کے ساتھ نہیں ملانے دینا چاہیے۔ جیسے کہ آج کل علماء کا معمول ہے۔ اور امیدوار رہنا چاہیے کہ آخرکار ایمان کی برکت سے دائمی عذاب سے نجات حاصل ہو جائے گی۔

                پس معلوم ہوا کہ اہلِ کفر کے لیے عفو اور مغفرت نہیں ہے۔ «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» بے شک اللہ اس کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اور اگر محض کافر ہے تو عذابِ ابدی اس کے کفر کی جزا ہے۔ اور اگر ذرہ برابر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس کی جزا عذابِ موقت یعنی وقتی عذاب ہے۔ اور باقی تمام کبیرہ گناہوں کو اگر سبحانہ و تعالیٰ چاہے تو بخش دے، چاہے عذاب دے۔

                فقیر کے نزدیک عذابِ دوزخ، خواں وقتی ہو یا دائمی، کفر اور صفاتِ کفر کے ساتھ مخصوص ہے، جیسے کہ آگے تحقیق سے معلوم ہوگا۔ اور کبیرہ گناہ والے، جن کے گناہ توبہ، شفاعت یا صرف عفو و احسان کے ساتھ مغفرت کے قابل نہیں ہوتے، یا جن کبیرہ گناہوں کا کفارہ دنیاوی تکالیف یا سختیوں اور سکراتِ موت سے نہیں ہوا، امید ہے کہ ایسے لوگوں میں سے بعض کو قبر کا عذاب کفایت کر لے گا اور بعض کے لیے قبر کی سختی کے باوجود قیامت کا خوف اور اس دن کی تکالیف کافی ہو جائیں گی۔ اور ان کے گناہوں میں سے کوئی گناہ باقی نہیں چھوڑیں گے جس کی وجہ سے دوزخ کے عذاب کے مستحق ہوں۔

                چنانچہ آیتِ کریمہ: «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ» جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک سے ملوث نہیں کرتے، ان کے لیے امن ہے۔ اس مضمون کی تائید کرتی ہے، کیونکہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بحقائق الامور کلھا۔

                اور یہ کہا جائے کہ کفار کے علاوہ بعض گناہوں کی سزا بھی تو عذابِ دوزخ ہی ہے۔ جیسے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا» جو شخص کسی مومن کو قصدًا قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اخبار و احادیث میں ہے کہ جو شخص قصدًا ایک نمازِ فرض قضا کرے تو اس کو ایک حقب یعنی اسی (80) سال دوزخ میں عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا دوزخ کا عذاب صرف کافروں کے لیے ہی مخصوص نہ رہا، اور تم کہتے ہو کہ دوزخ کا عذاب کافروں کے لیے مخصوص ہے۔

                جواب: میں کہتا ہوں کہ عذاب اس قاتل کے لیے مخصوص ہے جو قتل کو حلال جانے۔ کیونکہ قتل کو حلال جاننے والے کافر ہیں، جیسے کہ مفسرین نے بیان کیا۔ اور کفر کے علاوہ دوسرے گناہوں کے لیے بھی دوزخ کا عذاب آیا ہے۔ ماشاءاللہ، میرا خیال میں یہ کافی لمبا ہے تو اس کو یہیں چھوڑ دیتے ہیں اس کے بعد یہ ہے کہ تھوڑی دیر میں اذان شروع ہو جائے گی۔

                اللہ جل شانہ آپ سب کو حق پر قائم رکھے۔ آمین۔ اور دعا ہے، اس موقع پہ بہت ہی دعا کرنی چاہیے کہ: «اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ» اے اللہ! حق ہمیں حق دکھا دے اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما، اور باطل ہمیں باطل دکھا دے، اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔

                یہ بہت ضروری ہے کیونکہ پتہ نہیں کس موقع پہ انسان خلط ملط ہو جائے۔ یا ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو جائے، یا آج کل Social media ہے، بہت زیادہ اس پہ Streaming ہوتی ہے، مختلف قسم کی چیزیں آتی ہیں، اس کی وجہ سے کہیں غلط بات ذہن میں نہ بیٹھ جائے، ہاں جی۔ اور اللہ تعالیٰ نہ کرے ایمان کہیں زائل نہ ہو جائے، یا کفار کے ساتھ دوستی نہ ہو جائے۔

                یہ بھی ایک بات ہے کفار کے ساتھ دوستی بہت خطرناک بات ہے۔ بہت خطرناک بات ہے۔ تو کفار کے ساتھ دوستی تو بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان کے ساتھ مدارات کا تعلق رکھ سکتے ہیں۔ مدارات کا، لیکن دوستی کا تعلق نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر چاہے کتنی ہی خوبی کیوں نہ ہو، لیکن وہ کفر کی ظلمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس کے مقابلے میں ان کی ساری کی ساری خوبیاں کالعدم ہیں۔

                لہٰذا جو کافر کے ساتھ دوستی رکھتا ہے، وہ اصل میں ایمان کی قدر سے محروم ہے۔ جو بہت خطرناک بات ہے۔ ہاں جی، تو ایمان کی قدر کرنی چاہیے، ایمان بہت بڑی دولت ہے۔ اس کو اگر ہم صحیح طور پہ سمجھیں تو ایک تو گنہگار مسلمانوں پہ شفقت ہو جائے گی، کہ چاہے گناہ کتنے گنہگار ہیں لیکن بہرحال ہیں تو مومن۔ اور مومن کا مقام ایمان کے لحاظ سے بہت اونچا ہے۔ لہٰذا مومن کے اوپر شفقت ہو جائے گی چاہے وہ کتنا گنہگار کیوں نہ ہو۔ اور دوسرا کافر چاہے کتنا ہی بظاہر نیک کیوں نہ ہو، ہاں جی، اس کے ساتھ محبت نہیں ہوگی، اس کے ساتھ دوستی نہیں ہوگی۔ اور یہ دونوں کام بہت ضروری ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرما دے۔



                مکتوباتِ امام ربانی: عقائدِ اہلسنت، قیامت کا احوال اور نقشبندی طریقۂ سلوک

                عقیدہ نمبر 15 تا 19 کی تشریح (قیامت، حساب، میزان، پل صراط، جنت و جہنم، اور فرشتوں کی حقیقت)۔

                اکبر کے دین الہٰی کا فتنہ اور اسلام کی کاملیت۔

                طریقہ نقشبندیہ میں عوام کی آسانی کے لیے "جذب" کو مقدم اور "سلوک" کو مؤخر کرنے کی حکمت۔

                خانقاہ سے وابستہ چار قسم کے افراد کی مثالیں اور باطنی راستے کے دھوکے۔

                شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی خطائے کشفی (کفار کے لیے ابدی عذاب کی نفی) کا شرعی نصوص سے مدلل رد۔

                کشف اور الہام کی ظنی حیثیت بمقابلہ قرآن و سنت کی قطعی نصوص۔

                تکمیلِ ایمان کے لیے "تولیٰ" (اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت) اور "تبرا" (کفر، کفار اور مشرکانہ رسومات سے بیزاری) کی اہمیت۔



                مکتوباتِ امام ربانی: عقائدِ اہلسنت، قیامت کا احوال اور نقشبندی طریقۂ سلوک - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ