عقائدِ اہلسنت: رویتِ باری تعالیٰ، بعثتِ انبیاء اور تزکیہ نفس کی حقیقت

درس 125: مکتوب 266 (حصہ چہارم)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • ایمان اور کفر کے نتائج (جنت اور دوزخ کا داخلہ)
    • آخرت میں رویتِ باری تعالیٰ (بغیر کیف و جہت) اور اہل سنت والجماعت کا عقیدہ
      • انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کی ضرورت اور انسانی عقل کی محدودیت
        • اللہ تک پہنچنے کے لیے واسطے (وسیلے) کی اہمیت (انبیاء، صحابہ، محدثین، اور اولیاء)
          • عقل، نفس، اور قلب کا فرق اور ان کا روحانی مقام
            • تزکیہ نفس، کشف اور استدراج (کفار اور یوگیوں کی ریاضت) بمقابلہ اہل ایمان کی کرامات
              • تکلیفِ شرعی (دینی احکامات و فرائض) پر عمل کرنے کی اہمیت اور اس پر اللہ کا انعام
                • عذابِ قبر، روزِ محشر، اعمال کا حساب اور منکر و نکیر کے سوالات
                  • وسعتِ نظری اور تنگ نظری کا حقیقی مفہوم (نفس بمقابلہ حکمِ الٰہی)

                    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

                    وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

                    أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

                    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                    آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ اس کے جملہ برکات، انوارات، فیوضات ہمیں نصیب فرما دے۔

                    فرماتے ہیں: جاننا چاہیے کہ بہشت کے داخلے کو ایمان کے ساتھ مربوط کرنا حقیقت میں ایمان کی تعظیم اور تکریم ہے بلکہ "مؤمَن بہ" (جس پر ایمان لایا گیا) کی تعظیم ہے۔ جس پر اس قدر بڑا عظیم الشان اجر مرتب ہوا ہے، اور اسی طرح دوزخ میں داخل ہونے کو کفر کے ساتھ وابستہ کرنے میں کفر کی تحقیر ہے، اور اس ذات کی تعظیم ہے جس کی نسبت یہ کفر وقوع میں آیا اور اس طور پر دائمی عذاب اس پر مترتب ہوا۔ بر خلاف اس بات کے جو بعض مشائخ نے کہی ہے، وہ اس دقیقے سے خالی ہے۔ نیز دوزخ میں داخل ہونا بھی انصاف کے تقاضے پر ہے اور کوئی مثال اس طرح پر جاری نہیں ہے۔ کیونکہ جہنم میں داخل ہونا حقیقت میں کفر کے ساتھ مربوط ہے۔ وَاللّٰہُ سُبْحَانَہّ الْمُلْھِمُ۔ ھٰذَا (اور اللہ سبحانہ ہی الہام فرمانے والا ہے۔ اس کو یاد رکھیں)

                    اس میں حضرت نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ بہشت جو ہے، اس میں داخلہ ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ایمان کے ساتھ اس طرح ہے کہ ایمان اگر ہو تو بہشت میں داخلے ممکن ہے۔ کیونکہ جو مسلمان ہو گیا تو پھر اس کے باقی اعمال کو دیکھا جائے گا۔ اگر وہ فوری طور پر اس قابل ہوا کہ اس کو فوری طور پر جنت میں داخل کیا جائے، تو ظاہر ہے یہ بڑے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان میں شامل فرما دے۔ اور اگر جہنم کی سزا بھگتنے کے بعد پھر وہ بعد میں داخل ہوتے ہیں جو ان کے لیے حکم ہے۔ یہ بھی، کفار کے مقابلے میں بہت بڑی بات ہے کیونکہ کفار ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلیں گے۔ اور جو مسلمان ہیں وہ اگر دوزخ چلے بھی جائیں گے تو جتنے عرصے کے لیے ان کے لیے عذاب مقرر ہوا ہے، اتنا عذاب جھیلنے کے بعد پھر وہ بالآخر جنت میں پہنچ جائیں گے۔

                    عقیدہ نمبر 11:

                    اور حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ کو مومنین آخرت میں بے جہت، بے کیف اور بے شبہ و بے مثال جنت میں دیکھیں گے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس میں اہل سنت کے علاوہ تمام اہل ملت اور غیر اہل ملت سب اس کے منکر ہیں اور بے جہت و بے کیف رویت کو جائز نہیں سمجھتے۔ حتیٰ کہ شیخ محیی الدین ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ بھی آخرت کی رویت کو تجلّی صوری کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس تجلی صوری کے علاوہ کچھ تجویز نہیں کرتے۔ ایک روز ہمارے حضرت (خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ) شیخ سے نقل کرتے تھے کہ اگر معتزلہ رویت کو تنزیہ کے مرتبے میں مقید نہ کرتے اور تشبیہ کے بھی قائل ہو جاتے اور اسی رویت کو تجلی (صوری) سمجھ لیتے تو ہرگز رویت کا انکار نہ کرتے اور محال نہ سمجھتے۔ یعنی ان کا انکار بے جہتی اور بے کیفی کی وجہ سے ہے جو مرتبۂ تنزیہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ بخلاف اس تجلی کے جس میں جہت اور کیف ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

                    یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ آخرت کی رویت کو تجلی صوری کی طرح بیان کرنا فی الحقیقت خاص رویت کا انکار کرنا ہے کیونکہ وہ تجلی صوری اگرچہ دنیاوی تجلیات صوریہ سے مختلف ہے لیکن حق تعالیٰ کی رویت نہیں ہے۔

                    یَرَاہُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِغَیْرِ کَیْفٍ

                    وَ إِدْرَاکٍ وَّ ضَرْبٍ مِّنْ مِّثَالٍ

                    جنتی کو دیدِ حق کی ہو گی سیر

                    کیف و ادراک اور مثالوں کے بغیر

                    یہ جو رویتِ باری تعالیٰ ہے، اس کا جو عقیدہ ہے، یہ ہمارے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ اور اس میں ہم لوگ یہ مانتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کو قیامت میں بالکل جس طرح ہم باقی چیزوں کو دیکھتے ہیں، تو اللہ جل شانہ کا دیدار بھی ہوگا۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ دیدار بے جہت ہوگا۔ اور بے کیف ہوگا۔ کیسے ہوگا؟ یہ یہاں سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہمارے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں۔ نہ ہمارے پاس وہ دیکھنے کا نظام ہے۔ وہ خصوصی طور پر اس وقت عطا کیا جائے گا اہل جنت کو، تو وہ اللہ پاک کا دیدار اس طریقے سے کریں گے۔ جیسے ہم بہت ساری چیزوں کو نہیں دیکھتے، لیکن جس وقت وہ عینک لگا دی جاتی ہے تو ہم اس کو دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ پہلے ہم اس کو دیکھتے ہیں لیکن ہمیں نظر نہیں آتا۔ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ وہاں پر ہمیں ایسی دیکھنے کی قوت عطا فرمائیں گے۔ اور اس طریقے سے اللہ پاک اس کے اسباب فراہم فرمائیں گے کہ جس کے ذریعے سے اللہ پاک کا دیدار ممکن ہو جائے گا۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ اللہ پاک چونکہ وراء الورا ہے، جہت سے اور کیف سے، لہٰذا وہ وہ دیدار جو ہوگا، بے جہت ہوگا اور بے کیف ہوگا۔

                    اس میں حضرت فرماتے ہیں کہ شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اس کو تجلی صوری قرار دیتے ہیں۔ تجلی تو تنزل کو کہتے ہیں نا ۔ تنزل سے مراد یہ ہے کہ اصل تو نہیں ہے، وہ اس کی ایک صورت ہے۔ تو اس کے لیے فرماتے ہیں کہ نہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ تنزیہہ اس معنی میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جیسے تم چاند کو دیکھتے ہو، اور چاند کے دیکھنے میں کوئی دوسرا مزاحم نہیں ہوتا، کوئی دوسرا رکاوٹ نہیں بنتا، تو اسی طریقے سے اللہ پاک کے دیدار میں بھی کوئی اور رکاوٹ نہیں بنے گا، اور اللہ پاک کو ہم دیکھ سکیں گے۔ تو چونکہ یہ فرمایا گیا ہے، تو پھر ہمیں آپ ﷺ کی باتوں پر ایسے ہی یقین کرنا چاہیے۔

                    عقیدہ نمبر 12:

                    انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی بعثت عالم (تمام جہان) کے لئے سرا سر رحمت ہے، اگر ان بزرگواروں کے وجود کا وسیلہ نہ ہوتا تو ہم جیسے گمراہوں کو ذات و صفات واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی معرفت کی طرف کون ہدایت فرماتا؟ اور ہمارے مولا جل شانہٗ کی مرضیات و نا مرضیات والی چیزوں میں کون تمیز کراتا؟ اور ہماری ناقص عقلیں ان (بزرگواروں) کے نور دعوت کی تائید کے بغیر اس کے سمجھنے سے معزول و بے کار ہیں اور ہمارے افہامِ نا تمام ان بزرگواروں کی تقلید کے بغیر اس معاملے میں عاجز و بے بس ہیں۔ بے شک عقل اگرچہ ایک حجت (دلیل) ہے لیکن یہ ایک نا تمام حجت ہے جو مرتبۂ بلوغ تک نہیں پہنچی ہے۔ "حجتِ بالغہ" (دلیلِ کامل) انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی بعثت ہے جس پر آخرت کا دائمی عذاب و ثواب وابستہ ہے۔

                    انبیاء علیہم السلام کی جو بعثت پاک ہے، وہ اصل میں ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے، اور رحمت ہے۔ چونکہ اللہ جل شانہ کی ذات وراء الورا ہے۔ تو اگر اس سے لینے کے لیے کوئی وسیلہ ہمارے پاس نہ ہو، تو ہم اس چیز کو حاصل ہی نہیں کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے چونکہ ایسی چیز جو کسی نے کبھی دیکھی نہ ہو، کبھی سنی نہ ہو، تو اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ وہ تو عقل کے ساتھ نہیں انسان معلوم کر سکتا۔ عقل کے ساتھ تو ان چیزوں کو معلوم کیا جا سکتا ہے جس کے لیے کوئی بنیاد موجود ہو۔ تو یہاں تو کسی طرح سے کوئی بنیاد ہمارے پاس تھی ہی نہیں۔ یعنی جائز و ناجائز ہی کو دیکھو۔ اب شادی جو ہے، یہ بھی وہی عمل ہے جو دوسری صورت میں زنا ہوتی ہے۔ اب وہ زنا ہے، وہ حرام ہے اور یہ حلال ہے اور یہ اس پر ثواب ہے۔ اب اس کا فیصلہ کون کرے؟ یہ تو انسان کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ تو یہ ہر چیز کے بارے میں جو چیز بتائی گئی ہے، وہ اللہ پاک کی طرف سے آئی ہے۔ لہٰذا انبیاء علیہم السلام کی باتوں کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف لیتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے بارے میں تو باقاعدہ قرآن پاک میں ہے کہ نہیں فرماتے آپ ﷺ کچھ، مگر وہ جو آپ ﷺ کو وحی کی جاتی ہے۔ تو آپ ﷺ کی ہر چیز کو تو اپنی طرف لیتے ہیں: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللهَ رَمَى۔ تو اس وجہ سے آپ ﷺ جو کچھ لے آئے ہیں، اللہ کی طرف سے، وہ ہم لوگ ویسے حاصل کر ہی نہیں سکتے تھے۔ یہ ناممکن تھا۔ تو جو کچھ ہمیں ملا ہے، آپ ﷺ ہی کے ذریعے سے ملا ہے اور ہمارے لیے وسیلہ ہیں آپ ﷺ۔

                    لہٰذا کوئی وسیلے کا انکار کر لے تو کر لے، اپنی مرضی ہے۔ لیکن بہرحال آپ ﷺ کے وسیلے کے بغیر تم کچھ بھی نہیں ہو۔ ہاں، ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ اور آپ حضرات جانتے ہیں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، یہ تو بہت ہی زیادہ بڑے موحدین میں سے تھے، یعنی توحید بنیاد ہے۔ تو یہ حضرت بیان فرماتے ہیں۔ اور باقاعدہ آیتِ نور میں جو اس کے بارے میں مکتوبات شریفہ میں آیا ہے، اس میں حضرت نے فرمایا ہے کہ یہ جو مثال دی گئی ہے یہ جو مثال دی گئی ہے کہ جیسے طاق ہو، طاق کے اندر قندیل ہو، اس کے اندر چراغ ہو ہاں جی فرمایا یہ جو مثال دی گئی ہے، اسی لیے دی گئی ہے کہ لوگوں کو وسیلوں کا پتہ چل جائے، واسطوں کا پتہ چل جائے۔ واسطوں کا پتہ چل جائے۔ ورنہ پھر واسطوں کی اہمیت کا پتہ نہیں چلے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا جو ہمارے پاس نظام ہے، اس کے اللہ پاک نے خود ہی وسیلے مقرر کر دیے ہیں۔ ہاں، خود ہی وسیلے مقرر کر دیے۔ مانگنے والی بات میں نا، کوئی مسئلہ نہیں، اس میں اس کے لیے وہ اللہ پاک سے مانگو: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ لیکن یہ بات ہے جیسے علم ہے۔ علم کے لیے تو وسیلہ ہے۔

                    ایک دفعہ ایسا ہوا تھا ہمارے ایک ساتھی عرب ساتھی ہیں، ماشاءاللہ آتے ہیں، ابھی کچھ دن پہلے بھی آئے تھے۔ تو پہلی دفعہ جب ہماری ملاقات ہوئی، تقریباً گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ ڈسکشن ان کے ساتھ ہوئی۔ تو ان کا تصوف کے بارے میں، سبحان اللہ، بہت بہت ماشاءاللہ اس کا علم تھا۔ کئی کتابیں ایسی پڑھی تھیں جو میں نے نہیں پڑھیں۔ اور میرا بس مطالعہ تو ویسے کم ہی ہے۔ لیکن بہرحال وہ یہ ہے کہ وہ تو اس نے تو بہت زیادہ پڑھی تھیں۔ تو ایک عام چیز میں پھنس گئے۔ وہ دیکھو نا، یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کھولتے ہیں۔ تو مجھے کہا کہ میں اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کو نہیں سمجھنا چاہتا۔ یعنی درمیان میں ہمارے کوئی ہو۔ اب یہ بظاہر بڑی اونچی بات ہے۔ لیکن حقیقت کے خلاف ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: نہیں، ایک کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ ﷺ، آپ ﷺ کے بغیر آپ اللہ تعالیٰ سے کیسے لیں گے؟ مجھے بتاؤ ذرا، جواب دو پھر۔ تو فوراً کہا: جی، یہ تو بات آپ کی ٹھیک ہے۔ یہ تو بات آپ کی ٹھیک ہے۔ مان گئے۔ پھر میں نے کہا: بھئی، آپ ﷺ تک بھی پہنچنے کے لیے آپ کو کچھ اوروں کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں: وہ کیسے؟ میں نے کہا: صحابہ کرام کو بغیر صحابہ کرام کے آپ ﷺ تک آپ کیسے پہنچیں گے؟ کہتے ہیں: یہ بھی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا: صحابہ کرام تک پہنچنے کے لیے بھی آپ کو کچھ اور لوگوں کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں: مثلاً؟ وہ کیسے؟ میں نے کہا: فقہاء اور محدثین۔ ظاہر ہے کہ فقہاء اور محدثین کے بغیر تو آپ صحابہ کی بات کو سمجھیں گے ہی نہیں۔ کہتے ہیں ہاں، یہ بات بھی صحیح ہے۔ میں نے کہا: عمل کرنے کے لیے بھی کچھ اور لوگوں کو ماننا پڑے گا۔ کہتے ہیں: وہ کیسے؟ میں نے کہا: صوفیاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ کہتے ہیں: ہاں، ٹھیک ہے۔ میں نے کہا: اس میں شیخ جو ہوتا ہے، وہ اصل میں ان تمام کا نچوڑ ہوتا ہے۔ تو لہٰذا شیخ کے ذریعے سے آپ، آپ ﷺ تک پہنچیں گے، آپ ﷺ کے ذریعے سے آپ اللہ تعالیٰ تک یہ یہ بات ہے۔ اس پر چپ ہو گئے، کچھ کہا نہیں۔ لیکن ماشاءاللہ کچھ عرصے کے بعد آ گئے اور یہاں پر بیعت بھی ہو گئے۔ ذکر بھی لے لیا، اب تو ماشاءاللہ آیا کرتے ہیں۔ دیکھو نا یہ چیز ہوتی ہے۔ یعنی اب یہ چیزیں کھلی ہوئی باتیں تھیں، کوئی چھپی ہوئی باتیں تو نہیں تھیں۔ صرف لنک کرنے کی بات ہے، بس تھوڑا سا غور کرنے کی بات ہے، لنک کرنے کی بات ہے۔ وہ ہم لوگ بہت ساری چیزوں کو درمیان میں گول کر لیتے ہیں۔ ہم اپنی سوچ سے نکال لیتے ہیں، اس وجہ سے جو ہے نا، اور بظاہر وہ بات اتنی اونچی ہمیں نظر آتی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تو بہت بڑے موحد ہیں۔ بھئی توحید کس نے سکھایا ہمیں؟ آپ ﷺ نے سکھایا ہے۔ اور آپ ﷺ سے ہم نے صحابہ کے ذریعے سے لیا ہے۔ "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"، آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"۔ دونوں باتیں، یعنی میں جس پر ہوں، جس پر میرے صحابہ ہیں۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ واسطے تو رکھنے پڑیں گے، ورنہ پھر تو ہم حق تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ حق تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ بس یہ والی بات ہے، تو حق تک پہنچنے کے لیے ان واسطوں کو لینا پڑتا ہے۔

                    سوال:

                    جب آخرت کا دائمی عذاب بعثت پر موقوف ہے تو پھر بعثت کو "رحمتِ عالمیان" کہنے کا کیا معنی ہو گا؟

                    جواب:

                    بعثت (انبیاء علیہم السلام) عین رحمت ہے کیونکہ واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی ذات و صفات کی معرفت کا سبب ہے جس میں دنیا و آخرت کی سعادتیں شامل ہیں۔ بعثت (انبیاء علیہم السلام) کی دولت کی وجہ سے معلوم ہو گیا کہ فلاں چیز حق تعالیٰ کی بارگاہِ قدس کے مناسب ہے اور فلاں نا مناسب۔ کیونکہ ہماری لنگڑی اور اندھی عقل امکان و حدوث کے داغ سے داغ دار ہے، وہ کیا سمجھے کہ اس حضرتِ وجوب کے لئے جس کے واسطے قدم لازم ہے، اس کے اسماء و صفات اور افعال میں سے کون سے مناسب ہیں اور کون سے نا مناسب تاکہ ان مناسب (اسماء و صفات) کا اطلاق کیا جائے اور نا مناسب سے پرہیز کیا جائے۔ بلکہ بسا اوقات (ہماری اندھی عقل) اپنے نقص کی وجہ سے کمال کو نقص جانتی ہے اور نقص کو کمال سمجھنے لگتی ہے۔ فقیر کے نزدیک یہ (مناسب و نا مناسب کا) امتیاز تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد بخت ہے جو نا مناسب امور کو اس تعالیٰ کی پاک بارگاہ کی طرف منسوب کر دے اور نا شائستہ چیزوں کو حضرتِ حق سبحانہٗ و تعالیٰ کے ساتھ نسبت دے۔ یہ بعثتِ (انبیاء) ہی کا کار نامہ ہے جس نے حق کو باطل سے جدا کر دیا۔ بعثت ہی کی وجہ سے غیر مستحقِ عبادت اور مستحقِ عبادت (حق جل و علا) کے درمیان تمیز قائم کی۔ یہ بعثت ہی ہے کہ جس کے ذریعے حق جل و علا کے راستے کی طرف دعوت دی جاتی ہے جو بندوں کو مولیٰ جل سلطانہٗ کے قرب اور وصل کی سعادت تک پہنچاتی ہے، اور بعثت ہی کے وسیلے سے مولیٰ جل شانہٗ کی مرضیات کی اطلاع میسر ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا۔ بعثت ہی کے طفیل اس تعالیٰ کی ملک میں تصرف کے جواز و عدمِ جواز کی تمیز حاصل ہوتی ہے۔ بعثت کے فوائد کی مثالیں بکثرت ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ انبیاء کی بعثت سراپا رحمت ہے۔ جو شخص اس نفسِ امارہ کا مطیع ہو گیا اور شیطان لعین کے حکم سے بعثت کا انکار کرتا ہے اور بعثت کے تقاضوں کے مطابق عمل نہیں کرتا تو اس میں بعثت کا کیا گناہ اور بعثت کس طرح رحمت نہ ہو گی؟


                    مطلب یہ جو آپ ﷺ کی بعثت ہے اور تمام انبیاء کرام کی جو بعثت ہے، اصل میں اللہ پاک نے اس نظام کو قائم کیا ہے ہدایت کے لیے۔ اسی وجہ سے ہمیں سورۃ فاتحہ کے اندر بالکل اس کا ابتدا ہی میں تعارف کرایا گیا۔ ابتدا ہی میں۔ دیکھو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے بعد فوراً ہے نا؟ بالکل فوراً۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّينَ۔ اب دیکھو، اللہ پاک سے انتہائی درجے کی توحید یعنی انتہائی درجے کی توحید کا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لیکن فوراً ہی جو اللہ پاک نے ہمارے لیے نمونے بنائے ہیں، نمونے کن کو بنایا؟ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کو بنایا۔ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کون سے ہیں؟ انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ نمونے کے طور پر اللہ پاک نے ہمارے سامنے پیش کر دیا کہ ان کے طریقے پہ چلنا ہے۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ جو باقاعدہ جان بوجھ کر انکار کرنے والے ہیں۔ وہ ہیں مَغْضُوْبُٗ عَلَيْهِمْ اور وَلَا الضَّآلِّينَ۔ وہ جو ناسمجھی کے ساتھ انکار کرنے والے ہیں، گمراہی میں پڑ گئے۔ اب ہمیں تینوں کا باقاعدہ، یعنی تین قسم کے رجال کا تعارف کرایا گیا۔ سورۃ فاتحہ ہی میں۔ فاتحہ کا مطلب کیا ہے؟ جس سے شروع ہوتا ہے، گویا کہ دروازہ کھلتا ہے اس کے ذریعے سے۔ تو اس میں قرآن کا جو دروازہ ہے، وہ سورۃ فاتحہ ہے۔ اور سورۃ فاتحہ ہی میں ہمیں بتایا گیا کہ ہدایت کیا ہے۔ ہدایت کا مطلب کیا ہے۔ بغیر ان نمونوں کے، ہم ہدایت کو پہچان ہی نہیں سکتے کہ ہدایت ہے کیا؟ تو اس وجہ سے بعثتِ پاک، اس کو اللہ کی حکمت کے مطابق اور رحمت کا ذریعہ سمجھنا ہے یعنی آپ ﷺ کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ نہیں بھیجا ہم نے تمہیں بھیجا کا مطلب کیا ہے؟ بعثت ہے نا؟ نہیں بھیجا ہم نے إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ، تجھے مگر رحمت اللعالمین بنا کر۔ تو گویا کہ آپ ﷺ رحمت اللعالمین ہیں۔ اور یہی رحمت سب سے بڑی ہے کہ اللہ پاک کی معرفت حاصل ہو جائے۔ اور اللہ پاک کے ساتھ ہمارا تعلق ہو جائے۔ یہی سب سے بڑی رحمت ہے۔ اگر یہ کسی کو حاصل ہو گیا، تو باقی تمام رحمتیں اس کے ساتھ شامل ہیں۔

                    سوال:

                    ہر چند عقل اپنی ذات کی حد تک احکام الٰہی جل شانہٗ کی بجا آوری میں ناقص و نا تمام ہے لیکن ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ تصفیہ اور تزکیہ حاصل ہونے کے بعد عقل کو مرتبۂ وجوب تعالیٰ و تقدس کے ساتھ ایک بے تکیف مناسبت اور اتصال پیدا ہو جائے کہ جس مناسبت اور اتصال کے سبب وہ احکام کو وہاں سے اخذ کر لے اور اس کو اس بعثت کی جو فرشتے کے واسطے سے ہے کوئی حاجت نہ رہے۔

                    یہ سوال کیا ہے۔

                    جواب:

                    اگرچہ عقل یہ مناسبت اور اتصال پیدا کر لے لیکن وہ تعلق جو اس کا جسمانی بدن کے ساتھ ہے وہ بالکل ختم نہیں ہوتا اور کامل طور پر علیحدگی حاصل نہیں ہوتی، لہذا قوتِ واہمہ ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے، اور قوتِ متخیلہ ہرگز اس کا خیال نہیں چھوڑتی اور قوت غضبیہ و شہویہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے اور حرص و لالچ کے رذائل ہر وقت اس کے ہم نشین رہتے ہیں۔ سہو و نسیان جو نوعِ انسانی کے لوازمات میں سے ہیں، اس کی عقل سے مکمل طور پر جدا نہیں ہوتے، اور غلطی و خطا جو اس جہان کا خاصہ ہیں، اس سے جدا نہیں ہوتے۔ لہذا عقل اعتماد کے لائق نہیں ہے اور اس سے ماخوذ احکام وہم اور تصرفِ خیال کے غلبے سے محفوظ نہیں رہتے اور نسیان و خطا کے گمان کی آمیزش سے محفوظ نہیں رہتے۔ بر خلاف فرشتے کے کہ وہ ان اوصاف سے پاک اور ان رذائل سے مبرا ہے تو لازمًا وہ اعتماد کے قابل ہے اور اس سے ماخوذ احکام وہم و خیال کی آمیزش اور نسیان و خطا کے گمان سے محفوظ ہیں۔

                    اور بعض اوقات وہ علوم جو تلقئ روحانی (القائے روحانی) سے اخذ کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے متعلق تبلیغ کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قویٰ و حواس کے ساتھ بعض مقدمات مسلمہ غیر صادقہ جو وہم و خیال یا کسی اور ذریعے سے حاصل ہوئے ہیں، بے اختیار ان علوم کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہو جاتے ہیں کہ اس وقت ہرگز تمیز ممکن نہیں رہتی، اور دوسرے وقت میں ایسا ہوتا ہے کہ اس تمیز کا علم دے دیا جاتا ہے اور کبھی نہیں دیا جاتا۔ لہذا لازمی طور پر وہ علوم ان مقدمات کے مل جانے کی وجہ سے کذب کی ہیئت پیدا کر لیتے ہیں اور اعتماد کے قابل نہیں رہتے۔ یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تصفیہ اور تزکیہ کا حاصل ہونا "اعمالِ صالحہ" کے بجا لانے پر موقوف ہے جو "مرضیات مولیٰ سبحانہٗ" ہیں اور یہ معنی بعثت (انبیاء) پر وابستہ ہیں جیسا کہ بیان ہو چکا۔

                    بلکہ میں اس کے بارے میں عرض کروں کہ حضرت ہی کی تعلیمات کی برکت سے جو چیز بالکل فوری طور پر ذہن میں آسانی کے ساتھ آتی ہے کہ ہمارے جو تین چیزیں ہیں، یعنی قلب، نفس اور عقل۔ اور سیر الی اللہ کا جو مرتبہ کسی کو جب حاصل ہوتا ہے، یعنی نفس بھی، نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ بن گیا۔ اور قلب، قلبِ سلیم بن گیا۔ اور عقل، عقلِ فہیم بن گیا۔ عقلِ فہیم بن گیا۔ تو عقلِ فہیم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ صحیح بات کو پہچان لیتا ہے۔ تو صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا نا؟ صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا۔ ورنہ کوئی کرے گا ہی نہیں تو خود اپنی طرف سے کیسے لائے گا؟ کیونکہ عقل تو بذاتِ خود ایک سمجھ لیں ایک Software ہے۔ اس کے اندر جو چیز آپ دیتے ہیں اس سے اس کا Output نکلتا ہے۔ تو اس کے سامنے جب وہ کوئی چیز آئے گی تو اب یہ دیکھیں جس وقت یہ حاصل ہو جائے۔ حضرت نے جو فرمایا ہے غیر ضروری نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوال جنہوں نے کیا ہے، وہ ان سسٹم کو مانتے ہی نہیں ہیں۔جن کو میں بیان کر رہا ہوں کیونکہ یہ تو ہم لوگ حضرت ہی کی باتوں سے ہم آپ لوگوں کو سمجھا چکے ہیں کہ اس قسم کا قلب اور روح اور سر اور یہ تمام چیزیں جو آپ کو بتا رہے ہیں، وہ لوگ تو اس کو مانیں گے ہی نہیں۔ لہٰذا ان کو تو ہم اس قسم کے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن چونکہ ہم لوگ Already اس کو چیز کو سمجھتے ہیں، لہٰذا اس وجہ سے میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لیے کوئی مسئلہ اس لیے نہیں ہے، کہ عقل تب کام کرتی ہے جب اس کے ساتھ ایمانی اخبارات مل جاتے ہیں۔ یعنی سر بن جائے۔ ملائکہ سے تعلق رکھے۔ تو ملائکہ کے ساتھ میں جو تعلق رکھتا ہوں، وہ ظنی ہے۔ اگر مجھے سر کا مرتبہ حاصل ہو بھی چکا ہو، تو ہے تو ظن۔ الہام ہے، کشف ہے۔ ٹھیک ہے نا، ظنی ہے نا۔ لیکن وہ اس کے مقابلے میں جو قرآن ہے اور حدیث ہے، وہ جو قطعی ہے۔ تو اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ بلکہ ہمارے لیے تو حکم یہ ہے کہ جب کبھی کسی کا الہام ہو، یا کشف ہو، وہ اس کے اوپر، ان دو گواہوں پہ پیش کر لے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ یعنی دو گواہوں پہ پیش کر لے۔ اگر اس کے مطابق ہے، ٹھیک ہے، اور اس کے مطابق نہیں، تو رد ہے۔ یہی بات ہے نا؟ آپ کو پتہ ہے جب کبھی جب کبھی Kit آتی ہے Testing کا سسٹم جو ہوتا ہے، کیمیکل تو اس کے ساتھ ایک وہ بھی آتے ہیں نا Comparison کے لیے، ایک Standard۔ اس کے ساتھ اس کو Compare کرتے ہیں۔ کہ اپ کا جو رزلٹ ہے، پہلے اس کے مطابق Comparison ہونا چاہیے، اپ کو رزلٹ یہ صحیح دے گا۔ تو اس وجہ سے ہم پہلے اپنے عقل کو ٹیسٹ کرتے ہیں کہ آیا وہ ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد ہم اس کی باتیں مانیں گے۔ جب تک وہ چیز نہیں ہے، تب تک تو اس کے مطابق Qualify کریں گے ہی نہیں۔ ہماری بات Qualify نہیں کرے گی۔ تو اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ ہماری جو عقل کی بات ہے، وہ تو وہ تو ظنی ہے۔ چاہے وہ کیسے ہی مطلب صحیح کیوں نہ ہو۔ صحیح ہوگا تو اس کے مطابق ہو جائے گی۔ قطعی کے مطابق ہو جائے گی نا۔ لیکن قطعی ہوگا، تو پھر پتا چلے گا نا کہ قطعی کے مطابق ہو گیا۔ تو وہ قطعی جو ہے، وہ کہاں سے لایا؟ کہاں سے آیا؟ وہ ظاہر ہے فرشتے کے ذریعے سے آیا ہے۔ تو جب تک ہمارے پاس وہ فرشتے والا نظام نہیں ہو، اس وقت تک ہمارے پاس کوئی ریفرنس نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے ایک ریفرنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

                    میں اس کو اگر آج کل کے زمانے کے مطابق ڈسکس کرنا چاہوں حضرت کی بات کو، تو میں یہی کہوں گا کہ جو ریفرنس ہوتا ہے جیسے فیکٹری ہوتی ہے نا، فیکٹری۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہوتا ہے، اس کے ساتھ Comparison کرتے ہیں۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہے، اگر وہ نہیں ہو تو آپ پھر بے بس ہیں۔ پھر آپ ریفرنس پھر آپ اس کو نہیں کر سکتے۔ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں چونکہ آپ کے پاس اس کا ریفرنس نہیں ہوتا، تو وہ Useless ہو جاتا ہے۔ اپ اس کو نہیں استعمال کر سکتے۔ تو اس وجہ سے جو فیکٹری کے جو ریفرنس ہے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے جو ریفرنس بھیجا ہے، اللہ پاک نے دو ریفرنس بھیجے ہیں۔ ایک بھیجا ہے ٹیکسٹ، "قرآن"۔ اور ایک ریفرنس بھیجا ہے "آپ ﷺ" یعنی ساتھ اس کا بتانے والا۔

                    نبی اور جو کتاب ہے۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ نبی اگر نہیں ہو، کتاب کون سمجھائے گا؟ کتاب نہیں ہو تو اصول آپ کے سامنے کیسے آئیں گے؟ تو یہی بات ہے کہ اصول کا وہ جس کو ہم کہہ سکتے ہیں Manual جس کو ہم کہہ سکتے ہیں۔ Manual بھی بھیج دیا اور ساتھ ساتھ اس کی Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا۔ اب Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا، Manual بھی بھیج دیا، اب باقی اس کے بعد جتنا کام ہم کریں گے تو اس کے مطابق کریں گے تو، جب تک اس کے مطابق ہم کریں گے تو کام صحیح ہوگا۔بلکہ میں اس کے بارے میں عرض کروں کہ حضرت ہی کی تعلیمات کی برکت سے جو چیز بالکل فوری طور پر ذہن میں آسانی کے ساتھ آتی ہے کہ ہمارے جو تین چیزیں ہیں، یعنی قلب، نفس اور عقل۔ اور سیر الی اللہ کا جو مرتبہ کسی کو جب حاصل ہوتا ہے، یعنی نفس بھی، نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ بن گیا۔ اور قلب، قلبِ سلیم بن گیا۔ اور عقل، عقلِ فہیم بن گیا۔ عقلِ فہیم بن گیا۔ تو عقلِ فہیم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ صحیح بات کو پہچان لیتا ہے۔ تو صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا نا؟ صحیح بات کوئی کرے گا تو پہچانے گا۔ ورنہ کوئی کرے گا ہی نہیں تو خود اپنی طرف سے کیسے لائے گا؟ کیونکہ عقل تو بذاتِ خود ایک سمجھ لیں ایک Software ہے۔ اس کے اندر جو چیز آپ دیتے ہیں اس سے اس کا Output نکلتا ہے۔ تو اس کے سامنے جب وہ کوئی چیز آئے گی تو اب یہ دیکھیں جس وقت یہ حاصل ہو جائے۔ حضرت نے جو فرمایا ہے غیر ضروری نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوال جنہوں نے کیا ہے، وہ ان سسٹم کو مانتے ہی نہیں ہیں جو میں بتا رہا ہوں۔ کیونکہ یہ تو ہم لوگ حضرت ہی کی باتوں سے ہم آپ لوگوں کو سمجھا چکے ہیں کہ اس قسم کا قلب اور روح اور سر اور یہ تمام چیزیں جو آپ کو بتا رہے ہیں، وہ لوگ تو اس کو مانیں گے ہی نہیں۔ لہٰذا ان کو تو ہم اس قسم کے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن چونکہ ہم لوگ Already اس کو چیز کو سمجھتے ہیں، لہٰذا اس وجہ سے میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لیے کوئی مسئلہ اس لیے نہیں ہے، کہ عقل تب کام کرتی ہے جب اس کے ساتھ ایمانی اخبارات مل جاتے ہیں۔ یعنی سر بن جائے۔ ملائکہ سے تعلق رکھے۔ تو ملائکہ کے ساتھ میں جو تعلق رکھتا ہوں، وہ ظنی ہے۔ اگر مجھے سر کا مرتبہ حاصل ہو بھی چکا ہو، تو ہے تو ظن۔ الہام ہے، کشف ہے۔ ٹھیک ہے نا، ظنی ہے نا۔ لیکن وہ اس کے مقابلے میں جو قرآن ہے اور حدیث ہے، وہ جو قطعی ہے۔ تو اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ بلکہ ہمارے لیے تو حکم یہ ہے کہ جب کبھی کسی کا الہام ہو، یا کشف ہو، وہ اس کے اوپر، ان دو گواہوں پہ پیش کر لے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ یعنی دو گواہوں پہ پیش کر لے۔ اگر اس کے مطابق ہے، ٹھیک ہے، اور اس کے مطابق نہیں، تو رد ہے۔ یہی بات ہے نا؟ آپ کو پتہ ہے جب کبھی جب کبھی Kit آتی ہے Testing کا سسٹم جو ہوتا ہے، کیمیکل تو اس کے ساتھ ایک وہ بھی آتے ہیں نا Comparison کے لیے، ایک Standard۔ اس کے ساتھ اس کو Compare کرتے ہیں۔ کہ آپ کا جو رزلٹ ہے، پہلے اس کے مطابق Comparison ہونا چاہیے، آپ کو رزلٹ یہ صحیح دے گا۔ تو اس وجہ سے ہم پہلے اپنے عقل کو ٹیسٹ کرتے ہیں کہ آیا وہ ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد ہم اس کی باتیں مانیں گے۔ جب تک وہ چیز نہیں ہے، تب تک تو اس کے مطابق Qualify کریں گے ہی نہیں۔ ہماری بات Qualify نہیں کرے گی۔ تو اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ ہماری جو عقل کی بات ہے، وہ تو وہ تو ظنی ہے۔ چاہے وہ کیسے ہی مطلب صحیح کیوں نہ ہو۔ صحیح ہوگا تو اس کے مطابق ہو جائے گی۔ قطعی کے مطابق ہو جائے گی نا۔ لیکن قطعی ہوگا، تو پھر پتا چلے گا نا کہ قطعی کے مطابق ہو گیا۔ تو وہ قطعی جو ہے، وہ کہاں سے آیا؟ وہ ظاہر ہے فرشتے کے ذریعے سے آیا ہے۔ تو جب تک ہمارے پاس وہ فرشتے والا نظام نہیں ہو، اس وقت تک ہمارے پاس کوئی ریفرنس نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے ایک ریفرنس کی ضرورت ہوتی ہے۔میں اس کو اگر آج کل کے زمانے کے مطابق ڈسکس کرنا چاہوں حضرت کی بات کو، تو میں یہی کہوں گا کہ جو ریفرنس ہوتا ہے جیسے فیکٹری ہوتی ہے نا، فیکٹری۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہوتا ہے، اس کے ساتھ Comparison کرتے ہیں۔ تو فیکٹری کا جو ریفرنس ہے، اگر وہ نہیں ہو تو آپ پھر بے بس ہیں۔ پھر آپ ریفرنس پھر آپ اس کو نہیں کر سکتے۔ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں چونکہ آپ کے پاس اس کا ریفرنس نہیں ہوتا، تو وہ Useless ہو جاتا ہے۔ اپ اس کو نہیں استعمال کر سکتے۔ تو اس وجہ سے جو فیکٹری کے جو ریفرنس ہے، اسی طرح اللہ جل شانہ نے جو ریفرنس بھیجا ہے، اللہ پاک نے دو ریفرنس بھیجے ہیں۔ ایک بھیجا ہے ٹیکسٹ، "قرآن"۔ اور ایک ریفرنس بھیجا ہے "آپ ﷺ" یعنی ساتھ اس کا بتانے والا۔نبی اور جو کتاب ہے۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ یہ دونوں ریفرنس ہیں۔ نبی اگر نہیں ہو، کتاب کون سمجھائے گا؟ کتاب نہیں ہو تو اصول آپ کے سامنے کیسے آئیں گے؟ تو یہی بات ہے کہ اصول کا وہ جس کو ہم کہہ سکتے ہیں Manual جس کو ہم کہہ سکتے ہیں۔ Manual بھی بھیج دیا اور ساتھ ساتھ اس کی Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا۔ اب Manual کو سمجھانے والا بھی بھیج دیا، Manual بھی بھیج دیا، اب باقی اس کے بعد جتنا کام ہم کریں گے تو اس کے مطابق کریں گے تو، جب تک اس کے مطابق ہم کریں گے تو کام صحیح ہوگا۔

                    کیا خیال ہے کبھی جب باہر سے کوئی چیز آتی ہے تو وہ کہتے ہیں بھئی اس کو کھولنے سے پہلے جو ہمارا Authorized Person اس سے ہی آپ نے کھلوانا ہے، ورنہ ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ہوتے ہیں نا اس طرح؟ اب وہ جو Authorized ہے، وہ یہی بات ہے نا کہ آپ اگر کوئی غلطی کر لیں گے، تو پھر تو وہ ساری چیزیں رہ جائیں گی اس میں، وہ تو پھر Comparison نہیں ہو سکے گی۔ تو یہ چیزیں اس طرح ہیں کہ ہم لوگ اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتے۔ جس نے جو حکم بھیجا ہے، اس حکم کو پرکھنے کے لیے ہمارے پاس جو دو بڑے Sources ہیں، ایک پیغمبر، اور ایک کتاب۔ تو پیغمبر نے سنت چھوڑی ہے۔ اور ساتھ کتاب لے آئے۔ تو کتاب اور سنت، اس کے اوپر ہم ہر چیز کو پیش کریں گے۔ یہ ہمارا Source of Reference ہے۔ اس ریفرنس کے مطابق ہم سارے کام کریں گے۔ تو اس وجہ سے ہمارا جو عقل ہے، وہ کامل نہیں ہے ان چیزوں کو کے لئے

                    لہذا ثابت ہوا کہ بعثت کے بغیر تصفیہ اور تزکیہ کی حقیقت میسر نہیں ہوتی اور وہ صفائی جو کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہوتی ہے وہ نفس کی صفائی ہے نہ کہ قلب کی صفائی، اور نفس کی صفائی سوائے گمراہی کے کچھ نہیں بڑھاتی، اور سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بعض غیبی امور کا کشف جو صفائی نفس کے وقت کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہو جاتا ہے وہ استدراج ہے جس سے مقصود اس جماعت کی خرابی اور نقصان ہے۔ نَجَّنَا اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ عَنْ ھَذِہِ الْبَلِیَّۃِ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ وَ عَلَیْھِمُِ الصَّلَوَاتُ وَ التَّسْلِیْمَاتُ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَِ آلِ کُلٍّ (اللہ سبحانہٗ حضرت سید المرسلین علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و علی آلہ و آلھم کے طفیل ہم کو اس بلا سے نجات دے)


                    اب یہ بہت مشکل بات ہے جو ابھی حضرت نے بیان فرمائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے بہت سوچنے کی ضرورت ہے۔ نفس کی صفائی سے کیا مراد ہے؟ یہ جو لفظ صفائی ہے نا، اس کو ذرا صاف کرنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مسئلہ بن سکتا ہے۔ اصل صفائی سے مراد یہاں مجاہدہ ہے۔ صفائی سے کیا مراد ہے؟ مجاہدہ ہے۔ میں آپ کو ایک مثال بتاتا ہوں۔ لوہا لوہا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ لوہے کے ساتھ آپ مقناطیس رگڑیں۔ یا مقناطیس کے ساتھ لوہا رگڑیں۔ لیکن رگڑنے کا ایک انداز ہوتا ہے۔ اس طرح واپس نہیں لانا۔ اس طرح، اس طرح، اس طرح، اس طرح، اس طرح جب آپ رگڑیں گے، کچھ عرصے کے بعد یہ مقناطیس بن جائے گا۔ یہ لوہا مقناطیس بن جائے گا۔

                    اچھا یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوہے کی صفائی ہے۔ (الائنمنٹ)۔ الائنمنٹ ہے نا اور تو کچھ نہیں ہے۔ اس کے Positive, Negative یا North, South poles ان کو آپ نے Align کر دیا۔ جب الائن کر دیا، اس کے اندر جو اللہ پاک نے صلاحیت رکھی تھی، وہ صلاحیت ہمارے سامنے ظاہر ہو گئی۔ اب وہ جو صلاحیت کو ظاہر کرنے والے جو طریقہ کار ہیں نا یہ صفائی کہلاتی ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس صلاحیت کو ظاہر کرنے والے جو صفت ہے نا یہ سمجھ نہیں آتی۔ اس صلاحیت کو ظاہر کرنے کا جو طریقہ کار ہے وہ کیا کہتے ہیں؟ اس کو صفائی کہتے ہیں اس کو۔ یہ نہیں کہ صفائی اس طرح ہے جیسے ہم جھاڑو دیتے ہیں، نہیں۔ مطلب اس میں یہ والی بات ہے کہ جو درمیان میں Misalignment کو اگر اپ گند سمجھ لیں۔ Misalignment کو اگر اپ گند سمجھ لیں، تو صفائی الائنمنٹ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟

                    تو اب یہ والی بات ہے کہ ہر انسان کے اندر کچھ طاقتیں ہوتی ہیں۔ جیسے ہپناٹزم ہے۔ ٹیلی پیتھی ہے، یا اس قسم کی اور چیزیں ہیں۔ یہ ہر انسان کے اندر جیسے کہ مقناطیس لوہا بن سکتا ہے۔ تو اسی طریقے سے مجاہدے کی اور کوشش سے جو ہمارا جو نفس ہے، اس کے اندر کچھ خفیہ چیزیں اللہ پاک نے طاقتیں رکھی ہوئی ہیں، وہ طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ وہ طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اب وہ جو طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں، اس کو لوگ کمال سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ تو ان کی کچھ Built-in صلاحیتیں ہیں۔ وہ استعمال ہو گئیں۔ آگے جا کر اس پر Depend کرتا ہے کہ وہ صلاحیت استعمال کس چیز کے لیے ہوتی ہے۔ کس چیز کے لیے وہ صلاحیت استعمال ہوتی ہے؟

                    مثلاً میں کسی کا دل پڑھ لیتا ہوں۔ کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ یہ کمال ضرور ہے، لیکن مطلوب کمال نہیں۔ کمال ضرور ہے، لیکن مطلوب کمال نہیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے۔ فرمایا: (ایک وعظ میں، میں نے پڑھا تھا)۔ ایک صاحب تھے جو مسلمان تھے، بڑے ذہین تھے۔ ایک دن کتاب پڑھ رہے تھے جزیے کے بارے میں اور اس کے دل میں ایک وسوسہ آ گیا۔ رمضان شریف کا مہینہ تھا روزے سے تھے۔ وسوسہ آ گیا۔ اس وسوسے نے ایسی جڑ پکڑ لی کہ کچھ ہی دیر میں مرتد ہو گئے۔ پھر اس نے کہا کہ اب میں روزے کا کیا کروں، توڑ دیا۔ ظاہر ہے کہ روزہ کھول دیا۔ روزہ رہا ہی نہیں تو کھولنے کی کیا بات ہے۔

                    اچھا جو اس کے ساتھی تھے، وہ افطاری کے وقت بیٹھے تھے سارے اکٹھے۔ جیسے پیٹی بند ہوتے ہیں۔ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ روزہ افطار کر رہے تھے، انہوں نے کہا تم بھی آ جاؤ۔ انہوں نے کہا، بھئی، میری جو حالت ہے، اگر وہ تجھے پتہ چلے، تو تم مجھے اپنے ساتھ بٹھاؤ بھی نہیں۔ یعنی گویا کہ اپنے نظروں میں بھی گر گئے ایک قسم کا۔ وہ بڑے ہوشیار مفتی لوگ ان کے ساتھ تھے۔ وہ سمجھ گئے۔ لیکن فوراً ہی پلان بھی بنا لیا۔ انہوں نے گویا کہ یہ فیصلہ کیا کہ ان کو اپنے آپ سے جدا نہیں کرنا۔ کیونکہ اور خراب ہو جائیں گے۔ تو انہوں نے کہا کہ بھئی وہ تمہارا اللہ کے ساتھ معاملہ ہے، ہمارے ساتھ تھوڑا ہے؟ ہمارے تو تم یار ہو۔ آؤ جاؤ، روزہ نہیں ہے تو کھا تو سکتے ہو نا؟ کھانا پینا تو منع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہاں یہ تو ہو سکتا ہے۔ تو آکر ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کھانا پینا کر لیا۔ اس طرح ساتھ افطاری وغیرہ چلتی رہی۔

                    ایک دن انہوں نے کہا، بھئی، مولانا فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں جاتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا بھئی تم جاؤ، میرا آپ کو پتہ ہے کہ میں ان چیزوں کا معتقد تھوڑا ہوں؟ تو لہٰذا مجھے لے کے کیا جاؤ گے؟ انہوں نے کہا، بھئی، سیر کے لیے بھی تو جایا جا سکتا ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں۔ ساتھ ہمارا ہو جائے گا۔ آپ سیر کے لیے چلیں۔ حضرت کے ساتھ ملنے کے لیے چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہاں یہ تو ٹھیک ہے۔ خیر، راستہ انہوں نے طے کر لیا اور راستے میں یہ سوچ رہا ہے، کہ یہ مجھے اس لیے لے جا رہے ہیں کہ مجھے Convince کرنا چاہتے ہیں۔ تو حضرت یہ کہیں گے تو میں یہ کہوں گا۔ حضرت یہ کہیں گے تو میں یہ کہوں گا۔ اپنے ساتھ خاص خاص سوالوں کا پٹارہ لے کے چلے گئے۔ کہ اگر وہ یہ کہے گا تو میں یہ کہوں گا، وہ یہ کہے گا تو میں یہ کہوں گا۔ اب یہاں پر آپ کو دو چیزیں بالکل واضح آ جائیں گی سامنے۔

                    حضرت کے پاس پہنچ گئے۔ اب حضرت کے ساتھ باقی لوگوں کے ساتھ تو ملے، اتفاق سے جاننے والے تھے۔ ان کے ساتھ جب ملے، تو حضرت ذرا تیز تیز باتیں کرتے تھے۔ تو ان سے فوراً ہی پوچھ رہے تھے: کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ مسلسل یہی پوچھ رہے ہیں، اور یہ گم سم بالکل کچھ بات نہیں کر رہے۔ کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ اخیر میں اس نے کہا: جی میں بیعت ہونے کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: کوئی بات نہیں، بیعت کر لیتا ہوں۔ کلمہ پڑھا لیا۔ اور کلمہ تو ویسے بھی پڑھاتے ہیں بیعت میں۔ کلمہ پڑھا لیا، اور بیعت کر لیا۔ اب جب واپس جانے لگے تو لوگوں نے کہا، یہ کیا بات ہوئی، تم آ تو نہیں رہے تھے۔ اور یہ ادھر بیعت بھی ہو گئے، یہ کیا مسئلہ ہے؟ کہتے ہیں بس آپ کو کیا پتا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ کہتے ہیں: میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں بہت سارے سوالات لے کے آیا تھا۔ اور جیسے میں حضرت کے سامنے آ گیا تو میرا ذہن بالکل Blank ہو گیا۔ جیسے میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ یعنی میرا دماغ ہی نہیں۔

                    پھر میں نے دیکھا کہ سامنے ایک اسکرین آیا دماغ میں۔ اب اسکرین کے دائیں طرف سے میرے سوالات آ رہے ہیں، بائیں طرف سے حضرت کے جوابات آ رہے ہیں۔ ادھر سے سوال، ادھر سے جواب، ادھر سے سوال، ادھر سے جواب، ادھر سے سوال، ادھر سے جواب۔ اب میرے جو سوالات میں لے کے آیا تھا اس کے جوابات ادھر ہی سے خود بخود آ رہے ہیں۔ حضرت تو وہی بات کر رہے تھے جو آپ لوگ بھی سنتے تھے۔ کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کس لیے کس لیے آئے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ حضرت تو یہی باتیں کر رہے تھے۔ لیکن ادھر سے مسئلہ یہ تھا کہ ادھر سے سوال آرہا ہے ادھر سے جواب آ رہا ہے۔ بس پھر میں بے بس ہو گیا تو میں نے کلمہ پڑھ لیا مسلمان ہو گیا۔

                    اس کے بعد اس نے پوری کتاب لکھی ہے کفر توڑ۔ اس کے بعد لکھی ہے۔ تھے تو بڑے ذہین۔ اب جس وقت یہ کافر تھے، حضرت یہ بات سمجھانا چاہتے تھے۔ اس وقت اس نے ولایت، کسی کام کے لیے گئے تھے۔ ظاہر ہے ذہین، فطین آدمی تھے۔ ولایت گئے تھے۔ ان کے پاس ایک وہ تھا، کمال تھا۔ وہ کمال یہ تھا کہ یہ جیب میں پڑے ہوئے کاغذ کو پڑھ سکتے تھے۔ اگر آپ کی جیب میں کوئی چیز پڑی ہوئی ہے، تو یہ پڑھ لیتے تھے۔ لیکن اس کے پڑھنے کا انداز یہ ہوتا تھا کہ اس آدمی کو، یا مرد یا عورت جو بھی تھا، اس کی جیب میں جو چیز پڑی ہوتی، اس کو سامنے بٹھا لیتے۔ اور خود کاغذ لے کر قلم، لکھنا شروع کر لیتا۔ جب تک قلم لکھتا اس کو خود بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں نے کیا لکھا ہے، یا میں کیا لکھ رہا ہوں۔ بس قلم لکھتا رہتا ہے، لکھتا رہتا ہے، لکھتا رہتا ہے۔ جس وقت پورا مکمل ہو جاتا، پہلے خود پڑھتے، پھر ان کو دیتے۔ یہ اس کا طریقہ کار تھا۔ تو اس کی بڑی شہرت ہو گئی، ظاہر ہے وہ لوگ تو اس ان چیزوں کے بڑے رسیے ہیں۔ تو ایک میم آئی۔ اس نے کہا کہ میری جیب میں جو کچھ ہے، اس کو آپ پڑھ سکتے ہیں؟ کہتے ہیں، ہاں، پڑھ لیتا ہوں۔ تو بس اس نے بس وہ لکھنا شروع کر لیا۔ جب پورا لکھا، تو اس کو پہلے پڑھا اور پھر کہا کہ میں تمہیں سناؤں یا تم خود پڑھنا چاہتی ہو؟ اس کا رنگ فق ہو گیا۔ کہتی ہے، مجھے دے دو۔ اس نے اس سے لے لیا، تو وہ حیران ہو گئی، کہتی، کمال ہے۔ یہ تو بالکل میرا ایک ایسا راز ہے جو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اور آپ نے اس کو پڑھ لیا۔

                    تو حضرت نے فرمایا: دیکھو کفر کی حالت میں اس کا یہ کمال موجود ہے۔ کفر کی حالت میں بھی اس میں یہ کمال موجود ہے، تو گویا یہ کوئی کرامت تو نہیں تھی نا۔ کرامت کس کی تھی؟ مولانا فضل الرحمان گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی۔ وہ بھی تو یہی چیز تھی۔ وہ بھی تو یہی چیز تھی۔ کیونکہ وہ حضرت کی برکت سے وہ اس کے ذہن میں اسکرین بن گیا اور ادھر سے سوال آ رہے ہیں ادھر سے جواب ممکن ہے حضرت کو اس کا پتہ بھی نہ ہو کہ میں کسی کے سوالات کے جوابات دے رہا ہوں، یا کوئی اس کے جوابات مل رہے ہیں۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو ذریعہ بنایا حضرت کو۔ یہ تو کرامت ہے۔ یہ تو کرامت ہے۔ لیکن یہ جو دوسرا تھا، اس کو "استدراج" کہتے ہیں۔ یہ جو اس کا کفر کی حالت میں یہ جو حالت تھی، اس کو "استدراج" اب یہ صفائی نفس کی وجہ سے تھا۔ اس نے محنت کی تھی۔ محنت کی تھی۔ مشق کی تھی۔ اور چونکہ اس کے اندر یہ صلاحیت موجود تھی، بعض لوگوں میں کشف کی صلاحیت ہوتی ہے، بعض میں نہیں ہوتی۔ جیسے بعض لوہا مقناطیس بن سکتا ہے، بعض نہیں بن سکتا۔ بے شک آپ اس کو 50 سال مقناطیس کے ساتھ رگڑیں۔ وہ مقناطیس نہیں بنے گا۔ اور بعض جو ہے نا بالکل ایک دو وقت کے بعد جو ہے نا مقناطیس بن جائے گا۔ تو اس طریقے سے بعض میں کشف کی صلاحیت ہوتی ہے، بعض میں نہیں ہوتی۔ بعض میں کچھ اور صلاحیت ہوتی ہے نہیں ہوتی جن میں ہوتی ہے، ان کو اس کی الائنمنٹ کے ذریعے سے مطلب لے آتے ہیں سامنے۔ اس کو کہتے ہیں نفس کی صفائی۔

                    اب یہ نفس کی صفائی اگر اس نیت سے کی جائے کہ وہ چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھر آئیں، تو یہ تو جوگ ہے، یوگا۔ یوگا کہتے ہیں نا اس کو؟ ہم لوگ اس کو جوگ کہتے ہیں۔ یہ تو جوگ ہے۔ اور جو ذکر اذکار کے ذریعے سے خود بخود الائنمنٹ ہو جائے اور وہی چیزیں آ جائیں جو آپ کے پاس تھیں، بغیر آپ کی اس نیت کے، تو یہ نفس کی صفائی، یہ ماشاءاللہ اس نفس کی صفائی کے ساتھ، قلب اگر بن چکا ہو، تو قلب پھر روح کے ذریعے سے وہاں سے لیتا ہے، اور اسی صفا شدہ نفس کے ذریعے سے لوگوں کو دیتا ہے۔ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ حضرت کی بات اب کافی بعد میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اب سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟

                    قلب روح بن جاتا ہے۔ وہ ادھر سے لیتا ہے۔ چینل بن گیا۔ ادھر سے روح کے ذریعے سے، اور یہ جو صاف نفس ہے، جو صفائی ہو چکی ہے، مجاہدے کے ذریعے سے، اس کے ذریعے سے وہ پھر لوگوں میں تقسیم کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب دے رہے تھے۔ دے رہے تھے نا؟ ٹھیک ہے نا۔ وہ جو سکرین بنا تھا کہاں سے بنا تھا؟ یہاں سے بنا تھا، مراد آباد میں بنا ہوا تھا۔ وہ اوپر ملائے اعلی سے بنا ہوا تھا۔ وہ جو سکرین بنا تھا کہاں سے بنا تھا؟ ملائے اعلی سے بنا ہوا تھا۔ مراد آباد میں پتہ چل رہا تھا۔ مراد آباد میں ظاہر ہو رہا تھا۔ نفس مراد آباد میں تھا۔ اور اسکرین وہاں سے بنا۔ ٹھیک ہے نا؟ بس یہ چیز ہوتی ہے۔ کہ جو روح ہے، وہ لیتا ہے ملائے اعلی سے۔ قلب کے ذریعے سے نفس کے پاس آتا ہے۔ قلب کے ذریعے سے نفس کے پاس آتا ہے لیکن اس سے پہلے نفس صاف ہونا چاہیے۔ ورنہ اس کے اندر صلاحیت ہی نہیں ہو گی اس کو Communicate کرنے کی۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ یہ والی بات۔

                    وہ صفائی جو کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہوتی ہے وہ نفس کی صفائی ہے نہ کہ قلب کی صفائی۔۔۔ کیونکہ قلب کا تعلق ایمان سے ایمان، قلب ایمان کے ذریعے سے بنتا ہے۔ قلب ایمان کے ذریعے سے بنتا ہے۔ اس وجہ سے قلب کے اوپر محنت نہ ہو، اور نفس کے اوپر محنت ہو تو جوگ ہے۔جوگی ہوتے ہیں۔اگر قلب کے اوپر محنت نہ ہو نفس کے اوپر صرف محنت ہو تو جوگ ہے اور اگر صرف قلب کے اوپر محنت ہو، اور نفس کے اوپر محنت ہو، تو مجذوب متمکن ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ لہٰذا یہ دونوں محنتیں ایک ہی وقت میں موجود ہونا ضروری ہے۔ ورنہ دونوں میں نقصان ہو جاتا ہے۔

                    اور نفس کی صفائی سوائے گمراہی کے کچھ نہیں بڑھاتی، اور سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بعض غیبی امور کا کشف جو صفائی نفس کے وقت کفار اور اہلِ فسق کو حاصل ہو جاتا ہے وہ استدراج ہے جس سے مقصود اس جماعت کی خرابی اور نقصان ہے۔

                    یہی وہ چیز ہے جس سے لوگ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا۔ قرآن کے بارے میں ہے، حالانکہ قرآن تو سراپا ہدایت کی کتاب ہے۔ تو نفس کی صفائی اگر يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ہو جائے، تو کیا ممکن نہیں؟ ظاہر ہے وہ بھی تو ممکن ہے نا۔ لہٰذا نفس کی صفائی ضروری ہے، لیکن بغیر قلب کی صفائی کے نہیں۔ قلب کی صفائی بھی ساتھ ہونی چاہیے۔ نَجَّنَا اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ عَنْ ھَذِہِ الْبَلِیَّۃِ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ وَ عَلَیْھِمُِ الصَّلَوَاتُ وَ التَّسْلِیْمَاتُ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَِ آلِ کُلٍّ۔

                    یہ اللہ پاک کا ہم کتنا شکر ادا کریں کہ یہ چیزیں اللہ پاک نے ہم تک پہنچا دی ہیں۔ ورنہ ایک دنیا اس میں رگڑی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ نفس کی صفائی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور مجاہدوں پر مجاہدے کر رہے ہیں، اور یہ چیزیں حاصل کر کے مطمئن ہیں کہ ہم کامل ہو گئے ہیں۔ اور کچھ لوگ قلب کے اوپر لگے ہوئے ہیں، اور نفس کو چھوڑا ہوا ہے، اور وہ بھی سمجھے ہوئے ہیں کہ ہم کامل ہیں۔ اور دونوں کا معاملہ خراب ہے۔

                    تو اللہ پاک کا بہت فضل ہے کہ ہم لوگوں پر کہ اللہ پاک نے ہمیں یہ چیزیں بیک وقت عطا فرمائی ہیں۔

                    اس تحقیق سے واضح ہو گیا کہ تکلیفِ شرعی یہ تکلیف کے لفظ سے تنگ نہ ہو جانا، یہ تکلیف ذمہ داری کو کہتے ہیں۔ یہ تکلیف ذمہ داری کا ذمہ داری۔

                    تکلیفِ شرعی جو بعثت (انبیاء) کی راہ سے ثابت ہوئی ہے وہ بھی رحمت ہی ہے، نہ کہ جس طرح تکلیفِ شرعی کے منکروں یعنی ملحدوں اور زندیقوں نے گمان کیا ہے اور تکلیفِ شرعی کو مصیبت جان کر غیر معقول اور نا پسند قرار دیا ہے

                    یہ اصل میں حضرت کی یہ باتیں آج کل سمجھ میں نہیں آتیں۔ کیونکہ آج کل ایسے لوگ نہیں ہیں۔ آج کل کبھی اس قسم کی باتیں لوگوں کی سنیں؟ جس نے کہا کہ شریعت کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ باتیں اب لوگ نہیں کرتے۔ اس وقت تو یا مکمل خلاف ہیں، یا مکمل حامی ہیں۔ یہ درمیان والے والی باتیں آج کل نہیں ہیں۔ لیکن اس وقت تھیں۔ اس وقت یہ باتیں تھیں۔ لوگوں نے یہ باتیں مشہور کی ہوئی تھیں۔ تو یہ ان حضرات کے لیے جواب ہے۔

                    اور تکلیفِ شرعی کو مصیبت جان کر غیر معقول اور نا پسند قرار دیا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ کون سی مہربانی ہے کہ بندوں کو امورِ شاقہ کی تکلیف دی جائے پھر ان سے کہا جائے کہ اگر تم اس تکلیف کے مطابق عمل کرو گے تو بہشت میں جاؤ گے اور اگر اس کے خلاف کرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ ان کو ایسے امور کی کیوں تکلیف دیتے ہیں اور ان کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے کہ کھائیں پئیں اور سوئیں، اور جس طرح چاہیں اپنے طور پر زندگی بسر کریں۔

                    اس قسم کے لوگ ہیں۔ اب بھی ہیں۔ جو یہ باتیں کرتے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے جی، بس اللہ پاک کو کیا مطلب کہ بندوں کو تکلیف دے۔ اللہ جل شانہ کو کیا مطلب، اس سے کم ہوگا۔ اگر ہم لوگ اس پر وہ نہ کریں۔ اللہ بڑے غفور و رحیم ہیں۔ اللہ بڑے غفور و رحیم ہیں، اللہ پاک بڑے کریم ہیں۔ وہ معاف کر دے گا۔ اور مجھے خود ایک صاحب نے کہا ہے۔ یہ مطلب یہ تو میرے بالکل Roommate تھے۔ تو وہ مجھے کہنے لگے، یہ جو تم اللہ کے بارے میں یہ سوچتے ہو نا، کہ بس یہ نہیں کرو گے تو وہ ہو جائے گا، یہ نہیں کرو گے تو یہ ہو جائے گا یہ نئی بات ہے۔ اللہ پاک بہت کریم ہے۔ تو یہ چیزیں جو ہے نا یہ اصل میں ذرا ملمع سازی شیطان نے کی ہوتی ہے، اس طرح سمجھایا ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ پاک کی صفات ساری کے ساری ہیں۔ ساری کے ساری صفات ہیں۔ وہ جیسے جبر و اختیار والی بات بہت چلتی تھی نا پہلے، کہ مجبور ہیں یا مختار ہیں۔ تو جو مجبور اپنے آپ کو کہتے تھے، تو اس نے جا کے کسی کے کھیت سے گنے چوسنا شروع کر دیے۔ مالک آگیا۔ مالک نے اس کو پکڑ لیا، اور اپنے خادم کو کہا بھئی اس کو پکڑو، اس کو پکڑ لیا۔ اس نے پوچھا تو نے کیوں میرے گنے چوسے؟ اس نے کہا تو بھی خدا کا، میں بھی خدا کا، کھیت بھی خدا کا، گنے بھی خدا کے۔ میں نے اگر خدا کے گنے کھا لیے تو اس میں تجھے کیا مسئلہ؟ اس نے کہا تو تو واقعی بڑا کامل آدمی ہے۔ تو پھر اس نے جو ہے نا اس کو باندھ لیا اور ڈنڈا منگوایا، اس کو مارنے لگا۔ تو چیخنے لگا، کہتا ہے کیوں چیختا ہے؟ تو بھی خدا کا، میں بھی خدا کا، ڈنڈا بھی خدا کا، رسی بھی خدا کا، تو پھر ڈنڈا خدا کا ڈنڈا تجھے مار رہا ہے تو تجھے کیوں چیختا ہے؟ جب اس کو زیادہ زور سے پڑی نا تو کہتا ہے، بس اختیار است، اختیار است، اختیار، اختیار ٹھیک ہے، مانتا ہوں، مانتا ہوں۔

                    تو اس قسم کی باتیں لوگ پہلے کرتے تھے۔

                    (یہ منکرین) بد نصیب اور بے عقل یہ نہیں جانتے کہ از روئے عقل "شکرِ منعم" ادا کرنا واجب ہے اور یہ تکلیفاتِ شرعیہ اس شکر کے بجا لانے کا بیان ہے۔ لہذا تکلیفِ (شرعی) عقل کی رو سے بھی واجب ہے۔ اسی طرح "نظام عالم" "تکلیفات شرعیہ" کے ساتھ وابستہ ہے، اگر ہر ایک کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا تو سوائے شرارت و فساد کے کچھ ظہور میں نہ آتا، اور ہر بو الہوس دوسرے کے جان و مال میں دست درازی کرتا اور خباثت و شرارت سے پیش آتا، اس طرح خود بھی ضائع ہوتا اور دوسروں کو ضائع کرتا۔ عَیَاذًا بِاللّٰہِ سُبْحَانَہٗ اگر سختی اور شرعی موانع حائل نہ ہوتے تو معلوم نہیں کہ کس قدر شرارت و فساد ظاہر ہوتا۔ ﴿وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَّا أُوْلِي الْأَلْبَابِ﴾ (البقرۃ: 179) ترجمہ: ”اور اے عقل رکھنے والو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی (کا سامان ہے)“

                    اگر چوبِ حاکم نبا شد زپے

                    کند زنگئے مست در کعبہ قے

                    ترجمہ:

                    اگر چوب حاکم کا ہوتا نہ خوف

                    شرابی تو کعبے میں کر دیتا قے

                    یا ہم یہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ زمین و آسمان اور ہر چیز کا خود مختار مالک ہے اور (تمام) بندے اس سبحانہٗ کے مملوک اور غلام ہیں، لہذا جو حکم و تصرف وہ ان میں فرماتا ہے وہ عین خیر و اصلاح ہے اور ظلم و فساد کی آمیزش سے منزہ و مبرا ہے۔ ﴿لَا يُسۡـَلُ عَمَّا يَفۡعَلُ﴾ (الأنبیاء: 23) ترجمہ: ”وہ جو کچھ کرتا ہے اس کا کسی کو جواب دہ نہیں ہے“۔

                    کرا زہرۂ آنکہ از بیم تو

                    کشاید زباں جزبہ تسلیم تو

                    ترجمہ:

                    ترے خوف سے کس کو ہے حوصلہ

                    کہ تسلیم سے ہٹ کے کھولے زباں

                    اگر وہ سب کو دوزخ میں ڈال دے اور دائمی عذاب کا حکم فرمائے تو کسی کو اعتراض کی کیا مجال ہے؟ اور یہ غیر کی ملک میں تصرف نہیں ہے کہ اس میں ظلم و ستم کا شائبہ ہو، بر خلاف ہماری املاک کے جو فی الحقیقت اسی سبحانہٗ کی املاک ہیں۔ ان املاک میں تمام تصرفات (سوائے ان کو جو جائز ہیں) عین ستم ہیں۔ کیونکہ صاحب شرع نے بعض مصالح کی بنا پر ان املاک کی نسبت ہماری طرف کر دی ہے لیکن حقیقت میں وہ سب اسی سبحانہٗ کی ملکیت ہیں۔ لہذا ان میں ہمارا تصرف اسی قدر جائز ہے جس قدر مالک علی الاطلاق (بالکلیہ مالک حق تعالیٰ) نے اس میں تصرف کی اجازت دی اور مباح فرمایا۔

                    دیکھیں ایک بات یاد رکھیے، اللہ جل شانہ نے نظامِ دنیا کو صحیح طور پہ چلانے کے لیے کچھ قوانین ایسے بنائے ہیں جو ہمارے حقوق و فرائض کا تعین کرتے ہیں۔ ان حقوق و فرائض کے تعین میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ واقعی ہماری ہی خیر ہے۔ جیسے ٹریفک کے قوانین ہیں۔ اگر ٹریفک کے قوانین پر کوئی عمل نہ کرے، تو نقصان سب کو ہوتا ہے۔ تو سب لوگ مانتے ہیں کہ واقعی ٹریفک کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے، ورنہ نہیں کریں گے تو نقصان ہوگا۔ تو اسی طریقے سے اللہ پاک نے جو قوانین ہمارے درمیان یعنی ایک نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے ہیں، اس کو تو ہم جانتے ہیں کہ اس میں تو واقعی ہمارا فائدہ ہے۔ اب صرف اس کی بات رہ جاتی ہے کہ اللہ پاک نے وہ جو قوانین اپنے اور ہمارے درمیان بنائے ہیں، یعنی گویا کہ حقوق اللہ جس کو ہم کہتے ہیں۔ اس میں کیا ہے؟ تو اس میں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔

                    دیکھیے جس وقت ہم کسی کی نوکری کرتے ہیں۔ کسی کی نوکری کرتے ہیں۔ تو جب ہم نوکری کرتے ہیں تو ہمارا ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ کہ ہم ان کے بتائے ہوئے کام کو کریں گے، اور وہ ہمیں تنخواہ دیں گے۔ اچھا وہ کام چاہے نرم ہے، سخت ہے، وہ ہمارا آپس میں معاہدہ ہوتا ہے، ایک قسم کا۔ اس کے مطابق ہم کام کرتے ہیں، اور اس کے مطابق وہ ہمیں تنخواہ دیتا ہے۔ اب وہ جو کام ہم کر رہے ہیں تو کیا اس کے اوپر احسان ہے؟ اگر وہ ہمیں دیتا ہے، تنخواہ، تو کیا اس کے اوپر ہمارا احسان ہے کہ ہم کہیں گے بھئی ہم اپ کے لیے یہ کام کر رہے ہیں، وہ کہے گا میں تمہیں اس کی تنخواہ دے رہا ہوں۔ تو کون سا اس کے اندر مطلب ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے؟ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ ہم سے جو کام لے رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ ہمیں اجر دے رہے ہیں۔ اور وہ اجر ادھر Cash ہوگا۔ باقاعدہ Cash ہوگا۔ یعنی وہ باقاعدہ آپ کو وہاں پر ملے گا۔ اور اگر نہیں کریں گے تو پھر ظاہر ہے مطلب کہ اس کی سزا بھی ہے۔ سزا اس لیے ہے کہ ہم لوگ خود نہیں بنے، اس نے ہمیں بنایا ہے۔

                    خود بنے ہوتے تو پھر بات اور ہو سکتی تھی، لیکن خود تو بنے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنایا، تو جب اللہ پاک نے ہمیں بنایا ہے، تو اس کے طور پر ہمارے اوپر کچھ کام رکھے ہوئے ہیں۔ اب اگر وہ نہیں کرتے اب اگر اس سے ہم بچنا چاہتے ہیں، تو تھوڑی سی محنت کے ذریعے سے ہم وہ اجر بھی لے لیں گے اور اس چیز سے بھی بچ جائیں گے۔ گویا کہ ہمیں ایک چیز کے اجر میں دو چیزیں ملتی ہیں۔ ایک تکلیف سے بچت ہے، اور دوسرا اس کا فائدہ بھی ہے۔ نوکری میں اور غلامی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ نوکری غلامی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ نوکری غلامی میں یہی فرق ہوتا ہے، نوکر ایک خاص وقت، خاص Condition پر نوکر اکٹھا ہے۔ وہ اپ کا مملوک نہیں ہوتا۔ وہ صرف اس کا Time آپ کا Time ہوتا ہے۔ جبکہ غلام مملوک ہوتا ہے۔ اس کا جسم بھی مالک کا ہوتا ہے۔ یعنی ظاہر ہے مطلب وہ اس میں تصرف کر سکتا ہے گویا کہ وہ کام کر سکتا ہے۔ اور بندہ غلام سے بھی نیچے ہے۔

                    غلاموں کے حقوق ہیں، بندوں کے نہیں ہیں۔ تو بندہ تو غلاموں سے بھی نیچے ہے۔ تو اب جب یہ والی کیونکہ ہم نے غلام کو ہم نے بنایا نہیں ہوتا۔ غلام کو ہم نے خریدا ہوتا ہے۔ تو اس کے ساتھ بھی پیسے وابستہ ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب ہمارا ان کے اوپر اتنا ہی حق چل سکتا ہے نا۔ لیکن یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ہم لوگ یعنی وہ اس لیے بھاگ نہیں سکتے کہ اس نے پیسے اس کے لیے دیے ہوئے ہیں۔ تو وہ بیچ تو سکتا ہے یعنی لیکن یہ بات ہے کہ وہ بھاگ نہیں سکتا۔

                    وہ خدمت کرے گا اس کے پیسوں کے عوض میں، پیسے مت کرے گا، جس کو ہم Investment کہتے ہیں۔ لیکن جو بندہ ہے، وہ بندہ تو بنایا گیا ہے۔ ابتداء سے بنایا گیا ہے۔ جب ابتداء سے بنایا گیا ہے تو وہ بنانے والے کا جو بھی چیز آپ بناتے ہیں، اپنے استعمال کے لئے اس کا کوئی استعمال کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ اس چیز کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ انکار کرے؟ وہ نہیں کرتا۔ اگر اگر مثال کے طور پر وہ کام وہ نہیں کرتا تو اس کو توڑ دیا جاتا ہے۔ تو یہی والی بات ہے کہ جو ہم اللہ تعالیٰ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بنایا ہوا ہے، لہٰذا ہم پر اللہ پاک کا حق ہے۔ اور اس حق کے لئے جس کو ہم حقوق اللہ کہتے ہیں اور اس حق کے لئے ہمیں کام کرنا ہوگا۔ اور کام نہیں کرتے، تو پھر سزا ہے۔ اور اگر کام کرتے ہیں تو نہ صرف سزا ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس کے اوپر اجر بھی ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اجر نہ ہوتا۔ اجر نہ ہوتا۔ اچھا، کمال کی بات ہے کہ سزا بھی کم اور اجر زیادہ۔ آپ کے گناہ جو ہوتے ہیں، تو ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔ اور آپ کی نیکی دس گنا لکھی جاتی ہے، کم از کم۔ تو آپ کو یہ Advantage بھی ہے۔ اور یہ سب سے بڑا Advantage ہے، جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ آپ نے جتنی غلطیاں کی ہیں، توبہ کر لیا تو سارا معاف۔ اللہ کا حق جو ہے۔ توبہ کیا تو سارا معاف۔ پھر آپ سے پوچھا ہی نہیں جائے گا۔ تو توبہ کرنا کتنا مشکل کام ہے؟

                    تو یہ اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں، تو عقلی طور پر یہ جو حقوق اللہ ہے، اور حقوق العباد، اس کے نظام کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ باتیں ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ اور جب اللہ نے بنایا ہے، تو ہم اللہ پاک کے حکم کے پابند ہیں۔ ہمیں جو اللہ پاک نے بتایا، بلکہ اگر اللہ پاک حکم نہ بھی دیتا، اس کا تو اگر ہم لوگ صحیح ہوتے، مزاج کے لحاظ سے سمجھدار ہوتے، تو ہمیں خود تلاش ہوتی کہ ہمارے آقا کا ہمارے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور ہمیں اس کی تلاش کرنی پڑتی۔ لیکن اللہ پاک نے فضل فرمایا، بغیر اس کے، انبیاء علیہم السلام بھیج کر اور کتابیں بھیج کر ہمیں بتا دیا کہ ہمارے آقا کا ہمارے بارے میں کیا حکم ہے۔ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہ کرے۔ یہ ساری بات چل رہی ہے۔ کیونکہ ان بزرگواروں (یعنی انبیاء) علیہم الصلوات و التسلیمات نے حق جل و علا کے احکام کے بارے میں خبریں دی ہیں اور جو احکام بیان فرمائے ہیں وہ سب سچے اور واقعہ کے مطابق ہیں۔ (علماء نے) احکامِ اجتہادیہ میں ان بزرگوار (پیغمبران) علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات سے اگرچہ خطا کو تجویز کیا ہے لیکن خطا کے بر قرار رکھنے کو ان کے حق میں جائز نہیں رکھا اور فرمایا ہے کہ ان کو ان کی خطا پر جلدی متنبہ کر دیتے ہیں اور ان کی خطا کا تدارک صواب سے کر دیتے ہیں فَلاَ اعْتَدَادَ بِذَلِکَ الخَطَإِ (لہذا یہ خطا کسی گنتی میں نہیں ہے)

                    ہے۔

                    عقیدہ (13) اور قبر کا عذاب خاص طور پر کافروں کے لئے اور بعض گنہگار اہل ایمان کے لئے "حق" ہے کیونکہ مخبر صادق علیہ و علی آلہ الصلوات و التسلیمات نے اس کی خبر دی ہے۔

                    قبر کے عذاب سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں قبر کے عذاب سے انکار کرتے ہیں۔

                    عقیدہ (14) اور قبر میں مومنوں اور کافروں سے منکر نکیر کا سوال بھی "حق" ہے۔ کیونکہ دنیا اور آخرت کے درمیان "قبر" ایک بزرخ ہے۔ اس کا عذاب بھی ایک وجہ سے دنیاوی عذاب سے مناسبت رکھتا ہے اور انقطاع پذیر (ختم ہونے والا) ہے اور دوسری وجہ سے اس کو عذاب اخروی کے ساتھ مناسبت ہے کیونکہ وہ حقیقت میں آخرت کے عذابوں میں سے ہے۔

                    کیونکہ دنیا تو ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے تو اس کو برزخ کہتے ہیں نا کہ اس کی ایک سائیڈ پر دنیا، ایک سائیڈ پر آخرت ہے۔

                    آیت کریمہ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًا وَعَشِيًا(مومن: 46) یہ بہت زبردست مستدل اس کا وہ جو فرعونیوں کے لیے (وہ صبح و شام آگ (دوزخ) پر پیش کئے جاتے ہیں) نَزَلَتْ في عذابِ القَبْرِ، (یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے) ـــ اور اسی طرح قبر کی راحت بھی دو حیثیتیں رکھتی ہے وہ شخص بہت ہی سعادت مند ہے جس کی لغزشوں اور گناہوں کو کمالِ کرم اور مہربانی سے معاف فرما دیں اور ہرگز اس سے مواخذہ نہ کریں اور اگر مقام مواخذہ میں آجائے تو بھی اپنی کمال رحمت سے دنیاوی آلام و مصائب کی تکالیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ قرار دیدیں۔ اور اگر کچھ باقی رہ جائے تو قبر کی تنگی اور ان تکلیفوں کو جو اس مقام میں مقرر ہیں ان سے کفارہ کر دیں تاکہ پاک و پاکیزہ ہو کر حشر میں مبعوث ہو۔ اور جس کسی کے لئے ایسا نہ کریں اور اس کا مواخذہ آخرت پر چھوڑ دیں تو یہ بھی عین عدل ہے۔ لیکن گنہگاروں اور شرمساروں کے حال پر افسوس ہے ـــ ہاں اگر وہ (گنہگار) اہل اسلام سے ہے تو اس کا انجام رحمت سے ہے اور وہ عذاب ابدی سے محفوظ ہے، یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ رَبَّنَا اَتْمَمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرلَنَا اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیءِِ قَدِیر۔ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ المُرسَلِینَ عَلَیہِ وعَلیٰ اٰلِہِ وعَلَیھِم الصَّلوَاتُ والتَّسْلِیمَاتُ

                    عقیدہ (15) روز قیامت "حق" ہے۔ اس روز اسمان، ستارے، زمین، پہاڑ، سمندر، حیوان، نباتات اور معدنیات سب کے سب معدوم و ناچیز ہو جائیں گے، آسمان شق ہو جائیں گے اور ستارے منتشر ہو کر گر جائیں گے، اور زمین و پہاڑ پراگندہ ذرات ہو جائیں گے۔ یہ تمام توڑ پھوڑ اور فنا کا تعلق نفحہ اولیٰ سے ہے ـــ اور نفخہ ثانیہ (دوسرے صور) پر لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کی طرف روانہ ہوں گے ـــ اور فلاسفہ (یعنی حکماء یونان وغیرہ) آسمانوں، ستاروں کے نیست و نابود ہونے کو نہیں مانتے اور ان کا فانی اور فاسد ہونا جائز نہیں سمجھتے، وہ ان کو ازلی اور ابدی کہتے ہیں ـــ اور اس امر کے باوجود ان میں سے متاخرین اپنی بے وقوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو زمرہ اہل اسلام میں شمار کرتے ہیں اور اسلام کے بعض احکام بھی بجا لانے کا دعوی کرتے ہیں ـــ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اہل اسلام ان کی ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور جرات و دلیری کے ساتھ ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ بعض مسلمان ان لوگوں میں سے بعض کے اسلام کو کامل جانتے ہیں، اور اگر کوئی ان پر طعن و تشنیع کرے تو اس کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ نصوص قطعی کے منکر ہیں اور انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے اجماع کا انکار کرتے ہیں۔

                    اصل میں یہ جو وسعتِ نظری ہے، اس کو بھی Define کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی Limitless نہیں ہے، جس کو کہتے ہیں نا حدود کے بغیر نہیں ہے، اس کی اپنی حدود ہیں۔

                    وسعت نظری میں آپ کو کیا بتاؤں؟ میرے پاس اپنے دفتر میں تین PhD جن میں ایک میرا استاد بلکہ دو استاد تھے، دو استاد تھے۔ دو استاد تھے اور ایک استاد نہیں تھا۔ تین PhD وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ مجھے گھیر لیا۔ مجھے کہتے ہیں شبیر صاحب! Einstein کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

                    ایک Chemistry کا تھا دو Physics کے تھے۔ تو میں نے کہا کہ میں ان کو کیا کہوں؟ میں نے کہا بھئی Einstein وہ تو بہت بڑا Scientist گزرا ہے۔ اور بڑا نام کمایا اور بڑی Science کی خدمت کی اور بہت مشہور ہو گیا Science کے ذریعے سے۔ بس یہی میں کہہ سکتا تھا اور کیا کہتا؟

                    تو ان میں سے کہتے ہیں نہیں نہیں یہ بتاؤ کہ وہ جنت جائے گا یا نہیں جائے گا؟

                    میں نے کہا بھئی جنت، میں تو کسی کو نہیں لے جاتا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ جس کے لیے اللہ پاک حکم کرے تو وہی جائے گا۔ کوئی اللہ کے حکم کے بغیر تو نہیں جا سکتا۔

                    کہتے ہیں نہیں، کیا خیال ہے آپ کا کہ وہ جنت میں جانے کا مستحق ہے؟

                    میں نے کہا اگر مسلمان تھا تو پھر تو ہو سکتا ہے، کیونکہ مسلمان چاہے کتنے گناہ گار ہو، بالآخر جنت میں جائے گا۔ اور اگر مسلمان نہیں تھا، کہتے ہیں نہیں کہاں پر لکھا ہوا ہے کہ مسلمان ہونا ضروری ہے جنت میں جانے کے لیے؟

                    تو میں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قُولُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کہو تو فلاح پاؤ گے۔ تو میں نے کہا اس کے بغیر تو کوئی نہیں جا سکتا۔

                    کہتے ہیں وہ حدیث شریف کیا ہوگا جو قرآن سے ٹکرائے؟ وہ تو قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ مطلب یہ تو دلیل لاؤ۔

                    میں نے کہا بھئی آپ ﷺ کی بات دلیل ہے نا۔ تو کہتے ہیں اگر حدیث قرآن سے ٹکرائے گی، تو پھر بھی آپ مانیں گے؟ میں نے کہا: کون کہے گا قرآن سے ٹکرائے گی؟ کہنے والا کون ہے؟

                    پھر میں ذرا کھل کے آگیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے ساری عمریں Neutron, Proton کی دریافت میں گزاری ہیں۔ آج اگر کوئی مولوی ممبر پہ بیٹھ کر Neutron, Proton کے بارے میں بات کرے تو آپ ان کو بات کرنے دیں گے؟ کہ یہ بات ان کی صحیح ہے یا غلط ہے؟ آپ کہیں گے اس کو تو علم ہی نہیں اس نے حاصل ہی نہیں کیا تو یہ کیا بات کر سکتا ہے۔

                    تو میں نے کہا یہ حدیث کا قرآن سے ٹکرانے کے بارے میں بخاری بتائے گا، ترمذی بتائے گا، ابو داؤد بتائے گا، یہ ان کا کام ہے۔ یہ ہمارا اور آپ کا کام نہیں ہے۔ ہم تو Neutron, Proton کی خدمت کر رہے ہیں۔ تو اس کے بارے میں ہم سے سن لیں۔ باقی یہ باتیں تو محدثین کا کام ہے کہ کون سا حدیث شریف قرآن سے ٹکرا رہا ہے کون سا نہیں ٹکرا رہا۔ یہ فیصلے وہ کریں گے۔

                    تو مجھے جو اصل بات کی طرف آ رہا ہوں۔ تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا، شبیر صاحب تھوڑا سا ذہن کو کھلا رکھیں۔ تھوڑا سا ذہن کو کھلا رکھیں۔

                    میں نے کہا سر! اتنی تنگ نظری رہنے دیں تاکہ میں مسلمان اور کافر میں فرق کر سکوں۔ اس سے زیادہ اس کو کھلا نہ کریں۔ میرے لیے خطرہ ہے۔ بس اتنا کافی ہے کہ مسلمان اور کافر کے اندر کم از کم فرق کر سکوں۔ یہ اتنی وسعت نظری مجھے نہیں چاہیے۔

                    بس یہی اصل بات ہے۔ وسعت نظری کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے نفس کو شامل نہ کروں۔ وہ وسعت نظری جس میں میرا نفس نہ شامل ہو، میں کسی کے ساتھ نفس کی وجہ سے مخالفت نہ کروں۔ بلکہ میں اللہ کے حکم کی وجہ سے اگر کسی کے ساتھ اختلاف کروں تو وہ تو اختلاف تو ضروری ہے، حق ہے۔ وہ تو لازم ہے۔ لیکن اگر میں اللہ کے لیے اس کو کرتا ہوں، اور اللہ پاک کے قانون کے مطابق کروں، اور میرا نفس اس میں شامل نہ ہو۔ پھر وہ وسعت نظری ہے لیکن اگر ایسا نہیں میرا نفس آ گیا تو وہ تنگ نظری ہے۔

                    پس بنیادی مسئلہ کس میں؟ کہ میں اختلاف کس بنیاد پہ کر رہا ہوں؟ نفس کی بنیاد پہ کر رہا ہوں تو تنگ نظری۔ نفس کی بنیاد پہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ مخبر صادق ﷺ کے کہنے کے مطابق کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کر رہا ہوں، قرآن کے مطابق کر رہا ہوں، وہ تنگ نظری نہیں ہے۔ اس کے لیے بہت بڑی مستند بات اللہ پاک کی طرف سے آئی ہے: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ۝ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ۝ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ۝ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ ۝ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ۝ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ۔ اس پر بات ختم ہو گئی۔ limit ہے۔ کافر کو کافر کہنا ضروری ہے۔ یہ وسعت نظری نہیں ہے کہ کافر کو کافر نہ کہا جائے۔ ہاں، مسلمان کو کافر نہ کہا جائے۔ مسلمان کو کافر نہ کہا جائے۔ کافر کو تو کافر کہنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ تو ظاہر ہے بنیاد ہے، اساس ہے کہ کفر اور اسلام کے درمیان میں فرق تو ہوگا۔

                    تو اصل میں یہی والی بات ہے کہ لوگ ان باتوں میں لوگوں کو لے جاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ تنگ نظری ہے۔ اور یہ اس کی وسعت نظر ہے۔ یہ غامدی اسی قسم کا وسیع نظری چاہتا ہے نا، وسعت نظری چاہتا ہے۔ وہ یہی کہتا ہے یعنی میں آپ کو خود بتاتا ہوں، یعنی میرے سامنے یہ بات ہے کہ وہاں حرم شریف میں ہمیں ایک صاحب مل گئے Russia کے۔ Russia کے علاقے سے آئے تھے آپ نے دیکھا تھا ان کو؟ وہ مطلب مسلمان تھے وہ جو ہے نا آئے تو اور اس کے، اس نے پھر ہماری دعوت بھی کی تھی، تاتارستان کی طرف سے آئے ہوئے تھے۔

                    تو انہوں نے مجھے یہ بتایا، مجھ سے کہا کہ میری بیوی۔۔۔ بیوی تو نہیں تھی نکاح نہیں کیا تھا وہ Christian کے ساتھ رہ رہے تھے اور بیس پچیس سال، اس سے بچے بھی تھے۔ تو کیا یہ ٹھیک ہے؟

                    میں نے کہا کیسے ٹھیک ہے؟ تو اس نے کہا میں کیا کروں؟ میں نے کہا جاکر فوراً نکاح کر لو۔ اگرچہ اس میں مسائل ہیں لیکن تیرے لیے تو فوراً نکاح ضروری ہے، کیونکہ ٹھیک ہے عیسائی تو ہے نا۔ نکاح آپ کا کسی نہ کسی درجے میں ہو جائے گا۔ لیکن یہ بغیر نکاح کے رہنا تو سخت مخالفت ہے۔

                    کہتے ہیں میں نے غامدی سے پوچھا تھا اس نے تو کہا کوئی بات نہیں۔ کہتے ہیں وہ میرا دوست ہے۔ اس کے لیے وہ موسیقی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس کے لیے نکاح بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں، اس کے لیے پتہ نہیں دین، اسلام کس کو کہتے ہیں پھر اس کے نزدیک؟ وہ کیا ہے؟ مجھے تو نہیں معلوم کہ وہ اسلام کس کو کہتا ہے وہ۔ تو یہ، یہ والی بات ہے کہ یہ اس قسم کے لوگ آج کل ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ دعا کر لیتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کے ایمانوں کی حفاظت فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

                    عقائدِ اہلسنت: رویتِ باری تعالیٰ، بعثتِ انبیاء اور تزکیہ نفس کی حقیقت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ