دین کی حفاظت میں مجددین کا کردار اور مرشدِ کامل کی علامات

سورۃ السمش: 7 تا 10، سورۃ ق: 37 اور سورۃ آل عمران: 190 تا 191

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد الکریم صادق آباد - گلی نمبر 5، صادق آباد، راولپنڈی
  • دینِ اسلام کی حفاظت کا ربانی نظام (محدثین، فقہاء، صوفیاء، اور مجددین کی خدمات)۔
  • برصغیر میں مجددین کی خدمات (مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہؒ، سید احمد شہیدؒ، اور مولانا اشرف علی تھانویؒ)۔
  • خانقاہی نظام کی افادیت اور مستند کتب (مثنوی مولانا روم، مکتوبات ربانی، الطاف القدس) کے اسباق۔
  • انسان کے تین بنیادی لطائف کا تعارف: قلب (روحانی دل)، عقل، اور نفس۔
  • نفسِ امارہ کی حقیقت اور اس کی اصلاح (تزکیہ نفس) کی اہمیت۔
  • دنیاوی عقل اور 'لُب' (Guided Intellect) میں فرق، اور ذکر و فکر کے اثرات۔
  • روحانی ترقی میں نفس کو قابو کرنے اور 'روح' و 'سِر' کے درجات تک پہنچنے کا بیان۔
  • آج کے دور کے فتنوں سے بچنے کے لیے کسی شیخِ کامل سے تعلق کی ضرورت اور اس کی آٹھ (8) علامات۔

«الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ۝ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ۝ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۝ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّٰهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۝ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، وَمَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا ذِكْرَ اللّٰهِ وَمَا وَالَاهُ، وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ. صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.»

بزرگو اور دوستو! چند باتیں ایسی ہیں اگر سمجھ میں آ جائیں، تو انسان اس دنیا میں جو وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے، بہت اچھی طرح گزار سکتا ہے۔ دنیا میں بھی اس کو فائدہ ملے گا اور آخرت میں بھی کامیاب ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

دین وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ جس کے بارے میں آیا: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا»، تو دین تو وہی ہے۔ دین میں کوئی فرق نہیں آ سکتا، کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ البتہ دو چیزیں ہیں جو چلتی رہتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دین میں لوگ اپنی طرف سے باتیں شامل کر لیتے ہیں۔ عوام اپنی آسانی کو دیکھتے ہیں، اپنی خواہشاتِ نفس کو دیکھتے ہیں، اور بعض علماء ان کی رعایت کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ جو اصل بات ہے وہ پیچھے ہو جاتی ہے اور دوسری باتیں آگے آ جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ چونکہ اللہ جل شانہ ہدایت کے نظام کا محافظ ہے، ہدایت کا نظام اللہ پاک خود چلوا رہے ہیں، لہٰذا اللہ پاک نے ہر ہر شعبے کے لیے لوگ پیدا فرما دیے۔ جو اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔

مثلاً محدثین کو پیدا فرمایا، جنہوں نے حدیث جمع کی، احادیثِ شریفہ، اور اس میں بڑے تشدد سے ان تمام چیزوں کو نکال دیا جو غلط چیزیں اس میں آ سکتی تھیں۔ فقہاء کرام نے احادیثِ شریفہ سے اور قرآنِ پاک سے جن باتوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف تھا، ان میں جو باتیں ان کے اوپر اللہ پاک نے کھول دیں، وہ سب کو جمع کیا، اس کو فقہ کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد چونکہ فقہ جو ہے وہ عمل ہے، عمل کے لیے علم ہے۔ فقہ کیا ہے؟ عمل کے لیے علم ہے۔ تو عمل اگر اس پہ نہ کیا جائے گا تو فقہ اپنی کتابوں میں رہ جائے گی۔ معلوم تو ہوگا، موجود تو ہوگا، لیکن جب اس پہ عمل نہیں ہوگا تو اس سے انسان استفادہ نہیں کر سکے گا۔ تو اس کے لیے اللہ جل شانہ نے صوفیائے کرام کو پیدا فرمایا۔

صوفیائے کرام وہ موانع جو ہیں، جو عمل کے لیے موانع ہوتے ہیں، رکاوٹیں ہوتی ہیں، ان کو دور کرنے کی تدبیریں بتاتے ہیں۔ عمل پہ لانے کے لیے وہ کوششیں کرتے ہیں۔ تو انہوں نے اپنے اپنے زمانے میں، اپنے اپنے دور میں جو مناسب سمجھا، وہ لوگوں تک پہنچا دیا تاکہ لوگ اس عظیم دین پر جو اللہ پاک کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہے، اس پر عمل کر سکیں۔

پھر جیسے میں نے عرض کیا کہ لوگوں نے اپنی طرف سے باتیں شامل کی ہوتی ہیں، اس کے لیے اللہ پاک نے ایک اور سلسلہ جاری فرمایا، اور وہ سلسلہ مجددین کا ہے۔ ہر سو سال میں ایک شخص کو اللہ تعالیٰ چن لیتے ہیں۔ جو دین کے اوپر جو غبار آ چکا ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ، اس غبار کو ہٹا دیتے ہیں، اور دین کو حقیقی صورت میں دوبارہ نمایاں کر لیتے ہیں، اور لوگوں کو حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔ یہ مجددین ما شاء اللہ بڑے اونچے لوگ ہوتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے فوراً بعد اس کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ پہلے مجدد تھے۔ اس طرح شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی مجدد تھے۔ اور یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا، چلا آ رہا تھا، پھر یہ تقریباً چار سو سال پہلے ہندوستان میں داخل ہو گیا۔

اور مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ پہلے مجدد تھے جو ہندوستان سے ہوئے۔ اگر آپ ذرا غور فرما لیں، تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں اتنا زیادہ افراط و تفریط آ گیا تھا کہ دین تقریباً رخصت ہونے والا تھا۔ ایسی عجیب عجیب چیزیں لوگوں نے دین میں شامل کی تھیں، اور اس طریقے سے لوگوں نے وہ ان کی interpretation کی تھی، کہ ان کو، حضرت کو بہت زیادہ محنت کرنی پڑی۔ اور دینِ الٰہی تک بن گیا تھا، جس میں باقاعدہ کلمہ بن گیا تھا، اس کے خلاف حضرت نے کام شروع کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ حضرت کی زندگی میں ہی اس کی بیخ کنی کے اسباب بن گئے۔ اور پھر اکبر کے دور کے بعد، حضرت نے ما شاء اللہ جہانگیر پہ محنت کی، پھر ما شاء اللہ اور زیادہ صفائی آ گئی، شاہجہان تو باقاعدہ بیعت ہوا، اور اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ معصوم رحمۃ اللہ علیہ کے خاص الخاص آدمی تھے، اور یہ مطلب اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا کہ جس تخت پر بیٹھ کر اکبر کہتا تھا، فقہاء کو صفا کہتا تھا، اسی تخت پر فقہاء کو اپنے ساتھ بٹھا کر فتاویٰ عالمگیری لکھوا دیا۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔

اس کے بعد پھر حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ بھی ہند میں ہی تشریف لائے۔ اور جنہوں نے اپنے دور کے لحاظ سے جو ضروری باتیں تھیں وہ لوگوں تک پہنچا دیں۔ مثلاً قرآن کا ترجمہ بھی حضرت نے شروع کروایا تھا۔ احادیثِ شریفہ کی جو خدمت تھی ہندوستان میں بنیادی طور پر حضرت سے اللہ تعالیٰ نے لی۔ اس وجہ سے جتنے بھی احادیثِ شریفہ کے جو شیخ الحدیث ہیں، ان کی سب سندوں میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی سند ہوتی ہے۔ اور کچھ اور باتیں بھی حضرت نے بہت وضاحت کے ساتھ کی ہیں، جو حضرت کی کتابیں ہیں، موجود ہیں الحمد للہ، ان میں الحمد للہ بہت علم چھپا ہوا ہے۔

پھر سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔ انہوں نے الحمد للہ دو باتیں جو یہاں ختم ہوئی تھیں، ان کو زندہ کرا دیا۔ حج کو اور جہاد کو۔ اور پھر اس کے بعد حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔ حضرت کی، عمر اب جو اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی، ہزار سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ ہزار سے زیادہ کتابیں لکھیں اور ہر فن پہ تقریباً کتاب حضرت کی آ گئی۔ اللہ جل شانہ نے حضرت سے بہت کام لے لیا۔

یہ باتیں میں کیوں کر رہا ہوں؟ اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ یہ حضرات محنت جب کرتے ہیں تو دو طرح محنت ہوتی ہے۔ ایک یہ ہوتی ہے کہ اس وقت کے حالات کے مناسب جو اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے وہ حضرات کر لیتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ جو ان کی تحقیقات ہوتی ہیں وہ کتابوں میں آ جاتی ہیں۔ جیسے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے 'مکتوبات شریف'۔ ما شاء اللہ بہت علوم اس میں چھپے ہوئے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں ہیں، 'حجۃ اللہ البالغہ' ہے، 'الطاف القدس' ہے، 'ہمَعات' ہے، 'لمَعات' ہے، اور اس طرح 'سراج السالکین' ہے، یہ ما شاء اللہ بہت کتابیں حضرت کی ہیں۔ میں دوسروں کو کچھ نہیں کہتا، میں خود اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ میں ان چیزوں سے ناواقف تھا۔ نام سنے تھے۔ نام سنے تھے لیکن ناواقف تھا۔ دیکھے کبھی نہیں تھے۔ اور دیکھے کیوں نہیں تھے؟ یہ مشکل ہے۔ مشہور ہے، یہ مشکل ہے۔ مشکل ہونے کی وجہ سے چونکہ طلب میں کمی، نتیجتاً تھوڑا سا مشکل کے بارے میں لوگوں نے کہہ دیا تو بس ہم نے چھوڑ دیا۔ ایسا ہے۔ اب ان حضرات سے جو اللہ نے کام لیا، اگر یہ کتابوں میں ہی رہ جائے، تو کیا امت کو اس سے فائدہ ہوگا پھر؟ وہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔

الحمد للہ اللہ کا احسان ہے۔ اللہ جل شانہ نے اپنے فضل سے، ہم تو سمجھ بھی نہیں سکتے کہ کیسے ہوا، اللہ پاک نے اپنے کرم سے چار سلسلے ہماری خانقاہ میں جاری فرما دیے۔

ہفتے کے دن مثنوی مولانا روم، مثنوی شریف۔ یہ وہ کتاب ہے جس کو حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ نے:

ہست قرآن در زبان پہلوی مثنویِ معنویِ مولوی

یہ حضرت نے فرمایا تھا اور واقعی اس کے اندر ایسے عجیب مضامین ہیں اشعار کے اندر، کہ آدمی حیران، چھ ہزار اشعار ہیں۔ جس کے اندر حضرت نے بہت کچھ سمویا ہوا ہے۔ اللہ پاک نے حادثاتی طور پر ہماری خانقاہ میں اس کو شروع کرا دیا۔ اور تقریباً میرے خیال میں سات آٹھ سال ہو گئے چل رہا ہے۔ ہر ہفتے ما شاء اللہ اس کا درس ہوتا ہے۔

پھر حضرت نے، حضرت کے وہ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے 'مکتوبات شریف' کا سلسلہ شروع کرا دیا۔ بلکہ اس سے پہلے، بلکہ مثنوی مولانا روم سے بھی پہلے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی جو جلد 'انفاسِ عیسیٰ'، اس کا درس اللہ پاک نے شروع کرا دیا، اور وہ بارہ سال تک چلتا رہا الحمد للہ۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ کبھی میرے پاس دو آدمی بیٹھے ہوتے تھے، کبھی ایک آدمی بیٹھا ہوتا تھا۔ یہ دور ایسا تھا۔ کبھی دو آدمی بیٹھے ہوتے، کبھی ایک آدمی بیٹھا، لیکن میں تو ہر وقت موجود ہوتا تھا نا الحمد للہ، میں بڑا شاگرد، میں اس کا دائم شاگرد تھا۔ تو بہرحال تقریباً بارہ سال میں پورا ہو گیا۔

جس وقت وہ پورا ہو گیا تو اللہ کا شکر ہے کہ ایک صاحب کو زیارت ہوئی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی۔ اور حضرت نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اس کا PowerPoint بنا دیں۔ PowerPoint جانتے ہیں آپ لوگ؟ یہ ایک software ہے، جس کے ذریعے سے slides بنتی ہیں اور slide کے پیچھے آواز ہوتی ہے۔ تو ایسے جیسے کہ آپ multimedia پر دکھاتے ہیں، تو slide آتی ہے اور ساتھ ساتھ آواز بھی آتی ہے اس کو سمجھانے کے لیے۔ تو یہ انسان جیسے کلاس میں بیٹھا ہوتا ہے، اس قسم کی صورتحال بن جاتی ہے۔ تو فرمایا اس کا PowerPoint بنا دیں اور اس کو تقسیم کریں تاکہ مختلف علاقوں میں اس کی تعلیم شروع ہو جائے۔ الحمد للہ۔ اللہ کا شکر ہے جب اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوتا ہے، اللہ پاک اسباب بھی بنا لیتے ہیں۔ تو الحمد للہ اللہ پاک نے اسباب بنا دیے، ساتھیوں نے محنت کی، PowerPoint بن گیا، اور اب ما شاء اللہ اس کے مطابق تعلیم شروع ہے مختلف جگہوں پہ۔ اللہ کا شکر ہے، آپ لوگ بھی شروع کر سکتے ہیں، کوئی ہمت کرے۔ شروع کر سکتے ہیں۔

ایک تو یہ بات ہو گئی۔ پھر اس کے بعد یہ مثنوی شریف کا درس شروع ہو گیا ہے۔ پھر اس کے بعد مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، 'مکتوبات شریف'۔ میرے دل میں بھی یہی بات تھی کہ یہ تو کافی مشکل ہے، میں کیسے اس کو کروں گا؟ لیکن الحمد للہ جب شروع کر دیا، اللہ تعالیٰ نے آسان کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ الحمد للہ اس پہ کتاب ہماری آ گئی 'حقیقتِ جذب و سلوک' اور الحمد للہ وہ سلسلہ جاری ہے، شکر ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ آپ لوگ تو سامنے بیٹھے ہو نا، یہ بیان England میں بھی سنا جا رہا ہے۔ America میں بھی سنا جا رہا ہے۔ مختلف جگہوں پہ سنا جا رہا ہے اور باقاعدہ وہ اطلاع کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں، اس کے بارے میں، یہ ہم لوگ اسی لیے اس کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ ان چیزوں کا جو یہاں اتنا زیادہ شوق نہیں تھا، وہاں ان لوگوں کو تھا، تو الحمد للہ ان کو فائدہ بہت ہوا۔

اس کے بعد الحمد للہ اللہ پاک نے ایک عجیب نعمت ہمیں عطا فرمائی۔ اور وہ نعمت حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ان کی کتاب ہے 'الطاف القدس'۔ اس میں حضرت نے پورا ایک علمی، علم کے ساتھ ایک عملی خاکہ کھینچا ہے۔ کہ انسان جب جس وقت دین پر آنا چاہتا ہے تو کون کون سی چیزیں اس میں استعمال ہوتی ہیں؟ اور کس طرح استعمال ہوتی ہیں، اس کو کس طریقے سے چلانا ہے؟ پورا ایک نظام حضرت نے دکھا دیا وہ 'الطاف القدس' میں ہے، 'عن معرفت النفس'۔ تو الحمد للہ اس کی تعلیم جاری ہے۔ اور ما شاء اللہ وہ، اس کی بھی ان شاء اللہ یعنی تسہیل ہو رہی ہے۔

اور پھر الحمد للہ ہمارے جدِ امجد کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ حضرات جانتے ہوں گے۔ ان کی ایک کتاب تھی وہ بھی بالکل چھپی ہوئی تھی۔ ہم کاکاخیلوں نے بھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ بھی شروع ہو گئی۔ تو یہ سب چیزیں جب شروع ہو گئیں تو پتہ چلا کہ ہم تو حادثاتی طور پر کر رہے تھے، پتہ چلے یہ آپس میں پہلے سے interlinked تھیں۔ ملی ہوئی ہیں۔ یعنی ایک سے دوسری کی تشریح ہو رہی ہے، دوسری سے پہلی کی تشریح ہو رہی ہے۔ یہ ما شاء اللہ یہ اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا۔

تو یہ بات حادثاتی طور پر نہیں ہے بلکہ باقاعدہ ایک ذریعہ اللہ پاک نے اس کو بنا دیا۔ اب میں آپ کو وہ بنیادی باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ میں نے تمہید باندھی ہے۔ کہ ان باتوں کو بہت غور سے سنیں۔ یہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی پوری عمر کی محنت گویا کہ آپ کے سامنے میں پیش کر رہا ہوں۔ کہ کیسے انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ کام کیسے کیا جا سکتا ہے، اپنی اصلاح کے لیے کن کن چیزوں کے جاننے کی ضرورت ہے اور ان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

حضرت نے فرمایا کہ تین چیزیں جو ہیں، تین چیزیں، یہ ہر انسان کی ہر وقت operational ہوتی ہیں۔ active ہوتی ہیں۔ اور ان کے اثرات باہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اور اس سے مختلف قسم کے مزاج بنتے ہیں، مختلف قسم کے اعمال اس سے وجود میں آتے ہیں۔ ان کو reinstate صحیح direction میں کرنے کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ کون سی چیزیں ہیں؟

پہلی چیز ہمارے ساتھ دل ہے، قلب۔ حضرت نے ان کو 'لطائف' کہا ہے۔ دوسری ہمارے پاس عقل ہے۔ ہر شخص کے پاس عقل ہے۔ تیسری چیز ہمارے ساتھ نفس ہے۔ یہ تین لطائف ہیں جو ہر شخص میں ہر وقت active ہیں۔ صحیح غلط کی بات نہیں ہے۔ بس active ہیں۔

جیسے ہر شخص کا دل کام کر رہا ہے ڈاکٹر صاحب! لیکن کسی کا صحیح کام کر رہا ہے کسی کا ٹھیک نہیں وہ کر رہا ہے، تو آپ لوگ پھر علاج کرتے ہیں کہ بھئی اس کو کیسے ٹھیک کام اس کا ہو۔ اس طرح ہر شخص کا روحانی دل بھی کام کر رہا ہے۔

روحانی دل کیا ہے؟ روحانی دل یہ ہے کہ جو دل ہے، وہاں پر بھی روح ہے، آنکھ میں بھی روح ہے، کان میں بھی روح ہے، تو دل کے اندر جو روح ہے وہ روحانی دل ہے۔ دل کے اندر جو روح ہے وہ روحانی دل ہے۔ کیوں میں کہتا ہوں؟ یہ کیوں کہتا ہوں؟ یہ دو باتوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حدیث شریف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى الْقَلْبِ». تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ اور دل کی طرف اشارہ فرما دیا۔

اب جن کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے، آج کل کے modern لوگ سائنس دان، وہ کہتے ہیں بھئی دل تو اب transplant باقاعدہ تبدیل ہوتا ہے۔ ایک آدمی کا دل نکال کے دوسرے میں لگا دیتے ہیں۔ تو اگر یہ ایمان والا دل ہے تو اس میں لگ گیا تو یہ خود بخود ایمان والا ہو جائے گا؟ سوال آتا ہے نا؟ تو ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ بھئی وہ انہوں نے گوشت والا دل transfer کر دیا، وہ جو روحانی دل تھا، ایمان تو روحانی دل میں ہے نا، وہ اپنی جگہ پہ موجود ہے۔ اس میں جو بھی دل لگا دو وہی ہوگا۔ صحیح ہے نا؟ اس میں جو بھی دل لگاؤ وہی دل ہوگا۔ روحانی دل نہیں جاتا کیونکہ روح جب تک نہیں نکلے گی اس سے، تو روح تو اس میں موجود ہے۔ روح تو تبدیل نہیں ہوئی نا۔ ہاں، ٹھیک ہے جسم کے کچھ حصے تبدیل ہو گئے۔

تو یہ وہ ہے، یعنی انسان کا دل ہے۔ اچھا، پھر عقل ہے۔ عقل دماغ میں ہوتی ہے۔ عقل دماغ میں ہوتی ہے۔ اور انسان کا نفس ہے۔ نفس بھی اسی طرح پورے جسم کے اندر پھیلا ہوا ہے۔ آنکھ کا اپنا نفس ہے۔ کان کا اپنا نفس ہے۔ زبان کا اپنا نفس ہے، دماغ کا اپنا نفس ہے۔ ہر چیز کا اپنا نفس ہے۔ کیوں؟ جہاں جہاں میں لذت لے سکتا ہوں، وہاں پر نفس موجود ہے۔ جہاں جہاں پر میں لذت لے سکتا ہوں وہاں پر نفس موجود ہے۔ تو یہ جو نفس ہے پورے جسم کے اندر ہے اور اس کے sensing points ہیں باقاعدہ۔

تو یہ جو نفس ہے اس کے لئے اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا کہ جو by default نفس ہے، غیر تربیت یافتہ جو نفس ہے، جس کی تربیت ابھی نہیں ہوئی، وہ نفسِ امارہ ہے۔ وہ کیا ہے؟ نفسِ امارہ ہے، اور نفسِ امارہ برائی کی طرف ہی مائل کرتا ہے۔ وہ برائی کی طرف ہی مائل کرتا ہے۔ اللہ پاک نے پیغمبرِ وقت یوسف علیہ السلام کے ذریعے سے یہ کہلوایا۔ اب یہ جو نفس ہے جب تک اس کی تربیت نہ ہوئی ہو، تو کیا کرتا ہے؟ یہ ہمارے لیے مصیبت بناتا ہے۔

کیسے مصیبت بناتا ہے؟ دیکھو اگر کسی کی اولاد بگڑی ہوئی ہو، تو ماں باپ کے لیے مصیبتیں بناتے ہیں کہ نہیں بناتے؟ روزانہ کوئی نہ کوئی جھگڑا اس کے لیے بنایا ہوتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کو سمجھا نہیں سکتا، وہ تربیت نہیں کر سکتا، نتیجتاً اس کے لیے مصیبت ہے۔ اب اگر میں کہوں کہ جس نے اپنے نفس کو، جس نے اپنی اولاد کی تربیت کی صحیح، وہ کامیاب ہو گیا، تو صحیح ہوگا یا نہیں ہوگا؟ بات صحیح ہوگی نا، کیونکہ بہت سارے شرور سے بچ گیا۔

اب یہی بات اللہ پاک نے نفس کے بارے میں فرمائی ہے۔ نفس کے بارے میں فرمایا: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر دیا رذائل سے۔ یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو یوں ہی چھوڑ دیا جس طرح ہے، تو جو اپنی اولاد کی تربیت نہ کرے وہ تو مصیبت میں رہے گا نا۔ اور جو تربیت کرے گا تو اولاد سے زیادہ ہمارا نفس ہمارے قریب ہے۔ اگر ہم اپنے نفس کی تربیت نہیں کریں گے تو ہم ظاہر ہے اس کی مصیبتیں بھگتیں گے۔

مثال کے طور پر اللہ بچائے مجھے، اپنی آنکھ کے غلط استعمال سے کسی غیر محرم پہ نظر پڑتی ہے، تو یہ مصیبت ہے یا نہیں ہے؟ میرے لیے بھی ہے، ان کے لیے بھی ہے، معاشرے کے لیے بھی ہے۔ اب اگر میں اپنے نفس کی تربیت نہ کروں تو یہ چیز کیسے ختم ہوگی؟

زبان، بعض لوگ بات بات پہ گالی دیتے ہیں۔ ان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ گالی دے دیتے ہیں۔ تو اب یہ جو گالی والا جو مزاج ہے جب تک اس کی اصلاح نہ ہو چکی ہو، تو وہ معاشرے کے لیے ایک مصیبت ہے۔

اچھا بعض لوگ ویسے ہی، آپ لوگ آپ جانتے ہوں گے شادی بیاہ کے موقع پر جب لوگ جمع ہو جاتے ہیں، خوامخواہ لوگوں کو tease کرنا، خوامخواہ لوگوں کو تکلیف دینا، خوامخواہ لوگوں کے پیچھے پڑنا، کتوں کی طرح بھونکنا شروع کر لیتے ہیں۔ لوگ تنگ ہوتے ہیں نا ان سے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ نفس کی وجہ سے ہے۔ تو نفس ایک مصیبت ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو کیا ہے؟ یہ ایک مصیبت ہے۔

تو اللہ پاک نے فرمایا: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا﴾ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو رذائل سے پاک کر دیا۔ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا اور یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے آپ کو اس میں لگائے رکھا اور اپنے نفس کی اصلاح نہیں کی، اس کے رذائل نہیں دبا سکا تو کیا ہو گیا تباہ و برباد ہو گیا۔ تو ایک بات یہاں سے ہمیں نفس کے بارے میں معلوم ہو گئی۔

تیسری چیز اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (190) الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(191)﴾

بیشک کائنات کی تخلیق میں اور دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ یہاں پر عقلمند کا جو لفظ ہے نا، تھوڑا سا ذرا change کرنے کی ضرورت ہے لیکن عمومی طور پہ چونکہ لوگ عقلمندی سمجھتے ہیں، لہٰذا ترجمے میں بھی یہ آ جاتا ہے۔ حالانکہ 'أُولِي الْأَلْبَابِ' ہے۔ أُولِي الْأَلْبَابِ اور عام عقلمندوں میں فرق ہے۔ اور یہ فرق بھی شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے سمجھایا۔ کیا فرق ہے؟ ابھی عرض کرتا ہوں۔

عقل جو ہے کیا چیز ہے؟ یہ ایک اللہ پاک نے quality دی ہوتی ہے ہر انسان کو جس کے ذریعے سے وہ فیصلہ کر سکتا ہے، حالات کے مطابق، معلومات کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔ مثلاً مجھے پتہ ہے سردی سے بیمار ہوتا ہے انسان۔ مجھے علم ہے۔ سردی سے انسان بیمار ہوتا ہے۔ یہ بھی مجھے علم ہے کہ گرم کپڑے پہننے سے سردی دور ہو جاتی ہے۔ سردی آ گئی تو کیا کروں گا؟ ہاں، میں گرم کپڑے کا انتظام کروں گا۔ ابھی ساتھ میں چادر لایا ہوں، پڑی ہوئی ہے نا آپ کے پاس؟ ہاں، کیوں؟ مجھے پتہ ہے کہ موسم اچانک ٹھنڈا ہو جائے گا، مجھے پھر چادر اوڑھنی پڑے گی۔ یہ عقلمندی ہے۔ اور یہ دنیاوی عقلمندی ہے۔

یہ دنیاوی عقلمندی ہے۔ ہر دنیا دار کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ کاروباری کو اس کی ضرورت، طالب علم کو اس کی ضرورت، کسان کو اس کی ضرورت، گھر میں اس کی ضرورت، باہر اس کی ضرورت۔ بغیر عقل کے انسان ایک جانور ہے۔ بغیر عقل کے انسان ایک جانور ہے۔

اللہ پاک نے فرمایا: ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ۝ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ﴾ البتہ، تحقیق ہم نے انسان کو بڑے اچھے سانچے میں ڈالا، اور پھر فرمایا، پھر ان کو کر دیا نیچوں سے نیچا۔

یہ نیچوں سے نیچا کیوں ہوتا ہے؟ جانور اور انسان کے درمیان anatomically بہت کم difference ہے۔ anatomy کے لحاظ سے بہت کم difference ہے۔ جو اعضاء جانور میں جو ہوتے ہیں، جو انسان میں ہوتے ہیں، وہ اس طرح مطلب اس میں اتنا زیادہ فرق نہیں۔ فرق کس چیز میں ہے؟ فرق اس عقل میں ہے۔

اس کی تفصیل سے حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے پھر بیان فرمایا ہے کہ اصل میں جو جانور اور نباتات کی روح کے دو اجزاء ہیں، اور انسان کے تین ہیں۔ اس کے ساتھ 'روحِ ملکوت' بھی شامل ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ، یہ بات ہے کہ فرق اس وجہ سے ہے انسان عقل والا، شعور والا وہ ہے۔

تو جب یہ والی بات ہے، تو اسی وجہ سے مکلف بھی بنائے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے مکلف بھی بنائے گئے ہیں اور انسان سے پھر پوچھا بھی جائے گا کیا کیا ہے؟ انسان کو اختیار دے دیا گیا۔ انسان کو اختیار دے دیا گیا۔ بری بات کا بھی پتہ ہے، صحیح بات کا بھی پتہ ہے۔ ہدایت کے نظام کو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچا دیا، اور پھر اختیار دے دیا، چاہے اس بات کو لے لو، چاہے تو یہ اگر اس بات کو لے لو تو یہ۔

اب اگر کوئی اختیار اپنا صحیح استعمال کرے گا، اپنی عقل صحیح استعمال کرے گا، تو ظاہر ہے اس کو فائدہ ہوگا۔ اور اگر صحیح استعمال نہیں کرے گا تو پھر نقصان ہوگا۔

تو ایک عقل دنیاوی ہے۔ دنیاوی عقل میں دنیاوی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دنیاوی معلومات کی بنیاد پر وہ جو فیصلے کرتے ہیں وہ دنیا کے لیے اگر وہ اس عقل سے کرتے ہیں تو ٹھیک ہوتے ہیں، کامیابی کے ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟

لیکن آگے حضرت فرماتے ہیں جیسے قرآن پاک میں فرمایا: ﴿ِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۝الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ﴾ یہاں پر دیکھو، اللہ جل شانہ نے 'أُولِي الْأَلْبَابِ'، وہ حضرات جو 'لُب' رکھتے ہیں۔ 'لُب' کیا چیز ہے؟ وہ عقل جو guided ہے اوپر سے۔ وہ عقل جو اوپر سے guided ہے، وہ لُب ہے۔

اچھا اس کی کیا بات ہے، ان کے ساتھ دو کیا چیزیں ہیں؟ ان کے ساتھ ایک ذکر ہے دوسرا فکر ہے۔ ذکر اور فکر سے أُولِي الْأَلْبَابِ کو فائدہ ہوتا ہے۔ ذکر اور فکر سے أُولِي الْأَلْبَابِ کو فائدہ ہوتا ہے، ان کے 'لُب' میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے 'لُب' میں اضافہ ہوتا ہے۔

مقصد یہ ہے کہ جب ان کی جو عقل ہے، اس کے ساتھ ایمانی اخبارات آ جاتے ہیں۔ دیکھو نا اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا: ﴿الم ۝ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ۝ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ۝ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۝ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

یہاں پر ایمان بالغیب کا ذکر آیا ہے۔ اور ساتھ ﴿وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ﴾ کا ذکر آیا ہے۔ کیا ایمان بالغیب میں آخرت شامل نہیں ہے؟ ایمان بالغیب میں آخرت شامل ہے نا، اس کا علیحدہ کیوں ذکر ہوا؟ اس کا علیحدہ ذکر یہ ہوا کہ یقین جو ہوتا ہے، ایمان دل میں ہے، یقین دماغ میں ہے، عقل میں ہے۔ یقین عقل میں ہے۔

جب تک... یہ بہت مشہور مسئلہ ہے کہ ایمان کم ہوتا ہے یا زیادہ ہوتا ہے فقہاء کرام کے اندر، یہ جو ہے نا مطلب یہ کہ مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ حالانکہ اصل میں وہ یقین کی بات تھی۔ یقین کی بات تھی۔ یقین میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، ایمان اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ ایمان... ایمان کیا چیز ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ایمان یہ ہے کہ آپ نے غیب والے نظام کو مان لیا۔

اب اگر آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے تو آپ نے مان تو لیا ہے لیکن فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ بہت ساری چیزوں کو آپ مانتے ہیں لیکن آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ آپ اس کو مانتے ہیں۔ آپ کے گھر میں ڈاکٹر ہے، آپ اس کو مانتے ہیں ڈاکٹر ہے، لیکن آپ اس سے پوچھتے نہیں ہیں۔ ٹھیک ہے؟ ڈاکٹر تو موجود ہے لیکن آپ مانتے بھی ہیں، لیکن آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

تو جب اس قسم کی بات ہو تو اگر کسی کسی نے ایمان تو حاصل کیا، لیکن اس نے ایمانی اخبارات اس پہ غور نہیں کیا، نتیجتاً ان کو یقین حاصل نہیں ہوا۔ تو جب یقین حاصل نہیں ہوا تو عمل نہیں کر سکے گا۔ یہی فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق ہوتا ہے۔ یقین کا فرق ہوتا ہے۔ یقین کے پھر تین درجے ہیں۔ یقین متغیر ہے۔ ایک ہے علم الیقین، ایک ہے عین الیقین، ایک ہے حق الیقین۔

تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو یقین جو ہے ﴿وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ﴾ جس کا آخرت پر یقین ہوگا، سبحان اللہ، وہ عمل کرے گا۔ وہ عمل کرے گا۔ ﴿أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ایمان بنیاد ہے۔ یقین اس میں رسوخ پیدا کرتا ہے۔ نتیجتاً عمل کی توفیق ہو جاتی ہے۔

بہرحال یہ بات میں عرض کر رہا تھا کہ یہ یہ جو 'لُب' ہے، اس کا تعلق ایمانی اخبارات کے ساتھ ہے اور ذکر و فکر سے بڑھتا ہے۔ ایمانی اخبارات دل میں ہیں۔ ایمان دل میں ہے۔ اب دل میں ایمان ہے، اس سے عقل مومن بن گئی۔ اب جب عقل مومن بن گئی تو پھر کیا ہو گیا؟ ایمانی اخبارات جو اس کو آ گئے، اس کو information مل گئی، اس information سے جو عقل میں transformation ہوتی ہے، وہ transformation بہت اہم ہے، اس وقت وہ عقل 'سِر' کہلاتی ہے۔ وہ عقل کیا کہلاتی ہے؟ 'سِر' کہلاتی ہے۔

اور 'سِر' کا تعلق 'ملا اعلیٰ' کے ساتھ ہے۔ 'سِر' کا تعلق کیا ہے؟ ملا اعلیٰ کے ساتھ ہے۔ یعنی اوپر آسمانوں میں جو نظام ہے اس کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ہے۔ تو اس وجہ سے جو ایسے حضرات ہوتے ہیں جو ملا اعلیٰ سے جو فیڈڈ لوگ ہوتے ہیں، ان کے ان کے سامنے ایسی باتیں آتی ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ جیسے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، دوسرے حضرات، ان کو کہاں سے ملی چیزیں؟ یہ دنیا کی اخبارات سے تو نہیں ملیں۔ یہ ادھر سے ہے نا۔ تو یہ جو اس کو الہام کہتے ہیں، الہام کے ذریعے سے مطلب ان کو اللہ جل شانہ وہاں سے وہ چیزیں دے دیتے ہیں اور پھر سبحان اللہ اس سے جو ہے نا وہ لوگ کام لیتے ہیں۔ اس کی بڑی تفصیلات حضرت نے بتائی ہیں۔

تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ عقل بن جاتی ہے 'سِر'۔ اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، کہ جس وقت انسان محنت کرتا ہے، اور اس کے دل پر محنت ہو رہی ہوتی ہے ذکر کے ذریعے سے وہ صاف ہو رہا ہوتا ہے، تو وہ عالمِ جذب میں چلا جاتا ہے، مجذوب ہو جاتا ہے۔ جذب اس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اور یہ جذب شوق پیدا کرتا ہے کہ یہ دین پر چل سکتا ہے۔ یہ شوق پیدا کرتا ہے۔ اب اگر دین پر چلنا ہو، تو دین پر چلنے کے جو تقاضے ہیں وہ پورے کرنے ہوں گے۔

میں نے آپ سے عرض کیا، ایک شخص کا دل مسلمان ہے، مومن ہے، لیکن اس نے اپنے نفس کے اوپر محنت نہیں کی۔ تو کیا ہو جائے گا؟ وہ عمل کر سکے گا؟ عمل نہیں کر سکتا۔ مجھے کل ہی ای میل آیا ہے، چائنا سے، ہمارے ایک ساتھی ہیں۔ اس نے کہا کہ میں آپ کے ہر بیان کو سنتا ہوں، نیٹ پر۔ اور میں ساری چیزیں مانتا ہوں، لیکن عمل کی توفیق نہیں ہو رہی کیونکہ نفس میرے قابو میں نہیں ہے۔ اس نے خود کہا ہے۔ نفس میرے قابو میں نہیں ہے۔

تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ جو نفس ہے، یہ یہ اس کو قابو میں کرنا ہوتا ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس وقت کسی کو جذب حاصل ہو گیا تو یہ جذب اب اس قابل ہے کہ اس کو اب سلوک طے کرا دیا جائے۔ سلوک طے کیا جائے۔ اور سلوک طے ہوتا ہے ریاضت اور مجاہدے کے ذریعے سے۔ نفس کو قابو کرنے کے لیے۔ یہ جو نفس قابو ہو جاتا ہے، تو یہ روح روح، فرماتے ہیں قلب کے اندر یہ روح اور یہ نفس آپس میں جڑے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو پکڑا ہوتا ہے۔

نتیجتاً نفس نیچے نہیں جاتا، روح اوپر نہیں جاتی۔ دونوں کی جگہیں اپنی اپنی ہیں۔ نفس کی جگہ نیچے ہے، روح کی جگہ اوپر ہے۔ تو نہ نفس نیچے جا سکتا ہے نہ روح اوپر جا سکتی ہے۔ اس کو ریاضت سے چھڑوانا ہوتا ہے۔ آپس میں ان کو مطلب جو ہے جس کو علیحدہ کرنا ہوتا ہے۔ جب یہ علیحدہ ہو جاتے ہیں، تو نفس اپنے نیچے چلا جاتا ہے عبدیت کے کی جگہ پہ۔ اور روح اوپر چلی جاتی ہے ملا اعلیٰ کی طرف۔ ایسے وقت میں قلب روح بن جاتا ہے۔ اور ملا اعلیٰ سے وہ پھر حاصل کرتا ہے۔

اب یہ ذرا مطلب تھوڑا سا غور کر لیں، اب یہ پانچ چیزیں جو میں نے بتا دی ہیں۔ نفس، قلب، عقل یہ تو عام طور پر ہے۔ لیکن تربیت یافتہ صورت میں دو اور چیزیں مل جاتی ہیں: ایک روح ہے اور دوسرا 'سِر' ہے۔ پھر وہاں سے انسان کو ساری چیزیں ملتی ہیں اور پھر ما شاء اللہ انسان واقعی 'أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ' والا انسان بن جاتا ہے۔ انسان اپنی انسانیت کے ساتھ انصاف کر لیتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر حیوان ہی رہتا ہے۔ پھر حیوان ہی رہتا ہے۔ ﴿ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ﴾

اس وجہ سے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں اس پر محنت کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے آپ کو حیوانیت سے نکالنا ہوگا۔ حیوانیت سے نکالنا ہوگا۔ اگر ہم خدانخواستہ حیوانیت میں چلے گئے، تو حیوان کے اوپر کوئی مطالبہ نہیں۔ وہ جبلت سے سب کچھ کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس سے کوئی مطالبہ نہیں کیونکہ وہ غیر مکلف مخلوق ہے۔ لیکن انسان چونکہ مکلف مخلوق ہے اور اس نے جانور پنا کام کر دیا، نتیجتاً اس کو punishment ملے گی۔ اس کو punishment ملے گی۔ لہٰذا یہ فرمایا: ﴿ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ﴾

تو ہمیں ان چیزوں پر محنت... اب میں ایک بات عرض کرتا ہوں ما شاء اللہ آپ حضرات بڑے شوق سے سن رہے ہیں۔ یہ میں نے آپ کو صرف چند اس کی جھلکیاں دکھائی ہیں۔ بہت بڑے علوم ہیں ان کے۔ ان بزرگوں کے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بہت بڑے علوم ہیں۔ ان علوم کی ہمیں اپنے اندر طلب پیدا کرنی چاہیے۔

یہ علوم ویسے ضائع نہ ہوں۔ استعمال ہو جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ بھی ان کو حاصل کر لیں۔ اگر ہم لوگ ان کو حاصل کر جائیں، تو پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے مجدد کو بھیجا ہی اس لیے ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی خدمت کر لے، اور لوگوں کو اپنی حقیقت کا ادراک کرا دے، اس کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ سکھائے، جو مشکلات اس کو آ چکی ہیں ان مشکلات سے ان کو نکال دے۔

تو اگر ہم لوگ مجددین کے قریب رہیں گے، اور ایسے لوگوں کی تحریرات کو پڑھیں گے، ان شاء اللہ ہمیں اپنا آپ بھی نظر آئے گا، اور اپنا مستقبل بھی نظر آئے گا۔ پھر اس کے مطابق ہم کام کر سکیں گے۔ اور خدانخواستہ اگر ایسا نہیں ہے، تو یاد رکھیں انہوں نے جو کام کیا ان کو اجر مل گیا۔ ان کا اجر کہیں نہیں گیا۔ ان کو اجر مل گیا، نقصان ہمارا اپنا ہو جائے گا۔

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر بعض گمراہ لوگ آج کل کام کر رہے ہیں۔ بعض گمراہ لوگ اپنا کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا طریق بدنام ہو رہا ہے۔ میں آپ حضرات کو ان کی کتابوں تک لے جا سکتا ہوں۔ ان کو آپ کو بتا سکتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی اصل چیز کیا ہے۔ وہ کیا کہتا ہے؟ آخر یہی کتابیں ہیں نا حضرت کی موجود ہیں، میں نے جو نام لیے 'الطاف القدس' ہے، اس طرح یہ ہے کہ وہ 'حجۃ اللہ البالغہ' ہے، اور اس طرح وہ سراج السالکین ہے 'القول الجمیل' ہے۔ اس طرح کئی کتابیں حضرت کی ہیں، یہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ دیکھ لو۔ اس طرح ہمارے سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی 'صراط مستقیم' ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ما شاء اللہ مواعظ اور ملفوظات ہیں، یہ ساری چیزیں ہمیں موجود ہیں۔ ہمیں ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

استفادہ کرنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ ہمارے ہاں اس کا اہتمام چل رہا ہے۔ مثنوی شریف کا درس بھی ہو رہا ہے۔ کل مثنوی شریف کے درس میں دو اشعار آ گئے۔ ان دو اشعار میں میں نے عرض کیا کہ اگر میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات نہ پڑھ چکا ہوتا،ان دو اشعار کی تشریح میں نہیں کرسکتا تھا۔ ان کی برکت سے یہ تشریح کر رہا ہوں۔ اب بتاؤ یہ آپس میں اتنی interlinked ہیں، اتنی زیادہ آپس میں ملی ہوئی ہیں، تو ہمیں ان چیزوں سے استفادہ کرنا چاہیے نا؟ استفادہ کرنا چاہیے۔

تو الحمد للہ یہ نظام موجود ہے اور اللہ پاک نے ایک آسانی دی ہے۔ ابھی جیسے یہ بیان نیٹ پر جا رہا ہے، ہمارے سارے بیان نیٹ پہ جاتے ہیں۔ مغرب کے بیان، بعد جو بیان، سارے نیٹ پر جاتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ کہاں کہاں لوگ اس کو سنتے ہیں؟ کہاں کہاں لوگ اس کو سنتے ہیں اور ما شاء اللہ ان کو فائدہ ہوتا ہے۔

تو اگر کوئی وہاں خانقاہ تشریف لانا چاہے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ جو مجلس کی کیفیت ہوتی ہے وہ تو کہیں اور نہیں ہو سکتی۔ وہ تو اس کا قدرتی خاصہ ہے کہ جو مجلس کی کیفیت ہے وہ کہیں اور نہیں ہو سکتی۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ نہ ہونے سے کم از کم وہ بہتر ہے کہ اپنے گھر میں انٹرنیٹ پر سن لے۔ انٹرنیٹ پر اتنا گند بلا ہوتا ہے، تو بھئی اس کی جو اچھی چیزیں ہیں ان کو بھی استعمال کر لو۔ اچھی چیزوں پہ استعمال کر لو۔

تو ہماری خانقاہ کی ترتیب میں بتا دیتا ہوں۔ ہفتے کے دن مثنوی شریف کا درس۔ کارڈ پر بھی ترتیب موجود ہوگی۔ مثنوی شریف کا درس۔ اتوار کے دن ہمارے مختلف جگہوں پہ بیان ہوتے ہیں جیسے آج ادھر ہوں۔ پیر کے دن سوال و جواب ہوتے ہیں تصوف کے بارے میں۔ تصوف کے بارے میں سوال جواب ہوتے ہیں۔ وہ بھی نیٹ پر سوال لوگ بھیجتے ہیں۔ واٹس ایپ پہ بھیجتے ہیں، ای میل کے ذریعے سے بھیجتے ہیں، میسجز کے ذریعے سے بھیجتے ہیں، جواب ان کو نیٹ پر جاتا ہے۔ اور منگل کے دن حضرت کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا درس ہوتا ہے۔ اور بدھ کے دن مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے 'مکتوبات شریف' کا درس ہوتا ہے۔ جمعرات کے دن شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کا درس ہوتا ہے۔ جمعہ کے دن ہم لوگ ذرا اس کے جو تصنیفی کام ہیں اس کے لیے ہم نے وقت لے لیا ہے تاکہ اس کو مطلب سمیٹ لیں۔

تو بہرحال یہ ہے کہ جو حضرات بھی اس میں شامل ہونا چاہیں، بہت اچھا کام ہے الحمد للہ اور دوسری بات ایک فرضِ عین درجے کا جو علم ہے، یہ ہر شخص کے پاس ہونا چاہیے۔ فرضِ عین درجے کا علم ہر شخص کے پاس ہونا چاہیے۔ الحمد للہ ہم نے کئی دفعہ اس کو چلایا خانقاہ میں، دو مہینے میں ہو جاتا ہے۔ دو مہینے میں ہو جاتا ہے۔ اگر آپ حضرات کروانا چاہیں تو کروایا جا سکتا ہے۔ ما شاء اللہ آپ کے پاس تو علماء بھی موجود ہیں۔ نظام موجود ہے، بہت آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ دو مہینے لگیں گے۔ وہ روزانہ مطلب یہ ہے کہ دو درس اس میں ہوں گے، اور دو مہینے میں آپ لوگ کر سکیں گے۔ ایسے اوقات رکھ لیں جس میں سارے شامل ہو سکتے ہوں۔ تو فرضِ عین درجے کا علم۔

اور ساتھ ساتھ کسی اللہ والے کے ساتھ کوئی تعلق قائم کر دو۔ تربیت کا، بیعت کا۔ یہ ضروری ہے۔ بہت ضروری ہے۔ آج کل کے دور میں اس فتنے کے دور میں تو بہت زیادہ ضروری ہے۔ میں آپ کو کیا بتاؤں حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہمارا تعلق تھا، یقین جانیے ہمیں تو بہت زیادہ فائدے ہوئے، لیکن جو فائدہ بالکل فوری طور پر ہمیں محسوس ہوا تھا، وہ یہ کہ جو شر کا وقت تھا عصر سے لے کے مغرب کا وقت، جو لوگ، students آوارہ پھرتے ہیں نا بہت مختلف چیزوں میں، الحمد للہ اس وقت ہم حضرت کے پاس ہوتے تھے۔

ظاہر ہے الحمد للہ بعض چیزوں کا ہمیں پتہ بھی نہیں چلا۔ تو یہ فتنے کا جو دور ہے، اس میں مشائخ کے پاس بیٹھنے کا بہت فائدہ ہے۔ تو ان کے ساتھ تعلق قائم کر لو۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہر جگہ نہ جاؤ۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ روپ میں بہروپ ہوتا ہے۔ بہروپ ہوتا ہے، تو ان بہروپیوں سے بچنے کے لیے، جو صحیح مشائخ ہیں ان کی نشانیاں آپ یاد کر لیں۔ اچھی طرح جان لیں، پھر کبھی دھوکہ نہیں کھائیں گے۔

اس میں آٹھ نشانیاں ہیں۔ پہلی نشانی یہ ہے کہ ان کا عقیدہ صحابہ کا عقیدہ ہو۔ «فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» دوسرا فرضِ عین درجے کا علم، جس کا میں نے ابھی ذکر کیا، یہ اس کو بھی حاصل ہو کم از کم۔ تیسری بات، اس فرضِ عین درجے علم پر سو فیصد عمل ہو۔ چوتھی بات، ان کی صحبت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تک پہنچتا ہو۔ کیونکہ کچھ چیزیں جو دل سے دل کو ملتی ہیں، کیفیت، وہ کیفیت تو ویسے کتابوں میں نہیں آ سکتی۔ تو صحبت کے ذریعے سے وہ آتی ہے۔ تو یہ بات۔ پانچویں چیز وہ یہ ہے کہ ادھر سے اجازت بھی ہو۔ چھٹی بات کہ ان کا فیض جاری ہو۔ فیض جاری ہونے کا مطلب ہے کہ جو حضرات بھی اس مقصد کے لیے متوجہ ہوتے ہیں ان کے پاس، تو ان کو فائدہ ہوتا نظر آتا ہے۔ خود بھی، دوسروں کو بھی۔ اور ساتویں بات یہ ہے کہ مروت نہ کرتا ہو، اصلاح کرتا ہو۔ آج کل اہل مروت کو ڈھونڈا جاتا ہے نا، کہ جو ہمارا خیال رکھے۔ بھئی تمہارا خیال رکھے گا، تو بیماری کا خیال نہیں رکھے گا، تو وہ تمہارا خیال رکھنا چاہیے یا بیماری کا خیال رکھنا چاہیے؟ ڈاکٹر صاحب، کیا خیال ہے؟ بیماری کا خیال رکھنا چاہیے یا مریض کا؟ بیماری دور ہونی چاہیے نا۔ تو اس کے لیے کوشش ہونی چاہیے۔ تو جو بیماری کے بارے میں زیادہ سخت ہوگا، تو اپ کا زیادہ دوست ہے۔ تو سات باتیں ہو گئیں۔ اور آٹھویں بات یہ ہے کہ ان کی مجلس میں بیٹھ کر اللہ یاد آتا ہو۔

اور دنیا کی محبت کم ہوتی ہو۔ یہ بہت بڑی نشانی ہے۔ کرکٹ والوں کے ساتھ بیٹھیں گے، آپ کو کرکٹ کا شوق ہوگا۔ پراپرٹی ڈیلر کے ساتھ بیٹھیں گے تو کچھ پلاٹ ولاٹ خریدنے کا شوق ہوگا۔ اللہ والوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو اللہ والا بننا چاہیں گے۔ یہی ہے نا؟ ہاں۔

تو بہرحال یہ جو آٹھ باتیں ہیں، ان کو دیکھو، اگر آپ کو مل گئے، اور کئی مل جائیں گے ان شاء اللہ، دنیا خالی نہیں ہے۔ کئی مل جائیں گے۔ ان میں دیکھو مناسبت کس کے ساتھ زیادہ ہے؟ مناسبت کا مطلب یہ ہے کہ test کر لیں دیکھیں مجھے کہاں زیادہ فائدہ ہو رہا ہے؟ ہاں، جہاں زیادہ فائدہ ہو رہا ہے وہاں آپ کی زیادہ مناسبت ہے۔ لہٰذا پھر ان کے ساتھ ہو جائیں، پھر ادھر ادھر نہ دیکھیں۔ پھر ادھر ہی دیکھیں۔ ان شاء اللہ آپ کا فیض ادھر پڑا ہوگا۔ آپ کا فیض ادھر پڑا ہوگا۔ ادھر ہی سے حاصل کر لیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔

اب ہم ذکر کرتے ہیں ایک دفعہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورہ اخلاص۔ یہ جو ذکر ہے نمونے کے طور پر کرایا جاتا ورنہ اصل ذکر وہ جو مشائخ دیتے ہیں علیحدہ جو کرتے ہیں وہ ہی اصل ہے یہ صرف نمونے کے لیے کےاگر بعد میں کوئی کرنا چاہے تو ان کو کم از کم پتہ ہو۔

دین کی حفاظت میں مجددین کا کردار اور مرشدِ کامل کی علامات - اصلاحی بیان