اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آج بدھ کا دن ہے، بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ آج مکتوب نمبر 264 سے ان شاء اللہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ میرسید باقر سارنگپوری کی طرف صادر فرمایا ہے، لیکن بعض نسخوں میں سہارنپوری درج ہے۔
دفتر اول مکتوب نمبر 264
اس بیان میں اپنے معاملہ کو حیرت اور جہالت پر محمول کرنا چاہئے، اور احوال و کشوف پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے اور اس کے ضمن میں اس واقعہ کا ذکر اور تعبیر فرمائی جس کا اظہار اس علاقہ کے بعض مشائخ میں سے کسی نے کیا تھا۔
آپ کے نام صرف یہی ایک مکتوب ہے، آپ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قدیم الخدمت احباب میں سے ہیں اور آخر عمر میں خلافت پائی تھی۔
الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)۔
صحیفۂ شریفہ جو فرطِ محبت اور کمال اشتیاق سے آپ نے تحریر فرمایا تھا موصول ہو کر بہت زیادہ خوشی کا باعث ہوا۔
آپ اپنے کام کی طرف متوجہ رہیں اور اسماء و صفات کے ملاحظہ کے بغیر اسمِ ذات تعالیٰ و تقدس کے ذکر میں مشغول رہیں تاکہ معاملہ جہالت تک پہنچ جائے اور کام حیرت کے ساتھ انجام پذیر ہو۔ کیونکہ اسماء و صفات کا ملاحظہ بسا اوقات احوال کے ظہور کا باعث ہوتا ہے اور مواجید کے صادر ہونے کا واسطہ بن جاتا ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ احوال و مواجید میں خطا کا بہت زیادہ احتمال ہے اور اس مقام میں حق کے ساتھ باطل کا اشتباہ بہت زیادہ ہے۔
آپ غور فرمائیں کہ ان دنوں گردونواح کے مشائخ میں سے ایک شیخ نے فقیر کے پاس پیغام بھیجا اور (اس طرح) اپنے احوال کا اظہار کیا کہ’’ مجھے فنا و محویت اس درجہ حاصل ہوگئی ہے کہ جس چیز پر نظر پڑتی ہے کچھ نہیں معلوم ہوتا (کہ کیا ہے) زمین و آسمان کو دیکھتا ہوں تو کچھ نہیں پاتا حتیٰ کہ عرش و کرسی کو بھی نہیں پاتا، اور جب خود کو ملاحظہ کرتا ہوں تو اپنے آپ کو بھی نہیں پاتا، اور اگر کسی کے پاس جاتا ہوں تو اس کو بھی نہیں پاتا۔ اور خدائے عزوجل و علا بے نہایت ہے اس کی نہایت کو کسی نے نہیں پایا، مشائخ نے اس کو کمال سمجھ لیا ہے اگر تو وہ بھی اسی کو کمال سمجھتا ہے تو پھر میں طلبِ حق جل و علا کے لئے تیرے پاس کیوں آؤں، اور اگر کسی اور بات میں کمال سمجھتا ہے تو تحریر کر۔‘‘
فقیر نے اس کے جواب میں لکھا کہ یہ احوال قلب کی تلوینات (قلبی کیفیات کا تغیر و تبدل) میں سے ہیں، اور قلب اس راہ کا زینۂ اوّل ہے۔ اور صاحبِ احوال نے ابھی مقامِ قلب کا ایک چوتھائی حصہ طے کیا ہے اور قلب کے باقی تین حصے اور طے کرنے چاہئیں، اس کے بعد دوسرے زینہ پر چڑھنا چاہئے جس سے مراد روح ہے۔ پھر جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہئے عروج حاصل ہو۔
اس ماجرے کے کچھ مدت بعد فقیر کے دوستوں میں سے ایک دوست نے جو اس طریقہ کو اخذ کر کے اپنے وطن گیا ہوا تھا، جب واپس آکر اپنا حال بیان کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا حال بالکل اس شیخ کے موافق ہے جس نے سوال کیا تھا بلکہ یہ دوست اس مقام میں اس (شیخ) سے بھی آگے قدم رکھتا ہے اور جب اس کے حال میں غور کیا گیا تو ظاہر ہوا کہ اس کی یہ فنا و محویت عنصرِ ہوا میں ہے جو ذرات میں سے ہر ذرہ کو محیط ہے اور ہوا کے علاوہ اور کوئی امر مشہود نہیں ہوا۔ اسی کو اس نے خدائے بے نہایت جان لیا ہے۔ تعالَی اللّٰہُ سُبْحَانَہ عَنْ ذَلِکَ عُلُوّاَ کَبِیراَ (اللہ تعالیٰ سبحانہ اس سے بہت بلند و بالا ہے)۔ دوسری مرتبہ اس دوست کو طلب کر کے جب اس کے احوال کی تفتیش کی تو یقین ہو گیا کہ اس کی گرفتاری کا سبب عنصرِ ہَوَا کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کو بھی اس (باطنی کیفیت) سے مطلع کر دیا اور جب اس نے بھی اپنے وجدان کی طرف رجوع کیا تو اس کو معلوم ہو گیا کہ اس کو ہَوَا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور اس نے اس احوال سے استغفار کر کے قدم آگے بڑھایا۔
جاننا چاہئے کہ عالمِ خلق جو عناصرِ اربعہ کا عالم ہے اور عالم ارواح کے درمیان قلب برزخ کے مانند ہے اور وہ دونوں عالم کا رنگ رکھتا ہے۔ گویا قلب کا نصف حصہ عالَمِ خلق سے متعلق ہے اور دوسرا نصف حصہ عالمِ ارواح سے۔ اور وہ دوسرا حصہ جس کو ہم نے عالمِ خلق سے متصف کیا ہے اگر اس (نصف حصہ کو) بھی نصف کریں تو معاملہ عنصرِ ہَوَا کا ہو جائے گا۔ پس قلب کے چوتھے حصہ سے مراد مقامِ ہَوَا ہے جو قلب کے ضمن میں ہے۔ لہٰذا جو کچھ آخر میں ظاہر ہوا وہ جوابِ اوّل کے موافق ہے اور اس کی حقیقت کے کشف کا بیان ہے۔اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ هَدٰنَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِىَ لَوۡلَاۤ اَنۡ هَدٰنَا اللّٰهُ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ (اعراف 7 آیت 43)(تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے ہم کو اس کی ہدایت دی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے اگر وہ ہم کوہدایت نہ دیتا ۔ بیشک ہمارے رب رسول حق بات لائے ہیں)۔
اس سے زیادہ (لکھنے کے لئے) وقت میں گنجائش نہیں: وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَعَلیٰ سَائِرِ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی وَالْتَزَمَ مُتَابَعَۃَ الْمُصْطَفٰی وَعَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ مِنَ الصَّلوَاتِ اَفْضَلِھَا وَمِنَ التَّسْلِیمَاتِ اَکْمَلِھِا(اور سلام ہو آپ پر اور ان سب پر جنہوں نے ہدایت کی پیروی کی اور حضرت محمد مصطفےٰ علیہ وعلیٰ آلہ من الصلوات افضلہا ومن التسلیمات اکملہا کی متابعت کو اپنے اوپر لازم جانا)۔
کچھ باتیں تجربے سے سامنے میں آتی ہیں۔ کچھ باتیں کشفیات کے ضمن میں آتی ہیں، جو ظنیات کے درجے میں ہوتے ہیں۔ اور کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں قرآن اور سنت میں تحقیق سے معلوم ہوتی ہیں۔
ظاہر ہے قرآن کی حفاظت کا وعدہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ بھی محفوظ ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں، اگر ان کے ساتھ تمسک کرو گے، ان کے ساتھ اپنے آپ کو چمٹاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔
جو ظنیات ہیں، جو وجدانیات ہیں، جو کشفیات ہیں ان میں خطا کا احتمال بہت ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ایسی چیزوں کو قرآن و سنت پر پیش کیا جاتا ہے اگر اس کے موافق ہو تو ٹھیک ہے ورنہ پھر رد ہے۔ قانون ہمارے مشائخ کا یہی ہے۔
ابھی جو بات چل رہی ہے اس میں بھی حضرت نے یہ بات فرمائی ہے کہ اسماء و صفات اس میں غور کرنے سے بعض دفعہ احوال و مواجید کا ظہور ہوتا ہے۔ اور اللہ جل شانہ کی ذات میں گم ہو جانا یہ ظاہر ہے ان تمام چیزوں سے انسان ورے ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے، اس وجہ سے اس میں کوئی تمثیل نہیں ہے، تو حیرت پر اس کا انجام ہوتا ہے انسان اپنے آپ کو حیرت میں مبتلا پاتا ہے۔ اور حیرت یقیناً، بے انتہا چیز کے بارے میں حیرت ہی ہوتی ہے۔ تو یہ بالکل چونکہ عام قاعدے کے مطابق ہے لہذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
اب حضرت نے جو اپنا طریقہ ہے نقشبندیہ سلسلے کا، اس میں جو عروج ہوتا ہے... عروج جو ہوتا ہے اس میں جو حقائق کے ذریعے سے سفر ہوتا ہے تو اس میں دو راستے ہیں۔ ایک حقیقتِ آدمی، حقیقتِ ابراہیمی، حقیقتِ موسوی، حقیقتِ عیسوی، حقیقتِ محمدی اس میں سیر ہے۔ اور دوسرا حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلوۃ، حقیقتِ کعبہ اسی میں سیر ہے۔
تو حضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ جو انبیاء کرام کے حقائق میں سیر ہے اس میں کشفیات کا غلبہ ہوتا ہے۔ اور آج کل کشف خطرے میں ہے۔ اس وجہ سے یہ جو دوسرا راستہ ہے حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلوۃ، حقیقتِ کعبہ، اس کے اندر خطرہ نہیں ہے اس راستے پہ جانا زیادہ مفید ہے۔
اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلوۃ اور حقیقتِ کعبہ، اس کا ہمارے ساتھ ہر وقت ایک تعلق ہوتا ہے۔ کیونکہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو حقیقتِ قرآن فائدہ دے گا، نماز پڑھیں گے تو حقیقتِ صلوٰۃ فائدہ دے گا، حج پہ جائیں گے یا نماز کے دوران بھی حقیقتِ کعبہ فائدہ دے گا۔ تو چونکہ یہ ہماری عبادات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں لہذا اس کا ہر وقت ہمیں فائدہ حاصل ہوتا رہے گا اور اس میں کشفیات کا بھی نہیں ہے۔
تو گویا کہ اسماء و صفات والا راستہ اور حقائقِ انبیاء والا راستہ اس میں چونکہ کشفیات و احوال و مواجید کا سامنا زیادہ ہوتا ہے لہذا اس کے بارے میں حضرت کی تحقیق یہ ہے کہ اس میں انسان زیادہ غور نہ کرے۔ لیکن اگر کوئی شیخِ کامل کے ساتھ ہو اور اپنے ہر حال کو ان کے اوپر پیش کرتا ہو اور اس میں پھر اپنی بات کو نہیں چلاتے ہو، تو پھر وہ محفوظ ہو گا کیونکہ جب بھی کبھی غلطی کرے گا تو شیخِ کامل اس کو بتا دے گا اور اس سے بچ جائے گا۔ اس لحاظ سے ایسی صورت میں ٹھیک ہے۔
جیسے ابھی اس میں ایک واقعہ آیا ہے کہ حضرت نے ایک صاحب کی اصلاح فرمائی۔ یہاں پر ایک صاحب نے جو اپنے احوال کا اظہار کیا کہ فنا و محویت ان کو اس درجہ حاصل ہو گئی تھی کہ جس چیز پر بھی نظر پڑتا تھا تو اس کو وہ غائب نظر آتا تھا ۔ اور ان کو اس وجہ حضرت سے بھی استفادے کے لیے مشکل ہو گیا، انہوں نے کہا کہ:
”اور جب خود کو ملاحظہ کرتا ہوں تو اپنے آپ کو بھی نہیں پاتا، اور اگر کسی کے پاس جاتا ہوں تو اس کو بھی نہیں پاتا۔ اور خدائے عزوجل و علا بے نہایت ہے اس کی نہایت کو کسی نے نہیں پایا، مشائخ نے اس کو کمال سمجھ لیا ہے اگر تو وہ بھی اسی کو کمال سمجھتا ہے تو پھر میں طلبِ حق جل و علا کے لئے تیرے پاس کیوں آؤں، اور اگر کسی اور بات میں کمال سمجھتا ہے تو تحریر کر۔‘‘
تو گویا کہ وہ فانی کب ہوا تھا؟ جب اس کی اپنے اوپر نظر پڑی۔ فانی تو نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ فانی ہوتا تو اپنے اوپر نظر ہی نہ پڑتی۔ ایسی بات ہی نہ کرتا۔
تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی اپنے حال کو ناقص انداز میں سمجھ کر اس کو کامل سمجھ لیتا ہے، ایک بات۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کو دوسرا سمجھ لیتے ہیں۔ جیسے دور سے ایک چیز نظر آ رہی ہو تو مثال کے طور پر میں اس کو پتھر سمجھوں، پتھر نہ ہو بادل ہو۔ یا بادل سمجھوں، وہ پتھر ہو یا کوئی درخت ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے۔ مطلب دور سے انسان کو غلطی کا گمان ہو سکتا ہے، تو جو ظنیات ہے اس میں تو یہ چیزیں چلتی ہیں۔
تو اس کے بارے میں حضرت نے تحقیق فرمائی کہ انسان کے ایک نفس ہے اور چار عناصر ہیں۔ آب و باد، خاک، نار۔ چار عناصر ہیں۔ ان کے اپنے اپنے خواص ہیں، طبیعتوں کے اوپر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تو ہوا چونکہ Transparent ہے اور Volatile ہے، تو اس وجہ سے اس میں فنا کی کیفیت ہوتی ہے۔ تو اس پہ دھوکا ہو جاتا ہے کہ شاید میں فنا ہو گیا ہوں، حالانکہ وہ فنا نہیں ہوتا اس کو اپنا جو اس عنصر کا جو ہے اثر ہے، یعنی ہوا کا، وہ مکشوف ہو چکا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں فانی ہو گیا ہوں۔
تو حضرت نے اس پر ارشاد فرمایا کہ ابھی تو آپ کو صرف چوتھائی حصے کا کشف ہوا ہے، یعنی چار عناصر ہے تو اس میں سے ایک کا ہوا ہے۔ ابھی تو اور باقی ہے۔ اور یہ ہوا والا ہے۔
اس طرح حضرت نے اپنے ایک اور دوست کے بارے میں فرمایا کہ ان کو بھی اس قسم کی بات تھی، ان کو بھی میں نے مطلع کر دیا کہ یہ تو ہوا ہے۔ فرمایا کہ:
جاننا چاہئے کہ عالمِ خلق جو عناصرِ اربعہ کا عالم ہے اور عالم ارواح کے درمیان قلب برزخ کے مانند ہے
قلب کا ایک حصہ عالَمِ خلق کی طرف ہے دیکھیں نا حضرت نے کیا فرمایا ہے؟ میرے خیال میں کسی اور موقع کے اوپر فرمایا تھا، کہ قلب کے اندر روح اور نفس گتھم گتھا ہوتے ہیں، فرمایا تھا نا؟ تو روح کیا ہے؟ عالمِ امر ہے۔ اور نفس؟ ( عالمِ خلق) ہاں تو اِن دونوں میں؟، ٹھیک ہے نا، برزخ ہے۔ یہ برزخ ہے۔ تو یہ
قلب برزخ کے مانند ہے اور وہ دونوں عالم کا رنگ رکھتا ہے۔ گویا قلب کا نصف حصہ عالَمِ خلق سے متعلق ہے اور دوسرا نصف حصہ عالمِ ارواح سے، روح سے۔ ۔ اور وہ دوسرا حصہ جس کو ہم نے عالمِ خلق سے متصف کیا ہے اگر اس (نصف حصہ کو) بھی نصف کریں... نصف حصے کو بھی نصف کر دیں، یعنی چار عناصر ہیں نا، نصف کو بھی نصف کر دیں، تو معاملہ عنصرِ ہَوَا کا ہو جائے گا۔
تو چونکہ یہ مقامِ قلب میں تھا اور مقامِ قلب کے اس نے صرف ایک ربع، وہ نصف حصے کا طے کیا تھا۔ ایک ربع طے کیا تھا تو وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید میں فانی ہو گیا ہوں۔ ابھی فانی کہاں ہوا ہے؟
پس قلب کے چوتھے حصہ سے مراد مقامِ ہَوَا ہے جو قلب کے ضمن میں ہے۔ لہٰذا جو کچھ آخر میں ظاہر ہوا وہ جوابِ اوّل کے موافق ہے
تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو ظاہر ہے اپنے کشفیات پر اور احوال و مواجید پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم لوگ ان چیزوں کے لیے نہیں پیدا کیے گئے ہیں۔ ہمیں تو شریعت پر عمل کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ شریعت پر عمل کرنے کے لیے۔ لہذا شریعت پر عمل جس چیز میں آسان ہے اور جس چیز کے ذریعے سے نصیب ہوتا ہے، وہی ذریعہ مقصود ہے۔ وہی ذریعہ مقصود ہے۔
سیر الی اللہ، اس پہ میں کافی عرصے سے بات کر رہا ہوں آج کل۔ تو سیر الی اللہ جو ہوتا ہے یہ اصل میں شریعت کی تیاری ہے۔ سیر الی اللہ جو ہے کیا ہے؟ شریعت کی تیاری ہے۔ کیونکہ سیر الی اللہ میں جو حائل چیزیں ہیں وہ تین ہیں۔ نفس حائل ہے، اور قلبِ سقیم حائل ہے، نفسِ امارہ حائل ہے، قلبِ سقیم حائل ہے، اور عقلِ ناقص حائل ہے دنیاوی۔ یہ تینوں چیزیں حائل ہیں۔ لہذا عقل کو عقلِ فہیم بنانا پڑے گا، قلب کو قلبِ سلیم بنانا پڑے گا، نفس کو نفسِ مطمئنہ بنانا پڑے گا۔ یہ تینوں چیزیں جب ہو جاتی ہیں تو شریعت پر عمل نصیب ہو جاتا ہے۔
کیونکہ دنیا کی محبت جب دل سے نکلتی ہے تو انسان کو راستہ نظر آتا ہے، ہدایت ملتی ہے۔ اور نفس جب مطمئن ہو جاتا ہے تو عمل کی توفیق ہو جاتی ہے۔ عمل کی توفیق ہو جاتی ہے۔ اور عقل جب سمجھدار ہو جائے تو پھر وہ صحیح راستہ دکھاتا ہے اور صحیح راستہ سمجھاتا ہے۔ تو ظاہر ہے عقل جب فہیم ہو جاتا ہے تو پھر اس کو شریعت میں کامیابی نظر آتی ہے اور شریعت کی سمجھ بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے "عوارف المعارف" میں جو فرمایا ہے وہ یہی تو فرمایا ہے کہ نفس قابو ہو، اور عقل فہیمِ سنت ہو اور قلب یہ پاک ہو، قلب پاک ہو دنیا کی محبت سے۔ دنیا کی محبت سے قلب پاک ہو، نفس قابو میں ہو، اور عقل فہیمِ سنت ہو، یعنی فہیمِ سنت ہو۔ سنت سمجھتا ہو۔
تو بس پھر اس کے بعد پھر شریعت پر عمل... کیونکہ سنت کیا ہے؟ شریعت ہے نا۔ سنت کیا ہے؟ شریعت ہے۔ ایک دفعہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے خط لکھا کہ حضرت میں تو بس اب سب کچھ چھوڑ گیا ہوں بس میں تو کہتا ہوں کہ سنت پر ہی عمل چاہیے بس سنت پر۔ شیخ کامل اسی کو کہتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا ہاں بات تو یہی ہے لیکن سنت کو آپ کیا سمجھے؟ سنت کو آپ کیا سمجھے؟ فرمایا سنت کی جگہ شریعت کو رکھ دیں، شریعت سنت ہے۔ شریعت پر عمل کیا ہے؟ ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا لائے؟ شریعت۔ یہی بات ہے نا۔
تو بعض لوگ ناسمجھی کی وجہ سے صحیح بات کو بھی غلط طریقے سے کر لیتے ہیں۔ جیسے بعض حضرات اپنے آپ کو اہلِ حدیث کہتے ہیں۔ حالانکہ اہل سنت کہنا چاہیے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اہل سنت کہنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت پر عمل کا ہمیں مکلف کیا گیا ہے۔ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں۔ ایک قرآن اور دوسرا کیا؟ سنت۔ حدیث نہیں فرمایا۔ میں تم میں دو چیزیں چھوڑی... ایک قرآن اور دوسرا حدیث، یہ تو نہیں فرمایا نا۔ کیا فرمایا؟ سنت۔ سنت... حدیث سنت کی خبر ہے۔ سنت کی اطلاع ہے، یعنی سنت کا اس سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن اگر خبر میں کوئی نقص ہو، جیسے ضعیف حدیث ہوتا ہے یا... ظاہر ہے اس میں منقطع ہوتا ہے یا کوئی اور چیز ہو، حدیث تو وہ بھی ہوتی ہے۔ تو ظاہر ہے اس پہ عمل تو ہم نہیں کر سکتے۔ عمل تو کس چیز پہ ہم کریں گے؟ جو سنت ہے اس پہ، اور ظاہر ہے سنت کس چیز سے پتہ چلے گا؟ وہ جو صحیح حدیث ہے ان سے سنت کا پتہ چلے گا۔ لیکن غور کرنے سے، کیونکہ کئی صحیح احادیث شریف جو ہوں گی، اس سے جو مفہوم مجموعی آئے گا، اس سے کس چیز کا پتہ چلے گا کہ یہ سنت ہے۔ کیونکہ ہر ایک نے جس چیز کو جس انداز میں دیکھا اس طرح بیان کر دیا۔ اس طرح بیان کر دیا۔ تو اب اس کے بعد اس کا جو مجموعی تاثر...
تھوڑا سا میں اس کو ذرا Engineering point of view سے سمجھاؤں۔ ہم کسی Structure کا جب ڈرائنگ بناتے ہیں، کیسے بناتے ہیں؟ کیا چیزیں ہوتی ہیں اس میں؟ Views ہوتے ہیں۔ ایک Elevation ہوتا ہے، ایک Plan ہوتا ہے، ایک Side ہوتا ہے۔ تو Elevation, Side اور Plan یا Top view جو بھی ہے، ان کو ملا کے اس سے پھر Complete projection بنتی ہے، یہی بات ہے نا؟ تو اسی طریقے سے مختلف طرق سے جو احادیث شریفہ صحیح آتی ہیں اس سے سنت کا پتہ چلتا ہے کہ اصل سنت کیا ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو ہم تو سنت پر عمل کر رہے ہیں۔ سنت پر عمل کر رہے ہیں۔ تو سنت جو بھی ہو گا وہ جیسے ہی احادیث شریفہ سے اس کا ہمیں پتہ چلے گا... اور سنت سمجھنے کے لیے فقیہ ہونا ضروری ہے۔
سنت سمجھنے کے لیے کیا ہے؟ فقیہ ہونا ضروری ہے۔ تو فقہاء کی بات درمیان میں آئے گی۔ لہذا جو کوئی درمیان سے فقہاء کو نکال رہے ہیں، وہ اصل میں سنت سے اپنے آپ کو کاٹ رہے ہیں۔ جو درمیان سے فقہاء کو نکال رہے ہیں، وہ اصل میں اپنے آپ کو سنت سے کاٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے فہمِ ناقص کو فہمِ کامل سمجھے ہوئے ہیں۔ آخر یہ بھی تو حدیث شریف ہی ہے نا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمانا چاہے تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرما لیتے ہیں۔ تو دین کی جس کو سمجھ ہے، جو فقہاء ہیں، وہ ہمارے لیے بنیاد ہیں ان تمام چیزوں کے سمجھنے کا۔
تو بہرحال بات صرف اتنی تھی جو آگے بڑھ گئی، وہ یہ ہے کہ شریعت پر اصل میں عمل ہے۔ اور شریعت کے لیے تیاری ہے۔ سیر الی اللہ جو ہے وہ کس چیز کے لیے ہے؟ شریعت کے لیے ہے۔ جس وقت سیر الی اللہ طے ہو جائے، اس کے بعد، تفصیلات ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ سیر فی اللہ شروع ہو جاتا ہے، اور سیر فی اللہ کیا ہوتا ہے؟ بعینہٖ یہی شریعت پر عمل ہے۔۔۔ بس۔۔۔ اس میں اور کچھ نہیں زیادہ۔ وہ جو ذرائع، جن کو ہم سیر الی اللہ کے ذرائع کہتے ہیں اس کی ضرورت پھر نہیں رہتی، کیونکہ سیر الی اللہ وہ تو اس کی تھی نا، وہ تو مکمل ہو گئی۔ وہ تو مکمل ہو گئی۔
بھئی ٹھیک ہے جی آپ لاہور آپ نے جانا تھا، بڑی خوبصورت گاڑی میں آپ بیٹھ گئے، اور اس کے ذریعے سے آپ لاہور پہنچ گئے ہیں۔ اور لاہور پہنچ کے اس سے لوگ کہتے ہیں بھئی لاہور ہے آ جاؤ نیچے، کہتے ہیں یہ گاڑی بڑی خوبصورت ہے میں تو نہیں نیچے اترتا۔ تو اس کو آپ کیا کہیں گے؟ بیوقوف تیرا گاڑی میں بیٹھنا مقصد تھا یا لاہور پہنچنا مقصد تھا؟ تو اگر لاہور پہنچنا مقصد تھا تو لاہور آ گیا نیچے اتر آؤ۔ اور اگر آپ کو گاڑی میں بیٹھنا مقصود ہے تو چلتے رہو۔ ٹھیک ہے نا؟
تو یہ جو سیر الی اللہ ہے جب مکمل ہو جائے، اس کے بعد سیر فی اللہ شروع ہو جاتا ہے، تو سیر فی اللہ یہی شریعت پر ہی عمل ہے۔ بلکہ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے نقشِ قدم پر اب چل سکتے ہیں۔ سیر الی اللہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تھی۔ یعنی سیر الی اللہ میں آپ نے وہ رکاوٹیں دور کر لیں جو آپ کو صحابہ کے طرز پر چلنے میں روک رہی تھیں۔ اس سے روک رہی تھیں۔ سیر الی اللہ مکمل ہو گیا، اب آپ صحابہ کے نقش قدم پہ چلیں، صحابہ کے... مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی پر عمل کریں۔
عمل تو یہی ہے، جس پر میں ہوں، جس پر میرے صحابہ ہیں۔ اب صحابہ کا کیا طریقہ تھا؟ بتاتا ہوں۔ کیا خیال ہے انہوں نے وہ مراقبے کیے تھے؟ یا انہوں نے ضربیں لگائی تھیں؟ ان کو ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ ان کو ضرورت ہی نہیں تھی، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ سب کچھ... ان کی... اس چیز کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس وجہ سے وہ کیا کرتے تھے؟ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ اسی میں ان کو سارا کچھ ملتا تھا۔ وہ ذکر اللہ کرتے تھے، تسبیح کرتے تھے۔ وہ اس کے ذریعے سے ان کو ملتا تھا۔ وہ دعائیں کرتے تھے۔ اس کے ذریعے سے ان کو ملتا تھا۔ وہ نوافل پڑھتے تھے اپنے طور پر، اس کے ذریعے سے ان کو ملتا تھا۔ قرب بالفرائض، قرب بالنوافل ہر وقت ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ قرب بالفرائض بھی صرف عبادات میں نہیں ہے، تمام چیزوں کے اندر ہے قرب بالفرائض۔ اور قرب بالنوافل بھی صرف عبادات میں نہیں ہے، تمام چیزوں میں ہے۔ لہذا قرب بالفرائض اور قرب بالنوافل کے ذریعے سے وہ ماشاء اللہ قرب کے سیڑھیاں چڑھتے جا رہے تھے۔
یہ تو عام طریقہ تھا، لیکن جب کبھی ان کو کوئی ضرورت پڑتی کسی مجاہدے کی تو بلا تکلف اس کو کر لیتے تھے۔ جیسے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ انہوں نے دیکھا کہ مجھے اثر ہو گیا ہے امیر المومنین کے طور پر ملاقاتیں ہوئیں، اثر ہوا، تو انہوں نے فورا اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ انہوں نے ایک مزدوری کا کام کر دیا بوری اٹھا کے... لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیوں؟ تو فرمایا کہ میں نے چونکہ امیر المومنین کی حیثیت سے وفود کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، تو اب نفس پہ اس کا اثر ہوا، لہذا میں اس کو ٹھیک کر رہا ہوں۔
تو نفس کا جو مجاہدہ ہے یہ بضرورت کامل کو بھی ہو سکتا ہے... پڑ سکتا ہے۔ کامل کو بھی ضرورت پڑ سکتا ہے، نفس کا مجاہدہ۔ اور اس طریقے سے دل پہ کوئی اثر آ جائے، آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قمیض کو اتار پھینکا تھا جو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تھا، کہ آپ نے تو میرے دل کو خراب کر دیا۔ تو قمیض کو اتار دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی قمیض اچھی نظر آئی تو اس کی آستینیں کاٹ دیں۔ ٹھیک ہے؟
ظاہر ہے تو یہ جو مجاہدہ ہے، گویا کہ نفس کی جو فہمائش ہے، یہ کاملین بھی کرتے ہیں۔ یہ کاملین بھی کرتے ہیں۔ میرے ساتھ خود ہوا ہے، ماشاء اللہ ہمارے حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ایک دن میں گیا ہوں، کیونکہ چونکہ میں الحمد للہ حضرت کے ساتھ بہت ہی بے تکلفی سے بات کرتا تھا حضرت کے حکم کے مطابق۔ تو لہذا ہر قسم کی بات میں حضرت کے ساتھ کر لیتا تھا۔ تو دیکھا کہ ایک وقت عصر کی نماز کا وقت تیزی سے جا رہا ہے اور حضرت کسی چیز کے ڈھونڈنے میں مشغول ہیں، اس پر بڑے غصہ ہے کہ وہ نہیں مل رہی تھی۔ تو میں نے کہا حضرت عصر کا وقت مکروہ ہو رہا ہے۔ عصر کا وقت مکروہ ہو رہا ہے، اس کا مطلب ہے جلدی آپ نماز پڑھ لیں۔ تو اس وقت چونکہ حالت ایسی تھی، طبیعت پہ اس چیز کا اثر تھا، تو فرمایا بڑے غصے سے کہ ہماری ساری زندگی مکروہ ہے۔ ہماری ساری زندگی مکروہ ہے۔
خیر نماز تو پڑھ لی لیکن تھے تو معذور، مفلوج تھے۔ لہذا نماز چونکہ گھر پہ پڑھتے تھے، مغرب کی نماز کے لیے روانہ ہوئے۔ کہتے ہیں چلو چلتے ہیں مسجد چلتے ہیں۔ میں نے کہا حضرت آپ تو... فرمایا نہیں، میں نے چونکہ ایسی بات کی تھی اب اس کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ میں نے چونکہ ایسی بات کی تھی اس کو پھر فرمایا کہ... ایک عربی کا لفظ استعمال کیا... جو مطلب پٹی ہوتی ہے نا، کسی زخم کو پٹی لگاتے ہیں۔ تو اس کا عربی میں... وہ کہتے ہیں کہ یہ اس کا کام دے گا۔ مطلب چونکہ نقصان اس سے ہوا ہے تو اس کو میں دور کرنا چاہتا ہوں۔ تو پھر حضرت ماشاء اللہ مسجد چلے گئے، باقاعدہ یعنی مجاہدہ کر کے چلے گئے اور مسجد میں ہم نے جماعت سے نماز پڑھ لی۔ ٹھیک ہے نا؟ اب چونکہ کامل تھے لہذا جیسے ہی حضرت کو احساس ہوا کہ یہ مسئلہ تو ہے، تو فورا جو ہے نا اپنا علاج کر دیا۔
تو جس وقت جس کی تکمیل ہو جاتی ہے، ان کو اپنے نفس، قلب اور عقل کا دھیان حاصل ہوتا ہے کہ کس Condition میں ہے۔ کیونکہ انہوں نے Reference دیکھا ہوتا ہے کہ اصل چیز کیا ہے۔ تو اصل چیز کے ساتھ ہمیشہ ان کی Comparison چلتی رہتی ہے۔ اگر کچھ گڑبڑ نظر آ جائے اس وقت وہ فورا اس گڑبڑ کی علاج کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ علاج وقتی ہوتا ہے۔ وہ علاجی چیز مقصود نہیں ہوتا بلکہ اتنی دیر کے لیے مقصود ہوتا ہے جس دیر کے لیے وہ چاہیے ہوتا ہے۔
ایک عجیب بات ہے۔ یا کریم۔ یہ سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ کی باتیں تو آج کل میں بہت کر رہا ہوں۔ کیا کریں آج کل بہت مسائل ہیں۔ چیزیں پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچی ہوئی ہیں۔ تو میں نے ایک نقشبندی شیخ کو اپنا جو نقشبندی طریقے کا خلاصہ وہ بھیجا اور ساتھ یہ بھی بھیجا۔ وہ جو سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ کا۔ تو میں نے کہا سیر فی اللہ میں پھر جو اعمالِ شریعت ہیں، اور تقرب بالفرائض، تقرب بالنوافل کی جو چیزیں ہیں، وہی کرنا پڑتا ہے اور کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ بس یہی ہوتا ہے۔
تو حضرت نے مجھے لکھا کہ ماشاء اللہ بہت خوب لکھا ہے لیکن اگر "عشرہ"... جو "لطائف" ہیں، اس کو بھی ساتھ کر لیتے تو بہت بہتر ہوتا۔ اب میرے ذہن پر اس کا بڑا بوجھ تھا۔ میں نے کہا کہ اگر میں عشرہ لطائف پہ جاؤں تو پھر دوبارہ سیر الی اللہ میں جانا پڑے گا۔ کہ سیر الی اللہ میں دوبارہ جانا پڑ گیا نا، وہی چیز دوبارہ میں کر رہا ہوں۔ حالانکہ مجھے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ملفوظ یاد ہے کہ حضرت کو کسی اپنے ساتھی نے کہا کہ حضرت نقشبندی سلسلے میں میں نے کچھ کام کیا ہے اور اس میں لطائف کبھی اس طرح چلتے ہیں اور یہ ہوتا ہے، وہ ساری تفصیلات بتا دیں۔ پھر پوچھا کہ حضرت کیا میں آپ کے طریقے پہ دوبارہ یہ تمام چیزیں کرلوں، یعنی جو آپ کا طریقہ ہے۔
تو حضرت نے فرمایا کہ اپنے طریقے میں آپ کو کیفیتِ احسان حاصل ہے؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمایا دوبارہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آپ دوبارہ کوئی کتاب، غالباً "چھوٹی کتاب" نام لے لیا جو مدرسوں میں پڑھتے ہیں، فرمایا اس کو دوبارہ پڑھنا چاہتے ہو؟ بس پڑھ لیا تو پڑھ لیا نا۔ پھر اس کے بعد دوبارہ کیا کرنا چاہتے ہو؟ تو مجھے یہ چیز چونکہ یاد تھی لہذا میری طبیعت پہ بوجھ تھا کہ میں حضرت کو کیسے سمجھاؤں۔ اتنے میں کسی کو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے بالکل ایک Complete پیغام بھیجا اور پیغام یہ بھیجا کہ یہ جو سیر الی اللہ میں جو چیزیں ہیں، یہ ذرائع ہیں۔ اگر کوئی اس کو مقصود بنا لے تو یہ تو بدعت کی طرف چلا جائے گا۔ اگر کوئی اس کو مقصود بنا لے تو یہ تو بدعت کی طرف چلا جائے گا۔ بات سمجھ آرہی ہے یا نہیں آرہی؟
—--------------
—-
—--
مقصود تو ہے نہیں، ذرائع ہیں نا۔ تو ذرائع کو اگر کوئی مقصد بنا لے تو مقصود۔۔۔ مقصود۔۔۔ مقصود میں اضافہ ہوا نا۔ جب مقصود میں اضافہ ہو گیا تو بدعت ہو گیا، کیونکہ دین میں تو اضافہ نہیں ہو سکتا۔
یہ بہت۔۔۔ اس سے مجھے پتہ چلا کہ اس وقت ماشاءاللہ مشائخ کی نظر اس چیز پر بہت زیادہ ہے کہ یہ چیز صحیح ہو جائے۔ یہ چیز جو آج کل گڑبڑ ہو گئی ہے، یہ چیز صحیح ہونی چاہئے۔ ورنہ پھر واقعتاً۔۔۔ واقعتاً حق سے انسان دور چلا جاتا ہے۔ جو حق ہے اس سے انسان دور چلا جاتا ہے۔
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب وقت میں اپنا کام کر لیا۔ اور چیزوں کو بالکل ٹھیک ٹھیک اپنی جگہ پہ بٹھا دیا۔ لیکن بعد میں پھر دوبارہ۔۔۔ دیکھئے عجیب و غریب بات ہے نا، آپ کوئی بھی کام کرے تو اس کام میں ایک وقت کے بعد پھر دوبارہ اصلاح کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوبارہ۔۔۔ کیونکہ لوگ کیا کرتے ہیں جیسے اب صحابہ کرام کی محبت میں کسی نے کتابیں لکھی اور اہل بیت کو چھوڑ دیا۔
تو جو اہل سنت والجماعت تھے انہوں نے پھر اہل بیت کے اوپر لکھنا شروع کر لیا۔ کہ اب چونکہ وہ چھوڑ دیے تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی اصل سے ہٹ نہ جائیں۔ تو جب لوگ اہل بیت کی طرف بہت زیادہ چلے گئے تو پھر لوگوں کو صحابہ کے بارے میں لکھنا پڑا۔ کہ اب وہ ہی۔۔۔ وہ ہی۔۔۔ وہاں پر دوبارہ مسئلہ ہو گیا۔
تو اس طرح یہ Sine wave چلتا رہتا ہے۔ یہ چلتا رہتا ہے مطلب اپنے جو Mean value ہے اس سے اوپر نیچے یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں وقت کے ساتھ ساتھ۔ تو مقصود یہ ہے کہ وہ جو اصل شریعت ہے جو Mean line ہے۔ اس Mean line سے اگر اوپر ہو تو نیچے آؤ اور اگر نیچے ہو تو اوپر جاؤ۔ طریقہ یہ ہوگا۔ تو پھر آپ جو ہے نا وہ صحیح راستے پہ جائیں گے۔
تو یہ چیزیں جو ہے نا مطلب ہم ہے، اس کو اسی انداز میں سمجھنا چاہیے، اللہ جل شانہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔
مکتوب نمبر 265، شیخ عبد الہادی بدایونی کی طرف صادر فرمایا ہے، اس عزلت اختیار کرنے میں، حقوق اس کے مناسب۔
آپ کے نام صرف یہی ایک مکتوب ہے، آپ بڑے عالم فاضل اور مشہور مشائخ میں سے تھے، آپ نے پہلے حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ سے بیعت کی، بعدہ سالہا سال دراز تک حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں گزارے اور اجازت و تعلیم طریقت سے مشرف ہوئے۔ 9 شعبان 1041 کو انتقال ہوا اور خرم شاہ کے تکیہ بدایون میں آپ کا مزار ہے۔
حمد و صلوۃ و تبلیغِ دعوات کے بعد واضح ہو کہ میرے سعادت مند بھائی کا مکتوبِ مرغوب موصول ہو کر بہت زیادہ خوشی کا باعث ہوا، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ مفارقت و جدائی کے عرصہ دراز نے محبت و اخلاص اور مودت و اختصاص میں کوئی تاثیر نہیں کی۔ اس کے باوجود اگر آپ یہاں تشریف لاتے تو زیادہ مناسب تھا، الْخَيْرُ فِي مَا صَنَعَ اللهُ سُبْحَانَهُ، اور بہتری اسی میں ہے جو اللہ تعالیٰ کرے۔
آپ نے گوشہ نشینی اختیار کرنے کی آرزو کی تھی، ہاں بے شک گوشہ نشینی صدیقین کی آرزو ہے، آپ کو مبارک ہو۔ آپ گوشہ نشینی اختیار کریں اور اس طریقے سے رہیں کہ مسلمانوں کے حقوق کی رعایت ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ۔مسلمانوں کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے ساتھ چلنا، دعوت کا قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔
لیکن دعوت قبول کرنے میں بھی چند شرطیں ہیں۔ "احیاء العلوم" میں لکھا ہے اگر طعام مشتبہ ہو یا دعوت کا مکان اور وہاں کا فرش حلال نہ ہو اور وہاں ریشمی فرش اور چاندی کے برتن ہو یا چھت یا دیوار پر جانداروں کی تصویر ہو یا باجے اسماعی کے... باجے سماع کی میں کوئی چیز موجود ہو یا کسی قسم کا لہو و لعب کا شغل ہو یا غیبت و چغلی، بہتان و جھوٹ وغیرہ سننا پڑے، تو ان سب صورتوں میں دعوت کا قبول کرنا منع ہے۔ اور یہ سب امور دعوت کی حرمت و کراہت کا موجب ہے۔ اسی طرح اگر دعوت کرنے والا ظالم یا فاسق یا مبتدع، بدعتی یا شریر یا تکلف کرنے والا اور فخر و مباہات کا طالب ہے تب بھی یہی حکم ہے۔ اور شرائط اسلام میں ہے کہ ایسے طعام کی دعوت قبول نہ کرے جو ریا و سمعہ کے لیے تیار کی گئی ہو۔ اور "محیط" میں ہے کہ جس دسترخوان پر لہو و لعب یا فسق و فجور کا سامان ہو وہاں لوگ غیبت کرتے ہوں اور شراب پیتے ہوں وہاں بیٹھنا نہیں چاہیے۔
اگر یہ سب موانع موجود نہ ہوں تو دعوت قبول کرنے سے چارہ نہیں، لیکن زمانے میں ان موانع کا مفقود ہونا دشوار ہے۔ اور یہ جان لے:عزلت از اغیار باید نے ز یار(غیر سے دوری نہ کہ ہرگز یار سے)کیونکہ امراضوں کے ساتھ صحبت رکھنا اس طریقے عالیہ کی سنتِ مؤکدہ ہے۔
حضرت خواجہ نقشبند نے فرمایا کہ ہمارا طریق صحبت ہے، کیونکہ خلوت میں شہرت ہے اور شہرت میں آفت۔ اور صحبت میں ان کی مراد طریقت سے موافقت کرنے والوں کی صحبت ہے۔ اور صحبت سے ان کی مراد طریقت سے موافقت کرنے والوں کی صحبت ہے نہ کہ مخالفینِ طریقت کی صحبت۔ کیونکہ ایک کا دوسرے میں فانی ہونا صحبت کی شرط ہے، جو موافقت کے بغیر میسر نہیں ہوتا۔
اور مریض کی عیادت سنت ہے، جب کسی بیمار کی کوئی خبرگیر اس کے حقوق کی تمنائی... نگہبانی کرتا ہو، ورنہ اس بیمار کی عیادت، بیمار پرسی واجب ہے۔ جیسا کہ مشکوۃ کے حاشیہ میں ہے اور نمازِ جنازہ میں حاضر ہونے کے لیے کم از کم چند قدم جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیے تاکہ میت کا حق ادا ہو جائے۔ اور جمعہ، جمعات اور نمازِ پنجگانہ، نمازِ عیدین میں حاضر ہونا ضرورتِ اسلام میں سے ہے کہ جن سے چارہ نہیں ہے۔ اور باقی وقتوں کو تبتل کے ساتھ تنہائی اور گوشہ نشینی میں گزارے لیکن پہلے نیت کی تصحیح کر لے اور گوشہ نشینی کو دنیا کی کسی غرض سے آلودہ نہ کرے اور ذکرِ جل شانہ کے ساتھ باطنی جمعیت کے حاصل ہونے اور بے فائدہ اور بے کار شغلی سے مامون ہونے کے سوا گوشہ نشینی سے اور کوئی غرض مقصود نہ ہو۔ اور تصحیحِ نیت میں بڑی احتیاط کرے۔ ایسا نہ ہو کہ اس ضمن میں کوئی نفسانی غرض پوشیدہ ہو۔ اور نیت کے درست کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حضور التجا و تضرع بہت زیادہ کرے اور عاجزی و انکساری اختیار کرے تاکہ حقیقتِ نیت میسر ہو جائے۔ ساتھ استخارہ کریں، تاکہ تصحیحِ نیت کے ساتھ گوشہ نشینی کی تاکید ہو سکے۔ امید ہے کہ اس پر بڑے بڑے فائدے مرتب ہوں گے۔ باقی حالات کو ملاقات پر موقوف رکھیں۔
سبحان اللہ۔ جو خلوت سیر الی اللہ کے لیے کی جائے... پھر دوبارہ سیر الی اللہ... جو خلوت سیر الی اللہ کے لیے کی جائے اس پہ پابندی نہیں ہے۔ لیکن جو سیر فی اللہ کے طور پہ کی جائے ساری بحث اس میں ہے۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ کیونکہ جو صاحب ہیں یہ ماشاء اللہ کامل تھے ان سے، ان سے فرما رہے ہیں۔ تو ان کے ہاں تو سیر فی اللہ کی بات تھی نا۔
تو جو سیر الی اللہ کے دوران خلوت ہے اس کے بارے میں یہ باتیں نہیں ہیں۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ انسان اپنی اصلاح جب کرتا ہے تو اس صورت میں کر سکتا ہے جب وہ محفوظ ہو۔ ورنہ ساتھ ساتھ اگر شر بھی بڑھ رہا ہو اور آپ خیر کے لیے بھی کام کر لیں تو خیر کے کام ضائع ہوتے رہیں گے۔ مثلاً آپ کسی جو ہے نا مطلب جگہ کی صفائی کریں اور باہر سے اس میں گند آ رہا ہو مسلسل۔ تو جب تک آپ باہر والے گندوں کو روکیں گے نہیں تو اس جگہ کی صفائی آپ کر سکتے ہیں؟ آپ صاف کرتے رہیں گندا ہوتا جائے گا، صاف کرتے رہیں گندا ہوتا جائے گا۔
تو اس درجے کی صفائی حاصل کرنا کہ آپ کو اس سے اتنی تقویت ہو کہ جب باہر جائیں تو باہر کے گند کا آپ کا دل مقابلہ کر سکے۔ اس حد تک خلوت حاصل کرنا یہ سیر الی اللہ کے لیے ضروری ہے۔ تو یہ سیر الی اللہ... یہ جو خلوت ہے یہ اور ہے۔
باقی یہ کہ یہاں پر جو ارشاد فرمایا الحمد للہ، حضرت نے فرمایا کہ چونکہ شریعت پر عمل ہے نا، بنیادی طور سیر فی اللہ میں کیا ہے؟ شریعت پر عمل ہے۔ تو شریعت پر عمل میں پانچ باتیں فرمائی یہ حقوق ہیں اسلام کے، مسلمانوں کے، حقوق ہیں۔ ان حقوق کو پورا کرنا پڑے گا۔ ایک آدمی خود بیمار ہو تو دوسرے بیمار کو ہسپتال لے جا سکتا ہے؟ وہ تو خود ہسپتال جائے گا۔ اس پہ دوسرے بیمار کو ہسپتال لے جانا، وہ ہے؟ اس پہ تو نہیں ہے۔ وہ جو صحت مند ہیں ان کے اوپر ہے نا۔ وہ جو صحت مند ہے ان کے اوپر ہے۔
تو اس وجہ سے جو پانچ حقوق ہیں وہ یہ ہے کہ ایک تو یہ کہ سلام کا جواب دینا، بالکل۔ مریض کی عیادت۔ جنازے کی مطلب جو ہے نا وہ شامل، اندر شامل ہونا۔ دعوت کا قبول کرنا۔ اور چھینک کا جواب دینا۔ اس میں بعض تو ماشاء اللہ ہر وقت کیے جا سکتے ہیں اور بعض کے لیے شروط ہیں۔ ان میں جو شروط ہیں ان میں دعوت قبول کرنے کے لیے شروط حضرت نے بیان فرمائیں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ دعوت کو قبول کرنا خیر کے لیے ہے، تو اگر اس سے شر غالب ہو جائے تو پھر تو ظاہر ہے آپ نہیں کریں گے۔
تو شر کے بارے حضرت نے لکھا ہے کہ اگر طعام مشتبہ ہو یا طریقہ صحیح نہ ہو یا نیت کرنے والے کی صحیح نہ ہو تو پھر ظاہر ہے مطلب ہے کہ آپ تو نہیں کریں گے۔ تو اس وجہ سے جو طریقہ کار ہے اس کو بھی دیکھا جائے گا، نیت کو بھی دیکھا جائے گا اور طعام کو بھی دیکھا جائے گا کہ وہ کیسا ہے۔ اگر کوئی اس میں کوئی گڑبڑ نہ ہو تو پھر دعوت قبول کرنا چاہیے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ جو عزلت ہے مطلب جو ہے نا وہ فرمایا کہ... جو یہ فر... جیسے فرمایا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ بری صحبت سے خلوت اچھی ہے اور اچھی صحبت خلوت سے اچھی ہے۔ لہذا جو اپنے سلسلے کے لوگ ہیں جن سے فائدہ ہو، جن کی صحبت اچھی ہو، تو وہ تو ٹھیک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نقشبندی سلسلہ یہ زیادہ تر چلتا ہے صحبت پر۔ صحبت پر چلتا ہے۔
کیسے صحبت پر چلتا ہے بتاتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں فاعلات جو ہیں... فاعلات... وہ فاعلات سارے اس میں یہی بات ہے کہ اس میں شیخ کا جو اثر ہے وہ انسان لیتا ہے۔ شیخ کے، شیخ کا اثر۔ شیخ کا اثر ان کے لطائف پہ پڑتا ہے، دل پہ پڑتا ہے۔ تو اس وجہ سے جتنا جتنا ان کو شیخ کا قرب ہوتا ہے اتنا اتنا اس کے اوپر تمام چیزیں زیادہ اچھی ہوتی ہیں۔
لیکن وہ انعکاسی فیض ہوتا ہے۔ انعکاسی فیض ہوتا ہے۔ لیکن یہ جو انعکاسی فیض ہے، میرے خیال میں اچھا ہوا مجھے یاد آ گیا، مجھے حضرت ا... ایک صاحب نے پوچھا تھا اور مجھے پیر کے دن یہ بتانا چاہیے تھا لیکن میرے خیال میں یہ نکل گیا تھا ذہن سے، تو ابھی اسی پہ آ گیا تو میرے خیال میں وہ ساری بات میں کر لیتا ہوں۔ وہ انشاء اللہ سب کے لیے مفید ہو گی انشاء اللہ۔
اچھا...(موبائل پہ بات چیت اور تکنیکی سیٹنگ)یہ... وہ دوسرا فون تھا تو پشتو میں تھا، مجھے لگا شاید آپ بول رہے تھے۔اچھا ٹھیک میں بات کروں... وہ لے آئیں بلوٹوتھ۔
(موبائل ریکارڈنگ چلائی جاتی ہے)السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت والا، الحمد للہ ابھی بسم اللہ کر کے بڑے اہتمام سے حضرت والا کی دعا و برکت سے ترجمہ شروع کیا ہے۔ حضرت اقدس کی خدمتِ مبارکہ میں سوال عرض ہے۔ الحمد للہ حضرت جی کی دعا و برکت سے مجلسِ مبارک مکتوبات شریف کی سننے کی سعادت ہوئی تھی بدھ کو، تو بہت گہرے مضامین تھے اور اس کو کئی مرتبہ سننے کی سعادت ہوئی الحمد للہ، بہت فائدہ محسوس کیا۔
کچھ سوالات اس وقت نوٹ کیے تھے جو رہنمائی کے لیے حضرت کی خدمت میں عرض کرتے ہیں۔ اولاً کہ حضرت نے مجلس مبارک شروع فرمائی تھی کہ حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ ہماری نسبت انعکاسی ہے اور بنیاد جو ہے اس کی محبت ہے۔ تو محبت کا مضمون تو سمجھ میں آ گیا الحمد للہ کہ تمام مقامات اور ترقی شیخ کی محبت سے ہوتی ہے۔ بنہا البتہ نسبتِ انعکاسی کی تشریح اور اس پر روشنی چاہیے تھی حضرت کی طرف سے کہ... کہاں تو ہم نے یہ بھی پڑھا کہ حضرت شیخ نے "آپ بیتی" میں بھی لکھا مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد العزیز محدث دہلوی کے حوالے سے کہ نسبتیں چار قسم کی ہوتی ہیں۔ اور حضرت اقدس نے بھی فہمِ تصوف میں بھی فرمایا ہے کہ نسبتیں چار قسم کی ہوتی ہیں۔ انعکاسی سب سے کمزور ہوتی ہے، پھر القائی، پھر اصلاحی اور پھر سب سے اونچی نسبت اتحادی ہوتی ہے۔ تو یہاں پر کیا معنی ہے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا کہ ہماری نسبت انعکاسی ہے؟
امید ہے کہ سوال صحیح سے عرض کر پایا ہوں گا۔ جزاکم اللہ خیرا۔
ہاں تو میرے خیال میں آپ حضرات نوٹ کر چکے ہوں گے۔ یہ سوال یہی تھا کہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان فرمایا کہ سب سے کمزور نسبت، اور حضرت مجدد صاحب اس کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں کہ ہماری نسبت جو ہے نا انعکاسی ہے۔ تو ظاہر ہے نقشبندی سلسلے کی نسبت کمزور تو نہیں ہو سکتی۔ تو سوال یہ تھا۔
تو میں نے عرض کیا کہ یہ اصل میں چونکہ نقشبندی حضرات کی ترتیب بنیادی یہی ہے کہ اس میں جذب کو پہلے کرتے ہیں اور سلوک کو بعد میں کرتے ہیں۔ تو اس صورت میں ظاہر ہے مطلب ہے کہ جذب کے لیے جس چیز کی ضرورت ہو گی تو ظاہر ہے وہ پہلے ہو گی۔ تو وہی نسبتِ انعکاسی ہے کیونکہ وہ شیخ کے ساتھ حاصل ہو جاتی ہے محبت کی وجہ سے، نسبتِ انعکاسی۔ تو وہ جب اس میں نسبتِ انعکاسی میسر ہو جائے تو اس کو پھر ذریعہ بنانا ہوتا ہے آگے سلوک کو طے کرنے کے لیے، جس کے بارے میں حضرت نے بہت تفصیل کے ساتھ جو ہے نا وہ مکتوب نمبر 287 میں تفصیل ارشاد فرمائی ہے۔ اور اس کو جو ہے نا پھر منتہی مرجوع پر جو ہے نا ختم فرمایا ہے۔ کہ یہاں تک کہ منتہی مرجوع مطلب وہ بن جائے۔ تو منتہی مرجوع کے بارے میں فرمایا کہ یہ تو جو ہے نا ا... یعنی جس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ فرق... اللہ باللہ... مطلب وہ جو ہے نا وہ یہاں تک ہے کہ وہ پھر رجوع ہوتا ہے مخلوق کی طرف اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اللہ کے حکم سے۔ مطلب جو ہے نا وہ رجوع ہوتا ہے تو وہ مرجوع ہوتا ہے۔ تو یہ تب ہوتا ہے جب انسان کی تکمیل ہو جاتی ہے، یعنی اصلاح مکمل ہو جاتی ہے، منتہی بن جاتا ہے، سیر الی اللہ کی تکمیل ہو جاتی ہے۔
تو ایسی صورت میں ظاہر ہے وہ تو، وہ تو خالص اصلاحی نسبت ہے۔ وہ تو خالص اصلاحی نسبت ہے جو کہ سب سے اونچی نسبت ہے عمومی طور پر۔ ویسے تو اتحادی نسبت سب سے اونچی ہے لیکن وہ تو چونکہ بہت کم ہے، بہت کم ہے یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ تو ایسی صورت میں تو عملی طور پر تو اصلاحی نسبت ہی سب سے اونچی ہے جس کو حاصل کیا جاتا ہے۔ تو ظاہر ہے اصلاحی نسبت کی طرف اشارہ حضرت نے فرما دیا تھا لیکن ابتدائی طور پر یہ جو انعکاسی نسبت ہے یہ حاصل ہوتی ہے شیخ کی قرب اور محبت کی وجہ سے۔ لیکن یہ چونکہ ناپائیدار ہوتا ہے، اگر اس کو کسی نے استعمال نہیں کیا اور ضائع ہو گیا تو بیچارہ محروم ہو جائے گا۔ بیچارہ محروم ہو جائے گا۔ تو اس کو اس وقت، جس وقت یہ حاصل ہو جائے فوراً استعمال کرنا چاہیے، فوراً استعمال کرنا چاہیے، سلوک کے تکمیل کے لیے فوراً استعمال کرنا چاہیے ورنہ پھر یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر یہ ضائع ہو گیا اور پھر دوبارہ نفس کا شکار ہو گیا تو وہ خطرناک ہوتا ہے پھر۔ پھر دوبارہ واپس آنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے کہ جو اپنے آپ کو کامل سمجھے اس کی اصلاح کبھی نہیں ہوتی۔
جو اپنے آپ کو کامل سمجھا، اس کی اصلاح تو کبھی نہیں ہوتی۔ خدانخواستہ اگر کسی نے اپنے آپ کو کامل سمجھا اور وہ ناقص، اس کی اصلاح کیسی ہو؟ پھر اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ تو یہ اس وجہ سے مطلب ارشاد فرمایا ہے کہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ اس کی انسان کو فوراً اس کی ضرورت ہے کہ اس کی، اس کو، اس نسبت کو جو انعکاسی نسبت ہے اس کو استعمال کر لے۔
مکتوب نمبر 266، حضرت پیر زادگان خواجہ عبداللہ اور خواجہ عبیداللہ کی طرف صادر فرمایا۔ بعض عقائد کلامیہ کے بیان میں جو اہلِ سنت و الجماعت شکر اللہ تعالیٰ سعیہم کی آراء کے موافق اور جو آپ کے الہام اور فراست کی بنا پر حاصل ہوئے نہ کہ تقلید و تخمین کے مطابق۔
ابتدائے احوال میں حضرت پیغمبر ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی اور فرمایا کہ تم علمِ کلام کے مجتہدوں میں سے ہو۔ اور اس واقعہ کو آپ نے خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ کی خدمت میں عرض کیا تھا۔ اسی روز سے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی مسائلِ کلامیہ کے ہر مسئلہ میں علیحدہ رائے ہے اور جدا حکم ہے۔ البتہ اکثر مسائل میں مشائخ ماتریدیہ سے موافقت رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی رد میں ان کی مذمت و برائی کے بیان میں اور ملحدوں اور زندیقوں کی رد میں جنہوں نے صوفیہ کی مراد کو صحیح کو نہیں سمجھا اور گمراہ ہو گئے اور بعض فقہی احکام کے بیان جو صلوۃ سے متعلق ہے اور طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے کمالات کے بیان میں کہ ان کا التزام سنت کی تابعداری میں ہے۔ اور سماع و سرود کے منع کرنے اور رقص و... رقص و... رقاصوں کی مجلس میں شرکت کرنے سے منع کرنے کے بیان میں، اس کے مناسب۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ رَبِّ يَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ۔ اے رب ہمارے کام کو آسان کر اور مشکل میں نہ ڈال اور خیر و خوبی سے مکمل فرما۔
حمد و صلوۃ و تبلیغِ دعوات کے بعد مخدوم زادوں کی جناب میں عرض ہے کہ یہ فقیر سر سے پاؤں تک آپ کے والد بزرگوار کے احسانات میں غرق ہے۔ یعنی خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادگان ہیں۔ اس طریقہ نقشبندیہ کا الف با کا سبق آپ ہی سے حاصل کیا ہے۔ اس راہ میں جو حروف تہجی بھی انہی سے سیکھے ہیں اور اندراج النہایۃ فی البدایۃ اور ابتداء میں انتہا کا درجہ کی دولت بھی انہی کی صحبت کی برکت سے حاصل ہوئی ہے اور سفر در وطن کی سعادت بھی انہی کی خدمت کے صدقے میں ملی ہے۔ ان کی شریف توجہ نے ڈھائی ماہ میں اس ناقابل کو نسبتِ نقشبندیہ تک پہنچا دیا اور فنا و بقا کا حضورِ خاص عطا فرمایا۔ اور اس قلیل مدت میں جو تجلیات، ظہورات، انوار و الوان، بے رنگی اور بے کیفیتی ان کی طفیل سے حاصل ہوئی ان کی کیا شرح کروں اور کیا تفصیل بیان کروں۔
ان کی توجہ شریف کی برکت سے معارفِ توحید، اتحادِ قرب و معیت اور احاطہ و سریان میں شاید ہی کوئی دقیقہ رہ گیا ہو جو اس فقیر پر نہ کھولا گیا ہو اور اس کی حقیقت کی اطلاع نہ دی گئی ہو۔ وحدت کا شہود کثرت میں اور کثرت کا مشاہدہ وحدت میں کرنا ان معارف کے مقدمات و مبادی میں سے ہے۔ مختصر یہ کہ جس جگہ نسبتِ نقشبندیہ اور بزرگوں کا حضورِ خاص ہے وہاں ان معارف کو زبان پر لانا اور شروع مشاہدہ کا نشان بیان کرنا کوتاہ نظری ہے۔
کیونکہ ان اکابرین کا کارخانہ بہت بلند ہے اور ہر زراک یعنی مکار اور رقاص ناچنے والا اس کے ساتھ کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ جب اس قسم کی بلند درجہ والی دولت ان سے اس فقیر کو پہنچی تو اگر تمام عمر بھی اپنے سر کو خدامِ بارگاہِ عالی کے قدموں میں پامال کر لے تو بھی کچھ حق ادا نہیں ہوا۔ یہ عاجز اپنی کوتاہیاں کیا عرض کرے اور اپنی شرمندگی کا کیا اظہار کرے۔ لیکن معارف آگاہ خواجہ حسام الدین احمد رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے جزائے خیر دے کہ انہوں نے بھی کم ہمتی کا بوجھ اپنے اوپر اٹھانے کا التزام کر کے خدامِ بارگاہ کی خدمت کے لیے اپنی کمرِ ہمت باندھ لیا اور ہم دور پڑے ہوؤں کو اس سے فارغ کر دیا۔ (یعنی وہ حضرت آپ کی خدمت میں)
در بر تن من زبان شود ہر موئےیک شکرِ تو اے خدا نہ توانم کرد(ہر بال پہ گر زبان ہو ایک شکر بھی کیا بیان ہو)
یہ فقیر تین مرتبہ حضرت ایشاں خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی قدم بوسی کی دولت سے مشرف ہوا۔ آخری مرتبہ کی حاضری پر فقیر سے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر بدن کا ضعف غالب آ گیا ہے، زندگی کی امید کم ہے، بچوں کے احوال سے خبردار رہنا ہو گا۔ اور اپنے حضور میں آپ دونوں کو طلب فرمایا، اس وقت آپ دودھ پلانے والیوں کی گود میں تھے۔ اور فقیر کو حکم دیا کہ ان بچوں پر توجہ کرو۔ حضرت کے امرِ عالی کے حضور میں اس فقیر نے آپ دونوں کی طرف توجہ کی، یہاں تک کہ اس توجہ کا اثر ظاہر میں نمایاں ہوا۔ بعد میں فرمایا ان بچوں کی والدہ ماجدہ اور دائیوں پر بھی غائبانہ توجہ کرو۔ حسب الحکم ان پر بھی غائبانہ توجہ کی گئی۔
امید ہے کہ حضرت ایشاں خواجہ صاحب کی برکت سے توجہ کے نتائج و ثمرات حاصل ہوں گے۔ آپ ہرگز یہ تصور نہ کریں کہ ان کے واجب الاعتاذ حکم اور وصیتِ لازمہ سے کسی قسم کی غفلت و فراموشی واقع ہوئی ہے۔ ہرگز نہیں، بلکہ فقیر آپ کی طرف سے اشارہ و اجازت کا منتظر ہے۔ فی الحال چند فقرے بطریقِ نصیحت لکھے جاتے ہیں امید ہے کہ گوشِ ہوش سے سماعت فرمائیں گے۔ أَصْلَحَكُمُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ۔
عقلمندوں پر سب سے اول فرض یہ ہے کہ علمائے اہلِ سنت و الجماعت شَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى سَعْيَهُمْ جو فرقہ ناجیہ ہیں، ان کی صحیح رائے کے مطابق اپنے عقائد کو درست رکھیں۔ چنانچہ بعض مسائلِ اعتقادیہ جن میں قدرے پوشیدگی ہے ان کا اظہار کیا جاتا ہے۔
نمبر ایک: جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذاتِ مقدس کے ساتھ خود موجود ہے اور تمام اشیاء اس تعالیٰ کی ایجاد سے موجود ہیں۔
یہ تو معلوم ہو گیا۔ اللہ پاک موجود تھے اصل سے اور اس نے باقی چیزوں کو بنا دیا۔ اور حق تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یگانہ ہے اور فی الحقیقت کسی امر میں بھی خواہ وجودی ہو یا غیر وجودی، کوئی بھی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس کی جناب میں مشارکت اسمی و مناسبتِ لفظی کے سوا سب خارج ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات اور افعال اس کی ذات کی طرح بے چون و بے چگونہ ہیں۔ اور ممکنات کی صفات اور افعال کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے۔ ممکنات سے مراد جو اور چیزیں ہیں کائنات وغیرہ۔ مثلاً صفتِ علم اس سبحانہ کی ایک صفت قدیم اور بسیط حقیقی ہے جس میں تعدد اور تکثر کو ہرگز دخل نہیں، اگرچہ وہ تکثر تعددِ تعلقات کے اعتبار سے کیوں نہ ہو کیونکہ وہاں ایک ہی بسیط انکشاف ہے کہ ازل و ابد کے معلومات اسی انکشاف سے منکشف ہوتے ہیں۔
یعنی اس کا ایک آن میں زید کو موجود بھی جانتا ہے اور معدوم بھی۔ اور جنین ماں کے پیٹ میں بھی اور طفل، جوان اور بوڑھا بھی۔ زندہ اور مردہ بھی، کھڑا اور بیٹھا بھی، تھکے لگائے بھی لیٹا بھی، ہنستا بھی روتا بھی، لذت پانے والا اور تکلیف پانے والا۔ عزت والا ذلیل، برزخ میں بھی، حشرات کا، قیامت میں بھی، جنت میں بھی، اس کی لذات و نعمتوں کو بھی جانتا ہے۔ سب چیزیں ایک ہی وقت میں۔
لہذا تعددِ تعلق بھی اس مقام میں مفقود ہے، کیونکہ تعددِ تعلقات، تعددِ اوقات اور تعدد کی کثرت چاہتا ہے اور وہاں ازل سے ابد تک صرف ایک ہی آن... ایک ہی آنِ واحد بسیط ہے، جس میں کسی قسم کا تعدد نہیں کیونکہ حق تعالیٰ پر نہ زمانہ جاری ہے نہ تقدم و تاخر کا حکم جاری ہو سکتا ہے۔ لہذا اس اعلیٰ کے علم میں اگر معلومات کے ساتھ تعلق کا اثبات کریں تو صرف ایک تعلق ہو گا جو تمام معلومات کے ساتھ متعلق ہے۔ اور وہ تعلق بھی مجہول الکیفیت ہے۔ یعنی اس تعلق کی کیفیت معلوم نہیں اور صفتِ علم کی طرح بے چون و بے چگونہ ہے۔
ہم اس تصور کے استبعاد یعنی قیاس و فہم سے دور و بعید ہونے کی ایک مثال کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں ایک کلمہ کو اس کے اقسامِ متبائنہ، مختلف اقسام اور متغائرہ، متفرق احوال و اعتباراتِ متضادہ، مخالف اعتبارات سے جانتے ہیں۔ لہذا اسی ایک وقت میں اس کلمہ کو اسم بھی جانتا ہے، فعل بھی، حرف بھی، ثلاثی بھی، یعنی تین حرف والا، رباعی بھی اور معرب بھی۔ یعنی جو تین حالتیں، رفعی، نصبی اور جری قبول کرے۔ مبنی، عوامل کے ذریعے تغیر و تبدل نہ پانے والا، متمکن، ٹھہرنے والا، غیر متمکن بھی، منصرف اور غیر منصرف بھی، معرفہ، نکرہ، ماضی، حال، مستقبل اور نہی بھی جانتا ہے، بلکہ اس شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ کہے کہ میں کلمہ کی تمام اقسام و اعتبارات کو کلمہ کے آئینے میں بیک وقت تفصیل کے ساتھ دیکھتا ہوں۔
جبکہ ممکن کے علم میں، بلکہ ممکن کے دید میں اضداد کا جمع ہونا متصور ہے۔ فَكَيْفَ بِالْوَاجِبِ تَعَالَى وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى (تو اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے محال ہو سکتا ہے اور اللہ کے لیے تو سب سے اعلیٰ مثال ہے)۔ وہ عالم ہے کہ اس کے علم میں غیب و شہادت سب برابر ہے، ہر ذرہ اس کے علم میں ہر وقت ظاہر ہے۔
ایک شبہ: جب علمِ باری تعالیٰ ایک ہی ہے اور ازل سے ابد تک صرف ایک آنِ واحد ہے تو اشیاء میں تغیر کیوں ہے اور یہ تغیر حق تعالیٰ کے علم میں کس طرح بدیہی معلوم ہو سکتی ہے؟
جاننا چاہیے کہ اس جگہ اگرچہ بظاہر صورت میں شبہ کی ضدین ہیں لیکن حقیقت میں ان کے درمیان ضدیت مفقود ہے، کیونکہ اگرچہ حق تعالیٰ زید کو آنِ واحد میں موجود اور معدوم جانتا ہے لیکن اسی آن میں یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا وجود کا وقت مثلاً ہزار سال کے بعد ہے اور اس کے وجود سے عدمِ سابق کا وقت ایک سال کے معائنے سے پہلے ہے۔ اور اس کے عدمِ لاحق کا وقت گیارہ سو سال کے بعد ہے۔ لہذا حقیقت میں ان دونوں کے درمیان زمانہ اور وقت کے اختلاف کی وجہ سے کوئی تضاد نہیں ہے۔ اور باقی احوال کو بھی اس پر قیاس کر سکتے ہو۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ان کی ترکیب کو بھی جانتے ہیں، اور تفصیل کو بھی جانتے ہیں۔ ہیں؟ اور کیفیت کو بھی جانتے ہیں ہر حالت کی۔ لہذا اس سے کوئی فرق تو نہیں پڑتا۔ ہم لوگوں کو جو چیزیں بعد میں ملتی ہیں، تو ظاہر ہے زمانے کے حساب سے بعد میں ملتی ہے۔ زمانہ تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔ جبکہ اللہ پاک کے ہاں تو اس قسم کا نہیں، تو اللہ تعالیٰ کو ساری تفصیلات کا پہلے سے علم ہے۔
ہر ہر وقت کا اس کو پتہ ہے۔ اس تحقیق سے بعض عقلاء کا علم اگرچہ تغیر پا جانے والے جزئیات سے متعلق ہو لیکن اس کے علم میں تغیر کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ اور حدوث کا گمان اس کی صفت میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فلاسفہ نے زعم کیا ہے کیونکہ تغیر اس تقدیر پر متصور ہو سکتا ہے جبکہ ایک دوسرے کے بعد جانا ہو۔ اور جب سب کو آنِ واحد میں جان لے تو پھر تغیر و تبدل اس کی گنجائش نہیں۔ پس اس کی کچھ حاجت نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لیے متعدد تعلقات کا اثبات کریں تاکہ تغیر و حدوث تعلقات کی طرف راجع ہو نہ کہ صفتِ علم کی طرف۔ جیسا کہ بعض متکلمین نے فلاسفہ کے شبہ کو دور کرنے کے لیے کیا ہے۔ اگر معلومات کی جانب تعددِ تعلقات کے اثبات کی تو اس کی گنجائش ہے۔
اس طرح کلام بسیط ہے جو ازل سے ابد تک اسی ایک کلام کے ساتھ گویا ناطق ہے۔ اگر امر ہے تو وہ بھی وہیں سے پیدا ہو گا، نہیں ہے تو وہ بھی وہیں سے، اگر ایلام ہے یعنی خبر ہے تو وہ بھی وہیں سے، اور اگر استفہام ہے تو وہ بھی وہی سے۔ اگر تمنی ہے ترجی ہے تو وہ بھی وہیں سے ہے۔ تمام نازل شدہ کتابیں اور صحیفے اس کلامِ بسیط کے دلالت کرنے والے ہیں۔ (کلامِ نفسی کی طرف اشارہ ہے)۔
میرے خیال میں یہ بہت تفصیلی ہے اور عقائد کا بحث ہے پورا۔ تو اس کو ہم میرے خیال میں ابھی پورا کرنے کی کوشش نہ کریں، یہ نہ پورا ہو گا نہ پھر سمجھ آئے گا۔ کافی ہے ماشاء اللہ۔ واجعلنا من الشاکرین۔ الحمد للہ۔
جی... حضرت نمر نے سوال بھی سینڈ کر دیا ہے جو نسبتِ انعکاسی پہ تھا، تو میں سنا دیتا ہوں۔
(سائل):اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُحضرتِ اقدس کی خدمتِ بابرکت میں سلام عرض ہے۔ الحمد للہ حضرت کی دعا اور برکت سے مجلس مبارکہ مکتوبات شریف کے سننے کی سعادت ہوئی تھی بدھ کو۔ بہت گہرے مضامین تھے اور اس کو کئی مرتبہ سننے کی سعادت ہوئی الحمد للہ، بہت فائدہ محسوس کیا۔کچھ سوالات اس وقت نوٹ کیے تھے جو رہنمائی کے لیے حضرت کی خدمت میں عرض کرتے ہیں۔اولاً کہ حضرت نے مجلس مبارکہ شروع فرمائی تھی کہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:"ہماری نسبت انعکاسی ہے اور بنیاد جو ہے اس کی محبت ہے۔"تو محبت کا مضمون تو سمجھ میں آ گیا الحمد للہ کہ تمام مقامات اور ترقی شیخ کی محبت سے ہوتی ہے۔ البتہ نسبتِ انعکاسی کی تشریح اور اس پر روشنی چاہیے تھی حضرت کی طرف سے۔ کہ کہاں تو ہم نے یہ بھی پڑھا کہ حضرت شیخ نے اپنی آپ بیتی میں بھی لکھا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے کہ نسبتیں چار قسم کی ہوتی ہیں۔ اور حضرتِ اقدس نے بھی فہم التصوف میں بھی فرمایا ہے کہ نسبتیں چار قسم کی ہوتی ہیں:انعکاسی سب سے کمزور ہوتی ہے، پھر القائی، پھر اصلاحی اور پھر سب سے اونچی نسبتِ اتحادی ہوتی ہے۔تو یہاں پر کیا معنی ہے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا کہ ہماری نسبت انعکاسی ہے؟امید ہے کہ سوال صحیح سے عرض کر پایا ہوں گا۔ جَزَاكُمُ اللّٰهُ خَيْراً۔
حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم:ہاں، میرے خیال میں اب سوال آپ نوٹ کر چکے ہوں گے۔ یہ سوال یہی تھا کہ حضرت... حضرتِ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان فرمایا سب سے کمزور نسبت اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں کہ ہماری نسبت جو ہے نا انعکاسی ہے۔ تو ظاہر ہے نقشبندی سلسلہ صرف نسبت کمزور تو نہیں ہے، تو سوال یہ تھا۔تو یہ میں نے عرض کیا کہ یہ اصل میں چونکہ نقشبندی حضرات کی ترتیب اور بنیاد ہی یہی ہے کہ اس میں جذب کو مقدم کرتے ہیں اور سلوک کو مؤخر کرتے ہیں۔تو اس صورت میں ظاہر ہے مطلب ہے کہ جذب سے... کہ بھئی جس چیز کی ضرورت ہوگی تو ظاہر ہے وہ پہلے ہوگی۔ تو وہ ہی نسبتِ انعکاسی ہے کیونکہ وہ شیخ کے ساتھ حاصل ہو جاتی ہے محبت کی وجہ سے... نسبتِ انعکاسی۔تو وہ جب نسبتِ انعکاسی میسر ہو جائے تو اس کو پھر ذریعہ بنانا ہوتا ہے آگے سلوک کو طے کرنے کے لیے، جس کے بارے میں حضرت نے بہت تفصیل کے ساتھ جو ہے نا وہ مکتوب نمبر دو سو ستاسی (287) میں تفصیل ارشاد فرمائی ہے۔اور اس کو جو ہے نا پھر منتہی مرجوع پر جو ہے نا ختم فرمایا ہے کہ جہاں تک کہ منتہی مرجوع... مطلب وہ بن جائے۔ تو منتہی مرجوع کے بارے میں فرمایا کہ یہ تو... جو ہے نا وہ... یعنی جس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ... فرق... باللہ... مطلب وہ جو ہے نا وہ یہاں تک ہے کہ وہ پھر رجوع ہوتا ہے مخلوق کی طرف اس کا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اللہ کے حکم سے۔ مطلب جو ہے نا رجوع ہوتا ہے تو وہ مرجوع ہوتا ہے۔تو یہ تب ہوتا ہے جب انسان کی تکمیل ہو جاتی ہے، یعنی اصلاح مکمل ہو جاتی ہے، منتہی بن جاتا ہے، سیر الی اللہ کی تکمیل ہو جاتی ہے۔تو ایسی صورت میں ظاہر ہے وہ تو... وہ تو... وہ تو خالص اصلاحی نسبت ہے۔ وہ تو خالص اصلاحی نسبت ہے جو کہ سب سے اونچی نسبت ہے عمومی طور پر۔ ویسے تو اتحادی نسبت سب سے اونچی ہے لیکن وہ تو چونکہ بہت کم ہے، بہت کم ہے، نہ ہونے کے برابر ہے۔ تو ایسی صورت میں تو عملی طور پر تو اصلاحی نسبت ہی سب سے اونچی ہے نا، جس کو حاصل کیا جاتا ہے۔تو ظاہر ہے اصلاحی نسبت کی طرف اشارہ حضرت نے فرما دیا تھا لیکن ابتدائی طور پر یہ جو انعکاسی نسبت ہے، یہ حاصل ہوتی ہے شیخ کے قرب اور محبت کی وجہ سے۔ لیکن یہ چونکہ ناپائیدار ہوتا ہے، اگر اس کو کسی نے استعمال نہیں کیا اور ضائع ہو گیا، تو بیچارہ محروم ہو جائے گا۔ بیچارہ محروم ہو جائے گا۔تو اس کو اس وقت، جس وقت یہ حاصل ہو جائے، فوراً استعمال کرنا چاہیے۔ فوراً استعمال کرنا چاہیے سلوک کی تکمیل کے لیے، فوراً استعمال کرنا چاہیے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر یہ ضائع ہو گیا اور پھر دوبارہ نفس کا شکار ہو گیا، تو وہ خطرناک ہوتا ہے پھر۔ پھر دوبارہ واپس آنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟کہ جو اپنے آپ کو کامل سمجھے اس کی اصلاح کبھی نہیں ہوتی۔ جو اپنے آپ کو کامل سمجھے اس کی اصلاح تو کبھی نہیں ہوتی۔ خدانخواستہ اگر کسی نے اپنے آپ کو کامل سمجھا اور وہ ناقص... اس کی اصلاح کیسے ہو؟ پھر اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔تو یہ اس وجہ سے مطلب ارشاد فرمایا ہے کہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ اس کے انسان کو فوراً اس کی ضرورت ہے کہ اس کی... اس نسبت کی جو انعکاسی نسبت ہے، اس کو استعمال کر لے۔