الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ کا دن ہے، بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے، بہت ہی مبارک درس ہے، اللہ جل شانہ ہمیں اس کی جملہ فیوض و برکات نصیب فرمائے۔ مکتوب نمبر 262 انشاء اللہ آج شروع ہو رہا ہے۔ مولانا محب علی کی طرف صادر فرمایا ہے، اس میں بیان میں فرمایا کہ تمہارا تعلق حبی ہے اور ہماری نسبت انعکاسی، جو قرب و بعد میں کچھ فرق نہیں رکھتی اور اس کے مناسب بیان میں۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔ صحیفہ شریفہ جو آپ نے مہربانی فرما کر تحریر کیا تھا، موصول ہو کر خوشی کا باعث ہوا چونکہ فرطِ محبت اور کمالِ اختصاص سے لبریز تھا اس لیے بہت زیادہ خوشی حاصل ہوئی۔ آپ نے سابقہ وعدہ پورا کرنے کے لیے لکھا تھا۔ میرے مخدوم! شرعی طریقوں میں جس وضع سے پر آپ چاہیں رہیں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ رشتہ محبت نہ ٹوٹے بلکہ روز بروز مضبوط ہوتا جائے۔ اور یہ شعلہ اشتیاق و محبت سرد نہ پڑنے پائے بلکہ لحظہ بہ لحظہ اس میں زیادتی اور تیزی ہوتی رہے کیونکہ ہمارا تعلق حبی ہے یعنی محبت پر مبنی ہے اور ہماری نسبت انعکاسی اور انصباغی ہے یعنی دوسرے کا اثر و عکس قبول کرنا اور رنگ میں رنگ جانا ہے۔ اس لیے جلد یا بدیر طریق کی بعض خصوصیات کا علم نہ ہونے کے باعث قرب و بعد میں کچھ فرق نہیں رکھتی۔ اس معنی کی تحقیق اس مکتوب کے خادمہ سے جو فرزندی ارجمند رشیدی کے نام اس طریقہ کے بیان میں لکھا ہے معلوم کریں، اس مکتوب کی نقل برادرم سیادت پناہ میر محمد نعمان کے دو صلے (خطوط) گئے ہیں وہاں سے منگوا لیں، کلام کو زیادہ طول کیا دیا جائے۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ فرماتے ہیں آپ کا نام صرف یہی مکتوب ہے مولانا محب علی بن صدر الدین ٹھٹھوی، سندھی فقیہ و شاعر تھے، آپ کے دادا علی سلطان بابر کے ساتھ ہندوستان آئے اور شہید ہو گئے۔ والد ماجد نے ہمایوں کے ہمراہ بلادِ ہند کا سفر کیا اور ٹھٹھہ میں سکونت اختیار کی چنانچہ آپ کی ولادت ٹھٹھہ میں ہوئی والد ماجد کا سایہ بچپنی سے اٹھ گیا تھا آپ نے بڑی محنت سے علم حاصل کیا جب عبدالرحیم خان خاناں نے سندھ فتح کیا تو آپ ان کے ہمراہ آگرہ چلے گئے پھر برہانپور چلے گئے اور شیخ محمد بن فضل اللہ برہانپوری سے طریقت کی تکمیل کی، بعد ازاں حرمین شریفین چلے گئے حج کر کے واپس برہانپور آ گئے تو شاہجہاں بادشاہ اپنے ساتھ دہلی لائے اور بقیہ زندگی شاہجہاں کی مصاحبت میں گزاری 1040 کے بعد انتقال ہوا۔
مکتوب نمبر 263۔ جناب معارف آگاہ میاں شیخ تاج کی طرف صادر فرمایا، ان معارف کے بیان میں جو کعبہ ربانی سے متعلق تھے اور نماز کے فضائل اور اس کے مناسب بیان میں۔ ایک بات یاد آ گئی اس میں چونکہ فرمایا گیا کہ ہمارا تعلق حبی ہے اور نسبت انعکاسی ہے۔ اس کی تشریح ذرا رہ گئی تھی۔ حبی سے مراد یہ ہے کہ محبت کی بنیاد پر ہے۔ یعنی جتنی شیخ کے ساتھ محبت زیادہ ہوگی اتنا زیادہ فائدہ ہوگا۔ شیخ کے ساتھ محبت آپ ﷺ کی محبت میں بدل جائے گی اور آپ ﷺ کے ساتھ محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں بدل جائے گی۔
فَنَا فِی الشیخ، فَنَا فِی الرسول، فَنَا فِی اللہ۔ یہ والا سلسلہ ہے۔
تو دوسری بات یہ ہے کہ اسی محبت کے ذریعے سے جو ہے رنگ میں رنگ جانا۔ قرآن پاک میں ہے صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً۔ اللہ تعالیٰ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے بہتر کون سا رنگ ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ کے رنگ تک پہنچنے کے لیے آپ ﷺ کے رنگ میں رنگنا پڑے گا اور آپ ﷺ کے رنگ میں رنگنے کے لیے شیخ کے رنگ میں۔ مطلب یہ طریقہ کار اس طرح ہے۔ تو خیر آخری Target تو بتا دیا گیا طریقہ کار، تجرباتی چیز ہے لہٰذا اس لحاظ سے مطلب اس پہ بات ہوگی۔
جناب معارف آگاہ میاں شیخ تاج کی طرف صادر فرمایا، ان معارف کے بیان میں جو کعبہ ربانی سے متعلق تھے اور نماز کے فضائل اور اس کے مناسب بیان میں۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔ آپ کے قدوم مسرت لزوم تشریف آوری کی خوشخبری سن کر مشتاق دوستوں کو بہت زیادہ خوشی حاصل ہوئی، اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حمد اور احسان ہے۔
انصاف بدفع فلک مینا فامتا زین و تو کدام خوب تر کدامخورشید جہاں تاب تو از جانب مشرقیا ماہِ جہاں گرد من از جانب شاماے فلک انصاف کر باریِ خدا، کون ان دونوں میں بہتر ہے بتاتیرا سورج ہے جو مشرق سے اٹھے، یا وہ چاند ہے جو بے شک شام سے
جب آپ نے حرمین شریفین ہندوستان میں قدم رنجہ فرمایا، تشریف لائے تو جلد تشریف لائیں کیونکہ ہم آپ کے آمد کے مشتاق منتظر ہیں اور بیت اللہ شریف کی خبریں سننے کی آرزو رکھتے ہیں۔ فقیر کے نزدیک جس طرح کعبہ ربانی کی ظاہری صورت مخلوق کی صورتوں کے لیے خواہ وہ بشر ہو یا ملک، مسجود الیہ ہے اسی طرح اس کعبہ شریف کی حقیقت بھی تمام مخلوقات کے لیے مسجود الیہ ہے۔
سب سے پہلے میرے خیال میں ان حضرت کے تعارف، آپ کا نام صرف یہی ایک مکتوب ہے شیخ تاج الدین بن زکریا بن سلطان عثمانی نقشبندی حنفی، سنبھل ضلع مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ وحید التاثیر علوم کی اس کے بعد حضرت خواجہ اللہ بخش گڑھ مکتیس ضلع میرٹھ سے بیعت ہو کر خلافت پائی۔ حضرت شیخ کی وفات کے بعد حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی اور چند دن میں سلوکِ نقشبندیہ کی تکمیل کر کے صاحبِ اجازت ہو گئے اور مستقل طور پر حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے۔ حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کا آپ کو شدید صدمہ ہوا بعد ازاں آپ نے سیاحت اختیار کر لی اور 1040 میں بصرہ پہنچے تو وہاں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ پھر مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کی وہاں بہت مخلوق آپ سے فیض یاب ہوئی حتیٰ کہ علماء و مشائخ نے بھی آپ سے طریقہ اخذ کیا۔ آپ نے چند رسائل بھی تصنیف فرمائے، 99 سال کی عمر میں عصر و مغرب کے درمیان بروز بدھ 18 جمادی الاولیٰ 1050 کو وفات پائی، مکہ کے پہاڑ کے کوہِ قعقعان کے دامن میں دفن ہوئے۔ زبدۃ المقامات، اچھا۔ اس مکتوب سے واضح ہوا کہ حج کی سعادت کے بعد اب ہندوستان تشریف لائے اور دوبارہ حرمین شریفین تشریف لے گئے۔
فرماتے ہیں پس لازمی طور پر وہ حقیقتِ کعبہ ربانی تمام حقائق پر فوقیت رکھتی ہے اور اس حقیقت کعبہ کے متعلقہ کمالات تمام حقائق کے متعلقہ کمالات سے فائق تر ہیں۔ گویا حقیقتِ کعبہ، حقائقِ کونی اور حقائقِ الہٰیہ جل شانہ کے درمیان ایک برزخ، راہ یعنی درمیانی راہ ہے۔ اور حقائقِ الہٰیہ سے مراد عظمت و کبریائی کے پردے ہیں کیونکہ کوئی رنگ و کیف اس دامانِ قدس تک نہیں پہنچتا اور کوئی ذلیت اس تک راہ نہیں پاتی۔ دنیاوی عروجات اور اس کے ظہورات کی نہایت حقائقِ کونی کی انتہا تک ہے۔ حقائقِ الہٰیہ جل شانہ سے کوئی حصہ حاصل ہونا آخرت کے ساتھ مخصوص ہے۔ مگر نماز میں جو کہ مومن کی معراج ہے اور اس معراج یعنی نماز میں گویا وقتی طور پر دنیا سے آخرت کی طرف جانا ہوتا ہے، وہ حظ و لذت جو آخرت میں نصیب ہوگا اس کا کچھ حصہ نماز میں میسر ہو جاتا ہے۔
میں خیال کرتا ہوں کہ دولت کے حاصل ہونے کا عمدہ ذریعہ نمازی کا نماز میں جہتِ کعبہ کی طرف متوجہ ہونے پر منحصر ہے کیونکہ جہتِ کعبہ حقائقِ الہٰیہ تقدس و تعالیٰ تقدس کے ظہورات کا مقام ہے۔ لہٰذا کعبہ دنیا میں ایک عجوبہ روزگار ہے جو بظاہر دنیا سے ہے لیکن حقیقت میں آخرت سے متعلق ہے۔ اور نماز نے بھی اس کعبہ معظمہ کے توسط سے یہ نسبت پیدا کر لی ہے اور صورت و حقیقت میں دنیا اور آخرت کی جامع ہو گئی ہے۔ اور یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ حالت جو نماز کی ادائیگی میں میسر ہوتی ہے وہ ان تمام حالات سے بلند و بالا ہے جو نماز کے علاوہ حاصل ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ بیرونِ نماز والے حالات دائرہ ظل سے باہر نہیں نکل سکتے خواہ وہ کتنے ہی بلند ہو جائیں۔ اور یہ حالت نماز اصل سے حصہ رکھتی ہے اور جس قدر فرق ظل اور اصل کے درمیان ہے اسی قدر فرق بیرونِ نماز والی حالت اور اندرونِ نماز والی حالت کے درمیان جاننا چاہیے۔
اللہ جل شانہ ہمیں حضرت کے فیوض و برکات کامل کے کامل نصیب فرمائے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کے لیے ہم لوگ اس درس میں شامل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ اور یقیناً جو ان چیزوں سے واقف نہیں ہوتے بعض دفعہ بڑی غلط فہمیوں میں پڑے ہوتے ہیں۔ بڑی غلط فہمیوں میں پڑے ہوتے ہیں اور اپنے اوقاتِ قیمتی بنانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس لیے کہتے ہیں نا "یک زمانہ صحبتِ با اولیاء، بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا"۔ یعنی جو اللہ والوں کی جو صحبت ہے وہ اگر ایک ساعت ہی کیوں نہ ہو وہ سو سال کی بے ریا عبادت سے افضل ہے۔ تو یہ اس کی وجہ ہے کہ ان حضرات کو ان چیزوں کا ادراک ہوتا ہے جو ہم لوگوں کو نہیں ہوتا۔ اور اس وجہ سے میں کہتا ہوں ان کتابوں کو پڑھنا چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ ان کتابوں کو پڑھنا چاہیے، کتابوں سے اخذ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان حضرات کے تجربات کے، مکاشفات کے اور جو ان حضرات نے حاصل کیے ہوتے ہیں عمروں میں، وہ الحمد للہ وہ ہمیں بالکل کامل کے کامل پورے کے پوری کتابوں کے ذریعے سے پہنچ جاتے ہیں۔ اب یہ چیز ہم عمر بھر بھی اگر محنت کریں تو ان کو حاصل نہیں کر سکتے، اپنے سوچ و فکر سے حاصل نہیں کر سکتے۔ ان حضرات کی برکت سے ہمیں فوراً وہ چیز مل جاتی ہے۔
تو اس میں حضرت نے ایک بڑی بات فرمائی ہے، سبحان اللہ۔ اور بات بھی کس سے فرما رہے ہیں؟ جو بذاتِ خود بہت بڑے شیخ ہیں، ابھی تعارف میں ہم نے بات سنی ہے کہ کون ہیں۔ جو دو بزرگوار بڑے بڑے حضرات سے خلیفہ ہیں، خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ، گویا ایک حضرت کے پیر بھائی ہیں اور ماشاء اللہ ایک خلقت نے بصرہ میں اور مکہ مکرمہ میں ان سے فیض پایا۔ تو یہ چیز جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ حضرت ان کو سنا رہے ہیں، ان کو بتا رہے ہیں۔
فرمایا کہ حقیقتِ کعبہ، یہ اللہ جل شانہ یعنی حقائقِ الہٰیہ، اللہ تعالیٰ سے متعلق جو حقائق ہیں، اور حقائقِ کونی جو دنیا سے متعلق کائنات سے متعلق جو ہیں۔ یعنی گویا کہ مخلوق اور خالق کے درمیان یہ برزخ ہے۔ مخلوق اور خالق کے درمیان یہ برزخ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو خانقاہ ہے، اس کو جیسے اللہ پاک نے قرآن کو اتارا، اپنی صفت کو۔ ہاں جی؟ اپنی صفت کو اتارا ہمارے درمیان۔ اب قرآن کی تعریف ہم اپنے الفاظ میں نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ پاک کی صفت کی تعریف ہم کیسے کریں گے؟ وہ تو لامتناہی ہے۔ ہاں جی؟ تو اس طرح قرآن کی بھی ہم تعریف نہیں کر سکتے، قرآن کیسا ہے، واللہ اعلم وہ تو اللہ پاک کو پتا ہے کہ قرآن کیا ہے۔ ہاں جی؟ تو اللہ پاک نے اپنے کلام کو، اپنی صفت کو ہمارے درمیان میں اتارا۔ تو اس کی بڑی شان ہے۔ دوسری طرف یہ اپنے صفتِ مسجودیت کو ہمارے درمیان خانقاہ کعبہ کے ذریعے سے اتارا۔ ہاں جی؟ صفتِ مسجودیت۔ یعنی اللہ جل شانہ نے جو تجلی اس خانہ کعبہ پر کی ہے وہ تجلیِ مسجودی ہے۔ اس تجلیِ مسجودی کو ہم سجدہ کرتے ہیں، ہم پتھر کو سجدہ نہیں کرتے۔ وہ جو تجلیِ مسجودی اس کے اندر ہے، اس کو ہم سجدہ کرتے ہیں۔ ہاں جی؟ تو یہ دو چیزیں ہیں۔ اب جس طریقے سے اللہ پاک نے قرآن کو اتارا اسی طرح اللہ پاک نے تجلیِ مسجودی اتارا، تو اس کی شان یعنی گویا کہ یوسف چونکہ مسجود تو اللہ ہے۔ مسجود تو مطلب جو ہے نا وہ اللہ ہے، اللہ جل شانہ کی ذات ہے۔ تو یہ صفت اللہ کے ساتھ ہے اور ہے ہمارے درمیان۔ اور ہم اس کو دیکھ رہے ہیں، تو یہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو یہ حقائقِ کونی... حقائقِ کونی سے مراد یہ ہے کہ حقائقِ کونی جتنے بھی بلند ہو جائے، بلند سے بلند، بلند سے بلند، بلند سے بلند جتنے بھی بلند ہو جائیں، تو وہاں سے خانہ کعبہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ ہاں جی؟ بلند سے بلند جتنے بھی حقائقِ کونی جو ہیں نا مطلب کائنات کی، جتنے بھی بلند سے بلند ہو جائیں، وہاں سے خانہ کعبہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ ہاں جی، خانہ کعبہ کی حقیقت، حقیقتِ کعبہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ اور حقیقتِ کعبہ، حقائقِ الہٰیہ اللہ جل شانہ چونکہ ظاہر ہے ہمارے مسجودِ حقیقی ہے، تو مسجودِ حقیقی کا اس مسجودِ مجازی کے ساتھ جو تعلق ہے وہ حقائقِ الہٰیہ اس حد میں لگا ہوا ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ یہ برزخ ہے۔ درمیانی مطلب وہ ہے۔
لا الہ الا اللہ... سن لو، دوبارہ سن لو۔ پس لازمی طور پر وہ حقیقتِ کعبہ ربانی تمام حقائق پر فوقیت رکھتی ہے اور اس حقیقت کعبہ کے متعلقہ کمالات تمام حقائق کے متعلقہ کمالات سے فائق تر ہیں۔ گویا حقیقتِ کعبہ، حقائقِ کونی اور حقائقِ الہٰیہ جل شانہ کے درمیان ایک برزخ ہے اور حقائقِ الہٰیہ سے مراد عظمت و کبریائی کے پردے ہیں۔ ہاں جی؟ کیونکہ کوئی رنگ و کیف اس اللہ جل شانہ کے دامانِ قدس تک نہیں پہنچ سکتا اور کوئی ذلیت اس تک راہ نہیں پا سکتی۔ دنیاوی عروجات اور اس کے ظہورات کی نہایت حقائقِ کونی کی انتہا تک ہے۔ حقائقِ الہٰیہ جل شانہ سے کوئی حصہ حاصل ہونا آخرت کے ساتھ مخصوص ہے۔ مگر نماز میں چونکہ مومن کی معراج ہے، اس معراج میں، نماز میں گویا وقتی طور پر دنیا سے آخرت کی طرف جانا ہوتا ہے، وہ حظ جو آخرت میں نصیب ہوگا اس کا کچھ حصہ نماز میں میسر ہو جاتا ہے۔ گویا کہ خانہ کعبہ کے ذریعے سے نماز کے اندر وہ کچھ حصہ آ جاتا ہے۔
ہاں جی، مطلب یہ کہ ہم نماز میں اس کیف کو حاصل کر سکتے ہیں۔ میں خیال کرتا ہوں کہ دولت کے حاصل ہونے کا عمدہ ذریعہ نمازی کا نماز میں جہتِ کعبہ کی طرف متوجہ ہونے پر منحصر ہے۔ کیونکہ جہتِ کعبہ حقائقِ الہٰیہ و تقدس کی ظہورات کا مقام ہے۔ لہٰذا کعبہ دنیا میں ایک عجوبہ روزگار ہے جو بظاہر دنیا سے ہے لیکن حقیقت میں آخرت سے ہے۔ حقیقت میں آخرت سے ہے۔ اور نماز نے بھی اس کعبہ معظمہ کے توسط سے یہ نسبت پیدا کر لی ہے اور وہ صورت و حقیقت میں دنیا اور آخرت کی جامع ہو گئی ہے۔ اور یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ حالت جو نماز کی ادائیگی میں میسر ہوتی ہے وہ ان تمام حالات سے بلند و بالا ہے جو نماز کے علاوہ حاصل ہوتے ہیں۔ میں نماز میں کہتا ہوں سبحان ربی العظیم۔ میں نماز کے باہر ایک کروڑ مرتبہ بھی کہوں تو اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب میں نماز میں سبحان ربی العظیم کہتا ہوں اور میں باہر ایک کروڑ مرتبہ بھی اگر کہہ لوں تو اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ ٹھیک ہے نا؟ کیا خیال ہے پھر؟ أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي۔ نماز کو قائم کرو میری یاد کے لیے۔ تو کیا یاد ویسے انسان نہیں کر سکتا؟ کر تو سکتا ہے۔ لیکن وہ یاد جو نماز میں یاد ہے وہ اور یاد ہے۔ اور جو نماز کے باہر یاد ہے وہ اور یاد ہے۔ ہاں جی؟ جتنی معرفت کسی کو نماز میں حاصل ہو سکتی ہے باہر تو ہوتی نہیں۔ تو معرفت کے ساتھ ذکر کرنا اور ہے اور معرفت کے بغیر ذکر کرنا اور ہے۔ نماز کے اندر جو انسان ذکر کرتا ہے وہ اور ہے، اس کا مقام اور ہے اور اگر نماز کسی کی بڑھیا ہو جائے تو پھر یہ چیزیں بھی بڑھیا سے بڑھیا ہو جائیں۔ اس لیے نماز پر محنت بہت اعلیٰ درجے کی محنت ہے۔ ہم نمازوں کو بنائیں، اپنی نمازوں کو بنائیں۔ نمازوں کے اندر یکسوئی حاصل کر سکیں۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ مجھے آج ایک صاحب کا WhatsApp میسج آیا۔ وہ ظاہر ہے پہلے ان چیزوں سے ذرا غیر متعلق سا تھا تو مجھے خوشی ہوئی جب اس کا میسج آیا۔ ساتھی ہے ہمارا پرانا۔ تو کہا کہ یہ جو انسان کوئی کام کرتا ہے اور اس کا ذہن کسی اور طرف چلا جاتا ہے، جیسے نماز میں ہوں نماز میں خیال دکان کی طرف چلا جائے، دکان میں ہوں تو خیال کسی اور چیز کی طرف چلا جائے۔ یہ کیسے مطلب یہ مجھے حاصل ہوگا یہ یکسوئی اور ایک چیز کی طرف متوجہ ہونا۔ ہاں جی؟ تو کسی وقت اسی موضوع پر ہم بات کر رہے تھے اس طرح حضرت کے مکتوبات شریف میں، تو ان صاحب نے مجھے کہا لکھا تھا کہ مطلب اس کی کیا ضرورت ہے، ہر ایک صاحب کو شیخ تو نہیں بنانا ہوتا۔ ہاں جی؟ تو میں نے کہا کہ ضرورت پڑے گی پھر پتا چلے گا۔ ہاں جی؟ وہ ضرورت پڑ گئی۔ تو میں نے کہا کہ حضرت یہی وہ چیز ہے جس کے لیے مراقبات کیے جاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے لیے مراقبات کیے جاتے ہیں۔ مراقبہ کوئی سر سپٹے نہیں ہے۔ مراقبہ اصل میں وہ چیز ہے جو ویسے ہی ہمیں حاصل ہونی چاہیے۔ نماز کے لیے۔ ہاں جی؟ ہمیں ویسے ہی حاصل ہونی چاہیے۔ ہمیں مطلب ضروری ہے ہمارے، اس کے علاوہ کام نہیں ہوتا۔ لیکن اگر نہیں ہے تو پھر پیدا کیسے کی جائے گی؟ تو ان کا طریقہ مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ مراقبہ یکسوئی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور وہ حقائق جو پہلے سے طے ہیں، ان حقائق کا ادراک حالاً حاصل کرنا یہ مراقبہ ہے۔ مثلاً اللہ سب کچھ کرتے ہیں۔ ہے ایسا، اس میں کیا شک ہے؟ علمی لحاظ سے کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے؟ انکار کرے گا تو کافر ہو جائے گا۔ لہٰذا انکار تو کوئی نہیں کرتا، لیکن کیا ہر وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ سب کچھ کرتا ہے؟ اب یہاں مطلب علم کے لحاظ سے اتنا زبردست حقیقت اور عمل کے لحاظ سے اتنی غفلت اس سے۔ اس عمل کے لحاظ سے یہ جو غفلت ہے کیسے دور ہوگی اور کیسے جو ہم علم کے لحاظ سے جانتے ہیں وہ علم ہمارا حال بنے گا، ہماری کیفیت بنے گی، ہم لوگ اس میں رسوخ حاصل کریں گے؟ یہ مراقبہ ہے، اس کا طریقہ۔ اس کا طریقہ کیا ہے؟ مراقبہ ہے۔
اصل میں لوگوں نے مراقبات کو پتا نہیں کیا سمجھا ہوا ہے۔ مراقبات اصل میں ذریعہ ہیں، یہ مقصود نہیں ہے۔ ذریعہ ہے اور ذریعہ اس چیز کے لیے ہے جو مقصود ہے۔ جو مقصود ہے۔ تو لہٰذا جو مراقبہ صحیح طور پر کرتا ہے، تو سبحان اللہ اس کو کچھ چیزیں ملتی ہیں۔ تو وہ جو چیزیں ملتی ہیں وہ اس کے کام آتی ہیں۔ تو میں نے عرض کیا کہ مراقبہ اس کا طریقہ ہے۔ اور یکسوئی اس سے حاصل ہوتی ہے اور یکسوئی وہ نعمت ہے جس کے بارے میں حضرت مجدد صاحب رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اتنا اہم ہے کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہ رہے لیکن آپ کے پاس یکسوئی ہے تو آپ کے پاس بہت کچھ ہے۔ ہاں جی؟
تو یہ مطلب میں اس لیے عرض کر رہا ہوں درمیان میں کہ اب دیکھ لو خانقاہ کو دیکھنے کے لیے تو لوگ جاتے ہیں نا۔ لیکن کیا خانقاہ کے ساتھ ہوتے ہیں؟ کاش ہو جائیں۔ ہاں جی؟ اگر وہ خانقاہ کی حقیقت کو جان لیں تو پھر وہاں ٹاور کو کیوں دیکھتے رہیں؟ پھر وہاں لوگوں کو کیوں دیکھتے رہیں؟ ہاں جی؟ پھر تو خانقاہ کو ہی دیکھتے رہیں۔ جتنا موقع اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کو ضائع کیسے کرتا ہے؟ ہاں جی؟ تو یہ، یہ جو ہے نا وہ چیز ہے، نعمت ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔ کچھ لوگ خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جو وہاں نہیں ہوتے لیکن وہاں ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بد نصیب ہوتے ہیں جو وہاں ہوتے ہیں لیکن وہاں نہیں ہوتے۔ یہ بات ہے۔ جو خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں وہ یہاں ہوتے ہیں، وہاں نہیں ہوتے لیکن وہ وہاں ہوتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو وہاں ہوتے ہیں لیکن وہاں نہیں ہوتے۔ وہ کسی اور جگہ ہوتے ہیں۔
تو یہ بہرحال یہ والی بات تھی کہ نماز، اسی طرح نماز۔ ایک شخص ہے نماز نہیں پڑھ رہا لیکن نماز میں ہے۔ ایسا، ایسا ہوتا ہے۔ نماز نہیں پڑھ رہا ابھی، ابھی یعنی مطلب نماز کا وقت نہیں ہے مطلب۔ ابھی نہیں پڑھ رہا لیکن نماز میں ہے۔ نماز کے انتظار میں ہے۔ نماز کے اہتمام میں ہے۔ اس کا دل نماز میں ہے۔ ہاں جی؟ دوسرا شخص نماز میں ہے لیکن نماز میں نہیں ہے۔ وہ دکان میں ہے، وہ گھر میں ہے، وہ بازار میں ہے، کسی اور چیز میں ہے۔ ہے نا یہ بات؟ اب یہ کیسے تبدیل ہو؟ اس کے لیے کچھ محنت تو ہو گی نا۔ تو یہ ہی بات ہے میں اس لیے عرض کرتا ہوں ان حضرات سے یہ چیزیں لینی چاہیے، اللہ جل شانہ ہمیں نصیب فرما دے۔
تو فرمایا اور یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ حالت یعنی وہ کیفیت جو نماز کی ادائیگی میں میسر ہوتی ہے وہ ان تمام حالات سے بلند و بالا ہے جو نماز کے علاوہ حاصل ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ بیرونِ نماز والے حالات دائرہ ظل سے باہر نہیں نکلتے خواہ وہ کتنے ہی بلند ہوں۔ اور یہ حالت نماز اصل سے حصہ رکھتی ہے اور جس قدر فرق ظل اور اصل کے درمیان میں ہے، اسی قدر فرق بیرونِ نماز والی حالت اور اندرونِ نماز والی حالت کے درمیان جاننا چاہیے۔ ہاں جی۔
یہ فقیر، یعنی حضرت اپنا فرما رہے ہیں، مشاہدہ کرتا ہے کہ جو حالت اللہ سبحانہ کی عنایت سے موت کے وقت ظاہر ہوگی وہ نماز کی حالت سے بھی بلند ہوگی۔ کیونکہ موت احوالِ آخرت کے مقدمات میں سے ہے اور جو چیز آخرت سے قریب ہے وہ اتم اور اکمل ہے۔ کیونکہ یہاں دنیا میں ظہورِ صورت ہے، یعنی ظاہری کیفیت، اور وہاں آخرت میں ظہورِ حقیقت ہے، ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اور ایسے حال وہ حالت جو اللہ جل شانہ کے کرم سے برزخِ صغریٰ یعنی قبر سے میسر ہوگی، وہ اس حالت سے بھی بڑھ کر جو موت کے وقت ہوتی ہے۔ اور یہی نسبت برزخِ کبریٰ جو کہ روزِ قیامت ہے برزخِ صغریٰ سے ہے، کیونکہ وہاں برزخِ کبریٰ کا مشہود اتم و اکمل ہے اور جنت النعیم کا مشہود برزخِ کبریٰ کے مشہود کی نسبت زیادہ اتمیت و اکملیت رکھتا ہے۔ اور اس کو ان تمام مقامات پر فوقیت حاصل ہے جو کہ جس کے متعلق مخبر علیہ الصلوۃ والسلام نے خبر دی ہے اور فرمایا: إِنَّ اللّهَ جَنَّةً لَيْسَ فِيهَا حُورٌ وَلا قُصُورٌ يَتَجَلَّى فِيهَا رَبُّنَا ضَاحِكًا۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی ایک جنت ہے جس میں نہ حور ہے نہ قصور، اس میں اللہ تعالیٰ ہنستے ہوئے تجلی فرمائے گا۔ لا الہ الا اللہ... یا اللہ تعالیٰ یہ ہمیں نصیب فرمائے۔ یہ تو اس کی تو بس تمنا ہی ہے۔ ہاں جی۔
لہٰذا تمام ظہورات میں سے ادنیٰ ظہور دنیا اور اس کا مافیہا ہے اور ان ظہورات میں سے اعلیٰ مقام جنت ہے۔ بلکہ دنیا ہرگز ظہور کا مقام نہیں ہے، وہ تو ظلال کے ظہورات اور مثال کی نمائش ہے جو دنیا کے ساتھ مخصوص ہے۔ فقیر کے نزدیک امورِ دنیاوی میں شمار اور حقیقت میں وہ ظہورات خواہ تجلیاتِ صفات ہو یا تجلیاتِ ذات سب دائرہ امکان میں داخل ہے۔ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔ کیونکہ، کیونکہ، کیونکہ دنیا میں حقیقت کا اظہار ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ سب ظل ہیں۔ تو جب ظل ہیں، تو جو کچھ آپ کے اوپر ظاہر ہے وہ بھی ظل ہیں۔ جو کچھ آپ کے اوپر ظاہر ہے وہ بھی ظل ہے۔ ہاں جی؟ تو جو لوگ اس پر مطمئن ہو گئے تو کہاں پہنچ گئے؟ ہاں جی؟ جو لوگ اس پر مطمئن ہو گئے کہاں پہنچ گئے؟ یا اللہ، یا کریم، یا کریم۔
ایک ہمارے غزل ہے۔ وہ اس قسم کے الفاظ پر مبنی ہے۔ اس میں شروع، تشنہ لب نکلا وہ کیا مصرعہ ہے اس سے پہلے کیا ہے؟ ہاں جی؟"درِ دولت پہ اس کے جو بھی آیا تشنہ لب نکلا"ہاں جی؟ درِ دولت پہ اس کے جو بھی آیا تشنہ لب نکلا۔ تو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی، ایک ساتھی کو، تو فرمایا انہوں نے یہ کہا ہے ہمیں تو موت کے بعد بھی پتا چلا ہے کہ تشنہ لبی ہے۔ کمال ہے یار۔ کہتے ہیں دنیا کی کیا، ہمیں تو موت کے بعد بھی ہے۔ فوت ہو چکے تھے وہ بزرگ۔ موت کے بعد بھی یہ تشنہ لبی ہے۔ حشر کو اٹھیں گے تشنہ لبی ساتھ ہو گی۔ ہاں جی؟درِ دولت پہ اس کے جو بھی آیا تشنہ لب نکلا۔ ہاں جی۔
تو یہاں پر تو سب کچھ ظلی ہے، ظل ہے۔ ہاں جی؟ اس وجہ سے اس پر اطمینان کرنا، اس پر مطمئن ہو جانا، یہ تو بڑی چیز ہے۔ یہ میرے خیال میں کل کی بات ہے شاید، کل کی بات ہے، ایک ساتھی تھے انہوں نے ایک شعر شیئر کیا۔ تو فوراً میں نے پھر اس پر کمنٹ کیا کیونکہ وہ ہمارے Concept کے ساتھ ٹکرا رہا تھا۔ تو اس پہ میں نے رد ہی کیا۔ وہ شعر یہ تھا کہ،"یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا"ہاں، ایک مرتبہ غوثِ زماں حضرت سید محمد غوث الدین شاہ صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلسِ مراقبہ قائم تھی۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے توجہ دی تو فی البدیہ ایک شعر قلب میں آیا۔ یہ حضرت کے خلیفہ ہیں:"طریقِ جذب کے اک جذ سے ہوئے سب حاصلطریقِ ہوش کی باتیں تھیں جستجو کرنا"حضرت افادات حضرت مولانا محمد حافظ محمد ناصر الدین خاکسار حقانی دامت برکاتہم نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ تو جب یہ شعر میں نے دیکھا تو ایک شعر ادھر بھی آیا۔ ہاں جی؟ تو میں نے کہا،طریقِ جذب کے اک جذ سے یہ ہوا ہے وصالسرکنا ممکن نہ ہو گئے سلوک کے جو تھے جبالکہ فیض ہم کو مجدد سے مل گیا ہے شبیربنا سلوکِ کسبی جذب کا بھی بنتا ہے جالہاں جی؟ تو یہ پھر آ گیا۔ تو اس پر مطلب یہ ہے کہ ان صاحب کی طرف سے یہ مطلب بات آ گئی کہ واقعی جو ہے نا مطلب یہ تو مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ مطلب ذرا یہ وہ جو، جو Concept ہے وہ تو اس کے مطابق نہیں ہے۔ مطلب اس نے کہا حضرت اللہ آپ کو جزائے خیر دے آپ کے اس پیغام کی وجہ سے میری اصلاح ہو گئی۔ کسی صاحب نے اس پہ کمنٹ کیا۔ پھر اس کے بعد اس کو میں نے ذرا زیادہ Improve کیا اور اس میں جو ہے نا مطلب کچھ اور اشعار بھی آ گئے۔ تو وہ پھر کہاں ہے غالباً وہ حقیقت... ہاں یہاں پر ہے۔ مجبوری ہے ہمارے ساتھ وہ سارے...طریقِ جذب سے سالک کو میسر ہو یہ حالسرکنا ممکن جس سے ہو جائے سلوک کے جبالطریقِ ہوش تو مطلوب ہے، شہود ہے یہانہوں نے کہا نا کہ صرف جستجو کرنا تھا، ہاں جی؟ تو ظاہر ہے انہوں نے اپنے حال کے مطابق کہا، جو حال تھا اس وقت ان کا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن ہم تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔طریقِ ہوش تو مطلوب ہے، شہود ہے یہتھوڑا سا سوچے کمال سکر ہے یا سہو کمالحضرت کیا فرماتے ہیں؟ سہو کمال ہے یا سکر کمال ہے؟ سہو کمال ہے۔ کیونکہ سہو جو ہے، یہ وحدت الشہود ہے اور سکر وحدت الوجود ہے۔ وحدت الوجود پہلے آتا ہے اس سے ترقی کر کے انسان وحدت الشہود میں جاتا ہے۔ ہاں جی؟تھوڑا سا سوچے کمال سکر ہے یا سہو کمالجذبِ کسبی کا تو مقصد ہی تھا سلوک طے کرناجذبِ کسبی کا تو مقصد ہی تھا سلوک طے کرناخواجہ نقشبند کے ذرا دیکھیے اس واسطے مقالحضرت نے کیا فرمایا ہے اس کے بارے میں۔ تو میں اس لیے آگے کہہ رہا ہوں، سلوک طے کرنا ممکن ہو جائے۔جذب و سلوک کی تفصیل مجدد نے جو... رحمۃ اللہ علیہ۔جذب و سلوک کی تفصیل مجدد نے جو، ہے سمجھایا اس پہ قربان کرے اپنا خیالمیرا جو خیال آ گیا ہے میں اس پہ قربان کر دوں۔ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خیال اور ہمارے میں بڑا فرق ہے۔ ہاں جی؟جذب و سلوک کی تفصیل مجدد نے جو، ہے سمجھایا اس پہ قربان کرے اپنا خیالیہ فیض ہم کو مجدد سے مل گیا ہے شبیرجذب و سلوک کے بغیر کبھی بنتا ہے جال؟بھئی جال بن جاتا ہے نا۔ کبھی وہ جال جس سے وہ جال، جال بن جاتا ہے اس کو جال کہتے ہیں نا جال۔ جال کے اندر مچھلیاں آتی ہیں۔ ہاں جی؟ تو یہ، یہ جال جو ہے وہ جو، وہ جو جال بنتا ہے وہ جذبے اور سلوک کے تانے بانے سے بنتا ہے۔ وہ جذبے اور سلوک کے تانے بانے سے بنتا ہے، خالی جذب سے نہیں بنتا۔ خالی جذب والا "مجذوب" ہوتا ہے۔ ہاں جی؟ اور خالی سلوک والا "سالک" ہوتا ہے۔ لیکن جو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمیں بنانا چاہتے ہیں وہ کیا ہے؟ "مجذوبِ سالک" یا "سالکِ مجذوب"۔ یہ دو کیٹیگریاں ہیں۔ تو اگر وہ مجذوبِ سالک بن جائے تو تب بھی دو چیزیں جمع ہو گئیں اور اگر سالکِ مجذوب بن گیا تب بھی دو چیزیں جمع ہو گئیں۔ تو یہ تانے بانے والی جو بات ہے۔ ہاں جی، جال بن جاتا ہے نا؟ تو سبحان اللہ، اللہ کا شکر ہے کہ اس صاحب نے ان کی تشریح کی اور ماشاء اللہ یہ شامل ہو گیا۔
آگے جا کر چونکہ یہ بات سامنے آ گئی تو اس وجہ سے پھر ہمیں بھی تھوڑا سا مزید اس میں جانا پڑا تاکہ بات بالکل واضح ہو جائے۔ تو اس میں پھر میں نے عرض کیا، لکھا ہے، نوٹ ہے۔توبہ، انابت، زہد، ریاضت، قناعت، ورع، توکل، تسلیم، صبر اور رضا۔یہ وہ مقامات ہیں جن کا تفصیل کے ساتھ طے کرنا ہر سالک کے لیے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں لازمی ہے۔ اس میں توبہ تو رجوع الی اللہ کی ابتدا اور گناہوں سے رکنا ہے۔ انابت خیر کے اعمال کی طرف میلان کا بڑھانا ہے۔ زہد دنیا سے بے رغبتی ہے۔ ورع مشتبہات سے بچنا ہے۔ قناعت اور توکل رزق کے معاملے میں ہے۔ اور قناعت اور ریاضت سے جسم کو مشقتوں کا عادی بنانا ہے اور تقویٰ ان چاروں کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کا عملی نفاذ کرانا ایک الگ شعبہ اور مقام ہے۔ تقویٰ جب حاصل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انہونی میں ہونا دکھاتا ہے۔ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔ اور اس طرح جو ہے نا مطلب اس میں اور بہت سارے صفات تقویٰ کے جو قرآن پاک میں بیان ہوئے ہیں۔ ہاں جی؟ انہونی میں ہونا دکھاتا ہے جس سے توکل کو فروغ ہوتا ہے، آدمی کا یقین بن جاتا ہے کہ مطلب اللہ تعالیٰ سب کچھ کرتا ہے، سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد سب کچھ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تشریعی ہو یا تکوینی تسلیم کر لیتا ہے، یہ تسلیم کا مقام ہے۔ تسلیم کر لیتا ہے جس کا لازمی نتیجہ صبر ہے، جو بھی حالات آئیں اس کے اوپر صبر ہے۔ جو پوری دین کی جان ہے۔ اس کے بعد انسان صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ سے قلباً، قالباً، قالاً اور حالاً راضی ہو جاتا ہے۔ یہ مقامِ رضا ہے۔ تسلیم کے بعد مقامِ رضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ نعمت آئی ہے ورنہ ہم کہاں، ہماری حیثیت کیا؟ ہاں جی؟ ایسے جوڑ اللہ تعالیٰ نے حضرت کے دس مقامات کے اندر ماشاء اللہ مطلب ظاہر فرمایا۔قلباً، قالباً، قالاً اور حالاً راضی ہو جاتا ہے جس کو مقامِ رضا کہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جس کے بعد فی الحقیقت تو آخرت میں اور بشارتاً... وہی والی بات، یعنی آخرت میں تو اصل ہے نا اور یہاں تو ظلی ہے۔ ہاں جی؟ تو بشارتاً اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔ گویا کہ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔ اس کو نفسِ مطمئنہ کا مقام کہتے ہیں۔ اس کو نفسِ مطمئنہ کا مقام کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ اس سے ساتھیوں کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اصل مقامات کیا ہیں؟ اصل مقامات کیا ہیں اور دعوے کیا ہیں؟ بھئی جب، جب اصل مقام حاصل ہو جائے دعویٰ ختم ہو جاتا ہے۔ اصل مقام جب آ جاتا ہے نا پھر دعویٰ ختم ہو جاتا ہے۔ کمال کی بات ہے۔ ہاں جی؟ دعوے... بس یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ یہ سارے دعوے ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر مل گیا تو۔ مثلاً بزرگی کو لے لو، بزرگی ایک دعویٰ ہے لیکن اصل بزرگی جب آ جائے، بس ختم۔ پھر آپ اس پہ قسم کھائیں نا جی آپ بزرگ ہیں، وہ کہتا ہے یار آپ کی قسم اپنی جگہ ٹھیک ہو گی وہ حسنِ ظن ہے لیکن مجھے اپنے آپ کا پتا ہے۔ مجھے اپنے آپ کا پتا ہے کہ میں کیا ہوں۔ ہاں جی؟
تو یہ ہے، ہاں جی، آگے ایک بات آ رہی ہے ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ نے ماشاء اللہ بہت... ان میں سے کون سی چیز ہے جو مراقبہ کے ذریعے سے حاصل ہو؟ ان میں سے کون سی چیز ہے جو مراقبہ کے ذریعے سے حاصل ہو؟ اب ایک بہت بڑا نکتہ اس کے اندر آیا ہے اس کو اچھی طرح نوٹ فرما لیں۔ الحمد للہ۔ ہاں جی۔ مثلاً مقامِ رضا ہی کو لے لیجیے جس کو ہم زیادہ تر مراقبے کے قریب سمجھتے ہیں۔ مقامِ رضا ہی کو، کیونکہ زہد وہ تو مراقبہ کے ذریعے سے نہیں ہے وہ تو عملی ہے، ہاں لیکن مقامِ رضا یہ اس کو زیادہ تر مقامِ، مطلبِ مراقبہ کے قریب سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً مقامِ رضا ہی کو لے لیجیے۔ ایک راضی ہونے کا سوچ ہے، اور ایک راضی ہونا ہے۔ ایک راضی ہونے کا سوچ ہے اور ایک راضی ہونا ہے۔ یہ سوچ جو ہے راضی ہونے کی اہمیت کے علم اور نفس کے اس پر راضی ہونے کے درمیان کی حالت ہے۔ علم میں تو سب کو حاصل ہے نا؟ علم میں تو سب کو حاصل ہے لیکن عملاً بہت کم لوگوں کو حاصل ہے اور اس کا جو سوچ ہے وہ درمیان کی چیز ہے، وہ درمیان میں آتا ہے، اچھا درمیانی حالت ہے۔ تو کوئی مراقبہ کے... یہ درمیان کی حالت تو کوئی مراقبہ کے ساتھ حاصل کر سکتا ہے۔ درمیان کی حالت، جو کہ جذبِ کسبی میں حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن نفس کا اس پر راضی ہونا یہ نفس کی تربیت اور اصلاح کے بعد ہی ممکن ہے۔ نفس کا اس پر راضی ہونا یہ نفس کی اصلاح اور تربیت کے بعد ہی ممکن ہے جس کے لیے سلوک کا طے کرنا لازم ہے۔ اب سمجھ میں آ گئی بات؟ جس کے لیے سلوک کا طے کرنا لازم ہے۔ اسی پر حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مکتوب نمبر 287 میں زور دیا ہے۔ یعنی اصل میں حضرت نے جو اس پر اتنے زیادہ پرزور الفاظ بیان فرمائی ہے کہ تاکہ یہ چیز لوگوں پہ واضح ہو جائے کہ عملاً اور چیز ہے اور سوچ اور چیز ہے۔ آپ سوچ میں بے شک بہت کچھ حاصل کر لیں لیکن عملاً کیا ہے؟ یہ شیخ چلی کا سوچ تو نہیں ہو رہا۔ وہ بھی تو سوچ ہی ہے نا، خیال ہی خیال میں سارا کچھ حاصل کر لیا۔ بھئی خیال بیکار بھی نہیں ہے لیکن خیال اصل بھی نہیں ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ خیال آپ کو پہنچا سکتا ہے، ذریعہ ہے لیکن اس، مطلب پہلے سے نہ واپس ہو جانا نا جب تک حاصل نہ ہو، کیونکہ آپ کو اگر بیسویں سیڑھی پر منزل حاصل ہونی ہے اور آپ انیس سے واپس ہو گئے تو کتنے کامیاب ہو گئے؟ ہاں جی؟ کتنے کامیاب ہو گئے؟ ناکام ہو گئے۔
ایک بڑا انٹرسٹنگ Question۔ سو میٹر پر پانی ہے۔ سو میٹر پر پانی ہے۔ بورنگ کرتے ہیں۔ پچاس پچاس میٹر کے آپ سو بورنگ کر لیتے ہیں۔ کتنا پانی نکلے گا؟ بس یہی بات ہے۔ اگر آپ تکمیل سے پہلے واپس ہو گئے تو یہ محروم ہی ہے۔ اسی کو "مجذوبِ متوقف" کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا بات؟ یہی مجذوبِ متوقف، تکمیل سے پہلے واپس۔ اور سمجھ یہ، یہ سمجھ یہ گیا کہ ہم کامل ہو گئے۔ بہت خطرناک بات ہے۔ حضرت نے یہ رونا رویا ہے۔ یہ ہی چیز ہے۔ اس پہ بڑا زور دیا ہے۔ صحیح بات ہے میں تو پریشان ہو گیا تھا جب میں نے حضرت کو اس مکتوب شریف کو پہلی دفعہ پڑھا۔ تو میں حیران ہوا، میں نے کہا یہ، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ اس میں میرے تو سارے سوالوں کے جواب آ رہے تھے لیکن اتنا زور حضرت نے جو دیا ہے آپ سب نے سنا ہے؟ ماشاء اللہ آپ کتاب میں بھی موجود ہے اور سب نے سنا بھی ہے کہ کس قدر پرزور الفاظ ہیں وہ۔ ہاں جی؟ تو یہ مثال کیا دی ہے حضرت نے، ابتدا سے مثال کیا دی ہے؟ مثال یہ دی ہے کہ کوئی شخص خانقاہ کی زیارت کے لیے روانہ ہو گیا۔ دیکھیں، خانقاہ کی زیارت کے لیے روانہ ہو گیا۔ راستے میں اس نے ایک جگہ خانقاہ جیسا دیکھا اور اس کو خانقاہ سمجھ بیٹھا اور وہیں پر اعتکاف شروع کر لیا۔ ہاں جی؟ یہ بیچارہ تو محروم ہی ہے۔ ہاں جی؟ دوسرا شخص ہے وہ چلا ہی نہیں ہے لیکن اس کو پتا ہے کہ خانقاہ اصل میں کتنا، کہاں کون سا ہے۔ یہ محروم ہے عملاً، علماً نہیں۔ وہ علماً بھی محروم ہے، عملاً بھی محروم ہے۔ وہ جو پہلے والا کیس ہے۔ علماً بھی محروم ہے، عملاً بھی محروم ہے۔ یہ شخص جو کہ خانقاہ گیا نہیں روانہ ہی نہیں ہوا، روانہ ہی نہیں ہوا لیکن جانتا ہے کہ خانقاہ کدھر ہے، یہ علماً محروم نہیں ہے عملاً محروم ہے۔ تیسرا آدمی چل پڑا، پہنچا بھی نہیں ہے، یہ، اور لیکن پتا ہے اس کو کہ اصل خانقاہ کدھر ہے، رکا نہیں۔ تو یہ ابھی راستے میں ہے۔ علماً تو محروم نہیں ہے، عملاً بھی محروم نہیں ہے لیکن عملاً پہنچا بھی نہیں ہے۔ یعنی پہنچنے اور اس کے درمیان ہے، ابھی درمیان میں ہے۔ اور ایک شخص پہنچ گیا وہاں پر۔ اور خانقاہ اصل میں وہاں پہنچ گیا۔ فرمایا اصل تو وہی ہے جو اخیر میں ہے۔ لیکن جو Third ہے وہ اس کے بعد ہے۔ کامل۔ Third جو، مطلب جو روانہ ہوا ہے، پہنچا نہیں ہے لیکن اصل خانقاہ کو جانتا ہے، راستے میں کسی اور چیز کو خانقاہ نہیں سمجھتا۔ اور جو چلا ہی نہیں ہے وہ دوسرے نمبر پر ہے۔ مطلب جو ہے نا، جس کو کہتے ہیں تیسرے نمبر پر ہے۔ تیسرے نمبر پر ہے۔ کیونکہ وہ، وہ چوتھے نمبر پر وہ ہے جو بیچارہ محروم ہی ہے۔ کیونکہ علماً بھی محروم ہے، عملاً بھی محروم ہے۔
اب دیکھ لیں وہ علماء جو مقامات کو اچھی طرح علماً جانتے ہیں لیکن اس پہ کام ہی نہیں شروع کیا۔ یہ تو ہیں دوسرے نمبر پہ۔ ہاں جی؟ وہ جاہل جنہوں نے کام شروع کیا لیکن درمیان میں کسی چیز سے دھوکہ کھا گئے۔ وہ ہے نا پہلی والی صورت۔ وہ شخص جو کوشش کر رہا ہے لیکن ابھی کامیاب نہیں ہوا، یہ تیسری صورت ہے۔ اور جو مطلب وہاں پہنچ گیا، الحمد للہ مکمل ہو گیا، منتہی و مرجوح ہو گیا تو وہ سبحان اللہ وہ اصل جگہ پہ پہنچنے والا ہے۔ تو یہ با، اس پر جو ہے نا حضرت نے کیسی مثال سے ایک چیز ثابت کر دی کہ وہ جو مجذوب متوکن ہے اس کو کون، کون سی کیٹیگری میں ڈالا ہے؟ ہاں جی؟ اس سے وہ لوگ اچھے ثابت ہو رہے ہیں جو اس راستے پہ ابھی چلے ہی نہیں لیکن جانتے ہیں۔ جانتے ہیں اس کو۔ حضرت نے بالکل اتنے خوبصورتی کے ساتھ ایک چیز کو واضح کر دیا پھر اس کے بعد اخیر میں جو کمنٹس ہیں، او ہو، مجذوب متوکن کے بارے میں۔ ہاں جی؟ تو اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ہمارا نتیجہ کیا ہوگا کام کرنے کا۔
فقیر پورے طور پر جب دنیا کو ملاحظہ کرتا ہے تو اس کو محض خالی پاتا ہے اور اس کے دماغ میں مطلوب کی کچھ بھی خوشبو نہیں پہنچتی۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اس جگہ مطلوب کو تلاش کرنا، اپنے آپ کو پریشان کرنا یا غیر مطلوب کو مطلوب جاننے کی غلطی کرنا ہے۔ ہاں جی؟ چنانچہ اکثر لوگ اس میں گرفتار ہیں۔ اور اپنے خواب و خیال میں محوِ آرام ہے۔ اس مقام میں صرف نماز ہی ہے جو اصل کی خبر دیتی ہے اور مطلوب کی خوشبو سونگھاتی ہے وَدُونَهُ خَرطُ القَتَادِ۔ اس کے علاوہ بیفائدہ رنج اٹھانا ہے۔ ہاں جی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو، حضرت کے فیوض و برکات سے کامل حصہ عطا فرما دے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں، ان حضرات کی کتابوں سے ہمیں جو نور ملتا ہے اس کی ناقدری میں آج کل بہت دیکھتا ہوں، بہت زیادہ۔ بہت زیادہ ناقدری ہے۔ یعنی دیکھیں ہم کتنا کوشش کرتے ہیں اور ان چیزوں کو پاتے ہیں جو تھوڑی دیر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ باتیں پہنچائیں۔ اس وجہ سے باقاعدہ جیسے مثنوی مولانا روم کے درس ہوا کرتے تھے پہلے، اب نہیں ہے۔ مکتوبات شریف کے درس ہوا کرتے تھے، اب نہیں ہے۔ ایک تو یہ ہے نا کہ مکتوبات شریف کو سنانا وہ اور ہے، مکتوبات شریف کو سمجھانا کیونکہ علم تو آپ کو سمجھانے سے متاثر، من، منتقل ہو گا نا۔ آپ نے صرف سن لیا تو برکت تو حاصل ہو جائے گی لیکن سمجھانے سے اس کا علم حاصل ہوگا۔ تو سمجھانے والی بات جو ہے نا وہ آج کل بہت کم ہے، بہت کم ہے۔ تو ان حضرات کے فیوض و برکات سے حصہ لینے کے لیے ہم لوگوں کو یہ کرنا چاہیے۔
اب ہمارے ہاں بھی یہ صورتحال ہے کہ پہلے پہلے کافی اس کی طرف توجہ تھی، لوگ اس میں دلچسپی لیا کرتے تھے۔ ہاں جی؟ لیکن اب دلچسپی کافی لوگوں کی کم ہو گئی ہے۔ مطلب جو ہے نا وہ جو تڑپ تھی، مطلب وہ چیز اب کم ہو گئی ہے۔ شاید وہ رچ گئے ہوں گے۔ ان کے خیال میں شاید وہ مطلوب پا گئے ہیں۔ خیر، لیکن بہرحال ہمارے نصیب تو ابھی بہت کچھ ہے۔ انشاء اللہ العزیز اللہ تعالیٰ اس کو نصیب فرماتے رہیں۔ تو بہت کچھ ہمارے واسطے اس کے ذریعے سے آ رہا ہے۔ طلب ہو نا طلب، تو اللہ تعالیٰ پہنچا دیتے ہیں۔ طلب جب ہو، یہ ایک نعمت ہے بہت عظیم اور اگر اللہ پاک اس کے وسائل پیدا فرمائے تو اس پر بڑا شکر ادا کرنا چاہیے۔
ایک بات مجھے ایک صاحب نے بتائی ہے یہیں پر اسلام آباد کے ساتھی ہیں ہمارے۔ کہتے ہیں میں نے آپ کا انٹرنیٹ پر بھی درس سنا اور یہاں آ کر مجلس میں بھی سن لیتا ہوں۔ فرمایا بہت فرق ہوتا ہے انٹرنیٹ پر سننے میں اور یہاں مجلس میں سننے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ تو میں نے دیکھ لیا۔ میں نے کہا یہ صرف اسلام آباد، راولپنڈی والوں کے لیے ہے باقیوں کے لیے نہیں ہے۔ کراچی والے، لاہور والے، امریکہ والے، انگلینڈ والے، سعودی عرب والے وہ اگر انٹرنیٹ پہ سنتے ہیں ان کو ویسا ہی فیض ملے گا جیسے یہاں کا ہے۔ کیونکہ وہ معذور ہیں، ان کا عذر قبول ہے۔ لیکن راولپنڈی، اسلام آباد والوں کا عذر قبول نہیں ہے۔ ان کو وقت فارغ کرنا اور مطلب اس مجلس میں آنا اس پہ ہی ملے گا۔ ٹھیک ہے اگر گھر میں سنے گا کچھ نہ کچھ تو ملے گا انشاء اللہ، یہ نہیں ہے کہ بالکل نہیں ملے گا۔ لیکن جتنا یہاں آ کر مل سکتا ہے اس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ پورے خانقاہ کا جو ایک، خانقاہ ایک ظرف ہے تو اس میں مظروف جو آتا ہے اس کے اثرات پڑتے رہتے ہیں، پڑتے رہتے ہیں، پڑتے رہتے ہیں۔ اور یہ تو قدرتی بات ہے کہ جو اثرات پڑتے رہتے ہیں وہ اثرات دوبارہ واپس بھی آتے ہیں۔ ان لوگوں کو جن کے پاس وہ اثرات نہیں ہوتے، ان کو ملتے رہتے ہیں۔ تو جو یہاں پر آتے ہیں باہر سے تو وہ خانقاہ کی فیض کو بھی ساتھ لے لیتے ہیں اور مکتوبات شریف کا فیض بھی لے لیتے ہیں، دونوں لے لیتے ہیں۔ اور جو وہاں ہیں تو علمی فیض تو یقیناً لے لیتے ہیں انٹرنیٹ پہ بھی سنتے ہیں، علمی فیض تو یقیناً لے لیتے ہیں لیکن وہ کیفیت والی فیض وہ تو ہر ایک کا اپنا اپنا حصہ ہے، جتنا اس کی طلب ہے اور جتنی اس کے لیے محنت اور مشقت اور مجاہدہ کیا گیا ہے اسی حساب سے۔
میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ باہر والوں کو کیوں ملتا ہے پورا؟ کیوں ملتا ہے؟ اس کی وجہ ہے کہ ان میں تڑپ ہوتی ہے، طلب ہوتی ہے اور طلب کو پورا کرنے کا راستہ ان کے پاس نہیں ہوتا۔ وہ جو ان کی جو تڑپ ہے وہ ان کو کامل کر لیتی ہے۔ یہاں کی تڑپ جھوٹ ہوتا ہے، اگر کوئی کہتا ہے کہ مجھ میں بڑا تڑپ ہے لیکن یہاں آ نہیں سکتا۔ تو ظاہر ہے وہ اپنے عمل سے اس کو جھوٹ ثابت کر لیتا ہے۔ لہٰذا وہ چیز تو ان کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں پر وہ چیز نہیں ملتی جو مطلب وہاں کیونکہ ان کی طلب اصلی ہے، وہ مطلب ان کا جو تڑپ ہے اصلی ہے۔ کیونکہ ان کے پاس راستہ نہیں ہے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ بعض حضرات جو باہر والے ہیں، مجھے اطلاع ملی ہے، کچھ حضرات باقاعدہ باوضو اس طرح مجلس میں بیٹھتے ہیں جس طریقے سے یہاں پر ماشاء اللہ لوگ آتے ہیں۔ باوضو۔ حالانکہ ان کا ٹائم بھی یہ نہیں ہوتا نا، ہمارا تو نماز کا ٹائم ہے مغرب سے لے کر عشاء تک، وضو تو درمیان میں ہوتا ہی ہے۔ الا ماشاء اللہ اگر کوئی کسی کا نہیں ہو تو بعد میں کر لیں گے لیکن یہ ہے کہ یوزولی (usually) تو تقریباً سب کا وضو قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ لیکن جو انگلینڈ میں سنتا ہے، ان کا وضو ہونا ارادی ہے کیونکہ ممکن ان کو نماز کا وقت ہی نہ ہو، وہ صرف اس کے لیے وضو کر رہے ہیں۔ یہ اہتمام دیکھیں۔ ہاں جی؟ تو یہ، یہ جو چیزیں ہیں تو اللہ تعالیٰ تو دیکھتا ہے نا۔ کیونکہ فیض تو اللہ دیتا ہے۔ دینے والا ذات تو اللہ کی ہے، تو وہ دیکھتا ہے کہ کسی میں طلب ہے، کسی میں وہ جو ہے نا ان کو اس کے حساب کے مطابق مل جائے۔ ہماری جو کام، ہمارا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ جو ہمارے ساتھ، مثال کے طور پر دیکھیں کہ ہمارے محلے میں کتنے لوگ جو آتے ہیں؟ سب سے کم۔ کیونکہ ان کو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم تو کسی وقت بھی آ سکتے ہیں، تو کبھی بھی نہیں آتے۔ ہاں جی؟ اور جو دور والے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں اچھا ہم تو نہیں پہنچ سکتے۔ ہمارے شیخ قرآن شمشاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پشاور میں تھے، پشاور تو لاحقہ تھا ان کے سپیشلائزیشن ہے ہاں جی؟ تو خیر وہ ایسا ہے کہ حضرت کے پاس دور کے مہمان بھی ہوتے تھے جیسے مانسہرہ کے کوئی ہیں، کوئی ڈیرہ اسماعیل خان کے، کوئی کہاں کے۔ تو کبھی شہر کے لوگ آ جاتے تھے۔ تو شہر کے لوگ ایسے ہوتے جیسے مہمان۔ پشاور شہر کے جو لوگ آتے تھے وہ ایسے ہوتے تھے جیسے مہمان۔ اور جو باہر والے ہوتے تھے وہ ایسے ہوتے جیسے میزبان۔ تو حضرت بھی کبھی کبھی مسکرا لیتے تھے، فرمایا بھئی یہ تو ہمارے مہمان ہیں نا۔ یہ تو ہمارے مہمان ہیں۔ ہاں جی؟ تو یہ سوچ سوچ کی بات ہے، سوچ سوچ کی بات ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، تعلق کیا ہوتا ہے؟ سن لو۔ ایک بڑے ولی اللہ مدینہ منورہ میں بیٹھے ہیں اور فقر کی حالت ہے۔ بہت پریشان، کوئی نظم نہیں، بعض دفعہ لوگوں سے پیسے گم ہو جاتے ہیں، کوئی اور وجہ ہو جاتی ہے۔ تو فاقہ، وہ غیور لوگ تھے، کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے۔ ہاں جی؟ سوال نہیں کر سکتے۔ یہ میں نے خود ایک صاحب ان سے لوگ ساتھی بچھڑ گئے تھے، کچھ بھی نہیں تھا ان کے پاس، تو میں ان کے ساتھ ساتھیوں کو ڈھونڈ، ان کے ساتھیوں کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اخیر میں مل گئے تو پھر وہ اس نے مجھ سے معذرت کی کہ میں ناکام ہو گیا کیوں اس وقت ظاہر ہے کچھ نہ کچھ کام تو ہوتا ہے، تو میں نے معذرت کی میں نے کہا کہ اب تو میں نے کچھ پیسے ان کو دیے کہ ناشتہ کر لو۔ تو وہ بیچارے کی بری حالت ہو گئی، کہتا ہے میں تو لوگوں کو دیتا ہوں، میں نے کہا وہ لوگ جو آپ دیتے ہیں وہ آپ کو اپنے علاقے میں دیتے ہیں اب اس وقت آپ کو ضرورت ہے۔ کھانا تو ہے نا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے بعض حضرات اتنے غیور ہوتے ہیں کہ وہ تو ان کو کوئی دیتا بھی ہے تو نہیں لے سکتے۔ چہ جائیکہ وہ سوال کرنا وہ تو بڑا مشکل کام ہے۔ تو وہ اسی حالت میں تھے، بہت جب ہو گیا تو روضہ اقدس کے سامنے بیٹھے اور شاید دل میں خیال آیا کہ اب تو برداشت سے باہر ہے، اب تو برداشت سے باہر ہے۔ تھوڑی دیر ہوئی ایک صاحب وہاں کھانے پینے کا لائے ہوئے ہیں، ان کو بلایا آ جائیں میرے ساتھ۔ روانہ کیا جی اپنے گھر لے گئے، ان کو بٹھایا، خوب ان کو کھانا کھلایا، پھر فرمایا کہ جگہ دیکھ لیجیے، دیکھ لی، جب تک آپ ادھر ہیں تو آپ ہمارے مہمان ہیں آپ کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گے۔ بس ایک درخواست ہے۔ کہا کیا ہے؟ کہتے ہم یہاں اہل، مطلب جو ہے نا وہ اسادات میں سے تھے اس علاقے کے، فرمایا کہ ہماری شکایت نہ کریں خدا کے لیے۔ کہا کیسے؟ کہتے حضرت بڑی شرمندگی ہوتی ہے جب آپ ﷺ کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے۔ اشارہ کن کو ہوگا؟ اپنی اولاد کو ہوا نا۔ اشارہ کن کو ہوا؟ اپنی اولاد کو ہوا کہ ان کو کھلاؤ۔ تو ظاہر ہے جب ایسی حالت ہوتی ہے تو اپنی اولاد ہی کو آگے بڑھنا ہوتا ہے نا، اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ تم میزبان تو وہی ہوتے ہیں نا۔ اب میزبان مہمان بن جائے، اب مہمان میزبان بنے تو الٹی ترتیب ہے۔ ہاں جی؟ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ بڑی نعمت ہے اللہ جل شانہ ہم سب کو نصیب فرما دے۔ وما علینا الا البلاغ۔