ربیع الاول کا پیغام: رسم و رواج کے بجائے اتباعِ سنت اور اصلاحِ نفس
سورۃ الانبیاء : آیت 107، آیت از سورۃ آل عمران : سورۃ: 3، آیت: 31 اور آیت از سورۃ الاحزاب : سورۃ: 33، آیت: 21
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت کا تقاضا کوئی تقریب یا نمائش نہیں، بلکہ کامل اتباع اور سنت پر عمل پیرا ہونا ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور وفات ربیع الاول میں پیر کے دن ہوئی، مگر بارہ ربیع الاول کی مشہور تاریخ درست نہیں ہے۔
- کامل ایمان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب رکھنا لازم ہے۔
- سنت کا طریقہ دنیا کا سب سے آسان اور مفید ترین طریقہ ہے، جس کی اتباع سے انسان اللہ تعالیٰ کا بھی محبوب بن جاتا ہے۔
- دین مکمل ہو چکا ہے، اس لیے مقاصدِ دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، البتہ ذرائعِ دین میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
- نفسِ امارہ انسان کو برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تزکیہ کرنا پڑتا ہے۔
- انسانی اعضاء اعمال کی مشینیں ہیں، جنہیں فجور کے تقاضوں سے روکنے اور تقویٰ اختیار کرنے سے انسان اللہ کے نزدیک معزز بنتا ہے۔
- نفس کو control کرنے کے لیے صحیح العقیدہ شیخِ کامل کی صحبت اور بتائے گئے وظائف پر پابندی سے عمل کرنا ضروری ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بزرگو اور دوستو۔ ربیع الاول کا مہینہ شروع ہے۔ ربیع الاول کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ پاک ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مہینے میں ہجرت فرمائی ہے۔ اسی میں ہجرت مکمل ہوئی ہے۔ اور اسی مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت بھی فرما گئے ہیں۔ گویا کہ سارے اہم کام جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، وہ اس مہینے میں ہوئے ہیں۔ ایک تو ربیع الاول کا مہینہ۔ دوسرے سارے کام پیر کے دن ہوئے ہیں۔ پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ پیر کے دن ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت شروع فرمائی ہے۔ پیر کے دن ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مکمل ہوئی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پیر کے دن کو بھی ایک خاص تعلق حاصل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ۔
کچھ باتیں مشہور ہو جاتی ہیں لیکن ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اور کچھ باتیں ٹھیک ہوتی ہیں، مشہور نہیں ہوتیں۔ مثلاً مشہور ہے بارہ ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے تشریف لے جانا، دونوں باتیں غلط۔ نہ بارہ ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ نہ بارہ ربیع الاول کو دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ یہ غلطی، علمائے کرام نے کتابوں میں اس کے بارے میں وجوہات بھی بیان کی ہیں کہ یہ غلطی کیوں ہوئی ہے۔ لیکن ہوئی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ یہ غلطی ہے، مطلب ہم کیوں یہ بتا رہے ہیں کہ غلطی ہے؟ اصل میں آج کل کے دور میں سائنسی تحقیق اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ گزشتہ دو ہزار سال سے بھی آپ کو بتا سکتے ہیں کہ کون سی تاریخ کو کون سا دن تھا۔ یعنی بتایا جا سکتا ہے۔
تو یہ پہلی دفعہ ایک ترکی عالم نے جو ماہر فلکیات تھے، جن کا ذکر سیرت النبی ﷺ، سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا جو مرتب کردہ ہے اس میں ہے۔ انہوں نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ حساب کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیر کا دن جو ثابت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، اور ربیع الاول کا مہینہ ولادتِ پاک کے لیے بھی اور دنیا سے رحلت فرمانے کے لیے بھی۔ تو میں نے حساب لگایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنِ ولادت میں پیر کا دن ربیع الاول میں کب کب آتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو سنِ وفات ہے اس میں پیر کا دن ربیع الاول میں کب کب آتا تھا۔ تو ولادتِ پاک کے لیے آٹھ یا نو ربیع الاول ہے، کیونکہ ایک دن کا فرق پڑ سکتا ہے حساب کے ذریعے سے، آٹھ یا نو ربیع الاول ہے۔ اور وفات کے لیے یکم یا دو ربیع الاول ہے۔ یہ دونوں باتیں اس طرح ہیں۔ یکم یا دو اور جو ولادتِ پاک ہے آٹھ یا نو۔ اس دفعہ اس سال بھی ربیع الاول یکم کو پیر کا دن تھا۔ اس دفعہ۔ اور آٹھ تاریخ بھی پیر کے دن ہو گی۔ تو گویا کہ یہ اس دفعہ کافی مطلب ایک جیسی بات آ رہی ہے۔
ہمارے مسلمانوں کے ہاں، یعنی صحابہ کرام کے دور میں، تابعین کے دور میں، تبع تابعین کے دور میں، جو انتہائی درجے کے مستند لوگ تھے۔ ان کے ہاں نہ برسی منائی جاتی تھی، نہ سال کی ابتدا منائی جاتی تھی۔ کوئی اس قسم کی بات نہیں تھی۔ اسی وجہ سے درمیان میں غلطی بھی ہو گئی۔ اگر یہ باقاعدہ منائی جاتی تو مجھے بتاؤ، پھر غلطی ہو سکتی تھی؟ کیونکہ صحابہ کرام کے تو سامنے سب کچھ ہوا تھا۔ تو یہ غلطی پھر نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ غلطی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منائی نہیں جاتی تھی۔
اور اس کی وجہ کیا ہے؟ مجھے آپ بتاؤ آپ اپنے والد کی محبت کو منا سکتے ہیں؟ کوئی منا سکتا ہے والد کی محبت کو؟ محبت منائی نہیں جاتی، محبت کی جاتی ہے۔ محبت منائی نہیں جاتی۔ میں کیا اعلان کروں گا کہ میں فلاں کے ساتھ محبت کر رہا ہوں، اس کے لیے اعلان کی ضرورت ہے؟ محبت تو دل کی چیز ہے، دل میں ہوتی ہے۔ جس کے دل میں محبت ہوتی ہے، اس کے اعمال سے محبت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اور جس کے دل میں محبت نہیں ہوتی، اس کے اعمال سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس کے دل میں محبت ہے یا نہیں ہے۔ تو سارا معاملہ اعمال کا ہے اور سارا معاملہ دل کا ہے، دو باتیں۔ اور میرے خیال میں آج اسی پہ بات کروں گا کہ یہ دو باتیں کیا ہیں۔
دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا ہے، صحیح حدیث شریف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ۔ عربی کے قاعدے کے لحاظ سے بات بڑی سخت ہے۔ علمائے کرام نے احتیاطاً اس کا جو ترجمہ کیا ہے وہ یہی کیا ہے کہ تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا، ورنہ عربی کا براہِ راست ترجمہ کیا بنتا ہے؟ تم میں سے کوئی مومن اس وقت تک نہیں ہو سکتا۔ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ۔ جب تک مجھے اپنے والدین سے، اپنی اولاد سے، بلکہ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھیں۔ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت جس میں عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا، جب تک اپنے آپ سے بھی مجھے زیادہ محبوب نہ سمجھو۔ پھر عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا یا رسول اللہ! اب تو میں اپنے آپ سے بھی زیادہ آپ کو محبوب سمجھتا ہوں۔ فرمایا: الْآنَ يَا عُمَرُ! اب بات بن گئی۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت یہ ہر مومن کے دل میں تمام لوگوں سے زیادہ ہونی چاہیے، اپنے آپ سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ اس میں دوسری بات نہیں ہو سکتی۔ دوسری بات جہنم میں پہنچا سکتی ہے۔ اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کیا ہے؟ لازم ہے ہر مسلمان کے لیے۔ اس میں کوئی سوچ نہیں ہے۔ اس میں کوئی calculation نہیں ہے۔ اس میں کوئی سنی سنائی بات نہیں ہے، یہ پکی بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت۔
صحابہ کرام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسی محبت تھی؟ ذرا تھوڑا سا غور کر لیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، سبحان اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دینے پر کافروں نے ان کو اتنا مارا، اتنا مارا، لہو لہان کر دیا۔ ان کی ماں اس وقت مسلمان نہیں ہوئی تھی، وہ آئی، اپنے بیٹے کے خون کو دھو رہی ہے اور رو رہی ہے۔ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو ہوش آیا تو سب سے پہلے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس پر ماں نے کہا دیکھو تیرا حال ان کی وجہ سے کیسے ہو گیا ہے، تو پھر بھی ان کی بات کرتا ہے۔ یہ ہے محبت۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے، روضۂ اقدس پر کھڑے ہیں، قبر شریف پر کھڑے ہیں، رو رہے ہیں۔ الفاظ زبان سے ادا ہو رہے ہیں: یا رسول اللہ ﷺ! جس وقت آپ کے لیے منبر بن گیا اور آپ نے اس درخت پر ہاتھ رکھنا چھوڑ دیا جس پہ ہاتھ رکھ کر آپ خطبہ دیا کرتے تھے، وہ درخت رو پڑا۔ آپ نے ان کے اوپر ہاتھ رکھا اور وہ ایک بچے کی طرح ہچکیاں لیتے لیتے چپ ہو گیا۔
یا رسول اللہ! کون اب ہمارے سر پر ہاتھ رکھے گا؟ ہمارے سر پہ کون ہاتھ رکھے گا؟
رات کو گشت کر رہے ہیں۔ رات کو گشت کر رہے ہیں۔ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اشعار پڑھ رہی تھی۔ عرب چپے چپے سارے شاعر تھے۔ مرد بھی، عورتیں بھی۔ اشعار پڑھ رہی تھیں۔ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے کان میں آواز آ گئی۔ ادھر کھڑے ہو گئے۔ اور یہ حالت ہو گئی کہ کھڑے نہیں رہ سکے۔ روتے رہے، بیٹھ گئے، اور گھر پر اس حالت میں پہنچائے گئے کہ خود اپنے پیروں سے نہیں گئے، اور کئی دن پڑے رہے۔ یہ ہے محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کی۔ اور بہت سارے واقعات ہیں۔ کون کون سا واقعہ آپ کو سناؤں گا۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے، اس پر کوئی بات نہیں۔ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، یہ ہے ہی دل کی بات۔ اس کے لیے کوئی رسم کی ضرورت نہیں ہے، اس کے لیے کوئی تقریب کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے، ہم میلاد نہیں مناتے لیکن خود میلاد بن جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ محبت تو دل کا سودا ہے۔ محبت کے لیے میں کوئی نمائش کروں گا؟ میں کوئی جھنڈیاں لگاؤں گا؟ میں کوئی بلب جلاؤں گا؟ دل کا ایک بلب جلا دو، اس کے اندر محبت کے بلب کو جلا دو، یہ کرنا پڑتا ہے۔
اس کے بعد دوسری بات؛ محبت کا اثر کیا ہونا چاہیے۔ محبت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال پر وہ اثر انداز ہو جاتا ہے۔ جس کے ساتھ محبت کرتا ہے، اس کا ذکر بہت کرتا ہے۔ اور جس کے ساتھ محبت کرتا ہے، اس کی مرضی کے مطابق چلتا ہے۔ اپنی تمام خواہشیں چھوڑ کر اپنے محبوب کی خواہش کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ ان کی خوشنودی کو حاصل کرتا ہے۔
صحابہ کرام، جس وقت یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ کہ جو میرے ساتھ محبت رکھے گا وہ میرے ساتھ ہوگا۔ تو اس پر اتنے خوش ہوئے کہ ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ اسی پر خوش ہوئے تھے۔ اس وجہ سے محبت کا معاملہ تو ایسا ہے کہ اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔
تو اثر کیا ہے؟ اعمال میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ ایک صاحب ہے، کسی کے ساتھ محبت کرتا ہے، اس کے سامنے کھڑا ہے، اس کو دیکھ رہا ہے۔ وہ اسے کہتا ہے اچھا میرے لیے بازار سے فلاں چیز لے آؤ۔ وہ کہتا ہے حضرت یہ تو نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔ کیا یہ محبت ہے؟ یہ تو محبت کے ساتھ مذاق ہے۔ محبت کا مطلب کیا ہے کہ جو محبوب نے کہا فوراً اس کے اوپر عمل۔
اور یہ بات سنو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہمارے محبوب نہیں ہیں۔ ساری مخلوقات کے محبوب ہیں اور اللہ جل شانہ کے محبوب ہیں۔ اللہ جل شانہ کے محبوب ہیں۔ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا۔ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ اے میرے حبیب! اپنی امت سے کہہ دیں اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالی تمہارے ساتھ محبت کرنے لگیں گے۔
محبوب کا طریقہ بھی محبوب ہوتا ہے۔ اور محبوب کے طریقے پر جو چلنے والا ہوتا ہے، وہ بھی محبوب ہو جاتا ہے۔ لہذا اگر کوئی اللہ کا محبوب بننا چاہے اور ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی، سنت پہ چلے۔ سنت کا طریقہ اپنائے۔ سنت کا طریقہ دنیا کا سب سے آسان ترین، سب سے مفید ترین طریقہ ہے۔ چاہے کوئی سمجھے یا نہ سمجھے، جو نہ سمجھے اس کی عقل میں فتور ہے۔ لیکن سب سے آسان طریقہ سنت، سب سے مفید طریقہ سنت۔ جو درمیان میں مشکلات ہیں وہ ہماری طرف سے ہیں۔
مجھے بتاؤ، سنت طریقے کے مطابق شادی آسان ہے یا ہمارے طریقے پہ؟
سنت طریقے پہ۔
سنت طریقے پہ فوتگی کے سارے کام آسان ہیں یا ہمارے طریقے پہ؟
سنت طریقے پہ۔
سنت طریقے پہ کھانا آسان ہے یا ہمارے طریقے پہ؟
سنت طریقے پہ۔
ہر طریقہ سنت کا لے لو۔ وہ آسان ترین طریقہ ہے۔ کوئی اس میں مشکل نہیں ہے۔ وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ تھا۔ جب کوئی کام کئی طریقے سے ہو سکتا ہوتا۔ اس میں جو آسان طریقہ ہوتا، اس کے مطابق کام کرتے۔ جو آسان طریقہ ہوتا اس کے مطابق۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ آسان طریقہ ہی ہوگا۔
ایک بات یاد رکھیے۔ دین مکمل ہو چکا ہے۔ دین کے اندر اب مزید کوئی اضافہ، کمی نہیں ہو سکتی۔ جس کا اعلان اللہ پاک۔ حجۃ الوداع کے موقع پہ کر چکے ہیں۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ آج کے دن میں نے مکمل کر دیا تمہارے لیے تمہارا دین۔ اور تمام کر لی تمہارے اوپر اپنی نعمت۔ اور تمہارے لیے دینِ اسلام کو بطور دین کا پسند کر لیا۔
اب کوئی عیسائی کتنے ہی اچھے اعمال کیوں نہ کرے، نہیں قبول۔ کوئی یہودی کتنے اچھے اعمال کرے، نہیں قبول۔ کوئی ہندو کتنے اچھے اعمال کر لے، نہیں قبول۔ کوئی جس مذہب کا بھی ہے، کتنے اچھے اعمال کر لے، نہیں قبول۔ ایک ہی قبول ہے اور وہ کیا ہے؟ اسلام کے مطابق عمل کرے گا تو۔ وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پہ قبول کر لیا، پسند کر لیا بس۔ اس کے بعد بات ختم ہو گئی۔
چونکہ اب وحی کا سلسلہ ختم ہے۔ لہذا کسی کی سمجھ کے مطابق۔ کسی کی فکر کے مطابق۔ کسی کی observation کے مطابق۔ کسی کی تحقیقات کے مطابق کوئی اور بات نہیں چل سکتی۔ ساری تحقیقات۔ ساری فکریں۔ ساری calculations۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نہ ہوں، سب آگ میں جلائے جانے کے قابل ہیں۔
دین کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں، دنیا کے لحاظ سے بات نہیں کر رہا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں بھئی دنیا میں تو بہت کچھ چلتا ہے۔ بہت کچھ۔ اب یہ ساری چیزیں اڑا دو۔ جہاز کو بھی اڑا دو، ریل کو بھی اڑا دو، نہیں نہیں بھئی دنیا کی بات اور ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ۔ تم اپنے دنیا کے کام کو اچھی طرح جانتے ہو۔ تو دنیا کی تو بات ہی نہیں ہو رہی۔ یہاں تو بات کس چیز کی ہو رہی ہے؟ دین کی بات ہو رہی ہے۔ دین کے اندر اب کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ دین مکمل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے جو بات بھی دین سے متعلق ہو گی، وہ صرف وہی ہو گی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تھی۔ اس کے بعد اب اس کے اندر تبدیلی کوئی نہیں آ سکتی۔
ہاں البتہ ایک بات ضرور ہے۔ اور وہ سمجھنا چاہیے۔ ایک ہوتا ہے مقاصدِ دین، ایک ہوتا ہے ذرائعِ دین۔ مقاصدِ دین میں تبدیلی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ دین کا جزو ہے۔ مثلاً ہم نماز پڑھتے ہیں، نماز میں کوئی تبدیلی نہیں۔ روزہ رکھتے ہیں، روزے میں کوئی تبدیلی نہیں۔ حج کرتے ہیں، حج میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہ منیٰ ہے نا منیٰ۔ حج میں۔ اس کی حدود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کر لی ہیں، اب کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ بالکل وہی ہوں گی۔ قیامت تک وہی ہوں گی۔ اس کے علاوہ اب کوئی راستہ ہی نہیں بس۔ ختم۔
مزدلفہ کی حدود مقرر ہو چکی ہیں، مزدلفہ وہی مزدلفہ ہے۔ عرفات کی حدود مقرر ہو چکی ہیں، عرفات وہی ہے۔ کوئی آگے پیچھے رش ہو گیا اور کہتا ہے جی میں عرفات میں نہیں جا سکا۔ افسوس کیا جا سکے گا اس کے ساتھ لیکن وہ حاجی نہیں بنے گا۔ اس کے ساتھ افسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ حاجی نہیں بنے گا۔ حاجی اس وقت بنے گا جس وقت عرفات کی ان حدود کے اندر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ مقرر فرما دی تھیں، اس کے اندر داخل ہو کر یہ حاجی بن سکتا ہے۔
دیکھو، صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک روزہ ہے۔ کوئی شخص دو گھنٹے پہلے روزہ شروع کرتا ہے۔ اور آدھا گھنٹہ پہلے افطار کرتا ہے۔ وہ روزہ دار ہے؟
نہیں۔
اس نے فاقہ تو زیادہ دیر کیا۔ اس نے کھانا تو کچھ نہیں کھایا۔ بلکہ زیادہ دیر، ڈیڑھ گھنٹہ زیادہ رکھا نا۔ لیکن روزہ دار ہے؟ روزہ دار نہیں ہے۔ کیوں، حدود مقرر ہوئی ہیں اللہ کی طرف سے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
نماز؛ کوئی دو سجدے کی جگہ تین سجدے کر لے گا اس کی نماز ہو جائے گی؟ ایک رکعت میں۔ نہیں ہوگی، کیوں؟ مقرر کیے گئے ہیں۔ حالانکہ حدیث شریف موجود ہے کہ سب سے زیادہ اللہ پاک کے قریب انسان سجدے میں ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے لیکن دو سجدوں کی جگہ تین سجدے نہیں، چار سجدے نہیں، اب دو سجدے سے ہی نماز ہو گی۔ یہ ہیں مقاصدِ دین۔ مثلاً علم؛ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ۔ مقصدِ دین علم کا حاصل کرنا سارے مسلمانوں پر، مرد و عورتوں پہ فرض ہے۔ لیکن کیسے حاصل کرلیں؟ یہ ذرائع ہیں۔ ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اب آج کل لاؤڈ اسپیکر پر آپ بات کرتے ہیں، ریڈیو پہ بات کرتے ہیں، انٹرنیٹ پر بات کرتے ہیں، اس کو کوئی ناجائز کہے گا؟ یہ ذرائع ہیں۔ یہ مقصد نہیں ہے۔ اگر آپ نے اس کو مقصد قرار دے دیا پھر بدعت ہو جائے گا۔ میں جہاز پر اگر جاتا ہوں حج کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا، بےشک جہاز اس وقت موجود نہیں تھا۔ کیوں؟ ذریعہ ہے۔ لیکن میں کہوں کہ جہاز پر جانا لازم ہے، تو بس پھر بدعت ہو جائے گا۔ تو بدعت کی تعریف کہاں آتی ہے؟ جب ہم کسی چیز کو دین سمجھتے ہیں۔ جب ہم کسی چیز کو دین کا حصہ بنا لیتے ہیں، پھر وہ بدعت ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس کو ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس میں وہ بدعت کی بات ہی نہیں ہے، کیونکہ وہ دین کا حصہ ہی نہیں ہے۔
یہ بہت اہم بات ہے، آج کل ان چیزوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں، پریشان ہیں۔ اور خواہ مخواہ ان چیزوں میں اپنے آپ کو الجھایا ہوا ہے۔ مقاصدِ دین کے اندر ذرہ بھر بھی تبدیلی نہیں۔ ذرہ بھر بھی تبدیلی نہیں۔
اب دیکھو عیدیں مقرر ہوچکی ہیں دو۔ دو عیدیں مقرر ہیں، عید الاضحیٰ، عید الفطر، جمعہ کو مجازاً عید کہا گیا۔ جمعہ کو۔ لہذا اب یہ عید ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی عید نہیں ہے۔ چونکہ دین کی بنیاد ہے نا، مثلاً دین بن رہا ہے نا۔ اگر ہم عید کو دین سمجھتے ہیں، ہاں اگر کوئی picnic party سمجھتا ہے، سیر سپاٹا سمجھتا ہے، تو پھر اس کو دین نہ کہیں۔ پھر ٹھیک ہے، جتنی جتنی بھی عیدیں بنا لیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر اس کو دین سمجھتا ہے اور ثواب اس میں سمجھتا ہے، پھر پابندی لگے گی۔ پھر کہیں گے نہیں بس وہ دو عید ہیں، اس سے زیادہ عید نہیں ہے۔ یہ میں ساری باتیں اس لیے کر رہا ہوں، آج کل ان چیزوں میں لوگ پریشان ہیں۔
میں نے عرض کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بارے میں تو کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہوگا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہمیں پتہ چلتا ہے صحابہ کرام کے ذریعے سے۔ صحابہ کرام نے جس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی، ہم بھی اسی طریقے سے کریں گے۔ صحابہ کرام نے جس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی، ہم بھی اس طرح پیروی کریں گے۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔
کیوں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں وہی کامیاب ہے۔ اور عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ۔ تم پر میری سنت کا اتباع لازم ہے اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کا اتباع لازم ہے۔ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ اس کام میں شریک کر لیا ہے۔ لہذا ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ تو پیغمبر نہیں تھے۔ بھئی پیغمبر نہیں تھے، پیغمبر نے جو authority ان کو دی ہے اس کے مطابق ہم مانتے ہیں۔ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي حدیث شریف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گفت ہے۔
کسی نے مجھ سے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسری اذان شروع کر لی تو یہ۔ میں نے کہا بھئی اس کی authority ملی تھی۔ خلیفہ راشد تھے۔ عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، تم عثمان رضی اللہ عنہ ہو؟ تم خلیفہ راشد ہو؟ تم درمیان میں کہاں سے لا سکتے ہو؟ ہاں، ان کے لیے authority تھی، اللہ تعالی نے ان کو جو authority دی تھی اس کے مطابق انہوں نے کر لیا۔
تو اصل بات یہ ہے کہ جو چیز اللہ نے مقرر کی ہے، جو اللہ کے رسول نے مقرر کی ہے، اس پر ہم مطمئن ہو جائیں۔ یہ ہے نفسِ مطمئنہ۔ کیا ہے؟ یہ ہے نفسِ مطمئنہ۔
اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ جل شانہ کے فرمان پر مطمئن ہو جائیں کہ بس یہی ٹھیک ہے، یہ ہے نفسِ مطمئنہ، اس کے بعد درمیان میں کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ ایسے نفسِ مطمئن کے لیے اللہ پاک نے بشارت فرمائی ہے قرآن پاک میں يَآ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔ اے مطمئن نفس! لوٹ جا اپنے رب کی طرف اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہو، وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ یہ ہے نفسِ مطمئنہ، سبحان اللہ۔ اللہ تعالی ہمیں ایسا مطمئن نفس عطا فرما دے۔
لیکن یہ آسانی کے ساتھ نہیں ہوتا، نفس بہت اڑی کرتا ہے۔ پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلوائے ہیں اللہ پاک نے قرآن پاک میں، "میں اپنے نفس سے اپنے آپ کو بری نہیں سمجھتا، یہ تو ہمیشہ برائی کی طرف ہی مائل کرنے والا ہے"۔ اس کو کہتے ہیں "نفسِ امارہ" نفسِ امارہ۔ تو نفسِ امارہ کیا ہے، برائی کی طرف مائل کرنے والا ہے۔ نفسِ امارہ خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا۔ اگر کوئی خوابِ خرگوش میں سویا ہوا ہے کہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا، تو آپ کو سنا دوں اللہ تعالی کے احکامات۔
اللہ پاک فرماتے ہیں: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا، قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا۔ نفس کا تعارف کیا ہے اللہ پاک نے سات قسمیں کھا کر۔ سات قسمیں کھا کر نفس کے تعارف کیے، معمولی بات نہیں ہے، سورہ شمس دیکھ لو، ترجمہ بھی پڑھ لو، تفسیر بھی پڑھ لو۔ اللہ پاک نے فرمایا اس نفس کے اندر میں نے دو چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک اس کے فجور؛ برے تقاضے اور ایک اس کا تقویٰ۔
تقویٰ کیسے ہے؟ دیکھو اندھیرے میں آپ light جلا دیں، اندھیرا کدھر گیا؟ ختم ہو گیا۔ اندھیرا ختم ہو گیا، light آ گئی۔ اسی طریقے سے اگر آپ فجور کے تقاضے پہ عمل نہ کریں، فجور ختم ہو گیا، تقویٰ آ گیا۔ تقویٰ light ہے اور فجور اندھیرا ہے۔ لہذا جو شخص بھی کسی فجور کے تقاضے پہ عمل کرے گا، وہ گناہ گار ہو جائے گا، فاجر ہو جائے گا۔ فاجر ہو جائے گا۔ اگر فجور کے تقاضے پہ عمل کرے گا اور تقاضے پہ عمل نہیں کرے گا، متقی ہو جائے گاایک ہی بات ہے۔
لہذا اس کے سامنے بند باندھنا پڑتا ہے، خود بخود نہیں ہوتا۔ لہذا اللہ پاک نے آگے ارشاد فرمایا ہے، بہت کھل کے بات کی ہے، کھل کے بات فرمائی، اگر اب بھی کوئی نہیں سمجھتا تو اس کی مرضی ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا، یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو رذائل سے پاک کر دیا۔ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو رذائل سے پاک کر دیا، قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا، یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جو ایسا نہ کر سکا، اپنے نفس کو اس حال پہ چھوڑ دیا، کیوں خود بخود ہوتا ہے؟ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا، اس کو سننے کے بعد کیا خیال ہے آپ کا، پھر بھی یہ خیال ہوگا کہ نفس خود بخود ٹھیک ہو جائے گا؟ اس کو کرنا پڑتا ہے۔ اور نہیں کرے گا تو نتیجہ پھر یہ ہوگا، جہنمی بننا پڑے گا۔ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا، یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو اس حال پہ چھوڑ دیا۔ پس نفس کو اس حال پہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔
میں آپ کو ایک بات بتاؤں، ہمارے پاس الحمد للہ مشینیں موجود ہیں مشینیں، زبردست قسم کی مشینیں اعمال کی۔ آنکھ بھی مشین ہے، کان بھی مشین ہے، زبان بھی مشین ہے، دماغ بھی مشین ہے، ہاتھ پاؤں بھی مشین ہے، جسم کے سارے اعضاء مشین مشین ہیں۔ میں اگر آنکھ سے دیکھتا ہوں غیر محرم، گناہ بن رہا ہے اس سے۔ اور اگر اس سے میں اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے منہ موڑ رہا ہوں تو تقویٰ بن رہا ہے، مشینیں ہیں۔ مشینیں چل رہی ہیں۔ ہر وقت چل رہی ہیں۔ جتنی دفعہ آپ منہ موڑیں گے اور اپنے آپ کو بچائیں گے، اتنی دفعہ آپ متقی بنتے جائیں گے۔ فیصلہ کیا ہوگا، تم کتنے بڑے متقی ہو گے، اللہ پاک فرماتے ہیں: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، بے شک تم میں زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ تقویٰ حاصل کرتے جاؤ، اللہ جل شانہ کے ہاں ترقی کی سیڑھیوں پہ چڑھتے جاؤ۔ موقع مل گیا ہے۔ اس کے لیے تو دعائیں کی جاتی ہیں، اللہ مجھے توفیق عطا فرما، زندگی عطا فرما، وقت عطا فرما تاکہ میں اور زیادہ آگے بڑھوں۔ موقع موجود ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ اور اگر یہ موقع ختم ہو گیا، فرشتہ آ گیا، پھر آپ لاکھ منتیں کریں، بات نہیں مانی جائے گی۔ بس بات ختم ہو گئی، جتنا کرنا تھا وہ کر لیا۔ اب سات رجسٹر لپیٹ کے لے جاؤ۔
تو یہی بات ہے متقی کی بات، قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا۔ اور فجور والا، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا۔ پھر اللہ پاک نے اس کے بعد ایک زبردست مثال دی ہے۔ مثال کیا دی ہے؟ كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا، إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا، فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا، وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا۔ یہ قومِ ثمود کا ایک خبیث آدمی تھا جو اپنی فاحشہ محبوبہ کی وجہ سے حضرت صالح علیہ السلام کی جو اونٹنی تھی جو معجزے کے طور پر ظہور میں آئی تھی، ان کو مارنے پہ تل گیا تھا۔ تو حضرت صالح علیہ السلام نے اس کو روکا ایسا نہ کرو۔ وہ اپنے نفس سے مجبور ہو گیا، اس نے وہی کر دیا۔ فَعَقَرُوهَا، پھر اللہ پاک نے کیا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا، اللہ پاک نے ان کو ملیا میٹ کر دیا۔ وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا، اللہ کو کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے بعد ان نے کیا کیا۔ یہ اللہ پاک نے ایک نمونے کے طور پر، مثال کے طور پر کہ نفس اتنی ظالم چیز ہے۔
آخر یہ دیکھو سامری جو ہے، سامری۔ اس نے جادو کیا تھا نا، اور جادو سے گائے بنائی تھی اس سے آواز نکلتی تھی اور اور بنی اسرائیل والے اس کی پوجا کرتے تھے۔ تو جب موسیٰ علیہ السلام آئے تو اتنے غصے ہوئے اور سامری کو کہا یہ تو نے کیا کر دیا؟ تو اس نے جواب کیا دیا؟ مجھے میرے نفس نے یہ اچھا دکھایا۔ مجھے میرے نفس نے اچھا دکھایا، پھر موسیٰ علیہ السلام نے کیا کیا، اس کو تو ڈال دیا آگ میں، اور ساتھ موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے کہا کہ بس اب تو تجھے مطلب ظاہر ہے وہ تو ایسا بیمار ہو جائے کہ پھر تم کہے گا کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ، اور اسی حالت میں وہ چلا گیا۔
تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں ہمیں اپنے نفس کو control کرنا پڑے گا۔ اس کو control کرنے کے لیے طریقہ یہ ہے، ان کے پاس جانا پڑے گا جہاں یہ control کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہو۔ جیسے ڈاکٹر کے پاس انسان جاتا ہے بیمار جب ہوتا ہے، اس کے پاس ہو جاتا ہے، ورنہ پھر یہ ہوتا ہے ظاہر ہے پھر اپنے تجربے کرتا رہے اپنے اوپر، مزید بیمار ہوتا رہے۔ لیکن ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، ہاں ڈاکٹر کی پہچان آدمی کر لے، صحیح ڈاکٹر کے پاس چلا جائے، تو صحیح ڈاکٹروں کی میں نے آپ کو پہلے بھی نشانیاں بتائیں۔۔۔ پہلی نشانی صحیح العقیدہ ہو۔ دوسری نشانی، علم اس کا فرضِ عین درجے کا کم از کم ہو۔ تیسری نشانی، اس علم پر عمل کرتا ہو۔ چوتھی نشانی، ان کی صحبت کا سلسلہ اپن کی صحبت تک پہنچتا ہو۔ پانچویں نشانی، ادھر سے کسی شیخِ کامل کے ذریعے سے جو اس کو اجازت دی گئی ہو، اور چھٹی نشانی یہ ہے کہ ان کی صحبت جاری ہو، مطلب یہ ہے کہ اس میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان کا فیض جاری ہو، اور جو لوگ بھی ان کے پاس اس مقصد کے لیے جاتے ہیں تو ان کو فائدہ نظر آتا ہو۔ اور ساتویں نشانی، کہ مروت نہیں کرتا ہو، اصلاح کرتا ہو۔ آٹھویں نشانی یہ ہے کہ اس کی مجلس میں بیٹھ کر اللہ یاد آتا ہو، دنیا کی محبت کم ہوتی ہو۔اگر یہ آٹھ نشانیاں کسی میں ہیں تو انہی کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر لے اپنے نفس کی اصلاح کے لیے۔
اور جب تک ایسا کوئی نہیں ملتا تو ایک وظیفہ میں پہلے بھی دے چکا ہوں، وہ تین سو دفعہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، دو سو دفعہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، اس کو چالیس دن تک اگر کوئی بلا ناغہ کر لے، ان شاء اللہ اپنے دل میں کچھ فرق محسوس کریں گے۔ مزید بڑھنے کے لیے وہ رابطہ کر سکتے ہیں ٹیلیفون پر۔ ہمارے ٹیلیفون پر رابطہ بارہ بجے سے لے کر ایک بجے تک ہوتا ہے سوائے جمعہ کے دن کے، باقی دنوں میں ہوتا ہے۔ اور اس کا ٹیلیفون نمبر جو ہے ہمارا ٹیلیفون نمبر، ہمارے کارڈ پر چھپا ہوا ہے، یہ وظیفہ بھی چھپا ہوا ہے۔ جس کو وہ کارڈ چاہیے وہ نماز کے بعد طلب کر لے۔ لیکن جو وظیفہ کرنا چاہتا ہے وہ طلب کر لے، ویسے جو شغل میلے کے طور پر لینا چاہتا ہو تو تو میرے خیال میں ان کو نہیں لینا چاہیے۔ جو واقعی کرنا چاہتا ہو تو وہ لے لے، ہمارا ساتھی ادھر موجود ہوگا ادھر بیٹھا ہوا ہے، یہ آپ کو ان شاء اللہ کارڈ دے دے گا، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے، وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔