ربیع الاول میں بدعات سے بچنا
- ربیع الاول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور وفات کا مہینہ ہے، جس میں آپ کی یاد ہر مومن کے لیے ایک فطری بات ہے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد کا بہترین اور قرآنی طریقہ یہ ہے کہ اہتمام کے ساتھ کثرت سے درود شریف پڑھا جائے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی محبت کوئی رسمی بات نہیں بلکہ آپ کے طریقے کو سرمایۂ حیات سمجھ کر اپنانے کا نام ہے۔
- دین صحابہ کرام کا طریقہ ہے، جبکہ قرونِ اولیٰ میں کسی صحابی یا تابعی سے ولادت کا دن منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
- شریعت پر دل و جان سے عمل کرنا ضروری ہے اور اپنی من چاہی باتوں کو دین بنا کر بدعت میں مبتلا ہونا صریح گمراہی ہے۔
- ربیع الاول کا مستقل پیغام یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے ساتھ آپ کی پیروی اور اطاعت کو بھی بڑھایا جائے۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
آپ حضرات کو پتہ ہوگا کہ آج ہمارا یکم ربیع الاول ہے۔ اور ربیع الاول کے مہینے میں جو ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ پاک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے تشریف لے جانا دونوں ثابت ہیں۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی کہے کہ ہمارے جو بزرگ ہیں وہ میلاد نہیں مناتے۔ لیکن خود میلاد بن جاتے ہیں۔ خود میلاد بن جاتے ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ان کو متاثر کرتی ہے، تو میں تو کہتا ہوں ہر مومن کو متاثر کرتی ہے۔ جو بھی مومن ہوگا ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہوگی اور جس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہوگی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس وجہ سے بھی یاد آئیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا عزم بھی ہوگا۔ یہ چیز ظاہر ہے کہ ہمارے لیے ایک فطری بات ہے۔ اس وجہ سے ربیع الاول شروع ہو جائے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد نہ آئیں یہ بڑی عجیب بات ہے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو یاد ہے وہ اس کا بہترین طریقہ جو ہے وہ تو درود شریف پڑھنا ہے۔ درود شریف پڑھنا ہے۔ درود شریف جو ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد کا وہ طریقہ ہے جو کہ قرآن میں اللہ جل شانہ نے حکم دیا ہے۔ ہر مومن کو کہ اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور فرشتے بھی کرتے ہیں۔ تو اللہ پاک بھی درود بھیجتے رہتے ہیں فرشتے بھی۔ تو اے مومنو تم بھی ان عظیم نبی پر درود بھیجا کرو اہتمام کے ساتھ۔ لہٰذا ہم تو زیادہ بھیجا کریں گے ان شاء اللہ العزیز۔
تو یہ ربیع الاول کا جو مہینہ ہے اس کا چونکہ تعلق ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ساتھ۔ اس وجہ سے یہ مطلب اس کا یاد آنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ پھر پیر کے دن کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ اسی لیے اس دن کا نام پیر ہے کہ باقی دنوں کا پیر ہے، یعنی مطلب یعنی پیر کا وہ ہے اس کو۔ تو بہرحال اس پر میرا کچھ کلام بھی ہے، پیر کے دن پر، آج پیر کا دن بھی ہے، اس دفعہ جو ربیع الاول کا مہینہ ہے، یہ بڑا عجیب ہے۔ کہ پیر کو ہی شروع ہو رہا ہے، یکم پیر کو ہے۔ تو جو زیادہ مستند روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ وفات کی، وہ یکم یا دو ربیع الاول ہے۔ یکم یا دو ربیع الاول ہے، اور زیادہ مستند روایت جو ولادت کی ہے وہ آٹھ یا نو ربیع الاول ہے۔ یہ ایک دن کا جو فرق ہے وہ natural فرق ہے کہ جو ایک دن کا فرق پڑ جاتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے مطلب اس میں اندازے میں آگے پیچھے غلطی ہو سکتی ہے یہ اسی وجہ سے ہے یا یکم ہے یا دو ہے۔ اور یا آٹھ ہے یا نو ہے۔ تو اگر دیکھا جائے تو اس دفعہ بھی پیر کا دن یکم کو بھی آتا ہے اور آٹھ کو بھی آتا ہے۔ تو اس دفعہ کا ربیع الاول یہ بڑا عجیب ہے۔ کہ مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ولادتِ پاک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ وفات ہے۔ اس کے ساتھ دونوں روایتیں یہ ملتی ہیں۔ یعنی پیر کے دن کی روایت بھی اور ربیع الاول کی روایت بھی۔
تو جیسے میں نے اپنے شیخ کی بات بتائی کہ ہم میلاد نہیں مناتے۔ میلاد نہیں مناتے کیونکہ کوئی رسمی بات تھوڑی ہے تو اس کو منایا کریں گے۔ کیا محبت کوئی مناتا ہے؟ محبت کو منانے کی کوئی ترتیب ہوتی ہے؟ محبت ہوتی ہے، محبت منائی نہیں جاتی۔ جو محبت مناتے ہیں وہ محبت رسمی کرتے ہیں، اور ان کو حقیقی محبت ہوتی ہی نہیں۔ کیونکہ حقیقی محبت جن کو بھی ہو اس کے ساتھ فطری طور پر اس محبت کا جو تقاضا ہے وہ سامنے آئے گا، یعنی عمل۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سب سے اپنے لیے سرمایۂ نجات اور سرمایۂ حیات سمجھنا۔ فطری طور پر یہ ہوگا، اگر کسی کا اس کے ساتھ یہ نہیں ہے تو وہ صرف محض دعویٰ ہی دعویٰ رہ جاتا ہے۔ دعویٰ ہی دعویٰ رہ جاتا ہے۔
مثلاً کوئی کسی کو کہتا ہے جی میں تو آپ کے ساتھ بہت محبت کرتا ہوں، وہ کہتا ہے اچھا بازار سے میرے لیے فلاں چیز لاؤ۔ کہتا ہے یہ تو مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ پھر کیسی محبت ہے؟ مطلب محبت کا دعویٰ ہے لیکن حکم دینے پر وہ اس سے مجبور ہے وہ نہیں لا سکتا۔ کیسی محبت۔ ایک تو نہیں کر سکتا عذر کی وجہ سے ہوتا ہے ایک نہیں کر سکتا ارادے کی وجہ سے۔ یعنی ارادہ ہی نہیں ہے۔ تو جس کا ارادہ ہی نہ ہو تو اس کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔ ایک تو عذر ہے نا۔ جیسے مثال کے طور پر ایک آدمی لنگڑا ہے اپاہج ہے چل ہی نہیں سکتا معذور ہے تو وہ کہہ سکتا ہے میں نہیں کر سکتا۔ یہ تو بات مانی جا سکتی ہے۔ یہ بات تو مانی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک آدمی چل پھر سکتا ہے سارا کچھ کر سکتا ہے اور کہتا ہے یہ مجھ سے نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کرنا ہی نہیں چاہتا۔
تو ایسی صورت میں تو کوئی مطلب ہے اشکال والی بات نہیں رہتی۔ اس وجہ سے ہم یہی کہتے ہیں کہ محبت تو منانی نہیں ہے۔ محبت ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی ربیع الاول کا مہینہ جب آتا ہے تو الحمدللہ یہ ہمارے شیخ کا طریقہ ہے۔ ہم بھی الحمدللہ inspire ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے دل چاہتا ہے کہ درود شریف زیادہ پڑھیں۔ دل چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر زیادہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر زیادہ چلنے کی کوشش کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جوش آتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے ابھی آج ہی میں نے discuss کیا ہے ایک سوال ایک خاتون کا جرمنی سے آیا ہے۔ کہ کیا میں درود شریف میں مقابلہ ایک خاتون کا نام لیا اس کے ساتھ شروع کر لوں۔ میں نے کہا ضرور شروع کر لیں۔ نیک کاموں میں تو مقابلے ہوتے ہیں۔ جیسے رمضان شریف میں حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے گھرانے کی خواتین آپس میں قرآن کی تلاوت میں مقابلے کرتی تھیں۔ تو بس کر لو میں نے کہا بالکل کر لو۔ تو اس وجہ سے مطلب ہے کہ یہ والی بات ہے کہ درود شریف ہمارے ہاں الحمدللہ کافی تعداد میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کے لیے target جو ہم نے رکھا ہے ساتھیوں کے لیے وہ یہ کہ سوا لاکھ مرتبہ اس مہینے میں پورا کر لیں۔ سوا لاکھ مرتبہ اس مہینے میں درود شریف پورا کر لیں۔ پھر الحمدللہ ویسے اب درود شریف خود بخود پہنچتا ہے۔ خود بخود پہنچتا ہے الحمدللہ اس کے لیے hotline موجود ہے۔
لیکن اللہ پاک کا فضل ہے کمال ہے اللہ پاک نے اور ذریعے بھی عطا فرمائے ہیں۔ ہمارے کچھ بزرگ مدینہ منورہ میں ہیں ہم ان کو ٹیلی فون کرتے ہیں کہ اتنا درود شریف پڑھا گیا وہ ہماری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر پیش کر فرما دیں۔ اور وہ پیش کر لیتے ہیں۔ اور وہاں سے بشارتیں بھی ہیں۔ الحمدللہ الحمدللہ۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ایک نظام اللہ پاک نے ہمیں دیا ہے۔ ایک بزرگ مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہے ایک بزرگ مدینہ منورہ میں بیٹھا ہے ہمارے بزرگ ہیں الحمدللہ۔ تو یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ اس دفعہ بھی ہوگا اور آپ لوگوں نے شروع بھی کر لیا الحمدللہ۔ سوا لاکھ مرتبہ جو درود شریف پڑھنا ہے وہ تقریباً کتنا ہو جاتا ہے تیس دن میں؟ پانچ پانچ ہزار اگر روزانہ پڑھ لیا جائے تو۔ اور پانچ ہزار ویسے کوئی اتنا زیادہ نہیں ہے۔ وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ یہ اگر آپ پڑھیں، تقریباً تین ہزار مرتبہ ایک گھنٹے میں پڑھا جا سکتا ہے۔ تو دو گھنٹے کی بات ہے۔ اگر کوئی چلتے پھرتے پڑھ لے تو ہو جاتا ہے آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اتنا مشکل نہیں ہے۔ تو الحمدللہ ہمارے ساتھی پڑھیں گے۔
تو پیر کے دن کے بارے میں۔
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
مدینے میں بھی آمد پیر کے دن
اور ابتدائے ہجرت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
ربیع اول میں سارے کام ہوئے یہ
ربیع اول میں سارے کام ہوئے یہ
بہت پائی ہے نعمت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
صدیق کو اس کی خواہش تھی بہت ہی
صدیق کو اس کی خواہش تھی بہت ہی
کہ ان کی بھی ہو رحلت پیر کے دن
کہ ان کی بھی ہو رحلت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
بزرگی اس لیے اس نام میں آئی
بزرگی اس لیے اس نام میں آئی
ملی ہم کو سعادت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
تو دل میں موجزن شبیر کے ہیں
تب آقا کی محبت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن
اب ربیع الاول۔
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
مہینہ یہ آقا کی ہجرت کا ہے
مہینہ یہ آقا کی ہجرت کا ہے
بشارت بشارت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاول
اہم کام آقا کے اس میں ہوئے
اہم کام آقا کے اس میں ہوئے
محبت محبت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
خدا نے اسے چن لیا جب ہے تو
محبت کی دعوت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
اسی میں خدا نے بلایا بھی پاس
اسی میں خدا نے بلایا بھی پاس
اسی میں خدا نے بلایا بھی پاس
کہ ہے ماہِ رحلت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاول
ہو اس ماہ میں بدعت کو کیسے فروغ
ہو اس ماہ میں بدعت کو کیسے فروغ
کہ ہے ماہِ سنت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
سرِ مو ہٹے نہ سنت سے امت
سرِ مو ہٹے نہ سنت سے امت
یہ دیتا ہے دعوت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
سرِ مو ہٹے نہ سنت سے امت
سرِ مو ہٹے نہ سنت سے امت
یہ دیتا ہے دعوت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
صحابہ کے پیچھے چلو ہی چلو
کہے در حقیقت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
تو بدعت سے شبیر ہمیں آئے گھن
تو بدعت سے شبیر ہمیں آئے گھن
سکھائی یہ نفرت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاول
مہینہ یہ آقا کی ہجرت کا ہے
مہینہ یہ آقا کی ہجرت کا ہے
بشارت بشارت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
اے ماہِ ولادت ربیع الاوّل
سعادت سعادت ربیع الاوّل
الحمد للّٰہ اللہ کا شکر ہے۔ اللہ پاک نے ہمیں جن بزرگوں کے ساتھ نسبت عطا فرمائی ہے، ان کو محبت بھی بہت زیادہ تھی، ان کو سنت کی اطاعت بھی بہت زیادہ تھی الحمد للّٰہ۔ اللہ کا شکر ہے۔ یہ دونوں نعمتیں بہت بڑی نعمتیں ہیں۔
در کف جام شریعت در کف سندان عشق
ہر ہوس ناکے نداند جام و سنداں باختن
تو یہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارے بزرگوں کو یہ نعمت جو نصیب فرمائی، الحمد للّٰہ ان حضرات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی یہ نصیب فرمائے ہیں۔ ہمارا بھی یہی طریقہ ہے کہ ربیع الاوّل میں ہم تجدید کریں اپنے عہد کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے ناطے سے کہ ہم کسی بدعت میں نہیں پڑیں گے۔ اور ہم کسی بھی ایسے کام کو نہیں کریں گے جو شریعت کے خلاف ہو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ساتھ محبت جو ہے یہ دونوں چیزوں کی متقاضی ہے۔ کہ ایک تو ہم شریعت پر چلیں دل و جان سے، کیونکہ شریعت آپ لائے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم بدعت میں کسی طریقے سے ہم مبتلا نہ ہوں کیونکہ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قولِ مبارک ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے، اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک تو یہ بات ہے کہ جو اصل جو محبت کے طریقے ہیں ان میں ہم کمی نہ کریں۔ اور جو بدعتی طریقے ہیں ان پہ ہم پڑیں نہیں۔ اب یہ مطلب یہ ہے کہ جو بدعتی طریقے ہیں۔
دیکھیں جیسے مثال کے طور پر صحابہ کرام سے بڑے محبت والے کون تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ صحابہ کرام سے زیادہ کوئی محبت کرے۔ اتنا عرصہ صحابہ کرام کا گزرا آخری صحابی تک کسی نے بھی بارہ ربیع الاول یا اس قسم کا دن نہیں منایا عید کے طور پر۔ ایک دفعہ بھی کوئی ثابت کر لے تو ہم ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی وہ نہیں ہے۔ ہمیں تو ثبوت چاہیے۔ ہمیں تو دلیل چاہیے، ہمیں تو ثبوت چاہیے، اگر ایسا ایک دفعہ بھی ہو تو ہم سو دفعہ کرنے کے لیے تیار ہیں، کوئی مشکل نہیں ہے۔
تو ایک دفعہ بھی کسی صحابی سے ثابت نہیں، ایک دفعہ کسی تابعی سے ثابت نہیں، ایک دفعہ کسی تبع تابعی سے ثابت نہیں، اور یہ تینوں قرونِ اولیٰ ہیں۔ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ۔ یہی بہترین زمانے تھے، ان بہترین زمانوں میں تو یہ ہوا نہیں۔ لہٰذا یہ دلیل کیسے بن سکتا ہے؟ اپنی من چاہی باتوں کو تو دین نہیں بنایا جا سکتا۔ اپنی من چاہی باتوں کو تو دین نہیں بنایا جا سکتا، دلیل تو اوپر سے آتی ہے۔ دین نیچے سے اوپر نہیں جا رہا۔ تو لہٰذا ہمارا جو دین ہے وہ صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔ صحابہ کرام کے طریقے پہ چلنا ہے۔ یہ صرف اور صرف دو سو کے لگ بھگ سال پہلے ایک ملک شاہ نامی بادشاہ تھے جن کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے اپنی بادشاہی کے اور قریب تھا کہ لوگ بغاوت کر لیں۔ انہوں نے اس بغاوت کو اس طریقے سے دبایا کہ ان لوگوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت تو ہے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لیے یہ طریقہ بنا دیا کہ اس کے لیے جلوس نکالنا شروع کر دیا اور ان لوگوں کا رخ اس طرف پھیر دیا۔
یہ تو اس قسم کی بات ہے۔ اب اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ بھئی چلو آپ کے نزدیک مستحب ہی سہی انصاف کے طور پر۔ مثال کے طور پر آپ کے نزدیک مستحب ہی سہی، کیونکہ آپ اس کو واجب اور فرض تو ثابت کر ہی نہیں سکتے وہ تو ناممکن بات ہے نا۔ زیادہ سے زیادہ آپ کے نزدیک مستحب ہو گا۔ مستحب کے معاملے میں جو زور دیتا ہے اس پر کہ لازماً ہونا چاہیے، یہی لائق ترک ہے۔ واجب ہو جاتا ہے۔ مستحب کے اوپر جو زور دیتا ہے، اس کو چھوڑنا واجب ہو جاتا ہے۔ کہ جو مستحب کو واجب بناتا ہے، اس کا ترک واجب ہوتا ہے۔ مشہور فقہ کا فارمولہ ہے نا۔ آپ کسی مفتی سے بھی پوچھ لیں کسی بھی عالم سے، کتابوں میں لکھا ہے کہ جس مستحب پر اس طرح جزم کیا جائے کہ اگر اس کو کوئی نہ کرے تو ان سے ناراض ہو جائیں، تو اس کا ترک واجب ہو جائے گا۔
ایک دفعہ ایک بزرگ کے ساتھ ایک بچہ بھی تہجد کی نماز کے لیے اٹھا، اپنے خاندان کا۔ تہجد پڑھی دونوں نے۔ بچہ بچہ تھا تو اس نے کہا کہ بابا دیکھو یہ سارے لوگ سوئے ہوئے ہیں اور ہم نے تہجد پڑھ لی۔ تو اس بابا جی نے مطلب بزرگ نے کہا کاش تم بھی سوتے رہتے اور تہجد نہ پڑھتے۔ تمہارے لیے یہ اچھا تھا۔ کاش تم بھی سوتے رہتے اور تہجد نہ پڑھتے۔ تمہارے لیے اچھا تھا کیونکہ تمہاری یہ بات negative میں جا رہی ہے تمہاری اس سے زیادہ۔ تم نے باقی لوگوں کو کم سمجھا۔ یہ تمہارے نقصان کی بات ہے۔
تو اصل بات یہی ہے کہ ہم لوگوں کو دین چاہیے۔ ہم لوگوں کو دین چاہیے۔ دین کو دین کے طریقے پر ہی ثابت کر سکتے ہیں۔ عوام کے طریقے پہ نہیں۔ کہ بہت سارے لوگ اس طرف ہیں۔ مجھے بتاؤ اس وقت چوراسی فیصد کم سے کم کافر ہیں، چوراسی فیصد۔ کم سے کم کافر کیا ہیں؟ چوراسی فیصد۔ مسلمان زیادہ ہیں کہ کافر؟
AUDIENCE کافر۔
SPEAKER کافر زیادہ ہیں۔ تو کیا خیال ہے زیادہ تعداد پہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک ہوں گے؟ اگر یہ فیصلہ کریں گے تو پھر کدھر جائیں گے؟ یہ جمہوریت تھوڑی ہے۔ کسی طرف زیادہ لوگ ہیں تو وہ زیادہ اچھا ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ زیادہ لوگوں کی بنیاد پر نہیں ہے، حق کس کے ساتھ ہے، چاہے وہ ایک آدمی کیوں نہ ہو۔ جس کے ساتھ حق ہوگا وہ، مطلب ہے کہ وہ صحیح ہوگا۔ ورنہ صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ اگر حق نہیں ہے تو بے شک کوئی کتنا زیادہ تعداد میں ہو، یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ تو میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ ہم لوگوں کا کام کیا ہے؟ ہم لوگوں کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت۔ یہ ہمارا کام ہے۔
یہی ربیع الاول کا پیغام ہے۔ اسی میں ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میری باتوں کا یہ مطلب بھی نہ لیا جائے کہ یہ صرف ربیع الاول میں ہے۔ یہ تو ہر سال ہر دن ہر گھنٹہ ہر منٹ ہر سیکنڈ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ ربیع الاول میں ہم کریں اور باقی نہیں۔ نہیں ربیع الاول یوں کہہ سکتے ہیں یاد دلاتا ہے۔ بعض چیزیں یاد دلانے والی ہوتی ہیں نا، ربیع الاول اس کو یاد دلاتا ہے۔ اور اس دفعہ کا ربیع الاول تو میں نے آپ کو بتایا نا بڑا عجیب ہے۔ یہ بالکل تاریخ اور اس کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ساتھ۔ ہاں تاریخیں بالکل ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ تو اس لحاظ سے تو یہ آنا چاہیے، یہ تو مطلب وہ تو ایک فطری بات ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یعنی یہ لینا چاہیے پیغام کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بھی بڑھانا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت بھی بڑھانی چاہیے۔ یہ دونوں کام ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہم لوگ اسی مشن کو لیے ہوئے ہیں، تو میں ابھی آپ کو ایک طالب علم کی پڑھی ہوئی نعت بھی سنا دیتا ہوں۔ یہ نعت ایک طالب علم نے پڑھی ہے فی البدیہہ پڑھی ہے۔ فی البدیہہ سے مراد یہ ہے کہ اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ لیکن اس کی محبت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ماشاء اللہ بہت اچھا رکھا۔ یا کریم۔
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
یہ بات کتنی واضح ہے، اس میں کوئی ابہام ہے؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کتنی بڑی نعمت ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کتنی ضروری ہے۔ اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت ہے؟
اب سارے طریقے جو ہیں منسوخ ہو گئے
اب سارے طریقے جو ہیں منسوخ ہو گئے
اللہ کو پسند ہے سنت رسول کی
اللہ کو پسند ہے
یہ جو طریقے منسوخ ہوئے کن کے طریقے تھے؟ یہ انبیاء کرام کے طریقے تھے۔ یعنی انبیاء کرام کے طریقے جو پرانے تھے، وہ اب نہیں رہے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے نے ان کی جگہ لے لی۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں اس کا طریقہ باقی رہنے دیا گیا تو ہے، اگر منسوخ ہو گیا تو اب وہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اس وقت موسیٰ بھی اگر آتے، وہ بھی میرے طریقے پر چلتے۔ اس سے بڑی کیا شان ہو سکتی ہے؟ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی اب آ جائیں، وہ بھی میرے طریقے پر چلیں۔ تو اب دیکھ لو، پیغمبروں کا طریقہ اگر اللہ جل شانہ نے تبدیل کر دیا ہے، اور اب سنت اصل ہے تو ہمارا اور آپ کا طریقہ کدھر چلے گا؟ ہمارا اور آپ کا طریقہ کدھر چلے گا؟ کیسی عجیب بات کرتے ہیں لوگ۔ بدعت کی کیا حیثیت ہے؟ بدعت اسی کو تو کہتے ہیں۔ ہمارا طریقہ، جو ہم نے ایجاد کیا ہے۔ اس کو ہم دین سمجھتے ہیں، اس کو بدعت کہتے ہیں۔
اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر ہے جب انبیاء کے طریقوں کو جو کہ بدعت نہیں تھے، دین تھا، اس کو مؤخر کر دیا چھوڑ دیا گیا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، تو ہمارا طریقہ اور اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اب تو دین بدل نہیں سکتا۔ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَامَ دِينًا۔ اب تو مہر لگ گئی ہے۔ اب تو درمیان میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
اللہ نے جو جمال و کمال ان کو دیا تھا
اللہ نے جو جمال و کمال ان کو دیا تھا
ان پر تو فدا یہ ہے امت رسول کی
ان پر تو فدا یہ ہے امت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
معیار اب اچھے برے کا کہتے ہو مشکل
معیار اب اچھے برے کا کہتے ہو مشکل
جب تجھ کو ہے معلوم شریعت رسول کی
جب تجھ کو ہے معلوم
یعنی آپ درمیان میں کون سی باتیں کرتے ہو؟ اپنے ذہن کیوں لڑاتے ہو؟ اپنی عقل کیوں لڑاتے ہو؟ معیارِ حق موجود ہے، شریعت ہے۔ اب شریعت کا مطالعہ، اس پہ فیصلہ کرو۔ اپنی باتیں پھر کیوں کرتے ہو؟
جو ان کے بن گئے ہیں وہ اللہ کے بن گئے
جو ان کے بن گئے ہیں وہ اللہ کے بن گئے
اللہ کے ساتھ ہے کیسی حیثیت رسول کی
اللہ کے ساتھ ہے کیسی حیثیت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
شبیر بن جاؤ تم ان کا سچا متبع
مل جائے وہاں تجھ کو شفاعت رسول کی
مل جائے وہاں تجھ کو شفاعت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنی ہے ضروری متابعت رسول کی
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی