عقلِ ایمانی، برکت کا مفہوم اور توبہ کی اہمیت

انفاس عیسی: باب چہارم، ارشادات، (الدنیا سجن المؤمن)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت (مفہوم اور تشریح)
  • عقلِ نفسانی اور عقلِ ایمانی میں فرق اور دنیاوی نقصانات پر ہمارا رویہ
  • موت کے وقت فرشتوں کی بشارت اور آخرت کے انعامات
  • انبیاء کرام علیہم السلام کا طرزِ عمل (عقبیٰ میں قدری اور دنیا میں جبری)
  • رزق اور وسائل میں "برکت" کا حقیقی تصور اور سود کی ممانعت
  • حج، ویزہ اور ملازمت کے حوالے سے توکل علی اللہ پر مبنی ذاتی مشاہدات و تجربات
  • گناہوں پر ندامت، رجوع الی اللہ اور توبہ کی قبولیت کی اہمیت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں بزرگوں کے ملفوظات سنائے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ مناسب تشریح کی جاتی ہے۔ عرصہ دراز سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات شریف کی جلد "انفاس عیسیٰ" کی تعلیم جاری ہے، آج بھی اسی سے ان شاء اللہ تعلیم ہو رہی ہے۔

"اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ": ارشاد: عارفین رحمۃ اللہ علیہم دنیا کو قید خانہ سمجھتے ہیں اور ان کو یہاں سے نکلتے ہوئے وہی خوشی ہوتی ہے جو جیل خانہ سے نکلتے ہوئے ہوتی ہے۔

عجب کیا مگر مجھے عالم بہ ایں مقصود زنداں ہو
میں وحشی بھی تو وہ ہوں لامکاں جس کا بیاباں ہے

خرم آں روز کزیں. ویراں بردم
راحت جاں طلبم و زپئے جاناں بردم

نذر کر دم کہ گوآید بسر ایں غم روزے
تا در میکدہ شاداں و غزل خواں بردم

مفلسا نیم آمدہ در کوئے تو
''شَیْئًا للہِ'' از جمال روئے تو

دستِ بکشا جانب زنبیل ما
آفریں بردست و بر بازوئے تو

اصل میں یہاں پر حضرت نے جو پہلی بات فرمائی ہے، اسی میں سب کچھ ہے۔ فرمایا: "عارفین دنیا کو قید خانہ سمجھتے ہیں"۔ عارفین کون لوگ ہیں؟ عارفین وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بھی پہچان لیں اور اپنے رب کو بھی پہچان لیں۔ "مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"۔ (جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا)۔ پس جو اپنے آپ کو بھی سمجھتے ہیں، جانتے ہیں، اور اپنے رب کو بھی جانتے ہیں، تو پھر وہ دنیا کو بھی جانتے ہیں کہ دنیا کیا چیز ہے۔

دنیا اصل میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ہم لوگ آئے ہیں امتحان کے لیے۔ اور ہم لوگ آزاد نہیں ہیں۔ آزاد نہیں ہیں۔ ہمارا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، سونا، جاگنا، سوچنا، دینا، لینا، سب کچھ ایک خاص ضابطے کا پابند ہے۔ ہمیں ہر ایک چیز پوچھ پوچھ کے کرنی ہے۔ اگر ایسا ہم نہیں کرتے تو نقصان اپنا کرتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ قید خانہ میں، جو عام قید خانہ ہے دنیا کا، اس میں غیر اختیاری طور پر انسان بند ہوتا ہے۔ غیر اختیاری طور پر انسان وہ کچھ نہیں کر سکتا جو کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جو دنیا کا قید خانہ ہے یعنی دنیا جس کو ہم کہتے ہیں موت سے پہلے پہلے کا زمان و مکاں، وہ اختیاری طور پر قید خانہ ہے۔ یعنی ہمیں اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ہم لوگ یہاں جتنے عرصہ ہم یہاں پر ہیں، اگر ہم وہ کریں جو اللہ چاہتا ہے، وہ کریں جو اللہ چاہتا ہے، تو یہاں سے جانے کے بعد اللہ وہ کریں گے جو ہم چاہیں گے۔ بس اتنا فرق ہے۔

باقاعدہ Bargaining ہو چکی ہے۔ میں اپنے آپ سے نہیں کہہ رہا، باقاعدہ قرآن بتاتا ہے۔ اللہ پاک نے مومنین سے ان کا جسم و جان یہ سب کچھ خرید لیا ہے۔ اب وہ اس کا اپنا نہیں ہے، جنت کے بدلے میں۔ لہٰذا اختیاری طور پر ہم لوگ اگر اس کے ساتھ مخلص ہوں گے، اور وہ کریں گے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس Contract کو ہم لوگ دل سے مانیں گے تو اس کے بعد پھر اس کا جو مظاہرہ ہے جس چیز کا میں عرض کر رہا ہوں، موت کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔

اللہ جل شانہ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ جن لوگوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے، یہ وہ Contract ہے۔ اس Contract کے بارے میں بات ہو گئی: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا رب ہمارے اللہ ہیں۔ ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر اس Contract پر قائم رہے۔ دو لفظ ہیں۔ ایک ہے "رب، اللہ کو سمجھنا"، اور دوسرا پھر "اس پر قائم رہنا"۔ پھر کیا ہوگا؟ قرآن میں آگے آتا ہے: تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ

فرشتے موت کے وقت آئیں گے ملاقات کرنے، اور یہ خبر دینے کے لیے کہ کوئی خوف نہ کرو، کوئی غم نہ کرو۔ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔ تمہیں نہ کوئی غم ہونا چاہیے نہ کوئی خوف ہونا چاہیے، یہ پیغام دینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ اور جنت کی بشارت حاصل کر لو جس کا تمہارے ساتھ وعدہ تھا۔

کونسی جنت؟ آگے فرماتے ہیں: نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ہم تمہارے ساتھی رہے ہیں یہاں پر، اس دنیا میں۔ اس دنیا کی زندگانی میں ہم تمہارے ساتھی رہے ہیں اور ابھی تمہارے ساتھ جا رہے ہیں، چھوڑیں گے نہیں تمہیں۔ ہم تمہارے ساتھ جا رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ نیک لوگوں کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں۔ ان کا دل مضبوط کرنے کے لیے، اور ان کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے ہوا کرتے ہیں، قرآن بتاتا ہے: "نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ" اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جو تمہارا جی چاہے گا۔ "وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ" اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کو تم منہ سے مانگو گے۔

مطلب یہ ہوا کہ من چاہی زندگی اور منہ مانگی چیزیں یہ جنت میں ہوں گی۔ اب جب اس قسم کی بات ہے تو آپ بتائیں کہ یہاں کی جو محدود زندگی ہے اس میں اپنے آپ کو قیدی ماننا، اپنے آپ کو یہاں اللہ کے حکم کا مکمل پابند کرنا یہ سستا سودا ہے یا نہیں ہے؟

اصل میں میں آپ سے بات عرض کروں، اس وقت ہم لوگ دنیا کے اسیر ہیں۔ دنیا کی چیزیں اتنی چاہتے ہیں کہ آخرت کی چیزیں بھی دنیا کی چیزوں کے ذریعے سے ہم سمجھتے ہیں۔ جب تک دنیا کی مثال نہیں دی جائے اس وقت تک یہ ساری باتیں سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، اور عام آدمی سمجھتا ہے کہ کیا کہہ دیا، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ موٹی موٹی باتیں، بڑی بڑی باتیں جو اللہ جل شانہ فرماتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک پہنچاتے ہیں، اس کو جیسے ہم عالمِ خواب میں سنتے ہیں۔ جیسے ہمیں نہیں کہا جا رہا ہو۔ جیسے کوئی کہانی سن رہے ہوں، جیسے کوئی کسی اور کی بات ہو رہی ہو۔ اس قسم کا حال ہے ہمارا اس کے ساتھ، اس سے متاثر نہیں ہوتے۔

یہی وہ نقطہ ہے جس پر امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کو بدلنے کا آغاز کیا تھا۔ یہی وہ نقطہ ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے عالم تھے، بہت بڑے عالم تھے، اتنے بڑے عالم تھے کہ وقت کا جو بادشاہ تھا اس کو اپنی سواری پہ، اپنی مسند تک لاتا تھا۔ ان کے شاگردوں کا ایک پورا جال بچھا ہوا تھا۔ جس طرف بھی نکلتے وہاں ہزاروں لاکھوں لوگ استقبال کے لیے موجود ہوتے تھے۔ ہر شخص کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ میں کچھ خدمت کروں۔ یہ تھے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۔

لیکن ایک روز ان کو یہی خیال ہوا، ابھی جو میں عرض کر چکا ہوں، یہی خیال ہوا کہ جو دنیا کی چیزیں ہیں، جو دنیا کے وعدے ہیں، جو دنیا کی باتیں ہیں، یہ دنیا کی راحتیں ہیں، یہ دنیا کی جو تکلیفیں ہیں، وہ تو ہم لوگ بہت اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک آدمی کی Promotion نہیں ہوئی، اُف ہو! جان پہ بن جاتی ہے۔ کسی Paper میں کوئی فیل ہو گیا، خودکشی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ کسی جگہ بے عزتی ہوئی، عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ ذرا سا نقصان ہوا، زندگی اجیرن ہو گئی۔ حالانکہ عقلا کہتے ہیں بھئی جو نقصان ہو گیا وہ تو ہو گیا، لیکن اب مزید نقصان اس کی وجہ سے کیوں اٹھا رہے ہو؟ کہ تم جو مزید نقصان اٹھا رہے ہو یہ تو تمہارا مزید نقصان ہے، ایسے کیوں کر رہے ہو؟ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔

Doctor لوگ کیا کرتے ہیں، جو نفسیاتی ماہرین ہوتے ہیں، وہ انہی چیزوں کا علاج کرتے ہیں، بیچارے پاگل ہوئے جاتے ہیں دنیا کی چیزوں کے لیے۔ تو دنیا سے تو اتنا تأثر ہم لیتے ہیں، اور آخرت کی بڑی بڑی باتوں کو ہم بھول جاتے ہیں، پی جاتے ہیں۔ جیسے حدیث شریف ہے، فرماتے ہیں جس کی نماز ایک وقت کی ضائع ہو گئی وہ ایسا ہے جیسا کہ اس کا سارا مال سارا اہل و عیال تباہ ہو گیا۔ اب بتاؤ کیا ہم اتنا اثر لیتے ہیں؟ نماز کے رہ جانے سے؟ ہوں گے، لیکن ہم نہیں۔ صحابہ کرام آپس میں تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے پر تعزیت کیا کرتے تھے کہ آپ کی تکبیر اولیٰ چھوٹ گئی ہے۔ اس طرح زندگی تھی ان کی۔

تو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی علمی بصیرت سے ادراک کر رہے ہیں کہ میرا حال یہ نہیں ہے۔ میں دنیا کی چیزوں سے اثر لے رہا ہوں، وہ جو آخرت کے وعدے ہیں اس پر میں ٹس سے مس نہیں ہو رہا، یہ تو مجھ میں گڑبڑ ہے۔ اس کی اگر آج کل کے دور میں تشریح ہو سکتی ہے تو یہ ہو سکتی ہے کہ ایک وہ عقل ہے جو ہم نفس کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، نفسانی خواہشات جو ہمارے ہیں اس کے لیے جو عقل ہم استعمال کرتے ہیں، ایک تو یہ عقل ہے جس کو عقلِ نفسانی کہتے ہیں۔ ایک وہ عقل ہے جو کہ ہم ایمان کے راستے سے، غیب کے جو مطلب جو اخبار ہیں ان کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً جنت ہے، دوزخ ہے، قبر کی زندگی ہے، اس کے بارے میں حالات کا تذکرہ ہے۔ اس سے جو ہمیں بصیرت حاصل ہوتی ہے پھر اس کے بارے میں جو ہم سوچتے ہیں کہ اب ہمیں یہ کرنا چاہیے، یہ کرنا چاہیے، یہ عقلِ ایمانی ہے۔ اور اسی عقلِ ایمانی میں اور عقلِ نفسانی میں مقابلہ ہوتا ہے۔

اگر کسی کی عقلِ ایمانی زیادہ ہے تو اس کی دینی زندگی زیادہ اچھی ہوگی، دنیاوی زندگی Normal سی ہوگی۔ اس کے بارے میں اس کو اتنا زیادہ فکر نہیں ہوگا۔ یہ نہیں کہ خراب ہوگی۔ کبھی بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو عقل ایمانی سے کام لے گا اس کی دنیاوی زندگی خراب ہوگی، لیکن وہ دنیاوی زندگی کے بارے میں اتنے متفکر نہیں ہوں گے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب و غریب انداز میں اس چیز کو سمجھایا ہے۔ سبحان اللہ! کیا عجیب و غریب انداز ہے۔ اللہ جل شانہ نے حضرت کو بہت اعلیٰ ذوق ان چیزوں میں عطا فرمایا تھا۔ فرمایا:

انبیا در کار عقبی قدری اند
انبیا جو آخرت کے امور ہیں، ان میں وہ قدری ہیں۔

و انبیا در کار دنیا جبری اند
اور دنیا کے جو امور ہیں، ان کے بارے میں انبیاء جبری ہوتے ہیں۔

مقصد کیا؟ دنیا میں جو مل گیا، مل گیا، اس پہ خوش ہیں۔ پروا نہیں ہے کہ مجھے زیادہ مل جائے، بس جو اللہ دے رہا ہے اس پہ راضی ہیں۔ کہتے ہیں بس قسمت میں یہی تھا۔ لیکن آخرت کے بارے میں ایک چیز بھی miss نہیں کرنا چاہتے۔ ایک چیز بھی miss نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بارے میں اتنے Particular ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی زندگی میں اگر ہم دیکھیں تو یہ حال تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ آخری وقت کی جو نماز ہے، آخری نماز، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حالت میں پڑھی ہے؟ آپ حضرات نے سیرت کے واقعات میں پڑھا ہوگا۔ قدم پورا اٹھا بھی نہیں جاتا تھا، ایسی حالت میں ان کو اٹھا اٹھا کے وہاں پر لے گئے ہیں۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے امور میں کبھی جب مل جاتا تھا کھانا، آپ حیران ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے اعلان سے پہلے تو دنیا کا کام کیا ہے۔ یعنی بھیڑیں بھی چرائی ہیں، تجارت بھی کی ہے، مزدوری بھی کی ہے، یہ سب ثابت ہے، لیکن نبوت کے اعلان سے پہلے۔ نبوت کے اعلان کے بعد کوئی کام ثابت نہیں ہے دنیاوی، کوئی ثابت کر کے دکھائے۔ نہیں ہے کوئی ثابت۔ پھر کیا حال تھا؟ یہ حال ہوتا تھا، جو مل گیا اس پہ خوش ہیں، کھانے کو مل گیا تو کھا لیا، نہیں ملا فرما دیا، میں نے روزہ رکھ دیا، میں نے روزہ رکھ دیا۔

اتنا مال آتا تھا، تقسیم کرتے کرتے تھک جاتے تھے۔ ایک دن بہت سارا مال آ گیا تھا غنیمت کا اور بہت ساری چیزوں کا ہدایا، وہ تقسیم کر رہے ہیں، تقسیم کر رہے ہیں، تقسیم کر رہے ہیں، ختم ہو گیا۔ اب جب افطار کا وقت ہوا، روزے سے تھے، افطار کے وقت میں کچھ مانگا کھانے کو، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! گھر میں تو کچھ نہیں ہے، اور آپ تو آج تو اگر آپ کچھ بچا کے رکھ لیتے تو روزہ بھی افطار کر لیتے۔ فرمایا: اس وقت کہہ دیتیں، اس وقت کہہ دیتیں، اب بس ٹھیک ہے۔ یہ حال ہے۔

ایسے مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ ایک دفعہ نماز جلدی پڑھ کے اٹھ کے گئے، اور پوچھا کہ وہ جو مال تقسیم ہونا تھا وہ تقسیم ہو گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا جی اتنا تقسیم ہو گیا اتنا باقی بچا ہوا ہے۔ فرمایا "نہیں"، جو تقسیم ہوا ہے وہ باقی ہے، اور یہ ابھی تقسیم کرنا ہے، وہ باقی ہے۔ یہ ہے اصل میں سوچ، نبی کی سوچ یہ ہے۔

یہی حال صحابہ کا بھی تھا۔ مقصد یہ ہے انہوں نے آخرت کی زندگی کو اصل سمجھا، اور ہے بھی یہی، اور دنیا کی زندگی کو گزارے کے لیے لیا ہے، کہ گزارہ ہو گیا تو ہو گیا، بس سبحان اللہ، اس پر خوش ہیں۔ تو یہ جو حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

انبیا در کار عقبی قدری اند انبیا جو آخرت کا کام ہے اس کے اندر تو قدری ہیں،

کوشش کرتے ہیں "لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ" کا اطلاق اس پہ کر لیتے ہیں، کہ جو کچھ کوشش ہم کریں گے وہی ملے گا۔ اور اس کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ اور دنیا کے معاملے میں اللہ نے جو دے دیا، -سبحان اللہ- اس پہ خوش ہیں۔ یہ بات ہے۔

اور دنیا کے جو لوگ ہیں اخریٰ، جو ان کے دوسرے لوگ ہیں جو ہمارے، فرمایا وہ

درکار عقبی جبری اند۔ وہ اپنے آخرت کے کام میں جبری ہیں،

کہتے ہیں بس قسمت ہی ہوتی ہے، قسمت ہی ہوتی ہے۔ نماز نہیں پڑھی بس جی قسمت نہیں تھی جی بس۔ حج، پیسے ہوں گے سب کچھ ہے، جی جب بلائیں گے تو پھر جائیں گے۔ بھئی کیسے بلائیں گے؟ کیا Letter بھیجیں گے آپ کے پاس؟ حکم بھیج دیا ہے، توفیق دے دی، پیسے دے دیئے ہیں، آپ کے پاس سارے وسائل موجود ہیں، اب کونسا Letter بھیجیں گے؟ جب جی بلاوا آئے گا پھر جائیں گے۔ یہ لوگوں نے باتیں بنائی ہوئی ہیں۔ حکم موجود ہے، قرآن میں موجود ہے، حدیث میں موجود ہے، اب کس طرح بلاوا آئے؟ تو اس کے لیے لوگ بلاوے کے انتظار میں ہیں۔ کچھ لوگ تو باقاعدہ نماز کے لیے بھی کہتے ہیں، صحیح بات کرتا ہوں، چونکہ ہمارا تو روزمرہ کا معاملہ ہے، نماز کے بارے میں بھی کہتے ہیں، بس جب اللہ پاک پڑھوائیں گے تو پھر پڑھ لیں گے۔ (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)۔ اللہ تعالیٰ اگر قہری طور پر پڑھانا چاہے، کوئی ہل بھی نہیں سکے گا۔ لیکن اللہ پاک کا طریقہ ہی نہیں ہے، وہ قہری طور پہ نہیں پڑھانا چاہتے۔ قہری طور پہ اگر پڑھانا ہوتا تو سارے کفار کو ایک آن کی آن میں مسلمان کر دیتے۔ اس کے لیے کیا مشکل ہے؟

لیکن یہ سارا کا سارا جو ہے، یہ امتحان ہے، اختیار ہے۔ اختیار دے دیا ہے، اب اس اختیار کو ہم کس چیز کے لیے استعمال کریں؟ عقل دے دی ہے، اب اس عقل کو ہم کس چیز کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ پیسہ دے دیا ہے، اب اس پیسے کو کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ جان دے دی ہے، اب اس جان کو ہم کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ یہ ساری چیزیں دیکھی جا رہی ہیں۔ کئی قسم کے Monitoring system لگے ہوئے ہیں، کئی قسم کے۔ فرشتوں کا نظام موجود ہے، اللہ جل شانہ براہ راست دیکھ رہے ہیں، پورا نظامِ کائنات ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم لوگ تو ترقی کر رہے ہیں نا، ہم تو کہتے ہیں جی فلاں قسم کی Information devices آ گئیں، IT نے ترقی کی۔ بھئی جتنی ترقی آپ کرتے کرتے کرتے کرتے کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔

اللہ جل شانہ کے جو Monitoring systems ہیں ان کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے اور تھوڑا تصور کر لیں۔ قرآن میں ہے، جب کچھ لوگ انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو یہ نہیں کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے، اور پھر اعضاء کو حکم دیں گے کہ بتاؤ، خود بتاؤ، اب بتاؤ۔ اب کا Science کہاں تک جائے گا؟ آنکھیں بول پڑیں گی، فلاں فلاں کو دیکھا ہے میرے ذریعے سے۔ یہ کیا ہے، یہ کیا ہے، یہ کیا ہے، یہ کیا ہے؟ کان گواہی دیں گے فلاں فلاں گانے سنے ہیں، یا فلاں نعت سنی ہے، یا قرآن سنا ہے۔ جو جو بھی ہوگا وہ سب بتا دیں گے، ایک ایک کر کے چیزیں بتائیں گے۔ ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے۔ ذہن گواہی دے گا، یہ یہ چیز سوچی ہے۔ دل گواہی دے گا، میرے اندر یہ یہ چیزیں تھیں۔ ساری چیزیں جب گواہی دینے لگیں گی، یہ پٹ پڑے گا اور جب اس کا منہ آزاد ہوگا کہے گا تمہیں کس نے یہ بات کرنے کو بتایا ہے؟ یہ تو نے کیوں یہ باتیں کیں؟ تو وہ جواب دیں گے کہ اس اللہ نے ہمیں گویائی دی جس نے سب کو گویائی دی تھی۔ تو یہ سارے کے سارے Monitoring systems موجود ہیں، اب ہم لوگ اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یہ ہمارے اپنے اپنی پرواز کی بات ہے، سوچ کی بات ہے۔ لیکن بہرحال وہاں پتہ چلے گا، بلکہ موت کے وقت سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔

موت کے وقت سے ہی سارا علم ہو جاتا ہے کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ وہ ایک بزرگ فوت ہو رہے تھے تو رو رہے تھے، تو کسی نے کہا کہ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا اب پردہ اٹھنے والا ہے، اب مجھے نظر آئے گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ میں کدھر جا رہا ہوں۔ ایک اور بزرگ کا واقعہ ہے کہ وہ ایک بھٹیارن ان کے محلے میں رہتی تھی، کسی مسئلے پہ ان سے، ظاہر ہے بعض لوگ ویسے ہی عجیب و غریب طبیعت کے ہوتے ہیں، اچھے لوگ ان کو پسند نہیں آتے۔ تو اس سے کہا کہ میرے کتے کی دم یا تمہاری داڑھی اچھی۔ انہوں نے کہا اب تو مجھے پتہ نہیں ہے، جس وقت مجھے پتہ چل جائے گا پھر میں ان شاء اللہ بتا دوں گا۔ اب مجھے پتہ نہیں ہے۔ اور جس وقت فوت ہو رہے تھے، وصیت کی کہ میرا جنازہ اس کی دکان کے سامنے سے گزارا جائے، ان کو بتایا جائے کہ میری داڑھی اچھی ہے۔ ان کو پتہ چل گیا اس وقت، مطلب اس وقت تک اس لیے روکا تھا کہ مجھے خود نہیں پتہ تو میرا حال کیا ہے۔ تو ان کو بتا دیا کہ میری داڑھی اچھی تھی۔

مطلب یہ ہے، ہم لوگ اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے، پتہ نہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں، لیکن ہمارے اعمال ایسے ہونے چاہیے جو ہمیں اچھی چیز کی طرف لے جائیں۔ یہ جو اعمال کی Direction ہے، یہ اس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔

باقی آپ کو ایک بات بتاؤں، اس بات پہ نہ ڈرو کہ ہم عمل کریں گے اور قبول نہیں ہوگا۔ یہ نہ کرو، یہ بات نہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ اللہ جل شانہ، ہم ایک Step اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ دو Step بقدر ہمیں دے گا۔ وہ تو دیکھیں یہاں پر بھی جو شریف لوگ ہوتے ہیں، وہ اگر کسی کے ساتھ deal کرتے ہیں تو کچھ اوپر کا تول کے دیتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے ان کی ایک عادت ہوتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے تو سارے شریفوں کو پیدا کیا ہوا ہے۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں حدیث قدسی ہے، کہ جو میری طرف ایک بالشت آتا ہے، میری رحمت اس کی طرف دو بالشت چلتی ہے۔ جو میری طرف ایک ہاتھ آتا ہے، میری رحمت اس کی طرف دو ہاتھ جاتی ہے۔ جو میری طرف چل کے آتا ہے، میری رحمت اس کی طرف دوڑ کے جاتی ہے۔ تو یہ بات تو کبھی بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم عمل کریں گے اور اللہ قبول نہیں فرمائے گا۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ تم اپنی پوری کوشش کر لو، جتنی ہماری بس ہے، معیار کیا بناؤ؟ معیار دنیا کو ہی بنا لو۔ معیار دنیا کو ہی بنا لو، کیسے؟ دنیا کے لیے جیسے ہم کوشش کر رہے ہیں اس طرح ہم آخرت کے لیے کوشش کر لیں۔ ہونا تو چاہیے کہ زیادہ کریں، کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں: بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ بلکہ تم جو دنیا کی زندگی ہے اس کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے۔ تو یہاں تو Message یہ ہے کہ زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بہرحال، اللہ تعالیٰ کی اس رحمتِ وسیع، رحمت کو دیکھ کر ہمیں پورا پورا امید ہے کہ ہم دنیا کو ہی معیار بنا دیں نا، اور دنیا کے لیے جتنی محنت کر رہے ہیں ان شاء اللہ کام ہو جائے گا۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب فارمولا بتایا۔ فرمایا آٹھ گھنٹے کام کرو، کمانے کے لحاظ سے۔ کیا حرج ہے؟ آٹھ گھنٹے تو دنیا میں ویسے بھی ڈیوٹی ہے نا، genuine ہے یا نہیں genuine؟ genuine ہے۔ تقریباً ڈیوٹی آٹھ گھنٹے ہی ہوتی ہے نا عموماً۔ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرو یعنی کمانے کے لیے، محنت کرو۔ آٹھ گھنٹے آرام کرو، اور آٹھ گھنٹے آخرت کو دو۔ پھر بھی اگر ہم نہیں سمجھے تو پھر کیا کریں؟ آٹھ گھنٹے آخرت کو دو۔

تو بس اس طریقے سے اگر ہم چلیں تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا بیڑا پار کرا دے گا ان شاء اللہ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم لوگ ڈرتے بھی ہیں تو Abnormally ڈرتے ہیں۔ Abnormally ڈرنا کیا مطلب؟ جس میں تعطل ہو۔ ایک ڈرنا وہ ہوتا ہے جس میں Inspiring ہو، جس میں انسان مزید عمل کرے، یہ ڈرنا تو مبارک ڈرنا ہے، اس کو "تقویٰ" کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو تقویٰ کہتے ہیں۔ اور ایک ڈرنا ہے کہ انسان معطل ہو جائے، آدمی کچھ بھی نہ کر سکے، نہیں بھئی ایسا ڈرنا نہیں ہے۔ ایسے ڈرنے والوں کے لیے اللہ پاک نے ایک نوید سنائی ہے قرآن پاک میں۔ فرمایا: لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جانا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جانا۔ اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ کوئی توبہ کر کے تو دیکھے، کوئی توبہ کر کے تو دیکھے، اللہ سارے گناہوں کو معاف کرتے ہیں۔

ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نماز استسقاء کے لیے گئے تھے۔ اپنی قوم کے ساتھ۔ وحی آ گئی: اے موسیٰ، تیری مجلس میں ایک ایسا شخص ہے جس نے مجھے 40 سال سے ناراض کیے رکھا ہے۔ جب تک یہ تیری مجلس میں ہوگا میں بارش نہیں دوں گا۔ اب موسیٰ علیہ السلام ڈر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کیا، میرے بھائیو! آپ میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے بارے میں اللہ پاک یہ فرماتے ہیں، اس سے میری درخواست ہے کہ چپکے سے ذرا کھسک جائے مجلس سے، کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہ لے، لیکن یہاں سے چلے جائیں تاکہ باقی لوگوں کو تو بارش مل جائے نا۔ یہ بات اعلان کر دی۔ ابھی سارے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی اٹھا ہی نہیں، تھوڑی دیر میں بارش شروع ہو گئی۔ اب موسیٰ علیہ السلام پھر ڈر گئے، کہ میں تو پیغمبر ہوں، پیغمبر کا تو بنیادی سچ ہوتا ہے۔ پیغمبر کا تو بنیادی سچ ہوتا ہے۔ تو اب کوئی مجھے جھوٹا نہ کہے کہ تو نے وحی کے حوالے سے بات کی تھی اور ابھی کوئی اٹھا نہیں ہے اور بارش ہو گئی ہے، یہ کیسے ہوا؟ تو اللہ تعالیٰ سے درخواست کی، دعا کی، اے اللہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔ تیری وحی کے مطابق تو میں نے اعلان کر دیا، اب بغیر کسی کے نکلے بارش ہوئی ہے جس سے میری Position کمزور ہو گئی ہے، یہ کیا بات ہے؟ اللہ پاک کی طرف سے جواب آیا: موسیٰ! اس شخص نے میرے ساتھ صلح کر لی ہے۔ یعنی توبہ کر لی ہے۔ اب وہ میرا دوست ہے۔ اب میں اس کا نام کیسے بتاؤں؟

تو توبہ کی وجہ سے پوری صورتحال بدل گئی ہے لہٰذا میں نے بارش دے دی۔ تو موسیٰ علیہ السلام بھی بڑے خوش ہو گئے، یہ دیکھیں، اولیاء اللہ کے ساتھ محبت جو ہے نا یہ نبوی سنت ہے۔ نبوی سنت ہے۔ بعض لوگ ذرا تھوڑا سا اس میں ٹچی ہو جاتے ہیں نا، وہ کہتے ہیں پتہ نہیں شرک ہو گیا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ پتہ نہیں شرک شرک کہاں کہاں سے رکھا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود دعا کر رہے ہیں: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھتا ہے، اور ہر اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو تیری محبت تک مجھے پہنچائے۔

اب جب یہ صورتحال ہے تو موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی یا اللہ میں اس کا دیدار کرنا چاہتا ہوں، میں اس کو دیکھنا چاہتا ہوں، وہ تو تیرا دوست ہے۔ اللہ کی طرف سے پھر وحی آئی۔ موسیٰ! میں 40 سال سے اس نے مجھے ناراض کیے رکھا میں نے اس کا پردہ نہیں اٹھایا۔ اب میں اس کا پردہ اٹھاؤں گا؟ تو ظاہر ہے اس سے اب اندازہ کر لیں، کہ نہ تو اس نے ہونٹ ہلائے ہوں گے، نہ اس نے کوئی ظاہری حرکت کی ہے۔ دل کی بات تھی نا صرف، بس دل میں اللہ تعالیٰ سے Contact کر دیا، یا اللہ میں نہیں کروں گا۔ توبہ واقع ہو گئی، اللہ نے قبول کر دیا اور کام بن گیا۔ تو اس طرح توبہ کرنے کے لیے لمبی چوڑی باتیں نہیں ہوتیں۔ لمبی چوڑی باتیں نہیں ہوا کرتیں، یہ تو دل کی ایک صدا ہے جو بلند ہوتی ہے اللہ کی طرف، اور اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے، اللہ کو پتہ ہوتا ہے کسی کے دل میں کیا ہے۔ دل میں نہ ہو زبان پر ہو، وہ توبہ نہیں ہے۔ دل میں نہ ہو زبان پر ہو وہ توبہ نہیں ہے۔ وہ توبہ کا ایک Rehearsal ہے، Practice ہے۔ ختم نہیں ہونا چاہیے، جاری رہنا چاہیے، ممکن ہے کسی وقت دل میں اتر جائے۔ لیکن ابھی وہ توبہ نہیں ہے۔ اور اگر دل میں ہے، اور زبان پر نہیں تو توبہ پورا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کو دیکھتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے، اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ کر لے تو اس کا کام بن جائے گا۔

تو اس وجہ سے میں نے عرض کیا کہ یہ کبھی بھی نہ سوچو کہ میں عمل کروں گا اور اللہ قبول نہیں فرمائیں گے۔ اللہ پاک کئی طریقوں سے سمجھاتے ہیں، فرماتے ہیں: "وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ"، بہت ساری چیزوں کو تو معاف کر لیتا ہے، ویسے ہی معاف کر لیتا ہے۔ اس کے پاس بہت زبردست قسم کے Discounts ہیں، وہ دیتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر انسان کچھ بھی نہ کرے تو پھر تو اس کا قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ پھر جو ہوتا ہے پھر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی مایوسی کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ یہ بھی شیطان کا ایک ہتھیار ہے کہ شیطان مایوس کر کے انسان کو معطل کر کے رکھ دیتا ہے اور آدمی وہ عمل سے رہ جاتا ہے۔

اس وجہ سے یہاں پر جو بات شروع ہوئی تھی، وہ یہ تھی کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے۔ اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ۔ اور کافر کی جنت ہے۔ تو یہاں پر قید خانہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ہم اختیاری طور پر پابند ہیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے ماننے کی، اور ہم لوگوں کا پیسہ، ہم لوگوں کے جو باقی وسائل ہیں، ہم لوگوں کی جان، ہم لوگوں کی زندگی، ہم لوگوں کی ساری جتنے بھی وسائل ہیں، وہ سب کے سب اللہ کے لیے ہیں۔

آپ حضرات جانتے ہیں وہ جو نماز کی نیت ہے وہ کیا ہے؟ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ مقصد یہ ہے کہ ہمارا سارا کچھ اللہ کے لیے ہے۔ بس یہ قلبی طور پر ادا ہو جائے، اور آدمی کہہ دے کہ واقعی میرا سارا کچھ اللہ کے لیے ہے، پھر میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ جب اللہ کے لیے ہوتا ہے نا، تو اللہ باقی ہے۔ تو وہ چیز بھی باقی ہو جاتی ہے۔ وہ چیز بھی باقی ہو جاتی ہے۔

میں آپ کو ایک بات بتاؤں، انسان جان دیتا ہے، تو ختم ہو جاتا ہے نا؟ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اللہ کے راستے میں جان دے دی، پھر کیا ہو جاتا ہے؟ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ نہ کہو ان کو جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں، مردہ۔ ہاں تم اس کو نہیں جانتے۔ اور آگے ایک اور جگہ فرماتے ہیں: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا جو اللہ کے راستے میں شہید ہو جائیں ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو۔ یہ آج کل تھوڑے سے ذرا ہوشیاری ہمارے پاس زیادہ آ گئی نا، تو بعض دفعہ کہتے ہیں اچھا ٹھیک ہے جی مردہ تو ہے لیکن کہتے نہیں ہیں، اللہ جب ناراض ہوتے ہیں تو نہیں کہتے، ویسے مردہ ہیں۔ تو اس ہوشیاری کو بھی ختم کیا کہ نہیں، مردہ گمان بھی نہ کرو۔

تو یہ تو ہے جان کے ساتھ۔ عزت اگر اللہ کے راستے میں کسی نے قربان کر دی۔ عزت کی پرواہ نہیں کی، اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے تواضع اختیار کیا، اپنے آپ کو اللہ کے لیے گرایا، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتے ہیں، اس کی عزت کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس کی عزت کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہ بھی قانون ہے۔ اور کسی نے مال اللہ کے راستے میں دے دیا، تو اللہ پاک فرماتے ہیں: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے۔ سود کیا ہے؟ مال کے بدلے مال لینے کی، ایک System ہے، ایک Pump ہے، Money pump۔ اس کے ذریعے سے انسان مال کو کھینچتا ہے، ہر مالدار آدمی غریب کی جیب سے جو اس کے منہ کا نوالہ ہوتا ہے اس کو کھینچتا ہے سود کے ذریعے سے۔ یہ، یہ چیز ہے سود۔ تو اللہ فرماتے ہیں، اللہ اس کو مٹاتا ہے۔

اگر جاننا چاہتے ہو تو تاج کمپنی کا حال دیکھو۔ اور کئی بینک جو دیوالیہ ہو چکے ہیں ان کا حال دیکھو۔ سودی نظام، یہ بہت خبیث نظام ہے، انتہائی درجے کا مکروہ اور ظالم نظام ہے۔ اس کی بنیاد ہی ظلم پر ہے۔ کہ جو غریب کے پاس جو کچھ ہے اس کو کھینچ لو اپنے مال کے ذریعے سے۔ یہی مطلب اس کا وہ ہے۔ یہ جو سودی لوگ سود خور ہوتے ہیں، یہ دل کا سنگین ترین آدمی ہوتا ہے، اس کا دل پتھر ہوتا ہے۔ وہ انسان کا دل اپنے سینے میں نہیں رکھتا۔

دیکھیں میں آپ کو بتاؤں، جس کو دینے کی ضرورت ہے، اس سے آپ لینا چاہتے ہیں؟ تو اس کے مقابلے میں جو صدقات دیتے ہیں، وہ دے رہے ہیں۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہ بالکل نظر آتا ہے۔

میں آپ کو ایک لفظ کا بتا دیتا ہوں، آپ اس پہ خود Research کریں۔ اس لفظ کا نام ہے "برکت"۔ یہ برکت کا جو لفظ ہے، اس کو لوگ جانتے ہیں، مانتے ہیں، اور دیکھتے ہیں برکت کو کہ برکت ہوتی ہے۔ ہاں البتہ اس کی پیمائش نہیں ہو سکتی۔ اس کی پیمائش نہیں ہو سکتی، اور جب کوئی پیمائش کرے گا تو اٹھ جاتی ہے، یہ بھی بات بتا دوں۔ جو اس کی پیمائش کرتا ہے پھر یہ اٹھ جاتا ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں کوئی دیتا ہے اور باقی مال میں اللہ تعالیٰ برکت دے دے، تو بتاؤ بڑھے گا یا نہیں بڑھے گا؟ مال بڑھے گا۔ وہ تو اللہ کے نظام میں ہے۔ جتنے میں اللہ تعالیٰ آپ کے سارے کام کرا دے۔

ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے دکھایا ہے، الحمد للہ کھل کے دکھایا ہے، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ۔ ہمارا ایک ساتھی، وہ بینک میں مینیجر تھے۔ ظاہر ہے سن سن کے تیار ہو گئے چھوڑنے کے لیے، تو اسلامی بینک میں چلے گئے، تھوڑے سے Low rate پر۔ ویسے یہ بھی ایک بات ہے نا کہ لوگ جو سودی نظام میں پھنسے ہوتے ہیں، تو ان کا یہ مسئلہ ہوتا ہے وہ کہتے ہیں اس کے برابر جب تک نہیں ملتا تو میں معذور ہوں۔ تو بس ہمیشہ پھر سودی نظام میں لگے رہتے ہیں۔ کوشش ہی نہیں کرتے۔ کہتے ہیں بس ٹھیک ہے جی علماء کہتے ہیں کہ جب تک دوسری نوکری نہ ملے، دوسری نوکری سے مراد یہ ہے کہ اس کے برابر کم از کم ہو۔ ہاں تو ٹھیک ہے پھر تو، پتہ چلے گا ادھر۔ اس سے حلال تو نہیں ہو جاتا، صرف یہ بات ہے علماء اس لیے کہتے ہیں کہ آج کل لوگوں میں ایمان کی کمزوری ہے۔ اگر ان کو کہیں گے کہ چھوڑ دو، تو اس چھوڑنے کے بعد جب ان کے اوپر کوئی پریشانی یا آزمائش آئے گی، اس آزمائش سے ان کے کافر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اور کافر سے گنہگار اچھا ہوتا ہے۔ علمائے کرام اس لیے کہتے ہیں، وہ حلال نہیں بن جاتا، وہ حلال نہیں بن جاتا، وہ صرف اور صرف ان کو کافر بننے سے بچانا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہے جب تک آپ کو مطلب دوسرا جاب نہ ملے تو اس وقت تک آپ کرتے رہیں، مجبوری ہے۔ تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے ایک دفتر کے ساتھی تھے مجھ سے پوچھا کہ house building finance corporation سے میں سود پر قرض لے لوں مکان بنانے کے لیے؟ میں نے کہا بالکل نہ لیں، بالکل نہ لیں۔ یہ تو اپنے آپ کو پھنسا دو گے۔ نہ لو۔ خیر میرے ساتھ بات ہوگئی اور آئی گئی ہو گئی۔ تقریبا 12 سال بعد وہ مجھ سے ایک دن بات کر رہے ہیں، شبیر صاحب! آج کل میں بڑا پریشان ہوں۔ میں نے کہا کیا بات ہے بھئی کس بات پر پریشان ہیں؟ کہتے ہیں وہ loan جو لیا تھا نا نے مجھے پھنسایا ہوا ہے۔ میں نے کہا کون سا loan لیا تھا؟ کہتے ہیں وہ آپ سے میں نے پوچھا نہیں تھا!! تو میں نے کہا کہ آپ کو میں نے بتایا نہیں تھا؟ کہتے ہیں بتایا تو تھا۔ میں نے کہا پھر کیوں لیا تھا؟ کہتے ہیں ہمارے ایک پیر صاحب تھے ان سے میں نے پوچھا۔ تو انہوں نے کہا کہ مجبورا لے رہے ہو نا؟ میں نے کہا: ہاں مجبورا لے رہا ہوں۔ فرمایا اچھا پھر ٹھیک ہے، میں نے کہا پھر اس کو بتاؤ، اب اس کو بتاؤ، مجھے کیوں بتاتے ہو؟ اس کو بتاؤ کہ میں پریشان ہوں۔

یہ ہے انسان کی زندگی۔ یہ ویسے نہیں کہا جاتا، یہ ویسے نہیں کہا جاتا۔ اس کے پیچھے بہت۔۔۔ کچھ چیزیں ظاہر ہیں کچھ چیزیں چھپی ہوئی ہیں۔ لیکن حقیقت حقیقت ہے، حقیقت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ وہ ما شاء اللہ جیسے وہ Low rate پر آ گئے، اسلامی بینک میں آ گئے، وہ کہتے ہیں پہلے دس بارہ تاریخ تک ہمارے گھر میں کچھ نہیں ہوتا تھا تنخواہ ختم ہو چکی ہوتی تھی۔ کہتے ہیں اب الحمد للہ بچت ہو رہی ہے۔ اب الحمد للہ بچت ہو رہی ہے، پہلی دفعہ کہتے ہیں ہمیں بچت کا پتہ چل گیا کہ بچت بھی ہوتا ہے۔ ہمارے دفتر کی ایک بات ہے، تین Engineer تھے۔ ایک Engineer نے مجھے واقعہ خود سنایا۔

ایک Engineer نے، جو میرے Student تھے، اس نے مجھے واقعہ خود سنایا۔ مجھے کہتے ہیں سر ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے، تین Engineer تھے، آپس میں ڈسکس کر رہے تھے بڑی مہنگائی ہے۔ بڑے پریشان تھے۔ آپس میں تبادلہ خیال ہو رہا تھا جی تمہارا کیا ہو رہا ہے، میرا کیا ہو رہا ہے۔ یہ سارا سب چیزیں ڈسکس ہو رہی تھیں۔ کہتے ہیں ایک Attendant جس کو میں جانتا ہوں، وہ گزر رہے تھے۔ اس کو بلایا، او فلانے ادھر آ جاؤ۔ وہ آ گیا، Attendant Attendant ہوتا ہے ظاہر ہے Engineer بلائے تو کیوں نہیں آئے گا؟ آ گیا۔ بیٹھ جاؤ، بیٹھ گیا۔ بتاؤ تمہارا گزارہ ہوتا ہے آج کل؟ کہتے ہیں اس کی پہلی بات یہ تھی: الحمد للہ! ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اس نے اس طرح ٹھنڈے سینے سے کہہ دیا کہ ہم حیران ہو گئے بھئی یہ کیا ہمارے ساتھ مذاق کر رہا ہے یا کیا کر رہا ہے؟

تو کہتے ہیں ذرا اس کو ڈانٹا، کہ بھئی صحیح صحیح بات بتاؤ یہ کیا بات ہے، بتاؤ کس طرح تم، مطلب تمہارا گزارہ ہوتا ہے؟ اس نے کہا سر میری اتنی تنخواہ ہے۔ اتنا میرا کرایہ ہے۔ اتنا وہ ہمارے Kitchen کا خرچہ ہے۔ اتنے کپڑوں وپڑوں کے لیے لگ جاتا ہے، اتنا Schooling کا ہے۔ اتنا ذرا آگے شاید پیچھے کام ہو جاتے ہیں۔ اور الحمد للہ تقریباً ڈھائی سو روپے بچ جاتے ہیں۔

کہتے ہیں وہ تین Engineer اٹھے ہیں، ایک اس طرف گیا، ایک اس طرف گیا، ایک اس طرف گیا۔ آپس میں ایک دوسرے کو چہرہ نہیں دکھا سکتے تھے۔ یہ ہے برکت، یہ ہے برکت۔ تو برکت جب ہوتی ہے نا، اس میں پھر معاملہ الگ ہوتا ہے۔ اس کا نظام اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا نظام اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔

میں خود مجبوراً اپنی بات بتا رہا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ Information تو اپنی ہوتی ہے باقی لوگوں کی Information تو سنی سنائی ہوتی ہے۔ 1980 میں میری تنخواہ چودہ سو چالیس روپے تھی۔ اور ہمارا گھر الحمد للہ پورا گھر تھا، اکثر ہماری تنخواہ دکاندار لے لیا کرتے تھے۔ دکاندار سے سارا سودا آتا، کیونکہ والد صاحب فوت ہو گئے تھے ایک سال ہوا تھا۔ تو سارا گھر کا خرچ آ رہا تھا۔ تو دکاندار لے لیتے۔

کسی سے سنا تھا، کہ دس بیس روپے بھی اگر کوئی جمع کرنا چاہے حج کے لیے، تو اللہ جل شانہ پورا کر لیتا ہے۔ تو اس نیت سے میں کچھ تھوڑے تھوڑے پیسے پس انداز کر لیتا تھا، اپنے خیال میں کہ حج کے لیے استعمال ہوں گے۔ 1984 کے جنوری تک الحمد للہ پچیس ہزار روپے جو حج کے لیے تھے وہ جمع ہو گئے۔ میرا Calculator تو اس کا جواب نہیں دے رہا اگر آپ کا دے رہا ہے تو بتا دیں۔ چار سال، آپ کو معلوم ہے، اتنے سال ہیں، اتنے مہینے ہیں، اتنی تنخواہ ہے، اخراجات اتنے ہیں، اب بتاؤ کیسے پورے ہوئے؟ یہ مجھے ابھی تک پتہ نہیں چلا، میرا Calculator نہیں کام کر رہا اس پہ۔ ہو گیا، پورا ہو گیا۔

مزید بتاتا ہوں، یہ تو برکت کی بات ہے نا، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، برکت کی بات ہے۔ آگے بتاتا ہوں، جو سنی تھی بات اس کو اللہ نے کیسے پورا کر دکھایا۔ جو سنی تھی بات، سنی یہ تھی، اللہ پاک اس کو کر لیتے ہیں۔

سنی یہ بات تھی کہ پیسے بن گئے پچیس ہزار روپے۔ اور اللہ کا شکر ہے ایک دن پہلے داخلہ ہو گیا۔ یعنی ختم Date ختم ہونے سے ایک دن پہلے چونکہ میں کراچی جا رہا تھا، اپنے ساتھ پیسے لے گیا تھا، وہیں پر کراچی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہو گیا۔ اب مطمئن ہو گیا کہ Letter بھی آ گیا، ٹھیک ہے جی مطلب یہ آپ کا ہو گیا، منظوری آ گئی۔

اب مجھ سے ایک مولانا صاحب ہیں ہمارے دوست ہیں، پوچھ رہے ہیں ایک دن۔ میں کراچی سے داخلہ کر کے آیا ہوں، جتنا کام تھا سرکاری وہ کر کے آ گیا۔ جب واپس پہنچ گیا تو یہاں پر ایک Letter پہنچا تھا گھر میں۔ یہ Letter ہے آپ کا آیا ہوا ہے آپ اس کو دیکھیں۔ Letter میں نے دیکھا تو اس میں لکھا کہ آپ کا دو ہفتے کے لیے امریکہ کا وہ کورس (Approve) ہو گیا ہے۔ اور آپ کو امریکہ جانا ہے۔ یکم جون کو آپ کو جانا ہے۔ دو ہفتے کے لیے۔

اب یہ بھی ہو گیا چلو جی ما شاء اللہ اچھا ہوا۔ منظوری کیسے ہوئی ہے وہ بھی بتاتا ہوں۔ ہمارے دفتر کے کچھ لوگ شاید بیٹھے بھی ہوں۔ منظوری اتنے عجیب طریقے سے ہوئی کہ ہمارا Director بھی حیران اور خود میں بھی حیران۔ میں نے اس کے لیے Note لکھا، ڈائریکٹر کے Office میں چلا گیا۔ اور بقول ان کے، گم ہو گیا۔ لیٹر گم ہو گیا۔ کدھر گیا؟ نہیں معلوم۔ اب جو پی اے (PA) ہے ڈائریکٹر کا وہ ڈھونڈ رہا ہے، دوسرے ڈھونڈ رہے ہیں۔ میں نے کہا بھئی لیٹر کدھر گیا؟ میں نے کہا چلو بس گم ہو گیا تو گم ہو گیا دوسرا لکھیں گے۔ اگلے دن وہ منظور ہو کے پہنچ گیا واپس۔ پتہ نہیں کیسے گیا تھا ہیڈ کوارٹر، اور کن چینل سے گزرا ہے کیسے، کس سپیڈ سے، اور کس سپیڈ سے چیئرمین نے Sign کیا اور کس سپیڈ سے پھر واپس آ گیا۔ یہ دوسرے دن کی کارروائی تھی۔ اور وہ حیران، ڈائریکٹر بھی حیران، بھئی لیٹر کدھر گیا؟

اور لیٹر منظور ہو کر واپس آ گیا اگلے دن۔ ساری چیزیں دستخطیں موجود ہیں، فلاں نے کیا، فلاں نے مارک کیا، فلاں نے مارک کیا، یہ سارا یعنی ایک دو دن میں یہ سارا کام، بلکہ ایک دن میں، ایک دن میں سارا کچھ ہو گیا۔ ہو گیا ما شاء اللہ۔

اب منظوری اس کی آ گئی۔ اس پر یہ ہوا کہ مجھے مولانا شریف صاحب مجھ سے پوچھا، شبیر صاحب کیا ارادہ ہے آپ کا؟ میں نے کہا ان شاء اللہ میں امریکہ سے واپس آؤں گا تو ان شاء اللہ پھر حج پہ جاؤں گا۔ کہتے پاگل نہیں ہو؟ میں نے کہا کیوں، کیا ہو گیا، کیا ہو گیا؟ کہتے ہیں آپ Apply کریں عمرے کے لیے۔ اور یہ کریں کہ مطلب واپسی میں آپ کو ان شاء اللہ جدہ میں، آپ Application دے دیں ان کو کہ میں چونکہ عمرے کے لیے آیا ہوں تو اس کو حج ویزہ میں Convert کر لیں۔ ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں آپ یوں کر لیں۔ میں نے کہا ہو جاتا ہے؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا وہ جو پیسے میرے جمع ہو چکے ہیں؟ کہتے ہیں وہ واپس مل جائیں گے۔ میں نے کہا پتہ نہیں ملتے، نہیں ملتے؟ کہتے ہیں آپ ٹرائی تو کریں۔

اچھا دوسری بات اب یہ کہ میں نے جو سعودی ایمبیسی (Saudi Embassy) میں بھی Apply کرنا تھا امریکہ سے بھی ویزا لینا تھا۔ امریکن جو سعودی ایمبیسی میں چلا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ آپ پہلے امریکہ کا ویزا لے آئیں تو ہم پھر آپ کو دے دیں گے۔ تو میں نے کہا اچھی بات ہے، جینون (Genuine) ہے ظاہر ہے، جس بنیاد پر میں لے رہا ہوں ویزا تو وہ تو یہی ہے نا۔

اب میں چلا گیا امریکن ایمبیسی۔ وہ ان کا بڑا لمبا انٹرویو (Interview) مجھ سے لے لیا، اس نے ان کا طریقہ کار جیسے ہوتا ہے، وہ تو مجھے پہلے پتہ تو نہیں تھا بڑا لمبا انٹرویو لے لیا۔ آخر کار ویزا دے دیا۔ ویزا دے دیا، لیکن وہ سعودی عرب کا سعودی ایمبیسی کا جو ٹائم تھا وہ گزر گیا تھا۔ اب میں آ گیا ہوں وعدہ اس نے کر لیا تھا لیکن وعدہ بھئی، میرا Letter کوئی پہنچائے گا تو پھر اس کے بعد دے گا نا، اور جگہ تو کھڑکی بند، اب کیا کروں؟

تو میں ایک اور لائن میں کھڑا ہو گیا، جو ان چیزوں کے لیے نہیں تھا، وہ جو نہیں ہوتے مطلب جو Normal سعودی عرب جاتے ہیں، وہ جو اقامے والے ہوتے ہیں ان کی لائن میں کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا چلو ٹرائی ہے۔

اب آخیر میں میں پہنچ گیا ہوں، تو انہوں نے کہا بھئی وہ تو ٹائم ختم ہو گیا ہے۔ میں نے کہا وہ تو مجھے بھی معلوم ہے لیکن میرے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے۔ تو آپ کم از کم میرے پاسپورٹ ادھر پہنچا دیں ان کو یہ میرا وعدہ یاد دلائیں۔ اگر وہ نہیں کیا تو نو (No) تو ہے ہی نا۔ کہتے ہیں ہم نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا میں آپ سے Request کرتا ہوں، آپ مہربانی کر کے پہنچا دیں اس کے بعد پھر جو مرضی ہے وہ کر لیں۔

خیر ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھا، دو لائنیں تھیں ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھا کہتے ہیں چلو یار پہنچا دو چلو کوئی بات نہیں۔ دیکھیں، کیا ہوتا ہے۔ خیر وہ بہرحال لے گئے، اور پانچ منٹ کے اندر اندر وہ ویزا لگا کے واپس۔ شاید موڈ میں اچھا ہو، موڈ اچھا ہوگا اس وقت، بہرحال ٹپہ لگ گیا اور ویزا میرے اس پہ لگ گیا۔

اب میں آ گیا ہوں ما شاء اللہ، ویزا میرے پاس ہے، امریکہ چلا گیا۔ امریکہ میں نے دو ہفتے کی جگہ چار ہفتے لگا دیے۔ کچھ دوست دوستوں سے ملنا کچھ دینی کاموں کی مصروفیت وہ ذرا دو ہفتے میرے زیادہ لگ گئے۔ وہ دو ہفتے میرے لیے بڑے کام کے بن گئے۔

تو اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ میں آ گیا واپس، سعودی عرب پہنچ گیا۔ اب جدہ کاؤنٹر پہ، میں نے پاسپورٹ دے دیا، طریقہ تو یہ تھا کہ وہ ٹپہ لگنا تھا اس کے بعد تو میں نے جا کے Application تو میں نے بعد میں دینی تھی۔ انہوں نے میرا پاسپورٹ ایک طرف کر دیا۔ اب وہ تو وہ ثم بکم والی بات ہوتی ہے نا، نہ کچھ بتاتے ہیں نہ کچھ، وہ بہرحال یہ کہ وہ میرا پاسپورٹ ایک طرف رکھ دیا اور باقی لوگوں پہ ٹپے لگا رہے ہیں۔

میں نے کہا یا اللہ خیر پتہ نہیں پاسپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہو گیا کیا بات ہو گئی ہے۔ اتنے میں ایک اور آدمی کو بھی میرے ساتھ کھڑا کر دیا۔ میں نے کہا اچھا پتہ نہیں شاید ہم لوگ کچھ مسئلہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کچھ پولیس والے آ گئے، انہوں نے ان کو پاسپورٹ دے دیا۔ میں نے کہا یا اللہ خیر مسئلہ تو کچھ گہرا ہے۔

اچھا وہ پاسپورٹ جب لے گئے تو میں نے کہا بھئی کچھ معلوم تو کروں کہ ہوا کیا ہے۔ میں ان پولیس والوں کے پیچھے دوڑا۔ میں نے کہا یہ کیا کیوں لے جا رہے ہو؟ کہتے ہیں کیوں، تمہیں کیا ہے؟ میں نے کہا یہ میرا پاسپورٹ ہے نا۔ کہتے ہیں پھر صبح مطار قدیم سے لے لو۔ میں نے کہا اس وقت میں کیا کروں؟ کہتے ہیں تم جا کر عمرہ کرو۔ اب کمال کی بات ہے بھئی عمرہ کیسے کروں پاسپورٹ تو تم لے گئے ہو۔ اس وقت نہ میرے دماغ نے کام کیا نہ ان کے دماغ نے کام کیا۔ کہ بھئی اس کے پاس کیا Identification ہے؟ اس کو راستے میں کسی نے پکڑ لیا پھر یہ کیا جواب دے گا؟ نہ ان کو سمجھ آئی نہ مجھے سمجھ آئی۔

اور میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ اب یہ ہے کہ وہ تو چلے گئے اب میں رہ گیا۔ میں نے ادھر ہی، میں نے جانا تھا مدینہ منورہ پہلے طریقہ تو یہ تھا، کیونکہ میں نے عمرے کا احرام تو نہیں باندھا تھا۔ اور اب میں نے کہا چادریں لے لیں ادھر ہی Purchase کر لیں، اور پھر میں نہایا اور پھر میں نے عمرے کی نیت کر لی۔

ایک ٹیکسی سے بات کی جا کر میں چلا گیا۔ اگلے دن میں واپس آ رہا ہوں پاسپورٹ لینے کے لیے کوئی مجھے لے جائے نہیں، کہ آپ کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ میں نے کہا بھئی پاسپورٹ میرے جدہ میں ہے میں کیسے جاؤں گا؟ کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم۔ میں نے کہا بھئی تمہارے لوگ کا کوئی بڑا بھی ہے یا نہیں ہے، بتاؤ اس سے میں بات کروں۔ ایک آدمی ادھر کھڑا تھا کہتے ہیں اس سے پوچھو۔ میں اس کے پاس گیا، میرے پاس امریکہ کا ٹکٹ تھا TWA کا۔ میں نے اس کو دکھایا، میں امریکہ سے آیا ہوں، میں میرا پاسپورٹ انہوں نے لے لیا ہے، میں ادھر سے لینا چاہتا ہوں، میں کیسے جاؤں اگر یہ مجھے بٹھاتے نہیں؟ اس سے کمام لیا۔

کہتے ہیں اچھا، میرا ٹکٹ دیکھا، ان سے کہا، یہ امریکہ سے آیا ہے جاؤ جاؤ بٹھا دو، بٹھا دو، بٹھا دو بٹھا دو۔ مجھے خوشی بھی ہو گئی اور افسوس بھی ہو گیا۔ خوشی تو اس لیے ہو گئی کہ پاسپورٹ مل رہا ہے۔ افسوس یہ ہو گیا کہ امریکہ کا سن کے کوئی قانون نہیں۔ سارے قانون ختم۔ بہرحال یہ کہ پھر وہ میں بیٹھ گیا۔

وہاں پہنچ گیا، پہنچ گیا تو اب وہاں پر اس آفس میں پہنچ گیا، انہوں نے کہا جی آپ کا پاسپورٹ موجود ہے لیکن 525 ریال دے دو۔ میں نے کہا 525 ریال کس چیز کے دے دوں؟ اب وہ بتائیں نہیں۔ میں نے کہا پھر پاسپورٹ نہیں ملے گا۔ تقریبا گھنٹہ میں نے انتظار کیا میں 525 ریال کیسے دے دوں؟ بلاوجہ۔ اور وہ کہتے ہیں پاسپورٹ اس کے بغیر ملے گا نہیں۔ میں نے کہا چلو جی ہم مرتا نہ کرے کیا کرتا ہے میں نے کہا اچھا 525 ریال میں نے پکڑا دیئے ان کو۔ میں نے کہا یہ لے لو۔

وہ میں نے ان کو دیے، انہوں نے پاسپورٹ دیا، پاسپورٹ کو دیکھا تو اس پہ حج کا ویزا لگا ہوا تھا۔ قانون یہ بن گیا تھا کہ اس تاریخ کے بعد جو آئیں گے، وہ Automatically حج ویزہ کے لیے Valid ہو جائیں گے، اس کا عمرے کا ویزا حج ویزہ میں کنورٹ ہو کر اس کو ملے گا۔

یہ بتاؤ۔ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے کہ حج کا ویزا مل گیا۔ 72 دن مجھے ملے۔ وہاں پر 72 دن مجھے ملے۔ اور وہاں ہمارے ایک ساتھی ہیں، ابھی تک الحمد للہ وہاں پر ہیں، حجی عبد المنان صاحب، اس کے ساتھ ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے کہا مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی آ رہے ہیں ہمارے شیخ۔ تو آپ ہمارے ساتھ ہی ٹھہر جائیں، ہمارے لیے تو عید ہو گئی۔ پورا حج اللہ پاک نے مہمانی میں کرایا، پیسے میرے سارے کے سارے بچ گئے۔ اور واپس جو آ گیا تو یہ سارے کے سارے پیسے مل گئے۔

اب بتاؤ یہ کون سا قانون ہے؟ کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ جب کرتے ہیں کچھ بھی پتہ نہیں چلتا۔ اسی کو برکت کہتے ہیں۔ اسی کو برکت کہتے ہیں۔

جب اللہ جل شانہ کرتے ہیں تو راستے بنتے جاتے ہیں، بنتے جاتے ہیں، بنتے جاتے ہیں۔ اور جب نہیں کرتے بند ہوتے جاتے ہیں، بند ہوتے جاتے ہیں، آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے میں کہتا ہوں اگر ایک انسان اللہ جل شانہ کے ساتھ معاملہ صاف رکھے۔ اور اس زندگی کو اس کے لیے مستعار سمجھے۔ بھئی یہ ہم نے مستعار لیا ہوا ہے۔ اور اس کے اوپر کچھ Checks ہیں۔ وہ ہمیں پورے کرنے پڑیں گے۔ جو جو طریقہ وہ بتائے گا اس طریقے سے زندگی گزاریں گے، تو یہ زندگی بھی اچھی گزرے گی۔ کیسے اچھی زندگی؟ جیسے میں نے مثالیں دیں۔ اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے چیزوں میں کام کروائیں گے، کام ہوتا جائے گا ان شاء اللہ۔ اور ساتھ ساتھ ما شاء اللہ آخرت کی زندگی بنتی جائے گی۔

دنیا کی زندگی میں سب سے بڑی چیز جو ہے نا وہ اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ وہ سکون ہے۔ Satisfaction۔ میں آپ کو بتاتا ہوں، اگر کوئی Air condition میں بیٹھا ہو۔ اور گاڑیاں اس کے پاس چار پانچ ہوں۔ اور گھر میں نو دس نوکر ہوں۔ اور وہ سارے مطلب جو ہے نا جگہ پہ اس کی عزت بھی ہو۔ لیکن اس کے دل کو سکون نہ ہو۔ وہ کیسا ہوگا؟ خوش ہوگا یا ناخوش ہوگا؟ ناخوش ہوگا، پریشان ہوگا۔

اس کے مقابلے میں جو شخص، اس کا آج ہے کل نہیں ہے۔ لیکن وہ مطمئن ہے خوش ہے، سکون ہے اس کو، تو اس کی زندگی کیسی ہے؟ خود یہ بریڈ فورڈ (Bradford) گاڑیوں والے کا جو مالک جو تھا، یہ اپنے بالکونی پہ ایک دن کھڑا تھا، بیمار تھا بیچارہ۔ اس کو نیند نہیں آتی تھی۔

تو ایک دن ایک مزدور آیا، اور مزدور نے پتہ نہیں جیب سے کیا نکالا جو چھوٹی سی چیز تھی وہ کھا لی، وہ پانی پی لیا وہ جو نل تھا، اور تھوڑی دیر کے لیے ٹیک لگایا اور خراٹے لینے لگا۔ تو اپنے لوگوں سے کہا، اگر یہ میرے بس میں ہوتا کہ میں اس کو سارا کچھ دے دوں، اور یہ جو اس کے پاس ہے یہ مجھے دے دے تو میں تیار تھا۔ میں تیار تھا۔

اب بتاؤ یہ ہے ساری ہماری تمام چیزوں کی قیمت یہ ہے۔ اگر اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے سکون اللہ چھین لے نا، تو میں آپ کو بتا دوں دنیا اندھیر ہو جاتی ہے۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ سکون دے دے، وہ بادشاہ ہے۔ تو دنیا کی بادشاہی بھی اسی ذکر میں ہے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ آگاہ ہو جاؤ، دلوں کو اطمینان اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہو جاتا ہے۔ تو دلوں کا اطمینان بھی ذکر میں ہے، اور آخرت میں بھی سب کچھ ذکر کے ذریعے سے مل رہا ہے۔ تو فائدہ ہے یا نہیں ہے؟

اس وجہ سے بڑی پاک زندگی انسان گزار سکتا ہے۔ بہت اچھی زندگی انسان گزار سکتا ہے۔ بس ذرا تھوڑا سا اپنے ماحول کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ میں آپ کو بتاؤں، اس کی وجہ یہ ہے کہ دیکھیں، ہم لوگ صرف ایک فرد کے طور پر دنیا میں نہیں رہتے۔ ہمارے ارد گرد لوگ ہوتے ہیں سارے۔ وہ ہمیں متاثر کرتے ہیں، ہم ان کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ دنیا میں چیزیں چل رہی ہوتی ہیں۔ نفسیاتی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ہر شخص دوسرے سے چوری کر رہا ہوتا ہے۔ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر۔ کیسے؟

اگر دو شخص آپس میں بیٹھے ہیں، تو ان کی کچھ صلاحیتیں اس میں چلی جائیں گی، ان کی کچھ صلاحیتیں اس میں چلی جائیں گی۔ یہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کو آدمی ختم نہیں کر سکتا۔

جب یہ صورتحال ہے تو مجھے بتاؤ برے لوگوں کے اندر جو رہے گا، تو وہ اچھا بننے کی کوشش کرے گا تو کیسے ہوگا؟ اور جو اچھے لوگوں کے اندر رہے گا وہ اگر یہ کوشش کرے گا تو کیسے ہوگا؟ اس وجہ سے ماحول کو تھوڑا تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ تو اس کے لیے پھر یہ ہے کہ ہم لوگوں کا اگر اللہ والوں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہو جائے۔ اور اس طریقے سے ہم لوگ ان سے لیتے رہیں، تو ایک دن وہ چیزیں سمجھ بھی آ جائیں گی، اور ان شاء اللہ العزیز ہم لوگ اس راستے پہ چلنا بھی شروع کر لیں گے۔

ہم خود جب پشاور یونیورسٹی (Peshawar University) گئے تھے، تو پشاور یونیورسٹی میں ہم تو Engineering کے لیے گئے تھے۔ ہم تو وہاں پر کسی مدرسے میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ نہ ہم نے مطلب ظاہر ہے وہاں پر کوئی اور دینی ادارے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہی انجینئرنگ کالج تھا۔ لیکن کچھ لوگوں نے ہمیں بتا دیا کہ یہاں پر ایک بزرگ ہیں۔ جن کے ہاں مطلب لوگ جاتے ہیں۔ تو ہم نے کہا چلو ہم بھی چلتے ہیں۔ جب ہم گئے وہاں پر تو الحمد للہ دل نے جواب دے دیا کہ ہاں یہ بالکل جگہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد وہاں پر بیٹھنا شروع کیا۔ عصر سے لے کے مغرب تک حضرت کی محفل ہوا کرتی تھی۔ بس، عصر سے مغرب تک۔ اور باقاعدہ محفل بھی نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح ہوتا تھا کہ حضرت سے لوگ پوچھ لیتے تھے سوال، جب سوال پوچھ لیتے تو حضرت اس کا جواب دینا شروع فرما دیتے۔ اس جواب میں بعض دفعہ پورا بیان ہو جاتا۔ یعنی مغرب تک پورا بیان چلا جاتا اسی میں۔ بعض دفعہ ذرا ایک دو سوال بھی ہو جاتے، تین سوال بھی ہو جاتے تھے۔ تو یہ حضرت کا طریقہ تھا۔

تو وہاں پر جا کر ہم لوگ بس اسی کے ہو کے رہ گئے۔ اب عصر سے لے کے مغرب تک حضرت کے ساتھ بیٹھنے لگے۔ اس کا فوری اثر تو یہ ہوا، کہ جو یونیورسٹی کی جو قباحتیں تھیں، جہاں لوگ لڑکے جاتے تھے اور کچھ مسائل تھے، جو بعد میں ہمیں رسالوں سے پتہ چل گیا کہ یہ چیزیں ہوا کرتی ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ان کا۔ بلکہ ہم حیران تھے کبھی کبھی آپس میں وہ ڈسکس کرتے تھے نا لڑکے تو ہم حیران ہوتے تھے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ کیوں یہ باتیں کر رہے ہیں؟ لیکن بہرحال وہ تو ایک پورا ایک کلچر تھا جو وہاں چل رہا تھا۔ تو اللہ کا شکر ہے کہ حضرت کی برکت سے اس کلچر سے اللہ پاک نے بچا دیا۔

اب ظاہر ہے دل میں چونکہ جگہ بن گئی تھی حضرت کے لیے، لہذا جب ہم یہاں پر بھی آ گئے، تو جب بھی کوئی چھٹی ملتی تو دوڑ کے حضرت کے پاس چلے جاتے۔ بس ہمارا کام یہ تھا تو کہتے ہیں ملا کی دوڑ مسجد تک۔ تو ہماری دوڑ بس مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف۔ وہ چیز ہوتی۔ اچھا حیرت کی بات یہ ہے، تین چار سال تک پتہ نہیں چلا کہ حضرت بیعت کرتے ہیں۔ تین چار سال تک! آپ حیران ہوں گے کہ آپ کسی پیر کے ساتھ آپ تین چار سال رہیں اور آپ کو یہ پتہ نہ چلے کہ یہ پیر ہے۔ مجھے بتاؤ یہ کونسی چیز ہے؟ کم از کم ہمارے ساتھ تو ہوا ہے۔ باقیوں کا تو میں نہیں کہہ سکتا ہوں۔

مجھے تو حضرت قاضی عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے ایک دن پوچھا۔ کہ کیا آپ حضرت سے بیعت ہیں؟ میں نے کہا کیا حضرت بیعت کرتے ہیں؟ اس نے بڑے حیرت سے کہا، کمال ہے۔ میں تو آپ پر حیران ہوں۔ آپ کو پتہ نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ کہتے آپ کو پتہ نہیں یونیورسٹی کس کی برکت سے آباد ہے؟ یہ آپ کو جو پگڑی والے نظر آ رہے ہیں آپ کو تسبیح والے نظر ارہے ہیں۔ آپ کو جو نمازوں والے نظر آ رہے ہیں، ان کی برکت ہے۔ پہلے جو حالات تھے وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے تھے۔ بہرحال یہ ہے کہ پھر حضرت نے مجھے، پھر اللہ پاک کا شکر ہے اللہ پاک نے خوابوں کے ذریعے سے بھی راستہ بنا دیا۔ اور ایک دن ہم حضرت کے پاس گئے اور حضرت سے بیعت ہو گئے۔ تو یہ ہماری ساری کارگزاری تھی۔

تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اللہ والوں کے ساتھ ویسے ہی ملنے سے بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی۔ بہت بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی ڈگر پر کام دے جاتا ہے۔

وہاں جرمنی (Germany) میں جب ہم گئے۔ یقین جانیے، جرمنی کافی Attractive جگہ ہے۔ بہت Attractive جگہ ہے۔ بہت ساری چیزوں کی بنیاد پر۔ بالخصوص وہاں اگر آپ کو Accept بھی کیا جا رہا ہو، اور آپ کی ذرا عزت بھی ہو، تو پھر تو واپس آنا بڑا مشکل بظاہر لگتا ہے نا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، جرمنوں نے ہمیں رکھنا چاہا لیکن ہم جرمنی میں تیار نہیں ہوئے مطلب ٹھہرنے کے لیے۔ ایک پروفیسر (Professor) لیول کا آدمی بار بار مجھ سے کہتا ہے آپ نے رپورٹ لکھ دی آپ نے رپورٹ لکھ دی؟ مقصد یہ ہے کہ میں اس پہ لکھ دوں کہ تاکہ یہاں پر مطلب وہ رہ جائے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ وہاں جرمنی میں بھی ہمیں حضرت نظر آ رہے تھے۔ اور حضرت ہی کی باتیں ہوتی تھیں۔ کبھی کسی کو دیکھ لیتے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ہے، یہ ایسا ہے۔ میں نے کہا بھئی یہ بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ہم نے جن کو دیکھا ہے وہ تو ظاہر ہے وہ تو الگ بات ہے۔

تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بڑی بہت بڑا Source ہوتا ہے۔ اطمینان کا بھی، اور ساتھ ساتھ Learning کا بھی۔ اور اللہ جل شانہ ان کے ذریعے سے بہت کچھ دیتے ہیں، لیکن ذرا تھوڑا سا مستقل مزاجی کے ساتھ۔ آنا جانا انسان شروع کر لے ایسے لوگوں کے ساتھ۔

پھر ما شاء اللہ پھر کیا ہوتا ہے؟ دیتا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ لوگ نہیں دیتے۔ اور نہ دے سکتا ہے کوئی۔ انسان کے بس میں یہ ہے ہی نہیں۔ ہاں البتہ اللہ جل شانہ جب مہربان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے اپنے طریقے ہیں۔ جس ذریعے سے بھی دینا چاہے تو دے دے، چاہے وہ خواب کے ذریعے سے دے، چاہے کتاب کے ذریعے سے دے۔ چاہے کسی بزرگ کی زبان کے ذریعے سے دے۔ بس وہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے جو جس نے جس کے لیے لکھا ہے، وہ ما شاء اللہ وہ ان بزرگوں حضرات کی زبانوں پہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور انسان حیران ہوتا جاتا ہے کہ ہاں یہ کیا ہے؟ میرے دل میں بات ارہی ہے ادھر سے جواب ارہا ہے۔ میرے دل میں بات ارہی ہے ادھر سے جواب ارہا ہے۔ میرے دل میں بات ارہی ہے ادھر سے جواب ارہا ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ تو یہ اصل میں یہی چیز ہے، اللہ کا، اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔

اس وجہ سے ہم سب کو، ایک تو یہ بات ہے جو اس مجلس کا نچوڑ ہے۔ وہ یہ میں عرض کر سکتا ہوں کہ ہم رُجُوع اِلَی اللّٰہ کر لیں۔ دنیا سے ہم لوگ اپنا رخ اللہ کی طرف موڑ دیں۔ اور اللہ جل شانہ کی طرف رخ موڑنے میں دنیا پیچھے نہیں رہتی، دنیا پیچھے بھاگتی ہے۔ ویسے انسان دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے پھر دنیا پیچھے بھاگتی ہے۔ تو لیکن یہ بات ہے کہ دنیا کے لیے ہم یہ نہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری جو نیت ہو، یہ نہ ہو کہ ہم دنیا کے لیے کریں، اچھا دنیا ہمارے پیچھے بھاگے۔ بھئی یہ تو پھر دنیا کی نیت ہو گئی پھر تو دنیا کے پیچھے بھاگنا ہوا نا۔ تم اللہ کے پیچھے، تم اللہ کے مطلب جو ہے نا اللہ کو راضی کرنے کے لیے کام کرو، اللہ جل شانہ پھر ان چیزوں کو آپ کی طرف لگا دے گا۔

مجھ سے ہمارے ایک دوست تھے، اب آج کل ویانا (Vienna) میں ہے۔ اس نے بڑے تیکھے انداز میں ایک سوال کیا۔ مجھ کہتے ہیں شبیر صاحب یار تم جو باتیں کرتے ہو نا، پتہ نہیں کونسی باتیں کر رہے ہو، آج کل یہ باتیں کہاں سنی جا سکتی ہیں؟ آج کل لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور تم وہی پرانی باتیں لیے بیٹھے ہو، یہ کیا کر رہے ہو تم؟ دوست ہیں ہمارے، ظاہر ہے بے تکلف۔

تو میں نے بھی پھر بے تکلفی سے جواب دیا۔ میں نے کہا یہ بتاؤ کہ صحابہ کرام، یہ دنیا دار لوگ تھے، یا دنیا کو چھوڑ چکے تھے؟ کہتے ہیں وہ تو دنیا کو چھوڑ چکے تھے۔ میں نے کہا ہم سے زیادہ دنیا دار تھے یا کم؟ کہتے یار کمال ہے، وہ تو دنیا دار تھے ہی نہیں۔ میں نے کہا اچھا چلو ٹھیک ہے مان لیا۔ ہم دنیا دار ہیں نا؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا اب بتاؤ کہ ہم دنیا میں (آخرت کی بات نہیں کر رہا ہوں)، دنیا میں وہ زیادہ کامیاب تھے یا ہم زیادہ کامیاب ہیں؟ سوال سمجھ گئے؟ دنیا میں ہم زیادہ کامیاب ہیں یا وہ زیادہ کامیاب تھے؟ اس شخص نے، جو مجھ سے ایسی بات کر رہا ہے، وہ مجھے کہہ رہا ہے وہ زیادہ کامیاب تھے۔ وہ زیادہ کامیاب تھے۔ میں نے کہا آپ کا فارمولا تو گیا۔ آپ جو مجھے کہتے ہیں دنیا چاند پہ پہنچ گئی اور تم یہ باتیں کر رہے ہو۔ تو ظاہر ہے جب میں دنیا دار ہوں، تو میں کیسے ان سے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہوں؟ بقول آپ کے۔ تو اس کا مطلب ہے مجھے ان کی طرف جانا پڑے گا نا؟ دنیا میں بھی کامیاب ہونے کے لیے۔ ہمارے پاس راستہ یہی ہے۔ ہمارے پاس راستہ یہی ہے۔

مسلمان تب ہی بن سکتا ہے، جب وہ اللہ کا بنتا ہے۔ یعنی مسلمان (دنیا کے لحاظ سے بھی عرض کرتا ہوں)، تب ہی بن سکتا ہے، جب وہ اللہ کا بنتا ہے۔ جب وہ اللہ کو چھوڑتا ہے، پھر وہ کسی چیز کا بھی نہیں بنتا۔ پھر وہ کیا بنتا ہے؟ وہ، وہ ایسا کتا بنتا ہے اللہ بچائے اللہ بچائے۔ جس کو ہر ایک دھتکارتا ہے۔ ادھر سے بھی دھتکارتا ہے، ادھر سے بھی دھتکارتا ہے، ادھر سے بھی دھتکارتا ہے۔ پھر وہ ایسا کتا بن جاتا ہے۔ بالکل یہی بات میں عرض کروں، یہ الفاظ میرے ذرا سخت ہیں، لیکن آپ ذرا تھوڑا سا غور کر لیں آگے پیچھے کیا یہ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔

لیکن جب مسلمان اللہ کو پہچانتا ہے، اور اللہ کی طرف جاتا ہے، یہ ساری دنیا دار کتوں کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اور اپنا منہ ان کے سامنے ڈال لیتے ہیں۔ یہ بات ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی اللہ کو نہ چھوڑو۔ اللہ کو کبھی نہ چھوڑو اس میں بہت بڑا نقصان ہے۔ دنیا کا بھی نقصان ہے، آخرت کا بھی نقصان ہے۔

اگر ہم نے کچھ کرنا ہے تو یہی کرنا ہے کہ ہم اپنا دل اللہ کو دے دیں۔ اللہ تعالیٰ کو مان لیں، اللہ تعالیٰ کی بات سنیں، اللہ جل شانہ کے لیے کام کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں پوری وہ کائنات کے اوپر ما شاء اللہ حکمرانی نصیب فرمائے گا۔

کائنات کے اوپر، آپ کہیں گے یہ مبالغہ کر رہا ہے۔ یہ مبالغہ کر رہا ہے۔ مبالغہ نہیں ہے۔ کائنات کے اوپر ہی ہوتا ہے۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ یعنی فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے بر و بحر میں۔ تو اگر یہ اعمال ہمارے اچھے ہو گئے تو اس کا Opposite ہوگا نا؟ اپوزٹ ہوگا نا؟ تو پوری کائنات کے اندر Favorable changes آتی ہیں۔ Favorable changes آتی ہیں اگر ہمارے اعمال صحیح ہو جائیں۔ اور اگر ہمارے اعمال خراب ہو گئے تو پھر یہ چیز ہو جاتی ہے۔

اس وجہ سے ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ تو ایک بات تو یہ ہے رجوع الی اللہ کا سب سے پہلا کام، کہ جو گزشتہ کیا ہے اس پر توبہ۔ جو گزشتہ کیا ہے اس پر توبہ۔ تو میں الفاظ دہرا دیتا ہوں، ظاہر ہے وہ تو موسیٰ علیہ السلام کے جو ساتھی تھے نا اس نے تو دل ہی میں سارا کچھ کہہ دیا تھا نا، تو چلیں ہم زبان پر ہی کم از کم کہہ دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو دل کا بھی کر دے۔ اے اللہ ہم توبہ کرتے ہیں۔ تمام گناہوں سے۔ چھوٹے گناہ ہیں یا بڑے گناہ ہیں۔ ہمیں معلوم ہیں یا نہیں ہیں۔ قصداً ہوئے ہیں یا خطا سے ہوئے ہیں۔ ظاہر کے ہیں یا باطن کے ہیں۔ اے اللہ ہماری توبہ قبول فرما۔ ہم آئندہ کے لیے ان شاء اللہ گناہ نہیں کریں گے۔ اگر پھر بھی ہم سے گناہ ہو گیا، تو فوراً توبہ کریں گے۔ اے اللہ ہماری توبہ قبول فرما۔

اب ہم ذکر کرتے ہیں ایک دفعہ، سورہ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورہ اخلاص، اس کے بعد ان شاء اللہ ہم ذکر کرتے ہیں۔

عقلِ ایمانی، برکت کا مفہوم اور توبہ کی اہمیت - انفاسِ عیسیٰ - پہلا دور