منازلِ سلوک: رسوخِ دین، ذکرِ حقیقی اور تفویضِ امر (اللہ کی رضا پر راضی رہنا)
"کتاب: انفاس عیسی، "علامت رسوخ" تا "طبعی تسلی و قرار کی کوئی صورت نہ ہونے کا علاج
- دین کی کسی بات پر بغیر کسی تردد کے عمل کرنے کے لیے مکمل شرح صدر کا حاصل ہو جانا رسوخ کی علامت ہے۔
- مختلف لوگوں کو دین کے مختلف شعبوں میں شرح صدر حاصل ہوتا ہے جبکہ صاحب رسوخ ان تمام کاموں کی مجموعی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
- غلبہ ذکر اور دوام طاعت کے رسوخ کو مقام کہتے ہیں اور اس پر مرتب ہونے والا اللہ کا قوی تعلق نسبت کہلاتا ہے۔
- حقیقی ذکر کا اصل مقصود ہر وقت اللہ کا دھیان رکھنا ہے تاکہ انسان اپنے معاملات میں گناہوں اور نافرمانیوں سے محفوظ رہے۔
- حقیقی ذکر حاصل نہ ہونے کی صورت میں لسانی ذکر جاری رکھنا چاہیے کیونکہ مسلسل کوشش سے ظاہری عادت حقیقی عبادت بن جاتی ہے۔
- روحانی منازل طے کرنے میں تعجیل مچانا طریقت کے موانع میں سے ہے جو انسان کو سلسلے اور اعمال سے بدگمان کر دیتا ہے۔
- قلبی صفائی حاصل ہونے کے بعد معمولی لغزش پر بھی اندرونی نظام فوراً ظلمت کا ادراک کر کے انسان کو استغفار پر آمادہ کرتا ہے۔
- روحانی کیفیات اور جنت کا حصول اگرچہ غیر اختیاری اور محض فضلِ الہیٰ ہے لیکن انسان پر ان کے ظاہری اسباب اختیار کرنا لازم ہے۔
- عبادت کو محض ثواب کا سودا سمجھنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنا غیر مشروط فرض سمجھ کر انجام دینا چاہیے۔
- مجاہدہ اضطراریہ یعنی غیر اختیاری مصائب اور تشویشات پر صبر کرنا اجر و منافع میں اختیاری عبادات اور اوراد سے زیادہ قوی ہے۔
- پریشانیوں میں تفویض کو راحت کا ذریعہ بنانے کے بجائے زوال مصیبت کی دعا اور استغفار کا التزام کر کے ثمرات کو آخرت کے لیے سمجھنا چاہیے۔
- نماز میں حرکت فکریہ کو قطع کرنے کے لیے کلام نفسی کا استحضار اور ہر رکن کی ادائیگی سے قبل اس کی قلبی نیت کرنی چاہیے۔
- دعا میں واحد کے منقول صیغے میں الحاح کی مصلحت ہے جبکہ جمع کے صیغے میں دوسروں کو شریک کرنے سے قبولیت کی امید بڑھ جاتی ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
علامت رسوخ
آپ نے ایک لفظ رسوخ کا مطلب سنا ہوگا۔ لیکن۔ استعمال کا موقع شاید کم آیا ہو۔ ایک لفظ قرآن پاک میں بھی ہے، علمائے راسخین۔ تو۔ وہ علمائے راسخین وہ ہوتے ہیں جو اچھی طرح علم کے بارے میں، ان کو شرح صدر ہو جائے، کہ یہ باتیں ان کو مستحضر ہوں اور فیصلہ کرنے میں ان کو کوئی مشکل نہ ہو۔ تو۔ وہ صحیح بات تک جلدی پہنچتے ہیں۔
تو یہاں پر جو رسوخ کا مطلب ہے وہ عمل میں ہے۔ اور سمجھ میں ہے، دونوں مل کے۔ فرمایا:
صدور میں کشاکشی بھی نہ ہو تو یہ علامت ہے رسوخ کی۔
مطلب کسی چیز کے بارے میں کشاکشی نہ ہو کہ یہ، یہ تردد وغیرہ جس کو ہم کہتے ہیں۔ یہ نہ ہو۔ تو پھر یہ علامت ہے رسوخ کی۔ اس کے بارے میں اس کو شرح صدر ہو جاتا ہے، پوری بات کھل جاتی ہے۔ بات کا کھلنا یقیناً ایک نعمت ہے۔ جس پر بھی اللہ تعالیٰ دین کی بات کھول لیں۔ تو اس میں پھر ظاہر ہے، پھر عمل کی بات ہی رہ جاتی ہے۔ پھر اس میں کوئی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس کو تردد ہو کہ کروں نہ کروں۔
یہ جو شرح صدر ہے، یہ مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں میں ہو سکتا ہے۔ مثلاً۔ ایک شخص ہے۔ اس کو اس بات کا شرح صدر ہو گیا کہ علم پھیلانا چاہیے، بہت زیادہ۔ تو مدارس کا قیام کرتے ہیں، اور مدارس۔ میں کام کرتے ہیں۔ یقیناً وہ بھی بہت اہم کام ہے۔ اس طرح کسی کو شرح صدر ہو جائے کہ اس وقت۔ جہاد کی بڑی ضرورت ہے۔ تو ٹھیک ہے، پھر وہ اپنے شرح صدر کے مطابق کام کرتا ہے۔ کسی کو یہ ہوتا ہے کہ خانقاہوں کی بڑی ضرورت ہے۔ تو وہ پھر اس سلسلے میں کام کرتا ہے۔ اور کسی کو کسی اور دینی شعبے کے ساتھ بھی شرح صدر ہو سکتا ہے، سیاسی ہے، جماعت کا کام ہے، مختلف۔ تو وہ اسی میں لگے رہتے ہیں۔
البتہ۔ ایک ہوتا ہے اپنے بارے میں کسی چیز کا شرح صدر ہونا، یہ اور بات ہے۔ اور دوسرا اس کام کی اہمیت کا احساس ہو جانا، یہ اور بات ہے۔ تو جو صاحب رسوخ ہوتے ہیں، ان کو تو ساری چیزوں کا پتہ چل جاتا ہے بحیثیت مجموعی، کہ کام سارے کے سارے اہم ہیں۔ البتہ کسی ایک کام میں وہ اپنے بارے میں شرح صدر ہوتا ہے کہ مجھے اس میں کام کرنا چاہیے۔
جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ "میرا دل چاہتا ہے کہ مجھ سے تصوف کے علاوہ کسی اور چیز میں نہ پوچھا جائے۔" وجہ اس کی یہ بیان فرمائی کہ باقی چیزوں کے لیے، باقی علوم کے لیے، باقی کاموں کے لیے لوگ ہیں۔ تو وہ کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس کے لیے مناسب تعداد میں لوگ نہیں ہیں۔ تو اگرچہ حضرت دین کے اکثر شعبوں میں کام کر سکتے تھے، قرآن کا درس دے سکتے تھے، احادیث شریف پڑھا سکتے تھے۔ اور اس طریقے سے کسی سیاسی جماعت کو چلا سکتے تھے۔ بہرحال مواعظ اور یہ حکمت، یہ تمام کام حضرت کے ساتھ تھے، کتابیں بڑی لکھیں۔ تو یہ سارے کام حضرت کے لیے مشکل نہیں تھے، اور اللہ پاک نے ان سے ان چیزوں میں کام بھی لیا۔ لیکن خود ان کا شرح صدر یہ ہو گیا تھا کہ اس چیز کی بڑی ضرورت ہے۔ یعنی۔ خانقاہوں کے قیام کی اور تصوف کی تشریحات کی۔ کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے۔ تو حضرت نے اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کر دیا۔ یہ رسوخ کی بات ہے۔
اس طرح حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، ان کا شرح صدر ہو گیا اس پر کہ تبلیغی جماعت کا جو کام ہے، اس پہ کام چلنا چاہیے۔ اور لوگوں تک یہ بات پہنچانی چاہیے، کیونکہ بہت سارے لوگ ہیں جو دین کی بنیاد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ طلب ان میں نہیں ہے، تو ان میں طلب پیدا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ تو ہونا چاہیے۔ تو اس کے لیے ایک پورا نظام وضع فرما لیا۔
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شرح صدر تھا کہ وہ انگریز ملک سے نکل جائے، ساری خباثتوں کی جڑ یہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے ہر چیز، گویا کہ ایک قسم کی، اس سے آگے بڑھ کر اس چیز کو گلے لگایا۔ اور اس کے لیے بڑی صعوبتیں برداشت کیں، اور علماء میں اس کی فکر پیدا کر لی۔ اس طرح حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا اپنا شرح صدر تھا۔
تو یہ جو شرح صدر ہوتا ہے، یہ ظاہر ہے اپنا اپنا بھی ہو سکتا ہے اور مختلف کاموں کا ہو سکتا ہے۔ اس بات کے ساتھ کہ میں ایک کام کر سکتا ہوں، لیکن بہرحال باقی کام بھی ضروری ہیں۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر اخیر وقت میں جو بات کھل گئی تھی یا رسوخ ہو گیا تھا، وہ تصوف کے کام کی، دینی مدارس میں پھیلانے کی۔ جس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے سفر کیے۔ اعتکاف کے ذریعے سے خانقاہی معمولات کو فروغ دیا۔ اور اس سلسلے میں یہ حضرت ہی کی فکر تھی کہ یہ کام ہم تک پہنچ گیا۔ ورنہ اس کے لیے واقعی ایک بہت قدآور شخصیت کی ضرورت تھی، اس چیز کو آگے لانے کے لیے۔ اب دیکھیے، ان چیزوں کے باوجود بعض لوگوں کو اس کا شرح صدر نہیں ہوتا، اور وہ کہتے ہیں پتہ نہیں کیا چیز ہے، کچھ بھی نہیں۔ تو اگر حضرت نہ ہوتے تو پھر کیا حال ہوتا؟ ظاہر ہے، تو حضرت کو جتنا اللہ تعالیٰ نے بصیرت دی تھی اور تقویٰ دیا تھا، اور اور مشہوری دی تھی، شہرت دی تھی، وہ الحمد للہ اس کی برکت سے یہ کام آسان ہو گیا، اور ہم صرف حوالہ دیتے ہیں۔ تو یہ جو حوالہ ہے، ہمارے لئے کافی ہو جاتا ہے، ہم اگر کسی کو کہہ دیں کہ بھئی، کیا آپ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو صحیح مانتے ہیں؟ تو اگر وہ کہتے ہیں صحیح، ہاں بالکل مانتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضرت تو یہ فرماتے تھے۔ تو آسان ہو جاتا ہے سمجھانا۔
نسبت و مقام کی تعریف۔
فرمایا:
ایک غلبہ ذکر، کہ غفلت میں وقت کم گزرے۔ دوسرے دوام طاعت، کہ نافرمانی بالکل نہ ہو۔ اصل مامور بالتحصیل یہی دو چیزیں ہیں۔ اور اس کے لیے سب مجاہدات اور معالجات اختیار کیے جاتے ہیں، جن پر حسب سنت اللہ وہ مقصود مترتب ہو جاتا ہے۔ اولاً قدر تکلف ہوتا ہے، بعد چندے، جس کی مدت معین نہیں، استعداد پر ہے۔ مثل امر طبعی کے ہو جاتا ہے۔
گو احیاناً ضد کا تقاضا بھی ہوتا ہے، مگر ادنیٰ توجہ سے وہ ضد مغلوب ہو جاتی ہے۔ اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔ پس یہ فی نفسہ غیر اختیاری ہے، لیکن باعتبار اسباب کے اختیاری ہے۔ اور یہ رسوخ و ثبات اس حیثیت سے کہ غلبہ ذکر و دوام طاعت کا ملزوم ہے، نسبت کہلاتا ہے۔
یعنی حضرت حق سے ایسا تعلق قوی، جس پر غلبہ ذکر و دوام طاعت کا ترتب لازم ہو، اور اس نسبت مِنَ الْعَبْدِ پر ایک دوسری نسبت مِنَ الْحَقِّ موعود ہے، یعنی رضا و قرب۔ پس اہل طریق جب لفظ نسبت کا اطلاق کرتے، مراد ان سے ان دو نسبتوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ بلکہ ملکہ یادداشت، جس میں بہت سے غیر محقق دھوکے میں ہیں۔
یہ نسبت اور مقام کے الفاظ تصوف کے لٹریچر میں بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ ایک بہت بڑے عالم سے میں نے سنا، فرماتے تھے، مبتدی کے لئے اصطلاحات، جس کو انگریزی میں terminology کہتے ہیں۔ یہ سیڑھی ہے اوپر جانے کے لئے۔ لیکن منتہی کے لیے یہ عیب ہے۔ منتہی ان چیزوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ اپنی بات کو جن الفاظ میں بھی سمجھانا چاہے، تو سمجھا لیتے ہیں۔ ان کو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جب دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں ایک خاص قسم کی چیز کا غلبہ زیادہ ہو گیا، ان کو اس طریقے سے بات سمجھانے سے زیادہ فائدہ ہوگا، تو وہ اس طریقے سے بات سمجھا دیتے ہیں۔ لیکن بہرحال مبتدی کے لیے، ہم جیسے لوگوں کے لیے تو یہ terminology یہ بہت مفید ہوتی ہے۔
تو یہاں یہ دو الفاظ ہیں جو اصطلاحات ہیں۔ ایک لفظ نسبت ہے، مثلاً اگر ہم کہتے ہیں صاحب نسبت، تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ اور اگر مقام کی بات کوئی کرے تو اس سے ہمارا مطلب کیا ہوگا؟ حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں دو باتیں ہوتی ہیں، مقام میں۔ ایک ذکر کا غلبہ، کہ ہر وقت انسان ذکر کی حالت میں رہے، یعنی اس کو اللہ یاد رہے۔ زبان ہلانا یہ ذکر کی ایک صورت ہے، اور اس پر ثواب ملتا ہے۔ لیکن جو مقصود ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اللہ یاد رہے۔ اللہ یاد رہے، یہ اصل بنیاد ہے۔ اگر اللہ یاد نہ رہے اور زبان ہلتی رہے، تو یقیناً ثواب تو ملے گا، لیکن اس کا وہ فائدہ جو کہ حقیقی ذکر کا ہوتا ہے کہ انسان گناہوں سے بچ جائے۔
مثلاً میں ایک مثال دیتا ہوں، بہت عجیب مثال ہے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ ایک شخص ہے۔ اس کو غلبہ ذکر نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ذکر جس کو کہتے ہیں نا وہ حقیقی حاصل نہیں ہے، لیکن لفظی ذکر کرتا ہے۔ یعنی زبان پہ ذکر اس کا ہے۔ لوگ اس کو ذاکر سمجھیں گے، کیونکہ ظاہری جو صورت ہے وہ تو ذکر کی ہے۔ لوگ اس کو ذاکر سمجھیں گے۔ لیکن اگر اس کو حقیقی ذکر حاصل نہیں ہے ابھی، تو وہ کام کرتے وقت بھول جائے گا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے کام ہیں، یا ناراض کرنے والے کام ہیں۔
مثلاً وہ دکاندار ہے۔ اب وہ تسبیح بھی پرو رہا ہے اور ڈنڈی بھی مار رہا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ تول میں گڑبڑ کرتا ہے۔ مطلب جب لے رہا ہو تو اپنی طرف جھکا کے لیتا ہے، اور اگر دے رہا ہو تو، یہ مطلب ظاہر ہے، یہ معاملہ کرتا ہے تو صریح بددیانتی ہے۔ یا اپنے دفتر کے کام میں، دوسرے کاموں میں بددیانتی کرتا ہے۔ اس کو حقیقی ذکر حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اس کو حقیقی ذکر حاصل ہوتا تو یہ ہرگز نہ کرتا۔ کیونکہ جس کو پتہ ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے، وہ کیسے حکم عدولی کر سکتا ہے؟
اب شریعت کیا چیز ہے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے نا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو پھر مجھے اگر اللہ یاد رہا ہوگا، تو پھر میں وہ غلطی کیسے کروں گا؟ پھر اس کا اندر باہر ایک ہو جاتا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں صادق۔ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔ جن کا اندر باہر ایک ہو۔
تو یہ حقیقی ذکر جس کو بھی حاصل ہوتا ہے، ان کو تو یہ کیفیت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن جو ابتدائی ذکر ہے، صورتِ ذکر، اس کو آپ چھڑا نہیں سکتے کہ آپ کو حقیقی حاصل نہیں ہے، لہذا اس کو بھی چھوڑ دو۔ نہیں بھئی، وہ پہنچے گا تو اسی راستے سے ہی۔ حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے شعر میں۔ کہ تو اس پر نہ جا کہ اس وقت تجھے یہ چیز حاصل نہیں ہے۔ تو ریا کر رہا ہے۔ فرمایا کام کرتے رہو چاہے ریا کے ساتھ ہو۔ یہ ریا آہستہ آہستہ، یہ جو ریائی اعمال ہیں آہستہ آہستہ اس کی عادت ہو جائے گی۔ اور اگر آپ اس کوشش کو جاری رکھیں گے، ان شاء اللہ تو آہستہ آہستہ پھر یہ جو عادت ہے یہ عبادت ہو جائے گی۔ یعنی آپ کو وہ چیز حاصل ہو جائے گی جو اس کا اصل ہے۔
مجھے بہت ساری خواتین فون کرتی ہیں، کیونکہ اکثر خواتین کو میں مراقبہ بتاتا ہوں، مردوں کو تو مراقبہ بہت اخیر میں بتایا جاتا ہے۔ مجھے فون کرتی ہیں کہ میں تو بیٹھی رہتی ہوں مراقبہ کے لئے، لیکن مراقبہ ہو تو نہیں رہا ہوتا۔ نہیں ہو رہا ہوتا۔ تو میں اسے کہتا ہوں تمہارا کام اس کے لئے اتنی دیر بیٹھنا ہے۔ تم اس کی پرواہ نہ کرو کہ ہو رہا ہے نہیں ہو رہا۔ تم اپنی توجہ دل کی طرف رکھو، اور یہ نہ کہو کہ ہو رہا ہے نہیں ہو رہا، کیونکہ اگر یہ دیکھو گی کہ ہو رہا ہے نہیں ہو رہا، مطلب اس کی طرف دھیان ہوگا، تو پھر آپ کا دھیان تو ادھر ہوگا، تو آپ دل کی طرف تو نہیں ہوگا۔ پھر تو نہیں چلے گا۔ تو اس وجہ سے آپ توجہ رکھیں دل کی طرف بس۔ باقی ہو رہا ہے نہیں ہو رہا، یہ اس کی فکر آپ چھوڑ دیں۔
تو الحمدللہ عورتوں میں چونکہ ذرا یہ صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، تو دو تین مہینے میں چل پڑتی ہیں۔ کوئی ذرا زیادہ دیر بھی لگا لیتی ہیں، کچھ سات آٹھ مہینے لگا لیتی ہیں، اس میں چل پڑتی ہیں۔ کچھ ذرا سال بھر بھی لگا لیتی ہیں، اس وقت چل دیتی ہیں۔ لیکن بہرحال چل پڑتی ہیں، الحمدللہ۔ اب اگر ابتدا سے ان کو یہ بات نہ بتائی جائے کہ اس کی پرواہ نہ کرو، تو کیا وہ اس پوزیشن تک آ سکیں گی؟ چھوڑ دیں گی۔ اور بس وہ جب چھوڑ دیں گی تو بس رہ جائے گی چیز۔ کیونکہ یہ چیز انسان کے کنٹرول میں تو نہیں ہے، غیر اختیاری ہے۔ اب دل تو خود بخود چلے گا، آپ کے چلانے سے تو نہیں چلے گا۔ تم تو صرف observer ہو۔ تم تو صرف observer ہو۔ لیکن چل پڑتا ہے جب تمہاری توجہ ہوگی، تو آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چل پڑے گا۔ اب یہ ایک بہت delicate قسم کا نظام ہے۔ اس پہ مطلب ظاہر ہے اس کو adjust کرنا، یہ delicate قسم کا نظام ہے، لیکن بہرحال چیزیں چلتی تو اس طرح ہیں۔
تو اب یہ ہے کہ جو لوگ ذکر کر رہے ہیں لسانی، اور ان کو حقیقی ذکر حاصل نہیں ہے، تو ہم ان کی ہمت بندھاتے ہیں۔ کہ کرتے رہو، کرتے رہو، کرتے رہو، ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ ہمارے حضرات نے اس کے لئے کچھ جملے بھی بنائے ہوئے ہیں، تاکہ ذرا لوگوں کو، جیسے ہوتے ہیں نا، مطلب مختلف قسم کی کمپنیوں کے بھی اپنے slogans ہوتے ہیں، جس سے وہ کام لیتے ہیں۔ کہ ہمارا slogan یہ ہے۔ mission یہ ہے، vision یہ ہے، اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ تو ہمارے حضرات فرماتے ہیں "لگے رہو، لگے رہو، لگ جائے گی"۔ مطلب یہ ہے کہ تمھاری کوشش مسلسل جاری رہے گی تو یہ چیز ہو جائے گی۔ اس طرح نہیں، ایک دن میں نہیں ہوتا۔ ایک دن میں نہیں ہوتا۔
مجھ سے اکثر بعض لوگ بیعت ہو جاتے ہیں، ایک ہفتے کے بعد فون کرتے ہیں۔ کہ وہ تو، میں نماز پڑھتا ہوں، بہت سارے خیالات نماز میں آتے ہیں اور یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے معلوم ہے، آتے ہیں اس طرح۔ تو کہتے ہیں پھر یہ ختم کیسے ہوں گے؟ میں نے کہا TB کے علاج کا اگر پتہ چل جائے، اور آپ نے علاج شروع کر لیا، تو اگلے ہفتے پوچھو نا ڈاکٹر سے کہ یہ کیوں ٹھیک نہیں ہوتا وہ کیا کہیں گے؟ وہ کہیں گے کہ بھئی علاج جاری رکھو، ٹھیک ہو جائے گا۔ اپنے وقت پہ ٹھیک ہو جائے گا، اس طرح تو نہیں کہ مطلب بس آپ نے علاج شروع کر لیا اور فوراً ٹھیک ہو گیا۔ یہ معاملہ تقریباً تقریباً، جو دینی کام ہے اس کے ساتھ یہ معاملہ بہت زیادہ ہے، اور شیطان اس میں role play کرتا ہے، تعجیل مچاتا ہے، آدمی کے دل میں تعجیل ڈالتا ہے، جلدی مچاتا ہے۔ تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اکثر لوگ، وہ بڑے حیران ہو جاتے ہیں کہ بھئی، میں نے تو یہ کام شروع کر لیا، ابھی تک ہوا ہی نہیں۔
تو صاف بات عرض کرتا ہوں، دین کی ساری باتیں بالکل واضح ہیں، کھلی ہوئی ہیں۔ لیکن ہر چیز کو حاصل کرنے کے لئے کچھ وقت چاہیے ہوتا ہے، مثال کے طور پر خوش خط لکھنا، مجھے آپ بتائیں، خوش خط لکھنا کیا معلوم نہیں ہے کسی کو؟ آپ ان کے سامنے رکھ لیں نا یہ خوش خط چیز، اور بچے سے کہہ دے اس طرح لکھو، لکھ لے گا؟ ظاہر ہے وہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑے گا، اس کو طریقہ سکھائے گا، آہستہ آہستہ کچھ اصول و فنون سکھائیں گے مشق کرے گا، پتہ نہیں کتنے عرصے میں وہ خطاط بنے گا۔ وہ اس کے اوپر منحصر ہے۔
تو مطلب یہ کسی چیز کا جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ چیز حاصل بھی جلدی اس طرح ہو جائے۔ لیکن طریقہ تو یہی ہوتا ہے۔ طریقہ تو یہی ہوتا ہے ہاں طریقے پہ چلتے رہو، اگر نہ بھی پہنچ سکے اور موت آ گئی، تو ان شاء اللہ ان میں اٹھائے جاؤ گے جو ان شاء اللہ وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ لیکن تم اپنی کوشش تو کرو نا، دنیا کے لئے تو کوشش کرتے ہو، اس کے لئے کوشش کیوں نہیں کرتے ہو؟ کوشش تو کم از کم کرو نا، کوشش کرنا تمہارا کام ہے، مدد کرنا اللہ کا کام ہے۔ یہ تو نہیں کہ بس آپ نے شروع کر لیا اور آپ سمجھے کہ بس ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ اس لئے جو موانع ہیں۔ موانع، جو تصوف کے موانع ہیں، طریقت کے، ان میں ایک تعجیل بھی ہے، جلدی مچانا۔ کیونکہ جلدی مچانے سے انسان شیخ پر بدگمان ہو جاتا ہے کہ میری طرف توجہ نہیں کر رہے۔ پھر آہستہ آہستہ سلسلے پہ بدگمان ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ معاملہ آگے تک چلا جاتا ہے، اللہ بچائے، بس پھر اس کا زبان پر نام بھی لانا مناسب نہیں ہے۔ تو یہ معاملہ اتنا دور تک چلا جاتا ہے۔ لہذا آدمی تعجیل نہ مچائے، رابطے میں رہے۔
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
مطلب انسان رہے، کوشش جاری رکھے، ایک نہ ایک دن ان شاء اللہ اپنی منزل پہ پہنچ ہی جائے گا۔ بہرحال بات لمبی ہو گئی، لیکن اس کی بنیاد ضروری تھی، کیونکہ اس میں حضرت نے ایک بات فرمائی ہے اس کے سمجھانے کے لیے۔ وہ یہ ہے کہ غلبہ ذکر، کہ غفلت میں وقت کم گزرے۔ اور دوسرا ہمیشہ کی طاعت، کہ انسان سے نافرمانی نہ ہو۔ یہ چیزیں طریقت سے چاہیے کہ ہم طریقت کے ذریعے سے ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بنیاد یہ ہے۔
باقی یہ جو مجاہدات ہیں یا معالجات ہیں، یہ سب اسی کے لیے ہیں۔ اس میں اجتہادی چیزیں بہت ہیں۔ یہ اجتہادی نہیں ہیں، جو دو چیزیں میں نے بتائیں، یہ اجتہادی نہیں ہیں، یہ منصوص ہیں۔ یہ منصوص ہیں، یہ targets ہیں، یہ ہمیں دی گئی ہیں کہ یہ کرنا ہے۔ لیکن اس کو حاصل کیسے کرنا ہے، یہ اجتہادی ہے۔
مثال کے طور پر نقشبندی سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ چشتی سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ قادری سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ سہروردی سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ طریقے سارے جدا جدا ہیں، لیکن حاصل کرنی کی یہی چیز ہے۔ وہ چاہے مجاہدات بتائے یا وہ ذکر بتائے، اپنے اپنے طریقے سے، وہ اپنے اپنے طریقے سے منزل تک پہنچا دیں گے۔ لیکن پہنچانا منزل یہی ہے، مقام جس کو ہم کہتے ہیں، یہ منزل ہے۔ اس تک پہنچنا ہے، تو مقام کیا چیز ہے، اس میں یہ ہے کہ دو چیزیں حاصل کرنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ غفلت نہ ہو اور دوسرا یہ کہ نافرمانی نہ ہو، اور یہ دونوں آپس میں لازم ملزوم بھی ہیں، جب غفلت نہیں ہوگی تو نافرمانی بھی نہیں ہوگی۔ باقی یہ ہے کہ حسب سنت اللہ جو مقصود ہے ان تمام مجاہدات اور معالجات پر مرتب ہو جاتا ہے، یہ دو چیزیں؛ ہر وقت اللہ آپ کو یاد رہے اور نافرمانی بالکل نہ ہو۔ یہ اگرچہ target ہے، لیکن یہ جو چیز ہے، مطلب ان چیزوں کے ذریعے سے اس کیفیت کو حاصل کرنا، یہ انسان کے لیے چونکہ امرِ طبعی ہے، غیر اختیاری ہے۔ لیکن بہرحال یہ اس پر اگر انسان جاری رکھے کام، تو ما شاء اللہ یہ چیز حاصل ہو جاتی ہے۔
فرمایا پھر استعداد کا فرق ہوتا ہے، کہ کوئی ذرا جلدی پہنچ جاتا ہے، کوئی ذرا لیٹ پہنچ جاتا ہے، لیکن بہرحال پہنچ جاتا ہے۔
اب جو پہنچ گیا، تو کیا وہ بالکل کبھی بھی اس سے، مطلب یعنی اس قسم کی غلطی پھر نہیں ہوگی؟ فرمایا: ممکن ہے۔ کہ وہ کیفیت حاصل ہونے کے بعد بھی، کبھی بدپرہیزی کی وجہ سے، ماحول کی وجہ سے، کوئی غلطی ہو جائے، لیکن وہ غلطی میں ایسے اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر نظام بنایا ہوگا کہ فوراً اس کو پتہ بھی چلے گا، اس کو ظلمت کا ادراک بھی ہوگا، اور فوراً اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنی capability بھی دی ہوگی کہ فوراً وہ اس کو کنٹرول بھی کر لے گا۔ اس کو آگے بڑھنے نہیں دے گا۔
یعنی گویا کہ کہہ سکتے ہیں، مطلب جس کو ہم کہہ سکتے ہیں نا کہ جیسے مختلف سسٹمز ہیں، ان سسٹمز کے اندر وہ جب قسم کی کوئی مطلب جیسے refrigerator ہے۔ اب refrigerator میں thermostat لگا ہوتا ہے۔ اب thermostat، آپ نے گرم چیزیں رکھ لیں تو refrigerator cabinet گرم ہو گیا۔ اب گرم ہونے کے ساتھ ہی thermostat نے اس کو بتا دیا کہ یہ تو اتنا گرم ہو گیا۔ جب اتنا گرم ہو گیا، thermostat ہی اس کو control کر لیتا ہے، اور وہ fridge چلنے لگتا ہے۔ اس وقت تک چلتا رہے گا، چلتا رہے گا، کہ پھر دوبارہ اپنی حالت پہ آ نہ جائے۔ پھر رک جائے گا، کیونکہ بجلی بلاوجہ خرچ نہیں کرنی ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈک بھی پیدا نہیں کرنی۔ اچھا پھر اس کے بعد اگر پھر کوئی چیز آ گئی، او پھر دوبارہ چلنا شروع ہو جائے گا۔
تو یہ خود بخود یہ system انسان کے دل کے اندر بھی آ جائے گا کہ ظلمت کا ادراک ہو گا۔ جس وقت انسان ایک صفائی اور ستھرائی حاصل کر لیتا ہے، تو اس کی جو قلبی آنکھ ہے، وہ اس کو observe کر رہی ہوتی ہے۔ اگر وہ اس کے level سے کم ہو جائے، تو فوراً اس کے اوپر گھبراہٹ طاری ہو جاتی ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔ اور اس وقت تک وہ استغفار کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے، جب تک اس پہلے والی حالت ہے، اس کے اوپر آ نہ جائے۔ مزید مجاہدات اور ریاضتوں سے وہ چیز مزید improve ہو سکتی ہے۔ یعنی وہ جو level ہے جہاں پر آنا ہے، وہ اصل میں reset ہوتا رہتا ہے کہ آپ زیادہ بہتر، پھر زیادہ بہتر، پھر زیادہ بہتر، پھر زیادہ بہتر، اس کے اوپر جاتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات ہے کہ جب کبھی کوئی اس قسم کی غلطی ہو جائے، تو فوراً اس کے اندر ایک نظام جو لگا ہوتا ہے وہ چل پڑتا ہے۔
ہمارے حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر ہے اس سلسلے میں۔
بر دلِ سالک ہزارا غم بود
گر ز باغ دل خلالی کم بود
کہ جو سالک ہوتا ہے، اس کے دل پر ہزاروں غم ٹوٹ پڑتے ہیں اگر اس کے دل کے باغ سے ذرا ایک تنکا بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو رخ پہ لاتی ہے، صحیح رخ پر لاتی ہے، اور شیطان اس کے اوپر attempts کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ attempts کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ جیسے جیسے وہ attempt کرتا ہے، وہ ماشاءاللہ اس کو اللہ تعالیٰ جو نے جو قلبی بصیرت دی ہوتی ہے، اس کے مطابق علاج بھی کر رہا ہوتا ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دفعہ شیطان نے تہجد کی نماز قضا کروائی۔ اگلے دن حضرت اتنا روئے، اتنا روئے، اتنا روئے، کہ مجھ سے تہجد کی نماز قضا ہو گئی۔ تو دوسرے دن کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی صاحب نے انگوٹھا ان کا ہلایا، اور ان کو جگا دیا، انہوں نے کہا، تہجد پڑھ لو۔ انہوں نے کہا، جی آپ کون مہربان تشریف لائے کہ آپ نے مجھے جگا دیا، ہم نے بڑا اچھا کیا، انہوں نے کہا، بس اب جاگ گئے، بس ٹھیک ہے نا، کافی اور کیا باتیں کرتے ہو، بس جاؤ نماز پڑھو۔ انہوں نے فوراً پکڑ لیا، کہتے ہیں، جانے نہیں دینا جب تک بتاؤ گے نہیں کہ تو کون ہے۔ اخیر میں جب مجبور ہو گیا تو اس نے کہا: میں شیطان ہوں۔ تو انہوں نے کہا، تو نے کب سے یہ کام شروع کر لیا۔ تہجد کے لیے جگانا کب سے شروع کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ تو آج اتنا رویا کہ اس سے زیادہ اجر تجھے مل گیا۔ تو مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوا، تو میں نے کہا، چلو جی یہ تہجد کا اجر تو لے لو، لیکن کم از کم دوبارہ وہ اجر تو نہ لو نا، جتنا زیادہ اجر ہے اس کی وجہ سے۔ اب دیکھ لو correction factor۔ واقعتاً جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ بعض دفعہ موہوم غلطیوں پر اتنا روتے ہیں کہ ہم لوگ حقیقی غلطیوں پر اتنا نہیں روتے۔ ان کو صرف وہم ہو چکا ہوتا ہے کہ میرا کام خراب ہو گیا۔ حالانکہ اس کی اجازت ہوتی ہے شرعاً۔ لیکن ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ تو یہ تو ایسا ہو گیا، اور چونکہ اپنے اوپر ہمیشہ بدگمانی ہوتی ہے۔ تو ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ تو غلط ہو گیا۔ تو اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جو ابرار کی جو سيئات ہیں، وہ عوام کی وہ حسنات ہیں۔ اصل میں ہم لوگ جس چیز پر شکر کرتے ہیں کہ یا اللہ تو نے اس عمل کی توفیق عطا فرمائی، وہ بزرگ اللہ والے، اس پر روتے رہتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا۔ ان کا معیار اونچا ہوتا ہے۔ اور واقعتاً دنیا میں ہم اس کو دیکھتے ہیں۔ دنیا میں ہمارے معیار بڑے اونچے اونچے ہوتے ہیں۔ اور اس وجہ سے ذرا برابر بھی تھوڑا سا فرق پڑ جائے نا، تو پھر روتے ہیں۔ دین والا معیار ذرا سمجھ میں نہیں آتا۔
ہمارے حضرت کے پاس دو آدمی آئے، تاجر تھے۔ تو ایک تاجر نے کہا کہ حضرت، میرے لیے دعا فرمائیں، نقصان ہو گیا تجارت میں۔ تو حضرت نے فوراً دعا کی، حضرت ہوتے تھے، دعا کر لیتے تھے۔ تو دوسرا تاجر مسکرایا، تو انہوں نے کہا، بھئی کیا بات ہے؟ کہتے ہیں ان سے پوچھو کیا نقصان ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کیا نقصان ہوا ہے؟ انہوں نے کہا 18 ہزار روپے کے نفع کی امید تھی، تو 12 ہزار روپے نفع ہوا ہے۔ تو ظاہر ہے ان کا تو نقصان یہ ہوا ہے۔ تو ایسا ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہوتا ہے۔ کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے معیار بڑے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ذرا بھر کچھ ہمارے اس میں کمی آ جائے، تو ہم تو روتے رہتے ہیں کہ بھئی، یہ کیا ہو گیا اور یہ کیا ہو گیا۔ دوسری رکعت خدا کے بندے، آپ کے پاس جو اتنا کچھ ہے، اس کی طرف کیوں نہیں دیکھتے ہو؟ لیکن یہ بات سمجھ میں آ جائے تو پھر تو بات ہی بن جائے نا۔ اس طرح کیسے سمجھ میں آئے گا؟ تو یہ چیز جو ہے، لیکن دین کے معاملے میں اوہو۔
کہتے ہیں کسی نے کسی شرابی سے پوچھا کہ شراب کتنے پیتے ہو؟ کہتے ہیں کبھی صبح پیتا ہوں تو پھر کبھی شام میں پیتا ہوں۔ اچھا انہوں نے کہا، نماز بھی پڑھتے ہو؟ کہتے ہیں عیدین بعیدین، عیدین بعیدین، عیدین بعیدین۔ یعنی ہر عید کو نماز پڑھتا ہوں۔ مقصد یہ ہے کہ، اب ظاہر ہے، نماز کے لیے ان کے پاس وہ یہی تھا کہ ہر عید، ہر سال میں ایک دفعہ نماز پڑھنا، اس کے لیے بہت بڑی بات تھی۔ اور شراب چونکہ اس کے لیے ہوتی ہے desire، تو اس وجہ سے اس کے لیے صبح سے لے کر شام تک انتظار یہ بھی بھاری تھا۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو دنیا کی چیز ہے، وہ تو ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ دین کی بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی۔
تو یہ بات میں عرض کر رہا تھا کہ اپنی اپنی استعداد پر ہے۔ پھر اس کے بعد اگر کوئی گڑبڑ ہو جائے تو فورا اس کو کنٹرول بھی کر لیتا ہے۔ اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔
اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔ پس یہ فی نفسہ غیر اختیاری ہے، لیکن باعتبار اسباب کے اختیاری ہے۔ اور یہ رسوخ و ثبات اس حیثیت سے کہ غلبہ ذکر و دوام طاعت کا ملزوم ہے، نسبت کہلاتا ہے۔۔
اصل میں اب جیسے میں دل کو بیدار کروں ذکر کے ساتھ، یہ غیر اختیاری ہے۔ لیکن جو طریقہ بتایا جاتا ہے وہ اختیاری ہے۔ اور اس طریقے پر چلتے چلتے چلتے چلتے اللہ فضل فرما لیتے ہیں، ہو جاتا ہے۔ ہو جاتا ہے۔ ہے تو ذرا تھوڑا سا بڑی عجیب بات لیکن سمجھانے کے لیے بعض دفعہ بات کرنی پڑتی ہے۔ شادی کرنا اختیاری ہے، لیکن اولاد ہونا غیر اختیاری ہے۔ لیکن ہو گی ان کی جن کی شادی ہو چکی ہو گی۔ بات ہے نا؟ تو مطلب ہم انسان اپنے اختیار کے مکلف ہیں نا۔ باقی تو اس کا وہ جو ہے نا غیر اختیاری ہے۔ اس وجہ سے پھر انسان تو اس میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن بہرحال۔ تو اس وجہ سے شادی کرتے ہیں، جب دو تین سال کوئی بچہ نہیں ہوتا تو پھر لوگوں سے دعائیں کرواتے ہیں۔ پتا چل جاتا ہے بھئی میرے بس میں نہیں ہے۔ میں کوشش تو کر سکتا ہوں لیکن بہرحال یہ ہے کہ میرے بس میں تو نہیں ہے۔ تو پھر دعائیں، تو دعائیں کروانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو مان لیا کہ یہ اللہ کے اختیار میں ہے، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ تو اسی طریقے سے اس کے جو اسباب ہیں وہ اختیاری ہیں۔ لیکن جو اصل چیز ہے وہ غیر اختیاری ہے۔ یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ جنت میں کوئی بھی اپنے عمل سے نہیں جائے گا، اللہ کے فضل سے جائے گا۔ اب اگر کوئی یہ حدیث شریف یاد کر لے اور کہے بس جب عمل سے نہیں جائے گا، اللہ کے فضل سے جائے گا، تو پھر میں عمل کیوں کروں؟ بس جس نے یہ خیال کر لیا تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے اپنا فیصلہ کر لیا کہ میں نے جنت نہیں جانا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ میں نے جنت میں نہیں جانا، کیوں؟ یہ پورا قرآن جو آیا ہے وہ کس لیے آیا ہے؟ یہ کر لو، یہ کر لو، یہ کر لو، یہ کر لو۔ پھر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ہے وہ کس لیے ہے؟ مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات تو تجھے یاد ہے، یہ باقی باتیں یاد نہیں ہیں؟ وہ بھی تو ہے نا۔ وہ تو اللہ پاک نے جو حکم دیا۔ تو ہم اعمال کے مکلف ہیں، ہم اعمال کریں گے۔ باقی اللہ پاک سے امید رکھنا چاہیے کہ اللہ فضل فرما دے گا ان شاء اللہ ضرور، اللہ پاک فضل فرما دے گا، اللہ پاک سے ہماری بڑی امیدیں ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم ماننے میں تو ہم سستی نہ کریں نا۔ اللہ کا حکم ماننے میں ہم سستی نہ کریں۔ اس چیز کو توڑنے کے لیے، حضرات فرماتے ہیں تاکہ یہ چیز انسان کو نقصان نہ پہنچائے، وہ یہ ذہن میں بٹھانا ہے کہ جو عبادت ہے یہ اللہ کا حق ہے۔ چونکہ اللہ ہمارے مالک ہیں، اللہ ہمارے خالق ہیں، اللہ ہمارے محبوبِ حقیقی ہیں، لہذا ان تمام چیزوں کے لحاظ سے اس کا حق ہے کہ ہمیں جو حکم دے ہم اس کو پورا کر لیں چاہے اس پر ہمیں کچھ بھی نہ ملے۔ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ ہو سکتا ہے؟ اب اللہ تعالی نے ہمارے اوپر جتنے احسانات کیے ہوئے ہیں کہ ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تو ہماری پیدائش سے پہلے ہمارے سارے بندوبست کیے ہوئے تھے کہ اس کو یہ بھی دیں، اس کو یہ بھی دیں، اس کو یہ سارا کچھ۔ ماں کے پیٹ سے ہمیں بہت ساری چیزیں آ گئیں۔ ماں کے پیٹ کے اندر بھی خوراک، پھر پیدا ہوئے تو کچھ بھی نہیں تو ماں کے ساتھ ہی خوراک پیدا کر لی۔ اور اس طرح پھر مطلب یہ ہے کہ چلنا، پھرنا، ساری چیزیں، حفاظتیں، یہ اللہ پاک نے ہماری۔۔۔ تو اس لحاظ سے اللہ کا حق ہے کہ ہم اللہ پاک کی عبادت کریں۔ یہ نہیں کہ ہمیں اس پر کچھ ملے گا تو پھر ہم عبادت کریں گے۔ تو اس وجہ سے اپنی سائیڈ سے انسان یہ کہے کہ میں محتاج تو ہوں، مانگوں گا اللہ تعالیٰ سے، لیکن اللہ پاک کا یہ حق ہے کہ میں اس کی عبادت کروں۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اللہ پاک یہ دے گا تو عبادت کروں گا۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ تم جنت کے ساتھ اس کا سودا کر لو۔ لیکن جو عالی ظرف ہوتے ہیں نا، جو عالی ظرف ہوتے ہیں وہ اس طرف نہیں دیکھتے، وہ کہتے ہیں اللہ کا تو حق ہے۔ اللہ کا تو حق ہے۔ ہم کس منہ سے کہیں گے کہ میں اس کا حق دار ہوں؟ ہاں البتہ آپ دیکھیں نا میں آپ کو بتاؤں ایک شریف آدمی کے اوپر اگر آپ اعتماد کرتے ہیں دنیا میں بھی تو کیا خیال ہے اس اعتماد کا جواب کیا دیتا ہے وہ؟ ہم جو جب کسی گاؤں میں ہوتے ہیں تو خان یا چوہدری جو ہوتے ہیں ان کو کہتے ہیں جی بس آپ ہمارے مائی باپ ہیں۔ آپ جو فیصلہ کریں گے، ہمیں منظور ہے۔ تو پھر وہ کیا کرتے ہیں؟ تو جو شریف ہوتا ہے اس کے اوپر اعتماد کیا جائے تو وہ اس کو پورا کرتا ہے۔ تو اسی طریقے سے ہم اللہ پر جب چھوڑتے ہیں، تو اللہ پاک نے تو سارے شریفوں کو پیدا کیا ہوا ہے۔ اللہ نے تو سارے شریفوں کو پیدا کیا ہے تو اللہ پاک کیسا فیصلہ ہوگا۔ تو جس وقت آپ اللہ پہ چھوڑ دیں کہ میرا کوئی حق نہیں ہے، میں تو اس لیے کروں گا کہ یہ تیرا حق ہے۔ تو پھر اللہ پاک پھر اس سے بڑھ کے فیصلہ کرے گا۔ کہ اچھا تیرے کھوٹے بھی منظور ہیں۔ پھر یہ فیصلہ ہو جائے گا۔ تو یہ اصل میں بنیادی چیز ہے کہ انسان کو اللہ کے ساتھ قلبی محبت والا تعلق اپنانا چاہیے۔ سب سے شارٹ روٹ، روٹ یہی ہے جس میں شیطان کو دخل نہیں ملتا۔ شیطان کو راستہ نہیں ملتا۔ کیونکہ شیطان جو خود مارا گیا تھا وہ اسی وجہ سے مارا گیا تھا۔ شیطان کو علماء کرام فرماتے ہیں کہ تین "عین" شیطان کے پاس تھے چوتھا نہیں تھا، مارا گیا۔ یہ تھا کہ عالم بھی تھے، عابد بھی تھے، عارف بھی تھے۔ لیکن عاشق نہیں تھا۔ عاشق نہ ہونے کی وجہ سے اس نے calculation کی۔ اپنی عبادت کو دیکھا۔ اپنی معرفت کو دیکھا۔ اپنے علم کو دیکھا۔ اس کو دیکھا، اگر عاشق ہوتے تو ان کو نہ دیکھتے۔ ہوتے لیکن دیکھتے نہ۔ حکم اللہ کا دیکھتے کہ اللہ کا حکم کیا ہے۔ اللہ کا حکم اگر ہے سجدہ کرو، میں درمیان میں کہاں سے آ گیا کہ میں سوچوں کہ کیوں کروں، کیوں نہ کروں۔ بس ٹھیک ہے عاشق کا جو حکم ہوتا ہے، وہ سر آنکھوں پہ ہوتا ہے اس میں درمیان میں کوئی اور calculation نہیں ہوتی۔ لہذا جب انسان اللہ کے ساتھ calculate کر رہا ہے تو وہ شیطان کے راستے پہ چل پڑا۔ خطرے میں ہیں آپ ، آپ خطرے میں ہیں۔ لہذا ہمارے حضرات فرماتے ہیں کہ اس میں یہ طریقہ اپناؤ کہ اللہ پہ چھوڑو، اللہ کے ساتھ حساب نہ کرو۔ اللہ کے ساتھ حساب کرو گے تو اگر اس نے تیرے ساتھ حساب کر لیا تو مارے جاؤ گے۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ جس کے ساتھ حساب کیا گیا بس وہ فیل ہو گیا۔ اللہ پاک اپنے فضل سے بہت کچھ چھوڑ سکتا ہے، اچھا ٹھیک ہے یہ بھی چھوڑ دو، چھوڑو چھوڑو چھوڑو، اس کو، اس کو بھی۔ اسی پہ فیصلہ ہو گا۔ فیصلہ یہی ہو گا۔ اگر بچت ہو گی تو اسی طریقے پہ ہو گی۔ اور اگر فیصلہ اس پر ہو گیا نا حساب کتاب پر، اوہو، پھر مارا گیا۔ پھر کہاں؟ پھر کہاں؟ پھر تو معاملہ بہت خطرناک ہو گیا۔ ہمارے حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ ان کے اشعار ہیں۔ عدل کراں تاں تھر تھر کانپے اونچے شاناں والا ھُو رحم کراں تاں بخشا جاواں مجھ جیسا منہ کالا ھُو مطلب یہ ہے کہ عدل کرے گا اللہ پاک تو پھر تو ہم مارے جائیں گے۔ عدل کے مقابلے میں کون آ سکتا ہے؟ کیونکہ اس کا علم اتنا زیادہ ہے کہ جس چیز کو ہم نہیں جانتے وہ جانتا ہے اس کو۔ لہذا اس کے ساتھ معاملہ صاف رکھنا چاہیے اور وہ صاف یہی کہ میرا کچھ بھی نہیں۔ ایک دفعہ ایک بزرگ تھے، اس نے خواب دیکھا۔ خواب بھی شاید ان کی کسی کیفیت کی درستگی کے لیے خواب اس طرح آ گیا۔ تربیت کا حصہ تھا۔ خواب دیکھا کہ اللہ پاک کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور پوچھتے ہیں اللہ پاک اس سے۔ کیا تو عالم ہے؟ اب ظاہر ہے اس نے علم تو دنیا میں حاصل کیا تھا۔ تو اس نے کہا جی میں عالم ہوں۔ تو انہوں نے کہا پھر جلالین میں امتحان دو۔ اب گھبرا گیا کہ اللہ پاک امتحان لے رہے ہیں، میں کیسے امتحان دوں گا، اللہ کے امتحان کا تو کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ پتا نہیں کہاں سے پکڑ لے۔ بہت گھبرا گئے، ادھر ادھر دیکھا ڈر کے مارے، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دور تشریف فرما ہیں۔ تو اس طرح رینگتے رینگتے پہنچ گئے۔ کہ یا رسول اللہ میرے لیے کچھ بندوبست فرمائیں اللہ امتحان میرا لے رہے ہیں میں کیا کروں۔ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح چپکے سے فرمایا کہہ دو میں عالم نہیں ہوں۔ کہہ دو کہ میں عالم نہیں ہوں۔ تو اس پر جب اس نے کہہ دیا کہ میں تو عالم نہیں ہوں، انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے جی چلو ایک دن کی قید بس معافی ہے۔ اب دیکھ لیں مطلب یہ ہے کہ عالم نہیں ہوں۔ مطلب چھوٹنا اس پر ہے۔ جب انسان کہہ دے گا کہ میں یہ ہوں پھر پھر تو پکڑا گیا۔ پھر کدھر ہے؟ اگر کوئی کہتا ہے کہ میں نیک ہوں بس پھنس گیا۔ پھر کیا جواب دے گا؟ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہے خواب میں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا کہ بس اللہ پاک نے مجھ سے پوچھا میرے لیے کیا لائے ہو؟ تو میں نے کہا کہ الحمدللہ مسلمان تو تھا توحید تو حاصل تھی تو کہتے میں نے کہا یا اللہ میں توحید لایا ہوں۔ فرمایا وہ دودھ والی رات بھول گئے؟ دودھ والی رات اس طرح ہوا تھا کہ وہ رات کو دودھ پی لیا تھا پیٹ میں درد ہو گیا۔ صبح کسی سے کہا کہ بس رات کو دودھ پی لیا تھا اس سے پیٹ میں درد ہو گیا۔ بس اسی پہ پکڑ لیا کہ دودھ نے درد کرا دیا میں نے کرا دیا تھا۔ اچھا اب حساب کر لے تو حساب کا کون جواب دے سکتا ہے؟ تو اس وجہ سے یہ والا معاملہ تو بس معافی پر ہی معاملہ کھلے گا بس اسی سے معاملہ ٹھیک ہو گا۔ لہذا اللہ کے ساتھ کبھی حساب کرنے کا تصور نہ کرو۔ کبھی بھی حساب نہ کرو بس اللہ کے سامنے surrender ہے۔ unconditional surrender before Allah. کوئی درمیان میں شرط وغیرہ نہ ہو۔ یہ ہو تو یہ ہو اور یہ ہو تو یہ ہو۔ بھئی کیا ہو ہمارا ہے کیا؟ ہمارا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر اللہ پاک معاف کر دے تو معاف کرنے والا معاف کر لے گا وہ تو اس کے پاس تو بہت کچھ ہے۔ مطلب اس سے کون پوچھ سکتا ہے؟ لیکن اگر معاف نہ کرے حساب کر لے پھر معاملہ خطرناک ہے، اللہ بچائے۔
ملکہ یادداشت
مثلا میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرا دل حرکت کر رہا ہے یہ ملکہ یادداشت ہے۔ تو فرمایا یہ مطلوب نہیں ہے۔ یہ بھی ایک راستہ ہے ذریعہ ہے۔ یہ بھی راستہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں زبان ہلا رہا ہوں تو اس کے بعد میں دل ہلا رہا ہوں۔ تو اصل چیز تو مجھے اللہ کا یاد آنا ہے کہ مجھے اللہ یاد ہے یا نہیں؟ اب اللہ کے یاد ہونے کا مطلب کیا ہے کہ میں جو عمل کر رہا ہوں میں اس کی مرضی کے مطابق کر رہا ہوں یا اپنی مرضی کے مطابق کر رہا ہوں؟ اگر مجھے اللہ یاد ہو گا تو میں اللہ کی مرضی کے مطابق کام کروں گا۔ یہ سب راستے ہیں۔ ٹھیک ہے؟
مراقبہ برائے دفع وساوس
فرمایا:
اپنی تمام طاعات صلاۃ و تلاوت و اذکار بلکہ افعال مباحہ میں بھی اس کا تصور رکھے کہ سب عنقریب اللہ تعالی کے اجلاس میں پیش ہوں گے تو ان میں کوئی ایسا اختیاری خلل نہ ہو جس سے پیشی کے قابل نہ رہیں۔
یہ ہماری کوشش ہو گی۔ کوشش ہماری کیا ہو گی؟ کہ کوئی کمی نہ رہے۔ اختیاری طور پر تو یہ ہے۔ باقی نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ تو اللہ کو پتا ہے۔ اختیاری طور پر تو یہ ہے، باقی نتیجہ کیا ہو گا، یہ تو اللہ کو پتا ہے۔ تو جو نتیجہ ہے اس پہ ہم اپنے آپ کو اس کا اہل نہ سمجھیں۔ بلکہ اس کو من جانب اللہ سمجھیں اللہ کی توفیق سمجھیں۔ اللہ پاک نے مجھے توفیق عطا فرمائی اس عمل کے کرنے کی۔ اور اسی وجہ سے اللہ تعالی کے فضل سے عمل ہو گیا۔ ورنہ میرے ساتھ جو نفسانی مسائل تھے وہ تو مجھے تو پتا نہیں لے بیٹھتے۔
مجاہدہ اضطراریہ کا نفع و ادب۔
فرمایا:
جس طرح وضو کا بدل تیمم ہے اور اجر میں اس سے کم نہیں اسی طرح مجاہدہ اختیاریہ یعنی اعمال و اوراد کا بدل مجاہدہ اضطراریہ یعنی تشویشات و بلیات ہیں اور اجر میں ان کے برابر بلکہ منافع میں ان سے اقوی ہیں۔ ان کو نعمت سمجھ کر اطمینان سے کام میں بقدر وسعت مشغول رہنا چاہیے۔ البتہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ مبدل براحت و جمعیت ہو کہ دعا مسنون ہے۔ غرض یہ کہ جب تک وہ تشویشات و بلیات باقی رہیں تفویض تو فرض ہے اور دعا مسنون ہے۔ جب وہ زائل ہو جائیں تو شکر واجب ہے اور دونوں حالتوں میں بقدر وسعت مشغول رہنا ادبِ طریق ہے۔
مجاہدہ اضطراریہ: مجاہدہ اس کو کہتے ہیں کہ جب انسان کوئی عمل کر لے اور اس میں رکاوٹ ہو مزاحمت ہو اس مزاحمت پہ قابو پایا جائے اس قابو پانے کی جو کیفیت ہے اس کو مجاہدہ کہتے ہیں۔ مثلا میں ایک چیز کو اٹھا رہا ہوں۔ اور وہ نیچے آ رہی ہے اور میں اس کو اٹھا رہا ہوں۔ تو یہ جو اس وقت جو میری کیفیت ہے ہاتھ پاؤں کی، یہ مجاہدہ ہے اس کا۔ کیونکہ یہی چیز اس کو اٹھا رہی ہے۔ اسی طرح میں نماز کے لیے اٹھ رہا ہوں، دل اٹھنے کو نہیں چاہتا۔ یہ ہمارا جو نوجوان طبقہ ہے، تو ظاہر ہے جوانوں میں چونکہ جوانی کا جوش ہوتا ہے نیند بھی زیادہ آتی ہے اور گہری بھی ہوتی ہے۔ اب اس کو صبح والدین اٹھاتے ہیں نماز کے لیے اٹھو تو کہتا ہے دو منٹ دو منٹ، نماز کے لیے بس دو منٹ۔ وہ دو منٹ دو منٹ میں بے شک سورج چڑھ جائے۔ وہ دو منٹ ختم نہیں ہوتے۔ اب اس وقت یہ انسان اپنا will power استعمال کر کے اٹھے، چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ تب اٹھ سکے گا۔ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ مجھے بتائیں آپ ، نماز کی تو خیر الگ بات ہے نا۔ زلزلہ آ جائے۔ اس وقت اٹھنا چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، بیمار بھی ہو، تو اٹھے گا یا نہیں اٹھے گا؟ اس وقت کہاں سے طاقت آ گئی؟ اچھا زلزلہ تو خیر ایک غیر اختیاری چیز ہے۔ دفتر کی ڈیوٹی ہے۔ صبح چار بجے آپ نے پہنچنا ہے ادھر۔ پھر کیسے اٹھ جاتا ہے؟ وہ الارم لگا دیتے ہیں، دوسرے کو بھی بتا دیتے ہیں، کسی طریقے سے رہ نہ جاؤں، اچھا ویسے اس سے بھی آگے کی بات بتاؤں۔ فلائٹ ہے۔ فلائٹ ہے صبح چھ بجے کی فلائٹ ہے اور چار گھنٹے پہلے پہنچنا ہے۔ کیا کریں گے؟ ظاہر ہے، آرام بھی کرنا ہے لیکن ساتھ ساتھ انتظام بھی کرنا ہے، جاگنے کے لیے۔ ٹھیک ہے۔ ورنہ رزلٹ بڑا خطرناک ہوتا ہے۔
تو اسی طریقے سے انسان اس چیز کی اہمیت اپنے ذہن میں بٹھائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشادات فرمائے ہیں کہ جس کی نماز رہ گئی وہ ایسا ہے جیسے کہ اس کا سارا اہل و عیال تباہ ہو گیا، سارا مال تباہ ہو گیا۔ تو اب جتنا مال و عیال، مال و اہل و عیال کے تباہ ہونے پر انسان متاثر ہوتا ہے، اس سے زیادہ نماز کے چھوٹنے پر متاثر ہونا چاہیے۔ تو اگر یہ حالت ہوگی تو پھر نماز رہ جائے گی؟ تو پھر نماز نہیں رہے گی۔ بس یہی والی بات ہے کہ انسان کو، اب یہ جو مجاہدہ ہے، تو یہ تو اختیاری مجاہدہ ہے۔ اٹھنا، اختیاری مجاہدہ۔ وہ اضطراری مجاہدہ اس کو کہتے ہیں کہ انسان بیمار ہو جائے یا قید ہو جائے یا کوئی اور رکاوٹ آ جائے۔ ایسی صورت میں، جتنا ممکن ہے اختیاری طور پر، اتنا کر لو۔ اور جو رہ گیا اللہ تعالی اس کا اجر دے دے گا۔ تو ممکن کو نہ چھوڑو۔ ممکن کو تم نہ چھوڑو، جو ممکن ہے، وہ کر لو اختیاری جو ہے۔ جو غیر اختیاری ہے، اس کی شریعت میں جتنا طریقہ ہو گا اس کے مطابق کر لو۔ مثلا بیمار ہے، تو تیمم کر لے وضو کی جگہ۔ تو اس کو اجر مل جائے گا اس کا، بلکہ زیادہ مل جائے گا۔
اس طرح جو کام مثال کے طور پر کر سکتا ہے انسان، وہ کر لے، اختیاری طور پر جو کر سکتا ہے۔ اور جو نہیں ہو گا تو اس پر صبر کر لے، اللہ تعالی صبر پر اجر دے گا۔ اور دعا ضرور کرے۔ دعا ضرور کرے کیونکہ دعا مسنون ہے، اور اللہ تعالی اس کے ذریعے سے مدد کرتا ہے، صبر کا اجر بہت زیادہ ہے لیکن صبر کو مانگا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ یہ صبر کو مانگنا، بلا کو مانگنا ہے۔ تکلیف کو مانگنا ہے اور یہ ناشکری ہے۔ لہذا صبر کرنا ہے مانگنا نہیں ہے۔ صبر کرنا ہے۔ آ جائے تو صبر کرنا ہے۔ لیکن اللہ تعالی سے مانگے کہ یا اللہ عافیت نصیب فرما دے۔ عافیت مانگنے پر اللہ خوش ہوتے ہیں۔ تو انسان اللہ تعالی سے عافیت ہی مانگے، لیکن اگر تکلیف آ جائے تو اس پر صبر کرے۔
عدم زوال پریشانی و مصیبت کا علاج۔
فرمایا:
تنگی اور مصائب کے دور ہونے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا جائے، بلکہ موجودہ پریشانی کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کر لیا جائے پس دو چیزوں کا انتظام کیا جائے، دعا، زوال مصیبت کی، اور استغفار۔ اور ثمرات کو آخرت میں سمجھا جائے۔ پس یہ علاج، ام العلاج ہے جس میں علاج ہی مقصود ہے، صحت مقصود نہیں۔
یہ بہت باریک بات ہے۔ ہمارے ساتھ یہ معاملہ تو روز تقریباً ہوتا ہے۔ کہ کوئی لوگ کہتے ہیں کہ جی یہ تکلیف ہے یہ تکلیف ہے یہ تکلیف ہے یہ تکلیف ہے بتا دیتے ہیں تکلیفیں۔ اب ہمارا کام بھی تو صرف مانگنا ہے نا ہم تو ظاہر ہے ہمارے ہاتھ میں تو کچھ نہیں ہے۔ ہاتھ میں تو سب کچھ اللہ کے ہے۔ تو ہمارا کام مانگنے کا ہے۔ اور مسلمان بھائی کے لیے مانگنا اس پر اجر ہے۔ اس کے لیے راستہ بتانا یہ بھی اس پر بھی اجر ہے۔ لہذا ہم طریقہ بتا دیتے ہیں کہ یہ وظیفہ کر لو۔ یا اس طرح کر لو طریقہ بتا دیتے ہیں ہم۔ اس کے بعد بعض حضرات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا اپنا معاملہ ہے کیونکہ اس میں اللہ پاک کی بڑی حکمت ہوتی ہے کوئی چیز ان کو دینی ہوتی ہے اس کے ذریعے سے۔ تو مانگنا تو ہمارے اوپر لازم ہے کہ مسنون ہے۔ لیکن اس مانگنے سے وہ چیز مل جائے یہ تو ضروری نہیں ہے۔ بلکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین کاموں میں سے ایک ہو جاتا ہے۔ ایک یہ کہ یا اس کو وہ چیز مل جاتی ہے۔ جو مانگ رہا ہے کوئی۔ یا پھر کوئی تکلیف اس پہ آ رہی ہوتی ہے اس کے بدلے میں وہ تکلیف ہٹا دی جاتی ہے اس دعا کے ذریعے سے۔ یا پھر اس کو آخرت میں ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ تو اب نقصان تو کسی چیز میں بھی نہیں ہوا۔ بلکہ یہ بھی فرماتے ہیں روایت میں کہ جب وہاں اس کا اجر مل جائے گا تو آدمی افسوس کرے گا کاش میری ساری دعائیں قبول نہ ہوتیں اور اس سب کا اجر ادھر مل جاتا۔ تو اب ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ دعا کا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ سے مانگنا عاجزی کرنا۔ یہ کوئی بٹن تو نہیں ہے کہ میں نے بٹن دبا دیا اور کام اس طرح ہو گیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ظاہر ہے زاری کرنا ہے۔ اب کوئی ہمیں کہتا ہے جی وہ آپ نے وظیفہ بتایا اس سے تو یہ نہیں ہوا۔ تو ان کو ہم کہتے ہیں بھئی اور مانگو اللہ تعالیٰ سے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے لیے اور مانگنے کا راستہ کھول رہا ہے تو اور اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ ہم بھی مانگتے ہیں۔ تو یہ بعض لوگ اس قسم کی باتیں ذہن میں رکھتے ہیں اس وجہ سے ان کو نقصان ہوتا ہے۔ بدگمانی بھی ہوتی ہے نقصان بھی ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف جا رہے ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے کام ہی خراب ہو جاتا ہے۔ تو حضرت اس لیے فرماتے ہیں تنگی اور مصائب کے دور ہونے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ موجودہ پریشانی کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کیا جائے کہ اگر یہ رہے تو بس اللہ کی طرف سے ہے، بس ٹھیک ہے۔ ہاں البتہ دو چیزوں کا التزام کر لیا جائے دعائے زوال مصیبت اور استغفار۔ دعا کرنی چاہیے کہ یا اللہ اس مصیبت کو دور فرما۔ اور کثرت سے استغفار کر لے کہ اگر گناہ کی وجہ سے آئی ہو تو گناہ معاف ہو جائیں۔ اور فرمایا ثمرات کو آخرت میں سمجھا جائے۔ پس یہ علاج ام العلاج ہے جس میں علاج ہی مقصود ہے صحت مقصود نہیں ہے۔
نمازوں میں حرکت فکریہ کے قطع کرنے کی تدبیر۔
حرکت فکریہ: مطلب کوئی چیز انسان سوچ رہا ہوتا ہے۔
جماعت کی حالت میں اور بالخصوص سری نمازوں میں سورہ فاتحہ کے خیالی الفاظ کا استحضار کیا جائے جس کو کلام نفسی کہا جاتا ہے۔
دو چیزوں کا التزام کیا جائے تو ان شاء اللہ مناسب درجے کا خشوع حاصل ہو جائے گا۔ ایک تو حضرت نے بتا دیا۔ کہ سورہ فاتحہ انسان خیال خیال میں پڑھے۔ تو چونکہ اس کے سامنے ایک کام موجود ہے لہذا دوسری طرف نہیں جائے گا۔ کیونکہ خیال ایک وقت میں ایک ہی طرف جا سکتا ہے۔ اور یہ چونکہ نماز کے اندر کا خیال ہے لہذا نماز پہ فرق نہیں ڈالتا بلکہ نماز کو اچھا کرتا ہے۔ تو ایک تو یہ بات ہے کہ خالی رکعتوں میں تو بہت اچھا ہے۔ اور باقی یہ ہے کہ اگر امام پڑھ رہا ہو تو اس کو سن لیا جائے۔ اس طرح سنا جائے کہ جیسے کوئی کسی کا قرآن سنتا ہے۔ تو یہ کر لیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے۔ کہ جو کام بھی کیا جائے۔ تو جیسے ہم نماز میں شامل ہونے کی نیت کرتے ہیں وہ تو فرض ہے۔ وہ تو کرنا ہے اگر کسی نے نہیں کیا تو نماز ہی نہیں ہوئی۔ لیکن سجدے میں جا رہا ہے تو دل میں نیت کر لے کہ میں اب سجدے میں جا رہا ہوں۔ اور اگر رکوع میں جائے تو نیت کر لے کہ میں اب رکوع میں جا رہا ہوں۔ کھڑا ہو رہا ہے تو میں اب کھڑا ہو رہا ہوں یعنی ہر چیز کی باقاعدہ علیحدہ دل میں نیت کر لے۔ جیسے دل میں سورہ فاتحہ پڑھنے سے نماز متاثر نہیں ہوتی۔ لہذا دل میں ان تمام نیتوں کے کرنے سے بھی نماز میں فرق نہیں پڑتا بلکہ نماز بہتر ہو رہی ہے۔ اگر اس کو تھوڑا سا اور بہتر کرنا ہو تو وہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ذرا اپنے ذوق کو بہتر کرنا ہو گا۔ وہ یہ ہے کہ انسان عاشقانہ نماز پڑھے۔ عاشقانہ نماز یہ ہے کہ میں اللہ کے سامنے، میں اپنے محبوب کے سامنے جھک رہا ہوں۔ میں اپنے محبوب کے سامنے اب سجدہ کر رہا ہوں۔ میں اپنے محبوب کے حکم سے کھڑا ہو رہا ہوں۔ میں اپنے محبوب کے حکم سے اب پڑھ رہا ہوں۔ اب یہ جو چیز انسان اپنے خیال میں لائے گا تو مسلسل نماز میں مشغول رہے گا۔ جب نماز میں مشغول رہے گا تو کسی اور چیز میں مشغول ہی نہیں ہو گا۔ اس طریقے سے۔ ان چیزوں کا سدِ باب ہو سکتا ہے۔
واحد اور جمع دونوں صیغوں سے دعائیں منقول ہونے کی مصلحت۔
فرمایا:
واحد کے صیغہ میں الحاح کی مصلحت زیادہ ہے۔ اور جمع کے صیغہ میں دوسروں کو شریک کر لینے سے أَقْرَبِيَّت إِلَى الْإِجَابَةِ کی مصلحت زیادہ ہے۔ جس وقت جس کیفیت کا غلبہ ہو اس کا اتباع کیا جائے۔ اور میرا ذوق یہ ہے کہ اول ہر دعا میں منقول کا اتباع کیا جائے کہ أَقْرَب إِلَى الْأَدَبِ ہے۔ پھر اس دعا کی تکرار میں ذوقِ وقتی کا اتباع کرے کہ دونوں مجتمع ہو جائیں۔
یہ بہت باریک نکتہ ہے ما شاء اللہ۔ فرمایا: جیسے مثال کے طور پر جو ہم دعا کرتے ہیں نا۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ تو یہ منقول ہے۔ لہذا پہلے تو حکم پر عمل کر لیں۔ اس طرح پڑھ لیں لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ پھر باقی لوگ بھی ہیں ان کو شریک کرنے کے لیے کہہ دیں،إِنَّا كُنَّا مِنَ الظَّالِمِينَ۔ یہ کہہ دیں کہ سب کو اپنے ساتھ شریک کر دیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہو گا کہ وقتی مصلحت کا اتباع بھی ہو جائے گا اور جو منقول لفظ ہے اس کا بھی ہو جائے گا۔ تو یہ حضرت نے فرمایا کہ اس میں ادب زیادہ ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے جو طریقہ ہمیں سکھایا ہے وہ افضل ترین ہے۔ اور باقی لوگوں کی جو مصلحت ہے ان کو اپنا شامل کرنا یہ بھی خیر ہے۔
طبعی تسلی و قرار کی کوئی صورت نہ ہونے کا علاج
فرمایا:
مطلوب و مامور بہ عقلی و اعتقادی قرار ہے اور یہی تفویض ہے جس کو عبادت سمجھ کر اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ ذریعہ راحت سمجھ کر۔ بلکہ عارفین کاملین نے جب تفویض میں لذت طبعیہ محسوس کی تو نہایت ابتہال کے ساتھ اس لذت سے بھی پناہ مانگی۔ ایک یہ کہ شوب لذت سے شبہ ہوتا ہے اخلاص کی کمی کا، حظ نفس کے واسطے تفویض کو اختیار کیا، حق تعالی کا حق سمجھ کر اختیار نہیں کیا۔ دوسری جہت دینی و دنیاوی کامیابی و ناکامی کے متعلق حدیثوں میں تضرع کے اول میں اجر ناتمام اور ثانی میں اجر تام ہوتا ہے۔ اس طرح تفویض میں راحت طبعیہ ہونے سے اجر غیر کامل اور راحت نہ ہونے سے اجر کامل ملتا ہے۔ اور اجر اخروی ہی مقصود ہے۔ پس ان دو رازوں کی وجہ سے عارفین نے لذت سے پناہ مانگی ہے۔ لیکن ہم ضعفاء کے لیے اتنی ترمیم ہے کہ ہم کو پناہ مانگنا بھی مناسب نہیں بلکہ تفویض کے ساتھ اس میں لذت اور راحت بھی مانگیں۔ اور جب تک عطا نہ ہو اس عطا نہ ہونے کی حقیقت پر صبر اور اس عطا نہ ہونے کے ثمر پر کہ کمال اجر و تشبیہ بالمقبولین ہے شکر کیا جائے۔ اور اس کو وظیفہ دائمہ بنایا جائے
بہت عمدہ تقریر ہے۔ فرمایا کہ اصل میں تو مطلوب اور مامور بہ جو کام ہے وہ یہ ہے۔ کہ عقلی طور پر ہم لوگ کسی چیز کو لے لیں۔ اور یہی تفویض ہے۔ تو جب تفویض کرتے ہیں کا مطلب ہے سب کچھ اللہ پہ چھوڑتے ہیں تو عقلی طور پر ہم نے چھوڑ دیا۔ تو یہی ہے اصل میں۔ اب اس کو عبادت سمجھ کے کرنا نہ کہ راحت سمجھ کر کرنا۔ مطلب یہ یقینی طور پر بات ہے کہ کہ تفویض میں راحت ہے۔ جس کو جس درجہ کی زیادہ تفویض ہو گی اتنے درجہ کے وہ زیادہ آرام میں ہوں گے۔ مجھے بتاؤ ایک شخص کو anxiety ہے۔ میرے ساتھ خود یہ بات ہو چکی ہے اس وجہ سے میں اس کا یعنی وہ جانتا ہوں۔ کسی کو anxiety ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بس میں مر جاؤں گا۔ اور بڑا پریشان ہے اور Lexotanil کھا رہا ہے اور پتا نہیں کیا کیا ڈاکٹر اس کو۔ دوسرا شخص ہے کہ اس کو یہی کیفیت ہو جائے۔ تو کہتا ہے بس اگر اللہ پاک کا حکم ہے تو میں اس کے لیے تیار ہوں، ٹھیک ہے۔ بتاؤ کس کو راحت ہو گی۔ اور جو دوسرا شخص ہے وہ اس نے چھوڑ دیا نا سب کچھ کہتا ہے بس اللہ کی مرضی ہے اللہ کی مرضی ہے بس ٹھیک ہے جو ہو گیا بس۔ تو اس طریقے سے وہ ان کو Lexotanil کھانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔ بس اس کو مطلوبہ اطمینان اسے مل جائے گا راحت مل جائے گی۔ ایک دفعہ میرے ساتھ ایسے ہوا تھا یہ میں FSC میں تھا تو رات کے وقت وہ جس کو gas trouble کہتے ہیں پتا نہیں کیا جو چیز ہوتی ہے۔ تو وہ یک دم palpitation بہت زیادہ arise کر گیا۔ تو میں گیا تو میں نے اپنے roommate جو تھا نہیں۔ جا کر دوسرے ایک دوست کو اٹھایا میں نے کہا آپ آ جائیں میرے ساتھ مجھے تکلیف ہے۔ اس کو بڑی نیند آئی ہوئی تھی وہ لحاف کے ساتھ ہی آ گیا اور جیسے مطلب آ گیا تو بس وہ سو گیا۔ اس کو پتا بھی نہیں چلا کہ مسئلہ کیا ہے۔ اب جب میں نے صورتحال دیکھی تو میں نے کہا کہ اچھا مرنا ہے نا تو بس چلو پھر مر جاؤ۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا نا۔ تو مرنے کے لیے میں تیار ہو گیا باقاعدہ سنت طریقے سے میں لیٹ گیا تو مجھے نیند آ گئی صبح اٹھا تو ٹھیک تھا۔ اب یہ چیزیں اس طرح یعنی ہوتا ہے۔ تو اگر یہ انسان اس کو مان لے کہ بھئی یہ اللہ کی مرضی ہے تو بس ٹھیک ہے نا۔ پھر کیا calculation کرنی ہے۔ کیا اس سے میں بچ سکتا ہوں اگر فیصلہ ہے اللہ کا۔ تو ایسی صورت میں پھر انسان کو اس سے راحت مل جاتی ہے۔ لیکن اس قسم کا تفویض کرنا۔۔۔ لوگوں نے ان باتوں کو سنا ہوتا ہے لہذا وہ تفویض اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے راحت مل جائے گی۔ تو جو راحت کے لیے انتظار میں رہا تو اس کو تو تفویض نہیں ہوئی تھی۔ تو اس کو تفویض کا فائدہ بھی نہیں ملتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا۔ جو اس کے انتظار میں ہے کہ اب مجھے راحت اس سے مل جائے گی تو اس نے تو تفویض نہیں کی نا۔ اس نے تو اس کو ایک ذریعہ بنایا ہے راحت کا۔ تو جب راحت کا ذریعہ بنایا تو پھر وہ اس کو مسلسل observe کرے گا کہ اب راحت ملتی ہے یا نہیں اب راحت ملتی ہے یا نہیں تو وہ تو تفویض میں نہیں ہے۔ لہذا اس کو تو نہیں ملے گی۔ اس وجہ سے حضرت نے فرمایا کہ اس بات کو ہی چھوڑ دو۔ بس راحت کی طلب ہی نہ کرو۔ تو پھر فرمایا کہ اس سے ایک راحت تو ہوتی ہے۔ اس راحت کی وجہ سے جو کاملین ہیں انہوں نے اس کی راحت سے پناہ مانگی ہے۔ کہ کہیں یہ اخلاص کے منافی نہ ہو جائے۔ فرمایا: ہم لوگوں کو پناہ تو نہیں مانگنی چاہیے۔ ہم لوگ اللہ سے مانگیں کہ اللہ اس سے راحت بھی دے دو۔ تو دعا تو جائز ہے۔ اب اگر مل گیا تو پھر یہ ہے کہ یوں سمجھ لیں کہ جب تک راحت نہیں ملی اس وقت تو صبر کریں۔ صبر پر اجر ہے۔ اور اگر مل گیا تو ظاہر ہے مطلب اس پر شکر کریں۔ اور اگر یہ ہے کہ یعنی اور فرمایا کہ جب تک عطا نہ ہو اس عطا نہ ہونے کے ایک تو اس پر صبر اور اس عطا نہ ہونے کے ثمرہ پر کہ عطا نہیں ہوا تو بزرگوں کے ساتھ مشابہت ہو گئی اس پر شکر کریں۔ تو گویا کہ نہ ملنے پہ دونوں چیزیں مل رہی ہیں بھئی آپ کو صبر کا بھی اجر اور شکر کا بھی اجر، اور ملنے پر شکر کا اجر۔ اس طریقے سے ہو گا۔ تو میرا خیال میں اب یہ کافی ہے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَىٰ دِينِكَ۔
يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ۔ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ۔ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَىٰ طَاعَتِكَ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ۔ أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا إِلَىٰ أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔
اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا۔ وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا۔ وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا۔ وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا۔ وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا۔ اللَّهُمَّ اشْفِ مَرْضَانَا وَمَرْضَى الْمُسْلِمِينَ۔ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔
اے اللہ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کے دلوں کو اپنی محبت کے پانی سے یا اللہ دھو لے۔ دنیا کی محبت کو ہمارے دل سے نکال لے۔ اور یا اللہ ہمارے دلوں کے اندر اپنی محبت کو پیدا فرما دے۔ یا اللہ ہمیں ہدایت کا نور عطا فرما دے۔ تقوی کا نور عطا فرما۔ ہمیں اللہ بصیرت باطنی عطا فرما دے۔
یا اللہ العالمین جتنے بھی حواس ہیں ہمارے یا اللہ حواس ہم سے یا اللہ العالمین ان کو نیک کاموں کے لیے استعمال فرما دے۔ یا اللہ ہمارے ذہن کو بھی صحیح کر دے۔ یا اللہ ہمارے قلب کو قلب سلیم بنا دے۔ ہمارے نفس کو نفس مطمئنہ بنا دے۔ یا اللہ العالمین صحبت صالحین دائما عطا فرما۔ یا اللہ نیک لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نصیب فرما۔ غلط کار لوگوں کے ساتھ یا اللہ اٹھنے بیٹھنے سے بچا دے۔ یا اللہ العالمین ہمارے اوقات کی، جان مال، اور یا اللہ اولاد کی حفاظت فرما دے۔ یا اللہ شیطان کے تمام کاموں سے ہماری حفاظت فرما دے۔ اور یا اللہ العالمین ہمارے نفس کی بہترین تربیت فرما۔ یا اللہ العالمین جتنی بھی ہماری خانقاہیں ہیں سب کو قبول فرما۔ جو مدارس ہیں وہ بھی قبول فرما۔
یا اللہ العالمین ہر قسم ہر وقت کے یا اللہ العالمین جو فتنے فسادات ہیں یا اللہ ان سے ہماری حفاظت فرما دے۔ ملک سے یا اللہ بے حیائی کو اور یا اللہ العالمین بدامنی کو اور یا اللہ العالمین دہشت گردی کو اور یا اللہ جو یا اللہ العالمین مادیت کا زور ہے اللہ اس کو ختم فرما دے۔ اور یا اللہ العالمین ہمیں ایک نورانی زندگی عطا فرما دے۔ وہ زندگی جس میں ہم تجھے راضی کر دیں۔ یا اللہ جتنے بھی مسلمان پریشان ہیں سب کی پریشانیوں کو دور فرما۔ اور یا اللہ العالمین سب کو عافیت نصیب فرما دے۔ اور یا اللہ جتنے بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے ہیں اول ان کو ہدایت عطا فرما۔ ہدایت ان کے نصیب میں نہیں تو ان کو عبرت کا نمونہ بنا۔
یا اللہ العالمین پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام کا قلعہ بنا دے۔ اور جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں اس کو اپنے مقصد سے ہٹانا چاہتے ہیں اول ان کو ہدایت عطا فرما۔ ہدایت ان کے نصیب میں نہیں تو ان کو عبرت کا نمونہ بنا۔ یا اللہ العالمین اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت پاک میں اپنا دیدار پاک نصیب فرما۔ اور یا اللہ جب تو فرمائے کہ میں تم سے راضی ہوں پھر کبھی ناراض نہیں ہوگا۔ اے اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ عمل نامہ دائیں ہاتھ سے نصیب فرما۔ حسن خاتمہ کی عظیم دولت سے سرفراز فرما۔ موت کی سختی سے، عذاب قبر سے، پل صراط کی مشکلات سے، جہنم کی آگ اور دوزخ سے، اور حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔
یا اللہ جتنے مسلمان فوت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرما۔ یا اللہ العالمین جتنے ہمارے اکابر دنیا سے گئے ان کے درجات بہت بلند فرما۔ ان کے فیوض و برکات سے مکمل اور وافر حصہ عطا فرما۔ اور جو ہمارے اکابر حیات ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ العالمین ہم سب کو صحت کاملہ عاجلہ مستمرہ نصیب فرما۔ یا اللہ العالمین ہماری جتنی بھی حاجات ہیں ان کا تکفل فرما۔ جنہوں نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، سوچا ہے، لکھ کے دیا ہے، توقع رکھتے ہیں، سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔