طریقِ جذب: دنیا کی محبت کا علاج اور عشقِ الٰہی کا حصول

کتاب: پیغامِ محبت

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • دنیا کی محبت تمام خطاؤں اور گناہوں کی جڑ ہے اور اسے دل سے نکالنے کا طریقہ۔
    • طریقِ جذب کی اہمیت اور اس میں بامقصد صوفیانہ شاعری کا کردار۔
      • قلب (دل) کا عرشِ اصغر ہونا اور اس پر اللہ کی تجلیات کا نزول۔
        • نفس، عقل اور دل کی کشمکش اور شریعت پر استقامت۔
          • موت کی تیاری (مرنے سے پہلے مرنا) اور جان، مال اور وقت کا صحیح استعمال۔
            • اللہ کی معرفت اور کائنات (سورج، چاند، ستارے، انسانی وجود) میں اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ۔
              • اخلاص کی اہمیت اور مرشد (شیخ) کی رہنمائی کی ضرورت۔

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


                آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن جیسے کہ آپ لوگ جانتے ہیں اب پیغامِ محبت کتاب کی تشریح کی جاتی ہے۔ اصل میں دنیا کی محبت یہ تمام خطاؤں کی جڑ ہے جیسے کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے۔ تو دنیا کی محبت کو نکالنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ جیسے ہوا کو کسی بھی چیز سے نکالنا آسان بات نہیں ہے، وہ اپنا راستہ بنا لیتی ہے، کسی نہ کسی طریقے سے اندر آ جاتی ہے۔ تو ہوا کو نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس چیز میں پانی ڈالو، ہوا نکل جائے گی۔ تو اسی طریقے سے اللہ کی محبت جب دل میں آ جائے گی تو دنیا کی محبت پھر نہیں رہے گی۔ اس وجہ سے صوفیائے کرام اللہ تعالیٰ کی محبت کو پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں سارے جتن ہوتے ہیں۔ اور طریقِ جذب جو ہے، یہ سارا کا سارا یہی ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا جاتا ہے۔

                تو اس کے ذریعے سے تھوڑی دیر میں اصلاح کا امکان ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ کی محبت دل میں آ جائے گی اور دنیا کی محبت نہیں رہے گی، تو پھر ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ساری نیکیاں آسان ہو جائیں گی اور دنیا کی محبت نہ ہونے کی وجہ سے وہ خطائیں ختم ہو جائیں گی۔ تو اس وجہ سے یہ آسان طریقہ ہے۔ طریقِ جذب میں شعر و شاعری کا بڑا دخل ہے۔ اس وجہ سے طریقِ جذب میں اس کو لایا جاتا ہے۔ تو یہ اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ تو یہ کتاب بھی اسی کی ایک کاوش ہے، طریقِ جذب کی، کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو پیدا کیا جائے اور دنیا کی محبت سے چھٹکارا پا لیا جائے۔ تو اس کو شاید ایسا نہ ہو کہ کچھ لوگ اس کو صرف ایک عام شاعری سمجھیں کہ جیسے کوئی شغل میلہ ہے، تو ایسی بات نہیں ہے۔ اس کا اپنا ایک فائدہ ہے اور وہ فائدہ یہی ہے۔ اگر کسی کو آسانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہو جائے اور دنیا کی محبت سے انسان کو چھٹکارا مل جائے تو پھر اس پر ظاہر ہے مطلب انسان کو خوش ہونا چاہیے یا پریشان ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر کوئی مزے کے لیے اس کو سنتا ہو، تو وہ ہمارے مخاطب بھی نہیں ہیں اور نہ وہ ہماری بات سنیں گے، نہ ہماری بات مانیں گے۔ تو اس لحاظ سے ہم لوگوں کو سب سے اول اپنی نیتوں کو درست کرنا چاہیے کہ کس نیت سے ہم اس کو سنیں گے۔ اگر ہماری نیت یہی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جائے تو یقیناً اس سے فائدہ ہو گا اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔


                تو ابھی ایک غزل ہے: "یہ میرا خدا تو ہے"۔


                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے

                وہ نہ ہو دل میں چین ہو رخصت

                میرا دل اس کا آشنا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے

                سب سے کٹ کر میں اس کے ساتھ ہوں خوش

                سب سے کٹ کر میں اس کے ساتھ ہوں خوش

                میرا دل اس میں مبتلا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے

                دل بیمار کا دارو ہے وہ

                دل بیمار کا دارو ہے وہ

                دل بیمار کا دارو ہے وہ

                دل بیمار کا دارو ہے وہ

                کہ تعلق اس سے رہا تو ہے

                کہ تعلق اس سے رہا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے

                وہ مجھے یاد رکھ رہا ہو گا

                وہ مجھے یاد رکھ رہا ہو گا

                ذکر میں نے بھی کچھ کیا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے

                دور سے ہم کو کرے کتنا قریب

                دور سے ہم کو کرے کتنا قریب

                سن شبیر یہ میرا خدا تو ہے

                سن شبیر یہ میرا خدا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

                پر میرے دل میں سمایا تو ہے


                اگلی غزل ہے: "وہ میرے دل میں رہیں"۔


                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر

                شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں

                دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر

                شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں

                عشق الٰہی کے سمندر کا

                میں شناور بنوں اور مست رہوں

                عشق الٰہی کے سمندر کا

                میں شناور بنوں اور مست رہوں

                دنیا سو بھیس بدل کے آئے

                اس سے دامن اپنا بچاتا رہوں


                یہ جو غزل ہے اس میں اصل میں بہت پکی باتیں سامنے رکھی گئی ہیں۔ اللہ پاک نے وعدے کیے ہوئے ہیں، قرآن پاک میں وہ وعدے موجود ہیں۔ جیسے ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ اس طریقے سے، یہ جو ہے قَالُوْا ﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ﴾، ﴿أُولٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ﴾۔ اس طرح اور بہت ساری جگہوں پہ اللہ جل شانہ نے وعدے کیے ہیں۔ تو یہ وعدے سچے ہیں، اور ہمیں اس پہ یقین، ان پہ یقین کرنا چاہیے۔ تو جب ان وعدوں پہ یقین آ جائے، تو انسان کو سکون اور اطمینان آ جاتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ بہت کریم ہے، اور بہت ہی جلدی راضی ہو جاتے ہیں۔ ہم لوگ جلدی مچاتے ہیں، تو اگر اللہ جل شانہ کے وعدوں پہ یقین ہو تو انسان کو بہت جلدی سکون آ جاتا ہے اور سکون کے ساتھ اعمال میں لگ جاتا ہے، اطمینان کے ساتھ اعمال میں لگ جاتا ہے۔ جس کو ہم نفسِ مطمئنہ کہتے ہیں۔


                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر

                شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں

                عشق الٰہی کے سمندر کا

                میں شناور بنوں اور مست رہوں


                عشقِ الٰہی واقعی ایک سمندر ہے، اور جو اس کا تیراک بن جاتا ہے، وہ تمام چیزوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ اسی کو مست کہتے ہیں، ان باقی چیزوں سے جو مستغنی ہو، اسی کو مست کہتے ہیں۔ تو پھر دنیا بے شک کتنی ہی صورتوں میں آ جائے، وہ دنیا کو منھ نہیں لگاتا، دنیا سے وہ متاثر نہیں ہوتا۔ یہی اصل میں عشقِ الٰہی کا... کا فائدہ ہے۔


                عشق الٰہی کے سمندر کا

                میں شناور بنوں اور مست رہوں

                دنیا سو بھیس بدل کے آئے

                اس سے دامن اپنا بچاتا رہوں

                میرے رب کے لیے ہو وقف ہاں

                جو ذرہ ذرہ میرے جسم کا ہے

                میرے رب کے لیے ہو وقف ہاں

                جو ذرہ ذرہ میرے جسم کا ہے

                ہر وقت اتنا خوش نصیب بنوں

                کہ اس کی یاد میں میں آتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                اس کی سکوں... یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں


                مطلب یہ ہے کہ میرا ذرہ ذرہ جسم کا اس کے لیے وقف ہو اور میں ہر وقت ذکر میں لگا رہوں، اور قرآن پاک میں جیسے وعدہ ہے ﴿فَاذْكُرُوْنِيْٓ أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ﴾، پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ پس جو بھی اللہ پاک کا ذکر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو یاد رکھتے ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ کہتا ہے کہ:


                ہر وقت اتنا خوش نصیب بنوں

                کہ اس کی یاد میں میں آتا رہوں

                دل میرا تخت ہے تجلی کا

                وہ کہ جو سب سے بے نیاز کرے

                دل میرا تخت ہے تجلی کا

                وہ کہ جو سب سے بے نیاز کرے

                اس تجلی کے میں آثار پھر خود

                ایسے عشاق کو سناتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر

                شکر سے میں اس کا بجا... شکر میں اس کا بجا لاتا رہوں

                دنیا ظلمت ہے اور بوجھ ہے اک

                اس سے ہجرت کروں اور دور رہوں

                دنیا ظلمت ہے اور بوجھ ہے اک

                اس سے ہجرت کروں اور دور رہوں

                ذکر کے نور سے پرنور رہوں

                اور اسی نور میں نہاتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر

                شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں

                دکھ یہاں کے جو ہیں وہاں کے ہیں سکھ

                اس کا انعام گر سمجھتا رہوں

                دکھ یہاں کے جو ہیں وہاں کے ہیں سکھ

                اس کا انعام گر سمجھتا رہوں

                سکھ وہاں کتنے ملیں گے ان پر

                خود کو میں بار بار سمجھاتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں


                اس میں بتاتے ہیں کہ میرا جو دل ہے وہ تجلیات کا ایک مرکز ہے کیونکہ اللہ جل شانہ کی طرف جو بھی بڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اس کی طرف... مطلب متوجہ فرماتے ہیں۔ تو صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جو ہمارا دل ہے یہ عرشِ اصغر ہے۔ تو جیسے عرش کے اوپر مسلسل تجلیات کی بارش ہوتی ہے، تو اگر دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے، تو پھر وہاں سے بھی تجلیات کی بارش ہوتی ہے۔ پھر اس کی تجلیات کے کچھ آثار ہوتے ہیں، اور وہ پھر ظاہر ہے دوسروں کو بھی مفید ہوتے ہیں اگر ان کو سمجھ میں آ جائے۔ پھر یہ جو دنیا ہے یہ ظلمت ہے اور ظلمت ہونے کی وجہ سے ضمیر کے اوپر اور حواس کے اوپر ایک بوجھ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے، اس دنیا سے میں ہجرت کرنا چاہتا ہوں، دور رہنا چاہتا ہوں۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ میں ذکر کرتا رہوں اور ذکر کے نور سے پرنور رہوں، اور پھر اس نور میں نہاتا رہوں، تو دنیا کے اثرات سے میں بچ جاؤں گا۔ جو یہاں کے دکھ ہیں، وہ اصل میں اللہ پاک نے دینے کے لیے بھیجے ہیں اور وہاں اس سے سکھ ملیں گے۔ پس میں اگر اپنے آپ کو بار بار یہ سمجھا دوں، تو پھر میرے دکھ سکھ میں بدل جائیں گے۔


                بس میرا دل قبول ہو جائے

                باقی اعضاء تو اس کے خادم ہیں

                بس میرا دل قبول ہو جائے

                باقی اعضاء تو اس کے خادم ہیں

                وہ میرے دل میں رہے اور میں دل سے اس کے احکام بجا لاتا رہوں

                وہ میرے دل میں رہے اور میں دل سے اس کے احکام بجا لاتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                آنکھ اٹھے تو وہ اس طرف ہی اٹھے

                کان سنیں وہ جو ہو پسند اس کو

                آنکھ اٹھے تو وہ اس طرف ہی اٹھے

                کان سنیں وہ جو ہو پسند اس کو

                اور زباں پر ہو حمد جاری شبیر

                زیرِ لب اس کو گنگناتا رہوں

                اور زباں پر ہو حمد جاری شبیر

                زیرِ لب اس کو گنگناتا رہوں

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے

                اس کی یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں

                دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر

                شکر سے... شکر میں... شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں


                تو یہ گویا کہ ہمارے لیے ایک لائحہ عمل ہے۔ خوش نصیب مسلمان۔ مسلمان بہت خوش نصیب ہے، یہ اس رباعی سے واضح ہے۔


                خدا اپنا ہے مہربان بہت

                خدا اپنا ہے مہربان بہت

                لوگ پھر کیوں ہیں پریشان بہت

                لوگ پھر کیوں ہیں پریشان بہت

                خدا اپنا ہے مہربان بہت

                دس گنا نیکی ہو بدی ایک گناہ

                دس گنا نیکی ہو بدی ایک گناہ

                ہے خوش نصیب مسلمان بہت

                خدا اپنا ہے مہربان بہت

                لوگ پھر کیوں ہیں پریشان بہت


                اخلاص کے بارے میں یہ رباعی ہے۔


                مل گئی اخلاص کی دولت اگر

                ہو رہے ہیں اعمال اپنے پر اثر

                مل گئی اخلاص کی دولت اگر

                ہو رہے ہیں اعمال اپنے پر اثر

                سب شریکوں سے ہے وہ بیزار جب

                سب شریکوں سے ہے وہ بیزار جب

                جو عمل میں... ہر عمل میں ہو فقط اس پر نظر

                مل گئی اخلاص کی دولت اگر


                یہ ایک غزل ہے، اور یہ بھی ایک کیفیتِ جذب کی ترجمان ہے۔


                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا


                پہلا میخانہ اصل میں یہاں جو دنیا کا میخانہ ہے، یعنی شراب خانہ۔ تو عاشق کہتا ہے کہ میں کیوں وہاں جاؤں؟ مجھے وہاں کیا لینا ہے؟ میرا دل تو خود ہی میخانہ ہے، جس میں شراب... مطلب عشقِ حقیقی کی شراب ہر وقت چل رہی ہے۔ میں اس میں کیوں نہیں مگن رہوں، میں دوسرے میخانے میں کیوں جاؤں؟ کیونکہ عاشق تو دل میں یہی چاہتا ہے کہ اس کے دل میں محبوب آئے۔ تو وہ تو یہی کام کرے گا۔


                دنیا کے میکدوں کی کثافت کو کیا کروں

                دنیا کے میکدوں کی کثافت کو کیا کروں

                ہم چاہیں اس کی یاد سے ہردم لطف پانا

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ


                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا

                یہ آنکھ ہو عاشق تو ہر ایک چیز میں دیکھے

                یہ آنکھ ہو عاشق تو ہر ایک چیز میں دیکھے

                وحدت کے سمندر کے نور کا تانا بانا

                وحدت کے سمندر کے نور کا تانا بانا

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا


                مطلب آنکھ اگر عاشق ہو جائے اللہ پر، تو اس کو ہر چیز میں پھر اللہ نظر آتا ہے۔ اور پھر اس کو اس وجہ سے وحدت یعنی وحدت الوجود کا جو... مطلب مظاہرہ ہے وہ ہر... مطلب دفعہ نظر آتا ہے، ہر ایک چیز میں نظر آتا ہے۔ وہ کسی اور کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتا۔


                یہ کان ہو عاشق تو ہر طرف سے سنے یہ

                یہ کان ہو عاشق تو ہر طرف سے سنے یہ

                نغمے وہ پوشیدہ کیا ان کا سننا سنانا

                نغمے وہ پوشیدہ کیا ان کا سننا سنانا

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا

                عاشق زبان گر ہو تو ہر بول میں ہو عشق

                عاشق زبان گر ہو تو ہر بول میں ہو عشق

                گرما گرمی عشق سے ہو دلوں کا گرمانا

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا


                یعنی کان بھی اگر عاشق ہو جائے اللہ پر، تو پھر اس کو بھی ایسی باتیں سنائی دیتی ہیں جو عام لوگ نہیں سن پاتے۔ یعنی اللہ پاک کی محبت کی باتیں، اور اللہ جل شانہ کی محبت کی چیزیں وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اگر زبان بھی عاشق ہو جائے تو پھر اس کی زبان پر ہر وقت عشق کی باتیں، گرما گرمی کی باتیں، وہی چلتی ہیں، وہ کوئی اور بات کر ہی نہیں سکتا۔


                شبیر کوئی پوچھے ہے طریق تیرا کیا

                شبیر کوئی پوچھے ہے طریق تیرا کیا

                میرا طریق کیا ہے ہے طریقِ جانانا

                میرا طریق کیا ہے ہے طریقِ جانانا

                میخانہ جاؤں کیوں کر میرا دل ہے میخانہ

                عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا


                مطلب یہ ہے کہ ظاہر ہے طریقِ جذب اس سے بہت جلدی فائدہ ہو جاتا ہے تو ہمارے بزرگوں کا طریقہ یہی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کی محبت اگر کسی کو حاصل ہو جائے تو اس کو خود بخود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کسی کو حاصل ہو جائے تو اس کو خود بخود اللہ کی محبت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ لازم ملزوم ہیں، ان کو آپس میں علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ پس اللہ کی محبت کی بات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی بات بھی یقیناً آئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم... اللہ پاک نے خود فرمایا ہے ﴿حَدِيْثِ قُدْسِي﴾ ہے، جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ تو ظاہر ہے مطلب جب اللہ کی بات ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھی ہوگی۔ تو ایک نعت شریف ہے۔


                عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے

                جو خوش نصیب ہیں لوگ وہ ان کے دلوں میں ہے

                یہ کائنات ہر ایک چیز اس کے دم سے ہے

                یہ کائنات ہر ایک چیز اس کے دم سے ہے

                جو اس کو جان لے تو وہ ہی سیانوں میں ہے

                عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے

                جو خوش نصیب ہیں لوگ وہ ان کے دلوں میں ہے

                جس کو محبوب ہو ہر وقت سنتیں اس کی

                جس کو محبوب ہو ہر وقت سنتیں اس کی

                ہو وہ مومن بخدا رب کے وہ پیاروں میں ہے

                عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے

                دل محبت سے ہو پُر اس کی زباں پر ہو درود

                دل محبت سے ہو پُر اس کی زباں پر ہو درود

                اور سنت پر ہو عمل کام یہ کاموں میں ہے

                اور سنت پر ہو عمل کام یہ کاموں میں ہے

                عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے

                سارے محبوبوں کے صدقے ہے بنا یہ محبوب

                سارے محبوبوں کے صدقے ہے بنا یہ محبوب

                وہ عقلمند ہے جو اس کے دیوانوں میں ہے

                وہ عقلمند ہے جو اس کے دیوانوں میں ہے

                عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے

                میرے لیے سعادت... میرے لیے یہ سعادت کچھ کم نہیں ہے شبیر

                میرے لیے یہ سعادت کچھ کم نہیں ہے شبیر

                کہ میرا نام اس کے چاہنے والوں میں ہے

                عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے

                جو خوش نصیب ہیں وہ ان کے دلوں میں ہے


                یہ اگلی غزل جو ہے، یہ دل کے بارے میں ہے۔ دل ذرہ اس کی امانت ہے۔


                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے

                ہو بلند اتنا جتنا خود کو تم

                یا اس کے واسطے گراؤ گے

                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے


                یعنی جو انسان اپنے آپ کو چھوڑے گا اللہ کے لیے، اللہ اس کو اتنا اونچا کرے گا۔ یہ حدیث... حدیث شریف ہے۔ کہ جس نے بھی اپنے آپ کو اللہ کے لیے گرایا، اللہ نے اس کو بلند کر دیا۔


                مٹی ہو مٹی سے بنے ہو تم

                مٹی بن جانا ذرا سیکھ بھی لو

                مٹی ہو مٹی سے بنے ہو تم

                مٹی بن جانا ذرا سیکھ بھی لو

                عاجزی اس سے ہوگی جب حاصل

                عاجزی اس سے ہوگی جب حاصل

                سیڑھیاں خود ہی چڑھتے جاؤ گے

                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے

                دل سے ہر غیر اس کا پھینکنا ہے

                دل میں بس صرف وہی رہ جائے

                دل سے ہر غیر اس کا پھینکنا ہے

                دل میں بس صرف وہی رہ جائے

                وہی جب سامنے ہو گا تو پھر

                وہی جب سامنے ہو گا تو پھر

                ہاتھ سامنے کس کے پھیلاؤ گے

                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے


                یعنی دل سے ہر غیر کو پھینکنا ہے، اور اس وقت تک یہ کرنا ہے جب تک صرف وہی نہ رہ جائے۔ تو پھر جب وہی ہو گا تو پھر اس کے بعد کسی اور کے سامنے ہاتھ کیسے پھیلائے گا؟ وہ بات ہی ختم ہو گئی۔


                موت سے پہلے مرنا سیکھنا ہے

                وہاں میزان کے تصور سے

                موت سے پہلے مرنا سیکھنا ہے

                وہاں میزان کے تصور سے

                جان مال وقت استعمال کر کے

                اپنے اعمال کو بڑھاؤ گے

                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے


                موت کیا ہے؟ یہ منزل ہے۔ یہ Target ہے، یہ راستہ ہے، سب کو طے کرنا ہے۔ تو جب یہ معلوم ہو گا کہ مرنا تو ہے، اور مرنے کے بعد میزان سے اعمال بھی تولے جائیں گے۔ اس وجہ سے اعمال کی قدر آئے گی اور جو اعمال کی مشینیں ہیں، جان، مال اور وقت، ان کو صحیح استعمال کر کے اپنے اعمال میں انسان پھر اضافہ کرتا ہے۔


                ہر جگہ اس کا تجھ کو احساس ہو

                اس سے غافل کسی لمحے نہ رہو

                ہر جگہ اس کا تجھ کو احساس ہو

                اس سے غافل کسی لمحے نہ رہو

                پھر عبادت بنے تیری جاندار

                پھر عبادت بنے تیری جاندار

                خود کو محبوب اس کا بناؤ گے

                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے

                ساری باتیں نظر آئیں مشکل تم کو

                گر دل نہ اس کو دے پائے

                ساری باتیں نظر آئیں مشکل... نظر آئیں مشکل تم... اگر دل نہ اس کو دے پائے

                دل تو اس کی ہی امانت ہے شبیر

                دل تو اس کی ہی امانت ہے شبیر

                یہ امانت اس کو پہنچاؤ گے

                خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم

                جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے


                مطلب یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس وقت تک مشکل ہیں، جب تک انسان کو اللہ کے ساتھ محبت نہ ہو۔ اور جس وقت انسان کو اللہ کے ساتھ محبت ہو جائے تو پھر چیزوں میں مشکل کوئی نہیں رہتا کیونکہ محبوب کی بات کو ماننا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔


                اور یہ دل ویسے بھی ہمارے پاس اس کی امانت ہے۔ تو جب اس کی امانت ہے، تو پھر یہ امانت اس تک پہنچانا تو ہے، لہٰذا کسی اور کو تو یہ دل نہیں دینا۔


                یہ عجیب غزل ہے، اب جو اس کے بعد آ رہا ہے۔ یہ تضادات کے اندر راستہ نکالنے والی غزل ہے:



                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا

                میرا دل تھا اس کی امانت اِک

                تبھی دل میرا یہ ادھر گیا

                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا

                میرا دل تھا اس کی امانت اِک

                تبھی دل میرا یہ ادھر گیا


                مطلب کثرت پر مجھے نظر تھی۔ ادھر سے ہوتا ہے، ادھر سے ہوتا ہے، ادھر سے ہوتا ہے... ان سب کو چھوڑ کر ایک پہ محدود کر دیا۔ تو یہ سمٹ گیا، اور پھر میں ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے کہ جو میں اس کا ہو گیا۔ تو اس کے بعد جو مختلف کام اس نے مجھ سے کروانے تھے، اس میں میں مشغول ہو گیا یعنی میں ہر کام میں اسی کے لیے لگ گیا۔


                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا

                میرا دل تھا اس کی امانت اِک

                تبھی دل میرا یہ ادھر گیا

                نہ یہ خواب ہے نہ خیال ہے

                کوئی قیل اس میں نہ قال ہے

                نہ خواب ہے نہ خیال ہے

                کوئی قیل اس میں نہ قال ہے

                یہ عجب نہیں تھا یہ اس کا ہی

                یہ جہاں کا تھا وہاں پھر گیا

                یہ عجب نہیں تھا یہ اس کا ہی

                یہ جہاں کا تھا وہاں پھر گیا

                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا


                مطلب یہ کوئی خیالی باتیں نہیں ہیں، نہ خواب کی باتیں ہیں، یہ صرف قیل و قال بھی نہیں ہیں۔ یہ Practical باتیں ہیں۔ عجیب بھی نہیں ہیں۔ چونکہ یہ اسی کا تھا لہٰذا جہاں کا تھا وہاں چلا گیا۔ اس وجہ سے اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے۔


                کبھی قرب اپنا عطا کیا

                کبھی ناز سے خود سے جدا کیا

                کبھی قرب اپنا عطا کیا

                کبھی ناز سے خود سے جدا کیا

                مجھے کیا غرض ہے کہ کیا کیا

                میں وہاں گیا وہ جدھر گیا

                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا


                کبھی تو مجھ پر بسط کی حالت طاری کر دی اور کبھی مجھ پر قبض کی حالت طاری کر دی۔ چونکہ مجھے ان دونوں سے کوئی غرض نہیں ہے، مجھے تو غرض اس سے ہے، لہٰذا جس نے جو بھی حالت طاری کی ہے میں اس میں اسی کی طرف متوجہ ہوں۔ میں کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوں۔


                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا

                میرا دل تھا اس کی امانت اِک

                تبھی دل میرا یہ ادھر گیا

                میرے ساتھ اب تو وہی ہے بس

                کوئی اور پاس نہیں ہے اب

                میرے ساتھ اب تو وہی ہے بس

                کوئی اور پاس نہیں ہے اب

                میں رکوع میں سجدوں میں جب ملا

                اس سے مل کے اور نکھر گیا

                میں رکوع میں سجدوں میں جب ملا

                اس سے مل کے اور نکھر گیا

                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا

                میرا دل تھا اس کی امانت اِک

                تبھی دل میرا یہ ادھر گیا


                مطلب یہ ہے کہ اب میرے ساتھ ہے اور میرے پاس کوئی اور ہے بھی نہیں، پس میں رکوع میں کبھی اس کو ملتا ہوں کبھی سجدوں میں ملتا ہوں، اور اس سے ظاہر ہے میرے دل میں تبدیلی ہو رہی ہوتی ہے اور بہتری آتی ہے۔


                میری سوچ اس کی طرف رہے

                سارا دن نہ جانے وہ کب ملے

                میری سوچ اس کی طرف رہے

                سارا دن نہ جانے وہ کب ملے

                رات اِک گھڑی مجھے مل گئے

                میرے دل سے بوجھ اتر گیا

                رات اِک گھڑی مجھے مل گئے

                میرے دل سے بوجھ اتر گیا

                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا


                یعنی مجھے پورے دن اس کی طرف دھیان رکھنے کی بات تھی کہ میں دھیان رکھتا رہا کہ کہیں میری طرف دیکھے اور میں اس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ لیکن جو خاص گھڑی رات کو جب اللہ تعالیٰ خصوصی تجلیات بخشتے ہیں آخری رات کو، تہجد کے وقت، جب مجھے ظاہر ہے اس کا ساتھ مل گیا تو سارا بوجھ اتر گیا۔ یہی مطلب روحانیت کا Peak کا وقت ہوتا ہے تہجد کا جو وقت ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جو اس طرف... اس وقت اٹھتے ہیں تو ظاہر ہے اس وقت عجیب روحانیت انسان محسوس کرتا ہے۔


                کبھی دل میں میرے سمائے ہیں

                کبھی مجھ میں خود کو دکھائے ہیں

                کبھی دل میں میرے سمائے ہیں

                کبھی مجھ میں خود کو دکھائے ہیں

                عجب عشق شبیر سکھائے ہیں

                میں دیوانہ بن کے سدھر گیا

                عجب عشق شبیر سکھائے ہیں

                میں دیوانہ بن کے سدھر گیا

                میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا

                میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا


                مطلب یہ ہے کہ ظاہر ہے میرے دل میں آ گئے، اور اس کی وجہ سے کچھ چیزیں انسان مطلب دیکھتے ہیں دوسرے تو اس پہ لوگ عاشق ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے مطلب وہ تو اصل میں وہی ہوتی ہے بنیاد، تو... اور یہ بات ہے کہ جو عشق ہے اس نے یہ عجیب بات مجھے سکھائی، کہ میں دیوانہ بن گیا اس کا اور ظاہر ہے دیوانہ تو دیوانہ ہوتا ہے، لیکن یہ ایسی دیوانگی ہے کہ اس سے انسان سدھر جاتا ہے۔ یعنی اس کے اخلاق درست ہو جاتے ہیں، اعمال درست ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی جو محبت کی دیوانگی ہے اس سے انسان سدھر جاتا ہے۔


                ماشاءاللہ یہ غزل تضادات میں سے راستہ نکالنے والی غزل ہے اور یقیناً یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہی کے ظاہر ہے مطلب بھیجنے سے یہ ہو سکتا ہے، ورنہ کیسے ان چیزوں کو انسان اکٹھا کر سکتا ہے؟ یہ بات انسان سے ممکن نہیں ہوتی۔


                یہ اب ایک کیفیت ہے دل کی۔


                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں


                یہ دل کی بے تابی کا مطلب کیفیت ہے، بے تابی کی۔ اور واقعی بے تابی میں انسان کیسے اس کو سنبھال سکتا ہے؟ اور وہ کوئی بات بھی اس وقت سمجھنے کی فکر میں... مطلب اس میں نہیں ہوتا پوزیشن میں۔



                کچھ کہا آپ نے پیار سے اس کو

                کچھ کہا آپ نے پیار سے اس کو

                اب کسی اور کی سنتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                دل میرا ہاتھوں سے گیا ہے نکل

                دل میرا ہاتھوں سے نکل گیا ہے نکل

                میرے سینہ... سینے میں اب رہا ہی نہیں

                گویا سینے میں اب رہا ہی نہیں

                گویا سینے میں اب رہا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                آپ نے کب سے چن لیا اس کو

                آپ نے کب سے چن لیا اس کو

                مجھ گنہگار کو پتا ہی نہیں

                مجھ گنہگار کو پتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                دنیا تو لائے خواہشوں کی طرف

                دنیا تو لائے خواہشوں کی طرف

                اس سے اس کو مزہ ملتا ہی نہیں

                اس سے اس کو مزہ ملتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ

                عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ

                تو شریعت سے نکلتا ہی نہیں

                تو شریعت سے نکلتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں


                مطلب یہ ہے کہ عقل جو ہے انسان کی اگر یہ دل کے قابو میں آ جائے۔ اور دل میں اللہ ہو، تو مجھے بتاؤ شریعت سے نکل سکتا ہے؟ وہ تو شریعت سے نہیں نکل سکتا۔


                نفس اس کو دیکھ کے ہاتھ ملتا ہے

                نفس اس کو دیکھ کے ہاتھ ملتا ہے

                کہ اس کے ہاتھ کچھ رہا ہی نہیں

                کہ اس کے ہاتھ کچھ رہا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                مجھ کو ہو یار کی آغوش نصیب

                مجھ کو ہو یار کی آغوش نصیب

                یہی ہے اور تمنا ہی نہیں

                یہی ہے اور تمنا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں

                باتیں شبیر کی دل کی باتیں

                باتیں شبیر کی دل کی باتیں

                اس کو جو اور کچھ آتا ہی نہیں

                اس کو جو اور کچھ آتا ہی نہیں

                دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں

                میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں


                اب ظاہر ہے جوش کی باتیں ہو گئیں۔ اب جوش میں ہوش لانا ضروری ہے۔


                ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش

                ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش

                سر جھکائے ہوئے یوں مے نوش

                سر جھکائے ہوئے ہیں یوں مے نوش

                جیسے ان پر کوئی اثر ہی نہیں

                جیسے ان پر کوئی اثر ہی نہیں

                ان کی مے میں ہے جیسے جوش میں ہوش

                ان کی مے میں ہے جیسے جوش میں ہوش

                ہے زباں چپ مگر میں... مگر ہے دل میں جوش

                ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش

                سر جھکائے ہوئے ہیں یوں مے نوش


                طریقِ جذب یہی ہوتا ہے۔ وہ شریعت سے نہیں نکلتا۔ ہاں، وہ جذب ہے جس میں شریعت سے نہیں نکلنا ہوتا بلکہ شریعت پر دل سے عمل کرنا ہوتا ہے۔

                اب یہ ایسی کیفیت کا ہے : دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے

                راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے

                راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے

                دل کے خانے میں ہے تصویرِ یار

                دل کے خانے میں ہے تصویرِ یار

                وہ ملے جو نظر جھکائی ہے

                وہ ملے جو نظر جھکائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                یہ حضرت نے بھی ایک شعر کسی کا پڑھا تھا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے، 'دل کے میخانے میں ہے تصویرِ یار

                جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی'۔

                تو اصل میں یہ وہی کیفیت ہے کہ انسان کے دل میں جب اللہ ہوتا ہے تو بس تھوڑا سا ذکر کے لیے بیٹھ جائے تو وہاں پہنچ جاتا ہے۔ اور پھر اسی کے لیے کام کرتا ہے۔

                ہر طرف نور ہے، سرور ہے بس

                ہر طرف نور ہے، سرور ہے بس

                میں ہوں اور تو ہے، اور تنہائی ہے

                میں ہوں اور تو ہے، اور تنہائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے

                راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے

                اکبر الہ آبادی مرحوم ان سے کوئی دوست ملے ریٹائرمنٹ کے بعد، انہوں نے کہا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا تنہائی ہے اور یادِ الٰہی ہے۔ تو واقعتاً یہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں جن کو تنہائی بھی ملے اور ساتھ یادِ الٰہی بھی ملے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم ہوتا ہے۔

                میرے دل میں بسا، مجھے کیا کھینچے رونقِ دنیا

                دل کو اک بات جو سمجھائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے

                میرے دل میں بسا ہے تو جب سے

                میرے دل میں بسا ہے تو جب سے


                دل نے دنیا الگ بسائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے

                جلوت و خلوت کی اب بات کہاں

                جلوت و خلوت کی اب بات کہاں

                اب تو تجھ سے ہی شناسائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                سامنے تیرے ہیں اعضاء سجدہ ریز

                سامنے تیرے ہیں اعضاء سجدہ ریز

                سب کی خواہش یہی جو پائی ہے


                سب کی خواہش یہی جو پائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                حیات تھی وگرنہ مر جاتا

                حیات تھی وگرنہ مر جاتا

                اب تو کچھ وار ایسے کھائی ہے

                اب تو کچھ وار ایسے کھائی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                (باقی بعض کیفیات ایسی آ جاتیں ہیں کہ اگر اللہ نہ بچائے تو انسان اس میں جا سکتا ہے۔)

                بوجھ دن بھر میرے دل پر تو رہا

                بوجھ دن بھر میرے دل پر تو رہا

                رات مستی پہ اتر آئی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                عشقِ ناداں کے اشاروں پہ شبیر

                عشقِ ناداں کے اشاروں پہ شبیر

                ہیں خاموش جن کو سمجھ آئی ہے

                ہیں خاموش جن کو سمجھ آئی ہے

                دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے


                یہ عجیب شعر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عشق تو نادان ہے، لیکن جن کو سمجھ آ جاتی ہے وہ خاموش ہیں۔ نادان کی بات پر سمجھدار خاموش ہیں۔ اور جو نادان ہیں وہ دان کی بات کو سمجھتے نہیں۔ نادان کس لیے کہتے ہیں؟ دان کہتے ہیں جاننے والے کو، دانم۔ اور نادان نہ جاننے والے کو۔ تو یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو جانتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اس کو نادان کہتے ہیں۔ تو لوگوں کی نظر میں نادان ہے لیکن اصل تو نادان نہیں ہے نا۔ اب یہ جو اشارے کرتا ہے، تو جو لوگ اس کو سمجھ لیں، تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں کہتے۔ اور جو نہیں سمجھتے وہ اعتراض کرتے ہیں، کہتے ہیں یہ کیا کہہ دیا، یہ کیا کہہ دیا، یہ کیا کہہ دیا۔

                بہلول رحمۃ اللہ علیہ، تو دیوانہ مشہور تھے۔ تو ایک دفعہ ہارون الرشید گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا بہلول کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا اس آدمی کا حال کیا پوچھتے ہو جس کی مرضی سے سب کچھ ہوتا ہے۔ تو ہارون الرشید نے کہا بہلول یہ خدائی کا دعویٰ کب سے شروع کیا ہے؟ میں نے تو خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ابھی آپ جو کہہ رہے ہیں، تو ہر چیز تو اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے، تیری مرضی سے تھوڑا ہو رہا ہے۔ اس نے کہا میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا۔ لہٰذا اب جو کچھ ہو رہا ہے میری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔ اب دیکھ لیں۔ کتنی دانائی کی بات تھی۔ لیکن کس کو کون سی بات سمجھ آ گئی پہلے؟ جب تک سمجھایا نہیں، نادانی کی بات سمجھے گی نا؟ بس یہی بات ہوتی ہے۔ تو یہ جو عشقِ ناداں ہے، اگر اس کی باتیں سمجھداروں کی سمجھ میں آ جائیں تو خاموش ہو جاتے ہیں، وہ اعتراض نہیں کرتے۔ جو اعتراض کر رہے ہیں ان کو سمجھ نہیں آئی۔ ٹھیک ہے نا، وہ معذور ہیں۔


                مقامِ شکر:

                فضل خدایا، سلسلے پہ ہمارا تیرا

                فضل خدایا، سلسلے پہ ہمارا تیرا

                بہت زیادہ ہے رحمت کی نظر ہے کیا تیرا

                بہت زیادہ ہے رحمت کی نظر ہے کیا تیرا


                بس ہم تو شکر اب ہر آن کریں خدایا تیرا

                بس ہم تو شکر اب ہر آن کریں خدایا تیرا

                کبھی بھی شکر ہو سکا نہیں ادا تیرا


                فضل خدایا، سلسلے پہ ہمارا تیرا

                بہت زیادہ ہے رحمت کی نظر ہے کیا تیرا

                بس ہم تو شکر اب ہر آن کریں خدایا تیرا

                کبھی بھی شکر ہو سکا نہیں ادا تیرا




                یہ اب تڑپتی ہوئی غزل ہے،

                پیاس بجھتی نہیں


                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد

                ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد


                ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد


                ہے میخانے عشاق صبح شام ملے،

                ہے میخانے عشاق صبح شام ملے،

                صبح کی صبح ملے اور شام آنے کے بعد

                "پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد"


                یہ جو ہمارا معمول ہے، معمولات جو ہوتے ہیں، یہ جام چڑھانے کی مانند ہیں۔ جیسے اگر انسان کو عشق نصیب ہونے لگے تو یہ اور بڑھتا ہے، اور بڑھتا ہے، اور بڑھتا ہے۔ اس سے پھر پیاس نہیں بجھتی۔ وہ کہتا ہے کہ اور مزید بڑھ جائے۔ اس کو پھر روکنا پڑتا ہے۔ اور صبح و شام مطلب یہ انسان اپنا معمول کر رہا ہوتا ہے۔


                پی کے دیوانہ بنے ہیں پر اتنے ہوش میں ہیں

                پی کے دیوانہ بنے ہیں پر اتنے ہوش میں ہیں

                جتے ہیں کام میں اشارہ صحیح آنے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                یہ جیسے عرض کیا کہ یہ جو جذب ہے، یہ اصل ہوش لانے والا جذب ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے لیے ہر وقت مستعد رہتے ہیں۔


                کون پلاتا ہے مجھے گوشۂ تنہائی میں

                کون پلاتا ہے مجھے گوشۂ تنہائی میں

                ڈالتا پانی بھی ہے آگ سلگانے کے بعد

                ڈالتا پانی بھی ہے آگ سلگانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد،

                ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد


                یعنی ذکر سے انسان کو عشق بھی ملتا ہے اور ساتھ ساتھ اطمینان بھی ملتا ہے۔ کمال ہے! عشق جو ہے نا وہ مسلسل تڑپ ہے اور اطمینان کیا چیز ہے؟ بظاہر ضد... لیکن یہ دونوں چیزیں ملتی ہیں۔ مطلب سکینہ بھی نازل ہو رہا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ تڑپ بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام میں اس کے بڑے اشارے ملتے ہیں۔


                عشق جب اور بڑھے گا تو مزہ آئے گا

                عشق جب اور بڑھے گا تو مزہ آئے گا

                دل دکھائے گا میرا، دل کے چھپانے کے بعد

                دل دکھائے گا میرا، دل کے چھپانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                عشق جب بڑھتا ہے تو ظاہر ہے مزہ تو آتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ تو اب دل تو چھپانا چاہتا ہے لیکن وہ چھپتا ہی نہیں۔ وہ چھپتا ہی نہیں پھر۔


                یہ محبت ہے، یہ اک آگ ہے، کیسے یہ چھپے

                یہ محبت ہے، یہ اک آگ ہے، کیسے یہ چھپے

                کیا پتا کیا ہو پیمانہ چھلک جانے کے بعد

                کیا پتا کیا ہو پیمانہ چھلک جانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                کب تلک یوں ہی پیمانوں کی بات چلتی رہے

                کب تلک یوں ہی پیمانوں کی بات چلتی رہے

                دور سارے ہوں مگر اس کے پلانے کے بعد

                دور سارے ہوں مگر اس کے پلانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                آگ پٹرول کی جب پانی سے بجھتی ہے نہیں

                آگ پٹرول کی جب پانی سے بجھتی ہے نہیں

                کیا بجھے آگ میری اس کے جلانے کے بعد

                کیا بجھے آگ میری اس کے جلانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                اب سمندر بھی ناکافی ہو بجھانے کے لیے

                اب سمندر بھی ناکافی ہو بجھانے کے لیے

                ہاں بجھے یہ تو بجھے، اس کے ہی پانے کے بعد

                ہاں بجھے یہ تو بجھے، اس کے ہی پانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                بے قراری میرے دل کی تجھے معلوم تو ہے

                بے قراری میرے دل کی تجھے معلوم تو ہے

                میں سب کا غیر ہوا تیرے اپنانے کے بعد

                میں سب کا غیر ہوا تیرے اپنانے کے بعد

                میں سب کا غیر ہوا تیرے اپنانے کے بعد


                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد


                آج کل مسلمان اگر اپنی حیثیت کو دیکھ لے تو یہی چیز ہے۔

                بے قراری میرے دل کی تجھے معلوم تو ہے،

                میں سب کا غیر ہوا تیرے اپنانے کے بعد

                ... پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد۔


                حد اس کے پیار کی کوئی نہیں ہو سکتی ہے

                حد اس کے پیار کی کوئی نہیں ہو سکتی ہے

                آگ ہے ایک اور ابھرتی ہے دبانے کے بعد


                آگ ہے ایک اور ابھرتی ہے دبانے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد،

                ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد


                یہ اس حاصلِ غزل شعر ہے:

                موتِ خوش رنگ میرے دل کو نہ ہو کیوں اب شبیرؔ

                موتِ خوش رنگ میرے دل کو نہ ہو کیوں اب شبیرؔ

                وعدہ کہ اس کا جو ملنے کا ہے مرنے کے بعد


                وعدہ کہ اس کا جو ملنے کا ہے مرنے کے بعد

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد،

                پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد،


                ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد


                یہ اب... میرے دل کو کیسے سکون ہو...


                (دوسری غزل)


                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے

                میری آہِ گرم سے زندگی، مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے

                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


                میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں، اسے روک کون سکے گا اب

                میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں، اسے روک کون سکے گا اب

                جسے آنکھ دیکھ سکے نہیں، وہی ذات دل میں بسی سی ہے

                جسے آنکھ دیکھ سکے نہیں، وہی ذات دل میں بسی سی ہے

                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


                دور دنیا مجھ سے تو دور ہو، میرے دل میں کوئی جگہ نہیں

                دور دنیا مجھ سے تو دور ہو، میرے دل میں کوئی جگہ نہیں

                مجھے تجھ سے واسطہ ہے اب کہاں، تیری چاہ بڑی بری سی ہے

                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


                کروں یاد اس کو زباں سے اب، کروں اس کو یاد سے تر بہ تر... کہتے ہیں مومن جو ہے نا ہر وقت رطب اللسان رہے ذکر سے۔


                کروں یاد اس کو زباں سے اب، کروں اس کو یاد سے تر بہ تر

                میرا دل تو اس کا مکان ہے، تبھی ہوک اس سے اٹھی سی ہے

                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


                میرے دل سے غیر نکل تو جا، کبھی بھول کے بھی نہ آنا اب

                میرے دل سے غیر نکل تو جا، کبھی بھول کے بھی نہ آنا اب

                میرے دل میں آئے وہ آئے اب، دھوم اس کی جیسے مچی سی ہے

                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


                میرے لب سے اب یہ اٹھے صدا، میں رہوں نہ اس سے کبھی جدا

                میرے لب سے اب یہ اٹھے صدا، میں رہوں نہ اس سے کبھی جدا

                میرے دل میں وہ ہے شبیرؔ اب، یہ زباں پہ بات چلی سی ہے

                میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں اک جو لگی سی ہے


                یہ عجیب غزل ہے جس کا طرز بھی ساتھ اترا ہے۔ یعنی الفاظ کے ساتھ۔




                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

                میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے


                اس زیست کا ہر لمحہ امانت ہے اس کی جب

                اس زیست کا ہر لمحہ امانت ہے اس کی جب

                اس کے لئے ہی صرف ہو اس پہ آو ٔ ں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے


                ہر دم وہ چاہے میری نظر اس کی طرف ہو

                ہر دم وہ چاہے میری نظر اس کی طرف ہو

                اغیار کے اشاروں سے دل بچاو ٔ ں میں کیسے

                اغیار کے اشاروں سے دل بچاو ٔ ں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

                میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے


                دل مطمئن تو اس پہ ہے کہ اس کا ہی رہے

                دل مطمئن تو اس پہ ہے کہ اس کا ہی رہے

                پر نفس کو اس پہ مطمئن کراؤں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

                آنکھوں کے سامنے شر ہے جس میں خیر ہے مخفی

                آنکھوں کے سامنے شر ہے جس میں خیر ہے مخفی

                مخفی... اس خیر سے میں... اس خیر میں شر سے آنکھیں اب ہٹاؤں میں کیسے

                اس خیر میں شر سے آنکھیں اب ہٹاؤں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

                جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر

                جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر

                بہتر ہو اس سے بھی وہ گر بتاؤں میں کیسے

                بہتر ہو اس سے بھی وہ گر بتاؤں میں کیسے

                دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے

                میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے


                اس غزل میں ذرہ ساتھ ساتھ بات چلتی ہے

                مطلب جو دل مبتلا ہو گیا اللہ کی محبت میں، اس کو کیا کسی اور چیز سے بہلایا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ اب میں وصلِ یار کو چاہتا تو ہوں لیکن اب اس کی تلاش میں ہوں، طریقے کی تلاش میں ہوں، کیا طریقہ اختیار کر لوں کہ وہ پا جاؤں۔ اور اب یہ جو زندگی ہے پوری کی پوری اس کی امانت ہے، اب اس امانت کو پورا کرنے کے لیے میں صرف اسی... اس کو اسی کے لیے خرچ کروں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے لیے کوشش کروں۔ پھر وہ چاہتا ہے کہ میری نظر ہر وقت اس کی طرف ہو۔ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ لیکن اغیار جو ہیں، نفس کی خواہشات ہیں، دوسری چیزیں ہیں، یہ بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان سے میں اپنے دل کو کیسے بچاؤں؟ ایک مستقل کام ہے۔

                پھر یہ ہے کہ دل میرا اس پر مطمئن ہے کہ میں اس کا ہی بن جاؤں، دل میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن میرا نفس جو پرزور ہے اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس پر اس کو کیسے تیار کروں؟ اور پھر میری آنکھوں کے سامنے جو شر ہے، اس میں بھی اللہ نے کچھ خیر رکھا ہے۔ اس خیر کو حاصل کرنے کے لیے میں اس شر سے اپنے آپ کو کیسے بچاؤں؟

                اس کی مثال ایسی ہے جیسے غیر محرم آ جائے سامنے، تو غیر محرم سے اگر کوئی نظر اپنی قصداً ہٹائے گا اللہ کے ڈر سے، تو اللہ پاک اس کو ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے گا۔ تو اب ہے تو شر، لیکن اس شر کے اندر خیر ہے۔ تو اب اتنی طاقت مجھ میں کیسے آ جائے کہ میں اس شر سے اپنے آپ کو بچاؤں، یعنی آنکھیں جو ہیں نا اس سے ہٹا کے اللہ کی طرف کر دوں؟

                تو ان سب چیزوں کا جواب کیا ہے، وہ بتایا:




                جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر

                جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر

                بہتر ہو اس سے بھی وہ گر بتاؤں میں کیسے


                مطلب یہ جو شیخ کی دہلیز ہے، اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو۔ اسی میں یہ دونوں باتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ اور اس سے کوئی بہتر گر ہمارے پاس نہیں ہے۔ اب یہ اس کا جواب ہے۔


                یہ اللہ جل شانہ کے بارے میں ہے، خیالوں میں وہ موجود۔


                    دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

                    سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


                    اس کے ہی ارادے سے ہر اک چیز ہے قائم

                    ہے چاند میں موجود ستاروں میں وہ موجود


                دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

                    سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


                    جس دل میں بصیرت ہو وہ دیکھے اسے ہر وقت

                    ہر آن ہر جگہ مشاہدوں میں وہ موجود


                دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

                    

                    کیا فعل ہے ممکن اگر اس کا نہ ہو فاعل

                    ایسے ہی سوالوں کے جوابوں میں وہ موجود


                دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

                    سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


                    فطرت کے مطابق ہے رخ بگاڑ کی طرف

                    اجزائے منتشر سے تعمیروں میں وہ موجود


                دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

                    سورج کی روشنی میں ہواؤں میں وہ موجود


                    تھوڑی سی اپنے آپ کی تخلیق ہو سامنے

                    انسان میں موجود نظاموں میں وہ موجود


                    گر عقل نفس ذدہ نہ ہو اور حق کی طلب ہو

                    سربستہ کائنات کے رازوں میں وہ موجود


                    شبیر تم طلب دلِ بیدار تو کر لو

                    سچی طلب کے ساتھ دعاؤں میں وہ موجود


                دل عشق سے لبریز خیالوں میں وہ موجود

                    

                اللہ جل شانہ کے بارے میں ہے کہ جو عشق سے لبریز خیالات سے دل پُر ہے، اس میں اللہ موجود ہے۔ سورج کی روشنی سے بھی اللہ کا پتا چلتا ہے، ہواؤں کے چلنے سے بھی۔ اور اس کے ارادے سے ہر چیز قائم ہے۔ چاند میں بھی نظر آ رہے ہیں، ستاروں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ جس دل میں بھی بصیرت ہو، اسے وہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے تو ہر آن، ہر مشاہدے میں وہ ہے۔

                کیا کبھی کوئی چیز بغیر کسی فاعل کے ہو سکتی ہے؟ تو اگر یہ بات ہے تو پھر ایسے سوالوں کے جواب میں وہ موجود ہے۔ Entropy جس کو کہتے ہیں کہ چیزیں خود بخود بگاڑ کی طرف بڑھتی ہیں، تو پھر یہ جو اجزائے منتشر تھے، اس سے جو چیزیں تعمیر ہو رہی ہیں، کیا اس سے وہ پتا نہیں چلتا اس کا؟ اور اگر تھوڑا سا ہم اپنے اندر کا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے، تو سارے نظام جو ہمارے اندر ہیں، کیا اس سے وہ نظر نہیں آ رہے؟ اور عقل نفس زدہ نہ ہو اور حق کی طلب موجود ہو، تو پھر جو کائنات کے سربستہ راز ہیں، ہر ایک میں وہ موجود ہے۔ اس وجہ سے شبیر تم دلِ بیدار طلب کر لو، پھر اس کے بعد جو طلب کے ساتھ دعائیں ہیں اس کے جواب میں وہ موجود ہوں گے۔


                دل بیدار کیا ہے؟


                دلِ بیدار ہی قرآں سے ہدایت لے لے

                دلِ ذاکر ہی تو اللہ سے حکمت لے لے

                ہاں جو اردگرد ہمارے ہیں یہاں چیزیں سب

                وہ رکاوٹ نہ بنے دل ہر سعادت لے لے


                مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ہمارے اردگرد موجود ہیں اگر وہ رکاوٹ نہ بنیں تو پھر دل ہر سعادت حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن سے بھی اور کائنات سے بھی۔


                معرفتِ الٰہی۔


                دل اگر اللہ کو جانے نہیں

                نفس آسانی سے پھر مانے نہیں


                دل اگر اللہ سے مانوس ہو

                پھر ملے اس نفس کو بہانے نہیں


                مطلب یہ رباعی…


                اب یہ غزل ہے،

                جان لو یہ فقط اشعار نہیں،


                مطلب یہ صرف شعر و شاعری نہیں ہے، اس کے اندر کچھ ہے۔


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں

                ہاں مگر اس کا تابعدار نہیں


                (یہ میرا جو دل ہے عقل سے بیزار نہیں ہے، عقل کو مانتا ہے، لیکن اس کا تابعدار بھی نہیں ہے۔ تابعدار کس کا ہے؟ اللہ کا، شریعت کا۔)


                نفس کو عقل سے دبا لینا

                کیسے ہو دل اگر بیدار نہیں؟


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں


                جذبہ خالص تو ایک نعمت ہے

                کہ اس کا نفس پہ مدار نہیں


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں


                باقی چیزوں کا تو نفس پہ مدار ہے نا، تو وہ گڑبڑ کر سکتی ہیں، لیکن جذب کا نفس کے اوپر مدار نہیں ہے۔ لہٰذا وہ... اس کے لیے معاملہ الگ ہوتا ہے۔


                جان لے گا تو فرقِ عشق و ہوس


                ہوس جو ہے نا اس کا خواہشات پر مدار ہے، عشق کا نہیں۔


                جان لے گا تو فرقِ عشق و ہوس

                ہوس تجھ پر اگر سوار نہیں


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں


                نفس کو قابو مجاہدے سے کر

                کیونکہ اس پر تو اعتبار نہیں


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں


                دل کو اذکار سے مانوس کر لے

                لے کے پھرنا دلِ بیمار نہیں


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں


                دل کی اصلاح تو اس کی یاد میں ہے

                ورنہ اس پر تو اختیار نہیں


                مطلب دیکھو، جب اللہ کو یاد کرو گے تو اللہ کے ساتھ تعلق بنے گا تو دل بنے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ ویسے اس پر اختیار تو نہیں ہے، اب کیا کریں گے دل کے ساتھ؟ تو یہ اللہ ہی کرواتا ہے، تو اللہ کو یاد کرو گے تو اللہ کرائے گا۔ اس وجہ سے دل کی اصلاح اللہ کی یاد سے ہو جاتی ہے، باقی چیزوں سے نہیں ہوتی۔


                دل کی اصلاح تو اس کی یاد میں ہے

                ورنہ اس پر تو اختیار نہیں


                یہ تو الہامِ ربانی ہے شبیر

                جان لو یہ فقط اشعار نہیں


                میرا دل عقل سے بیزار نہیں

                ہاں مگر اس کا تابعدار نہیں


                اب قال اور حال کے بارے میں ہے:


                قال سے حال کا سفر کرنا

                دل کو اللہ سے باخبر کرنا


                نفس کو احکام کا پابند کر کے

                اپنے اعمال کو بہتر کرنا


                اب ایک رباعی ہے میرے خیال میں، اس پہ بات ختم کرتے ہیں۔ یہ ہے


                "فکر کی فکر"۔


                تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور

                فکر اس کی نہیں اللہ سے ہوں دور


                خرابی ساری دل کی ہے یہ شبیرؔ

                مگر آنکھوں سے رہتی ہے یہ مستور


                تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور


                یہ ہماری شادیوں میں، سب کو خوش کیا جاتا ہے، سب کو راضی کیا جاتا ہے، جو ناراض ہوتے ہیں ان کو بھی ان دنوں راضی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ایک اللہ کو اس میں راضی کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، اللہ کے رسول کو اس میں خوش کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، باقی سب کو راضی کیا جاتا ہے۔ تو یہ ہے۔


                تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور

                فکر اس کی نہیں اللہ سے ہوں دور


                خرابی ساری دل کی ہے یہ شبیرؔ

                مگر آنکھوں سے رہتی ہے یہ مستور


                میرے خیال میں کافی ہے۔ اصل میں یہ اس میں کافی پچھلے ہفتے کی بھی آ گئی ہیں۔ لیکن میرے خیال میں شاید وہ تھکاوٹ کی وجہ سے وہ کچھ اس میں مسئلہ ہو گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آج پھر دوبارہ وہ کروا دیں، غلطی سے۔ بعد میں پتہ چل گیا تھا لیکن میں نے کہا چلو جی اب اللہ تعالیٰ کی ہی مرضی ہے، ٹھیک ہے۔


                اب وہ ذکر کرتے ہیں، ایک دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورۃ اخلاص۔






                سب سے جامع اور بہترین عنوان:

                طریقِ جذب: دنیا کی محبت کا علاج اور عشقِ الٰہی کا حصول


                متبادل عنوان:

                پیغامِ محبت: ذکرِ الٰہی، تزکیہِ نفس اور بیداریِ قلب کے راستے


                اہم موضوعات:

                * دنیا کی محبت تمام خطاؤں اور گناہوں کی جڑ ہے اور اسے دل سے نکالنے کا طریقہ۔

                * طریقِ جذب کی اہمیت اور اس میں بامقصد صوفیانہ شاعری کا کردار۔

                * قلب (دل) کا عرشِ اصغر ہونا اور اس پر اللہ کی تجلیات کا نزول۔

                * نفس، عقل اور دل کی کشمکش اور شریعت پر استقامت۔

                * موت کی تیاری (مرنے سے پہلے مرنا) اور جان، مال اور وقت کا صحیح استعمال۔

                * اللہ کی معرفت اور کائنات (سورج، چاند، ستارے، انسانی وجود) میں اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ۔

                * اخلاص کی اہمیت اور مرشد (شیخ) کی رہنمائی کی ضرورت۔



                طریقِ جذب: دنیا کی محبت کا علاج اور عشقِ الٰہی کا حصول - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت اول