عارفانہ کلام مجلس
کتاب: پیغامِ محبت
- دنیا کی محبت کا خاتمہ اور اللہ کی محبت کا حصول
- نظرِ بد کے نقصانات اور باطنی نگاہ کی اہمیت
- فنا و بقا اور صبغۃ اللہ (اللہ کے رنگ) کی حقیقت
- مصائب پر صبر، شکر گزاری اور نفس کی اصلاح
- سچی توبہ کی شرائط اور آخرت کی تیاری
- راہِ عشقِ الٰہی، کثرتِ ذکر اور وسوسوں کا علاج
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں طریقِ جذب کی ترجمان کتاب ”پیغامِ محبت“ کے اشعار کی تشریح کی جاتی ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی طرف ہو جائے، دنیا سے نظر ہٹ جائے۔ چونکہ جتنی دنیا پر نظر گہری ہوگی، اور دنیا کی طلب دل میں زیادہ ہوگی، اتنی ہی مصیبتیں اور پریشانیاں دل کے سامنے آئیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ، دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ پس جیسے Power switch کوئی off کر دے تو ساری lights off ہو جاتی ہیں۔ تو اس طرح اگر دنیا کی محبت دل سے نکال دی جائے تو اس سے متعلقہ جتنی بھی مشکلات اور بیماریاں روحانی ہوں گی، وہ ساری کی ساری ختم ہو جائیں گی۔
اس وجہ سے ہمارے اکابر اللہ کی محبت کو پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ جس میں اللہ والوں کی محبت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی صحبت اختیار کی جاتی ہے، اور ان کے کلام کو پڑھا جاتا ہے، ان کی تحریرات کو پڑھا جاتا ہے۔ تو اس سے آہستہ آہستہ دل میں اللہ پاک کی محبت آتی ہے اور دنیا کی محبت کم ہو جاتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے۔
شاعری ایک مؤثر طریقہ کار ہے کسی بھی مفہوم کو دل میں اتارنے کے لیے۔ ویسے تو کوئی بھی اچھی بات دل پر اثر کرتی ہے، لیکن وہ اچھی بات اگر اچھی شاعری کے ساتھ ہو اور اچھی آواز کے ساتھ ہو تو پھر یہ اثر اور بڑھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے کوشش کی جاتی ہے کہ اچھی شاعری کو پیش کیا جائے، اچھی آواز کا بھی انتظام کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ ہے کہ فی الوقت اس کی تشریح کی بڑی ضرورت ہے۔ تو تشریح کے نقطہ نظر سے اس کو پیش کیا جاتا ہے، ساتھیوں کی خواہش تھی کہ باقاعدہ اس کو ایک دن دے دیا جائے۔ اس وجہ سے منگل کا دن اس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
آج اس غزل سے شروع کیا جاتا ہے: ”ایک طرف ہی جائے نظر“۔
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
سر کی آنکھوں سے نظر آئے نہیں دل کی آنکھوں سے مگر آئے نظر
کتنی... کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
سر کی آنکھیں، جو ہماری عام آنکھیں ہیں، ان کے دیکھنے کی range بہت محدود ہے scientifically بھی۔ لیکن جو دل کی آنکھیں ہیں ان کی range کافی زیادہ ہے۔ اگر کسی کی دل کی آنکھیں روشن ہو جائیں تو اس کو بہت کچھ نظر آ سکتا ہے۔
جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
جس نظر میں اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق نہ پایا جاتا ہو، وہ نظر بہت خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں لالچ ہوتی ہے، حرص ہوتی ہے۔ نتیجتاً جس کو ہم نظرِ بد کہتے ہیں وہ بن جاتی ہے۔ ایسے لوگ جب کسی چیز کو احساسِ محرومی کے ساتھ دیکھتے ہیں تو وہ نظر لگ جاتی ہے۔ اسی لیے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو فوراً ما شاء اللہ کہے۔ ما شاء اللہ کہنے کی وجہ یہ ہے، ما شاء اللہ کہنے سے انسان کی نظر دنیا سے ہٹ کر اللہ پہ آ جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کی وہ چیز نہیں ہوتی پھر جو نظرِ بد کی ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی ما شاء اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اس کو اگر اپنا معمول بنا دے، بالخصوص وہ لوگ جن کی نظر لگتی ہو، ان کو تو اس کو باقاعدہ معمول بنانا چاہیے جس سے دوسرا محفوظ ہو جاتا ہے۔
تو یہ ہے کہ یہ باقاعدہ حدیث سے ثابت ہے اور قرآن سے بھی ثابت ہے۔ مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔ اور یہ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظرِ بد سے اونٹ ہنڈیا میں چلا جاتا ہے اور انسان قبر میں۔ مطلب اتنی سخت نظر بھی لگ سکتی ہے۔ عرب کے بدوؤں میں بعض لوگ واقعی اتنے تیز نظر کے ہوتے تھے کہ وہ باقاعدہ یعنی پہلے سے بتا دیتے تھے کہ اب دیکھو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ لیتے اور بس، اونٹ گر جاتے۔ ہیں جی؟
ہمارے ایک ساتھی ہیں، رشتہ دار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ گاڑیاں بہت پسند ہیں، گاڑی جو ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں ایک دفعہ میں نماز کے لیے جا رہا تھا، تو پاس جا کے مجھے ایک گاڑی نظر آئی۔ اس کے ساتھ لوگ کھڑے تھے تو اس کو مجھے بڑی... بڑی اچھی لگی۔ کہتے ہیں جب وہ، میں واپس نماز سے آ رہا تھا تو ان کے جو Tie-rod ہو... گاڑی کھڑے کھڑے وہ ٹوٹ گئے تھے۔ وہ، جا رہے... موو (move) بھی نہیں کر رہے۔ Tie-rod ٹوٹ گئے تھے۔ ہیں جی؟ تو ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ بالخصوص ایسے لوگ جو کہ... جن کی نظر لگتی ہو ان کو اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے۔
ہمارے کچھ دور کے رشتہ دار ہیں، ان کی نظر بھی بہت لگتی تھی۔ تو ہمارے ایک اور رشتہ دار کہہ رہے ہیں، جو صوابی کے ہیں، کہتے ہیں کہ اپنے ایک دفعہ... لوگوں، لوگ ان سے بہت تنگ تھے مطلب ان کی نظر سے۔ تو ایک دفعہ اپنی بیٹی کے ہاں گئے تھے تو وہاں ان کی ایک گائے تھی تو ان کو بڑی خوبصورت لگی۔ جیسے اس کو دیکھا تو گائے پاگل ہو گئی اور پاگل ہو کے اس پر حملہ کر دیا۔ اس کو نیچے گرا دیا اور قریب تھا کہ اس کو مار دیتے کہ لوگوں نے چھڑا لیا اس کو۔ اس کے بعد اس کی نظر لگنی بند ہو گئی۔ ظاہر ہے وہ دل میں خوف سا پیدا ہو گیا، اس وجہ سے اس نظر سے پھر دیکھ نہیں سکتے تھے تو پھر اس کے بعد اس کی نظر نہیں لگتی تھی۔
تو یہ چیزیں ہیں، مطلب انسان اس سے بچ نہیں سکتا لیکن بہرحال اس کے لیے جو طریقے ہیں، ان طریقوں کو استعمال کرنا چاہیے، وہ یہی ہے کہ ما شاء اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ لے اور دل میں بھی اس سے نظر ہٹا لے کہ بھئی یہ کیا چیز ہے، ہمیں تو اللہ چاہیے۔
جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
اس سے مجھ کو بھی آشنا کر دے اس سے مجھ کو بھی آشنا کر دے کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
یہ اس کے بالکل opposite ہے، پہلے شعر کا۔ اس کا opposite ہے۔ یعنی ایسی نظر بھی ہوتی ہے جو کسی کے اوپر پڑ جائے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا دیتی ہے۔ ایسے بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبی ہوئی نظر ہوتی ہے، اور جب وہ کسی کے اوپر پڑتی ہے تو آناً فاناً وہ اللہ جل شانہ کی محبت اس میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ تو یہ بات مطلب شاعر کہہ رہا ہے۔
اس سے مجھ کو بھی آشنا کر دے اس سے مجھ کو بھی آشنا کر دے کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
میں تو جو بھی کروں شبیر یہاں میں تو جو بھی کروں شبیر یہاں بس میری اس طرف ہی جائے نظر بس میری اس طرف ہی جائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
یعنی جو بھی انسان کرتا ہے تو ظاہر ہے نظر تو اس پر ہی پڑنی چاہیے کیونکہ وہی سب کچھ کرتا ہے۔ ہماری ہر چیز کے ساتھ اسی کا تعلق ہے۔ ماضی کے ساتھ بھی، حال کے ساتھ بھی، مستقبل کے ساتھ بھی، چھوٹے کے ساتھ بھی، بڑے کے ساتھ بھی۔ اس وجہ سے اللہ پر نظر اگر ہو تو انسان بچ سکتا ہے۔
دوسری غزل ہے: مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے۔
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے تیرا رنگ ہی میرا رنگ ہے میری آرزو یہی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے
صِبْغَةَ اللَّهِ، یہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں اللہ کا رنگ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی اپنی بھی ایک خواہش ہوتی ہے، انسان کا اپنا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے، انسان کے اپنے بھی ایک جذبات ہوتے ہیں، جس سے وہ سمجھتا ہے اچھا، برا، چھوٹا، بڑا۔ سب چیزیں وہ اپنی نظر کے ساتھ، اپنے رنگ کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کا رنگ اللہ کا رنگ بن جائے، تو پھر ہر چیز کو وہ اس رنگ سے دیکھتا ہے۔ جیسے میں سرخ رنگ کی عینک کو پہن لوں تو مجھے ہر چیز سرخ لگے گی، سبز رنگ کی عینک پہن لوں تو ہر چیز سبز لگے گی۔ ہیں جی؟ اسی طریقے سے جو اللہ کے رنگ میں ہوتا ہے تو اس کو ہر چیز اس طرح نظر آتی ہے جس طرح اللہ چاہتا ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ ہی کے لیے سب کچھ کرتا ہے، اللہ ہی کے لیے سوچتا ہے، اللہ ہی پاک وہ رب العزت...
تیرا رنگ ہے سب پہ غالب سارے رنگ ہوں جذب اس میں تیرا رنگ ہے سب پہ غالب سارے رنگ ہوں جذب اس میں
گو نظر میں ہو یہ سیاہ پر یہ اصل میں ہی روشنی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے
یہ تصوف کا ایک شعبہ ہے، انوارات کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ دل کا، روح کا، مختلف لطائف کے رنگ ہوتے ہیں۔ تو تصور ذاتِ بحت جس کو کہتے ہیں، جس کی نظر خاص اللہ پہ ہو کسی اور چیز پہ نہ ہو، تو اس کا نور سیاہ ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے یہ اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ نظر میں تو یہ سیاہ آ رہا ہے، لیکن اصل میں یہی روشن کرنے والا ہے۔ کیونکہ سارے رنگوں کو جو absorb کرتا ہے، سائنس (science) کے لحاظ سے بھی جو سارے رنگوں کو absorb کرتا ہے، اگر کالا کپڑا پہنا ہو اور کوئی چیز کر رہا ہو تو وہ سیاہ نظر آتا ہے۔ سائنس (science) کے لحاظ سے بھی کالے رنگ کی definition ہی یہی ہے کہ وہ سارے رنگوں کو absorb کرتا ہے۔ سفید رنگ کی definition ہے کہ سارے رنگوں کو reflect کرتا ہے۔ ہیں جی؟ سارے رنگوں کو reflect کرتا ہے تو سفید ہے۔ اور اگر باقی رنگوں کو absorb کر لے اور صرف ایک رنگ کو نکالے، تو وہی رنگ ہوتا ہے جس رنگ کو وہ reflect کرتا ہے، جیسے سبز یا سرخ یا جو بھی ہو۔ تو اسی طریقے سے جو سیاہ ہے وہ سب کو absorb کرتا ہے، تو اس لیے کہتے ہیں کہ اصل روشنی کی بنیاد یہی ہے۔
تیرا رنگ ہے سب پہ غالب سارے رنگ ہوں جذب اسی میں گو نظر میں ہو یہ سیاہ پر یہ اصل میں ہی روشنی ہے مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے
میرا رنگ فانی مٹے گا تیرا رنگ اس پہ چڑھے گا میرا رنگ فانی مٹے گا تیرا رنگ اس پہ چڑھے گا یہ فنا بقا کا ہے رستہ یہی بات میں نے سنی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے
مطلب یہ ہے کہ دیکھو آپ اس دیوار پہ اگر کوئی رنگ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس رنگ کو ہٹائیں گے، کیونکہ اگر یہ موجود رہے گا تو وہ رنگ اس پہ نہیں چڑھے گا صحیح۔ اس لیے جو ہمارا رنگ ہے، جو فانی رنگ ہے، جو ہمارے جذبات ہیں، فانی جذبات، تو ان کو ہٹائیں گے اس کے بعد پھر بقا کا رنگ چڑھے گا۔ اس کا مطلب ہے فنا پہلے ہے بقا بعد میں ہے۔ جو لوگ پہلے بقا لانا چاہتے ہیں تو وہ ظاہر ہے غلط فہمی میں مبتلا ہیں، ہو نہیں سکتا۔
میرا رنگ فانی مٹے گا تیرا رنگ اس پہ چڑھے گا یہ فنا بقا کا ہے رستہ یہی بات میں نے سنی ہے
میں وہ خاک خاک کا میں ہوں مگر کس طرف ہوں میں منسوب میں وہ خاک خاک کا میں ہوں مگر کس طرف ہوں میں منسوب میں خطا کا پتلا یقیناً پر امید اس سے تو بھی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے تیرا رنگ ہی میرا ہی رنگ ہے میری آرزو یہی ہے
میری لاج رکھ لے خدایا کروں صلہ صلہ نہ میں بدنام تیرے عفو سے ہے امید اب مجھ میں گو بہت ہی کمی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے
میں شبیر حقیر کہوں کیا میں اٹھاؤں آنکھ تو کیسے میں شبیر حقیر کہوں کیا میں اٹھاؤں آنکھ تو کیسے میرے لفظ اچھے تو ہوں گے مگر حالت کتنی گری ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے میرا اپنا رنگ نہیں ہے تیرا رنگ ہی میرا رنگ ہو میری آرزو یہی ہے
یہ اب تیسری غزل جو ہے، چونکہ انسان کے اوپر تکالیف اور مصیبتیں، پریشانیاں آتی ہیں، لیکن صبر کا تقاضا ہوتا ہے، اس میں انسان صبر کرے۔ تو جس کو اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو تو یقیناً وہ اس کو اللہ کی طرف سے سمجھ کر اس کے اوپر اس کو صبر آ جاتا ہے۔ تو اس میں اسی کا تقاضا ہے جو آنے والی غزل ہے، اس کا نام ہے: ”کیا ہے“۔
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
تو کہ دنیا کے تقاضوں سے خبردار ہے خوب تو کہ دنیا کے تقاضوں سے خبردار ہے خوب یہ بھی تو جان لے کہ عشق کی دنیا کیا ہے یہ بھی تو جان لے کہ عشق کی دنیا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
تو جب اس کا ہے تو تیری تو کوئی چیز نہیں تو جب اس کا ہے تو تیری تو کوئی چیز نہیں سب کچھ اس کا ہے جب پھر سوچ کہ تیرا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
دل تو بادشاہ ہے یہ بادشاہ بھی جب اس کو ہے دیا دل تو بادشاہ ہے یہ بادشاہ بھی جب اس کو ہے دیا پھر تیرے پاس ذرا دیکھ کہ رکھا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
یعنی جب سب کچھ اس کا ہے، جب تیرا دل بھی اس کا ہے، جب تو بھی اس کا ہے، پھر کیوں شور مچاتے ہو؟ اور یہی سبق قرآن نے دیا ہے: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ ہیں جی؟ بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں۔ تو جب ہماری یہ حالت ہے کہ ہم اللہ کے ہیں، پھر ہم کیسے مصیبت کے بارے میں شکوہ شکایت کر سکتے ہیں؟ ہاں البتہ اللہ پاک سے مدد مانگ سکتے ہیں۔
جیسے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جو جادوگر آئے تھے، انہوں نے فرعون کے ساتھ تو بڑی پکی بات کر لی، فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ، جو کچھ کرنا ہے کر لو۔ ان سے نرم بات نہیں کی، کمزور۔ لیکن اللہ پاک سے یہ مانگا کہ اے اللہ ہمارے اوپر صبر انڈیل دے۔ ہیں جی؟ کیونکہ کمزور ہیں، تو اللہ کے سامنے تو کوئی بھی پہلوان نہیں۔ تو اللہ پاک سے تو ہم کمزوری کی وجہ سے مانگیں، لیکن لوگوں کے سامنے ایسے کہ...
یہ تکالیف تو ہر کسی کو پیش آتی ہیں یہ تکالیف تو ہر کسی کو پیش آتی ہیں اس پہ گر چیخ لے تو چیخ سے ہوتا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
قدم قدم پہ نعمتوں کو کرتے ہو تم وصول قدم قدم پہ نعمتوں کو کرتے ہو تم وصول ان نعمتوں پہ کبھی شکر بھی کیا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ہمارے شکر کا معیار یہ ہے، اگر ہمیں اچانک کوئی چیز مل جائے اس پہ تو شکر ادا کر لیتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہ چیز مل گئی۔ لیکن جو روز اللہ پاک بغیر کسی مسئلے اور تکلیف کے دے رہا ہے، اس پر شکر نہیں کرتے۔ مثلاً جو تنخواہ ملتی ہے باقاعدگی کے ساتھ ہر مہینے، اس پر شکر بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ ہیں جی؟ حالانکہ وہ زیادہ راحت کا سبب ہے کیونکہ اس میں انسان budgeting کر سکتا ہے، انتظام کر سکتا ہے، planning کر سکتا ہے۔ جو اچانک مل گیا اس کے لیے تو انسان کچھ نہیں کر سکتا وہ تو بس وقتی طور پہ ہو جاتا ہے۔ تو اس لیے اللہ پاک کی جو نعمتیں مسلسل ہمیں مل رہی ہیں، ہماری آنکھ کام کر رہی ہے، ہمارے کان کام کر رہے ہیں، زبان کام کر رہی ہے، ہاتھ پاؤں کام کر رہے ہیں، اور ہر چیز...
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے گزر رہے تھے، صحابہ کرام ساتھ تھے۔ ایک شخص پڑا ہوا تھا، اس کے ہاتھ بھی ٹھیک نہیں تھے، پیر بھی ٹھیک نہیں تھے، آنکھیں بھی نہیں تھیں، بات بھی نہیں کر سکتے تھے، اس طرح جیسے کہ بالکل گوشت کا ایک لوتھڑا پڑا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا صحابہ کرام سے کہ کیا اس کو بھی شکر کرنا چاہیے؟ تو صحابہ کرام حیران ہو گئے کہ یا رسول اللہ، اس میں ہم کیا کہیں گے، شکر کیسے کرے گا؟ فرمایا: شکر کرنا پڑے گا، کیونکہ پیشاب تو صحیح کر رہا ہے۔ دیکھ لو۔ جو نعمت بھی اللہ دے رہا ہے تو اس کا تو شکر کریں نا۔ ہیں جی؟ اگر اگر وہ چیز بھی چلی جائے پھر کیا ہو گا؟ پھر تو بہت زیادہ مسئلہ مسئلہ بن جائے گا۔ تو یہ تکالیف جو ہمیں مل رہی ہیں تو ان پہ اللہ تعالیٰ... آخرت میں اجر بھی دے رہے ہیں، ایک مسئلہ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں بہت ساری نعمتیں مل رہی ہیں۔ دوسری بات۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ ہیں جی؟ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اللہ پاک ہی سب کچھ دے رہے ہیں، لہٰذا ہم لوگ کیا وہ اس پر چیخیں گے۔
عقل سے کام لے اور نفس کو دبانا ہے شبیر عقل سے کام لے اور نفس کو دبانا ہے شبیر پھر تو تو جان لے اچھا کیا برا کیا ہے پھر تو تو جان لے اچھا کیا برا کیا ہے تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
یعنی عقل سے انسان کام لے اور نفس کو دبائے، پھر انسان اچھے اور برے کا فرق کر سکتا ہے، ورنہ نہیں کر سکتا۔ درمیان میں نفس آ جاتا ہے تو بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو اچھی ہیں لیکن ان کو بیوقوف لوگ بری کہتے ہیں۔ ہیں جی؟ اور بہت ساری چیزیں جو بری ہیں ان کو بیوقوف لوگ اچھی کہتے ہیں۔ اب یہ wheeling جو بچے کرتے ہیں موٹر سائیکل پہ، وہ اس کو اچھا کہتے ہیں، سارے لوگ ان پہ نفرین کر رہے ہوتے ہیں کہ کیا کر رہا ہے بیوقوف۔ لیکن وہ ظاہر ہے وہ کہتے ہیں، اس پر فخر کرتے ہیں باقاعدہ۔ اور فخر سے گزرتے ہیں جب کبھی مطلب کر رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو ہمیں دیکھو ہم کتنے بڑے بیوقوف ہیں۔ ہیں جی؟ تو ظاہر ہے ان کا وہ، یہی ہے، سوچ یہی ہے۔ تو جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو تو اچھے اور برے کا فرق نہیں معلوم ہو سکتا۔ اچھے برے کا فرق تب معلوم ہو سکتا ہے جب انسان کا نفس ٹھیک ہو جائے۔
یہ... ایک انتظار...
میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار چھت ہے کلمے کی میرے سر پہ ہمیش اور زباں پہ رکھوں میں استغفار
میرا مالک جب بلائے گا مجھے میں نے رکھا ہے، رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار چھت ہے کلمے کی میرے سر پہ ہمیش اور زباں پہ رکھوں میں استغفار بڑا غفور ہے رحیم ہے وہ اور وہ سبحان بھی عظیم بھی ہے تو کہ بے رنگ ہے اس کے رنگ میں رنگ جا وہ کرے کیا پھر تجھے باغ و بہار میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
کلمے کی چھت یعنی ایمان، بہت بڑی بات ہے۔ اور استغفار گناہوں کو مسلسل دھونا۔ جب انسان سے گناہ ہو رہے اور ساتھ ساتھ توبہ بھی کر رہا ہو تو گناہ دھل رہے ہوتے ہیں۔ اور ایمان کے ذریعے سے قبول ہوتی ہے۔
ارے نادان گلاب کیسے کھلیں جب مناسب نہ ہو ماحول اس کا دل گناہوں کی طرف مائل ہو کیسے آئے اس پہ رحمت کی پھوار میرے مالک نے بلایا ہے مجھے میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
یہ ایک قانون بتا رہے ہیں۔ تو چاہتا ہے کہ گلاب کھلیں، تو اس کے لیے مناسب ماحول بھی... گلاب کو بونا پڑے گا، مطلب اس کو اس کی ٹہنی کو، پھر اس کو پانی دینا پڑے گا، کھاد دینی پڑے گی، یہ ساری چیزیں ہوں گی تو ماحول جب بنے گا اس کا تو پھر گلاب کے پھول کھلیں گے۔ اب تو کانٹے بو رہا ہے اور ساتھ کہتا ہے اس سے گلاب کھل جائیں، تو اب کیسے مطلب ہوگا؟
ارے نادان گلاب کیسے کھلیں جب مناسب نہ ہو ماحول اس کا دل گناہوں کی طرف مائل ہو کیسے آئے اس پہ رحمت کی پھوار ہاں مگر چاہے تو کہ اس کا بنے گندگی سے تجھے مڑنا ہوگا ہاں مگر چاہے تو کہ اس کا بنے گندگی سے تجھے مڑنا ہوگا رک جا، کر عزم پھر نہ کرنے کا دل گزشتہ پہ ہو بھرپور شرمسار رک جا، کر عزم پھر نہ کرنے کا دل گزشتہ پہ ہو بھرپور شرمسار
یہ تین شرائط توبہ کی بتا دیں۔ توبہ کی تین شرطیں ہیں کہ رک جا، جو گناہ کر رہے ہو اس سے رک جا۔ اور پھر نہ کرنے کا عزم کر۔ اور جو کچھ کیا ہے اس پر بھرپور شرمساری کا اظہار کر۔ تو اس سے توبہ قبول ہو جائے گی۔
نظر اٹھا کے دیکھو میں تھوڑا چار سو دنیا کے ہیں نقشے موجود نظر اٹھا کے دیکھو میں تھوڑا چار سو دنیا کے نقشے موجود ہاں مگر دل میں اگر جھانک سکوں وہاں موجود ہے تصویرِ یار میرے مالک نے بلایا میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
بے وفائی اور محبت دل میں کیسے دونوں جمع ہو سکتے ہیں بے وفائی اور محبت دل میں کیسے دونوں جمع ہو سکتے ہیں عشق کا بھی ہے ایک اٹل قانون کہ یہ ہوتا ہے بس صرف ایک بار میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
اب سنو دل میرا کہتا ہے کیا اس کی آغوش میں خاموش رہوں اب سنو دل میرا کہتا ہے کیا اس کی آغوش میں خاموش رہوں اور چھپ جاؤں میں اغیار سے اب شاید نہ ہوسکے مزید انتظار اور چھپ جاؤں میں اغیار سے اب شاید نہ ہوسکے مزید انتظار میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
سر میرا سجدے میں رہے صبح و شام اور سامنے آنکھوں کے قرآن رہے سر میرا سجدے میں رہے صبح و شام اور سامنے آنکھوں کے قرآن رہے کعبہ نظروں میں دل میں یار رہے کہیں یہی شبیر کے اشعار کعبہ نظروں میں دل میں یار رہے کہیں یہی شبیر کے اشعار میرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
فکر دنیا کو ذرا کم کر لے فکر آخرت کا بھی کچھ غم کر لے فکر دنیا کو ذرا کم کر لے فکر آخرت کا بھی کچھ غم کر لے تاکہ غمناکیوں سے بچ جائے اور مستقبل کو بھی محکم کر لے تاکہ غمناکیوں سے بچ جائے اور مستقبل کو بھی محکم کر لے
موت کی یاد جگائے تجھ کو ذکر غفلت سے بچائے تجھ کو موت کی یاد جگائے تجھ کو ذکر غفلت سے بچائے تجھ کو راہ سنت سے تو محبوب بنے راہ سنت سے تو محبوب بنے فضل جنت میں پہنچائے تجھ کو فضل جنت میں پہنچائے تجھ کو فکر دنیا کو ذرا کم کر لے فکر آخرت کا بھی کچھ غم کر لے تاکہ غمناکیوں سے بچ جائے اور مستقبل کو بھی محکم کر لے
یہ ایک غزل ہے۔ ذرا طریقِ جذب کا پیغام لیے ہوئے۔
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
میں جل جاؤں بکھر جاؤں گریباں چاک میں کر دوں میں جل جاؤں بکھر جاؤں گریباں چاک میں کر دوں میں خود کو خاک کر دوں اور مجھے روکے کوئی نہ نہ میں خود کو خاک کر دوں اور مجھے روکے کوئی نہ نہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
میں پگھلوں عشق میں اس کے میری آنکھوں میں بس وہ ہو میں پگھلوں عشق میں اس کے میری آنکھوں میں بس وہ ہو میں تیرا ہوں تو میرا ہے یہی اس کا ہو فرمانا میں تیرا ہوں تو میرا ہے یہی اس کا ہو فرمانا میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
دیکھ لو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں پاگل کہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پاک کی یاد میں مستانہ وار مشغول ہوتا ہے تو لوگ اس کو دیوانہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ دیوانگی بہت اچھی دیوانگی ہے، جو بہت بڑی عقلمندی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قرآن پاک کی اس آیت کو اور حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث شریف کو، دونوں کو ملا کر دیکھو تو میرے خیال میں بات سمجھ آ جائے گی۔
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ ریا کاری کا Label بھی قبول میں شوق سے کر لوں ریا کاری کا Label بھی قبول میں شوق سے کر لوں یہ کیا ہے عشق میں مجھ کو قبول ہر بات، ہر طعنہ یہ کیا ہے عشق میں مجھ کو قبول ہر بات، ہر طعنہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ
یہ حدیث شریف، دوسری حدیث شریف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، فرمایا اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاکاری سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے مطلب یعنی ریاکاری کے Label سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے۔ لوگ کہیں گے۔ اور یہ الزامات بہت جلدی ملتے ہیں۔ تھوڑا سا بھی کوئی اللہ کے دین کی طرف آنے لگے تو رشتہ داروں سے پہلے Label کون سا ملتا ہے؟ یہ لکھتے ہیں (کہتے ہیں) تو پاگل ہو گیا۔ اور یہ تو ریاکار ہے۔ بالکل یہی، یہ ایسی Fit باتیں ہیں کہ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ سب سے پہلے Label یہی لگتے ہیں۔ لہٰذا اس Label کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا، تو پھر چلے گا نا آگے۔ تو جب اس Label کی پرواہ نہیں کرے گا تو وہ کون ہو گا؟ آخر وہ دیوانگی کی بھی حد ہی ہو گی نا۔ جب تک اس کیفیت پہ کوئی نہیں آیا ہو گا، اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا۔ تو یہ بات اس وجہ سے ضروری ہے۔
ریا کاری کا Label بھی قبول میں شوق سے کر لوں ریا کاری کا Label بھی قبول میں شوق سے کر لوں یہ کیا ہے عشق میں مجھ کو قبول ہر بات، ہر طعنہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ جلے جو عشق میں اس کو ملے جسمِ جدید ہر دم جلے جو عشق میں اس کو ملے جسمِ جدید ہر دم یہی تو گفت عشق کاکی کا تھا جس میں گزر جانا یہی تو گفت عشق کاکی کا تھا جس میں گزر جانا میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
ہمارے چشتی سلسلے کے بہت بڑے بزرگ حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ، یہ جب فوت ہوئے ہیں تو اس فوت، فوتگی کے وقت یہ شعر بار بار، بار بار پڑھا جا رہا تھا ان کی فرمائش پر، اور وہ تو یہ تھا کہ کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را ہر زماں از غیب جانِ دیگر است جو خنجرِ تسلیم سے کٹ جاتے ہیں، ان کو ہر وقت نیا، جدید جسم ملتا ہے۔ یہ یہ مطلب یہ پڑھا جا رہا تھا اور اسی میں حضرت اس دنیا سے تشریف لے گئے۔
کبھی وہ سامنے آئے کبھی پردوں میں چھپ جائے کبھی وہ سامنے آئے کبھی پردوں میں چھپ جائے یہی ہے امتحانِ عشق اس میں نہ پھسل جانا یہی ہے امتحانِ عشق اس میں نہ پھسل جانا میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ
کبھی وہ سامنے آئے کا مطلب بسط کی حالت۔ جب انسان بالکل اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے آپ کو پاتا ہے اور عبادت میں اس کو بڑا لطف آتا ہے اور بہت زیادہ شوق اور ذوق ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کہ اللہ کو سامنے کوئی پا رہا ہے۔ اور کبھی قبض کی حالت ہوتی ہے جس میں انسان ایسا ہوتا ہے جیسے پتھر ہو گیا دل۔ جیسے کچھ بھی نہیں ہے۔ سب کچھ ختم ہو گیا۔ تو گویا کہ وہ اپنی وہ کیفیت چھین لیتے ہیں۔ تو گویا پردے میں چلا جاتا ہے۔ تو کبھی وہ سامنے آئے، کبھی پردوں میں چلا جائے (چھپ جائے)۔ فرمایا یہی امتحانِ عشق ہے اس میں پھسل نہ جائے۔ کہ انسان کی قبض کی حالت ہو تو سب کچھ چھوڑ بیٹھے۔ اسی وقت عشق کا امتحان ہے۔ لہٰذا اس میں کامیاب ہونا ہے۔
کمالِ حسنِ فانی کب مقابل اس کے ٹھہرے ہاں کمالِ حسنِ فانی کب مقابل اس کے ٹھہرے ہاں جو اس میں مار کھائے اس کا کیا پھر ذوق ہے جانانا جو اس میں مار کھائے اس کا کیا پھر ذوق ہے جانانا میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ
مطلب یہ ہے کہ حسنِ فانی، وہ دنیا میں جو بھی چیز پسندیدہ ہو اس کو ہم حسنِ فانی کہتے ہیں۔ چاہے وہ Building ہو، چاہے گاڑی ہو، چاہے عورت ہو، چاہے پیسہ ہو، جو بھی ہے حسنِ فانی ہے۔ تو وہ جو اصل حسن ہے، حسنِ ازل، اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ تو جو اس کو چھوڑ کر ان چیزوں میں پڑے گا تو کمال ہے اس کا ذوق... کیا ذوق ہو گا؟ اتنی عظیم چیز کو، اتنی عظیم نعمت کو انسان اتنی فضول چیز پر قربان کرتا ہے۔ تو بالکل ایسے ہے جیسے کہ کسی کے ہاتھ ہیرا ہو بچے کے ہاتھ، اور کوئی اس کو ورغلائے اور اس کو Toffee دے دے اور ہیرا لے جائے۔ تو شیطان یہی کرتا ہے نا۔ ناسمجھی، نفس کو Toffee دے دیتا ہے اور ہیرا لے جاتا ہے۔ تو اسی وجہ سے مطلب ظاہر ہے اس چیز کو سمجھنا چاہیے۔ یہ دیوانگی کی حالت آئے گی تو پھر ان چیزوں کی بچت ہوگی۔ کیونکہ دوسری طرف دیوانگی تو ہے ہی نا، دنیا کی محبت تو ہے ہی، اس کی دعوت دینے کی ضرورت تو نہیں ہے نا۔ تو اگر یہ نہیں ہو گا تو ظاہر ہے مقابلہ کیسے ہو گا؟
ہوس میں عشق میں کیا فرق ہے شبیر اگر پوچھو ہوس میں عشق میں کیا فرق ہے شبیر اگر پوچھو یہاں خود غرضی ہے اس میں یہاں خود غرضی ہے اس میں مٹنے میں ہے کچھ پانا یہاں خود غرضی ہے اس میں مٹنے میں ہے کچھ پانا میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ کروں گا ذکر ہر دم یہ میرا نعرہ ہے مستانہ
ایک مشہور سوال ہے عشق اور ہوس میں کیا فرق ہے؟ تو ہوس میں خود غرضی ہوتی ہے۔ اس میں معشوق کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اپنا خیال رکھا جاتا ہے۔ اور عشق میں مٹنا ہوتا ہے۔ اس میں اپنا خیال نہیں رکھا جاتا، معشوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ تو جس کو دیکھو کہ اس میں یہ چیز ہے، معشوق کا خیال نہیں رکھتا اپنا خیال رکھتا ہے تو وہ ہوس ہے۔ اور جس میں یہ ہے کہ وہ اپنا خیال نہیں رکھتا، معشوق کا خیال رکھتا ہے تو وہ عشق ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو ہوس سے نکال کر عشقِ حقیقی میں لانا چاہیے۔
ذرا ساقی سے عشق کا جام لیجیے ہے کام کی یہ چیز اس سے کام لیجیے ذرا ساقی سے عشق کا جام لیجیے ہے کام کی یہ چیز اس سے کام لیجیے اگر پانا مطلوب ہے آپ کو اگر پانا مطلوب ہے آپ کو ذرا درِ ساقی جبڑوں سے تھام لیجیے
ذرا ساقی سے عشق کا جام لیجیے ہے کام کی یہ چیز اس سے کام لیجیے ساقی سے مراد شیخ ہے۔ یہاں پر یعنی جو شیخ آپ کو یعنی عشق کا جام پلا رہا ہے۔ اس سے یہ لے لو، یہی کام کی چیز ہے۔ اور اگر آپ کو اپنا مطلوب پانا ہے تو پھر اس کے لیے شیخ کے در کو تھام لو۔
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے ادب یہاں پہ ہے پہلی سیڑھی ادب یہاں پہ ہے پہلی سیڑھی اس پہ تو چڑھ کے آنا سنبھل کے ادب یہاں پہ ہے پہلی سیڑھی اس پہ تو چڑھ کے آنا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے قدم قدم پہ ہیں چھپے رہزن کتنے کتنے نیے بہروپ بھرے قدم قدم پہ ہیں چھپے رہزن کتنے کتنے نیے بہروپ بھرے اپنی منزل کو طے تو کرنا ہے ان سے خود کو بچانا سنبھل کے اپنی منزل کو طے تو کرنا ہے ان سے خود کو بچانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
یہ عشق کی آگ ہے اس کو دیکھو مگر اندر سے یہ گلزار سمجھو یہ عشق کی آگ ہے اس کو دیکھو مگر اندر سے یہ گلزار سمجھو اس سمندر کو خود میں بھرنا ہے خود کو اس سے جلانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے یہاں پر وصلِ یار کے واسطے روئے تو بار بار، بار تو روئے یہاں پہ وصلِ یار کے واسطے روئے تو بار بار، بار تو روئے یہ کوئی کھیل کی نہیں ہے بات عشق اور اس کا پانا سنبھل کے یہ کوئی کھیل کی نہیں ہے بات عشق اور اس کا پانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
تو کہ جس راہ پہ گامزن ہے اب اس میں کانٹے ہیں وسوسوں کے بہت تو کہ جس راہ پہ گامزن ہے اب اس میں کانٹے ہیں وسوسوں کے بہت زخمی زخمی ہیں گو قدم تیرے ان پہ مرہم لگانا سنبھل کے زخمی زخمی ہیں گو قدم تیرے ان پہ مرہم لگانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
یہ کل ہی ایک بچہ پوچھ رہا تھا سوال کہ یہ جو جب سے یہ ہمیں معمولات کے Chart کا کہا گیا ہے تو میرے دل میں بار بار یہی وسوسہ آتا ہے کہ یہ تو ریاکاری ہے۔ تو جہاں حقیقی ریاکاری ہوتی ہے وہاں تو شیطان وسوسہ نہیں ڈالتا۔ وہاں تو اس سے ریاکاری کرواتا ہے۔ اور جہاں علاج کے لیے ہو، جیسے کہ میں نے بتا دیا کہ بھئی یہ تو علاج ہے، اور علاج کے لیے تو معلومات ظاہر ہے جو Doctor کرنا چاہے گا تو آپ ان کو بتائیں گے۔ تو آخر وہ دیکھے گا کہ بھئی تو کیا کر رہا ہے؟ تو اس کے حساب سے وہ فیصلہ کرے گا نا۔ تو یہ تو ان کے، ان کو آپ اپنے احوال بتا رہے ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ ریاکاری نہیں ہے تو ان کو بات سمجھ تو آ گئی لیکن ایسے وسوسے آتے ہیں۔ اور یہ سب کو آتے ہیں۔ لہٰذا وسوسوں کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ اور اس کا علاج کروا...
تو کہ جس راہ پہ گامزن ہے اب اس میں کانٹے ہیں وسوسوں کے بہت زخمی زخمی ہیں گو قدم تیرے ان پہ مرہم لگانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب وسوسہ آئے تو اس پہ خوش ہونا چاہیے۔ خوش ہونا کس طرح چاہیے؟ علاجاً۔ شیخ کے بارے میں وسوسہ آئے تو دل کو سمجھاؤ، الحمد للہ، شیخ کے ساتھ مجھے اتنی محبت ہو گئی ہے کہ شیطان کو اس کی فکر ہو گئی ہے۔ لہٰذا اس پہ خوش ہو جاؤ، شیطان کی سکیم Fail ہو جائے گی۔ اچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وسوسہ ڈالے، تو آپ کہیں الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نصیب فرمائی، شیطان کو اس کی فکر ہو گئی ہے، لہٰذا وسوسہ ڈال رہا ہے، اس پر خوش ہو جاؤ۔ بجائے اس کے کہ اس سے تنگ ہو جاؤ، اس کا مقابلہ یوں کرو۔
طور بھی عشق کی آگ میں جل جائے اور کبھی معراج بھی ہو جائے نصیب طور بھی عشق کی آگ میں جل جائے کبھی معراج بھی ہو جائے نصیب عشق لگے پر نظر یہ آئے نہیں سر نہ اوپر اٹھانا سنبھل کے عشق لگے پر نظر یہ آئے نہیں سر نہ اوپر اٹھانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے تیرے اس عشق میں جل جانے میں جانتا ہوں میں کہ تیرا ہے سکوں تیرے اس عشق میں جل جانے میں جانتا ہوں میں کہ تیرا ہے سکوں تیرا جل جانا ہو منظور اسے جل کے خود کو دکھانا سنبھل کے تیرا جل جانا ہو منظور اسے جل کے خود کو دکھانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
اب کہ منزل یہ تیری سیدھی ہے اب تو رکنے کا نام بھی تو نہ لے اب یہ منزل کہ تیری سیدھی ہے اب تو رکنے کا نام بھی تو نہ لے درِ یار پر بھی جا کے رکنا نہیں درِ یار پر بھی جا کے رکنا نہیں خود کو اس کا بنانا سنبھل کے درِ یار پر بھی جا کے رکنا نہیں خود کو اس کا بنانا سنبھل کے دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
یہ عجیب شعر ہے اس میں تصوف کا بہت بڑا نقطہ چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اب تجھے اپنی منزل کا پتہ چل گیا کہ اب تو صحیح جگہ پہنچ گیا۔ اب درمیان میں آرام نہیں ہے۔ اب چلتے رہو، چلتے رہو۔ حتیٰ کہ محبوب کے در پر بھی پہنچ جاؤ پھر بھی رکنا نہیں۔
اور اپنے آپ کو اس کا بنا کے دکھانا ہے۔ اس میں اصل میں ایک ہوتا ہے سیر الی اللہ۔ سیر الی اللہ میں انسان سیکھتا ہے اس کا بننا۔ سیر الی اللہ میں کیا سیکھتا ہے؟ اس کا بننا سیکھتا ہے۔ اور سیر فی اللہ میں پھر اس کا اپنے آپ کو بنا رہا ہوتا ہے۔ تو سیر الی اللہ میں گویا جب محبوب کے در پہ جیسے پہنچ گیا، اب سیر فی اللہ میں اب اس کا اپنے آپ کو بنا رہا ہے، لہٰذا وہ Unlimited ہے۔ وہ پھر محدود نہیں ہے۔ اس لیے کہتے ہیں سیر فی اللہ یہ محدود نہیں ہے۔ کوئی پتہ نہیں کہ شیخ سے مرید آگے چلا جائے، مرید شیخ، مرید سے آگے چلا جائے۔ وہ پھر Unlimited وہ ہے مطلب Field ہے۔ لیکن یہ ہے کہ سیر الی اللہ محدود ہے۔ وہ پہنچ جاتا ہے، سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد پھر اس کو عمل میں لانا ہے۔
تو ہے شبیر کا پر شبیر کی نہ مان مان اس کی جسے تجھ کو ہے دیا تو ہے شبیر کا پر شبیر کی نہ مان مان اس کی جسے تجھ کو ہے دیا عشق میں ایسا ہی تو پھر ہوتا ہے یہی سب کو سکھانا سنبھل کے عشق میں ایسا ہی تو پھر ہوتا ہے یہی سب کو سکھانا سنبھل کے
دل سے کہہ رہا ہے (دلِ نادان پہ شروع ہوا ہے نا)۔ دل سے کہہ رہا ہے کہ تو شبیر کا ہے، ٹھیک ہے تو اس کا دل ہے۔ لیکن اب شبیر کی نہ مان۔ ہاں، کیونکہ شبیر نے جسے تجھے دیا ہے، اب اس کی مان۔ اب ظاہر ہے تو اس کا ہے۔ لہٰذا اب تو اس کی بات مان، اور عشق میں تو ایسا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو چلایا ہے۔
اللہ اکبر! یہ ذرا وہاں کا نظارہ ہے تھوڑا سا اس... قرآن پاک میں بھی یہ نظارے ہیں۔ مطلب قرآن پاک میں کافی نظارے ہیں، اگر دیکھا جائے۔ تو ظاہر ہے اس کی ایک جھلک:
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے اس نے جینے کا جو پایا ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا
یہاں پر الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ ایک محاورہ ہے جو بالکل صحیح معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ باقی تقریباً ہر جگہ پر غلط استعمال ہوتا ہے۔ جہاں کے لیے یہ مطلب لوگ استعمال کرتے ہیں سب جگہ پر غلط استعمال ہوتا ہے، اور الحمد للہ یہاں پر یہ صحیح استعمال ہوا ہے اللہ کا شکر ہے۔ وہ کیا ہے؟ "ہُو کا عالم"۔ "ہُو کا عالم" کیا ہوتا ہے؟ کہ صرف وہی ہے۔ صرف وہی سامنے ہو، تو وہ تو وہاں پر ہوگا نا۔ باقی کوئی بھی نظر میں نہیں ہوگا، ہُو کا عالم ہوگا۔ یہاں پر ہُو کا عالم سے مراد یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ غلط ہے! بالکل غلط ہے، غلط العام جس کو ہم کہہ سکتے ہیں، یہ بالکل غلط سوچ ہے لیکن چل پڑا ہے اردو میں۔ بہت ساری چیزیں غلط چل رہی ہیں، ان میں ایک یہ بھی غلط ہے۔ لیکن یہاں پر الحمد للہ بہت ہی fit یہاں پر...
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا پتا نہیں کتنا عرصہ گزر جائے گا لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ پتا ہی... پتا ہی نہیں لگے گا، کتنا مطلب وقت گزر چکا ہوگا۔ تو وہ بس اللہ کے دیدار میں گم ہوں گے۔
وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا
وقت گزرنے کا تو احساس ختم وقت گزرنے کا تو احساس ختم چہرہ اپنا جو دکھایا ہوگا چہرہ اپنا جو دکھایا ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا سمجھے ہم کیا پھر اس عالم کو شبیر سمجھے ہم کیا پھر اس عالم کو شبیر سب کیسے ہوں گے اور کیا ہوگا؟ سب کیسے ہوں گے اور کیا ہوگا؟ اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
امید کرتا ہوں ان شاء اللہ کہ اس کتاب کا حاصلِ غزل ہے، ان شاء اللہ مطلب یہ ہے کہ پوری کتاب میں پیغامِ محبت کا جو Climax ہے میرے خیال میں اس غزل میں ہے۔ جو مطلب اس میں پیغام ہے وہ یہی ہے کہ سب کچھ اسی کے لیے وہ مطلب وہ کر لو، چھوڑ دو، اصل میں تو یہی تو وہ ہے، جس کو پانا ہے۔
اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سامنے محبوب ہمارا ہوگا ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے اس نے جینے کا جو پایا ہوگا اس نے جینے کا جو پایا ہوگا وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا ہُو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا وقت گزرنے کا تو احساس ختم وقت گزرنے کا تو احساس ختم چہرہ اپنا جو دکھایا ہوگا اُف کیا خوب نظارہ ہوگا سمجھے ہم کیا پھر اس عالم کو شبیر سمجھے ہم کیا پھر اس عالم کو شبیر سب کیسے ہوں گے اور کیا ہوگا؟ اُف کیا خوب نظارہ ہوگا
یہ ایک دوسری غزل ہے "شوقِ جنوں"۔
شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں ہاتھ میں کیا ہے میرے کیا ہوں میں سوچتا رہتا ہوں کہ کیا میں کروں ہاتھ میں کیا ہے میرے کیا ہوں میں سوچتا رہتا ہوں کہ کیا میں کروں
دل سے آواز ایک آئی ہے یہ میرا نفس جس کا باغی ہے دل سے آواز ایک آئی ہے یہ میرا نفس جس کا باغی ہے اسے پابندِ سلاسل میں کروں اسے پابندِ سلاسل میں کروں جو کہے وہ اس پہ چلا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
یہ ذو معنی شعر ہے، اس میں دو معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی دل سے میری آواز آئی کہ میرا نفس جو باغی ہے اس کو میں پابندِ سلاسل کروں۔ سلاسل کہتے ہیں زنجیر کو، یعنی اس کو میں قید کر لوں۔ تو یہ بھی صحیح ہے، ظاہر ہے نفس کو آپ قید کریں گے، اس کو منوائیں گے، کچھ اس کی نہیں مانیں گے، تو پھر بات چلے گی۔ لیکن سلاسل یہ ہمارے سلسلوں کی جمع ہے، تصوف میں اس کو لے آؤں۔ یعنی اس کو میں سلسلوں کا پابند کر دوں اور سلسلوں کے طریقوں پہ اس کو چلاؤں اور جو وہاں سے ارشاد ہو اسی طریقے پہ میں چلا کروں۔ تو دونوں لحاظ سے یہ معنی بالکل صحیح بیٹھتے ہیں، لہٰذا دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں۔
دل سے آواز ایک آئی ہے یہ میرا نفس جس کا باغی ہے اسے پابندِ سلاسل میں کروں جو کہے وہ اس پہ چلا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
اس لیے تو میں کہتا ہوں کہ یہ الہامی اشعار ہیں، اس طرح چیزوں کو fit کرنا ناممکن سی بات ہے مطلب مضمون کے لحاظ سے اور پھر تمام چیزوں کو اس طرح لانا یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ لیکن اللہ پاک جب کروانا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسباب بناتا ہے۔
جان و مال وقت مجھے دے کر اس نے کام ان کا مجھے بتایا ہے جان و مال وقت مجھے دے کر اس نے کام ان کا مجھے بتایا ہے جن سے بچنے کو کہا ہے ان کو جان لوں اور ان سے بچا میں کروں جان لوں اور ان سے بچا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
یہ اس میں علمِ نافع کی بھی بات آ گئی، کہ میں جان لوں، کہ مجھے کن کن چیزوں سے روکنے کے لیے کہا ہے؟ اور پھر میں اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچا لوں۔
مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں اس میں فقہ کا ایک مشہور کلیہ بھی آ گیا، سبحان اللہ! اللہ پاک ہی کراتے ہیں ورنہ ہمارے کہاں بس... ان تمام چیزوں کی رعایت کرنا۔ تو فقہ کا ایک مشہور قاعدہ آ گیا کہ مطلب یہ ہے کہ جو ردی... نفی ہے مطلب جس کو کہتے ہیں نا مطلب جو گناہوں سے بچنا مستحب سے افضل ہے۔ گناہوں سے بچنا کیا ہے؟ وہ مستحب سے افضل ہے۔ اس کا پتا نہیں قانون ہے، مجھے ذہن سے الفاظ اتر گئے ہیں، لیکن اس میں یہ ہے کہ جو غلط چیزیں ہیں ان سے بچنا ضروری ہے بمقابلہ اس کے کہ آپ کچھ اچھا کریں۔ وہ مجھے جب یاد آ جائیں گے تو بتا دوں گا لیکن یہ فقہ کا مشہور قاعدہ ہے۔
مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں اس کا غیر جو بھی ہے کہیں بھی ہے کبھی اس سے نہ اب ملا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
سبحان اللہ! دیکھیں اس میں بھی کیا عجیب combination ہے۔ کہ اس کا غیر کہیں بھی ہے، اس میں مطلب یہ ہے کہ وہ جہان کا آ گیا، جہاں پر بھی ہے۔ اور کبھی بھی، یعنی زمان کا آ گیا، یعنی زمان و مکان دونوں چیزیں اس کے لحاظ سے ہیں۔ اس کا غیر جو بھی ہے، یہ بھی مطلب یہ ہے کہ آ گیا، یعنی Complete specific... completely specified جس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا غیر جو بھی ہے، جہاں بھی ہے، اور جس وقت بھی ہے، میں اس سے نہ ملا کروں۔
مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں مجھے اپنا بنا کے زور دے کر کہا کہ غیر کا کبھی بھی نہ بنوں اس کا غیر جو بھی ہے کہیں بھی ہے کبھی اس سے نہ اب ملا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وُہی شبیر مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وُہی شبیر پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں شوق دل میں میرے مچلتا ہے کہ حقِ بندگی ادا میں کروں
یہاں پر جو Correction والوں نے Correction کی ہے، "وُہی" کو "وہی" کر دیا ہے۔ بات بالکل صحیح ہے، اردو کے لحاظ سے لیکن وہی وُہی سے بنا ہے، وہ بنا اسی سے ہے اور اس وقت شعری ضرورت اسی میں ہے کہ اس کو وُہی ہونا چاہیے۔ مطلب ہے "مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وُہی شبیر"۔ وہی شبیر سے سکتہ آئے گا۔ تو اس میں یہ ہے کہ جو شعری ضرورت ہے، شعری ضرورت میں بہت ساری چیزوں کو آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بہرحال یہ تو اس کے پرانے جو ہے جہاں سے بنا ہے اس کی طرف عود کر جانا ہے۔
مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وُہی شبیر پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں
اور استحضار کے لیے "وُہی" میں جو چیز ہے "وہی" میں نہیں ہے۔ "وُہی" میں Specification ہے۔ مطلب وہ زور دے کر وُہی! تو اس طرح جیسے ہوتا ہے نا:
مجھے شوقِ جنوں کہے اپنا ہر وقت یاد رہے وُہی شبیر پھر اس کی یاد میں مست ہو ہو کر جو کہوں اس کو پھر لکھا میں کروں
جذب۔ یہ تھوڑا سا میں نے Change کیا ہے تو میرے خیال میں میں اس کو اس سے پڑھوں تو زیادہ بہتر ہے۔ تھوڑا سا میں نے اس کو Change کیا ہے اخیر میں۔ تو میں پھر Laptop سے ہی ان شاء اللہ اس کو سنا دوں گا۔
اندازِ محبت۔ سبحان اللہ!
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا یہ غلام اور بندگی... بندگی غلام سے بھی نیچے کی چیز ہے۔ کیونکہ غلام کے کچھ حقوق ہوتے ہیں، بندگی کے حقوق نہیں ہوتے۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو بندہ ہوتا ہے اس کا اپنا کوئی حق نہیں ہوتا، البتہ مالک کبھی اس کو تخت پر بٹھاتا ہے کبھی تختے پہ چڑھاتا ہے یہ اس کی اپنی مرضی ہوتی ہے اور دونوں میں کچھ انکار نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اندازِ محبت میں اندازِ بندگی ہوتی ہے۔
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا کبھی اتنا نیچے گرا دیا کہ زمین کے نیچے کر دیا اور کبھی اتنا اوپر کر دیا کہ فردوس بریں پہنچا دیا۔ یہ اس کے کرشمے ہیں۔
کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا عجب اندازِ محبت مجھے اس کا ہے نصیب عجب اندازِ محبت مجھے اس کا ہے نصیب مٹی دیکھی کبھی اس سے بنتی ہیرا دیکھا مٹی دیکھی کبھی اس سے بنتی ہیرا دیکھا کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا
کبھی خیالات کے صحرا میں اکیلے بھٹکوں کبھی خیالات کے صحرا میں اکیلے بھٹکوں اور کبھی چاہنے والوں کا بھی میلہ دیکھا اور کبھی چاہنے والوں کا بھی میلہ دیکھا کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
میں اندھے نور کی تلاش میں چل پڑا تو پھر میں اندھے نور کی تلاش میں چل پڑا تو پھر جو دیکھا خود پہ اس کے نور کا جلوہ دیکھا جو دیکھا خود پہ اس کے نور کا جلوہ دیکھا مطلب سب کچھ اپنے اندر ہے۔ ذرا اپنی طرف انسان توجہ کر لے، اس کا بنا لے، سب کچھ اپنے اندر ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بڑے درد سے ایک دفعہ یہ شعر سنایا، فرمایا:
دل کے میخانے میں ہے تصویرِ یار دل کے میخانے میں ہے تصویرِ یار جب ذرا گردن جھکا لی دیکھ لی
مطلب جب توفیق مل گئی اور اپنے اندر دیکھ لیا تو جھانک لیا پتا چل گیا۔ اس وجہ سے کبھی انسان دور ادھر ادھر بھاگ رہا ہوتا ہے، تلاش کر رہا ہوتا ہے وہ چیزیں اپنے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔
میں اندھے نور کی تلاش میں چل پڑا تو پھر جو دیکھا خود پہ اس کے نور کا جلوہ دیکھا بے بسی سے کبھی میں یوں جب اشکبار ہوا بے بسی سے کبھی میں یوں جب اشکبار ہوا بولے کیوں مجھ کو نہ تو نے اپنا دیکھا؟ بولے کیوں مجھ کو کیوں نہ آپ نے اپنا دیکھا کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا مطلب مایوس ہونے نہیں دیا۔
پھر کبھی اس کی چاہتوں پہ مجھے ناز ہوا پھر کبھی اس کی چاہتوں پہ مجھے ناز ہوا تو معاً لطف پہ اس کے خود کو مٹتا دیکھا تو معاً لطف پہ اس کے خود کو مٹتا دیکھا پھر کبھی اس کی چاہتوں پہ مجھے ناز ہوا تو معاً لطف پہ اس کے خود کو مٹتا دیکھا جو رضا میری ہے وہ اس کی رضا میں ہے گم جو رضا میری ہے وہ اس کی رضا میں ہے گم پھر ہر ایک کام مطابق اپنی رضا کا دیکھا پھر ہر ایک کام مطابق اپنی رضا کا دیکھا کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
یہ آخری ماشاءاللہ حاصلِ غزل شعر ہے۔ یہی تو عشق کی دنیا ہے بھلا دے سب شبیر یہی تو عشق کی دنیا ہے بھلا دے سب شبیر میں نے دیکھا مگر کچھ اس کے نہ سوا دیکھا میں نے دیکھا مگر کچھ اس کے نہ سوا دیکھا کبھی فردوس کی جانب خود کو اٹھتا دیکھا زمیں سے نیچے کبھی اپنا تماشا دیکھا
اخفا اور اظہار۔ یہ ایک رباعی ہے۔
ساقی نے مجھ کو خوب پلایا ہے عشق کا جام جس سے بنا ہے خوب محبت کا یہ پیغام ساقی نے مجھ کو خوب پلایا ہے عشق کا جام جس سے بنا ہے خوب محبت کا یہ پیغام اخفا کا دور اس کا گو طویل بہت تھا پر اس میں ہی ہوا ہے اس اظہار کا انتظام ساقی نے مجھ کو خوب پلایا ہے عشق کا جام جس سے بنا ہے خوب محبت کا یہ پیغام
حضرت نے مجھ سے فرمایا تھا نا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے اچھا کہلوائے۔ اس وقت میں حیران تھا کہ ہمارے کیا مطلب... اور پھر اردو میں تصور بھی نہیں تھا کہ اردو میں بھی کبھی میں کر سکوں گا۔ لیکن اتنا عرصہ درمیان میں بالکل غائب۔ حتیٰ کہ میرا جو بھائی ہے، ایک دن ایک ہمارے خالو تھے، بہت بڑے شاعر گزرے ہیں، فوت ہو گئے ہیں اب، پشتو زبان کے شاعر تھے۔ تو اس خالو نے کہا کہ جو شاعر ہوتا ہے وہ ہمیشہ شاعر ہوتا ہے، پھر وہ شاعری نہیں چھوڑ سکتا۔ تو میرے بھائی نے کہا بالکل غلط! میرا بھائی شاعر تھا اب شاعر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس نے کہا میرا بھائی شاعر تھا اور اب شاعر نہیں ہے۔ اب چونکہ اس کو میں کئی بار سنا چکا تھا، تو معترف بھی تھے وہ میرے جو خالو تھے، تو اس نے انکار تو نہیں کیا۔ فرمایا نہیں! وہ شاعر نہیں تھے، میں نے کہا کیسے؟ آپ خود ان کے بارے میں کہتے تھے؟ کہتا ہے بس وہ تک بندی کرتے ہوں گے، مطلب جو ہوشیار آدمی ہے، جس چیز کی طرف متوجہ ہو جائے تو کر لیتے ہیں، شاعر نہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس طریقے سے چھڑا لیا۔ لیکن دیکھو اللہ پاک نے رکھا ہوا تھا۔ چھپا کے رکھا ہوا تھا، اس کے بارے میں ہمیں... وہی حضرت مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ والا جو فیض، وہ چھپا کے رکھا ہوا تھا اور اپنے وقت پر اس کو ظاہر کرنا تھا تو جب ظاہر کر دیا تو ظاہر کر دیا۔ تو ہم تو بالکل اس کو حضرت مولانا صاحب کی کرامت سمجھتے ہیں۔ الحمد للہ! یہ ان کی کرامت ہے۔
ساقی نے مجھ کو خوب پلایا ہے عشق کا جام جس سے بنا ہے خوب محبت کا یہ پیغام اخفا کا دور اس کا گو طویل بہت تھا پر اس میں ہی ہوا ہے اس اظہار کا انتظام
یہ "سفرِ عشق" ہے۔ اس کے بعد میرے خیال میں شاید ہم ذکر کر لیں۔
سکوں ظاہر پہ میرے گو ہے طاری سکوں ظاہر پہ میرے گو ہے طاری پر اندر اضطراب ہے دل پہ جاری پر اندر اضطراب ہے دل پہ جاری زباں خاموش میری چپ ہو لیکن زباں خاموش میری چپ ہو لیکن کوئی جانے نہیں حالت ہماری کوئی جانے نہیں حالت ہماری دبایا مجھ کو ہے شہواتِ نفس نے دبایا مجھ کو ہے شہواتِ نفس نے ہے جنگ جاری مگر دشمن ہے بھاری ہے جنگ جاری مگر دشمن ہے بھاری دشمن اتنا بھاری ہے میں آپ کو کیا بتاؤں؟ دیکھو ہر طرف سے زبردست مسلسل تیر برس رہے ہیں۔ آپ بازار میں جائیں تو تیر برس رہے ہوں گے، آپ کو اپنی طرف Attract کر رہے ہوں گے۔ آپ... مطلب یہ ہے کہ کسی اخبار کو دیکھیں تو تیر برس رہے ہوں گے، کسی اور چیز کو... مطلب جس طرف انسان جائے تو اس وقت مطلب پورا ایک نظام ہے چاہتوں کا اپنی طرف مسلسل۔ اور آج کل تو Science بھی ساتھ ملا ہوا ہے۔ Advertisement کے تمام جو اصول ہیں، وہ اس کے اندر شامل ہیں، لہٰذا ان کو خوب سے خوب تر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور بڑے سے بڑے جھوٹ کو بھی سچ بنا کر پیش کرنا ان کے لیے آسان ہے۔ اور بدترین چیز کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا... میں آپ کو کیا بتاؤں اندازہ کر لیں، سگریٹ کے اشتہار میں یہ چیز بالکل موجود ہے۔ سگریٹ کے اشتہار کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ "سگریٹ نوشی مضرِ صحت ہے۔ وزارتِ صحت"۔ لکھا ہے! لیکن اس کے اوپر وہ اشتہار اتنا جدید تر سے جاذبِ نظر بنایا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس کو نہیں پڑھتا۔ کوئی بھی اس کو نہیں پڑھتا۔ ایسے عجیب انداز ہے۔ کہتے ہیں کہ شراب کے بارے میں یورپ میں ایک دفعہ Conference ہو رہی تھی، شراب کے نقصانات بتائے جا رہے تھے، یہ نقصان ہے، یہ نقصان ہے، یہ نقصان ہے۔ تو شراب کی Conference جب ختم ہو گئی تو اختتام پر Announcement ہو گئی کہ اب محفل کے اختتام پر Conference کے اختتام پر میز پر سرخ شراب آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھ لو وہ Conference جس پر ہو رہی ہے وہ مطلب اس کو بھی اس کا اثر اتنا ہے۔ تو یہ جتنے بھی مطلب اس کے نفی ہیں، شر کی، اس کو بہت کمزور بنایا گیا ہے اور جو اس کی Attraction ہے اس کو بہت Powerful بنایا گیا ہے۔ تو دشمن کے ساتھ لڑائی ہے اور جنگ بہت مطلب وہ پلڑا اس کا بہت بھاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل میں خوب جمانا ہوگا، بہت جمانا ہوگا، بہت جمانا ہوگا، تاکہ اس شر سے ہم بچ جائیں۔
دبایا مجھ کو ہے شہواتِ نفس نے ہے جنگ جاری مگر دشمن ہے بھاری وساوس زور پہ شیطان کے ہیں وساوس زور پہ شیطان کے ہیں چلائی میں نے ہے لاحول کی آری چلائی میں نے ہے لاحول کی آری قدم میرے پھسل جائیں کہیں نہ قدم میرے پھسل جائیں کہیں نہ قیامت میں ہو نہ ہووے شرمساری قیامت میں ہو نہ ہووے شرمساری وقت کوتاہ ہے کر لے فکر اپنی وقت کوتاہ ہے کر لے فکر اپنی تو نوری بن کہیں نہ ہو تو ناری دکھایا راستہ محسن نے عشق کا دکھایا راستہ محسن نے عشق کا بنوں اللہ کا ہے کوشش یہ ساری محسن سے مراد شیخ ہے۔ دکھایا راستہ محسن نے عشق کا بنوں اللہ کا ہے کوشش یہ ساری سفر عشق کا اب شبیر جاری کہ جس میں جاں میری اس پر ہو واری کہ جس میں جاں میری اس پر ہو واری
کامیابی! کامیابی تو کام سے ہوگی اور حسنِ انتظام سے ہوگی قالبِ بے حال لاش بے روح ہے اس کی قالبِ بے حال لاش بے روح ہے اس کی تدفین اہتمام سے ہوگی تدفین اہتمام سے ہوگی یعنی جو قالبِ بے حال ہے وہ ایک لاش ہے اور اس کو بڑے حسن و احتشام سے دفن کیا جائے گا۔ ظاہر ہے اس کے بعد پھر کیا رہتا ہے؟ قالبِ بے حال لاش بے روح ہے اس کی تدفین اہتمام سے ہوگی کامیابی تو کام سے ہوگی اور حسنِ انتظام سے ہوگی
میرے خیال میں کافی ہے کیونکہ پھر ذکر کے لیے وقت نہیں بچے گا۔ اور تھوڑا تھوڑا کرکے ہی سنانا زیادہ مفید ہے۔ ان شاء اللہ!
ایک دفعہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورہ اخلاص۔