محبتِ الٰہی اور دل کی اصلاح
کتاب: پیغامِ محبت
- دنیا کی محبت کے نقصانات اور ترکِ خواہشات
- خودی، بے خودی اور فنائیت کا مقام
- دل کی پاکیزگی، وسعتِ قلبی اور الہامِ الٰہی
- صحبتِ مشائخ اور اہلِ حق کی اہمیت
- دین کا ظاہر و باطن
- مقامِ عبدیت اور رضائے الٰہی کی طلب
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں پیغامِ محبت سے کچھ پڑھا جاتا ہے اور اس کی تشریح کی جاتی ہے۔
الحمد للہ تین کتابیں جو ابھی تک ہوئی ہیں ان میں شاہراہِ محبت، یہ حج سے متعلق ہے اور حج کا عاشقانہ طریقہ اس میں دیا ہوا ہے، اور ساتھ سفرنامہ بھی ہے، اور منظوم سفرنامہ ہے۔ ساتھ ساتھ اس میں وہاں جو کیفیات آئی تھیں، ان کیفیات کا بھی اس میں ہے۔
اور پیغامِ محبت میں دل کو جو appeal کرنے والی چیزیں ہیں وہ ہیں۔ یعنی انسان کا جو جذبۂ محبت ہے، اس کو اپنی حقیقت کی طرف موڑ دیا جائے۔ دوسرے جو محبت کے جذبے ہیں جن کی ممانعت ہے، ان سے اس جذبے کی طرف لے آئے جو مطلوب ہے۔ تو لہٰذا یہ بہت بڑا کام ہے اور ساتھ یہ جیسے کہ حدیث شریف ہے کہ: "حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ" (دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے) تو اسی طریقے سے اگر دنیا کی محبت سے انسان بچ جائے تو تمام خطاؤں سے انسان نکل سکتا ہے، اور اللہ کی محبت نصیب ہو جائے تو ساری سعادتیں نصیب ہو جاتی ہیں، ہو سکتی ہیں۔
اسی دنیا کی محبت کو نکالنے کا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل کا، دل میں لانے کا جو طریق ہے اس کو طریقِ جذب کہتے ہیں۔ تو یہ جو کتاب ہے، یہ طریقِ جذب کی ترجمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا فائدہ نصیب فرمائے۔
یہ آج کی غزل دیوانہ یا فرزانہ، یہ ایک کیفیت ہے۔ جس میں ایک لوگوں کی سمجھ ہوتی ہے اور ایک انسان کی اپنی سمجھ ہوتی ہے۔ تو بہت ساری باتیں لوگ اپنے انداز سے ان کو تولتے ہیں، سوچتے ہیں۔ ایک کے لیے وہ بہت زیادہ کامیابی ہوتی ہے اور لوگوں کے لیے وہ بہت بڑی ناکامی ہوتی ہے۔ تو اس میں گویا کہ اسی کیفیت کا بیان ہے کہ انسان خود اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے اور لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ لیکن لوگوں کے سوچنے سے کیا، چاہے وہ اچھا سوچیں، برا سوچیں، اصل تو انسان کی اپنی ذات کی بات ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو گا اور کیا ہو رہا ہو گا۔
دیوانہ یا فرزانہ
دلِ عاشق کو کہیں لوگ اگر دیوانہ
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اسے فرزانہ
یعنی اللہ تعالیٰ اس کو اگر کامیاب سمجھے تو لوگ بے شک اس کو دیوانہ کہتے رہیں، لوگوں کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔
گھومتے شمع کے گرد ہیں اور جل جاتے ہیں
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اپنا پروانہ
نالے آتے تو زباں پر ہیں مگر شکوہ نہیں
عذر اپنا ہو قبول نالے ہیں یہ مستانہ
انسان کی اپنی کیفیت میں کبھی کبھی فریادی باتیں زبان پر آتی ہیں، محبت کی وجہ سے جس کا ظاہر شکوہ بنتا ہے لیکن وہ شکوہ نہیں ہوتا۔ وہ اصل میں فریاد ہوتی ہے۔ تو یہی اصل میں مطلب شاعر کہنا چاہتا ہے کہ اس میں میرا عذر قبول ہو کیونکہ یہ مستانہ نالے ہیں محبت میں ہیں، شکوہ نہیں ہے اس میں۔
خود کو آسان نہیں ہے یہ مٹانا لیکن
ہے یہ مٹ جانا کہاں، ہے یہ باقی بن جانا
یعنی خود کو مٹانا تو آسان نہیں ہے، لیکن یہ جو مٹنا ہم لوگ سمجھ رہے ہیں اس میں وہ مٹنا کہاں ہے وہ تو باقی بن جانا ہے۔ یعنی فانی چیز کو دے کے انسان باقی کو لے لیتا ہے۔
جو خواہشیں تھیں میرے دل کی ہو گئیں رخصت
یہ خود کا چھوڑنا ہے یا یہ اس کا ہے پانا
مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ، انسان اپنی خواہشیں اگر اللہ کے لیے چھوڑ دے، تو یہ تو اللہ کا پانا ہے۔ تو ان چیزوں کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا نسبت ہے، لہٰذا یہ تو اس کا پانا ہے، یہ کوئی نقصان کی بات نہیں ہے۔
جو خواہشیں تھیں میرے دل کی ہو گئیں رخصت
یہ خود کا چھوڑنا ہے یا یہ اس کا ہے پانا
دلِ بیدار مجھے دے قلبِ غافل سے بچا
شبیر تیرا ہے تیری ہی طرف ہے آنا
دلِ عاشق کو کہیں لوگ اگر دیوانہ
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اسے فرزانہ
یہ عشق کی آگ اس کے بارے میں ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی۔
عشق کی آگ
عشق کی آگ چپکے چپکے جلے
اور دل خدا سے چپکے چپکے ملے
عشق کی آگ چپکے چپکے جلے
اور دل خدا سے چپکے چپکے ملے
یعنی اس میں اخفا ہے۔ نہ عشق کو ظاہر کیا جا رہا ہے اور نہ یہ ہے کہ اور کیفیات کو، چپکے چپکے سب کچھ ہو رہا ہے، کیونکہ اس میں نمائش مقصود نہیں ہے۔
تیرتی رہتی نمی آنکھ میں ہو
پر ادب سے کوئی آنسو نہ گرے
شمع کی طرح پگھلنا تو ہو
پر ادب سے قدم اپنا نہ ہلے
یعنی آنکھوں میں آنسو تو تیرتے ہوں، لیکن ادب کا موقع ہے اس وجہ سے آنسو باہر نہیں آنے چاہئیں، اور شمع کی طرح پگھلنا تو ہو لیکن اس کے قدم کو نہیں ہلنا چاہیے۔
دل میں ایک آگ عشق کی برپا ہو
پر نظر آئے نہ اس کے شعلے
آنکھیں دید کو ترستی رہیں
منہ سے چپ ہو اور کوئی اُف نہ کرے
عشق کی آگ لگائے تو لگے
لگے شبیر تو پھر وہ نہ بجھے
یہ غالب نے کہا تھا کہ، "یہ عشق پر زور نہیں ہے، یہ وہ آتش غالب، کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے۔" اس کو میں نے تبدیل کیا تھا کہ، "کہ لگائے تو لگے اور بجھائے نہ بنے۔" مطلب اس کے اسباب چونکہ اختیاری ہیں، لہٰذا اختیاری اسباب کو اختیار کر کے اس چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کی محبت کے بارے میں ہے:
دنیا کی محبت
دل سے دنیا اگر نکل جائے
پھر خدا خود ہی ہم کو مل جائے
یہ اصل میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب ہے جس میں اللہ جل شانہ سے پوچھا تھا، یا اللہ! تجھ تک پہنچنے کا آسان راستہ کیا ہے؟ فرمایا: دَعْ نَفْسَكَ وَتَعَالَ، اپنے نفس کو چھوڑ اور پھر آ جا۔ مطلب دنیا سے اپنا قطع تعلق کر لے تو میرا بن جا۔ لیکن دنیا سے قطع تعلق میرے لیے ہو، نفس کے لیے نہ ہو۔ جو جوگی لوگ نفس کے لیے کرتے ہیں، اس سے نہیں ہوتا، ان کا تو نفس مقصود ہوتا ہے۔ نفس کی رضا مقصود ہوتی ہے۔
دل سے دنیا اگر نکل جائے
پھر خدا خود ہی ہم کو مل جائے
توبہ کرنے سے کیا ہوتا ہے
معصیت کا پہاڑ ہل جائے
توبہ بظاہر چھوٹی سی چیز لگتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس میں ہونٹ بھی نہ ہلیں دل ہی دل میں توبہ کر رہا ہو، لیکن پتہ نہیں کتنے گناہ سارے اڑ جاتے ہیں۔
جہد ہے نفس کا علاج مگر
ذکر سے دل کا باغ کھل جائے
وہ تو دینے پہ تلا ہے لیکن
اس کے در پر کوئی سائل جائے
وہ تو چاہتا ہے کہ میرے پاس کوئی آ جائے۔ وہ تو بار بار بلاتا بھی ہے اور آخری وقت جو ہوتا ہے رات کو، اعلان بھی ہوتا ہے اس طرف سے۔ وہاں سے تو ساری چیزیں ہیں، لیکن یہاں سے کوئی چلا تو جائے۔ وہ اقبال کے شکوہ اور جوابِ شکوہ میں یہی بات تھی تو شکوہ میں تو بہت کچھ کہا تھا، لیکن جوابِ شکوہ میں اس کا جواب دیا۔ "ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں، راہ دکھلائیں کسے راہروِ منزل ہی نہیں۔" جو چاہتا نہیں تو اس کو کیسے دیا جائے، البتہ جو چاہتا ہے ان کو ضرور دیا جاتا ہے۔
دل اگر بن گیا شبیر تیرا
وہاں جانا جہاں پہ دل جائے
اصل میں دل کرنا، "میرا دل کر رہا ہے کہ یہ کام کروں" اکثر محاورے میں لوگ کہتے ہیں۔ لیکن یہ تب ہی ٹھیک ہو گا جب دل بن چکا ہو۔ ورنہ عموماً لوگ دل کو نفس کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ کہ نفس جو کہہ رہا ہوتا ہے سمجھ آدمی سمجھتا ہے کہ میرا دل کہہ رہا ہے۔ کیونکہ وہ دل نفس زدہ ہوتا ہے اس وقت۔ اس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی، لہٰذا وہ وہی چیزیں چاہتا ہے جو نفس چاہتا ہے۔ تو اصل میں تو وہ نفس چاہ رہا ہوتا ہے۔ ہاں اگر نفس درمیان سے نکل جائے اور دل پاک ہو جائے صاف ہو جائے بن جائے، اس کے بعد جو دل چاہتا ہے وہ وہی جائے گا جو اللہ چاہے گا۔ پھر یہ بن جاتا ہے عرشِ اصغر۔ پھر اس پہ اللہ کی طرف سے الہام آتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مطلب اس پہ قلبی ملاقات ہوتی ہے۔ لہٰذا جب دل بن جائے، پھر اس کے بعد دل کی مانا کرو۔ پھر جو دل کہے اس کو کر لیا کرو۔
یہ طلبِ محبت کی غزل ہے:
طلبِ محبت
نہ چاہوں میں اب عاجلہ کی محبت
میں مانگوں خدا سے خدا کی محبت
عاجلہ، كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ۔ عاجلہ وہ چیز ہے جو فوری ہو، انسان دنیا کی چیزیں جو فوری ہوتی ہیں ان کو چاہتا ہے۔ لیکن یہاں شاعر یہ کہتا ہے:
نہ چاہوں میں اب عاجلہ کی محبت
میں مانگوں خدا سے خدا کی محبت
اور ان کی بھی اس سے محبت جو رکھیں
وہ سب انبیاء اولیاء کی محبت
یہ اصل میں لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کو مانگیں گے تو شاید نعوذ باللہ من ذلک یہ کوئی شرک والی بات ہو گی۔ حالانکہ ایسی بات نہیں، دعا ہے مسنون۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِيْ يُبَلِّغُنِيْ حُبَّكَ۔ تو یہ تو اس میں بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا ہے، میں تجھ سے یا اللہ تیری محبت مانگتا ہوں، اور ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھتا ہو، اور ہر اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے ملائے۔ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کتنی چیزیں مانگ لیں۔ تو اس وجہ سے جو اللہ کے لیے ہے تو وہ اللہ کی محبت میں شامل ہے۔
اور ان کی بھی اس سے محبت جو رکھیں
وہ سب انبیاء اولیاء کی محبت
ذرائع محبت کے ہوں مجھ کو محبوب
ملے مسجد و درسگاہ کی محبت
ذرائع محبت کے۔ جتنے بھی ذرائع ہیں وہ بھی مجھے محبوب ہوں جس سے مجھے محبت اللہ تعالیٰ کی مل سکتی ہو۔ گویا کہ اسی دعا کی تفسیر ہے۔
مشائخ کی صحبت میسر رہے
ملے مجھ کو ہر خانقاہ کی محبت
کیونکہ دیکھیں مسجد اور درسگاہ اور خانقاہ یہ تین ایک مثلث بناتی ہیں۔ جو للہیت کی مثلث ہے۔ مطلب اس میں، مسجد میں عبادت ہوتی ہے، مدرسے میں علم حاصل کیا جاتا ہے اور خانقاہ میں تربیت حاصل کی جاتی ہے۔ ان تینوں کی آپس میں ایسی حالت ہے کہ ان میں سے جو بھی کمزور ہے وہ باقی کو بھی متاثر کرے گا۔
مثلاً مسجد کمزور ہے، تو خانقاہ بھی کمزور، مدرسہ بھی کمزور۔ کیونکہ عبادت والے جب اس میں نہیں ہوں گے، تو وہ چیز نہیں ہو گی۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔ نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جنات کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔ لہٰذا جن کی عبادت کمزور ہوگی تو مدرسہ بھی کمزور اور خانقاہ بھی کمزور۔ اگر خانقاہ کمزور ہوگی تو تربیت نہیں ہوگی، لہٰذا مدرسہ بھی کمزور، مسجد بھی کمزور، نمازیں کمزور ہوں گی، عبادتیں کمزور ہوں گی۔ اور اگر مدرسہ کمزور ہے تو علم نہیں ہوگا۔ تو جب علم نہیں ہوگا تو ظاہر ہے پھر خانقاہ بھی کمزور کیونکہ ظاہر ہے جب علم نہیں ہوگا تو عمل کیسے صحیح ہوگا، اور مسجد بھی کمزور۔
مطلب یہ کہ ان تینوں کا آپس میں بالکل باہمی پورا ربط ہے۔
ذرائع محبت کے ہوں مجھ کو محبوب
ملے مسجد و درسگاہ کی محبت
مشائخ کی صحبت میسر رہے
ملے مجھ کو ہر خانقاہ کی محبت
خطاؤں کی جڑ حبِ دنیا شبیر
یہ مال کی یا جاہ کی یا باہ کی محبت
مطلب یہ کہ مال کی محبت، اور بڑا بننے کی محبت، اور لذات کی محبت، یہ سب حبِ دنیا ہیں اور یہ خطاؤں کی جڑ ہے۔
اب ایک غزل ہے جس کا نام ہے
پوٹلی ہی جل گئی
اک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی
اَنَا عِنْدَ مُنْکَسِرَةِ الْقُلُوْبِ۔ اللہ پاک فرماتے ہیں حدیث قدسی میں، میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ ہوں۔ تو جس وجہ سے بھی کسی کا دل ٹوٹ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ بہت قیمتی بن جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ مشائخ اس موقع سے بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شیطان بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس وقت اس کے دل میں مایوسی ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بدظنی ڈالتا ہے، تاکہ اس کو اس اللہ تعالیٰ سے بے بہرہ کر لے۔ لیکن مشائخ تک جب کوئی پہنچ جائے تو وہ اسی کیفیت سے بہت فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور آن کی آن میں ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ واصل کر دیتے ہیں۔
اک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی
میں حالِ دل بیان کن الفاظ میں کروں
تیری نظر پڑی تو زندگی بدل گئی
اک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی
اصل میں انسان کا دل جب ٹوٹ جاتا ہے، اس وقت دنیا سے اس کا دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ اس وقت میں اگر اس کے لیے اللہ کا در کھل جائے، تو بس پھر اس کی ساری تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ اپنی ہر خوشی کو اللہ کی خوشی کے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ لہٰذا پھر جس چیز پہ اللہ خوش ہوتا ہے، اس پہ وہ خوش ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہی ایک مقامِ عبدیت ہے اور جو انسان کو حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا۔ آخری مقام ہے تصوف کا۔ تو لہٰذا بعض دفعہ انسان کا دل جب ٹوٹ جاتا ہے تو بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور اس کو ضائع نہیں کرنا ہوتا۔ اور شیطان اس کو ضائع کروانا چاہتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی اچھے ہاتھوں میں ہوتا ہے، یعنی اچھے لوگوں کی تربیت میں ہوتا ہے، تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔
اک پیار کی نظر نے مجھے کاٹ ہی دیا
جس کے لیے گزرگیا ہر رہگزر سےہی
اللہ پاک کی محبت کی نظر جب اس حالت میں پڑتی ہے، تو وہ تو پھر انسان کو ہر چیز سے کاٹ دیتی ہے۔ پھر اس کے بعد انسان سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جو بھی راستہ اس کو ملتا ہے اللہ کی طرف، وہ اس سے گزر جاتا ہے۔
اک پیار کی نظر نے مجھے کاٹ ہی دیا
جس کے لیے گزرگیا ہر رہگزر سے ہی
کہہ دوں وفورِ عشق سے عاشق ترا میں ہوں
پر ہوش سے دیکھوں نظر آؤں کہیں نہیں
مطلب یہ ہے کہ انسان عشق کے زور سے کہہ دیتا ہے کہ میں تیرا عاشق ہوں۔ لیکن کہاں وہ اور کہاں ہم۔
کہاں یہ خاک کہاں وہ عالمِ پاک
کیسے مطلب انسان وہ کر سکتا ہے جرأت؟ لیکن جوش میں آ کر کہتا ہے، میں تیرا عاشق ہوں۔ ہوش میں آتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
کہہ دوں وفورِ عشق سے عاشق ترا میں ہوں
پر ہوش سے دیکھوں نظر آؤں کہیں نہیں
اس نور کی بارش نے مجھے کردیا بے کل
ایک چوٹ جب لگی ہے تودل پہ چل ی چھری
اب فکر ہے کوئی نہ کوئی غم مجھے شبیر ؔ
دنیا کی خواہشات کی پوٹلی ہی جل گئی
اصل میں نظر جب ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کی تجلی جب ہو جاتی ہے، وہ ساری چیزوں کو جلا دیتی ہے۔ تو اگر کسی کی خواہشات کی پوٹلی اس سے جل جائے تو اس کو پھر اور کیا چاہیے؟
اب فکر ہے کوئی نہ کوئی غم مجھے شبیر ؔ
دنیا کی خواہشات کی پوٹلی ہی جل گئی
اب بہت مشہور غزل ہے۔ وہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے دو شعروں پر بنی ہے۔
جُہد کن در بیخودی خود را بیاب
خَتْم شُد وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب
یہ کوئی صاحب یہاں پر آئے تھے، اس نے اس کی تشریح پوچھی تھی۔ اس وقت جو اللہ نے چاہا وہ تشریح ہو گئی، لیکن بعد میں اس طرف ذہن چلا گیا کہ کیوں نہ اس کی تشریح کو منظوم کر دیا جائے۔ تو یہ وہ منظوم تشریح ہے
جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب
مثنوی میں کیا ہیں فرماتے جناب
جہد کن در بیخودی خود را بیاب
مثنوی میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں؟ جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب۔ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے، جُہْد کُن، "کوشش کر" در بے خودی، "بے خودی کو حاصل کرنے میں"، خُود را بیاب، "اس سے اپنے آپ کو دریافت کر لو"۔ خُود را بیاب، اپنے آپ کو دریافت کر لو۔ مطلب بے خودی حاصل کر کے اپنے آپ کو دریافت کر لو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خود کو مٹا
کر فنا اپنی جو ہے یہ آب و تاب
یہ جو ہماری خواہشیں ہیں پتہ نہیں ہم کیا ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے، ان کو فنا کرو۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ اپنے نفس کی خواہشات کو ختم کرو۔ یعنی فنائیت حاصل کر لو یہ جو نفس کی خواہشات ہیں ان کو مٹا دو۔
نفس کی آلائشوں کو دور کر
چھائی تیرے دل پہ جو ہیں بے حساب
یہ نفس کی آلائشیں تیرے دل پر جمی ہوئی ہیں ان کو دور کر لو۔
آنکھیں تیری سچ بھی پھر دیکھ لیں
دنیا ایسی ہو کہ جیسے خیال و خواب
پھر تیری آنکھیں سچ دیکھیں گی۔ جھوٹ اس سے ہٹ جائے گا۔ اس وقت ہم جھوٹ کے شکار ہیں۔ ہمیں وہ چیزیں جو فانی ہیں وہ باقی نظر آ رہی ہیں۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے یہاں پر رہنا ہے۔ جھوٹ ہے، بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اسے کون سچ کہہ سکتا ہے؟ لیکن اس جھوٹ میں کتنے لوگ عملاً گرفتار ہیں؟ ٹھیک ہے زبان سے بے شک کہہ دیں وہ بھی جھوٹ کہتے ہوں گے کہ ہم لوگ اس طرح نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا عمل یہ دکھا رہا ہے کہ یہ تو اس کو ہمیشہ کے لیے سمجھ رہے ہیں۔ اور وہ جو ہمیشہ کی چیز ہے، اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ تو اس وجہ سے:
آنکھیں تیری سچ بھی پھر دیکھ لیں
دنیا ایسی ہو کہ جیسے خیال و خواب
کان تیرے حق سے رو گرداں نہ ہوں
اور نہ سنوائے غلط نفس خراب
جو تیرے کان ہیں، وہ پھر حق سے روگرداں نہ ہوں۔ اور پھر جو تیرے نفس کانوں کے ذریعے سے شامل ہوتا ہے نا، وہ جو غلط چیزیں سنواتا ہے، وہ تجھے نہ سنوا سکے۔
اور نہ سنوائے غلط نفس ِ خراب
خود سے تو گم ہو صرف وہ یاد ہو
تو خود کو بھول جائے اور صرف اس کو یاد رکھے۔
پھر وہاں سے آئے بھی کوئی جواب
مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ تو نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے فنا کر دیا تو اللہ پاک جواب دے گا پھر تو اللہ کا بن جائے گا اور اللہ تیرا بن جائے گا۔
پھر وہاں سے آئے بھی کوئی جواب
تو سمجھ جائے کہ تو کچھ بھی نہیں
اور سب کچھ اس کا ہی ہے لاجواب
اپنے خود کو عشق میں معدوم کر
تو بقا کا پھر کھلے گا تجھ پہ باب
ہاں، اپنے خود کو عشق میں معدوم کر لو، پھر جب تو فنا ہو جائے گا، یعنی معدوم ہو جائے گا، تو پھر تیرے اوپر بقا کا باب کھل جائے گا۔ پھر تو جان لے گا کہ تیرے پاس اللہ تعالیٰ نے کیا کیا رکھا ہوا ہے۔ تو وہ نہیں ہے جو تو پہلے تھا۔
جس میں تو اس کا ہی ہے اور وہ ترا
ہر وقت سنتا ہو تو اس کا خطاب
جس میں تو پھر وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا، بلکہ تو اس کا ہے اور وہ تیرا بن جاتا ہے۔ اور پھر اس وقت تو ہر وقت اس کا خطاب سن رہا ہوتا ہے۔
تو کرے وہ جو اسے منظور ہو
ظاہر ہے رابطہ ہو گا نا
تو کرے وہ جو اسے منظور ہو
وہ کرے گا جو کہ چاہیں آنجناب
ہاں، تو وہی کرے گا جو اللہ چاہے گا۔ اور اللہ وہ کرے گا جو تو چاہے گا۔ لیکن تیرا دل چونکہ بن چکا ہوگا، لہٰذا وہ غلط نہیں چاہے گا۔ وہ وہی چاہے گا جو اللہ چاہے گا۔ لہٰذا یہ ایک سرکل ہے، Vicious circle، اس میں انسان پھر چلتا رہتا ہے۔
خود کو پہچانو شبیر ؔ کہ کیا ہو تم
ختم شد واللہ اعلم بالصواب
اس وقت تم پھر اپنے آپ کو پہچان لو گے۔ یعنی اپنے آپ کو دریافت کر لو گے۔ تو یہی چیز خودی ہے علامہ اقبال کی۔ لیکن اس کا ذریعہ بے خودی ہے۔ بے خودی سے گزرے بغیر خودی کی بات کرنا جھوٹ ہے، ناممکن ہے۔ بے خودی کے بغیر بے خودی کی بات کرنا۔ آج کل لوگ بے خودی کی باتیں نہیں کرتے ہیں، اور خودی پہ پہنچنا چاہتے ہیں، تو یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ممکن تب ہوگا جب انسان خودی کے، بے خودی کے مقام سے گزرے گا۔ اپنے آپ کو فنا کرے گا تو باقی بنے گا۔ اب فنائیت کے بغیر باقی بننا، یہ ایسا لکھا نہیں ہے۔ ایسا ہوا نہیں ہے۔ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ لہٰذا طریقہ یہی اختیار کرنا پڑے گا۔
ہم کو دعوائے محبت ہے۔
ہم کو دعوائے محبت ہے مگر کیا ہے یہ
نام ویسے ہی بس زبان پر چلا ہے یہ
پوری ہوں خواہشیں اپنی تو محبت ہو ہمیں
اور ایسا نہ ہو کہتے ہیں جانے کیا ہے یہ
نا امیدی کے ہوں الفاظ زباں پر جاری
دل میں شکوہ بھی ہو ہر ایک سمجھتا ہے یہ
عشق کا نور تو شعلوں کو بھی بجھا ہی دے
بیٹا قرباں ہو عجب یہ کہ باپ چاہے یہ
ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام۔
بیٹا قرباں ہو عجب یہ کہ باپ چاہے یہ
کیسے معشوق کی چاہت کو نہ چاہے عاشق
ہے اگر ایسا، محض عشق کا دعویٰ ہے یہ
مطلب یہ ہے کہ معشوق کی جو چاہت ہے، وہ عاشق کیسے نہیں چاہے گا؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر صرف عشق کا دعویٰ ہے۔ وہ پھر دودھ والا مجنوں ہے، خون والا مجنوں نہیں ہے۔
ہم تو بس اس کی اطاعت بڑا مقصد جانیں
بڑوں سے ہم نے شبیرؔ ایسا ہی سیکھا ہے یہ
خدا کے لیے ہو
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو
خدا کی مدد اور تائید ہووے
اگر کام ہونا خدا کے لئے ہو
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو
یہ پانا ہے بالکل یہ پانا ہے بالکل
اگر خود کو کھونا خدا کے لئے ہو
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو
دھلے حبِ دنیا سے دل میرا ہو صاف
مگر اس کا دھونا خدا کے لئے ہو
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو
جو بوئے یہاں پر وہاں کاٹے شبیرؔ
مگر اس کا بونا خدا کے لئے ہو
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لئے ہو
یہ جاگنا یہ سونا خدا کے لئے ہو
ہماری ہر چیز خدا کے لیے بن جائے۔ تو پھر اللہ پاک بھی ہمارے بن جائیں گے۔
یہ اس کا عنوان ہے،
تو میرے دل میں رہے
قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو
جن کے تو ساتھ ہے ایسوں سے ملانا مجھ کو
قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو
تو مرے دل میں رہے میں تری نظروں میں رہوں
اپنی نظروں سے الہٰی نہ گرانا مجھ کو
قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو
جن کے تو ساتھ ہے ایسوں سے ملانا مجھ کو
یعنی جن کو یہ مقام حاصل ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ تو ان کے ساتھ ملنے میں ہی خیر ہے۔ ان کے ساتھ ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
وسعت قلبی کا شیشہ مجھے عطا کرنا
تنگ نظری سے ہمیشہ تو بچانا مجھ کو
قلب میرا ہو سلیم ایسا بنانا مجھ کو
دیکھنے والی بات! یعنی انسان، واقعتاً کھلا بھی دیکھتا ہے اور تنگ نظری بھی کرتا ہے۔ Broad-minded جس کو ہم انگریزی میں کہتے ہیں۔ تو جو Broad-minded ہوتا ہے ان کو دوسروں کی بہت ساری چیزیں نظر آتی ہیں، خوبیاں بھی۔ لہٰذا وہ ان کو مسئلہ کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن جو تنگ نظر ہوتا ہے، وہ صرف ہمارے پشتو میں کہتے ہیں "آکس خپلہ برخہ اسمان وینی" کہتے ہیں (وہ صرف اپنے حصے کا آسمان دیکھتا ہے)۔ اس کو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ تو ہر چیز میں اپنے مفادات کے Reference سے دیکھتے ہیں۔ وہ اصل چیز کو نہیں دیکھتے۔ تو اس وجہ سے کہتے ہیں:
وسعتِ قلبی کا شیشہ مجھے عطا کرنا
تنگ نظری سے ہمیشہ تو بچانا مجھ کو
نفس میرا ہو شریعت پہ مطمئن یا رب
اور تو اپنا بنا دینا دیوانہ مجھ کو
یعنی شریعت پر میں مطمئن ہو جاؤں، میرا جو نفس ہے شریعت پر مطمئن ہو جائے، اور دل میرا تیرا دیوانہ بن جائے۔ یعنی دل کی بھی اصلاح ہو جائے، نفس کی بھی اصلاح ہو جائے۔
آمدِ شعر ہے اور کیف ہے، ہے فضل ترا
اپنے آدابِ محبت بھی سکھانا مجھ کو
ترا بندہ ہوں میں خاکی جو ہے شبیرؔ موسوم
رہِ شبیر حقیقت میں دکھانا مجھ کو
"رہِ شبیر" سے مراد، امام حسین رضی اللہ عنہ کا راستہ پے۔ یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کو قربان کیا، لیکن حق کی بات نہیں چھوڑی۔ یہ اصل میں یہ ایک راستہ ہے۔ یعنی حق کے لیے انتہائی قربانی دینا۔ یہ چیز انسان کے اوپر کھل جائے۔
ترا بندہ ہوں میں خاکی جو ہے شبیرؔ موسوم
رہِ شبیر حقیقت میں دکھانا مجھ کو
یہ اصل میں ایک Touch ہے کہ انسان کچھ سے کچھ ہو سکتا ہے۔ تو ایک ہے مجرم سے تو محرم بنے۔ ایک نقطہ کی کمی بیشی ہے۔ مجرم کے نقطے کو ہٹا دیں تو کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔
سر حق کی معرفت میں ذرا تو جھکاکے دیکھ
جو تُو ہے ترے دل میں اسے تُو مٹا کے دیکھ
سر حق کی معرفت میں ذرا تو جھکاکے دیکھ
اپنے سر کو اللہ کی معرفت میں ذرا جھکا کے دیکھ لینا، اور تیرے دل میں جو "تو" ہے (یعنی تیرے جو مفادات کا چکر ہے، جس میں صرف "تو" نظر آتا ہے، کوئی اور نظر نہیں آتا)، اس کو مٹا دو تاکہ اور چیزیں نظر آنی شروع ہو جائیں۔
جو تُو ہے ترے دل میں اسے تُو مٹا کے دیکھ
کتنے فضول کام ہمارے نظر آئیں
تھوڑا سا شہرتوں سے تصور ہٹا کے دیکھ
بہت ساری چیزیں ہمارے تصور، مطلب شہرتوں کے تصور سے بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر میں مشہور بننا چاہتا ہوں، اس کے لیے میں الٹی سیدھی چیزیں کرنا چاہوں گا۔ ایک دفعہ میں جرمنی میں تھا، تو وہاں پر فروری کے مہینے میں fasten... fasten کہلاتا ہے۔ fasten وہ جرمن زبان میں روزے رکھنے کو کہتے ہیں۔ بہرحال یہ ہے کہ وہ لوگ جب سردیاں گزر جائیں تو اپنے خیال میں اب سردی کو الوداع کہتے ہیں۔ فروری کے مہینے۔ حالانکہ اچھی خاصی سردی ہوتی ہے۔ وہ جو fasten کا ہو رہا تھا سیشن ہو رہا تھا، اس وقت میں دیکھ رہا تھا ٹمپریچر سامنے منفی ون ڈگری سینٹی گریڈ (1°C-) تھا۔ اور میں اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا تو چونکہ اسپیڈ کم تھی، تو میرے ٹانگوں میں خون جم گیا۔ حالانکہ گرم کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ٹانگوں میں خون جم گیا، اور وہ سردی کو رخصت کر رہے تھے اپنے خیال میں۔
اس میں پھر یہ ہوا کہ میں نے دیکھا کہ بڑے بوڑھے، بوڑھے، مرد عورت اور سارے وہ بچے بنے ہوئے تھے۔ کوئی ادھر سے ناک سرخ کی ہے، کسی نے پتا نہیں یہ سبز کیا ہے، کسی نے بال منڈوائے ہوئے ہیں، کسی نے چوٹی نکالی ہوئی ہے۔ عجیب و غریب شکل ان لوگوں نے بنائی ہوتی تھی اور، اور لوگ ان کو دیکھ رہے ہوتے اور وہ گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ اس بات کے سوالی ہوتے تھے کہ ہمیں کوئی دیکھ لے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی وہ اس بات کے سوالی ہوتے تھے کہ ہمیں کوئی دیکھ لے۔ بس اور کچھ نہیں۔ یا اس کا مجھے کوئی اور بتا دیں مقصد۔ کوئی اور مقصد نہیں، صرف ہمیں کوئی دیکھ لے۔ تو یہ تو وہ خیر پاگل لوگ ہیں ہی، لیکن ہمارے ہاں بھی ان پاگلوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم لوگ بھی پتہ نہیں مختلف مواقع پہ جو حرکتیں کرتے ہیں، تو اس میں مقصود کیا ہوتا ہے؟ ہمیں لوگ دیکھیں۔
ابھی میں اعلان سن رہا تھا ایک فوتگی کا۔ جب عصر کی نماز سے آ رہے تھے۔ ایک فوتگی کا اعلان ہو رہا تھا۔ اس کو اعلان کرنے کا طریقہ بھی نہیں آتا تھا۔ لیکن شوق تھا کہ میں اعلان کر دوں۔ بس وہ اس شوق میں وہ اعلان کر رہا تھا۔ بہت سارے لوگ صرف لاؤڈاسپیکر پر اپنی آواز کو لانے کے لیے الٹی سیدھی حرکت کرتے ہیں۔ اور اتنے سے بہت سارے جو سکرین پر آنے کے لیے بہت ساری الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ ایکٹر لوگ جو ہوتے ہیں۔ یہ جو کامیاب ایکٹر ہوتے ہیں یہ تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ ان کامیاب جو چند ایکٹرز ہیں، ان کے پیچھے لاکھوں ناکامیاب ایکٹرز ہیں۔ جو کہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے پہنچتے ختم ہو گئے۔ ناکامیاب ایکٹرز ہیں۔ وہ ناکامیاب ایکٹرز کتنی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں؟ کتنے انہوں نے جتن کیے ہوتے ہیں؟
یہ جو فیشن ہوتا ہے یہ کیا چیز ہوتا ہے؟ فیشن؟ فیشن کا میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ فیشن اس بات کا اعلان ہے کہ ہم میں کوئی عقل نہیں، ہم بیوقوفوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ کیا یہ بات نہیں ہوتی؟ فیشن میں کوئی سوچتا نہیں ہے۔ فیشن کو گائیڈ کرنے والے کوئی اور ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کو تو شاید یاد نہیں ہوگا، ہمیں یاد ہے۔ ایک ہوتا تھا ٹیڈی فیشن (Teddy fashion)۔ ٹیڈی فیشن میں چست پاجامے، چست لباس، نوکدار جوتے۔ اور بس کیا بتاؤں آپ کو؟ جب وہ فیشن ختم ہو گیا، تو یقین جانیے جو اس کو پہنا ہوتا تھا وہ چوڑے نظر آتے تھے۔ اور وہ کوئی جرأت نہیں کر سکتا اس کو پہنے۔ لیکن اس سے پہلے سارے شرفاء پہنتے تھے۔ جو اس وقت فیشن کے مارے تھے۔
تو فیشن اس بات کا اعلان ہے کہ ہم میں کوئی عقل نہیں ہے۔ جو ہمیں اُلو بنانا چاہے بیوقوف بنانا چاہے، بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں کوئی وہ نہیں ہے۔ تو یہ ساری باتیں کیا ہیں؟ یہ اسی قسم کی باتیں ہیں۔ یقین کیجئے بہت ساری فضول چیزیں... مثلاً یہ بوُفے (Buffet) کا کھانا۔ یہ بھی دیکھیں کتنا فضول! یعنی کمال کی بات ہے کہ جس ہوٹل میں بوفے کا کھانا ہوتا ہے، وہ ہوٹل والے تین گنا چارجز لیتے ہیں۔ اور پھر ان کو خوب الو بناتے ہیں۔ اور بس لوگ بن جاتے ہیں کیونکہ فیشن ہے۔ advertisement، یہ بھی اسی قسم کی چیز ہے کہ اس میں advertisement کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں وہ غلط چیزیں ڈالی جاتی ہیں، جو اگر ویسے بغیر advertisement کے وہ سوچے تو کچھ بھی اس کی طرف نہ دیکھے۔ لیکن advertisement کے ساتھ، بس پھر جی جان سے فدا۔ مثلاً یہ پیپسی کولا جو ہے، اس کے اندر فوڈ ویلیو کیا ہے؟ اس کے اندر مطلب ایک ٹیسٹ ویلیو کیا ہے؟ لیکن دیکھیں، تو دو روپے کی چیز آپ کو پندرہ بیس روپے میں ٹکا دیتے ہیں، اور آپ بڑے شوق سے لیتے ہیں، خوشی سے۔ تو یہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ اصل میں یہ شعر اس طرح ہے:
کتنے فضول کام ہمارے نظر آئیں
تھوڑا سا شہرتوں سے تصور ہٹا کے دیکھ
مسئلے جو تیرے حل نہ ہوئے مال سے اگر
کچھ اس سے تو نادار کو بھی تو کھلا کے دیکھ
کب تک تو بے مہار لذتوں میں رہے گا
ان کو تو شریعت کے دائرے میں لا کے دیکھ
اخلاقِ حمیدہ سے مسلح تو خود کو کر
اخلاقِ ذمیمہ کے رذائل دبا کے دیکھ
یہ کام ہے ضروری مگر آسان نہیں ہے
ہاں شیخ جو کامل ہو اس کے پاس آکے دیکھ
دنیا کی چیزیں آئیں نظر ساری تجھ کو ہیچ
اللہ کا تصور ذرا دل میں سجا کے دیکھ
ہر چیز کے ڈر نے تجھے بزدل بنا دیا
ناراضئِ خدا سے تو دل کو ڈرا کے دیکھ
کتنوں کو منانے میں تو ناکام ہوا ہے
توبہ سے ذاتِ بخت کو ذرا تو منا کے دیکھ
یعنی، تو سب کتنے لوگوں کو منانے میں ناکام ہوا ہے۔ چونکہ لوگ عاجز لوگ ہیں وہ تو نہیں مطلب معاف کر سکتے، لیکن تو توبہ کر تو اللہ تعالیٰ کتنی کتنے جلدی تجھے معاف کر لیتا ہے۔
دل عشق سے ہو لبریز عقل اس کی ہو خادم
اور قیِد شریعت میں بھی دونوں کولاکے دیکھ
مجرم سے تو محرم بنے اک آن میں شبیرؔ
دنیا کو چھوڑ اس کو تو دل میں سما کے دیکھ
دنیا کو چھوڑ دے اور اس کو دل میں لے آ، پھر دیکھو تو مجرم سے محرم بنے گا۔
یہ ایک تسلی والی غزل ہے۔
ہم کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
مقصد یہ ہے کہ جو اللہ کا نام لیتے ہیں ان کی دنیا دشمن ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ایک اللہ کی محبت کا سہارا کافی ہوتا ہے اگر کوئی سمجھنے والا ہو۔
عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو
دیکھو، انسان اللہ کا بندہ ہے۔ تو بندے کا تقاضا ہے کہ وہ اس کی عبادت میں مشغول رہے۔ اور نعمت پر شکر ادا کرے اور صبر مصیبت میں کرے۔
عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو
ہم عافیت مانگتے ہیں کیونکہ ہم کمزور ہیں۔ جیسا اللہ کا حکم ہے عافیت مانگنے پہ اللہ خوش ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عشق کی وجہ سے ڈر رہا ہے کہ میں جو عافیت مانگ رہا ہوں کہیں یہ محبت پہ داغ تو نہیں بنے گا؟ کیونکہ عاشق لوگ ایسے ہی کرتے ہیں۔
علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ان کے اشعار ہیں:
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
کہتے ہیں لوگ تیرے خنجر سے سرے کو آگے پیچھے کر رہے ہوتے ہیں۔ دوستوں کا سر سلامت رہے کہ تو اس پہ خنجر آزماتا رہے۔
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
مجھ کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
دل مرا تجھ پہ رہے مال پہ لذت پہ نہ ہو
ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو
تینوں جذبوں کی رد ہو گئی۔ ایک تو یہ کہ مال کی، دوسری لذت کی، اور تیسرا وجاہت کی۔
ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو
جو میں اپنی چیزوں کو اپنا کہہ رہا ہوں کہیں اس میں دل پھنس نہ جائے۔ ایک دفعہ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ بیتی میں لکھتے ہیں۔ فرمایا میں چھوٹا سا تھا، تو میری پھوپھی نے میرے لیے ایک تکیہ بنایا تھا چھوٹا سا۔ وہ مجھے بہت پسند تھا۔ تو میرے والد کو تکیے کی ضرورت تھی، تو ادھر ادھر تکیہ اپنا تلاش کر رہے تھے۔ تو میں نے اپنی چھوٹی زبان سے کہا کہ میں اپنا تکیہ لے آؤں؟ اب ظاہر ہے بچہ، اور وہ بھی محبت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ اپنا تکیہ لے آؤں؟ تو کہتے ہیں والد صاحب نے ایک بھرپور تھپڑ لگا دیا، مجھے ادھر گرا دیا۔ فرمایا ابھی سے اپنے باپ کے مال کو اپنا کہتے ہو! کہتے ہیں میں تو بہت رویا۔ اور میری پھوپھیاں بھی بڑی سخت ناراض ہو گئیں۔ والدہ بھی پریشان ہو گئیں۔ کہ کیسا انسان ہے اپنے بچے کو ایسا مارا؟ یہ کیا وہ کیا؟ میں بھی روتا رہا لیکن اس تھپڑ کا یہ اثر ہے کہ ابھی تک میں اپنی کسی چیز کو اپنا نہیں کہتا۔ وہ اپنے کہنے کی بات ہی ختم ہو گئی۔ اپنے کہنے کی بات ہی ختم ہو گئی۔ تو یہ ہے:
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو
تن آسانی پہ میرا نفس نہ مائل ہو کبھی
نفس شرمندہ کبھی بھی میرا مشقت پہ نہ ہو
قبول میرے خدایا مرے ہوں قلب و نظر
ذہن تاریک نہ ہو قلب بھی ظلمت پہ نہ ہو
یعنی میرا قلب و نظر جو ہے، یہ کہیں مطلب میرا پامال نہ ہو جائے کہ ذہن تاریک ہو جائے اور دل میں ظلمت آ جائے۔
سامنے تیرے رہوں دل سے ترا بندہ بنوں
دل ہو احسان پہ کسی اور کیفیت پہ نہ ہو
یعنی کیفیتِ احسان مجھے حاصل ہو۔
دلِ شبیرؔ کو اپنی یاد سے کرلے روشن
تو اسے یاد رہے اِس سے یہ غفلت پہ نہ ہو
یہ بے لوث دوستی کی رباعی ہے۔
بے لوث دوستی
غرض جن کو ہے ان کی دوستی، دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں توپھر مشکل بہت ہی ہے
کیسے ان پہ بھروسہ کر سکتا ہے جن کو اپنی غرض ہے؟ ایک غرض مند شخص کب تیرا ہو سکتا ہے؟ وہ تو اپنی غرض کا ہو گا۔
غرض جن کو ہے ان کی دوستی دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں توپھر مشکل بہت ہی ہے
مگر بے لوث دوستی میں تو یوں خطرے نہیں ہوتے
یہ کیوں کرتے نہیں اس سے کہ جس کی ایسی دوستی ہے
اللہ تعالیٰ کی دوستی بے غرض ہے۔ اس کو کوئی غرض ہم سے نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے دوستی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں۔ باقی دوستیوں میں مسئلے ہیں۔
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لئے زندہ رہوں
موت ہو اس کے لئے اس پر بھی شرمندہ رہوں
دل مرا اس کے لئے ہو اور دماغ اس کے لئے
ہو زبان پر ذکر اس کا اس کا نام لیتا رہوں
دوستی اس کے لئے ہو دشمنی اس کے لئے
مجھ سے چاہے جیسے کرنا اس طرح کرتا رہوں
بولنا اس کے لئے ہو چپ رہوں اس کے لئے
خوش رہوں اس کے لئے اس کے لئے روتا رہوں
دل میں بس اک وہ سمائے دوسرا کوئی نہ ہو
دل سے الا اللہ کا نعرہ میں لگاتا رہوں
اس سے مانگوں اس سے لوں بس اس کے در پر سر رہے
اس کے در پرسر کو ہر دم بار بار رکھتا ر ہوں
اب تو بس اس کی محبت کا ہی آسرا ہے شبیرؔ
اس سے جو غافل کرے میں اس کو بھول جاتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لئے زندہ رہوں
موت ہو اس کے لئے اس پر بھی شرمندہ رہوں
ایک سیدھی سی بات کی رباعی ہے۔
ایک سیدھی بات
سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں
اس کے اگر نہیں تو کس کے ہیں
اس کے بن جائیں تو پھر سب کچھ ٹھیک
کام جیسے بھی اور جس کے ہیں
مطلب یہ ہے کہ اگر لائن سیدھی ہو جائے پھر کیا مسئلہ ہے؟ بَر صراطِ مستقیم ہرگز کسے گمراہ نیست۔ صراطِ مستقیم پر تو کوئی گمراہ نہیں ہے۔ تو اگر ہم اس کے ہو گئے، پھر اس کے بعد ساری باتیں ٹھیک ہیں۔ پھر معافیاں بھی ہیں۔ پھر بہت کچھ ہے۔ لہٰذا آدمی بس اس کا بن جائے۔ جب اس کا بن جائے پھر بعد میں پھر بہت آسانی ہے۔
اللہ ہی اللہ
جب کوئی کام تم نے کرنا ہو
اس میں اس سے ہمیشہ ڈرنا ہو
بس شریعت کے مطابق ہو کام
اور صرف اس کا ہی دم بھرنا ہو
شریعت پر کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ اور اس کا دم بھرنے کا مطلب ہے کہ صرف اسی کے لیے ہو۔ تو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ کلمہ پورا ہو گیا، ٹھیک ہے۔
ہاں یہ ذرا تھوڑا سا ایک... ذرا نرم نرم سی غزل ہے، کیفیت والی۔
تجھ کو کیا معلوم
اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
جھک کیوں جاتی ہے گردن مری محفل میں اب
کون اس وقت بلاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کیسے غافل رہوں اس سے کہ ہر طرف ہے وہی
اپنی آغوش میں چھپاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
ہر وقت اس کی نظر اپنی نظر پر محسوس
عرش سے کیا برس رہا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
بھلا دیا ہےجس نے مجھ سے ہر اک کام میرا
لگا ہوں جس میں کام اس کا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
نہیں پیا ہے تو نےعشق کا جب جام ابھی
جو اس نے مجھ کو پلایا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
رات دعاؤں کے رستے میری ملاقات ان سے
ملن کا وقت وہ کیسا ہے تجھ کا کیا معلوم؟
کہا جب اس نے کہ تم میرے ہو تو ہاں اس وقت
دل کا کیا حال پھر ہوتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
بہا بہا کے جو آنسو میں دل کو دھو ڈالوں
پھر مرے دل میں کون آتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کیسے گم سم خموش میں نہ رہوں شبیرؔ کہ
دھیان حاصل کس کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
مطلب یہ ایک عاشق اپنی بات بتا رہا ہے۔
دل میں دو راستے ہیں
دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیزگام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام، سو یہ کام بھی ہے
مطلب دو چیزیں تو ہیں نا، اس سے تو انکار نہیں ہے۔ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ اس میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے، اور اس میں شیطان کے وساوس بھی آ رہے ہیں۔ اب کوئی ہو جو اس کو کنٹرول کرے نا۔ اس کو کنٹرول کر لے کہ الہامِ الٰہی تو چلتی رہے، اور شیطان کے وساوس مؤثر نہ ہوں۔ تو اس کے لیے شیخ کو پکڑا جاتا ہے۔ تو یہ بتایا ہے کہ اس کے لیے کچھ کرو۔
دل سے دیکھا اسے
دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اس کا دم بھرتا رہوں
ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے
دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
مٹتے مٹنے، میرا مٹنا بھی مٹے۔ یہ جو میری حالت ہے جس کو میں سمجھتا ہوں کہ میں مٹ رہا ہوں یہ بھی مٹ جائے۔ مطلب یہ بھی چیز مٹ جائے۔ اس کو فناء الفناء کہتے ہیں۔
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں
فَاذْكُرُوْنِيْ أَذْكُرْكُمْ۔
دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں
دور اغیار مرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں
دل سے دیکھا اسے ہے جب سے شبیرؔ
اس پہ ہر روز اب تو مرتا رہوں
مطلب یہ ہے کہ بس میں اسی کا عاشق ہوں۔
یہ اب ایک حقائق والی غزل ہے۔
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑ دیا گر
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
دنیا کی محبت جب Limitless ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں تو اللہ کی محبت کی پھر کیسے انتہا ہوگی؟
جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے
جو اس کے پاس بھیج دیا وہ ہی ہے محفوظ
کتنا یہاں سے بڑھ کے وہ سارا وہاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
یہ بہت عجیب شعر ہے، اس کو کوئی سمجھ جائے تو سنور جائے گا۔ مطلب اگر اس کی نظر سے کوئی گر گیا، تو بے شک وہ بہت بڑا افسر ہو، بہت بڑا بادشاہ ہو، بہت بڑا لیڈر ہو، بہت بڑا کیا ہو، اس کو کیا مل گیا؟ کچھ بھی نہیں۔ جیسے کسی کو کھلونا دے کے بہلا دیا جائے اور بعد میں اس کو خوب مارا جائے۔ تو یہ کیا ہے بھئی؟ کھلونے ہیں نا دنیا میں۔ تو لیڈری ہے، دوسری چیزیں ہیں، تو کھلونے ہیں۔ اس پہ آدمی مطمئن ہو گیا تو اس نے اپنا کتنا نقصان کیا!
جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے
جو اس کے پاس بھیج دیا وہ ہی ہے محفوظ
کتنا یہاں سے بڑھ کے وہ سارا وہاں ملے
جو یہاں سے بھیج دیا وہ محفوظ ہو گیا۔ اور کتنا بڑھ جاتا ہے وہاں پر۔ اضاف مضاعف۔ وہ تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو جتنے بھی Multiplication factors سے Multiply کرے۔
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑدیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بتاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
کہتے ہیں کہ کتنی تباہی کی حد ہے، اگر اس کو بتوں کے لیے چھوڑ دیا۔ بتوں سے مراد یہاں دنیا کی معشوق اور محبوب جو ہیں وہ۔ اگر دنیا کے لیے اس کو چھوڑ دیا، کتنا نقصان کر دیا؟
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑدیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بتاں ملے
دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہوتو سرِ نہاں ملے
اس کی تشریح ضروری ہے۔ یہ دنیا کی جو لذتیں ہیں، وہ اس لیے ہیں تاکہ وہاں کی لذتوں سے آگاہی ہو جائے۔ کیونکہ جو چیز آپ کو ملی ہی نہیں ہے، آپ نے دیکھی ہی نہیں، آپ نے چکھی ہی نہیں، مجھے بتاؤ اس کا آپ کو کوئی لالچ دے گا کہ آپ یہ کرو گے تو آپ کو یہ مل جائے گا، اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ دنیا کی لذتیں جو آپ کو دی ہیں اس لیے دی ہیں تاکہ جنت کی لذتوں کا آپ کو کچھ اندازہ ہو جائے۔ حالانکہ اس کے برابر نہیں ہے بالکل۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ مثال کے طور پر آپ کو یہ کہہ دیا جائے کہ جنت کی لذتیں اس سے زیادہ ہیں۔ تو اگر یہ اتنی ہے، جو ایسی ہے، تو پھر ہم اس کے لیے کیوں نہیں کریں گے؟ تو دنیا کی لذتیں کیا ہیں؟ یہ جنت کی لذتوں کا ایک چربہ ہے۔ تو جب ان کی طلب ہو جائے، ان لذتوں کی طلب۔ تو پھر اندرونی راز کا پتہ چل جائے گا کہ یہ کیوں اس طرح ہے۔ حکمت ہے۔
دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہوتو سرِ نہاں ملے
اس زیست کے اک کام کا طالب بنوں شبیرؔ
بس اس کا ہی ہونے کا جو جذبہ جواں ملے
مطلب یہ ہے کہ بس یہی جذبہ ہو ہمارا کہ اس کا بن جائیں۔
اللہ اللہ کریں
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
دل سے بھی اور زبان سے اللہ اللہ کریں
ہیں قیدِ شریعت میں کان دونوں اپنے بند
جائز اگر نہ ہو تو اسے کیوں سنا کریں
بیشک ہماری آنکھیں بھی ہیں اس کی امانت
غیر محرم دیکھنے سے نہ مجرم بنا کریں
اس سر میں جو دماغ ہے کنٹرول پہ مامور
تو اس کا استعمال غلط کیوں کیا کریں
اس سر میں جو دماغ ہے کنٹرول پہ مامور
تو اس کا استعمال غلط کیوں کیا کریں
یہ دل بھی امانت ہے مرے رب کی جب شبیرؔ
تو اس کے علاوہ نہ کسی کو دیا کریں
ہر چیز ہماری پہلے سے طے شدہ ہے۔ تو ہم اسی کے مطابق کریں۔
اب یہ غزل بڑی عجیب غزل ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو ذرا سالکوں کو پیش آتی ہیں، اس کا اس میں علاج ہے۔ بڑے بڑے مرتبوں کی خواہش ہوتی ہے نا سالکوں کو کہ بڑا بزرگ بن جاؤں یہ ہو جائے وہ ہو جائے۔ یہ ذرا ہوتی ہیں۔ تو عاشقوں کے یہ طریقے نہیں ہوتے۔
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب اپنا بنا ہی لے رب مجھے
یہ دیوانگی ہی کی تو بات ہے کہ حجاب اب نہ ہو درمیاں
مرا مانگنا اس کا عجیب تر مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے
مطلب یہ واقعی دیوانگی کی بات ہے کہ میں خود کہوں کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہ ہو۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ جل جاؤں گا! یہ تو سمجھ دار آدمی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن کہتے ہیں میں کیا کروں، میرے، مجھے ہو چکا ہے۔ یہ دیوانگی ہے.
مرا مانگنا اس کا عجیب تر مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے
میری خلوت و جلوت بھی اس کی ہو مرا دل و دماغ بھی اس کا ہو
میں دیوانہ ہوں ہاں دیوانہ ہوں کہیں یہ کہیں لوگ سب مجھے
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
مطلب یہ ہے کہ جو سبب ہے، اس کا حکم ہے پورا کرنا ہوگا۔ لیکن اسباب کی وجہ سے میرے دل سے اللہ دور ہو جائے۔ میری نگاہوں سے اللہ دور ہو جائے، یہ تو بہت خطرناک ہے۔ اس کے لیے میں تیار نہیں ہوں۔ یعنی مسبب الاسباب کو اسباب کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لیے اگر کوئی مجھے کہتا ہے کہ نوکری کر لو، یہ کرو وہ کر لو۔ ٹھیک ہے، بَسر و چشم اسباب اختیار کروں گا۔ لیکن میں اس سے غافل ہو جاؤں، حرام کھاؤں۔ حرام نوکری کروں، حرام طریقہ اختیار کر لوں، یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ اصل میں یہ والی بات ہے۔
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
نہ ہو لمحہ بھر کی بھی غفلت اب مجھے کیا پتہ کہ ہوجائے کیا
کہیں بے خبر رہوں میں یوں اور کرم سے دیکھے وہ کب مجھے
مطلب یہ ہے کہ لمحہ بھر کی غفلت مجھے گوارہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں کس وقت کیا ہو جائے۔ کہیں میں بے خبر ہوں اور میرے اوپر کرم کی نظر کر رہا ہو۔ ایسا ہو جاتا ہے۔
مرے سجدے عبادتیں اس کا حق، مرا حق تو اس پہ کوئی نہیں
یہ کرم ہے اس کا کرے قبول سنو خود سے کھینچے وہ جب مجھے
میرے جو عبادتیں ہیں میرے جو سجدے ہیں یہ اس کا حق ہے۔ میرا اس پہ کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں اس کا جب کرم ہو جاتا ہے اور وہ قبول فرما لے پھر خود ہی کھینچ لیں گے۔ اور جذب والی بات۔
مجھ پہ فضل رب کا ہے اے شبیرؔ مجھے اہل حق سے ملا دیا
اب خدا کے کرم سے نصیب ہو ان ہی اہل حق کا ادب مجھے
اللہ تعالیٰ نے مجھ پہ کرم فرما دیا، مجھے اہلِ حق کے ساتھ ملا دیا۔ اب میں اللہ پاک سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اب ان کے ادب بھی مجھے سمجھا دے، سکھا دے، تاکہ کہیں میں ان کی بے ادبی نہ کروں۔
دین کا ظاہر اور باطن
ظاہرِ دین ایک چھلکا ہے
اصل معاملہ تو دل کا ہے
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزِل کا ہے
یہ اصل میں اس میں دو حقیقتیں ہیں۔ ظاہر اور باطن۔ یعنی ظاہرِ دین جو ہوتا ہے یہ ایک چھلکا ہے۔ اور چھلکا حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ گری مقصود ہوتا ہے۔ اب گری بغیر چھلکے کے نہیں بچ سکتی۔ زمانہ سے۔ لہٰذا وہ چھلکا تو ضروری ہے۔ لیکن چھلکا مقصود نہیں ہے۔ مقصود تو وہ گری ہے۔ لہٰذا جو دین ہے اصل میں اندرونی ہے۔ باطن والا ہے۔ جیسے ایمان اور تقویٰ۔ یہ دل کی باتیں ہیں۔ اَلَا اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ، اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔ تو ولایت دو چیزوں پر ہے۔ ایمان اور تقویٰ پر۔ وہ تو دونوں باطنی چیزیں ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل چیز تو دل کا ہے معاملہ، لیکن اس تک پہنچنے کے لیے راستہ ظاہر کا ہے۔ ظاہر اور باطن کو یکجا کرنا پڑتا ہے۔
اغیار سے دوستی
اغیار کی اب دوستی سے ہے مری توبہ
کہ ان کی بے وفائی نے ہے مجھ پہ یہ کھولا
دنیا ہو جس کے دل میں تجھے دل میں کیا سمجھے
جو ہے غلام نفس کا کرے کیسے وہ وفا
مطلب یہ ہے۔ اغیار کی جو دوستی ہے، اس سے میری توبہ ہے۔ کہ یہ بار بار بے وفائی کرتے ہیں، اور اس سے میرے پر یہ بات کھل گئی ہے۔ کہ جس کے دل میں دنیا ہو، تو مجھے وہ کیا سمجھے گا؟ دل میں کیا سمجھے گا؟ ظاہر ہے جو اپنے نفس کا غلام ہے، وہ وفا کیسے کر سکتا ہے؟ اس کی محبتیں تو ساری نفس کے ساتھ ہیں۔ وہ تو اس کا غلام ہے۔
یہ میرے خیال میں آخری غزل ہے پھر اس کے بعد ہم ذکر کرتے ہیں۔
اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
جو کر سکتا ہے وہ کر لو نا۔ جو نہیں کر سکتے اس کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو:
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
سورج کی شعائیں رستے میں غائب ہوتی ہیں بالکل تو
جس پر پڑیں وہ روشن ہوں تب ان شعاؤں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
مطلب یہ ہے کہ جیسے سورج کی شعاعیں رستے میں نظر نہیں آتیں۔ تو اللہ پاک تو آپ کو نظر نہیں آئے گا، لیکن جن کے اوپر وہ روشنی پڑتی ہے وہ نظر آ جاتا ہے۔ تو جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ چمک جاتے ہیں۔ ان کا پتہ چل جاتا ہے۔
مردِ حقانی کی پیشانی کا نور
چھپ نہیں سکتا ہے پیشِ ذی شعور
تو روشن دل سے روشن ہو یہ روشنی کہاں سے آئی ہے
روشنی کے سفر کو دیکھ لینا روشن راستوں کو دیکھ لینا
یعنی تو روشن دل سے روشن ہوا ہے۔ یعنی جو اللہ والا ہے، تو یہ روشنی کہاں سے آئی ہے؟ یہ کوئی روشنی آ رہی ہے نا، تو اس روشنی کے سفر کو دیکھ لینا سلسلہ کو۔ اور جو روشن راستے ہیں، یہ سارے اس نظام کو دیکھ لینا۔
دل پر دنیا کی چھاپ ہو تو دنیا ہی نظر آئے فقط
گر دل کو بنانا چاہتے ہو ان کے دلوں کو دیکھ لینا
جو مٹ مٹ کے باقی بنے رحمت کے سائے میں ہیں وہ
تم بھی ذرا طالب بنو اور ان سایوں کو دیکھ لینا
تجھ سے لینا کیا چاہیں گے تو ان کو کیا دے سکتا ہے؟
اللہ کے طالب ہیں وہ فقط ان کے کاموں کو دیکھ لینا
تو اگر چاہتا ہے، سمجھتا ہے کہ یہ مجھ سے کچھ لے لیں گے، خدا کے بندو تیرے اوپر نظر اس کی کیا ہے؟ ان کی نظر تو اللہ پر ہے، اللہ کے پاس سب کچھ ہے۔ لہٰذا تو اس کو کیا دے گا؟ ہاں البتہ تو ان کے کاموں کو دیکھ لینا کہ وہ کام کیسے کرتے ہیں۔
بات ان کی کان میں رس گھولے آنکھیں دید سے بھی ٹھنڈی ہوں
آنکھوں سے لٹائے جائیں شبیرؔ تو ان جاموں کو دیکھ لینا
مطلب یہ ہے کہ باتیں جو ان کی ہیں وہ کان میں رس گھولتی ہیں، اور آنکھیں بھی دید سے ان کی ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اور وہ آنکھوں سے عشق کے جام لٹاتے رہتے ہیں، تو بھی ان سے فائدہ حاصل کر لینا۔
ذکر اور صحبتِ صالحین
ذکر سے دل کی جب تیار ہو زمین
کر لے اختیار صحبتِ صالحین
اس سے اعمال ان کے پائے تو
اس سے حاصل ہو تجھ کو فوزِ مبین
اہلِ دل سے ملنا
جو ظاہر میں خرابی ہو تو لوگ وہ درست کردیں گے
اگر دل میں خرابی ہے تو نفس اور سست کردیں گے
تو اہلِ دل سے ملنا اس لئے ہوتا ضروری ہے
کہ دل کے ٹھیک کرنے کے لئے وہ چست کردیں گے
اچھا وہاں پر تو یہی بات چلے گی نا، تو لہٰذا اہلِ دل سے جب ملو گے، تو ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ نصیب فرما دیں گے وہ چیز۔
یہ میرے خیال میں کافی ہے، اب ایک دفعہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورہ اخلاص اور اس کے بعد ان شاء اللہ ہم ذکر کرتے ہیں۔