طریقِ جذب اور محبتِ الٰہی کا حصول
کتاب: پیغامِ محبت
- طریقِ سلوک اور طریقِ جذب کے طریقہ کار میں فرق
- بیعت کے لیے کامل شیخ (مرشد) کی آٹھ بنیادی نشانیاں
- کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا استحضار اور دلِ بیدار
- دل، عقل اور نفس کی کشمکش اور مجاہدے کی ضرورت
- عشقِ حقیقی اور نفسانی ہوس کے درمیان واضح فرق
- قال سے حال کا سفر اور خالص رضائے الٰہی اور اتباعِ سنت کی طلب
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارا پروگرام طریقِ جذب کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہوتا ہے جو اکثر شاعری کی صورت میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا گیا ہے کہ دو طریقے ہیں اصلاح کے۔ ایک طریقہ ہے سلوک کا، جس میں ایک ایک کر کے ساری چیزوں کی اصلاح کی جاتی ہے، مثلاً تکبر کو دور کرنا، اور جو ہے نا وہ اخلاص پیدا کرنا، بغض کو، ریا کو، ان تمام چیزوں کو ایک ایک کر کے دور کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ جو ہے یہ ذرا لمبا ہے اور آہستہ آہستہ ہوتا ہے لیکن ہے محفوظ۔ اس کے مقابلے میں جو طریقِ جذب ہے اس کا بنیادی اصول یہ ہے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے «حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ»، دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ لہٰذا اگر دنیا کی محبت کو دور کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل میں پیدا کیا جائے تو سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں، بہت آسانی کے ساتھ اصلاح ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ آسانی کے ساتھ صرف زبان کی حد تک ہوگی اگر وہ طریقِ جذب کے بنیادی طریقہ کو اختیار نہیں کیا گیا۔
تو اس کے لیے پھر جو اہلِ محبت ہیں ان کی مجالس میں بیٹھنا، اہلِ محبت کے کلام کو پڑھنا، اور ظاہر ہے یہ محبت اللہ کی محبت تھی دنیا کی محبت نہیں، اللہ کی محبت والے۔ تو ان کے کلام پڑھنے سے، ان کی کتابیں پڑھنے سے، ان کی صحبت میں بیٹھنے سے یہ چیز آہستہ آہستہ آتی ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں اصلاح کا آسان طریقہ نہ بتاؤں؟ تو لوگوں نے کہا ضرور بتا دیجیے۔ تو فرمایا محبت کی پڑیا کھا لو۔ تو لوگوں نے پوچھا حضرت محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا محبت کی دکانوں سے۔ پتا چلا کہ جو اہلِ محبت ہیں ان کی خدمت میں جانے سے یہ نعمت مل سکتی ہے۔ لیکن ان کی خدمت میں جانا دنیا کے لیے نہ ہو، وہ اللہ کی محبت کے لیے ہو، بنیادی مقصد۔ کیونکہ «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»، تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ لہٰذا نیت اگر اس کی ہوگی تو پھر اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا۔
تو باقی ہمارے جو الحمدللہ ہفتے کے جو معمولات ہیں وہ طریقِ سلوک پر مبنی ہیں پانچ دن۔ اور دو دن جو ہے نا یہ طریقِ جذب اس کے متعلق ہیں۔ ایک ہفتے کا دن جس میں درسِ مثنوی شریف ہوتا ہے اور وہ سارا کلام اسی پر ہے۔ اور دوسرا جو ہے نا یہاں یہ منگل کا دن ہم نے رکھا ہے جس میں ظاہر ہے اسی موضوع کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ یہ کلام چونکہ اشارات لیے ہوتا ہے لہٰذا اس کی بروقت تشریح بہت ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر اس کی تشریح نہ ہو تو بعض دفعہ بعض چیزوں کو لوگ دوسری چیزیں سمجھنے لگتے ہیں۔ مثلاً محبت کا لفظ ہی دیکھ لیں، یہ کتنا بدنام ہو چکا ہے۔ ہاں جی، جو آج کل لوگ اس چیز کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ یہ محبت تو نہیں ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ وہ تو ہوس ہے۔ ہوس اور محبت میں واضح فرق ہے۔ ہوس میں خود غرضی ہوتی ہے، اس میں اپنے مفادات کو حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے مفادات کو قربان کیا جاتا ہے۔ یہ ہوس ہوتا ہے۔ جبکہ محبت میں انسان خود اپنے آپ کو فنا کرتا ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے تو پھر ظاہر ہے مطلب محبت اور ہوس دونوں ایک جیسی تو نہیں ہیں، ویسے بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہاں جی تو اللہ جل شانہ کی محبت ہمیں حاصل ہو جائے، اس کے بارے میں بات ہو رہی ہے اور اسی کے لیے ذرا انسان کو یہ تمام ذرائع اختیار کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن نیت اس میں وہی ہونی چاہیے جس کا میں نے ذکر کیا، اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنا، کوئی اور چیز نہیں۔ کیونکہ کوئی اور چیز اگر اس سے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جیسے ایسے ہے جیسے کوئی پانچ ہزار کے نوٹوں سے کوئی چائے پکائے۔ تو چائے تو پک جائے گی لیکن جو نقصان ہے وہ بھی نظر آنا چاہیے۔ اس وجہ سے ایسے جگہوں پہ کسی اور مقصد کے لیے نہیں جانا چاہیے، اللہ کی رضا کے لیے۔
تو کچھ کلام پہلے پڑھا گیا ہے، اب اس کی کنٹینیوایشن ہے۔
ایک غزل ہے،
میرے دل کو کیسے سکون ہو
میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں ایک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے، کوئی بولتی جیسے جلی سی ہے
میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں اسے روک کون سکے گا
جسے آنکھ دیکھ سکے نہیں وہی ذات دل میں بسی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں ایک جو لگی سی ہے
محبت میں اطمینان نہیں ہوتا۔ کیونکہ محبت میں ہمیشہ محبوب کے قریب ہونے کی طلب ہوتی ہے اور یہ لامحدود طلب ہے، اس میں محدود نہیں ہوتی یہ چیز۔ تو اس وجہ سے اس میں کبھی اطمینان نہیں ہو سکتا۔ یہ اب شعر کہتا ہے
میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں اسے روک کون سکے گا اب
جسے آنکھ دیکھ سکے نہیں وہی ذات دل میں بسی سی ہے
مطلب میں تو ایک اندیکھے محبوب کا عاشق ہوں۔ ہاں جی، جس کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے، ایمان کے ساتھ۔ یعنی مجھے ایمان کے ذریعے سے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کا پتہ چلا ہے، میں اس پر عاشق ہوا ہوں۔ تو وہ میرے سامنے چونکہ نہیں ہے لہٰذا اس کے لیے تو میری طلب بڑھتی رہے گی اور میری آنکھیں برستی رہیں گی۔
دور دنیا مجھ سے تو دور ہو میرے دل میں کوئی جگہ نہیں
مجھے تجھ سے واسطہ ہے اب کہاں تیری چاہ بڑی بری سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں ایک جو لگی سی ہے
دنیا سے میں کہہ رہا ہوں یعنی اس غزل میں گویا کہ، کہ اے دنیا تو مجھ سے دور ہو، میرے دل میں تیرے لیے جگہ نہیں ہے۔ کیونکہ تیری چاہت، «حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ»، حدیث شریف میں آتا ہے، وہ تو سب سے خراب چیز ہے۔ تو میں تجھے کیسے چاہ سکتا ہوں۔
کروں یاد اس کو زباں سے اب، کروں اس کو یاد سے تر بتر
میرا دل تو اس کا مکان ہے، تبھی ہوک اس سے اٹھی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں ایک جو لگی سی ہے
یعنی اس کو میں زبان سے یاد کروں، ذکرِ لسانی، اور اپنی زبان کو اس کی یاد سے تر بتر کروں۔ جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پوچھا گیا تھا کہ یا رسول اللہ کون سا کام ہے جو میں ہر وقت کرتا رہوں؟ فرمایا اللہ کے ذکر سے رطب اللسان رہو۔ یعنی تیری زبان ہمیشہ اللہ کی یاد سے تر رہے۔ تو میں اس کو یاد کروں اور اپنی زبان کو اس کی یاد سے تر رکھوں، اور میرا دل تو وہ جگہ ہے جہاں پر وہ رہتا ہے لہٰذا وہی مطلب سب سے زیادہ اس کی طلب کی جگہ ہے۔
میرے دل سے غیر نکل تو جا کبھی بھول کے بھی نہ آنا اب
میرے دل میں آئے وہ آئے اب، دھوم اس کی جیسے مچی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں ایک جو لگی سی ہے
یعنی جو غیر اللہ ہے وہ اس کو میرے دل میں اب نہیں آنا چاہیے۔ ہاں جی، بس میرے دل میں تو اب صرف وہی آ سکتا ہے، اسی کی دھوم ہے، اسی کا شور ہے، میں کسی اور کو یہاں نہیں آنے دے سکتا۔
میرے لب سے اب یہ اٹھے صدا میں رہوں نہ اس سے کبھی جدا
میرے دل میں وہ ہے شبیر اب، یہ زباں پہ بات چلی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو، آگ اس میں ایک جو لگی سی ہے
میری اب زبان سے ایک ہی صدا اٹھتی ہے کہ کبھی میں اس سے جدا نہ ہو جاؤں۔ ہاں جی، بس میرے دل میں تو اب وہی ہے اور زبان پر یہی بات چلی ہے لہٰذا مجھے اس کی طلب ہی کرنی چاہیے۔
یہ دوسری غزل ہے، یہ بے تابی والی غزل ہے۔
دلِ مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
اس زیست کا ہر لمحہ امانت ہے اس کی جب
وہ اس کے لیے صرف ہو اس پہ آؤں میں کیسے
دلِ مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
یعنی جو میرا دل اس کی محبت میں مبتلا ہے، میں اس کو کس چیز کے ساتھ بہلا سکتا ہوں؟ اور میں صرف اسی کے وصل کو چاہتا ہوں، تو پھر میں کیسے مطلب کسی اور طرف جا سکتا ہوں، اس کو میں کیسے پاؤں؟ اور یہ میری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کی امانت ہے تو یہ اسی کے لیے صرف ہو یہ کیسے ممکن ہوگا؟
ہر دم وہ چاہے میری نظر اس کی طرف ہو
اغیار کے اشاروں سے دل بچاؤں میں کیسے
دلِ مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
مطلب اس کا تو یہ، مطلب وہ چاہے، وہ تو یہ چاہے کہ میری نظر صرف اس پر پڑے کسی اور پہ نہ پڑے۔ جو بار بار فرماتے ہیں میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ، میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ تو کیا مطلب ہے؟ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» جو بار بار آپ سورہ فاتحہ میں کہتے ہیں، کس لیے کہتے ہیں؟ کہ ہماری نظر صرف اس پر ہو۔ لیکن ہمارے نفس کی جو خواہشات ہیں اور جو شیطان کے اشارے ہیں وہ مسلسل چل رہے ہیں، اس سے میں اپنے آپ کو کیسے بچاؤں؟ یہ تو مسلسل تیروں کی طرح برس رہے ہیں، تو میں ان تیروں سے اپنے دل کو کیسے بچاؤں؟
دل مطمئن تو اس پہ ہے کہ اس کا ہی رہے
پر نفس کو اس پہ مطمئن کراؤں میں کیسے
دلِ مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
دل تو اس پر مطمئن ہے کہ میں اس کا ہی رہوں، لیکن میرا نفس نہیں مان رہا۔ میرا نفس باغی ہے۔ اس باغی نفس کو میں کیسے اس پر مطمئن کراؤں؟ یہ میری کوشش ہے۔
آنکھوں کے سامنے شر ہے جس میں خیر ہے مخفی
اس خیر میں شر سے آنکھیں اب ہٹاؤں میں کیسے
دلِ مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میرے آنکھوں کے سامنے شر کے نقشے ہیں لیکن ان میں ہی خیر مخفی ہے۔ تو یہ جو خیر ہے، اس میں جو شر کی طرف چیز جاتی ہے، اس سے میں اپنی آنکھیں کیسے ہٹاؤں؟ یہ اصل میں اس کی ایک مثال ہے کہ جیسے غیر محرم راستے میں آ رہے ہوں، تو اب آنکھیں اس طرف اٹھتی ہیں تو شر ہے، یہ شر ہے، ناجائز ہے، حرام ہے۔ لیکن اگر میں نے آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ڈر سے ان سے ہٹا دیں، تو اس پر اللہ تعالیٰ مجھے ایمان کی حلاوت کو نصیب فرما دیتے ہیں حدیث شریف کے مطابق، اب وہ خیر ہے۔ تو میں اس خیر کو میں کیسے حاصل کر لوں، اس شر سے میں اپنی نگاہ کیسے ہٹاؤں، اپنے آپ کو اس سے کیسے بچاؤں، یہ اصل میں بنیادی چیز ہے۔ اب ان تمام چیزوں کا جواب دے رہا ہے۔
جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر
بہتر ہو اس سے بھی وہ، گربتاؤں میں کیسے
دلِ مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
یعنی جس کا شیخ متبعِ سنت ہے، اور شریعت پر چل رہا ہے، تو اس کو اپنے شیخ کی دہلیز پکڑنی چاہیے۔ یہی اس کا گر ہے۔ کیونکہ وہ اس کو اس سے نکلوا سکتا ہے، یہ باقی دوسری چیزوں سے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ ظاہر ہے انسان کے نفس کی جو خواہشات ہیں وہ تو اس کو چھوڑیں گی نہیں۔
لیکن میں آپ حضرات سے جیسے عرض کرتا ہوں یہ بہت ضروری ہے کہ کسی بھی شیخ کا دامن پکڑنے سے پہلے ہمیں معلوم ہو کہ شیخ کس کو کہتے ہیں۔ یعنی کس طریقے سے ہم ان کو جان سکتے ہیں۔ تو اس کے بارے میں اکثر بارہا میں عرض کر چکا ہوں، یہ بار بار مجھے اس لیے کہنا ہوتا ہے کہ چونکہ یہ بات اب انٹرنیٹ پر بھی جا رہی ہے۔ اب ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے پہلی باتیں نہیں سنی ہوں گی، تو اب ظاہر ہے ساتھ ساتھ دوبارہ دوبارہ بھی عرض کرنا پڑتا ہے تاکہ کسی کو کوئی ابہام اور شبہ نہ رہے۔ تو شیخ کی آٹھ نشانیاں ہیں، ان آٹھ نشانیوں کو دیکھنا پڑے گا۔ تب کسی شیخ کے ساتھ انسان رابطہ اس مقصد کے لیے رکھ سکتے ہیں۔ پہلی نشانی یہ ہے کہ اس کا عقیدہ صحیح ہو اور صحیح عقیدے سے مراد صحابہ کا عقیدہ ہے۔ یعنی جس کا عقیدہ صحابہ کا ہو وہ عقیدہ صحیح ہے قرآن پاک کی رو سے۔ «فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ»۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ شریعت کا اتنا علم رکھتا ہو کہ چوبیس گھنٹے شریعت پر عمل کر سکتا ہو۔ تیسری بات چوبیس گھنٹے شریعت پر چلنے والا ہو۔ ہاں جی، آج کل ایسا دور بھی آ گیا اللہ معاف فرمائے ہمیں لوگ خود بتاتے ہیں۔ ایک ڈرائیور تھے کہتے ہیں جی ہمارے پیر صاحب جو ہیں نا وہ نماز نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا وہ کیسے بھئی نماز کیسے معاف ہو گئی اس کے لیے؟ کہتے ہیں ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے کوئی صاحب کو اس کا اعتراض ہو گیا کہ بھئی یہ تو نماز نہیں پڑھتے تو اس نے پیر صاحب سے کہا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو اس نے کہا جاؤ کمرے میں دیکھو۔ کہتے ہیں کمرے میں گیا تو کمرے کے دروازے میں کھڑا ہو گیا، ادھر بھی دیکھتے ہیں ادھر بھی دیکھتے ہیں بھئی کیوں ادھر دیکھتے ہو ادھر دیکھتے ہو کیا ہو رہا ہے؟ کہتے ہیں اندر دیکھ رہا ہوں تو نماز پڑھ رہے ہیں پیر صاحب، باہر دیکھ رہا ہوں تو حقہ پی رہا ہے۔ اب ایسے ڈرامے لوگوں نے بنائے ہوئے ہیں۔ اب کیا کریں؟ بعض لوگ کہتے ہیں جی ہمارے پیر صاحب تو خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں عرش پر نماز پڑھتے ہیں۔ بھئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح نہیں کرتے تھے تو یہ کہاں سے پیر صاحب کو یہ بات آ گئی کہ وہ جو ہے نا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچے ہو گئے۔ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عرش پہ نماز نہیں پڑھتے تھے فرش پر پڑھتے تھے اور یہ عرش پر پڑھتے ہیں؟ بہرحال یہ سارے ڈرامے ہیں، شریعت ظاہر کو کہتے ہیں۔ شریعت چھپی ہوئی چیز نہیں ہے۔ شریعت ظاہر کو کہتے ہیں۔ کہتے ہیں جس کو جمعہ اور جماعت میں پاؤ، اس کے ایمان کی گواہی دے سکتے ہو۔ جس کا جمعہ اور جماعت نہیں ہے تو اس کے ایمان کی گواہی نہیں۔ تو یہ ظاہر پر ہوا نا؟ ظاہر پر مسئلہ ہو گیا نا؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ جو صاحب ہیں شریعت پر عمل کر رہے ہیں، ایک بات۔ تیسری بات یہ ہے کہ چوتھی بات، کہ اس کی صحبت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ یہ جو ہمارے قادری، نقشبندی، چشتی، سہروردی سلسلے ہیں، سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتے ہیں۔ چار ہو گئے۔ پانچ ہو گئے کہ ادھر سے اجازت بھی ہو۔ چھٹی اس کا فیض جاری ہو۔ فیض جاری ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو بھی ان کے ساتھ ملتے ہوں، تو ان کے اندر تبدیلیاں شریعت کے مطابق روزمرہ، روز بروز آ رہی ہوں۔ پانچ باتیں ہو گئیں، چھ باتیں ہو گئیں۔ ساتویں بات، کہ مروت نہ کرتا ہو، اصلاح کرتا ہو۔ اور آٹھویں بات، کہ اس کے پاس جا کے انسان کو اللہ یاد آتا ہو، دنیا سے دل بھرتا ہو۔ تو بہرحال یہ ہے کہ جس، جو ایسا شیخ ہو اور اس کے ساتھ مناسبت بھی ہو پھر یہ:
جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر
بہتر ہو اس سے بھی وہ، گربتاؤں میں کیسے
یہ بات اس شعر کی سمجھ نہ آتی اگر میں یہ ساری چیزیں نہ بتاتا۔ کیونکہ اگر خدانخواستہ کسی کا شیخ ایسا ہے جیسے میں نے آپ کو ابھی بتایا، تو وہ تو اس کو اپنے ساتھ کسی اور جگہ لے جائے گا۔ ہاں جی، جو متبعِ سنت ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلنے والا ہے، وہ وہاں لے جائے گا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہیں۔ ہاں جی، اور جو متبعِ سنت نہیں ہے تو وہ جہاں سے اس نے لیا ہے وہاں چلا جائے گا۔ ہاں جی تو یہ بات۔
یہ خیالوں میں وہ موجود، یہ اللہ جل شانہ کی ذات کے بارے میں ہے، انسان کو اللہ پاک کی ذات کا استحضار کیسے حاصل ہو؟
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
سورج کی روشنی میں، ہواؤں میں وہ موجود
اب دیکھیں اللہ پاک کے تصرفات ان تمام چیزوں میں ہو رہی ہیں تو نظر آ رہا ہے۔
اس کے ہی ارادے سے ہر ایک چیز ہے قائم
ہے چاند میں موجود، ستاروں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
جس دل میں بصیرت ہو وہ دیکھے اسے ہر وقت
بصیرت دل کی آنکھ کو کہتے ہیں۔
جس دل میں بصیرت ہو وہ دیکھے اسے ہر وقت
ہر آن ہر جگہ مشاہدوں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
کیا فعل ہے ممکن اگر اس کا نہ ہو فاعل
ایسے ہی سوالوں کے جوابوں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
مطلب یہ ہے کہ کیا کوئی کام بغیر کسی کرنے والے کے ہو سکتا ہے؟ جب نہیں ہو سکتا تو یہ سارا کچھ جو ہو رہا ہے پھر کون کر رہا ہے؟ ظاہر ہے وہ اللہ ہی کر رہا ہے، تو اس سوال کے جواب میں کون جواب آئے گا؟ اللہ۔
فطرت کے مطابق ہے رخ بگاڑ کی طرف
اجزائے منتشر سے تعمیروں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
مطلب یہ ہے کہ فطرت کی جو ہے انٹروپی جس کو ہم کہتے ہیں سائنس میں۔ کہ انٹروپی جو ہے وہ بگاڑ کی طرف ٹینڈنسی کو کہتے ہیں۔ یعنی آپ گھر کو چھوڑ دیں تو تھوڑے عرصے میں ویران ہو جائے گا، خراب ہو جائے گا۔ اپنے جسم کو چھوڑ دیں، خراب ہو جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ چیزیں بگاڑ کی طرف جاتی ہیں خود بخود جب تک اس کو صاف کرنے کی جب تک اس کو ٹھیک رکھنے کی سعی اور کوشش نہ کی جائے۔ جیسا اس کوشش پر اترے گا تو جب خود بخود چیزیں بگاڑ کی طرف جا رہی ہیں اس سے بچنے کے لیے ضرورت ہے اس کو اس کے لیے ایک فاعل کی تو یہ چیزیں جب بالکل بگڑی ہوئی تھیں اس کو ٹھیک کرنے کے لیے کوئی ضرورت ہوگی یا نہیں ہوگی؟ یعنی اسے اچھائی کی طرف لانے کی، مثال کے طور پر یہاں تمام چیزیں بکھری ہوئی پڑی ہیں، تو کیا خود بخود ارینج ہو جائیں گی اور اس سے ایک چیز بن جائے گی، دیوار بن جائے گی، اینٹ اور گارا اور سارا کچھ مل ملا کے جو ہے نا وہ بن جائے گا؟ دیوار بن جائے گی؟ یہ ساری باتیں اس کی طرف ہیں نا۔
فطرت کے مطابق ہے رخ بگاڑ کی طرف
اجزائے منتشر سے تعمیروں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
تھوڑی سی اپنے آپ کی تخلیق ہو سامنے
انسان میں موجود، نظاموں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
تھوڑی اگر ہم اپنی تخلیق کو ذرا سامنے کر دیں، ہم کیسے ہیں ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے، ہمارے اندر ڈائجسٹو سسٹم ہے اور اس طرح جو مطلب نظامِ تنفس ہے اور یورینیشن کا سسٹم ہے، لیور کا سسٹم ہے، یہ سب چیزیں خود بخود ہو رہی ہیں۔ تو کیا اس کا کرنے والا کوئی نہیں ہے؟ ایسے پرفیکٹ نظاموں کو کس نے بنایا؟
گر عقل نفس زدہ نہ ہو، اور حق کی طلب ہو
سربستہ کائنات کی رازوں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
ماشاءاللہ اگر عقل نفس زدہ نہ ہو یعنی نفس کا اثر اس پر نہ ہو اور حق کی طلب ہو اس کو، تو پھر یہ کائنات کے جو سربستہ راز ہیں ان سب میں اللہ تعالیٰ نظر آئیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقل اسی لیے دی ہے کہ چیزوں سے سمجھا جائے جو حالات ہوتے ہیں اس سے۔ اب جیسے مثال کے طور پر اب دیکھ لیں کہ ادھر گرمی ہے اس ادھر زیادہ گرمی ہے ادھر زیادہ گرمی ہے ادھر زیادہ تو پتہ چلا کہ کوئی ہیٹ سورس اس طرف ہے۔ تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل اس لیے دی ہے نا کہ وہ اندازہ لگا سکتا ہے چیزوں سے کہ کیا ہو رہا ہے۔ تو اگر عقل صحیح کام کر رہی ہو اور عقل صحیح کام کرنے کے لیے نفس کا صحیح ہونا ضروری ہے، تو نفس اگر ٹھیک کام کر رہا ہو اور مطمئن ہو اور عقل کو خراب نہ کیا ہو، اور اس کو حق کی طلب ہو تو ان سربستہ کائنات کی جو راز ہیں ان سب میں اللہ تعالیٰ نظر آئیں گے۔
شبیر تم طلبِ دلِ بیدار تو کرو
سچی طلب کے ساتھ دعاؤں میں وہ موجود
دل عشق سے لبریز، خیالوں میں وہ موجود
دلِ بیدار کا ذکر آ گیا نا تو دلِ بیدار کی تعریف بھی ہو جائے کہ دلِ بیدار کس کو کہتے ہیں۔
دلِ بیدار ہی قرآن سے ہدایت لے لے
دلِ ذاکر ہی تو اللہ سے حکمت لے لے
ہاں جو ارد گرد ہمارے ہیں، یہاں چیزیں سب
وہ رکاوٹ نہ بنے دل عبرت لے لے
دلِ بیدار ہی قرآن سے ہدایت لے لے
«إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ»۔ بیشک قرآن کے اندر نصیحت ہے مگر اس شخص کے لیے جس کا دل بنا ہو۔ تو جس کا دل بیدار ہے وہ قرآن سے ہدایت لے سکتا ہے، کوئی اور دل نہیں لے سکتا۔
دل اگر اللہ کو جانے نہیں
نفس آسانی سے پھر مانے نہیں
دل اگر اللہ سے مانوس ہو
پھر ملے اس نفس کو بہانے نہیں
دل اگر اللہ کو جانے نہیں
نفس آسانی سے پھر مانے نہیں
اگلی غزل ہے، کچھ تھوڑا سا دل اور عقل کے بارے میں۔
میرا دل عقل سے بیزار نہیں
ہاں مگر اس کا تابعدار نہیں
یعنی میرا دل جو ہے عقل سے بیزار نہیں عقل کو مانتا ہے، لیکن اس کا تابعدار بھی نہیں ہے، بلکہ اس کو رول کرتا ہے۔ روحانی دل جو ہے یہ عقل کو رول کرتا ہے۔
نفس کو عقل سے دبا لینا
کیسے ہو دل اگر بیدار نہیں
میرا دل عقل سے بیزار نہیں
یعنی نفس کو عقل سے دبا لینا چاہیے لیکن یہ کیسے ممکن ہو اگر دل بیدار نہ ہو، یعنی دل بیدار نہ ہو تو نفس ہی عقل کو دبا لے گا۔ اس کو پھر نفس زدہ عقل کہتے ہیں۔
جذبِ خالص تو ایک نعمت ہے
کہ اس کا نفس پر مدار نہیں
میرا دل عقل سے بیزار نہیں
مطلب جذبِ خالص جس کو میں نے ابھی طریقِ جذب کا نام لیا تھا یہ اللہ کی نعمت ہے۔ کیونکہ نفس پر اس کا مدار نہیں ہے اس کا مدار کس چیز پر ہے دل پر ہے۔ جذب کا مدار کس چیز پر ہے؟ دل پر ہے۔
جذبِ خالص تو ایک نعمت ہے
کہ اس کا نفس پہ مدار نہیں
میرا دل عقل سے بیزار نہیں
یہ ذرا تھوڑا سا سمجھانا پڑے گا، یہ ذرا ڈفیکلٹ ٹاپک ہے۔ نفس بہت پاورفل چیز ہے، بہت پاورفل چیز ہے۔ انسان کی عقل کو مختل کر کے رکھ دیتا ہے۔ انسان کو بھیڑیا بنا دیتا ہے، انسان کو درندہ بنا لیتا ہے، جب یہ قابو سے باہر ہو۔ لیکن دل بادشاہ ہے، پورے جسم کا۔ اگر وہ کسی کی محبت میں رنگ جائے، چاہے وہ دنیا کی کسی چیز کی محبت کیوں نہ ہو۔ جیسے یہ پروفیسر ٹائپ اور لوگ ریسرچ جو کرتے ہیں ان کو ریسرچ کے ساتھ محبت ہوتی ہے نا۔ تو یہ اپنا کھانا پینا ساری چیزیں بھول جاتے ہیں۔ سونا بھی بھول جاتے ہیں۔ ہاں جی یہ راستے پہ چلتے ہیں تو، کہتے ہیں ایک پروفیسر صاحب، ویسے لطیفہ ہے لیکن سمجھانے کے لیے میں عرض کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں باہر گئے، تو بھینس سامنے آ گئی، تو یہ تو اپنے سوچ میں چل رہے تھے، تو ٹکر لگی نا بھینس کے ساتھ، کہتے ہیں محترمہ معاف کیجیے گا۔ تو پھر دیکھا کہ یہ تو بھینس ہے شرمندہ ہو گیا۔ ہاں جی، دل میں بیٹھ گیا بھئی یہ غلط ہے۔ تو پھر جا رہا تھا، پھر جا رہا تھا تو پھر کسی عورت کے ساتھ ٹکر ہو گئی۔ ظاہر ہے عورتیں بھی تو چل رہی ہوتی ہیں راستے میں۔ تو وہ سمجھ رہا تھا کہ بھینس کے ساتھ ٹکر لگی ہے کہتے ہیں کھلی چھوڑ دیتے ہیں۔ تو مقصد یہ ہے کہ وہ ظاہر ہے بیچارہ پروفیسر تھا لہٰذا اس کو کیا مطلب سمجھ میں آ سکتی تھی بات، وہ اپنی سوچ میں مگن تھا۔ تو یہ جو انسان کسی، کسی چیز کی طرف involve ہو جاتا ہے، چاہے وہ دنیاوی چیز کیوں نہ ہو، وہ بیچارہ نارمل نہیں رہتا۔ ہاں جی، اس طرح بعض لوگ پیسہ کمانے کی محبت میں، اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ ہاں جی، وہ سب کچھ اسی پہ قربان کرتے رہتے ہیں۔ اچھا بعض لوگ عزت کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ یہ جو سیاسی لیڈر ہوتے ہیں دوسرے، یہ بیچارے سیاست کے لیے اپنے آرام تمام چیزیں قربان کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کو یہ شوق ہوتا ہے کہ میں ایم این اے بن جاؤں، میں ایم پی اے بن جاؤں، میں فلاں بن جاؤں، میں فلاں بن جاؤں، میں گورنر بن جاؤں، وزیراعظم بن جاؤں۔ میں آپ کو بتاؤں ہمیشہ ایک فالس قسم کا جو امپریشن ہے نا وہ نقصان پہنچاتا ہے۔ مثلاً یہ جتنے ایکٹر لوگ ہیں، ایکٹر۔ تو جتنے ایکٹر کامیاب نظر آ رہے ہیں ان کے پیچھے لاکھوں ناکام ایکٹر ہوتے ہیں۔ لاکھوں ناکام ایکٹر اور جتنے کرکٹرز نظر آ رہے ہیں آپ کو ان کے پیچھے لاکھوں ناکام کرکٹرز ہوتے ہیں۔ ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ جو اس مقام پہ آنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے وہ اپنا سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ ظاہر ہے ہر ایک تو نہیں آ سکتا کمپٹیشن کا دور ہے۔ تو محبت میں وہ سب کچھ چیزیں چھوڑ دیتے ہیں، اس وجہ سے بعض لوگ اپنی عصمتیں لٹوا لیتے ہیں اور مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن وہ اس چیز کو حاصل کرتے ہیں، تو یہ محبت جو ہے نا یہ بہت پاورفل چیز ہے، یہ نفس کو رول کر لیتا ہے۔ ہاں جی، تو اگر اللہ کے ساتھ محبت ہو گئی تو پھر نفس کی کیا پرواہ کرے گا؟ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ میں نے مثالیں آپ کو ساری بری دی ہیں۔ لیکن میں آپ کو کہاں پہنچانا چاہتا ہوں؟ اچھی چیز پر اور وہ کیا ہے اللہ کی محبت۔ تو اللہ کی محبت اگر کسی کو حاصل ہو جائے تو کیا وہ نفس کی پرواہ کرے گا؟ نفس کی پرواہ نہیں کرے گا۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ یہی تو ہوا تھا نا۔ وہ بیچارہ کسی کہتے ہیں اس میں تھا عشق میں مبتلا تھا تو وہ یہ ہے کہ پوری رات کھڑا رہا انتظار میں۔ پتہ ہی نہیں چلا رات گزرنے کا، صبح ہو گئی، فجر ہو گئی، اذان ہو گئی۔ یہ کیا ہے؟ بھئی ابھی تو سوچ ہی نہیں سکا کہ یہ فجر کی اذان ہے۔ ایسے مبہوت تھا اس میں۔ ہاں جی، تو وہ یہ ہے کہ پھر اس نے اپنے آپ کو نفرین کر دیا کہ اوہو، دیکھو تیری یہ حالت ہو گئی ہے۔ تجھے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ فجر کی اذان ہے، عشا کی اذان ہے۔ تو اتنا اس میں غرق ہو گیا۔ یہ محبت اگر مجھے اللہ کے ساتھ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ بس اس نے توبہ کر لی اور چونکہ پہلے سے محبت تو حاصل تھی، وہ اللہ کی طرف رخ گیا رخ کر دیا اس نے، نتیجتاً بہت بڑے بزرگ بن گئے۔ ہاں جی، تو مقصد یہ ہے کہ یہ دیکھیں اگر انسان ذرا سوچے تو محبت جو ہے نا بہت بڑا پاورفل جذبہ ہے۔
لیکن اب یہ اگلا شعر اس کو تشریح کرے گا کہ یہ محبت جو نارمل لوگ محبت کا نام لیتے ہیں وہ نہیں، بلکہ یہ دوسری محبت ہے۔
جان لے گا تو فرقِ عشق و ہوس
ہوس تجھ پر اگر سوار نہیں
میرا دل عقل سے بیزار نہیں
مطلب یہ ہے کہ عشق اور ہوس میں کیا فرق ہوتا ہے؟ عشق فنائیت کی طرف جاتا ہے، وہ اپنے محبوب کے لیے سب کچھ قربان کرتا ہے اور ہوس میں وہ محبوب کے مفادات کو قربان کرتا ہے۔ وہ خود غرض ہوتا ہے۔ ہاں جی، کسی کی عزت کی پرواہ نہیں کرتا کسی کی عصمت کی پرواہ نہیں کرتا اس کے اوپر یہ چیز سوار ہوتی ہے تو اگر کسی کے اوپر ہوس سوار ہے تو تو فرق نہیں محسوس کر سکتا وہ تو کہے گا یہ محبت ہے۔ حالانکہ وہ محبت نہیں ہے۔ وہ ہوس ہے۔ محبت تو اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔
نفس کو قابو مجاہدے سے کر
کیونکہ اس پر تو اعتبار نہیں
ہاں نفس کو مجاہدے کے ساتھ قابو کر لو کیونکہ نفس پہ کوئی اعتبار نہیں ہے۔
دل کو اذکار سے مانوس کر لے
لے کہ پھر نا دل بیمار نہیں
دل کو اذکار کے ساتھ،
دل کی اصلاح تو اس کی یاد میں ہے
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دلوں کی اصلاح کا ذریعہ کیا ہے؟ ذکرُ اللہ ہے۔
دل کی اصلاح تو اس کی یاد میں ہے
ورنہ اس پر تو اختیار نہیں
میرا دل عقل سے بیزار نہیں
مطلب یہ ہے کہ دل پر ویسے اختیار نہیں ہے۔ لیکن نفس پر اعتبار نہیں، دل پر اختیار نہیں۔ نفس پر اعتبار نہیں اور دل پر اختیار نہیں۔ لیکن اگر آپ اللہ کو یاد کر رہے ہوں گے تو آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ اس کی، یہ خود بخود اس طرف جائے گا جس طرف جانا چاہیے۔
یہ تو الہامِ ربانی ہے شبیر
جان لو یہ فقط اشعار نہیں
یعنی اللہ کی طرف سے چیزیں آ رہی ہیں، یہ صرف اشعار نہیں ہیں۔
قال اور حال کا سفر۔
قال سے حال کا سفر کرنا
دل کو اللہ سے باخبر کرنا
نفس کو احکام کا پابند کر کے
اپنے اعمال کو بہتر کرنا
یعنی قال حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں قال را بگذار مردِ حال شو۔ یہ تم جو کہتے ہو نا کہ فلاں ہونا چاہیے فلاں ہونا چاہیے، یہ صرف قال ہے۔ کر کے دکھا دو یہ حال ہے۔ ہاں جی، صرف کہنے سے کام نہیں بنتا، کر کے دکھاؤ تو پھر یہ کیا ہے حال۔
قال سے حال کا سفر کرنا
دل کو اللہ سے باخبر کرنا
نفس کو احکام کا پابند کر کے
اپنے اعمال کو بہتر کرنا
اب فکر کی فکر، ہمیں فکر نہیں ہے۔
تعلق سب سے کرنا ٹھیک تو منظور
فکر اس کی نہیں اللہ سے ہوں دور
خرابی ساری دل کی ہے یہ شبیر
مگر آنکھوں سے رہتی ہے یہ مستور
مطلب ہمیں ساری چیزوں کی فکر تو ہے لیکن اس چیز کی فکر نہیں کہ میں اللہ سے کیوں دور ہوں۔ یہ ذرا کھری کھری باتیں ہیں۔
دل خون کے آنسو روئے گا
جب اپنا مقام تو کھوئے گا
تجھ پر غیرت خدا نے کی کیا
اس پر بھی تو سوئے گا
ہاں اللہ نے ہمارے اوپر غیرت کی ہے۔ فرشتوں نے کہا نا کہ یہ تو فساد پھیلائیں گے، یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ غیرت ہے نا اللہ کی یہ۔ تو اس وجہ سے جب توبہ انسان کرتے ہیں تو اللہ کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ اور فخر کرتے ہیں ملائکہ کے سامنے۔ ہاں جی، تو مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوپر اللہ نے غیرت کی ہے پھر بھی ہمیں یاد نہیں آئے گا۔
تجھ پر غیرت خدا نے کی
کیا اس پر بھی تو سوئے گا
تو اس کو وہاں پر کاٹے گا
جو چیز یہاں پر بوئے گا
جو چیز تو یہاں بو رہا ہے، وہی چیز کاٹو گے۔
واں خون کے آنسو نہ دھوئے
یہاں آنسوؤں سے جو دھوئے گا
جو یہاں پر تو آنسو بہا کر حاصل کر سکتے ہیں وہاں خون بہا کر نہیں حاصل کر سکتے۔
بس اس کا تو بن جا نہ شبیر
پھر دیکھ لینا جو ہوئے گا
جب اس کا تو بن جائے گا پھر اس کے بعد تو خود دیکھ لے گا کہ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
یہ اب ایک سمجھ اور ناسمجھی کا ایک مقالہ سا ہے، ایک تھوڑا سا ڈسکشن سا ہے۔ لوگ کیا سمجھتے ہیں اور ہونا کیا چاہیے؟
دلِ عاشق کو کہیں لوگ اگر دیوانہ
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اسے فرزانہ
مطلب یہ ہے کہ جو عاشق کا دل ہے اگر اس کو لوگ دیوانہ کہہ دیں تو کوئی بات نہیں۔ اگر تو اس کو ٹھیک سمجھ لے۔ یہ ٹھیک کرنا ہے۔
گھومتے شمع کے گرد ہیں اور جل جاتے ہیں
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اپنا پروانہ
مطلب یہ جو ہے نا وہ، اگر انسان مشکلات میں پڑتے ہیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ ان کے دل میں محبت القا کرتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔
نالے آتے تو زباں پر ہیں مگر شکوہ نہیں
عذر اپنا ہو قبول نالے ہیں یہ مستانہ
نالے سے مراد یہ کہ فریاد۔ زبان پر آتے ہیں لیکن یہ شکوہ کی فریادیں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مستانہ نالے ہیں، محبت کے نالے ہیں، اپنے محبوب کے پاس جانے کے نالے ہیں۔
خود کو آسان نہیں ہے یہ مٹایا مٹانا لیکن
ہے یہ مٹ جانا کہاں ہے یہ باقی بن جانا
مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو مٹانا آسان نہیں ہے لیکن یہ مٹ جانا نہیں ہے یہ تو باقی بن جانا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گوشت دیا فرمایا اس کو خیرات کر دو۔ تو کچھ خیرات کر دیا، کچھ رہ گیا۔ تو اس پر جو ہے نا پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وہ خیرات کر دیا؟ فرمایا اتنا خیرات کر دیا اتنا باقی ہے۔ فرمایا جو خیرات کیا وہ باقی ہے۔ باقی تو...
جو خواہشیں تھیں میرے دل کی ہو گئی رخصت
یہ خود کا چھوڑنا ہے یا یہ اس کا ہے پانا
جو خواہش تھی میرے دل کی وہ تو رخصت ہو گئی ہیں۔ یہ اپنے آپ کو چھوڑنا ہے یا اس کا پانا ہے؟
دلِ بیدار مجھے دے قلبِ غافل سے بچا
شبیر تیرا ہے، تیرے ہی طرف ہے آنا
«إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»۔ ہاں جی اس کا مضمون ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔
اب ذرا تھوڑی سی suggestions ہیں:
گناہ سے بچنا، گناہ نہ کرنا، اگر یہ ہووے تو توبہ کرنا
پسند رب کو ہے تیری توبہ، بگڑ گئے جب تو پھر سدھرنا
بڑائی جتنی بڑی کریں ہم، بڑا ہے اس سے، وہ یاد رکھنا
بڑے بنو نہ بڑا وہی ہے، بڑا بس اس کو ہی تم سمجھنا
یعنی اپنے آپ کو کبھی بڑا نہ کہو، نہ بڑا سمجھو۔ وہی بڑا ہے اور جتنی بڑائی بھی تو اس کی بیان کرے گا اس سے زیادہ بڑے ہیں۔ اس سے زیادہ بڑے ہیں۔
کرم تو اس کا عظیم تر ہے، تم جھولی اپنی بھی کھولے رکھنا
نہ سمجھو خود کو تم مستحق ہاں، کہ ایسے جرأت سے بھی ہے ڈرنا
جھولی کھول کے رکھو لیکن مستحق اپنے آپ کو نہ سمجھو۔ اس پہ فیصلہ چھوڑو۔ یہ فیصلہ اس کا ہے۔
وہ عاجزوں پہ ہے مہرباں جب، تو عاجزی کیوں کرو نہ حاصل
کہ ماننے کا ارادہ لے کے تو مانگتے مانگتے ہے آگے بڑھنا
اسی نے محبوب کو اپنے محبوب طریقے خود ہی بتا دیے ہیں
انہیں طریقوں پہ چلتے جانا گر اس کا محبوب ہے تجھ کو بننا
کیسی کھری کھری بات ہے۔ یعنی اس نے اپنے محبوب طریقے اپنے محبوب کو بتا دیے ہیں۔ لہٰذا اس کے محبوب نے وہ طریقے استعمال کر لیے۔ اب وہی طریقے اللہ چاہتے ہیں ہم سے۔ تو تم دیکھ دیکھ کر وہی طریقے اختیار کر لو، تو اس کا محبوب بن جاؤ گے۔ ورنہ پھر وہ چیز حاصل نہیں ہو سکے گی۔ لہٰذا اگر اللہ کا محبوب بننا ہے تو اللہ کے محبوب کے طریقوں کو اپناؤ۔ «قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ»۔
ہے اس کا محبوب ہمارا محبوب طریقے محبوب کے کیوں نہ محبوب
اس کا محبوب ہمارا بھی محبوب ہے، پھر اس کے محبوب طریقے ہمیں کیوں محبوب نہیں؟
اے کاش سمجھے کہ ایسا کیوں ہے، ہمارا دشمن کے پیچھے چلنا
کاش ہم لوگ سمجھیں کہ دیکھو ہم محبت کا دعویٰ تو اس کے ساتھ کر رہے ہیں اور اب اس کے دشمن کے پیچھے چل رہے ہیں۔
ہمارے نفسوں کی خواہشیں بھی کشش ہیں رکھتی بہت ہی زیادہ
نہ ہو جو جائز مجاہدے سے انہیں ہمیشہ دبا کے رکھنا
ہماری جو نفس کی خواہش ہے وہ بھی کمزور نہیں ہیں بہت زبردست کشش رکھتی ہیں لیکن جو ان میں ناجائز ہے مجاہدے سے ان کو ہمیشہ دبا کے رکھو۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ اگر کوئی بیس منزل سے گر رہا ہو اور کسی شیڈ کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اس کو پکڑے، تو کیا خیال ہے؟ وہ کچھ آرام کر سکے گا؟ چلو تھک گیا ہوں تھوڑا دیر کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ پورا وزن اس سے لٹکا ہوا ہے۔ لیکن جب تک کوئی مدد نہیں آئے گی اس وقت تک وہ کم از کم اپنی مرضی سے نہیں چھوڑے گا۔ ہاتھ سے چھوٹ جائے وہ علیحدہ بات ہے لیکن اپنی مرضی سے نہیں چھوڑے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہی چیز یہ ہے کہ ہمیں بھی ہمیشہ جیسے انسان گر رہا ہے اور پتہ ہے میں پاش پاش ہو جاؤں گا۔ تو جو ناجائز چیزیں ہیں اس کے بارے میں سمجھے کہ میں نے اگر یہ اختیار کر لی تو پاش پاش ہو جاؤں گا۔ لہٰذا اپنے نفس کے اوپر پورے زور لگانا چاہیے، اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے نا؟
ہمارا نفس ہے ہماری گاڑی تو دل کو اس پہ سوار کر لے
کہ ایسے سائق کو نفس کے واسطے بھی چاہیے ہے تو کچھ سنورنا
یعنی جو ہمارا نفس ہے وہ ہماری گاڑی ہے اور جو دل ہے وہ اس کا ڈرائیور ہے۔ تو اس ڈرائیور کے لیے، نفس کو چلانے کے لیے کچھ نہ کچھ سنورنا چاہیے نہیں سنورنا چاہیے؟ اس ڈرائیور کو طریقہ آنا چاہیے نا۔
سنورنا یہ ہے سمجھ وہ جائے کہ میرا محبوب اصل میں ہے کون میں کس کو مانوں میں کس کو چھوڑوں مجھے ہے کس سے اور کیسے بچنا
یعنی اس کا سمجھنا کیا ہے وہ یہ جان لے کہ میں کس کی مانوں اور کس کو چھوڑوں۔ اور جو مجھے تنگ کر رہا ہے اس سے مجھے کیسے بچنا ہے۔
ملے جو رہبر طریق طے ہو طریق میں پھر آسانیاں ہو
تو دل بھی رستہ عجیب پائے کہ مشکلوں سے ہے یوں نکلنا
اگر رہبر مل جائے تو پھر طریق طے کرنا آسان ہو پھر آسانیاں حاصل ہو جائیں۔ پھر دل بھی ایک عجیب رستہ پائے اور مشکلوں سے نکلنا سیکھ لے۔
یہ برکتوں کے ہیں سلسلے ہیں انہی پہ تائید ہے اس کی ملتی
رہِ نبی پہ ہے دل سے چلنا، کبھی نہ تم کو ہے اس سے ہٹنا
یہ جو ہمارے سلسلے ہیں چشتیہ نقشبندیہ سہروردیہ یہ سب یہ برکتوں کے سلسلے ہیں اور اللہ کی تائید اس سے مل جاتی ہے۔ بس کام یہ کرنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر دل سے چلنا چاہیے اس طریقے سے بالکل ہٹنا نہیں چاہیے۔
یہ دل کی باتیں ہیں ان کو سمجھو، قلم ہے شبیر کا اب رواں جب
کہ اس کا دل ہے ٹھکانہ جس کا، وہ چاہے اس کا ہی اس میں بسنا
مطلب یہ سب دل کی باتیں ہیں لہٰذا ان کو سمجھو، شبیر یہ لکھ رہا ہے۔ اور جو شبیر کا دل ہے وہ اس کا ٹھکانہ ہے، لہٰذا وہ یہی چاہے گا کہ وہی اس میں بسے۔ کوئی اور اس میں نہ آئے۔
یہ اب ماشاءاللہ ایک مشورہ ایک suggestion ایک guideline آپ نے سن لی۔ لیکن جب محبت ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
عشق کی آگ
عشق کی آگ چپکے چپکے جلے
اور دل خدا سے چپکے چپکے ملے
تیرتی رہتی نمی آنکھ میں ہو
پر ادب سے کوئی آنسو نہ گرے
شمع کی طرح پگھلنا تو ہو
پر ادب سے قدم اپنا نہ ہٹے
دل میں ایک آگ عشق کی برپا ہو
پر نظر آئے نہ اس کے شعلے
آنکھیں دید کو ترستی رہیں
منہ سے چپ ہو اور کوئی اف نہ کرے
عشق کی آگ لگائے تو لگے
لگے شبیرؔ تو پھر وہ نہ بجھے
مطلب یہ ہے کہ عشق کی آگ اگر لگ جائے تو پھر بجھتی نہیں ہے۔ اس وجہ سے اسی کو کوشش کرنا چاہیے حاصل کرنے کی۔
اور دنیا کی محبت کیا ہے؟
دنیا کی محبت
دل سے دنیا اگر نکل جائے
پھر خدا خود ہی ہم کو مل جائے
یہی تو رکاوٹ ہے۔
دل سے دنیا اگر نکل جائے
پھر خدا خود ہی ہم کو مل جائے
توبہ کرنے سے کیا ہوتا ہے
معصیت کا پہاڑ ہل جائے
وہ کہتے ہیں بھئی توبہ سے کیا ہوتا ہے بھئی یہ ہوتا ہے کہ معصیت کا پہاڑ ہل جاتا ہے۔ وہ ختم ہو جاتا ہے۔
جہد ہے نفس کا علاج مگر
ذکر سے دل کا باغ کِھل جائے
جہد سے نفس کا علاج ہوتا ہے اور ذکر سے دل کا باغ کِھلتا ہے۔
وہ تو دینے پہ تُلا ہے لیکن
اس کے در پر کوئی سائل جائے
وہ تو دینا چاہتا ہے لیکن اس کے در پہ کوئی جائے تو سہی۔ مانگے تو سہی۔ تہجد کا وقت اللہ نے رکھا ہوا ہے۔ ایک خاص چیز کو مانگنے کے لیے۔ تو اس پہ ہم کریں نا استعمال۔ اس وقت کھڑے ہوں اللہ کے سامنے مانگیں اللہ تعالیٰ سے۔
دل اگر بن گیا شبیر تیرا
وہاں جانا جہاں پہ دل جائے
تیرا دل اگر بن گیا تو پھر اس دل کی بات مانتے رہو۔ پھر جہاں یہ جاتا ہے تم بھی جاؤ۔
اب ہمارے سلسلے کے خصوصی ایک Conceptual غزل ہے کہ ہمارے سلسلہ کیا چاہتا ہے۔ یہ ہر سلسلے کا اپنا اپنا رنگ ہوتا ہے نا، ہمارے سلسلے کا رنگ کیا ہے وہ بتاتا ہوں۔
طلبِ محبت
نہ چاہوں میں اب عاجلہ کی محبت
میں مانگوں خدا سے خدا کی محبت
عاجلہ کی محبت مجھے نہیں چاہیے۔ مجھے خدا کے لیے خدا کی محبت چاہیے۔ عاجلہ اس کو کہتے ہیں جو فوری طور پر انسان کو حاصل ہوتا ہو۔
اور ان کی بھی اس سے محبت جو رکھے
وہ سب انبیا اولیا کی محبت
اور جو ان سے محبت رکھے، ان کی محبت بھی میں چاہتا ہوں۔ جو سارے انبیاء ہیں سارے اولیاء ہیں۔
ذرائع محبت کے ہوں مجھ کو محبوب
ملے مسجد و درسگاہ کی محبت
جو محبت کے ذرائع ہیں وہ مجھے محبوب ہوں اور مسجد و درسگاہ کی محبت مجھے مل جائے۔
مشائخ کی صحبت میسر رہے
ملے مجھ کو ہر خانقاہ کی محبت
خطاؤں کی جڑ حبِ دنیا ہے شبیرؔ
یہ مال کی یا جاہ کی یا باہ کی محبت
تینوں محبتوں سے اپنے آپ کو بچانا۔ مال کی محبت سے، جاہ کی محبت سے یعنی بڑا بننے کی محبت سے، اور باہ کی محبت سے۔
اوراسی کو تشریح کے لیے ایک ہے، وہ بھی بتا دیتا ہوں۔
مجھے کیا چاہیے
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کے لیے میں خدا چاہتا ہوں
یعنی میں اگر خدا کو بھی چاہتا ہوں تو خدا کے لیے چاہتا ہوں دنیا کے لیے نہیں چاہتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نہیں آ رہی؟ میں اگر "اللہ اللہ" کروں اس لیے کہ میری بیماری درست ہو جائے۔ میں اگر اللہ اللہ اس لیے کروں کہ اللہ تعالیٰ مجھے یعنی میری دنیا درست کر لے تو ٹھیک ہے مانگ سکتے ہیں لیکن "اللہ اللہ" تو حق ہے اللہ کا کہ میں اس لیے کروں کہ اللہ کا حق ہے۔
خدا کے لیے میں خدا چاہتا ہوں
اسی کا میں بندہ اسی سے میں مانگوں
اسی سے مدد ہر جگہ چاہتا ہوں
اسی نے عطا کی ہے ایماں کی دولت
اسی سے ہے اس کی بقا چاہتا ہوں
ہدایت کا طالب میں اس کے حضور ہوں
جو سیدھی ہو بالکل وہ راہ چاہتا ہوں
اگرچہ میں عصیاں کے گرد سے اٹا ہوں
میں اس سے کرم کی نگاہ چاہتا ہوں
نہ کھینچے مجھے دوسری بھول بھلیاں
طریقِ محبت صفا چاہتا ہوں
نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی
جو مقبول ہو وہ ادا چاہتا ہوں
سمجھ گئے یہ بات؟ ہمارے ہاں ان چیزوں کی خوہش نہیں ہے۔ نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی،
نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی
جو مقبول ہو وہ ادا چاہتا ہوں
میں اس کی محبت کی دولت کا طالب
اسی کو ہے معلوم کیا چاہتا ہوں
خدایا مجھے اب تو اپنا بنا دے
خدایا میں تیری رضا چاہتا ہوں
کرم کر کرم کر کریموں کے خالق
کرم کی نظر میں سدا چاہتا ہوں
میں صدقِ صدیق اور عمر کی فراست
اور عثمان کی جود و سخا چاہتا ہوں
علی کی شجاعت سے حصہ میں پاؤں
حسن کا طریقِ وفا چاہتا ہوں
میں شبیر سجدۂ شبیر نہ بھولوں
تیرے واسطے ہونا فدا چاہتا ہوں
مطلب یہ اس میں ساری چیزیں آ گئیں۔ خلفائے راشدین سارے آ گئے تو پھر کیا چیز رہ گئی؟ چاروں رنگ آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔
جو سوچا یہ دل میں کہ کیا چاہیے؟
نہ تسخیرِ ارض و سما چاہیے
یہ بعض لوگ ریسرچ اور ساری چیزیں بس ہم تسخیر کر لیں۔
نہ تسخیرِ ارض و سما چاہیے
نہ دستار و جبہ قبا چاہیے
جو سوچا یہ دل میں کہ کیا چاہیے
جواب آیا اس کی رضا چاہیے
جو چاہوں یہاں اس کی چاہت سے چاہوں
خدا کے لیے ہی خدا چاہیے
میں اللہ کا بندہ ہاں اللہ کا بندہ
جو مقبول ہو وہ ادا چاہیے
کرم کی نظر کا طلبگار ہوں
مجھے یہ ملے یہ دعا چاہیے
کروں یاد اس کو رہوں اس کو یاد
رہے یاد وہ یہ صدا چاہیے
جو محبوب میرا ہے اس کا بھی ہے
تو کیوں دل نہ اس پر فدا چاہیے
ہوں لاکھوں درود و سلام اس پہ کہ
یہاں سے بھی کچھ تو وفا چاہیے
قیامت کے دن بارے شبیرؔ کے
اشارہ کرے ہے میرا چاہیے
یعنی اشارہ ہو کہ یہ تو میرا ہے۔ بس یہی چیز چاہیے۔ باقی ہمیں اور کچھ چیز نہیں چاہیے۔
چاہت
ایک اس کی ہے ایک میری چاہت
مجھ کو مطلوب ہے اس کی چاہت
مہرباں مجھ پہ مجھ سے زیادہ ہے جب
کیوں نہ چاہوں میں اس کی ہی چاہت
ظاہر ہے مجھ پر مجھ سے زیادہ مہربان ہے تو میں اس کی چاہت کیوں نہ مانگوں؟ وہ مجھ سے بہتر ہوگا نا کیونکہ زیادہ جانتا ہے ۔
اب چار چیزوں پہ جنت کا وعدہ ہے۔ اب ذرا اچھی طرح سنو۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔
چار چیزوں پہ جنت
جو بھی سلام کو پھیلاتا ہے
اور کھانا بھی وہ کھلاتا ہے
صلہ رحمی کرے تہجد پڑھے
داخل جنت میں کیا جاتا ہے
حدیث شریف میں «أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا با اللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ»۔ یہ بات ہے۔
اب اس کے بعد میرے خیال میں ہم ذکر کریں گے لیکن یہ ہے کہ ہمارا مقصد یہاں پر آنے کا کیا ہے اور اس کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
محفلِ ناجنس میں ہرگز نہ جانا چاہیے
اس سے بچ جائے ہمیں یہ گُر بھی آنا چاہیے
جہاں نقصان ہو روحانی وہاں نہیں جانا چاہیے۔ اس کا گر ہمیں آنا چاہیے۔
بس میں جو ہے ان کو سستی سے نہ چھوڑیں ہم کبھی
اور جو بس میں نہیں ان کی نہ پروا چاہیے
جو ہمارے بس میں ہیں وہ تو ہم کریں ضرور اس کو نہ چھوڑیں جو بس میں نہیں ہے غیر اختیاری ہے ان کی پروا نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سے وہ نہیں چاہے گا۔ لوگ ان چیزوں میں گھلتے ہیں اور جو کر سکتے ہیں وہ نہیں کرتے۔
وسوسے آنے کی صورت میں نہ ہو کچھ التفات
وسوسے لانے سے ہر صورت میں بچنا چاہیے
معصیت سے بچنا ایسا ہو کہ جیسے زہر سے
سب بدکتے ہیں تو اس سے بھی بدکنا چاہیے
جو ذرائع ہیں تو رکھ ان کو ذرائع کی جگہ
جو مقاصد ہیں انہیں مقصد بنانا چاہیے
جو ذریعے ہیں ان کو ذریعوں کے طور پہ رکھو ان کو مقصد نہ بناؤ۔ اور جو مقصد ہے ان کو آگے بڑھاؤ۔
کیا ہے کرنا کیا نہیں کرنا بس اس کا علم ہو
اور نامقصود قصوں میں نہ پڑنا چاہیے
خوامخواہ یہ ڈائجسٹ اور پتہ نہیں فلاں اور یہ ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہمیں اصل چیز کو لینا چاہیے۔
ذکر میں مشغول ہو اپنی زبان و دل ہمیش
اپنے فارغ وقت کو ضائع نہ کرنا چاہیے
دہر میں آئے ہیں ہم اس کی محبت کے لیے
اس درِ مطلوب کو شبیر پانا چاہیے
مفاہیم کی درستی
چاہیے ہے کہ مفاہیم ہوں درست
اور اس کے واسطے تعلیم ہو درست
دل میں تقویٰ کا نور آ جائے
بلاشبہ پھر ہر ایک سکیم ہو درست
دنیا اور آخرت
دل کبھی دنیا سے لگانا نہیں
اور آخرت کو بھول جانا نہیں
آخرت اچھی ہے اور باقی بھی
پیٹھ اس کو کبھی دکھانا نہیں
یہ میرے خیال میں کافی ہے۔ اب ہم ذکر کریں گے۔ ایک دفعہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں تین دفعہ سورہ اخلاص۔