الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْد!
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج منگل کا دن ہے، اور منگل کے دن ہمارے ہاں اب پیغامِ محبت کی کتاب کی تشریح بتائی جاتی ہے۔ آج جو غزل اس سے شروع ہو رہی ہے:
جو کاغذ پہ تصویر اپنی تھی دل میں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں
میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں
جو کاغذ پہ تصویر تھی پہلے دل میں
اسے پھاڑ کر اب تو تجھ سے کہوں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں
میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں
پسند جو بھی تصویر میری ہو تجھ کو
بنا لے میری، کورا کاغذ میں ہوں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں
یہ اصل میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ جو بھی میں نے اپنے بارے میں سوچا تھا، وہ میں نے چھوڑ دیا۔ اب مجھے اپنی نظروں میں کیسے رہنا چاہیے؟ اس کے بارے میں فیصلہ اب تُو کرے گا۔ جو بھی تصویر میرے دل میں کاغذ پر اپنی تھی، اس کو تو میں نے پھاڑ دیا۔ اب میں تجھ سے یہ کہتا ہوں کہ جو تصویر بھی میری تجھے پسند ہو، وہ اس پر بنا لے، میں تو ایک کورا کاغذ ہوں۔ یعنی اس پر کوئی بھی تصویر بنائی جا سکتی ہے۔ اس میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں نے اپنی رائے کو فنا کر دیا ہے، اپنے بارے میں کہ مجھے کیسے ہونا چاہیے، میں نے اپنی رائے کو فنا کر دیا ہے اور میں نے سب کچھ کو اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میرے بارے میں اللہ جو فیصلہ کرے گا، وہ ٹھیک ہے۔
اس کو کہتے ہیں "تفویضِ محض"۔ اور یہ اللہ جل شانہ کا حق ہے۔ اور اس حق کو سمجھنے کے لیے ظاہر ہے کچھ کرنا پڑتا ہے، ورنہ یہ حق سمجھ میں نہیں آتا۔ تو یہ اب شاعر کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنی رائے کو فنا کر دیا ہے، اب اس کے بعد میں اپنے بارے میں اپنی رائے پہ نہیں چلوں گا۔
میں ویسے رہوں جو ہو تجھ کو پسند
جو تجھ کو ہو مطلوب میں وہ کروں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں
میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں
مجھے اپنا اب کہلوا دیجیے
یہی اپنے بارے میں اب میں سنوں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں
میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں
یعنی اب شاعر یہ کہتا ہے کہ میں ویسے رہنا چاہتا ہوں جیسا تجھے میرا رہنا پسند ہے۔ اور تو جو چاہے، میں بالکل وہی کرنا چاہتا ہوں۔ بس میری ایک خواہش ہے کہ مجھے اب اپنا کہلوا دے کہ یہ میرا ہے۔ تو بس میرا مقصد پورا ہو جائے گا، میں تجھ سے یہی سننا چاہتا ہوں۔ اور یہ ایسا ہو جاتا ہے کیونکہ "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ" "جو اللہ کا بن جاتا ہے، اللہ اس کا بن جاتا ہے"۔ لہٰذا یہ تو ہوتا ہے، لیکن بہرحال خواہش شاعر کی یہی ہے۔
میرا نقص ثابت ہے ہر چیز میں
ہے غائب میری جو کہ تھی اکڑ فوں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں
میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں
انسان جتنا جتنا روحانی ترقی کرتا جاتا ہے، اس پہ اپنے نقائص کھلتے جاتے ہیں۔ اس پر وہ بڑی سے بڑی قسم کھا سکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے کبھی بھی پھر وہ دعویٰ نہیں کر سکتا اپنے بارے میں کہ میں ایسا ہوں۔ جو ایک انسان کو اکڑ فوں ہوتا ہے کہ میں ایسا ہوں، میں ایسا ہوں۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے کہا کہ تجھے پتا ہے میں کون ہوں؟ انہوں نے کہا بالکل پتا ہے۔ پہلے گندا قطرہ تھے، اب گندگی کے ڈھول ہو، پھر گندگی کی ڈھیر ہو گے۔ انسان کی یہی حالت ہے۔ لیکن یہ چیز ظاہر ہے اس وقت انسان کو پتا چلتی ہے جب انسان کے دل سے وہ پردے ہٹ جائیں جو دنیا کی محبت کے ہوتے ہیں۔ جب وہ ہٹ جاتے ہیں، پھر انسان کو اپنا آپ بھی نظر آتا ہے اور اللہ بھی نظر آ جاتا ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں:
"مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"
"جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو بھی پہچان لیا"۔
کرم کی نگاہ کا میں طالب شبیرؔ
کرم کی نگاہ لے کے آگے چلوں
جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا کروں
میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں
یعنی شاعر کہتا ہے کہ میں اب تیرے کرم کی نگاہ کا طالب ہوں۔ اگر مجھے کرم کی نگاہ مل جائے تو بس میں پھر آگے بڑھ جاؤں گا۔ تو یہی مطلب مجھے چاہیے۔ تو اصل میں بات یہی ہے کہ انسان کو اپنے اللہ پاک کا کرم طلب کرنا چاہیے کیونکہ اللہ جل شانہ کے کرم سے ہی سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
یہ میرا خدا تو ہے
وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے
پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے
وہ نہ ہو اِس کو چین آئے نہیں
میرا دل اُس کا آشنا تو ہے
وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے
پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے
سب سے کٹ کر میں اس کے ساتھ ہوں خوش
میرا دل اُس میں مبتلا تو ہے
وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے
پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے
دلِ بیمار کا دارو ہے وہ
کہ تعلق اس سے رہا تو ہے
وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے
پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے
اللہ جل شانہ کے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ گو وہ میری آنکھوں سے چھپے ہوئے ہیں، میری آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔ لیکن وہ میرے دل میں ہیں۔ لہٰذا میرے دل کی آنکھوں سے چھپتے نہیں ہیں۔ اور میرا دل تو چونکہ اس کا آشنا ہے، لہٰذا اگر میرے دل میں وہ نہ ہو تو پھر میرا دل پریشان ہو جاتا ہے۔ یہ جو بے اطمینانی کی کیفیت ہے وہ یہی تو ہوتی ہے۔ "قَالُوْا بَلٰى"، وہ میثاقِ اول میں سب نے جو کہا تھا، تو دل آشنا تو ہے۔ لہٰذا اگر دل میں آج کل ہمارے نہ آئے تو پھر وہ دل بے چین ہو جاتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اپنے دل میں اس کو لانے کی پوری کوشش کرنا ضروری ہے۔
بہرحال، یہ آگے فرماتے ہیں شاعر کہ میں سب سے کٹ کر اس کے ساتھ خوش ہوں۔ سب سے کٹ کر، مطلب یہ ہے کہ دنیا کے جو تقاضے ہیں، دنیا کی جو خواہشات ہیں، میں اس سے اپنے آپ کو کاٹ چکا ہوں، چونکہ میرا دل اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اب مجھے یہ جو تعلقات ہیں، اس سے دور نہیں رکھ سکتے۔ چونکہ میرا دل اس میں مبتلا ہے، لہٰذا میرے دل کی دوا وہی ہے۔ اگر اس کا تعلق مجھے حاصل ہو گا تو میرا دل ٹھیک ہو گا، اگر اس کا تعلق مجھے حاصل نہیں ہو گا تو پھر میرا دل پریشان ہو گا۔
وہ مجھے یاد رکھ رہا ہو گا
ذکر میں نے بھی کچھ کیا تو ہے
وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے
پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے
یہ "فَاذْكُرُوْنِيْ أَذْكُرْكُمْ" کی آیت کے مطابق، جو بھی اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ بھی اس کو یاد رکھتے ہیں۔ اور شاعر اپنے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میں چونکہ اللہ کو یاد کرتا ہوں، تو اللہ پاک نے خود ہی قانون بنایا ہے تو مجھے بھی اللہ پاک یاد رکھ رہے ہوں گے۔ حضرت شیخ سید سیلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مزید تشریح فرمائی بالکل ایسے ہی جیسے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی فرشتوں کی مجلس میں پھر ہمیں یاد کرتے ہیں اگر مجلس میں ہم نے یاد کیا ہو، اور اگر اپنے آپ کے ساتھ یاد رکھیں تو پھر اللہ پاک بھی اپنے آپ کے ساتھ یاد رکھتا ہے۔
دور سے ہم کو کرے کتنا قریب
سن شبیرؔ یہ میرا خدا تو ہے
وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے
پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے
یعنی اب ساری دوریاں ختم ہو جاتی ہیں اگر ہم اس کو یاد کرتے ہیں، اور یہ جو، جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، یہ اللہ جل شانہ کی ذات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔
وہ میرے دل میں رہے
اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں
دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں
عشقِ الٰہی کے سمندر کا میں شناور بنوں اور مست رہوں
دنیا سو بھیس بدل کے آئے اس سے دامن اپنا بچاتا رہوں
دل میرا تخت ہے تجلی کا وہ کہ جو سب سے بے نیاز کرے
اس تجلی کے میں آثار پھر خود ایسے عشاق کو سناتا رہوں
یہ اصل میں جو ہمارا دل ہے، اس کو صوفیاء کہتے ہیں یہ عرشِ اصغر ہے۔ تو لہٰذا جیسے عرشِ اکبر پر تجلیات اللہ پاک کی ہر وقت پڑ رہی ہوتی ہیں، تو اس طرح جب دل دل بن جاتا ہے تو دل پر بھی اللہ پاک کی تجلیات پڑ رہی ہوتی ہیں اور یہی تجلیات انسان کو ساری چیزوں سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔ شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کے واقعے میں یہی بات تھی کہ جب ان کا مجاہدہ پورا ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر ایک تجلی کر دی، جس سے وہ اس قدر مست ہو گیا کہ وہ ساری تکلیفیں بھول گیا۔ وہ جو کتے اس کو کھینچ رہے تھے اور پتھروں کے ساتھ جھاڑیوں میں لہو لہان ہو گئے تھے، وہ ساری چیزیں بھول گیا۔ اور جس وقت وہ تجلی ہو گئی تو بس وہ جیسے کہ مرہم زخم کے اوپر رکھ دیا گیا۔ پھر وہ دوبارہ تجلی چاہتا تھا۔ تو جب تک وہ تجلی دوبارہ نہیں ہوئی تو اس نے حبسِ دم کر لیا، سانس کھینچ لیا۔ اور پھر اس کے بعد وہ جب وہ تجلی دوبارہ ہوئی تو خوشی کی وجہ سے اس کا سانس ایک دم کھل گیا تو اس کی پسلی ٹوٹ گئی۔ پھر غیب سے ایک چمچہ آیا دوائی کا، اس کے منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اپنے شیخ سے کہہ دینا کہ تین چار دن چوزے کی یخنی پلائیں۔ تو اس طریقے سے تجلیات کا جو اثر ہوتا ہے۔ تو تجلیات وہ جس کو بھی اللہ تعالیٰ نصیب فرما دیتے ہیں پھر وہ دوسری چیزوں کی طرف دیکھتے ہی نہیں ہیں۔ ان کو اتنا سکون ہو جاتا ہے ان تجلیات کے ذریعے سے کہ پھر باقی چیزوں میں پھر وہ اس کے لیے کوئی کشش نہیں ہوتی۔ نتیجتاً لوگ ان کو پاگل سمجھتے ہیں، اور وہ اپنے اندر مطمئن ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی شاعر یہ بتا رہا ہے:
دل میرا تخت ہے تجلی کا وہ کہ جو سب سے بے نیاز کرے
اس تجلی کے میں آثار پھر خود ایسے عشاق کو سناتا رہوں
دنیا ظلمت ہے اور بوجھ ہے ایک اس سے ہجرت کروں اور دور رہوں
ذکر کے نور سے پُر نور رہوں اور اس نور میں نہاتا رہوں
دکھ یہاں کے جو ہیں وہاں کے ہیں سکھ اس کا انعام گر سمجھتا رہوں
سکھ وہاں کتنے ملیں گے ان پر خود کو میں بار بار سمجھاتا رہوں
بس میرا دل قبول ہو جائے باقی اعضاء تو اس کے خادم ہیں
وہ میرے دل میں رہے اور میں دل سے اس کے احکام بجا لاتا رہوں
آنکھ اٹھے تو وہ اس طرف ہی اٹھے کان سنے وہ جو ہو پسند اس کو
اور زباں پر ہو حمد جاری شبیر زیرِ لب اس کو گنگناتا رہوں
اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں
دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں
شاعر کہتا ہے کہ دیکھیں میں نے اکثر کئی بار عرض کیا ہے کہ ایک ہوتی ہے نفسانی عقل، اور ایک ہوتی ہے ایمانی عقل۔ نفسانی عقل انسان کی نفسانی خواہشات کی وجہ سے عقل متاثر ہو جاتی ہے، اور پھر وہ ان خواہشات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جیسے بڑے بڑے ذہین لوگ ہوتے ہیں، وہ اپنی پوسٹوں کے لیے پتا نہیں کتنی دھاندلیاں کرتے ہیں۔ اور یہ دھاندلیاں ظاہر ہے ذہانت سے ہوتی ہیں، عقل سے ہوتی ہیں۔ عقل ان کی استعمال ہوتی ہے اس چیز کے لیے، ڈاکو لوگ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں۔
دوسری ایمانی عقل ہے۔ تو ایمانی عقل جو ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو باتیں آئی ہوتی ہیں پیغمبر کے ذریعے سے ان تک پہنچی ہوتی ہیں، اس پر اس کو اتنا ایمان ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے پھر اس کی خواہشات بن جاتی ہیں۔ تو وہ جو خواہشات ہوتی ہیں اس کے لیے پھر انسان پوری محنت کرتا ہے، یہاں کے دکھ بھی برداشت کرتا ہے، یہاں کے مجاہدے برداشت کرتا ہے، اور اس کی زندگی بالکل ایک الگ بن جاتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ مجاہدات اور تکالیف ہوتی ہیں، اس سے انسان کو سکون ہوتا ہے، اس کے وعدوں پہ یقین کرتے ہوئے۔ تو یہاں پر اس کا ہے۔
اس کے وعدوں پہ یقیں کرتے ہوئے یاد سے اس کی سکوں پاتا رہوں
دل میرا اس کی یاد سے ہو پُر، شکر اس کا میں بجا لاتا رہوں
"فَاذْكُرُوْنِيْ أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ"۔ ذکر اور فکر اور شکر۔ یہ تینوں چیزیں انسان کو کرنی ہوتی ہیں۔
عشقِ الٰہی کے سمندر کا میں شناور بنوں اور مست رہوں
عشقِ الٰہی...
واقعی ایک سمندر ہے۔ تو جو اس سمندر میں داخل ہو جائے، اور اس میں تیرنے لگے، تو ظاہر ہے اسی میں مست ہوتا ہے۔ پھر دنیا بے شک کتنے اس کو اپنی طرف متوجہ کرے، اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہتے ہیں:
عشقِ الٰہی کے سمندر کا میں شناور بنوں اور مست رہوں
دنیا سو بھیس بدل کے آئے اس سے دامن اپنا بچاتا رہوں
دل میرا تخت ہے تجلی کا وہ کہ جو سب سے بے نیاز کرے
اس تجلی کے میں آثار پھر خود ایسے عشاق کو سناتا رہوں
جیسے میں نے عرض کیا کہ دل میری تجلیات کا ایک تخت ہے۔ جس کی وجہ سے ان تجلیات کی وجہ سے پھر ہم سب سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے جو آثار آتے ہیں وہ انسان پھر دوسرے لوگوں کو بھی مختلف طریقوں سے بتاتے ہیں۔
دنیا ظلمت ہے اور بوجھ ہے ایک اس سے ہجرت کروں اور دور رہوں
"اَلدُّنْيَا جِيْفَةٌ وَطَالِبُهَا كِلَابٌ"۔ تو یہ ایک ظلمت ہے، اور دل کے اوپر ایک بوجھ ہے۔ لہٰذا انسان اپنا دل اس کے اندر شامل نہ کرے۔ ہاتھ میں بے شک رہے لیکن دل میں نہ آئے۔ تو دل کی ہجرت سے مراد ہے یہاں سے، کہ دن میں انسان کی دنیا نہ رہے اور ذکر جب انسان کرتا رہتا ہے تو اس میں نور آتا ہے۔ ذکر کے انوارات آتے ہیں، اس سے انسان بھی منور ہوتا ہے اور پھر ظاہر ہے مطلب اس نور کی برکات سے وہ اس نور کو آگے بھی پھیلاتا ہے۔
دکھ یہاں کے جو ہیں وہاں کے ہیں سکھ اس کا انعام گر سمجھتا رہوں
یہاں جو تکالیف ہیں، ان کے اوپر اجر ہے۔ فرماتے ہیں کہ جو مومن کو ایک کانٹا بھی چبھ گیا تو اس پر اس کو اجر ملتا ہے۔ لہٰذا اگر انعامات سامنے ہوں تو انسان کی تکالیف دور ہو جاتی ہیں، یاد نہیں رہتیں۔
سکھ وہاں کتنے ملیں گے ان پر خود کو میں بار بار سمجھاتا رہوں
اس پر بہت سکھ ملیں گے، وہاں لہٰذا میں اپنے آپ کو بار بار سمجھاتا رہوں، تاکہ میں ناشکری نہ کر لوں۔
بس میرا دل قبول ہو جائے باقی اعضاء تو اس کے خادم ہیں
یعنی میرا دل جو ہے، وہ قبول ہو جائے۔ اور باقی اعضاء تو ظاہر ہے اس کے خادم ہیں لہٰذا وہ اس کے ساتھ چلیں گے۔ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں سب دل کے خادم ہیں۔ لہٰذا دل اگر قبول ہو جائے تو باقی اعضاء اس کے ساتھ چلے جائیں گے۔
وہ میرے دل میں رہے اور میں دل سے اس کے احکام بجا لاتا رہوں
وہ میرے دل میں آ جائے، اور پھر میں دل سے اس کے احکام بجا لاتا رہوں۔
آنکھ اٹھے تو اس طرف ہی اٹھے
یعنی میری آنکھ اگر دیکھے تو کس کو دیکھے؟ اس کو دیکھے۔
کان سنے وہ جو ہو پسند اس کو
جو چیز بھی اس کو پسند ہے، قرآن پسند ہے، نعتیں پسند ہیں، اچھے کلام پسند ہیں، تو میرے کان وہی سنیں۔
اور زباں پر ہو حمد جاری شبیر زیرِ لب اس کو گنگناتا رہوں
اور زبان میری اس کی حمد میں مشغول ہو۔ اس طریقے سے ما شاء اللہ انسان کی زندگی کامیاب ہو جائے گی۔
خوش نصیب مسلمان کون ہے؟
خدا اپنا ہے مہربان بہت
لوگ پھر کیوں ہیں پریشان بہت
دس گنا نیکی ہو، بدی ایک گنا
ہے خوش نصیب مسلمان بہت
خدا اپنا ہے مہربان بہت
یہ رباعی تھی۔
دوسری رباعی:
اخلاص
مل گئی اخلاص کی دولت اگر
ہو رہے اعمال اپنے پُر اثر
سب شریکوں سے ہے وہ بیزار جب
ہر عمل میں ہو فقط اس پر نظر
مل گئی اخلاص کی دولت اگر
اخلاص کو دکھانے کے لیے یہ غزل ہے۔
میرا دل ہے مے خانہ
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا
مے خانہ سے مراد وہ مے خانہ جس کو عام لوگ مے خانہ کہتے ہیں، شراب خانہ۔ کہتے ہیں میں کیوں جاؤں؟ کیسے جاؤں؟ میرا دل اپنا مے خانہ ہے۔ میرے دل کے اندر عشقِ حقیقی کی شراب ہر وقت موجود ہے۔ کیونکہ عاشق جو ہوتا ہے، وہ تو اس کا دل یہی چاہتا ہے کہ محبوب آ جائے۔ اس کو کسی اور چیز کے ساتھ سروکار ہی نہیں ہے۔
دنیا کے میکدوں کی کثافت کو کیا کروں
ہم چاہیں اس کی یاد سے ہر دم لطف پانا
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا
دنیا کے جو مے کدے ہیں، شراب خانے ہیں، یہ تو کثیف ہیں، انسان کو تنگ کرنے والے ہیں۔ ہم تو اس کی یاد سے ہر دم لطف لیتے ہیں، اسی ذریعے سے ہم مست ہوتے ہیں۔
یہ آنکھ ہو عاشق تو ہر اک چیز میں دیکھے
وحدت کے سمندر کے نور کا تانا بانا
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
یہ آنکھ اگر اللہ پاک کے اوپر عاشق ہو، تو پھر ہر چیز میں وہ دیکھے گا کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے، ہر چیز اللہ کر رہے ہیں۔ دوسری چیزیں نظر ہی نہیں آئیں گی، جس کو "وحدت الوجود" کہتے ہیں۔ تو وحدت الوجود کا جو نور ہے، وہ اس کو سامنے نظر آ جائے گا، وہ ہر چیز میں اسی کی حکمت کو جاری و ساری سمجھے گا، کسی اور چیز پر اس کی نظر ہی نہیں پڑے گی۔
یہ کان ہو عاشق تو ہر طرف سے سنے یہ
نغمے وہ پوشیدہ کیا ان کا سننا سنانا
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
عاشق تو دل میں چاہے بس محبوب کا آنا
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
کان اگر عاشق ہوں، تو پھر ہر طرف سے وہ ایسے نغمے، چھپے ہوئے جو باقی لوگ نہیں سن سکتے، وہ اسی میں مست رہے گا، وہ کسی اور چیز کی طرف نہیں پھر دیکھے گا۔
عاشق زبان گر ہو تو ہر بول میں ہو عشق
گرما گرمیٔ عشق سے ہو دلوں کا گرمانا
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
زبان اگر عاشق ہو اللہ کی، تو پھر اس کے ہر بول میں عشق بپا ہو جائے گا۔ لہٰذا وہ عشق کی گرما گرمی سے باقی دلوں کو ہر وقت گرماتا رہے گا۔
شبیر کوئی پوچھے کہ ہے تیرا طریق کیا
میرا طریق کیا ہے؟ ہے طریقِ جانانا
مے خانہ جاؤں کیوں کر، میرا دل ہے مے خانہ
یعنی شبیر، اگر تجھ سے کوئی پوچھے کہ تیرا طریق کیا ہے؟ تو تو یہ کہہ دے کہ میرا طریق تو طریقِ جذب ہے۔ اسی طریقے پہ میں چل رہا ہوں۔
ما شاء اللہ!
اب ایک نعت شریف ہے، وہ نعتیہ غزل ہے۔
نعت شریف
عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے
جو خوش نصیب ہیں لوگ، وہ ان کے دلوں میں ہے
یعنی یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ وہ میرے خیال میں ہر وقت رہتا ہے۔ کیونکہ جو بھی خوش نصیب لوگ ہیں، وہ ان کے دلوں میں ہر وقت ہوتا ہے۔
یہ کائنات کی ہر اک چیز اس کے دم سے ہے
جو اس کو جان لے تو وہی سیانوں میں ہے
کائنات کی ہر چیز اس کے دم سے ہے۔ اس وجہ سے جو بھی اس کو جان لیتا ہے، تو وہ ہوشیار ہو جاتا ہے۔ یا جو ہوشیار ہوتا ہے اس کو جان لیتا ہے، اصل ہوشیار جو ہوتا ہے، وہ اس کو جان لیتا ہے۔
جس کو محبوب ہوں ہر وقت سنتیں اس کی
وہ مومن بخدا رب کے وہ پیاروں میں ہے
عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے
جو خوش نصیب ہیں لوگ وہ ان کے دلوں میں ہے
جس کو ہر وقت اس کی سنتیں پیاری ہوں، تو اگر وہ مومن ہے، تو خدا کی قسم وہ رب کے پیاروں میں ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے یہی فرمایا: "قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ"۔
دل محبت سے ہو پُر، اس کی زباں پر ہو درود
اور سنت پر ہو عمل، کام یہ کاموں میں ہے
عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے
دو چیزیں ہوں، ایک تو یہ ہے کہ دل اس کی محبت سے پُر ہو، اور زباں پر درود ہو۔ دوسری یہ ہے کہ اعمال میں سنت کا اہتمام ہو۔ پھر یہ کام بن جاتا ہے۔ پھر اس کو ہم کام کہہ سکتے ہیں۔
سارے محبوبوں کے ست سے ہیں بنے ہیں یہ محبوب
وہ عقلمند ہے جو اس کے دیوانوں میں ہے
عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے
جتنے بھی محبوب ابھی تک آئے ہیں، ان سارے محبوبوں کا اگر کوئی لے لیں اصل، تو اس سے یہ محبوب بنا ہے۔ سارے محبوبوں کا اصل ان کے پاس آگیا جتنے پیغمبروں میں خوبیاں تھیں، جتنے انسانوں میں خوبیاں تھیں، وہ ساری خوبیوں کا نچوڑ آپ ﷺ کو ملایا۔ لہٰذا جو بھی عقلمند ہے، وہ اس کا دیوانہ بن جاتا ہے۔
میرے لیے یہ سعادت کچھ کم نہیں ہے شبیر
کہ میرا نام اس کے چاہنے والوں میں ہے
عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے
کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کو جب بیچا جا رہا تھا تو ایک بڑھیا بھی لائن میں لگ گئی۔ تو بڑھیا کو کسی نے کہا کہ تو تو نہیں خرید سکتی یوسف کو (علیہ السلام)، تو یہاں کیا کر رہی ہے؟ بڑے بڑے لوگ آئے ہوئے ہیں۔
تو اس نے کہا، "وہ مجھے پتہ ہے، لیکن میں اس کے خریداروں میں ہونا چاہتی ہوں کہ یہ بھی کہا جائے کہ یہ بھی اس کے خریداروں میں تھی۔"
یہ والی بات ہے کہ، ہمارے لیے سعادت کچھ کم نہیں ہے کہ ہم ان کے چاہنے والوں میں سے ہیں۔ یہ بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔
آگے غزل ہے:
دل تیرا اس کی امانت ہے۔
خود کو جب ہار کے دیکھو گے تم جیتنے کا مزہ تو پاؤ گے
ہو بلند اتنا جتنا خود کو تم یاں اس کے واسطے گراؤ گے
بالعکس ترقی ہے۔ اپنے آپ کو اس کے لیے ہار دو، تو جیت جاؤ گے۔ جیسے آپ ﷺ نے فرمایا دجال کے ساتھ جنت بھی ہو گی دوزخ بھی۔ لیکن اس کی جو جنت ہے وہ اصل میں دوزخ ہو گی اور جو اس کی دوزخ ہے وہ اصل میں جنت ہو گی۔ عکس والی بات۔ تو یہاں ہے کہ تم اس کے لیے ہار جاؤ اپنے آپ کو، تو جیت جاؤ گے۔ اور جتنا جتنا اپنے آپ کو اس کے لیے گراؤ گے، اتنا اتنا بلندی پہ چڑھتے جاؤ گے۔
مٹی ہو، مٹی سے بنے ہو تم، مٹی بن جانا ذرا سیکھ بھی لے
مٹی سے تم بنے ہو، لہٰذا تم بھی مٹی ہو حقیقت میں۔ اس وجہ سے عقلی طور پر بھی مٹی بن جاؤ۔ حقیقت میں تو تم ہو ہی، لیکن عقلی طور پر بھی مٹی بن جاؤ۔
عاجزی اس سے ہو گی جب حاصل سیڑھیاں خود ہی چڑھتے جاؤ گے
جب اس سے عاجزی حاصل ہو جائے گی، تو پھر معرفت کی سیڑھیاں خود بخود چڑھتے جاؤ گے۔
موت سے پہلے مرنا سیکھنا ہے وہاں میزان کے تصور سے
جان مال وقت استعمال کر کے اپنے اعمال کو بڑھاؤ گے
موت سے پہلے، کہتے ہیں: "مُوْتُوْا قَبْلَ أَنْ تَمُوْتُوْا" موت سے پہلے مرنا سیکھو۔ کیونکہ میزان موجود ہے وہاں اعمال کا خیال رکھنا ہے۔ تو اس کے لیے اعمال کو تیار کرنا ہے۔ اور اس کے لیے تین ذریعے ہیں: جان، مال، وقت۔ یہ لگیں گے اس پر۔ تو اپنی جان، مال اور وقت کو استعمال کر کے اپنے اعمال کو بڑھاؤ تاکہ وہاں میزان میں کام آ جائیں، اور اس کے لیے کام کر سکو۔
ہر جگہ اس کا تجھ کو احساس ہو اس سے غافل کسی لمحے نہ رہو
پھر عبادت ہے تیری جاندار خود کو محبوب اس کا بناؤ گے
ہر جگہ اس کا تجھے احساس ہو، ادراک ہو۔ اس سے کسی لمحے غافل نہ رہو۔ یہی جو اس کی یاد ہے اور اس کا ادراک ہے۔ یہی احساس جو ہے وہ تیری عبادت کو جاندار بنائے گا، جس سے تو اس کا محبوب بنے گا۔"أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"
ساری باتیں نظر آئی مشکل تم اگر دل نہ اس کو دے پائے
دل تو اس کی ہی امانت ہے شبیر یہ امانت اس کو پہنچاؤ گے
یہ ساری باتیں مشکل ہیں، اگر تو اس کو اپنا دل نہ دے سکا۔ ہاں! اگر دل تو دے پایا، پھر یہ ساری باتیں آسان ہیں۔ اور یہ دل تو ہے ہی اس کی امانت، تو پھر یہ امانت تو اس تک پہنچانی تو ہے، یا کسی اور کو تو نہیں دینی۔
(کسی نے سوال کیا: طریقۂ جذب یہ محبت کا راستہ ہے، اور objective کیفیتِ احسان ہے۔ یہاں سے یہ لگتا ہے کہ کیفیتِ احسان سے بندہ محبوبیت تک پہنچتا ہے۔)
جواب: کیفیتِ احسان اصل میں بات یہ ہے کہ، یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب آپ کے اوپر جذبی کیفیت طاری ہو گی، تو تم ہر وقت اس کو محسوس کرو گے۔ یعنی وہ تجھے وہ کیفیت اسی ذریعے سے حاصل ہو گی نا کہ تم جذبی کیفیت حاصل کرو گے۔ تو کیفیتِ احسان اس سے حاصل ہو گی، تو پھر ظاہر ہے تم اللہ کے بن جاؤ گے۔
اب یہ ذرا اچھی غزل ہے۔
میں دیوانہ بن کے سدھر گیا
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
میرا دل تھا اس کی امانت اک تبھی دل میرا یہ ادھر گیا
مطلب یہ ہے کہ میرا دل منتشر تھا ہر چیز میں۔ ہر چیز میں منتشر تھا۔ اس سے میں نے اپنے آپ کو ایک طرف مرکوز کر دیا، تو سمٹ گیا۔ میری نظر پھر ایک پر پڑ گئی۔ اور پھر جس وقت میں سمٹ گیا یعنی اس کی طرف متوجہ ہو گیا، تو پھر اس نے جس طرف بھی میرا رخ لگا دیا، اس طرف میں پھر لگ پڑا۔ جہاں جہاں پر بھی مجھے لگانا چاہا، وہاں پر لگا دیا۔ پہلے میں اپنی خواہشات کی وجہ سے بکھرا ہوا تھا، تو اللہ جل شانہ کے لیے اپنے آپ کو مرکوز کر دیا اللہ کی طرف، اور پھر اللہ جل شانہ نے مجھے مختلف کاموں کے اوپر لگا دیا، تو کام تو بہت سارے ہیں، لیکن مقصد اس میں ایک ہی ہے۔ مقصد اس میں ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ پاک کی رضا۔
تو یہاں پر ہے:
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
میرا دل تھا اس کی امانت اک تبھی دل میرا یہ ادھر گیا
نہ یہ خواب ہے نہ خیال ہے کوئی قیل اس میں نہ قال ہے
یہ عجب نہیں تھا یہ اس کا ہی یہ جہاں کا تھا وہاں پھر گیا
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
اصل میں واقعتاً حقائق ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ان حقائق تک رسائی نہیں ہوتی۔ یہ رسائی ہونی چاہیے۔ اگر رسائی ہو جائے تو پھر ساری چیزیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔
کبھی قرب اپنا عطا کیا کبھی ناز سے خود سے جدا کیا
مجھے کیا غرض ہے کہ کیا کیا، میں وہاں گیا وہ جدھر گیا
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
کبھی مجھ پر حالتِ بسط طاری کی۔ اور میں سمجھا کہ جیسے بس میں اس کے پاس ہوں۔ اور کبھی مجھ پر حالتِ قبض طاری کی۔ تو میں سمجھا کہ جیسے میں اس سے بہت دور چلا گیا ہوں۔ تو یہ اس کی حکمتیں ہیں۔
اس وجہ سے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس نے کیا کیا ہے۔ بس وہ جس چیز میں ڈالا میں ادھر چلا گیا۔ میرا کام تو اس کو خوش کرنا ہے۔ میرا کام تو اپنے آپ کو خوش کرنا نہیں ہے۔ اگر اپنے آپ کو خوش کرنا ہو تو صرف بسط ہی مانگوں۔ اور اگر اس کو خوش کرنا ہو تو جس طرف لے جائے میں اس طرف چلا جاؤں۔ یہ بہت بڑا شعر ہے۔
کبھی قرب اپنا عطا کیا کبھی ناز سے خود سے جدا کیا
مجھے کیا غرض ہے کہ کیا کیا، میں وہاں گیا وہ جدھر گیا
میرے ساتھ اب تو وہی ہے بس کوئی پاس اور نہیں ہے اب
میں رکوع میں سجدوں میں جب ملا اسے مل کے اور نکھر گیا
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
اب تو بس میرے ساتھ وہی ہے۔ لہٰذا کوئی اور میری نظروں میں نہیں ہے۔ اور جب میں اپنے رکوع اور سجدوں میں اس کی طرف جھک گیا تو اس سے مل کے میں اور بھی بندہ بن گیا۔ یعنی میری بندگی میں نکھار آ گیا۔ جو میرا اصلی زیور ہے۔ انسان کا اصلی زیور کیا ہے؟ وہ ہے بندگی۔
"بندگی کے واسطے پیدا کیا انسان کو"۔
میری سوچ اس کی طرف رہے سارا دن نہ جانے وہ کب ملے
رات اک گھڑی مجھے مل گئے میرے دل سے بوجھ اتر گیا
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
میرا دل تھا اس کی امانت اک تبھی دل میرا یہ ادھر گیا
پورے دن اس کی سوچ میں رہا ہوں۔ اور اسی کیفیت میں کہ کب مجھے وہ تجلی نصیب ہو گی۔ لیکن جس وقت رات کا وقت آ گیا اور سارے لوگ سو گئے اور میں رب کے حضور کھڑا ہو گیا، تو اس میں وہ مجھے مل گئے، اور سارے دن کی تھکاوٹ دور ہو گئی۔ ساری تھکاوٹ دور ہوگئی یعنی تہجد کی نماز۔
کبھی دل میں میرے سمائے ہیں کبھی مجھ کو میں خود کو دکھائے ہیں
عجب عشق شبیر سکھائے ہیں میں دیوانہ بن کے سدھر گیا
میں بکھر بکھر کے سمٹ گیا میں سمٹ سمٹ کے بکھر گیا
میرا دل تھا اس کی امانت اک تبھی دل میرا یہ ادھر گیا
مطلب کبھی تو میرے دل میں سما جاتے ہیں۔ اور میں اس کی طرف لگا رہتا ہوں۔ اور کبھی وہ اپنی تجلیات کے ذریعے سے مجھے ایسا بنا لیتے ہیں کہ لوگ میری طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لوگ میرے ساتھ اگر محبت کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ میرے اوپر تجلیات کر کے مجھ میں اپنے آپ کو ظاہر کر لے، تو اس سے لوگ مجھ سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اور یہ عجیب عشق شبیر وہ سکھا چکا ہے کہ میں دیوانہ جب اس کا بن گیا، اس سے میں سدھر گیا۔ حالانکہ دیوانہ تو سدھرتا نہیں ہے، تو اس کا دیوانہ سدھرا ہوا دیوانہ ہوتا ہے۔ یہ بات ہے۔
دلِ بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
دلِ بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
کچھ کہا آپ نے پیار سے اس کو
اب کسی اور کی سنتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
دل میرا ہاتھوں سے گیا ہے نکل
میرے سینے میں اب رہا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
آپ نے کب سے چن لیا اس کو
مجھ گناہ گار کو پتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
دنیا تو لائے خواہشوں کی طرف
اس سے اس کو مزہ ملتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ
تو شریعت سے نکلتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
اس پیغامِ محبت میں الحمد للہ ایک چیز آپ لوگوں نے نوٹ کی ہو گی کہ یہ صرف محبت کی بات نہیں کرتا بلکہ عملی محبت کی بات کرتا ہے۔ اور عملی محبت ہم اس کو کہتے ہیں کہ جو اس کے تقاضے ہیں وہ سامنے ہوں۔ ورنہ خالی محبت کی باتیں صرف نعرے بن جاتے۔ اس سے انسان پھر عمل پہ نہیں آتا۔ لیکن یہاں پر الحمد للہ نعروں کی بجائے عمل کی دعوت ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ:
عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ
محبت نے عقل پہ قبضہ جما لیا ہے، دل نے۔
عقل قابو میں ہے اس کے اور یہ
تو شریعت سے نکلتا ہی نہیں
یہ شریعت سے نہیں نکلتا کیونکہ اس کو پتا ہے کہ میرے محبوب کا رستہ ہے۔ میں کیوں اس سے نکلوں؟
نفس اس کو دیکھ کے ہاتھ ملتا ہے
طریق جذب
نفس اس کو دیکھ کے ہاتھ ملتا ہے
کہ اس کے ہاتھ کچھ رہا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
مجھ کو ہو یار کی آغوش نصیب
یہی ہے اور تمنا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
صرف اپنے خدا کی رضا چاہیے۔ آغوش سے کیا مراد ہے؟ اس کی رضا۔ اور کوئی تمنا نہیں ہے اس کے علاوہ۔
باتیں شبیر کی دل کی باتیں
اس کو جو اور کچھ آتا ہی نہیں
دل بے تاب سنبھلتا ہی نہیں
میں جو سمجھاؤں سمجھتا ہی نہیں
جیسے میں نے عرض کیا کہ ہمارے اس پیغامِ محبت میں جوش کے ساتھ ہوش، محبت کے ساتھ تقاضائے محبت ہے۔ ساتھ ساتھ یہ چیزیں چل رہی ہیں تاکہ کوئی جمپ لگا کر انسان سب کچھ سے نکل ہی نہ جائے۔ ہر چیز سامنے ٹارگٹ موجود ہے۔ تو یہ اب رباعی ہے:
جوش میں ہوش
ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش
سر جھکائے ہوئے ہیں یوں مے نوش
جیسے ان پر کوئی اثر ہی نہیں
ان کی مے میں ہے جیسے جوش میں ہوش
ہے زباں چپ مگر ہے دل میں جوش
سر جھکائے ہوئے ہیں یوں مے نوش
یہ اصل میں اس کی بنیادی چیز یہ ہے کہ ایسا جوش نہ ہو جو کہ مطلوبہ ہوش کو ختم کر دے۔ ایسا جوش ہو جو نفس کی خواہشات کو دبا لے۔ اتنا جوش ہو کہ نفس کی خواہشات پر غالب آ جائے۔ تو اب یہ ہے۔
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
دل کے خانے میں ہے تصویرِ یار
وہ ملے جو نظر جھکائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
مطلب دل کے خانے میں اپنے محبوب کی تصویر ہے۔ وہ جب بھی دل کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ نظر آ جاتا ہے۔
ہر طرف نور ہے، سرور ہے بس
میں ہوں اور تو ہے اور تنہائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
مجھے کیا کھینچے رونقِ دنیا
دل کو اک بات جو سمجھائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
میرے دل میں بسا ہے تو جب سے
دل نے دنیا الگ بسائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
جلوت و خلوت کی اب بات کہاں
اب تو تجھ سے ہی شناسائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
راہ کچھ یوں اسے دکھلائی ہے
سامنے تیرے ہیں اعضاء سجدہ ریز
سب کی خواہش یہی جو پائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
اصل میں اعضاء کو ہم لوگ گڑبڑ کر دیتے ہیں۔ ورنہ بنیادی طور پر تو یہ اس کے ہیں نا۔ تبھی تو وہاں پر ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔ اصل میں تو اس کے ہیں نا۔ تو ان کی خواہش تو یہی ہے کہ اس طرف لگ جائیں، لیکن ہم لوگ اس کو گڑبڑ میں کر لیتے ہیں نفس کی وجہ سے۔
حیات تھی وگرنہ مر جاتا
اب تو کچھ وار ایسے کھائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
بوجھ دن بھر میرے دل پر تو رہا
رات مستی پہ اتر آئی ہے
دل تو اب تیرا شیدائی ہے
یہ دو شعر، ایک تو گزشتہ غزل میں گزرا ہے اور ایک اس میں آ گیا ہے دن اور رات کا۔ کیونکہ دن میں انسان لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو کام کرتا ہے۔ Battery discharge کرتا ہے۔ جو بیٹری اس کی Charge ہو چکی ہوتی ہے رات کے وقت، وہ Discharge کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا بوجھ کی کیفیت ہوتی ہے۔ رات کے وقت پھر بیٹری Charge ہونا شروع ہو جاتی ہے اگر ایک انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ ذکر اذکار میں لگ جائے۔ تو پھر اس کی بیٹری Charge ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس کو مستی سے تعبیر کیا ہے اور جو دن بھر کا کام ہے اس کو بوجھ سے تعبیر کیا ہے۔ ٹھیک ہے۔ یہاں پر ہے:
بوجھ دن بھر میرے دل پر تو رہا
رات مستی پہ اتر آئی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
ماشاءاللہ یہ اب حاصل غزل مقطہ ہے
عشقِ نادان1کے اشاروں پہ شبیر
ہیں خموش جن کو سمجھ آئی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے۔ ذرا غور فرمائیں اس میں عجیب بات ہے۔ ایک تو عشق کو ناداں کہا گیا۔ تو یہ ناداں کیوں ہے؟ ناداں اس کو اس لیے کہا گیا کہ لوگ جن چیزوں کو کامیابی سمجھتے ہیں اس کے سامنے وہ کامیابی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ان چیزوں سے ناواقف، نابلد، ان سے بے پرواہ۔ تو لہٰذا یہ عام لوگوں کی نظر میں نادان ہے۔ یہی نادان سے مراد یہ ہے کہ جانتے نہیں۔ نادان کا مطلب یہی ہوتا ہے نا۔ تو اوروں کو جانتے ہی نہیں سوائے اس کے علاوہ۔ صرف اس کے علاوہ اور کو تو جانتے ہی نہیں۔ لہٰذا نادان تو ہے۔ اس کا اشارہ کس طرف ہے؟ جس کو وہ جانتا ہے۔ اس کا اشارہ اس طرف ہے۔ کہتے ہیں کہ جو سمجھدار ہیں۔ اب دیکھیں عشق کو نادان کہا گیا اور سمجھداروں کی بات کی گئی، کہ سمجھدار ان کے اشاروں پہ خاموش ہیں، جن کو یہ سمجھ آئی ہے۔ تو اس کا پتہ یہ چلا کہ اصل سمجھ یہی ہے۔ وہ خاموش ہیں۔ اب وہ کچھ نہیں کہتے۔ جو بولتے ہیں وہ ناواقف ہیں۔ اشکالات کرتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں اور یہ اور وہ، فلسفے بگھارتے ہیں، وہ بیچارے ناسمجھ ہیں۔ جو سمجھدار ہیں وہ چپ۔ کیا کہتے ہیں:
The best people act in silence
کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ڈسکس کرتے ہیں پیپل کو، کچھ لوگ ایونٹس کو... and even the best act in silence. تو جن کو سمجھ آئی وہ خاموش۔ اپنے آپ میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنا کام کرتے ہیں۔ تاکہ وہ راضی ہو جائے۔ یہ ماحصل ہے غزل کا، شعر ہے:
عشقِ نادان1کے اشاروں پہ شبیر ؔ
ہیں خموش جن کو سمجھ آئی ہے
دل تو اب تیرا ہی شیدائی ہے
اب مقام شکر ہے:
مقام شکر
"فضلِ خدایا سلسلے پہ ہمارا، تیرا
بہت زیادہ ہے رحمت کی نظر، ہے کیا تیرا
بس ہم تو شکر اب ہر آن کریں میرے خدا
کبھی بھی شکر ہو سکا نہیں ادا تیرا"
یہ جناب ہمارے سلسلے کی جو برکات ہیں الحمد للہ دن بدن ہمیں نظر آ رہی ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر شکر کی توفیق عطا فرمائے۔
یہ اب ذرا۔۔ اس کو میں کیسی غزل کہہ دوں؟ جھلستی ہوئی، تڑپتی ہوئی غزل۔ یہ غزل ہے:
پیاس بجھتی نہیں
پیاس بجھتی نہیں ہے جام چڑھانے کے بعد
ساقیا ہاتھ نہ روکنا اس پیمانے کے بعد
ہیں یہ مے خانۂ عشاق صبح و شام ملے
صبح کی صبح ملے اور شام آنے کے بعد
پی کے دیوانے بنے ہیں پر اتنے ہوش میں ہیں
جُتے ہیں کام میں اشارہ سا ہی پانے کے بعد
کون پلاتا ہے مجھے گوشۂ تنہائی میں
ڈالتا پانی بھی ہے آگ سلگانے کے بعد
عشق جب اور بڑھے گا تو مزہ آئے گا
دل دکھائے گا میرے دل کے چھپانے کے بعد
یہ محبت ہے یہ ایک آگ ہے کیسے یہ چُھپے
کیا پتہ کیا ہو پیمانہ چھلک جانے کے بعد
کب تلک یوں ہی پیمانوں کی بات چلتی رہے
دور سارے ہوں مگر اس کے پلانے کے بعد
آگ پٹرول کی جب پانی سے بجھتی ہے نہیں
کیا بجھے آگ میری اس کے جلانے کے بعد
اب سمندر بھی نہ کافی ہو بجھانے کے لیے
ہاں بجھے یہ تو بجھے اس کے ہی پانے کے بعد
بے قراری میرے دل کی تجھے معلوم تو ہے
میں سب کا غیر ہوا تیرے اپنانے کے بعد
حد اس کی پیار کی کوئی نہیں ہو سکتی ہے
آگ ہے ایک اور ابھرتی ہے دبانے کے بعد
موت خوش رنگ میرے دل کو نہ ہو کیوں اب شبیر
وعدہ کہ اس کا جو ملنے کا ہے مرنے کے بعد
یہ سلگتی ہوئی غزل ہے۔ اس میں شاعر جو کہتا ہے وہ کیا کہتا ہے؟ سب سے پہلے وہ یہ کہتا ہے کہ جام میں چڑھاتا ہوں اس سے میری پیاس نہیں بجھتی۔ ہے کہ میں جب اس کے قریب ہوتا ہوں، پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔ جو چیز مجھے اس کے قریب کرتی ہے مثلاً ذکر اور فکر، وہ مجھے اس کے قریب کر دیتی ہے، میری پیاس اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا اے ساقی یعنی شیخ! اس کو کم نہ کر۔ مطلب اس سے میری پیاس بجھی نہیں۔ اور یہ مے خانہ یعنی خانقاہ جو ہے، یہ مے خانۂ عشاق ہے، صبح و شام اس میں ملتا رہتا ہے۔ صبح کا صبح کو ملتا ہے، شام کو شام کا ملتا ہے۔ اور یہ عشقِ حقیقی کے شرابی ہیں، یہ ایسے مدہوش نہیں ہوتے کہ بالکل ان کا ہوش ختم ہو جاتا ہے۔ اتنے ہوش میں ضرور ہوتے ہیں کہ جس کام کو کرنا ہوتا ہے، تو تھوڑا سا اشارہ پانے کے بعد اس کام میں لگ جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ باقی لوگ تو دلائل مانگتے ہیں، دلائل نہیں مانگتے اشارہ مانگتے ہیں۔ ہاں یہ عجیب شرابی ہیں کہ محبوب کا اشارہ پانے پر ہی بس سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اور یہ عجیب شراب ہے کہ کون مجھے پلاتا ہے تنہائی میں کہ ساتھ ساتھ آگ بھی جلاتے ہیں، ساتھ ساتھ پانی بھی بجھاتے ہیں۔ ہے کہ میرا عشق بھی بڑھاتے ہیں اور سکینہ کی کیفیت بھی طاری کرتے ہیں۔ تسلی بھی ملتی ہے۔ کیفیتِ سکینہ بھی ہے اور ساتھ ساتھ عشق کی وہ آگے بھی جل رہی ہے۔ اور یہ جو عشق کی آگ ہے، یہ تو جب اور بڑھے گی تو پھر مزا آئے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو میرا دل ہے اس کو چھپاتا ہے کوشش تو یہی کرتا ہے کہ چھپا رہے، اخفا رہے۔ لیکن یہ ایسی چیز ہے کہ یہ اور دکھائے گا اس کو۔ کیونکہ اس کا جب رنگ آتا ہے تو وہ رنگ پھر چھپتا نہیں ہے۔
دل دکھائے گا میرے دل کے چھپانے کے بعد اور یہ محبت ایک ایسی آگ ہے کہ یہ چھپ نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کو چھپاؤ گے تو ممکن ہے پیمانہ جب چھلک جائے تو پتا نہیں کیا کیا کچھ کر لے۔ تو اس لیے کہتے ہیں اتنا اس کو نہ دباؤ کہ Pressure cooker بن جائے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ Limit سے Exceed کر جائے۔ تو تھوڑا تھوڑا Relief اس کو ملنا چاہیے۔ ان سے پوچھا تھا کسی نے، میں نے کہا کہ نعروں کو دباؤ نہیں۔ اس سے پھر تکلیف ہوتی ہے۔ اگر روک دیا تو یہ اور بڑھ جائیں گے۔ اور یہ جو ہم کہتے ہیں تھوڑا تھوڑا دینے کا، یہ کب تک چلتا رہے گا؟ ہاں البتہ وہ جب پلائے گا، وہ خاص تجلی کر لے گا پھر کسی اور کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور یہ جو آگ ہے عشق کی، یہ پٹرول کی آگ جب پانی سے نہیں بجھتی تو پھر یہ اس کو پانی کیسے بجھا سکتا ہے؟ اب تو اس کے لیے سمندر بھی ناکافی ہے۔ ہاں اگر وہ مل گئے تو پھر بات پوری ہو جائے گی۔ اور میرے دل کی بے قراری تو تھجے معلوم ہے کہ میں تیرے اپنانے کے بعد سب کا غیر ہو گیا، سب نے مجھے Disown کر دیا۔ کہ ہمارا نہیں ہے۔ اور اس کے پیار کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ ایک آگ ہے جتنا دباؤ گے یہ بڑھے گی۔ اور موت میرے نزدیک کیوں زیادہ خوش رنگ نہیں ہو گی کیونکہ اس کے ملنے کا وعدہ مرنے کے بعد ہے۔
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے
میری آنکھ برسے نہ کھل کے کیوں اسے روک کون سکے گا اب
جسے آنکھ دیکھ سکی نہیں وہی ذات دل میں بسی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے
دورِ دنیا مجھ سے تو دور ہو میرے دل میں کوئی جگہ نہیں
مجھے تجھ سے واسطہ ہے اب کہاں تیری چاہ بڑی بری سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
کروں یاد اس کو زباں سے اب کروں اس کو یاد سے تر بتر
میرا دل تو اس کا مکان ہے تبھی ہوک اس سے اٹھی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میرے دل سے غیر نکل تو جا کبھی بھول کے بھی نہ آنا اب
میرے دل میں آئے وہ آئے اب دھوم اس کی جیسے مچی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں جیسے لگی سی ہے
آگ اس میں ایک لگی سی ہے
میرے لب سے اب یہ اٹھے صدا میں رہوں نہ اس سے کبھی جدا
میرے دل میں وہ ہے شبیر اب یہ زباں پہ بات چلی سی ہے
میرے دل کو کیسے سکون ہو آگ اس میں اک جو لگی سی ہے
میری آہ گرم سی لگی مجھے کوئی بوٹی جیسے جلی سی ہے
میرے خیال میں تو Explanatory ہے۔ اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
البتہ یہ بہت پیاری غزل آ رہی ہے۔
اور اس کے بعد پھر شاید روکنا پڑے گا ٹائم کے لحاظ سے۔ آج کے لحاظ سے یہ کافی ہے۔
یہ ایسی غزل ہے جس کا انداز جو ہے وہ بھی ذرا اترتا ہے۔ مطلب وہ الفاظ کے ساتھ۔
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
اس زیست کا ہر لمحہ امانت ہے اس کی جب
یہ اس کے لیے صرف ہو اس پہ آؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
ہر دم وہ چاہے میری نظر اس کی طرف ہو
اغیار کے اشاروں سے دل بچاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
دل مطمئن تو اس پہ ہے کہ اس کا ہی رہے
پر نفس کو اس پہ مطمئن کراؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
آنکھوں کے سامنے شر ہے جس میں خیر ہے مخفی
اس خیر میں شر سے آنکھیں اب ہٹاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
اب یہ پوری غزل کا جواب موجود ہے۔
جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر
بہتر ہو اس سے بھی وہ گُر بتاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے
یہ اس شخص کی بات ہے جس کی طلب بن جاتی ہے۔ دیکھیں پہلے خواہشات ہیں نفس کی۔ اس کی طلب ان خواہشات کی ہے۔ طریقۂ جذب سے اس کو ایک داعیہ مل گیا کہ اب اس کی طلب وہ نہیں ہے۔ اب اس کی طلب اللہ ہے۔ دل اس میں مبتلا ہے، وہ چاہتا یہ ہے۔ لیکن اس کے سامنے مشکلات ہیں۔ وہ مشکلات اس غزل میں وہ بیان کر رہا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ "میں وصلِ یار چاہوں مگر پاؤں میں کیسے"۔ چاہت تو ہے، طلب تو ہے، لیکن حاصل کیسے ہو؟ پھر، "اس زندگی کا ہر لمحہ جب اس کی امانت ہے، تب یہ سارا اس کے لیے صرف ہو اس پر میں کیسے آؤں؟" مشکل ہے۔ ہر دم وہ چاہتا ہے کہ میری نظر صرف اس پر ہو۔ لیکن اغیار کے اشارے بھی میرے دل کو مبتلا کر رہے ہیں۔ وہ میرے دل کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ ان کے اشاروں سے اپنے آپ کو کیسے بچاؤں؟ مشکل ہے۔ پھر یہ ہے کہ میرا دل تو مطمئن ہے کہ اس کا ہی رہوں۔ لیکن نفس کو اس پر کیسے مطمئن کروں؟ یہ مشکل ہے۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے شر آتا ہے، جس میں خیر مخفی ہوتا ہے۔ مثلاً غیر محرم نظر آ گئے۔ تو شر ہے۔ لیکن اس کے اندر خیر یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی آنکھیں اس سے ہٹائیں تو آپ کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قرب نصیب ہو گا۔ اب اس شر کے اندر وہ جو خیر ہے اس کو کیسے حاصل کروں؟ یا اس خیر کے اندر جو شر ہے، اس سے اپنی نظریں کیسے ہٹاؤں؟ مشکل ہے۔ پریکٹیکل ساری چیزیں ہیں۔ طلب تو ہے، میں چاہتا تو ہوں، لیکن حاصل کیسے ہو؟
آخری حاصلِ غزل شعر جو ہے وہ ہے
جو شیخ کی دہلیز ہے پکڑو اسے شبیر
بہتر ہو اس سے بھی وہ گُر بتاؤں میں کیسے
دل مبتلائے یار کو بہلاؤں میں کیسے
مطلب یہ ہے کہ شیخ اسی لیے پکڑا جاتا ہے، ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے کہ اس کی دہلیز کو لازمی پکڑو، وہ جو کہے اس طرح کرتے جاؤ۔ اپنی سوچ کو آگے نہ آنے دو۔ پھر تو ان تمام مشکلات کو عبور کر سکتا ہے، ورنہ پھر یہ ہے کہ واقعی مشکلات حل ہونے کو نہیں ہیں۔
شیخ کے ساتھ اگر محبت ہو جائے، فنا فی الشیخ ہو جائے، پھر تو Will power کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ ورنہ اتنا Will power ہونا چاہیے کہ شیخ کی بات مان سکے۔ پھر اس کے بعد پھر چلتا رہے گا ان شاء اللہ۔ تو یہ مطلب گویا کہ جذبی اصلاح کی یہ ایک رہنما غزل ہے۔
ا