عارفانہ کلام مجلس

کتاب: پیغامِ محبت

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ،

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔


ہم نے ایک سلسلہ شروع کیا ہے، پیغامِ محبت کی درس کا۔ منگل کے دن، منگل کے دن یہ ہمارا درس ہوتا ہے، انشاءاللہ باقاعدگی کے ساتھ ہوا کرے گا۔ لیکن ساتھیوں کی خواہش یہ ہے کہ یہ ذرا پیغامِ محبت جلدی جلدی اس کی تشریح ہمارے سامنے آ جائے، تاکہ لوگوں کو اس سے فائدہ ہونا شروع ہو جائے۔ تو بعد میں انشاءاللہ `internet` پر اس کو آہستہ آہستہ رکھیں گے، لیکن کم از کم آ جائیں جو ساتھی اس کو پڑھنا چاہیں سمجھنا چاہیں تو وہ سمجھ سکیں۔ تو چونکہ اس کا ایک پروگرام ہو چکا ہے، اور وہ `net` پر موجود ہے، اس کا اگر کوئی مطلب `audio` سننا چاہیں تو ان کے پاس موقع ہے وہ سن سکتے ہیں۔ وہ انشاءاللہ گزشتہ ہفتے کے منگل کے اس میں موجود ہوگا۔ خانقاہ امدادیہ کی طرف سے `tazkia.org` پر موجود ہے انشاءاللہ۔


لیکن ابھی چونکہ ہمارے پاس موقع ہے، ساتھی موجود ہیں، اس وجہ سے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انشاءاللہ کچھ حصہ اس میں ہوگا، تاکہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جلدی یہ پورا ہو جائے۔ صفحہ نمبر 23 تک ہم پہنچ چکے تھے۔ اب ایک دو رباعیاں میرے سامنے ہیں۔ پہلے وہ پڑھ لیتے ہیں پھر اس کے بعد انشاءاللہ باقی کلام ہوگا۔ یہ رباعی ہے خانقاہ میں پناہ۔


پناہ خانقاہ میں جا کے لینا امان دنیا سے گر تو چاہے

اگر ہو روز روز نہ ایسا ممکن تو آنا جانا ہو گاہے گاہے


جو زخمی دنیا کے وار سے ہوں آرام آئے نہ نفس کے مارے

تو مل لے خانقاہ میں شیخ سے تو وہ رکھے زخموں پہ تیرےپھائے


پناہ خانقاہ میں جا کے لینا امان دنیا سے گر تو چاہے



دنیا کے جو مارے ہیں وہ بہت سخت ہوتی ہے۔ وہ انسان دل پہ محسوس کرتا ہے، تنگ ہوتا ہے دل، پریشان ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض لوگ خودکشیاں تک کر لیتے ہیں۔ تو یہ ظاہر ہے اگر کوئی ایسی جگہ ہو جہاں انسان دنیا سے کٹ کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو سکتا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔ تو جہاں پر بھی موجود ہو تو وہاں پر پناہ لیا جا سکتا ہے۔


یہ مراقبہ کے بارے میں ہے:


دل میرا اس طرف ہے اس کی مجھ پہ ہے نظر

وہی میرا ماحول دل پہ اس کا ہی اثر

یکسو ہوں اس طرف اور ماسوا سے منقطع

یہ ہی مراقبہ ہے تصور ہو یہ اگر




مطلب یہ ہے کہ مراقبہ کیا ہے؟ کہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور یہ بھی میرے ذہن میں ہو کہ اللہ میری طرف متوجہ ہے۔ تو اس سے میں اللہ کے ساتھ تعلق بنا سکوں گا اور اللہ جل شانہٗ کا تو قاعدہ ہی ہے، فرماتے ہیں کہ جو مومن مجھ سے جو گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ رکھتا ہوں۔ تو اگر میرا تصور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ہو کہ وہ میری طرف محبت کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے، تو امید ہے انشاءاللہ اللہ پاک ہماری طرف محبت کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوگا اور اس سے ہمارے دل میں بھی محبت پیدا ہوگی۔ تو مراقبہ اس لیے بہت مفید عمل ہے۔


اب ایک غزل ہے۔ یہ اس میں ہماری زندگی کا ایک منشور بیان کیا گیا ہے۔


اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی1



مطلب یہ ہے کہ اگر میں اللہ کا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنوں گا؟ پھر میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ آخر میں کس لیے یہاں پر آیا ہوں؟


اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی1


مطلوب وصلِ یار ہے اس زندگی میں جب


یعنی اللہ تک پہنچنا مطلوب ہے۔


مطلوب وصلِ یار ہے اس زندگی میں جب

اس وصل سے پھر خود کو کیوں جدا کرے کوئی

اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی

اس امتحانِ زیست میں مقصود وہی ہے

اس امتحانِ زیست میں مقصود وہی ہے

ہر آن میں بس اس کو ہی دیکھا کرے کوئی

اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی


امتحانِ زیست سے مراد یہ ہے کہ زندگی کا جو امتحان ہے وہ یہی ہے کہ ہم لوگ اس کو اپنا مقصود بنا لیں۔ اور پھر جب وہ مقصود ہے تو پھر ہر طرف اسی کی طرف متوجہ ہوں، ہر وقت اسی کی طرف متوجہ ہوں۔


سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

میری بلا سے غیر کو چاہا کرے کوئی

اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی


ظاہر ہے آپ حضرات بھی چاہتے ہوں گے بھئی ہر چیز کا کوئی ثبوت دے دیں۔ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں اس کا ثبوت کیا ہے؟ کیوں اس طرح ہے؟ تو آپ مجھے بتائیں کہ دنیا میں، کائنات میں آپ ﷺ سے زیادہ کوئی ہو سکتا ہے؟ مرتبے کے لحاظ سے، عقل کے لحاظ سے، فکر کے لحاظ سے، کوئی آپ ﷺ سے بڑھ کر ہے؟ نہیں ہے۔ اور ہر انسان کا جو آخری وقت ہوتا ہے اس میں وہ جو اس کی سوچ ہوتی ہے وہ سب سے بہترین ہوتی ہے جو پہلے دور میں ہوتا ہے۔ ذرا تصور کریں۔ ہر انسان چاہے جیسا بھی ہے لیکن اس کا آخر میں کیا خیال ہوتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آخر میں وہ مرکزی نقطے پہ آ جاتا ہے جو اس کا مطلب ہوتا ہے، `target` ہوتا ہے، باقی ساری چیزیں فضول نظر آتی ہیں۔ فیصل آباد کے ایک `professor` صاحب تھے، وہ بتا رہے تھے کہ میرے والد صاحب جب فوت ہو رہے تھے، وہ بڑے `learned scholar` تھے۔ تو مجھے کہا کہ میری ڈگریاں لے آؤ۔ تو میں حیران کہ ابا جی کو ڈگریوں کی کیا فکر اس وقت کیسے پڑ گئی؟ خیر، کہتے ہیں میں لے آیا۔ اس نے وہ ڈگریاں `unfold` کر کے دیکھیں ساری، پھر `fold` کر کے مجھے دے دیں۔ بیٹا یہ لے جاؤ اب یہ میرے کسی کام کی نہیں۔


یہ وہ `statement` ہے جو وہ دینا چاہتا تھا۔ کہ ان چیزوں کے پیچھے اتنا زیادہ نہ مرو، آخر میں اس کو چھوڑنا پڑتا ہے، اور اس کی کوئی `value` نہیں ہوتی۔ یہ میسج وہ دینا چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے کہا کہ آخری وقت کا جو میسج ہوتا ہے، سب سے اہم ہوتا ہے اور پھر جو جتنا بڑا ہوگا اس کا میسج اتنا بڑا ہوگا۔ تو آپ ﷺ کے آخری وقت کا میسج کیا تھا؟ مشہور الفاظ ہیں، بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَىٰ۔ اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے۔ اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے۔ رفیقِ اعلیٰ کون ہے؟ اللہ جل شانہٗ۔ اب سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کہ دنیا میں سب سے بڑی بات کونسی ہے؟ اللہ جل شانہٗ کا طالب۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بات ہے۔ تو اب دیکھیں۔


سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

میری بلا سے غیر کو چاہا کرے کوئی


دیکھیں میرا سب کچھ بھی لٹ جائے، لیکن وہ مجھے مل جائے۔ ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں `loss` میں نہیں ہوں۔ میں `loss` میں نہیں ہوں۔ ہاں دوسرے لوگ اگر اس چیز کو نہیں سمجھتے، وہ دنیا کے اوپر ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے کتے مردار کے اوپر پڑے ہوتے ہیں، بمبوڑ رہے ہوتے ہیں ان کو۔ تو کیا ہم کتوں کے ساتھ رش کر سکتے ہیں کہ بھئی کتے ایسا کر رہے ہیں ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے؟ یہ اپ کہہ رہے ہیں اپنی طرف سے بات کر رہے ہیں؟ یہ بھی حدیث شریف کی بات بتا رہا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے: الدُّنْيَا جِيفَةٌ وَطَالِبُهَا كِلَابٌ۔ دنیا مردار ہے، اور اس کو جو چاہنے والے ہیں وہ کون ہیں؟ کتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جیسے کتے مردار کے اوپر حملہ کرتے ہیں اور بمبوڑ رہے ہوتے ہیں، آپس میں اس پر لڑ رہے ہوتے ہیں، تو اسی طریقے سے یہ دنیا کے دنیا دار لوگ یہ آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں، یہ میرا، وہ کہتا ہے یہ میرا۔ تو جو لوگ کر رہے ہیں، پاگل پن کر رہے ہیں تو ہم ان کے پیچھے جائیں؟ ہم ان کے طور پہ جائیں؟ ہم ان کی طرح کام کریں؟ ہمیں تو ظاہر ہے اپنے آپ کو بچانا چاہیے ان چیزوں سے۔ تو یہ ہے۔


سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

میری بلا سے غیر کو چاہا کرے کوئی

مقصود کائنات کا دنیا نہیں مقصود

مقصود کائنات کا دنیا نہیں مقصود

دھکے کیوں اس کے واسطے کھایا کرے کوئی


مقصودِ کائنات کون سا ہے؟ انسان۔ انسان مقصودِ کائنات ہے۔ کیسے؟ جس وقت انسان، انسان نہیں رہے گا یعنی اللہ اللہ کرنے والا نہیں رہے گا، اس وقت کائنات کو توڑ دیا جائے گا۔ پتہ چل گیا؟ کہ کون مقصودِ کائنات ہے؟ انسان ہے۔ جب تک انسان، انسان ہے اس وقت تک یہ سب کچھ باقی رہے گا۔ جب انسان، انسان نہیں رہے گا پھر یہ کائنات نہیں رہے گا، چھوڑ دیا جائے گا سب کچھ۔ تو یہ مقصودِ کائنات ہے۔ مقصودِ کائنات کا دنیا نہیں مقصود۔ یعنی دیکھیں جو مقصودِ کائنات ہے اس کا دنیا کیسے مقصود ہو سکتا ہے؟ دنیا کا مقصود وہ ہے۔

دھکے کیوں اس کے واسطے کھایا کرے کوئی


پھر اس کے لیے کیوں کوئی دھکے کھایا کرے؟ ظاہر ہے۔


یہ دل جو اس کے واسطے پیدا کیا گیا

یہ دل جو اس کے واسطے پیدا کیا گیا

جو غیر ہے اس میں اب نہ تو آیا کرے کوئی

اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی


یہ دل اللہ کے لیے بنا ہوا ہے، اس میں صرف اللہ ہونا چاہیے، اس میں کوئی غیر نہیں آنا چاہیے، غیر کی جگہ نہیں ہے، اب غیر کو نہیں آنا چاہیے۔


جو دردِ دل نصیب تھا رومی کو عشق میں

جو دردِ دل نصیب تھا رومی کو عشق میں

پڑھ مثنوی کو کیوں نہ پھر جلا کرے کوئی

اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی


مثنوی شریف کا درس ہمارے ہاں ہوتا ہے، اور یہ سب اس کی برکات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو دردِ دل ان کو نصیب تھا، ظاہر ہے اس کو پڑھ کے انسان کا بھی دل متاثر ہوگا۔ اور اس کو پڑھ کے اگر متاثر نہیں ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟


شبیر ؔ اتر اب ذرا میخانہِٗ دل میں8

اب تو شرابِ عشق ہی پیا کرے کوئی9



مطلب جو دل کا مے خانہ ہے وہاں پر اب عشق برپا ہے، سارا نظام، لہٰذا تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ اور اب تو شرابِ عشق ہی پینا چاہیے، پوری زندگی اللہ کی محبت میں گزارنی چاہیے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ ہے اس کا مطلب، ہماری زندگی کا منشور۔


اچھا اب شرابِ عشق میں اتر گیا نا مطلب، تو اب اس کا اپنا اثر ہوگا۔ یہ مے خانہ میں اتر گیا تو اس کا اپنا اثر ہے۔


شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

وفورِ شوق سے بار بار اٹھ جانا میرے دل کا


جو شرابِ عشق ہے، اللہ کی محبت سے بھرپور، وہ میرا دل اس سے بھرا ہوا ہے۔ اور یہ بار بار میرا دل اوپر اٹھتا ہے کہ یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے۔ جیسے کسی چیز کی محبت میں کوئی مبتلا ہو نا، تو بار بار اس کا دل کرتا ہے کہ یہ کروں یہ کروں یہ کروں۔


میرے دل میں وہ آئے جب تو تب سے مست دل میرا

میرے دل میں وہ آئے جب تو تب سے مست دل میرا

چھلک پڑنے کو تھا گویا وہ پیمانہ میرے دل کا

شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

میرا دل اس کا وہ میرا، میں کیسے چھوڑ دوں اس کو

میرا دل اس کا، وہ میرا، میں کیسے چھوڑ دوں اس کو

وہ اس سے لے کے پانا اور پا جانا میرے دل کا


مطلب یہ ہے کہ اس سے لے کے میرا دل پا رہا ہے اور وہ میرے دل کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔


میں اس کے گھر میں جا بیٹھوں، وہ میرے دل میں آ جائے

میں اس کے گھر میں جا بیٹھوں، وہ میرے دل میں آ جائے

ابھی کچھ اور، ابھی کچھ اور فرمانا میرے دل کا

شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا


ان کا گھر کون سا ہے؟ مسجد۔ میں مسجد میں بیٹھ جاؤں اور وہ میرے دل میں آ جائے۔ تو اب ظاہر ہے پھر کیا حالت ہوگا؟ پھر تو لے لو نا جتنا لے سکتے ہو۔ جب دیکھو وہ دل میں آ گئے اور تو اس کے گھر میں بیٹھ گیا تو اب تو جتنا لے سکتے ہو لے لو نا، پھر کیوں انتظار کرتے ہو؟ ہاں تو،

ابھی کچھ اور، ابھی کچھ اور فرمانا میرے دل کا۔


دو نفل پڑھ لیے، دل دو اور پڑھ لو۔ دو اور پڑھ لیے، تو دو اور پڑھ لو۔ دل یہ چاہے۔ بیشک آپ کا ضروری کام ہو آپ نہ پڑھ سکیں، علیحدہ بات ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ دل چاہتا ہے، نماز میں آپ ہو اور دل چاہتا ہے کہ باہر پھروں، باہر جانے کو انسان بھاگے۔ چاہے کہ انسان مسجد میں ٹھہرنے کو وہ چاہے اور بیشک ضروری کام ہو اس کے لیے باہر چلا جائے۔ تو ایسا ہوگا جیسے وہ کہے گا باہر لیکن دل مسجد میں ہوگا۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ مومن کی مثال مسجد میں ایسی ہوتی ہے جیسے پانی میں مچھلی ہوتی ہے۔ پانی میں مچھلی `normal` ہوتا ہے، صحیح، اور باہر آ جائے تو کیسی ہوتی ہے؟ تڑپ رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے بہترین وقت وہی ہوتا ہے جب دوبارہ پانی میں چلی جائے۔ تو اسی طریقے سے یہ جو مسلمان ہے، مسلمان کا بھی دل یہ چاہتا ہے کہ میں مسجد میں رہوں۔ اس لیے کہتے ہیں مومن کا دل ہر وقت مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔ تو یہ چونکہ گھر ہے اللہ پاک کا اور اللہ کے ساتھ ہمیں محبت ہے، دل میں آ جانے کا مطلب کیا ہے؟ اللہ پاک کے ساتھ ہمیں محبت ہے۔ تو اب طریقہ کیا ہونا چاہیے؟ اب دل کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ اب مزید اس سے اللہ پاک سے لوں، مزید اللہ پاک سے لوں، مزید اللہ پاک سے لوں،


لیکن کیسے کرنا پڑتا ہے؟


یہ دولت مفت نہیں ملتی، جگر خوں کرنا پڑتا ہے


یہ ایسا نہیں کہ ویسے چلتے چلتے آپ کو یہ دولت مل جائے گی یہ ایسا نہیں ہے اس کے لیے کیا ہے۔


یہ دولت مفت نہیں ملتی، جگر خوں کرنا پڑتا ہے

کہیں سے رستہ پائے رستہ جانانہ مرے دل کا

شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا


مطلب یہ کہ اس کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، کوشش کرنی پڑتی ہے، محنت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن وہ محنت ہے کونسی چیز؟ وہ ہے محبت والی `line` کہیں سے اس کو مل جائے `connection`۔


کسی نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اصلاح کا، فرمایا، آسان راستہ بتاؤں؟ تو لوگوں نے کہا حضرت ضرور بتائیے۔ فرمایا ایک محبت کی پڑیا کھا لو۔ تو لوگوں نے کہا حضرت محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا محبت کی دکانوں سے۔ جہاں محبت کی باتیں ہو رہی ہوں گی، جہاں محبت کی چرچے ہو رہے ہوں گے وہاں آپ پہنچ جائیں تو خود بخود محبت آہستہ آہستہ آنی شروع ہو جائے گی۔ ایک آدمی کرکٹ نہ بھی کھیلتا ہو نا، تو کرکٹروں کے درمیان اگر آ جائے تو کرکٹ کے بارے میں پھر سوچنا شروع کر لیتے ہیں، کہ وہ فلاں چھکا مار دیا، یہ کر دیا، وہ کر دیا۔ ہمارے گاؤں میں، ہمارے وہاں جو گھر ہے اس کے سامنے ایک صاحب رہتے تھے، اس کے سسر، بہت بوڑھے آدمی تھے بیچارہ۔ وہ کبھی کبھی آتے تھے، یہ `digest` کے بڑے شوقین تھے، جاسوسی `digest`۔ یہ بہت زیادہ دیکھتے تھے جاسوسی ناول اور جاسوسی `digest`، اس کے بہت زیادہ شوقین تھے۔ تو ہر وقت اس کے ہاتھ میں کوئی ناول کوئی `digest` ہوتا تھا۔ تو کبھی کبھی ہمارے پاس کے لیے جاتا تھا باہر، تو راستے میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کوئی اس کے ہاتھ میں اس وقت چیز نہ ہوتی۔ کہتا... فٹ فٹ... مطلب وہ اندر ہی اندر اس کا جو ہے نا وہ چل رہا ہوتا تھا نظام، ٹھیک ہے نا۔ تو اب دیکھ لیں کتاب کے ساتھ مشغول ہوتے ہوتے اس میں `hit` ہو گیا۔ اب ظاہر ہے اس کا سارا سوچ ہی ہے۔ حالانکہ اس عمر میں یہ کام نہیں ہونا تھا۔ لیکن اب دیکھیں اللہ پاک نہ کرے اللہ نہ کرے، اگر کوئی اس ماحول میں چلا جائے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا، ایک جاسوسی ناولوں کی ایک `shop` تھی نوشہرہ میں۔ تو کتابیں اور بھی ملا کرتی تھی، تو میں کتاب لینے کے لیے گیا تھا۔ تو وہ چونکہ جاسوسی ناول لوگوں کو دیتا تھا، ایک آنہ لائبریری، مطلب ایک آنہ روز کے حساب سے، وہ ہوتا تھا۔ تو وہ بوڑھا آدمی تھا وہ بھی۔ سفید ریش۔ وہ ایک دن ایک ساتھی سے کہہ رہا ہے جو آئے تھے ناول لیا کرتے تھے، ان سے کہتے ہیں میں نے بھی ایک ناول لکھنی ہے۔ ، اور اس میں... اس وقت وہ عمران سیریز پتہ نہیں کوئی تھا، عمران سیریز ہوتا تھا کچھ، فریدی سیریز ہوتا تھا۔ کہتا ہے یہ عمران بہت متکبر ہو گیا ہے، اب میں اس کو فریدی سے پھینٹی لگواؤں گا۔ اب میں نے کہا، دیکھو اس آدمی کی خواہش اب کیا ہو گئی ہے؟ یہ سوچو، میں گم ہے کہ میں کوئی ایسے قصہ، قصہ لکھ دوں، ایسے کہانی لکھ دوں۔ تو مقصد یہ ہے کہ دیکھو، انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اگر محبت والا ماحول ہے، اللہ کے ساتھ محبت والا ماحول ہے، تو ان کو اللہ تعالیٰ کی محبت ملے گی۔ اور اگر دنیا کی محبت والا ماحول ہے، تو دنیا کی محبت ملے گی۔ اور اگر کسی خاص چیز کے محبت والا ماحول ہے تو کسی خاص چیز کے محبت ملے گی۔ آپ بیٹھ جائیں نا کسی `property dealer` کے ساتھ دو تین دن آنا جانا شروع کر لیں۔ پھر دیکھیں آپ کے دل میں پلاٹ کی خواہش پیدا ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ جب آپ اپنے سامنے دو تین سودے دیکھیں گے، ہو رہے ہوں گے نا، تو آپ کا دل بھی مچل رہا ہوگا یار کوئی پلاٹ لینا چاہیے، یہ ہے وہ ہے، مشورے مشورے اس کے بارے میں شروع کر لیں گے۔ تو یہ چیزیں ہیں، مطلب ظاہر ہے یہ فطری چیزیں ہیں، انسان جہاں جائے گا اس کا اثر وہ لیتا ہے۔ کہتے ہیں ہر انسان چوری کرتا ہے دوسرے سے۔ حتیٰ کہ اپنے دشمن سے بھی، جن کو اچھا نہیں سمجھتا ان سے بھی چوری کرتا ہے، ان کی عادتیں اس میں آ جاتی ہیں۔ آہستہ آہستہ آ جاتی ہیں۔ کیا خیال ہے؟ ناراض نہ ہونا، لیکن یہ بوٹوں کے اندر جرابیں پہننے کا رواج کہاں سے آیا ہے؟ گرمی میں؟ سردی کی بات نہیں کر رہا۔ رواج کہاں سے آیا ہے؟ ہمارے علاقے میں کوئی سوچ سکتا تھا کہ گرمی میں کوئی جرابے پہنے گا اور... ہاں؟ یہ کوئی سوچ سکتا تھا؟ یہ کہاں سے آیا؟ انگریزوں کے ساتھ رہنے سے۔ ان کا یہ ٹھنڈا علاقہ تھا ویسے، اور ان کی یہ چیزیں تھیں، ظاہر ہے وہ کرتے تھے اس طرح۔ بس ہوتے ہوتے ان کے ساتھ ہمارے بھی رواج ہو گئے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بہت ساری چیزیں ہم لوگوں سے لیتے ہیں۔ بیشک ہم ان کو اچھا نہ سمجھتے ہوں۔ لیکن وہ انسان وہ لے لیتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اگر ہم لوگ بھی اللہ والوں کے پاس جائیں گے، تو ان سے پھر اللہ کی محبت لے لیں گے، انشاءاللہ۔


تو یہ ہے:

یہ دولت مفت نہیں ملتی، جگر خوں کرنا پڑتا ہے

کہیں سے راستہ پایا، کوئی جانانا میرے دل کا

راستہ جانانا... جانانا، راستہ کون سا ہے؟ محبت والا راستہ۔ ۔


ہیں عقلیں سن ذہن تھک رک گئے اس شور دنیا سے

ہیں عقلیں سن ذہن تھک رک گئے اس شور دنیا سے



سنے اب تو کوئی یہ نعرہ مستانہ مرے دل کا



شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

وفورِ شوق سے بار بار اٹھ جانا میرے دل کا


عقلیں سُن ہو گئی ہیں۔ کام چھوڑ دیا ہے۔ ذہن بھی تھک گئے ہیں، اور تھک کر رک گئے۔ دنیا کے شور کی وجہ سے۔ دنیا کے اتنا شور ہے کہ عقلوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ عقلوں نے کام کیسے چھوڑ دیا؟ آپ کہیں گے بھئی دنیا میں بڑے عقلمند رہتے ہیں، آپ کہتے ہیں عقلوں نے کام چھوڑ دیا ہے۔ نہیں بھئی! عقل کا کام کیا تھا؟ تمہیں صحیح اور غلط سمجھائے۔ کیا تھا؟ تمہیں صحیح اور غلط سمجھائے۔ اب آج کل عقل کیا سمجھا رہا ہے؟ آپ نہیں سمجھیں گے ابھی بھی۔ اب بتاتا ہوں۔ مجھے بتاؤ، آپ کے سامنے ایک چیز ہو، جو 10 دن چل سکتا ہو۔ اور دوسری چیز ہے اسی قیمت پر ملتی ہو، جو 10 سال چلتی ہو۔ آپ کون سا لیں گے؟ جو 10 سال چلنے والی چیز ہے وہ لیں گے نا؟ اچھا، ایک چیز ہے اپ کو مطلب ملتی ہے کسی خاص قیمت میں جو 10 دن دس دن چلتی ہے، اور ایک اس سے بھی اچھی اور بڑھیا چیز وہ آپ کو اتنے پیسوں میں 10 سال چلنے کے لیے ملے، اب بتاؤ آپ کون سا لیں گے؟ دوسری چیز لیں گے نا؟ اللہ پاک فرماتے ہیں بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ۔ بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے۔ باقی رہنے والے کا مطلب کیا ہے؟ سو سال کے لیے؟ ہزار سال کے لیے؟ لاکھ سال کے لیے؟ نہیں، نہ ختم ہونے والی زندگی کے لیے۔ اب ایک چیز نہ ختم ہونے والی زندگی کے لیے کام آئے اور وہ بڑھیا بھی ہو، زیادہ بھی ہو، اچھا بھی ہو۔ اس کے مقابلے میں ایک چیز جو بہت عارضی ہے، وہ تھوڑی ہے۔ آپ اس کو لے رہے ہیں، تو اب دیکھو وقت، جان، مال، وقت ہمارے پاس تین چیزیں ہیں۔ جان، مال، وقت، ان تینوں سے ہم چیزوں کو خرید سکتے ہیں۔ جان، مال، وقت، ان تینوں سے ہم چیزوں کو خرید سکتے ہیں۔ اب ہم ان تین چیزوں سے دنیا کی چیز خریدیں جو چند سالوں میں ختم ہو کر بس ٹھیک ہے جی۔ اور ان تین چیزوں سے ہم آخرت کی چیز خریدیں جو ہمیشہ کے لیے اور بہت بڑھیا اور بہت اچھا ہو۔ تو اب بتاؤ عقل کا فتویٰ کیا ہوگا؟ عقل کو کیا کہنا چاہیے؟ وہ دوسری چیز، تو آج کل عقل یہ کہہ رہا ہے؟ آج کل عقل یہ نہیں کہتا۔ تو عقل زنگ آلود ہو گیا۔ کس چیز کی وجہ سے زنگ آلود ہو گیا؟ دنیا کے شور سے۔ `propaganda, advertisement`، آپ یہ جو مسابقت کی دوڑ ہے آپس میں، اسی کی وجہ سے ذہنوں نے کام چھوڑ دیا، عقلوں نے کام چھوڑ دیا۔ ذہن بھی تھک گئے، رک گئے بس ختم۔ اب اس وقت کسی مستانے نعرے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ جو ہمیں دوبارہ اس طرف لے آئے؟ کوئی مستانہ نعرہ ہونا چاہیے نا؟ ورنہ پھر تو لائن تو اس طرف لگی ہوئی ہے نا، وہ تو کر ہی رہا ہے۔


تو یہ ہے:

ہیں عقلیں سن ذہن تھک رک گئے اس شور دنیا سے

سنے اب تو کوئی یہ نعرہ مستانہ میرے دل کا


شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا


میں جاؤں اس کے پیچھے جس کے پیچھے جانے کو کہہ دے

ہو مستی سے شبیر عشقی، سکوں پانا میرے دل کا


دیکھو، مجھے اپنے اللہ کو خوش کرنا ہے۔ اور میرا اللہ اس سے خوش ہو کہ اِس... اس کے پیچھے جاؤ، یعنی آپ ﷺ کے پیچھے جاؤ۔ اس پہ خوش ہوں، قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ تو بس میرا مقصود تو حاصل ہو گیا نا۔ اب ایک طرف وہ مستی اور ان کے پیچھے میں نہ جاؤں۔ ایک طرف وہ سکون اور ان کے پیچھے میں چلنا شروع کر لوں، کونسا اچھا ہے؟ حکم کس چیز میں پورا ہو رہا ہے؟ ٹھیک ہے نا؟ بس یہی بات ہے۔ تو اب ذرا تھوڑا سا اس کو `two-step theory` بنا لیتے ہیں، `two-step`۔ `First step`، دنیا سے مستی کی طرف آ جاؤ، اس عشق کی طرف آ جاؤ۔ کیونکہ وہاں سے آسانی سے نہیں آ سکتے۔ تو اس مستی کے... کے ذریعے سے، جو مستی ایک `jump` ہوتا ہے نا، بھئی آدمی کہتا ہے بھئی میں نے یہ کرنا ہے چاہے کر لو کچھ بھی کیا کرنا ہے۔ میں نے کرنا ہے یہ۔ تو یہ مستی ہوتی ہے نا؟ تو ظاہر ہے مستی تجھے دنیا سے نکال لے۔ جیسے `inertia` ہوتا ہے نا مطلب `rocket` اس کے لیے بہت زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے `rocket` کو دنیا، مطلب دنیا کے `gravitational force` سے نکلنے کے لیے۔ تو اس کے لیے تو مستی کی ضرورت ہے۔ پھر جس وقت ایک دفعہ آپ اس سے نکل جائیں تو پھر `direction`، صحیح `direction` اور `continuous speed`۔ تو پھر وہی ہے، سنت۔ سنت طریقہ۔ آپ ﷺ کا سنت طریقہ، اس پہ آرام سے `smoothly` جاتے رہو، کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ انشاءاللہ آپ کمال تک پہنچ جائیں گے۔ تو یہ بات ہے، `two-step theory` ہے۔ پہلے جذب ہے اور پھر ماشاءاللہ فہم ہے۔ پہلے جوش ہے پھر ہوش ہے۔ جوش کے ذریعے سے نکلو دنیا کے اس `barrier` کو، اس کو `cross` کرو۔ اور پھر اس کے بعد `smoothly` آپ ﷺ کے پیچھے چلتے رہو۔ بس ماشاءاللہ ارام سے پوری زندگی گزارو، اور سنت پر عمل کرتے جاؤ۔ لیکن محبت کو دل میں رکھو، محبت کو دل سے نکالنا نہیں ہے۔ وہ رکھنا ہے۔


اچھا، ابھی حسنِ ازل اور حسنِ عارضی۔ حسنِ ازل یعنی اللہ جل شانہٗ کا حسن۔ اور حسنِ عارضی جو یہاں دنیا کی چیزوں کا حسن ہے۔


کرنی ہمت ہے جہاں تک بھی ہے انسان کا بس

حسن پرستی ہے جال، یاد رکھ شیطان کا بس

کرنی ہمت ہے جہاں تک بھی ہے انسان کا بس

حسن پرستی ہے جال، یاد رکھ شیطان کا بس

اس طرف خالقِ حسن و جمال کا دیدار

اس طرف خالقِ حسن و جمال کا دیدار

اس طرف جلوہ فقط عارضی سامان کا بس


ہم لوگ اگر `compare` کر لیں صحیح معنی میں، تو دیکھ لو صاف صاف چیزیں موجود ہیں۔ یعنی ہمارا کام صرف ہمت کرنا ہے۔ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن `target` بھی تو ہونا چاہیے نا؟ تو `target` یہ ہے کہ حسن پرستی جو ہے یہ تو شیطان کا جال ہے۔ دنیا کی حسن پرستی، شیطان اس میں پھنساتا ہے۔ اب اگر آپ نے واقعی حسن کو لینا ہے، تو ذرا سوچیں کہ جس نے سارا حسن و جمال بنایا ہے وہ کتنا حسین ہوں گے؟ انشاءاللہ دیدار ہوگا وہاں پر، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ لیکن اس کا... اس کا اپ کو تو اس وقت پتہ نہیں چل سکتا۔ لیکن آپ `by intuition`، ایک چیز تو معلوم کر سکتے ہیں نا؟ کہ جس نے حسن بنایا ہے وہ کیسا حسین ہوگا؟ تو اب اگر آپ ان حسینوں میں پھنس گئے تو وہاں سے رہ جاؤ گے۔ وہاں سے رہ جاؤ گے۔ تو لہٰذا اپنے آپ کو ان کے جالوں میں نہیں پھنسانا، اور اس کو اپنے ذہن میں رکھنا ہے، دل میں رکھنا ہے۔ پھر آپ دیکھو کہ یہاں تو عارضی سامان کا جلوہ ہے اور وہاں ماشاءاللہ اس کا دیدار ملے گا۔ میں اس کو ان کے لیے کیوں چھوڑوں؟ تو یہ پھر سن لیں۔


کرنی ہمت ہے جہاں تک بھی ہے انسان کا بس

حسن پرستی ہے جال، یاد رکھ شیطان کا بس

اس طرف خالقِ حسن و جمال کا دیدار

اس طرف جلوہ فقط عارضی سامان کا بس


اب دل دینا، یہ ایک `term` ہے اصطلاح ہے، لوگ استعمال کرتے ہیں۔

نہیں آسان پروانہ بننا،

اور جل جل کے مستانہ بننا

کھیل تماشا نہیں ہے دل دینا،

اور پھر کسی کا دیوانہ بننا


مطلب ظاہر ہے کچھ تو کرو گے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ پھر وہ تجھے کیا دے، وہ ایک علیحدہ بات ہے۔ لیکن یہاں تو کچھ کرنا پڑے گا۔


یہ ایک غزل ہے، جو حقائق کے ساتھ ہمیں ملاتا ہے۔ وہ حقائق کیا ہیں وہ اس میں انشاءاللہ نظر آ جائیں گے امید ہے۔


میں دائیں بائیں دیکھوں وہ نظر آئے بہر صورت

میں دائیں بائیں دیکھوں وہ نظر آئے بہر صورت

مٹے میری نظر میں جو بھی تھا موجود ثمر صورت

میں دائیں بائیں دیکھوں وہ نظر آئے بہر صورت


میں اگر ہر طرف دیکھوں تو مجھے ہر صورت میں وہی نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ اس کی قدرت ہر طرف جلوہ فرما ہے۔ ہوائیں اس کی چلائی ہوئی ہیں، سورج اس کے حکم سے چل رہا ہے۔ زمین میں سب کچھ اس کے دم سے ہے۔ ہمارے اندر بہت کچھ اس کے وہی کروا رہا ہے۔ جس طرف بھی دیکھوں تو وہ نظر آ رہے ہیں۔ اس کی قدرتوں کے ذریعے سے۔ اور جب مجھے وہ نظر آ جاتا ہے، تو جو بھی میری نظر میں کچھ تھا، جس کی مجھے خواہش تھی، وہ سارا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس سے اعلیٰ چیز نہ مجھے نظر آ رہی ہے، اس سے اعلیٰ چیز ہم پا رہے ہیں، اس کی وجہ سے، لہٰذا میری نظر میں وہ چیزیں مٹتی جا رہی ہیں۔ دوسری چیزیں، جیسے ذاتی مفادات۔ اب دیکھ لیں، ملکی مفادات، ذاتی مفادات۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی۔ یہ تین چیزیں ہیں جو معاشرے کو `rule` کر رہی ہیں۔ معاشرے کو `rule` کر رہی ہیں۔


ذاتی مفادات اگر غالب ہیں، تو اس کے لیے انسان غدار بھی بن جاتا ہے۔ کیونکہ ملکی مفادات تو نہیں ہوتے نا سامنے۔ لہٰذا غدار بھی بن جاتا ہے، دھوکے باز بھی بن جاتا ہے، ہاں، ہر قسم کا غلط کرنے والا بن جاتا ہے، کیونکہ ذاتی مفادات عزیز ہیں۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں ملکی مفادات ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس کی وجہ سے اللہ پاک کے خلاف، اللہ تعالیٰ کے نظام کے خلاف باتیں بھی سوچنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے ہمیں یہ ملک دیا ہے۔ تو اگر ہم ان کے طریقوں سے اس کو نہیں چلائیں گے تو اس میں کوئی برکت نہیں ہوگی۔ دیا تو اللہ نے ہے نا؟ یا کس نے دیا ہے؟ تو اگر اللہ سے ہم نہیں ملیں گے، اللہ سے نہیں جڑیں گے تو ملک ہمیں کیا وفا دے گا؟ ملک ہمیں کچھ نہیں دے سکے گا اگر اللہ پاک کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں ہوگا۔


تو اس وجہ سے یہ تینوں `stages` ہیں۔ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر غالب کرنا چاہیے۔ اور ملکی مفادات پر اللہ کی محبت کو غالب کرنا چاہیے۔ تو `priority` یہ ہے۔ جیسے جذبات پہ عقل کو غالب کرو، عقل پر شریعت کو غالب کرو۔ ورنہ پھر تو کام ہی نہیں ہوگا۔ تو یہاں پر یہ ہے:


مٹے میری نظر میں جو بھی تھا موجود ثمر صورت

جو بھی میں ثمر، پھل، مفادات چاہتا تھا، وہ سب میری نگاہ سے مٹ رہے ہیں جب اس پہ نظر پڑ رہی ہے۔


تجلی اس کی ہر اک چیز پر حاوی نظر آئے

تجلی اس کی ہر اک چیز پر حاوی نظر آئے

پڑے جس پر بھی جیسے ہی، وہاں پائے اثر صورت

میں دائیں بائیں دیکھوں وہ نظر آئے بہر صورت


اس کی تجلی جس پر بھی پڑ جائے، تو وہاں اس کا اثر بن جاتا ہے۔ جیسے سورج، اگے شعر میں وہ آ رہا ہے۔


جو کرنیں آتی ہیں سورج سے رستے میں نہ روشن ہوں

جو کرنیں آتی ہیں سورج سے رستے میں نہ روشن ہوں

یہ روشن خود کو کرتی ہیں پہنچنے پر ہی بر صورت


یہ جو سورج کی کرنیں آ رہی ہیں، راستے میں کوئی ان کو دیکھ سکتا ہے؟ راستے میں نظر آتی ہیں؟ نہیں آتی۔ `Photons`، اس کے بارے میں ہے `physics` والوں سے پوچھو۔ آپ `photons` کو `observe` نہیں کر سکتے۔ ہاں وہ کسی بھی چیز پہ پڑ جائیں اس سے `reflection` جو ہوتی ہے، وہ چیز آپ کو نظر آ رہی ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود بخود یہ چیز نظر نہیں آئے گی، ہاں کسی چیز کی صورت میں نظر آ جائے گی۔ تو اسی وجہ سے اس کی تجلی براہ راست نظر نہیں آتی، لیکن جس پہ بھی پڑ جائے اس سے وہ چیز صورت پا لیتا ہے۔ وہ چیز نظر آنے لگتی ہے، لہٰذا آپ کو تجلی کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔


حقیقت پر نظر پڑتی ہے جس کی بھی جہاں میں تو

حقیقت پر نظر پڑتی ہے جس کی بھی جہاں میں تو

بس حیرت ہی وہ پاتا ہے، جو ہوتی ہے مفر صورت


جب انسان کی حقیقت پر، جہاں میں، جگہ میں نظر پڑ رہی ہوتی ہے، تو حقیقت حقیقت ہے۔ جیسے جیسے حقیقت ظاہر ہو رہا ہے، وہ چیز غائب ہو رہی ہوتی ہے۔ اب پتہ چلتا ہے بھئی اس سے بھی نہیں ہو رہا، اس سے بھی نہیں ہو رہا، اس سے بھی نہیں ہو رہا۔ پہلے ہم سب سمجھ رہے تھے کہ اس سے بھی ہو رہا ہے، اس سے بھی ہو رہا ہے، اس سے بھی ہو رہا ہے، اس سے بھی ہو رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے حقیقت پہ نظر پڑ رہی ہے، تو پتہ چلتا ہے بھئی اس میں تو یہ کچھ بھی نہیں کر رہا۔ کرنے والی ذات کون ہے؟ صرف وہی ہے۔ تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقت پر اگر کسی کی نظر پڑ جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ حیرت ہی میں مبتلا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ساری کی ساری چیزیں اس کی نظر سے غائب ہو رہی ہوتی ہیں، جس کو اس نے بہت یقینی سمجھا ہوتا ہے۔ ویسے کسی نے `post` بڑا یقینی سمجھا ہوتا ہے، بہت، میں اس `post` تک پہنچ جاؤں تو بس میرا کام بن جائے۔ کسی نے اپنے کاروبار کو اپنا وہ بنایا ہوتا ہے کہ بس اس سے سب کچھ ہوتا ہے۔ حالانکہ جب ادھر سے پکڑ لیتا ہے نا اللہ تعالیٰ، بس ساری چیزیں لٹک جاتی ہیں۔ پتہ چلتا ہے کچھ بھی نہیں کر سکتا اس میں سے۔ سارا گیا۔ نہ `post` کچھ کر سکتا ہے، نہ کاروبار کچھ کر سکتا ہے، نہ دوستی کچھ کر سکتی ہے، نہ کچھ اور کچھ کر سکتا ہے۔ ادمی کچھ بھی نہیں کر سکتا ہوتا۔ مجھے بتائیں اگر انسان انتہائی اہم `post` پر ہو۔ اور `meeting` میں جا رہا ہو اور یکدم اس کے بولنے کی طاقت گویائی ختم ہو جائے۔ وہ کیا کر سکتا ہے؟ ایک ہونے کی طرح سامنے بیٹھا ہوگا۔ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ تو میں نے ایک مثال دی۔ مثالیں بہت ساری ہیں۔ جس سے پھر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، کرنے والی ذات کون ہے؟ اللہ پاک کی ذات ہے۔


وہ اندھا بنتا ہے شبیر صورت سے بظاہر کے

وہ اندھا بنتا ہے شبیر صورت سے بظاہر کے

ادھر وہ اک کو دیکھے جب، تو غائب ہو ادھر صورت38:40


یہ جو... جو شخص... صورت سے، اندھا بن جاتا ہے، صورت اس کو نظر نہیں آتی۔ کیوں؟ جیسے اس کی ایک پر نظر پڑ گئی تو بس وہ دوسری چیزیں اس کی نگاہ سے غائب ہو گئی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے سورج جب چمک رہی ہو تو ستارے نظر نہیں آتے۔ جی؟ کس کے بارے میں؟...

*(Pause)*

نہیں اس کی ضرورت نہیں تھی، اس میں کوئی بات نہیں۔ ٹھیک ہے، صحیح۔ جزاک اللہ، جزاک اللہ۔ اب ٹھیک ہو گیا۔ تو دیکھیں، سورج چمک رہا ہے نا، آپ باہر دیکھیں ستارے نظر آ رہے ہیں؟ تو کیا ستارے ہیں نہیں؟ بس بھئی پورے آسمان اربوں ستاروں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن آپ کو ایک بھی نظر نہیں آ رہا۔ کیونکہ سورج چمک رہا ہے۔ تو اس طرح جس کو اللہ نظر آنا شروع ہو جائے اس کو پھر چیزیں نظر نہیں آتیں۔ ایک حقیقت پر نظر پڑ جائے، باقی ساری چیزیں ختم۔ ان سے نظر ہٹ جاتی ہے۔ اس وجہ سے جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ اور کوئی چیز سوچتے ہی نہیں۔ ان کا نعرہ اللہ اکبر، ان کا نعرہ الحمد للہ، ان کا نعرہ سبحان اللہ، ان کا نعرہ لا الہ الا اللہ، وہ سب کچھ یہی ہوتا ہے اللہ، بس ہر چیز میں اللہ۔ تو یہ کوئی جذباتی سوچ نہیں ہے۔ کہ ہم کہیں بھئی یہ تو جذباتی سوچ ہے، یہ کیا ہے ہر چیز کے اندر بس ایک ہی بات۔ نہیں ان کو نظر آ رہا ہے کہ بھئی اس کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ یہ بجلی ہے نا چلی ہی جاتی ہے نا ساری چیزیں رک جاتی ہیں۔ اور بجلی آ جاتی ہے ساری چیزیں چلنی پڑ، چلنی شروع ہو جاتی ہیں۔ جب اپ اس کو چلانا چاہیں۔ تو اب کیا کریں آپ؟ اس سے تو آپ نہیں نکل سکتے۔ اسی طریقے سے ہر کام اللہ کرتے ہیں۔ ہر کام اللہ کرتے ہیں۔ ہاں، ہر چیز اللہ پاک چلاتے ہیں۔ لہٰذا جس کی اللہ پہ نظر پڑ جائے وہ اللہ کی طرف ہی متوجہ ہوتا ہے۔ وہ اللہ جل شانہٗ ہی سے لینا چاہتا ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے ہمیں سکھایا سورہ فاتحہ میں، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی `statement` ہے۔ اور وہ یہ ہے، اللہ کو راضی کرو۔ اللہ کو راضی کرو۔ ہمارے پاس ہزاروں `statements` نہیں ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی `statement` ہے۔ جہاں بھی جاؤ گے تو آپ کو، اگر کوئی صوفی ملے گا تو یہی کہے گا اللہ کو راضی کرو۔ صحیح صوفی۔ صحیح صوفی جہاں بھی ملے گا تو وہ کیا کہے گا؟ اللہ کو راضی کرو۔ تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ یہاں پر وہ کہتے ہیں:


وہ اندھا بنتا ہے شبیر صورت سے بظاہر کے

ادھر وہ اک کو دیکھے جب، تو غائب ہو ادھر صورت


یہ ایک غزل ہے، عاشقِ مستور ہوا ہوں۔


میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں

تب سے میں ایسا لکھنے پہ مجبور ہوا ہوں

میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں

تب سے میں ایسا لکھنے پہ مجبور ہوا ہوں

جس نے مجھے پیغام محبت کا دیا ہے

جس نے مجھے پیغام محبت کا دیا ہے

دل سے کبھی سے اس کا میں مشکور ہوا ہوں

میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں

تب سے میں ایسا لکھنے پہ مجبور ہوا ہوں

دنیا کی کثافت سے جو لبریز ہے وہ چھوڑ

دنیا کی کثافت سے جو لبریز ہے وہ چھوڑ

میں طالبِ شرابِ، مگر طہور ہوا ہوں

میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں

اب مجھ کو وہی چاہیے، جو چاہیے اس کو

اب مجھ کو وہی چاہیے، جو چاہیے اس کو

میں عشق، میں عشقِ حقیقی سے میں مخمور ہوا ہوں

میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں


میں عشق یعنی شرابِ عشقِ حقیقی، اس سے میں مخمور ہوا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اب میرا تعلق ان دوسری چیزوں کے ساتھ نہیں ہے۔ اب تو میرا کام یہی ہے کہ مجھے وہی چاہیے جو اس کو چاہیے۔ مجھے تو وہی چاہیے جو اس کو چاہیے۔ اسی کو کہتے ہیں رضا بالقضا، جو بہت اونچا مقام ہے۔ انسان جس وقت رضا بالقضا پہ پہنچ جاتا ہے، تفویضِ محض شروع کر لیتا ہے، اس کے ساتھ پھر کچھ بھی مسئلہ نہیں ہوتا۔


حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ، جن کو کچھ لوگ دیوانے کہتے تھے، کچھ لوگ دانا کہتے تھے۔ باتیں بہت دانائی کی کرتے تھے، لیکن دیوانگی کے انداز میں کرتے تھے۔ تو کچھ لوگ ان کو دیوانہ کہتے، کچھ لوگ ان کو دانا کہتے تھے۔ ہارون الرشید کے `contemporary` تھے۔ ایک دفعہ ہارون الرشید جا رہے تھے۔ تو بہلول رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے ہوئے ہیں، بڑے موڈ میں، بڑے خوش باش۔ ہارون الرشید کا ان کے ساتھ بے تکلفی تھی۔ انہوں نے کہا بہلول کیا حال ہے تمہارا؟ کیا گزر رہی ہے؟ اس نے کہا، اس شخص کا کیا پوچھنا جس کی مرضی کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہو؟ اب یہ دعویٰ تو بادشاہ بھی نہیں کر سکتا۔ بادشاہ کر سکتا ہے یہ دعویٰ؟ یہ دعویٰ بادشاہ بھی نہیں کر سکتا، کہ میری مرضی کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے۔ تو وہ بہت ہارون الرشید نے اسے کہا، بہلول یہ خدائی کا دعویٰ کب سے شروع کیا ہے؟ خدائی کا دعویٰ کب سے شروع کیا؟ یہ تو خدا کا مقام ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ میری مرضی کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے۔ کہتا ہے میں نے تو خدا کی مرضی دعویٰ نہیں کیا ہے۔ کہتا ہے ابھی کہہ جو رہے ہو؟ کہتا ہے میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا۔ اب جو اس کی مرضی ہے، میری مرضی۔ اب بتاؤ سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا؟ اب بتاؤ یہ دانائی ہے یا دیوانگی ہے؟ کیا چیز ہے یہ؟ اس نے کہا کہ میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا۔ اب جو اس کی مرضی وہ میری مرضی۔ تو بس یہی بات ہے جو ان لوگوں کو سمجھ آ جاتی ہے۔ تو بس پھر ان کو پریشانی نہیں ہوتی۔ پریشان کتنے لوگ ہیں دنیا میں؟ لیکن ایسے لوگوں کو پریشان نہیں دیکھیں گے۔ یہ کیا پریشان ہوں گے، ان کے ساتھ بیٹھنے والے پریشان نہیں رہتے۔ ان کے پاس جو دوسرے پریشان لوگ آ جاتے ہیں بیٹھ جاتے ہیں ان کی پریشانی ختم ہو جاتی ہے۔ جو خود کیا پریشان ہوں گے؟ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ ہونے میں سکون ہے، اطمینان ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔ آگاہ ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کی یاد دلوں کو اطمینان دے دیتا ہے۔


یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے، قرآن پاک کی آیت ہے۔

وہ حسنِ ازل چھپ گیا اسباب و علل میں

وہ حسنِ ازل چھپ گیا اسباب و علل میں

مرضی ہے اس کی عاشقِ مستور ہوا ہوں

میں عشق کے پیغام پہ، پیغام پہ مامور ہوا ہوں


یہ جو حسنِ ازل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، وہ اسباب و علل، یہ جو ہمیں چیزیں نظر آ رہی ہیں، دو دو چار ہوتے ہیں، اور آگ میں چیز پڑ جائے تو جل جاتی ہے، اور پانی اس پہ ڈال دے تو وہ آگ بجھ جاتی ہے، یہ اسباب ہیں۔ اور علتیں مختلف چیزوں کی۔ اللہ پاک نے ان چیزوں میں اپنے آپ کو چھپا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسباب میں اور علتوں میں اپنے آپ کو چھپا دیا۔ کبھی کبھی دکھا دیتے ہیں کہ ان اسباب کو پھاڑ دیتے ہیں۔ اور اس سے ایسے چیز ظہور میں ا جاتی ہے جو بالکل اسباب کے مطابق نہیں ہوتی۔ مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی ایک خشک چٹان سے باہر آتی ہے۔ اب یہ کیا اسباب ہوں گے؟ اسباب تو نہیں ہیں نا۔ لیکن کبھی کبھی اللہ پاک اس طرح اسباب کو توڑ دیتے ہیں جس کو خرقِ عادت کہتے ہیں۔ لیکن عموماً اسباب سے ہوتا نظر آتا ہے۔ تو اللہ پاک نے گویا کہ اسباب و علتوں میں اپنے آپ کو چھپا لیا۔


تو یہاں شاعر کہتا ہے کہ یہ اس کی مرضی ہے۔ اس پہ میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، میں تو اس چھپے ہوئے خدا پر عاشق ہوں۔ جس نے اپنے آپ کو چھپا لیا ہے، میں اس پر عاشق ہوں۔ تو مجھ سے تو نہیں چھپ سکتے۔ مجھ سے تو نہیں چھپ سکتے۔ لہٰذا میں تو اسی کا ہوں۔


پایا مجھے شبیر اس کے در کا چاہیے

زخموں سے میں دنیا کے بہت چور ہوا ہوں

میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں


یعنی زخموں کا مطلب، علاج پایا رکھا جاتا ہے اس کے اوپر۔ تو مجھے ہر پائے سے شفا نہیں ائے گی۔ مجھے وہ پایا چاہیے جو اس کے در سے میرے پاس ائے۔ یعنی وہاں سے جو چیز حل آئے گا، میں اس حل کی تلاش میں ہوں۔ میں کسی اور کے... دیکھیں ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہوا تھا نا؟ بعض لوگ ان شاعری کو صرف وہ سمجھ لیتے ہیں کہ بھئی کیا ہے صرف جذباتی باتیں ہیں۔ حالانکہ ہر چیز کا ایک `base` ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام جس وقت آگ میں ڈالے گئے۔ سچا واقعہ ہے نا؟ تو فرشتہ آیا۔ اس سے کہا کہ، مجھے حکم دیں، کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ فرشتہ، جلال کا فرشتہ وہ آتا ہے۔ میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ ابھی چاہیں تو اس پر پانی ڈال دوں سارا بجھ جائے۔ ابراہیم علیہ السلام کیا کہتے ہیں؟ کیا تو خود اپنی مرضی سے آیا یا اس نے بھیجا ہے؟ اپنی مرضی سے آیا ہے، یا اس نے بھیجا ہے؟ یہ سوال کوئی اس وقت کر سکتا ہے جو آگ میں ڈالنے جا رہے ہوں؟ وہ اس کا تعلق ہے نا۔ تو خود آیا ہے یا اس نے بھیجا ہے؟ تو فرشتے کہتے ہیں جی میں تو خود آیا ہوں۔ انہوں نے کہا پھر مجھے تیری کوئی خدمت نہیں چاہیے۔ جس کے لیے ہو رہا ہے، وہ دیکھ رہا ہے نا۔ جس کے لیے ہو رہا ہے وہ دیکھ رہا ہے۔ تو بس پھر اللہ پاک کی رحمت کو بھی جوش آ گیا۔ براہِ راست اللہ پاک حکم دے رہا ہے اگ کو: يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ۔ اے آگ ٹھنڈی ہو جا سلامتی کے ساتھ ابراہیم پر۔ کہتے ہیں مفسرین کرام کہتے ہیں اگر یہ نہ کہتے سلامتی کے ساتھ، تو یہ آگ اتنی ٹھنڈی ہو جاتی کہ ابراہیم علیہ السلام اس میں ہی... (مر جاتے)۔ کیونکہ وہ اللہ کا حکم تھا نا براہِ راست۔ آگ کو ٹھنڈی ہو جا، ٹھنڈی ہو جاتا تو `zero temperature` پہ چلا جاتا، `zero` نہیں وہ `minus 273` پر چلا جاتا۔ تو وہ تو... ، تو وہ جو ہے نا وہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے، اللہ پاک نے ساتھ فوراً فرمایا، بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ۔ اس کو کمفرٹ کنڈیشن، `room temperature` جیسا ہوتا ہے، `comfort condition`، ، `comfort temperature`، آج کل 22 `degree centigrade` بتاتے ہیں نا؟ تو جس پہ انسان کو راحت ملتی ہے اس ٹمپریچر پر وہ اگ ٹھنڈی ہو گئی اور گلزار بن گئی۔


اس طرح اصحاب الاخدود کا واقعہ ہے۔ قران پاک میں ایا ہے۔ اس میں جو عیسائی، صحیح عیسائی تھے، جو مسلمان تھے اس وقت، ظاہر ہے اس وقت عیسائیت اسلام تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح ماننے والے، ان کو یہودیوں نے آگ میں ڈالا۔ آگ میں ڈالا۔ تو ایک عورت کے بچے کو پھینکا پہلے، تو عورت رو رہی تھی۔ تو اس بچے نے کہا، اماں فکر نہ کرو، یہ یہاں تو بڑے مزے ہیں۔ تو عورت بھی اس کے پیچھے، تو جو ہے نا وہ جو بچہ نہیں جل رہا، اور اس طرح کہہ رہا ہے، تو بادشاہ نے جس نے گھڑھا ڈلوایا تھا، اس نے کہا، اے آگ تجھے کیا ہو گیا؟ تو اگ نہیں رہی؟ اس نے کہا، تو میرے اندر آ جا تجھے پتہ چل جائے گا میں کیا ہوں۔ میرے اندر تو آ جا، پھر دیکھو کہ میں کیا ہوں۔ تو مطلب یہ ہے کہ دیکھو اللہ پاک کا حکم جن کے لیے جو ہو جائے تو وہی ہو جائے۔


تو بہرحال یہ ہے کہ یہ عشاق کی باتیں، عاشقوں کی باتیں ہیں۔


پایا مجھے شبیر اس کے در کا چاہیے

زخموں سے میں دنیا کے بہت چور ہوا ہوں


تو دنیا کے زخموں کا علاج جو ادھر سے ا رہا ہے نا، وہ ہمیں چاہیے۔ باقی `made in Europe` اور `made in America` اور ہاں، `made in Moscow`، یہ نہیں سوشلزم، کیپیٹلزم پتہ نہیں کیا کیازم، یہ نہیں چاہیے، ہمیں کون سی چیز چاہیے؟ جو اس کے در سے آیا ہوا ہے۔ وہ چیز ہمیں چاہیے۔ پھر فائدہ ہوگا۔ ورنہ نہیں ہوگا۔


یہ موت بھی ایک حسیں تصور ہے۔ ممکن ہے لوگوں کے لیے موت بڑی وحشت ناک چیز ہو۔ لیکن عاشق کے لیے موت حسین تصور ہوتا ہے۔ کیا کہتے ہیں؟


موت بھی اک حسیں تصور ہے دوست کو دوست سے ملائے گا


یہ عربی کا ایک مقولہ ہے۔ الْمَوْتُ جِسْرٌ يُوصِلُ الْحَبِيبَ إِلَى حَبِيبِهِ۔ موت تو ایک پل ہے جو ایک حبیب کو دوسرے حبیب کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ تو یہ ہے:


موت بھی اک حسیں تصور ہے دوست کو دوست سے ملائے گا

دل جب اس کا ہے کتنا خوش ہوگاجس وقت اس کے پاس جائے گا


بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت فوت ہو رہے تھے بڑے خوش۔ کہتے انشاءاللہ، اب آپ ﷺ سے ملاقات ہوگی، صحابہ سے ملاقات ہوگی، یہ۔ بڑے خوش۔


موت بھی اک حسیں تصور ہےدوست کو دوست سے ملائے گا

دل جب اس کا ہے کتنا خوش ہوگاجس وقت اس کے پاس جائے گا

زندگی اک حسیں امانت ہےاپنے محبوب کی، محبت کی

کتنا وہ خوش نصیب ہوگا پھر اس سے جو فائدہ اٹھائے گا


ٹھیک ہے موت عزیز ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ نعوذباللہ من ذالک خودکشی کوئی کر لے۔ وہ تو جب بلائے گا تو لائے گا نا؟ اپنی مرضی سے تو نہیں۔ تو یہ جو زندگی ہے یہ بھی ہمارے پاس امانت ہے۔ اس امانت کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ جس مقصد کے لیے اللہ نے زندگی دی ہے اس مقصد کے لیے اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ ہاں، اس کو استعمال کرتے کرتے جان چلی جائے، تو یہ بڑی بات ہے۔ پھر بات ہے۔ مقصد، یعنی گاڑی چلانا نہ ہو، مقصد گاڑی اس کے لیے چلانا ہو۔ جب تک وہ چلوائے رکھیں بس چلواتے رہو۔ پھر جب کہتے ہیں اب آ جاؤ، بس، پھر ٹھیک، پھر ہاتھ کھڑے کر دو، پھر درمیان میں ایک لفظ بھی نہ کہو۔


بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ جب ان کا آخری وقت آ گیا، تو پتہ نہیں اندر اندر کیا بات ہو گئی تھی، لیکن لوگوں نے جو ان کی بات سنی، زبانی وہ یہ تھی: چل کر آتا ہوں سر کے بل چل کر آتا ہوں۔ اور فوت ہو گئے۔ چل کے اتا ہوں، سر کے بل چل کے اتا ہوں۔ اور فوت ہو گئے۔ ۔ اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ کفن پڑا ہوا تھا، ساتھ ہی بلایا، منگوایا تھا۔ جب آخری وقت آ گیا تو کفن کو آنکھوں سے چوما اور کہا حبیب کا حکم سر آنکھوں پر۔ اور بس فوت ہو گئے۔ مطلب ان کا مطلب اس طرح کا `stage`۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جب بھی وقت ا جائے تو پھر تو حبیب کا حکم سر انکھوں پر۔ یہ ہوتا ہے۔


زندگی اک حسیں امانت ہے اپنے محبوب کی محبت کی

کتنا وہ خوش نصیب ہوگا پھر اس سے جو فائدہ اٹھائے گا

اپنا دل خوب سجا لینا اب تجھ کو دن جتنے ملے ہیں یہاں پر

ذکر سے اس کو خوب روشن کر مالکِ دل یہاں پہ آئے گا


تجھے جتنی مہلت ملی ہے اس میں کیا کرنا ہے؟ اپنا دل خوب سجا لینا۔ ذکر سے اس کو منور کر لینا۔ کیونکہ جو دل کا مالک ہے، جب ادھر ائے گا تو ان چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوگا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوگا۔ تو اس کے لیے کام کرو۔


اپنا دل خوب سجا لینا اب تجھ کو دن جتنے ملے ہیں یہاں پر

ذکر سے اس کو خوب روشن کر مالکِ دل یہاں پہ آئے گا


اپنی آنکھوں کو گند سے موڑو اس طرف جس طرف ہے یار موجود

کچھ تو دیکھو بھی دل کی آنکھوں سے اس کے جلوے جو وہ دکھائے گا


یہ جو نفس کی گندی چیزیں ہیں اس سے اپنی آنکھیں موڑو۔ یہ تمہاری چیزیں نہیں ہیں۔ اس سے اپنی آنکھیں موڑو۔ اس طرف جس طرف اللہ ہے۔ اس طرف موڑو، یعنی اس کی مرضی ہے۔ اور پھر اس کے بعد وہ جو دل کے اندر جو جلوے دکھائے گا نا اس کو دیکھو، پھر تجھے پتہ چلے گا کہ دنیا کیا چیز ہے۔ کیونکہ ان سے حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ جو غیر محرم سے اپنی نظریں اللہ پاک کے ڈر سے موڑے۔ تو اللہ جل شانہٗ اس کو ایک ایسی عبادت نصیب فرمائیں گے جس سے وہ اپنے دل میں ایمان کی حلاوت کو خود پا لیں گے۔ تو پھر اللہ پاک دیں گے۔


اس کے دشمن کی جو آوازیں ہیں اپنے کانوں کو روک لے ان سے

اس کے دشمن کی جو آوازیں ہیں اپنے کانوں کو روک لے ان سے

دل کے کانوں کو اس طرف کر دے جہاں سے وہ بھی کچھ سنائے گا


مطلب یہ ہے کہ دیکھو، یہ کان اللہ کی نعمت ہے۔ یہ تو اپ کو گانے سننے کے لیے نہیں دیے گئے ہیں۔ فواحش باتیں سننے کے لیے نہیں دی گئی ہیں۔ ان چیزوں سے اپنے کانوں کو اس طرف کر دو۔ پھر، پھر کیا کرو؟ پھر ان کی بات سنو جس نے تمہیں یہ کان دیے ہیں۔ پھر وہ جو ہے نا تمہیں کچھ سنائے گا۔


وہ تمہیں دیکھ جو رہے ہیں شبیر تم بھی سمجھو کہ اس کو دیکھتے ہو

دل کو دنیا سے خالی کر دے جو اپنے دل میں پھر اس کو پائے گا


مطلب یہ ہے کہ وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے، یہ تو `certain` ہے مطلب، اس میں تو دوسری بات نہیں ہے۔ تو تم بھی یہ سمجھو کہ میں بھی اس کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس کے بعد دل کو دنیا سے خالی کر دو، تو پھر اپنے دل میں اس کو پا لو گے۔ جب تک دل میں دنیا ہے، وہ دل میں نہیں ائے گا۔


اس کے لیے کیا کرنا ہے؟ اس کے لیے:

اس کا پاک نام دل پہ نقش کر

یہ ہے۔ 58:41


جاتی نہیں ہے میری جو دل کی ہے تشنگی

اس بے قرار دل کو ملے کیسے تسلی

بس ہم کو چاہیے ہے کہ ہم وہ کریں فقط

جو چاہے وہ اور اس میں ہی گزرے یہ زندگی

دنیائے دل آباد کریں ذکر سے اس کے

کر لے ہمارے نام سے وہ یاد ہم کو بھی


یہ بھی قرآن پاک کی ایت ہے، فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ۔ پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ بس جو بھی اللہ کو یاد کرتا ہے، اللہ بھی اس کو یاد رکھتے ہیں۔


اب یہ مشہور فقرہ ہے، فقراء کا فقرہ ہے۔

وہ دل میں تو اتے ہیں سمجھ میں نہیں اتے

وہ دل میں تو اتے ہیں سمجھ میں نہیں اتے

سمجھا کہ ذاتِ بخت کی پہچان ہے یہی


مطلب یہ کہ اس کی پہچان یہی ہے کہ وہ دل میں تو آ جاتے ہیں، لیکن سمجھ میں نہیں اتے۔ ہماری سوچ اس تک پہنچ نہیں سکتی۔ ہاں یہ بات ہے دل اس کو `recognize` کر لیتا ہے، دل اس کو پا لیتا ہے۔


شبیر اس کا پاک نام دل پہ نقش کر

دنیا کی محبت تو ہے بس دل کی گندگی


اب دل پہ نقش کرنے کا `procedure` ہے۔


پھر دل کو اس کے ذکر سے آباد کریں ہم

ہر بار اس سے ملنے کی فریاد کریں ہم


یہ جتنا بھی ہم ذکر کرتے ہیں اس سے ملنے کی فریاد ہے اس کو پانے کی آرزو ہے



جو اس سے ہو منسوب وہ غم، غم کہاں رہے

اس غم سے اپنے دل کو بھی اب شاد کریں ہم


پھر دل کو اس کے ذکر سے آباد کریں ہم


اس کا جو غم ہے وہ بھی غم نہیں رہتا۔ اس میں بھی ایک اطمینان ہے۔ غالباً علامہ اقبال نے بھی کہا ہے:


دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھیں کروبیاں


اب درد کو چاہ رہا ہے۔ وہ درد کیا چیز ہے؟ اور وہ بھی دل کا درد۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس کا جو غم ہے وہ غم نہیں ہے۔


جو قید میں اس کی ہو تو آزاد وہی ہے

جو قید میں اس کی ہو تو آزاد وہی ہے

کروا کے قید خود کو اب آزاد کریں ہم


دیکھو یہ نہیں ہو سکتا، یہ گلاس، جو آپ سمجھتے ہیں خالی ہے، یہ خالی نہیں ہے۔ اس میں کیا ہے؟ اس میں ہوا ہے۔ اپ بھرے ہوئے گلاس کو خالی کر دیں تو خالی نہیں ہوگا اس میں ہوا ا جائے گی۔ آپ نہیں کر سکتے۔ تو اسی طریقے سے اگر آپ اس سے اپنے آپ کو ازاد کرتے ہیں نا، تو آزاد نہیں ہو سکتے، پھر اور چیزوں میں پھنس جائیں گے۔ رسومات میں پھنس جائیں گے، خواہشات میں پھنس جائیں گے، اور چیزوں میں پھنس جائیں گے، ان میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ تو اب بتاؤ ان چیزوں میں گرفتار ہونا اچھا یا ان کے گرفتار ہونا اچھا؟ بھئی یہ تو گرفتار تو کر لیتا ہے لیکن ساتھ ساتھ سکھ بھی دیتا ہے، دل میں اطمینان بھی دیتا ہے۔ جب کہ وہاں خواہشات اس میں تو آگ ہی اگ ہے تو مطلب یہ ہے جو اس کی قید میں قید ہے وہ قید نہیں ہے وہ ویسے قید کی صورت ہے۔ جیسے دجال کے بارے میں ہے، کہ اس کے ساتھ جنت بھی ہوگی اور اس کے ساتھ دوزخ بھی ہوگا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی جنت اصل میں دوزخ ہوگی اور اس کی دوزخ اصل میں جنت۔ کیوں؟ مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو نظر تو جنت آ رہا ہوگا، لیکن وہ اصل میں دوزخ ہوگی۔ تو یہ بات ہے کہ دنیا کی چیزوں کی جو قید ہے، یہ اصل قید ہے۔ یہ رسومات میں جو لوگ پھنسے ہوتے ہیں بیچارے، فریاد بھی کر رہے ہوتے ہیں پھر بھی وہی کر رہے ہوتے ہیں۔ بس ناک اونچی رہے جی بس، یہ ہے وہ ہے۔ اس پہ جو ہے نا وہ مر رہے ہوتے ہیں۔ اور چیخ بھی رہے ہوتے ہیں، پریشان بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بس وہ اس سے چھٹکارا نہیں ملتا، پریشان ہوتے ہیں۔ تو یہ بات ہے:


جو قید میں اس کی ہو تو آزاد وہی ہے

کروا کے خود کو،

کروا کے قید خود کو اب آزاد کریں ہم

چیزوں کی فراوانی نے دل کر دیا ویراں

چیزوں کی فراوانی نے دل کر دیا ویراں

مانوس اس سے اب دلِ برباد کریں ہم


چیزوں کی فراوانی نے، چیزیں جتنی زیادہ ہو رہی ہیں، بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ موبائل کسی وقت، کسی وقت میں نہیں تھا۔ اس وقت لوگ سکون میں تھے یا موبائل کے ساتھ ہیں، بتائیں؟ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں وہ موبائل کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ اس سے کہتے ہیں جی میرے تو، میرے پاس موبائل نہیں ہے۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے بھئی یہ تو... اب تو میں، بس بیڈ پر بھی وہ نہیں ہوں۔ ہر وقت انسان `engage` رہتا ہے۔ تو اس طرح چیزوں کی جو فراوانی ہے، گاڑیاں ہیں، اور یہ کہ جہاز ہیں، اور موبائل ہے، اور `internet` ہے، اور `computer` ہے، اور یہ ساری چیزیں... یہ دلوں کو ویران کر دیا۔ غالباً علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ،

……"احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات"۔

تو یہ جو چیزیں ہیں مطلب جو انسان کے جو ہے، فراوانی ہے، تو خود ہی جمع کرتے رہتے ہیں، اپنے لیے مصیبتیں۔ اپنے لیے خود مصیبتیں جمع کرتے رہتے ہیں۔


آپ ﷺ نے ایک دفعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گوشت دے دیا کہ تقسیم کریں۔ کچھ دیر کے بعد پوچھا کہ تقسیم ہو گیا؟ انہوں نے کہا اتنا تقسیم ہو گیا اتنا باقی ہے۔ فرمایا، جو تقسیم ہو گیا وہ باقی ہے۔ جو تقسیم ہو گیا وہ باقی ہے۔ وہ اللہ کے پاس پہنچ گیا، اب ہمارے `account` میں ہے۔ کیا خیال ہے؟ پیسے آپ کے بینک میں جمع ہو جائیں تو وہ آپ کے محفوظ ہو گئے یا آپ کی جیب میں محفوظ ہیں؟ آج کل کے دور میں۔ ہاں؟ آج کل کے حالات کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں، ورنہ بینک میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لیکن بہرحال آج کل کے حالات سے بات کر رہا ہوں۔ ، جو لوگ تو اس کو یہی سمجھتے ہیں نا کہ بینک میں، بس وہ جلدی جلدی پہنچاتے ہیں جی، کہ بینک میں داخل کر لو تاکہ ورنہ پھر کوئی ڈاکو میرا مہمان ہو سکتا ہے۔ تو یہ چیز ہے۔ تو اس طریقے سے جو اللہ کے پاس پہنچ گیا تو وہ تو بے انتہا محفوظ `line` ہے۔ اب اسے تو کوئی نہیں لے سکتا، تو محفوظ ہو گیا۔ اس طرح ہے۔


چیزوں کی فراوانی نے دل کر دیا ویراں

مانوس اس سے اب دلِ برباد کریں ہم


جو میرا دل برباد ہو گیا اب اللہ سے اس کو مانوس کر رہا ہوں


جو بھول گیا خود کو اس کی یاد میں شبیر

جو بھول گیا خود کو اس کی یاد میں شبیر

اپنے کو بھول جانے کا استاد کریں ہم


مطلب میں بھی اگر یہ چاہوں کہ میں بھی خود کو بھول جاؤں، اللہ کی یاد میں، تو میں کس کے پاس جاؤں گا؟ جس کو یہ کیفیت حاصل ہوگی نا، اس کے پاس جاؤں گا۔


جو بھول گیا خود کو اس کی یاد میں شبیر

اپنے کو بھول جانے کا استاد کریں ہم


اب ہم نے تو بہت کچھ کہا لیکن اب `actually` کیا ہوا؟

`Actually` کیا ہوا؟

کس لیے آیا تھا اور کیا کر لیا

دامن اپنا کس سے میں نے بھر لیا


میں کیا کرنا چاہتا تھا اور ہوا کیا؟

پیٹھ اپنے بوجھ سے تو تھی جھکی

دوسروں کا بوجھ اپنے سر لیا


یہ جو دوسرے لوگوں کو برائی کی دعوت دیتے ہیں، یا برائی میں `involve` کرتے ہیں، یہ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کسی کو فلم کی ٹکٹ خرید کے دے دی۔ چلو، فلم اس نے دیکھی مصیبت میں تم بھی پھنس گئے۔ آپ نے کسی کو ٹی وی لا کے دے دیا، چلو جی، اب جتنا وہ دیکھے گا تو بھی اس کے ساتھ۔ اگر اپ نے کسی کو غلط راستہ دکھا دیا، تو جتنا بھی غلطی کے راستے پہ چلے گا پریشان، وہ جو ہے نا وہ، اپ اس میں شامل۔ تو یہ بات اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بوجھ اپنے سر لینا کتنی بڑی حماقت کی بات ہے۔


پیٹھ اپنے بوجھ سے تو تھی جھکی

دوسروں کا بوجھ اپنے سر لیا

قول تو اپنے بہت اچھے رہے

پر عمل میں اس کا کیا اثر لیا


صرف قول تو اچھا نہیں ہے نا، عمل بھی اچھا ہونا چاہیے۔ قول و فعل دونوں کی بات ہے۔


جو پڑے تھے در پہ جھک کر بچ گئے

سمجھے خود کو کچھ تو اس کو دھر لیا


مطلب جو اس کے سامنے جھک گئے وہ تو بچ گئے، جس نے عاجزی کی، وہ بچ گئے۔ اور جس نے اپنے آپ کو کچھ سمجھا کہ میں بھی کچھ ہوں، بس وہ پھنس گیا۔ اب وہ کیسے اپنے آپ کو چھڑائے؟


تاک میں دشمن ہے بیٹھا مستعد

تاک میں دشمن ہے بیٹھا مستعد

ساتھ میرا ساتھی بھی اندر لیا


کس لیے آیا تھا اور کیا کر لیا۔

مطلب یہ ہے کہ دشمن میرا، یعنی شیطان، وہ میری تاک میں بیٹھا ہے، مستعد ہے۔ کہ مجھے خراب کر دے، میرے دل میں کچھ وسوسے ڈالے۔ لیکن بڑی گڑبڑ یہ ہوئی کہ اس نے میرے ساتھی جو اندر تھا، یعنی نفس، اس کو بھی ساتھ کر لیا۔ اب وہ، اب وہ جو ہے نا، نفس کی خواہش کے مطابق وسوسے `design` کرتا ہے۔ اور میرا نفس چونکہ وہ چیز چاہتا ہے، لہٰذا اس پر عمل کر لیتا ہے، اور بس مصیبت میرے لیے بن جاتی ہے۔ تو نفس اور شیطان کا جو گٹھ جوڑ ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔ انسانیت کے خلاف۔


تیر کھینچے ہیں کمان میں ہر وقت

تیر کھینچے ہیں کمان میں ہر وقت

دل دماغ میرا نشانہ پر لیا


یعنی ہر وقت وساوس کا ایک یلغار ہے جو اس کی طرف سے ا رہا ہے، میرے دل و دماغ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔


ایک دم غفلت کی گنجائش نہیں

ایک دم غفلت کی گنجائش نہیں

کیا نہ ہووے اس کو ہلکا گر لیا


کچھ بھی ہو سکتا ہے، اگر میں نے ہلکا لیا۔ دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، حدیث شریف میں آتا ہے سنت دعا ہے مشہور۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَىٰ نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ یا حی یا قیوم تو اپ جانتے ہیں، تیری رحمت کے واسطے سے تجھ سے مدد مانگتا ہوں۔ میرے ہر حالت کو درست کر دے، اور مجھے میرے نفس کے ایک لمحے کے لیے بھی حوالے نہ فرما۔ ایک لمحے کے لیے، کیونکہ ایک لمحے کے لیے بھی اگر کوئی نفس کے حوالے ہو گیا، پتہ نہیں کیا کر دے؟ کسی کو `shoot` کر دے، اپنے آپ کو مار دے، یا کسی کی عزت لوٹ لے، کوئی اور مسئلہ کر دے، پتہ نہیں میرے لیے کیا مصیبت بنا لے؟ بعد میں بیشک پشیمان ہو جاؤں گا لیکن وہ جو ہو چکا ہوگا، وہ تو ہو چکا ہوگا نا۔ وہ تو مصیبت بن جائے گی۔ دیکھو یہ، یہ جو `driving` جو انسان کر رہا ہوتا ہے، تو بیشک وہ بات چیت بھی کر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے دماغ کا ایک کونہ مسلسل سڑک پر مصروف ہوتا ہے۔ کہ کوئی `accident` نہ ہو۔ اگر وہ کونہ بھی کسی وقت ہٹ جائے، تو پھر کیا ہوگا؟ چاہے وہ ایک سیکنڈ کے لیے ہو۔


ہاں تو کیا؟ ہم ا رہے تھے کراچی سے حیدرآباد، میرے ساتھی تھے، 100 کلومیٹر کی رفتار سے آ رہے تھے۔ تو وہ جو `belt` ہے نا، `belt` وہ باندھ رہا تھا۔ میں نے کہا یار، میں باندھ کے دیتا ہوں، میں `front seat` پہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اب وہ کیسے کہے شیخ میرا `belt` باندھ دیں، بہت ذہن پر یہ چیزیں سوار، کہتا ہے نہیں میں باندھتا ہوں۔ اور جیسے اس نے بیلٹ کی طرف ایسے کیا گاڑی `turn`, `180 degree`۔ اور ساتھ نالا۔ ، اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ 100 کلومیٹر کی رفتار پہ جا رہا ہو، گاڑی 180 پہ `turn` کر لے، اور بالکل 180 پہ ٹرن کر لیتا ہے تو اس کا کیا حال ہوگا؟ تو خدا کے بندے کیا کر رہے ہو؟ یا بیلٹ نہ باندھتے، یا مجھے باندھنے دیتے، یا گاڑی کو کھڑی کر دیتے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو ایسے ہی انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ انسان کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ کچھ بھی لمحے، کسی بھی وقت، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تھوڑا سا غافل بس کام خراب۔ تو ہمارے بزرگوں نے یہ جو `statements` دیے ہوئے ہیں نا اس میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں لیکن ہم سمجھتے نہیں۔ وہ جنہوں نے فرمایا، جس دم غافل اس دم کافر۔ یہ نہیں، مطلب کہ شرعی کافر نہیں، مطلب انکار کرے گا۔ کوئی اپنے لیے مصیبت بنا لے گا۔ جس دم غافل اس دم کافر۔ تو یہ چیز ہے کہ انسان کو غافل نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ سے، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ ہے:


ایک دم غفلت کی گنجائش نہیں

کیا نہ ہووے اس کو ہلکا گر لیا

ہم نے بھی شبیر توبہ کر لی ہے

اس سے بدلہ اس طرح بہتر لیا


مطلب یہ ٹھیک ہے، اللہ پاک نے ہمارے ہاتھ میں توبہ کا ہتھیار دیا ہوا ہے۔ تو اس نے مجھ سے جتنا بھی گڑبڑ کرایا ہے، میں ابھی توبہ کر لیتا ہوں، سب کچھ ختم۔ سب کچھ ختم۔ تو شیطان سے بدلہ لینے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟ توبہ کر لو۔ اور ہر وقت توبہ کر لیا کرو۔ مثال کے طور پر گھنٹے بعد توبہ کر لیا تو گھنٹے کے جو گناہ ہو چکے ہیں، وہ معاف ہو گئے۔ اس کے بعد دو گھنٹے کے بعد پھر توبہ کر لیا تو دو گھنٹے کے گناہ معاف ہوگے اس طرح اگر اپ اخری وقت میں توبہ کر لیں گے، اور جان چلی جائے تو کوئی بھی گناہ نہیں ہوگا اپ کے ساتھ۔ کتنی مزیدار بات ہے۔ ٹھیک ہے، وہ ہمارے خلاف منصوبے بناتا ہے لیکن اللہ پاک نے اس کے خلاف ہمارے ہاتھ میں ایسا کلاشنکوف دیا ہوا ہے کہ وہ اس کے سامنے ٹک نہیں سکتا۔ اگر یہ چیزیں ہمیں معلوم ہوں۔ لیکن اس کو چاند پتہ ہے، وہ کہتے ہیں تمہارے ہاتھ میں جو کلاشنکوف ہے نا، یہ کلاشنکوف نہیں ہے، یہ تو کوئی اور چیز بناتا ہے، یہ تو یہ ہے اس کو ادھر کھڑی کر دو، یہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔ چلو، اپ نے بھی اس کو پھول بنا لیا جی، `decoration piece` بنا لیا۔ ہاں، وہ یہ ہوتا ہے مطلب دیواروں پہ لگے ہوتے ہیں إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اور یہ اور یہ، پھول سارے کے سارے بھر دیے، عمل کسی چیز پر نہیں۔ ہے نا یہ بات؟ تو ہمارے ہاں ساتھ اس طرح کر لیتے ہیں کہ جو ہمارے ہاتھ میں ہتھیار ہے، اس کو بنا لیا `decoration piece`۔ چلو اب مزے ہو گئے۔ پھر کیا کریں گے اس کے ساتھ؟ تو بس اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ ہمیں اس طریقے سے خراب کرتا ہے۔


اچھا مطلوبہ حال کیا ہونا چاہیے؟ کیسا ہمیں ہونا چاہیے؟


نفس طاعت کے لیے تیار ہو

دل بھی تیرا ذکر سے بیدار ہو


روح خوش، نفس مطمئن اور دل سلیم

کیسے پھر نیک کام سے انکار ہو


مطلب یہ کہ یہ چیز اگر ہمیں حاصل ہو جائے، کہ نفس طاعت کے لیے تیار ہو اور دل میرا ذکر سے ماشاءاللہ بیدار ہو، تو پھر کیا ہوگا؟ میری روح بھی خوش ہوگا، نفس بھی مطمئن ہوگا، دل بھی سلیم بن جائے گا، پھر کوئی نیک کام سے مجھے انکار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تو یہ دو کام ہونے چاہیے، نفس کو طاعت کے لیے تیار کرنا چاہیے اور دل کو اس کے لیے بیدار کرنا چاہیے ذکر سے۔ اور غیر مناسب حالت کیا ہے؟


خواہشِ نفس اگر کم ہی نہ ہو

دیکھ کر سب یہ دل کو غم ہی نہ ہو

ایک طرف تو نفس کی خواہش کم نہیں ہو رہی، دوسرے سے کوئی غم بھی نہیں ہے۔


خود پہ ماتم تمہیں کرنا پڑے گا

زندگی ختم، یہ ختم ہی نہ ہو


پھر تو مصیبت ہی مصیبت ہے۔ زندگی ختم ہو جائے گی لیکن یہ ختم نہیں ہوگا۔ اس وجہ سے اس کے لیے کچھ نہ کچھ کام کرنا پڑے گا، اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔


میرے خیال میں آج کے لیے کافی ہے۔ انشاءاللہ۔

تو ابھی انشاءاللہ سلسلہ چل رہا ہے نا؟ ہاں تو یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا انشاءاللہ۔ ابھی 11 بجے ہمارا وہ بیان بھی ہوگا۔ خواتین کے لیے جو ہمارا باقاعدگی سے ہوتا ہے، اسی جوڑ کے سلسلے میں بھی ہوگا انشاءاللہ۔

(دعا اور اختتام)