الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
بزرگو اور دوستو! آج ہم ایک نیا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں، اس کا اعلان پچھلی دفعہ ہوا تھا۔ یہ ہماری کتاب ہے، بلکہ کتابوں کا سلسلہ ہے "پیغامِ محبت"۔ چونکہ پہلے بھی اس کے منتخب حصے مختلف موقعوں پہ سنائے... سنائے گئے ہیں، تو ساتھیوں کی خواہش تھی کہ ایک دن اس کے لیے مقرر کیا جائے، جس میں اس کا درس ہو، جیسا کہ درسِ مثنوی ہمارا ہوتا ہے، تو ایسے اس کا درس شروع کیا جائے۔ اس سے اس کی تشریح بھی ہو جائے گی، پھر چونکہ محفوظ رہے گا ان شاء اللہ، تو اگر کوئی اس کی غلط تشریح کرتا ہے تو اس کے ساتھ تقابل کر کے اس کی صحیح تشریح معلوم کی جا سکے گی۔ تو اس نیت سے کہ یہ ایک حفاظت کا ذریعہ ہے، یہ درس شروع کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ شاعری ایسی چیز ہے کہ یہ کاٹ دونوں طرف کرتی ہے؛ اگر صحیح طرف چلے گئے تو اس کا فائدہ بہت ہوتا ہے، اور غلط طرف چلے گئے تو اس کا نقصان بہت ہوتا ہے، کیونکہ تیز دھار والا آلہ جو بھی ہوگا، تو اس کی کاٹ دونوں طرف زیادہ تیز ہوگی، چاہے وہ حق کے لیے ہے، چاہے باطل کے لیے ہے۔ اس وجہ سے اس کی صحیح تشریح کا سمجھ میں آنا بہت ضروری ہے کہ کہیں خدا نخواستہ بعد میں کوئی اس کو غلط مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔ اس نیت سے یہ شروع کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر۔ اللہ جل شانہ اس سلسلے کو قائم و دائم رکھے اور اس کو سب کے لیے مفید بنا دے۔
یہ جو "پیغامِ محبت" ہے، اور اس سیریز میں ہے کیا؟ تو وہ ابھی میں سنا لوں گا کہ اس میں ایک غزل ہے، اس میں ہے، لیکن اس سے پہلے ایک بہت اہم بات عرض کرنی ہے؛ وہ یہ کہ ایک لفظ "سماع" کا لوگ سنتے ہیں، "قوالی" کا۔ شاعری اور وہ بھی عارفانہ، اور اس کے ساتھ قوالی کا نام یا سماع کا نام نہ آئے، یہ بڑا عجیب لگتا ہے، لوگوں کے ذہنوں میں یہ چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ لہٰذا صحیح قوالی یا صحیح سماع، اور غلط قوالی اور غلط سماع، اس کا فرق جاننا بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ "خانقاہ" کا لفظ ہے، اس کو صحیح جگہ کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، غلط جگہ کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن غلط جگہ کے لیے استعمال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صحیح جگہ استعمال بھی روک دیا جائے، تو صحیح خانقاہ کا پتہ بتانا پڑتا ہے کہ صحیح خانقاہ میں یہ یہ ہوتا ہے اور غلط میں یہ یہ ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح "تصوف" صحیح میں یہ ہوتا ہے اور غلط میں یہ ہوتا ہے، یہ ساری چیزیں عملی ہیں۔
تو اس طرح "سماع" بھی ایک بہت مؤثر چیز ہے، چاہے فائدے کے لیے ہو چاہے نقصان کے لیے، تو صحیح بہت زیادہ مفید ہوگا اور غلط بہت زیادہ نقصان دہ ہوگا۔ تو اس وجہ سے اس کے بارے میں بھی عرض کرنا چاہیں گے۔ سماع کا لفظ پرانا نہیں ہے، یہ... نیا نہیں ہے، یہ پرانا ہے، حتیٰ کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اس پہ بھی کلام فرمایا ہے سماع کے بارے میں، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کے ہاں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ پرانا لفظ ہے، استعمال ہوتا رہا ہے اور خانقاہوں میں یہ ہوا کرتا تھا، کچھ قیود کے ساتھ، پابندیوں کے ساتھ۔
اب دیکھیں، برتن میں آپ پانی رکھتے ہیں تو یہ اس کو قید کر رہا ہے اس پانی کو کہ یہیں رہے۔ اور اگر یہ برتن نہ ہو تو پھیل جائے گا ادھر ادھر، تو یہ تو آپ کے کام نہیں آئے گا، بلکہ چیزوں کو خراب کر سکتا ہے، قالین کو خراب کر لے گا، کسی اور چیز کو خراب کر لے گا۔ تو قید کرنا یہ نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کو فائدے کے لیے قید کیا جاتا ہے، مطلب اس پہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ تو اس کی قیود پہلے سے موجود ہیں، جیسا میں نے عرض کیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، پرانی بات ہے۔ ہاں! تو وہ قید... کرنا یہ کوئی بھی پرانی... نئی بات نہیں ہے، پرانی بات ہوگی۔ لیکن جو صاحب سماع کے بارے میں بہت زیادہ مشہور ہیں، بلکہ لوگ ان کو سماع کا، قوالی کا موجد کہتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، لیکن بہرحال لوگ سمجھتے ہیں، اور وہ ہیں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ، ہمارے سرتاجِ اولیاء، بہت بڑے بزرگ ہیں۔ ہماری بستی نظام الدین جو رائے ونڈ کے قریب ایک وہاں پر وہ ہے مرکز، وہ اسی وجہ سے ہے بستی نظام الدین، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ۔ تو بہت بڑے بزرگ ہمارے گزرے ہیں، ان کے ساتھ یہ چیزیں باندھی گئی ہیں، منسوب کی گئی ہیں کہ انہوں نے یہ چیز شروع کی، بالخصوص ان کا ایک خلیفہ امیر خسروؒ، ان کے ساتھ تو بلکہ یہاں تک کہ یہ ساز بھی ان کی ایجاد ہیں، یہاں تک لوگوں نے کہا ہے۔
اب کمال کی بات ہے کہ ہم ان کی بات مانیں یا ان کی مستند کتابوں میں جو باتیں لکھی ہیں وہ ہم مانیں؟ ظاہر ہے کتاب کا تو ایک استناد ہوتا ہے، سند ہوتی ہے، ایک چیز چلی آرہی ہوتی ہے مستند طریقے سے، اور سنی سنائی بات کی کیا سند ہوگی؟ میں نے آپ سے سنا، آپ نے مجھ سے، آگے بغیر تحقیق کے بات چلتی رہے گی، تو سنی سنائی بات پر تو یقین نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں! جو مستند کتاب میں لکھی گئی ہو، جس کا حوالہ دیا جا سکتا ہو، تو اب حضرت جو ہے نا فرماتے ہیں اپنے ملفوظات میں، یہ "فوائد الفؤاد"، وہ اور اس طرح اور جو حضرت کے ملفوظات ہیں، وہ فرماتے ہیں:
"چندیں چیز می باید تا سماع مباح شود: مستمع و مسمع و مسموع و آلۂ سماع۔ مسمع یعنی گویندہ، مردِ تمام باشد، کودک نباشد و عورت نباشد۔ و مستمع آں کہ می شنود، از یادِ حق خالی نباشد۔ و مسموع آں چہ بگویند، فحش و مسخرگی نباشد۔ و آلۂ سماع مزامیر است، چو چنگ و رباب و مثلِ آں می باید در میان نباشد۔ ایں چنیں سماع حلال است۔"
فرماتے ہیں یعنی چند چیزیں پائی جائیں تو سماع حلال ہوگا:
۱۔ سنانے والے وہ تمام مردِ بالغ ہوں، بچے اور عورت نہ ہوں۔
۲۔ سننے والے اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی نہ ہوں، یعنی یہ کوئی مزے کے لیے نہ سن رہے ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے لیے سن رہے ہوں۔
۳۔ کلام فحش اور مذاق سے خالی ہو۔
۴۔ اور آلۂ سماع سارنگی اور طبلہ وغیرہ نہ ہو، تو پھر ایسا سماع حلال ہوگا۔
تو اب دیکھ لیں یہ جو چار شرطیں بتائی گئی ہیں، ان چار شرطوں پہ آج کل کی قوالی کیا پوری اترتی ہے؟ سوائے ایک شرط کے کہ کلام کسی عارف کا لے لیں گے، کسی بزرگ کا، بلھے شاہؒ کا یا کسی سلطان باہوؒ کا یا کسی اور بزرگ کا کلام لے لیں گے اور یہ بہت بڑی بات ہوگی بس، اس سے زیادہ نہیں۔ اس کے علاوہ ساری شرطیں نہیں پائی جائیں گی۔ مطلب بچے بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں، عورتیں بھی پڑھ رہی ہوتی ہیں، سننے میں عورتیں... سننے والے بھی عورتیں ہوتی ہیں، مرد بھی ہوتے ہیں، بچے بھی ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ مزامیر (Musical Instruments) بھی ساتھ ہوتے ہیں، ہارمونیم اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں، طبلہ، یہ سب چیزیں ہوتی ہیں۔ تو یہ جو قوالی جس کو عام عرفِ عام میں قوالی کہا جاتا ہے، یہ شرعی سماع نہیں ہے، یہ غلط ہے، اس کی اجازت نہیں ہے، یہ حلال نہیں ہے، یہ حرام ہے۔ یہ لکھا ہے "سیر الاولیاء" میں، بابِ نہم، مرکزِ تحقیقاتِ فارسی ایران و پاکستان، اسلام آباد، صفحہ نمبر ۵۰۱ اور ۵۰۲ پر لکھا ہوا ہے۔
حضرت محبوبِ الہٰیؒ کے ملفوظاتِ کریمہ "فوائد الفؤاد" جو کہ حضرت کے مریدِ رشید امیر حسن علاء سنجریؒ کے جمع کیے ہوئے ہیں، ان میں بھی حضور کا صاف ارشاد مذکور ہے کہ "مزامیر حرام است" کہ مزامیر کا استعمال حرام ہے۔ حضرت کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادیؒ نے حضرت کے زمانے میں ہی حضرت کے حکم سے سماع کے بارے میں ایک رسالہ عربیہ مسمیٰ بہ "کشف القناع عن اصول السماع" تالیف فرمایا۔ اس میں ہے: "اَمَّا سَمَاعُ مَشَائِخِنَا رَحِمَهُمُ اللّٰهُ فَبَرِئٌ عَنْ هٰذِهِ التُّهْمَةِ وَمُجَرَّدُ صَوْتِ الْقَوَّالِ مَعَ اَشْعَارٍ مُشْعِرَةٍ مِنْ كَمَالِ صَنْعَةِ اللّٰهِ تَعَالٰی"۔ ہمارے مشائخ کرامؒ کا سماع اس مزامیر کے بہتان سے پاک ہے۔ وہ تو صرف قوال کی آوازیں ان اشعار کے ساتھ جو کمالِ صنعتِ الہٰی کی خبر دیتے ہوں۔ تو یہاں پر بھی حضرت کے حکم سے رسالہ تصنیف کیا گیا ہے۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ حضرات سچے ہیں یا وہ جو اپنے ہوائے نفس کی حمایت کی خاطر بزرگوں پر مزامیر کی تہمت باندھتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق و ہدایت بخشے۔ آمین۔
ہمارے پاس ہی یہاں پر گولڑہ شریف ہے، جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، قادری اور چشتی بزرگ گزرے ہیں، صحیح اللہ والے تھے۔ ان کی محفل میں بھی قوالی ہوتی تھی ان شرائط کے ساتھ جو شرائط بتائی گئیں۔ ایک دفعہ ایک قوال نے اپنے ہاتھ کو کچھ حرکت دی جس کو حضرت نے دیکھ لیا، اس پر حضرتؒ بہت ناراض ہوئے اور اپنی محفل میں اس پر پابندی لگا دی۔ بہت منت سماجت کی لیکن حضرتؒ نے معاف نہیں فرمایا اور فرمایا: تو نے محفل میں ڈوموں کی طرح کیوں حرکت کی؟ یہ بہت موٹی سی کتاب ہے ہمارے پاس پڑی ہوئی پشتو زبان میں، ۱۱۴ اولیاء اللہ کے بارے میں اس میں یہ واقعہ موجود ہے۔ اور کمال کی بات ہے کہ جو اس محفل میں ایک صاحب موجود تھے، ان سے براہِ راست سننے والے ایک صاحب نے مجھے یہ بات سنائی ہے۔ یعنی ان کے ماموں تھے، تو وہ اس محفل میں موجود تھے تو انہوں نے مجھے سنایا، اور یہ کتاب میں بھی موجود ہے، دونوں طریقوں سے تصدیق ہو گئی۔ تو حضرت پیر صاحبؒ نے بھی سماع کی صحیح مطلب شناخت کی اور وہی کیا، اور جو غلط چیزیں تھیں ان سے پرہیز اس حد تک کیا کہ اس شخص پر پابندی لگا دی جو پرہیز نہ کر سکا۔
تو یہ حضرات اس مسئلے میں کافی مطلب جس کو کہتے ہیں نا سخت واقع ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہم لوگ بھی ان کی اتباع میں، ظاہر ہے اس چیز کو چھوڑ تو نہیں سکتے کیونکہ بہت مؤثر ہتھیار ہے۔ لیکن اس کے نقصان کو ختم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ چیزیں بتا دی جائیں۔ تو یہاں پر ہم نے صاف لکھا ہے کہ جو حضرات بھی اس کو ان تمام شرائط کے ساتھ نہیں استعمال کریں گے... مطلب پڑھیں گے، تو ان کے خلاف ہم قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ ہم نے صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ کوئی بھی اس کا مجاز نہیں ہوگا کہ اس کو اپنے طرز پر، اپنے مطلب کے لیے، غلط طریقے سے کوئی پڑھے اور اس کو قوالی کی زینت بنائے، آج کل کی مروجہ قوالی کی کوئی زینت بنا لے، اس میں ہم حصہ دار نہیں بن سکتے۔ اس وجہ سے یہ بات صاف لکھی گئی ہے۔
اب یہ "پیغامِ محبت" ہے کیا؟ تو اس سیریز میں کتابیں ہیں کچھ، اس وجہ سے آج اس کے بارے میں عرض کرنا ضروری ہے۔ پیغامِ محبت کیا ہے؟ مطلب یہ جو ہماری سیریز ہے کتابوں کی، وہ کیا چیز ہے؟ پہلی کتاب اس کی ہے "شاہراہِ محبت"، وہ چھپ گئی ہے الحمد للہ۔ وہ حج سے متعلق ہے، کیونکہ حج جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کا بہت بڑا شرعی طریقہ ہے۔ تو لہٰذا ہم نے الحمد للہ ابتدا اس سے کی ہے، اور اللہ کا شکر ہے کہ بڑی مقبول بھی ہو گئی اور ساتھ یہ ہے کہ الحمد للہ حج سے متعلق ضروری باتیں اس میں آگئی ہیں، اور وہاں جو مختلف کیفیات تھیں وہ کیفیات اس میں قلمبند کی گئی ہیں۔ تو شروع اس سے ہوا ہے:
یہ شاہراہِ محبت کی نہیں ہے راستہ یہ عام
اور اس کے بعد آئے گا محبت کا بھی ایک پیغام
پہنچائے ہمارا دل جو اہلِ دل ہیں ان کے ہاں
یہ دل والوں کا اک پیغام ان سارے دلوں کے نام
ہاں! یہ ایک پیغام دل والوں کا دل والوں تک پہنچانا ہے، اور شاعری بڑا مؤثر ذریعہ ہے پیغام رسانی کا۔
پھر اس کے بعد فکرِ آگاہی کا بھی ارادہ ہے
مسلمانوں کا ہو اس دور میں کیا فکر اور کیا کام
دیکھیں دل کی اصلاح، ذہن اور فکر کی اصلاح اور نفس کی اصلاح، یہ تین اصلاحیں ہیں۔ ان تین اصلاحوں کے ساتھ شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ تو لہٰذا ذہن کا بھی تو خیال رکھنا پڑے گا، فکر کو بھی صحیح بنانا پڑے گا۔
پھر اس کے بعد فکرِ آگاہی کا بھی ارادہ ہے
مسلمانوں کا ہو اس دور میں کیا فکر اور کیا کام
پھر اس کے بعد ایک چھوٹی کتاب "شجرہ رباعی" کی
نظر آئے گی منظر پر پڑھیں گے اس کو خاص و عام
یہ کیا چیز ہے؟ ہمارے سلسلے کے اولیاء کی نسبتوں کی بات، ہاں جن حضرات کے ذریعے سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے نعمت نصیب فرمائی ہے، ان کے لیے ایک ایک رباعی ہوگی۔
ہمارے سلسلے کے اولیاء کی نسبتوں کی بات
رباعی ایک شبیر ہوگی کہو اک عشق کا اک جام
مطلب یہ کہ ہر ایک کے لیے ایک رباعی ہوگی، جتنے بھی ہمارے سلسلے کے اکابر ہیں، ان کی ایک ایک رباعی۔ ایک تو شجرہ ہمارا ہوتا ہے نا، ایک ایک نام آتا ہے، لیکن یہاں نام کے ساتھ پوری رباعی ہوگی۔ اس لحاظ سے یہ بہت اہم کتاب ہے چھوٹی سی، تو یہ بھی آئے گی ان شاء اللہ العزیز۔ تو یہ سیریز اس طریقے سے مکمل ہوگی، ان شاء اللہ۔ باقی جیسا کہ طریقہ ہے ہر دینی کام کا کہ شروع اللہ کے نام سے ہوتا ہے، یہی مطلب ہمارا اصل الاصول ہے۔
میری انتہائے نگارش یہی ہے
ترے نام سے ابتدا کر رہا ہوں
تو اللہ کے نام سے ظاہر ہے ہماری ہر چیز کی ابتدا ہوتی ہے، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ جیسا ہے۔ اس وجہ سے اس کتاب کی بھی ابتدا حمدِ باری تعالیٰ سے کی جا رہی ہے۔
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
تیری ہستی کے سامنے ہیچ ہیں سب
سب پہ لازم ہے بندگی تیری
تجھ پہ ایماں ہو، تجھ سے ڈرنا ہو
کتنی آسان ہے دوستی تیری
کیا بات ہے! یہ قرآن پاک سے ثابت ہے۔ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ، الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔ (سورۃ یونس: ۶۲-۶۳) ایمان والے اور تقویٰ والے، یہ دونوں جب ایک مطلب اس میں آجائیں شخصیت میں، تو ولی اللہ بن جاتا ہے، اللہ پاک اس کو ولی کہتا ہے، ولی اللہ۔ تو اس وجہ سے دو کام کرنے ہیں بس، ایمان ہو اور اللہ سے ڈرنا ہو۔ بس یہ چیز ولایت کے لیے لازم ہے۔
تجھ پہ ایماں ہو، تجھ سے ڈرنا ہو
کتنی آسان ہے دوستی تیری
میں کیا ہوں، کیا میرا ہوگا
چیزیں میری جو ہیں وہ بھی تیریجو میرا ہے وہ بھی تو تیرا ہے میں اپنے ساتھ کیا رکھتا ہوں؟
میں کیا ہوں، کیا میرا ہوگا
چیزیں میری جو ہیں وہ بھی تیری
جو بھی مر مٹ کے تیرا بن جائے
نگہباں اس کی خدائی تیری
پوری خدائی ساتھ ہو جاتی ہے۔
جو بھی مر مٹ کے تیرا بن جائے
نگہباں اس کی خدائی تیری
ہر کسی کو خوشی اپنی محبوب
مجھ کو محبوب ہے خوشی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
جو نہ پایا تجھے تو کیا پایا
آئن اسٹائن ہو، نیوٹن ہو، فلاں ہو، ساری چیزیں دنیا میں ختم۔ بڑے بڑے بادشاہ دنیا سے گزر گئے، کیا ہوا؟ کوئی مسئلہ نہیں۔
جو نہ پایا تجھے تو کیا پایا
کتنی پرلطف آگہی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
آنکھ اندھی ہے اس کی جس نے بھی
خود کو دیکھا، شان نہ دیکھی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
جس کو اپنا آپ نظر آ رہا ہے کہ میں کچھ ہوں، اس کو خدا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو خدا نظر نہیں آ رہا۔ اگر اس کو خدا نظر آ رہے ہوتے تو اپنا آپ نظر نہ آ رہا ہوتا۔ تو جس میں تکبر ہے وہ اللہ سے دور ہے۔ اس وجہ سے بہت زبردست ٹیسٹ ہے۔ جس کو بھی خود اپنا آپ نظر آئے تو اس کا مطلب ہے اس کو خدا نظر نہیں آ رہا۔
آنکھیں اندھی ہیں اس کی جس نے بھی
خود کو دیکھا، شان نہ دیکھی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
کان دونوں ہی اس کے بہرے ہیں
بات سن کر بھی نہ سنی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ۔ (سورۃ البقرۃ: ۷) دل کی آنکھ اگر کسی کی بند ہو جائے، کان بند ہو جائے، آنکھیں بند، کچھ بھی نہیں ہوگا پھر۔ سب کچھ ہوگا لیکن کچھ بھی نہیں ہوگا۔ قرآن بھی ان کو ہدایت نہیں دے گا۔ مقصد یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں ان چیزوں کی اصلاح کرنی ہے۔
دل اس کا دل نہیں ہے پتھر ہے
جس نے بھی بات نہ سمجھی تیری
لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا۔ (سورۃ الاعراف: ۱۷۹) دل اس کا دل نہیں ہے پتھر ہے جس نے بھی بات نہ سمجھی تیری۔ قُلُوْبُهُمْ كَالْحِجَارَةِ۔ (سورۃ البقرۃ: ۷۴) مطلب ان کے دل پتھروں کی طرح ہیں۔ اور اللہ پاک فرماتے ہیں بلکہ بعض پتھروں سے تو چشمے نکلتے ہیں، مقصد ہے کہ بعض پتھر بھی پھٹ جاتے ہیں اللہ کے خوف سے، لیکن یہ دل بہت زیادہ وہ کچھ ٹس سے مس نہیں ہوتے، تو یہ پتھروں سے زیادہ بھی سخت دل ہو جاتے ہیں۔
دل اس کا دل نہیں ہے پتھر ہے
جس نے بھی بات نہ سمجھی تیری
اس کی تعریف پہ مائل شبیر
زہے قسمت ہے شاعری تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور یہ کیسے حاصل ہوگی معرفت؟ تو معرفت کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ آپ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے ساتھ جس کا تعلق نہیں ہوگا وہ اللہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ آپ ﷺ اولین اور آخرین واسطہ ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے۔ لہٰذا جس نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تعلق نہیں جوڑا وہ اللہ کے ساتھ تعلق نہیں جوڑ سکتا... جوڑ سکتا۔ اس وجہ سے اللہ کے بعد ذکر کن کا آتا ہے؟ آپ ﷺ کا آتا ہے۔ وہ ہے نا وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔ (سورۃ الم نشرح: ۴) قرآن پاک کی آیت۔ تو اس کی تشریح میں فرمایا کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ لہٰذا آپ ﷺ کا ذکر ایسے موقع پہ ضروری تھا۔ تو یہ آپ ﷺ کے ذکر اور تعریف کو نعت شریف کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کا مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کو نعت کا نام آتے ہی ان کے ماتھے پہ بل پڑ جاتے ہیں۔ یہ بدبختی کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ ایسی بدبختی سے ہر ایک کو بچائے۔ نعت کا لفظ آتے ہی چہرے... پر جو ہے نا وہ کچھ رنگ آجاتا ہے، ماتھے پہ بل آجاتے ہیں۔ یہ بدبختی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بدبختی سے بچائے۔ اس وجہ سے اس کتاب کو چونکہ ہم نے بنیاد بنایا ہے ان concepts کو درست کرنے کے لیے، تو یہ چیزیں بھی ضرور مطلب اس میں سمجھانی چاہیے تھیں کہ آپ ﷺ کی محبت کے بغیر اللہ کی محبت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس وجہ سے فرمایا آپ ﷺ نے: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک مجھے اپنے والدین سے اور اپنی اولاد سے بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھو۔ اور ایک موقع پہ حضرت عمرؓ سے فرمایا: جب تک مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھو گے۔ آپ ﷺ اپنے لیے تو یہ نہیں کہہ رہے تھے، ہمارے لیے کہہ رہے تھے، کیونکہ آپ ﷺ تو خود محمود ہیں۔ ہاں محمود کا مطلب ہے کہ خود ہی تعریف کیا گیا، مطلب ان کی تعریف تو ہو گئی، اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعریف ان کی کون کرے گا؟ اللہ نے ان کی تعریف کر لی، ان کے لیے کسی اور تعریف کی ضرورت ہی نہیں، لیکن جو نہیں کرتا تعریف وہ بیچارہ ختم ہو جاتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ نے اپنی تعریف اگر کی ہے تو آپ ﷺ کی بھی تعریف کی ہے۔ اور ہر موقع پہ ما شاء اللہ فرشتے بھی آپ ﷺ کی تعریف، نیک لوگ بھی آپ کی تعریف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی آپ کی تعریف۔ وہ حضرت مولانا جامیؒ کا ایک شعر ہے، بڑا پیارا شعر، فرمایا کہ:
نہ تنہا ہست جامی نعت خوانے
خُدائے ما ثنا خوانِ محمد ﷺ
---------------------------------------------------------------------------------
دیکھ جامی تنہا آپ ﷺ کا نعت گو نہیں ہے، بلکہ اللہ پاک خود بھی، ہمارے اللہ بھی تو آپ ﷺ کی حمد بیان فرما رہا ہے، آپ ﷺ کی نعت بیان فرما رہا ہے۔ اللہ اکبر!
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں
وہ ہیں محبوب رب کریم مصطفے ٰ
وہ کہ مظہر ہدایت کے ہیں مجتبے ٰ
تو مری اب زباں پہ ہو صلِّ علی ٰ
اب درود و سلام میں ہمیشہ پڑھوں ، دل سے میں ہر جگہ صرف یہاں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
ہیں سراپا وہ رحمت ہمارے لئے
ان کا رستہ ہدایت ہمارے لئے
منبعِ فیض و حکمت ہمارے لئے
جو کبھی بھی جدا ہوگیا ان سے تو اس کے بچنے کا کوئی مکاں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل
یہ بڑی عجیب بات ہے، بڑی عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک بزرگ نے یہ بات فرمائی، روزِ اقدس سے تارے آ رہے ہیں ہر ایک دل کی طرف، جس کی وجہ سے لوگ ایمان پر ہیں، جو مومن ہے ایمان پر ہے۔ اور جس وجہ سے بھی یہ تار کٹ جائے، بس وہ کافر ہو جاتا ہے، وہ ایمان مومن نہیں رہتا۔ اور چونکہ صاحبِ معرفت تھے، فرمایا اگر کوئی چاہے تو کاٹ دوں؟ اگر کوئی چاہے تو کاٹ دوں؟ مطلب یعنی کوئی اگر یقین نہیں کرتا، تو ابھی پتہ چل جائے گا۔ تو یہ بات ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ قلوب کا تعلق درود شریف کے ذریعے سے اور آپ ﷺ کی تعریف کے ذریعے سے اور آپ ﷺ کی سنتوں کی اتباع کے ذریعے سے یہ جڑا ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اگر درمیان میں کسی کا بھی اگر ٹوٹ جائے تو معاملہ گیا۔ اس وجہ سے معاملہ بہت نازک ہے۔ آپ ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی سے ایمان چلا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی سے بھی ایمان چلا جاتا ہے۔ اس وجہ سے آپ نے دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے معافی کا اعلان کر دیا تھا قریش کے لیے، بالکل، لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ۔ (سورۃ یوسف: ۹۲) لیکن ان لوگوں کو معاف نہیں فرمایا جنہوں نے آپ ﷺ کی ہجو پڑھی تھی، آپ ﷺ کے بارے میں بدزبانی جو کرتے تھے ان کو معاف نہیں فرمایا۔ یہاں تک فرمایا کہ وہ کعبے کے اس کے ساتھ اگر چمٹے ہوئے بھی نظر آ جائیں پھر بھی ان کو مارا جائے گا۔ کعب جو یہودی تھا، ان کو مروانے کے لیے، مارنے کے لیے آپ ﷺ نے خود جماعت تشکیل کی۔ کیونکہ اس نے گستاخی کی تھی۔ اس وجہ سے آپ ﷺ کا گستاخ قابلِ معافی نہیں ہے، اس کو ہم معاف نہیں کر سکتے، ہمارے بس میں ہی نہیں، ہمارے رینج میں نہیں۔ ہم کر ہی نہیں سکتے۔ تو یہ بات بہت ضروری ہے سمجھنا۔
اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل
ان کی تعلیم دیں پر اثر کے طفیل
ہے بشر زندہ خیر البشر کے طفیل
نام لیوا اگر نہ رہے ان کا تو پھر خدا کی قسم یہ جہاں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
پڑھ کے سیرت میں ان کی ہی ، انساں بنوں
ان کے پیچھے رہوں مرد میداں بنوں
ان کو میں چھوڑ کر کیسے حیراں بنوں
گر محبت نہ حاصل ہو ان کی شبیر ؔتو کہوں یو ں کہ پھر تو ایماں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اب دیکھیں الحمد للہ اس کے لیے سب چیزوں کا یہاں بیان کیا گیا، قرآن اور حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ یہ ہے نا لَا یُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ، اس کے مطابق ہے یہ شعر نہ؟ کہ جس دل میں محبت نہ ہو آپ ﷺ کی، اس میں ایمان نہیں ہے۔ اس طریقے سے ہر چیز الحمد للہ۔ تو ہمیں جو ہے نا یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ تو اب الحمد للہ ہم اس پیغام کی طرف آ رہے ہیں اللہ کے نام کے ساتھ اور آپ ﷺ پر درود کے ساتھ، ان شاء اللہ۔
اب جو پیغامِ محبت ہے، عمل میں آئے
کوئی احکامِ محبت، ہمیں بھی سمجھائے
کیسے محبوب کرے بات عمل اس پہ نہ ہو
کیسے ہو یہ اور محبت یہ کیسے کہلائے
جو ہے محبوب کا محبوب ہے ہمارا محبوب
کیسے انکار ہم سے ہو سکے جو فرمائے
جو ہیں محبوب کے محبوب طریقے ان کو
جب ہو موجود کوئی کیسے ان کو ٹھکرائے
بات کریں صاف، عمل چاہیے شبیرؔ بات پر
عشق ترا نعروں میں، تحلیل نہ ہونے پائے
صرف نعروں سے کام نہیں ہوتا۔ کام سے کام ہوتا ہے۔ لہٰذا جو محبت اللہ کی اور اللہ کے رسول کی ہے، وہ نعروں کی نذر نہ ہو۔ بلکہ کام آجائے اس میں۔ ہم لوگ سراپا اللہ تعالیٰ کے لیے کام کریں اور آپ ﷺ کے طریقے پہ کر لیں۔ اللہ کی محبت کے ساتھ، اللہ کے رسول کی محبت کے ساتھ۔ یہ ہمارا ہےبنیاد۔ اللہ کی محبت، اللہ کے رسول کی محبت، اللہ کے لیے کام کرنے اور رسول کے طریقے پہ کام کرنے کے لیے جان ہے۔ تو اس جان کو اگر ہٹا دو گے تو کچھ بھی نہیں رہے گا۔ یہ جو محبت ہے اللہ کی اور اللہ کے رسول کی، یہ جان ہے ان تمام چیزوں کی۔ تو بعض لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ دوسرا حصہ تو کرتے ہیں، یہ پہلا حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ان کے اعمال بے جان ہو جاتے ہیں۔ ان کے اعمال بے جان ہو جاتے ہیں۔ یہ جو پیغامِ محبت، اس کا بنیادی جو Text ہے، وہ یہی ہے کہ جو اعمال کے اندر جان لانے والی چیز ہے، اس کی طرف بھی توجہ کی جائے جس سے آج کل غفلت ہے۔ تو اس غفلت کو دور کرنا، کہ ہم لوگ کریں تو کام اللہ کے لیے اور کریں حضور ﷺ کے طریقے پر، تو یہ دین ہے۔ لیکن اس میں جان تب آئے گی جب اللہ کی محبت ہوگی اور اللہ کے رسول کی محبت ہوگی۔
اللہ کی محبت کا تو اللہ نے خود فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾۔ "جو مومن ہیں، ان کو اللہ کی شدید محبت حاصل ہوتی ہے"۔ مقصد یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ شدید محبت لازمی ہے۔ ایمان کے ساتھ شدید محبت لازمی ہے۔ لہٰذا یہ شدید محبت حاصل کرنی پڑے گی۔ شدید محبت ہی کو "عشق" کہتے ہیں نا! یا کوئی اور چیز کہتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں قرآن میں عشق کا لفظ نہیں ہے، عشق عشق کی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ خدا کے بندو! شدید محبت کو کیا کہیں گے آپ؟ اس سے زیادہ بڑا لفظ کون لائے آپ کے لیے؟ ﴿أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾، اور کیا چیز ہوتی ہے؟ تو کیا خواہ مخواہ عشق کا لفظ ہی لانا تھا؟ یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے کہ کوئی کہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ بادلوں کے اند ر ہمیں نظر نہ آئے جیسے پہلے کہتے تھے۔ اس تک ہم نہیں مانیں گے۔اپنی مرضی کا لفظ بھی چاہتے ہو؟ اللہ کی مانتے ہو یا اپنی بات مانتے ہو؟ تو اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا:شدید محبت، تو شدید محبت اور کس کو کہتے ہیں؟ شدید محبت ہی عشق کو کہتے ہیں۔ جو عشق کا لفظ ہے وہ شدید محبت کے لیے ہے۔
تو یہ ہو گیا۔ اب یہ محبت کی دنیا میں اگر کوئی داخل ہو جائے، تو اس میں ہوتا کیا ہے؟ محبت کی دنیا، یہ بہت بڑی، یہ ایک کلام ہے جو ہم جا رہے تھے لاہور۔ اور پشتو میں لکھ رہا تھا۔ اس وقت باری پشتو کی تھی۔ اور وہ میں لکھ رہا تھا اور اچانک یہ غزل ایسی بلڈوز ہو کے آ گئی۔ کہ اس نے پشتو کو روک کے یہ لکھوایا۔ اور پھر میں نے اسی وقت بھی سنایا۔ تو یہ وہ بلڈوزنگ غزل ہے۔ جو محبت کی دنیا کے نام سے ہے۔
محبت کی دنیا
محبت کی دنیا، ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو تنگی نظر کی ہے، اس میں نہیں ہے
محبت والوں کو تنگ نظر نہیں دیکھو گے
جو تنگی نظر کی ہے، اس میں نہیں ہے
وفا عفو کی نہر ہے اس میں جاری
محبت کی دنیا، ہے دنیا نرالی
کوئی وسعتیں جانے دل کی ہیں کتنی
کہ انگشت بدنداں ہے یہ عقل ساری
محبت کی دنیا، ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
یہ محبت کی دنیا صحابہ کی پوری زندگی پر چھائی ہوئی ہے۔ ان کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں؟ نہیں آتیں۔ کیوں؟ ظاہر ہے عقل انگشت بدنداں ہو جاتا ہے۔ آدمی کہتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اس طریقے سے آپ اولیاء اللہ کو دیکھیں گے۔ ان کی زندگی کو دیکھیں گے، کیسے وہ کر لیا؟ شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، بادشاہ اس کا مرید ہے اور گھر میں فاقے ہے بادشاہ اس کا مرید ہے۔ ذاتی طور پہ۔ اور پورے خاندان کے ساتھ۔ لیکن اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ اب بتاؤ کیسے چھپایا؟ یہ سمجھ میں آتا ہے؟ یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ چونکہ یہاں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ عقل ساری حیران ہو جاتی ہے کہ یہ کیا بات ہے؟ آج کل تھوڑا سا تعلق کسی افسر کے ساتھ ہو جائے تو اپنا بس، ہر چیز پھر، Cash کرتے ہیں کہ نہیں کرتے؟ اپنا ہر تعلق کو ہر ایک Cash کرتا ہے۔ اب وہاں پر بادشاہ بالکل مٹھی میں ہے، لیکن نہیں! خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے بادشاہ خود درخواست کرتے ہیں، میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کے گھر حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ یہ نہیں کہا کہ آپ میرے دربار میں آ جائیں۔ نہیں، میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا، میرے گھر کے دو دروازے ہیں۔ ایک دروازے سے آپ داخل ہوں گے، دوسرے دروازے سے میں نکل جاؤں گا۔ مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حرم شریف میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کسی نے کہا ضیاء الحق صاحب آپ کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ ضیاء الحق صاحب آ گئے، ادھر اس دن وہ حضرت تھے ہی نہیں۔ نہیں تھے، بیٹھے ہوئے۔ یہ معاملہ الگ ہے۔ یہ عقل میں نہیں آتا۔ عقل تو کہے نہیں جی، آپ مل لیں، یہ فائدہ ہوگا، یہ فائدہ ہوگا، یہ فائدہ ہوگا، وہ ساری باتیں اپنی جگہ۔ لیکن ان کی بات ادھر اوپر ہوتی ہے۔ جب ادھر سے Approval ہوتی ہے، تو پھر کرتے ہیں۔ وہ اپنے عقل سے کام نہیں کرتے۔
کوئی وسعتیں جانے دل کی ہیں کتنی
کہ انگشت بدنداں ہے یہ عقل ساری
یہاں ہے جلن نفس کی خواہشوں کی1
محبت کے بغیر۔۔
یہاں ہے جلن نفس کی خواہشوں کی1
وہاں ٹھنڈی آہوں کی2 بھرمار پیاری
محبت کی دنیا، ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
اسے اب بٹھا ہی دے دل میں تو اپنے
بِنا اس کے عمر تو نے کیسے گزاری
محبت کی دنیا، ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو پیارا ہے اس کا، تمہیں بھی ہو پیارا
اگر تم پہ اس کی محبت ہے طاری
محبت کی دنیا، ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
طریقہ اگر اس کا پایا ہے تو نے
بشارت تجھے ہو او محبوب باری4
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو مانے نہیں اس کو5 اس کو تو چھوڑو
ہے محرومی اس سے سزا اسکی بھاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
وہ مجھ پر جو ہے مہربان مجھ سے زیادہ
کروں زندگی کیوں نہ میں اس پہ واری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
نہ چھیڑو شبیر دل کے نغمے رکو اب
دبی ہی رہے بہتر6 آواز تمھاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جیسے میں نے عرض کیا تھا کہ یہ الہامی غزل ہے۔ اور میرے بس سے باہر والی بات تھی۔ یہ جو طرز جس پر میں نے پڑھا ہے، یہ بھی الہامی ہے۔ بالکل اسی طریقے سے آیا ہے۔ مطلب ہے اس میں، میں نے درمیان میں الحمدللہ کوئی وہ نہیں کیے، اس لیے مجھے تو یہی طرز پسند ہے۔ کیونکہ اسی طرز سے آیا ہے ۔ اور یہی طرز میرے خیال میں اس کے لیے سب سے زیادہ مؤثر بھی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ جب تک انسان کو محبت کی دنیا کا ادراک نہیں ہوگا، کہ ہے کیا چیز؟ تو اس کے لیے کوشش کیوں کوئی کرے گا؟ تو ایک الگ دنیا ہے جس میں جو اس دنیا میں رہتے ہیں، وہ دوسروں سے الگ ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ سارا الگ ہوتا ہے، ان کی سوچ الگ ہوتی ہے، ان کی فکر الگ ہوتی ہے، ان کا کام الگ ہوتا ہے۔ اور اللہ پاک کی نظروں میں بھی الگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کا معاملہ سارا کا سارا الگ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں داخل ہونے کے لیے کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اسی کو "طریقِ جذب" کہتے ہیں۔ یعنی اس دنیا کے اندر داخل ہونے کے لیے جو راستہ ہے وہ "طریقِ جذب" ہے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان فرمایا، مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان کیا، علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو بیان فرمایا، جن جن حضرات نے اس کو بیان کیا ہے، وہ اس راستے سے گزر کے انہوں نے بیان کر دیا ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ راستہ بہت ہی سریع الاثر راستہ ہے۔ اب کیسے اس کو ہم دل کی دنیا کو آباد کر سکیں؟ یہ ایک چھوٹی سے رباعی ہے اس کے end پر۔
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
جتنی Tensions ہیں، ساری دنیا کی وجہ سے ہیں۔ میری Promotion نہیں ہو رہی ہے، میرے کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے، میری بیماری ایسی ہے، میرا فلاں چیز ایسی ہے، یہ دنیا کے معاملات ہیں، جو انسان کو Tension میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں دنیا کی ہیں۔ یعنی اگر انسان دل سے دنیا کو نکال دے۔ تو پھر کیا ہوگا؟ پھر یہ ٹینشنیں نہیں ہوں گی۔ ہاں کام کرے گا، لیکن اللہ کے لیے کرے گا۔ دنیا کے لیے نہیں کرے گا۔ معاملہ ہی الگ ہے۔ وہ صحابی کی بات ذرا یاد آجائے، جس نے ایک کافر کو میدانِ جنگ میں بتایا تھا، کہ جتنا تمہیں شراب کا پیالہ عزیز ہے، اس سے زیادہ ہمیں موت عزیز ہے۔ جتنا تمہیں شراب کا پیالہ عزیز ہے، اس سے زیادہ ہمیں موت عزیز ہے۔ اب بتاؤ، کیا چیز ہے وہ؟ تو یہ بات:
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
جب تو چاہے یہ کہ اس کو یاد ہو
تو بھی اس کو دل میں اپنے یاد کر
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾۔ پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ صاف صاف والی بات ہے، لہٰذا اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، لیکن کیسے مثلاً؟
یہ محبت کیسے حاصل ہو بھلا؟
جب محبت سے ہے سب کچھ1 تو کہے اک سائل
یہ محبت پھر ہمیں کیسے ہو سکے حاصل
بولے اک شخص کہ چند باتوں پر گرکر لیں عمل
شاید پھر بابِ محبت میں آپ ہوں داخل
ذکر اللہ کا اگر آپ کو دائماً ہو نصیب
ظاہری، باطنی اعمال پہ ہوں آپ عامل
صرف ظاہر ی اعمال نہیں!
ظاہری، باطنی اعمال پہ ہوں آپ عامل
ہو اہل اللہ کی صحبت اور اگر یہ نہ ملے
مطالعے میں کتابیں ہوں پھر ان کی شامل
نقص دنیا کی محبت کا دل سے نکلے جناب
اس وقت حبِ الٰہی میں آپ ہوں کامل
دل میں اللہ کی محبت کا نور پاؤ گے
پھر نہ دنیا کی محبت کی طرف ہو مائل
ہاں مگر جس کا دل بھی حبِ الٰہی پائے
وہ دل میں اس کی محبت کا کیسے ہو قائل
جتنا بھی انسان محبت کو حاصل کرے گا وہ اپنے آپ کو اتنا ہی اس میں کم سمجھے گا۔ کہے گا ابھی نہیں ہے جی۔ چونکہ ساتھ ساتھ محبت کی ایک اہمیت بھی تو سامنے آتی جائے گی نا۔ وہ جتنا جتنا اس کا Demand بڑھتا جائے گا، وہ جو موجود ہوگا اس کے سامنے کم سمجھے گا۔ لہٰذا وہ خود نہیں کہے گا کہ مجھے یہ چیز حاصل ہے۔ دوسرے لوگ کہیں گے، لیکن خود وہ نہیں کہے گا، وہ خود کہے گا میں تو کچھ بھی نہیں۔ یہی بزرگوں کے ساتھ ہوتا ہے Dilemma۔ کہ لوگ کہتے ہیں، کمال ہے خود کہتے ہیں ہم کچھ بھی نہیں، تم کہتے ہو اتنا، ایسے ایسے ۔ یہی تو بات ہوتی ہے۔ وہ خود کہیں گے میں کچھ بھی نہیں، لیکن لوگ کہیں گے، ہاں یہ تو یہ ہے اور یہ تو ہے۔ اور اللہ بھی کہے گا۔ لیکن خود وہ کہے گا میں کچھ بھی نہیں۔
یہ محبت وہ سمندر ہے جس کی حد ہی نہیں
اس کے ہوتے نظر آئے کسی کو کیا ساحل
بس تڑپنا ہی محبت کا تقاضا ٹھہرا
آگے شبیر کوئی کیسے کہیں ہو نازل
جہاں پر بھی اللہ پہنچانا چاہے وہاں پر پہنچا دے گا، لیکن یہ تو تڑپتا ہی رہے گا۔ آپ ﷺ بھی آخر میں کیا فرما رہے تھے؟ آخری الفاظ آپ ﷺ کے زندگی کے کیا ہیں؟ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰی﴾۔ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰی﴾۔ "اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے"۔ تو یہ ساری چیزیں قرآن اور سنت میں موجود ہیں لیکن افسوس، آج کل اس پہ بات ہی نہیں ہوتی۔ آج کل اس کے بارے میں لوگ بتاتے ہی نہیں۔ تو پھر جب لوگ بتاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ کیا چیز ہے؟ یہ کہاں سے آ گئی؟ پریشان ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن و سنت ان چیزوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن افسوس، آج کل اس کے بارے میں بات نہیں ہو رہی۔ تو یہ،
بس تڑپنا ہی محبت کا تقاضا ٹھہرا
آگے شبیر کوئی کیسے کہیں ہو نازل
محبت کی پڑیا، یہ اصل میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ ہے جس کو رباعی میں قلمبند کیا گیا ہے۔
کہا بتاؤں طریقہ آسان اصلاح کا
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اصلاح کا آسان طریقہ بتاؤں؟
کہا بتاؤں طریقہ آسان اصلاح کا
کہا ضرور، کہا کھائیے حب کی پڑیا
لوگوں نے کہا :ضرور بتا ئیے ۔فرمایا: محبت کی پڑیا کھالو۔
کہا ضرور کہا کھائیے حب کی پڑیا
یہ محبت کی دکانوں سے ہی ملے گی تمہیں
جو پوچھا یہ کہاں سے؟ اس پہ یہ جواب ملا
لوگوں نے کہا حضرت یہ محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا: یہ محبت کی دکانوں سے۔ حضرت مولانا اشرف رحمۃ اللہ علیہ ایک دن فرمانے لگے اپنے شیخ کے بارے میں، سید سیلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، فرمایا :بس بیعت کے دوران فرمایا کہ:
جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
یہ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ تھے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی کرتے تھے۔ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ، آپ اندازہ کر لیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تقریباً 70 خلفاء تھے۔ مجازِ بیعت اور مجازِ صحبت بھی تقریباً اتنی تعداد میں تھے۔ لاکھوں مریدین تھے۔ کتابیں ہزار سے زیادہ لکھیں۔ اخیر میں فرمایا: مجھے اپنے بارے میں فکر تھی کہ جاؤں گا تو پیچھے کس کو چھوڑوں گا۔ پریشانی تھی کہ کام کا کیا ہوگا۔ فرمایا: الحمدللہ دو آدمیوں پہ نظر گئی، تو اب اطمینان ہے کہ انشاءاللہ کام رکے گا نہیں۔ ان دو میں سے نام کون سے لیے؟ ایک حضرت مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ لاہور کے، جن کے نام سے جامعہ اشرفیہ بنا ہوا ہے۔ ان کا نام لیا، اور دوسرا حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ گویا کہ ایک سالک کا نام لیا، ایک مجذوب کا نام لے لیا۔ گویا کہ حضرت نے جیسے اپنی زندگی میں سلوک کی بھی خدمت کی اور جذب کی بھی خدمت کی، تو خلفاء میں بھی دو ایسے چھوڑ دیے جو حضرت کے ان میدانوں میں نمائندے تھے۔ ایک سالک، خواجہ مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کا کلام سبحان اللہ! اللہ کا شکر ہے ہمارے پاس ہے، سنتے رہتے ہیں ہم۔ کچھ بزرگوں نے اس کو پڑھا ہے۔ تو اس میں، ایک دفعہ ان کے ہی ایک پیر بھائی، ان کو نصیحت کی کہ حضرت آپ اس طرح بنے ہوئے ہیں، رندانہ طریقے سے رہتے ہیں۔ آپ کم از کم شیخ ہیں، تھوڑا سا اس کا خیال رکھا کریں۔ تھوڑا سا اس کا خیال رکھا کریں، آپ تھوڑا شیخ کی طرح رہا کریں تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔ اس نے بڑی نیک نیتی کے ساتھ نصیحت کی۔ حضرت نے شعر میں جواب دیا۔ فرمایا:
تمہیں صوفی صافی یہ وقار مبارک ہو
مجھے اس طرح ہی رہنے دے جس طرح میں ہوں
میرے لیے گناہوں سے توبہ کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، یہ بھی بڑی بات ہے۔ آپ ماشاءاللہ شیخ ہیں، آپ شیخ کی طرح رہیں۔ تو یہ ظاہر ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک الگ رنگ دیا تھا۔ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے ایک شعر پر، فرمایا: اگر میرے پاس ایک لاکھ روپے ہوتے تو میں ان کو انعام دے دیتا۔ ایک لاکھ روپے بھی اگر ہوتے تو میں ان کو انعام میں دے دیتا۔ وہ شعر کون سا ہے؟ وہ پڑھتا ہوں، لیکن یاد رکھیں حضرت نے لاکھ سے زیادہ دے دیے ہیں۔ کیسے؟ کہ حضرت نے بالکل آخری وقت، موت کے وقت آخری یہ شعر پڑھا اور اس پہ فوت ہو گئے۔ بتائیں وہ کتنا انعام دے دیا؟ وہ کیا ہے؟
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا، اب تو خلوت ہو گئی
یہ حضرت نے آخری وقت میں پڑھا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰى﴾ کا ترجمہ ہے۔ سمجھا جائے تو۔ وہی آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا آخر میں، یہ اسی کا ترجمہ ہے۔ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰى﴾، اب تو بس اسی کے لیے جگہ ہے، کسی اور کے لیے جگہ نہیں ہے۔ تو یہ ہے۔ تو ہمیں اصل میں بات یہ ہے، افسوس کہ ہمیں یہ چیزیں لوگوں نے بتائی نہیں ہیں، سمجھائی نہیں ہیں۔ اس وجہ سے نقصان ہو رہا ہے، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ شاید یہ چیزیں ہیں ہی نہیں۔ آج کل ان چیزوں کے بارے میں اگر بات کیا کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں دیوانے ہیں یا کیا ہیں۔ ہاں ٹھیک ہے دیوانے ہیں۔ اس کے لیے دیوانہ ہونا بہت بڑی بات ہے۔ وہ بھی آئے گا آگے ان شاءاللہ۔ اس نے یہ ہے کہ اب اس کے بعد ہے:
اتنا حاضر کہ تو گم ہو جائے
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو
کس کے دربار میں؟ اللہ کے دربار میں۔
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو کہ اپنی ذات سے گم ہو جائے
اپنے آپ کو بھول جاؤ اس کے سامنے ایسا ہو جاو کہ بس اپنے آپ کو بول جاو صرف وہ ہی یاد رہے
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو کہ اپنی ذات سے گم ہوجائے
تو اسکا ہو وہ تیرا بن جائے پھر ابدی زندگی تو یوں پائے
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوبہ ہوں پھر
لوگ منزلیں تلاش کرتے مرتبے تلاش کرتے ہیں خدا کے بندوں کن چیزوں میں پڑے ہو؟
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
تو تو مٹ مٹ کے بنے گا باقی مٹنے دو مٹتے رہیں گے سائے
تو تو اس چیز کے لیے بنا ہے، اللہ کے راستے میں مٹ جاؤ۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی نصیحت کی تھی سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو۔سید صاحب نے ان سے نصیحت کی درخواست کی، حضرت نے فرمایا: "میں اتنے بڑے علامہ کو کیا نصیحت کروں گا؟فرمایا: ہاں وہ نصیحت جو میں اپنے آپ کو کرتا رہتا ہوں، میں دوسروں کو بھی کر سکتا ہوں۔"
فرمایا: "ہم یہاں پر مٹنے کے لیے آئے ہیں، جتنا اپنے آپ کو مٹا سکیں، اتنا اپنے آپ کو مٹائیں۔"
اس کو سن کر حضرت پر گریہ طاری ہو گیا، سارے راستے روتے رہے۔ اور یہی ان کی زندگی میں انقلاب کا باعث بن گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ:
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
یہ بزرگی بزرگی کی جو باتیں کرتے ہیں نا، یہ سب منزلیں، یہ نہیں بھئی، یہ ہمارا مقصد نہیں ہے
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
تو تو مٹ مٹ کے بنے گا باقی مٹنے دو مٹتے رہیں گے سائے
دل سے دو دل کہ دل قبول بھی ہواس کے دربار میں وہ پیش بھی ہو
اب کہ جب پاس کچھ رہا ہی نہیں کیسا شکوہ زبان پر آئے
جب پاس تیرے کچھ بھی نہیں رہا، تو نے دل اس کو دے دیا، اب تیرے پاس کیا رہ گیا؟
دل سے دو دل کہ دل قبول بھی ہواس کے دربار میں وہ پیش بھی ہو
اب کہ جب پاس کچھ رہا ہی نہیں کیسا شکوہ زبان پر آئے
اپنی چاہت کو اس کی چاہت پر کردو قربان کہ تجھ کو وہ چاہے
سر تسلیم کر دو خم اپنا یہ مرا ہی ہے وہ یہ فرمائے
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزار لے لے
فانی چیز کو آپ اس کے راستے میں دے دیں گے وہ پتہ نہیں کتنا دے دے گا یہ بہت بڑیہ سودا ہے۔
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزار لےلے
ہاں مگر تنگ دل شبیر نہ ہو تجھ کو دشمن کہیں نہ بہکائے
تھوڑی سی دیر ہو جائے، حکمتاً دیر ہو جائے، آپ کہتے ہیں، اوہو! یہ سب لوگوں کو مل گیا مجھے تو نہیں ملا۔ اور بدگمانی شروع کر لی۔ معاملہ خراب ہو گیا۔ شیطان تو یہی دھوکہ دیتا ہے نا؟ شیطان یہی تو کرتا ہے۔ کہ وہ انسان کو بدگمانی میں مبتلا کرتا ہے، شیخ پر بدگمان ہو جاتا ہے، پھر آگے اللہ تعالیٰ تک یہ بات چلی جاتی ہے اور کام خراب ہو جاتا ہے۔ اس لیے، بھئی! وہ تو ہمیشہ اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”ان کے الطافِ شہیدی تو ہیں مائل سب پر،
تجھ سے کیا بیر تھا، گر تو کسی قابل ہوتا؟“
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزارلےلے
ہاں مگر تنگ دل شبیر نہ ہو تجھ کو دشمن کہیں نہ بہکائے
یہ تین غزلیں ہیں، ان میں سے ایک پڑھ لیں گےاور ایسا تھا کہ میں lunchکے لیے اٹھ رہا تھا، تو تین شعر، تین مختلف غزلوں کے اللہ تعالیٰ نے دل پہ وارد کر دیے۔ اور میرے پاس نہ کاغذ تھا نہ قلم۔ اور میرا حال آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں جب آگے پڑھ رہا ہوں تو پیچھے بھول جاتا ہوں۔ پیچھے دیکھتا ہوں، پھر مجھے یاد آتا ہے۔ یہ حال ہے میرا، میں اشعار کو بہت جلدی بھولتا ہوں۔ میرے ساتھ یہ فکر تھی کہ میں کہیں بھول نہ جاؤں۔ بہت Tension میں، وہاں جایا گیا، lunch کیا، lunch کے دوران بھی اس کو بار بار پڑھتا رہا تاکہ میں بھول نہ جاؤں۔ پھر جس وقت lunch کر کے آیا تو وضو کرنے سے پہلے پہلے جلدی وہ تین اشعار لکھ دیے، پھر میں نے وضو کیا پھر نماز پڑھی۔ یہ وہ تین اشعار تھے۔ تو اس سے پھر تین غزلیں بن گئیں۔
میں نے دنیا کا یہاں خوب تماشا دیکھا
ہر طرف میں نے تو بس اس کا ہی چرچا دیکھا
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
یہ شعر تھا
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
عشق کی آنکھ ہر اک غیر سے کیوں اندھی ہے
اب نظر آئے کیا اس کا جو جلوہ دیکھا
ہم جہاں گرتے ہیں وہ پھر سے اٹھادیتے ہیں
ہے اٹھایا ہمیں جب بھی ہمیں گرتا دیکھا
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
یہاں پر ایک باریک نکتہ ہے مطلب یہ ہےکہ ہے تو یہ یہی destination تو یہی ہے target یہی ہے راستہ یہی ہے اسی پے چلنا ہے
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
راستہ ہے۔۔
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
اس تک حقیقت میں کون پہنچ سکتا ہے not possible کوئی تو ایسا نہیں ہے جو اس تک حقیقی طور پر پہنچ ہاں البتہ وہ اس کی کوشش قبول کر کے وہ اس کہے دے کہ اچھا تم پہنچ گے ہو وہ مان لیتا ہے پہنچ گیا جب وہ مان جاتا ہے تو یہ بس کافی ہے یہ نہ کرو کہ میں ادھر جا رہا۔ بھئی وہ والی بات نہیں ہے وہ تو کوئی بھی نہیں کرسکتا اللہ، اللہ ہے مخلوق مخلوق ہے کون مخلوق اللہ کو پاسکتا ہے ایک مجذوب کا قول ہے
کہتا ہے:
ہوشیار وہ ہے جو اس کو پاوے
اور وہ وہ ہے جو کسی کی سمجھ میں نہ آوے
تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہے کہ یہ کوشش پر ہے سارا کچھ۔ اگر تیری کوشش وہ قبول کر لے بس کافی ہے۔ اتنی ہی بات ہے۔ بس اپنے آپ کو اس سے قبول کرواؤ۔ جہاں پر بھی قبول ہو گیا کام ہو گیا۔
اب دیکھ لو، ایک آدمی بڑے اخلاص کے ساتھ دور سے آ رہا ہے، دوسرا کوئی دنیاوی مقصد کے لیے قریب کھڑا ہے۔ اس کو کہتے ہیں یہ میرا نہیں ہے، وہ جو آ رہا ہے وہ میرا ہے، اب بتاؤ کون قریب ہے؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ بس یہی اصل میں بات ہے کہ اس سے اپنے آپ کو قبول کروانا ہے، باقی اور کچھ نہیں۔
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
میں نے مخلوق کو دیکھا ہے ہر اک رخ سے شبیرؔ
میں نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ بس خدا دیکھا
کام تو ہمارے اللہ ہی کرتے ہیں۔ سب چیزیں تو اس کے پاس ہیں۔ مخلوق کیا کر سکتی ہے؟
میں نے مخلوق کو دیکھا ہے ہر اک رخ سے شبیرؔ
میں نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ بس خدا دیکھا
میں نے دنیا کا یہاں خوب تماشا دیکھا
ہر طرف میں نے تو بس اس کا ہی چرچا دیکھا
تو یہ اصل میں یہ جو شعر ہے،
”اس نے کس پیار سے دروازے کیے بند سارے“
اصل اللہ تعالیٰ بعض محبوبوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ اس کے اوپر دنیا کے سارے دروازے بند کرتے جاتے ہیں۔ یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند۔ وہ چیخ اٹھتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ جہاں جاتا ہوں ناکامی، جہاں جاتا ہوں ناکامی۔ وہ اس کو اپنے لیے لاتا ہے نا۔ کہتا ہے، تو میرا ہے، کسی اور کا نہیں۔ کسی اور طرف کیوں جا رہا ہے؟کہتے ہیں:
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
اب میں سیکرٹری کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، وزیر کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، فلاں کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، فلاں کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، سارے دروازے بند مل رہے ہیں۔ دیکھیں، اوہو! Chief Executive وہ آرہا ہے:بھئی! تم میرے پاس آؤ، چھوڑو ان سب کو! یہ کیا کر رہے ہو؟ پھر کیا ہوگا؟ جیتے ؟یا ہارے؟ ٹھیک ہے نا؟ بس یہی بات ہے۔ تو یہ مخلوق کے سارے دروازے آپ کے اوپر بند کر دیں گے۔ اور آپ کہیں گے، یہ کیا ہو گیا، میرا تو کام بالکل نہیں ہو رہا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اور وہاں پر جب اخیر میں ادھر سے تجلی آتی ہے، پھر آدمی کہتا ہے، اوہو! یہ بات تھی۔ تو یہ وہ چیز ہے۔
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
زباں میٹھی سی ہوتی ہے جو اس کا نام لیتا ہوں
مئے عشقِ حقیقی کا میں روز اک جام لیتا ہوں
یہ جو ذکر ہم کر رہے ہوتے ہیں، روزانہ کا معمول ہمارا، یہ کیا چیز ہے؟ یہ عشقِ حقیقی کی شراب ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
جو غیر اللہ ہے میں لا الہ سے دور اب پھینکوں
میں الا اللہ سے پھر اس کے در کو تھام لیتا ہوں
لا الہ سے دنیا سے بھاگنا اور الا اللہ سے اللہ کی طرف آنا
پھر اس کا رنگ میں اللہ اللہ کہہ کے اپناو ٔں
پکڑوا کر میں خود کو سانس زیِر دام لیتا ہوں
اللہ ھو اللہ سے اللہ کا رنگ پکڑتا ہوں، "صبغۃ اللہ"۔ اور پھر میں شریعت کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہوں، میں اپنے آپ کو اس کی پکڑائی میں دے دیتا ہوں۔
میں اس کی یاد میں مست ہو کے جب اس کو پکارتاہوں
کرم کی اک نظر کے پیار کا انعام لیتا ہوں
یہ جو ہم ذکر کر رہے ہوتے ہیں، آپ کو کیا پتہ کہ کیا ہو رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جو محبت کے ساتھ اللہ کو یاد کر رہا ہوتا ہے، "فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ" کو دیکھ لو۔ تو اللہ بھی اس کو یاد کر رہے ہوتے ہیں، تو اگر محبت کے ساتھ کوئی یاد کرے تو اللہ بھی محبت کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں اس کی یاد میں مست ہو کے جب اس کو پکارتا ہوں
کرم کی اک نظر کے پیار کا انعام لیتا ہوں
مجھے پھر وہ محبت سے جو دیکھے کیا ہے بات اس کی
میں تیرا ہوں تو میرا ہے میں یہ پیغام لیتا ہوں
"مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ"
جب اسمِ ذات اللہ کا زباں پر طاری ہوتا ہے
تو دل پھر جاری ہوتا ہے میں اس سے کام لیتا ہوں8
میں ہاں بیکار ہوں بیکار ہوں کچھ بھی نہیں ہوں میں
میں اپنے سر پہ دنیا کا ہراک الزام لیتا ہوں9
یہ حدیث شریف پر عمل ہے۔ حدیث شریف میں ہے، اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں پاگل کہیں۔ اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہیں۔ تو اپنے ہر الزام کے لئے تیار ہو جاؤ۔ خود ہی فرمائش ہے۔ لہٰذا ہم کیوں نہ کریں؟ لوگ پاگل کہیں، لوگ ہمیں بے وقوف کہیں، لوگ ہمیں ریاکار کہیں، جو کہیں وہ کہیں۔ ہمارا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔
مرا دل کیا ہے سمجھونا شبیر یہ عرشِ اصغر ہے
یہ صوفیا کا مقولہ ہے کہ انسان کا دل عرشِ اصغر ہے
مرا دل کیا ہے سمجھونا شبیر یہ عرشِ اصغر ہے
تجلی گاہ حق میں اس سے کچھ احکام لیتا ہوں10
ہاں مطلب یہ ہے کہ اس مقام پہ جا کر اللہ پاک میرا جو شرح صدر فرماتے ہیں، جو الہام فرماتے ہیں، وہ مجھے نصیب ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔
ومااب جو پیغامِ محبت ہے، عمل میں آئے
کوئی احکامِ محبت، ہمیں بھی سمجھائے
کیسے محبوب کرے بات عمل اس پہ نہ ہو
کیسے ہو یہ اور محبت یہ کیسے کہلائے
جو ہے محبوب کا محبوب ہے ہمارا محبوب
کیسے انکار ہم سے ہو سکے جو فرمائے
جو ہیں محبوب کے محبوب طریقے ان کو
جب ہو موجود کوئی کیسے ان کو ٹھکرائے
بات کریں صاف، عمل چاہیے شبیرؔ بات پر
عشق ترا نعروں میں، تحلیل نہ ہونے پائے
صرف نعروں سے کام نہیں ہوتا۔ کام سے کام ہوتا ہے۔ لہٰذا جو محبت اللہ کی اور اللہ کے رسول کی ہے، وہ نعروں کی نذر نہ ہو۔ بلکہ کام آجائے اس میں۔ ہم لوگ سراپا اللہ تعالیٰ کے لیے کام کریں اور آپ ﷺ کے طریقے پہ کر لیں۔ اللہ کی محبت کے ساتھ، اللہ کے رسول کی محبت کے ساتھ۔ یہ ہماری ہےبنیاد۔ اللہ کی محبت، اللہ کے رسول کی محبت، اللہ کے لیے کام کرنے اور رسول کے طریقے پہ کام کرنے کے لیے جان ہے۔ تو جان کو اگر ہٹا دو گے تو کچھ بھی نہیں رہے گا۔ یہ جو محبت ہے اللہ کی اور اللہ کے رسول کی، یہ جان ہے ان تمام چیزوں کی۔ تو بعض لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ دوسرا حصہ تو کرتے ہیں، یہ پہلا حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ان کے اعمال بے جان ہو جاتے ہیں۔ ان کے اعمال بے جان ہو جاتے ہیں۔ یہ جو "پیغامِ محبت"، اس کا بنیادی جو Text ہے، وہ یہی ہے کہ جو اعمال کے اندر جان لانے والی چیز ہے، اس کی طرف بھی توجہ کی جائے جس سے آج کل غفلت ہے۔ تو اس غفلت کو دور کرنا، کہ ہم لوگ کریں تو کام اللہ کے لیے اور کریں حضور ﷺ کے طریقے پر، تو یہ دین ہے۔ لیکن اس میں جان تب آئے گی جب اللہ کی محبت ہوگی اور اللہ کے رسول کی محبت ہوگی۔
اللہ کی محبت کا تو اللہ نے خود فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾۔ "جو مومن ہیں، ان کو اللہ کی شدید محبت حاصل ہوتی ہے"۔ مقصد یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ شدید محبت لازمی ہے۔ ایمان کے ساتھ شدید محبت لازمی ہے۔ لہٰذا یہ شدید محبت حاصل کرنی پڑے گی۔ شدید محبت ہی کو "عشق" کہتے ہیں نا! یا کوئی اور چیز کہتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں قرآن میں عشق کا لفظ نہیں ہے، عشق عشق کی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ خدا کے بندو! شدید محبت کو کیا کہیں گے آپ؟ اس سے زیادہ بڑا لفظ کون لائے آپ کے لیے؟ ﴿أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾، اور کیا چیز ہوتی ہے؟ تو کیا خواہ مخواہ عشق کا لفظ ہی لانا تھا؟ یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے کہ کوئی کہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ بادلوں کے اند ر ہمیں نظر نہ آئے جیسے پہلے کہتے تھے۔ اس تک ہم نہیں مانیں گے۔اپنی مرضی کا لفظ بھی چاہتے ہو؟ اللہ کی مانتے ہو یا اپنی بات مانتے ہو؟ تو اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا:شدید محبت، تو شدید محبت اور کس کو کہتے ہیں؟ شدید محبت ہی عشق کو کہتے ہیں۔ جو عشق کا لفظ ہے وہ شدید محبت کے لیے ہے۔تو یہ ہو گیا۔
محبت کی دنیا
اب یہ محبت کی دنیا میں اگر کوئی داخل ہو جائے، تو اس میں ہوتا کیا ہے؟ محبت کی دنیا، یہ بہت بڑی، یہ ایک کلام ہے جو ہم جا رہے تھے لاہور۔ اور پشتو میں لکھ رہا تھا۔ اس وقت باری پشتو کی تھی۔ اور وہ میں لکھ رہا تھا اور اچانک یہ غزل ایسی بلڈوز ہو کے آ گئی۔ کہ اس نے پشتو کو روک کے یہ لکھوایا۔ اور پھر میں نے اسی وقت بھی سنایا۔ تو یہ وہ بلڈوزنگ غزل ہے۔ جو محبت کی دنیا کے نام سے ہے۔
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو تنگی نظر کی ہے، اس میں نہیں ہے
ہاں،محبت والوں کو تنگ نظر نہیں دیکھو گے
جو تنگی نظر کی ہے، اس میں نہیں ہے
وفا عفو کی نہر ہے اس میں جاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
کوئی وسعتیں جانے دل کی ہیں کتنی
کہ انگشت بدنداں ہے یہ عقل ساری
محبت کی دنیا ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
یہ محبت کی دنیا صحابہ کی پوری زندگی پر چھائی ہوئی ہے۔ ان کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں؟ نہیں آتیں۔ کیوں؟ ظاہر ہے عقل انگشت بدنداں ہو جاتی ہے۔ آدمی کہتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اس طریقے سے آپ اولیاء اللہ کو دیکھیں گے۔ ان کی زندگی کو دیکھیں گے، کیسے وہ کر لیا؟ شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، بادشاہ اس کا مرید ہے اور گھر میں فاقے ہیں۔ بادشاہ اس کا مرید ہے۔ ذاتی طور پہ۔ اور پورے خاندان کے ساتھ۔ لیکن اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ اب بتاؤ کیسے چھپایا؟ یہ سمجھ میں آتا ہے؟ یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ یہاں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ عقل ساری حیران ہو جاتی ہے کہ یہ کیا بات ہے؟ آج کل تھوڑا سا تعلق کسی افسر کے ساتھ ہو جائے تو اپنا بس، ہر چیز پھر Cash کرتے ہیں کہ نہیں کرتے؟ اپنا ہر تعلق کو ہر ایک Cash کرتا ہے۔ اب وہاں پر بادشاہ بالکل مٹھی میں ہے، لیکن نہیں! خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے بادشاہ خود درخواست کرتے ہیں، میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کے گھر حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ یہ نہیں کہا کہ آپ میرے دربار میں آ جائیں۔ نہیں، میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا، میرے گھر کے دو دروازے ہیں۔ ایک دروازے سے آپ داخل ہوں گے، دوسرے دروازے سے میں نکل جاؤں گا۔ مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حرم شریف میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کسی نے کہا ضیاء الحق صاحب آپ کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ ضیاء الحق صاحب آ گئے ادھر، اس دن حضرت تھے ہی نہیں۔ نہیں تھے، بیٹھے ہوئے۔ یہ معاملہ الگ ہے۔ یہ عقل میں نہیں آتا۔ عقل تو کہے نہیں جی، آپ مل لیں، یہ فائدہ ہوگا، یہ فائدہ ہوگا، یہ فائدہ ہوگا، وہ ساری باتیں اپنی جگہ۔ لیکن ان کی بات ادھر اوپر ہوتی ہے۔ جب ادھر سے Approval ہوتی ہے، تو پھر کرتے ہیں۔ وہ اپنے عقل سے کام نہیں کرتے۔
کوئی وسعتیں جانے دل کی ہیں کتنی
کہ انگشت بدنداں ہے یہ عقل ساری
یہاں ہے جلن نفس کی خواہشوں کی1
محبت کے بغیر
یہاں ہے جلن نفس کی خواہشوں کی1
وہاں ٹھنڈی آہوں کی2 بھرمار پیاری
محبت کی دنیا ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
اسے3 اب بٹھا ہی دے دل میں تو اپنے
بِنا اس کے عمر تو نے کیسے گزاری
محبت کی دنیا ہے دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو پیارا ہے اس کا، تمہیں بھی ہو پیارا
اگر تم پہ اس کی محبت ہے طاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
طریقہ اگر اس کا پایا ہے تو نے
بشارت تجھے ہو او محبوب ِ باری4
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جو مانے نہیں اِس کو5 اُس کو تو چھوڑو
ہے محرومی اس سے سزا اسکی بھاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
وہ مجھ پر جو ہے مہربان مجھ سے زیادہ
کروں زندگی کیوں نہ میں اس پہ واری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
نہ چھیڑو شبیر ؔ دل کے نغمے رکو اب
دبی ہی رہے بہتر6 آواز تمھاری
محبت کی دنیا ہے، دنیا نرالی
تکبر حسد اور ریا سے ہے خالی
جیسے میں نے عرض کیا تھا کہ یہ الہامی غزل ہے۔ اور میرے بس سے باہر والی بات تھی۔ یہ جو طرز جس پر میں نے پڑھا ہے، یہ بھی الہامی ہے۔ بالکل اسی طریقے سے آیا ہے۔ مطلب اس میں، میں نے درمیان میں الحمدللہ کوئی وہ نہیں کی ہے، اس لیے مجھے تو یہی طرز پسند ہے۔ کیونکہ اسی طرز سے آیا ہے ۔ اور یہی طرز میرے خیال میں اس کے لیے سب سے زیادہ مؤثر بھی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ جب تک انسان کو محبت کی دنیا کا ادراک نہیں ہوگا، کہ ہے کیا چیز؟ تو اس کے لیے کوشش کیوں کوئی کرے گا؟ تو ایک الگ دنیا ہے۔ جو اس دنیا میں رہتے ہیں، وہ دوسروں سے الگ ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ سارا الگ ہوتا ہے، ان کی سوچ الگ ہوتی ہے، ان کی فکر الگ ہوتی ہے، ان کا کام الگ ہوتا ہے۔ اور اللہ پاک کی نظروں میں بھی الگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کا معاملہ سارا کا سارا الگ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں داخل ہونے کے لیے کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اِسی کو "طریقِ جذب" کہتے ہیں۔ یعنی اس دنیا کے اندر داخل ہونے کے لیے جو راستہ ہے وہ "طریقِ جذب" ہے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان فرمایا، مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیان کیا، علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو بیان فرمایا۔ جن جن حضرات نے اس کو بیان کیا ہے، وہ اس راستے سے گزر کے انہوں نے بیان کر دیا ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ راستہ بہت ہی سریع الاثر راستہ ہے۔
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
اب کیسے اس کو ہم دل کی دنیا کو آباد کر سکیں؟ یہ ایک چھوٹی سے رباعی ہے اس کے end پر۔
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
جتنی Tensions ہیں، ساری دنیا کی وجہ سے ہیں۔ میری Promotion نہیں ہو رہی ہے، میرے کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے، میری بیماری ایسی ہے، میری فلاں چیز ایسی ہے، یہ دنیا کے معاملات ہیں، جو انسان کو Tension میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں دنیا کی ہیں۔ یعنی اگر انسان دل سے دنیا کو نکال دے۔ تو پھر کیا ہوگا؟ پھر یہ ٹینشنیں نہیں ہوں گی۔ ہاں کام کرے گا، لیکن اللہ کے لیے کرے گا۔ دنیا کے لیے نہیں کرے گا۔ معاملہ ہی الگ ہے۔ وہ صحابی کی بات ذرا یاد آجائے، جس نے ایک کافر کو میدانِ جنگ میں بتایا تھا، کہ جتنا تمہیں شراب کا پیالہ عزیز ہے، اس سے زیادہ ہمیں موت عزیز ہے۔ جتنا تمہیں شراب کا پیالہ عزیز ہے، اس سے زیادہ ہمیں موت عزیز ہے۔ اب بتاؤ، کیا چیز ہے وہ؟ تو یہ بات:
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
جب تو چاہے یہ کہ اس کو یاد ہو
تو بھی اس کو دل میں اپنے یاد کر
دل کی دنیا ذکر سے آباد کر
دل کو دنیا چھوڑ کر تو شاد کر
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾۔ "پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا"۔ صاف صاف والی بات ہے، لہٰذا اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، لیکن کیسے مثلاً؟
اب یہ محبت کیسے حاصل ہو ؟
جب محبت سے ہے سب کچھ1 تو کہے اک سائل
یہ محبت پھر ہمیں کیسے ہو سکے حاصل
بولے اک شخص کہ چند باتوں پر گرکر لیں عمل
شاید پھر بابِ محبت میں آپ ہوں داخل
ذکر اللہ کا اگر آپ کو دائماً ہو نصیب
ظاہری باطنی اعمال پہ ہوں آپ عامل
صرف ظاہر ی اعمال نہیں!
ظاہری، باطنی اعمال پہ ہوں آپ عامل
ہو اہل اللہ کی صحبت اور اگر یہ نہ ملے
مطالعے میں کتابیں ہوں پھر ان کی شامل
نقص دنیا کی محبت کا دل سے نکلے جناب
اس وقت حبِ الٰہی میں آپ ہوں کامل
دل میں اللہ کی محبت کا نور پاؤ گے
پھر نہ دنیا کی محبت کی طرف ہو مائل
ہاں مگر جس کا دل بھی حبِ الٰہی پائے
وہ دل میں اس کی محبت کا کیسے ہو قائل
جتنا بھی انسان محبت کو حاصل کرے گا وہ اپنے آپ کو اتنا ہی اس میں کم سمجھے گا۔ کہے گا ابھی نہیں ہے جی۔ چونکہ ساتھ ساتھ محبت کی ایک اہمیت بھی تو سامنے آتی جائے گی نا۔ وہ جتنا جتنا اس کا Demand بڑھتا جائے گا، وہ جو موجود ہوگا اس کے سامنے کم سمجھے گا۔ لہٰذا وہ خود نہیں کہے گا کہ مجھے یہ چیز حاصل ہے۔ دوسرے لوگ کہیں گے، لیکن خود وہ نہیں کہے گا، وہ خود کہے گا میں تو کچھ بھی نہیں۔ یہی بزرگوں کے ساتھ ہوتا ہے Dilemma۔ کہ لوگ کہتے ہیں، کمال ہے خود کہتے ہیں ہم کچھ بھی نہیں، تم کہتے ہو اتنا، ایسے ایسے ۔ یہی تو بات ہوتی ہے۔ وہ خود کہیں گے میں کچھ بھی نہیں، لیکن لوگ کہیں گے، ہاں، یہ تو یہ ہے اور یہ تو ہے۔ اور اللہ بھی کہے گا۔ لیکن خود وہ کہے گا میں کچھ بھی نہیں۔
یہ محبت وہ سمندر ہے جس کی حد ہی نہیں
اس کے ہوتے نظر آئے کسی کو کیا ساحل
بس تڑپنا ہی محبت کا تقاضا ٹھہرا
آگے شبیر کوئی کیسے کہیں ہو نازل
جہاں پر بھی اللہ پہنچانا چاہے وہاں پر پہنچا دے گا، لیکن یہ تو تڑپتا ہی رہے گا۔ آپ ﷺ بھی آخر میں کیا فرما رہے تھے؟ آخری الفاظ آپ ﷺ کے زندگی کے کیا ہیں؟ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰی﴾۔ ﴿بَلِ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰی﴾۔ "اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے"۔ تو یہ ساری چیزیں قرآن اور سنت میں موجود ہیں لیکن افسوس، آج کل اس پہ بات ہی نہیں ہوتی۔ آج کل اس کے بارے میں لوگ بتاتے ہی نہیں۔ تو پھر جب لوگ بتاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں: یہ کیا چیز ہے؟ یہ کہاں سے آ گئی؟ پریشان ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن و سنت ان چیزوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن افسوس، آج کل اس کے بارے میں بات نہیں ہو رہی۔ تو یہ،
بس تڑپنا ہی محبت کا تقاضا ٹھہرا
آگے شبیر کوئی کیسے کہیں ہو نازل
محبت کی پڑیا
یہ اصل میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ ہے جس کو رباعی میں قلمبند کیا گیا ہے۔
کہا بتاؤں طریقہ آسان اصلاح کا
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اصلاح کا آسان طریقہ بتاؤں؟
کہا بتاؤں طریقہ آسان اصلاح کا
کہا ضرور، کہا کھائیے حب کی پڑیا
لوگوں نے کہا :ضرور بتا ئیے ۔فرمایا: محبت کی پڑیا کھالو۔
کہا ضرور کہا کھائیے حب کی پڑیا
یہ محبت کی دکانوں سے ہی ملے گی تمہیں
جو پوچھا یہ کہاں سے؟ اس پہ یہ جواب ملا
لوگوں نے کہا حضرت یہ محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا: یہ محبت کی دکانوں سے۔ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دن فرمانے لگے: اپنے شیخ کے بارے میں، سید سیلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں، فرمایا :بس ویسے بیان کے دوران فرمایا کہ:
جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ تھے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی کرتے تھے۔ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ اندازہ کر لیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تقریباً 70 خلفاء تھے۔ مجازِ بیعت اور مجازِ صحبت بھی تقریباً اتنی تعداد میں تھے۔ لاکھوں مریدین تھے۔ کتابیں ہزار سے زیادہ لکھیں۔ اخیر میں فرمایا: مجھے اپنے بارے میں فکر تھی کہ جاؤں گا تو پیچھے کس کو چھوڑوں گا۔ پریشانی تھی کہ کام کا کیا ہوگا۔ فرمایا: الحمدللہ دو آدمیوں پہ نظر گئی، تو اب اطمینان ہے کہ ان شاءاللہ کام رکے گا نہیں۔ ان دو میں سے نام کون سے لیے؟ ایک حضرت مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ لاہور کے، جن کے نام سے جامعہ اشرفیہ بنا ہوا ہے۔ ان کا نام لیا، اور دوسرا حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ گویا کہ ایک سالک کا نام لیا، ایک مجذوب کا نام لے لیا۔ گویا کہ حضرت نے جیسے اپنی زندگی میں سلوک کی بھی خدمت کی اور جذب کی بھی خدمت کی، تو خلفاء میں بھی دو ایسے چھوڑ دیے جو حضرت کے ان میدانوں میں نمائندے تھے۔ ایک سالک، خواجہ مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کا کلام سبحان اللہ! اللہ کا شکر ہے ہمارے پاس ہے، سنتے رہتے ہیں ہم۔ کچھ بزرگوں نے اس کو پڑھا ہے۔ تو اس میں، ایک دفعہ ان کے ہی ایک پیر بھائی، ان کو نصیحت کی کہ حضرت آپ اس طرح بنے ہوئے ہیں، رندانہ طریقے سے رہتے ہیں۔ آپ کم از کم شیخ ہیں، تھوڑا سا اس کا خیال رکھا کریں۔ تھوڑا سا اس کا خیال رکھا کریں، آپ تھوڑا شیخ کی طرح رہا کریں تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔ اس نے بڑی نیک نیتی کے ساتھ نصیحت کی۔ حضرت نے شعر میں جواب دیا۔ فرمایا:
تمہیں صوفی صافی یہ وقار مبارک ہو
مجھے اس طرح ہی رہنے دے جس طرح میں ہوں
میرے لیے گناہوں سے توبہ کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، یہ بھی بڑی بات ہے۔ آپ ماشاءاللہ شیخ ہیں، آپ شیخ کی طرح رہیں۔ تو یہ ظاہر ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک الگ رنگ دیا تھا۔ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے ایک شعر پر، فرمایا: اگر میرے پاس ایک لاکھ روپے ہوتے تو میں ان کو انعام دے دیتا۔ ایک لاکھ روپے بھی اگر ہوتے تو میں ان کو انعام میں دے دیتا۔ وہ شعر کون سا ہے؟ وہ پڑھتا ہوں، لیکن یاد رکھیں حضرت نے لاکھ سے زیادہ دے دیے ہیں۔ کیسے؟ کہ حضرت نے بالکل آخری وقت، موت کے وقت آخری یہ شعر پڑھا اور اس پہ فوت ہو گئے۔ بتائیں کتنا انعام دے دیا؟ وہ کیا ہے؟
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا، اب تو خلوت ہو گئی
یہ حضرت نے آخری وقت میں پڑھا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ﴿بَلِ الرَّفِيق الْأَعْلٰى﴾ کا ترجمہ ہے۔ سمجھا جائے تو۔ وہی آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا آخر میں، یہ اسی کا ترجمہ ہے۔ ﴿بَلِ الرَّفِيق الْأَعْلٰى﴾، اب تو بس اسی کے لیے جگہ ہے، کسی اور کے لیے جگہ نہیں ہے۔ تو یہ ہے۔ تو ہمیں اصل میں بات یہ ہے، افسوس کہ ہمیں یہ چیزیں لوگوں نے بتائی نہیں ہیں، سمجھائی نہیں ہیں۔ اس وجہ سے نقصان ہو رہا ہے، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ شاید یہ چیزیں ہیں ہی نہیں۔ آج کل ان چیزوں کے بارے میں اگر بات کیا کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دیوانے ہیں یا کیا ہیں۔ ہاں ٹھیک ہے دیوانے ہیں۔ اس کے لیے دیوانہ ہونا بہت بڑی بات ہے۔ وہ بھی آئے گا آگے ان شاءاللہ۔ اس نے یہ ہے کہ اب اس کے بعد ہے:
اتنا حاضر کہ تو گم ہو جائے
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو
کس کے دربار میں؟
اللہ کے دربار میں۔
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو کہ اپنی ذات سے گم ہو جائے
اپنے آپ کو بھول جاؤ اس کے سامنے ایسا ہو جاؤ کہ بس اپنے آپ کو بھول جاؤ صرف وہ ہی یاد ہو۔
ایسا حاضر ان کے دربار میں ہو کہ اپنی ذات سے گم ہوجائے
تو اسکا ہو وہ تیرا بن جائے پھر ابدی زندگی تو یوں پائے
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوبہ ہوں پھر
لوگ منزلیں تلاش کرتے، مرتبے تلاش کرتے ہیں۔
خدا کے بندو! کن چیزوں میں پڑے ہو؟
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
تو تو مٹ مٹ کے بنے گا باقی، مٹنے دو مٹتے رہیں گے سائے
تو تو اس چیز کے لیے بنا ہے، اللہ کے راستے میں مٹ جاؤ۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی نصیحت کی تھی سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کو۔سید صاحب نے ان سے نصیحت کی درخواست کی، حضرت نے فرمایا: "میں اتنے بڑے علامہ کو کیا نصیحت کروں گا؟فرمایا: ہاں وہ نصیحت جو میں اپنے آپ کو کرتا رہتا ہوں، میں دوسروں کو بھی کر سکتا ہوں۔"
فرمایا: "ہم یہاں پر مٹنے کے لیے آئے ہیں، جتنا اپنے آپ کو مٹا سکیں، اتنا اپنے آپ کو مٹائیں۔"
اس کو سن کر حضرت پر گریہ طاری ہو گیا، سارے راستے روتے رہے۔ اور یہی ان کی زندگی میں انقلاب کا باعث بن گیا۔ تو مطلب یہ ہے :
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
یہ بزرگی بزرگی کی جو باتیں کرتے ہیں نا، یہ سب منزلیں،
یہ نہیں بھئی، یہ ہمارا مقصد نہیں ہے
عشق منزل کو جانتا ہی نہیں، منزلیں کیوں تجھے مطلوب ہوں پھر
تو تو مٹ مٹ کے بنے گا باقی، مٹنے دو مٹتے رہیں گے سائے
دل سے دو دل کہ دل قبول بھی ہو،اس کے دربار میں وہ پیش بھی ہو
اب کہ جب پاس کچھ رہا ہی نہیں، کیسا شکوہ زبان پر آئے
جب پاس تیرے کچھ بھی نہیں رہا، تو نے دل اس کو دے دیا،
اب تیرے پاس کیا رہ گیا؟
دل سے دو دل کہ دل قبول بھی ہواس کے دربار میں وہ پیش بھی ہو
اب کہ جب پاس کچھ رہا ہی نہیں کیسا شکوہ زبان پر آئے
اپنی چاہت کو اس کی چاہت پر کردو قربان کہ تجھ کو وہ چاہے
سر تسلیم کر دو خم اپنا یہ مرا ہی ہے وہ یہ فرمائے
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزار لے لے
فانی چیز کو آپ اس کے راستے میں دے دیں گے وہ تمہیں پتہ نہیں کتنا دے دے گا یہ بہت بڑھیا سودا ہے۔
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزار لےلے
ہاں مگر تنگ دل شبیر نہ ہو تجھ کو دشمن کہیں نہ بہکائے
تھوڑی سی دیر ہو جائے، حکمتاً دیر ہو جائے، آپ کہتے ہیں، اوہو! یہ سب لوگوں کو مل گیا مجھے تو نہیں ملا۔ اور بدگمانی شروع کر لی۔ معاملہ خراب ہو گیا۔ شیطان تو یہی دھوکہ دیتا ہے نا؟ شیطان یہی تو کرتا ہے۔ کہ وہ انسان کو بدگمانی میں مبتلا کرتا ہے، شیخ پر بدگمان ہو جاتا ہے، پھر آگے اللہ تعالیٰ تک یہ بات چلی جاتی ہے اور کام خراب ہو جاتا ہے۔ اس لیے، بھئی! وہ تو ہمیشہ اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ان کے الطاف شہیدی ؔ تو ہیں مائل سب پر
تجھ سے کیا بیر تھا، گر تو کسی قابل ہوتا؟
قدر کرنا کوئی اس سے سیکھے پھو ل دے کر کوئی گلزارلےلے
ہاں مگر تنگ دل شبیر نہ ہو تجھ کو دشمن کہیں نہ بہکائے
یہ تین غزلیں ہیں، ان میں سے ایک پڑھ لیں گےاور ایسا تھا کہ یہ میں lunchکے لیے اٹھ رہا تھا، تو تین شعر، تین مختلف غزلوں کے اللہ تعالیٰ نے دل پہ وارد کر دیے۔ اور میرے پاس نہ کاغذ تھا نہ قلم۔ اور میرا حال آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں جب آگے پڑھ رہا ہوں تو پیچھے بھول جاتا ہوں۔ پیچھے دیکھتا ہوں، پھر مجھے یاد آتا ہے۔ یہ حال ہے میرا، میں اشعار کو بہت جلدی بھولتا ہوں۔ میرے ساتھ یہ فکر تھی کہ میں کہیں بھول نہ جاؤں۔ بہت Tension میں، وہاں جایا گیا، lunch کیا، lunch کے دوران بھی اس کو بار بار پڑھتا رہا تاکہ میں بھول نہ جاؤں۔ پھر جس وقت lunch کر کے آیا تو وضو کرنے سے پہلے پہلے جلدی وہ تین اشعار لکھ دیے، پھر میں نے وضو کیا پھر نماز کے لیے گیا۔ یہ وہ تین اشعار تھے۔ تو اس سے پھر تین غزلیں بن گئیں۔
میں نے دنیا کا یہاں خوب تماشا دیکھا
ہر طرف میں نے تو بس اس کا ہی چرچا دیکھا
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
یہ شعر تھا
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
عشق کی آنکھ ہر اک غیر سے کیوں اندھی ہے
اب نظر آئے کیا اس کا جو جلوہ دیکھا
ہم جہاں گرتے ہیں وہ پھر سے اٹھادیتے ہیں
ہے اٹھایا ہمیں جب بھی ہمیں گرتا دیکھا
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
یہاں پر ایک عجیب باریک نکتہ ہے۔
مطلب یہ ہےکہ ہے تو یہی، destination تو یہی ہے، target یہی ہے، راستہ یہی ہے، اسی پہ چلنا ہے۔
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
راستہ ہے۔۔
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
اس تک حقیقت میں کون پہنچ سکتا ہے not possible کوئی تو ایسا نہیں ہے جو اس تک حقیقی طور پر پہنچ ہاں البتہ وہ اس کی کوشش قبول کر کے وہ اس کہے دے کہ اچھا تم پہنچ گے ہو۔ وہ مان لیتا ہے پہنچ گیا۔ جب وہ مان جاتا ہے تو یہ بس کافی ہے۔ یہ نہ کرو کہ بھئی میں ادھر جا رہا ہوں۔ بھئی وہ والی بات نہیں ہے وہ تو کوئی بھی نہیں کرسکتا اللہ، اللہ ہے مخلوق، مخلوق ہے۔ کون مخلوق اللہ کو پاسکتی ہے؟ ایک مجذوب کا قول ہے۔
کہتا ہے:
ہوشیار وہ ہے جو اس کو پاوے
اور وہ وہ ہے جو کسی کی سمجھ میں نہ آوے
تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہے کہ یہ کوشش پر ہے سارا کچھ۔ اگر تیری کوشش وہ قبول کر لے بس کافی ہے۔ اتنی ہی بات ہے۔ بس اپنے آپ کو اس سے قبول کرواؤ۔ جہاں پر بھی قبول ہو گیا کام ہو گیا۔
اب دیکھ لو، ایک آدمی بڑے اخلاص کے ساتھ دور سے آ رہا ہے، دوسرا کوئی دنیاوی مقصد کے لیے قریب کھڑا ہے۔ اس کو کہتے ہیں یہ میرا نہیں ہے، وہ جو آ رہا ہے وہ میرا ہے، اب بتاؤ کون قریب ہے؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ بس یہی اصل میں بات ہے کہ اس سے اپنے آپ کو قبول کروانا ہے، باقی اور کچھ نہیں۔
میں نے جانا کہ ہے مطلوب اس کا پانا ہی
کس نے پایا ہے اسے اس کو نہ پیدا دیکھا
میں نے مخلوق کو دیکھا ہے ہر اک رخ سے شبیرؔ
میں نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ بس خدا دیکھا
کام تو ہمارے اللہ ہی کرتے ہیں۔ سب چیزیں تو اس کے پاس ہیں۔ مخلوق کیا کر سکتی ہے؟
میں نے مخلوق کو دیکھا ہے ہر اک رخ سے شبیرؔ
میں نے دیکھا تو یہ دیکھا کہ بس خدا دیکھا
میں نے دنیا کا یہاں خوب تماشا دیکھا
ہر طرف میں نے تو بس اس کا ہی چرچا دیکھا
تو یہ اصل میں یہ جو شعر ہے،
”اس نے کس پیار سے دروازے کیے بند سارے“
اصل میں اللہ تعالیٰ بعض محبوبوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ اس کے اوپر دنیا کے سارے دروازے بند کرتے جاتے ہیں۔ یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند، یہ بھی بند۔ وہ چیخ اٹھتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ جہاں جاتا ہوں ناکامی، جہاں جاتا ہوں ناکامی۔ وہ اس کو اپنے لیے لاتا ہے نا۔ کہتا ہے، تو میرا ہے، کسی اور کا نہیں۔ کسی اور طرف کیوں جا رہا ہے؟کہتے ہیں:
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
اب میں سیکرٹری کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، وزیر کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، فلاں کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، فلاں کے پیچھے بھی جا رہا ہوں، سارے دروازے بند مل رہے ہیں۔ دیکھیں، اوہو! Chief Executive وہ آرہا ہے:بھئی! تم میرے پاس آؤ، چھوڑو ان سب کو! یہ کیا کر رہے ہو؟ پھر کیا ہوگا؟ جیتے ؟یا ہارے؟ ٹھیک ہے نا؟ بس یہی بات ہے۔ تو یہ مخلوق کے سارے دروازے آپ کے اوپر بند کر دیں گے۔ اور آپ کہیں گے، یہ کیا ہو گیا، میرا تو کام بالکل نہیں ہو رہا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اور وہاں پر جب اخیر میں ادھر سے تجلی آتی ہے، پھر آدمی کہتا ہے، اوہو! یہ بات تھی۔ تو یہ وہ چیز ہے۔
اس نے کس پیار سے دروازے کئے بند سارے
ایک دروازہ کھلا اس کا تو بس کیا دیکھا
زباں میٹھی سی ہوتی ہے جو اس کا نام لیتا ہوں
مئے عشقِ حقیقی کا میں روز اک جام لیتا ہوں
یہ جو ذکر ہم کر رہے ہوتے ہیں، روزانہ کا معمول ہمارا، یہ کیا چیز ہے؟ یہ عشقِ حقیقی کی شراب ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
جو غیر اللہ ہے میں لا الہ سے دور اب پھینکوں
میں الا اللہ سے پھر اس کے در کو تھام لیتا ہوں
لا الہ سے دنیا سے بھاگنا اور الا اللہ سے اللہ کی طرف آنا
پھر اس کا رنگ میں اللہ ُ اللہ کہہ کے اپناؤں
پکڑوا کر میں خود کو سانس زیِر دام لیتا ہوں
اللہُ اللہ سے اللہ کا رنگ پکڑتا ہوں، "صبغۃ اللہ"۔ اور پھر میں شریعت کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہوں، میں اپنے آپ کو اس کی پکڑائی میں دے دیتا ہوں۔
میں اس کی یاد میں مست ہو کے جب اس کو پکارتا ہوں
کرم کی اک نظر کے پیار کا انعام لیتا ہوں
یہ جو ہم ذکر کر رہے ہوتے ہیں، آپ کو کیا پتہ کہ کیا ہو رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جو محبت کے ساتھ اللہ کو یاد کر رہا ہوتا ہے، "فَاذْكُرُوْنِي أَذْكُرْكُمْ" کو دیکھ لو۔ تو اللہ بھی اس کو یاد کر رہے ہوتے ہیں، تو اگر محبت کے ساتھ کوئی یاد کرے تو اللہ بھی محبت کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں اس کی یاد میں مست ہو کے جب اس کو پکارتا ہوں
کرم کی اک نظر کے پیار کا انعام لیتا ہوں
مجھے پھر وہ محبت سے جو دیکھے کیا ہے بات اس کی
میں تیرا ہوں تو میرا ہے میں یہ پیغام لیتا ہوں
"مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ"
جب اسمِ ذات اللہ کا زباں پر طاری ہوتا ہے
تو دل پھر جاری ہوتا ہے میں اس سے کام لیتا ہوں8
میں ہاں بیکار ہوں بیکار ہوں کچھ بھی نہیں ہوں میں
میں اپنے سر پہ دنیا کا ہراک الزام لیتا ہوں9
یہ حدیث شریف پر عمل ہے۔ حدیث شریف میں ہے، اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں پاگل کہیں۔ اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہیں۔ تو اپنے ہر الزام کے لئے تیار ہو جاؤ۔ خود ہی فرمائش ہے۔ لہٰذا ہم کیوں نہ کریں؟ لوگ پاگل کہیں، لوگ ہمیں بے وقوف کہیں، لوگ ہمیں ریاکار کہیں، جو کہیں وہ کہیں۔ ہمارا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔
مرا دل کیا ہے سمجھونا شبیر ؔ یہ عرشِ اصغر ہے
یہ صوفیا کا مقولہ ہے کہ انسان کا دل عرشِ اصغر ہے
مرا دل کیا ہے سمجھو نا شبیر ؔ یہ عرشِ اصغر ہے
تجلی گاہِ حق میں اس سے کچھ احکام لیتا ہوں10
ہاں مطلب یہ ہے کہ اس مقام پہ جا کر اللہ پاک میرا جو شرح صدر فرماتے ہیں، جو الہام فرماتے ہیں، وہ مجھے نصیب ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔
وما علینا الا البلاغ
اب ہم اسی کیفیت کے ساتھ ذکر کریں گے